Naeyufaq Nov-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا…!!
پاکستان نے مہمان نوازی کی نئی تاریخ رقم کی ہے گزشتہ 26 برسوں سے افغان مہاجرین کو نہ صرف پناہ دی ہے ان کی رہائش و آسائش کا بھی بندوبست کر رہا ہے پاکستان کی مہمان نوازی اور نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان مہاجرین پورے پاکستان میں پھیل گئے اور خوب پیر جما لیے اس کے باوجود احسان فراموشی افغان صدر اشرف غنی کو ذرا غیرت نہیں آئی ذرا شرم نہیں آئی وہ بھارتی آشیر واد پا کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں دھمکا رہے ہیں۔ بھارت جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی جو خود ایک دہشت گرد تنظیم کے سربراہ اور محرک ہیں وہ اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کا وجود برداشت نہیں کرتے ان کا مزاج ہی اسلام دشمنی سے بنا ہوا ہے۔ اب جبکہ بھارت نے افغان صدر اشرف غنی کی بھارت یاترا کے موقع پر پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی مذموم سازش کے تحت کابل کو ایک کھرب پانچ ارب روپے سالانہ امداد دینے کا معاہدہ کیا ہے اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں بغاوت کو ہَوا دینے اور چند سو بلوچ باغیوں کی سرپرستی کرنے کے لیے براہمداغ بگٹی اور ان کے ساتھیوں کو بھارتی شہریت بھی دے رہا ہے۔ نواب اکبر بگٹی جو ایک محب وطن بلوچ سردار تھے ان کا ناراض پوتا اب جنیوا جا کر بھارتی پاسپورٹ حاصل کرے گا۔ اس طرح خود بھارتی حکمرانوں نے اپنی جلد بازی میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا نہ صرف اقرار کرلیا ہے اور دنیا کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں ان کا آئندہ کیا پروگرام ہے بھارتی بنیا کبھی نقصان کا سودا نہیں کرتا (یقیناً اتنی بڑی رقم اسے اس کام کے لیے امریکا ہی فراہم کر رہا ہوگا) بھارتی حکومت کا ہر سال ایک بڑی رقم افغانستان کو دینے کا مقصد حکومت افغانستان کو براہ راست اپنے دبائو میں رکھنا اور پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیوں کے لیے میدان حاصل کرنا اور افغان حکومت کو پاکستان کے مد مقابل لا کر دوست کی جگہ دشمن بنا کر سامنے کھڑا کرنا ہے بھارت نے افغانستان سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کا بھی معاہدہ کیا ہے تاکہ نہ صرف پاکستان کی پوری طرح نگرانی کی جاسکے اور برہمداغ اور اس کے ساتھیوں سے رابطے کی سہولت حاصل کی جاسکے۔ بھارت افغانستان کو مہلک ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھارت کی شہہ پر پاکستان کو دھمکی دی ہے اور کہا ہے اگر پاکستان نے کابل اور دہلی کے راستے بلاک کیے تو پاکستان خود بلاک ہوجائے گا۔
افغان اور بھارت معاہدوں نے بھارتی سازش جس کے تحت انہوں نے ایران سے چہا بہار کا معاہدہ کیا ہے وہ بھی بے نقاب ہوگیا ہے بھارت پاکستان کی نفی کر کے اپنی تجارتی اشیا اور اسلحہ اور دیگر ساز و سامان براہ راست ایرانی بندر گاہ چہار بہار سے افغانستان لے جانا چاہتا ہے۔ ایرانی بندر گاہ فی الحال اس حالت میں نہیں ہے کہ وہ بھارتی جہاز رانی کا بوجھ اٹھا سکے لیکن بھارت جسے امریکی پشت پناہی حاصل ہوچکی ہے وہ امریکی شہہ پر سی پیک منصوبہ جو دراصل امریکا اور بھارت دونوں کے ہی حلق میں پھنس کر رہ گیا ہے دونوں ہی چاہتے ہیں کہ اسے کیسے روکا جائے تعمیر ہی نہ ہونے دیا جائے اس کے لیے وہ ہر سطح پر ہر حد کو پار کرنے کو تیار ہیں امریکا جو پاکستان کو بھی اپنی پالیسیوں سے ناراض نہیں کرنا چاہتا اور وہ چین کا بھی پاکستان میں داخل ہونا پسند نہیں کرتا چین سے دو دو ہاتھ کرنے سے براہ راست گریز بھی کر رہا ہے بھارت کو قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے ہی بھارت کی پشت پر ہاتھ رکھا ہے۔ بھارتی بنیے کے مزاج کو وہ اچھی طرح سمجھ چکا ہے بھارتی بنیے کو اگر نالی میں پڑا ایک پیسے کا سکہ بھی نظر آجائے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے خود کو نالی میں گرانے سے بھی نہیں چوکتا۔ اب جبکہ پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے سی پیک کو ناکام بنانے کے حوالے سے اسے ایک بہت بڑی رقم بھارت کو مل رہی ہے اور ساتھ امریکی مقبوضہ افغانستان میں براہ راست رسائی بھی میسر آرہی ہو تو اندھا کیا چاہے دو آنکھیں پھر یہاں تو معاملہ چیڑی اور دودو کا ہے، بھارت جو پاکستان دشمنی میں خود کسی طرح کم نہیں اسے ایک بڑی بلکہ بہت ہی بڑی سپر پاور کی حمایت حاصل ہوگئی تو اس نے بکھرتی سکڑتی روسی سپر پاور جس سے اس کا دیرینہ تعلق تھا کی بھی پروا نہیں کی اور آنکھیں بند کر کے امریکی حمایت پر کود پڑا ہے اسے اب خواب میں بھی بلی کی طرح چھیچڑے ہی چھیچڑے نظر آرہے ہوں گے۔ پاکستان پر اپنی سرحدوں کی سمت سے قدم بڑھائے نہ بڑھائے اب وہ افغان سرحد کی جانب سے امریکہ اور افغان شرکت کے ساتھ اپنی مذموم کارروائیاں باآسانی کرسکتا ہے جبکہ خود بلوچستان کے کچھ باغی جن کو اب بھارتی شہریت بھی دی جا رہی ہے انہیں ہر طرح کی سہولیات دے کر واپس بلوچستان میں ان کے ٹھکانوں پر بھیجا جائے گا وہ مٹھی بھر باغی اپنے اثر و رسوخ سے بلوچستان میں ہنگامہ آرائی قتل و غارت گری کی آڑ میں دراصل سی پیک منصوبے کو روکنے اور اسے تعمیر نہ ہونے دینے کے مشن کی تکمیل کریں گے حالانکہ بھارت نے امریکی مقبوضہ افغانستان تک رسائی کے لیے ہی اور سی پیک کے مقابلے میں ایران سے چہا بہار کا معاہدہ کیا ہے چونکہ امریکا نہیں چاہتا کہ سی پیک کسی بھی طرح پایہ تکمیل تک پہنچے اس لیے وہ ہر طرح سے ہر طرف سے پاکستان پر دبائو ڈال رہا ہے لیکن پاک چین دوستی امریکی دوستی اور مفادات کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط و مستحکم ہے پاکستانی حکمرانوں کو بھی مستقبل میں اس کے فائدے اور پاکستان کی ترقی و تعمیر میں سی پیک کا اہم کردار صاف نظر آرہا ہے بلوچستان جو اپنی پسماندگی اور غربت کے باعث تمام دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے اس کی اصل وجہ سرداروں کا ذاتی مفاد اور اقتدار ہے وہ مرکز سے ملنے والے فنڈز کو عوامی بہتری کے کاموں میں مصروف کرنے کے بجائے ذاتی استعمال میں خرچ کرتے رہے ہیں۔ اس لیے بلوچستان ہمیشہ زبوں حالی کا شکار رہا ہے اب کچھ امید بندھ رہی ہے۔ وہ بلوچ سردار جو محب وطن ہیں اب اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے پر کمر بستہ نظر آرہے ہیں کچھ مفاد پرست جو باغی برہمداغ کے حامی بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سردار اکبر بگٹی کا قتل غیر قانونی غیر آئینی غیر اخلاقی تھا اس لیے بلوچ روایات کے تحت برہمداغ کا اپنے دادا کے قتل پر رد عمل درست ہے یہی وہ وجہ ہے جس سے بھارت امریکا فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں۔ اس طرح وہ پاک چین راہداری کی تعمیر میں رخنہ ڈالنا چاہتے ہیں پاکستان کی ترقی و استحکام کوئی بھی غیر مسلم حکومت برداشت نہیں کرتی اس لیے کہ پاکستان جو جوہری صلاحیت بھی رکھتا ہے اگر وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ تمام غیر مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے اگر تمام اسلامی ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں تو وہ ایک ناقابل تسخیر قوت بن جائے گا اس لیے بھی تمام غیر مسلم قوتیں پاکستان کو کمزور رکھنے کمزور کرنے میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ کلیسا اپنی تمام توانائیاں کے ساتھ پاکستان کو مسلم دنیا کو ٹھکانے لگانے کے خواب دیکھتی رہتی ہے اور کوشش کرتی رہتی ہے وہ اربوں ڈالر سالانہ اپنی اس مذموم کوشش پر خراج کر رہی ہے پاکستان تو اللہ کا انعام عظیم ہے اس کی حفاظت اللہ خود کر رہا ہے۔ دشمن کی پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close