Naeyufaq Aug-16

عزاب حرص

سلیم کرد

یہ ایک درمیانے سائز کی لانچ تھی‘ جو خشکی سے سیکڑوں ناٹیکل میل دور رات کے وقت کھلے سمندر میں لنگر انداز تھی۔اس میں عملے کے دو افراد سمیت کُل سات افراد سوار تھے۔ لانچ کے عملے کے افراد اور اصغر کے علاوہ باقی چار افراد نو عمر لڑکے تھے جو ایک میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹس اور آپس میں دوست تھے اور ان چاروں نوجوانوں میں سے جمیل احمد کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا اور باقی تین کا تعلق متوسط خاندانوں سے تھا جبکہ پینتیس سالہ اصغر جمیل احمد کے والد کا ڈرائیور تھا اور ایف اے پاس تھا۔ وہ پانچوں اس وقت عرشے پر موجود پلاسٹک کی میز کے دونوں جانب بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے لانچ کے کیبن میں ایک بڑے ڈائل والی دیوار گیر گھڑی خصوصی طور پر ٹنگی ہوئی تھی۔ ان کی بے چین اور منتظر نگاہیں اس وقت گھڑی پر جمی ہوئی تھیں۔ رات کے بارہ بجنے والے تھے‘ سیکنڈ والی سوئی لمحہ بہ لمحہ ٹک ٹک کرتی ہوئی گول دائرے کی صورت میں بارہ کے ہندسے کی سمت بڑھ رہی تھی۔
پلاسٹک کی میز پر بڑی بڑی پلیٹیں رکھی ہوئی تھیں جن میں فرائی شدہ مچھلی کے قتلے‘ جھینگے اور مختلف انواع و اقسام کی ڈشیں موجود تھیں اور ان کے درمیان میز پر جابہ جا مختلف اقسام کے کولڈ ڈرنکس کی بوتلیں اور ڈبے بھی موجود تھے۔ لانچ کے عملے کے دونوں افراد نثار اور خلیل اس وقت انجن روم میں موجود تھے اور گرم گرم قہوہ سے شغل کر رہے تھے۔ لانچ کی ضروری روشنیاں جل رہی تھیں‘ ہوا کے سرد جھونکے وقفے وقفے سے چل رہے تھے۔
پھر بارہ بجتے ہی لانچ پر ایک جشن کا سماں چھاگیا‘ ہیپی نیو ائر کی گونج زور و شور سے سنائی دینے لگی۔ اس کے ساتھ ہی ایک مدھر و مسرور کن استقبالیہ میوزک کی دھن مدہم انداز میں رنگ برنگی برقی قمقموں کی روشنیوں کے ساتھ بکھرنے لگی اور برقی قمقموں کی روشنیاں لانچ کے اردگرد سطح آب پر پھلجڑیاں گویا بکھیرنے لگیں اور لانچ ان روشنیوں کے خوب صورت و دلکش حصار میں ہولے ہولے سے دائیں بائیں ڈول رہا تھا۔
دلکش نظارہ تھا‘ دنیا والوں سے دور ‘ گہرے پانیوں میں منچلوں کانئے سال کی آمد کا جشن زوروں پر تھا۔ آسمان پر تارے ٹمٹمارہے تھے اور مشرق سے چاند اپنا سر ابھارنے میں مصروف تھا۔ سرد ہوائیں بدستور وقفے وقفے سے چل رہی تھیں‘ ان کے جسم پر گرم سوئٹر تھے۔ جمیل اور طارق نے اپنا نائن ایم ایم کا پستول نکالا اور ہوا میں فائر کرنا شروع کردیا۔
موسیٰ ایک ہینڈی کیم کے ذریعے تقریبات کو شوٹ کررہا تھا‘ یہ پانچوں اب میز کے قریب عرشے پر کھڑے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کو نئے سال کی آمد کی مبارک باد دے رہے تھے۔ موسیٰ کے ہاتھ سے کامران نے ہینڈی کیم لیا اور مووی بنانے لگا‘ ان کے والدین نے نصیحت کی تھی کہ بے شک نیو ائر نائٹ دھوم دھام سے منائو مگر سادگی کے ساتھ۔ اس لیے ان کے سامنے میز پر الکوحل سے پاک مشروبات کی بوتلیں وغیرہ تھیں جن سے وہ شغل فرمارہے تھے ان کی آوازیں واضح طور پر انجن روم میں سنائی دے رہی تھیں۔ نثار اور خلیل دونوں ان کی موج مستیوں اور فائرنگ کی تڑتڑاہٹ کی آواز سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔
’’نجانے ان لوگوں کو مستی اڑانے کے لیے کیا سوجھتی ہے۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’بس ایک بہانہ چاہیے۔‘‘ خلیل نے کہا۔
’’چاہے عمر عزیز کا ایک سال کم کیوں نہ ہو۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’شاید ان لوگوں کو علم بھی نہیں ہے کہ وہ دراصل نئے سال کا جشن کس خوشی میں منارہے ہیں‘ زندگی کے چند مہینے کم ہونے کی خوشی میں یا نئے سال میں زندہ سلامت قدم رکھنے کی خوشی میں؟‘‘ خلیل نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’اگر بات دوسری ہے تو ٹھیک ہے ویسے یہ پارٹی شریف لوگوں پر مشتمل ہے۔ وہ پارٹی تمہیں یاد ہوگی ناں جو تفریح کم اور ہم لوگوں کا تمسخر زیادہ اڑاتی تھی؟‘‘ نثار نے یاد دلایا۔
’’وہ… جسے ہم لوگ تیئس مارچ کو لے گئے تھے ؟‘‘ خلیل نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں‘ جی ہاں۔‘‘ نثار نے مثبت انداز میں کہا۔
’’نہایت ہی چھچھوری پارٹی تھی۔‘‘ خلیل نے کہا۔
عرشے پر منعقد پارٹی اپنی جوبن پر تھی اور لانچ کے انجن روم میں خلیل اور نثار محو گفتگو تھے چند منٹ گزرنے کے بعد عرشے سے جمیل احمد کی آوا زآتی ہوئی سنائی دی۔
’’خلیل آپ لوگ آجائو عرشے پر ڈنر کرنے کے لیے۔‘‘
’’یہ کیسا ڈنر ہے جو رات باہر بجے کے بعد کیا جارہا ہے‘ منہ میں ابھی تک قہوہ کا ذائقہ ہے۔‘‘ نثار نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
’’چلو بھئی‘ ان لوگوں کی دلجوئی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کچھ کھا پی لیتے ہیں‘ ویسے مجھے بھی اب بھوک کی طلب نہیں ہورہی ہے۔‘‘ خلیل نے کہا اور وہ دونوں اٹھ کر انجن روم سے نکل گئے۔
نثار اور خلیل دونوں اس لانچ کے مشترکہ مالک تھے۔ لوگ اکثر ان کی لانچ تفریح منانے کے لیے کرائے پر حاصل کرتے تھے اور یہ دونوں ایک مناسب کرائے پر پارٹیوں کو ٹور پر لے جانے کے لیے آمادہ ہوتے ‘ مناسب کرائے کے ساتھ ساتھ ان کا رویہ سیاحوں کے ساتھ ہمیشہ مہذبانہ ہوتا تھا جس کے باعث شہر کے بڑے بڑے لوگ‘ شکار کے شوقین حضرات اور سیاحتی حلقے ان کی لانچ کرائے پر دھڑا دھڑ حاصل کرنے لگے پر ان کی یہ لانچ کرائے کے لیے وقف ہوگئی۔
اصغر سے ان دونوں کی اچھی جان پہچان تھی اور جمیل احمد نے اپنے والد کے ڈرائیور اصغر کے کہنے پر ان کی یہ لانچ مناسب کرائے پر حاصل کی تھی۔
دراصل یہ اصغر کا مشورہ تھا کہ اس بار نئے سال کا جشن کچھ ایسے مختلف انداز میں منایا جائے جو منفرد اور یادگار بن جائے۔ اس ضمن میں اس نے یہ مشورہ سامنے رکھنے رکھا کہ نئے سال کی آمد کی پارٹی کا انعقاد خشکی سے سیکڑوں میل دور باقی دنیا سے تمام ذرائع سے بالکل منقطع ہوکر گہرے پانیوں میں منایا جائے اس طرح جشن منانے کا ایک الگ مزہ ہوگا اور لطف ٹوٹ ٹوٹ کر آئے گا اوریہ تقریب برسوں یاد رہنے والی تقریب بنے گی۔
اس نے یہ مشورہ سب سے پہلے جمیل احمد کے سامنے رکھا تھا پھر اس کے بعد اس کے دوستوں کے سامنے پیش کیا۔ اصغر کو علم تھا کہ جمیل احمد اپنی گیدرنگ میں ایک لیڈر کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی ہر بات اس کے دوست بنا چوں وچرا مانتے ہیں لیکن یہ ایک ایسا منفرد مشورہ تھا کہ جمیل احمد سمیت اس کے دوستوں نے بھی بے حد پسند کیا۔ پہلے تو جمیل احمد کے والد احمد خان نے بیٹے کو گہرے پانیوں میں نئے سال کا جشن منانے کی اجازت نہیں دی جب ڈرائیور اصغر نے یہ بتایا کہ یہ میرا مشورہ ہے اور میں بھی ان کے ساتھ جائوں گا تو جمیل احمد کے والد راضی ہوگئے‘ اصغر پچھلے دس سالوں سے ان کے ہاں بطور ڈرائیور ملازمت کرتا چلا آرہا تھا۔ جمیل احمد کے والد چاہتے ہوئے بھی اس کی بات ٹال نہیں سکتے تھے۔ اکثر بڑے بڑے لوگوں کی نبض ان کی شریک حیات کے بعد ان کے ڈرائیورز کے ہاتھوں میں ہوتی ہے پھر اصغر کے مشورے پر جمیل احمد اور اس کے دوستوں نے مل کر لانچ کرائے پر حاصل کی۔ اصغر کی دلی خواہش پوری ہوگئی‘ اسے کھلے سمندر کی کھلی اور فرحت آمیز فضائوں میں تفریح منانے کا بے حد شوق تھا۔ وہ اس سے قبل بھی کئی بار کھلے سمندر میں تفریح کا مزہ حاصل کرچکا تھا لیکن پھر بھی نئے سال کی یہ خصوصی پارٹی کئی لحاظ سے منفرد تھی جبکہ جمیل احمد اور اس کے دوستوں کے لیے ہیپی نیو ائر نائٹ کی گہرے پانیوں میں منعقد ہونے والی تقریب ہر لحاظ سے ایک نیا اور انوکھا تجربہ تھا کیونکہ یہ ان کا پہلا بحری ٹور تھا جو خشکی سے دور باقی دنیا سے کٹ کر نئے سال کی آمد کے حوالے سے منایا جارہا تھا۔
جمیل احمد اور طارق کا سر اس وقت چکرانا شروع ہوگیا تھا جب لانچ کھلے سمندر میں پہنچی تھی۔ لیکن اچھی بات یہ ہوئی کہ سفر میں سر چکرانے اور غشی کو رفع کرنے والی دوا لینے کے بعد وہ جلد نارمل ہوگئے تھے اور ابھی تک دوبارہ شکایت سامنے نہیں آئی تھی اورموسیٰ و کامران کو کوئی شکایت نہیں ہوئی تھی۔
خلیل اور نثار کی بات مختلف تھی‘ وہ بحری سفر کے عادی تھے۔ سمندر سے ان کا معاش وابستہ تھا اور تیرا کی ان کی زندگی کا جزو تھی جبکہ ڈرائیور اصغر کے سوا باقی چاروں لڑکے تیراکی کے گُر سے بالکل نابلد تھے۔
یہاں دور دور تک سیل فون کام نہیں کرتا تھا اور باقی دنیا سے الگ تھلگ رہنے کے لیے انہوں نے اپنے ساتھ رابطے کا کوئی اور ذرائع بھی نہیں لایا تھا۔ یہ ان پروگرام میں شامل تھا تاکہ یکسوئی کے ساتھ نئے سال کا جشن مناسکیں۔ اگر لانچ کے عملے کے پاس کوئی رابطے کا آلہ وغیرہ تھا تو وہ اور بات تھی‘ یہ ان کا مسئلہ تھا لیکن ابھی تک نثار اور خلیل دونوں کے پاس سوائے سیل فون کے‘ رابطے کا اور کوئی آلہ ان کے ہاتھوں میں نظر نہیں آیا تھا۔
جمیل احمد سمیت چاروں لڑکے اصغر کو‘ اصغر بھائی کہہ کر پکارتے تھے اور یہ لوگ اصغر بھائی کے منفرد لوکیشن میں تشکیل کردہ پروگرام سے بے حد لطف اندوز ہورہے تھے۔
غل غپاڑہ اور اُدھم تھم گیا تھا‘ وہ کھانا کھانے اور بات چیت میں مصروف تھے جبکہ خلیل اور نثار خاموشی کے ساتھ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
’’واہ‘ واہ اصغر انکل! آپ کے ذوق کا کوئی ثانی نہیں‘ کیا چوئس کر ڈالا۔ کیا سماں ہے‘ قسم سے بہت مزہ آرہا ہے۔‘‘ موسیٰ نے ستائشی و شرارت بھرے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اصغر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’مزہ تو ہمیں بھی بہت آرہا ہے‘ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں لیکن یہ تو بتائیے اصغر بھائی سے انکل کب بن گیا؟‘‘ کامران نے ایک نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ پھر فضا میں قہقہے گونجنے لگے تاہم خلیل اور نثار نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔
’’شاید اپنے منفرد آئیڈیا کی وجہ سے اصغر بھائی سے انکل کے رتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔‘‘ جمیل احمد نے لقمہ دیا جو گروپ لیڈر تھا۔ ایک دفعہ پھر لانچ کی خوشگوارفضا میں بے ساختہ قہقہوں کی گونج سنائی دینے لگی۔
’’شاید نہیں بلکہ یقینی طور پر بھائی سے انکل کے رتبے پر فائز ہوچکا ہوں‘ اس لیے نئے سال کے اولیٰ مہینے اور پہلی تاریخ سے یعنی آج سے مجھے اصغر انکل کے نام سے لکھا اور پکارا جائے۔‘‘ اصغر نے لفظ انکل کو دفاعی انداز میں قبول کرتے ہوئے کہا اور ایک بار پھر تھمنے والی ہنسی میں تیزی آگئی۔
بیشتر پکا ہوا کھانا وہ اپنے ساتھ لائے تھے اور باقی چند خاص اقسام کی ڈشیں کامران نے یہاں لانچ کے کچن میں تیار کی تھیں‘ وہ ایک معقول ککر تھا۔
خلیل اور نثار دونوں کوشش کررہے تھے کہ وہ قدرے ان کے ساتھ گھل مل سکیں مگر معذور دکھائی دے رہے تھے۔
’’سنا ہے کہ سمندر میں اب مختلف اقسام کی مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کی نسل کم ہوتی چلی جارہی ہے؟‘‘ جمیل احمد نے خلیل اور نثار سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔
’’جی ہاں‘ بالکل ایسا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وائرنیٹ‘ گھجا نیٹ چھوٹے چھوٹے سوراخوں والے جالوں کا کثرت سے استعمال اور سمندری آلودگی ہے۔ بڑے بڑے سمندری ٹرالرز قافلوں کی صورت میں رات کے وقت کنارے کے قریب ان ممنوعہ جالوں کے ذریعے بے دردی کے ساتھ سمندر میں جھاڑو پھیرتے ہیں۔ چھوٹی بڑی مچھلیاں اور دیگر آبی مخلوقات ان کے دام میں کثرت سے پھنس جاتی ہیں ان کی افزائش نسل کے ٹھکانے ختم ہورہے ہیں اور یہ ایک بڑا کاروبار بن چکا ہے جس کے باعث چھوٹے ماہی گیر بے روزگار ہوتے چلے جارہے ہیں اور دوسری بڑی وجہ سمندری آلودگی ہے۔ دنیا بھر کے ناکارہ بحری جہاز ہمارے یہاں لاکر توڑے جاتے ہیں‘ جن سے رسنے والا تیل اور دیگر کیمیائی فضلے سمندر میں بہہ جاتے ہیں جس کے باعث سمندری حیات مرجاتی ہے یا دم گھٹنے کے باعث علاقہ چھوڑ کر کہیں اور چلی جاتی ہے۔‘‘ خلیل نے بتایا۔
’’ان عوامل کے تدارک کے لیے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا؟‘‘ جمیل نے استفسار کیا۔
’’بالکل نہیں‘ ادارے موجود ہیں مگر سب اپنا خرچہ پانی بٹور رہے ہیں۔اوپر سے نیچے تک سب ملے ہوئے ہیں‘ سمندر کو کھنگال کر آلودہ کررہے ہیں۔‘‘ خلیل نے بتایا۔
’’یہ تو سراسر آبی حیات کی نسل کشی ہے۔‘‘ کامران نے کہا اور پھر وہ سب مل کر اس موضوع پر بات کرنے لگے اور اس موضوع بحث کی وجہ سے خلیل اور نثار بھی ان کی صحبت میں گھل مل گئے پھر نثار نے موجودہ موضوع سے ہٹ کر ایک نیا سوال جھاڑ دیا۔
’’آپ لوگ نئے سال کا جشن کس سوچ کے تحت مناتے ہو؟‘‘
’’بس‘ نیا سال آنے والا ہے خوشی منانا ہے۔‘‘ موسیٰ نے سادگی سے جواب دیا۔
’’یہ نہیں سوچتے کہ عمر کا ایک سال کم ہوگیا؟‘‘ خلیل نے مسکراہٹ سے کہا اور سب ہنسنے لگے۔
’’کم ہوگیا تو کم ہوگیا‘ وقت کو روکا نہیں جاسکتا‘ سیلیبریٹ کرنا ہے‘ خوشی منانا ہے۔ ہم ہر نئے سال کا جشن مناتے ہیں لیکن اس دفعہ ہمارا یہ سادہ و منفرد جشن جو گہرے پانیوں میں منایا جارہا ہے‘ ہمارے لیے نئے سال کا جشن کم سمندری تفریح کچھ زیادہ ہے۔ ہم نے آپ لوگوں کے کہنے پر ایک پٹاخہ بھی نہیں پھوڑا اور آتش بازی بھی نہیں کی سوائے چند ہوائی فائر کے جس سے لانچ میں آگ لگنے کا کوئی اندیشہ بھی نہیں ہے اگر ہم خشکی پر تقریب مناتے تو ضرور بھرپور آتش بازی کا مظاہرہ کرتے لیکن مجھے ہر لحاظ سے نئے سال کا یہ سادہ پارٹی پچھلی تمام پارٹیوں سے پُروقار اور شاندار محسوس ہورہی ہے۔‘‘ جمیل احمد نے کہا۔
وقت کا پنچھی اپنی رفتار میں محو پرواز تھا۔
/…ء…/
چاروں لڑکے کیبن میں بیٹھے ہوئے تھے‘ خلیل اور نثار لانچ کے تہہ خانے میں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے نیند کی تیاری کررہے تھے جبکہ اصغر باہر عرشے پر کھلی فضا میں اکیلا ہوا خوری کررہا تھا۔ وہ کبھی دائیں اور کبھی بائیں ٹہل رہا تھا پھر اچانک اس کی نگاہیں سمندر میں کسی چیز پر ٹھہر گئیں۔ عین سامنے دور پُرسکون سطح آب پر ہوا کے دوش پر تیرتی ہوئی کوئی شے آہستہ آہستہ لانچ کی سمت بڑھ رہی تھی۔اصغر عرشے پر چند قدم آگے بڑھ کر اس شے کو بغور دیکھنے لگا۔ لانچ کی روشنیاں قدرے اس پر پڑرہی تھیں اور وہ رفتہ رفتہ لانچ کے برقی قمقموںکی روشنیوں کے دائرے کے اندر داخل ہورہی تھی۔ وہ کوئی بکس یا تابوت نما کوئی چیز تھی اصغر پلٹ گیا اورکیبن کے سامنے آتے ہوئے بولا۔
’’کوئی چیز تیرتی ہوئی لانچ کی طرف آرہی ہے۔‘‘
’’چلو بھئی دیکھتے ہیں‘ انکل نے سمندر میں کیا چیز دریافت کرلی۔‘‘ موسیٰ نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔
’’میرے خیال میں اصغر اب انکل سے دادا بننے کی جہد میں ہیں۔‘‘ کامران نے لقمہ دیا اور ایک بار پھر ان کے درمیان ہنسی مذاق کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
’’اگر وہ انجانی شے ہمارے کام کی ہوئی تو اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اصغر راتوں رات بھائی سے انکل اور پھر انکل سے زقند بھر کے دادا کے اعلیٰ رتبے پر فائز ہونے کا ریکارڈ اپنے نام کرسکتے ہیں۔‘‘ جمیل احمد نے کہا اور تمام افراد اٹھ کرقہقہہ لگاتے ہوئے باہر کھلی فضا میں آگئے۔
’’ وہ دیکھو۔‘‘ اصغر نے ہاتھ سے سمندر کی طرف اشارہ کیا‘ تمام لڑکے اس طرف متوجہ ہوگئے۔ کوئی چیز پرسکون سطح آب پر ہچکولے کھاتی ہوئی لانچ کی سمت آرہی تھی۔ اب اس کا رنگ بھی واضح دکھائی دے رہا تھاجو زردی مائل تھا۔
’’ارے یہ تو تابوت ہے۔‘‘ طارق نے چونکتے ہوئے کہا۔
’’انکل نے گہرے پانیوں میں کئی ہزار سال پرانے تابوت میں بند حنوط شدہ ممی کو دریافت کرلیا ہے‘ چند دن بعد پوری دنیا کے میڈیا میں انکل اصغر بلکہ دادا اصغر کے نام کا ڈنکہ بجنے لگے گا۔‘‘ کامران نے شوخی سے کہا اور اصغر سمیت سب ہنسنے لگے۔
’’ارے یار اگر ہم سب ممی کے عذاب سے بچ گئے تو انکل اصغر‘ داد ا اصغر کے مقام تک پہنچ سکتے ہیں ورنہ سب خلّاص۔‘‘ موسیٰ نے کہا اور سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔
’’بڑا مزہ آرہا ہے یار! نئے سال کی نئی خوشگوار رات‘ آسمان پر ٹمٹماتے ستارے‘ افق پر چمکتاہوا نئے سال کا چاند‘ پُرلطف ٹھنڈی ہوا کے تازہ جھونکے‘ چاروں اور پرسکون سمندر اور اس میں دھیمے دھیمے انداز میں دائیں بائیں ڈولتی ہماری لانچ اور لانچ کی طرف آنے والی انجانی شے‘ کیا پُراسرار اور خوشگوار سماں بندھا ہوا ہے یار! اس تابوت نما شے نے تو نئے سال کی تقریب میں رنگ میں بھنگ ڈال کر تجسس کا عنصر بھردیا ہے۔‘‘ طارق نے سماں باندھتے ہوئے کہا۔
’’اور یہ سب کس کا کمال ہے؟‘‘ اصغر نے زور سے استفسار کیا۔
’’دادا اصغر کا۔‘‘ سب نے یک زبان ہوکر کہا۔
’’دادا اصغر کا یا انکل اصغرکا؟‘‘ اصغر نے دوبارہ پوچھا۔
’’کوئی نہ کوئی چیز ضرور اس میں برآمد تو ہوگی‘ ہے ناں۔‘‘ کامران نے کہا۔
’’اور ضرور کوئی اہم چیز ہوگی۔‘‘ جمیل احمد نے کہا۔
’’اس لیے آپ خود کو ابھی سے دادا کے رتبے پر فائز سمجھو۔‘‘ موسیٰ نے جھپٹ سے کہا۔
’’نثار والو! آپ لوگ عرشے پر آجائو‘ کوئی چیز لانچ کی طرف آرہی ہے‘ اسے پکڑ کر لانچ پر چڑھانا ہے۔‘‘ جمیل احمد نے پکار کر کہا۔ نثار اور خلیل دونوں اپنے اپنے بستر پر تھے اور نیند کی تیاری کی کوشش میں تھے۔ دونوں عرشے سے آتی ہوئی آوازوں کو واضح طور پر کافی دیر سے سن بھی رہے تھے‘ انہیں توقع تھی کہ جلد بلاوا بھی آجائے گا اور توقع کے عین مطابق انہیں پکارا گیا۔
’’چلو دیکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے۔‘‘ نثار نے خلیل سے کہا۔
’’آجائو‘ جلدی سے۔‘‘ ایک دفعہ پھر عرشے سے جمیل احمد کی تیز آواز آئی۔
’’ہم آرہے ہیں ابھی۔‘‘ نثار نے کہا اور پھر دونوں لانچ کے تہہ خانے سے نکل کر عرشے پر ان کے درمیان پہنچ گئے۔ وہ تابوت نما بکس لانچ کے دائیں طرف پہنچنے والا تھا مگر اس کا فاصلہ لانچ سے کافی دور تھا۔
لانچ میں ایک چھوٹی سی ہلکی پھلکی مگر مضبوط لائف بوٹ موجود تھی جس میں چھ سات افراد کی گنجائش تھی جو لانچ کے ایک کونے میں رسیوں کے سہارے چوبی شہیتروں سے تقریباً لٹکی ہوئی تھی اور اتفاق سے وہ تابوت نما چیز بھی لانچ کے اس کونے کی طرف تھی جہاں لائف بوٹ لانچ سے نصب تھی۔ نثار اور خلیل نے سرعت کے ساتھ بوٹ کی رسیاں کھولنا شروع کیں۔
’’ہم تیر کر بھی اس چیز کو پکڑ کر لانچ پر چڑھا سکتے ہیں مگر یہاں گہرے پانیوں میں خونخوار شارک کا اندیشہ ہے اور ٹھنڈ بھی کافی ہے‘ قلفی جم سکتی ہے۔‘‘ خلیل نے نثار کے ساتھ لائف بوٹ سمندر میں اتارتے ہوئے کہا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھپاک کے ساتھ لائف بوٹ بڑی آسانی کے ساتھ سمندر میں اتر گئی۔ خلیل لانچ سے اتر کر بوٹ کے اندر چلا گیا‘ بوٹ کا پچھلا حصہ رسی سے باندھا ہوا تھا اور رسی کا بقایا حصہ لانچ میں موجود نثار کے ہاتھوں میں تھا۔ لانچ کا رخ مغرب کی سمت تھا اور وہ بکس مغرب کی سمت آنے والی ہوائوں کے دوش پر آرہا تھا۔ لائف بوٹ کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے سائز کی چپو بیلٹ کے سہارے منسلک تھے۔
خلیل نے ایک چپو نکال کر سرعت کے ساتھ کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلنا شروع کیا اوپر لانچ میں موجود نثار نے رسی کو ڈھیل دینا شروع کیا جو کافی لمبی تھی اور بکس تک بآسانی کے ساتھ پہنچ سکتی تھی۔ خلیل نے بوٹ کا رخ بکس کی طرف موڑ دیا تھا‘ بالآخر لائف بوٹ بکس کے قریب پہنچ گئی۔ خلیل نے زرد رنگ کے تابوت نما بکس کو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر آگے بڑھنے سے روک دیا جو کافی وزنی بھی محسوس ہورہا تھا۔
’’رسی کھینچ لو۔‘‘ خلیل نے جب بکس کو دونوں ہاتھوں سے پوری طرح جکڑلیا تو آواز لگائی۔
رسی کا صرف آخری سرا نثار کے ہاتھوں میں رہ گیا تھا جسے نثار نے کھینچنا شروع کردیا۔ لائف بوٹ رسی کے سہارے اور تابوت نما بکس بوٹ کے اندر خلیل کے ہاتھوں کے ذریعے دھیمی دھیمی رفتار میں پیچھے کی جانب لانچ کی طرف بڑھنے لگی۔
/…ء…/
سب کی نگاہیں تابوت نمابکس پر جمی ہوئی تھیں زرد رنگ کا یہ بکس جدید قسم کا فائبر کس ساختہ تھا۔ یہ لمبائی اورچوڑائی میں کسی عام تابوت سے بڑا تھا اس کے دونوں طرف قدرے ابھرے ہوئے لاک نصب تھے۔ فائبرکس ساختہ ہونے کی وجہ سے یہ مضبوط‘ پائیدار اور واٹر پروف تھا جو سمندر کی گہرائیوں میں ڈوبنے کے بجائے سطح آب پر رہنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
’’کافی وزنی ہے‘ اندر کچھ خاص قسم کی چیزیں ہوسکتی ہیں۔‘‘ جمیل احمد نے کہا کیونکہ کچھ دیر قبل اس نے نثار اور خلیل کے ساتھ مل کر بکس کو لانچ پر چڑھایا تھا۔
’’اب رنگ کے بھنگ کا بھید جلد کھلنا چاہیے‘ بکس کے اندر کیا برآمد ہوگا۔ فوری طور پر یہ بات سامنے آنا چاہیے تاکہ اصغر انکل اور دادا درمیان کشمکش سے نجات پائے۔‘‘ طارق نے کہا اور بار پھر سب ہنس پڑے۔
نثار اور خلیل بکس کے لاک سے چھیڑ خانی کرنے لگے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تھوڑی دیر بعد خلیل نے تہہ خانے سے ہتھوڑی اور چھینی لایا اور ان کی مدد سے لاک توڑنا شروع کیا پھر تھوڑی دیر بعد وہ دونوں سائیڈ کے لاک کو توڑنے میں کامیاب ہوا اب صرف ڈھکنا کھولنے کا مرحلہ باقی تھا۔ نثار اور خلیل کے علاوہ سب کے دل اضطراری کیفیت سے سینے میں دھڑک رہے تھے اور متجسس نگاہیں بکس پر ٹکی ہوئی تھیں۔
موسیقی کی دھن لانچ کے گوشے گوشے میں سنائی دے رہی تھی اور ایک نئے سُر کا آغاز ہورہا تھا۔ سب نے اپنے اسمارٹ فون نکال کر بکس کا ویڈیو بنانا شروع کیا۔
’’یار کہیں اندر بم وغیرہ نہ ہو۔‘‘ اچانک موسیٰ نے کہا اور خلیل اور نثار کے علاوہ باقی فوراً پیچھے ہٹ گئے۔
’’لڑکے ہمیں ڈرائو مت۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’احتیاط بھی کسی شے کا نام ہے آخر اور آج کل کے حالات کا علم سب کو ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈھکنا کھلتے ہی ہمارے چیتھڑے اڑ جائیں۔‘‘ موسیٰ نے ایک بار پھر خوفزدہ انداز میں کہا اور خلیل‘ نثار دونوں ہنسنے لگے۔
’’چھوڑو اس پاگل لڑکے کی باتوںکو‘ گہرے پانیوں میں بھلا بم کہاں سے آیا۔‘‘ نثار نے خلیل سے کہا اور پھر دونوں نے مل کر ڈھکنا اوپر اٹھایا‘ ڈھکنا کسی قدر وزنی تھا اور ایک ہلکی سی آواز کے ساتھ کھل گیا۔ نہ بم پھٹا نہ دھماکا ہوا نہ کسی کے چیتھڑے اُڑے۔ ڈھکنا دوسری طرف جھک سا گیا تھا‘ روشنی بکس کے اندر داخل ہورہی تھی۔ اندر کا منظر صاف اور واضح نظر آرہا تھا۔ سب بکس کے قریب آکر اندر جھانک رہے تھے‘ اندر موجود اشیا پر ایک سفید رنگ کا کور بچھا ہوا تھا جو ترپال کا تھا اور اس پر بے شمار چھوٹے چھوٹے گول ابھار تھے‘ جو دیکھنے میں نرم و ملائم محسوس ہورہے تھے شاید یہ نرم و ملائم ابھار والا کور اندر موجود اشیا کو ہلنے اور بکھرے سے بچائے رکھتا تھا۔
’’کور اٹھاتے ہوئے خیال رکھنا کہیں اندر موجود ممی انگلی نہ چبادے۔‘‘ کامران نے کہا اور تمام لوگ بے ساختہ ہنسنے لگے۔ نثار نے کور ہٹایا‘ اندر پلاسٹک کے سفید سانچوں میں کالی نوکدار اشیا نظر آنے لگیں جو ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔
’’اوہ…‘‘ نثار اور خلیل کے سوا باقی افراد کے منہ سے بہ وقت نکلا۔ نثار اور خلیل ان کی حیرت سے چونک سے گئے۔ نثار اور خلیل کے سوا باقی لوگوں نے بکس کے اندر اشیا کو دیکھتے ہی فوراً پہچان لیا‘ یہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے والے تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کے لیے اشیا کی ایک جھلک کافی تھی۔ وہ خاک دیکھ کر بتاسکتے تھے کہ کس خمیر کا ہے لیکن آج کے دور میں ہر کوئی اپنی بساط کے تحت کچھ نہ کچھ علم و معلومات ضرور رکھتا ہے۔ نثار اور خلیل اندر موجود اشیا کے نام صرف اپنے کانوں سے سن لیتے تو ان کی آنکھیں بھی اپنے ساتھیوں کی مانند چکا چوند ہوئے بنا نہیں رہ سکتی تھیں۔ وہ ان پڑھ تھے لیکن معلومات کے زمانے میں جی رہے تھے‘ ساتھیوں کے اچانک بدلتے تاثرات کے باعث نثار اور خلیل دونوں کے ذہن میں بکس کے اندر موجود اشیا کے بارے میں سوالیہ نشان تھا لیکن وہ دونوں یہ جاننے سے قاصر تھے کہ یہ موٹی موٹی اور نوکدار کالی اشیا دراصل ہیں کیا بلا۔
’’گینڈے کے سینگ۔‘‘ جمیل احمد نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’اوہو…‘‘ نثار اور خلیل دونوں کا منہ حیرت سے کھل گیا اور انہیں اپنے ساتھیوں کی حیرت کا اندازہ بھی ہوا پھر وہ مل کر بکس کو چیک کرنے لگے‘ اوپر تلے پلاسٹک کے سانچوں میں گینڈے کے کئی سینگ تھے جن کی تعداد سو کے لگ بھگ تھی۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے جمیل احمد کے کہنے پر گینڈے کے سینگ دوبارہ بکس میں رکھنے شروع کیے‘ بکس کے دونوں لاک ناکارہ ہوچکے تھے اس لیے سینگ رکھنے کے بعد اسے دو مضبوط بیلٹ کے ذریعے بند کردیا گیا پھر جمیل احمد کی ہدایت پر اسے اٹھا کر لانچ کے کیبن میں رکھ دیا گیا۔
/…ء…/
تمام لوگ لانچ کے کیبن میں چوبی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ گینڈے کے سینگ سے بھرا ہوا بکس نیچے چوبی فرش پر پڑا ہوا تھا۔ فضا میں خاموشی چھائی ہوئی تھی‘ میوزک کی آواز بھی اب سنائی نہیں دے رہی تھی۔
’’واہ دادا اصغر واہ! آپ تو توقع سے بڑھ کر ثابت ہوئے۔‘‘ موسیٰ نے شرارت بھرے انداز میں کہا لیکن کہیں سے بھی شوخی نظر نہ آئی ہر طرف سرد مہری چھائی ہوئی تھی۔
بکس سے گینڈے کے سینگوں کی برآمدگی کے بعد فضا میں ایک بدلائو سا آچکا تھا۔ نئے سال کی آمد کا جشن سب کے دل و دماغ سے محو ہوچکا تھا ۔
’’یہ افریقی گینڈے کے سینگ ہیں‘ انتہائی قیمتی اور نایاب قسم کے ہیں۔ ایک سینگ کی قیمت لاکھوں میں ہے۔‘‘ جمیل احمد نے سکوت توڑتے ہوئے سینگوں کے متعلق تذکرہ شروع کیا۔
’’میں اتنا جانتا ہوں کہ یہ بکس جس سمت سے آرہا تھا وہ راستہ افریقہ اور خلیج عدن کا ہے اگر قیاس کیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ یہاں آس پاس یا افریقہ یا خلیج عدن میں گینڈے کے سینگ اسمگلنگ کرنے والی کوئی لانچ چند دن قبل غرق آب ہو گئی ہو اور یہ بکس ایسی کسی بدقسمت لانچ کا ہوسکتا ہے جو قسمت سے ہمارے ہاتھوں لگ گیا ہے۔ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہو کہ میرے ابو کے تعلقات کاروباری حلقوں میں کافی وسیع ہیں‘ انہیں منڈی میں مناسب ریٹ پر فروخت کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہ ہوگا۔ سینگوں کے بدلے کرنسی نوٹ لیں گے تو ہم آپس میں بانٹ لیں گے اور اس میں اصغر کا حصہ دوگنا ہوگا اور باقی ہم چھ کا حصہ ایک گنا ہوگا کیونکہ بکس کو اصغرنے دریافت کیا تھا ۔ میرے خیال میں لنگر اٹھا کر ہمیں ابھی اسی وقت یہاں سے جانا چاہیے‘ آپ لوگ جانے کی تیاری کرلیں۔‘‘ آخر میں جمیل احمد لانچ کے عملے سے مخاطب ہوا۔
/…ء…/
انجن اسٹارٹ نہیں ہورہا تھا‘ صرف ایک آدھ سمے کے لیے کھانس کر خاموش ہوجاتا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ جمیل احمد نے لانچ کے کیبن سے زوردار ہانک لگائی۔
’’چیک کرکے دیکھتے ہیں۔‘‘ انجن روم سے نثار کی جوابی آواز سنائی دی۔
نثار انجن کی مرمت کا ہنر جانتا تھا اور دوران سفر لانچ کے انجن کو آپریٹ کرتا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ خرابی کوئی معمولی نوعیت کی نہیں ہے۔ تیل کی ٹینکی سے کچرا تیل کی لائن میں آگیا تھا۔ دو تین دفعہ انجن اسٹارٹ کرنے کی کوشش میں انجن کے بعض اہم قسم کے کُل پرزے ہل گئے تھے۔ انجن کو ٹھیک کرنے میں چار سے چھ گھنٹے بھی صرف ہوسکتے تھے مگر اس نے انجن کی اصل خرابی کے بارے میں جمیل احمد کو بتانے سے اجتناب کیا کیونکہ نثار نہیں چاہتا تھا کہ لانچ پر انتظار اور بے چینی کی کیفیت چھا جائے۔
’’انجن کو بھی ابھی خراب ہونا تھا۔‘‘ جمیل احمد کی بڑبڑاہٹ کیبن سے آئی لیکن نثار نے فی الحال انہیں آگاہی دلانے میں احتیاط برتی پھر وہ جھک کر انجن کا معائنہ کرنے لگا چند سمے معائنے کے بعد نثار نے ایک طرف رکھا ہوا اوزار کٹ اٹھایا اور اسے کھول کر اوزار نکالنا شروع کیا۔
طارق اور موسیٰ عرشے پر بے چینی اور خاموشی کے ساتھ ٹہل رہے تھے۔ خلیل نثار کا ہاتھ بٹانے کے لیے انجن روم میں داخل ہوگیا۔ اصغر اور کامران لانچ کی کیبن سے خاموشی کے ساتھ نکل کر لانچ کے پچھلے حصے کی طرف چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگے جہاں چوبی اسٹیرئنگ وہیل نصیب تھی جبکہ جمیل احمد کیبن میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا جہاں گینڈے کے قیمتی سینگ سے بھرا ہوا بکس چوبی فرش پر رکھا ہوا تھا۔ وقت اپنی رفتار میں آگے بڑھ رہا تھا سوائے انجن روم کے لانچ کے بقایا ہر گوشے میں ایک خاموشی تنائو چھایا ہوا تھا۔ نثار اور خلیل دونوں کی باتوں کی بازگشت اور کسی نٹ بولٹ کھولنے کی آواز انجن روم سے وقفے وقفے سے آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔
’’سانپ کی طرح کنڈلی مار کر خزانے پر بیٹھا ہوا ہے۔‘‘ اچانک طارق نے سرگوشی کرتے ہوئے موسیٰ سے کہا اور موسیٰ ایک لمحے کے لیے چونک سا گیا۔
’’اب یہ کروڑوں روپے مالیت کے سینگ اپنے ابو کے ہاتھوں میں دینا چاہتا ہے۔ میں اس کے ابو کو اچھی طرح سے جانتا ہوں‘ انتہائی بے ایمان اور حرام خور قسم کا آدمی ہے۔ اپنے ذاتی ملازموں کا حق پورا ادا نہیں کرتا‘ ایک آدمی سے دو آدمیوں کے برابر کام نکالتا ہے اور تنخواہ صحیح معنوں میں ایک ملازم کے برابر کی ادا نہیں کرتا۔ ہر تین چار مہینے بعد اس کے گھریلو ملازم بدلتے رہتے ہیں ‘ ایک جان چھڑا کر بھاگ جاتا ہے تو کوئی دوسرا پھنس جاتا ہے۔ معلوم نہیں اصغر نے دس سال کیسے نکال لیے ہیں‘ ایسے آدمی کے ہاتھ کروڑوں روپے مالیت کے سینگ آگئے تو ہمیں آٹے میں نمک کے برابر حصہ بھی شاید ملے۔‘‘ طارق نے نفرت بھرے لہجے میں ایک دفعہ پھر خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
’’جمیل احمد نے کہا تھا کہ سب کو اس کا حصہ ملے گا اور اصغر کا دگنا حصہ ہوگا۔‘‘ موسیٰ نے کہا۔
’’دولت اچھے اچھوں کی نیت بدل ڈالتی ہے‘ یہ رہے بخیل اور زر پرست انسان‘ باپ بیٹے دونوں مکر جائیں گے یعنی کم دام میں فروخت کا بہانہ بناکر ہمارے ہاتھوں میں چند نوٹ تھما دیں گے۔ اصغر ان کا ذاتی ملازم ہے وہ کیسے اس بات کو حلق سے اتار سکیں گے کہ ان کا ہمہ وقت حکم بجالانے والا‘ ان کا ادنیٰ ملازم آناً فاناً ایک دولت مند شخص بن جائے۔ لہذا اس کی باتوں پر کان مت دھرو‘ میرے یار! یہ سب محض باتیں ہیں۔‘‘ طارق نے سرگوشیانہ انداز میں کہا۔
’’پھر کیا کریں؟‘‘ موسیٰ نے استفسار کیا۔
’’بٹوارہ… ابھی سے سینگوں کا عملی طور پر بٹوارہ لازمی ہے‘ محض لفظی تقسیم سے کام نہیں چلے گا۔‘‘ طارق بے ساختہ بولا۔
’’لیکن ہم لوگ تو اپنے طور پر سینگ فروخت نہیں کرسکتے‘ الٹا کسی بڑی مصیبت میں بھی پھنس سکتے ہیں۔ ان سینگوں کو فروخت کرنا ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔ جمیل احمد کے کنجوس والد کے سوا اورذریعہ بھی نہیں ہے ہمارے پاس۔‘‘ موسیٰ نے کہا۔
’’کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا‘ اگر نہیں نکلا تو دوسری صورت میں جمیل احمد کے والد کے ہاتھوں فروخت کریں گے۔‘‘ طارق نے بتایا۔
’’اور جو قیمت وہ ادا کرے گا اس کی مرضی‘ بات وہی ہوئی ناں۔‘‘ موسیٰ نے نکتہ اٹھایا۔
’’میں نے کہا کہ اگر کوئی راستہ نہیں نکلا تو… یعنی بحالت مجبوری جمیل احمد کے ابو کے ہاتھوں میں فروخت کریں گے۔‘‘ طارق نے دلائل دیتے ہوئے کہا‘ وہ اپنے طور پر اس بارے میں مباحثہ کررہے تھے۔
’’ہاں جی … لیکن بٹوارے کے لیے جمیل احمد سے بات کرے گا کون؟‘‘ موسیٰ نے سوالیہ لہجے میں کہا۔
’’اصغر کو چھوڑ کر باقی لوگوں سے اس بارے میں مشورہ کرنا لازمی ہے۔‘‘ اصغر جمیل احمد کے قریب تر ہے اور اس کو دگنا حصہ ملنے کی امید ہے شاید وہ ہماری باتوں پر اتفا ق نہ کرے۔‘‘ طارق نے کہا۔
’’اگر کامران‘ نثار‘ خلیل تینوں میں سے ایک بھی ہمارے ساتھ نہ مل سکا یا تینوں نے انکار میں جواب دیا تو ہماری پوزیشن کمزور ہوجائے گی اور مسئلہ کھڑا ہوگا۔‘‘ موسیٰ نے اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا اور طارق چند ثانیے غور کرنے کے بعد گویا ہوا۔
’’ایسا بھی ہوسکتا ہے پھر میرے خیال میں خاموش رہنا بہتر ہوگا۔ اصغر اور کامران دونوں چوبی اسٹیرنگ وہیل کے قریب کھڑے ہوئے تھے اور خاموشی کے ساتھ آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ کے درمیان چمکتے دمکتے چاند کو تک رہے تھے۔
’’دن‘ ماہ وسال رات کی تاریکی میں تبدیل ہوتے ہیں‘ ہماری زندگی بھی راتوں رات تبدیل ہوگئی ہے۔‘‘ کامران نے فلسفیانہ انداز میں کہا۔
’’ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا‘ ہاں اگر ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو فی الحال ہماری زندگیوں میں تبدیلی آگئی ہے۔‘‘ اصغر نے کہا‘ ایک دفعہ پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھاگئی۔
’’کیا ہوا بھائی‘ انجن کی خرابی نظر آگئی؟‘‘ جمیل احمد کی بے قرار آواز کیبن سے آتی ہوئی سنائی دی۔
’’جی ہاں‘ نقص مل گیا۔‘‘ انجن روم سے نثار کی آواز آئی۔
’’کب ٹھیک ہوگا؟‘‘ ایک بار پھر جمیل احمد کی آواز سنائی دی۔
’’چار سے پانچ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔‘‘ نثار کی ایک دفعہ پھر جوابی آواز سنائی دی۔
’’اوہو‘ ابھی یہ کون سی خرابی آن پڑی ہے۔‘‘ جمیل احمد نے بڑبڑاتے ہوئے کہا لیکن انجن روم سے کوئی جواب نہ ملا۔
’’اس کا مطلب ہے ہمیں صبح تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ کامران نے اصغر سے کہا۔
’’ہاں‘ صبح تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘ اصغر نے ریسٹ واچ کی لائٹ آن کرتے ہوئے ٹائم دیکھ کر کہا۔
’’لیکن انجن میں نقص کیا ہے؟‘‘ موسیٰ نے آواز لگائی۔
’’جالی ناکارہ ہونے کی وجہ سے تیل کی ٹینکی میں موجود کچرا گھس آیا جو انجن اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی وجہ سے خرابی کا باعث بن گیا اور بعض کل پرزے بھی ہل چکے ہیں۔‘‘ نثار نے جواب دیا‘ اس نے تقریباً آدھا انجن پرزہ پرزہ کردیا تھا اور ناکارہ پرزوں کی جگہ نئے پرزے فٹ کررہا تھا۔
وقت گزرتا جارہا تھا‘ آدھی رات کا وقت آن پہنچا‘ نثار اور خلیل انجن کی مرمت کے محنت طلب کام کی وجہ سے بے حد تھک چکے تھے‘ آدھا کام ابھی باقی تھا۔
’’بقایا کام صبح دن کی روشنی میں کرنا بہتر ہوگا‘ کچھ دیر آرام کرنا لازمی ہے۔‘‘ نثار نے ایک لمبی سانس لینے کے بعد ہاتھوں پر لگی ہوئی سیاہی کو رومال سے صاف کرتے ہوئے کہا اور پھر چند ثانیوں بعد دونوں انجن روم سے نکل کر کیبن میں داخل ہوئے۔
’’ہم لوگ کچھ دیر کے لیے آرام کررہے ہیں‘ صبح کے وقت دوبارہ کام شروع کریں گے۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’انجن تو ٹھیک ہوجائے گا نا؟‘‘ جمیل احمد نے جاننا چاہا۔
’’بالکل‘ آپ لوگ بے فکر رہیں۔‘‘ نثار نے وثوق سے کہا۔
’’چلو جی ٹھیک ہے۔‘‘ جمیل احمد نے کہا پھر وہ دونوں کیبن سے نکل کر اسٹیئرنگ وہیل اور کیبن کے درمیان پہنچ کر رک گئے اور چوبی فرش سے ایک چوکور چوبی تختہ ہٹایا۔ تختہ ہٹنے کے بعد ایک خلا نمودار ہوگیا‘ جہاں مدھم سی روشنی تھی پھر وہ دونوں خلا میں یکے بعد دیگرے اترنے لگے۔ خلیل پیچھے تھا‘ اندر پہنچنے کے بعد خلیل نے دہانے کے قریب رکھا ہوا تھا۔ تختہ کھسکا کر دہانا بند کردیا اور پھر مختصر سیڑھیوں سے اترنے کے بعد تہہ خانے کے اندر پہنچ گیا‘ باہر سردی کافی تھی لیکن تہہ خانے کا ماحول متعدل تھا۔
’’پتا نہیں ہمیں کتنا حصہ ملے گا۔‘‘ نثار نے اپنے بیڈ پر ڈھیر ہوتے ہوئے کہا۔
’’جمیل احمد کے مطابق ہر ایک کو اپنا حصہ ملے گا۔‘‘ خلیل نے کہا۔
’’دولت کے معاملے میں ہمیشہ قول و فعل میں تضاد آجاتا ہے‘ دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے آگے آگے۔‘‘ نثار نے کہا۔ خلیل لائٹ آف کرنے کے بعد اپنے بستر پر لیٹ گیا اور پھر دونوں جلد نیند کی وادی میں کھوگئے۔
لانچ کے کیبن میں چھ سات افراد کے بیک وقت لیٹنے کی گنجائش تھی۔ کیبن کے چاروں کونوں سے لمبے چوڑے چوبی برتھ منسلک تھے۔ وہ پانچویں اپنے اپنے برتھ پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گئے‘ لائٹ آف تھی اور کیبن کا دروازہ اور کھڑکیاں بند تھیں۔ جمیل احمد حتی المقدور جاگے رہنے کی کوشش کررہا تھا لیکن جلد اس کی آنکھ لگ گئی‘ گینڈے کے سینگ سے بھرا ہوا بکس اس کی برتھ تلے رکھا ہوا تھا۔
/…ء…/
نیند طارق سے کوسوں دور تھی‘ وہ بڑی بے چینی کے ساتھ پل پل کروٹیں بدل رہا تھا۔ اس کا ذہن ان گنت خیالات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا‘ وہ برتھ پر لیٹے لیٹے باری باری اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھنے لگا‘ چاروں خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے پھر اس کی مضطرب نگاہیں کیبن کی بند کھڑکیوں پر گھومنے لگیں۔ بند کھڑکیوں کے شفاف گلاسز سے لانچ اور چاند کی ملگجی روشنیاں چھن چھن کر آرہی تھیں۔ طارق کی نگاہیں مغربی سمت والی کھڑکی پر خودبخود ٹھہر گئیں۔جہاں سے چاند افق پر چمکتے دمکتے ستاروں کے درمیان واضح دکھائی دے رہا تھا۔ بند دریچہ نہیں گویا دلکش نظارے والی کوئی تصویر کیبن کی دیوار سے آویزاں تھی۔
طارق اٹھ کر بیٹھ گیا‘ کمبل برتھ کی پائنتی کی طرف سمیٹا اور برتھ پر موجود بغلی ہولسٹر اٹھایا پھر اسے جلدی اور بغیر کوئی آوازپیدا کیے بائیں بغل میں ڈالا جس میں اس کا ذاتی لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول تین بھری ہوئی میگزین کے ساتھ موجود تھا۔ لانچ میں طارق اور جمیل احمد دونوں مسلح تھے باقی پانچوں افراد کے پاس کوئی آتشیں اسلحہ وغیرہ نہیں تھا۔ ہولسٹر کو بغل میںڈالنے کے بعد طارق نے اوپر گرم سوئٹر پہنا اور پھر برتھ سے نیچے اتر کر جوتے بھی پہن لیے۔ ایک لمحے کے لیے اس کی مضطرب نگاہیں خود بخود جمیل احمد کی برتھ کے نیچے موجود بکس پر جم سی گئیں مگر دوسرے لمحے وہ محتاط انداز کے ساتھ کیبن کا دروازہ کھول کر باہر کھلی فضا میں آگیا اور پھر دوبارہ بناء کوئی آواز پیدا کیے آہستگی کے ساتھ دروازہ بند کیا۔ باہر آکر اسے طمانیت کا احساس ہوا پھر وہ لانچ کے اگلے حصے کی طرف چھوٹے چھوٹے ڈگ بھرنے لگا۔ اس کی نگاہیں نیلے افق پر ٹمٹماتے چاند اور تاروں پر تھیں۔
مطلع صاف تھا‘ کبھی کبھار یخ بستہ ہوا کے جھونکے چلتے تو طارق کے بدن میں ہلکی سی خوشگوار سرد لہر دوڑ جاتی۔ طارق عرشے کے آخری کونے پر پہنچ کر رک گیا اور قدرت کے حسین نظاروں میں کھوسا گیا۔
اوپر صاف و شفاف نیلا افق‘ نیچے پرسکون نیلگوں سمندر‘ نیلے افق کی وسعتوں میں روشن چاند اور تارے اور نیلگوں سمندر کی پرسکون سطح پر دور دور تک آسمان سے چھن چھن کر آتی ہوئی چاند تاروں کی روشنیاں اور دھیرے دھیرے سے لرزتے ہوئے ان کا مبہم عکس بڑا ہی دلفریب اور روح پرور نظارے پیش کررہے تھے۔ طارق کے دل و دماغ سے بچھو کی طرح ڈنگ مارنے والے وسوسے اور اندیشے رفتہ رفتہ چھٹنا شروع ہوگئے۔
کھلی فضا میں کھڑا طارق قدرت کے حسین نظاروں کو اپنی روح میں اتار رہا تھا۔ وہ اس قدر قدرت کے حسین نظاروں میں ڈوبا ہوا تھا کہ اسے ذرہ برابر بھی گمان نہ ہوا کہ کوئی ڈھاٹا بندھ عقب سے بناء کوئی آہٹ پیدا کیے اس کے سر پر پہنچ گیا ہے جس کے ہاتھ میں ہتھوڑا بھی تھا‘ چہرے پر ڈھاٹا بندھ شخص نے طارق کے قریب پہنچنے کے فوراً بعد ہاتھ میں موجود ہتھوڑا ہوا میں گھمایا اور دوسرے لمحے بڑی سفاکی کے ساتھ ایک کاری ضرب طارق کے سر پر رسید کردی۔ طارق کے پورے وجود میں روح کو تڑپانے والا ایک شدید درد دوڑنے لگا۔ بے خبر طارق سمجھ بھی نہ پایا کہ کون سی افتاد اچانک اس کے سر پر آن پڑی۔ قدرت کے حسین نظاروں کو روح میں اتارنے والی آنکھوں کی روشنیاں یکدم بجھ گئیں۔ طارق لڑکھڑا کر نیچے ڈھیر ہوتا اس سے قبل ڈھاٹا نے بڑی پھرتی سے اسے اپنے بازوئوں میں بھرلیا اور پھر دھیمے انداز میں نیچے چوبی فرش پر لٹادیا۔ طارق کا سر کھل گیا تھا اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی تھی۔ ڈھاٹا بندھ کی سانسیں بھی بے ربط تھیں اور ڈھاٹے میں سے جھانکتی ہوئی آنکھوں میں ایک جنونی کیفیت جھلک رہی تھی۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں پیچھے کیبن کی طرف دیکھنے لگا مگر وہاں کوئی نہیں تھا پھر اس نے جھک کر اپنے مرتعش ہاتھوں سے سامنے پڑے ہوئے طارق کے بے جان جسم پر موجود لباس کو ٹٹولنا شروع کیا۔
ہولسٹر سے نائن ایم ایم کا پستول اور میگزین نکالنے کے بعد اس نے انہیں اپنے جسم پر موجود گرم سوئٹر کے نیچے نیفے میں اڑس لیا۔ اس کی بے اعتدال سانسیں تیزی کے ساتھ چل رہی تھیں اور خوف کے مارے اس کے پورے بدن میں ارتعاش تھا اس نے ایک دفعہ پھر گردن گھما کر پیچھے کی جانب دیکھا مگر وہاں پہلے کی طرح کوئی نہ تھا پھر اس نے طارق کی دونوںٹانگوں کو چھوڑ دیا اور اب طارق کی لاش لانچ پر ایسے انداز میں موجود تھی کہ اس کی دونوں ٹانگیں نیچے سمندر کی جانب جھول رہی تھیں اور باقی سر‘ دھڑ والا حصہ اوپر لانچ میں موجود تھا۔ قاتل نے جھک کر لاش کے دونوں ہاتھ پکڑلیے اور پھر بڑے احتیاط کے ساتھ طارق کی لاش سمندر میں اتارنا شروع کی‘ چند ثانیے بعد ایک انتہائی دھیمی چھپاک کی آواز کے ساتھ طارق کی لاش سمندر برد ہونا شروع ہوگئی اور سطح سمندر پر چھوٹی چھوٹی لہروں کے گول دائرے سے نمودار ہونے لگے اور ان گول دائروں کے درمیان جب لاش مکمل طور پر اوجھل ہوگئی تو قاتل نے سکون کا سانس لیا اور نیچے پڑا ہوا آلہ قتل یعنی ہتھوڑا اٹھا کر سمندر میں اچھال دیا۔
شدید ضرب کی وجہ سے طارق موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا اور سر کھلنے کی وجہ سے کافی خون بہہ گیا تھا‘ نیچے چوبی فرش پر جا بجا خون کے گاڑھا دھبے جمے ہوئے تھے۔ قاتل کے جسم پر کالی پینٹ اور اسی رنگ کا گرم سوئٹر تھا‘ جس کے باعث طارق کے کھلے سر سے رستے خون کے چھینٹے اس کے لباس پر پڑنے کے باوجود بھی صریحاً غیر واضح تھے تاہم اس کے دونوں ہاتھ طارق کے لہو سے رنگے ہوئے تھے جنہیں اس نے اپنے کالے لباس پر پھیر کر صاف کیا اور پھر کالے رنگ کا گرم سوئٹر اتار کر نیچے فرش پر پھیلے ہوئے لہو کو صاف کرنا شروع کیا۔ چوبی فرش کے چوبی تختوں نے خون جذب کرلیا تھا اور انہیں چند ساعتوں میں صاف کرنا آسان نہیں تھا۔ قاتل خون کے دھبوں پر گرم سوئٹر رگڑنے لگا بالآخر اس نے اپنے تئیں ہنگامی طور پر خون کے دھبے صاف کیے لیکن دن کی روشنی میں باریک بینی سے دیکھنے پر ان ہلکے دھبوں کی حقیقت واضح ہونے کا امکان کافی تھا جو اب پونچھنے کے بعد ہلکے کالے رنگ کے دھبوں میں ڈھل چکے تھے لیکن قاتل کو ان دھبوں سے کوئی خاص سروکار نہیں تھا۔ وہ گینڈے کے قیمتی سینگوں کا بلا شرکت غیرے مالک بننے کے جنون میں انتہائی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کرچکا تھا۔
ایک بار پھر اس نے گرم سوئٹر سے اپنے ہاتھ صاف کیے اور پھر گرم سوئٹر کا بنڈل بناکر اسے دور سمندر میں پھینک دیا پھر اس کے قدم کیبن کی طرف اٹھنے لگے۔
/…ء…/
صبح کا اجالا پھیل رہا تھا‘ نثار اور خلیل اٹھ کر انجن میں جُت گئے‘ کیبن کے اندر برتھ پر لیٹے ہوئے جمیل احمد کی آنکھ کھل گئی۔ موسیٰ‘ کامران اور اصغر اپنے اپنے برتھ پر سو رہے تھے جبکہ طارق والا برتھ خالی تھا۔ جمیل احمد نے کیبن میں طارق کی عدم موجودگی کا اثر نہ لیا وہ خیال کررہا تھا کہ طارق باہر کسی معمول کی ضروریات کے لیے گیا ہوگا۔ تھوڑی دیر بعد باقی تینوں بھی جاگ گئے اور آپس میں معمول کی گفتگو کرنے کے بعد چاروں کیبن سے باہر نکل گئے۔
گینڈے کے سینگ سے بھرا ہوا بکس کیبن کے اندر موجود تھا۔ کیبن سے باہر نکلنے کے بعد جمیل احمد نے کیبن کا دروازہ لاک کردیا۔ وقت رفتہ رفتہ بیت رہا تھا‘ سورج مشرق کی سمت طلوع ہوچکا تھا لیکن طارق باہر بھی بڑی دیر کے بعد کہیں نظر نہیں آرہا تھا۔ سمندر کے بیچوں بیچ گہرے پانیوں میں لنگر انداز ایک درمیانے سے لانچ میں کسی کا اس طرح کافی دیر غائب رہنا اچنبھے کی بات تھی۔
نثار اور خلیل انجن میں سر کھپانے میں مصروف تھے۔ پہلے تو چاروں نے مل کر طارق کو پکارنا شروع کیا مگر کہیں سے کوئی جواب نہ آیا۔ حالات کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہوئے نثار اور خلیل انجن کی مرمت کا کام ادھورا چھوڑ کر عرشے پر آگئے پھر سب نے مل کر لانچ کا چپہ چپہ چھان مارا‘ باہر لانچ کے بیرونی سائیڈ میں جھانک کر دیکھا گیا مگر طارق کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔
’’نیند میں چلنے کی تو عادت نہیں ہے؟‘‘ نثار نے ساتھیوں سے معلوم کیا۔
’’نہیں… میں طارق کے زیادہ قریب رہا ہوں‘ ایسی کوئی عادت اسے لاحق نہیں ہے۔‘‘ موسیٰ نے جواب دیا۔
’’تو پھر کہاں چلا گیا یہ لڑکا؟‘‘ نثار نے ایک دفعہ پھر سوال کیا۔
’’یہ سوال تو سب کے ذہن میں ہلچل مچارہا ہے۔‘‘ موسیٰ نے کہا۔
’’اور اس کا جواب بھی ظاہر ہے‘ دل گرفتہ ہوگا۔‘‘ کامران نے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’لانچ میں موجود نہیں ہے تو ظاہر ہے سمندر میں گرگیا ہوگا۔‘‘ اصغر نے بے ساختہ کہا۔
چھ کے چھ افراد عرشے پر کھڑے طارق کی پُراسرار گمشدگی کے متعلق اپنی اپنی رائے دے رہے تھے اور منطقی لحاظ سے وہ تمام اس بات پر متفق تھے کہ طارق لانچ میں نہیں ہے تو ضرور اس کی لاش سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں کہیں موجود ہوگی
جمیل احمد نے سب کو کیبن میں آنے کے لیے کہا اور خود کیبن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور اپنی برتھ پر بیٹھ گیا جس کے نیچے گینڈے کے قیمتی سینگ سے بھرا ہوا بکس موجود تھا۔ باقی تمام افراد برتھ پر بیٹھنے لگے چند ثانیے کے لیے کیبن کے ماحول میں پُراسرار خاموشی چھائی رہی پھر جمیل احمد کی آواز نے سکوت توڑا۔
’’ایک درمیانے لانچ میں ہم نے طارق کو کافی ڈھونڈا مگر وہ کہیں بھی نظر نہ آیا حتیٰ کہ لانچ سے باہر بھی کھوجا‘ وہاں بھی ہمیں نہ ملا۔ ساتھیو! اس بت میں اب کوئی دقیقہ و فروگزاشت نہیں کہ وہ رات کے وقت سمندر میں گرچکاہے اور اس کی لاش سمندر کی تہہ میں کہیں موجود ہوگی۔ میں اسے ڈھونڈ کر نکالنا ہوگا‘ وہ ہمارا دوست و ساتھی تھا اس کی لاش کو سمندری حیات کا خوراک بننے کے لیے چھوڑنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔‘‘
’’نکالیں گے کیسے؟ اور نکالے گا کون؟ ہم تو ایسے کام نابلد اور ناتجربہ کار ہیں۔‘‘ کامران نے کہا اور پھر سب کی نگاہیں نثار اور خلیل پر ٹھہر گئیں۔
’’سمندر میں طارق کی لاش نکالنے کا میرا مطلب نثار‘ خلیل اور اصغر سے ہے‘ ہم تینوں سے نہیں۔‘‘ جمیل احمد نے بتایا۔
’’لاش کو سمندر میں ڈھونڈ نکالنے کے لیے ہمارے پاس کوئی انتظام بھی نہیں ہے۔ آکسیجن‘ ماسک وغیرہ ایسی کوئی شے نہیں ہے کہ ہم سمندر کی گہرائی میں اتر کر لاش کو ڈھونڈ کر نکال سکیں۔ یہاں پانی کافی گہرا ہے اور بغیر آکسیجن کے غوطہ لگا کر سانس روک کر سمندر کی تہہ میں پہنچ جانا اور پھر لاش کو تلاش کرنا انتہائی ناممکن ہے اور خونخوار شارک کی موجودگی کا خطرہ الگ سے ہے۔ لانچ کے انجن کو درست کرنے میں ایک گھنٹہ کا کام رہ گیا ہ‘ لانچ کا انجن ٹھیک ہونے تک آپ لوگ سطح‘ سمندر پر چاروں طرف دور بین کے ذریعے نگاہیں دوڑاتے رہیے‘ ہوسکتا ہے کہ لاش گہرائی سے ابھر کر کہیں سمندر کی سطح پر آجائے۔ مرنے کے بعد بعض اوقات لاش سمندر کی سطح پر مل گئی تو ٹھیک‘ دوسری صورت میں انجن ٹھیک ہونے کے بعد یہاں سے جانا ہوگا۔ ہمارا تجربہ یہی کہتا ہے۔‘‘ نثار نے تفصیل سے بتایا۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے ساتھی کی لاش کو ڈھونڈے بغیر بے فکری کے ساتھ یہاں سے نکل کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ ہم کیا جواب دیں گے طارق کے گھر والوں کو اور کس منہ سے ان کا سامنا کرنا کریں گے؟‘‘ اصغر نے مشتعل انداز میں کہا۔
’’یہاں ٹھہر کر بھی ہم کیا کرسکتے ہیں اور کوئی چارہ ہے آپ لوگوں کے پاس؟‘‘ خلیل نے اب کی بار کہا۔
’’جال وغیرہ آپ لوگوں کے پاس ہوگا؟ سمندر میں جال پھیر کر لاش تلاش کی جاسکتی ہے۔‘‘ موسیٰ نے کہا۔
’’نہیں‘ ہمارے پاس جال یا اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے۔ لائف بوٹ اور چند لائف جیکٹس کے علاوہ اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔‘‘ نثار نے نفی میں کہا۔
’’پھر کیا کریں؟‘‘ جمیل احمد نے سوچتے ہوئے سوال کیا۔
’’میں نے ایک مشورہ دیا ہے‘ اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا‘ آپ لوگوں کی مرضی پر منحصر ہے۔ ہم آپ لوگوں سے الگ تھلگ نہیں۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’مجھے یہ سب کچھ کسی ڈرائونے خواب کے مانند محسوس ہورہا ہے۔‘‘ کامران نے غیر ارادی طور پر کہا۔
’’چلو صحیح ہے‘ انجن ٹھیک ہونے تک ہم کھلے سمندر پر نظریں دوڑاتے رہیں گے اور پھر چلتے لانچ کے ذریعے آس پاس تلاش شروع کریں گے اور تلاش کا کام سہہ پہر تک جاری رہے گا۔ اللہ کرے کہ اس دورنیے میں طارق کی تلاش ہمیں ملے‘ اگر نہیں ملی تو یہاں سے روانہ ہوجائیں گے اور تو نہیںکم از کم ہمارے ضمیر تو مطمئن ہوسکیں گے۔‘‘ جمیل احمد نے حتمی لہجے میں کہا ‘ جس پر سب نے اتفاق کیا۔
نثار اور خلیل ایک دفعہ پھر انجن کی مرمت میں مصروف عمل ہوگئے اور باقی چاروں دور بین کے ذریعے پانی کی سطح پر طارق کی لاش کو کھوجنے میں مصروف ہوگئے۔کامران کی ایک ہاتھ میں چائے کا کپ اور دوسرے ہاتھ میں دوربین موجود تھا۔ وہ کبھی دوربین آنکھوں سے ہٹا کر چائے کی چسکی لیتا اور کبھی دوربین آنکھوں سے لگا کر دور دور تک دیکھتا رہتا۔ اس نے دوربین نظروں سے ہٹایا اور چائے کی چسکی لی۔
عین اس وقت اس کی نگاہیں عرشے پر ہلکے سیاہ دھبوں پر پڑگئیں‘ ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ آئل کے دھبے ہوں گے پھر غیر ارادی طور پر دوربین آنکھوں سے لگا کر دھبوں کو بغور دیکھنے لگا۔ دھبے یکدم بڑے ہوکر اس کی نگاہوں کے بالکل سامنے آگئے۔
’’دوربین سے نیچے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اچانک اصغر کی طنزیہ آواز اسے اپنے قریب سنائی دی۔ کامران نے فوراً نگاہوں سے دوربین ہٹاتے ہوئے شرمندگی سے کہا۔
’’بس… اچانک ہی ان دھبوں کو دوربین سے دیکھنے لگا۔‘‘ اسے اب اپنا یہ عمل بالکل بچگانہ اور مضحکہ خیز محسوس ہورہا تھا۔
’’آئل کے دھبوں میں طارق کی لاش نہیں ملے گی تجھے‘ سمندر پر نظر رکھو۔‘‘ ایک دفعہ پھر اصغر نے طنزیہ انداز میں کہا اور شرمندگی کا مارا کامران خاموش ہوگیا۔
وقت اپنی رفتار میں آگے کی طرف بڑھتا چلا جارہاتھا پھر لانچ کی فضائوں میں انجن کا شور سنائی دینے لگا۔ لانچ پر عجیب سی پُراسرار کیفیت کا سماں چھایا ہوا تھا۔ نئے سال کی آمد کا منفرد جشن پھر گینڈے کے سینگ سے پُر‘ فائبر بکس کا چانک ملنا اور پھر طارق کی پراسرار گمشدگی‘ وقت کا بدلتا مزاج انوکھا اور نہایت حیران کن تھا۔
لانچ دھیمی رفتار کے ساتھ پانی کی سطح پر حرکت کرنے لگی۔ سب کی نگاہیں متلاشی انداز میں نیلگوں سمندر پر جمی ہوئی تھیں۔ وقت تیزی کے ساتھ گزرتا چلا جارہا تھا۔ طارق کی تلاش کا یہ لہو نچوڑنے والا عمل سہ پہر تین بجے تک جاری رہا لیکن طارق کی لاش انہیں نہ ملی۔ لنچ کرنے کے بعد لانچ آگے کی طرف گامزن ہوئی‘ طارق کی گمشدگی کے باعث سوگواری کی کیفیت میں بھی انہیں بھوک کا احساس ہورہا تھا اور تیار شدہ کھانے بھی ان کے پاس محفوظ تھے جن سے انہوں نے لنچ کیا۔
وہ آج سے دو دن قبل ہاربر سے روانہ ہوئے تھے پھر تقریباً پچیس گھنٹے سفر طے کرکے سمندر کے بیچوں بیچ اس مقام پر پہنچ کر ٹھہر گئے تھے جہاں انہوں نے نئے سال کی آمد کا جشن منایا تھا اورجہاں چاروں اور تاحد نگاہ نیلگوں سمندر کا راج تھا۔ خشکی کا کہیں نام و نشان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آج انہیں بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے اتنا ہی طویل سفر کا سامنا تھا۔
لانچ پانی کی سطح کو چیرتی ہوئی آگے کی طرف رواں دواں تھی‘ جمیل احمد کیبن میں برتھ پر بیٹھا ہوا اسمارٹ فون سے چھیڑ خانی کررہا تھا۔ گینڈے کے قیمتی سینگ سے بھرا ہوا بکس بدستور جمیل احمد والے برتھ کے نیچے رکھا ہوا تھا۔ کامران اور اصغر بھی کیبن میں موجود تھے اور اپنے اپنے برتھ پر ٹیک لگائے خاموشی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ خلیل اسٹیئرنگ وہیل سنبھالے ہوئے تھا‘ نثارانجن آپریٹ کرنے میں مصروف تھاجبکہ موسیٰ عرشے پر اکیلا کھڑا سامنے کی طرف دیکھنے میں مگن تھا۔عین اس وقت فضا میں اڑتا ہوا ایک سفید رنگ کا آبی پرندہ سمندر میں غوطہ زن ہوا‘ چند سیکنڈ کے لیے وہ پانی کی سطح کے نیچے غائب ہوا اور پھر جب زن کے ساتھ پانی سے دوبارہ نمودار ہوا تو اس کی لمبی چونچ میں ایک مچھلی تڑپ رہی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنا پَر پھیلا کر محو پرواز ہوگیا۔ شکار کا یہ خوب صورت نظارہ موسیٰ کے دل کو لبھا گیا اور اعصاب پر چھائی ہوئی اداسی دور ہوگئی۔
سورج کسی سرخ ٹکیہ کی مانند بادلوں پر اپنی سرخی مائل روشنی بکھیرتا ہوا مغربی سمت جھکتا چلا جارہا تھا۔ کھلے سمندر میں ڈوبتے سورج کا یہ منظر بڑا دلکش اور مسرور کن تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج گویا نیلگوں سمندر میںاتر گیا اور مغربی افق پر محض سرخی مائل روشنی رہ گئی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب سرخی مائل روشنی معدوم ہوگئی اور دھیرے دھیرے غیر محسوس انداز میں رات کی کالی چادر نیلگوں سمندر پر پھیلنے لگی۔
لانچ بدستور اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی پھر ایسا وقت آیاکہ لانچ کا انجن خاموش ہوگیا اور فضامیں سکوت چھاگیا۔ انجن بند ہوتے ہی لانچ کی رفتار سست ہونے لگی۔
’’رات یہاں گزاریں گے‘ آرام کرنا ضروری ہے باقی سفر صبح دن کی روشنی میں طے کریں گے۔‘‘ سکوت کو چیرتی ہوئی نثار کی آواز سنائی دینے لگی۔
’’ٹھیک ہے بھئی۔‘‘ جمیل احمد نے جواباً زور سے کہا۔
’’ہم بھی تھک چکے ہیں‘ آرام کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اصغر نے بھی آمادگی کا اظہار کیا۔
باقی سفر نصف سے بھی زائد رہ گیا تھا لیکن مسلسل مصروفیات کی وجہ سے نثار اور خلیل دونوں جسمانی و ذہنی حوالے سے تھک چکے تھے اور باقی سواریوں کا حال بھی ان سے بہتر نہ تھا۔ بالآخر لانچ پانی کی سطح پر ٹھہر کر دائیں بائیں ڈولنے لگی۔ خلیل نے یکے بعد دیگرے آگے پیچھے دونوں لنگر ڈال دیئے اور لانچ ان کے قابو میں آگئی۔
لانچ کی روشنیاں جل رہی تھیں‘ موسم بدستور خوشگوار تھا۔ سب نے مل کر خاموشی اور بے دلی کے ساتھ رات کا کھانا کھایا اور کھانے کے بعد اپنے اپنے بستروں پر چلے گئے۔ نثار اور خلیل حسب معمول تہہ خانے میں اپنے اپنے بستروں پر دراز ہوگئے جبکہ باقی چاروں کیبن میں اپنے اپنے برتھ پر لیٹ گئے۔
/…ء…/
کھلے سمندر میں آج ان کی یہ تیسری رات تھی۔ سوگوار اور خاموش سی رات‘ پہلی رات کو دوران سفر ان کا رابطہ اپنے اپنے گھر والوں سے کافی دیر تک برقرار رہا تھا پھر رفتہ رفتہ سیل فونز کے سگنلز غائب ہونا شروع ہوگئے اور لانچ کا رابطہ باقی دنیا سے کٹ کے رہ گیا تھا۔ تاحال یہ باقی دنیا سے منقطع تھے جو اس بات کی غمازی بھی کررہا تھا کہ منزل ابھی کافی دور ہے۔
نثار اور خلیل تہہ خانے میں گہری نیند سورہے تھے۔ کیبن میں چاروں اپنے برتھ پر لیٹے ہوئے تھے‘ کامران کو بے چینی محسوس ہورہی تھی‘ اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ باقی تینوں ساتھی کمبل سر تا پا اوڑھے نیند کے مزے لوٹتے ہوئے نظر آرہے تھے‘ رات کا کھانا کھانے کے بعد کامران نے جمیل احمد سے کہا تھا۔
’’ہمارے پاس گینڈے کے سینگوں کی صورت میں کافی دولت ہے جو ہماری ہے‘ پھر ہم اتنے مغموم و پریشان کیوں ہیں؟‘‘
’’ہمارا ایک دوست‘ کالج فیلو اور ساتھی اندوہناک موت کا شکار ہوچکا ہے اس کی لاش تک ہمیں نہ ملی۔ یہ حادثے کے اثر کا نتیجہ ہے‘ میری چھٹی حس خطرے کا الارم بجارہی ہے جب تک ہم خشکی پر نہیں پہنچتے تب تک حادثات کا شکار ہوتے رہیں گے۔‘‘ آخر میں جمیل احمد نے اچانک پر خیال انداز میں کہا تھا۔
’’وہم ہے یہ تیرا‘ تم ہر بات کا اثر گہرائی سے لیتے ہو بہرحال یہ بتایئے‘ طارق کا حصہ اس کے گھر والوں کو ملے گا؟‘‘ کامران نے استفسار کیا تھا۔
’’یہ قبل از وقت بات ہے‘ خشکی پر پہنچنے کے بعد اس بارے میں سوچا جائے گا۔‘‘ جمیل احمد نے رکھائی سے جواب دیا۔
’’میں سمجھا نہیں؟‘‘ کامران نے کہا تھا۔
’’جائو‘ سوجائو‘ کل صبح سمجھ آئے گا۔‘‘ جمیل احمد نے شوخی سے کہا تھا اور وہ دونوں ہنستے ہوئے کیبن میں داخل ہوئے تھے۔
لیکن اب کامران کو نیند نہیں آرہی تھی‘ رات لمحہ بہ لمحہ بیت رہی تھی۔ ان گنت سوچوں میں مستغرق کامران کو احساس بھی نہ ہوا کہ آدھی رات کا سمے آن پہنچاہے پھر اس نے اپنے اسمارٹ فون کا بٹن پریس کیا اور اسکرین پر نگاہ ڈالی تو تلملا سا اٹھا‘ آدھی رات کا سمے تھا لیکن ابھی تک وہ جاگ رہا تھا۔ اس نے بے چینی کے عالم میں اپنے اوپر سے کمبل ہٹایا اور بیٹھ گیا پھر قریب رکھا ہوا گرم جیکٹ پہن کر بناء کوئی آہٹ پیدا کیے کیبن سے باہر نکل آیا۔
چاند آسمان کی وسعتوں میں ستاروں کے درمیان چمک رہا تھا۔ چاندنی بکھیرتی کھلی فضا میں آکر کامران کو بھرپور طمانیت کا احساس ہوا۔ عرشے پر چند ساعت ٹہلنے کے بعد وہ لانچ کے پچھلے حصے کی طرف چلا گیا۔ پانی کی پرسکون سطح پر ہر طرف بکھرتی ہوئی چاندنی عجیب سماں پیش کر رہی تھی۔
سامنے نیلے افق کی شفاف وسعتوں میں آبی پرندوں کا ایک سفید جھنڈ محو پرواز تھا۔ جھنڈ کا رخ لانچ کی طرف تھا‘ کامران دلچسپی کے ساتھ جھنڈ کو دیکھنے میں محو تھا۔ آبی پرندے ایک ترتیب کے ساتھ ایک مخصوص آواز نکلتے ہوئے بڑی شان کے ساتھ لانچ پر سے گزر گئے۔کامران کو یوں محسوس ہواجیسے چاندنی رات میں پریوں کی کوئی بارات گیت گاتی سر پر سے گزر گئی ہو۔ یہ سب کامران کو ایک حسین خواب کی مانند محسوس ہورہا تھا۔ اس کی نگاہیں ہنوز چاندنی بھری فضا میں محو پرواز آبی پرندوں کے سفید جھنڈ پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ اس کے اعصاب پر چھائی ہوئی کشیدگی قدرت کے ان حسین نظاروں کے سامنے ڈھیر ہورہی تھی۔ کامران کو لمحہ بہ لمحہ سکون کا احساس ہورہا تھا ان خوابیدہ نظاروں کے باعث کامران کی روح ترو تازہ ہورہی تھی۔ آبی پرندوں کا سفید جھنڈ کامران کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
وقت لمحہ بہ لمحہ گزرتا چلا جارہا تھا‘ کامران چوبی کرسی پر بیٹھ گیا جس کے سامنے چوبی اسٹیئرنگ وہیل نصب تھا لیکن کامران کا رخ اسٹیرنگ وہیل کے مخالف سمت میں تھا کیونکہ سامنے اور سیدھے بیٹھنے سے کیبن آڑے آتی تھی اور منظر درست طور پر دکھائی نہیں دیتے تھے اور وہ چوبی کرسی کو گھسیٹ سکتا تھا اور نہ ہلا سکتا تھا کیونکہ وہ چوبی فرش پر نصب تھی۔ اس لیے وہ چوبی کرسی کے ٹیک پر بازو رکھے اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا اس کی نگاہیں کبھی کھلے سمندر پر اور کبھی نیلے افق پر ٹھہر رہی تھیں پھر دفعتاً کامران کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس سے قبل کہ وہ گردن گھما کر پیچھے کی جانب دیکھتا عین اس وقت کوئی بھاری اور ٹھوس شے اس کے سر سے آٹکرائی‘ اس کے سر سے خون کا فوارہ ابل پڑا‘ اس کی نگاہوں کے سامنے تاریکی چھانے لگی۔ ایک بے تاب درد نے اس کی جان کو جسم سے کھینچنا شروع کیا‘ کامران تڑپنے لگا وہ چوبی کرسی پر ایک جانب ڈھلک سا گیا پھر جلد اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی بھرپور وار کی وجہ سے کامران کو آواز نکالنے کا موقع نہیں ملا تھا اور وہ موقع پر دم توڑ گیا۔
ڈھاٹا بندھ قاتل چند لمحے تیز سانسیں لینے لگا پھر اپنے ہاتھ میں موجود موٹے آہنی سلاخ کو سمندر کی طرف اچھال دیا اور پھر ایک دبیز کپڑا اپنے لباس کے نیچے سے نکال کر کرسی پر موجود بے جان کامران کے کھلے ہوئے سر پر اچھی طرح باندھ لیا۔ دبیز کپڑا زخم سے رستے ہوئے لہو کو جذب کرنے لگا اور نیچے فرش پر خون کا ایک قطرہ بھی گرنے سے رہ گیا۔ چند ثانیے بعد قاتل نے آس پاس کا جائزہ لیا پھر کامران کی لاش کو دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر لانچ کے آخری کونے کی طرف بڑھنے لگا جب کونے پر پہنچا تو لاش کو اس طرح نیچے رکھ دیا کہ اس کی دونوں ٹانگیں نیچے پانی کی سطح کی طرف جھولنے لگیں اور باقی حصہ جو سر اور دھڑ پر مشتمل تھا‘ لانچ پر چت پڑا ہوا تھا پھر اس نے کامران کی لاش کے دونوں بازو پکڑ کر اسے بڑی آہستگی کے ساتھ سمندر میں اتارنا شروع کیا۔چند ثانیوں بعد لاش بغیر کسی چھپاک کی آواز پیدا کیے‘ سمندر برد ہوگئی۔ قاتل نے کامران کی لاش کو جب پانی میں اوجھل ہوتے دیکھا تو سکون کا سانس لیا۔ لاش سمندر میں اتارنے کی وجہ سے پانی کی سطح پر قدرے ارتعاش سا پیدا ہوا تھا‘ جو اَب پرسکون ہورہا تھا۔
قاتل کے لباس پر کامران کے خون کے دھبے لگے تھے مگر سیاہ کلر ہونے کی وجہ سے خون کے دھبے کیموفلاج ہوکر غیر واضح ہوچکے تھے۔ ڈھاٹا بندھ قاتل نیچے غور کے ساتھ دیکھنے لگا مگر نیچے فرش پر کہیں بھی خون کا ایک قطرہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ دبیز اور موٹا کپڑا زخم پر ڈالنے کی وجہ سے ایک قطرہ بھی نیچے گرنے نہ پایا تھا۔ قاتل کا یہ دوسرا شکار تھا جو پہلے کی نسبت اسے آسان محسوس ہوا تھا۔ قاتل نے اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف اچھی طرح دیکھا جو صاف تھے پھر وہ بڑبڑاہٹ کے ساتھ آگے بڑھا۔
’’گینڈے کے نادر سینگوں پر صرف میرا حق ہے کسی اور کا نہیں۔‘‘
/…ء…/
موسیٰ کی آنکھ علی الصباح کھلی‘ جمیل اور اصغر سوئے ہوئے تھے جبکہ کامران کا برتھ خالی تھا۔ یہ دیکھ کر موسیٰ چونک سا گیا اگر حالات عام اور معمولی نوعیت کے ہوتے تو بستر کا خالی ہونا اچنبھے کی بات نہ تھی مگر طارق کی گمشدگی کے بعد یہ عام سی اور نظر انداز کرنے والی بات نہیں رہ گئی تھی۔ موسیٰ اپنے بستر سے اٹھا‘ جوتے پہنے اور دروازہ کھول کر کیبن سے باہر نکل آیا لیکن کامران کا کہیں نام و نشان نہ تھا پھر وہ لانچ میں گھوم کر کامران کو دھیمی آواز میں پکارنے لگا مگر کہیں سے بھی اسے جواب نہ ملا۔
اس نے کیبن کا دروازہ کھولا اور اندر وارد ہوتے ہی جمیل احمد اور اصغر کو کامران کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ جمیل احمد اور اصغر ہڑبڑا کر اٹھ گئے پھر پوری لانچ کھنگال ڈالی مگر کامران کا طارق کی طرح کہیں نام و نشان تک نہ ملا۔ ناکام تلاش کے بعد پانچوں عرشے پر کیبن کے ساتھ بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے والی میز اس وقت کھانے پینے کے لوازمات سے یکسر خالی تھی۔
’’یہ اتفاق ہر گز نہیں ہوسکتا‘ کل طارق آج کامران اور پتا نہیں کل کس کا نمبر نکل آئے۔ دونوں کی پراسرار گمشدگی کا تعلق گینڈے کے نایاب سینگوں سے ہے۔ قاتل گینڈے کے قیمتی سینگ کو اکیلا ہتھیانا چاہتا ہے۔ خطرے والی بات یہ ہے کہ وہ دوست اور ساتھی کے لبادے میں ہمارے درمیان موجود ہے‘ ہم پانچوں میں قاتل کوئی بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ جمیل احمد نے صورت حال کے پیش نظر اپنا نقطہ نظر پیش کیا‘ اسے اپنے لباس کے اندر نائن ایم ایم پستول کی موجودگی تحفظ کا احساس دلارہی تھی۔
’’ایک چھپے ہوئے انسان نما درندے سے چار انسانی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔‘‘ موسیٰ نے جھرجھری لیتے ہوئے کہا۔
’’ہاں‘ بالکل ایسا ہی ہے۔‘‘ جمیل احمد نے اثبات میں کہا۔
’’ہوسکتا ہے‘ وہ ایک نہ ہو بلکہ دو بندے ہوں۔‘‘ اصغر نے نثار اور خلیل پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ہاں جی‘ ایسا بھی ہوسکتا ہے مگر یہ قبل از وقت بات ہے‘ بہرحال یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دشمن ہمارے اندر موجود ہے۔‘‘ جمیل احمد نے کہا اس کی اور موسیٰ کی نگاہیں بھی ایک لمحے کے لیے لاشعوری طور پر نثار اور خلیل پر ٹھہر گئی تھیں۔ نثار اور خلیل دونوں‘ تینوں دوستوں کی باتوں اور نگاہوں کا مطلب سمجھ گئے۔
’’اس کا مطلب یہ ہے کہ تم لوگ طارق اور کامران کا قاتل ہم دونوں کو ٹھہرارہے ہو۔‘‘ نثار نے اصغر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے دھڑک انداز میں کہا۔
’’تم غلط سمجھ بیٹھے ہو نثار! میراکہنے کامقصد یہ تھا کہ ہم پانچوں میں دو بندے مل کر باقیوں کو ایک ایک کرکے موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ وہ دونوں ہماری صفوں میں موجود ہیں۔‘‘ اصغر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’تیرا اشارہ خاص طور پر ہماری طرف تھا۔‘‘ نثار نے یاد دلایا۔
’’اصغر اور موسیٰ بھی ہوسکتے ہیں‘ اکیلا موسیٰ یا اصغر بھی ہوسکتا ہے۔میں اور اصغر بھی ہوسکتے ہیں‘ اکیلا اصغر بھی ہوسکتا ہے جو قاتل ہے یا قاتل ہیں انہیں خوف نہیں۔ باقی جو بے قصور ہیں انہیں اپنی جان کا خدشہ لاحق ہے۔ وقت آنے پر قاتل خود بخود سامنے آجائے گا‘ آپ لوگ بحث کو اب یہاں ختم کردیں۔‘‘ جمیل احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا۔
’’اب کیا کریں؟‘‘ موسیٰ نے جمیل احمد سے استفسار کیا۔
’’یہاں سے جلد نکلنا ہوگا‘ میرے خیال میں آٹھ نو گھنٹے کا سفر ابھی باقی ہوگا اور اس دورانیے میں ہر ایک کو اپنا خیال خود رکنا ہوگا اور ایک دوسرے پر نظر رکھنا ہوگی کیونکہ دشمن دوست اور ساتھی کے لبادے میں ہماری صفوں میں موجود ہے۔ ظاہری دشمن کے مقابلے میں مخفی دشمن سے لڑنا انتہائی مشکل ہے۔ صورت حال کچھ ایسی ہی نازک اور حساس ہو تو انسان کو اپنے سائے سے بھی ڈر لگتا ہے‘ ہمارا مخفی دشمن آتشیں ہتھیار سے مسلح ہے۔‘ ‘ جمیل احمد نے آخر میں خبردار کرنے کے انداز میں کہا اور سب چونک پڑے۔
’’وہ کیسے؟ ہم لوگوں میں سے اس وقت صرف آپ کے پاس اسلحہ موجود ہے۔‘‘موسیٰ نے کہا۔
’’آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ میرے علاوہ طارق کے پاس بھی گن تھی‘ ہوسکتا ہے کہ قاتل نے طارق کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کی گن حاصل کی ہو۔‘‘ جمیل احمد نے جواباً کہا۔
’’چھپا ہوا دشمن اگر آتشیں ہتھیار سے لیس ہے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہوگی۔‘‘ خلیل نے کہا جواب تک خاموش تھا۔
’’ہمیں ایک دوسرے کی جامہ تلاشی لینا ہوگی۔‘‘ نثار نے مشورہ دیا۔
’’قاتل نے گن لانچ میں کہیں چھپا دی ہو پھر؟‘‘ اصغر نے نثار کا مشورہ اپنے سوال سے رد کیا۔
’’تلاشی لینے میں کیا حرج ہے اگر کسی سے گن برآمد نہیں ہوئی تو آسمان سر پر نہیں گرے گا ناں۔ جمیل احمد نے درست کہا‘ قاتل نے طارق کی گن ضرور حاصل کی ہوگی کیونکہ اسے گن کی اس وقت یقینا اشد ضرورت ہوگی۔ ابھی اور اسی وقت تلاشی شروع ہونی چاہیے جس کے پاس گن برآمد ہوا قاتل وہی ہے اور جمیل احمد کے پاس ایک سے زائد گن برآمد ہوگئی تو وہ قاتل ثابت ہوگا۔ مارِ آستین کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ طریقہ نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔‘‘ نثار منطقی انداز میں بولا۔
’’تم اپنی اوقات میں رہو ‘ اپنی بک بک بند کرو‘ میں نے تیری لانچ کرائے پر اس لیے لینے کو نہیں کہا کہ تم ہمیں لیکچر دینا شروع کرو۔ ہم پہلے ہی اپنے دو ساتھیوں کی پُراسرار گمشدگی کے باعث رنجیدہ ہیں اور اوپر سے تم ہمیں ایک دوسرے کی جامہ تلاشی کا مضحکہ خیز مشورہ دے کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کی کوشش کررہے ہو۔‘‘ اصغر بھڑکتا ہوا نثار سے مخاطب ہوا۔
’’سوائے قاتل کے ہم سب رنجیدہ حال ہیں اور ہماری جان خطرے میں ہے۔ پریشانی و خوف کی کیفیت سب پر یکساں چھائی ہوئی ہے‘ اسی نسبت کے تحت کوئی کسی سے بڑھ کر یا کمتر نہیں ہے جمیل احمد صاحب! آپ تلاشی کے لیے ساتھیوں کو کہہ دیں۔‘‘ نثار نے دلائل دیتے ہوئے آخر میں استدعا نہ انداز میں جمیل احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
نثار کی باتوں میں وزن تھا‘ ماحول میں ایک عجیب قسم سے تنائو کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ ہر ایک اپنی ذات میں تنہا تھا اور اپنا ہر دوسرا ساتھی قاتل نظر آرہا تھا‘ شک و خوف کا کچھ ایسا سماں بندھ چکا تھا جہاں بے اعتمادی کا راج تھا۔ خوشی اور مسرت کے حسین رنگوں سے مزین فضا کو لہو میں نہلانے کا سامان فراہم کرنے والے گینڈے کے قیمتی سینگ کیبن میں رکھے بکس میں موجود تھی۔ سب کی نگاہیں جمیل احمد پر جمی ہوئی تھیں‘ اصغر نے بولنے کے لیے لب کھولے مگر جمیل احمد نے انہیں فوراً ہاتھ کے اشارے سے منع کیا ۔ جامہ تلاشی کا عمل عجیب و غریب اور مضحکہ خیز ضرور تھا لیکن موجودہ حالات کا تقاضہ بھی یہی تھا۔
جمیل احمد نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی گن ہولسٹر سے نکالی اور اسے ہاتھ میں تیار رکھا۔
’’خلیل! آپ موسیٰ کی تلاشی لیں۔‘‘ جمیل احمد نے خلیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا اور خلیل اور موسیٰ دونوں اپنی نشست سے فوراً اٹھ گئے‘ خلیل موسیٰ کی جامہ تلاشی لینے لگا۔
’’یہ آپ کیا کررہے ہیں جمیل صاحب؟‘‘ اصغر نے اضطرابی انداز میں استفسار کیا۔
’’جو حالات کا تقاضہ ہے۔‘‘ جمیل احمد نے مختصر جواب دیا۔ یہ سنتے ہی اصغر کے چہرے پر بے زاری و ناراضگی کے تاثرات عیاں ہونے لگے اور وہ اپنی جگہ سے فوراً اٹھ گیا۔ اٹھتے ہی اس نے بے زاری کے عالم میں اپنا چہرہ دوسری طرف گھمایا اور گھومتے ہی چشم زدن میں اس نے اپنی جیکٹ کے نیچے سے نائن ایم ایم کا پستول نکالا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بڑی پھرتی کے ساتھ اپنے مدمقابل براجمان جمیل کے دائیں ہاتھ پر گولی داغ دی جس میں پستول موجود تھا‘ گولی لگتے ہی پستول جمیل احمد کے ہاتھ سے نکل کر دور جاگرا۔ جمیل احمد کو اصغر سے یہ توقع تو بالکل نہیں تھی اگر شک ہوتا تو اصغر کے اٹھنے پر مستعد ہوجاتا‘ وہ تو یہ سمجھا تھا کہ اصغر اپنی باتوں کو ٹھکرائے جانے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کررہا ہے جو اس کی طبیعت کا خاصہ ہے۔
’’حالات کا تقاضہ تھا کہ میں کھل کر سامنے آجائوں‘ جمیل احمد صاحب!‘‘ اصغر نے فائر کرتے ہی دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے خونخوار انداز میں جمیل احمد کو مخاطب کیا۔ اس کے پستول کا رخ جمیل احمد کی طرف تھا‘ اس کا یہ نیا روپ جمیل احمد کے لیے بالکل انوکھا تھا۔
’’ہاتھ اوپر اٹھائیں سب لوگ ورنہ…‘‘ اصغر نے خبردار کرتے ہوئے کہا۔ سب نے خاموشی کے ساتھ اپنے ہاتھ اوپر اٹھادیئے۔ جمیل احمد کے دایاں ہاتھ سے خون رس رہا تھا‘ گولی نے ہتھیلی کے گوشت کو چیر کے رکھ دیا تھا۔
’’تم دونوں اپنی جگہ پر بیٹھو۔‘‘ اصغر نے خلیل اور موسیٰ کو تحکمانہ انداز میں کہا جو چند ثانیے قبل جمیل احمد کے حکم پر ایک دوسرے کی جامہ تلاشی لینے کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ اب دونوں فوراً اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
جمیل احمد کے چہرے پر نفرت‘ حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات چھائے ہوئے تھے۔ باقی تینوں کے سر سے بلند ہاتھ خوف کے مارے لرز رہے تھے۔ چھپا ہوا سفاک قاتل کھل کر سامنے آگیا تھا اور یہ چاروں اب اس کے رحم و کرم پر تھے۔ اصغر پستول تانے میز کے گرد گھوم کر جمیل حمد کے پیچھے پہنچا اور پھر فرش پر پڑا ہوا جمیل احمد کا پستول اٹھایا‘ اسے ایک لمحے کے لیے بغور دیکھا جو ان لاک تھا پھر سیفٹی کیچ اوپر دبا کر لاک کرنے کے بعد پستول جیکٹ کے نیچے موجود ہولسٹر میں رکھ لیا۔
’’اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ طارق اور کامران کو میں نے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔‘‘ اصغر نے ٹہلتے ہوئے دوبارہ جمیل کے سامنے پہنچتے ہوئے بڑی بے فکری سے کہا۔
’’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم کسی موڑ پر اتنے کمینے اور نمک حرام نکلو گے۔‘‘ جمیل احمد نے اپنے ہونٹ چباتے ہوئے نفرت سے کہا۔
’’کیا ساری زندگی تیرے اور تیرے باپ کی غلامی کرتا رہوں؟ گینڈے کے سینگوں پر صرف اور صرف میرا حق ہے۔ بکس کو سب سے پہلے میں نے دیکھا اور پھر لوگوں کو بتایا۔ میرا حصہ دگنا کیونکہ میں نے بکس دریافت کیا تھا اور باقی کا حصہ ایک ایک گنا‘ ہوں بیٹھے بٹھائے کھلے سمندر میں جمیل احمد تم نے کیسا منصفانہ فیصلہ صادر کیا۔ واہ واہ… سب عارضی اور وقتی باتیں ہیں‘و قت آنے پر دولت کی چکا چوند روشنی انسان کو اندھا کردیتی ہے ۔ اپنے اور پرائے کی پہچان ختم کردیتی ہے اور میں نے تیرے والد احمد کے ساتھ اپنی زندگی کے دس سال بتائے ہیں ‘ میں جانتا ہوں کہ وہ کس قبیل کا آدمی ہے۔ انتہائی شاطر ذہن کا مالک حرص و لالچ کا پیکر ایک ایسا انسان ہے جو دوسروں کی تجوریوں سے اپنی تجوری بھرنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہ قیمتی سینگ جب آسانی کے ساتھ اس کے ہاتھ آجائیں گے تو یوں سمجھ لو بکرا شیر کے کچھار میں آگیا۔ صرف تیرا والد گینڈے کے سینگ فروخت نہیں کرسکتا‘ میرے بھی تعلقات کافی ایسے افراد سے ہیں جو گینڈے کے سینگ وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں ایک ایک ایک کرکے تم سب کو موت کے گھاٹ اتارتا چلا جائوں گا۔‘‘ اصغر نے انتہائی درشت لہجے میں کہا۔
’’مجھے تو پہلے ہی تم پر شک تھا‘ ہمیں مارنے کے بعد تم زندہ سلامت یہاں سے کبھی نہیں نکل سکو گے۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’او ملاح کے بچے‘ تیری وجہ سے میرا سارا منصوبہ چوپٹ ہوگیا اور مجھے وقت سے پہلے کھل کر سامنے آنا پڑا۔ میں خاموشی کے ساتھ کر ایک ایک کو قتل کرتا چلا جارہا تھا اگر تیری جامہ تلاشی کا مشورہ آڑے نہ آتا تو آج میں کسی طرح چھپکے سے لانچ کے انجن میں کسی قسم کی فنی خرابی ڈال کر منزل کی طرف جانے سے باز رکھتا اور پھر موقع ملتے ہی کسی کا سر طارق اور کامران کی طرح کسی بھاری شے سے کھول کر لاش سمندر میں پھینک دیتا۔ پستول کی صورت میں طاقت میرے ہاتھوں میں ہے اور میں بحری کام سے کچھ کچھ واقفیت بھی رکھتا ہوں پھر میرا یہاں گینڈے کے سینگ لے کر زندہ بچ کر نہ نکلنا عقل سے بعید والی بات ہوئی نا؟‘‘ اصغر نے نخوت سے کہا۔
’’قدرت کے کام ماورائے عقل ہوتے ہیں اصغر یہ نہ بھولو۔‘‘ نثار نے بے دھڑک کہا۔
’’اپنا منہ بند رکھو۔‘‘ اصغر نے یہ سنتے ہی اشتعال کے عالم میں نثار کی گدی پر زور دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
’’پہلے جو انجن میں خرابی ہوئی تھی وہ اتفاقی تھی پھر میں نے اسے آئندہ اپنے منصوبے میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا اس سے مجھے کافی وقت ملتا تھا کام کرنے کے لیے لیکن اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ اب میں اپنا کام براہ راست اور جلد شروع کروں۔‘‘ یہ کہتے ہی ایک دفعہ پھر اچانک اصغر نے ٹریگر پر انگلی کا دبائو بڑھادیا‘ فضا میں ایک دفعہ پھر گولی کی آواز گونج اٹھی۔ چاروں ہینڈز اپ پوزیشن میں کرسیوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے پھر دھڑادھڑا مزید تین فائر ہوئے اور موسیٰ کی چیخیں فضا میں بلند ہوگئیں۔ وہ جمیل احمد کے برابر میں بیٹھا ہوا تھا اور گولیوں کی بوچھاڑ نے اسے کرسی سمیت نیچے دھڑام سے گرادیا تھا۔ جمیل احمد اپنے قریب نیچے فرش پر لہو میں لت پت تڑپتے ہوئے موسیٰ کو دیکھ کر خوف کے مارے ہذیانی انداز مین چیخ کر بولا۔
’’ہم لوگوں کو مار کر تم میرے ابو کے قہر سے بچ نہ پائو گے۔‘‘
’’اوکھلی میں سر دیا تو موسلوں سے کیا ڈر‘ دنیا کو قائل کرنے کے لیے میرے پاس آئیڈیا اچھا ہے۔ ویسے بھی کسی کو کیا معلوم کہ کھلے سمندر میں ہوا کیا ہے۔ جب میں گینڈے کے سینگوں کی وجہ سے کروڑ پتی بن آئوں گا تو تیرے پیارے ابو جان میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکیں گے۔‘‘ اصغر نے خباثت بھرے لہجے میں کہا اس دورانیے میں موسیٰ ساکت ہوگیا اور اس کی بے نور آنکھیں ادھ کھلی ہوئی تھیں۔ پہلی گولی موسیٰ کے بازو میں پیوست ہوگئی تھی اور باقی تینوں گولیوں نے اس کا سینہ چیر کے رکھ دیا تھا۔
موسیٰ کی موت کے بعد تینوں بڑی شدو مد کے ساتھ کانپ رہے تھے۔موت‘ سفاک و بے رحم قاتل کی صورت میں ان کے سر پر کھڑی ہوئی۔ چاروں اور تاحد نگاہ کھلا سمندر پھیلا ہوا تھا اور کہیں سے بھی کوئی وسیلہ اور ذرائع کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے جس سے زندگی بچانے کی اندھی امیدیں باندھی جاسکتی ہوں۔ سطح آب پر دائیں بائیں ڈولتی لنگر انداز لانچ میں خونی کھیل جاری تھا۔
’’تم لوگوں کی مدد کے لیے کوئی مسیحا یہاں نہیں آئے گا۔‘‘ اصغر نے ان کی متلاسی نگاہوں کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا ۔
’’جو کہنا تھا میں نے تم لوگوں سے کہہ دیا اب میرے پاس فالتو وقت نہیں۔‘‘ اصغر نے سرد لہجے میں کہا پھر سرعت کے ساتھ اپنی جیکٹ سے جمیل احمد والا پستول برآمد کیا اور انگوٹھے کے ذریعے سیفٹی کیچ ہٹا کر رخ تینوں کی طرف کردیا۔ اب وہ دو خوفناک پستولوں کی زد میں تھے۔ وہ تینوں سے قدرے فاصلے پر کھڑا تھا پھر اس نے ایک پستول کا رخ جلیل کی طرف مور دیا اور فائر کھول دیا۔ لگاتار تین فائر کے بعد خلیل لڑھکتا ہوا نیچے ڈھیر ہوگیا اور خون میں لت پت کسی کٹے ہوئے بکرے کی طرح ہاتھ پیر چلانے لگا پھر جلد ساکت ہوگیا۔ تینوں گولیاں اس کی گرد میں لگی تھیں۔
’’جمیل احمد اٹھ جائو اور سمندر میں کود جائو۔‘‘ اصغر نے خونخوار انداز میں حکم دیا۔
’’کیوں؟‘‘ جمیل احمد کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا۔
’’کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم بالواسطہ میری گولیوں سے مرو‘ جب تم صرف نو سال کے بچے تھے میں نے تیرے والد کی ڈرائیوری شروع کی‘ دس سال کی قرابت نے شاید مجھے کچھ کمزور کردیا ہے۔ اٹھو اور سمندر میں کود جائو۔‘‘ آخر میں اصغرغراتے ہوئے کہا۔
’’دونوں صورتوں میں موت ہے۔‘‘ جمیل احمد بدستور اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا‘ بولا۔
’’اس کا یہ مطلب ہر گز مت لیں کہ حکم عدولی کی صورت میں‘میں تم پر گولی چلانے سے دریغ کروں گا۔ میں دس تک گنوں گا اگر تم نے سمندر میں چھلانگ نہ لگائی تو میں فائر کھول دوں گا۔‘‘ اصغر نے خبردار کرتے ہوئے کہا اور پھر گنتی شروع کی۔
’’ایک‘ دو…‘‘
جمیل احمد کے پاس اصغر کا سفاکانہ حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کے دونوں ہاتھ بدستور سر سے بلند تھے اور چہرے پر روہانسی چھائی ہوئی تھی۔ دل و دماغ عجیب کشمکش میں بُری طرح مبتلا تھے‘ اصغر گنتا چلا جارہا تھا۔
’’تین‘ چار…‘‘
انسان عموماً موت سے بھاگ کر زندگی کی طرف قدم اٹھاتا ہے لیکن یہاں حالات قطعاً اس کے برعکس تھے۔ جمیل احمد ایک بھیانک موت سے بچنے کے لیے دوسری اذیت ناک موت کو گلے لگانے کے لیے قدم آگے کی طرف اٹھا رہا تھا۔ آگے موت‘ پیچھے موت‘ وہ موت کے شکنجے میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ جمیل احمد لانچ کے کونے پر پہنچ کر رک گیا‘ اصغر کی بے رحمانہ گنتی بدستور جاری تھی۔
’’چھ… سات…‘‘
جمیل احمد کی نگاہیں سمندر پر مرتکز تھیں‘ سمندر یقینی موت کی صورت میں جیسے اسے نگلنے کے لیے بے تاب تھا۔ جمیل احمد غیر ارادی طور پر پیچھے گھوم گیا اور متوحش نگاہوں سے اصغر کی طرف دیکھنے لگا۔
’’نو… دس…‘‘
’’نمک حرام انسان! تجھے یہ مفت کا مال نصیب نہیں ہوگا۔‘‘ جمیل احمد نے یہ کہتے ہوئے اصغر کی طرف ایک زقند بھری۔ اصغر نے دھڑا دھڑ فائر شروع کیا‘ لپکتے جمیل احمد کا سینہ چھلنی ہوگیا۔ وہ اصغر سے چند قدم کے فاصلے پر اوندھے منہ گرگیا۔
’’آخر مالک کا بیٹا بھی اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا۔‘‘ اصغر نے ایک لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔
صرف چند منٹوں میں حالات یکسر بدل گئے تین جیتے جاگتے انسان اب لاش کی صورت میں نیچے پڑے ہوئے تھی۔ نثار اب خون آشام انسان کے رحم و کرم پر اکیلا لانچ میں موجود تھا۔ یکبارگی اس کا دل چاہا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دئے مگر پھر یہ سوچ کر ضبط کے بند کو قائم رکھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔
’’کیا سوچ رہے ہو‘ ان لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دو اور فرش کو صاف کرو۔‘‘ اصغر نے دہاڑتے ہوئے تحکمانہ انداز میں کہا۔ اس کے ہاتھوں میں موجود دونوں پستولوں کا رخ نثار کی طرف تھا۔
’’میرے ہاتھوں میں اتنی سکت نہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر برد کرسکوں۔‘‘ نثار نے معذوری کا اظہار کیا۔
’’کیا… تم شاید غلط سمجھ رہے ہو‘ یہ بات ذہن سے نکال دو کہ میں تیری مدد کے بغیر یہاں سے نہیں نکل سکتا۔ لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینکنا شروع کرو ورنہ میں تجھے لاش کی صورت میں بدل کر خود ان لاشوں کے ساتھ سمندر میں پھینک دوں گا۔‘‘ اصغر نے دونوں پستول نثار کی طرف لہراتے ہوئے سردلہجے میں کہا۔ نثار بادل نخواستہ خلیل کی لاش کی طرف قدم اٹھانے لگا جو اس کے قریب فرش پر پڑی ہوئی تھی پھر وہ ایک ایک کرکے تین لاشوں کو بڑی مشکل کے ساتھ سمندر برد کرتا چلا گیا۔ اپنے ساتھیوں کی لاشوں کو سمندر میں پھینکنے کے اذیت ناک کام کے بعد وہ گیلے پونچھے سے عرشے پر خون صاف کرنے لگا۔
’’ہاتھ اوپر اٹھائو اور کھڑے رہو۔‘‘ خون صاف کرنے کے بعد اصغر نے کہا اور پھر قدم بڑھاتا ہوا نثار کے قریب آگیا۔ اس کے ہاتھ میں اب ایک پستول موجود تھا‘ دوسرا اس نے جیکٹ کے نیچے موجود ہولسٹر میں رکھ لیا تھا۔ قریب پہنچنے کے بعد وہ نثار کی جامہ تلاشی لینے لگا۔ پرس اور موبائل فون کے سوا اور کوئی اہم چیز برآمد نہیں ہوئی جنہیں اصغر نے سمندر کی طرف اچھال دیا۔
’’چلو کیبن میں۔‘‘ اصغر نے حکم دیا پھر اصغر پستول کی زد میں نثار کو لیے کیبن کے سامنے پہنچ گیا۔ اصغر پیچھے تھا اور نثار آگے‘ اصغر کے اشارے پر اس نے دونوں ہاتھ نیچے کیے اور کیبن کا دروازہ کھول دیا۔
’’بکس کو اٹھائو اور انجن روم میں رکھ دو۔‘‘ اصغر کیبن کے کھلے ہوئے دروازے کے سامنے کھڑا رہا اور نثار بکس اٹھانے کے لیے کیبن میں داخل ہوا‘ تھوڑی دیر کے بعد نثار بکس اپنے کندھے پر اٹھائے انجن روم میں داخل ہوا۔ اصغر‘ نثار سے مناسب فاصلہ رکھ رہا تھا‘ بکس کو انجن روم میں رکھنے کے بعد اصغرنے نثار کو لنگر اٹھانے اور یہاں سے نکلنے کا حکم دیا۔ یرغمالی نثار نے تھوڑی دیر بعد لنگر اٹھائے اور انجن اسٹارٹ کیا۔ سائلنسر سے دھواں چھوڑتا ہوا انجن کھانس کر اسٹارٹ ہوا‘ لانچ پانی کی سطح پر دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگا۔ چوبی اسٹیئرنگ وہیل کے سامنے کوئی نہ تھا‘ فی الوقت یہ کوئی اہم بات نہ تھی پھر نثار نے اصغر کے حکم پر لانچ کا اسٹیئرنگ وہیل سنبھالا۔ اصغر نے اس کے عقب میں ایک کرسی سنبھالی ہوئی تھی اور اس کے پستول کی نال بدستور نثار کی طرف تھی۔
’’مجھے پیاس لگی ہے۔‘‘ نثار نے کہا۔ اصغر نے قدرے نیچے جھک کر لانچ کے چوبی فرش پر مشروبات کے کارٹن سے ایک منرل واٹر کی بوتل نکال کر نثار کی طرف اچھال دی جسے نثار نے پکڑلیا اور ڈھکنا کھولنا کر غٹاغٹ پانی پینے لگا۔ مشروبات کا کارٹن اور کرسی جس پر اس وقت اصغر بیٹھا ہوا تھا‘ کچھ دیر پہلے نثار، اصغر کے حکم پر عرشے سے لے آیا تھا۔
لانچ منزل کی طرف رواں دواں تھی‘ ربن کے ذریعے ایک دوربین اصغر کے گلے سے لٹک رہی تھی۔ جس کے ذریعے کبھی کبھار اصغر کھلے سمندر کا چاروں طرف جائزہ لیتا‘ دونوں کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
’’ہمیں فی الحال تین چار گھنٹے تک جنوب مشرق کی طرف سفر کرنا ہے اور تم ابھی سے لانچ کا رخ صرف مشرق کی سیدھ میں کر بیٹھے ہو۔‘‘ اصغر نے اسٹیئرنگ وہیل کے پاس کمپاس پر نگاہ دوڑاتے ہوئے دہاڑ کر کہا۔
’’یہ کوئی سڑک نہیں جہاں معمولی ٹرن کہاں سے کہاں پہنچادیتا ہے۔ یہ کھلا سمندر ہے‘ معمولی موڑ کی یہاں کوئی حیثیت نہیں۔‘‘ نثار نے رکھائی سے جواب دیا۔
’’رسّی جل گئی پر بل نہ گیا‘ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ابھی تک تیری اکڑ مزاجی اپنی جگہ قائم ہے۔‘‘ اصغر نے سخت لہجے میں کہا‘ ایک دفعہ پھر دونوں حریفوں کے درمیان خاموشی کی فضا چھا گئی۔
’’میں تیرے ساتھ تعاون کررہا ہوں تُو بھی میرے ساتھ تعاون کر۔‘‘ نثار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے اچانک کہا۔
’’تم میرے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہو جبکہ میں بے وقوف نہیں کہ تیرے ساتھ تعاون کروں۔‘‘ اصغر نے نثار کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے چندلمحے توقف کے بعد کہا۔
’’بے شک تم مجھے یرغمال بنائے رکھو لیکن تعاون ضرور کرو۔ میرے اور تیرے سوا کسی کو کیا معلوم کہ کھلے سمندر میں کس نوعیت کا حادثہ پیش آیا ہے۔ مجھے اپنی جان سے سروکار ہے اور مال سے صرف دو سینگ کی مالیت کی رقم میرے لیے کافی ہے۔ تاحیات خاموش رہوں گا۔‘‘ نثار نے ایک دفعہ پھر معنی خیز انداز میں کہا اور اصغر اس کی بامعنی گفتگوکا مطلب سمجھ رہا تھا لیکن اسے نثار پر اعتبار نہیں تھا۔
’’نہیں… ہر گز نہیں‘ تم میرے ساتھ دھوکا کرو گے۔‘‘ اصغر نے نفی میں جواب دیا۔
’’جب تک تمہیں مجھ سے کسی خطرے کا گمان ہو‘ اس وقت تک مجھے اپنی پستول کی زد میں رکھنا۔‘‘ نثار نے کہا۔
’’جب تک تم زندہ ہو مجھے تم سے خطرہ لاحق ہے‘ میں اپنے خلاف کوئی ثبوت چھوڑنا نہیں چاہتا۔‘‘ اصغر نے سفاک انداز میں کہا۔
’’اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے مار دوگے؟‘‘ نثار نے استفہامیانہ لہجے میں کہا۔
’’تم بچے ہو نا میں بچہ ہوں‘ اب اپنی بک بک بند کرو۔‘‘ اصغر نے بھڑکتے ہوئے کہا اور پھر ایک دفعہ دونوں کے درمیان خاموشی کی فضا چھاگئی۔
لانچ کا زیر آب کا حصہ پانی کو چیر رہا تھا‘ لانچ غرغراتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ اسٹیئرنگ وہیل کو سنبھالے نثار سوچوں کے بحر میںمستغرق تھا‘ اسے اصغر کے خطرناک ارادے کا علم تو پہلے ہی سے ہوچکا تھا وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ اصغر کی ضرورت ہے اور جب اس کی ضرورت ختم ہوگی تو اصغر اسے اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح مار ڈالے گا اس نے اس امید کے تحت اصغر کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بات کی تھی کہ شاید اصغر اس کی باتوں سے متاثر ہوکر مان جائے۔ یہ حقیقت تھی کہ اسے اپنی زندگی عزیز تھی اور زندگی بچانے کے لیے وہ اصغر جیسے درندے سے بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار تھا مگر اصغرکے انکار نے آخری امید بھی ختم کر ڈالی تھی۔ وہ مایوسی کے عالم میں اسٹیئرنگ وہیل تھامے بیٹھا ہوا تھا‘ لانچ کا سفر جاری تھا۔
/…ء…/
نثار کو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وقت کو پَر لگ گئے ہوں وہ بڑی تیزی کے ساتھ اڑتا چلا جارہا تھا اور ہر گزرتے ہوئے لمحے کے ساتھ نثار موت کے قریب تر ہوتا چلا جارہا تھا۔ اصغر سے مقررہ وقت تک استعمال کرنا چاہتا تھا پھر اس کے بعد گولیوں سے بھون ڈالتا۔ اصغر دوربین کے ذریعے سامنے کنارے کو ڈھونڈ رہا تھا مگر کنارے کے کہیں آثار بھی نظر نہیں آرہا تھے۔
دوپہر کا وقت ہونے کو تھا‘ سورج نیلے افق کی وسعتوں میں پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ دھوپ کی تپش میں فرحت بخش تیزی آرہی تھی جو کھلے سمندر میں سردیوں کے موسم میں کسی نعمت سے کم نہیں تھی۔
’’ابھی تک خشکی کے آثار کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟‘‘ اصغر نے دوربین نگاہوں سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
’’مزید دو تین گھنٹے کے سفر کے بعد نظر آئیں گے۔‘‘ نثار نے جواب دیا۔
’’کیا بک رہے ہو‘ پہلے کہا جارہا تھا کہ آٹھ نو گھنٹے کا سفر باقی ہے اس حساب سے ہمیں آئندہ دو گھنٹے سفر کے بعد خشکی پر ہونا چاہیے اور تم کہتے ہو کہ دو تین گھنٹے کے بعد بھی خشکی کے آثار نظر آئیں گے۔‘‘ اصغر نے گرجتے برستے ہوئے کہا۔
’’میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ کھلا سمندر ہے‘ کسی شہر کی سڑک نہیں کہ ہم کوئی سائن بورڈدیکھ کر بتاسکیں کہ ہم کس مقام پر ہیں اور اس جگہ سے کتنی دوری کے فاصلے پر واقع ہے۔ کھلے سمندر میں فاصلوں کے معاملے میں اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔‘‘ نثار کے یاد دلاتے ہوئے قدرے وضاحت سے کہا۔
’’اچھا… ابھی تک تیری ہٹ دھرمی برقرار ہے۔‘‘ اصغر نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہا۔
دھوپ کی تمازت سے چمکتی نیلی سطح آب کو چیرتی لانچ آگے کی جانب محو سفر تھی۔
’’یاد رہے لانچ کا رخ ہاربر کی سمت نہ رکھنا‘ ہاربر سے جنوب کی طرف کافی فاصلے پر رکھنا۔‘‘ اصغر نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ نثار نے کہا۔
دراصل اصغر اپنے لیے یہ بہتر تصور کررہا تھا کہ خشکی کے آثار شام ڈھلتے وقت تک نظر آنا چاہیے تھے۔ اسے جلدی نہ تھی لیکن اسے خدشہ تھا کہ کہیں نثار بے خبری میں اسے کہیں اور نہ پہنچادے۔ اس لیے وہ نثار پر برابر اپنا دبائو بڑھارہا تھا۔ شام ڈھلنے میں بھی تقریباً آدھا دن باقی تھا‘ اسے جلدی ہوئی تو لانچ کی اسپیڈ بڑھانے کا حکم دیتا۔
سردیوں کے مختصر دن تھے‘ سورج جلد غروب ہونے والا تھا‘ وقت اپنے دوش پر لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتا چلا جارہا تھا۔ دوپہر سے سہ پہر‘ سہ پہر سے شام ہوگئی اصغر کو دوربین سے اچانک انتہائی دوری کے فاصلے پر ریت کے ٹیلے اور درخت نظر آنا شروع ہوگئے۔
’’انجن کو بند کرو اور لنگر ڈالو۔‘‘ اصغر نے دوربین کے ذریعے خشکی کے آثار دیکھتے ہوئے نثار کو حکم دیا اور پھر فوراً اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا۔ نثار بوجھل ہاتھوں کے ساتھ اسٹیئرنگ وہیل چھوڑ کر کھڑا ہوگیا اور پھر پستول کی زد میں انجن روم کی طرف سست روی کے ساتھ قدم اٹھانے لگا تھوڑی دیر بعد انجن خاموش ہوگیا پھر چند ثانیے بعد اپنی رو میں آگے بڑھتی لانچ لنگر کے سہارے سطح آب پر ٹھہر گیا۔ دونوں کام نمٹانے کے بعد اصغر عرشے پر موجود میز کے اردگرد بچھی ہوئی کرسیوں کی طرف نثار کو پستول کی زد میں لیے پہنچا۔
’’بیٹھ جائو۔‘‘ اصغر نے ایک کرسی سنبھالتے ہوئے نثار کو حکم دیا‘ نثار کے دونوں ہاتھ سر سے بلند تھے وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
میز پر کھانے پینے کی اشیا موجود تھی‘ اصغر کو بھوک محسوس ہورہی تھی اس نے بسکٹ کا ڈبا جلدی سے کھولا اور کھانے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ نثار بھی بھوکا پیاسا ہوگا لیکن وہ نثار کو کھلا پلا کر توانا نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ ایک بھوکے پیاسے نثار کے مقابلے میں اسے پیٹ بھرے نثار سے زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ بہرحال اس نے دوپہر کے وقت نثار کے طلب کرنے پر اسے دو دفعہ پانی پلایا تھا لیکن اب وہ ایک قطرہ پانی بھی پلانے کے حق میں نہ تھا۔ پہلے اسے نثار کی زیادہ ضرورت تھی لیکن اب نہیں۔
’’بھوکے ہو؟‘‘ اصغر نے سوال کیا۔
’’نہیں۔‘‘ نثار نے نفی میں کہا۔
’’پیاسے ضرور ہوگے؟‘‘اصغر نے کہا۔
’’بالکل۔‘‘ نثار نے اثبات میں کہا۔
’’اچھا تو یوں کرتے ہیں کہ شام ڈھلتے ہی پھر کچھ دوری پر جانے کے بعد لانچ دوبارہ لنگر انداز کریں گے۔‘‘ اصغر نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔
’’تم نے میری بات نہیں مانی‘ مجھے مال سے ایک روپیہ بھی نہیں چاہیے‘ مجھے صرف اپنی زندگی چاہیے۔‘‘ نثار نے ایک دفعہ پھر کوشش شروع کی۔
’’میں اپنے خلاف کسی بھی قسم کا ثبوت چھوڑنا نہیں چاہتا‘ پھر تمہیں میں کیسے زندہ چھوڑ کر اپنے منصوبے میں شامل کرسکتا ہوں اور وہ بھی آخری وقتوں میں… نہیں میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔‘‘ اصغر نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
’’یقین نہیں ہے‘ میں قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ نثار نے زور دے کر کہا۔
’’میں نے کہا نا کہ نہیں۔‘‘ اصغر نے سرد لہجے میں کہا۔
’’کیوں؟‘‘ نا چاہتے ہوئے بھی نثار کی زبان سے نکلا۔
’’آج کل وعدے اور قسموں کا پاس رکھنا‘ بے وقوفی تصور کیا جاتا ہے۔ موقع پرستی کے اس دور میں لوگ موقع محل کی مناسبت سے وعدے بھی کرتے ہیں۔ طرح طرح کی قسمیں بھی اٹھاتے ہیں اور پھر آنے والے وقتوں میں اسی طرح موقع محل کی مناسبت سے قسمیں اور وعدے توڑنے سے پل بھرکے لیے بھی نہیں ہچکچاتے اور میں تو ویسے بھی ایک حریص قاتل ہوں۔ رہائی ملنے کے بعد تیرے خیالات بھی بدل سکتے ہیں۔‘‘ اصغر نے تفصیل سے بتایا۔
’’لیکن میں ایسا انسان نہیں ہوں۔‘‘ نثار نے وثوق سے کہا۔
’’ایسے اندازکی مصیبت میں پھنسا ہوا ہر انسان اسی طرح سوچتا ہے لیکن رہائی ملنے کے بعد جب اسے مکمل تحفظ کا احساس ہوتا ہے تو وہ منقسم المزاج بن جاتا ہے۔‘‘ اصغر نے کہا۔
’’لیکن تم جو…‘‘
’’بس‘ اب زیادہ بکواس میں سننا نہیں چاہتا۔‘‘ اصغر نے نثار کی بات کو کاٹتے ہوئے درشت لہجے میں کہا اور نثار سہم سا گیا پھر دونوں کے درمیان خاموشی کی فضا چھاگئی۔
شام ڈھلنے لگی‘ غروب آفتاب کا وقت آن پہنچا۔ مغرب کی سمت سورج کی سرخ ٹکیہ نیلے افق سے نیلگوں سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے تیار تھا پھر دیکھتے ہی دیکھتے سورج گویا سمندر میں غوطہ زن ہوگیا اور پھر لمحہ بہ لمحہ نیلگوں سمندر پر رات کی کالی چادر پھیلنا شروع ہوگئی۔ ایک دفعہ پھر اصغر کے حکم پر لنگر اٹھائے گئے۔ انجن کھانس کر اسٹارٹ ہوا اور لانچ آگے بڑھنے لگی‘ شہر کی روشنیاں دور شراروں کی مانند نظر آرہے تھے۔ نثار کا بوجھل دل چاہ رہا تھا کہ وہ کسی پرندے کی مانند اڑان بھر کر ان شراروں کے درمیان کہیں گم ہوجائے‘ ان چمکتی روشنیوں کے درمیان کہیں اس کا گھر تھا‘ گھر والے تھے‘ عزیز و اقارب تھے‘ اس کی پوری زندگی روشنیوں کے اس شہر میں گزر چکی تھی۔ وہ نثار کی جنم بھومی تھی۔ نثار حسرت بھری نگاہ سے روشنیوں کے وسیع جھرمٹ کو تکے جارہے تھی۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا گویا چمکتا دمکتا شہر اسے اپنی طرف بلارہا ہو۔ اس کی آنکھیں نمناک ہوگئیں‘ وہ بے اختیار و بے بس تھا اور اس بے بسی سے نجات کے لیے وہ موقع کی تاک میں تھا۔ اصغر ایسا محتاط تھا کہ وہ اپنے اور نثار کے درمیان ایک مناسب فاصلہ رکھتا تھا۔
’’انجن بند کرو اور لنگر ڈال دو۔‘‘ ایک دفعہ پھر اصغر کا مکروہ حکم اسے سنائی دینے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ اب یہ ان کا آخری پڑائو ہے اور موت سے اس کا فاصلہ کم رہ گیا ہے۔
’’لانچ کی لائٹس آن کرو؟‘‘ نثار نے کہا۔
’’نہیں‘ بالکل نہیں۔‘‘ اصغر نے نفی میں کہا۔ لانچ کی تمام روشنیاں بجھی ہوئی تھیں‘ انجن ایک دفعہ پھر کھانس کر خاموش ہوگیا پھر نثار نے لنگر گرانا شروع کیا جب اس نے لنگر سمندر میں پھینکا تو اصغر اس کے کچھ قریب سا آگیا۔ لانچ کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں لیکن رات قدرے روشن تھی اور ان دونوں کی آنکھیں بھی اندھیرے سے مانوس ہوچکی تھیں۔ دونوں کو اپنے قریب چیزیں نیم تاریکی میں قدرے واضح نظر آرہی تھیں۔ لانچ چوڑائی میں مختصر تھی نثار اور اصغر دونوں عرشے پر موجود تھے۔ نثار نے اپنے عقب میں اصغر کو اپنے قریب محسوس کیا تو گویا اس کے جسم میں سنسنی سی دوڑنے لگی مگر دوسرے لمحے اصغر چند قدم پیچھے کی طرف ایسے اٹھانے لگا جیسے اسے نثار کی اندرونی کیفیت کا علم ہوگیا ہو۔ اب دونوں کے درمیان فاصلہ تھا‘ موقع ہاتھ سے نکل گیا تھا‘ نثار کا دل شدت کے ساتھ دھڑکنے لگا۔
’’جانتے ہو اس وقت میں کیا سوچ رہا ہوں؟‘‘ اصغر نے کہا۔
’’ایک حریص قاتل مارنے اور بھاگنے کے سوا کیا سوچ سکتا ہے لیکن اصغر تمہیں اپنے کیے کی سزا ضرور کسی نہ کسی صورت ضرور ملے گی۔ کوئی نہ کوئی تجھے ضرور دبوچ لے گا‘ اکیلے دولت تم نہیں ہڑپ کرسکو گے۔‘‘نثار نے جواب دیا۔
’’ویسے بھی کھلے سمندر میں لانچ ڈوبنے کے حادثات پیش آتے رہتے ہیں‘ کسی کو کیا معلوم کہ اصل حقائق کیا تھے‘ ڈوبنے والی لانچ سے کوئی نہ کوئی معجزانہ طور پر زندہ سلامت بچ جاتا ہے۔ مجھے تو ویسے بھی تیرنا اچھی طرح سے آتا ہے‘ پھر مجھے کون دبوچ سکے گا؟‘‘ آخر میں اصغر نے نخوت سے کہا اور غیر ارادی طور پر ایک بار پھر نثار کے قریب آگیا۔ ذہنی طور پر تیار نثاریکلخت گھوما اور پھر اپنے سامنے ایستادہ پستول سے مسلح اصغر کو دونوں ہاتھوں سے زور کا دھکا دیا‘ اصغر اس اچانک ہونے والے حملے کے لیے تیار نہ تھا۔ سینے پر بھرپور دھکا کھانے کے بعد وہ پیچھے کی طرف لڑکھڑاتا ہوا لانچ کے کونے میں ڈھیر ہوگیا اور اس کے ایک پیر سے جوتا نکل گیا‘ وہ نیچے سمندر میں گرنے سے بال بال بچ گیا تھا اگر لڑکھڑاتے وقت جوتے کی ایڑی نیچے عرشے کی دراڑ میں اٹک نہ جاتی تو وہ یقینا سمندر میں گرجاتا۔ جوتے کی ایڑی دراڑ میں پھنس جانے کی وجہ سے اصغر کے لڑکھڑاتے جسم کو اچانک جھٹکا لگاتھا۔ جوتا پیر سے نکل گیا اور وہ لانچ کے اندر ڈھیر ہوگیا تھا لیکن گرتے ہی اصغر نے اپنے حواس پر سیکنڈوں میں قابو پایا۔ پستول اس کے ہاتھ میں موجود تھا‘ نثار ایک دفعہ پھر گھوما اور سمندر میں چھلانگ لگاتا لیکن اس سے پیش تر اصغر نے فائر کھول دیا‘ نثار کو شدید جھٹکا لگا۔ بائیں پہلو میں گویا انگارے سے بھرنے لگے لیکن پھر بھی وہ ہمت مجتمع کرتے ہوئے سمندر میں غوطہ زن ہوگیا۔ اصغر پستول سنبھالتا ہوا اٹھ گیا‘ گرنے کی وجہ سے اسے کہیں بھی چوٹ نہیں لگی تھی۔
/…ء…/
پانی گہرا تھا‘ چھلانگ لگانے کے بعد نثار پانی کی گہرائی میں اترتا چلا گیا۔ وہ دم خم رکھنے والا ماہر تیراک تھا لیکن پسلیوں میں پیوست ہونے والی گولی کا زخم اس وقت اس کی جسمانی طاقت اور اسٹیمنا کو لمحہ بہ لمحہ سلب کرتا چلا جارہا تھا۔ گھائو سے لہو بہہ کر پانی میں شامل ہورہا تھا اس کا سانس بے تحاشہ پھول رہا تھا اگر وہ زخمی نہ ہوتا تو غوطہ لگانے کے بعد سمندر کی تہہ میں کسی مچھلی کی مانند پانی کو تیزی سے چیرتا ہوا لانچ سے کافی دور سطح آب پر سانس لینے کے لیے نکل آتا اور پھر یہ سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گولیوں کے دائرے سے بحفاظت نکل جاتا لیکن اب اسے یہ سب کچھ انتہائی دشوار محسوس ہورہا تھا۔ اس کا سانس تیزی کے ساتھ پھول رہا تھا۔
اصغر کی چلائی ہوئی گولی اپنا کام کرگئی تھی اب اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہ تھا کہ وہ لانچ سے کم فاصلے پر پانی سے اپنا سر نکالتا۔ نثار نے اپنے ہاتھ پیرسست روی سے چلاتے ہوئے سمندر کی تہہ میں اوپر کی جانب تیرنا شروع کیا چند ثانیے بعد اس کا سر سطح آب سے نمودار ہوگیا۔نثار نے ایک لمبی سانس کھینچی پھر لانچ کی طرف دیکھنے لگا‘ لانچ سے لڑکھڑاتی ہوئی ٹارچ کی روشنی سطح آب پر گھوم رہی تھی۔ اصغر پاگلوں کی طرح اسے ٹارچ کی روشنی کی مدد سے کھلے سمندر میںڈھونڈ رہا تھا ‘ نثار کو لمحہ بہ لمحہ بڑھتی ہوئی نقاہت کا احساس ہورہا تھا۔ اسے پختہ یقین تھا کہ وہ بچ نہیں پائے گا‘ شدید زخمی حالت میں گہرے پانی میں دیر تک زندہ رہنا ناممکن تھا پھر نثار کا سر جلد ٹارچ کی سفید روشنی کے دائرے میں آگیا۔ ڈبڈباتی ہوئی آنکھیں چکا چوند ہوگئیں‘ اس سے قبل کہ لانچ سے برستی ہوئی گولیاں اس کا بھیجا اڑا دیتیں‘ اس نے بمشکل اپنے بھاری ہوتے ہونٹوں کو ہلاتے ہوئے زور سے کہا۔
’’تم نہیں بچ سکو گے اصغر! تیری طاقت قدرت کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہوجائے گی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی لانچ سے نثار کی طرف سے تڑتڑاہٹ کی آواز کے ساتھ شعلے لپکے‘ نثار کا سر بھری طرح ادھڑ گیا اور وہ پانی کی سطح سے غائب ہوگیا۔
’’مرتے مرتے بھی اپنی زہر آلود بات کہہ گیا۔‘‘ اصغر نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور پستول لاک کرکے جیکٹ کے نیچے ہولسٹر میں رکھنے کے بعد اپنا موبائل فون نکال کر دیکھنے لگا۔ دونوں سمز کے سگنل بدستور غائب تھے‘ وہ ہنوز فون نیٹ ورکس رینج سے باہر تھا پھر اس نے سر کھجاتے ہوئے موبائل فون آف کیا اور اسے جیب میں ڈالا پھر آکر کرسی پر بیٹھ گیا اور آئندہ آنے والے وقت کے بارے میں غورو خوص کرنے لگا۔
/…ء…/
اصغر تہہ خانے میں موجود تھا‘ وہ گینتی اور چھینی کے ذریعے لانچ میں شگاف ڈالنے میں کوشاں تھا جب چھینی پر گینتی کی زور دار ضرب ثابت ہوگئی‘ گینتی ایک طرف پھینک کر اصغر نے ٹارچ کی روشنی نیچے پھینکی موٹی اور لمبی چھینی پیوست ہونے کے باعث لمبی اور چوڑی دراڑ پڑچکی تھی جس میں سے پانی لانچ کے اندر داخل ہورہا تھا۔ یہ دیکھ کر اصغر تہ خانے سے سرعت کے ساتھ نکل آیا اور باہر ٹنگی ہوئی لائف جیکٹس میں سے ایک جیکٹ نکال کر گرم جیکٹ پر پہننے لگا۔
لائف بوٹ لانچ کے پہلو میں سطح آب پر موجود تھی‘ جو لانچ سے رسّی کے ذریعے بندھی ہوئی تھی اور اس میں ضرورت کی تمام اشیا موجود تھیں۔ لانچ میں سوراخ ڈالنے سے قبل اصغر نے اسے سمندر میں اتارا تھا اور اس وقت یہ تیار حالت میں سطح آب پر دائیں بائیں ڈول رہی تھی۔
لائف جیکٹ پہننے کے بعد اصغر تیزی کے ساتھ انجن روم میں داخل ہوگیا اور پھر گینڈے کے سینگ سے بھرا ہوا بکس اٹھا کر باہر نکل آیا۔ بکس کو لانچ کے کنارے پر رکھ دینے کے بعد قریب موجود تہہ کی ہوئی رسّی ٹھا کر بکس سے باندھنے لگا۔ شگاف سے پانی مسلسل لانچ کے اندر داخل ہورہا تھا۔ اصغر کو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے لانچ کا پچھلا حصہ دھیرے دھیرے زیر آب ہوتا چلا جارہا ہو۔ رسّی بکس کے کونے سے باندھ لینے کے بعد اصغر نے تیزی کے ساتھ گینڈے کے سینگ سے بھرے ہوئے بکس کو سطح آب پر لائف بوٹ کے قریب اتارنا شروع کیا۔ بکس‘ لائف بوٹ کے پاس سطح آب پر تیرنے لگا یہ دیکھتے ہی اصغر لانچ سے اتر کر لائف بوٹ میں جا پہنچا۔بکس والی رسّی کا سرا اس کے ہاتھ میں موجود تھا جسے اس نے لائف بوٹ کے پچھلے حصے سے باندھ لیا اورپھر لانچ والی رسّی بھی لائف بوٹ سے کھولی جس کے سہارے تھوڑی دیر قبل لائف بوٹ پانی کی سطح پر ٹھہری ہوئی تھی اس کے فوراً بعد اصغر نے چپو چلانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے لانچ سے دور ہوتا ہوا چلا گیا‘ بکس لائف بوٹ کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔
ہر سو نیم تاریکی اور خاموشی کا راج تھا۔ اصغر نیم تاریکی میں زیر آب جاتے ہوئے لانچ کی سمت دیکھنے لگا۔ لانچ کا پچھلا حصہ نیچے بیٹھتا ہوا چلا جارہا تھا اور عرشہ سطح آب پر قدرے اوپر اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا پھر وہ بکس کی طرف دیکھ کر خوشی سے بڑبڑانے لگا۔
’’اب کوئی نہیں رہ گیا حصہ مانگنے کے لیے‘ یہ سارے میرے ہیں۔‘‘ سب کچھ اس کی توقع کے مطابق ہورہا تھا وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت انسان تصور کررہا تھا۔ موسم کا مزاج بھی اس کے حق میں بہتر تھا نہ تلاطم خیزی اور نہ سمندر کو مست کرنے والے جھکڑ۔ اصغر یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ کنارہ یہاں سے کافی فاصلے پر ہے‘ لائف بوٹ جو بے انجن تھی اس کے ذریعے کنارے تک پہنچنے کے لیے پانچ چھ گھنٹے صرف ہوسکتے ہیں کیونکہ مسلسل اور سستائے بغیر چپو چلانا مشکل کام تھا کیونکہ چپو چلانے کے بعد سستانا ناگزیر تھا۔
شام کے وقت کنارہ دوربین کے ذریعے دکھائی دیا تھا بغیر دوربین کے کنارہ بالکل نظر نہیں آیا تھا۔ اب رات کا وقت تھا اور دوربین کا استعمال بے فائدہ تھا۔ حالات اصغر کے لیے بے جد موافق تھا جس طرف اصغر کا رخ تھا اسی طرف ہواکا بھی رخ تھا۔لائف بوٹ ہوا کے دوش پر اصغر کے چلاتے چپوئوں کی مدد سے بکس کو کھینچتی آگے کی طرف بڑھتی چلی جارہی تھی۔ اصغر نے ایک دفعہ پھر گردن گھما کر پیچھے ڈوبتی ہوئی لانچ کی طرف دیکھا‘ ستاروں کی روشنی میں لانچ کافی فاصلے پر نظر آرہی تھی جو پہلے کی نسبت اب بڑی تیزی کے ساتھ ڈوب رہی تھی بلکہ صرف اگلا حصہ کچھ باقی بچا ہوا تھا۔ اصغر نے اپنے ہاتھ روک دیئے اور ڈوبتی لانچ کا منظر دیکھنے میں منہمک ہوگیا۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پانی کی سطح پر لانچ کے آثار تک غائب ہوگئے۔ اصغر کا من خوش ہوگیا‘ وہ ایک دفعہ پھر چپو چلانے میں مصروف عمل ہوگیا۔
/…ء…/
اصغر چپو چلاتا ہوا لائف بوٹ کو آگے کی سمت دھکیل رہا تھا۔ لانچ ڈوبتے کا نظارہ دیکھنے کے بعد وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل چپو چلا رہا تھا۔ اس کے دونوں بازو چپو چلانے کی وجہ سے شل ہوچکے تھے۔ اس نے سستانے کے ارادے سے اپنے دونوں ہاتھ روک دیئے اور سامنے موجود اشیاء میں سے منرل واٹر کی ایک چھوٹی سی بوتل اٹھا کر اس کا ڈھکنا کھولا اور منہ سے لگایا۔ ابھی چند گھونٹ وہ اپنے خشک حلق میں اتار چکا تھا۔ پیاس ابھی باقی تھی عین اسی سمے ایک زوردار آواز کے ساتھ لائف بوٹ اصغر سمیت ہَوا میں اچھلی پھر بکس اور لائف بوٹ کے درمیان بندھی ہوئی رسّی ایک دم تن گئی اور دوسرے لمحے اچھلتی لائف بوٹ ایک جھٹکے کے ساتھ سطح آب پر تیرتے ہوئے بکس کی سمت بڑھنے لگی۔ اصغر اچھل کر دور سمندر میں جاگرا اور پھر کوئی شے پلک جھپکتے لائف بوٹ نیچے موجود گینڈے کے سینگ سے بھرے ہوئے بکس سے آٹکرائی‘ ایک دھماکا ہوا اس کے ساتھ لائف بوٹ کے ٹکڑے ٹکڑے بکھر گئے اور بکس کا ڈھکنا ٹوٹ کر دور جاگرا اور وہ پانی کی سطح پر الٹ گیا۔
گینڈے کے نایاب سینگ سانچوں سے نکل کر زیر آب ہونا شروع ہوگئے۔
اچانک ٹوٹ پڑنے والی افتاد کی وجہ سے اصغر کے حواس منتشر ہوگئے تھے اس کا ذہن کام نہیں کررہا تھا۔ وہ خالی نگاہوں سے لائف بوٹ کے تیرتے ٹکڑوں اور اشیاء کی طرف دیکھ رہا تھا‘ یہ سب کچھ چند سیکنڈوں میںو قوع پذیر ہوا تھا۔ لائف جیکٹ کی وجہ سے اصغر پانی کی سطح پر موجود تھا پھر اصغر کا ذہن تیزی کے ساتھ کام کرنے لگا۔ اسے خنکی کا احساس ہوگیا پھر وہ متوحش نگاہوں سے فائبر بکس کی سمت دیکھنے لگا پھر بڑی تیزی کے ساتھ بکس کی سمت تیرنے لگا۔ قریب پہنچتے ہی وہ بڑی بے صبری کے ساتھ بکس کو چیک کرنے لگا‘ بکس کا ڈھکنا ٹوٹ کر علیحدہ ہوچکا تھا اور الٹ جانے کی وجہ سے بکس بالکل خالی ہوچکا تھا۔ بکس کو خالی دیکھ کر اصغر کا سر گھومنے لگا‘ وہ حیران تھا کہ لائف بوٹ سے ایسی کون سی شے آٹکرائی تھی کہ وہ تمام کھیل اختتام کے قریب آکر غارت ہوگیا تھا۔ طیش کے ساتھ ساتھ اس کے اعصاب پر خوف کی ایک ہلکی سی لہر چھائی ہوئی تھی دفعتاً اصغر کو اپنے دائیں طرف تقریباً بیس پچیس گز کے فاصلے پر پانی میں قدرے ہلچل محسوس ہوئی وہ اس جانب متوجہ ہوا اور بغور دیکھنے لگا۔ کوئی شے پانی کی سطح پر ابھری ہوئی نظر آئی جو حرکت پذیر تھی اور اس کی ساختہ کسی اونٹ کے کوہان جیسی تھی وہ ملگجے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اصغر کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اصغر کا دل گویا کنپٹیوں میں آکر دھڑکنے لگا‘ اس کا حلق خشک ہونے لگا۔ اصغر کو شدید عدم تحفظ اور بے بسی کا احساس ہونے لگا۔ وہ اونٹ کے کوہان جیسی شے کسی شارک کا بالائی پر تھا پھر یہ تکونی پنکھ پانی کی سطح سے یکدم اوجھل ہوگیا۔ اصغر نے بے بسی و خوف کے عالم میں اس طرف دیکھنا شروع کیا جہاں چند منٹ قبل لانچ لنگر انداز تھی مگر وہاں اب کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا اچانک تبدیل ہونے والے حالات نے اس کی ذہنی رو بدل ڈالی تھی اب اسے لانچ گینڈے کے قیمتی سینگ سے کئی گنا قیمتی محسوس ہو رہی تھی لیکن لانچ کو ڈبو دینا اس کے بے داغ منصوبے کا ایک اہم جز تھا تاکہ باقی دنیا کے سامنے یہ جواز آسانی کے ساتھ پیش کرنا ممکن ہوسکے کہ لانچ آدھی رات کے وقت شگاف پڑنے کی وجہ سے ڈوب گئی۔
اس وقت سب گہری نیند سورہے تھے پھر اچانک کسی کو لانچ غرقِ آب ہوتی محسوس ہوئی افرا تفری مچ گئی‘ تمام لوگ اپنے بستر چھوڑ کر اس جگہ جانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئے جہاں لائف جیکٹس ٹنگے ہوئے تھے مگر لانچ کافی حد تک پانی کے سپرد ہوچکی تھی۔ اصغر کے علاوہ کوئی اور لائف جیکٹس تک رسائی حاصل نہ کرسکا۔ رات کا وقت تھا‘ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھی کہاں چلے گئے‘ کس حال میں ہیں اسے پتا نہیں۔ وہ معجزانہ طور پر سمندر سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا۔
اصغر کے بے داغ منصوبے کا آخری جز کچھ یوں تھا کہ ویران کنارے پر پہنچنے کے بعد وہ لائف بوٹ کو کہیں ضائع کرتا اور پھر سورج نکلتے ہی وہ کسی مناسب جگہ پر بکس کو زمین میں دفن کرنے کے بعد کنارے سے نکل جاتا پھر جب تین چار دن بعد حالات معمول کے مطابق آتے تو دوبارہ ویران کنارے پر آکر گینڈے کے قیمتی سینگ سے پُر بکس کو نکال کر لے جاتا۔
اب یہ بے داغ منصوبہ خود اصغر کے لیے یقینی موت بن چکا تھا وہ اپنے ہی دام میں آپھنسا تھا۔ صحیح و سالم لانچ میں اس نے خود شگاف ڈالا تھا اور یہ سوچ کر لانچ سے اتر کر لائف بوٹ میں سوار ہوگیا کہ مصیبت سے جان چھوٹ گئی مگر اب اسے شدت کے ساتھ احساس ہورہا تھا کہ اس نے خود مصیبت کو گلے سے لگایا ہے۔
/…ء…/
اصغر نے اپنی بکھری ہوئی قوت کو بمشکل تمام یکجا کیا اور تیزی کے ساتھ بکس سے خالی سانچے نکال کر اس میں سکڑ کر بیٹھ گیا۔ پستول اس نے جیکٹ کے نیچے سے نکال لیا اور پھر دو تین فائر اس طرف داغ دئے جہاں نیچے شارک کی موجودگی کا امکان تھا مگر کوئی ردعمل سامنے نہ آیا۔ پانی کی گہرائی زیادہ تھی اس لیے پانی کی تہہ میں موجود شارک کے آثار پانی کی سطح پر نظر آنا بے حد مشکل تھا۔ اصغر دھڑکتے دل اور خوف زدہ نگاہوں کے ساتھ چاروں طرف بغور دیکھنے لگا مگر اس کا کہیں نام و نشان تک نظر نہیں آرہا تھا جیسے وہ اصغر کو کھانے کا پروگرام ترک کرکے کہیں اور شکار کرنے چل نکلی ہو یا شاید وہ چھپ کر وبارہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہو۔
/…ء…/
وہ تقریباً سترہ اٹھارہ فٹ لمبی شارک تھی اور اس کا وزن ڈیڑھ ٹن سے زیادہ تھا۔ اس کا بالائی حصہ ہلکے کالے رنگ اور نچلا حصہ سفید تھا اور بالائی حصے پر جابجا سفید رنگ کے دھبے سے تھے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں بے چینی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ پہلا حملہ اس نے بھرپور انداز میں کیا تھا مگر اس کے باوجود وہ ناکام رہا تھا۔ لائف بوٹ میں موجود اصغر اس کے سفاک جبڑے کی گرفت میں نہیں آسکا تھا۔ اس نے زن کے ساتھ آکر اصغر کو دبوچنے کے لیے اپنا جبڑا کھولا تھا مگر اس سرکی ٹھوکر لائف بوٹ پر ہی پڑی اور اصغر ہوا میں اچھلتی لائف بوٹ سمیت اچھلا اور دور جاکر پانی میں گرا۔ اب ایک دفعہ پھر وہ اپنے شکار پر جھپٹنے کے لیے تیار تھی اس کی تیز اور مضطرب آنکھیں تیرتے ہوئے بکس کے نچلے حصے پر مرکوز تھیں جس میں اصغر موجود تھا۔
/…ء…/
سمندر کی تہہ میں جابجا گینڈے کے سینگ بکھرے ہوئے تھے اور اوپر پانی کی سطح پر فائبر بکس تیر رہا تھا جس میں خوفزدہ اور بے بس اصغر سکڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔ اصغر کے دونوں ہاتھوں میں پستول موجود تھے اور وہ چاروں سمت بے چینی کے ساتھ دیکھتا چلا جارہا تھا۔ فائبر ساختہ بکس ہوا کے رحم و کرم پر سطح آب پر تیرتا ہوا جارہا تھا مگر اس کی رفتار نہایت دھیمی تھی۔ یکلخت اصغر کے بائیں طرف ایک ہلچل برپا ہوئی‘ پانی کے چھینٹے کسی موسلادھار بارش کی طرح اصغر پر برسنے لگے۔ اصغر سنبھل کر فائر بھی نہ کرپایا کہ دوسرے لمحے بائیں کاندھے میں گویا بک وقت دونوں طرف کئی نوکدار اور تیز دھار خنجر پیوست ہوگئے اور پلک جھپکتے وہ ایک چوڑے جبڑے کی گرفت میں ہوتا ہوا سمندر کی تہہ میں پہنچ گیا۔ اس کا سانس پھولنے لگا۔ زخم سے خون رسنے لگا‘ اس کے رگ و پے میں درد کی ٹیسیں دوڑنے لگیں‘ وہ تڑپنے لگا‘ چیخنا چاہا تو چیخ نہ سکا۔ صرف بلبلا کر پانی کے بلبلے خارج کرنے لگا۔
/…ء…/
اصغر خونی شارک سمیت پانی کی تہہ میں موجود تھا۔ اس کے کاندھے کی ہڈی بری طرح چٹخ گئی تھی۔ وہ بے بسی کی منہ بولتی تصویر بنا ہوا تھا۔ یہ وہ انسان تھا جس نے دولت کے لالچ میں آکر اپنے تمام ساتھیوں کو ایک ایک کرکے بڑی آسانی کے ساتھ موت کی نیند سلادیا تھا۔ اس وقت وہ خود زیست و موت کی کشمکش میں مبتلا بے دست و پا تھا۔ اس کی طاقت کب کی ڈھیر ہوچکی تھی اسے اپنے منہ میں دبوچے دیوہیکل خونی شارک سرعت رفتاری کی ساتھ آگے بڑھتی چلی گئی پھر چشم زدن میں سطح آب پر نمودار ہوئی تقریباً دس فٹ کی بلندی تک فضا میں پانی کے چھینٹے اڑاتی ایک جھٹکے کے ساتھ اصغر کو دور پھینک کر ایک چھپاک کی آواز کے ساتھ غوطہ زن ہوگئی۔ اصغر چیختا ہوا ایک چھپاک کی آواز کے ساتھ پانی کی تہہ میں گرتا چلا گیا۔
/…ء…/
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ اس کے زندگی کے آخری لمحات ہیں جو انتہائی کرب و اذیت سے بیت رہے ہیں پھر اس کے ڈوبتے ہوئے ذہن میں نثار کی باتیں سرسرانے لگیں۔
’’تمہیں اپنے کیے کی سزا ضرور کسی نہ کسی صورت میں ملے گی۔ کوئی نہ کوئی تجھے ضرور دبوچ لے گا‘ تم اکیلے دولت ہڑپ نہیں کرسکوگے… تم نہیں بچ سکو گے اصغر… تیری طاقت قدرت کی طاقت کے سامنے ڈھیر ہوجائے گی۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close