Naeyufaq Aug-16

جنت کا خواب

سفیان بٹ

فاطمہ کی پیدائش ایک نہایت غریب گھرانے میں ہوئی تھی اپنے تمام بہن بھائیوں میں وہ تیسرے نمبر پر تھی۔ وہ اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی نسبت قدرے خوش شکل، ہنس مکھ اورذہین تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کی تمام تر توجہ کا مرکز تھی اس کے ماں باپ اپنی سی کوشش کر کے اس کی تمام خواہشات و ضروریات پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے مگر اس کی خواہشات تھیں ہی کتنی؟ کبھی کسی ٹھیلے پر چنے چاٹ کھانے کی ضد تو کبھی لمبے بالوں والی کانچ کی گڑیا کا مطالبہ اور کبھی چڑیا گھر دیکھنے کی خواہش۔۔۔ غریب بھلا اس سے زیادہ کچھ جانتا ہو تو خواہش بھی کرے فاطمہ جب چھوٹی تھی تو عبدالحمید اکثر اس سے پوچھتا میری بیٹی بڑی ہوکر کیا بنے گی؟ تو جواب میں فاطمہ توتلی زبان میں کہتی میں داکتل (ڈاکٹر) بنوں گی اور اس کا باپ کھل کھلا کر ہنس دیتا دوسری بہت سی خواہشوں کی طرح فاطمہ کو پڑھنے کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ دوسرے بچوں کو اسکول جاتے دیکھتی تو اس کے دل میں بھی اسکول جانے کی خواہش مچلنے لگتی۔ پر وہ ایک گہری سانس لے کر رہ جاتی۔ان تمام بہن بھائیوں میں اگر کچھ مشترک تھا تو وہ تھی غربت، جس نے بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کا حصول بھی ناممکن بنا دیا تھا عبدالحمید محنت مزدوری کر کے جیسے تیسے بچوں کا مشکل سے پیٹ ہی بھر پاتا تھا اور سلیمہ بیچاری اس کا ساتھ دینے کی خاطر دن بھر آس پاس کے لوگوں کے برتن مانجھتی، جھاڑو لگاتی اور فارغ وقت میں قریب ہی ایک کھٹی میٹھی ٹافیاں بنانے والی فیکٹری سے کچھ مال منگوا کر اپنی بڑی دو بیٹیوں کے ساتھ مل کر ان کی پیکنگ کرتی جس کے عوض اسے اجرت کے طور پر چند روپے مل جاتے فاطمہ کی ماں کو بھی اپنے سب بچوں کو پڑھانے کا بہت شوق تھا مگر اس غربت بھرے ماحول میں اس شوق اور خواہش کی تکمیل بہت مشکل تھی۔اپنے سب بچوں کو پڑھانا تو اس کے بس میں تھا، سو اس نے صرف فاطمہ کو سکول بھیجنے کا فیصلہ کیا اس اکیلی کی پڑھائی کا بوجھ تو وہ اٹھا ہی سکتے تھے۔فاطمہ کو ایک قریبی لڑکیوں کے گورنمنٹ اسکول میں داخلہ دلا دیا گیا
فاطمہ چونکہ ایک ذہین بچی تھی اور اسے پڑھنے کا بھی بیحد شوق تھا اس لیے بغیر کسی دقت کے پرائمری سے ہائی سکول تک کا سفروہ نمایاں نمبروں سے طے کرتی گئی وہ جوں جوں بڑی ہو رہی تھی اس نے خواب بھی بڑے بڑے دیکھنا شروع کر دئیے تھے اس میں اس کا قصور بھی نہیں تھا۔کیونکہ وہ ابھی عمر کے اس حصے میں تھی جس میں انسان خوابوں کی تعبیر نہیں دیکھتا ، بس خواب دیکھتا ہے یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان تھوڑی سی کامیابی ملنے پر ہی وہ گمان کرنے لگتا ہے کہ وہ چاند پہ کمند ڈال دے گا یا آسمان سے تارے توڑ لائے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ فاطمہ بھی آنکھوں میں ایسے ہی خواب لئے اکثر رات دیر تک آسمان پر اپنی قسمت کے ستارے کو ڈھونڈتی رہتی لیکن وہ نادان یہ نہیں جانتی تھی کہ قسمت کا ستارہ ہر ایک کے مقدرمیں نہیں چمکتا اس کا بچپن میں بار بار لاشعوری طور پر دہرایا جانے والا فقرہ کہ وہ بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے گی، اب بڑھتی عمر کے ساتھ اس کی زندگی کا مقصد بنتا جا رہا تھا اب کوئی اس سے نہیں پوچھتا تھا کہ وہ بڑی ہو کر کیا بنے گی ؟ کیونکہ اب وہ خود ہی اکثراوقات اپنے باپ سے کہتی رہتی یا شاید اسے یاد دلاتی رہتی تھی کہ وہ بڑی ہوکر ڈاکٹر بنے گی۔
بابا! میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں گی اور غریب و نادار لوگوں کا مفت علاج کیا کروں گی آپ کیاور امّاں کے تمام دکھ میں خود دور کروں گی۔آپ کو اپنی بیماری کے لیے خود سے نہیں لڑنا پڑے گا۔مینگی دوائیوں کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔بابا! آپ مجھے ڈاکٹر بنائیں گے نا؟ فاطمہ نے اپنے باپ کی گود سے سر اٹھا کر امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتی۔
کیوں نہیں پتر! میری بیٹی ضرور ڈاکٹر بنے گی بس تم دل لگا کر خوب محنت کرو عبدالحمید چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہتا۔فاطمہ کی یہ بات سن کر اس کے دل میں دکھ کی ایک لہر اترجاتی تھی۔
وہ فاطمہ کی اس بات پراب کھل کھلا کر نہیں ہنستا تھا کیوں کہ حالات اب پہلے سے بھی مشکل ہو گئے تھے۔
فاطمہ باپ کی ایسی طفل تسلیوں سے خوش ہو جاتی اور اپنے خواب کو دن بہ دن تعبیر ہوتے دیکھتی لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ فاطمہ سے بڑی اس کی دو بہنیں تھیں جو اب شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھیں جس کی وجہ سے عبدالحمید اور سلیمہ کی راتوں کی نیند غائب ہو چکی تھی کیونکہ دونوں بہنوں کی شادی کے اخراجات پورے کرنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا آخر ایک دن دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ فاطمہ کو اب مزید آگے نہیں پڑھانا چاہیے۔ کیونکہ اب اس کے تعلیمی کیاخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں رہا تھا فاطمہ کی تعلیم سے زیادہ اس کی بہنوں کی شادی ضروری تھی اور ایک بیٹی کا خواب پورا کرنے کے لئے دوسری بیٹیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا لہٰذا چارو نا چار فاطمہ کو اپنی تعلیم کو خیرباد کہنا پڑا جس دن اسے یہ کام کرنا پڑا تھا، اس دن وہ بہت ٹوٹ کر روئی تھی اس کی سب امیدیں دم توڑ گئی تھیں مگر اس کے لبوں پر کوئی شکوہ نہیں تھا۔ گھر کے سب حالات اس کے سامنے تھے۔ آج اسے پہلی دفعہ اپنی مفلسی اور بے کسی کا شدید احساس ہوا تھا کسی چیز کے چھن جانے یا نہ ملنے کا تکلیف دہ احساس آج فاطمہ کو اپنی اسکول فرینڈ سعدیہ کی کہی بات شدت سے یاد آرہی تھی کہ غریب آدمی بغیرسموں والے گھوڑے کی طرح ہوتا ہے جو جتنا مرضی تیز بھاگ لے لیکن زیادہ دورنہیں جا پاتا اور اس کی یہ بات سچ ثابت ہوئی تھی۔آج پہلی بار اسے اس بات کا احساس ہوا تھا کہ اس کے سارے خواب محض ایک سراب تھے اور کچھ نہیں مگر ستم ظریفی کے امتحان ابھی اور بھی تھے وقت گزرتا گیا اور ایک دن فاطمہ کی بھی اپنی بہنوں کی طرح شادی کردی گئی فاطمہ کا شوہر سلیم کلرک کی ایک چھوٹی موٹی نوکری کرتا تھا وہ ایک نیک اور محنتی آدمی تھا وہ فاطمہ کو دنیا کی آسائشات تو نہ دے سکتا تھا لیکن اس نے فاطمہ کو کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی وہ اس سے محبت کرتا تھا اور اس کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا فاطمہ کو اپنے شوہر کے گھر چھائی تنگدستی سے کوئی شکوہ نہیں تھا کیوں کہ اس نے برے سے برے حالات میں بھی جیناسیکھ لیا تھا لہذا یہاں بھی اس نے سمجھوتہ کر لیا تھا دنیا میں دکھ سکھ زندگی کاحصہ ہیں اور یہ ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔اسی دھوپ چھاؤں میں زندگی کے سات سال گزر گئے۔ ان سات سالوں میں زندگی ان پر کچھ حد تک مہربان ہو گئی تھی مگرایک اولاد کی نعمت تھی، جس سے وہ محروم رہے سلیم فاطمہ سے بہت محبت کرتا تھا اور اسے خیال تھا کہ وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے۔ کیوں کہ فاطمہ نے ہر اچھے برے وقت میں اس کا ساتھ دیا تھااور اس نے سلیم سے کبھی کسی چیز کا بے جا مطالبہ نہیں کیا تھا نہ ہی کبھی کسی محرومی کا شکوہ کیا تھا،اسی لیے سلیم نے بھی کبھی اسے بے اولادی کا طعنہ نہیں دیاتھا اور نہ ہی کبھی دوسری شادی کا سوچا تھا۔ قسمت کے اس تماشے میں فاطمہ کی زندگی جیسے رک سی گئی تھی اس کے خواب تو بہت پہلے ہی مایوسیوں کی خاک تلے دب چکے تھے اور اب جینے کی وجہ بھی مفقود ہوتی دکھائی دے رہی تھی وہ اکثر سوچتی کہ اس کا دنیا میں آنے کا آخر مقصد کیا تھا ؟ کیا وہ دنیا کی ساری مشکلیں اور محرومیاں برداشت کرنے کے لئے بنائی گئی تھی ؟ کیا وہ زندگی کی خوشیوں اور نعمتوں پر کوئی حق نہیں رکھتی تھی ؟ ایسے ہی کئی شکوے تھے جو وہ ہر وقت اپنے دل میں لئے پھرتی تھی مگر اپنے رب کے سامنے ان شکوؤں کو لب پہ لانے سے ڈرتی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ شکوہ کرنے سے زندگی کی مشکلیں آسان نہیں ہوتیں بلکہ صبر اور برداشت کا راستہ مزید لمبا اور تکلیف دہ ہوجاتا ہے ایک دن طبیعت کچھ ناساز ہونے پر فاطمہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو پتا چلا کہ اس کی زندگی میں بہار آنے والی ہے وہ ماں بننے والی تھی یہ ایک عورت ہی جانتی ہے کہ ماں بننے کا احساس دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہوتا ہے ایک روح کو نوماہ تک اپنے وجود میں پنپتے دیکھنے کا احساس، اس کی ہر سانس کو محسوس کرنے کا احساس اور اپنے اندر ایک خواب کے پلنے کا احساس فاطمہ کا یہ احساس قدرے شدیدتھا کیونکہ خدا سات سال بعد اسے اولاد کی نعمت سے نوازنے والا تھا اس خبر سے، فاطمہ کے چھوٹے سے ٹوٹے پھوٹے زنگ آلود گھر میں جیسے ہرطرف خوشیوں کی برسات ہونے لگی تھی۔ کئی برسوں سے اس کی بجھی ہوئی آنکھوں میں جیسے کوئی امید کا تارا ٹمٹمانے لگا تھا، سارے خواب جاگ اٹھے تھے، سب ارمان مچل مچل کے لبوں پہ مسکراہٹوں کے ساتھ بکھرنے لگے تھے اور اچانک جیسے زندگی سے سارے گلے شکوے دور ہوگئے تھے عورت ایک خوشی ملنے پر بہت سے غم بھلا دیتی ہے اور فاطمہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا اسے کو ایسا لگ رہا تھا جیسے قدرت کو اس پر ترس آگیا تھا اور اس کے بیٹے کی شکل میں اس کی حیات طویل کردی گئی تھی اور آخر نو ماہ بعد فاطمہ اپنے بیٹے عمر کو گود میں لئے بہت خوش تھی آج اس کی سب محرومیوں کا مداوہ ہوگیا تھا اس کی زندگی کا حاصل اس کی گود میں قلقاریاں بھر رہا تھا سلیم کی بھی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اسے بیٹا ملنے کی خوشی سے زیادہ فاطمہ کو خوش دیکھ کر خوشی اور سکون حاصل ہورہا تھا عمر کی پیدائش کے دو سال بعد ہی سلیم کی پروموشن بھی کر دی گئی تھی اور اب سلیم کلرک سے ہیڈکلرک ہوگیا تھا ایک دن اس نے فاطمہ سے کہا۔
’’فاطمہ! تم نے میرے ساتھ بہت تنگدستی کے دن گزارے ہیں تمہاری جگہ اگر کوئی اور عورت ہوتی تو شاید کب کی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہوتی لیکن تم نے ہرمشکل اور برے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے تم ایک بہت اچھا جیون ساتھی ثابت ہوئی ہو، جس کے لئے میں اپنے رب کے ساتھ ساتھ تمہارا بھی بہت شکر گزار ہوں سلیم نے فاطمہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
’’میں نے یہ تمام مشکلیں اور مصیبتیں اکیلے تو برداشت نہیں کی ہیں آپ بھی اس مشکل وقت میں ایک سچے اور محبت کرنے والے ساتھی کے طور پر ہمیشہ میرے ساتھ رہے ہیں ورنہ اس معاشرے میں کوئی بھی مرد اپنے گھر میں ایسی عورت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتا جو اسے اولاد کی خوشی نہ دے سکے۔ اس کے لیے آپ نے جس قدر صبر و تحمل اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے یہ ہر مرد کے بس کی بات نہیں فاطمہ نے تشکر بھرے انداز میں سلیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’لو باتوں باتوں میں اصل بات تو میں بھول ہی گیا۔‘‘ سلیم نے خوشی بھرے لہجے میں کہا۔
’’کون سی بات؟‘‘ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
’’میں آج تک تمہیں کوئی تحفہ نہیں دے پایا ایسا نہیں کہ مجھے تحفہ دینے کی چاہ نہیں تھی۔ بس حالات کچھ ایسے تھے کہ میں نے ہمیشہ اس خواہش کو دل میں چھپائے رکھا لیکن اب چونکہ اللہ کا کرم ہے کہ میں تمہیں تمہاری مرضی کا کوئی بھی تحفہ دے سکتا ہوں تو بتاؤ تمہیں کیا چاہیے ؟ سلیم نے پرجوش انداز میں کہا۔آج وقت تھا کہ وہ اپنے لئے کچھ مانگ لیتی لیکن اب اسے اپنے لئے کچھ بھی مانگتے ہوئے ڈر لگتا تھا اسے کسی چیز کی چاہ نہیں رہی تھی یا شاید کہیں نہ کہیں آج بھی اسے اپنی قسمت پر بھروسہ نہیں تھا میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصّہ محرومیوں میں گزارا ہے اپنے خوابوں کو سراب بنتے دیکھا ہے اپنی خواہشوں کو دھول بن کر ناامیدی کی وادیوں میں کہیں گم ہوتے دیکھا ہے میں نے زندگی سے بہت کچھ تو نہیں چاہا تھا بس میری ایک ہی خواہش تھی کہ میں زندگی میں کچھ بن کر اوروں کے کام آ سکوں اپنوں اور غیروں کی مشکلوں کا مداوا کر سکوں لیکن میں ایسا نہیں کر پائی اور اب نہ ہی کبھی ایسا کر پاؤں گی یہ کہتے ہوئے فاطمہ کی آنکھیں شکست خوردہ سپاہی کی طرح جھکی ہوئی تھیں اور ٹپکنے والے آنسو اس کے رونے کا پتا دے رہے تھے ! میں آپ سے کچھ نہیں چاہتی سلیم! آپ کی محبّت اور خلوص ہی میرے لئے سب سے بڑا تحفہ ہے آپ سے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ فاطمہ نے سلیم کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔
’’میں بس آپ سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں۔‘‘ فاطمہ نے بات جاری رکھی۔
’’کیسا وعدہ؟ تم جو بھی وعدہ لو گی، میں اسے ضرور پورا کروں گا۔‘‘ سلیم نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
’’ہم دونوں نے تو ساری زندگی مشکلوں اور تکلیفوں میں گزار دی لیکن میں چاہتی ہوں کہ ہمارا بیٹا ایسی زندگی نہ گزارے اسے زندگی میں کبھی کسی محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے وہ ایک بااعتماد اور باوقار انسان بن کر زندگی کی تمام رونقیں اور خوشیاں حاصل کرے ہمارا بیٹا ہماری طرح گمنامی کی زندگی نہ گزارے بلکہ کچھ بن کر اس معاشرے میں ایک اونچا مقام حاصل کرے میں چاہتی ہوں کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بن کر غریب و نادار لوگوں کی خدمت کرے۔‘‘ فاطمہ نے سلیم کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے ملتجیانہ انداز میں کہا !آج پھر اس نے اپنے خوابوں کی تعبیر مانگی تھی ایک بار پھر اس نے تاروں کو نوچنے کے لئے اڑان بھرنا چاہی تھی کتنے برسوں بعد فاطمہ نے قسمت کو ایک اور موقع دینے کی ٹھان لی تھی۔
’’ہمارا بیٹا ضرور ڈاکٹر بنے گا اور معاشرے میں ایک باعزت اور باوقار زندگی گزارے گا۔‘‘ سلیم نے فاطمہ کا ہاتھ تھامے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا !یہ سن کر فاطمہ کی آنکھوں میں امید کی ایک چمک اور ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ جھلملانے لگی اسے اب اپنے خوابوں کی تعبیر پر بھروسہ ہونے لگا تھا کیونکہ اب اس کا شوہر سلیم اس کے ساتھ تھا اور وقت بھی پہلے جیسا سرکش نہیں رہا تھا ہم اپنی تربیت سے اسے ایک اچھا اور قابل انسان بنائیں گے تاکہ وہ زندگی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے غرور و تکبر کی سیڑھی پر پاؤں دھرے بغیر کامیابی کو پا لے اور غریب اور محتاج لوگوں کو اپنے سے کم تر نہ سمجھے فاطمہ نے خود سے سوچا !فاطمہ نے ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بیٹے کی تربیت بہت اچھے انداز سے کی تھی اس کی ہر ضرورت اور خواہش کا خیال رکھا تھا اسے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی فاطمہ کی شدید خواہش تھی کہ اس کا بیٹا معاشرے میں لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے رب کے سامنے بھی سرخرو ہو لہذا اس نے اپنے بیٹے کو چھوٹی عمر سے ہی اخلاقیات کے ساتھ ساتھ نماز اور روزے کی تعلیم بھی دینا شروع کر دی تھی۔ فاطمہ کی اس تربیت کا اثر ہی تھا جو عمر کو ہر جگہ نمایاں حیثیت دلانے میں مددگار رہتا تھا عمر نے بچپن سے ہی وہ سب بنیادی باتیں سیکھ لی تھیں جو ایک کامیاب انسان بننے کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ وہ صحیح معنوں میں ایک مثالی بیٹا تھا جس پر اس کے والدین کو فخر تھا فاطمہ کے خوابوں کی تعبیر دور افق پہ چھائے کالے بادلوں کی طرح آہستہ آہستہ چھٹتی نظرآرہی تھی ۔ لیکن شاید قسمت ابھی بھی اپنی روش پر قائم تھی اور زندگی ابھی اتنی آسان نہیں ہو پائی تھی کہ ایک اور آزمائش پہاڑ بن کر سامنے آ کھڑی ہوئی عمر ابھی نوسال کا تھا کہ اس کے والد کا ایک بس حادثے میں انتقال ہوگیا سلیم کی یوں اچانک موت سے فاطمہ پہ جیسے کوئی سکتہ طاری ہوگیا تھا اسے نہ اپنا ہوش تھا نہ دنیا کا وہ صدمے کی وجہ سے کئی دن تک ہوش میں نہ آسکی تھی ایک ہفتے بعد جب وہ ہوش میں آئی تو اسے احساس ہوا کہ اس کا دامن تو ایک فقیر کے کاسہ کی طرح بالکل خالی ہوچکا تھا اسے اپنا سارا وجود بے جان سا محسوس ہو رہا تھا ایک بار پھر قسمت نے اسے اوندھے منہ گرایا تھا اس میں چلنے پھرنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی کیونکہ ایک بار پھر اس سے لاٹھی چھین لی گئی تھی آگے بڑھنے کے سارے راستے مفقود ہو چکے تھے وہ خود کو نیم پاگل محسوس کرنے لگی تھی ایسے حالات میں کچھ سوچنا اورسمجھنا اس کے لئے ممکن نہیں رہا تھا وقت اسی طرح اپنی دھیمی رفتار سے چلتا رہا اور تین ماہ بعد اسے سلیم کے چہرے کے علاوہ بھی کوئی چہرہ دکھائی دیا، عمر کا چہرہ اپنے بیٹے کا چہرہ جو اب اس کی کل پونجی تھا اس کے جینے کی آخری امید تھا ایسے حالات میں عمر نے ایک جگنو کا کام کیا تھا جو اندھیرے میں بھٹکی ہوئی چڑیا کو راہ دکھاتا ہے فاطمہ کو بھی جینے کی راہ عمر نے دکھائی تھی ورنہ وہ تو زندہ لاش کی طرح زندگی سے بالکل خالی ہو چکی تھی۔
’’امی جان ! آپ نہ روئیں اور نہ ہی پریشان ہوں اگر آپ اسی طرح پریشان رہیں گی تو بابا جان کو بھی بہت دکھ ہوگا بابا آپ کو ایسی حالت میں کبھی نہیں دیکھ سکتے تھے وہ آپ کو ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتے تھے ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ آپ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہیں امی جان آپ اس طرح رو کر انہیں تکلیف نہ پہنچائیں، عمر نے رندھی ہوئی آواز میں فاطمہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا اور فاطمہ نے گویا اس دن اس کی بات مان لی اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ عمر کی دلجوئی، خدمت اور محبت سے فاطمہ آخرایک ماہ بعد سنبھل گئی اسے اپنے اردگرد کی دنیا کا احساس ہونے لگا تھا۔ اب اس کے بیٹے کا مستقبل ہی اس کا نصب العین تھا اپنے بیٹے عمر کے مستقبل کے لئے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھی اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے خوابوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی خواہ اس کے لئے اسے مزدوری ہی کیوں نہ کرنا پڑے بہت سوچ بچار کے بعد آخر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹے کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے گی جس خواب کو وہ خود پورا نہیں کر پائی اب اپنے بیٹے کو اس خواب کی تعبیر دے گی ابھی اس میں جان باقی تھی جینے کی امید باقی تھی فاطمہ کو اب اپنی ذات کے لئے کچھ نہیں چاہیے تھا اسے اگر کچھ چاہیے تھا تو اپنے بیٹے عمر کے لئے زمانے کی تمام رعنائیاں، تمام خوشیاں اور تمام رونقیں اور ان سب کے حصول کی خاطر اس نے لوگوں کے برتن مانجھے، جھاڑو پوچھے لگائے فیکٹری میں پارٹ ٹائم جاب کی، ساری ساری رات جاگ کر لوگوں کے کپڑے سلائی کئے اور اپنے بیٹے کی تعلیم کے لئے ہر وہ کام کیا جو ایک عورت کرسکتی ہے۔ جو ایک ماں کر سکتی ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عمر اپنی انتھک محنت سے ہر امتحان میں پاس ہوتا گیا اور فاطمہ کی آنکھوں کی چمک روز بروز بڑھتی جاتی مگر اس کا جسم جواب دینے لگا اس میں اب اتنی طاقت باقی نہیں رہی تھی کہ وہ کوئی مشقت بھرا کام کرتی عمر اکثر اپنی ماں کی گرتی ہوئی صحت کو دیکھ کر پریشان ہو جاتا۔
’’امی جان! میں اب جوان ہوگیا ہوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی پارٹ ٹائم جاب کر لیتا ہوں بس آپ اب اتنا کام نہ کیا کریں بیمار پڑ جائیں گی۔‘‘ فاطمہ عمر کی اس بات پر مسکرا کر کہتی۔
’’کوئی بات نہیں۔میرا بیٹا جب ڈاکٹر بن جائے گا تو خود ہی میرا علاج کرلے گا ایک دن عمر کو عشاء کی نماز گھر پہ پڑھتے دیکھ کر فاطمہ کچھ پریشان سی ہوگئی کیونکہ آج تک اس نے عمر کو کوئی بھی نماز گھر پہ پڑھتے نہیں دیکھا تھا خواہ سخت ٹھنڈ کا موسم ہو یا موسلا دھار بارش وہ پانچ وقت کی نماز مسجد میں ہی ادا کرتا تھا عمرنے ابھی نماز ختم نہیں کی تھی کہ فاطمہ گھر پر نماز پڑھنے کی وجہ دریافت کرنے کی غرض سے اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
’’بیٹا سب خیر تو ہے نا؟ تم آج گھر پر ہی نماز پڑھ رہے ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری؟‘‘ فاطمہ نے عمر کے سر پر فکر مندی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔
’’جی امی جان میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے آپ کو پتا ہی ہے کہ آج صبح کراچی کی ایک اہم اور بڑی مسجد میں خود کش حملہ ہوا ہے جس میں کئی معصوم جانیں ضائع ہوئی ہیں اور دہشت گردوں نے ایسے اور بھی حملے کرنے کی دھمکیاں دی ہیں بس اسی بات کے پیش نظر ہماری مسجد کے امام نے تھوڑا محتاط رہنے کا کہا ہے لیکن میں موت سے نہیں ڈرتا امی جان! کیونکہ زندگی اور موت تو اللّہ کے ہاتھ میں ہے میں بس سارا دن اسی پریشانی میں رہا ہوں اس لیے اس وقت باہر جانے کا دل نہیں کیا۔‘‘ عمر نے اپنا سر فاطمہ کی گود میں رکھتے ہوئے قدرے افسردگی سے کہا۔
’’اللہ ہدایت دے ان لوگوں کو جو اپنے ہی لوگوں کی جان کے دشمن بن گئے ہیں مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ انسانوں کو مار کر کون سی جنت کے طلبگار ہیں بھلا ایک مذہب جو ایک معصوم انسان کو مارنے کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور ایک انسان کو بچانا ساری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیتا ہے وہاں ایسی بوسیدہ سوچ کی کہاں گنجائش ہے کہ اگر آپ کی بات نہیں مانی جاتی تو آپ معصوم لوگوں کو مارکر اپنی بات منوائیں؟
’’امی جان اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں ان لوگوں کے پاس نہ دنیاوی علم ہے اور نہ دین کی صحیح سوجھ بوجھ جس کی وجہ سے یہ بہت جلد دشمن کی چکنی چپڑی اور جذباتی باتوں میں آجاتے ہیں یہ بہت سادہ لوح لوگ ہیں یہ اسلام کو ایک دین کے طور پر نہیں بلکہ ایک کلچر کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مذہب کو لے کر یہ اتنے شدید ہو چکے ہیں کہ آج دنیا انہیں شدت پسند مسلمان کہنے پر مجبور ہوگئی ہے ۔‘‘
عمر نے فاطمہ کی گود سے سر اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ لوگ لاشعوری طور پر اسلام کی غلط تصویر دنیا کو دکھا رہے ہیں ان کی اس روش سے دنیا میں آج میرے پیارے نبی صلی اللّہ علیہ وسلم کا پیارا دین ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔بیٹا تم فکر نہ کرو ہمارے فوجی جوان ان دشمنوں سے خوب نپٹ رہے ہیں یہ ان کا آخری مورچے تک پیچھا کریں گے اور آخر شکست ہی ملک دشمنوں اور غداروں کا مقدر ٹھہرے گی ان شاء اللہ۔‘‘ فاطمہ نے پرعزم اور حتمی انداز میں کہا اور پھر بولی۔
’’اچھا بیٹا تم آرام کرو صبح جلدی اٹھنا ہے۔‘‘ عمر کے مزید کچھ بولنے سے پہلے ہی فاطمہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی عمرکتنی دیر ان گتھیوں کو سلجھاتے سلجھاتے کب سو گیا اسے پتا ہی نہیں چلا۔
اتنے سالوں میں فاطمہ نے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لئے دن رات محنت کی تھی اس نے سوائے خاص موقعوں کے کبھی نئے کپڑے یا جوتے نہیں خریدے تھے اسے صرف عمر کے جوتوں اور کپڑوں کی فکر لگی رہتی تھی اس کے تعلیمی اخراجات ہی اس قدر تھے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے لئے کوئی نئی چیز نہیں خرید سکتی تھی وہ اب اپنے لئے نہیں اپنے بیٹے عمر کے لئے جی رہی تھی وہی اس کا سب کچھ تھا۔ اب فاطمہ کی محنتوں کا پھل اسے ملنے والا تھا اب وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کو بہت واضح دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں کی چمک دوبارہ لوٹ آئی تھی اب کچھ بھی دھندلا نہیں تھا میں آج کل کچھ سوچ رہی ہوں فاطمہ نے ٹیبل پر ناشتہ رکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا سوچ رہی ہیں آپ آج کل؟‘‘ عمر نے تولئے سے منہ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’یہی کہ میرے بعد تمہارا کون خیال رکھے گا اس لئے میں چاہتی ہوں کہ تمہاری شادی کر دوں فاطمہ نے عمر کے پاس بیٹھتے ہوئے کچھ پریشانی سے کہا۔
’’امی جان آپ کیسی باتیں کرتی ہیں اللہ کرے آپ کو میری بھی عمر لگ جائے پلیز مجھے چھوڑ کر جانے کی باتیں مت کیا کریں۔‘‘ عمر نے قدرے ناراضی سے کہا۔
’’ارے تم کوئی بچے ہو جو میرے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتے تم اب جوان ہو اور میں نے تمہیں اتنا مضبوط بنایا ہے کہ تم دوسروں کا سہارا بن سکتے ہو۔‘‘ فاطمہ نے اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
’’کوئی لڑکی دیکھوں یا تم نے خود کوئی پسند کر رکھی ہے ویسے سنا ہے تمہاری یونیورسٹی میں بہت خوبصورت لڑکیاں پڑھتی ہیں۔‘‘ فاطمہ نے عمر کو کریدتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں لڑکیاں تو بہت ہیں یونیورسٹی میں لیکن جو میری قسمت میں ہے وہ پتا نہیں دنیا کے کس کونے میں اگی ہوگی۔‘‘ عمر نے شرارتی انداز میں جواب دیا۔
’’اے لو وہ کوئی گاجرمولی ہے بھلا جو کہیں اگی ہوگی عجیب بات کرتے ہو تم بھی۔‘‘ فاطمہ نے قدرے خفگی سے کہا۔
’’امی جان میں مذاق کررہا ہوں ابھی تو میرا ڈاکٹریٹ کا فائنل رزلٹ آنا ہے اگر کامیاب ہوگیا تو کراچی کے کسی بڑے اسپتال میں پریکٹس کروں گا اور پھر اپنا کلینک کھولوں گا اور پھر اس سب کے بعد آپ کی اس گاجر مولی کے بارے میں سوچوں گا۔‘‘ عمر نے ایک بار پھر شرارتی انداز میں کہا۔
’’تم ضرور کامیاب ہوگے اور ہاں خبردار اگر میری بہو کو دوبارہ گاجر مولی کہا تو۔‘‘ فاطمہ نے مسکرا کر عمر کے کندھے پہ چپت لگاتے ہوئے کہا۔
’’اچھا امی جان ابھی میں اپنے ایک دوست کے پاس جا رہا ہوں دوپہر کے کھانے تک واپس آجاؤں گا۔‘‘عمر نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد عمر تھوڑی دیر کے لئے سستانے کی غرض سے اپنے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ باہر کسی عورت کے زور زور سے رونے دھونے اور چیخنے چلانے کی دل دوز آوازیں آنے لگیں۔ عمر ہڑبڑا کے اٹھا اور باہر کی جانب لپکا۔ اس سے پہلے کہ فاطمہ عمر کو آواز دیتی عمر دروازے کی دہلیز پارکر چکا تھا فاطمہ بھی اس کے پیچھے باہر کو دوڑی باہر ایک ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا فاطمہ نے دیکھا کہ لوگ اس کے ساتھ والے گھر کے سامنے اکٹھا تھے یااللہ خالہ شائستہ کے گھر کے سامنے اتنے لوگ کیوں اکٹھا ہیں؟ اللہ خیر کرے فاطمہ نے پریشان ہوتے ہوئے خود سے کہا۔
’’لوگوں کے ہجوم میں فاطمہ کی نظر عمر پر پڑی۔ فاطمہ نے عمر کو آواز دے کر پاس بلایا۔
’’یہ رونے کی آواز تو شائستہ خالہ کی ہے سب خیر تو ہے نا؟‘‘ فاطمہ نے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔
’’امی جان آپ اندر جائیں پلیز میں دیکھتا ہوں کیا ہوا ہے۔‘‘ عمر نے فاطمہ کو اندر کی جانب قدرے دھکیلتے ہوئے کہا۔
’’ارے کیسے اندر چلی جاؤں پیچھے ہٹو میں دیکھتی ہوں۔‘‘ فاطمہ عمر کو پیچھے دھکیلتے ہوئے شائستہ خالہ کے گھر کی جانب بڑھی۔
فاطمہ ہجوم کو چیرتی ہوئی جیسے ہی شائستہ خالہ کے گھر میں داخل ہوئی اندر کا منظر دیکھ کر جیسے اس کے پاؤں سے زمین کھسک گئی تھی۔ اندر بڑے سے نیم تاریک کمرے میں چارپائی کے اوپر شائستہ خالہ کے چھوٹے بیٹے عرفان کی جلی ہوئی لاش ٹکڑوں میں بٹی پڑی تھی عرفان کی لاش قابل شناخت نہیں تھی بڑی مشکل سے عرفان کے کپڑوں اور دوسری چند نشانیوں کی مدد سے لاش کو پہچانا گیا تھا کراچی کی ایک مشہور مارکیٹ میں خودکش حملے میں مارے جانے والے معصوم اور بیگناہ شہریوں میں سے ایک عرفان بھی تھا عرفان شائستہ خالہ کے دو بیٹوں میں سے چھوٹا بیٹا تھا بڑا بیٹا احسان ایک ٹانگ سے معذور تھا اور قریبی مارکیٹ میں سبزی کا ٹھیلا لگاتا تھا عرفان دس جماعتیں پڑھ کر ایک فیکٹری میں چھوٹی موٹی نوکری کرتا تھا۔ چھوٹا ہونے کی وجہ سے عرفان شائستہ خالہ کا بہت لاڈلا تھا اور اپنے بڑے بھائی کا ایک واحد سہارا تھا احسان اکثر کہا کرتا تھا کہ اگر عرفان نہ ہوتا تو میں ٹھیلا لگانے کے بھی قابل نہ ہوتا کیونکہ صبح فیکٹری جانے سے پہلے عرفان اپنے بڑے بھائی کے ٹھیلے پر سبزی لگانے میں بھرپور مدد کرتا اور اس کے ٹھیلے کو قریبی مارکیٹ میں لانے اور لے جانے کا فریضہ بھی وہی سرانجام دیتا تھا احسان کا کام بس وہاں بیٹھ کر سبزی بیچنا تھا عمر بڑی مشکل سے فاطمہ کو گھر واپس لایا تھا۔ عمر فاطمہ کی یہ حالت دیکھ کر بہت ڈر گیا تھا اس نے فاطمہ کو اندر لا کر چارپائی پر لٹا کر منہ میں چند قطرے پانی ڈالا اور چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔ شام کو فاطمہ کو ہوش آیا تو وہ پھر سے شائستہ خالہ کے گھر کی جانب دوڑی لیکن پاس ہی بیٹھے عمر نے جلدی سے انہیں بازو سے پکڑ کر روک لیا۔
امی صدمے سے ان کی ایسی حالت ٹھیک نہیں کل تک ہوش میں آجائیں گی آپ پلیز یہاں بیٹھئے اور زیادہ پریشان مت ہوں آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے۔ عمر نے فاطمہ کو کندھے سے پکڑ کر چارپائی پر بٹھاتے ہوئے التجاء کی! فاطمہ کے آنسو ایک لڑی کی مانند بہتے جا رہے تھے لیکن وہ خاموش تھی جیسے اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا۔ فاطمہ کو نارمل ہونے میں کچھ دن لگے۔
’’عمر بیٹا ایک کام کرو گے؟‘‘ فاطمہ نے عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
’’جی امی جان کہیے۔‘‘ عمر نے مسکراتے ہوئے فاطمہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’احسان ایک ماہ سے گھر پر فارغ بیٹھا ہے ٹھیلے پر سبزی لگانے اور مارکیٹ لے جانے میں اب اس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں بھلا کب تک دونوں ماں بیٹا یونہی گزارا کریں گے بیٹا میں چاہتی ہوں کہ کل سے تم عرفان کی جگہ احسان بھائی کے ٹھیلے پر سبزی لگانے اور اسے مارکیٹ تک لے جانے میں اس کی مدد کردیا کرو میں جانتی ہوں بیٹا تم ڈاکٹر بننے والے ہو اور تمہارے لیے یہ سب کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن بیٹا اللہ تمہارے اس ایثار سے بڑا راضی ہوگا اور جب اللہ اپنے کسی بندے سے راضی ہوجاتا ہے نہ تو اسے دوسرے بندوں کے آگے جھکنے نہیں دیتا۔‘‘ فاطمہ نے عمر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پرعزم انداز میں کہا۔
’’امی جان آپ نے اپنے بیٹے کی جو تعلیم و تربیت کی ہے ایسی تعلیم دنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں دی جاتی مجھے آپ پر، آپ کی سوچ اور آپ کی تعلیم پر فخر ہے میں ڈاکٹر ضرور بننے جا رہا ہوں لیکن ڈاکٹر بننے سے پہلے میں ایک انسان ہوں اور انسانیت کے ناتے میرا یہ فرض ہے کہ میں ایک مجبور انسان کے کام آؤں لہذا آپ بے فکر رہیں میں کل سے ہی آپ کے حکم کی تعمیل بجا لاؤں گا عمر نے پرعزم انداز میں کہا۔
فاطمہ نے تشکر بھرے انداز میں عمر کو گلے لگاتے ہوئے کہا
’’اور ہاں یہ لو کچھ پیسے اور آتے ہوئے خالہ شائستہ کے لئے آنکھوں میں ڈالنے والا کوئی اچھا سا ڈراپ لیتے آنا۔‘‘ عمر روزانہ احسان کی سبزی کا ٹھیلا لگانے اور اسے مارکیٹ تک پہنچانے میں مدد کرتا رہا اس نے کبھی اس کام میں کسی طرح کی بھی عار محسوس نہیں کی تھی۔
رات کے کھانے کے بعد فاطمہ اور عمر کچھ دیر کے لئے ٹی وی دیکھتے اور پھر سونے کے لئے اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے تھے ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز کے خودکش دھماکوں نے فاطمہ کو بہت بے چین کررکھا تھا جہاں بھی کوئی ایسا حادثہ پیش آتا میڈیا وہاں کی لائیو فوٹیج میں لوگوں کے کٹے پھٹے جسم دکھا دکھا کر لوگوں کو ڈپریشن کا مریض بنانے میں پیش پیش تھا جس کی وجہ سے عام لوگوں کے دلوں میں ایک خوف طاری ہوگیا تھا لوگ اپنے پیاروں کو گھر سے رخصت کرتے وقت ایسا محسوس کرنے لگے تھے کہ جیسے ان سے آخری بار مل رہے ہوں اور باہر خدا جانے کہاں ان کا ٹکراؤ ایسے ہی کسی ہولناک دھماکے سے ہوجائے گا اور پھر وہ اپنے پیاروں کو کبھی نہیں ڈھونڈ پائیں گے فاطمہ کے دل میں بھی ایسے ہی وسوسوں نے ڈیرے ڈال لئے تھے عمر اپنے ایم بی بی ایس کے فائنل رزلٹ کے انتظار میں گھر پر نہیں بیٹھنا چاہتا تھا لہذا اس نے اپنے فارغ وقت کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے ایک ڈاکٹر دوست کا کلینک جوائن کر لیا تھا وہ صبح ۹ بجے سے لے کر شام ۷ بجے تک اپنے دوست کے ساتھ مختلف مریضوں کو اٹینڈ کرتا اور رات ۸ بجے تک گھر لوٹ آتا تھا شہر کے حالات دن بہ دن بگڑتے جا رہے تھے کہیں لوگ ٹارگٹ کلرز کا شکار ہو رہے تھے تو کہیں خودکش حملہ آوروں کا خوف ہر وقت ذہنوں پہ طاری تھا آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی ہولناک خبر سننے کو مل رہی تھی کہ سن کر روح کانپ جاتی تھی ایسی صورت حال میں سب سے زیادہ برا حال ماؤں کا تھا جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کی بلائیں لیتی اور دعائیں دیتی ان کو اللّہ کے حوالے کرنے پر مجبور تھیں فاطمہ کا حال بھی دوسری ماؤں سے مختلف نہیں تھا آج گھڑی کی سوئیاں ۹ کے ہندسے کو عبور کرتی ہوئی ۱۰ کے ہندسے کو چھو رہی تھیں لیکن عمر گھر لوٹ کر نہیں آیا تھا پتا نہیں ابھی تک عمر واپس کیوں نہیں لوٹا اللّہ کرے سب خیر ہو اس نے پہلے کبھی گھر واپس لوٹنے میں اتنی دیر نہیں لگائی میں کیا کروں کیسے اس کا پتا کروں اسے کہاں ڈھونڈنے نکلوں ؟ مجھے تو اس کے دوست کے کلینک کا ایڈریس بھی نہیں معلوم کہ وہ شہر کے کس حصّے میں ہے یااللّہ میرے بیٹے کو صحیح سلامت گھر پہنچا دے۔‘‘
فاطمہ کی بے چینی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی خدشات اور وسوسوں نے فاطمہ کے لئے سانس لینا مشکل بنا دیا تھا شہر کے حالات جاننے کے لئے اس نے جلدی سے ٹی وی چلایا ٹی وی پر چل رہی ایک بریکنگ نیوز سے فاطمہ کا کلیجہ منہ کو آگیا تھا بلدیہ ٹاؤن میں ایک فیکٹری میں اچانک آگ لگنے سے سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت متوقع ہے اس آگ نے اردگرد کی بہت سی دکانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ایک نجی ٹی وی پر اینکر حواس باختہ انداز میں بار بار یہی خبر سنا رہا تھا !ایسی صورت حال میں فاطمہ کو کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کہ وہ کیا کرے پھر اچانک اسے یاد آیا کہ نسرین کا بیٹا شاہد ایک دن عمر سے ملنے اس کلینک میں گیا تھا فاطمہ جلدی سے بڑی سی چادر میں خود کو لپیٹے نسرین کے گھر کی طرف دوڑی۔
’’کیا بات ہے فاطمہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو سب خیریت ہے نا؟‘‘ نسرین نے فاطمہ سے پوچھا۔
’’نسرین کیا شاہد گھر پر ہے؟‘‘ فاطمہ نے لڑکھڑائی ہوئی آواز میں نسرین سے پوچھا۔
’’ہاں شاہد گھر پر ہی ہے تم اندر آؤ۔‘‘ نسرین نے دروازہ کھولتے ہوئے شاہد کو آواز لگائی اور فاطمہ کو بیٹھنے کے لئے کہہ کر پانی لینے چلی گئی تھوڑی دیر میں شاہد وہاں آیا۔
’’خالہ آپ اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہیں سب خیریت ہے نا ؟ شاہد نے فاطمہ کے چہرے پر چھائی پریشانی بھانپتے ہوئے پوچھا۔
’’شاہد بیٹا وہ ووو وہ میں پوچھنے آئی تھی کہ عمر جس کلینک میں کام کرتا ہے اس علاقے کا نام کیا ہے‘‘ فاطمہ نے لڑکھڑائی ہوئی زبان میں پوچھا۔ وہ عمر ابھی تک نہیں آیا وہ روزانہ ۸ بجے ہر حال میں گھر لوٹ آتا ہے لیکن آج اس کا کہیں اتا پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے فاطمہ نے روتے ہوئے کہا۔
عمر کے پاس موبائل فون تو ہے نا اسے کال کر کے پوچھ لیتیں۔‘‘نسرین نے کہا۔
’’میں نے پی سی او سے اس کے فون پہ بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کا فون بند جا رہا ہے۔‘‘ فاطمہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا !
شاہد بیٹا یہ کلینک کس ایریا میں ہے مجھے وہاں لے جاؤ میں خود اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے جاؤں گی۔‘‘ فاطمہ نے ملتجی انداز میں کہا۔
’’خالہ عمر جس کلینک میں کام کرتا ہے وہ بلدیہ ٹاؤن میں ہے۔‘‘ شاہد نے کہا۔
بلدیہ ٹاؤن کا نام سنتے ہی جیسے فاطمہ کے جسم سے کسی نے اس کی روح کھینچ لی تھی اس کے ہاتھ پیر برف کی مانند ایسے ٹھنڈے ہوگئے تھے جیسے کسی سرد خانے میں پڑے مردے کے ہوتے ہیں۔
’’ہائے میں مر گئی یہ تو وہی علاقہ ہے جہاں ابھی ابھی ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ فیکٹری میں آگ لگنے سے سیکڑوں لوگ زندہ جل گئے۔‘‘ فاطمہ نے چھاتی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
’’فاطمہ تم ایسی حالت میں کہاں جاؤ گی تم فکر نہ کرو میں ابھی شاہد کو بھیجتی ہوں وہ عمر کی خبر لے کر آتا ہے۔‘‘ نسرین نے فاطمہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
’’ہاں خالہ آپ فکر نہ کریں میں ابھی جاتا ہوں شاہد نے بائیک کی طرف بڑھتے ہوئے کہا !
گھڑی کی سوئیوں کی آواز فاطمہ کے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح لگ رہی تھی ہر گزرتے لمحے اسے اپنے پاؤں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہو رہی تھی اس کی آنکھوں میں اندھیرا بڑھتا جا رہا تھا اور حواس ساتھ چھوڑتے جا رہے تھے کہ آخر رات گئے دروازے پر دستک سے اچانک وہ اپنے حواس میں واپس آئی اور دروازے کی طرف دیوانہ وار لپکی۔
’’ السلام علیکم امی جان ۔‘‘ عمر نے اندر آتے ہی سلام کیا۔
’’ تم … تم تم ٹھیک تو ہو نا میرے بیٹے؟‘‘ فاطمہ نے ہذیانی انداز میں عمر کو ٹٹولتے ہوئے کہا !
جی امی جان میں بالکل ٹھیک ہوں۔ عمر نے فاطمہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا !
تم کہاں رہ گئے تھے ؟ تم نے اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ میں نے یہ وقت کیسے انگاروں پہ کاٹا ہے ؟ فاطمہ نے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہا !
امی جان مجھے معاف کر دیں میں آپ کو اطلاع نہیں کر سکا بس صورت حال ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ مجھے اپنا ہوش نہیں رہا تھا آپ نے آج کے سانحے کے بارے میں ٹی وی پہ سنا ہی ہوگا بس آج سارا دن وہاں لوگوں کو مرہم پٹی کرتے گزر گیا میں چاہ کر بھی آپ کو اطلاع نہیں کر سکا جس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں۔ آئندہ ایسی کوتاہی کبھی نہیں کروں گا۔‘‘ عمر نے فاطمہ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا میں نے ان وسوسوں کے ساتھ ایک زندگی گزاری ہے لیکن اب مجھ میں اتنی ہمت نہیں کہ میں مزید ان کا سامنا کر سکوں آج کے بعد تم کبھی ایسی بے پرواہی مت کرنا۔‘‘ فاطمہ نے عمر کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا !
کبھی نہیں کروں گا آپ پلیز روئیے مت عمر نے فاطمہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا !
بہت دیر ہوگئی ہے بیٹا اب جا کر تھوڑا آرام کر لو۔‘‘ فاطمہ نے عمر کو بوسہ دیتے ہوئے کہا !
’’آج کی رات مجھ پر حرام کردی گئی ہے امی جان آج کی رات میں شاید سو نہ سکوں گا آپ جا کر سو جائیں۔‘‘ عمر نے پریشانی سے کہا !
’’ بیٹا آیتہ الکرسی پڑھ کر آنکھیں بند کرو نیند خود بہ خود آجائے گی۔‘‘ فاطمہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے امی جان کوشش کروں گا شب بخیر۔‘‘ عمر نے اپنے کمرے کی جانب بڑھتے ہوئے کہا !
عمر کو اس کلینک میں کام کرتے پورے دو ماہ ہوچکے تھے وہ اپنے اس کام کا کوئی معاوضہ نہیں لیتا تھا لیکن اس کا دوست کسی نہ کسی بہانے عمر کی مالی مدد کرتا رہتا تھا اس بار اس نے عمر کو ایک نیا موبائل گفٹ کیا تھا حالانکہ عمر نے اپنے دوست سے کہا بھی کہ اس کے پاس پہلے ہی ایک موبائل ہے پھر اس نئے موبائل کی کیا ضرورت ہے لیکن پھر بھی اس کے دوست نے اصرار کر کے اسے ایک نیا موبائل تھما دیا عمر نے پرانے موبائل کو بیچنے کی بجائے اسے گھر میں رکھ دیا تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فاطمہ اس سے بروقت رابطہ کر سکے فاطمہ کو بھی اس سے کافی سہولت ہوگئی تھی وہ اب کسی بھی وقت اپنے بیٹے کی خیر خبر معلوم کرنے کے لئے اس سے رابطہ کر سکتی تھی
امی جان فائنل رزلٹ آنے میں چند دن باقی ہیں وہ دن دور نہیں جب آپ کا بیٹا ڈاکٹر کی یونیفارم میں آپ کے سامنے کھڑا ہوگا اور آپ فخر سے کہہ سکیں گی کہ میرا بیٹا ایک ڈاکٹر ہے۔‘‘ عمر نے شوخ انداز میں فاطمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !
انشاء اللّہ فاطمہ نے مسکراتے ہوئے کہا !
’’مجھے اپنے بیٹے پر ہر حال میں فخر ہے اللّہ تمہیں کامیابی عطا کرے اور دنیا کی تمام خوشیاں تمہاری قسمت میں ہوں تمہیں کبھی کسی محرومی اور محتاجی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘ فاطمہ نے عمر کے قریب آ کر سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’امی جان میں آپ کی سکھائی تمام باتیں ہمیشہ یاد رکھوں گا اور ان پر عمل کروں گا کیونکہ یہ تعلیم جو آپ نے مجھے دی ہے دنیا کی کوئی یونیورسٹی نہیں دے سکتی آپ میرے لئے مشعل راہ ہیں۔‘‘ امی جان عمر نے تشکر بھرے انداز میں کہا۔
فاطمہ نے عمر کی پیشانی کا بوسہ لیتے ہوئے اسے دعائیں دیں اور پھر کھانا بنانے میں مصروف ہوگئی
زندگی کبھی کبھی کتنے روپ بدلتی ہے کبھی کانٹوں کی سیج تو کبھی پھولوں کا بستر، کبھی تولہ تو کبھی ماشہ، کبھی شہرت تو کبھی تماشا بس اسی طرح زندگی کا ہر فیز دوسرے فیز کی نشاندہی کرتا ہے اگر آج دکھ، غم اور تکلیف ہے تو یقیناً آنے والا کل خوشیوں کی نوید لائے گا اللّہ تعالیٰ انسان کو کبھی دے کر آزماتا ہے اور کبھی لے کر آزماتا ہے یہ آزمائش ہی اصل زندگی کا محور ہے جو اس میں کامیاب ہوجاتا ہے اس پر موت بھی آسان ہوجاتی ہے
آج ایم بی بی ایس کے فائنل رزلٹ کا دن تھا اسی دن کے انتظار میں فاطمہ نے اپنے دن اور رات کا آرام و سکون خود پر حرام کر لیا تھا اسی دن کا اس نے بچپن سے انتظار کیا تھا آج اسے اس کے خواب کی تعبیر ملنے والی تھی آج تعبیر ملنے کا دن تھا آج فاطمہ کے کٹھن سفر کا اختتام تھا اور منزل بانہیں پھیلائے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔ فاطمہ فجر کی نماز سے ایک دو گھنٹے پہلے ہی جاگ گئی تھی اور مصلے پر بیٹھ کر اپنے رب کے حضور اپنے بیٹے کی کامیابی کے لئے گڑگڑا کے دعائیں مانگ رہی تھی
آج اس نے عمر کی پسند کا ناشتہ بنایا تھا اور اس کا سفید کرتا پاجامہ اپنے ہاتھوں سے استری کر کے ٹانگ دیا تھا اس کا بس چلتا تو جس راستے سے عمر نے گزرنا تھا وہ اس راستے میں پھول ہی پھول بچھا دیتی فاطمہ آج بہت خوش تھی
’’عمر بیٹا تمہارا رزلٹ کس وقت آئے گا؟‘‘ فاطمہ نے چائے کی کیتلی چولہے پر چڑھاتے ہوئے کہا !
امی جان دوپہر تک قوی امکان ہے کہ رزلٹ آجائے گا عمر نے دانتوں میں برش کرتے ہوئے جواب دیا !
اللّہ تمہیں کامیاب کرے بیٹا مجھے پوری امید ہے کہ اللّہ تمہیں ضرور کامیاب کرے گا فاطمہ نے پر عزم انداز میں کہا !
انشاء اللّہ آپ کی دعا چاہیے بس پھر دیکھئے اللّہ کا کرم کیسے ہوتا ہے عمر نے پرجوش انداز میں کہا !
میری تمام دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں بیٹا فاطمہ نے عمر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ! اور ہاں رزلٹ دیکھنے سے پہلے اور بعد میں دو دو نوافل پڑھنا مت بھولنا بیٹا فاطمہ نے عمر کو تاکید کرتے ہوئے کہا !
جی امی جان آپ بے فکر رہیں عمر نے فاطمہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا !
عمر اس سفید کرتے پاجامے میں بہت بھلا لگ رہا تھا اس کے چہرے پر موجود نور تو اس کا خاصہ تھا ہی لیکن آج اس کے چہرے پہ جو چمک دمک تھی وہ دیدنی تھی آج وہ پیار اور ڈھیروں دعائیں لے کر اپنی ماں کے خواب کی تعبیر ڈھونڈنے نکلا تھا آج اس کے لئے بہت بڑا دن تھا آج اس نے اپنی ماں کو اس کی زندگی کا سب سے بڑا تحفہ دینا تھا آج عمر کے ڈاکٹریٹ کے امتحان کا فائنل رزلٹ تھا
عمر لڑکوں کے ہجوم کو چیرتا ہوا رزلٹ بورڈ کی طرف بڑھا اس کے دل میں جہاں امید تھی وہاں کئی وسوسے بھی اسے کچوکے لگا رہے تھے ایک دفعہ تو اس کی ٹانگیں کانپی اور آنکھیں دھندلائیں جب اس نے رزلٹ بورڈ کی طرف دیکھا اس کا نام سرفہرست تھا وہ نمایاں نمبروں سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کر چکا تھا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اس نے اپنی ماں کے خواب کی تعبیر ڈھونڈ نکالی تھی رزلٹ دیکھنے کے بعد اس نے شکرانے کے دو نوافل ادا کئے دوستوں کے درمیان مبارک باد کے تبادلے ہوئے اس سب کے بعد عمر نے مٹھائی کی دکان سے فاطمہ کی پسند کی مٹھائی لی اور گھر کو چل دیا
عمر کے راستے میں سبزی منڈی بھی پڑتی تھی اس نے سوچا کیوں نہ گھر جاتے ہوئے کچھ سبزی بھی لیتا جائے وہ جیسے ہی سبزی منڈی میں پہنچا اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز گونجی اور ہرطرف دھواں ہی دھواں چھا گیا لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگی ہرسو جلے ہوئے انسانی گوشت اور خون کی بو پھیل گئی ایک ہی پل میں جیسے سارا نظارہ آنکھوں کے سامنے سے اوجھل ہوگیا تھا کچھ دکھائی دیتا تھا نہ کان پڑی آواز سنائی دیتی تھی بس ہر طرف دل دہلا دینے والی آہ و بکا تھی کس کی تھی؟ کون تھا؟ کس کا کیا لگتا تھا؟ کچھ علم نہ تھا کچھ دیر پہلے جیتے جاگتے، چلتے پھرتے زندگی سے بھرپور لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے سیکڑوں جسم چھوٹے چھوٹے ان گنت ٹکڑوں میں بکھر گئے تھے کس کا ہاتھ تھا، کس کا پاؤں، کس کا سر تھا اور کس کا دھڑ کچھ پتا نہیں تھا کیونکہ کسی کی بھی شناخت ممکن نہیں رہی تھی فاطمہ کا خواب بھی انہیں ٹکڑوں میں کہیں بکھرا پڑا تھا کہاں کسی کو نہیں پتا تھا اس خواب کو بھی نہیں پتا کہ وہ کتنے ٹکڑوں میں بکھر گیا تھا وہ ایک ماں کا خواب تھا ایک جنت کا خواب تھا جسے کسی دوسرے انسان نے جنت کے حصول کی خاطر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سراب بنا دیا تھا ایک ماں کی زندگی بھر کی پونجی صرف ایک جنت کے بدلے لوٹ لی گئی تھی ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close