Naeyufaq Aug-16

قیامت

نوشاہ عادل

’’آج آپ پھر لیٹ ہو گئے۔۔۔؟‘‘ رخشی بیگم نے اپنے شوہر وجاہت صاحب کو دیکھتے ہی پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔ دیر ہو گئی۔‘‘ وجاہت صاحب نے اندر آتے ہوئے کہا۔ تھکن اُن کے چہرے سے مترشح تھی۔
’’کام ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔‘‘
’’تو اکیلے آپ کے ذمہ اتنے کام لگا رکھے ہیں آفس والوں نے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔ اور بھی ہیں بے چارے۔۔۔ صبح سے رات تک سَر جھکائے لگے رہتے ہیں۔۔۔ پھر بھی کام ختم نہیں ہوتے۔۔۔ بس روک کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔‘‘ وجاہت صاحب نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
تھوڑی دیر بعد وجاہت صاحب کھانا کھانے میں مصروف تھے اور رخشی بیگم اُن کے سامنے خاموش بیٹھی تھیں۔ لگتا ایسا تھا کہ کچھ کہنا یا پوچھنا چاہتی ہیں۔ چہرے پر تذبذب اور اضطراب کی لکیریں تھیں۔ کھاتے کھاتے وجاہت صاحب نے سر اُٹھا کر اُنھیں دیکھا۔’’تم نے کھانا کھا لیا۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ کھا لیا۔۔۔ دوا کھانی ہوتی ہے نا وقت پر۔۔۔ اِس لیے۔‘‘
’’اور بچوں نے۔۔۔؟‘‘
’’وہ بھی کھا کر سو رہے ہیں۔‘‘
’’ہوں۔۔۔‘‘ وجاہت صاحب دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پھر چند ثانیے کے توقف کے بعد اچانک بولے:’’مجھے پتا ہے تم کیا پوچھنا چاہتی ہو۔‘‘ اُنھوں نے ہلکی آواز میں سَر جھکا کر کہا:’’آج بھی سیلری نہیں ملی۔‘‘
’’کیا۔۔۔ آج بھی نہیں ملی۔۔۔؟‘‘ رخشی بیگم کا رنگ اُڑ گیا۔
’’ہاں۔۔۔‘‘
’’مگر کیوں۔۔۔؟‘‘
’’پتا نہیں۔۔۔ بس مرضی ہے سیٹھ کی۔‘‘
’’آج سات تاریخ بھی ہو گئی۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ میرے پاس پیسے بالکل ختم ہو گئے ہیں۔‘‘ رخشی بیگم نے اٹکتے ہوئے بتایا۔
’’اللہ مالک ہے۔۔۔ ویسے سنا ہے کہ کل سیلری کا امکان ہے۔ کل سیٹھ صاحب چیک پر دستخط کر دیں گے تو تمام ملازمین کے اکاؤنٹس میں سیلری آجائے گی۔‘‘ وجاہت صاحب نے اُمید بھرے لہجے میں بتایا۔
’’تو اُنھوں نے آج ہی چیک پر دستخط کیوں نہیں کیے۔۔۔؟‘‘ وجاہت صاحب نے رخشی بیگم کو دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ اُن کے چہرے پر اُبھر آئی۔
’’بھئی نہیں کیے بس۔۔۔ مرضی کے مالک ہیں۔۔۔ مصروف آدمی ہیں۔۔۔ ہزاروں کام ہوتے ہیں اُنھیں۔۔۔‘‘
’’مگر ملازموں کا تو صرف ایک ہی کام ہوتا ہے نا۔۔۔ سیلری۔۔۔ وہ بھی ٹائم پر نہ ملے تو کیا فائدہ اتنی محنت کرنے کا۔‘‘ رخشی بیگم کے ماتھے پر بَل پڑ گئے تھے۔
’’بس اب کیا کریں۔۔۔ ملازمت بھی تو کرنی ہے سب نے۔۔۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ جا کر سیٹھ صاحب سے سیلری کا پوچھے۔۔۔ بس پورا دن اُمید وبیم کی کیفیت میں گزر جاتا ہے۔‘‘
’’آج بھی وہ آئی تھی مکان مالکہ۔۔۔ زبیدہ۔۔۔ کرایہ مانگ رہی تھی۔۔۔ تھوڑا ناراض بھی ہوئی تھی۔‘‘
’’ہاں تو بتا دینا تھا کہ جان بوجھ کر دیر نہیں کر رہے ہیں ہم۔ تنخواہ آئے گی تو دیں گے نا۔۔۔ اب نہیں ہیں پیسے۔۔۔ تو کہاں سے دیں۔‘‘ وجاہت صاحب نے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’بولا تھا۔۔۔ مگر اس عورت کی سمجھ میں ہی نہیں آتا۔۔۔ وہ شاید یہ سمجھ رہی تھی کہ میں بہانے بازی کر رہی ہوں اور ہم جان بوجھ کر کرایہ لیٹ کر رہے ہیں۔‘‘
’’بس دُعا کرو کہ کل سیلری مل جائے۔‘‘
’’اللہ کرے۔۔۔‘‘ رخشی بیگم نے دُعائیہ انداز میں ہاتھ اُٹھا کر کہا۔’’بچوں کی اسکول فیس بھی دینی ہے راشن بھی ختم پر ہے۔ دس کام رُکے ہوئے ہیں۔‘‘
وجاہت صاحب نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اُٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئے۔
…٭…
اگلے روز آفس میں عجیب سا بوجھل بوجھل ماحول تھا۔ آج لوگوں نے ایک دُوسرے کو بجھا بجھا سا سلام کیا تھا اور اپنی نشستوں پر بیٹھ کر کاموں میں مصروف ہو گئے۔
’’سر چائے۔۔۔‘‘ رمضان نے وجاہت صاحب کی ٹیبل پر چائے کا کپ رکھتے ہوئے توجہ دلائی۔
’’ہاں۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ شکریہ۔۔۔‘‘ وجاہت صاحب نے اُچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی اور دوبارہ مانیٹر کی جانب دیکھنے لگے۔
’’ سر۔۔۔‘‘ رمضان نے دبی آواز میں قدرے ہچکچا کر کہا۔
’’ہوں۔۔۔‘‘
’’سر وہ۔۔۔ سیلری ۔۔۔ کب آ رہی ہے۔۔۔ آج آجائے گی نا۔۔۔؟‘‘ رمضان کی آواز میں عجیب سی یاسیت تھی۔
کی بورڈ پر چلتی ہوئی انگلیاں رُک گئیں۔ وجاہت صاحب نے رمضان کی جانب بھرپور نظر ڈالی۔
’’پتا نہیں۔۔۔ بس دُعا کرو کہ آج مل جائے۔‘‘ اُنھوں نے بڑبڑانے کے انداز میں کہا۔
’’بڑی پریشانی ہو گئی ہے سر۔۔۔‘‘ رمضان اپنا دُکھڑا بیان کرنے لگا۔
’’ایک دو دن اُوپر ہو جائیں تو چلتا ہے۔۔۔ مگر ایک ہفتہ اُوپر ہو جائے تو ہم جیسوں کی ایسی کی تیسی ہو جاتی ہے۔ سیلری کے علاوہ اور کوئی آمدنی کا ذریعہ بھی تو نہیں ہے۔۔۔ بس سر جی۔۔۔ حالت پتلی ہو گئی ہے۔۔۔ اگر کوئی ہزار روپے بھی دو دن کے لیے اُدھار دے دے تو تھوڑی ٹینشن کم ہو جائے گی۔‘‘ رمضان نے بڑی صفائی سے اُدھار کا تقاضا کر دیا تھا۔
’’یہاں پالش کیے ہوئے جوتوں کے اندر سب کے موزے پھٹے ہوئے ہیں یار۔۔۔ ہم کون سا لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔۔۔ میرا بھی سیلری کے لگے بندھے پیسوں سے گھر چلتا ہے۔۔۔ مجھے خود تارے نظر آگئے ہیں۔۔۔‘‘ وجاہت صاحب بولے۔
’’سر جی۔۔۔ میں تو معلوم نہیں کر سکتا۔۔۔ مگر آپ تو معلوم کر سکتے ہیں اکاؤنٹ والوں سے۔‘‘
’’کل کیا تھا۔۔۔ اُنھوں نے آج کا آسرا دے دیا تھا۔‘‘
’’پتا نہیں کیا ہو گا۔‘‘ رمضان مایوس ہو کر بولا۔
’’مجھے تو آج بھی کچھ نظر نہیں آرہا۔۔۔ سب ٹھنڈے ٹھنڈے بیٹھے ہیں۔‘‘ وجاہت صاحب نے جواب نہیں دیا اور رمضان سر ہلاتا ہوا چلا گیا۔ وہ تو چلا گیا مگر وجاہت صاحب کو سپردِ اضطراب کر گیا۔ اُن کا سارا دھیان ناچاہتے ہوئے بھی گھر اور مسائل کی طرف چلا گیا تھا۔ آج آٹھ تاریخ ہے۔۔۔ اگر آج بھی سیلری نہ ملی تو۔۔۔ اس سے آگے سوچنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔ اب تو اُن کی جیب میں تھوڑے سے پیسے بچے تھے جو اُنھوں نے آفس آنے جانے کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ کئی دن سے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھا رہے تھے کہ بچ جانے والے پیسے بچوں کے کھانے کے کام میں آجائیں گے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہوا تھا مگر پہلے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی تھی۔ اس بار تو کوئی وجہ ہی نہ تھی، سوائے اس کے کہ سیٹھ صاحب چیک پر سائن نہیں کر رہے تھے۔
بے کلی بڑھتی چلی گئی۔ تب اُنھوں نے لاشعوری طور پر ایکس ٹیش پر اکاؤنٹ کا نمبر ملایا:
’’اختر صاحب۔۔۔ کیا خبر ہے آج۔۔۔؟‘‘
’’ابھی تو کچھ نہیں ہے۔‘‘
’’سیٹھ صاحب تو آئے ہیں نا آج۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ مگر تھوڑا موڈ ٹھیک نہیں ہے ان کا۔۔۔ میری ہمت نہیں ہو رہی چیک لے کر جانے کی۔‘‘
’’دیکھیں۔۔۔ کچھ کریں۔۔ ۔ ہو سکتا ہے آج سائن کر دیں۔‘‘
’’لنچ کے بعد جاؤں گا۔۔۔ موڈ دیکھ کر۔‘‘ اختر صاحب نے کہا۔
’’شاید کام بن جائے۔۔۔ مجھے بھی تو ضرورت ہے نا۔۔۔‘‘
’’چلیں۔۔۔ کام ہو جائے تو بتا دیں۔‘‘
’’اوکے۔۔۔‘‘
وجاہت صاحب نے ریسیور رکھا۔
’’صاحب کا موڈ خراب ہے آج۔۔۔‘‘ سامنے ہی انور کھڑا تھا اُن کے آفس کا ساتھی۔ وہ سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’ہاں۔۔۔‘‘
’’پتاہے۔۔۔ میں نے بھی تھوڑی دیر پہلے اختر صاحب سے بات کی تھی۔‘‘ انور پھیکے انداز میں ہنسا۔
’’صاحب کا خراب موڈ ہم سب کی زندگی خراب کر رہا ہے۔۔۔ کام پر موڈ ٹھیک رہتا ہے بس تنخواہ دینے پر مصروفیات بڑھ جاتی ہیں اور موڈ بھی بگڑ جاتا ہے۔‘‘
’’ہم کیا کر سکتے ہیں یار۔۔۔‘‘ وجاہت صاحب نے سر اور ہاتھ بے بسی سے ہلایا۔
’’صبر کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
…٭…
’’ہاں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔؟‘‘ کمپنی کے سیٹھ اور پریذیڈنٹ نے خشک لہجے میں اختر سے پوچھا۔
’’سر۔۔۔ یہ۔۔۔‘‘ اختر نے ڈرتے ڈرتے اکاؤنٹ کی فائل ٹیبل پر رکھ دی۔
’’کیا ہے یہ۔۔۔ منہ سے تو بولو۔۔۔؟‘‘ پریذیڈنٹ نے تیز آواز میں دریافت کیا۔
’’سر۔۔۔ وہ سیلریز کی فائل ہے۔۔۔ چیک پر سائن ہونے ہیں آپ کے۔‘‘ اختر نے تیزی سے بتایا۔
’’تم نے فائل رکھ دی ہے نا۔۔۔ اب جاؤ۔۔۔ ہو جائیں گے سائن۔۔۔‘‘ پریذیڈنٹ نے فائل کی طرف دُوسری نگاہ بھی نہ ڈالی اور موبائل اُٹھا لیا۔
اختر خاموشی سے باہر آگیا۔ اُس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں اُبھر آئی تھیں۔ کئی دن سے تمام کمپنی کے افراد کال کر کر کے اُس سے سیلری کا پوچھ رہے تھے اور اُس وقت تک پوچھتے رہیں گے جب تک کہ اُنھیں سیلری مل نہیں جاتی۔
…٭…
’’کیوں نہیں دے رہے آفس والے تنخواہ۔۔۔؟‘‘ رضوانہ چیخنے لگی۔’’تم مانگتے کیوں نہیں ہو اُن سے۔۔۔ صبح سے رات تک اُن کی غلامی کرتے ہو۔۔۔ کم از کم تنخواہ تو مانگ لیا کرو ٹائم پر۔‘‘
’’ابھی کسی کو بھی تنخواہ نہیں ملی۔۔۔ سب پریشان ہیں۔۔۔ اکاؤنٹ والوں سے پوچھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ مالک نے چیک پر سائن نہیں کیے ہیں۔۔۔ سائن ہوں گے تو تنخواہیں ملیں گی۔‘‘
’’تو تم چلے جاتے مالک کے پاس۔۔۔ بتا دیتے کہ گھر میں فاقے شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ کون کب تک اُدھار دے گا۔۔۔ کوئی ایک پریشانی ہو تو انسان برداشت کر لے۔۔۔ یہاں تو ہر چیز کا حل پیسہ ہے۔‘‘ رضوانہ کی آواز بدستور بلند تھی۔
’’اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ چیخو تو نہیں۔‘‘ رمضان نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’تمھیں بولنا چاہیے تھا مالک سے۔‘‘ رضوانہ نے اُس کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
’’میں وہاں کوئی بڑا آفیسر لگا ہوا ہوں جو مالک کے کمرے میں جا کے اُس سے بولوں۔‘‘ رمضان بے بسی آمیز غصے سے بولا۔’’ایک سیکنڈ میں فارغ کر دے گا مالک۔۔۔‘‘
’’تو پھر کوئی دُوسری نوکری کر لو۔۔۔‘‘
’’دُوسری نوکری کر لوں۔۔۔ کہاں سے کر لوں۔۔۔ نوکریاں کیا سڑک پر پڑی مل جاتی ہیں۔۔۔ جب کسی چیز کا پتا نہ ہو تو بات نہ کیا کرو فضول میں۔‘‘ رمضان بڑبڑاتا ہوا پلنگ پر لیٹ گیا۔
’’اب تو کھانے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔۔۔ صبح بچے کیا کھا کے اسکول جائیں گے۔۔۔؟‘‘ رضوانہ رونے لگی۔
’’تھوڑا بہت تو ہو گا۔۔ وہی کھا لیں گے۔۔۔ دیکھو۔۔۔ شاید کل مالک سائن کر دے۔‘‘ رمضان نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں کہ شاید اس طرح مسئلہ وقتی طور پر حل ہو جائے گا۔ شاید کو ئی جادو ہو جائے گا کھانے پینے کا مسئلہ حل ہو جائے ۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔ کہاں جائے۔ سخت پریشانی کے عالم میں دماغ میں دھمک سی ہو رہی تھی۔ وہ زبردستی سونے کی کوشش کر رہا تھا۔
…٭…
وجاہت صاحب کو اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ یونس صاحب اُن کے پاس آگئے اور سلام کیے بغیر پوچھا:
’’بھائی۔۔۔! یہ تنخواہ ملے گی بھی یا نہیں۔۔۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھ گئے۔
’’خدا کی قسم۔۔۔ حالت بُری ہو گئی ہے۔۔۔ اب تو آفس آنے کے پیسے بھی نہیں بچے۔۔۔ آج بھی نہیں ملی تو میں کل سے چھٹیوں پر چلا جاؤں گا۔۔۔ جب تک کہ تنخواہ نہیں آجاتی۔۔۔ ایک حد ہوتی ہے یار۔۔۔ کوئی لاکھوں میں تنخواہ تھوڑی ملتی ہے کہ ڈیڑھ مہینے تک چلا لیں۔‘‘ یونس صاحب دل کے جلے پھپھولے پھوڑنے لگے۔
’’میرے پاس تو بتانے کے لیے الفاظ بھی نہیں ہیں۔‘‘ وجاہت صاحب نے گہری سانس لی۔
’’ناشتا کیے بغیر آیا ہوں آج۔‘‘
’’کیوں۔۔۔؟‘‘
’’گھر میں کچھ ہو گا تو پکے گا نا۔۔۔ اُدھار مانگتے بھی شرم آتی ہے۔۔۔ کس سے مانگیں۔۔۔ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں اتنے بڑے ادارے میں اچھے عہدے پر جاب کرتا ہوں۔۔۔ بڑی تگڑی سیلری ہو گی میری۔۔۔ مگر اُنھیں کیا پتہ کہ اندر ہمارا کیا حال ہے۔‘‘ وجاہت صاحب ایک ہی سانس میں بولتے چلے گئے۔
’’یار۔۔۔ ان مالک لوگوں کو اللہ کا خوف ہونا چاہیے۔۔۔ ذرا بھی احساس نہیں ہوتا ان لوگوں کو۔۔۔‘‘
’’کیوں ہو گا۔۔۔ پتا ہے کس میں ہمت ہو گی۔۔۔ نہ نوکری چھوڑ کر کوئی جائے گا۔۔۔ اگر کوئی چھوڑ بھی دے تو اس کی جگہ بیسیوں آجائیں گے۔۔۔ انھیں کیا پروا۔۔۔‘‘
اتنے میں رمضان نے اُن دونوں کی چائے وہاں رکھ دی اور کھڑا ہو کر باتیں سننے لگا۔
’’مجبوریاں بعض اوقات ہم جیسوں کو جانوروں سے بھی بدتر درجے پر لے جاتی ہیں۔۔۔ صبح سے رات تک محنت بھی کریں اور ملتا بھی کچھ نہیں۔‘‘ وجاہت صاحب نے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔
’’میرا تو دماغ پھٹنے کو ہے سر۔۔۔‘‘ رمضان نے گفتگو میں حصہ لیا۔
’’کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کیا کروں۔۔۔ کہاں سر پھوڑوں۔۔۔ سارا دن یہاں ٹینشن میں گزارو۔۔۔ گھر جاؤ تو وہاں بھی رونا پڑا ہوا ہے۔۔۔ اگر یہی حال رہا تھا تو میں کسی گاڑی کے نیچے سر دے دوں گا۔‘‘
’’مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔‘‘ یونس صاحب نے کہا۔
وجاہت صاحب نے تو رمضان کی طرف دیکھا تک نہ تھا۔
…٭…
موٹرسائیکل درمیانی رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ نظریں تو سامنے تھیں مگر اُن کا دماغ کہیں دُور ویرانوں میں بھٹک رہا تھا۔ آج بھی کچھ نہیں ہوا تھا۔ آج پریذیڈنٹ صاحب ہی آفس نہیں آئے۔ کرب ناک مایوسی نے سب لوگوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
اچانک زوردار ہارن کی آواز آئی۔ وجاہت صاحب نے بے اختیار بریک لگا دیے اور ایک کار سامنے سے گزر گئی۔ بے دھیانی میں اُنھوں نے کار کو نہیں دیکھا تھا وہ دائیں جانب سے ہارن دیتی ہوئی دوڑی چلی آرہی تھی۔ اگر عین وقت پر وہ بریک نہ لگاتے تو لازمی ٹکر ہو جاتی۔
چند منٹ وہ سڑک کے کنارے بائیک روک کر کھڑے رہے مگر اُنھیں اس بات کا خوف نہیں تھا کہ وہ ایک خوف ناک ایکسیڈنٹ سے بال بال بچ گئے بلکہ یہ احساس کسی اژدھے کی طرح اُن کا وجود سموچا نگل رہا تھا کہ آج گھر میں کیا ہو گا۔ صبح وہ اپنی بیگم کو بڑی اُمیدیں دلا کر نکلے تھے کہ آج تو لازمی تنخواہ مل جائے گی۔ گھر میں کھانے کو ایک کھِیل نہ بچی تھی۔ پینے کو صرف پانی تھا۔ وہاں جا کر وہ کیا کریں گے۔۔۔ کس طرح بیوی اور بچوں کے سُتے ہوئے بھوکے چہرے دیکھیں گے۔۔۔ بچوں کے اسکول سے نوٹس پر نوٹس آرہے تھے کہ اسکول فیس جمع کروا دیں۔ روز ٹیچر کلاس میں سب کے سامنے فیس کا پوچھ رہی تھی۔ بچے شرم سے سر جھکائے کھڑے رہتے تھے اور گھر آکر اپنی ماں سے شکایت کرتے۔
آج بھی اُن کی جیب خالی تھی۔ دل میں آیا کہ کاش وہ کار انھیں کچلتی ہوئی چلی جاتی۔
’’کس منہ سے گھر جاؤں۔۔۔؟‘‘ وجاہت صاحب نے خودکلامی کی۔
پھراُنھیں خیال آیا کہ یہاں سے نزدیک ہی اُن کا ایک پُرانا دوست رہتا ہے۔ اُنھوں نے بائیک اسٹارٹ کی اور دوست کی طرف روانہ ہو گئے۔ خالد اُنھیں دیکھ کر کھِل اُٹھا۔
’’واہ بھئی واہ۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔ بڑے دنوں بعد آیا ہے میرا یار۔۔۔ لگتا ہے آفس سے واپسی پر یاد آگئی میری۔۔۔‘‘
’’بس ایسا ہی ہے۔‘‘ وجاہت صاحب نے بہ مشکل مسکرا کر کہا۔
خالد اُنھیں اندر لے آیا۔ خالد کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا۔ اُس کے گھر میں عام سی چیزیں تھیں۔ ان سے زیادہ قیمتی سامان وجاہت صاحب کے گھر میں تھا۔
’’کام کیسا چل رہا ہے تمھارا۔۔۔؟‘‘ وجاہت صاحب نے پوچھا۔
’’فِٹ فاٹ۔۔۔ اللہ کا بڑا کرم ہے۔۔۔ گزر بسر اچھی ہو رہی ہے۔۔۔ بس کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑتا۔‘‘ خالد نے جواب دیا۔
وجاہت صاحب کے دل پر گھونسا سا لگا۔ ابھی ابھی چند سیکنڈ پہلے اُن کے دل میں یہ بات آئی تھی کہ خالد سے کچھ رقم اُدھار مانگ لیں لیکن اُس نے ایسی بات کر دی تھی کہ اُن کی زبان پر تالے لگ گئے۔
کافی دیر اِدھراُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یہ تو صرف وقت گزارنے کا بہانہ تھا۔ وجاہت صاحب کے دل میں خوف کی چھپکلی نے پنجے گاڑے ہوئے تھے کہ وہ خالی ہاتھ گھر کیسے جائیں۔ بیوی بچے آس لگائے ہوں گے کہ کب وہ آئیں گے اور کب وہ کھانا کھا سکیں گے۔ اُنھوں نے اپنا موبائل بھی آف کر کے جیب میں ڈالا ہوا تھا تاکہ گھر کی کوئی کال نہ آسکے۔ وہ دیر سے گھر جانا چاہتے تھے کہ اس وقت تک بچے سو چکے ہوں اور وہ اُن کی لرزاں وترساں سوالیہ نظروں سے بچ جائیں۔ آفس کی چائے اور چند بسکٹس کے علاوہ اُنھوں نے دن بھر کچھ نہیں کھایا تھا۔ خالد نے بہت زور دیا کہ وہ کھانا کھا کر جائیں۔ وجاہت صاحب منع کرتے رہے۔ پھر خالد کی بیوی نے جسے وہ بہن کہتے تھے اُن کے آگے کھانا سجا دیا۔ جب وجاہت صاحب لقمہ توڑنے لگے تو اپنے بچوں اور بیوی کی صورتیں نگاہوں کے سامنے آگئیں۔ اُن کا ہاتھ رُک گیا۔ دکھانے اور دل رکھنے کو اُنھوں نے بہ مشکل دو نوالے حلق سے اُتارے تھے۔
رات ایک بجے وہ اپنے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت تک بچے سو چکے تھے۔
…٭…
’’کمال ہے۔۔۔‘‘ حارث نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔
’’آج سترہ تاریخ ہو گئی ہے اور تم نے اب تک اپنی کمپنی کے ملازمین کو سیلریز نہیں دیں۔۔۔؟‘‘
’’ہو جاتی ہے لیٹ۔۔۔ ہر جگہ ہوتی ہے۔۔۔‘‘ کمپنی کے مالک اور پریذیڈنٹ نے بے پروائی سے کہا۔
’’دس تاریخ تک دے دیتا۔۔۔ بس اس بار مصروفیات زیادہ رہیں۔۔۔ کبھی یاد نہیں رہا۔۔۔ پھر ہفتہ پہلے ایک موقع کی زمین خرید لی ہے۔۔۔ پچاس ایکڑ۔۔۔ سارے پیسے اِدھر لگا دیے۔۔۔ اب دیکھو کہ ایک ہفتے میں ہی مجھے اس کے دو کروڑ اُوپر مل رہے ہیں۔۔۔ کاروبار بھی تو ضروری ہے نا۔۔۔‘‘
’’بات تو ٹھیک ہے تمھاری۔۔۔ مگر اب بہت ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔ بلاوجہ کسی کی بددُعا لگ جائے گی۔‘‘ حارث نے ہنس کر کہا۔
’’ہمیں نہیں لگتی کسی کی بددُعا۔۔۔ بزنس بھی تو کرنا ہے نا۔۔۔ اتنے پروفٹ والی زمین میں کیسے ہاتھ سے جانے دیتا۔‘‘
’’چلو خیر ہے۔۔۔ جیسی تمھاری مرضی۔‘‘ حارث نے کندھے ہلائے۔
…٭…
اکاؤنٹنٹ اختر آدھا پاگل ہو چکا تھا۔
آج اٹھارہ تاریخ ہو گئی تھی اور اب تک سیلری نہیں ملی تھی۔ پریذیڈنٹ ہر کام میں باریک بینی اور سختی سے پیش آتا تھا، صرف سیلریز کے بارے میں اُسے کوئی پروا نہ تھی۔ اختر نے کئی روز پہلے اُس کی ٹیبل پر جہاں فائل رکھی تھی وہ اب تک اُسی جگہ سابقہ پوزیشن میں رکھی تھی۔ لگتا تھا کہ اُسے چھوا تک نہیں تھا۔ ظاہر ہے اختر بھی کمپنی کا ملازم تھا۔ اس کی سیلری بھی نہیں ملی تھی۔ اُس کے پاس جو بچت کی رقم تھی وہ خرچ ہو چکی تھی۔ اب اُس نے ایک رشتہ دار سے خاصی رقم اُدھار لی تھی۔ اُس کے گھر کے اخراجات بھی زیادہ تھے۔ بوڑھے ماں باپ ساتھ رہتے تھے۔ اُن کے الگ خرچے تھے۔ جو کہیں سے بھی ہر حال میں پورے کرنے تھے۔ اب تو اُدھار کی رقم بھی ختم ہو گئی تھی، بلکہ رشتہ دار پیسوں کی واپسی کا تقاضا بھی کر رہا تھا۔ اچانک اُس نے کوئی بڑی ضرورت کہیں سے نکال لی تھی۔
بیوی بچوں کے اخراجات الگ تھے۔ ان سے نبرد آزما ہو کر جب اختر صبح آفس پہنچتا تو شام تک کمپنی کے ملازمین اس سے پوچھتے رہتے کہ مالک نے سائن کیے یا نہیں۔۔۔ آج سیلری آجائے گی نا۔۔۔؟ وہ جواب دیتے دیتے چڑچڑانے لگا تھا۔۔۔ کمپنی میں کئی افراد ایسے بھی تھے، جو دُوسری ملازمت کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے۔ کچھ کو اب بھی کوئی خاص پروا نہ تھی۔ اُن کے خرچے کسی نہ کسی ذریعے سے پورے ہو رہے تھے۔
’’آج صبح مالک آیا اور تھوڑی دیر بعد چلا گیا۔ اُ س کے جانے کے بعد آفس میں بیٹھے عثمان صاحب غصے سے پھٹ پڑے۔
’’اس کمپنی میں کوئی انسان نہیں ہے۔۔۔ سب جانور ہیں جانور۔۔۔ فاقوں سے مر جانا پسند ہے مگر مالک کے آگے زبان کھولنا کسی کو منظور نہیں ہے۔۔۔ پھر شوق ہے مرنے کا تو مرو۔۔۔‘‘
’’کون زبان کھولے گا۔۔۔ کس میں ہمت ہے۔۔۔‘‘
’’کوئی تو پہل کرے۔۔۔ پھر ہم بھی بولیں گے۔‘‘
’’آپ خود پہلے کیوں نہیں بولتے عثمان بھائی۔۔۔؟‘‘ وجاہت صاحب نے کہا۔
’’اس لیے کہ مجھے پتہ تھا میرے پیچھے ایک آدمی بھی نہیں بولے گا۔۔۔ سب خاموشی سے اپنی سیٹوں پر جا کر بیٹھ جائیں گے۔‘‘ عثمان صاحب نے کہا۔
’’خدا کی قسم۔۔۔ دل کرتا ہے خود کو گولی مار لوں۔۔۔ حد ہوتی ہے بے بسی کی۔۔۔ وہ نواب کا بچہ آتا ہے اور ایسے ہی چلا جاتا ہے۔۔۔ ذرا احساس نہیں ہے اسے۔۔۔‘‘
وہاں موجود ہر شخص یہی سوچ رہا تھا کہ آج بھی خالی ہاتھوں گھر کیسے جائیں گے۔ کب تک دُنیا کے سامنے اپنے ریزہ ریزہ وجود کو سالم دکھاتے رہیں گے۔
…٭…
’’تمام پے منٹس آچکی ہیں۔۔۔؟‘‘ پریذیڈنٹ نے اختر سے پوچھا۔
’’جی سر۔۔۔ میں نے اُن کی تفصیل آپ کو میل کر دی ہے۔‘‘ اختر نے بتایا۔
’’گڈ۔۔۔ میں دیکھ لوں گا۔۔۔ ٹھیک ہے آپ جائیں۔‘‘
اختر کھڑا ہو گیا۔ پھر پتہ نہیں کیسے ہمت آگئی اور بولا:’’سر۔۔۔ وہ سیلریز اب تک نہیں ہوئی ہیں۔‘‘
’’سیلریز۔۔۔؟‘‘ پریذیڈنٹ چونک کر بولا۔
’’اچھا۔۔۔ اب تک نہیں ہوئیں۔۔۔ آپ نے مجھے بتایا۔۔۔؟‘‘
’’دو تین بار یاد دلایا تھا آپ کو۔۔۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ چیک لائیں۔۔۔‘‘
’’وہ تو میں نے اکاؤنٹ کی فائل کافی دن پہلے آپ کو دے دی تھی۔‘‘ اختر نے آگے بڑھ کر ٹیبل کے ایک جانب رکھی ہوئی فائل اُٹھائی۔’’یہ رہی فائل۔۔۔‘‘
پریذیڈنٹ نے سائن کر دیے اور پوچھا:’’آج تو بیس تاریخ ہو گئی ہے۔۔۔ کافی لیٹ ہوگئی سیلری۔۔۔ لوگ توپوچھ رہے ہوں گے۔۔۔؟‘‘
’’جی سر۔۔۔ بہت۔۔۔ کافی دن ہو گئے تھے نا۔۔۔ بڑی پریشانی ہو جاتی ہے سر۔۔۔‘‘ اختر کے منہ سے ناچاہتے ہوئے بھی نکل رہا تھا۔
’’اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔۔۔؟‘‘ پریذیڈنٹ کے ماتھے پر ناگواری کی لکیریں نمودار ہو گئیں۔
’’کبھی کبھی تھوڑا بہت اُوپر نیچے ہو ہی جاتی ہے۔۔۔ کوئی قیامت تو نہیں آگئی نا۔۔۔یا کوئی مر گیا فاقوں سے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں سر۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔‘‘ اختر یہ کہہ کر باہر نکل آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ مالک کی نظر میں یہ صرف تھوڑی سی دیر تھی۔ معمولی سی بات تھی۔ اتنے دنوں میں پتہ نہیں کس کس پر کیا کیا قیامت گزر گئی ہوں گی۔ کتنے لوگوں کی عزتِ نفس مجروح ہوئی ہوں گی۔ مالک کو اس بات کا احساس نہیں تھا اس لیے تو اُس نے اتنی آسانی سے کہہ دیا کہ کوئی قیامت تو نہیں آگئی نا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close