Naeyufaq Aug-16

اقرا

طاہر قریشی

(۶)قدرت
اللہ تعالیٰ کی ’’قدرت‘‘ کی صفات جن سے اس کی قدرت کی وسعت کا اظہار ہوتا ہے۔
(۱)۔ الفاتح والفتاح۔ ہرمشکل کو کھو لنے والا‘فتح ونصرت کے دروازے کھولنے والا‘ دل ودماغ روشن کرنے والا‘ حکم سناکرفیصلہ کرنے والا‘فتح مند‘ رحمت کا دروازہ کھولنے والا۔
(۲)۔القدیر والقادر۔ قدرت والا‘ غالب آنے والا‘ اندازہ کرنے والا‘ قیمت رکھنے والا‘ سب پر غالب۔ طاقت رکھنے والا‘ اختیار رکھنے والا‘ قابو رکھنے والا‘ مختار۔
(۳)۔المقتدر۔ اقتدار والا‘ جس کے سامنے کوئی چون وچرا نہیں کرسکتا۔ سب پرغالب‘ طاقت‘قوت‘ اقتدار‘ قدرت‘ زبردست‘ زور آور‘ مختارِ مطلق۔
(۴)۔القوی۔ایسا زبردست جس کے سامنے کسی کابس نہ چلے‘ ایسی قوت والا جس کے زیر قوت ہرچیز ہے‘ قوت دینے والا‘ تمام قوتیں اس کی ذات سے ہی حاصل ہوں۔
(۵)۔المتین۔مضبوط‘ جس میں کوئی کمزوری نہیں‘ استوار‘ مستحکم‘ جسے ہٹایانہ جاسکے‘ جس کے کاموں میں کوئی رکاوٹ نہیں‘ٹھوس بنیادوں پر قائم‘مہذب اور مضبوط۔
(۶)۔الجامع۔جمع کرنے والا۔ اختلافات اور تضادات کو ختم کرنے والا‘ یوم آخرت سب کچھ جمع کرنے والا‘ خلقت کو جمع کرنے والا‘ ایک مقام اور وقت پر سب کو حاضر کرنے والا‘ سب پر حاوی۔
(۷)۔الباعث۔اُٹھانے والا۔ مرُدوں کو قبروں سے اٹھانے والا۔خواب ِغفلت سے جگانے والا‘ہر واقع وحادثہ کا اولین محرک‘ آزادانہ نقل وحرکت میں حائل رکاوٹ دور کرنے والا۔
(۸)۔مالک الملک۔تمام عالم کامالک جس کے سامنے کسی کی کوئی ملکیت نہیں‘ جس کے سوا کو ئی مالکِ حقیقی نہیں‘ وہی سچااور حقیقی بادشاہ ہے‘ صاحب ثروت بادشاہ‘ ہر شے کا مالک۔
(۹)۔البدیع۔نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے والا‘ خالقِ اول‘ ہرشے کی ابتدا کرنے والا‘ ہر شے کی تخلیق سے پہلے موجود‘ کسی بھی چیز کوبغیر نمونے کے بنانے والا‘ بلااعتبار زمان ومکان ایجاد کرنے والا۔
(۱۰)۔الواسع۔ فراخ۔ہرجگہ موجود‘ بڑی وسعت والا‘ بڑی گنجائش والا‘ ہر بات تک پہنچنے والا‘ کائنات کی ہرشے پرقادر‘جس کا علم اور رحمت ہرشے پرمحیط ہے۔
(۱۱)۔المحیط۔احاطہ کرنے والا۔جوہرچیز کو گھیرے ہوئے ہے‘ کوئی اس کے احاطہ سے باہر نہیں ہے۔
(۱۲)۔الخالق۔خلق کرنے والا۔اپنی مشیت وحکمت کے مطابق پیدا کرنے والا۔ کائنات اور اس کی ہر ہرچیز کو پیدا کرنے والا‘ عدم سے وجود میں لانے والا۔
(۱۳)۔المحیی۔ زندہ کرنے و الا‘حیات دینے والا‘ زندگی دینے والا‘ احیاء کرنے والا‘ نعمت بخشنے والا۔
(۱۴)۔ الممیت۔ مارنے والا‘ موت دینے والا‘ خالق جو مارتاہے اور جلاتاہے۔ مرُدہ کرنے والا۔
(۱۵)۔القابض۔ سمیٹنے والا‘بندوں کی روزی محدود کرنے والا‘ روکنے والا‘قبضے میں کرنے والا‘ کائنات کی ہر شے پرمحیط۔
(۱۶)۔الباسط۔کشادہ کرنے والا‘ رزق وسیع کرنے والا‘علم وطاقت پھیلانے والا‘ اضافہ کرنے والا‘ وسعت دینے والا‘ دینا‘ زندگی بخشنا‘ خوشحالی۔
(۱۷)۔المعز۔عزت دینے والا‘ اپنی مخلوق کو طاقت اور عزت د ینے والا‘ توقیر وشرف بخشنے والا‘ سب پر غالب وفائق۔
(۱۸)۔ الباری۔ مخلوق کو پیدا کرنے والا‘ عدم سے وجود میں لانے والا۔
(۱۹)۔المذل۔ذلت دینے والا‘ کافروں کا درجہ گھٹانے والا‘ ذلیل کرنے والا۔
(۲۰)۔ المصور۔ صورت بنانے والا‘ترتیب وتزئین کرنے والا‘ وہ ذات جس نے سب کی الگ الگ صورتیں بنائیں‘ گناہ بخشنے والا۔
(۲۱)۔الخافض۔ نافرمانوں کوپست کرنے والا‘کافروں کو عاجر کرنے والا‘ نیچا دکھانے والا‘ خود ساختہ غرور کو توڑ کر پست کرنے والا۔
(۲۲)۔ الرافع۔ بلند کرنے والا‘ اوج وعروج عطا کرنے والا‘ رفعت وبلندی دینے والا‘ منزلت بخشنے والا‘ درجات بلند کرنے والا۔
(۲۳)۔المعطی۔ عطا کرنے والا‘ بخشش کرنے والا‘ انعام دینے والا‘ فضل وکرم کرنے والا‘مہربانیاں کرنے والا۔
(۲۴)۔المانع۔یہ نام صرف حدیث شریف میں آیا ہے۔مخلوق کے مصائب کوروکنے والا۔ مخلوقات کی حفاظت کرنے والا‘ بچانے والا‘باز رکھنے والا‘ روکنے والا‘ منع کرنے والا۔
(۲۵)۔ النافع۔ نفع پہنچانے والا‘ بھلائی پہنچانے والا‘ فائدہ پہنچانے والا‘ عمدہ ثمر دینے والا‘ بہتر نتیجہ دینے والا‘اس صفتِ الٰہی کا ذکر صرف حدیث شریف میں آیا ہے‘ قرآن میں براہ راست نہیں آیا۔
(۲۶)۔الضار۔ ضرر پہنچانے والا‘ نقصان پہنچانے والا‘ نقصان سے دوچار کردینے والا‘ نقصان و تباہی کا باعث بننے والا‘ غرور گھمنڈ توڑنے والا‘(یہ نام صرف حدیث میں آیا ہے)
(۲۷)۔المبدء۔ پہلی بار پیدا کرنے والا‘ خالقِ مطلق‘ جو چیز پہلے سے موجود نہ ہو اس کووجود میں لانے والا۔
(۲۸)۔ المعید۔دوسری بار پیدا کرنے والا‘ دوبارہ زندہ کرنے والا‘ جوچیز فنا کردی گئی ہواسے دوبارہ وجود میں لانے والا‘ بار بار پید اکرنے والا‘ ایک معنی اس کے قیامت کے اور دوسرے جہاں کے بھی ہیں۔
یہ وضاحت گزشتہ صفحات میں بھی آچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام ایسی صفات جن میں اس کے غضب وجلال کی صفات کابیان ہوا ہے‘ ان کے ساتھ ہی صفاتِ جمالی کا ذکر بھی فرمایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کی صفاتِ عالی میں کئی صفات جن کا تنہا استعمال چونکہ غلط فہمی پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے‘ اس لئے جب تک ان کے ساتھ ان کی مدمقابل مثبت صفت نہ بولی اور لکھی جائے اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کو صرف الضار جس کے معنی نقصان پہنچانے کے ہیں کہنایالکھنا درست نہیں الضار کے ساتھ النافع لکھنا ہوگا ایسے ہی الخافض کے ساتھ الرافع آئے گا۔یعنی نیچا کرنے والا‘اونچا کرنے والا۔ یعنی ایسی صفاتِ الٰہی جن سے انسانی ذہن میں کسی طرح بھی ذاتِ الٰہی کے لئے ذرا سا بھی منفی تاثر پیدا ہونے کاامکان ہو اس کے ساتھ اس تاثر کی مثبت صفتِ الٰہی کا استعمال کرنا ضروری ہوگا۔ قرآنِ کریم اور حدیث شریف میں ان صفاتِ الٰہی کے استعمال میں یہ رعایت رکھی گئی ہے۔ قرآنِ حکیم میں ربِّ کائنات نے خود یہی اسلوب اپنایاہے۔ نفع ونقصان کو ایک ساتھ لایا گیا ہے‘ کیونکہ وہ ذاتِ عالی جونقصان پہنچانے پر بھی پوری طرح قادر ہے وہ اگر کسی باغی‘نافرمان کو نفع پہنچارہی ہے تو اس کامقصد قطعی یہ نہیں کہ وہ ذاتِ عالی اسے نقصان نہیں پہنچاسکتی یہ صرف اس کے رحم وکرم اور فضل کی علامت ہے کہ اس طرح اپنے بندوں کو اپنے پیار شفقت سے راہ راست پر لانا چاہتا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close