Naeyufaq Jul-16

گندی نسل

آفرین اعوان

بجا حکم خدا لیکن، زمانے نے دکھایا ہے۔ بہت سی مائوں کے قدموں تلے ،جنت نہیں ہوتی۔
/…/…/
یہ کس کو ساتھ لے آئے ہو۔؟‘‘ سکینہ نے اپنے شوہر کے ساتھ ایک جوان دوشیزہ کو گھر میں داخل ہوتے ہو ئے د یکھا تو کہا۔
’’یہ میرے دوست دلاور کی بیٹی ہے۔‘‘ شاہ صاحب نے اپنے ساتھ آنے والی لڑکی کو چارپائی پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کو جواب دیا۔
’’وہی دلاور ،جس کی بیوی۔
ہاں ہاں ۔وہی ۔
’’شاہ صاحب نے اپنی بیوی کی بات کاٹی ۔مبادہ وہ شروع ہو گئی تو اُس لڑکی کو برُا لگے گا۔
’’تو کیا یہ اب…!‘‘
’’ہاں یہ اب یہی رہے گی۔‘‘ شاہ صاحب نے ایک بار پھر بیوی کی بات مکمل کر دی۔
’’جائو بیٹی ،یہ سامنے کمرہ ہے۔ اپنا سامان رکھو ،منہ ہاتھ دھو لو، پھر کھانا کھاتے ہیں۔ سکینہ کھانا تیار ہے نا۔۔آخری جملہ وہ اپنی بیوی کو کہتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب چلے گے تا کہ اُن کی بیوی مزید کوئی بات نہ کر سکے۔
/…/…/
رات کی سیاہی کسی ناگ کی طرح،دن کے اُجالے کو کھائے جا رہی تھی اور اندر وہ بیٹھی اپنے بخت کی سیاہی کو رو رہی تھی۔کسی نا کردہ گناہ کی پاداش میں ٹھہرائے گئے مجرم کی طرح ،خود کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا اُس نے ۔کتنے ہی دکھ تھے جو اس وقت دامن گیر ہو چکے تھے ۔بھائی قتل ہو چکا تھا ،باپ اُس کا بدلہ لینے چلا گیا۔ یا تو مر جائے گا ،یا مار ڈالے گا ۔گر قاتل کو مار بھی ڈالا تو پھانسی اُس کا مقدر بنے گی۔گھر کا گھر بکھر گیا۔ماں یہ لفظ ذہن میں آتے ہی اُس کے منہ کا سارہ ذائقہ کڑوا ہو گیا ۔اُس نے نفرت سے زمین پہ تھوک دیا۔
رات دھیرے دھیرے آگے کو سرک رہی تھی اور اُس کی سوچ کا پنچھی پیچھے کو محوپرواز تھا۔اُ س کا بھرا پرُا گھر۔باپ،چچا ،تایا ،دو پھپھیاں،دادی،اُس کے تایا زاد ،چچا زاد،بہن بھائی ،اُس کی ماں کوثراُسے سب یاد آنے لگا اُس کا بچپن ،سب کا پیار ۔باپ چچا ،تایا کے پاس آنے والے لوگ۔سب کا اُ ن کو عزت دینا ۔اُ س کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ وہ سب ایک ہی جگہ رہتے تھے ،تا ہم گھر کو چاردیواری لگا کر الگ کیا گیا تھا ،تا کہ پردہ قائم رہے۔ اُس کو اپنے باپ کے ساتھ آنے ولا وہ شخص یاد آیا ،جسے وہ چاچا جی کہتی تھی ،وہ شخص پہلے تو اُس کے باپ کی مو جودگی میں آتا تھا ،پھر یوں ہوا کہ وہ اکثر اُ س کے باپ کی عدم موجودگی میں آنے لگا۔اُس نے دیکھا کہ اب اُس کی ماں سجنے سنورنے لگی تھی ۔ جب بھی وہ شخص آتا ،اُس کی ماں اُس کے لیے خاص قسم کے کھانے بناتی تھی۔ زینب کو یاد آیا کہ وہ جب بھی آتا ،زینب کے لیے بہت سی چاکلیٹ ،ٹافیاں لاتا تھا ۔اُسے کیا معلوم تھا کہ ان کی مٹھا س کل اس کی زندگی میں ایسا زہر گھولے گی۔کہ خود اس کو اپنی ہی زندگی سے نفرت ہو جائے گی۔وقت کا پہیہ چلتا رہا ،اور اس کے گھر میں اعتبار کا خون ہوتا رہا۔وہ اعتبار جو اُس کے باپ نے اپنی بیوی پہ کیا تھا اور وہ اعتبار جو اُس کے باپ نے اپنے دوست پہ کیا تھا۔پہریدار غفلت کی نیند سوتے رہ گے اور چور نقب لگا کر چلتا بنا۔ وہ جو اپنی ماں کی آغوش میں سوئی تھی ،اُسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب اُس کی لوری سنانے والی ماں اُس کے لیے ہمیشہ کے طعنے سننے کو چھوڑ گئی۔وہ جو اُٹھی تھی کہ اپنے معصوم پیٹ کی آگ بجھا سکے ،اُسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ اُس کی اپنی سگی ماں اُس کے لیے آگ کا ایسا الائو جلا کے چھوڑگئی ہے کہ جس میں اُس کا پورا خاندان جل کر راکھ ہو جائے گا اور اُس کی زندگی میں وہ منحوس گھڑی بھی آ گئی ،جب اُ س معصوم کی آنکھ ایک عجیب قسم کے شور وغل سے کھل گئی ۔
دیکھ لیا اپنے گھر اُس غیر مرد کو لانے کا نتیجہ؟ بھاگ گئی وہ اُس کے ساتھ۔گندی نسل۔اُس کی ماں بھی ایسی ہی تھی ۔آج اُس نے بھی دکھا دی اپنی اوقات۔۔۔۔یہ اُس کی پھوپھی تھی ۔ جو نہ جانے کس کے بھاگ جانے کا اُس کے باپ کو بتا رہی تھی۔۔۔اُس کا باپ سر نیچے کیے چپ بیٹھا تھا۔گویا زمین میں دھنسنا چاہا رہا ہو۔اُس نے دیکھا کہ اُس کا بھائی قاسم جو کہ اُس سے چھ سال بڑا تھا۔ اُس کے پاس ہی بیٹھا ہے ،اُس نے سر اپنے بھائی کے ساتھ ٹکا دیا۔
بھیا ! پھوپھو کو کیا ہوا ہے۔؟ کون بھاگ گیا ہے۔؟ اماں کدھر ہیں ۔؟ مجھے بھوک لگی ہے۔۔وہ معصوم اوپر تلے نہ جانے کتنے سوال اپنے بھائی سے کر بیٹھی ۔۔بھائی جوکہ خود ابھی بچہ تھا مگر اُس سے بڑا تھا تو بڑا ہونے کا حق ادا کر رہا تھا۔اپنی بہن کو اپنے سینے سے لگائے تسلی دینے لگا ۔
’’کچھ نہیں زینب ۔میں ہوں نا۔میں دیتا ہوں تمھیں ناشتہ۔‘‘ وہ اُسے اپنے ساتھ اُٹھانے لگا۔
ہاں ہاں ،اب خود ہی کرو گے نا سارے کام۔اں جو بدچلن تھی۔۔بھاگ گئی ۔گندی نسل۔اُس کی پھوپھی اپنی ساری نفرت کا اظہار ان غلاظت بھرے الفاظ سے کر رہی تھی کہ جس کا شاید مطلب بھی ان معصوموں کو پتہ نہ تھا۔تا ہم وہ اپنے گھر کی اچانک بدل جانے والی فضا سے سہم سے گئے تھے۔آئو ۔وہ اُسے اپنے ساتھ لگائے با ورچی خانے کی طرف جانے لگا۔
’’اماں کہاں ہیں بھائی ۔؟ زینب کی سوئی ابھی تک وہیں ٹکی ہوئی تھی ۔کہیں کام سے گئی ہے ۔ابھی آ جاتی ہے۔ مگر اُن کی اماں نے نہ آنا تھا ،نہ وہ آئی۔۔کتنا روئی تھی وہ ماں کے لیے۔آج بھی جب اُسے یاد آیا تو اُس کی آنکھوں کے گوشے بھیگنے لگے، مگر آج اُس نے سختی سے رگڑ کر آنکھوں کو صاف کیا کہ اب اُس نے رونا چھوڑ دیا تھا ۔یا شاید اُس کی آنکھوں کا پانی ہی سوکھ گیا تھا کہ اب اُس کے پاس کچھ ایسا بچا ہی نہ تھا کہ جس کے لیے وہ فکر مند ہوتی یا روتی۔ کچھ لوگ زندگی کو ،گزارتے ہیں اور کچھ لوگوں کو، زندگی گزارتی ہے، سو اُس کو بھی زندگی گزار رہی تھی اور اب تو شاید وہ زندہ ہی صرف ایک مقصد کے لیے تھی ،کہ اُسے اپنی ماں کو تلاش کرنا تھا۔
/…/…/
نام کیا ہے تمہارا ؟ ابھی وہ آ کے بیٹھا ہی تھا کہ وہاں پہلے سے موجود شخص نے اُس سے پوچھنا شروع کر دیا۔
’’دلاور۔‘‘ اُس نے مختصر سا جواب دیا۔
ہمم۔کس جرم میں ۔؟
قتل۔اُس کا انداز ہنوز تھا۔
’’واہ…‘‘ اُس نے یوں کہا گویا دلاور نے کوئی کارنامہ سر انجام دیا ہو۔کس کو کیا قتل؟اُس نے سگرٹ سلگاتے ہوئے پھر سوال داغا۔
’’اپنے بھائی اوربھتیجے کو۔‘‘ دلاور نے آنکھیں موند لیں۔
’’کیا۔؟سگے تھے کیا۔‘‘
’’ہاں۔کیوں؟‘‘
’’کیوں کہ میرے بھتیجے نے میرے بیٹے کو مار ڈالا تھا۔دلاور کا گلا خشک ہو گیا۔
وہ اُٹھا اور پاس پڑے گھڑے سے پانی ڈال کر دلاور کو دیا دلاور نے پانی یوں پیا گویا صدیوں سے پیاسا ہو۔اگر مناسب سمجھو تو بتا دو کہ تمہارے بھتیجے نے تمہارے بیٹے کو کیوں۔
’’پتا نہیں مجھے کال کوٹھڑی میں کب بھیجیں گے؟‘‘ دلاور نے بات بدل ڈالی۔
اور سوال پوچھنے والا مسکرا دیا ۔ کیوں کہ وہ جان گیا کہ دلاور اُس کو جواب نہیں دینا چاہتا۔
’’گھر میں کس کو چھوڑ کے آیا ہے ۔؟اُس نے دلاور کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
کوئی نہیں ہے۔ دلاور کا لہجہ ہنوز ویسا ہی تھا۔
’’ہمم۔ بس ایک ہی بیٹا تھا کیا؟ لگتا تھا جیسے وہ بھی آج ہی سب کچھ پوچھ کے ہی دم لے گا۔
’’نہیں بیٹی بھی ہے تو وہ کس کے پاس ہے؟‘‘
اُسے اپنے دوست کے پاس چھوڑ آیا ہوں۔ دلاور نے سانس چھوڑتے ہوئے کہا۔
’’اور بیوی؟‘‘ اُس نے پوچھا ہی تھا کہ دلاور کی آنکھوں کا رنگ بدل گیا۔
’’مر گئی۔‘‘ دلاور نے ہاتھ میں پکڑا سگریٹ زمین پہ مسل دیا ،یوں کہ اُسے احساس تک نہ ہوا کہ سگریٹ نے اُس کی اُنگلیوں کی پوروں کو داغ ڈالا ہے۔
ہمم وہ جہاندیدہ انسان تھا۔ دلاور کی ایک حرکت نے اُسے سب کچھ بتا دیا۔ بس پھر اُسے مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہی۔
’’اوئے چائے لا ذرا کڑک سی۔‘‘ اُس نے باہر کھڑے سنتری کو یوں کہا گویا وہ کوئی افسر ہو۔ لگتا تھا وہ یہاں عرصے سے قید تھا۔ تبھی اُس کی آواز سنتے ہی وہ سنتری چلا گیا۔ جبکہ دلاور سامنے دیوار کو یو ں گھورنے لگا جیسے سامنے دیوار پہ کوئی فلم چل رہی ہو اور شاہد کوئی فلم واقعی میں چل رہی تھی۔ دیوار پہ تو نہیں ہاں دلاور کے ذہن میں ضرور میں آپ کو بتا رہا ہوں اباکہ میں اس راشد کو نہیں چھوڑوں گا۔
’’کیا ہو اقاسم؟ کیوں آج اتنے غصے میں ہو۔‘‘ دلاور نے اپنے بیٹے کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو پوچھا۔۔
’’وہ ہمیشہ بھری محفل میں مجھے ذلیل کرتا ہے ماں کا طعنہ دیتا ہے میں اب بچہ نہیں رہا کہ جو اُس کی باتیں سن کے چپ ہو جائوں۔‘‘
’’حوصلہ بیٹا صبر مجھے بھی برا لگتا ہے ،پر کیا کروں ۔تیری ماں نے کیا ہی ایسا ہے کہ…!‘‘ دلاور کو شدید دکھ نے آ لیا۔
’’خدا غارت کرے تیری ماں کو مر جاتی تو اچھا تھا۔‘‘
’’مر جائے گی ابا… میرے ہاتھوں مگر آپ تایا سے کہیںکہ اس راشد کو سمجھائے۔
’’کیا سمجھائے راشد کو۔؟ٹھیک ہی تو کہتا ہے وہ گرم کیوں لگتا ہے تم سب کو۔‘‘ تائی جو نہ جانے کب سے وہاں کھڑی اُن کی باتیں سن رہی تھی، فوراً بول پڑی۔
’’تائی۔‘‘ قاسم مارے ضبط کے بول نہ پا رہا تھا۔
’’کیا تائی؟ بتائو نا کیا نہیں بھاگی تمہاری ماں؟‘‘ اُس نے ہاتھ نچاتے ہوئے کہا۔
’’کیا تم گندی ماں کی اولاد نہیں؟‘‘ اس سے پہلے کہ قاسم کوئی بد تمیزی کر جاتا دلاور نے بھابھی کو باہر کر دیا ،اور کمرے کے دروازے کی کنڈی چڑھا دی مگر لفظوں کی یہ آگ یہیں پر ختم نہ ہوئی، بلکہ اس آگ نے قاسم کو اپنی لپیٹ میں یوں لیا کہ وہ اپنے ہی خون، اپنے تایا زاد بھائی راشد کے ہاتھوں قتل ہو گیا ۔۔اور راشد کو دلاور نے مار ڈالا۔یہی نہیں بلکہ راشد کو بچانے کے لیے جب دلاور کا سگا بھائی آگے آیا تو وہ بھی دلاور کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔اور اب دلاور اپنی موت کے انتظار میں یہاں اس جیل میں بیٹھا تھا۔۔چائے۔۔۔۔دلاور کو اُس شخص نے خیالوں کی دنیا سے باہر کھینچا۔۔ہمم ۔۔۔۔لائو۔۔۔دلاور نے چائے کی پیالی اُس کے ہاتھ سے لے لی ۔۔کہ جب تک پھانسی کا پھندا اُس کے گلے میں نہیں آ جاتا ۔۔اس شخص کا ساتھ ہی غنیمت تھا۔۔
/…/…/
ماں !کس قدر کڑواہٹ تھی اس لفظ میں۔۔یہ تو کوئی زینب سے پوچھتا۔وہ جس نے اس لفظ کی تلخی کو گھونٹ گھونٹ پیا تھا۔وہ جب بھی اکیلے بیٹھتی ،ماضی اُسے آ گھیرتا۔۔او ر تھا ہی کون، جو اُس کے پاس بیٹھتا شاہ صاحب کی بیوی ،۔۔وہ تو اُس کو کب کا گھر سے ہی نکال چکی ہوتی اگر اُسے اپنے شوہر کا ڈر نہیں ہوتا توکاش اُس کی ماں کو بھی اُس کے باپ کا ڈر ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہ ملتے اچانک اُسے باہر بچوں کے لڑنے کی آواز آئی، تو وہ بھاگ کر گلی میں گئی ،سامنے تین بچے کسی کھلونے پہ آپس میں لڑ رہے تھے۔ زینب نے دروازہ کھولا اور اُن بچوں کو چھڑایا۔ معصوم تھے ،لڑائی بھی جلدی اور صلح بھی جلدی۔ زینب کے چھڑانے پہ وہ اُچھلتے کودتے وہاں سے آگے نکل گے، مگر زینب وہ وہی کہیں رہ گئی۔ یہ گڑیا میری ہے زینب کو یاد آیا کہ کیسے اُ س کی گڑیا اُس کی تایا زاد نے لے لی تھی نہیں یہ میری ہے۔ اُس کی تایا زاد نے اُسے پیچھے کی طرف دھکا دیا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور پیچھے کی طرف گر گئی۔ قاسم اپنی بہن کے رونے کی آواز پہ دوڑ کر آیا۔کیا ہوا زینب۔؟وہ اُسے اُٹھاتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ بھائی یہ میری گڑیا ہے اور شہلا مجھے نہیں دے رہی۔ زینب نے روتے ہوئے اپنے بھائی کو بتایا۔ شہلا۔ لائو گڑیا واپس کرو اس کی۔ قاسم نے شہلا کے ہاتھ سے گڑیا لے کر زینب کو دے دی۔۔۔اور شہلا نے رونا شروع کر دیا پھر کیا تھا کہ اُس کی تائی نے آسمان سر پہ اُٹھا لیا۔
ارے بڑے آئے بہن کے ہمدرد۔ یہ بھی اپنی ماں کی طرح ہو گی۔ بھاگ جائے گی یہ بھی تمہارے اور تمہارے باپ کے سر میں خاک ڈال کر جیسے تماری ماں ڈال کے چلی گئی۔ گندی نسل ۔ لائو۔ اس نے قاسم کے ہاتھ سے گڑیا چھین کر اپنی بیٹی کو دے دی۔
اس کے بعد جب بھی بات ہوتی ،ہر کوئی اُ ن کو ایک ہی لقب سے نوازتا ،اور وہ تھا گندی نسل۔۔اور زینب کے کانوں میں آج بھی صرف ایک ہی جملہ گونج رہا تھا اور وہ تھا۔گندی نسل۔ اک ٹیس سی تھی جو اُٹھی تھی اُس کے دل سے،اور اُس کا پورا وجود درد سے لرزنے لگا۔
/…/…/
تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ،میں آج شام کو جب آئوں گا تو تمیں کسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے جائوں گا۔ کامل نے اپنی بیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی بہتر…!‘‘ اُس نے کامل کو اُس کا دفتری بیگ پکڑاتے ہوئے جواب دیا۔
’’اپنا
خیال رکھنا ،خاص کر اپنی خوراک کاکامل اُس کو ہدایات دیتا ہوا باہر نکل گیا اور وہ احتساب ذات میں وہی کھڑی رہ گئی وہ ایک نئی زندگی کو دنیا میں لانے جارہی تھی اُس زندگی کے لیے ہی اُس کا شوہر اُس کو ہدایات دے گیا تھا مگر اُن دو ، زندگیوں کا کیا ،جو وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی زینب اور قاسم وہ بھی تو اسی کے بطن سے تھے پھر اُن کا اُس نے کیوں خیال نہ کیا۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی میری زینب قاسم درد کی اک ٹیس سی اُٹھی تھی اُس کے دل سے میرا بچہ مارا گیا وہ کراہ کر رہ گئی میں ہوں ذمہ دارسب تباہی کی یہ کیا کر آئی میں۔ آج وہ عجیب سے احساس زیاں کا شکار تھی۔ وہ مرے مرے قدموں سے دروازہ بند کر کے اندر کمرے میں آ گئی۔ اب پچھتائے کیا ہوت۔ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ بلا شبہ ہمارے کچھ اچھے فیصلوں کا پھل ہماری آنے والی نسلیں بھی کھاتی ہیں اور ہمارے کچھ غلط فیصلوں کا خمیازہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ وہ ایک غلط فیصلہ کر آئی تھی سو اُس کی اولاد اُس فیصلے کی بھینٹ چڑھ چکی تھی۔ ایک کلنک کا داغ اُس نے ہمیشہ کے لیے اپنے ماتھے پہ لگا لیاتھا۔۔اُس نے اُن کو جنم تو ضرور دیا تھا ،مگر وہ ماں نہیں تھی۔۔
/…/…/
’’باجی باجی ،آپ مجھے یہ پڑھا دیںگی۔ وہ جو ایک کونے میں حسب عادت چپ چاپ بیٹھی تھی ،اک پیاری سی بچی کی آواز پہ چونک سی گئی،اُس نے سر اُٹھا کر دیکھا تو ،سامنے ایک چھوٹی سی بچی ہاتھ میں قاعدہ لیے کھڑی تھی۔ زینب ایک ٹک اُسے دیکھے جا رہی تھی۔ دُور کہیں ایک اور معصوم سی بچی سکول کے پہلے دن اپنی اُستاد کے سامنے کھڑی تھی۔ بیٹا تمہارا نام کیا ہے؟ اُس کی اُستانی نے اُسے اپنے سے قریب کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
’’گندی نسل۔‘‘
کتنی معصومیت سے جواب دیا گیا تھا۔ سب ہنس پڑے۔ جب کہ اُستانی نے زینب کو اپنی گود میں اُٹھا لیا۔ وہ معصوم سی نگاہوں سے سب کو خود پہ ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔مگر وجہ جاننے سے قاصر تھی۔
’’ایسے نہیں کہتے بیٹا۔ اُستانی نے زینب کو پیار کرتے ہوئے کہا۔ اپنا نام بتائیں۔
’’میرا یہی نام ہے اُستانی جی۔ سب یہی کہتے ہیں مجھے اور بھیا کو۔‘‘ اور اُستانی کی آنکھوں میں آنسو آ گے۔ زینب کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’آپ کا نام زینب ہے۔ زینب دلاور۔‘‘ آئندہ کوئی پوچھے تو یہی بتانا۔‘‘
’’بتائیں نا باجی ۔آپ مجھے یہ پڑھائیں گی۔‘‘اُس بچی کی آواز نے زینب کو ایک بار پھر حقیقت کی دنیا میں لایا ۔
’’ہاں…لائو…کیا پڑھنا ہے۔‘‘ زینب نے اُس بچی کے ہاتھ سے قاعدہ لے لیا۔
/…/…/
’’دلاور کو سزائے موت ہو گئی ہے بیٹی۔‘‘ شاہ صاحب نے زینب کے سر پہ اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے غمگین لہجے میں کہاتو زینب کے ہاتھ سے پانی کا پیالہ گر گیا۔۔طوفان آئے گا اور سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جائے گا ،اس بات کا اندازہ اُسے اُسی دن ہو گیا تھا جب اُس کے والد نے اپنے بیٹے کے قتل کابدلہ لینے کے لیے اُس کو شاہ صاحب کے گھر چھوڑا تھا،مگر یہ خبر تھی ہی اتنی منحوس کہ وہ برداشت نہ کر سکی۔ آج سکینہ نے بھی اُس کو گلے لگا لیا کہ اس وقت وہ کس قدر ٹوٹ چکی تھی ۔۔زینب خود پہ ضبط کرتے ہوئے اندر چلی گئی کہ اب وہ کسی کے سامنے رونا بھی اپنے حوصلے کی تذلیل سمجھتی تھی ۔۔وہ اندر جا کے خوب روئی ۔۔اپنا ہر دکھ ،ہر تکلیف اپنے رب سے کہہ دیا۔ اُسے یاد آیا کہ کس طرح بچپن سے لیکر آج تک ہر کسی نے اُن کو گندی نسل کا طعنہ دے دے کراُ ن کی زندگی تباہ کر دی۔جس نے بھی دیکھا، حقارت سے حالانکہ اُن کی ماں کے بھاگ جانے میں اُن معصوموں کی کیا خطا تھی۔وہ تو خود زندگی کو ترس گئے تھے۔ زندگی ہر روز اُ ن کے لیے ایک امتحان بن گئی تھی ،پھر کیوں سب اُن پر حیات کا دائرہ بند کررہے تھے ۔ زینب کو اپنے جوان کڑیل بھائی کی لاش یاد آئی۔ کیسے سر کھولے وہ پیٹ رہی تھی ۔کیسے سر ننگا کر دیا تھا اُ س ظالم نے قاسم کو مار کر۔۔اب کون سر ڈھانپتا اُس کا کہ سر ڈھانپنے والا تو خود خون میں لت پت پڑا تھا۔۔کون تھا اس سب کا ذمہ دار؟ زینب نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے اور خودسے کیے گے سوال کا جواب خود کو دیا۔
ماں نہیں ماں نہیں گندی نسل۔ اُ س کا اپنی ماں سے ملنے کا وقت آ گیا تھا۔ بس اس سے پہلے وہ آخری بار اپنے باپ کو دیکھنا چاہتی تھی۔
/…/…/
’’اللہ کے نام پہ خیر دو بی بی۔‘‘ اُس نے دروازے پہ صدا لگائی۔
دروازہ کھلا اور اُس کو خیر دے دیا گیا۔ پچھلے دو ہفتوں سے اُس کا یہی معمول تھا کہ وہ دن بھر گھر گھر جا کے خیر مانگتی اور شام کوکسی مسجد یا درگاہ پر رات گزارتی۔ ہاں دن بھر کی جمع پونجی کو وہ مسجد کے فنڈ میں ڈالنا نہ بھولتی۔ دو ہفتوں میں وہ دو گائوں گنگال چکی تھی، مگر ابھی تک اُس کی امید بھر نہیں آئی تھی۔ آج شام کو جب وہ مسجد کے احاطے میں داخل ہوئی تودل سے اپنے رب کے حضور دعا کی۔ یا اللہ۔ اے سب کے مددگار تو میری خطائیں معاف فرما۔
تو میری مدد فرما کہ میں خود کو چھپاتے چھپاتے تھک گئی ہوں تو میری، میرے مقصد میں مدد فرما تو رحیم ہے ۔تو کریم ہے ۔۔تو جانتا ہے کہ میں جو قدم اُٹھانے جا رہی ہوں ۔۔اُس کو اُٹھانے میں کیوں مجبور ہوئی ہوں۔۔مجھے میری منزل تک پہنچا دے۔ آمین۔
اور اُس مالک و مختار نے جو سمیع بھی ہے اور نذیر بھی دلوں کے حال تک کو جاننے والا۔ شہ رگ سے قریب تر۔۔۔اُس نے اپنے بندے کی پکار سن لی اور زینب نہیں جانتی تھی کہ آنے والی صبح اُس کے لیے کتنی روشن ہو گی۔
/…/…/
آج نہ جانے کیوںمیرا دل گھبرا رہا ہے۔ وہ اپنے شوہر کو دروازے تک چھوڑنے آئی تو کہا۔ اللہ خیر کرے گا۔ تم اپنا خیال رکھنا اُور دروازہ اندر سے بند کر لو وہ یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا اور وہ دروازہ بند کر کے اندر کمرے میں آ گئی۔ نہ جانے کیوں آج اُس کا دل بجھا بجھا سا تھا۔کسی کام میں اُس کا جی نہ لگ رہا تھا۔ ابھی کوئی آدھا گھنٹہ ہی گزرا ہو گا کہ باہر دروازے پہ کسی مانگنے والی کی صدا آئی۔ خیر پائو بی بی اور اُس کے قدم میکانکی انداز میں دروازے کی جانب اُٹھ گئے۔اُس نے جب خیرات دینے کے لیے دروازہ کھولا تو سامنے اُس کی اپنی بیٹی ایک فقیر کے روپ میں کھڑی تھی۔ ایک لمحے کو تو وہ ساکت ہو گئی کہ یہ سب کہیں اُ س کا وہم نہ ہو۔مگر جب زینب دروازہ دھکیلتے ہوئے اند ر آئی تب اُسے یقین ہو گیا کہ وہ سب حقیقت ہے اُ سکا وہم نہیں۔
’’زینب میری بچی۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ پھیلائے زینب کی جانب لپکی۔
’’مت کہو مجھے بچی نہیں ہوں میں تمہاری بیٹی۔‘‘ زینب ایک جھٹکے سے پیچھے ہو گئی۔
’’ایسا مت کہو بیٹا بیٹی ہو تم میری ماں ہوں میں تمہاری۔‘‘
’’مت نکالویہ پاکیزہ لفظ اپنی ناپاک زبان سے نہیں ہو تم ماں تم نے صرف جنم دیا ہے ہمیں۔ ماں جیسے بلند مرتبے کو تو تم پہنچ ہی نہیں سکتی۔ زینب پر گویا ہذیانی کیفیت طاری تھی۔۔ارے تم کیا جانو ماں کے رتبے کو۔۔تم جیسی نفس کی ماری کے منہ سے اپنے لیے یہ لفظ زیب نہیںدیتا ماں ہونہہ۔
زینب نے نفرت سے زمین پہ تھوک دیا۔ اپنی کوک میں رکھا ہے تمہیں جنم دیاہے تمہیںاُس کی آواز چیخ سے مشابہ تھی اور موت سے لڑی ہوں تمہیں دنیا میں لانے کے لیے اور تم … تم کہتی ہو کہ میں کیا جانوں؟ دکھ اور تکلیف سے لفظ اُس کے منہ میں اٹک رہے تھے۔
ہاں جنم دیا تم نے مگر یہ تمہاری مجبوری تھی کوکھ میں رکھا تو یہ بھی تمہاری مجبوری تھی۔ ایسا نہ کرتی تو تم خود مر جاتی۔ جنم دیا اور اُس کے بعد زمانے کی ٹھوکروں کے لیے تنہاچھوڑ آئی زمانے بھر کے طعنے ہمارے ماتھے پہ کلنک کا ٹیکا بنا آئی۔ اس سے تو اچھا تھا کہ جنم دیتے ہی کسی سانپ کی طرح نگل لیا ہوتا ایک ہی دن ایک ہی دن مر جاتے ہم دونوں بہن بھائی یوں روز روز تو مرنے کے لیے نہ چھوڑ آتی۔ ارے ہم سے زیادہ اچھے تو وہ کتے ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ کسی گھر کی دہلیز پہ بیٹھے رہتے ہیں ،اور لوگ اُنہیں پالتو بنا لیتے ہیں۔ کیوں کہ اُ ن کی ماںاُ ن کے پاس ہوتی ہے۔ ہم تو کوڑے کے ڈھیر پہ پھرنے والے کتے کی طرح ہیں کہ جنہیں جو دیکھتا ہے پتھر ہی مارتا ہے۔ دوسروں کی ٹھوکروں میں ڈال کے آنے والی، خود کو ہماری ماں مت کہو۔ زینب اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی اپنی گٹھری میں ہاتھ ڈال دیا،اور جب وہ ہاتھ باہر آیا تو اُس میں ایک چھوٹا سا ریوالور تھا اور اُس ریوالور کی نال سیدھی اُس کی ماں کی جا نب تھی۔
’’یہ …یہ… کیا کرنے لگی ہو تم ہوش میں آئو زینب۔‘‘ وہ اپنی بیٹی کے ہاتھ میں آتشی ہتھیار دیکھ کے بوکھلا گئی۔
’’وہی کرنے لگی ہوں ،جو آج سے کئی سال پہلے تمہیں کرنا چاہیے تھا۔ تیری ماں بھی بھاگ گئی تھی نا؟
ہاں…ہاں… مگر اسے تو نیچے کر چل جائے گی گولی۔ وہ دو قدم پیچھے ہوتے ہوئے بولی۔ گولی چلانے ہی تو آئی ہوں۔ زینب نے قدم آگے بڑھا دیے۔
دیکھو زینب… بیٹی میں ماں ہوں تمہاری بری ہی سہی مگر ہوں تو ماں میں نے مانا کہ میں نے تم دونوں بہن بھائی کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ مجھے معاف کردو۔ وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولی۔
معاف کر دوں۔کیا؟ یہ کہ تم نے ہماری زندگی برباد کر دی۔ یا یہ کہ ہمیں جیتے جی مار ڈالا۔ ہمیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ چلو میں تمہیں یہ سب معاف کر دیتی ہوں۔ زینب نے چند لمحوں کے لیے ریوالور کی نال نیچے کی تو سامنے کھڑی عورت نے لمبی سی سانس باہر نکالی،گویاوہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے لگی ہو مگر میں تمہیں اپنے جوان بھائی کی موت کیسے معاف کر دوں۔ اپنے باپ کی موت۔ اپنے تایا، اور تایا زاد بھائی کی موت ہمارے سارے خاندان کو بکھیردیا۔ ختم کر دیاتم نے۔ اب باقی کچھ بچا ہی نہیں۔ بتائو، یہ سب کیسے معاف کر دوں۔کوئی ایک جرم ہو تب نا۔ تم صرف میرے باپ اور میرے بھائی ہی کی قاتل نہیں بلکہ تم تومیرے سارے خاندان کی مجرم ہو۔۔میں کیسے معاف کر دوں تمہیں زینب نے ایک بار پھر ریوالور اپنی ماں کی جانب کیا۔
’’دیکھو زینب… دیکھو میں تمہاری مجرم ہوں نا یہ ننھی سی جان جو میرے وجود میں پل رہی ہے ،اس نے تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑا اسے کیوں قتل کرنا چاہتی ہو۔ اُس نے جان بچانے کا ایک اور حربہ آزمایا۔
’’ہاہاہاہا…ننھی سی جان… اچھا ہے اسے بھی ختم ہو جانا چاہیے۔ ورنہ کل کلاں کو تم اسے بھی چھوڑ جائو گی تو یہ بھی میری طرح چلتا پھرتا طعنہ بن جائے گی۔ اسے بھی کوئی نام پوچھے گا تو کہے گی میرا نام گندی نسل ہے… گندی نسل… آج کے بعد کوئی کسی کو گندی نسل نہیں کہے گا۔ میں آج اس طعنے کو ہی ختم کر دوں گی۔ میں اس گندی نسل کو ہی ختم کر دوں گی۔ اس کو جڑ سے ہی اُکھاڑ پھینکوں گی۔ آج کے بعد کسی کا نام گندی نسل نہیں ہو گا۔ میں یہ نسل ہی ختم کر دوں گی۔‘‘
زینب پہ ہذیانی کیفیت طاری تھی۔ وہ بولتی گئی اور ساتھ ہی اُس نے ریوالور والا ہاتھ اُپر اُٹھایا اور ٹریگر دبا دیا۔فضا میں یکے بعد دو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ پہلی زینب نے اپنی بربادی کی ذمہ دار عورت ماں کو اور دوسری خود کو مار کر ہمیشہ کے لیے اس طعنہ گندی نسل کو نہ صرف یہ کہ ختم کر دیا ۔بلکہ ایک خاص پیغام تمام مائوں کو بھی دے گی کہ جب اللہ پاک نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایا ہے کہ اس پاک ذات کے سجدے کو ترک کر کے ماں تجھے لبیک کہنے کا حکم ہے تو خدا را اپنے اس مرتبے کو پہچانو اور اس مرتبے کی حرمت کا پاس رکھو اور بیشک قرآن پاک میں اللہ پاک نے مزا چکھنے والوں اور مزا چکھنے والیوں پہ لعنت بھیجی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close