Naeyufaq Aug-16

عقیدت کے پھول

راجہ بنارس

اماں بی کو حسب معمول دودھ میں خواب آور دوا پلا کر شب بخیر کہتی ہوئی جوں ہی میں بغلی دروازہ کھول کر اپنی خواب گاہ میں داخل ہوئی ایک سفید بلی نے میرے پلنگ سے چھلانگ لگائی اور بند کھڑکی سے سر ٹکرانے لگی، باہر نکلنے میں ناکام ہو کر اس نے سہمی سہمی نگاہوں سے چہرہ گھما کر میری جانب دیکھا اس کی روشن آنکھوں میں التجا اور ندامت کی جھلک بالکل نمایاں تھی، گو میں بلیوں، کتوں سے بے حد الرجک ہوں مگر نہ جانے اس بلی کی معذرت بھری نگاہوں نے مجھے کیوں اتنا متاثر کردیا تھا اس نے پورا جبڑا کھول کر کہا۔
’’میں آئوں۔‘‘
’’ہاں ہاں میڈم بڑے شوق سے تشریف لائیں۔‘‘ میں مسکراتی ہوئی اس کی جانب بڑھی پہلے تو وہ میٹھی نگاہوں سے دیکھتی رہی پھر معاً اوپر اچھلی اور میرے اوپر سے گزرتی ہوئی صوفے پر جا گری اور وہاں سے دوسری چھلانگ میں بغلی دروازے سے اماں بی کے کمرے میں چلی گئی، چونکہ اماں بی کے کمرے کی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند تھے اس لیے میں نے سوچا کہ بلی اماں بی کو ساری رات پریشان کرے گی جب میں اندر گئی تو اماں بی نے استفہامیہ نظروں سے میری جانب دیکھا۔
’’کوئی آوارہ بلی اندر آگئی ہے اماں بی۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’ابھی ابھی ادھر آئی ہے۔‘‘
’’نہیں تو۔‘‘ اماں بی نے کہا۔ ’’میں جاگ رہی ہوں ادھر تو کوئی بلی ولی نہیں آئی۔‘‘
’’آئی ہے اماں۔‘‘ میں نے جھک کر اِدھر اُدھر دیکھا مگر بلی کا نام و نشان تک نہ تھا حالانکہ باہر جانے کا کوئی راستہ بھی نہ تھا۔
’’جائو عطو۔‘‘ اماں بی نے کہا۔ ’’سو جائو بلی ہی ہے نا کوئی بھیڑیا تو نہیں۔‘‘
’’لیکن اماں وہ گئی کہاں؟‘‘ میں نے الجھ کر کہا۔
’’کہیں دبک گئی ہو گی تم پریشان کیوں ہوتی ہو۔‘‘ اماں بی نے کہا اور میں نہ چاہتے ہوئے واپس چل پڑی تھی کیونکہ میری وجہ سے اماں بی کے آرام میں خلل پڑ رہا تھا۔
بلی کوئی خطرناک درندہ نہ تھی پھر بھی اس کی پر اسرار آمد و رفت میرے ذہن میں چپک گئی تھی میں نے باتھ روم جا کر شب خوابی کا ڈھیلا ڈھالا لباس پہنا اور بیٹھ کر جوں ہی میں نے سائڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کی جانب دیکھا ٹیبل لیمپ کے نیچے بھورے رنگ کا لفافہ دبا ہوا تھا، لفافے کے اندر ایک انچ چوڑی اور تین انچ لمبی آرٹ پیپر کی سلپ تھی، جس پر سیاہ روشنائی سے نہایت ہی خوش خط تحریر تھی۔
’’میں قتل کیا گیا ہوں اور اب تمہاری خدمات حاصل کر رہا ہوں پانچ ہزار پیشگی معاوضہ پیش کر رہا ہوں قاتل کو تلاش کرو۔‘‘
چوہدری مہدی علی خان مقتول
سلپ کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر اپنے نادیدہ اور عجیب موکل کی تحریر پڑھنے لگی تب مجھے محسوس ہوا کہ میرا جسم پسینے کی نمی سے بھیگ رہا ہے میں کمزور دل اور بزدل لڑکی نہیں ہوں، اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں سفاک ترین مجرموں سے پالا پڑتا رہا تھا موت کئی بار ایک انچ دور سے واپس پلٹی تھی خوفناک حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا میرا پیشہ ہے مگر اس بے جان سی سلپ نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے تھے، جب میں قانون کے پیشے سے منسلک تھی تو عدالت میں میرے پاس ہر قسم کے موکل آیا کرتے تھے اور پھر ادھر سے مایوس ہو کر جب میں نے سراغ رساں ایجنسی قائم کی تو مظلوم روتے بسورتے آتے اور مراد سے جھولی بھر کر معاوضہ اور دعائیں دیتے واپس چلے جاتے تھے لیکن سب کے سب زندہ لوگ زندہ لوگوں کے ستائے ہوئے آیا کرتے تھے۔
چوہدری مہدی علی خان جیسا موکل یقیناً کبھی کسی وکیل اور سراغ رساں کے پاس نہ آیا ہوگا وہ قتل ہوچکا تھا اور اب قاتل کے گریبان تک ہاتھ لے جانے کے لیے میری خدمات مستعار لینا چاہتا تھا، میں نے پیشگی رقم کو اِدھر اُدھر تلاش کیا تکیے کے نیچے عام سے لفافے میں سو سو کے نئے نوٹ موجود تھے۔
’’ٹھیک ہے مہدی علی خان۔‘‘ میں نے طویل سانس لے کر زیر لب جیسے پاس کھڑی روح سے کہا۔
’’میں تمہاری پیش کش قبول کرتی ہوں، ایک انوکھا تجربہ ہی سہی۔‘‘ میں نے اٹھ کر سلپ اور نوٹوں کی گڈی پر پائوڈر چھڑکا اور خواب گاہ سے ملحق لیبارٹری میں جا کر فنگرز پرنٹس پرکھنے لگی، اس وقت ایک بار پھر میرے جسم سے خوف کی سرد سی لہر اٹھی تھی جب کسی بھی شے پر انگلی کا خفیف سا نشان بھی نہ دکھائی دیا تھا جیسے کاغذوں کو کسی انسانی ہاتھ نے چھوا تک نہ تھا لیبارٹری کی تمام تر آزمائشی کوششوں میں ناکام رہ کر میں نے تحریر سامنے رکھی اور نئے سرے سے سوچنا شروع کردیا میری خواب گاہ تک رسائی صرف تین اشخاص کی ممکن تھی اماں بی خالہ جیواں اور سرفراز، ان کے علاوہ کوئی چوتھا وجود میری اجازت اور اماں بی کی نگاہوں سے بچ کر اندر نہیں داخل ہو سکتا تھا خواب گاہ کا مقفل دروازہ شاذ و نادر ہی کھولا جاتا تھا چابی ہمیشہ میرے پرس میں رہتی تھی اور میں عموماً اماں بی کے کمرے سے ہو کر بغلی دروازے سے اندر آیا کرتی تھی۔
میں نے انٹر کام کا بٹن دبایا اور ریسیور اٹھا کر پہلے سرفراز سے رابطہ قائم کیا۔
’’اگر تم عطیہ ہو تو سن لو میں اس وقت گرم رضائی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ سرفراز بولنے لگا بے شک تم دینوی لحاظ سے میری مادام ہو،‘‘
’’بک چکے ہو یا کچھ اور بھی کہنا ہے۔‘‘ میں نے سرد آواز میں کہا۔
’’گرم رضائی کے اندر سے ہی جواب دو کہ آج تم میری خواب گاہ میں کس وقت آئے تھے؟‘‘
اس نے سرد آہ بھری اور منہ سے پچاک پچاک کی آواز نکال کر بولا۔
’’تمہاری مہکتی خواب گاہ میں داخل ہونے کا حق اپریل میں ملے گا۔‘‘
’’اس وقت بھی میں تمہیں مرغا بنا سکوں گی۔‘‘ میں نے مسکراہٹ دبا کر جواب دیا۔
’’میری عدم موجودگی میں جو موکل آیا تھا اس کا نام کیا تھا؟‘‘
’’گرائمر کے لحاظ سے وہ موکل نہیں بلکہ خوب صورت چہرے والی موکلہ تھی۔‘‘
’’کیا اس نے میرے لیے کوئی پیغام دیا تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ سرفراز نے بتایا۔ ’’بلکہ وہ میری گستاخ نگاہی سے گھبرا کر فوراً ہی واپس چلی گئی تھی۔‘‘
’’اچھا اب اسی کا تصور نگاہوں میں لے کر سوجائو۔‘‘میں نے کھڑی ہتھیلی مار کر سلسلہ منقطع کردیا اور اٹھ کر اماں بی کے کمرے میں چلی گئی۔
’’کیا بات ہے عطیہ، آج تم سوتی کیوں نہیں۔‘‘ مجھے دیکھ کر انہوں نے سرزنش کی۔
’’اماں کوئی ملاقاتی آیا تھا کیا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ بولیں۔ ’اوہ یاد آیا کسی نے ٹیلی فون پر پیغام دیا تھا۔‘‘ میرا دل اچھل کر حلق میں جیسے پھنس گیا ہاتھ پائوں جیسے سنسنانے لگے تھے۔
’’اس کی بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔‘‘ اماں بی کی آواز جیسے گہرے کنویں سے ابھر کر میری سماعت سے ٹکرائی۔
’’کوئی نک کٹا بول رہا تھا شاید۔‘‘
’’کیا کہہ رہا تھا۔‘‘
’’کہہ تو رہی ہوں اس کی کھرکھراتی آواز میرے پلے نہیں پڑی ہاں نام مہدی علی خان بتایا تھا۔‘‘
’’اوہ اچھا۔‘‘ میں نے واپس جاتے ہوئے کہا۔ ’’وہ مجھ سے مل چکا ہے۔‘‘
نیند پر لگا کر نہ صرف میری آنکھوں سے اڑ گئی تھی بلکہ خواب گاہ بھی میرے لیے مہدی علی خان کی قبر بن گئی تھی مجھے ہر شے سرگوشیاں کرتی محسوس ہو رہی تھی بستر کی ہر شکن میں جیسے مہدی علی خان کی روح موجود تھی میرے خوف کے پس منظر میں وہ سفید بلی تھی جو پر اسرار طور پر سامنے آکر غائب ہوگئی تھی پہلی بار مجھے اعتراف کرنا پڑا کہ مشرق کا انسان قانون کی اعلیٰ ڈگری رکھنے کے باوجود بعض اوقات کسی جاہل دیہاتی کی طرح وہم کا شکار ہوسکتا ہے جب رات کا سناتا گہرا ہونے لگا اور خوف و دہشت کی سرسراہٹیں میرے بدن پر رینگنے لگیں تو میں نے گھبرا کر اس شخص کا سہارا لینا چاہا جو میرے مذاق کا نشانہ بنا رہتا تھا اس رات سرفراز کی ذات یکایک محافظ بن کر ابھری تھی وہ مجھے ایسی چٹان کی طرح لگا تھا جس کی آڑ میں، میں ہر طوفان سے خوف کو محفوظ سمجھنے لگی تھی۔
’’ہیلو پارٹنر۔‘‘ انٹر کام پر اس کی آواز سن کر مجھے ایسے ہی ڈھارس ملی تھی جیسے گھپ اندھیرے میں کوئی کرن دکھائی دی ہو۔
’’لیبارٹری میں چلے آئو ہاں آج تمہیں گرم بستر ساتھ لانے کی بھی اجازت ہے بے حد ضروری کام ہے۔‘‘ اس سے قبل کہ سرفراز حسب عادت ہچر مچر کرتا میں نے سلسلہ توڑ دیا کیونکہ مجھے یقین تھا وہ میرے بلاوے پر آگ کے سات سمندرعبور کر کے بھی آئے گا ٹھیک تین منٹ بعد اس نے لیبارٹری کے دروازے پر دستک دی تھی میں نے چابی لگا کر بے آواز تالا کھول دیا اور وہ گرم شال میں لپٹا ہوا اندر آگیا۔
’’رضائی بھی لے آئے، میں نے خلاف معمول نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔
’’کرلو ظلم عطیہ بیگم۔‘‘ وہ ناک سڑوک کر بولا۔
’’خدا کی قسم ایک کا بدلہ دس سے نہ لیا تو سرفراز نام نہیں، تاریخ وار ڈائری لکھ رہا ہوں۔
’’فی الحال تم میرے بزنس پارٹنر ہو۔‘‘ میں نے خواب گاہ کی جانب چلتے ہوئے کہا۔ ’’بزنس کی خاطر اگر میں جہنم میں جائوں گی تو شرائط کی رو سے تم بھی میرے ساتھ جائو گے۔‘‘
’’ادھر تو جنت ہے۔‘‘ سرفراز نے میری خواب گاہ کی جانب اشارہ کیا۔ ’’جس میں داخلے کی شیطان کو اپریل سے پہلے اجازت نہیں۔‘‘
’’اگر تم مجھے پریشان کرتے رہے تو صرف اپریل فول ہی بن سکو گے۔‘‘ میں نے پلٹے بغیر جواب دیا۔ ’’آرام سے بیٹھو میں ادھر ہی کمبل لاتی ہوں۔‘‘ وہ کمبل اٹھائے جب میں لیبارٹری میں داخل ہوئی تو چیخ میرے حلق کو زخمی کرتی ہوئی کہیں اٹک گئی تھی اگر کمبل میری باہوں کے شکنجے میں نہ ہوتے تو بے جان ہاتھوں سے پھسل جاتے میں دہشت زدہ نگاہوں سے سفید بلی کو دیکھ رہی تھی جو طویل میز کے کونے پر بکل مارے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی۔
’’کیا ہوا عطیہ؟‘‘ مجھے خوفزدہ دیکھ کر سرفراز نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا۔
’’سرفراز کیا تمیں نہیں دکھائی دے رہا؟‘‘ میری آواز کو جیسے جاڑے کا بخار مار گیا تھا۔
’’کیا عطیہ بیگم۔‘‘
’’بلی… سفید بلی…!‘‘ میں نے اپنا چہرہ کمبل میں چھپا لیا اور چیخ پڑی۔
’’تمہارے قریب سفید بلی بیٹھی ہوئی ہے سرفراز۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ وہ ہنس پڑا۔ ’’لیکن اس میں خوف زدہ ہونے کی کیا بات ہے۔‘‘
’’یہ… یہ… پہلے میری خواب گاہ میں تھی۔‘‘ میں نے آہستہ آہستہ چہرہ اٹھایا۔
’’اور اب میری خواب گاہ کے باہر ٹہل رہی تھی۔‘‘ سرفراز بتانے لگا ’’اور میرے ساتھ یہاں آگئی ہے۔‘‘
’’اسے مارو سرفراز۔‘‘
’’کیوں عطیہ؟‘‘
’’یہ… یہ… بری روح ہے نکال دو اسے۔‘‘
سرفراز نے ہاتھ بڑھا کر بلی کو اٹھایا اور اپنی رانوں پر بٹھا لیا۔
’’روحیں اتنی فارغ نہیں ہوتیں عطیہ بیگم۔‘‘ اس نے بلی کے جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ ’’کہ بلیوں کے روپ میں بھٹکتی پھریں یہ تو کسی کی پالتو بلی ہے اپنے مالک کی تلاش میں ادھر نکل آئی ہوگی۔‘‘
پل بھر میں، بلی اور سرفراز کو دیکھتی رہی اور پھر سرفراز کے سامنے جس بزدلی اور توہم پرستی کا مظاہرہ کرچکی اس کا اثر زائل کرنے کی خاطر میں نے یہ تاثر دینے کا فوری فیصلہ کرلیا تھا کہ محض سرفراز کو آزمانے اور ڈرانے خاطر میں نے اداکاری کی تھی کمبل میز پر اچھالتے ہی میں نے ہنسنا شروع کردیا تھا لیکن سرفراز کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تھی وہ اسی انہماک کے عالم میں بلی کو سہلائے جا رہا تھا۔
’’ویسے تم بتدریج اچھے اور روایتی سراغ رساں بنتے جا رہے ہو۔‘‘ میں نے خوش دلی سے کہا۔
’’شکریہ۔‘‘ وہ ادھر دیکھے بغیر بولا۔
’’ویسے بحیثیت شوہر میں یکدم بہت اچھا ثابت ہوں گا۔‘‘
’’یہ آج کل تم پر شوہر کا بھوت کیوں سوار ہے۔‘‘
’’اس لیے کہ پرسوں آئینے میں ایک بال سفید دیکھا تھا۔‘‘
’’کیا تمہارے نزدیک زندگی کی معراج صرف شادی ہی ہے۔‘‘
’’یہ سوال اپنی اماں بی سے کرنا۔‘‘ اس نے بلی کو میز پر بٹھاتے ہوئے کہا۔
’’جو ہر وقت بیٹی کے فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے سرد آہیں بھرتی رہتی ہیں۔‘‘
’’اماں بی پچھلی صدی کی ایک روایتی ماں ہے۔‘‘ میں نے کرسی کھسکا کر بلی سے فاصلے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’ہم اس ماڈرن دور کے لوگ ہیں جن کے سامنے شادی سے کہیں زیادہ دوسرے مسائل موجود ہیں۔‘‘
’’کیا اس دور کے ماڈرن لوگ شادی کے بغیر ہی…!‘‘
’’شٹ اپ۔‘‘ میں نے شیشے کی نلکی اٹھا کر اسے ماری وہ جھکائی دے کر ہنسنے لگا۔
’’یار عطیہ، کمال کی لڑکی ہو… نہ یہ نہ وہ۔‘‘
’’بس میرے سامنے ایسی بکواس مت پھیلایا کرو۔‘‘
’’کام بھی تو نہیں۔‘‘ اس نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تجربے کی میز خالی ہے۔‘‘
تب میں نے سفید بلی سے لے کر اماں بی کے ٹیلی فونک پیغام تک تمام باتیں اسے بتادیں، وہ حسب عادت نگاہیں جمائے میری جانب ہی دیکھتا رہا تھا جب سے اس نے انکشاف کیا تھا کہ اسے میرے پھڑکتے لرزتے ہونٹ اس لمحے بے حد پیارے لگتے ہیں جب میں مسلسل باتیں کر رہی ہوتی ہوں تو اس کا یوں دیکھنا مجھے بوکھلا کر رکھ دیتا تھا۔
’’سنو عطیہ کریم۔‘‘ سرفراز مستحکم لہجے میں بولنے لگا، تم جانتی ہو کہ سرفراز احمق کا نام ہے وہ تمہارا ہر حکم ایسے ہی مانتا ہے جیسے غلام اپنے آقا کا حکم بے چون و چرا مانتے ہیں لہٰذا ہاتھ گھما کر ناک پکڑنے کی چنداں ضرورت نہیں بقول تمہارے ہم ماڈرن دور کے لوگ ہیں ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے مطلوبہ شخص کوائف نوٹ کرا دو اور حسب سابق میں اسے پاتال سے بھی گھسیٹ لائوں گا۔‘‘
’’ہم فرض کرتے ہیں کہ مہدی علی خان کی روح ہی ہماری موکلہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’ہم روح کو ہی بنیاد بنا کر سراغ کی عمارت اوپر اٹھائیں گے۔‘‘
’’یہ ہمارے کسی کرم فرما کا مذاق یا دشمن کا جال بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ سرفراز نے کہا۔
’’یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ چلتے وقت ہمیں اس امکان کی طرف بھی دھیان رکھنا ہوگا۔‘‘
’’پتا نہیں کیوں مجھے بار بار خیال آتا ہے کہ یہ مذاق نہیں ہے۔‘‘
’’یعنی واقعی روح یہاں آئی تھی؟‘‘ سرفراز نے قہقہہ لگایا۔
’’امریکا پلٹ لڑکی کو ایسے خیالات زیب نہیں دیتے عطیہ جی بہرکیف ہم کیس لے چکے ہیں اور کل سے کام شروع کردیں گے۔‘‘
صبح خلاف معمول میری آنکھ دیر سے کھلی تھی سر بوجھل تھا آنکھیں جل رہی تھی اور منہ کا ذائقہ کڑوا ہو رہا تھا اس کی وجہ یہ رہی تھی کہ رات بھر میں سکون کی نیند نہ سو سکی تھی باتھ روم سے فارغ ہو کر میں نے شہر میں پھیلے ہوئے اپنے نمائندوں سے سینئر نمائندہ روبینہ ملک کا انتخاب کیا اس لڑکی میں کچھ ایسی غیر معمولی خصوصیات تھیں کہ بعض اوقات مجھے خود سے بلنددکھائی دینے لگتی تھی۔
’’یس میڈم۔‘‘ میری آواز پہچان کر روبی نے مودب آواز میں جواب دیا۔ ’’اینی سروس؟‘‘
’’نوٹ کرو۔‘‘ میں نے پیار اور اپنائیت سے اسے تیاری کا وقت دیا۔
’’یس میڈم۔‘‘ کاغذ کی آواز کے ساتھ وہ بولی۔
’’چوہدری مہدی علی خان نامعلوم سن اور تاریخ کو قتل ہوا تھا۔ تم پہلے مقامی تھانے چیک کرو گی اگر نتیجہ مثبت نہ نکلے تو ضلع کی پولیس سے رابطہ قائم کرلینا مجھے مقتول کے بارے میں مکمل رپورٹ درکار ہے۔‘‘
’’او کے میڈم۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مقامی کارروائیوں کی رپورٹ آپ کو جلدی مل جائے‘‘
’’شکریہ پیاری لڑکی۔‘‘ میں نے پر ستائش آواز میں کہا اور سلسلہ توڑ دیا دن کے ایک بجے جب روبی نے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا تو میں ایک داخل دفتر شدہ کیس کی فائل کا از سر نو مطالعہ کر رہی تھی۔ کیونکہ میرا مفرور موکل چھ ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے واپس آگیا تھا سرفراز میرے سامنے بیٹھا موکل کی دوسری قسط کی رقم گن رہا تھا۔ ’’ہان ڈیئر اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے؟‘‘ میری بات سن کر روبی ثانیہ بھر خاموش رہ کر بتانے لگی۔
’’چھ جنوری سن اٹھاون کی درمیانی شب چوہدری مہدی علی خان اپنی خواب گاہ میں دم گھٹنے کی وجہ سے مرا تھا اور موت اتفاقیہ قرار دے کر دفنا دیا گیا تھا۔‘‘
’’بہت خوب روبی۔‘‘ میں نے تعریفی انداز اختیار کرتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی۔
’’اب مجھے مرحوم کی لائف ہسٹری چاہیے۔‘‘
روبی کے ساتھ سرفراز بھی سرگرم عمل تھا لیکن روبی نے ہمیشہ کی طرح سرفراز سے پہل کرتے ہوئے تحریری رپورٹ پیش کردی تھی۔ میں نے سرفراز سے بھی رپورٹ لے کر دونوں کا موازنہ کیا انیس بیس کے فرق کے ساتھ دونوں کی معلومات یکساں تھیں، رپورٹ کے مطابق چوہدری مہدی علی خان انڈو پاک کی تقسیم کے وقت حیدر آباد دکن سے یہاں آیا تھا چونکہ اس کے پاس کوئی کلیم نہ تھا اس لیے اس نے بشن داس کی کوٹھی میں رہائش اختیار کرلی، یہ کوٹھی ان دنوں بھی ویران ہے کیونکہ جسے بھی الاٹ ہوئی وہ اس میں رہنے کی جرأت نہ کرسکا، مرحوم کا بظاہر کوئی ذریعہ معاش نہ تھا مگر بڑے ٹھاٹ کی زندگی بسر کر رہا تھا شاہ خرچی کی وجہ سے اس کا حلقہ احباب بھی خاصا وسیع تھا اور مقامی انتظامیہ سے بھی اس کے مراسم گہرے تھے اس رات اس کی بیوی اسپتال میں زیر علاج تھی اس نے اپنے پیچھے بیوہ کے علاوہ کوئی اولاد نہیں چھوڑی کوشش کے باوجود اس کی بیوہ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا رپورٹ کے ساتھ چار اشخاص کے کوائف بھی درج تھے جو وقوعہ کی رات مرحوم کے ساتھ دیر تک شطرنج کھیلتے رہے تھے۔
رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر میں نے خود باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور اس وقت کے نائب تحصیلدار، منصب دار سے آغاز کیا اگر میں چاہتی تو اپنی ایجنسی کے حوالے سے منصب دار سے ملاقات کرسکتی تھی لیکن خطرہ تھا کہ وہ خول میں بند ہوجائے گا اس لیے میں نے صحافت کا روپ دھارا اور اس کے گھر جا کر محکمہ مال کی اصلاح سے متعلق انٹرویو کی درخواست پیش کردی، موصوف ایک کیس میں ملوث ہو کر سبکدوش کردیے گئے تھے اور سیمنٹ کی ایجنسی چلا رہے تھے دفتر، اسٹور میں ہارڈ بورڈ کی پارٹیشن کر کے بنایا گیا تھا اور اس وقت ٹرک سے سیمنٹ اتارا جا رہا تھا اس لیے دھواں نما گرد کیبن میں پھیلی ہوئی تھی بے شمار سوالوں اور باتوں کے دوران میں نے ناجائز الاٹمنٹ کی جانب باتوں کا رخ موڑا اور باتوں باتوں میں بشن داس کی کوٹھی کا بھی ذکر چھیڑ دیا۔
’’بشن داس کی کوٹھی سرے سے کسی کو الاٹ ہوئی ہی نہیں۔‘‘ منصب دار نے بتایا۔ ’’جس کا نام بھی لیا گیا وہی دست بردار ہوگیا تھا۔‘‘
’’دست برداری کی وجہ؟‘‘
’’کوٹھی کا آسیب۔‘‘ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
’’جب فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تو ارد گرد کے ہندو خاندان بشن داس کی پناہ میں چلے آئے تھے لیکن سب کو ایک کمرے میں جمع کر کے جلا دیا گیا تھا سنا ہے ان لوگوں میں ایک ایسی ہندو عورت بھی تھی جس کی گود میں ایک دن کا بچہ تھا ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ کوئی غیر مسلم عورت اگر زچگی میںمر جائے تو اس کی روح بھوت بن کر بچے کے لیے روتی رہتی ہے۔‘‘
’’کیا آپ بھی اس توہم پرستی پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ جب سانس لینے وہ خاموش ہوا تو میں نے پوچھا۔
’’پہلے تو پڑھے لکھے نوجوانوں کی طرح میں بھی ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔‘‘ اس نے چھت کوگھورتے ہوئے کہا۔
’’لیکن اب یقین رکھتا ہوں بات جب صرف سنی سنائی ہو تو یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب آنکھوں سے دیکھ لیا جائے اور کان سن لیں تو یقین کرنا ہی پڑتا ہے جب ہر ایک نے کوٹھی لینے سے انکار کردیا تو چوہدری مہدی علی خان نے رہائش اختیار کرلی، وہ ایک نڈر اور روشن خیال آدمی تھا جب ہماری علیک سلیک دوستی میں بدلی تو ہم چار پانچ دوست اکثر شطرنج کھیلنے جایا کرتے تھے۔‘‘ منصب دار بولتے بولتے خاموش ہوگیا اور پیپر ویٹ کو گھمانے لگا۔
’’تو کیا آپ نے وہاں کچھ دیکھا۔‘‘
’’جی ہاں دیکھا بھی اور بارہا سنا بھی۔‘‘ وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بتانے لگا۔
’’کوٹھی کے در و دیوار روتے تھے وہ بین اور سسکیاں کسی عورت کی ہوتی تھیں، ایک رات میں دوسرے سے واپس ذرا لیٹ آیا دوسرے دوست جا چکے تھے اور چوہدری کا پیغام تھا کہ رات ضرور آنا میں کھانا کھا کر اکیلا ہی ادھر چل پڑا۔ جب کوٹھی کے کمپائونڈ میں داخل ہوا تو اچانک میری سماعت سے سسکیاں، ٹکرائیں اور پھر سفید سایہ دار دیوار پھاند کر میرے سامنے آگیا۔
’’منصب دار نے جھرجھری لی اور طویل سی سانس لے کر بولنے لگا۔
’’میں نے جیب سے چاقو نکال لیا اور کمانی دار چاقو کی کڑکڑاہٹ سن کر سایہ جھکا اور دوسرے لمحے پھر دیوار پھاند کر غائب ہوگیا تھا۔
’’کیا آپ نے قدموں کی چاپ سنی تھی۔‘‘
’’شاید نہیں۔‘‘ منصب دار نے نفی میں گردن ہلائی۔
’’دراصل خوف کی وجہ سے مجھ پر نیم غشی سی طاری ہوگئی تھی اور اسی رات چوہدری اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا یقیناً اسی بھوت نے اسی کی گردن توڑ دی تھی۔‘‘
’’کیا اب بھی دیواریں روتی ہیں۔‘‘
’’میں تو وہ شہر ہی چھوڑ آیا ہوں۔‘‘ منصب دار نے بتایا۔
’’البتہ گزشتہ دنوں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی اس نے بتایا کہ کوٹھی کے نزدیک جو بھی جاتا ہے وہ کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے اسی کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ خانہ بدوش خاندان بارش سے بچنے کی خاطر کوٹھی کے برآمدے میں جا بیٹھا آدھی رات کو پہلے انہوں نے غراہٹیں سنی پھر پتھروں کی بارش برسنے لگی۔ جب وہ بھاگے تو ایک سفید پوش سایہ دور تک ان کا تعاقب کرتا رہا تھا۔‘‘
منصب دار کا ریکارڈ شدہ انٹرویو جب سرفراز نے سنا تو اس نے کہا۔ ’’میں وہاں رات بسر کروں گا۔‘‘
’’ابھی نہیں۔‘‘ میں نے اس کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا۔
’’میں مہدی علی خان کے نوکر سے مل لوں تو پھر پروگرام بنائیں گے میری اطلاع کے مطابق وہ نوکر حیدر آباد سے ساتھ ہی لایا تھا روبی کی کمانڈ میں فاروق اور نیاز احمد اسے تلاش کر رہے ہیں میرے خیال میں وہی اپنے مالک کی سابقہ زندگی پر روشنی ڈال سکتا ہے۔‘‘
سرفراز کی یہی عادت مجھے پسند نہیں تھی کہ وہ بڑے خوفناک طوفانوں کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے مگر میرے لیے وہ ریت کے گھروندے سے بھی نازک بن جاتا ہے، تنخواہ دار خدمت گار بھی بعض اوقات ضد کربیٹھتا ہے لیکن سرفراز نے کبھی چھوٹی سی بھی ضد نہیں کی میں جانتی ہوں وہ چٹان جیسا مضبوط عزم نوجوان ہے نہ جانے کیوں کبھی کبھی میرے اندر کی لڑکی چاہنے لگتی ہے سرفراز میرے ساتھ سفاکانہ رویہ اختیار کرے لیکن مجھے یقین ہے وہ میری محبت کو خانقاہ بنا کر مجاوری میں ہی دلاوری سمجھتا ہے اس کا یہ جھکائو ہی اس کی کامرانیوں اور عظمتوں کا مظہر ہے کہ کمان جھک کر ہی تیر کو ہدف کے سینے میں پیوست کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اگر سرفراز کی ذات کمان کی طرح لچک دار نہ ہوتی تو مجھ جیسی نک چڑھی اور خود غرض لڑکی اس کی ہم سفر بننے کا کبھی فیصلہ نہ کرتی سرفراز نے جھک کر میری بلندیوں کو زیر کرلیا تھا روبی نے اتنے بڑے شہر کی آبادی سے کرم دین کو تلاش کر کے یہ ثابت کردیا تھا کہ تلاش میں اگر سچائی ہو تو صحرا کی وسعتوں میں کھوئی ہوئی سوئی بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔
کرم دین دہکتی بھٹیوں کے قریب بان کی کھری چارپائی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا ہوا تھا میرے ساتھ روبی اور نیاز احمد تھے روبی ایک دن پہلے نیاز احمد کے ساتھ کرم دین کو چارہ ڈال گئی تھی۔ یہی وجہ رہی تھی کہ ہمیں دیکھ کر کرم دین بدبداتا ہوا چارپائی سے اٹھا تھا۔
’’آپ کا مال پرسوں تک تیار ہوجائے گا۔‘‘ اس نے ایک اینٹ اٹھا کر دوسری اینٹ پر بجائی۔ ’’ہماری اینٹ پیتل کی طرح بجتی ہے۔‘‘
’’تیس ہزار مجھے بھی تیار کردیں بابا جی۔‘‘ میں نے جھک کر اینٹ اٹھالی۔
’’لیکن کیریج کا انتظام بھی آپ ہی کریں گے۔‘‘
’’ہوجائے گا۔‘‘ کرم دین بولا۔ ’’کہاں مال لے جانا ہوگا؟‘‘
’’حسن ابدال کے قریب بشن داس کی کوٹھی تک۔‘‘ میں نے دیکھا کوٹھی کے نام پر اس کی توند کو بھرپور جھٹکا لگا تھا۔
’’میں نے کوٹھی خریدلی ہے حسن ابدال جا کر جس سے پوچھیں گے بتا دے گا۔‘‘
’’آپ بھی جانتے ہی ہوں گے۔‘‘ سرفراز نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور کرم دین ہانپ گیا۔
’’جج… جی… ہاں۔‘‘ خوف سے اس کی آنکھیں پھیل سی گئی تھیں۔
’’گزشتہ دنوں ایک ہفت روزہ میں بشن داس کی کوٹھی پر ایک فیچر شائع ہوا تھا۔ ‘‘ سرفراز نے دوسرا حملہ کیا۔
’’اس میں آپ کا نام موجودہ کاروبار اور تصویر بھی شامل تھی۔‘‘
’’چھوڑو بھئی ہم اینٹوں کے لیے آئے ہیں۔‘‘ میں نے لا تعلقی سے کہا۔
’’لوگ خوامخواہ افسانے تراشتے رہتے ہیں میں تو دو راتیں وہاں گزار چکی ہوں مجھے تو کوئی بھوت دکھائی نہیں دیا۔‘‘
’’تم اپنے ساتھ سارے خاندان کو مصیبت میں مبتلا کر کے بھی نہیں مانو گی۔‘‘ سرفراز ترش لہجے میں بولا۔
’’انگریزی تعلیم نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے جب سارے لوگ کہتے ہیں تو تمہیں اپنی ضد سے باز آجانا چاہیے تھا ادھر لندن میں شاید جن بھوت نہ ہوں گے مگر اِدھر ہیں۔‘‘
’’اچھا بابا، کان نہ کھائو۔‘‘ میں نے زچ ہو کر ہاتھ جوڑ دیے۔
’’جس روز میرے سامنے کوئی بھوت آیا تو یقین کرلوں گی مٹی کے بھائو اتنی اچھی جگہ ملی ہے اور تم لوگ خوامخواہ بھوت کے خوف سے مرے جا رہے ہو کیوں بابا جی بھوت کا وجود ہے۔‘‘
’’ہاں بیٹی۔‘‘ کرم دین غم آلود ماتھا پونچھ کر بولا۔
’’آپ کو وہ منحوس کوٹھی نہیں خریدنی چاہیے تھی۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ میں نے قہقہہ اچھالا۔ ’’آپ بھی مجھے نصیحت کریں گے۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’اس لیے کہ میں وہاں طویل مدت رہ چکا ہوں۔‘‘
’’کہاں حسن ابدال؟‘‘ روبی بول پڑی۔
’’بابا جی ہماری باجی کو سمجھائیے آپ نے یقیناً کوٹھی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہوگا۔‘‘
تب کرم دین نے منصب دار سے ملتا جلتا بیان دیا اور یہ بھی اعتراف کرلیا کہ اس رات وہ اسی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں موجود تھا۔
’’اب بولیے۔‘‘ روبی نے کامران لہجے میں کہا۔
’’بابا جی سنی سنائی باتیں نہیں بتا رہے بلکہ یہ چشم دید گواہ ہیں۔‘‘
’’لیکن میں تو قیمت ادا کر چکی ہوں۔‘‘ میں نے فکر مند انداز میں کہا۔
’’بابا جی کیا اس رات بھی آپ نے بھوت کی آواز سنی تھی۔‘‘
’’میں نے ہی نہیں بلکہ راجہ منصب دار تحصیل دار نے بھوت دیکھا تھا۔‘‘ کرم دین نے بتایا۔
’’پھر فی الحال میرا آرڈر کینسل کردیجیے میں نے کہا۔ ’’میں پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے کوٹھی فروخت کردوں گی۔‘‘
’’تمہاری طرح لوگ پاگل نہیں ہیں۔‘‘ سرفراز جلے کٹے لہجے میں بولا۔
’’اپنی جان کے صدقے رقم بھول جائو۔‘‘
’’بابا جی کیا یہ بھٹیاں آپ کو کلیم میں ملی تھیں۔‘‘ روبی نے پوچھا۔
’’نہیں بیٹے میں تو یہاں چوکیدار اور منشی ہوں۔‘‘ کرم دین نے جواب دیا ’’اگر مہدی علی خان کی بیوہ سے ملاقات ہوجائے تو شاید وہ موت کی اصل وجہ بتا سکے۔‘‘ میں نے کہا ’’میرا دل نہیں مانتا کہ موت میں کسی بھوت کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔‘‘
’’اسے میں نے بھی بہت تلاش کیا تھا۔‘‘ کرم دین نے بتایا۔
’’مگر وہ اسپتال سے ہی پر اسرار طورپر لا پتا ہوگئی تھی میں نے پولیس کی توجہ بھی اس کی طرف دلائی تھی مجھے شک تھا کہ وہ چوہدری کی زندگی میں کسی خاص مقصد کے تحت داخل ہوئی تھی ورنہ اس جیسی تعلیم یافتہ عورت ایک ان پڑھ بوڑھے کے ساتھ زندگی کبھی بسر نہ کرتی وہ بڑی کائیاں قسم کی عورت تھی میںجانتا ہوں کہ اسے کوئی بیماری نہ تھی وہ جائے واردات سے صرف غیر حاضری ثابت کرنا چاہتی تھی۔
’’ہاں اب اصل بات ہوئی نا۔‘‘ میں نے چہک کر کہا۔ ’’بوڑھے کو بیوی نے قتل کرا دیا ہوگا اور بدنام ہوگیا ہے چارہ بھوت میرا آرڈر نوٹ کرلیں بابا جی میں اب کسی بھوت ووت سے نہیں ڈرتی، میں نے ایک ہزار بطور بیعانہ کرم دین کو ادا کیے اور کچی رسید لے کر وہاں سے واپس آگئی کرم دین نے دو ہزار وصول کر کے ہمیں کامیابی کا راستہ دکھا دیا تھا اگلے دن روبی نے جو بیعانہ دیا تھا وہ بھی میری ہی جیب سے گیا تھا لیکن میں اپنے مردہ موکل سے پانچ ہزار بیعانہ وصول کرچکی تھی اسی سے گاڑی چل رہی تھی۔
روح کی علمیت کا مجھے اعتراف کرنا پڑا تھا کہ اس نے میرے کاروباری اصول کا خاص خیال رکھتے ہوئے پیشگی اتنی ہی قسط ادا کردی تھی جتنی میں، قتل کے کیس میں ہر موکل سے ایڈوانس لیا کرتی تھی چوہدری مرحوم کی بیوہ کے پیچھے میں نے اپنی ساری فورس لگا دی تھی اور خود بھی رات دن سرگرداں تھی مگر ہر طرف سے مایوس کن رپورٹ مل رہی تھی۔ اسپتال کے ریکارڈ سے صرف اتنا پتا چلا کہ ریحانہ بیگم زوجہ چوہدری مہدی علی خان خاوند کی موت کے چوتھے روز بیڈ چھوڑ کر چلی گئی اور اسپتال کے واجبات بھی ادا نہیں کیے تھے اس کے بعد کسی آنکھ نے ریحانہ بیگم کو نہ دیکھا تھا اندھیرے میں ہاتھ پائوں مارتے مارتے مایوس ہو کر میں نے حسب دستور چار دن بعد گول میز کانفرنس طلب کرلی۔
’’خواتین و حضرات۔‘‘ سرفراز نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔
’’میں خاتون محترم عطیہ کریم کی اجازت کے ساتھ درپیش مسئلے پر روشنی ڈال کر آپ سے گزارش کروں گا کہ حسب روایات اپنی اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔‘‘ سرفراز نے حرف اول سے آخر تک ممبران کو آگاہ کیا اور پھر میں نے اپنے استاد محترم جمال صاحب سے پوچھا۔
’’استاد محترم، ہم گھوم پھر کر نکتہ آغاز پر آجاتے ہیں اگر یہ صرف مذاق ہی ہوتا تو ہم نادم ہو کر خاموش ہوجاتے مگر ایسا نہیں ہے کسی نے مہدی علی خان کو قتل کیا ہے لیکن نہ تو ابھی تک وجہ قتل معلوم ہوچکی ہے اور نہ ہی کوئی اور ایسا سراغ ملا ہے مشتبہ افراد کو چیک کیا جا چکا ہے کسی پر بھی شک نہیں کیا جا سکا ہاں مقتول کی بیوی گم ہے اور وہی سر فہرست آتی ہے۔‘‘
’’کوئی کڑی میرے بچو۔‘‘ جمال صاحب نرم آواز میں بولے۔
’’پہلے وہ کڑی تلاش کرو جو ابھی تک گم ہے ہوسکتا ہے وہ مقتول کی بیوی ہی ہو یا کوئی ایسا آدمی جو مقتول کے حلقہ احباب میں شامل نہیں رہا۔‘‘
’’خاتون محترم۔‘‘ راحیل نے مودب آواز میں مجھے مخاطب کیا۔ ’’آخر یہ کیس مضحکہ خیز طور پر لیا ہی کیوں گیا ہے وہ شخص یا ذریعہ جس کی رسائی آپ کی خواب گاہ تک ہوسکتی ہے وہ اتنا بے بس نہیں ہوسکتا کہ ہماری خدمات کا محتاج ہو، یہ ہمارے کسی مخالف کی شاطرانہ چال بھی ہوسکتی ہے جو ہمارے قدموں کا رخ دوسری طرف پھیر کر کوئی خاص مقصد حاصل کرنا چاہ رہا ہوگا۔ میری معلومات کے مطابق مہدی علی خان کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے واقع ہوئی تھی اور اس رات وہ کوئلے کی انگیٹھی جلا کر سویا تھا اس وقت کی پولیس اس قدر احمق نہیں رہی ہوگی کہ قتل کے کیس کو بلا وجہ ہی حادثہ قرار دے دیتی۔‘‘
’’اب یہ سوال بعد از وقت ہے۔‘‘ سرفراز نے گھور کر راحیل کو دیکھا۔
’’میرے دوست شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ہماری ایجنسی خدمت خلق کے جذبے سے قطع نظر کاروباری بنیادوں پر قائم ہے ہم کوئی بھی کیس لیتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا موکل کون ہے ظالم ہے یا مظلوم ہم طے شدہ فیس لے کر تحقیق و تفتیش کے ذریعے سچ اور جھوٹ الگ کرتے ہیں اس میں موکل مقتول تصور کیا گیا ہے اور اس نے ہماری شرائط کے مطابق پیشگی فیس کا ون تھرڈ ادا کر دیا ہے اب ہمارا پیشہ ورانہ فرض ہے کہ ہم قاتل کو تلاش کریں۔‘‘
’’کیا ہمیں یہ یقین کرلینا چاہیے کہ موکل واقعی مقتول کی روح ہے؟‘‘ راحیل نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔
’’میرے خیال میں یہ ایک فضول بحث ہوگی۔‘‘ جمال صاحب بولے۔ ’’میں مشورہ دوں گا کہ روح کو ہی بنیاد مان کر کوٹھی سے از سر نو سفر شروع کیا جائے وہ روح یا جسم اگر تم لوگوں کو کوٹھی تک لے جانا چاہتا ہے تو پوری تیاری اور احتیاط کے ساتھ کوٹھی کو ہی سنگ میل بنایا جائے۔
’’کسی کو اور کچھ کہنا ہے۔‘‘ میں نے باری باری راحیل، روبی اور سرفراز کی طرف دیکھ کر پوچھا جواب میں سب نے نفی میں سر ہلا کر بحث اور جمال صاحب کی رائے پر جیسے تائید کی مہر ثبت کردی تھی۔
’’کل رات۔‘‘ میں نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ ’’میں اور روبی کوٹھی میں داخل ہوں گی سرفراز اور راحیل ہمیں کوریج دیں گے۔
’’بلا شبہ تم دونوں بہادر لڑکیاں ہو۔‘‘ جمال صاحب نے کہا ’’لیکن اپنی صنف کے حوالے سے پھر بھی لڑکی کمزور ہوتی ہے یہ میرا نہیں قانون فطرت ہے کہ عورت کا محافظ مرد ہے سرفراز تمہارے ساتھ رہے گا اور روبینہ راحیل کے ساتھ نگرانی کرے گی۔‘‘
جمال صاحب نے صرف ہمارے استاد تھے بلکہ بہت قریب بھی تھے وہ ہمارے ذاتی رابطوں سے بھی بخوبی آگاہ تھے ہماری نسبتوں کی تقاریب کے سربراہ بھی وہی تھے۔ ان کی تجویز سن کر سرفراز نے تو کوئی تاثر نہ دیا تھا البتہ روبی کا گلابی رنگ کچھ اور بھی گہرا ہوا تھا اور راحیل اپنی انگوٹھی کو بے وجہ گھمانے لگا تھا۔
’’بھئی میں تو سیدھا سا انسان ہوں۔‘‘ ہمیں خاموش پا کر جمال صاحب ہنس پڑے۔ ’’اگر کوئی اخلاقی مجبوری ہو تو…!‘‘
’’اوہ نہیں سر۔‘‘ روبی بول پڑی۔ ’’ہماری خاموشی تائید اور احترام کی علامت تھی۔‘‘
دوسرے دن ہم الگ الگ حسن ابدال پہنچے میں اور سرفراز سیاحوں کے بھیس میں آثار قدیمہ دیکھتے رہے پھر مغرب کی نماز باغ میں ادا کر کے منزل کی جانب روانہ ہوگئے تھے روبی اور راحیل بھی قرب و جوار میں موجود تھے۔ شارٹ رینج ٹرانسمیٹر پر ہمارا رابطہ قائم تھا بشن داس کی کوٹھی واقعی اجاڑ اور الگ تھلگ تھی پروگرام کی حد تک تو بلا شبہ میں بڑھ چڑھ کر باتیں کرتی رہی تھی مگر سرفراز کی مضبوط بانہوں کی اوٹ میں ہونے کے باوجود میری دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئی تھیں تاریک سناٹے میں ڈوبی ہوئی عمارت مجھے ڈولتی اور متحرک دکھائی دے رہی تھی لکڑی کا گیٹ ٹوٹ کر دیوار کے ساتھ ترچھا پڑا ہوا تھا جب ہم گیٹ سے داخل ہوئے تو خود رو گھاس اور جھاڑیوں کی شاخیں ہماری ٹانگوں سے ٹکرانے لگیں اور پائوں تلے آنے والے خشک پتوں کی سسکیاں ماحول کو اور بھی دہشت ناک بنا رہی تھیں۔
ابھی ہم نے نصف فاصلہ بھی طے نہیں کیا تھا کہ معاً ایک چمگاڈر چیختا ہوا سرفراز پر جھپٹا سرفراز نے پھرتی سے ایک طرف جھک کر مجھے اوٹ میں لے لیا تھا چمگاڈر قیں قیں کرتا ہوا فضا میں بلند ہوتا چلا گیا تھا۔
’’گھبرانا نہیں عطو۔‘‘ سرفراز نے میرے شانے کو تھپک کر کہا۔
’’علامہ اقبال نے ایسے وقت کے لیے ہم نوجوانوں کو خبردارکیا تھا یہ سب کچھ ہمیں اور اونچا اڑانے کے لیے ہو رہا ہے چمگاڈر اگر ہماری راہ روک سکتا تو راہ فرار اختیار کبھی نہ کرتا انسان کی قوت ارادی کا مقابلہ کوئی دوسری مخلوق نہیں کرسکتی۔‘‘
’’سرفراز۔‘‘ انتہائی ضبط اور کوشش کے باوجود میری آواز میں کپکپاہٹ نمایاں رہی تھی۔ ’’یہ چمگاڈر وہی روح ہے۔‘‘
’’فرض کیا وہی ہے۔‘‘ سرفراز نے جواب دیا۔ ’’تو پھر کیا ہے تو حقیر چمگاڈر ہی نا، ہاں اگر شیر بن کر آتی تو خطرہ ہوسکتا تھا۔‘‘
شکستہ سیڑھیاں چڑھتے وقت میری آنکھیں ٹانگیں میرے جسم کا بوجھ سہارنے سے معذور ہوگئی تھیں غالباً سرفراز نے میری کیفیت بھانپ لی تھی اس نے مجھے نہایت ہی نرم گرفت میں لے رکھا تھا اوپر جا کر اس نے پنسل ٹارچ روشن کی اور روشنی کی پتلی سی لکیر اندھیرے کے سینے میں شگاف کرتی آگے بڑھنے لگی۔
’’چوتھا دروازہ ہی تھا نا؟‘‘ سرفراز نے کرم خوردہ کواڑوں پر روشنی کی لکیر ڈالتے ہوئے کہا اور پھر میرا جواب سنے بغیر اس نے کواڑوں کو ہلکی سی ٹھوکر ماری کواڑ کسی بدروح کی طرح کراہتے ہوئے کھل گئے تھے سرفراز نے چہرہ اندر کر کے جھانکا اور پھر مجھے گھسیٹتا ہوا اندر داخل ہوگیا پھر اس نے بڑی ٹارچ روشن کی اور سڑاند زدہ کمرہ روشن ہوگیا کمرے میں ٹوٹے ہوئے فرنیچر کی لکڑیاں بکھری ہوئی تھیں، دیوار گیر الماریوں کے پٹ کھلے ہوئے تھے اور جنگلی چوہے چک چک کرتے روشنی سے گھبرا کر لکڑیوں سے سر ٹکراتے پھر رہے تھے میں نے بیگ سے موم بتی نکال کر جلائی کیونکہ سرفراز بار بار ٹارچ بجھا دیتا تھا اور اندھیرے میں میری سانس حلق میں پھنس جاتی تھی چوہوں کا ریوڑ بوکھلائے انداز میں پچھلے دروازے کی جانب دوڑنے لگا تھا اور سرفراز ٹارچ لیے ٹوٹے ہوئے فرنیچر کو الٹ پلٹ رہا تھا۔
’’اگر تم اجازت دو تو دوسرے کمروں کو بھی دیکھ آئو۔‘‘ اس نے الماری میں جھانکتے ہوئے کہا۔ عین اسی لمحے میرا کلائی واچ ٹرانسمیٹر بیدارہوگیا میں نے چابی باہر نکالی اور جواب دیا۔
’’یس پی ون ریسیونگ۔‘‘
’’میڈم۔ ایک سفید پوش سایہ کوٹھی کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ روبی نے بتایا اور میرے جسم سے سرد لہر سرسراتی ہوئی نکل گئی۔ ’’کیا ہم تعاقب کریں۔‘‘
’’میری کال کا انتظار کرو۔‘‘ میں نے جواب دیا اور پھر سرفراز کی طرف دیکھا جو میرے قریب آگیا تھا۔
’’بھوت… بھوت آرہا ہے۔‘‘ میں نے ہکلاتے ہوئے بتایا۔
سرفراز نے فوراً ہی اپنے واچ ٹرانسمیٹر پر راحیل کو کال کرنا شروع کردیا ’’کوٹھی سے تمہارا فاصلہ کتنا ہے۔‘‘ سرفراز نے پوچھا۔
’’تقریباً تین چار سو قدم۔‘‘ راحیل کی آواز آئی۔
’’ٹرانسمیٹر آن رکھو اور اپنی جگہ کھڑے رہو خبردار کوئی حرکت نہ کرنا ہر آنے والی شے کو تم نہیں روکو گے ہاں کوٹھی سے جانے والے کو ضرور چھاپنے کی کوشش کرنا۔‘‘ میں نے سر کو تین چار جھٹکے دیے خوف کا بوجھ ناقابل برداشت ہی ہوگیا تھا۔ ’’کھیل شروع ہوچکا ہے عطورانی۔‘‘ سرفراز نے بڑی جان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ جھک کر کہا۔
’’تم صرف ریفری ہو، ہاں اگر میںہار گیا تو میری جگہ تم کھیلو گی۔‘‘ اس نے ریوالور نکال کر میگزین چیک کیا اور پھر شکاری چاقو کھول کر پیٹی میں اڑس لیا میں دم سادھے اپنی جگہ پتھر کی سل بنی کھڑی سرفراز کو دیکھ رہی تھی جو ایسے درندے کی مانند لگ رہا تھا جسے شکار کی بو نے بے کل کر رکھا ہو معاً مغربی کھڑکی کا پٹ سسک کر چرمرایا اورموم بتی کی لو میرے دل کی طرح کپکپانے لگی سرفراز نے پھنکارتے انداز میں چہرہ گھما کر کھڑکی کو دیکھا اور پھر دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
’’عطیہ کریم۔‘‘ سرفراز کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
’’ادھر میرے ساتھ آکر کھڑی ہوجائو۔‘‘
میں جو عام حالات میں سرفراز کو تگنی کا ناچ نچایا کرتی تھی اس وقت سہمی ہوئی بچی کی طرح سر جھکائے اس کا ہر حکم مان رہی تھی۔
’’میں موم بتی بجھا رہا ہوں۔‘‘ جوں ہی سرفراز موم بتی پر جھکا میں نے گھٹی گھٹی چیخ سے اس کا شانہ نوچ لیا۔
’’نہیں سرفراز اندھیرے میں میری حرکت قلب بند ہوجائے گی۔‘‘
’’مجرموں کی گردنیں توڑنے والی عطیہ کریم کہاں چھوڑ آئی ہو۔‘‘ سرفراز نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں مافوق الفطرت قوتوں سے نہیں لڑ سکتی سرفراز۔‘‘
اسی لمحے عقبی کمرے کا بیرونی دروازہ چرچرایا اور پھر میری حساس سماعت میں پائوں کی مدھم مدھم چاپ گرم پانی کی بوندوں کی طرح ٹپکنے لگی۔
’’کھی کھی کھی… پچکاک پچکاک… قیں قیں…!‘‘ دہشت ناک آوازوں کا سیلاب امڈتا ہوا اندر آنے لگا تو سرفراز نے میرے شانے پر نرم تھپکیاں دے کر ریوالور نکال لیا قدموں کی چاپ بتدریج قریب سنائی دے رہی تھی۔
اور پھر میری پتھرائی ہوئی آنکھوں نے دیکھا ایک طویل قامت سفید پوش جسم ہمارے سامنے کھڑا تھا وہ عربی برقعے میں لپٹا ہوا تھا چند ثانیے مجھ پر قیامت بن کر بیتے تھے۔
’’لڑکی میرے حوالے کردو۔‘‘ سفید پوش کے حلق سے کھرکھراتی سرگوشی نکلی۔
’’اے مہربان روح۔‘‘ سرفراز نے ادب سے جھک کر کہا ’’ہم ظالم سماج کی نگاہوں سے چھپ کر تمہاری پناہ میں دل کی دنیا آباد کرنے آئے ہیں ہم پر رحم کرو۔‘‘
’’او بدکار۔‘‘ غراہٹ ابھری۔ ’’میرے آستانے کو گناہ آلود نہ کر… بھاگ… جا۔‘‘
’’مجھے…مجھے معاف کردو۔‘‘ سرفراز گڑگڑانے لگا۔ ’’مم… میں تمہارے پائوں پڑتا ہوں۔‘‘ وہ جھکا اوردوسرے لمحے اس نے کسی ماہر غوطہ خور کی طرح غوطہ لگایا اور سفید پوش ڈکراتا ہوا الٹ گیا اور ساتھ ہی دھماکا ہوگا۔
سرفراز بری طرح برقعے میں الجھ گیا تھا اور تابڑ توڑ گھونسے مارتا ہوا اس کے سینے پر چڑھ گیا تھا ایک منٹ سے بھی کم وقت میں سفید پوش نے ہاتھ پائوں ڈال دیے تھے اور سرفراز نے برقعہ ایسے ہی اتارا تھا جیسے کیلے کی پھلی سے چھلکا الگ کر رہا ہو۔
’’عطیہ۔‘‘ سرفراز نے برقعہ ایک طرف اچھالتے ہوئے کہا۔
’’بھوت آپ کے ملاحظے کا منتظر ہے۔‘‘
میں نے سر کو جھٹک کر طویل سانس لی اور تین قدم بڑھائے میرے سامنے بڑی بڑی مونچھوں والا سیاہ چہرہ تھا اور اس کی آنکھوں میں حیرت منجمد تھی۔
’’ہیلو پی ون، ہیلو پی ون… پی ٹو کالنگ یو اوور۔‘‘ میرے ٹرانسمیٹر سے روبی کی آواز ابھری۔ ’’ہم نے گولی چلنے کی آواز سنی ہے اندر کی پوزیشن سے آگاہ کرو اوور۔‘‘
’’نقلی بھوت پر قبضہ کرلیا گیا ہے وہ کوئی مرد ہے اوور۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
سرفراز نے ہاتھ بڑھا کر اس کی مونچھ کے چند بال نوچ لیے اور وہ تڑپ کر اوندھا ہوگیا تھا۔
’’اے بھائی صاحب اب ہوش میں آئیے۔‘‘ سرفراز نے اس کے پہلو میں انگلی مارتے ہوئے کہا ’’ہم لوگ اختلاج قلب میں مبتلا ہو رہے ہیں۔‘‘
اس نے کروٹ لے کر آنکھیں کھول دیں اور سرفراز کو گھورتے ہوئے بولا۔
’’میں کسی سے ذکر نہیں کروں گا مجھے جانے دو۔‘‘
’’نہیں بھائی صبح اکٹھے چلیں گے۔‘‘ سرفراز نے کہا ’’ویسے بھی ہمیں ایک نگران کی ضرورت تھی۔‘‘
’’تم کون ہو؟‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور سر کے عقبی حصے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
’’ہاں اب تعارف ہوجانا چاہیے۔‘‘ سرفراز نے اٹھ کر فاصلہ بڑھایا اور پیٹی سے کھلا چاقو نکال لیا۔ ’’ادھر میری طرف دیکھو۔ ’’سرفراز یکدم دوسری جون میں بدل آ گیاتھا میں نے اس آواز میں وہی سفاکی اور کرختگی محسوس کی تھی جو مجرموں کی ہڈیوں کو چٹخایا کرتی ہے۔
’’غور سے سنو میں ہر سوال کے بعد چند سیکنڈ انتظار کروں گا اور دائیں کان سے کارروائی شروع کروں گا۔ اگر آزمانا چاہتے ہو تو سوال سے قبل میرے چاقو کی دھار دیکھ لو۔‘‘
’’ٹھہرو۔‘‘ جوں ہی سرفراز جھکا اس نے ہاتھ اٹھا دیا۔ ’’میں چور ہوں نہ ڈاکو بلکہ شام کو تمہیں کوٹھی میں داخل ہوتے دیکھ کر میرے اندر شیطان جاگ اٹھا تھا میں اس کوٹھی کی روایت سے فائدہ اٹھا کر تم سے لڑکی حاصل کرنا چاہتا تھا میرا خیال تھا تم کسی آوارہ لڑکی کو عیاشی کے لیے اس ویران جگہ لائے ہو۔‘‘
’’نہیں بھائی۔‘‘ سرفراز نے نفی میں گردن ہلائی۔ ’’تمہارا چہرہ تمہاری زبان کا ساتھ نہیں دے رہا بہتر ہے کھل جائو تم اگر مقامی ہو تو اچھی طرح جانتے ہو گے کہ اس کمرے میں قتل بھی ہوچکا ہے اور لوگ کہتے ہیں کسی بھوت نے قتل کیا تھا میں تمہیں پولیس کے حوالے کروں گا کیونکہ وہ فرضی بھوت تم ہی ہو جس نے لوگوں کو ادھر آنے سے خوفزدہ کر رکھا ہے اگر اپنی اصلیت بتا دو تو ہم اپنی اپنی راہ لگ جائیں گے۔‘‘
’’یقین کرو میں وہ بھوت نہیں ہوں۔‘‘ وہ زور دے کر بولا۔
’’جب قتل ہوا تھا تو میری عمر دس بارہ برس رہی ہوگی۔‘‘
’’لیکن تم پہلے بھی یہاں اس برقعے میں دیکھے جاتے رہے ہو۔‘‘ سرفراز نے کہا۔ ’’خانہ بدوشوں کے پیچھے بھی تم ہی دور تک گئے تھے آخر کیوں تم اسی رات برقعہ اوڑھ کر حاضر ہوجاتے ہو جس رات کوئی مسافر یہاں قیام کرتا ہے۔‘‘
اس نے دانت نچلے ہونٹ پر جمائے اور پھر تھوک نگل کر محتاط نگاہوں سے دائیں بائیں دیکھنے لگا سرفراز نے چہرہ گھما کر جن نگاہوں سے میری جانب دیکھا تھا کئی بار پہلے بھی زبان کھلوانے کے دوران ایسی ہی نگاہوں سے دیکھ چکا تھا میں نے اثبات میں گردن ہلائی اور سرفراز ایک قدم پیچھے ہٹ گیا بھوت کے خوف نے مجھے نڈھال کردیا تھا ورنہ تشدد کی دنیا میں میرا نام مجرموں نے سفید ناگن رکھا ہوا تھا مجرم کو سامنے پا کر بلا شبہ میں زہریلی ناگن سے کم خطرناک نہیں ہوتی۔
’’اب تم زبان بند رکھو گے اور میں سوال کروں گی۔‘‘ میں نے ہاتھ اس کی مونچھ پر ایسے ہی مارا جیسے ناگن اپنے شکار پر پھن مارتی ہے اس کے حلق سے دھاڑ نما چیخ بڑی گونج دار اور کرب ناک نکلی اور ادھڑی ہوئی ایک مونچھ کا گچھا ایک طرف اچھالتے ہوئے سوال کیا۔
اچانک وہ اپنی جگہ سے اوپر اٹھا مگر میں اب کسی بھوت سے ہم کلام نہ تھی میرے سامنے ایک مشتبہ شخص تھا لہٰذا میں پوری طرح چوکس اور بیدار تھی میری لات گھوم گئی اور وہ ڈکراتا ہوا پہلو کے بل گر گیا تھا۔ ’’تمہارے چہرے کا توازن مونچھ کی وجہ سے بگڑ گیا ہے۔‘‘ میں نے جھپٹ کر اس کے بال جکڑے اور دوسری مونچھ بھی ادھیڑ لی اس بار وہ کسی بچے کی مانند رو پڑا تھا۔
’’بس… بس… مم… میں بتاتا ہوں۔‘‘ بالائی ہونٹ کا خون تھوک کو وہ بلبلانے لگا۔
’’پھر شروع ہوجائو۔‘‘ میں نے مسکرا کر سرفراز کی جانب دیکھا جو لا تعلق سا کھڑا تھا۔
’’میں اسٹاک کا نگران ہوں۔‘‘
’’کیسا اسٹاک۔‘‘
’’وہ… مجھے ایک ہزار ماہوار دیتے ہیں میری ڈیوٹی یہی ہے کہ بھوت بن کر دوسری تیسری رات کوٹھی کے ارد گرد گھوم جایا کروں، دن کے وقت میں باغ میں کام کرتا ہوں، آج بھی باغ سے ہی تم لوگوں کے تعاقب میں ادھر آیا تھا۔‘‘
’’چلو اسٹاک دکھائو۔‘‘ میں نے اس کی پھیلی ہوئی ٹانگوں پر پائوں زور سے مارا۔ ’’ورنہ میں تمہارے بیان پر یقین نہیں کروں گی۔‘‘
’’اگر میں نے اسٹاک دکھایا تو وہ مجھے قتل کردیں گے۔‘‘ اس نے آستین سے خون صاف کرتے ہوئے کہا۔ ’’اس سے بہتر ہے کہ تم ہی مجھے ہلاک کردو مرنا ہی ہے تو غدار کی موت کیوں مرا جائے۔‘‘
’’میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ زبان بند رکھنا اور میں سوال کروں گی۔‘‘ دو قدم ہٹ کر میں نے زاویہ بدلا اور جب گھوم کر اس کے قریب جا کر اوپر اٹھی تو اس کا دایاں کان میری چٹکی میں تھا اور وہ حلق پھاڑ پھاڑ کر گندی گالیاں بک رہا تھا۔
’’زور زور سے بھونکو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’تمہاری زبان بالکل آخر میں گدی سے کھینچی جائے گی۔‘‘
’’نن… نہیں… تم اور ظلم نہیں کرو گی۔‘‘ وہ ہاتھ اٹھا کر چیخا۔
’’مجھے کون روکے گا۔‘‘
’’آئو۔‘‘ وہ کراہتا ہوا اٹھنے لگا ’’ایک ایک وعدہ کرو مجھے یہاں سے فرار ہونے کا موقع دو گی، ورنہ وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘‘
’’تم اپنی زندگی بچا سکتے ہو۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’اسٹاک کے ساتھ اگر تم اسٹاک کے مالکان تک ہماری رہنمائی کرو گے تو قانون تمہیں معاف کردے گا اور قتل کرنے والے قانون کی گرفت میں چلے جائیں گے۔‘‘
’’لیکن سب نہیں صرف ایک کو میں جانتا ہوں وہ یہاں کا مقامی ایجنٹ ہے ’’سارا مال آگے وہی لے جاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ہم ایک ہی کے ذریعے دوسروں تک خود چلے جائیں گے۔‘‘
ٹارچ کی روشنی میں وہ آگے آگے چل رہا تھا سرفراز نے ریوالور کی جھلک دکھا کر اسے با خبر کردیا تھا اس لیے فرار کی کوشش کا خطرہ نہ تھا وہ چوکور کمرہ غالباً بشن داس بطور گودام استعمال کرتا رہا ہوگا آہنی دروازے اور روشن دانوں میں مضبوط سلاخیں لگی ہوئی تھیں اندر داخل ہوتے ہی مانوس سی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی تھی دیواروں کے ساتھ پلاسٹک کے بڑے بڑے ڈبے ایسے ہی قطار در قطار اوپر تک رکھے ہوئے تھے جیسے ہول سیل ڈرگ ایجنسی کا اسٹور ہو۔
’’ادھر چرس ہے۔‘‘ اس نے اشارہ کیا ’’اور وہ افیم کے پیکٹ ہیں۔‘‘ میرے اندازے کے مطابق کروڑوں کا مال تھا۔
’’مال لایا کیسے جاتا ہے۔‘‘ سرفراز نے پوچھا۔
’’تین آدمی ہر ہفتے پیدل مال لاتے ہیں۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’پھر یہاں سے آگے تقسیم کیا جاتا ہے۔‘‘
’’اور تمہیں صرف ایک ہزار دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔‘‘ سرفراز نے نرم لہجے میں کہا۔
’’میں صرف نگرانی کا معاوضہ لیتا ہوں۔‘‘ اس نے بتایا۔ ’’شروع شروع میں مال لے جایا کرتا تھا لیکن اس کام میں ہر وقت جان سولی پر چڑھی رہتی ہے۔‘‘
’’واپس چلو۔‘‘ میں نے رکا ہوا سانس چھوڑتے ہوئے کہا۔ ’’بدبو سے میرا دم گھٹ رہا ہے۔‘‘
باہر آکر سرفراز نے بیگ اٹھایا اور ہم اسے لے کر کوٹھی سے چل پڑے تھے روبی اور راحیل کو بھی کال کر کے گیٹ پر بلا لیا تھا پھر وہاں سے ہم پانچوں کھیتوں میں پیدل چلتے اپنی اپنی گاڑی تک گئے تھے ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ کے مصداق شریف خاندان اپنی ہوس ناکی کے ہاتھوں اپنی مونچھوں اور ایک کان سے محروم ہوگیا تھا اور حسن گل سلاخوں کے پیچھے چلا گیا تھا البتہ میری ایجنسی کی خاصی پبلسٹی ہوگئی تھی لیکن ہم پھر نقطہ آغاز پر ہی لڑھک آئے تھے غالباً دوسری یا تیسری شام لان میں اماں بی، سرفراز اور میں بیٹھے، بین الاقوامی سیاست پر باتیں کر رہے تھے اور سرفراز بار بار سیڑھیوں کی جانب ہی دیکھ رہا تھا اسے چائے کا انتظار تھا کیونکہ اسے پولیس ہیڈ کوارٹر میٹنگ میں جانا تھا ملازمہ نے ٹرالی گھما کر برآمدے کے کونے سے اتاری اور ہمارے قریب آکر اس نے پلیٹ اٹھا کر میرے سامنے کرتے ہوئے بتایا۔ ’’بی بی یہ لفافہ بلی کے گلے میں لٹک رہا تھا۔‘‘
مجھ سے پہلے سرفراز نے جھپٹ کر پلیٹ سے بھورے رنگ کا لفافہ اٹھا لیا ہونٹ بھینچ کر اندر سے ایک سلپ نکالی اور پڑھنے لگا۔
’’بلی کا رنگ؟‘‘ میں نے گہری نظروں سے گھور کر دیکھا۔ ملازمہ ہمارے لیے پیالیوں میں قہوہ انڈیل رہی تھی۔
’’سفید تھی بیٹے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’کسی بچے نے شرارت کی ہوگی۔‘‘
سرفراز نے طویل سانس لے کر سلپ میری جانب بڑھا دی اور مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’کسی بچے نے اپنے ساتھی کو گلی ڈنڈا کھیلنے کی دعوت دی ہے۔‘‘
میرے سامنے وہی کاغذ اور بالکل وہی خوب صورت تحریر تھی جو پہلے مجھے مل چکی تھی۔
’’پشت پر لکھے پانچوں اشخاص کو میری کوٹھی کے اسی کمرے میں بروز جمعرات رات آٹھ بجے مدعو کرو میں اپنے قاتل کو پکڑ لوں گا۔‘‘
پشت پر وہی نام تھے جو اس رات کوٹھی میں موجود تھے، صرف مہدی علی خان کے ملازم کا اضافہ کیا گیا تھا میں نے سلپ نیچے گرا دی کیونکہ اماں بی استفہامیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
چائے پیتے پیتے سرفراز نے غیر محسوس انداز میں سلپ پائوں سے کھسکا کر اٹھالی تھی میرا ذہن پھر بری طرح الجھ گیا تھا مہدی علی خان کا بھوت میرے حواس پر چھانے لگا تھا۔ سرفراز میری بدلتی کیفیت کو بغور نوٹ کر رہا تھا مگر اماں بی کی وجہ سے ہم دونوں مجبور تھے۔
اچانک میں نے سرفراز کو چونکتے دیکھا اس کی نگاہوں کے تعاقب میں جب میں نے چہرہ پھیر کر دیکھا تو میرا ہاتھ اتنا لرز اٹھا کہ پیالی سے چائے چھلک گئی تھی۔ وہی سفید بلی سیڑھیوں پر کنڈلی مارے بیٹھی ہوئی تھی، سرفراز نے کھٹ سے ٹرے میں پیالی رکھی اور اچھل کر کھڑا ہوگیا۔
’’آہ… خوب صورت بلی۔‘‘ وہ چہکارا۔ ’’خالہ اس بلی کو کچھ کھانے کو دو تاکہ مانوس ہوجائے۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ اماں بی بول پڑیں۔ ’’کتے بلے نجس ہوتے ہیں انہیں بھگا دو۔‘‘
’’اور کیا بی بی جی۔‘ مائی جیواں برتن سنبھالتے ہوئے بولی۔
’’اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں اترتے۔‘‘
سرفراز کے ساتھ میں بھی اٹھ کر چل پڑی تھی ابھی ہم نے چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ بلی نے اٹھ کر انگڑائی لی اور پھر ہماری طرف دیکھنے لگی۔ ’’میں آج بلی کا لیبارٹری ٹیسٹ لوں گا۔‘‘ سرفراز نے کہا۔
’’تمہارے طوطے والا پنجرہ کہاں ہے۔‘‘
’’اسٹور روم میں۔‘‘
’’ٹھیک ہے میری واپسی تک بلی پنجرے میں بند رہے گی۔‘‘ اس نے نزدیک جا کر بلی کو پچکارا۔
’’میں آئوں۔‘‘ بلی نے دانت نکوس کر جواب دیا اور بھاگ کر گیلری میں دوڑتی چلی گئی۔ سرفراز بھی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا دوڑا تھا مگر اوپر جا کر یکایک رک گیا، ’’بھاگ گئی۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’کیا اب بھی نہیں مانو گے سرفراز۔‘‘
’’یہ سائنس کی صدی ہے عطیہ خانم۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’فضول خیالات تمہاری کارکردگی متاثر کرسکتے ہیں، واپس آکر ہم نئی ہدایت کے لیے لائحہ عمل مرتب کریں گے۔‘‘
میں ستون کا سہارا لیے چپ چاپ کھڑی رہی اور سرفراز دھم دھم کرتا واپس سیڑھیاں اترتا چلا گیا۔ تب میں نے اپنی موجودہ بے بسی پر سوچا۔ مہدی علی خان نے میری ذات کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے، وہی سرفراز جو میرے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا تھا اس کیس میں مجھے روندتا پھر رہا تھا یہ کیس میری ذات کے لیے چیلنج بن گیا۔
رات دس بجے سرفراز نے انٹر کام پر مجھ سے ملاقات کی اجازت طلب کی میں تو دھڑکن دھڑکن اسی کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ بلی مسلسل میرے تعاقب میں تھی اور میرے حوصلے پھر میرا ساتھ چھوڑ رہے تھے اتنی بے بس اور نروس تو میں ان دنوں بھی نہ ہوئی تھی۔ جب لندن میں ایک سیاہ فام مذہبی تنظیم غلط فہمی کا شکار ہو کر میری جان کی دشمن بن گئی تھی ہر لمحے سیاہ چہرے میرے تعاقب میں رہا کرتے تھے۔ سرفراز برائون کلر شلوار کرتے میں ملبوس جب لیبارٹری میں داخل ہوا تو اس کا قد اور مردانہ رعب مجھے پہلے سے کہیں زیادہ خوب صورت لگا تھا شاید اس پر میں نے ہمیشہ عطیہ کریم کی نظر ہی ڈالی تھی۔ اس احساس برتری کے پس منظر میں میرے ڈیڈی کی قد آور شخصیت اور سرفراز کے ڈیڈی کی مسخ شدہ ذات کار فرما رہی ہوگی، میرے ڈیڈی نے اپنے خاندان کے وقار کو نہ صرف سنبھالا تھا بلکہ چار چاند بھی لگائے تھے جبکہ سرفراز کے والد مرحوم نے اپنے حصے کی ساری جائیداد شراب کباب اور شباب کی آگ میں جلا کر اپنے بیٹے سرفراز کو مرتے وقت ہمارے صحن میں پھینک دیا تھا۔
سرفراز کے اندر جو احساس کمتری اور ندامت تھا اس کے پیچھے بھی یہی احساس تھا وہ جانتا تھا کہ اگر اماں بی اس کے لیے ممتا کے جذبات وقف نہ کرتیں تو آج وہ دوسری سوسائٹی کا روندا ہوا ہوتا۔’سرفراز‘‘ میں نے خلاف عادت نرم اور اپنائیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’اگر یہ الجھن جلدی ختم نہ ہوئی تو میں نفسیاتی مریضہ بن جائوں گی۔ ‘‘
’’کیوں جان۔‘‘ سرفراز بغیر کسی ہچکچاہٹ میری کرسی کے قریب بیٹھ گیا اور میرے بالوں کو انگلیوں سے سلجھانے لگا کیف و سرور کی انجانی سی سرسراہٹیں میرے اچھوتے سراپا پر رینگ اٹھی تھیں اس لمس کا ذائقہ میرے لیے ایک انوکھا تجربہ ہی تھا میں بالکل محبوبہ کی طرح اندر ہی اندر سرشار ہوتی رہی، اگر پندرہ روز قبل یہ جرات کرتا تو اگلے دانت اس کے حلق میں اتر چکے ہوتے۔ ’’میں دوسری قسم کا انسان ہوں۔‘‘ اس کی آواز کا رس میرے کانوں میں ٹپکا۔ ’’کھردری اور سرد موسموں والی عطیہ کریم بے حد اچھی لگتی ہے ڈری کبوتری کو تو کوئی بھی چور بلا دبوچ سکتا ہے اٹھو ہمیں آخری معرکے کی تیاری کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔‘‘ اس نے اٹھ کر میرے بالوں کو تھپ تھپایا اور دوسری کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ میں روبینہ کو اختیارات سونپ آیا ہوں وہ آخری رائونڈ کے سارے انتظامات کرلے گی۔‘‘ میں چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی جو فی الحال میرا پارٹنر تھا اور مستقبل قریب میں شریک حیات بننے والا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ اتنا اسمارٹ اور وجیہہ شخص گزشتہ تیس برس سے میرے قریب تھا اور میں نے اسے اس نگاہ سے کبھی نہ دیکھا ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مطلوبہ اشخاص کو بہ رضا و رغبت کوٹھی تک کیسے لے جائیں۔‘‘ اس نے کاغذ پھیلاتے ہوئے کہا۔ ’’ویسے بڑا ہی سنسنی خیز ڈرامہ ہوگا۔‘‘
’’ایک نکتے پر تم نے غور نہیں کیا سرفراز۔‘‘ میں نے چہرہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر رکھ کر کہا۔ ’’جمعرات چھ جنوری کو پڑتی ہے اور اسی تاریخ کو مہدی علی خان کی موت واقع ہوئی تھی۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ سرفراز اچھل پڑا۔ ’’ابھی میری عطیہ کریم زندہ ہے بہت خوب تم نے اس نکتے کی جانب توجہ مبذول کرا کر ایک قابل عمل اور شاندار منصوبے کی راہ کھول دی ہے مہدی علی خان مرحوم کی بیوہ ریحانہ بیگم اپنے پیارے شوہر کی برسی منائے گی اور برسی پر ان تمام دوستوں کو شریک دعا ہونے کی استدعا کرے گی جو مہدی علی خان کی زندگی میں بہت قریب تھے۔‘‘
’’اچھی تجویز ہے۔‘‘ میں نے پرستائش آواز میں کہا۔
’’مگر رابطے کا طریقہ؟‘‘
’’ریحانہ بیگم پہلے برسی کا اعلان بذریعہ اخبارات کرے گی اور پھر فرداً فرداً مخصوص لوگوں کو دعوتی کارڈ بجھوا دے گی۔‘‘
’’اگر ان ہی لوگوں میں سے کوئی قاتل ہوا تو وہ بدک نہ جائے گا۔‘‘
’’عطو، مہدی علی خان کی روح چاہتی بھی تو یہی ہے نا۔‘‘ سرفراز نے کہا ’’جو نہیں آئے گا ہم اسے چیک کرلیں گے۔‘‘
’’ٹھیک ہے کل تمام اخبارات میں اشتہار دلوادو۔‘‘ میں نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے کہا۔
دوسرے دن تمام اخبارات میں ریحانہ بیگم بیوہ چوہدری مہدی علی خان مرحوم کی جانب سے اشتہار شائع ہوا تھا جس میں ریحانہ بیگم نے صرف مرحوم کے احباب سے شرکت کی درخواست کی تھی اور اسی شام نہایت سادہ سیاہ حاشیے والے کارڈ بھی راحیل پریس سے لے آیا تھا مرحوم کے مطلوبہ دوستوں کو بذریعہ رجسٹرڈ پوسٹ کارڈ روانہ کرنے کے بعد میں خود کو ایسا احمق شکاری سمجھنے لگی تھی جو خشک نالے میں کانٹا پھینک رہا ہو لیکن سرفراز پر امید تھا اسے نہ جانے کیوں یقین تھا کہ ریت سے ابھر کر مچھلی کانٹا ضرور نگل لے گی۔
’’میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں۔‘‘ اس نے میز پر گھونسہ مارتے ہوئے کہا۔ ’’ان پانچ ناموں میں سے کم از کم ایک مطلوبہ شخص ہے یہ بھی ہوسکتا ہے ہمار اموکل اور قاتل دونوں ہی ان میں شامل ہوں۔
’’میرا خوبرو جاسوس شاید نہیں جانتا۔‘‘ میں نے ٹھہری ٹھہری آواز میں کہا۔ ’’میں نے اپنے گھر کے گرد نگراں مقرر کر رکھے ہیں اگر تمہار اقیاس درست تسلیم کرلیا جائے تو کسی کو تحریری پیغام پہنچانے کے لیے اندر آنا پڑتا جبکہ نگرانی کرنے والوں کی رپورٹ نفی میں ہے وہ شخص یا قوت تم کس خانے میں فٹ کرو گے گی جو مجھ تک پیغام پہنچاتی رہی ہے۔‘‘
’’اب تم کہو گی کہ مہدی علی خان کی روح بلی کے روپ میں پیغام رسانی کر رہی ہے۔‘‘
’’میری بات چھوڑو۔‘‘ میں نے زوردار لہجے میں کہا۔ ’’تم اس ذریعے کے بارے میں جواب دو۔‘‘
’’یار۔‘‘ سرفراز سرکھجانے لگا۔ ’’سچ پوچھو تو میرا اپنا ذہن بھی اس طرف سے کلیئر نہیں ہے سنو جس دن پیغام دیا گیا ہے اس دن تمہاری مائی جیواں باہر تو نہیں گئی۔‘‘
’’یقیناً نہیں گئی۔‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں اسے چیک کر چکی ہوں بلکہ وہ تو گزشتہ ماہ سے باہر نہیں نکلی۔‘‘
’’روح لکھ نہیں سکتی عطیہ خانم۔‘‘ سرفراز نے دلیل پیش کی۔
’’پھر ہم مسلمان ہیں ہمارا عقیدہ ہے کہ روح قفس عنصری سے نکل کر اپنے مقام پر چلی جاتی ہے جس طرح قیدی رہائی کے بعد اپنے گھر جاتا ہے۔‘‘
’’بد روحیں بھی تو ہوتی ہے۔‘‘
’’کہاں ہوتی ہیں۔‘‘
’’ویرانوں میں اور پرانے مرگھٹوں کے ارد گرد منڈلاتی پھرتی کئی لوگوں نے دیکھی ہیں۔‘‘
’’جھوٹ۔‘‘ سرفراز چیخ پڑا۔ ’’سب لغویات ہے کوئی کچھ نہیں ہوگا، لوگوں کو تو اپنے اندر کے بھوت ڈراتے رہتے ہیں بھوت چڑیل صرف وہم کے نام ہیں۔‘‘
’’یوں چیخ چیخ کر بولنے سے حقیقت پر تم گرد تو ڈال سکتے ہو مگر چھپا نہیں سکتے۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ ’’پیغام رسانی کا ذریعہ بتائو یا روح کو مان لو۔‘‘
’’جمعرات آٹھ بجے، وقت خود جو سچ ہے منوالے گا۔‘‘ اس نے بحث ختم کرتے ہوئے کہا۔
’’اٹھو اماں کھانے کے کمرے میں ہماری منتظر ہوں گی، اگر لیٹ ہوگئے تو طویل لیکچر سننا پڑے گا۔‘‘
میں نے برقی گھنٹی کا بٹن پش کیا اور چوکیدار آگیا۔
’’منشی خان۔‘‘ سرفراز نے اس کے کندھے پر دھپ سے ہاتھ مارا۔
’’تمہارے نشے کا کیا حال ہے۔‘‘
’’اب بہت آرام ہے صاحب جی۔‘‘ منشی خان نے ممنون نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’بھلا ہو بی بی جی کا سگریٹ چھڑا کر مجھ پر بڑا کرم کیا ہے تنگ دستی کا بھی کچھ فائدہ ہوا ہے اور رات بھر آرام سے سوتا ہوں ورنہ کھانسی سونے ہی نہیں دیا کرتی تھی۔‘‘
’’دیکھو منشی خان۔‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے
’’آج سے اندر کی تمام بتیاں بند رہا کریں گی صرف برآمدے کا بلب روشن رہے گا۔‘‘
’’کیا بل جاستی آگیا ہے جی۔‘‘ منشی خان نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’بل جاستی نہیں آیا بلکہ غیر ضروری، بجلی ان دنوں استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔‘‘
’’اچھا جی بجھا دیا کروں گا۔‘‘ منشی خان نے ہماری موجودگی میں ہی سوئچ آف کرنے شروع کردیے۔
’’چلو جلدی کرو۔‘‘ سرفراز نے کہا۔ ’’ہمارا بھائی بلیک آئوٹ کر رہا ہے۔‘‘
جمعرات والے روز روبی، راحیل اور ایک خاتون آمنہ خاتون بارہ بجے ہی بشن داس کی کوٹھی میں چلے گئے تھے روبی اپنے ساتھ اپنا باورچی اور کھانے پکانے کا سامان لے گئی تھی چونکہ انتظامیہ پارٹی کی وہی سربراہ تھی اس لیے مجھے آخر وقت تک معلوم نہ ہوا کہ اس نے اسٹیج کس طرح تیار کیا تھا میں اور سرفراز مہمان جوڑے کی حیثیت سے جب گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو آمنہ خاتون نے سیڑھیوں پر ہمارا استقبال کیا تھا باورچی قسم کے دو مرد آگ تاپ رہے تھے برآمدے میں پیٹرومکس روشن تھا۔
’’روبی کہاں ہے۔‘‘ میں نے آمنہ سے دھیمی آواز میں پوچھا۔
’’دعا کے لیے دستر خوان چن رہی ہے۔‘‘
’’کیا وہ پانچوں موجود ہیں۔‘‘ سرفراز نے پوچھا حالانکہ راحیل ٹرانسمیٹر پر اوکے کی رپورٹ دے چکا تھا۔
’’ہاں اندر سات مرد بیٹھے ہوئے ہیںان میں سے ایک مولوی بھی ہے۔‘‘ آمنہ خاتون کی رہنمائی میں ہم دونوں اندر داخل ہوئے پیٹرومکس کی روشنی میں وہ لوگ چٹائی پر دائرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’ریحانہ آپا نے معذرت کے ساتھ بہو اور بیٹے کو بھیج دیا ہے۔‘‘
سرفراز نے سلام کیا اور میں جھک کر آداب بجا لایا۔
’’امی جان کو ڈاکٹر نے اجازت نہیں دی۔‘‘ میں نے نگاہیں جھکا کر بتایا۔’’انہوں نے آپ لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘‘
منصب دار بڑے غور سے میری جانب دیکھ رہا تھا لیکن میرے چہرے پر نئی نویلی دلہن کی سرخی بکھری ہوئی تھی میرا میک اپ سرفراز کے ماہر ہاتھوں نے کیا تھا لہٰذا پہچان لیے جانے کا کوئی خطرہ نہیں تھا مہدی علی خان کے دوستوں سے ہم پہلے مل چکے تھے اس لیے دونوں کا میک اپ ضروری تھا۔ ’’ٹھیک ہے بچو۔‘‘ منصب دار نے زیر لب مسکراتے ہوئے بولا۔ ’’یہ برسی ہمارے دوست کی روح کو سکون پہنچانے کے لیے ضروری تھی۔‘‘
منصب دار کی ذو معانی بات اور مسکراہٹ پر میں چونک اٹھی تھی وہ یقیناً کچھ نہ کچھ سمجھ رہا تھا لیکن اب ہمیں کسی کے بدکنے کی کوئی پروا نہ تھی ہم نے مہدی علی خان کی ہدایت پر سب کو جمع کردیا تھا ہمیں اتنا ہی کہا گیا تھا آگے کی کارروائی ہمارے پروگرام میں شامل نہ تھی۔
دعا کے بعد جب سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو قہوہ تقسیم کیا گیا ابھی قہوہ کسی نے بھی ختم نہ کیا تھا کہ عقبی کھڑکی دھڑ سے کھلی سب نے بیک وقت چونک کر ادھر دیکھا تھا معاً ایک سفید کبوتر پھڑپھڑاتا ہوا ہمارے درمیان گرا اور پھر ہمارے سروں کے اوپر سے اڑتا ہوا کھلے دروازے باہر نکل گیا، سب ہی پتھر کی طرح اپنی اپنی جگہ بے حس و حرکت ہوگئے تھے جس کی پیالی جس حالت میں تھی وہاں ہی جم سی گئی تھی ابھی سکتہ ٹوٹنے بھی نہ پایا تھا کہ عقبی کمرے سے ایسی آواز آنے لگی جیسے زنجیریں آپس میں ٹکرا رہی ہوں سب کی ساکت پتلیاں تھرک اٹھیں اور جیسے برقی رو کا منقطع سلسلہ بحال ہوگیا اور ٹھہری ہوئی گردنیں متحرک ہوگئی تھیں۔
’’یہ کیسا مذاق ہو رہا ہے؟‘‘ جمال دین ناگوار آواز میں بولا۔
’’مجھے پہلے ہی شک تھا کوئی گڑ بڑ ہے۔‘‘
’’سلطان۔‘‘ آمنہ خاتون نے چیخ کر آواز دی۔
’’دیکھو یہ کون شرارت کر رہا ہے۔‘‘
ابھی کسی نے آمنہ خاتون کے حکم کی تعمیل نہ کی تھی کہ کونے میں پڑی پرانی کرسی ہلنے لگی۔
’’وہ… وہ… ادھر۔‘‘ میرے منہ سے سچ مچ گھٹی گھٹی چیخ ابھری تھی۔
مولوی صاحب نے بہ آواز بلند سورۃ یاسین کی تلاوت شروع کردی تھی وہ کہنیوں کے بل جھکے ہلکورے لے لے کر پڑھنے لگے تھے۔ کرسی فرش پر متحرک تھی ثانیہ بھر رکتی پھر چل پڑتی تھی چند قدم دور آکر کرسی کو چلتے چلتے جیسے ٹھوکر لگی تھی لڑکھڑاتی اور پھر رخ بدل کر رک گئی۔
’’السلام علیکم۔‘‘ کرسی کی سیٹ سے بھرائی ہوئی مردانہ آواز ابھری۔
’’وعلیکم اسلام۔‘‘ یہ مولوی صاحب کی آواز تھی باقی لوگ میرے سمیت خوف و دہشت میں ڈوبے ہوئے تھے۔
’’میں مہدی علی خان ہوں۔‘‘ کرسی بولنے لگی۔
’’طویل مدت بعد میرے دوست پھر یہاں آئے ہیں۔ میں اپنے دوستوں کو خوش آمدید کہتا ہوں اور اپنے قاتل سے انتقام لے رہا ہوں، ایک ایک کرکے میرے دوست میرے قریب آئیں گے۔ منصب دار تم پہلے آئو۔‘‘
منصب دار اچھل کر اٹھا اور میں نے محسوس کیا تھا کہ سرفراز نے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ریوالور تیار کرلیا تھا۔ منصب دار نے اٹھ کر چند قدم بڑھائے اور کرسی کے ہتھے پر جھک کر آگے نکل گیا۔
’’شیر خان اب تم اٹھو۔‘‘ اس بار منصب دار نے تحکم آمیز آواز میں کہا جیسے مہدی علی خان نے بقیہ کارروائی اسے سونپ دی تھی۔
شیر خان فوراً نہیں اٹھا تھا اس نے خوف زدہ نگاہوں سے چاروں طرف دیکھا، پھر اٹھا اور آنکھیں بند کر کے دوڑتا ہوا کرسی کے قریب سے گزرتا ہوا منصب دار سے جا ٹکرایا تھا۔ منصب دار نے اسے سہارا دے کر دلاسہ دیا اور بولا۔ ’’ہم دونوں اپنے دوست کے قاتل نہیں ہیں، اب کرم دین تم اپنے آقا سے وفاداری کا ثبوت دو گے۔
’’نن… نہیں…۔‘‘ کرم دین نے نفی میں ہاتھ لہرائے۔
’’مم… میں… !‘‘ میں پھر وہ پھدک کر اٹھا اور دروازے کی طرف دوڑا، سرفراز نے سلپ لیا اور کرم دین اس کی ٹانگ میں الجھ کر اوندھے منہ گر پڑا۔
’’اٹھو اپنی وفاداری کا ثبوت دو۔‘‘ سرفراز نے کرم دین کو گریبان سے جکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں… مم… میں اس کے قریب نہیں جائوں گا۔‘‘ کرم دین دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بلکنے لگا پھر یکدم تڑپ کر سرفراز کی گرفت سے نکل گیا اور دوڑتا ہوا کسی کے سامنے جا کر گھٹنوں کے بل گرا۔
’’مجھے… مجھے معاف کردیجیے مالک… مجھے معاف کردیجیے… میں اندھا ہوگیا تھا۔‘‘
’’کھڑے ہوجائو نمک حرام۔‘‘ منصب دار جھپٹا اور کرم دین کو بالوں سے پکڑ کر اٹھایا ’’تم ہی اپنے مالک کے قاتل ہو۔‘‘
’’ہاں میں اعتراف کرتا ہوں۔‘‘ کرم دین ہانپتے ہوئے بولا۔ ’’دولت کی ہوس نے مجھے اندھا کردیا تھا۔
’’براہ کرم۔‘‘ سرفراز نے نقلی چہرے کی جھلی اتارتے ہوئے کہا ’’مجرم ہمارے حوالے کردیجیے ہم قانون کے محافظ ہیں۔‘‘ میں نے سرفراز کی تقلید میں جب نقلی چہرہ الگ کیا تو پانچوں اشخاص بری طرح اچھل پڑے تھے کیونکہ میں اصلی چہرے کے ساتھ ان سے مختلف اوقات میں ملاقات کرچکی تھی۔
’’میں معزز مہمانوں سے قانون کے نام پر درخواست کروں گی یکایک مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہوا تھا کیونکہ میں ایجنسی کی سربراہ تھی اور میرے کارکن وہاں موجود تھے جن کے نزدیک میں خاتون آہن تھی اگر میں خود کو سرفراز کے پس منظر میں رکھتی تو میری آہنی شخصیت میرے ما تحتوں کے نزدیک متاثر ہوسکتی تھی۔ ’’آپ لوگ تشریف لے جائیں۔‘‘
’’اور وہ شخص اب خود کو ظاہر کرسکتا ہے۔‘‘ سرفراز بول پڑا ’’جس نے حق دوستی ادا کرتے ہوئے یہ کیس ہمارے سپر دکیا تھا۔‘‘
جب کوئی بھی سامنے نہ آیا تو سرفراز نے مایوس نگاہوں سے میری جانب دیکھا اور گہری سانس لے کر کرم دین کا ہاتھ تھام لیا۔
’’اب بھی کسی شک کی گنجائش ہے سرفراز۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’سب کچھ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔‘‘
’’کرم دین۔‘‘ سنی ان سنی کرتے ہوئے اس نے کرم دین کو مخاطب کیا۔ ’’آرام سے کرسی پر بیٹھ جائو تمہارا آقا اپنا فرض ادا کر کے واپس جا چکا ہے۔‘‘ کرم دین نے نفی میں گردن ہلائی اور دھپ سے زمین پر بیٹھ گیا۔
جب ایک ایک کر کے چاروں مہمان کمرے سے نکل گئے تو میں نے آمنہ خاتون سے کہہ کر روبی، راحیل اور نیاز احمد کو بھی اندر بلا لیاروبی آخر میں آئی اور میں نے دیکھا کہ گل رنگ لڑکی سراپا مسکراہٹ بنی ہوئی ہے اور جب اس نے باہر جھانک کر کہا۔ ’’خالہ آپ بھی آجائیں۔‘‘ اندر آنے والی خالہ کو دیکھ کر میں نے خشونت آمیز نگاہوں سے روبی کو دیکھا۔
’’اسے کون لایاہے اور کیوں؟‘‘ میں نے سرد اور ناگوار آواز میں جواب طلب کیا۔
’’میں لائی ہوں میڈم۔‘‘ روبی نے مسکراہٹ دبا کر بتایا۔
’’مجھے کھانا پکانے کے لیے مدد درکار تھی۔‘‘
’’میری اجازت کے بغیر۔‘‘ میں نے روبی کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا یہ حرکت مناسب تھی۔‘‘
’’یس میڈم۔‘‘ روبی نے کہا۔
’’ہمارا پیشہ ہی ایسا ہے بعض اوقات اپنی ذات سے بھی گستاخی ناگزیر ہوجاتی ہے۔‘‘
’’میڈم۔‘‘ حسب دستور سب کی موجودگی میں سرفراز نے مودب انداز اختیار کرتے ہوئے کہا۔
’’کرم دین کا بیان ریکارڈ کرلیا جائے مقتول کی روح کو واپس جانا ہوگا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم ریکارڈ کرلو۔‘‘ میں نے اجازت دے دی۔
راحیل نے ٹیپ ریکارڈ آن کر کے مائیک کرم دین کے قریب کردیا۔
’’کریم دین۔‘‘ سرفراز نے سوال کیا۔ ’’تم نے اپنے مالک کو کیوں قتل کیا تھا۔‘‘
’’میں صرف جرم کا اعتراف کرتا ہوں۔‘‘ کرم دین نے جواب دیا۔
’’کیا تم پسند کرو گے کہ ناک اور کانوں کے بغیر عدالت میں جائو۔‘‘ سرفراز نے چاقو کھولتے ہوئے سرد آواز میں کہا۔
کرم دین نے پہلی بار چہرہ اوپر اٹھایا اور اس کی نگاہ سامنے کھڑی خالہ جیواں پر پڑی تو وہ بدبداتا ہوا اٹھا اور پھر گھٹنوں کے بل گر پڑا اور ہانپنے لگا۔
’’اوپر دیکھ نمک حرام۔‘‘ خالہ جیواں کڑکی اور چیتے کی مانند کرم دین پر جھپٹ پڑی تھی۔
’’مجھے… مجھے معاف کردو۔‘‘ کرم دین جیواں کے تابڑ توڑ طمانچے کھاتا ہوا گڑگڑانے لگا۔
’’بس خاتون محترم۔‘‘ سرفراز نے غصیلی جیواں کے دونوں ہاتھ جکڑے لیے۔‘‘ آپ ہمیں بیان لینے دیں۔‘‘
’’میں اس کی ہڈیاں چبا ڈالوں گی۔‘‘ جیواں نے اچھل کود کر دولتی جھاڑی اور کرم دین کراہتا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔
’’کرم دین میرا سوال تمہیں یاد ہے۔‘‘ سرفراز نے جیواں کو روبی کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔‘‘ کرم دین پل بھر چھت کو گھورتا پھر بولنے لگا۔ ’’میں اور مہدی ہندوستان میں ایک سیٹھ کے ملازم تھے مہدی منشی تھا اور میں گھر کا کام کیا کرتا تھا، جب بلوے شروع ہوئے تو ایک رات مہدی نے تجوری سے پندرہ سیر سونا اور ہیرے نکالے اور ایک قافلے کے ساتھ پاکستان آگیا میں بھی اسے تلاش کرتا ہوا جب اس سے ملا تو اس نے صاف انکار کردیا پھر میں موقع کی تلاش میں اس کا ملازم بن کر رہنے لگا اور اس رات جب الماری سے وہ سونا نکال رہا تھا تو میں نے اسے دبوچ لیا اور اس کی ناک پر تکیہ رکھ دیا جب وہ مر گیا تو اسے بستر پر لٹا کر کوئلے دہکا کر انگیٹھی قریب رکھی اور کھڑی کے راستے باہر نکل گیا تھا۔‘‘
’’سنو کرم دین۔‘‘ سرفراز نے سرگوشیانہ آواز میں کہا۔ ’’ہم پولیس کے آدمی نہیں ہیں اگر تم سونا اور ہیرے ہمارے حوالے کردو تو ہم تمہیں اور مہدی علی کو بھول جائیں گے۔‘‘
’’تم جھوٹے ہو۔‘‘ کرم دین جیواں کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے بولا۔ ’’ریحانہ بیگم تمہیں لائی ہے۔‘‘
’’کون ریحانہ بیگم۔‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔
’’میں۔‘‘ جیواں بول پڑی۔’’مجھے معاف کر نا بی بی… میں ریحانہ بیگم ہوں۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ میں ہونٹ سکوڑ کر رہ گئی تھی تب سرفراز نے قہقہہ لگایا اور بولا۔
’’اس کو کہتے ہیں چور کو لے گئے مور۔‘‘
’’ریحانہ بیگم اگر مجھے معاف کرسکیں تو مال واپس کیا جاسکتا ہے۔‘‘ کرم دین سودے بازی پر آگیا۔
میں نے ریحانہ بیگم کو آنکھ کا اشارہ کیا اور وہ بولی
’’ٹھیک ہے اگر مجھے سونا اور ہیرے لوٹا دو تو میں تمہیں معاف کردوں گی۔‘‘
’’اب بتائو مال کہاں ہے؟‘‘ سرفراز نے پوچھا۔
’’بینک کے لاکر میں۔‘‘ کرم دین نے بتایا۔
’’راحیل۔‘‘ سرفراز بولا۔
’’اب تم انکل کرم دین کو دوسرے کمرے میں لے جائو۔‘‘
’’ہاں خالہ۔‘‘ کرم دین کے جاتے ہی سرفراز نے مسکراتے ہوئے خالہ سے پوچھا۔
’’اب آپ بتائیں کہ ناک گھما کر پکڑنے کی کیا ضرورت تھی۔
خالہ نے روبی کی جانب دیکھا اور اور روبی پہلے تو ناخن کریدتی رہی پھر بولنے لگی۔
’’آج سے چند ماہ قبل ایک دن خالہ ہمارے دفتر آئی تھیں۔
آپ سیٹھ کریم اللہ مرڈر کیس کے سلسلے میں کراچی گئی ہوئی تھیں، خالہ نے مجھے عطیہ کریم سمجھ کر ساری داستان سنائی چونکہ میں ایجنسی کے قوانین سے آگاہ تھی اور خالہ کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ تھی لہذا میں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ عطیہ کریم کی ملازمت اختیار کرلیں اور پھر موقع محل دیکھ کر ہم آپ کا کیس پیش کردیں گے گزشتہ دنوں آپ کی عدم موجودگی میں ایک کلائنٹ نے بقایا رقم ادا کی اور میں نے وہ رقم خالہ کو دے کر ان کو تھوڑی جاسوسی کرنے پر رضا مند کرلیا اور پھر جو کچھ ہوا۔‘‘
میرا دل چاہ رہا تھا کہ روبی کا خوب صورت چہرہ نوچ لوں یا اپنی حماقت پر زور زور سے ہنسوں میں تو ہونٹ دانتوں تلے دبا کر چپ ہی رہی تھی البتہ سرفراز نے کھل کر قہقہے اچھالے تھے۔
’’خوب، بہت خوب۔‘‘ وہ بولا۔ ’’روبینہ نے ہمارا ہی جوتا ہمارے ہی سروں پر بجایا ہے۔‘‘
’’اچھی نیت سے برا کام کیا ہے۔‘‘ روبی بولی۔ ’’امید ہے معاف کردی جائوں گی۔‘‘
’’لیکن بلی۔‘‘
’’اوہ۔‘‘ روبی ہنس کر بولی۔
’’پہلے دن کوئی بلی محض اتفاق سے آپ کی خواب گاہ میں موجود تھی پھر جب آپ پر بلی کا بھوت سوار ہوتے دیکھا تو ہم نے بلی کو بھی ایک کردار بنا لیا تھا بلی اڑوس پڑوس سے آتی تھی۔‘‘
’’اور یہ کرسی کیسے چلی تھی۔‘‘
’’کرسی تو تار کے ذریعے راحیل چلا رہا تھا۔‘‘ روبی نے اٹھ کر فرش سے باریک تار اٹھا کر مجھے دکھایا اور پھر کرسی الٹ کر چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈ الگ کر لیا۔
’’میں اور راحیل نے یہ سارا انتظام کیا ہے۔‘‘
اور میں فیصلہ نہ کر پائی تھی کہ اپنے ذہین ما تحتوں کی کارکردگی پر فخر کروں یا اپنی توہم پرستی اور بے وقوفی کا ماتم کروں قاتل پکڑ کر روبی نے میری شخصیت کو قتل کردیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close