Naeyufaq Nov-16

گفتگو

اقبال بھٹی

عزیزان محترم… سلامت باشد اور سال نو مبارک ہو۔
شروع اس رب رحیم کے نام سے جس کے قبضہ قدرت میں اس پوری کائنات کی ڈوریں ہیں جو دنیا بھر میں ہر سانس لینے والی مخلوق کو بغیر کسی تخصیص کے رزق دیتا ہے۔ جو رنگ نسل اور مذہب کا لحاظ کیے بغیر بارش برساتا ہے دریائوں کی روانی کو برقرار رکھتا ہے جس کے پاس نہ کسی گورے کو فضیلت حاصل ہے نہ کسی کالے کو دھتکارا جاتا ہے اس کے پاس فضیلت ہے تو صرف کردار کی، محبت کی، ایمان کی وہ اسی کو پسند کرتا ہے جو اس کی مخلوق سے پیار کرتا ہے جو اس کی حکم عدولی کرے وہ راندہ درگاہ ہوجاتا ہے جو کہتا ہے میں اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ پیار کرتا ہوں اور یہ پیار وہ کسی مذہب رنگ نسل اور فرقے کی بنیاد پر نہیں کرتا اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد مصطفی  تک تمام انبیا کو محبت کا پیغام دے کر ہی بھیجا ہے لیکن ہم آج کیا کر رہے ہیں ہم اس کی ساری ہدایت کو فراموش کر کے ایک دوسرے کو رنگ نسل اور فرقہ کی بنیاد پر قتل کر رہے ہیں اپنے پڑوسی کو کافر قرار دے کر مار رہے ہیں اسلام تو دین محبت ہے جو کچرا پھینکنے والی عورت سے بھی نفرت کے اظہار کی اجازت نہیں دیتا پھر ہم اللہ کے محبوب کے امتی کیوں ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں، فرصت کی گھڑیوں میں سے چند لمحے کشید کر کے اس پہلو پر ضرور سوچیے گا۔
اب آئیے اپنے تلخ و شیریں ناموں کی طرف۔ پہلا خط ہے ساہیوال سے احسن ابرار رضوی کا آپ لکھتے ہیں۔
آداب! اپنے خط کا آغاز اس دُعا کے ساتھ کرتا ہوں کہ جہاں رہیں ،اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھے ،کوئی بیماری بھولے سے پاس بھی نہ بھٹکے ،دُشمنوں سے محفوظ اور صحت سلامتی کے ساتھ پُرامن زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔وہ نیلے آسمان والا سب کو سیدھے راستے پر چلنے اور اپنے احکامات بجالانے کی توفیق دے آمین ۔سال نو بہت بہت مبارک۔کچھ ساتھی حیران ہوں گے کہ اکتوبر میں سال نو کی مبارک بیچارے انگریزی روایت کو پکڑے ہوئے ہیں اور قمری یعنی اسلامی سال کو بھول گئے ہیں۔ جدّت آتی گئی اور دین اسلام کے احکامات پس پردہ ہوتے گئے ۔غور وفکر کرنے کی بجائے دوسروں کے پیچھے بھاگنے لگے ہیں ۔اللہ تعالیٰ حضر ت محمد ﷺ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین !ماہ اکتوبر کا نئے افق تمام تر رعنائیوں کے ساتھ موصول ہوا۔ٹائٹل خاص نہیں تھا۔دستک میں محترم مشتا ق احمد قریشی صاحب حقیقت سے پردہ اُٹھا رہے ہیں اور امریکا اور بھارت کی سفاکیاں بتا رہے تھے ۔ان گیڈروں کو سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ نے کرنی ہے اور وہ کرتا بھی آرہا ہے ۔اِس کو مٹانے والے خود مٹ جائیں گے انشااللہ!گفتگو کی محفل ہنستے مسکراتے دوستوں کے ساتھ سجی تھی اور ہر طرف خوشبوئوں نے رقص شروع کر رکھا تھا ،ریاض حسین قمر غیر حاضری کے بعد خوبصورت انٹری کرتے ہیں۔مجیداحمد جائی خطوط کا شہنشاہ کہوں تو مضائقہ نہیں ہوگا،ہر ماہ باقاعدگی سے لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں ،اِن کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہے اور یہ لفظوں سے خوب کھیلتے ہیں۔اللہ سلامت رکھے آمین جاوید احمد صدیقی کبھی کبھار محفل کی رونق بنتے ہیں۔صائمہ نور بھی قابل تحسین ہیں،عمدہ لکھتی ہیں ،سید عبداللہ توفیق بہت بہت شکریہ ،خواجہ حسین ،پرنس افضل شاہین،عبدالغفار عابدبھی خود ہی روٹھے خود ہی لوٹے۔اللہ تعالیٰ ان کی والدہ ماجدہ کو جوار رحمت میں اعلی مقام عطا کرے ،مسکان کبھی پرچے پر سیر حاصل تبصرہ بھی کیا کریں،ریاض بٹ خوبصورت خط کے ساتھ حاضر تھے۔میاں کرامت حسین بھی چند ناموں کے گِرد اپنے نامہ کو گھما رہے ہیں ،برادر دُنیا بہت بڑی ہے ،دُنیا کی رونقوں سے لطف اُٹھائیں ،خامیاں ڈھونڈنے سے اپنی خامیوں پر پردہ پڑتا ہے جو بہت بُرا عمل ہے ۔اپنی خامیاں چھپانے سے نیکی کرنے کے راستے بند ہو جاتے ہیں ۔دوسروں کی عیب جوئی سے بہتر ہے اپنے اندر جھانکھیں۔محمد رفاقت مختصر خط کے ساتھ شامل حال تھے ،عبدالغفار رومی انصاری زبردست سیر حاصل تبصرہ کر رہے تھے ۔حسین جاوید،فلک شیر ملک کے خط بھی اچھے تھے ۔اقراء لکھ کر طاہر قریشی بھائی نے احسان کیا،انٹرویو عشنا کوثر سردارکے بارے جاننے کا موقع ملا،کہانیوں میں دوستی،احمقوں کا ٹولہ پسند آئی ،بکرا کہاں ہے طنزو مزاح پر لاجواب تحریر تھی۔میلے ہاتھ ،روشن اندھیرے ،آخری رشتہ ،آب اور آتش بھی اچھی رہی،مس کال ،بے خودی بھی کمال کی کہانیاں ہیں ،چھوٹے تمام سلسلے لاجواب ہیں ،اب اجازت۔
ایم اے راحیل …السلام علیکم !اُمید کرتا ہوں مزاج بخیر ہو ں گے ۔اللہ تعالیٰ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق اور حق سچ کی آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔جو حق کا ساتھ دیتے ہیں وہ وقتی مشکلات کا شکار تو ہوتے ہیں لیکن اُن کا دل ،ضمیر مطمئن ہوتا ہے اور آخرت بھی سنور جاتی ہے‘آئیے دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کریں ۔اکتوبر 2016کا نئے اُفق کچہری چوک سے خرید۔سر ورق عامیانہ سا تھا ،عورت کو ننگے سر دکھانے کی روایت ختم نہیں ہوئی ،جو دِکھتا ہے وہ بکتا ہے کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی امریکا کی کارستانیاں سنا رہے ہیں اور بھارت جو امریکا کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے ،روس کے تلوّے چاٹ رہا ہے ،استعمال کر رہا ہے۔بھارت بھی اندھے بکرے کی طرح چھری کی طرف بڑھ رہا ہے ۔گفتگو کی محفل میں پر نچا تو سبھی دوست مشورے دے رہے تھے ،میں ایک مہینے کی غیر حاضری کے بعد پھر سے آیا ہوں ،وجہ یہی تھی کہ میں حق سچ کہنے کا عادی ہوں اور انصاف کے لئے آواز بلند کرنے والا ہوں ،ادارہ کا منی آرڈر کیوں نہیں پر نچا میں نہیں جانتا ،لیکن ممبر شپ جاری کرنے کا کہا گیا ،اُس پر بھی کان نہیں دھرے گئے۔ریاض حسین قمر نے بالکل بجا فرمایا لیکن اِنسان خطا کا پُتلا ہے ،غلطیاں سر زد ہو جا تی ہیں اور غلطی کو مان لینا مومن کی نشانی ہے ۔مجیداحمد جائی ،میں کیوں جلوں ،میں ناانصافی پسند نہیں کرتا۔صائمہ نور لیجئے ہم غصہ نہیں کرتے اور محبت سے پھر سے خط لکھ رہے ہیں ،اب خوش۔پرنس افضل شاہین تین بار ایڈریس دیا ،آپ کی فرمائش پر پھر سے ایڈریس دے رہا ہوں ،حسین جاوید آپ کی فرمائش کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لوٹ آیا ہوں اور ہاں انعام کی رقم کو نہیں دیکھا جاتا،انعام ایک روپے کا بھی کیوں نہ ہو ،حقیر نہیں ہوتا۔انعام ہمارا حق ہوتا ہے اور حق کے لئے لڑنا لڑائی نہیں ہوتا۔بہت شکریہ ۔بحرحال تمام دوستوں کی پُر زور اپیل پر لوٹ آیا ہوں ،اور اُمید ہے مستقل رہوں گا ،میرے کچھ خصوصی دوست ضرور خوش ہوئے گے کہ ایم اے راحیل نئے اُفق سے رخصت ہو گیا میرے بھائی ،آپ کی محبتیں اپنی جگہ ،لیکن اِن دوستوں کو دیکھیے جن کو ایک ماہ کی غیر حاضری بھی اچھی نہیں لگی۔لہذا دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے اپنے قدم جمانے کی کوشش کریں ،کامیابی ملے گی۔اُمید ہے سمجھ گئے ہوں گے ۔گفتگو میں تمام خطوط اعلی تھے اور محبت کا پرچار کرتے نظر آئے سوائے مسکان بھٹی اور میاں کرامت حسین کے ۔مسکان بھٹی کے لفظوں سے یوں لگتا ہے جیسے مسکان کے کندھوں پر بندوق رکھ کر دُشمنی نکالی گئی ہو،دلیری اِسی میںہوتی ہے کہ بندہ خود سامنے آگئے ،گیڈر کی زندگی جینے سے بہتر ہے شیر کی ایک دن کی زندگی جیا جائے ۔میاںکرامت حسین ،آپ کی ٹانگیں اب قبر میں ہیں ،آخرت کی سوچیں ،کن خرافات میں پڑے ہیں۔اقراء نے متاثر کیا ،انٹرویو میں عشنا کوثر سردار کے بارے میں بہت سی معلومات ،بہت شکریہ دوستو۔کہانیوں میں بے خودی،احمقوں کا ٹولہ ،آخری رشتہ،دوستی ،روشن اندھیرے ،قتل خوب تھیں،بکرا کہاں ہے ،کھلکھلاتی ،تیر سینے میں پیوست کرتی تحریر تھی،باقی تمام سلسلے خوب رہے ۔
عبدالحمید… کھلابٹ ٹائون شپ۔ محترم مشتاق احمد قریشی صاحب و دیگر اسٹاف کو السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو صحت کاملہ عطا فرمائے، تندرست اور توانا رکھے اور تمام آفات سے محفوظ رکھے، آمین۔ اس مرتبہ پرچہ بہت دیر سے ملا ہے قاسم دانش بک ڈپو کھلا بٹ ٹائون کے صبح و شام پھیرے لگانے کے بعد 25 ستمبر کو پرچہ دستیاب ہوا سب سے پر لے دستک پڑھی آپ نے بھارت، امریکا اور افغانستان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا مودی ایک دہشت گرد تنظیم کا سربراہ بھی ہے امریکا اس سے بڑا دہشت گرد ہے پدی کا شوربہ افغان صدر ان کا چمچہ بنا ہوا ہے۔ دراصل یہ سی پیک منصوبے کے خلاف ناکام سازش ہو رہی ہے جو ان شاء اللہ کبھی کامیاب نہیں ہوگی، سی پیک منصوبہ پایہ تکمیل تک ضرور پر نچے گا۔ چین ہمارا ہمالہ سے بلند اور سمندر سے گہرا دوست ہے ہر مشکل گھڑی میں اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے اب وہ دہشت گردوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اپنی امان میں رکھے اور ان تین کے ٹولے کو ذلیل و خوار کرے، آمین۔ قریشی صاحب پرچے کو اپنی ڈگر پر لائیں تاکہ ہمیں بروقت مل جایا کرے دیر سے آنے کی وجہ سے دل جوئی سے نہیں پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس پر تبصرہ کرسکتے ہیں۔بکرا کہاں ہے ایک مزاحیہ کہانی ہے جبکہ قتل انگریزی سے ترجمہ کیا گیا ہے جو کہ تفتیشی کہانی ہے ٹائٹل میں بہتری آرہی ہے۔ گفتگو میں لکھاریوں کی تعداد ۱۹ ہے ریاض حسین قمر ایک بھرپور تبصرے کے ساتھ آئے ہیں سب سے پر لے تو میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے تبصرے کو پسند کیا اور میرے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے اور ہر ناگہانی آفت سے محفوظ رکھے، آمین۔ مجید احمد جائی بھی پورے سج دھج کے ساتھ آئے ہیں قربانی کے متعلق انہوں نے کیا خوب لکھا ہے ان کے لکھنے کا انداز، لفظوں کا چنائو، بڑا خوب سورت ہوتا ہے حالات حاضرہ پر گہرہ نظر رکھتے ہیں بہت خوب صورت تبصرے لکھتے ہیں اللہ کرے قلم زیادہ میرے تبصرے کو پسند کیا شکریہ جاوید احمد صدیقی کا تبصرہ بھی زبردست ہوتا ہے لکھنے کا انداز بہت اچھا ہوتا ہے ہر لفظ موتیوں میں پرویا ہوتا ہے میرے ایدھی صاحب کے متعلق تبصرے پر آپ نے مجھ پر طنز کیا ہے کہ میں نے نوے فیصد ان کے متعلق لکھا ہے اس وقت ہر اخبار اور رسائل میں ان کے ہی تذکرے آرہے تھے۔ محترمہ صائمہ نور دلچسپ تبصرے کے ساتھ تشریف فرما میں ان کے تبصرے بہت اچھے ہوتے ہیں ان کا لکھنے کا انداز منفرد ہوتا ہے پرچے پر ان کی گہری نظر ہوتی ہے ہر چھوٹی اور بڑی بات کو اجاگر کرتی ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تندرست و توانا رکھے اور ہر آفات سے محفوظ رکھے آمین، میرا تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ احسن ابرار رضوی ایک خوب صورت تبصرے کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں، تبصرہ ما شاء اللہ مدلل اور جاندار ہے سید عبداللہ توفیق نے بھی بہت اچھا تبصرہ کیا ہے خادم حسین ظالم نے مختصر تبصرے میں ظلم کی حد کردی۔ حاجی عمران سانگی بھی مختصر تبصرے کے ساتھ جلوہ گر ہیں افضل شاہین نے تبصرے میں اپنے دل کی بھڑاس نکال دی گویا کوزے میں دریا بند کردیا جو کچھ لکھا ہم بھی ان کی تائید کرتے ہیں، بہت اچھا لکھا ہے عبدالغفار عابد عرصہ بعد محفل میں تشریف فرما ہوئے ہیں، والدہ کی جدائی کے سبب آپ بہت ڈسٹرب ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ سردار اویس اویسی کا تبصرہ گو کہ مختصر تھا مگر بھرپور اور بہت اچھا تھا جو کچھ کہنا چاہتے وہ کہہ دیا میرا تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ، مسکان ظفر بھٹی نے بھی مختصر تبصرے میں اپنا مقصد بیان کردیا مجموعی طور پر ایک اچھا اور مکمل تبصرہ تھا ریاض بٹ جب بھی آتے ہیں ایک بھرپور تبصرے کے ساتھ آتے ہیں۔ ان کی پر واقعہ ہر گہری نظر ہوتی ہے وہ لکھتے ہیں تو ان کے قلم کی روانی میں تیزی آتی ہے کسی ایک لفظ کو لکھتے ہیں تو دوسرا لفظ قلم کی نوک پر آجاتا ہے پھر ان کا قلم نہیں رکتا لکھتا ہی چلا جاتا ہے اس وقت تک جب اینڈ نہیں ہوتا میرا تبصرہ پسند کیا شکریہ۔ محمد رفاقت بھی بہت اچھے تبصرہ نگار ہیں۔ مختصر تبصرے میں سب کچھ سمو دیتے ہیں میرا تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ، میاں کرامت حسین نئے افق کے ایک دیرینہ قاری ہیں۔ بہت اچھا تبصرہ کیاہے آپ کھل اپنا معافی الضمیر بیان کردیا ہے عبدالجبار رومی انصاری بہت اچھے تبصرہ نگار ہیں ان کے تبصرے بھرپور ہوتے ہیں فلک شیر ملک اپنے گلے شکوئوں کے ساتھ آئے ہیں ملک صاحب اتنا غصہ ٹھیک نہیں ہے آپ نے گلہ کیا اور قریشی صاحب نے آپ سے معذرت کرلی انہوں نے آپ کا ناول الف لام میم پرچے میں لگا دیا تھا۔ حسین جاوید کا تبصرہ بھی اچھا تھا فریدہ جاوید فری ایک مختصر خط کے ساتھ تشریف لائی ہیں یہ نئے افق کی ایک پرانی قاری ہیں نئے افق ان کا فیورٹ میگزین ہے پر لی بار خط لکھا ہے وہ بے حد بیمار ہیں یہ خط انہوں نے اسپتال سے لکھا ہے اور دعا کی اپیل کی ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو صحت کاملہ عطا فرمائے آمین۔ آپ بھی ان کے لیے دعا کریں، محترمہ عشنا کوثر ایک منجھی ہوئی مصنفہ ہیں ان کا تعارف بھرپور تھا محترمہ نے ہر ایک کے سوال کا مدلل جواب دیا۔ ریاض بٹ کی احمقوں کا تولہ ایک فنٹاسٹک تفتیشی کہانی ہے سب سے پر لے میں اسی کو پڑھتا ہوں کیونکہ یہ میرے فیورٹ لکھاری ہیں ان کی تفتیشی کہانیوں میں سسپنس، جاسوسی، مزاح اور وہ سب کچھ ہوتا ہے جو قاری پسند کرتا ہے ان کی کہانی پڑتے ہوئے ایک سحر طاری ہوجاتا ہے ان کی بعض کہانیوں میں ایک ایسا موڑ بھی آجاتا ہے کہ واردات ہوجاتی ہے اور مجرم آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے پھر وہ مجرم کو پھانسنے کے لیے ایک ایسا نادیدہ جال پھیلاتے ہیں کہ مجرم جال میں پھنس جاتا ہے موجودہ شمارے میں احمقوں کا ٹولہ ایک بہترین تفتیشی کہانی ہے استدعا ہے کہ ہر کہانی ایسی لکھا کریں اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو ابتدائی کہانیوں کو دوبارہ شروع کردیں۔ محمد شعیب کو نئے افق میں آمد پرخوش آمدید۔ پر لی مرتبہ آئے ہیں پر لے ہی ناول آب اور آتش لکھ کر اپنے آپ کو منوا لیا بہترین ناول لکھا ہے میں نے ایک ہی نشست میں پڑھا ہے آپ نے ایک اچھوتے موضوع پر خوب صورت ناول لکھا یہ سچھ کہ آب اور آگ کا ملاپ کبھی نہیں ہوسکتا، یہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں، کبھی آگ پانی کو بھاپ بنا کر اڑا دیتی ہے کبھی پانی آگ پر حاوی ہوجاتا ہے ۔ کے ایم خالد ایک مزاحیہ اور چلبلی کہانی بکرا کہاں ہے لائے ہیں۔ جو شروع سے آخر تک پڑھنے والوں کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی خاص طور پر آخری چار سطریں تو قہقہے لگانے پر مجبور کردیتی ہیں حسیب جواد علی بے خودی لائے ہیں جہاد کے موضوع پر ایک خوب صورت کہانی جو کہ چار صفحات پر محیط ہے عارف شیخ مس کال کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں یہ ایک منجھے ہوئے قلمکار ہیں شروع میں نئے افق میں لکھا کرتے تھے دوبارہ نئے افق میں لکھنا شروع کیا ہے ان کی موجودہ کہانی مس کال نے ایک نوجوان شجاع کی جان لے لی، انسپکٹر احمد خان اور سب انسپکٹر فرید شاہ کی دوڑیں لگ گئیں، عنبرین اختر کی کہانی آخری رشتہ ایک بد نصیب بیٹی کی سرگزشت ہے جس کو اس کی ماں نے ایک جنونی سے بیاہ دیا ، خلیل جبار کورٹمیں جو بھی کیس ہوتے ہیں انتہائی سنسنی خیز ہوتے ہیں اس مرتبہ وہ دوستی کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں یہ ایک گروہ کی کہانی ہے جو اپنے ساتھ عورتوں کو ملا کر نوجوانوں کو لوٹتے ہیں سلیم اختر کی کہانی میلے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی غلطی سے بسا بسایا گھر اجڑ رہا تھا۔ مگر عین وقت پر ڈاکیہ ایک خط لاتا ہے ان کی غلط فہمی دور ہوجاتی ہے اور ان کا گھر دوبارہ آباد ہوجاتا ہے۔ عشنا کوثر سردار کے ناول ایک سو سولہ چاند کی راتیں اور زریں قمر صاحبہ کے ناول ابھی نہیں پڑھی۔
مجیداحمد جائی…ملتان شریف۔مزاج گرامی! اُمید واثق ہے خیریت سے خیر بانٹتے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ تمام ٹیم ،اسٹاف،قارئین،لکھاریوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘ آمین ثم آمین۔دستک میں جناب صدر محفل محترم عزیزم مشتاق احمد قریشی صاحب بھارت اور امریکا کی بے غیرتیاں واضح کر رہے ہیں ۔یہ مینڈک کھانے اور گائے کا پیشاب پینے والے کبھی حق بات نہیں کریں گے ۔یہود اور ہنود تو مسلمان کے دوست ہو ہی نہیں سکتے۔امریکا ہو ،روس ہو یا بھارت کسی کی جُرات نہیں کہ وہ پاکستان کو نقصان پر نچا سکے ۔تاریخ گواہ ہے جنگیں جذبے والوں نے جیتی ہیں ۔ یہود وہنود ڈر پوک ہوتے ہیں اور اِس کی عمدہ مثال بھارت کی افواج ہے جو مسلسل کہہ رہی ہے ،پاکستان کے ساتھ پنگا نہ لینا۔اب تو اُن کا میڈیا بھی یہ خبریں شائع کرنے لگا ہے۔مودی دہشت گرد تنظیم کا سربراہ ہے اور بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے ۔پاکستان کے ساتھ کوئی ملک بھی نہ ہوتو اُسے پروا نہیں کیونکہ اِس ملک کا رب رکھوالا ہے ۔اور جسے رب رکھے اُسے کون چکھے۔دُشمنوں کا منہ کالا ہو گا اور پاکستان کا بول بالا ہو گا ۔ان شاء اللہ!گفتگو میں ہمارے مدیر صاحب قربانی کی باتیں کر رہے ہیں تو عرض ہے جناب یہاں تو ایسے ایسے صاحب بھی ہیں جو تین تین بکرے اور گائے کی قربانی کرتے ہیں اور ساتھ والے گھر میں آلو پک رہے ہیں ۔نفرتوں کی یہ دیواریں جانے کب ختم ہو ں گی ۔اہل مسلم قربانی کا اصل مقصد ہی فوت کر دیتے ہیں ۔فریج ،فریزر گوشت سے لبالب بھرے رہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کے پاس گوشت جاتا ہے نہ کہ خون ۔وہ تو نیتوں سے خوب واقف ہے ۔دوسری بات لوگ ناک نہ کٹ جائے کے ڈر سے قرض لے کر قربانی کرتے ہیں ۔کیا دین اِسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے ۔؟عجیب و غریب رواج چل نکلے ہیں ،لوگ اپنے مفاد کے لئے اپنی طرف سے فتوی فرما رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے۔ایک قربانی گزر گئی دوسری قربانی سامنے ہے ۔اُمید ہے ہم دونوں قربانیوں میں سُر خرو ہو ں گے ۔جناب عمران احمد قریشی صاحب نئے اُفق ،آنچل کے ساتھ ملے ،کوئی مضائقہ نہیں لیکن خط بھیجنے کی آخری تاریخ تو بڑھا دیں ۔تین کی بجائے آخری تاریخ ہر ماہ کی دس ہونی چاہیے۔ریاض حسین قمر دوستوں کی محفل کی صدارت کر رہے تھے ۔میرے خط کو پسندیدگی کی سند سے نوازا ،ممنون ہوں اور بہترین تبصرے پر مبارک باد قبول کریں۔جاوید احمد صدیقی آپ کا خط مختصر ضرور تھا مگر مزہ د ے گیا۔ممنون ومشکور ہوں۔صائمہ نورگہری باتیں کر رہی تھیں۔احسن ابرار رضوی کچھ جذباتی جذباتی نظر آئے ۔سید عبداللہ توفیق آپ کی محبتوں کا مقروض ہوں ۔سلامت رہیں اور اپنا ایڈریس بھی سینڈ کریں۔ننھے منے دو خطوط ،خواجہ حسین ظالم،حاجی عمران خان سانگی حاضر تھے۔پرنس افضل شاہین ،شکریہ ،سردار اویس اویسی،آپ کی محبتیں ،میں تو چاہتوں ،محبتوں کا پیا سا ہوں ،میری پیاس بُجھا دو۔ریاض بٹ مدلل اور شاندار تبصرے کے ساتھ حاضر تھے۔آپ کی فون کالز میرا سیروں خون بڑھا دیتی ہیں ۔جیتے رہیں ،سلامت رہیں۔محمد رفاقت بہت شکریہ ،عبدالجبار رومی انصاری مدلل خط لکھنے پر مبارک باد اور دیدار کرانے پر چاہتوں بھرا سلام ۔آپ میرے غریب خانہ پر آئے دل باغ باغ ہو گیا۔حسین جاوید ،آپ کے سُخن داد کا شکریہ فلک شیر ملک کا خط بھی عمدہ تھا۔اب میں بات کروں گا میاں کرامت حسین کے خط کی ۔عرض کروں گا صاحب ستر کی دہائی میں پر نچ چکے ہیں ،بچوں والی باتیں کرتے ہیں اور نئے اُفق کبھی کبھی پڑھتے ہیں ۔اوّل تو صائمہ نور نئے اُفق کی لکھاری ہے اور صائمہ مجید نئے اُفق میں نہیں سچی کہانیاں میں لکھتی ہیں ۔اِسی طرح صائمہ قریشی بھی نئے اُفق میں لکھتی ہیں کہیں اُن کو میرے ساتھ نہ جوڑ دینا‘رہی بات ای میل کرنے کی ،بردار جدید دُور ہے ،اپنی پسماندہ سوچ کو بدلیں اور اپنی سوچ و افکار میں جدّت لائیں۔دماغ کو وسعت دیں ۔مثبت سوچیں ،منفی نہیں ۔منفی سوچ بہت سی بیماریوں کی جڑ ہے ۔اور اس بات کا کیا ثبوت دے سکتے ہیں کہ یہ خط آپ نے ہی لکھا ہے ‘آپ کے پاس علم نجوم ہو سکتا ،یا الہ دین کا چراغ جس سے آپ قیاس آرائیاں کر سکتے لیکن ادارے کو کیا معلوم یہ خط میاں کرامت نے لکھا ہے یا کسی سہیلی سے لکھوایا ہے ۔رہی بات کہانیوں کی تو نئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے حوصلہ شکنی نہیں ۔مثبت تنقید کریں ۔جن کہانیوں پر آپ نے بات کی ہے اگر مشورے صادر فرما دیتے کہ اِن کو کیسے بامقصد بنا یا جا سکتا ہے تو لکھاری سیکھ سکتا۔اُمید ہے میرے باتوں کو مثبت لیں گے ۔ سلامت رہیں۔اقراء پڑھ کر دل و دماغ کی کھڑکیاں روشن ہوئیں ۔اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!انٹرویو میں عشنا کوثر سردارسے ملاقات خوب رہی ،کسی بھی سوال کرنے والے نے اُن سے اُن کے نام کا مطلب نہیں پوچھا اور اس نام کی تفصیل بھی۔انٹرویو بہت خوب تھا۔کہانیوں میں جرم وسزا کی کہانی ’’احمقوں کا ٹولہ ‘‘پڑھی ،بغور پڑھنے کے بھی کوئی جھول نہ ملا۔بہت خوب۔ریاض بٹ اب تک آپ کی پچا س کے قریب کہانیاں پڑھ چکا ہوں ،آپ اپنی کہانیوں کو کتابی صورت کیوں نہیں لاتے ،یا ادارہ ہی آپ کی کہانیاں کتابی صورت میں لے آئے۔’’بکراکہاں ہے ‘‘فہرست میں لکھاری کا نام کے ۔ایم خالد اور کہانی کے نیچے عنبرین اختر‘حالانکہ مزاح کے شہنشاہ کے ایم خالد ہی ہیں ‘کہانی بہت زبردست تھی ،مزاح کے ساتھ ساتھ خوبصورت پیغام دیا گیا ہے ۔ویری ویلڈن خالد بھائی ۔اس کے علاوہ آخری رشتہ،دوستی،قتل،روشن اندھیرے،آب اور آتش،بے خودی،مس کال اور قسط وار ایک سو سولہ چاند کی راتیںکی دوسری قسط نے اپنے سحر میں جکڑ لیا۔فن پارے کی تمام تحریریں خوب تھیں،ذوق آگہی ،خوش بوئے سُخن ،ڈیول ،زرین قمر بہت اعلی ۔خوب ،زبردست‘،اس بار تمام پرچہ بہت اعلی تحریروں کے ساتھ مزین تھا۔اب اجازت ۔رہی زندگی تو ہو گی ملاقات‘اللہ حافظ!
صائمہ نور…ملتان ‘آداب!اُمید کرتی ہوں خوشگوار زندگی بسر کرتے ہوں گے اور دوسروں کی خوشیوں کا سبب بنتے ہوں گے۔ جب میں یہ سطور لکھ رہی ہوں ،دِل مغموم سا ہے ،آنکھیں نم ہیں اور اُداسی کا ماحول ہے۔محرم الحرام کی آمد ہے ،سال نو شروع ہونے والا ہے ۔قمری سال کا آخری مہینہ بھی قربانی کا اور پر لا مہینہ بھی قربانی کا۔کیا ہوا ہم قربانی کا حق ادا نہیں کرتے ۔ابھی سے سکیورٹی پلان تشکیل دیئے جا رہے ہیں ۔کیسا المیہ ہے ہم اپنے ہی بھائیوں سے محفو ظ نہیں ہیں،مسلک کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور بھارتی سورما ناپاک ارادوں سے پاکستان کی سرزمین پر نظریں جمائے ہوئے ہے ،کبھی سندھ طاس کی خلاف ورزی تو کبھی کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اور روتا چیختا بھی وہی ہے ،دُم دبا کر کبھی امریکا بھاگتا ہے تو کبھی اقوام متحدہ‘آج کل بھی حالات کشید ہ چل رہے ہیں ،بس دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دُشمنوں کو نیست و نابود کرے اور اسلام کا بول بالا فرمائے ،پاکستان اور اِس میں بسنے والے ہر شہری کی حفاظت فرمائے آمین ۔!ماہ اکتوبر 2016کا شمارہ لیٹ ملااور لیٹ ملنے کی وجہ عمران احمد قریشی بھائی نے بتا بھی دی۔شکریہ وضاحت کر دی ۔سرورق خوفناک سا بنایا گیا لیکن تحریریں ہر موضوع کی شامل ہیں ،طنزو مزاح ،لّو،اخلاقی ،اصلاحی وغیرہ ۔ٹائٹل کو لے کر چلیں تو سرورق کہانی بھی ہونی چاہیے۔دستک میں جناب محترم انکل مشتاق احمد قریشی نے نہایت خوبصورتی سے امریکا کی بھارت پر مہربانی کیوں ؟لکھا۔امریکا کو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے وہ کسی کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔لیکن اُس کے اندرون خانہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو وہ خود قرضے میں ڈوبا ہوا ہے اور ظاہری طور پر دھاڑتا ہے مگر اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور وہ وقت قریب ہے جب روس کی طرح اس کے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور بھارت کو بھی سبق لینا چاہیے کہیں روس کی تاریخ پھر سے نہ دہرائی جائے۔گفتگو میں ریاض حسین قمر کا خط بازی لے گیا،خط بہت خوبصورت تھا ،بھائی یاد رکھنے کا شکریہ ،مجیداحمد جائی بھی کمر کسے ہوئے ہیں اور ہمیشہ اوّل نہیں دوئم ضرور آتے ہیں ۔گہرے جملے بازی کرتے ہیں اور خط بھی شاندار ہوتا ہے ۔جاوید احمد صدیقی کبھی کبھی جلو ہ گِر ہوتے ہیں ،اور کمال کر دیتے ہیں۔احسن ابرار رضوی اپنا حق ادا کر رہے ہیں ،سید عبداللہ توفیق بھائی ،میرا اصل نام یہی ہے ’’صائمہ نور‘‘اور مجھے اصل نام سے لکھتے ہوئے بہت اچھا لگتا ہے ۔آپ کی محبتیں ہیں کہ ایک بہن کو اِن القابات سے نواز رہے ہیں ۔الحمداللہ!میں اپنے نام کا مطلب خوب جانتی ہوں ،صائمہ کا مطلب ہے صبر کرنے والی ،شاکر ،اور نور روشنی کو کہتے ہیں ،مزید وضاحت کروں تو بات کہیں اور چلی جائے گی ،آپ سمجھ دار ہیں خود ہی عقل کی کسوٹی پرکھ لیں۔خواجہ حسین ظالم ۔’’ظالم ‘‘بھائی یہ کیا ماجرا ہے ۔پرنس افضل شاہین،کا خط زبردست تھا،ریاض بٹ دلائل کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں اور اِن کی جرم و سز ا پر کہانیاں زبردست ہوتی ہیں جیسے ابھی احمقوں کا ٹولہ تھی۔ کرامت حسین ادیب ہیں ،پاگلوں والی باتیں کیوں کر رہے ہیں ،کوئی صائمہ نور سے لکھے یا صائمہ قریشی ،آپ کس شک میں مبتلا ہو رہے ہیں ،کہو تو اپنا آئی ڈی کارڈ ادارہ کو بھجوا دوں اور نکاح نامہ بھی۔محمد رفاقت ،عبدالجبار رومی انصاری،حسین جاوید،اور فلک شیر کے تبصرے خوب تھے۔اقراء پڑھ کر دل کو سکون ملا ،انٹرویو کا سلسلہ بہت خوب ہے ۔اور ہو سکے تو پاکستان کی سیر کے حوالے سے کسی نہ کسی شہر کا تعارف بھی دیا جائے ،کہانیوں میں میلے ہاتھ ،مس کال،روشن اندھیرے،قتل،آخری رشتہ ،دوستی ،بے خودی ،احمقوں کا ٹولہ ،آب اور آتش زبردست تھیں،’’ؓبکرا کہاں ہے ‘‘طنزو مزاح پر مبنی سبق آموز تحریر تھی،مزاح مزاح میں بہت گہرا سبق دیا گیا ہے ۔ذوق آگہی ،خوشبوئے سخن ،فن پارے خوب تھے ،ڈیول زریں قمر نے عمدہ لکھی ،اور ایک سو سولہ چاند کی راتیں اپنے جادو میں قید کرنے لگی ہے ۔
ریحانہ سعیدہ… لاہور۔آداب ۔ امید ہے سب عیدالضحی رب کی رضا کے مطابق منا چکے ہوں گے ۔ اور خوب گوشت کھا کے اچھی صحت بنا لی ہو گی ۔ رب کی رضا تو اس عید کو بھی عیدالفطر کی طرح منانے میں ہے سو عید پررانیں اپنے دوستوں رشتے داروں کو دینے کی بجائے تین حصے کر کے ایک حصہ ان غریبوں کا ہے جو اس قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے سفید پوش ہیں اور کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ اس قربانی کے بعد اگلا ماہ انسانی قربانی کا ہے ۔ کہ اللہ کی راہ میں اور باطل کے سامنے کون سینہ سپر ہو سکتا ہے کون اپنی معصوم جان لٹا سکتا ہے اور یہی سبق ہے ایک مسلمان کی زندگی کا کہ کلمہ حق کے لئے گردن نہ جھکائیں اور گردن کٹوا دیں۔
غریب وسادہ رنگین ہے داستان ِ حرم
نہایت ہے اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
لیکن آج کل ہمارا سارا فوکس نیازیں بانٹنے پر کالے کپڑے پر ن کر ماتم کرنے پر یا ایک دوسرے کی ضد میں فساد کر نے پر ہے ۔ جبکہ حسینی سنت تمام مسلمانوں کے لئے ہے کسی ایک فرقے کے لئے نہیں منافقانہ طرز ِ عمل چھوڑ کے ان کی سنت اپنائیں یہی آج کی ضرورت ہے اب ہو جائے تبصرہ جناب پر لے تبصرہ کیا پر لے نمبر پر آیا پر حسرت ان غنچوں پر ۵۰۰ لئے بنا مر جھا گئے ۔ خیر میرے لئے یہی کافی ہے کہ دوستوں تک بات پر نچ گئی ۔ سرورق
پر چھپی تصویر میں لڑکی خوبصورت پر چالاک لگ رہی تھی بیک گرائونڈ کسی ہارر مووی کا سین لگ رہا تھا ، نام کا اثر ہوتا ہے پر اتنا بھی نہیں جتنا محمد شعیب صاحب نے دکھا دیا کہانی اچھی تھیم کے ساتھ تھی پر غیر ضروری لمبی کر دی۔ میلے ہاتھ اچھی کہانی تھی آئیڈیل تو بس جی فلموں میں ہی اچھے لگتے ہیں لڑکی کی ایک آواز پر پر نچ جاتے ہیں چھ سات بندے گرا دیتے ہیں جبکہ لڑکیاں گھر میں سو آوازیں بھی دیں تو لڑکوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی ۔ریاض بٹ تو جی اچھی اچھی کہانیاں پولیس والوں کی سنا کر ہمارے دلوں میں ان کے لئے عزت پیدا کر رہے ہیں ورنہ تو جی ہم اسٹوڈنٹ لائف میں انہیں چھلڑ کہتے تھے۔ایک سو سولہ چاند کی راتیں سلو ہے پر لے نئے افق کی قسط وار کہا نیاں اتنی پر تجسس ہوتی تھیں کہ میری اور طاہر ہ کی باری لگ جاتی تھی پر اب اتنی سلو کہا نیاں ہیں کہ پر لے باقی کہانیاں پڑھ کے پھر قسطیں پڑھتے ہیں ، بے خودی کوئی خاص کہانی نہیں تھی مس کال بھی پرانے ٹاپک پر ایوریج سی کہانی تھی ۔ آخری رشتے کا کوئی سر پیر نہیں تھا ۔دوستی کہانی آجکل کے دور کے مطابق ہے کیو نکہ ہوس پرستی اور مفاد پرستی نے عمر کا حساب ختم کر دیا ہے نہ رشتوں کا تقدس رہانہ عمر کا ۔ مہتاب خان کی کہانی اچھی تھی حقوق العباد کو نمایاں کرتی ہوئی حج چھوڑ دیا ااور ایک جان بچا لی اور اللہ ایسے لوگوں کو حجِ اکبر کا ثواب دیتا ہے ۔ بکرا کہاں ہے ایسا ہی مزاح تھا جیسے آجکل کے سٹیج ڈراموں کا ہے قتل مزے ی کہانی تھی ، قتل پر لکھنے والے لکھاری بھا ئیوں اور بہنوں آپ کی بھی حقیقت ایسی تو نہیں ہے نا۔ فن پارے میں کچھ کہانیوں نے دل کو چھوا تو کچھ بس پھیپھڑوں تک ہی پر نچ سکیں جبکہ آپ نے لکھا تھا دل کو چھو لینے والی کہانیاں اس میں اگر عصمت چغتائی سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کی مختصر کہانیاں ہوں تو بہتر ہے ۔ خوش بوئے سخن اچھا تھا ڈیول بھی اچھی شروعات ہے اب اجازت تبصرہ کہانیوں کے حوالے سے ہے ورنہ آپ سب میرے لئے محترم ہیں۔
عائشہ خواجہ… منچن آباد۔ السلام علیکم عمران انکل میں پر لی بار حاضر ہوئی ہوں محفل میں امید کرتی ہوں ویلکم کریں گے دور حاضرہ میں مجھے نئے افق کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا یہ ایک لاجواب اور منفرد شمارہ ہے انکل مشتاق بہت عمدہ لکھتے ہیں اور انکل طاہر لاجواب محفل گفتگو میں آج کل بہت لڑائی ہو رہی ہے اس کو ذرا کنٹرول کریں ذوق آگہی شاندار سلسلہ ہے اور مجھے بہت پسند ہے تمام بہن بھائی بہت اچھا لکھتے ہیں خداوند کریم شمارے کو دن دگنی ترقی عطا فرمائے آمین۔
ممتاز احمد… سیٹلائٹ ٹائون، سرگودھا۔ السلام علیکم اکتوبر کا شمارہ پچیس ستمبر کو موصول ہوا دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے امریکا کی بھارت پر مہربانی کیوں کے عنوان سے ایک فکر انگیز اور مدلل تجزیہ پیش کیا بھارت پر جتنی بھی مہربانیاں ہوجائیں جتنا بھی گٹھ جوڑ کر لے اس کے نتیجے میں کبھی بھی ان کو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ ان شاء اللہ ہر محاذ پر بھارت نہ صرف منہ کی کھائے گا بلکہ اپنے ناپاک ارادوں اور عزائم کی تکمیل کبھی نہیں کر پائے گا۔ گفتگو میں محترم ریاض حسین قمر اپنے سیر حاصل تبصرے اور خوب صورت افکار کے ساتھ کرسی صدارت پر رونق افروز تھے۔ آپ کو میرے خیالات پسند آئے بہت شکریہ، نائب صدارت کی کرسی پر مجید احمد جائی اپنی محبتوں اور چاہتوں کے پھول بکھیر رہے تھے آپ کی مبارکباد اور کہانی پسند کرنے کا بہت شکریہ، جاوید احمد صدیقی نے بہت عمدہ تبصرہ لکھا میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ ریاض بٹ کا تبصرہ بہت شاندار اور نمبر ون تھا۔ محترم ریاض بٹ آپ نے میری کہانی پر مفصل تبصرہ لکھا کہانی کو پسند فرمایا یقین جانیے آپ جیسے مایہ ناز اور منجھے ہوئے لکھاری کے تبصرے اور حوصلہ افزائی نے ہمت بڑھائی جس سے مزید اچھا اور بہتر لکھنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے آپ کا بے حد ممنون اور شکر گزار ہوں کرامت حسین جہلم سے گفتگو میں تشریف لائے۔ خوش آمدید جی میرے محترم آپ نے پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے انٹرویوز شائع ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تو اس ضمن میں کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا پر لی بات تو یہ ہے کہ انٹرویو کوئی کہانی یا افسانہ تو ہے نہیں جو ایک میگزین میں چھپ جائے تو دوسرے میں شائع نہیں ہوسکتا دوسرا یہ کہ ان کے کئی انٹرویوز اس سے پیشتر ملک کے بے شمار میگزینز اور ادبی مجلوں میں شائع ہوچکے ہیں اور اہل دانش ارباب نے ان کو بہت سراہا ہے اور آج تک کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ ایک سے زیادہ میگزین میں کیوں شائع ہوئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کا شاگرد ہونے کا مجھے اعزاز حاصل ہے وہ میرے گھر کے قریب رہتے ہیں میں اکثر ان کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل کرتا رہتا ہوں سہ ماہی ’’صدائے دل‘‘ کے لیے ان کا انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور چار گھنٹے ان کے قدموں میں بیٹھ کر گزارے تمام سوالات جو اپنی طرف سے کیے ان کے جوابات لکھے اسی طرح نئے افق کے لیے انٹرویو ریکارڈ کرنے محترم عمران احمد صاحب مدیر ماہنامہ نئے افق کی پیشگی اجازت سے دوبارہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ انٹرویو تھوڑا مختلف تھا انٹرویو کے ساتھ ادارہ نئے افق کو ڈاکٹر صاحب کی آٹھ کتابیں بھی ارسال کیں علاوہ ازیں ان کی ذات اور شخصیت پر لکھا ہوا بہت سارا مواد بھی انہوں نے خود فراہم کیا میں نے ان کا انٹرویو نہ تو کہیں سے نقل کیا اور نہ کاپی کی براہ راست ان سے سوالات کیے اور جوابات حاصل کیے اب اگر ان کے دس انٹرویو اور بھی شائع ہوں تو جو معلومات ان کی بہترین شخصیت، حقائق ان کی خدمات اور کیے گئے رفاحی، اصلاحی کام ہیں تو وہ وہی ہوں گے ان میں کوئی تبدیلی تو نہیں آئے گی، یہ میرے دل کی ان سے محبت، پیار، عقیدت اور احترام ہے کہ صدائے دل اور نئے افق کے قارئین کرام تک ان کی خوب صورت شخصیت کے مختلف پر لوئوں اور ان کی بے شمار خدمات کو انٹرویو کی شکل میں پہنچانے کی کوشش کی کہ لوگ جان سکیں کہ ایک بے بصر شخص نے کس قدر ہمت، حوصلے اور جواں مردی سے آنکھیں رکھنے والوں سے بڑھ کر کام کیے کامیاب زندگی گزاری ادب کی بے پناہ خدمت کی۔ مقصدان کی خدمات اور شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ اب ان شاء اللہ کچھ اور میگزینز میں بھی ان کے انٹرویو نئے انداز میں شائع کرانے کا ارادہ ہے باقی آپ کو میری کہانی پسند نہیں آئی تو بات یہ ہے کہ مجھے مطالعے اور لکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے ابھی لکھنے کی پر لی سیڑھی پر لی منزل ہے مجھے تو ابھی صحیح طرح سے قلم پکڑنا بھی نہیں آیا لکھنا سیکھ رہا ہوں یوں کہہ لیں طفل مکتب ہوں تو یقیناً مجھ نئے لکھاری کی تحریر میں بے شمار خامیاں ہوں گی تو اس سلسلہ میں اپنے سینئر اور منجھے ہوئے لکھاریوں سے رہنمائی لینی ہے آپ کی تنقید میرے لیے اصلاح کا درجہ رکھتی ہے۔ صائمہ نور، احسن ابرار رضوی، سید عبداللہ توفیق، خواجہ حسین، حاجی عمران سانگی اور پرنس افضل شاہین نے بہترین اور شاندار خطوط، تبصرے لکھے آپ سب دوستوں کی خدمت میں خلوص بھرا سلام قبول ہو، مسکان ظفر بھٹی کو صرف اتنا ہی کہوں گا کہ حسد اور بغض کی آگ میں جل جل کر کوئلہ بننا چھوڑ دو ۔ محمد رفاقت، عبدالجبار رومی انصاری، حسین جاوید اور فلک شیر ملک کے خطوط بھی بہت شاندار تھے۔ اب بات ہوجائے کہانیوں کی تو سب سے پر لے اپنے فیورٹ رائٹر جناب ریاض بٹ کی احمقوں کا ٹولہ پڑھی بلا شبہ کہانی نمبر ون اور بہترین تھی بہت پسند آئی دوسرے نمبر پر عارف شیخ کی مس کال پڑھی مصنف نے ایک مس کال کے نتیجے میں ہونے والی بات چیت اور بڑھتے بڑھتے ایک جوان لڑکے جو کہ اپنی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا کی المناک موت پر ختم ہوئی۔ عنبرین اختر کی آخری رشتہ بہت سبق آموز اور شاندار کہانی تھی، عنبرین اختر اتنا اچھا لکھنے پر آپ کو بہت بہت مبارکباد قبول ہو، صفحہ نمبر 81 پر آپ کا مختصر تعارف شائع ہوا مختلف صفحات پر آپ کی شاعری کو زینت بنایا گیا آپ ایک اچھی نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی شاعرہ بھی ہیں ویلڈن اللہ رب العزت آپ کو اور زور قلم عطا فرمائے، آمین۔ خلیل جبار دوستی کے عنوان سے بہت اچھی اور سبق آموز کہانی لے کر آئے آج کل اس طرح کی آنٹیاں ٹڈی دل کی طرح پھیلی ہوئی ہیں اللہ ان بے حیا آنٹیوں کے شر سے ہر شخص کو بچائے، روشن اندھیرے، بکرا کہاں ہے اور قتل بہت اچھی کہانیاں تھیں شمارہ ابھی زیر مطالعہ ہے ذوق آگہی میں عائشہ ملک اعوان، گل مہر، عبدالجبار رومی انصاری، محمد یاسر اعوان، محمد رفاقت، فلک شیر ملک اور خواجہ حسین کے انتخاب بہت شاندار تھے خوش بوئے سخن میں ریاض حسین قمر، دستگیر شہزاد اور محمد یاسر اعوان کا کلام بہت عمدہ تھا پسند آیا، فریدہ جاوید فری کے لیے بہت سی دعائیں اللہ کریم ان کو صحت تندرستی اور شفا عطا فرمائے، آمین۔ اب آخر میں بات کروں گا محترم المقام واجب الاحترام جناب ریاض حسین شاہد کی قسط وار پل صراط عشق کی، سب سے پر لے دل کی گہرائیوں سے آپ کو اتنا اچھا لکھنے کی ڈھیر ساری مبارکباد پیش کرتا ہوں سچ پوچھیے تو پل صراط عشق نئے افق کی جان تھی عشق حقیقی کو لیے یہ خوب صورت انجام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ ریاض شاہد آپ نے قلم اور لکھنے کا حق ادا کردیا نوجوان نسل کے لیے آپ کی یہ تحریر مینارہ نور ہے مجھ جیسے نئے لکھنے والے آپ کی تحریروں سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں اللہ رب العزت آپ کو نظر بد، حاسدوں کے حسد اور شرپسندوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین۔ آپ دنیا ادب کا ایک درخشندہ چمکتا، دمکتا ستارہ ہیں۔ اللہ آپ کو صحت تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے اور آپ اسی طرح شاہکار تحریریں اور ناول تحریر کرتے رہیں، آمین اپنے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ اب اجازت چاہوں گا ان شاء اللہ اگلے ماہ حاضری ہوگی اگر زندگی نے وفا کی تو اللہ رب العزت سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے سب کی خیر ہو۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام علیکم ماہ اکتوبر کا شمارہ اس بار کافی تاخیر سے ملا بہرحال یہ جان کر تسلی ہوگئی کہ آئندہ شمارہ انہی تاریخوں میں آنچل کے ساتھ ملا کرے گا سرورق ہمیشہ کی طرح خوب صورت ہے دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب کا تجربہ کار قلم اس بار امریکا کی بھارت پر مہربانی کے حوالے سے لکھ رہا ہے چین اب حد سے زیادہ امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ بھارت امریکا کی گود میں بیٹھ کر دنیا کو ایک اور عالمی جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے یہ آئے دن پاکستان کو بھی دھمکیاں دیتا رہتا ہے اور پاکستان کی بہادر فوج اسے منہ تور جواب دے رہی ہے ہماری دعا ہے کہ خدا دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے اور ہمارے پاک وطن کی حفاظت فرمائے، آمین۔ اب بڑھتے ہیں خطوط کی طرف ریاض حسین قمر بھائی کرسی صدارت پر بیٹھے ہیں ویل ڈن، بڑا سندر اور بے باک تبصرہ ہے میری کہانی اور خط پسند کرنے کا بے حد شکریہ اور یہ آپ اعلیٰ ظرفی اور شوق ہی ہے جو آپ میری تحریر سب سے پر لے پڑھتے ہیں شکریہ، آپ اب رو بصحت ہیں خدا آپ کو ہمیشہ ہر بلا سے محفوظ رکھے، آمین۔ مجید احمد جائی کیسے ہو، آپ کے خیالات بھی خوب صورت اور مدلل ہیں میری کہانی اور خط ہمیشہ کی طرح پسند کرنے پر مہربانی نوازش واقعی ساحل سے اندازہ طوفان نہیں ہوتا بہرحال اگر کبھی موقع ملا تو ان شاء اللہ ضرور ملتان آئوں گا احسن ابرار رضوی میراخط پسند کرنے پر یہ بندہ ناچیز مشکور و ممنون ہے سید عبداللہ توفیق میں جو کوشش گفتگو میں شریک قارئین کے لیے کرتا ہوں۔ اس کو آپ نے سراہا شکریہ خواجہ حسین ظالم یہ بھئی ظالم کیا ہوا براہ مہربانی اس کو اپنے نام سے ہٹائیں، ویسے آپ کا اور حاجی عمران خان سانگی کا مختصر تبصرہ محفل میں آپ کی موجودگی کو ظاہر کر رہا ہے بہرحال چراغوں میں اور تیل ڈالیے تاکہ محفل میں آپ کے دم سے زیادہ روشنی ہو۔ یہی بات میں مسکان ظفر بھٹی سے بھی کہتا ہوں، پرنس افضل شاہین کیا خوب اشعار لکھتے ہیں اور کیا عمدہ تبصرہ کیا ہے الطاف حسین کو کون لائے گا اور سزا دے گا یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر محب وطن پاکستانی کے ذہن میں ہے عبدالغفار عابد آپ کا خط بھی پسند آیا آپ نے میری تحریر کردہ کہانی پر جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ میرے لیے باعث اطمینان اور تقویت ہے کہ میں جس مقصد کے لیے تفتیشی کہانیاں لکھتا ہوں وہ پورا ہو رہا ہے میرا مقصد ہے قانون کا احترام سکھانا اور لوگوں کے لیے سبق کا سامان مہیا کرنا ہے یہی بات میرے روحانی استاد محترم ابن صفی (مرحوم) بھی فرمایا کرتے تھے محمد رفاقت آپ کا شعر اور خط پسند آیا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے عبدالجبار رومی انصاری آپ نے کشمیر کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ قابل غور ہے آپ کا لکھا ہوا قطعہ اور لفظوں کا استعمال خوب ہے حسین جاوید آپ کا خط بھی اچھا ہے لیکن یہ بات اچھی نہیں ہے کہ آپ آئندہ خط نہیں لکھیں گے اس فیصلے کو تبدیل کریں فلک شیر ملک بھائی ایڈیٹر صاحب کی بات سے آپ کو اطمینان ہوجانا چاہیے میرا خط اور کہانی پسند کرنے کا شکریہ رہی بات ناصرہ کو قتل کرنے کی تو اس بابت آپ نے آخری سطروں میں پڑھا ہوگا کہ آفتاب کوئی گواہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا پھر ناصرہ نے تو اس کے لیے عقبی کھڑکی کھول دی تھی بہرحال میری کہانی پوری توجہ سے پڑھنے کا شکریہ، اب اپنے پڑوسی جاوید احمد صدیقی سے بات ہوجائے بھائی آپ میرے خط کی چودویں لائن کو دوبارہ ملاحظہ فرمائے میں نے آپ کا ذکر کرتے ہوئے آپ کا موبائل نمبر مانگا تھا اس لیے آپ کا شکوہ بے جا ہے ہم آپ کو کیسے بھول سکتے ہیں۔
ہم اسے بھول گئے ہائے یہ اس کی سادہ دلی
کیا کبھی کوئی طائر بھی بھولا ہے نشیمن اپنا
آپ کا اس بار کا خط بھی اپنے اندر ایک گہرائی لیے ہوئے ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ۔ صائمہ نور بہن کیسی ہو، آپ کو بھی میرا خط اور کہانی پسند آئی بہت مہربانی، شکریہ۔ میں بار بار یہ بات لکھتا ہوں کہ آپ بہن بھائیوں کی حوصلہ افزائی ہی میرے اندر لکھنے کی جوت جگائے ہوئے ہے۔ فریدہ جاوید فری خوش آمدید، آئندہ ذرا بھرپور تبصرے کے ساتھ آئیں، جو کہانیاں اب تک پڑھ سکا ہوں ان پر تبصرہ ہوجائے میلے ہاتھ محمد سلیم اختر کی ایک سبق آموز تحریر ہے کبھی کبھی انسان سمجھتا کچھ ہے ہوتا کچھ ہے عنبرین اخترکی کہانی آخری رشتہ بھی خوب رہی، خلیل جبار کی دوستی ایک سبق آموز کہانی ہے آنٹی ماہ لقا جیسی عورتیں آج کل کے دور میں بہت ہیں بس ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ بکرا کہاں ہے بڑی مزیدار تھی فقرے برجستہ تھے تھکے ذہنوں کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی تھی، ذوق آگہی میں عائشہ ملک اعوان، گل مہر، پرنس افضل شاہین، عبدالجبار رومی انصاری، محمد رفاقت، فلک شیر ملک اور محمد کاشف کا انتخاب خوب تر ہے رائو تہذیب حسین تہذیب کا قطعہ بھی حسب حال ہے خوش بوئے سخن میں ریاض حسین قمر، عامر شہزاد تشنہ، پرنس افضل شاہین، حسین جاوید، عامر زمان عامر کا انتخاب اچھا ہے۔
عائشہ اے بی… جھڈو، سندھ۔ السلام علیکم میں عائشہ اے بی پر لی دفعہ نئے افق کی محفل میں آئی ہوں میرا اور نئے افق کا ساتھ کئی سالوں یا مہینوں کا نہیں ہے میں نے نئے افق کا پر لی دفعہ مطالعہ جون 2016ء میں کیا جو کہ ایک بہترین دوست نے مجھے لاہور سے بھیجا تھا شکریہ دوست، رسالہ کیونکہ پر لی دفعہ پڑھا تھا تو دو تین نام دیکھ کر میں دنک گئی کہ یہ لوگ یہاں ہیں؟ جناب عبدالجبار رومی اور پرنس افضل شاہین میں جناب عبدالجبار رومی انصاری کو گزشتہ تین سالوں سے بچوں کے رسالے میں پڑھتی آئی ہوں اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ یہاں بھی لکھتے ہیں جناب آپ کو شادی کی بہت بہت مبارک ہو، اللہ آپ کو خوش رکھے، آمین۔ دوسرے جناب بھائی پرنس افضل شاہین میںآ پ کو غائبانہ تعارف سے جانتی ہوں آپ آپی پروین کی باتوں میں ہمیشہ آجاتے ہیں آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے یہ بات کیسے معلوم تو بھائی آپ کو بتا دوں میرا اور آنچل کا چھ سال پرانا تعلق ہے تو آپ آنچل میں غیر حاضر ہو کر بھی حاضر ہوجاتے ہیں ہمارے یہاں نئے افق نہیں ملتا اور ہاکر صاحب لا کر نہیں دیتے میں کیا کروں، اسی لیے کہانیوں پر تبصرہ ادھار رہے گا مونا شاہ قریشی آپ بہت اچھی ہو، اللہ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے حیران مت ہونا کہ میں کون ہوں ارے بہنا آپ کی آئی ڈی فرینڈ حیا بلوچ ہوں کیونکہ آئی ڈی فرضی نام سے ہے امید ہے سمجھ گئی ہوں گی اجازت چاہوں گی اس دعا کے سنگ کہ سب لوگ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیں اور زندگی کے رنگوں سے خوشیاں کشید کرتے رہیں، حوصلہ افزائی ہوئی پھر تو آئوں گی اور اگر نہ ہوئی پھر بھی آئوں گی کیونکہ میں عائشہ اے بی اپنے نام کی ایک ہوں۔
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم! عمران بھیا کیسے ہیں امید کرتا ہوں کہ خیریت سے ہوں گے اکتوبر کا شمارہ کافی دیر سے موصول ہوا آج کل نئے افق لیٹ مل رہا ہے اب نجانے اس کی کیا وجوہات ہیں بہرحال مجھے مسلسل تین چار ماہ کھڈے لائن لگائے جانے کے باعث میں شرکت سے محروم رہا البتہ کسی بھی دوست قاری نے ذرا بھی نوٹس لینا گوارا نہیں کیا، اس دنیا کا یہی دستور ہے خیر، اس دفعہ کا سرورق کسی صاحب نے دل لگا کر بنایا تھا سو ہمارے دل کو چھو گیا، خاص طور پر حسینہ کے دراز سیاہ بال دیکھ کر ہمیں اپنی آنجہانی ساہیوال نسل کی بھینس یاد آگئی۔ خدا بخشے بڑا ہی وافر دودھ دیتی تھی قریشی صاحب کی دستک ہمیشہ کی طرح آنکھیں کھولنے والی تھی، ان کا تجزیہ بالکل درست تھا کیونکہ اب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) اپنی جنگی تیاریاں مکمل کرچکے ہیں، بھارت کی روایتی جارحیت پسندی اس کو لے ڈوبے گی قریشی صاحب میں آپ کی دستک پر پچھلے چار ماہ سے تبصرہ کرنے کی سعادت سے محروم رہا ہوں تو اس کی وجہ صرف اور صرف عمران بھائی ہیں، آپ ان سے ضرور پوچھیے گا کہ یہ بغیر اطلاع کے لکھاریوں کو جبری رخصت پر کیوں بھیج دیتے ہیں گفتگو بھی اپنے جوبن پر ہے میں کافی عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کہ کچھ ساتھی گفتگو کی محفل کو سیاسی اکھاڑہ سمجھ کر اپنی بصیرت کے موتی بکھیرنا شروع کردیتے ہیں اور پورے تبصرے میں شمارے پر کوئی بات نہیں ہوتی، یہ غیر ذمہ داری ہے براہ مہربانی اس سے اجتناب کریں بے شک سیاست اور معاشرتی برائیوں پر قلم کشائی ضرور کریں لیکن اتنا جذباتی مت ہوں کہ آپ خود کسی آسمانی فرشتے کی مانند بن جائیں کہ جو سب خامیوں سے ماورا ہو، میاں کرامت صاحب نے اپنی گفتگو میں بہت اہم باتوں پر آپ سے وضاحت مانگی مگر آپ نے کوئی قابل ذکر وضاحت نہیں دی سخت ایکشن نہ ہونے کی وجہ سے نئے افق میں چربہ سازی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ میں نے پر لے بھی اس پر بات کی تھی مگر وہ خط ضبط کرلیا گیا تھا عمران بھیا براہ کرم اس رجحان کو نئے افق سے ختم کریں دیگر ساتھیوں کے تبصرے بھی عمدہ تھے جہاں تک کہانیوں کی بات ہے تو میرے خیال میں معیار کافی بہتر ہوچکا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے پرانے لکھاریوں کو واپس بلانے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ خاصا کامیاب رہا ہے جیسے کہ عشنا کوثر صاحبہ جو ناول لے کر آئی ہیں وہ دل کی دھڑکنیں اتھل پتھل کردینے والا ہے۔ نہایت ہی منفرد موضوع اور کہانی پر گرفت مضبوط ہے جو یقیناً ان کے وسیع مطالعے کا حاصل ہے اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ابتدائی صفحات پر بھی عمدہ ناول موجود تھا۔ مصنف کا نام اگر چہ نیا ہے تاہم ناول اچھا تھا دیگر کہانیوں میں سلیم اختر سرفہرست رہے، میلے ہاتھ بہت ہی بہترین کہانی تھی سلیم صاحب کافی دیر بعد آئے اور بالکل درست آئے، آخری صفحات پر زریں قمر کا ناول کوئی خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکا دراصل یہ کافی گھسا پٹا موضوع ہے اور پاکستان میں اس موضوع کی اچھی خاصی یخنی بن چکی ہے۔ خیر، اب یہ یخنی نوش تو فرمانا پڑے گی، دیکھتے ہیں شاید آگے چل کر ذائقہ بہتر ہوجائے مجموعی طور پر شمارہ بہترین تھا لیجیے عمران بھائی اجازت دیجیے ابھی بہت ساری چیزیں تشنہ رہ گئی ہیں لیکن وقت کی قلت کے باعث اتنا کافی ہے یہ حاضری بھی اس لیے لگوائی ہے کہ کہیں محترم قارئین ہمیں بالکل ہی نہ بھول جائیں کیونکہ ہم اپنے چار سالہ کیریئر میں خون کی سیاہی سے لکھے گئے تبصروں کو اپنی سستی اور ہڈ حرامی کی وجہ سے ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتے آخر میں بتا دوں کہ ٹونی فضلو سیریز کی نئی کہانی ان شاء اللہ جلد آپ کو پڑھنے کو ملے گی، والسلام
مسکان ظفر بھٹی… شام کے بھٹیاں۔ السلام علیکم تبصرہ حاضر خدمت ہے۔ سرورق کی بھولی بہنا پتا نہیں کس چیز کو محویت سے دیکھ رہی ہوں۔ انکل مشتاق احمد قریشی کا اداریہ دل کے پھپولے تھے ہر جگہ غرض کو مد نظر رکھا جاتا ہے گفتگو میں ایم اے راحیل کو انعام نہ ملنے پر کچھ لوگ افسردہ تھے ریاض حسین قمر نے کھری سنائی جبکہ مجید جائی، صائمہ نور اور احسن ابرار رضوی حوصلہ دیتے نظر آئے بھائی مجید جائی کہانی شائع نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں پلیز کسی ایک ہی رسالے میں شائع کرانا ورنہ بعد میں معذرت کرنا پڑے گی۔بابا میاں کرامت حسین ادب کی دنیا کی ڈکشنری ثابت ہوئے ایسے بزرگوں کا دست شفقت ضرور سر پر ہونا چاہیے ایسے تلخ حقائق آج کل کہانیاں شائع کرانے کے شوقین ادیبوں کے پاس کہاں اقرا میں مختصر مگر جامع تفسیر تھی دنیا کی ہر چیز قدرت الٰہی کی نشانی ہے قران مجید قیامت تک ہدایت کا سرچشمہ ہے، آب و آتش میں رانو پر ماں کی سختیاں سگی ماں کی بجائے شاہین اور باپ کی نصیحت رحمان کی محبت کتنا ہی کچھ سادہ الفاظ میں جامعیت کے ساتھ بیان کیا احمقوں کا ٹولہ میں بستہ ب کے بدمعاش کمال چالاکی دیکھا گئے کیشیئر طارق بھی حصہ دار تھا مگر آپ چھا گئے۔ عشنا کوثر فتح النساء اور نواب پٹوڈی کی نوک جھونک کے ساتھ بر صغیر کی تقسیم پاک وطن کا قیام محبتوں کے لیے قربانیوں کا سلسلہ بڑی خوبی سے بڑھا رہی ہیں، بے خودی میں ایک مسلمان کے جذبات کو دکھ پر نچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اب تو اسلامیات کی کتابوں سے جہاد کی آیات بھی نکال لی گئی ہیں لیکن ادیب صاحب کی تسلی نہیں ہوئی، پتھروں کے بتوں کو پوجنے والے بڑے فخر سے ان کے آگے جھک رہے ہیں، ہم اپنے فرقہ کو سچا ثابت کرنے کے لیے اور دوسروں کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی تحریریں شائع کرنے سے گریز کیجیے عارف شیخ نے مس کال کے انجام پر خوب روشنی ڈالی، عنبرین اختر کا آخری رشتہ اوپر سے گزر گیا دوستی بھی کوئی خاص تاثر نہ چھوڑ سکی، روشن اندھیرے مہتاب خان کی اس ماہ کی سرسید تحریر تھی ایک شفیق فرشتہ صفت ڈاکٹر نے صرف انسانی ہمدردی کے رشتے کونبھانے کے لیے حج کا فریضہ بھی قربان کردیا ایک انسان کو اس کی وجہ سے زندگی کیا ملی دونوں جہاں کی نیکیوں کا علم بردار بن گیا بکرا کہاں ہے عنبرین اختر نے احمد اقبال صاحب کی یاد تازہ کردی ہر لفظ لائن صفحہ اور پوری کہانی ہاسے داگودام سی قتل کی تحقیق سراغ رسانی پر مبنی اچھی تحریر تھی، خوش بوئے سخن میں عامر شہزاد، حرا نعیم، اقصیٰ سحر، ارشد فاروق، کوثر ناز، شفیق ندیم اور قدیر رانا کا کلام لاجواب تھا۔ ڈیول میں زریں قمر نے مافوق الفطرت صلاحیتوں کا خوب پرچار کیا، ایسی خوبی والے لوگوں سے بچ کر رہنا چاہیے۔
عبدالجبار رومی انصاری… چوہنگ سٹی۔ اس دفعہ ٹائٹل کچھ خاص نہیں تھا دوشیزہ بھی مردہ سی بدروح لگ رہی تھی جو انڈیا کی طرح اپنی موت آپ مرنے والی ہو، اڑی حملہ کیا ہوگیا اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے اور بلا سوچے سمجھے اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا عالمی سطح پر بھی انڈیا کی کوئی شنوائی نہ ہوئی تو مودی گیڈر بھبھکیوں کے ساتھ دھمکیوں پر اتر آیا پر حقیقت سے آنکھیں کیسے چرائے ساتھ نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ جنگ کے خیال سے ہی پسینے چھوٹ گئے اور لگے غربت مکانے کی باتیں کرتے۔ نہتے کشمیریوں پر تین ماہ سے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے مسلسل کرفیو سے زندگی اجیرن کر رکھی ہے آئے روز شہدا کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور مودی کا ظلم ہے کہ رکھنے کا نام نہیں لے رہا انڈیا خود جنگ کا جواز بنا رہا ہے اور یہ غلطی اسے بڑی مہنگی پڑے گی کشمیر تو آزاد ہوگا خود انڈیا کے بھی کئی پاکستان بن جائیں گے ان شاء اللہ ریاض حسین قمر کو صدارت پر دیکھ کر بہت خوشی ہوئی حادثے پر بہت افسوس ہوا تھا اور تبصرہ بہت اچھا لگا اس دفعہ مجید احمد جائی سے بالمشافہ ملاقات ہوئی بہت اچھا لگا آپ کا تبصرہ بھی ایک دم زبردست رہا باقی محفل میں تنقید و تعریف تو ہوتی رہتی جاوید احمد صدیقی کا محبت بھرا پیام بھی اچھا تھا صائمہ نور کی باتیں بھی اچھی لگیں آپ کے ہاں نوبہار نہر بھی دیکھی اس دفعہ جو آپ ذکر کر رہی ہیں۔ فریدہ جاوید فری کے لیے ڈھیروں دعائیں اللہ تعالیٰ آپ کو جلد سے جلد صحت عطا فرمائے، احسن ابرار رضوی پسندیدگی کا شکریہ اور سید عبداللہ توفیق تو سوال کرتے نظر آئے یہ خواجہ حسین ظالم کب سے ہوگئے پرنس افضل شاہین آپ کا تبصرہ بھی نہایت عمدہ رہا، بہاولنگر آئوں گا تو آپ سے بھی ملاقات رہے گی یہ بھی اپنا سٹی ہے سردار اویسی نے بھی مختصراً اچھا لکھا مسکان ظفر بھٹی نے جو توجہ دلائی اس پر غور کریں پھر شاید تعریف کی صورت اس کے لبوں پر مسکان آجائے مختصراً تبصرہ بہت عمدہ رہا، پاکستانی قوم محب وطن ہے اور اس میں غداروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ریاض بٹ کا بھرپور تبصرہ اثر انگیز رہا کانپتے ہاتھوں سے تبصرہ لکھا بابا میاں کرامت حسین زبردست دل جیت لیا بہت اچھا لگا حسین جاوید آپ نے آخری خط کیوں لکھا آئندہ بھی آتے رہو، انسان ٹھوکر کھانے کے بعد ہی سمجھتا ہے ورنہ جس کام میں وہ لگ جاتا ہے چاہے اس میں نقصان ہی ہو کسی کے منع کرنے پر بھی باز نہیں آتا سرفراز نے بھی محمود کی بات مانی ہوتی تو نقصان نہ اٹھاتا پھر بھی کچھ دوستی کی لاج تو رہ گئی آپ کو مرزا سے محبت نہیں، فتح النساء ہم نواب خاندان کی بیٹی ہیں اور ہمیں صرف فیصلوں پر سر جھکانا آتا ہے جاندار جملوں سے پروئی ایک سو سولہ چاند کی راتیں عشنا کوثر سردار کے قلم ہی کو زیب دیتی ہے آپ کا انٹرویو بھی زبردست لگا۔ انگلش اردو ادب پر کمال مہارت رکھتی ہیں، مس کال نے شجاع کی جان تو لی لیکن وہ بھی حادثے کی صورت میں اگر وہ تھوڑی ہمت سے کام لیتے تو شاید جان بچ جاتی اور رسوائی جھیلنی پڑتی مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ انسان کا نام اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے اور آخر میں شائستہ نے عبدالرحمان کے لیے مسکرا کے ہاں کردی، ورنہ پر لے وہ دشمن نہ کرے دوست نے وہ کام کیا ہے دوست نما دشمن سے دھوکا کھا چکی تھی محمد شعیب کا طویل ناول آب اور آتش بہترین رہا۔ حسیب جواد علی کی بے خودی اثر انگیز رہی، بس اتنا کہیں گے کہ گھر والوں کو اس طرح بے یارومددگار نہیں چھوڑتے اور جہاد کے لیے حکومت وقت اعلان کرے تبھی جائیں ایک کے بعد دوسرا قتل آخر حلیمنگ کے جاسوسی ذہن نے لاشوں کا اشارہ پا کر مجرم راجر کو گرفتار کر ہی کرلیا، سید وجاہت علی کی تحریر بھی پرفیکٹ رہی، آخری رشتہ آیا تو اسی نے زہرہ کی جان لے لی اس کے امی ابو غریب لوگ تھے ورنہ وقاص کو الٹا لٹکوا دیتے کہ بتا کیوں زہرہ کی جان لی ہے عنبرین اختر کی کہانی نے قتل کی وجہ بتائے بغیر افسردہ کردیا، باقی تعارف اور شاعری بھی زبردست رہی عنبرین کی، گائوں کی پر نور جوانی کچے گھروندے سرسوں کی گندیں، مٹی کی سوندھی خوش بو اور برگد کی گھنی چھائوں بھی افسانہ ہوگئیں، ساتھ میں بابا جی کی کہانی جنہوں نے بعد از مرگ چونکا دیا فن پارے بھی اپنی مثال آپ تھے ذوق آگہی سے تارا شاہ محمد یاسر اور ماہ جبین جبکہ خوش بوئے سخن سے حرم نعیم، کوثر ناز اور سلمیٰ غزل بہترین رہیں۔
شجاعت حسین شجاع بخاری… تلہ گنگ۔ السلام علیکم عمران بھیا کیسے مزاج ہیں آپ کے امید کرتا ہوں کہ خیریت سے ہوں گے۔ آپ اور آپ کی پوری ٹیم اور قارئین کرام کو میری طرف سے سلام دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب کا کالم اچھا تھا کہانیاں اچھی تھیں، آب اور آتش محمد شعیب احمقوں کا ٹولہ ریاض بٹ اچھی تھی ایک سو سولہ چاند کی راتیں اچھی جا رہی ہے۔ عارف شیخ کی مس کال بھی اچھی تھی۔ باقی تمام تحریریں اچھی تھیں، اقرا میں طاہر قریشی کا مضمنون پڑھ کر ایمان تازہ ہوا گفتگو میں عمران احمد صاحب نے جو احادیث انتخاب کی ہے بہت اچھی تھی۔سب سے پہلا کا خط قمر صاحب کا تھا بہت خوب صورت گفتگو کی، ریاض حسین قمر السلام علیکم کیسے مزاج ہیں اس کے بعد مجید احمد جائی ملتان شریف، جاوید احمد صدیقی راولپنڈی سے سیر حاصل گفتگو کی۔ اس کے بعد آپی صائمہ نور ملتان شریف سے ملاقات ہوئی آپ کا مدلل خط تھا۔ احسن ابرار، سید عبداللہ، حاجی عمران، پرنس افضل، عبدالغفار، سردار اویسی نے خوب سیر حاصل گفتگو کی۔ مسکان ظفر بھٹی شام کے بھٹیاں سے پر لی بار ملاقات ہوئی سلام جی ریاض بٹ جی آپ کے کیا حال ہیں آپ کی تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ میری طرف سے آداب و سلام، محمد رفاقت، عبدالجبار رومی، حسین جاوید، فلک شیر ملک نے بھی خوب گفتگو کی۔ ذوق آگہی میں تارا شاہ چکوال، پرنس افضل، گل مہر کے انتخاب اچھے تھے باقی تمام بھی اچھے تھے۔ خوش بوئے سخن میں تمام کلام اچھا تھا، بلخصوص ریاض حسین قمر، اریشہ فاروقی، سلمیٰ غزل، ریحانہ سعیدہ، سباس گل کا کلام اچھا تھا۔ فن پارے میں تمام کہانیاں اچھی تھیں، آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو جلد بھارتیوں سے آزادی عطا کرے پاکستان پائندہ باد پاک فوج زندہ باد۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ قابل احترام جناب عمران احمد صاحب سلام شوق اس دعا کے ساتھ کہ آپ کے رفقا کار اللہ رب العزت کی رحمت کی پناہ میں ہوں ماہ اکتوبر کا شمارہ اس بار بروقت مل گیا ٹائٹل کی سادگی میں بھی اک شان ہے معصوم چہرے والی حسینہ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرے سے پریشانی آشکارہ ہے وہ نہ جانے کن سوچوں میں گم ہے، اشتہارات کی راہ سے گزرتے ہوئے فہرست پر نظر ڈالی تو بڑے بڑے قلمکاروں کے نام دیکھ کر طبیعت خوش ہوگئی کہ اس بار اچھی سے اچھی تحریریں پڑھنے کو ملیں گی۔ حسب معمول سب سے پر لے محترم و مکرم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب کا دستک پڑھا اور ہنود کی ریشہ دوانیوں میں ڈوب کر سوچا کہ دشمن ہمیشہ دشمن ہی رہتا ہے چاہے وہ دوستی کے کتنے روپ بھی بھرے ناہنجار بھارت روز اول سے ہمارا پکا دشمن ہے ایک طرف اس کا مکار وزیر اعظم ہمارے وزیر اعظم سے بظاہر دوستی بڑھانے کے لیے سرپرائز ملاقاتیں کرتا رہا اور دوسری طرف کلبھوشن جیسے چالاک جاسوس کے ہاتھوں بلوچستان اور کراچی میں کھیل کھیلتا رہا اور اب بھی وہ اپنے کرتوتوں سے باز نہیں آیا میں نے اپنے گزشتہ ماہ کے خط میں لکھا تھا کہ ہم من حیث القوم بھولنے کی قبیح عادت میں مبتلا ہیں ہمیں بڑی سے بڑی تکلیف بھی پر نچے تو ہم چند دنوں میں اسے یکسر فراموش کردیتے ہیں کلبھوشن یادیو نے ہمارے ملک کو کتنا بڑا نقصان پر نچایا وہ پکڑا گیا اب ہم اسے تقریباً فراموش کرچکے ہیں، ان کے وزیر اعظم نے اپنی گندی زبان سے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کہا اس کی دھمکیاں گیڈر بھبھکیاں نہیں ہیں مگر اس کو اپنے انجام کا بھی پتا ہے کہ پاک فوج نے کس طرح ان کی ٹھکائی کرنی ہے اسی لیے وہ جنگ سے غربت کے خلاف جنگ پر آگیا دشمن خواہ دوستی کے ہزار روپ بھرے وہ دشمن ہی رہتا ہے بلکہ دوستی کے روپ میں وہ بد ترین دشمن ثابت ہوتا ہے رب العزت ہمیں آنکھیں کھلی رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے آمین۔ گفتگو کے آغاز میں آپ نے حسب روایت بڑی ہی پیاری اور حوصلہ افزا حدیث مبارک ہمیں عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے اور ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔ محترم مجید احمد جائی ملتان سے ایک بہترین تبصرہ لے کر تشریف لائے ہیں۔ بھائی مجید احمد جائی غیر حاضری کی وجہ میرے اس ماہ چھپنے والے خط سے آپ کو معلوم ہوگئی ہوگی بہرحال بھائی مجھے یاد رکھنے اور میری کمی کو محسوس فرمایا یہ آپ کی میرے ساتھ محبت کو ظاہر کرتا ہے میں تہہ دل سے آپ کا شکر گزار ہوں، پیارے بھائی جاوید احمد صدیقی ایک بھرپور تبصرے کے ساتھ تشریف لائے ہیں صدیقی بھائی خدا آپ کو سلامت رکھے اور اسی طرح بھرپور تبصرے کے ساتھ تشریف لاتے رہیں۔ محترمہ صائمہ نور نے شاندار اور جاندار تبصرہ فرمایا صائمہ نور نے حکومت کے بارے میں جو کچھ فرمایا وہ ایک سو بیس فیصد درست ہے صائمہ جی حکومت ہی نہیں ہم عوام بھی اس کے ذمہ وار ہیں بھارت نے ان دنوں جس طرح پاکستان کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ہم پھر بھی اسی بے غیرت بھارت کی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں ٹی وی پر بھارتی چینلز ڈھونڈتے ہیں اور انڈین گانے سننا پسند کرتے ہی اس پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ مگر گفتگو کے صفحات اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ فریدہ جاوید فری صاحبہ آپ کی علالت کا پڑھ کر بہت فکر مندی ہوئی رب لم یزل آپ کو مکمل صحت یابی عطا فرمائے، آمین۔ بھائی احسن ابرار رضوی نیک خیالات کے ساتھ تشریف لائے جو شکایات آپ کو اس جمہوری حکومت سے ہیں وہی شکایات قوم کی اکثریت کو ہیں مگر وہ اس پر کان دھرنے والے نظر نہیں آتے کوئی صور اسرافیل ہی ان کو اس خواب غفلت سے جگا سکتی ہے۔ میں اپنی غیر حاضری کی وجہ بتا چکا ہوں میرا نئے افق سے ایک ایسا ناتہ ہے کہ محفل سے میری غیر حاضری کی کوئی بہت بڑی وجہ ہی ہوسکتی ہے بہرحال آپ نے مجھے اپنی یادوں میں رکھا اس کے لیے شکر گزار ہوں، سید عبداللہ توفیق بھائی نا چیز کے لیے آپ کی دعائوں کا میں بڑا قدر دان ہوں‘ خداوند کریم آپ اور آپ کے اہلخانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ماشاء اللہ اب بالکل تندرست ہوں اور ان شاء اللہ ہر ماہ اپ جیسے مہربانوں سے ملاقات ہوتی رہے گی، خواجہ حسین ظالم کے ظلم کی تکرار کا شکریہ۔اشعار سے مزین پرنس افضل شاہین کا تبصرہ شاندار بھی ہے اورجاندار بھی عبدالغفار عابد صاحب اچھے تبصرے کے ساتھ تشریف لائے سردار اویس اویسی اور مسکان ظفر بھٹی کے تبصرے اپنی اپنی جگہ خوب رہے محترم ریاض بٹ آپ کیا خوب کہانی لائے ہیں احمقوں کا ٹولہ بہت کوب رہی دلی مبارکباد اور آپ کا تبصرہ بھی خوب صورت تھا میاں کرامت حسین کا خط اور ادارہ کی طرف سے اس کا جواب پسند آئے، عبدالجبار رومی کے لبوں پر آنے والی شاعری جو نئے افق کا ٹائٹل دیکھ کر آئی بہت خوب تھی اور اسی طرح ان کامدلل تبصرہ بھی اچھا رہا، حسین جاوید نے اپنے خط کو آخری قرار دیا وجہ نہ بتا کر سب قارئین کو سسپنس میں ڈال دیا۔ شاید ادارہ کو بتا کر ان کی ٹینشن دور کردیں فلک شیر ملک نے خوب صورت انداز میں تبصرہ کیا جس کے لیے وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اس ماہ کا اقرا آنے والے اقرا کے مواد کی تمہید ہے امید ہے آنے والے مہینوں میں شائع ہونے والا اقرا ہمارے ایمانوں کو خوب تازگی بخشے گا محترمہ عشنا کوثر کا طویل انٹرویو ان کی زندگی کے مختلف گوشوں کو اجاگر کرتا بہت خوب رہا محترمہ عنبرین اختر کا تعارف اور کلام خوب رہے خوش بوئے سخن میں ایک سے بڑھ کر ایک آئٹم ہے اور ذوق آگہی میں سارا انتخاب بہت ہی خوب ہے آخر میں عرض کروں کہ ماہ اگست 2016ء کا شمارہ مجھ سے مس ہوا ہے کہیں سے نہیں ملا میری اپنے ساتھی قارئین سے گزارش ہے کہ کوئی ساتھی مجھے اگست 2016ء کا نئے افق بھیج دے اگر شمارہ نہیں بھیج سکتا تو گفتگو کے صفحات اور خوش بوئے سخن کے صفحات کی فوٹو کاپیاں مندرجہ ذیل ایڈریس پر ارسال فرمادیں میں زندگی بھر ان کا ممنون رہوں گا۔ پتا ریاض حسین قمر مکان نمبر C-3/3 لیفٹ بینک کالونی منگلا ڈیم نئے افق کے تمام عملہ اور نئے افق کے تمام قارئین کے لیے دعا گو۔
حسین جاوید… منچن آباد۔ محبت کے امین سخن کے امام، پیارے عمران آپ کے حضور عرض ہے سلام۔ شمارہ اس بار بھی تعریفی القابات سے بے نیاز تھا مکرمی مشتاق احمد قریشی کی اک نظر کافی ہے وسعت دشت کے ڈبونے کو طاہر قریشی صاحب کہسار کو چلے ہیں میں تو صحرا کا مسافر تھا طاہر صاحب میں آپ کا ممنون ہوں، اہل قلم ریاض بٹ میں نے آپ کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔ آپ کی بہت قدر ہے میرے نزدیک میسر رہتی ہے اہل قلم کی رفاقت ریاض قمر آپ نے میرا تبصرہ عرق ریزی سے دیکھا میرے لیے یہ بات باعث مسرت ہے، ریاض صاحب شاندار تبصرے کی بازی تو ہر دفعہ آپ لے جاتے ہیں اور سہرا میرے نام کردیا آپ کی اس نوازش کا بہت بہت شکریہ۔ جاوید احمد صدیقی اور احسن ابرار رضوی یاد کرنے کا شکریہ جاوید احمد صدیقی اور احسن ابرار رضوی یاد کرنے کا شکریہ عبدالغفار عابد میں آپ کے دکھ میں برابر کا شریک ہو۔ رومی انصاری آپ میرے ساتھ اتفاق یہ ضروری تو نہیں، اہل دانش میاں کرامت آپ کی فکر رسا نے تو سن عمر کو شکست دیتے ہوئے اپنی فطری تازگی اور شگفتگی کو برقرار رکھا ہے۔ سید عبداللہ توفیق آپ کا تبصرہ مشعل راہ ہے۔ میرے لیے بہن مسکان ظفر بھٹی اور جناب فلک شیر ملک آپ کے تبصرے جدید طرز احساس کے تھے فن پارے بوجھ صوبیہ احمد بلا عنوان صائمہ قریشی صاحبہ کمال کی تحریر تھی قتل سید وجاہت علی مس کال عارف شیخ، شاندار کہانی احمقوں کا ٹولہ ریاض بٹ بہن زریں قمر ڈیول بہت عمدہ ذوق آگہی گل مہر تارا شاہ یاسر اعوان فلک شیر ملک نور شاہ بہت خوب خوش بوئے سخن عامر شہزاد، ریاض حسین قمر، عنبرین اختر، عامر زمان عامر، ریحانہ سعیدہ، قدیر رانا، سلمیٰ غزل لا جواب، عمران صاحب رشتے کی حرمت پر جس سے حرف آئے میں ایسے سارے زخم چھپا کر رکھتا ہوں شاید کہ آپ کو اب میری ضرورت نہیں ویسے آپ کو میری ضرورت تو پر لے بھی نہیں تھی۔ (ہاہاہاہاہا) جناب عالی عرض ہے کہ اول تو آپ میری کہانی شائع کریں (سسکتے ارمان) اور (صبر کا دامن) یا کوئی مثبت جواب دیں عمران صاحب آپ کے ساتھ فون پر بات کر کے بہت اچھا لگا آپ بہت خوش اخلاق انسان ہیں مالک کی پاک ذات آپ کو خوش رکھے آمین، میں نے اپنی کہانیاں کمپوز کرا کر ارسال کی تھی اگر ادارہ سے میرا مواد گم ہوگیا ہے تو میں دوبارہ ارسال کردیتا ہو بشرط کہ ادارہ جلد شائع کرنے کا وعدہ کرے توجہ ادارے کے ساتھ میری وابستگی کو سال ہونے والا ہے سرکار کچھ تو ہمارا حق بھی بنتا ہے معروف رائٹرز سرور شاذ کا دوست ہوں پرانے رائٹرز ماسٹر طاہر قریشی صاحب منچن آباد والے میرے استاد ہیں میری کہانی کو اگر ناقابل اشاعت میں رہنا ہے تو پھر اتنی تمازت کس لیے آپ کے مثبت جواب کا طالب۔
ایم حسن نظامی… قبولہ شریف۔ السلام علیکم نئے افق کے رنگ و انداز میں قوس و قزا کے سبھی رنگ نمایاں پائے کہیں ریاض حسین قمر کی صورت تو کہیں مجید احمد جائی کی شکل میں جاوید احمد صدیقی میں جلوہ گر ہوئے تو کہیں صائمہ نور اجاگر ہوئیں، احسن ابرار رضوی ظاہر ہوئے تو کہیں عبداللہ توفیق کی صورت میں۔ خواجہ حسین ظاہر ہوئے تو حاجی عمران خاں بھی سب میں موجود پائے پرنس افضل شاہین حاضر ہوئے تو عبدالغفار عابد بھی حتیٰ کہ سردار اویس، مسکان ظفر بھٹی، ریاض بٹ، میاں کرامت حسین، محمد رفاقت، عبدالغفار رومی، حسین جاوید اور فلک شیر ملک سبھی اپنے رنگوں میں ہنستے کھلکھلاتے پھلواری کو رونق بخش رہے تھے جن کی خوشبوئوں سے سبھی پھول شرسار اور شادمانی دکھائی دے رہے تھے۔ ساتھیو گفتگو میں ایک دوسرے سے دکھ سکھ ضرور شیئر کریں مگر پرچے اور لکھاریوں کی تحریروں پر بھی کھل کر اظہار رائے کریں اس طرح کہ کسی بھی لکھاری کی دل شکنی نہ ہونے پائے۔ اب آتے ہیں پرچے کی طرف مشتاق احمد قریشی صاحب نے امریکا اور بھارت پر اپنے معیاری اور منفرد لفظوں سے روشنی ڈالی اور بہت سے حالات اور خطرات سے آگاہ فرمایا۔ محمد سلیم اختر بلا شبہ پایہ کے لکھاری ہیں وہ ہر موضوع پر طبع آزمائی کرسکتے ہیں ریاض بٹ نے جرم و سزا پر گہرے نشتر چلائے اور تحریر معیاری پائی۔ عشنا کوثر سردار نے وفائوں کو تاریخی روشنی سے اجاگر کیا بلاشبہ وہ ایک اچھی لکھاری ہیں ان کے انٹرویو میںان سے آگاہی ہوئی، مس کال اور بے خودی کو بھی اچھے حروف سے پیش کیا گیا دونوں تحریریں ایک دوسرے کے مقابل پائیں۔ عنبرین اختر کے قلم میں بے پناہ نکھار پایا بلا شبہ وہ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ عمدہ لکھاری بھی قرار پائیں ان کی شاعری پسند آئی۔ مہتاب خان روشن اندھیرے میں زندگی کی دمک لیے رونما تھے جو اچھے فقرات کی عکاس پائی۔ سید وجاہت نے رشتوں ناطوں کو عمدہ اور معیاری انداز تحریر سے پیش کیا رجر فورٹ کے کردار پر حیرت ہوئی۔ فن پارے کی سبھی تحریریں لاجواب اور بے مثال پائیں خاص طور پر برگد، بوجھ اور اماں جنتے پسند آئیںذوق آگہی، خوش بوئے سخن اور دستک سبھی ہمارے من پسند اور اپنی نوعیت کے معیاری کالم ہیں۔ زرین قمر بھی لکھاریوں کی صف میں بہت بڑا نام ہیں وہ کرداروں اور واقعات کو خوش اسلوبی سے نبھانا جانتی ہیں۔ اس قدر اچھا معیاری اور منفرد مواد فراہم کرنے پر میری طرف سے پورے اسٹاف کو مبارکباد قبول ہو۔ آخر میں سبھی دوستوں کی نذر ایک شعر۔
تمہارے گرد دائرہ ہے میری دعائوں کا
تم میرے انتخاب کی اک مقدس لکیر ہو
ناقابل اشاعت کہانیاں:۔
محنت صلہ دیتی ہے، خواب کی تکمیل،عشق زادے،روشنی کی لکیر، جیت رشتوں کی،چپ سی، خاک اور خون کا دوسرا منظر۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close