Naeyufaq Aug-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

کراچی ایک بار پھر نشانے پر…!

گذشتہ کئی ماہ سے کراچی پر امن دکھائی دے رہا تھا کراچی والے رینجرز کی واہ واہ کرتے نہیں تھک رہے تھے لیکن رمضان شروع ہوتے ہی اچانک جہاں بھتہ مافیا سرگرم ہوئی وہیں دہشت گرد بھی اپنے ہتھیار سنبھال کر میدان میں نکل آئے ہیں، ہر روز دو چار قتل ہونا اب کوئی بات نہیں اب تک عام غیر معروف لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن کل ایک مقبول اور معروف شخصیت امجد صابری قوال کو دن دیہاڑے سر بازار قتل کردیا گیا قاتل بڑے جیدار اور ماہر نشانہ باز تھے بلا خوف و خطر انہوں نے اپنی کارروائی مکمل کی اور اطمینان سے چلتے بنے یہ سب کچھ ایسی جگہ ہوا جہاں رات و دن اچھا خاصہ ہجوم رہتا ہے، اس سے پہلے بھی سندھ کی اہم ترین شخصیت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے صاحبزادے اویس شاہ کو بھی بھری پری سڑک شاہراہ فیصل سے اغوا کرلیا گیا تھا ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ بہت سوچے سمجھے منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا ہے رینجرز جس کے خوف نے جرائم پیشہ افراد کو وقت ڈال دیا تھا شاید اب تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق وہ ایک بار پھر مرنے مارنے پر تل گئے ہیں یا دہشت گردی میں ملوث قوتیں ایک بار پھر اپنی قوت کا مظاہرہ کر کے اپنی آمدن کے ذرائع جو رینجرز کی کارروائیوں کے سبب رک گئے تھے یا ختم ہو گئے تھے ہوسکتا ہے کہ ایک بار پھر خوف کی فضا پیدا کر کے اپنی آمدنی کے ذرائع کو بحال کرنے کی کوشش ہو۔
سندھ حکومت کے بھی رینجرز کے اختیارات پر تحفظات ہیں آئے دن کسی نہ کسی معاملے پر سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان رسہ کشی کی فضا بنتی رہتی ہے، جرائم پیشہ افراد جن میں منفی ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہ بڑی باریک بینی سے ان اختلافات پر نظر رکھتے ہیں ابتدائے رمضان میں سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیار میں ایک کٹوتی نوے دن تحویل میں رکھنے کی اجازت کے اختیار کو ختم کردیا ایسے ہی جانے اور کتنے معاملات ہوں گے جو عام لوگوں کے علم میں نہیں آتے حکومت سندھ کے رویوں کے باعث رینجرز بھی بد دل ہو رہے ہیں اور ان کے کام اور کارروائیوں کا انداز بدل رہا ہے، غالباً اب رینجرز کسی جھنجلاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ حکومت اور رینجرز کارروائیوں کے مخالفین ہر ہر طریقے سے رینجرز کو بدنام کر رہے ہیں خود سامنے آنے کی بجائے پس پشت رہ کر ذرائع ابلاغ کے لوگوں کو خرید کر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سر گرم ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہر طرف پائی جاتی ہیں ہمارا تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے کوئی دودھ کا دھلا نہیں یہاں تک کہ مذہبی دینی جماعتوں پر بھی طرح طرح کے الزامات عائد ہوتے رہتے ہیں جب قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کرپشن بد عنوانی کے الزامات لگائے جاتے ہیں تو اس طرح ان کی توجہ اصل معاملات سے ہٹانے کی مذموم کوشش ہوتی ہے کہ متعلقہ ادارہ جرائم پیشہ افراد سے اپنی پوری توجہ ہٹا کر اپنی صفائیاں پیش کرنے میں مصروف ہوجائے اور جرائم پیشہ عناصر کو کوئی موقع ہاتھ آجائے غالبا چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کا اغوا جو دن کے دو اور ڈھائی بجے کے درمیان ایک مصروف ترین شاپنگ سینٹر سے کیا گیا اور پھر اب دن دہاڑے تقریباً ڈھائی تین بجے کے درمیان لیاقت آباد جیسے گنجان علاقے میں مشہور قوال امجد صابری کو نشانہ بنانا یہ سب کوئی معمولی کھیل نہیں بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ ہے شہر جو پر امن ہو رہا تھا لوگوں کے دلوں سے خوف ختم ہو رہا تھا کو پھر ایک بار دہشت گردی کی لپیٹ میں لے کر شہر کے امن و امان کو برباد کر کے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والوں کو پیغام دینا ہے کہ تم چاہے جتنا ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کروں لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے اگر قانون نافذ کرنے والوں کو سانس لینے کی کچھ مہلت دے دی تھی تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم تم سے ڈر کے خوفزدہ ہو کر دبک کر بیٹھ گئے آخر ان کی بھی بقا کا مسئلہ ہے ان کے ذرائع آمدن کا مسئلہ ہے اگر جرائم پیشہ جماعتوں اور افراد کا خوف کراچی خصوصاً اور سندھ کے بڑے شہروں کے باسیوں کے دل سے جاتا رہا یا مٹ گیا تو پھر ان کے اقتدار کا کیا ہوگا ان کی مختصر سی خاموشی کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ دکھائی دیتی ہے، رمضان کا مہینہ جو عام مسلمانوں کے لیے رحمت الٰہی اور برکتوں کا مہینہ مانا جاتا ہے ہمیں ان جرائم پیشہ جماعتوں اور افراد کے لیے بھی بھتے کی آمدنی کا بہت اہم اور بڑا ذریعہ مانا جاتا ہے زندگی کی بقا کا بھتے کے علاوہ اس ماہ مبارک میں زکواۃ اور فطرے کی بے بہا آمدنی اضافی آمدن ہوتی ہے جو اگر کوئی رضا مندی سے ادا نہیں کرتا تو زبردستی بندوق کی نوک پر وصول کرلی جاتی ہے۔
گذشتہ کچھ عرصہ اگر دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد اور جماعتوں نے اگر کچھ عرصے کے لیے ہاتھ روکے رکھا تھا تو ان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ اپنی بقا کی جنگ ہار گئے تھے ان کی خاموشی نے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطمینان دلایا تھا کہ اب سب کچھ قابو میں آچکا ہے وہ بھی اپنی آمدنی اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والی چمک کے حصول میں لگ گئے تو انہوں نے اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کر کے ظاہر کردیا کہ ابھی کچھ نہیں بدلا اب بھی ان کے علاقوں میں ان کا ویسا ہی راج ہے جیسا رینجرز کی کارروائیوں سے پہلے تھا بقول کچھ تجزیہ نگاروں کے ابھی تو ٹریلر چلا ہے فلم تو ابھی باقی ہے دیکھنا ہے کتنا زور بازوئے قاتل میں ہے۔قاتلوں کا خیال ہے کہ مشہور و معروف افراد کے قتل و اغوا سے جہاں لوگوں میں بے چینی اور خوف پیدا ہوگا وہیں وہ حکومت کے خلاف سوچیں گے اور ہوسکتا ہے کہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں کیونکہ بارود کے ڈھیر کو ایک ہلکی سی چنگاری کافی رہتی ہے حکومت سندھ کا یہ رویہ بھی کچھ آ بیل مجھے مار جیسا ہے لوگوں اور خصوصا ان متاثرہ جماعتوں کو مجبور کر رہی ہے اور کے ڈی اے کے مرے گھوڑے میں جان ڈال کر بلدیہ عظمیٰ اور اس سے متعلق اداروں کو بے جان کر رہی ہے، اس طرح جہاں کامیاب بلدیاتی نمائندوں کا حق غصب کر رہی ہے وہیں کراچی شہر کے عوام کے بلدیاتی حقوق پر بھی ڈاکہ ڈال رہی ہے یوں حکومت اور حکمران خود اپنے خلاف عوام کو اکسا رہی ہے کہ ان کے خلاف احتجاج کریں ایسے میں اگر شہر کو دہشت گردوں نے اپنا نشانہ بنا لیا ہے تو اس میں ان سے زیادہ خود حکمرانوں کی غلطی ہے حکمران اپنے خلاف خود دہشت گردوں کو دعوت دے رہے ہیں یعنی یوں کہا جائے توغلط نہیں ہوگا کہ ہر کوئی اپنی طاقت کے نشے میں چور آنکھیں بند کر کے آگ کی طرف دوڑا جا رہا ہے حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ سندھ میں اور خصوصاً کراچی کو کیسے پر امن شہر بنایا جائے حکومت کی رٹ اگر رینجرز نے قائم کرنے کی انتھک کوشش سے بحال ہوئی بھی تو حکمران اپنے ناقص فیصلوں سے اسے خود ختم کرنے کے در پہ ہیں۔ اللہ ہماری اور ہمارے وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور دہشت گردوں اور منفی سوچ کے حکمرانوں سے ہماری جان چھڑائے، آمین یا رب العالمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close