Naeyufaq Jun-16

بلائے نا گہانی

عمر فاروق ارشد

ٹونی نے اچانک سامنے آنے والے گڑھے سے بائیک کو بڑی مہارت سے بچایا اور ابھی نعرہ مستانہ بلند کرنے ہی والا تھا کہ دائیں طرف پانی سے بھرا ہوا ایک اور گڑھا منتظر تھا۔ بائیک بلا تکلف لمبی لیٹ گئی‘ ٹونی نے اپنا گالیوں کا ذخیرہ پلک جھپکنے میں شہر کی انتظامیہ پر لٹادیا‘ جس نے ترقیاتی کاموں کے نام پر پورے شہر کو بری طرح ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ مجھے ٹونی کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ خود کہیں دکھائی نہیں پڑرہا تھا میں زور لگا کر بائیک کے نیچے سے نکلا تو ٹونی گڑھے میں اوندھا پڑا ہوا تھا۔
’’فضلو بائیک کو دیکھ‘ کتنے اسپیئر پارٹس ڈھیلے ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے وہیں سے آواز لگائی تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ ابھی مزید کچھ دیر گڑھے میں لیٹا رہنا چاہتا ہے۔ میں نے بائیک کو اسٹینڈ کیا‘ لائٹس وغیرہ ٹوٹنے سے بچ گئی تھیں اور دیگر نقصان بھی نہ ہونے کے برابر تھا مجھے دلی دکھ ہوا۔ میں نے گرتے وقت بائیک کو ہونے والے نقصان کا جو تخمینہ لگایا تھا وہ غلط ثابت ہوا تھا۔ اب ٹونی کی جیب سے رقم نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس طرف سے مایوس ہونے کے بعد میں ٹونی کی طرف متوجہ ہوا جو باوجود ہزار جتن کے ابھی تک اٹھنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی ٹانگیں پکڑیں اور کھینچ کر گڑھے سے باہر نکال پھینکا۔
ٹونی کے منہ سے پھر گالیوں کا فوارہ ابل پڑا۔ اب کی بار نشانہ وہ تماشائی تھے جو ٹونی کی درگت کو کسی تھرل سے بھرپور فلم سین سمجھ کر لطف اندوز ہورہے تھے۔ ٹونی کی کلاسیکل اور جدید ترین گالیاں ان کے لیے غیر متوقع تھیں پل بھر میں مجمع چھٹ گیا۔ ہر کسی نے یہی فرض کرلیا تھا کہ گالیاں اسے نہیں ساتھ والے شخص کو دی جارہی ہیں۔ ٹونی نے فاتحانہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔
’’کیسا رہا فضلو؟ بھاگ گئے سب‘ دماغ گرم ہو اور زبان میں دم ہو تو دنیا والے آپ کے آگے آگے ہوں گے اور…‘‘
’’ بس ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ ہم جس کام کے لیے جارہے تھے پہلے اسے مکمل کرلیں۔ میرا قیمتی لباس تو گدلا ہوگیا ہے۔‘‘ ٹونی نے اپنی پانچ سالہ پرانی پتلون کی طرف دیکھا۔ ’’اس طرح جانا مناسب نہیں ہوگا۔ اب ہم کونسا باراک اوباما کے ساتھ مذاکرات کرنے جارہے ہیں‘ چل شاباش۔‘‘ میں نے اسے آگے دھکیلا۔ ٹونی نے بائیک اسٹارٹ کی ۔
’’بات تیری قابل قبول ہے‘ بیٹھ جا فضلو جگر۔‘‘
ء…/…ء
واقفان حال جانتے ہیں کہ پنکی کے عشق میں ہم دونوں مشترکہ ناکامی سے دوچار ہوئے تھے اس عظیم سانحہ کے بعد چند دن تو بے دلی سے گزر گئے لیکن پھر کچھ کرنے کی سوچ پیدا ہوئی کافی سوچ و بچار کے بعد ٹونی نے تجویز پیش کی۔
’’دیکھ فضلو! پنکی کو کھودینے سے ہمارے دل زخمی ہیں‘ جگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پھیپھڑے بھی متاثر ہوئے ہیں‘ اس دکھ کی وجہ سے میری خوراک بھی زیادہ ہوگئی تھی اس لیے معدے پر بھی افیکٹ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ہم فزیکلی ان فٹ ہیں‘ ایسا ہی ہے نا؟‘‘ اس نے تصدیق چاہی میں نے محتاط انداز میں جواب دیا۔ ٹونی نے مجھے گھورا۔
’’آخر مسئلہ تجھے کیوں نہیں ہے؟ کیا تیرا معدہ فٹ ہے بالکل۔‘‘
’’ہاں بالکل فٹ ہے کیونکہ میں نارمل کھاتا ہوں۔‘‘ ٹونی نے افسوس بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’فضلو یار! پھر تُو عشق کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ چارلس ڈارون نے کہا تھا کہ عشق کرنے والے بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ اس کا نظریہ ارتقاء بھی دراصل عشق کا دوسرا نام ہے اب سانپ کو ہی دیکھو‘ بھائی ڈارون کے مطابق اس کی پہلے ٹانگیں تھیں مگر چونکہ اس نے عشق کرلیا چنانچہ آہستہ آہستہ اس کی ٹانگیں اس کا ساتھ چھوڑ گئیں اور آج کل زمین پر رینگتا نظر آتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق عشق کے سائیڈ افیکٹ معدے پر ہوتے ہیں جبکہ شاعروں کے مطابق دل پر۔ ‘‘ حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں‘ ٹونی نے جلدی سے بات بدلی۔
’’فضلو یار! اب میرا پلان سن‘ آج کل ہمیں کھلی فراغت ہے ویسے تو پورا سال فراغت ہی ہوتی ہے لیکن فرض کرو کہ ہم مصروف ترین بندے ہیں اور ان دنوں فارغ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ کہیں سیرو تفریح کے لیے چلا جائے اور اس کے لیے ہم انتخاب کرتے ہیں شمالی وزیرستان کا ‘ میں اچھل پڑا‘ ٹونی تیری مہربانی میرے بھائی خود کش ادھر بھی ہوسکتی ہے اس کے لیے اتنی زحمت نہ کر۔‘‘ ٹونی نے کسی سیاستدان کی طرح ہاتھ بلند کیے۔
’’پہلے میری پوری بات سن لے بدھو! پھر میں تیرے اعتراضات سنوں گا۔ فرض کرو ہم شمالی وزیرستان کا انتخاب کرلیتے ہیں اس کے لیے سب سے پہلے تو کسی معتبر ٹریول ایجنسی کی خدمات لینا ہوں گی جو ہمیں ادھر کے حالات و واقعات سے مکمل آگاہی دے۔ دوسرا وہاں جانے کے بعد کوئی گائیڈ وغیرہ حاصل کرنا ہوگا جس کے ذریعے ہم مزے سے پورا وزیرستان گھومیں گے اب بتا اس منصوبے میں کیا غلط ہے؟‘‘
’’سارا منصوبہ ہی غلط ہے۔‘‘ میں نے تپ کر کہا۔ ’’ٹونی یہ ایک بہت ہی بھونڈا اور نامکمل منصوبہ ہے‘ ادھر کسی نے تاوان کے لیے ہمیں دھر لیا تو کون دے گا ہمارا تاوان؟ بلکہ تیرا اور میرا ابا مل کر بھنگڑے ڈالیں گے اور تجھے پتا ہے وہ ڈرون طیاروں کا فیورٹ علاقہ ہے۔ ڈرون وہاں ایسے آدھمکتے ہیں جیسے شمع پر پروانے اوپر سے تیری شکل بھی ڈرون طیارے سے ملتی جلتی ہے۔ امریکیوں نے تجھے اپنا مفرور پیٹی بھائی سمجھ کر اڑا دینا ہے۔‘‘ ٹونی نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
’’تیرا مطلب یہ پلان فیل ہوگیا؟‘‘
’’بالکل فیل ہوگیا۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں خود کو داد دیتے ہوئے کہا۔
’’پھر لاہور چلتے ہیں شاہی قلعہ دیکھ آتے ہیں‘ سنا ہے وہاں انار کلی کی روح بھٹکتی پھرتی ہے شاید میں اسے پسند آجائوں‘ کیا خیال ہے؟‘‘ ٹونی نے امید بھرے لہجے میں نئی تجویز رکھی۔
’’نیک خیال ہے۔‘‘ میں نے بے ساختہ کہا۔ ٹونی کی بانچھیں کھل گئیں۔
’’’چلو آئو کرتے ہیں کسی ٹریول کمپنی سے رابطہ۔‘‘
’’اور آج ہم ایک ٹریول ایجنسی کے دفتر کی طرف جارہے تھے کہ راستے میں مندرجہ بالا واقعہ پیش آگیا بہرحال کافی دوڑ دھوپ کے بعد ہم ایک معروف ٹریول کمپنی کی گاڑی میں دو دن بعد کا ٹکٹ لینے میں کامیاب ہوگئے۔
ء…/…ء
اگلے چند دنوں تک ہم لاہور جانے کے لیے مکمل تیار تھے‘ ٹونی نے حسب عادت پورے گائوں میں ڈھنڈورا پٹوا دیا تھا کہ وہ وزیراعظم کی خصوصی التجا پر لاہور کے دورے پر جارہا ہے اور مکان ہے کہ امریکا سے باراک اوباما بھی ٹونی کی قربت کا شرف حاصل کرنے کے لیے تشریف لے آئے۔ پہلی نظر میں تو سجا سنورا ٹونی مجھ سے پہچانا نہیں گیا۔اس نے نجانے کہاں سے نئی پتلون اور شرٹ اڑائی تھی اور اب نواب آف کالا باغ بنا بیٹھا تھادرجن بھر دوستوںکا ٹولہ ہمیں الوداع کہنے کے لیے بس اسٹاپ تک آیا اور بس کے روانہ ہونے تک سب رشک بھری نظروں سے ہاتھ ہلاتے رہے‘ ٹونی نے بس کا جائزہ لیا۔
’’ابے فضلو! زندگی میں پہلی بار اتنی پیاری بس دیکھی ہے یار! جہاز ہے سارا جہاز… اور گاڑی چلنے کا پتا بھی نہیں چلتا‘ سبحان تیری قدرت۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے نشست کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں۔ میں نے کن اکھیوں سے مسافروں کا جائزہ لیا‘ پرسکون اور خاموش ماحول میں سب اپنے آپ میں مگن تھے۔ باوردی کنڈیکٹر نے بس کا گیٹ بند کردیا تھا اس نان اسٹاپ بس نے اب لاہور جاکر ہی رکنا تھا۔ ٹونی نے شاید بس کی نشست کو مولٹی فوم تصور کرلیا تھا لہٰذا لاہور تک وہ خواب خرگوش کے مزے لیتا رہا‘ بس لاری اڈے پر رکی تو میں نے سے جھنجوڑ کر اٹھایا۔ پہلے تو ہ کافی دیر تک بس کی چھت کو گھورتا رہا‘ پھر ایک دم سے اچھلا۔
’’لاہور آگیا فضلو!‘‘ میں نے اسے بازو سے پکڑا۔
’’ہاں آگیا‘ شور نہ مچا۔۔‘‘ گائوں کی آزاد فضائوں سے شہر کی آلودہ اور گھٹن زدہ ہوائوں میں پہلی بار آنے والوں کے جو احساسات ہوتے ہیں ان سے تو قارئین واقف ہوں گے۔ ٹونی نے آنکھیں پھاڑ کر لاری اڈے پر کھڑی بڑی بڑی بسوں کو دیکھا۔ حیران تو میں بھی تھا مگر چونکہ اس سفر میں اپنے تئیں قائد کا کردار ادا کررہا تھا اس لیے بھرم رکھنے کی خاطر بے نیاز بنا ہوا تھا۔
’’فضلو! یہ گاڑیوں کی کمپنی ہے کیا؟‘‘ ٹونی نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا‘ میں نے کندھے اچکائے۔
’’بے وقوف انسان‘ یہ لاری اڈا ہے‘ جہاں ملک بھر سے گاڑیاں آتی اور جاتی ہیں۔‘‘
’’ہوں‘ صحیح…‘‘ اس نے اردگرد کا معائنہ جاری رکھا۔
میرے ذہن میں یہ پلان تھا کہ لاری اڈے سے رکشہ لے کر مینار پاکستان چلا جائے وہاں مزید کچھ قابل ذکر تاریخی عمارات دیکھنے کے بعد کسی اچھے سے ہوٹل میں رات گزارنے کے لیے کمرہ لیا جائے۔ ٹونی نے تو گائوں سے یہاں تک سب کچھ میری صوابدید پر چھوڑ رکھا تھا اور اسے صحیح سلامت اس کی اماں کے حوالے کرنے کا کٹھن کام بھی میرے ذمہ تھا۔ اگلے آدھے گھنٹے میں ہم مینار پاکستان پر تھے اور یہیں سے بد قسمتی کا آغاز ہوا‘ اک ایسی داستان جو شروع ہوکر جب اختتام کو پہنچی تو ہم ہر قسم کی سیر و تفریح سے توبہ تائب ہوچکے تھے۔
ء…/…ء
وہ اپسرا ایک سنگی بنچ پر بیٹھی ہوئی تھی‘ جدید تراش کے حامل کپڑوں میں گویا قیامت ڈھارہی تھی۔ اس کے قدموں میں ایک سفید اور نرم و ملائم بالوں والا چھوٹا سا کتا لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔ وہ اس کے پائوں چاٹتا اور قدموں میں لوٹتا ہوا جب اس کی نازک ٹانگوں پر چڑھنے کی کوشش کرتا تو وہ نازک بدن اسے لتاڑتی۔
’’اے بدتمیز! مرو گے میرے ہاتھوں۔‘‘ میں اس جاں فزا نظارے میں اتنا مگن تھا کہ ٹونی کی نگاہوںکی تپش بھی محسوس نہ کرسکا۔ آخر اس نے مجھے ٹہوکا دیا۔
’’اے ٹھرکی! وہ شہری میم ہے‘ کیا منہ کھولے گھورے جارہا ہے اسے۔‘‘ میں کھسیا گیا۔
’’نہیں یار! میں تو وہ کتا دیکھ رہا تھا‘ خدا نے کتنا پیارا جانور بنایا ہے۔‘‘ ٹونی نے حسب عادت بات ختم کردی۔
یہی ایک واحد خوبی تھی جو خدا نے ٹونی کو عنایت کی تھی‘ باقی وہ خامیوں کا عالمی مجموعہ تھا۔ میں نے ایک بار پھر نگاہیں ادھر گاڑ دیں اور تبھی ایک عجیب واقعہ رونما ہوا دو آدمی اس لڑکی کی طرف لپکے تھے‘ لڑکی زور سے چیخی اور اس نے اپنے کتے کو پکڑنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی ایک آدمی کتے کو دبوچ چکا تھا‘ دوسرے نے لڑکی کو بالوں سے پکڑا اور زوردار دھکا دیا‘ وہ لہراتی ہوئی سنگی بنچ سے نیچے گھاس پر آن گری۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ آدمی کتے کو اٹھانے آئے تھے نہ کہ لڑکی کو اس سے پہلے کہ لڑکی سنبھلتی وہ دونوں ایک پک اپ میں سوار ہوکے فرار ہورہے تھے‘ لڑکی چلائی۔
’’بچائو… خدا کے لیے کوئی پکڑے انہیں میرے ٹومی کو لے گئے وہ حرام زادے…‘‘ پھر اس کی ملکوتی آنکھیں گھومتی ہوئیں ہم پر آن رکیں۔
’’پلیز سر… انہیں روکیے۔‘‘ وہ مجھ سے مخاطب تھی میرے بدن میں جیسے کسی نے بجلی بھردی۔ میں پک اپ کی طرف دوڑا۔
’’فضلو رک جا… پاگل نہ بن…‘‘ مجھے ٹونی کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی مگر میں نہیں رکا۔ پک اپ اسٹارٹ ہوکر آگے بڑھ چکی تھی‘ میں نے پھیپھڑوںکی پوری قوت صرف کردی لیکن درمیانی فاصلہ بتدریج بڑھتا جارہا تھا اب ہم مینار پاکستان کے احاطے سے نکل کر روڈ پر آگئے تھے اسی وقت عقب سے ایک گاڑی نے بالکل میرے قریب آکر بریک لگائے‘ اسی حسینہ نے سر باہر نکالا۔
’’بیٹھو جلدی ورنہ وہ نکل جائیں گے۔‘‘ میں ایک لمحے کے لیے ہچکچایا۔
’’وہ… میرا دوست ٹونی…‘‘ اس کے چہرے پر التجا آمیز تاثرات ابھرے۔
’’پلیز مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے‘ میں اکیلی ان پر قابو نہیں پاسکتی پلیز…‘‘اس سے آگے میں نہ سن سکا۔ دروازہ وہ پہلے ہی کھول چکی تھی میں اس کے برابر بیٹھ گیا‘ اس نے گاڑی طوفانی رفتار سے آگے بڑھادی۔ پک اپ کافی آگے جاچکی تھی اس نے پوری توجہ سے میری طرف دیکھا۔
’’لاہور کے رہنے والے ہو؟‘‘ اب مجھ میں بھی دیہاتی خود اعتمادی لوٹ آئی تھی۔
’’نہیں جی!‘ میں قصور کے ایک نواحی گائوں سے آیا ہوں۔‘‘
’’یہاں کام کرتے ہو؟‘‘ اگلا سوال کیا گیا۔
’’نہیں‘ سیر سپاٹے کے لیے آیا ہوں۔‘‘ اس نے نہایت مہارت سے سامنے آنے والے ٹرک کو اوور ٹیک کیا۔
’’سنو اگر کچھ بندوں سے لڑنا پڑجائے تو لڑسکتے ہو کیا؟‘‘ میرا جٹ خون پورے جوبن پر تھا‘ میں نے سینہ پھلایا۔
’’جی بالکل‘ میں کشتی بھی لڑتا ہوں جی۔‘‘
’’اوہ وائو…‘‘ اس نے حیرت سے میرے دھان پان وجود کو دیکھا۔’’چلو پھر لمبا کردو۔‘‘
میں حیران ہوا۔’’ کسے لمبا کرنا ہے۔‘‘
’’تمہیں کرنا ہے۔‘‘ اس کا لہجہ ایک دم سے بدل گیا اور عین اس موقع پر مجھے لگا جیسے کسی نے میرے سر پر ہائیڈروجن بم پھوڑ دیا ہو‘ آنکھوں تلے تارے ٹمٹمانے لگے تھے۔ شاید لاہور اپنا لاہوری پن دکھانے چلا تھا۔ بہرحال گرتے وقت مجھے ٹونی کا خیال آیا جو کہ کار میں بیٹھتے وقت نہیں آیا تھا۔
ء…/…ء
نیند کو آدھی موت کہا جاتا ہے آپ اپنی مرضی سے سوتے ہیں یا آپ کے دماغ کو ڈنڈے برسا کر سلایا گیا ہے وہ آدھی موت ہی شمار ہوگی۔ میری آدھی موت زیادہ طویل ثابت نہیں ہوئی‘ آنکھ کھلنے کے بعد پہلا خیال مجھے ٹونی کا ہی آیا بے چارہ لاہور سے بالکل انجان… جانے کہاں بھٹک رہا ہوگا میں نے کلائی پر بندھی گھڑی میں ٹائم دیکھا میرے ساتھ یہ ٹریجڈی ہوئے تقریباً تین گھنٹے بیت چکے تھے میں نے جیبوں میں اپنی چیزیں دیکھیں‘ رقم سمیت سب کچھ پورا تھا گویا اس حسینہ نے میری کسی چیز کو چھیڑا تک نہیںتھا۔ میں نے اپنا پہلا تجزیہ خود ہی رد کردیا کہ اس حسینہ نے مجھے لوٹنے کے لیے اٹھایا تھا۔
سارا واقعہ ایک بار پھر میری نظروں کے سامنے گھوم گیا‘ گویا وہ کتے کے اغوا کا ڈرامہ کرکے مقصد مجھے اٹھانا تھا مگر دماغ یہ بات بھی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا بھلا مجھ جیسے پینڈو کو اٹھانے کے لیے اتنا سر درد پالنے کی کیا ضرورت تھی پھر یہ کہ اگر انہوں نے مجھے تاوان وغیرہ کے لیے اغوا کیا ہوتا تو وہ ٹونی کو پیچھے چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔ وہ کتنا ہی بدھو سہی مگر اس حسینہ عالم کا حلیہ وغیرہ تو بناسکتا تھا اس سے پہلے کہ میرا دماغ احتجاً کام کرنا بند کردیتا میں نے سب سوچوں کو جھٹک کر کمرے کا جائزہ لیا۔
یہ خاصا کشادہ اور خوب صورت طر زسے سجایا گیا کمرہ تھا جس بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ویسا بیڈ میں نے چاچا نمبردار کی حویلی میں پڑے ہوئے ٹیلی ویژن پر چلنے والے ڈراموں میں ہی دیکھیا تھا۔ میں بیڈ سے نیچے اترا‘ایک موہوم سی امید پر کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ حسب توقع باہر سے بند تھا۔ کچھ دیر تک میں کمرے میں رکھی نئی نئی چیزوں کا جائزہ لیتا رہا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا بے چینی بڑھنے لگی۔
مجھے سب سے زیادہ فکر ٹونی کی تھی اس کے باپ دادا نے بھی شاید ہی کبھی خواب میں لاہور دیکھا ہو اگر اسے کچھ ہوجاتا اس کی اماں کے ہاتھوں میرا قتل عین واجب تھا اور اس معاملے میں اس سارے گائوں کا مشترکہ فتویٰ حاصل ہوتا۔ میں کمرے کا طواف کرنے کے بعد دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ انتظارکے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اور میرا انتظار جلد ہی ثمر آور ثابت ہوا‘ دروازے میں چابی گھومنے کی آواز سنائی دی میں چوکس ہوکر بیٹھ گیا۔ دو ہٹے کٹے آدمی دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے‘ انہوں نے پہلے میرا جائزہ لیا پھر ایک بولا۔
’’اس کا کہہ رہی تھیں میڈم؟ یہ بے چارہ بھاگ کر کدھر جائے گا۔ چل اٹھ بھئی‘ میڈم بلارہی ہیں۔‘‘ دونوں نے مجھے بازوئوں سے تھام لیا‘ کمرے سے نکل کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ خاصی بڑی کوٹھی تھی‘ کمرے سے باہر آتے ہی ایک خوب صورت سی روش شروع ہوگئی جس کے دونوں طرف رنگ برنگے پھول تھے میں دلچسپی سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا جس کا داہنی طرف والے گینڈے نما آدمی نے غلط مطلب لیا‘ اس نے ایک بھرپور ہاتھ میری گدی پر جمادیا۔
’’اوئے کاٹھ کے الو! بھاگنے کا سوچنا بھی مت ورنہ بغیر تکبیر کے قربانی کردوں گا تیری۔‘‘ کچھ دیر بعد ہم ایک وسیع و عریض ہال میں وجود تھے اور یہیں وہ حسینہ ایک شاندار کرسی پر بڑی شان سے براجمان تھی۔ اس کے اردگرد اسلحہ بردار لوگ کھڑے تھے مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کس ردعمل کا اظہار کروں البتہ میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ احساس ضرور پیدا ہوچکا تھا کہ میں بہت بڑی مشکل میں پھنس چکا ہوں۔
میں نے انسانی اسمگلروں کی افسانوی داستانیں سن رکھی تھین جو ٹونی کا ابا سردیوں کی طویل راتوں کو سنایا کرتا تھا اور پھر گھر لوٹتے وقت مجھے ہر پل یہ لگتا تھا کہ ابھی گلی کی نکڑ سے کوئی اسمگلر نمودار ہوگا اور بقول ٹونی کے ابا کے مجھے افریقہ کے کسی دور دراز قبیلے میں بیچ دے گا بعض اوقات تو اپنے گھر کے دروازے پر بندھا ہوا گدھا بھی مجھے رات کے وقت اسمگلر معلوم ہوتا تھا اس کے علاوہ گائوں کے ایک اور عظیم داستان گو بابا منشی کے خوفناک ارشادات بھی میرے ذہن میں گھومنے لگے جو انسانی اعضاء کی خریدو فروخت کے متعلق تھے مثلاً اسمگلر نے بچے کی دونوں آنکھیں نکالیں پھرایک آنکھ ایران میں فروخت کی جبکہ دوسری روس میں۔ پہلوان نما آدمی نے ٹہوکا دے کر میری سوچوں کا سلسلہ توڑا۔
’’لالہ! ادھر صوفے پر بیٹھ جائو۔‘‘ میرے بیٹھنے کی دیر تھی کہ اچانک سبھی لوگ ہال سے باہر نکل گئے‘ اب صرف حسینہ اکیلی جلوے بکھیر رہی تھی وہ کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی پھر بولی۔
’’ایزی ہوکر بیٹھو‘ میری بات ذرا لمبی ہے۔ تمہارا غور سے سننا اور پھر رضا مند ہونا بہت ضروری ہے اور اسی میں تمہاری صحیح سلامت گھر واپسی کی راہ نکلے گی ورنہ دوسری صورت میں تمہاری سلامتی کے لیے میرے پاس کوئی یقین دہانی نہیں ہے۔‘‘ میں نے محض سر ہلانے پر اکتفا کیا‘ وہ تھوڑا آگے جھکی۔
’’تو پھر میں اصل بات کی طرف آئوں؟‘‘ میں نے ایک بار پھر اثبات میں سر ہلادیا‘ اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
ء…/…ء
اس حسینہ دلنواز کا نام تھا قرۃ العین مگر چونکہ ہم لوگ ہر معاملے میں سہولت ڈھونڈنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اس لیے اس کا نام بھی مختصر ہوکر عینی رہ گیا۔ عینی نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو اپنے گرد صرف دو اشخاص کو دیکھا اس کا باپ جمال شاہ اور دوسرا اس کا چچا حسن شاہ۔ حسن شا ہ نے شادی نہیں کی تھی جبکہ جمال شاہ کی بیوی یعنی عینی کی ماں اپنی پہلی اولاد عینی کو جنم دیتے ہوئے آخری سفر پر روانہ ہوگئی تھی۔ ایسے میں عینی دونوں بھائیوںکی توجہ کا واحد مرکز بن کررہ گئی۔ دونوں اسے دیکھ کر جیتے تھے‘ دولت کی ریل پیل تھی‘ دونوں بھائیوں میں اتفاق و اتحاد بھی ایسا تھا دس بہاریں چرائی تھیںکہ اس کا باپ جمال شاہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں دنیا سے گزر گیا ننھی عینی چند دنوں کے لیے لڑکھڑائی مگر چچا کی صورت میں باپ کا سایہ پاس محسوس کیا تو سنبھل گئی۔ حسن شاہ اس پر جان وارتا تھا اسی طرح محبتوں میں کھیلتی کودتی عینی جوانی کی حدود میں داخل ہوئی تو حسن شاہ بوڑھا ہوچکا تھا اب اس نے ایک دن عینی کو اپنے پاس بلایا اور اس کے باپ جمال شاہ کی وصیت اس کے سامنے رکھ دی اور اسی وصیت نے نئے بکھیڑے پیدا کیے وصیت کے مطابق حسن شاہ کو اس بات کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ عینی کے بالغ ہوتے ہی اس کی شادی کرے اور جمال شاہ کی جائیداد اور کاروبار اس کے حوالے کردے۔ جب تک عینی کی شادی نہ ہو تب تک وہ اپنے باپ جمال شاہ کی وراثت میں سے ایک تنکے کی بھی حق دار نہیں۔
حسن شاہ نے یہ ساری صورت حال اس کے سامنے رکھنے کے بعد یہ کہا کہ وہ خود اپنا سب کچھ بھی عینی کے حوالے کرنا چاہتا ہے اس لیے عینی کو چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو شادی کرے اور اس کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھالے۔ میں دم سادھے اس کی داستان سن رہا تھا وہ ذرا سانس لینے کو رکی۔ میں بغور اس کے چہرے کو دیکھ کر یہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس پوری کہانی میں مجھ جیسا دیہاتی کہاں فٹ ہوتا ہے اس کے حسین چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے جیسے وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہو۔ آخر اس نے آنکھیں بند کیں‘ ہونٹ بھینچ لیے پھر گویا ہوئی۔
’’مگر سنو مجھے کسی صورت شادی نہیں کرنی ‘ مجھے مردوں سے نفرت ہے بس مطلب پرست‘ خود غرض اور موقع پر ست ہوتے ہیں۔ میں اتنی سی عمر میں بہت کچھ جان چکی ہوں‘ بہت سے لوگ میرے قریب آئے تو صرف اس لیے کہ مجھ سے شادی کرکے میری دولت پر بیٹھ کر عیش کریں مگر مجھے یہ کسی صورت قبول نہیں۔ میں کوئی ایسا چاہتا ہوں جو صرف مجھے منتخب کرے‘ میرے اسٹیٹس اور دولت کو نہیں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’اور ایسا کوئی ملنے میں کافی دیر لگے گی جبکہ چچا حسن کی صحت مسلسل گرتی جارہی ہے‘ میں سمجھتی ہوں کہ مجھے عملی زندگی میں قدم رکھ دینا چاہیے اب اس کے لیے پھر بابا جان کی وصیت آڑے آتی ہے اگر میں نے شادی نہ کی اور چچا فوت ہوگئے تو سب اثاثہ جات خودبخود وصیت کے مطابق ایک ٹرسٹ کو منتقل ہوجائیں گے۔‘‘ میرا منہ حیرت سے کھل گیا۔
مرنے والا بابا احمق نہیں تو کم از کم دماغی طور پر ہلا ہوا ضرور تھا جو اتنی عجیب و غریب شرائط کا پنڈورا بکس اپنی اکلوتی اولاد کے سر منڈھ گیا تھا۔ میں نے ہمت کرکے پوچھا۔
’’لیکن آپ نے مجھے کیوں اٹھایا‘ میرا اس معاملے سے کیا تعلق‘ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں‘ میرا دوست بھولا بھالا ہے اس کو کچھ ہوگیا تو میرے لیے بہت مشکل ہوجائے گی۔‘‘ میرا سارا صبر جواب دے گیا تھا اور آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے اس نے کرسی پر پہلو بدلا۔
’’دیکھو عورتوں کی طرح رونے کی ضرورت نہیں اس کے لہجے میں ناگواری واضح تھی۔ میں نے تمہیں پہلے بتادیا ہے کہ تمہارے تعاون کی صورت میں ہی ہم تمہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم کس مشکل میں پڑتے ہو اب ذرا کان کھول کر سن لوکہ تمہیں کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔‘‘ وہ کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’تمہیں مجھ سے شادی کرنا ہوگی۔‘‘ مجھے لگا جیسے ہال کی چھت میرے سر پر گرگئی ہو۔‘‘ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’مگر یہ شادی حقیقت سے بہت دور ہوگی‘ مطلب سب کچھ نقل‘ صرف چچا حسن کو مطمئن کرنے کے لیے تم ان کے سامنے اس گھر داماد بن کر رہو گے اور جیسے ہی جائیداد کا معاملہ درست ہوگا تم یہاں سے چلے جائو گے تمہارے جانے کے بعد چچا حسن کا جو ردعمل ہوگا اس کے لیے بھی میں نے مکمل منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ تمہارا کردار صرف وہاں تک ہے جو میں تمہیں بتاچکی ہوں اگر سب کچھ میری توقع کے مطابق ہوا تو نہ صرف تم سلامتی کے ساتھ اپنے گائوں جاسکو گے بلکہ تمہیں انعام بھی دیا جائے گا۔‘‘ وہ دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ میری حالت کاٹو تو بدن میں لہو نہیں کی سی تھی۔
میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مجھے اس قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونا پڑے گا اس نے شاید جاہل اور کمزور قسم کا دیہاتی ہونے کی وجہ سے میرا انتخاب کیا تھا۔
’’مجھے تمہارا جواب چاہیے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’بتائو تم تیار ہو؟‘‘ میں نے سرد آہ بھری اس کے سوا اور کوئی راستہ ہے بھی نہیں میرے پاس۔
ء…/…ء
مجھے واپس کمرے میں بند کردیا گیا رات اپنے پر پھیلا چکی تھی عینی نامی اس لڑکی نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کب تک اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے مگر مجھے اس کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ وہ جلد از جلد یہ کام کرنا چاہے گی۔ وہ نہایت ہی شاطر قسم کی لڑکی ثابت ہوئی تھی اس طرح کی وسیع پلاننگ کوئی عام ذہن نہیں کرسکتا پھر اس کے آس پاس خوفناک صورتوں والے مسلح لوگ اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ اپنا ایک مضبوط نیٹ ورک رکھتی ہے۔
مجھے یقین تھا کہ وہ کل ہی اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے گی‘ میں شدت کے ساتھ اپنی بے بسی محسوس کررہا تھا میں نے اس سے قبل اس طرح کے جھنجٹ نہ دیکھے تھے اور نہ سنے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رودوں۔ ٹونی کا خیال مزید زخموں پر نمک چھڑک دیتا تھا مجھے یہ سوچ کر ہول آرہے تھے کہ وہ رات کہاں گزارے گا؟ کہیں وہ بھی غلط لوگوں کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ اس بے وفا شہر سے کچھ بعید نہ تھی مجھے ٹونی کی آخری پکار یاد آئی۔
’’رک جا فضلو… آہ کاش ٹونی جگر میں تیری بات مان لیتا تو اس وقت ہم دونوں کسی ہوٹل کے کمرے میں دھینگا مشتی کررہے ہوتے۔ اب پچھتائے کیا ہوت‘ جب چڑیاں چگ گئیں کھیت…‘‘ اچانک باہر سے ہوا کا ایک تیز جھونکا دروازے سے ٹکرایا۔ دروازہ ہلکا سا کھل گیا‘ میں اچھل پڑا۔
’’دروازہ کیسے کھلا ہو سکتا ہے؟‘‘ یہ تو ایک نا قابل یقین سی بات تھی‘ میں نے پورا دروازہ کھول کر باہر جھانکا‘ تیزا ہوا سائیں سائیں کررہی تھی۔ لان میں لگے درخت شرابیوں کی طرح جھوم رہے تھے‘ میں نے دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا۔ ماحول تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا میں نے کوٹھی کا چکر لگانے کا سوچا چار دیواری بلند و بالا اور خار دار تاروں سے اٹی پڑی تھی۔میں چہل قدمی کے انداز میں چلتا ہوا مین گیٹ کی طرف آگیا۔ اس طرح اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو میں کہہ سکتا تھا کہ ہوا خوری کررہا ہوں‘ مین گیٹ پر مجھے سیکورٹی گارڈ بھی دکھائی نہیں دیا مگر جب گیٹ کے قریب ہوا تو ساری خوشی خاک میں مل گئی۔ باہر کی طرف سے کچھ لوگوں کے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں یہ یقینا سیکورٹی گارڈز تھے مجھے ان باتوں سے اندازہ ہوا کہ کوٹھی کے باہر چاروں طرف آدمی تعینات تھے جو کہ معمول کے گشت پر رہتے تھے میں واپس چل پڑا جس کمرے میں مجھے رکھا گیا تھا وہ الگ تھلگ تھا اس سے ذرا آگے کمروں کی طویل قطار تھی اس قطار کے اندر درمیان میں وہی ہال نما کمرہ تھا جہاں میری اس حسینہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ رات کے اس پہر تقریباً سبھی کمرے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے‘ غور سے دیکھنے پر مجھے ایک کمرے میں ہلکی روشنی نظر آئی۔ میں آہستہ قدموں سے چلتا ہوا کھڑکی کے پاس پہنچ گیا اندر شاید کافی گرما گرم گفتگو ہورہی تھی عینی کے ساتھ کچھ دیگر لوگوں کی مدہم آوازیں بھی شامل تھیں۔ ایک بھاری سی آواز سنائی دی۔
’’میڈم! منصوبہ کی تکمیل کے بعد آپ نے اسے چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے‘ وہ جتنا جاہل اور اجڈ دکھائی دیتا ہے اتنا ہے نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قدر اہم راز کے ساتھ اسے چھوڑنا بالکل بھی مناسب نہیں ہوگا۔‘‘ جواباً عینی کی کھنک دار ہنسی ابھری۔
’’بٹ صاحب! آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہم اسے چھوڑ دیں گے‘ میں نے اسلم کو تیار رہنے کا کہہ دیا ہے وہ اسے مار کر راوی کے کنارے کہیں گاڑ دے گا۔‘‘ خوف کی ایک سرد لہرمیری ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ میں بڑے خوفناک گورکھ دھندے میں پھنس چکا تھا مجھے جتنی خوش فہمیاں تھیں وہ پل بھر میں دور ہوگئی تھیں‘ میں دوبارہ اپنے کمرے میں آگیا۔ جسم میں جیسے جان نہیں رہی تھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہونے لگی تھیں۔
ایک بار مجھے خیال آیا کہ جس طرح بھی ہو یہاں سے بھاگ جائوں‘ رسک لینے میں کیا حرج ہے۔ انہوں نے اپنا کام نکالنے کے بعد بھی تو میرا پتّا صاف کرنا ہی ہے تو کیوں نہ میں جوا کھیل لوں مگر میری فطری کم ہمتی نے مجھے روک لیا۔ دوسری طرف یہ ذہن میں آیا کہ انتظار کروں‘ جلد بازی میں جان پر کھیلنا بے وقوفی کہلاتا ہے۔ ہوسکتا ہے مجھے کل نام نہاد شادی کے دوران بھاگنے کا موقع مل جائے میں رات گئے تک کمرے میں ٹہلتا رہا‘ سسکیاں لیتا رہا ‘ آنسو بہاتا رہا اور قسمت کو کوستا رہا مگر آخر میں نیند پھر بھی آگئی یہی وہ مہربان دیوی ہے جو کچھ دیر کے لیے انسان کو اپنی باہنوں میں لے کر دکھوں سے دور کردیتی ہے۔
ء…/…ء
صبح سورج نکلنے سے پہلے دو آدمیوں نے نہایت نرمی سے مجھے نیند سے جگایا۔ ان میں سے ایک نیا تھا جبکہ دوسرا وہی تھا جو مجھے پچھلی بار لے کر گیا تھا وہ خوشگوار لہجے میں بولا۔
’’لالہ! نہا دھوکر تیار ہوجائو‘ ناشتا میڈم کے ساتھ کرنا ہے تم نے۔‘‘ پھر وہ میرے لیے ایک سوٹ لے کر آیا۔ ’’لالہ! نہاکر یہ پہن لو۔‘‘ یہ کافی مہنگا اور عمدہ سوٹ تھا اس کام سے فراغت کے بعد ایک ملازم کی رہنمائی میں مجھے عقبی لان میں پہنچادیا گیا‘ جہاں لمبی سی میز کے گرد کرسیاں رکھی گئی تھیں اور دو ملازمائیں ناشتا سجانے میں مصروف تھیں۔ کچھ دیر بعد عینی بھی وہاں پہنچ گئی۔ اس نے ناقدانہ نظروں سے میرا جائزہ لیا۔
’’گڈ! کچھ کسر رہ گئی ہے وہ بھی پوری کردی جائے گی۔‘‘ اس نے ایک کرسی سنبھال لی۔ ’’چلو ناشتا کرو۔‘‘ میں خاموشی سے کھانے لگا میری کوشش تھی کہ میرے چہرے سے کسی بھی قسم کے تاثرات نہ ظاہر ہوپائیں‘ جن سے اسے کچھ شک ہوکہ میرے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ میں نے اپنی بقا کے لیے آخری حد تک لڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا دیہاتی ہٹ دھرمی اور ضد پوری طرح عود کر آئی تھی۔ ناشتے کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔
’’تم تیار ہو؟‘‘ میں نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔ ’’ٹھیک ہے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’اب کچھ ضروری باتیں اپنے دماغ میں اچھی طرح گھسالو‘ تمہارا نام میں نے شہزاد رکھا ہے تمہیں ہر معاملے میں میری تائید کرنا ہوگی۔ یاد رکھنا اسی صورت میں تم گھر واپس لوٹ سکوگے۔‘‘
’’جی یاد ہے۔‘‘ میں نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔
’’بہت اچھے ابھی تھوڑی دیرمیں چچا حسن یہاں آنے والے ہیں‘ ان کے ساتھ دوچار لوگ اور ہوں گے میں چلتی ہوں‘ اگلے ایک آدھ گھنٹے میں وہ آجائیں گے تب تک میرے آدمی تمہیں مزید ریڈی کردیں گے۔‘‘ میں نے ایک بار پھر جی جناب کہنے پر اکتفا کیا۔
ء…/…ء
چچا حسن نے پہلے میری اور پھر عینی کی طرف دیکھ کر یوں سر ہلایا جیسے کہہ رہے ہوں واہ ری میری بھتیجی کیا نمونہ منتخب کیا ہے تم نے پھر شاید اس نے اپنے ابتدائی تاثرات پر قابو پایا اور مجھ سے مصافحہ کیا ہم اس کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔
’’بیٹھو ینگ مین! تم بھی بیٹھ جائو عینی!‘‘ اس نے کھنکھار کر گلا صاف کیا۔ ’’دیکھو مسٹر شہزاد! عینی مجھے تمہارے متعلق سب کچھ بتاچکی ہے اور ظاہر ہے اس نے تمہیں بھی میرے بارے میں ضرور بتایا ہوگا۔ میں نے بچپن سے لے کر جوانی تک اس کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج شادی جیسا اہم فیصلہ بھی اس کی اپنی مرضی کے مطابق ہورہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شادی کے بعد تم اپنے بزنس کے ساتھ ساتھ ہمارے کاروبار کو بھی اپنا ہی سمجھو گے۔ میرے بازوئوں میں اب اتنا دم نہیں رہا اسی لیے ہمیں تمہاری مدد کی ضرورت ہوگی اور مجھے یہ بھی امید ہے کہ تم میری بھولی بھالی اور معصوم بھتیجی کو ہمیشہ خوش رکھو گے۔‘‘ میں فقط عینی کی طرف دیکھ کر رہ گیا۔ دل چاہا کہ حلق پھاڑ پھاڑ کر چیخوں کہ ابے بڈھے‘ بھولے بھالے‘ یہ قلو پطرہ کی نانی تجھے جس طرح اعلیٰ نسل کا الو بنارہی ہے اگر تُو جان لے تو حیرت سے ادھر ہی لڑھک جائے‘ مگر میں جانتا تھا کہ اس وقت میں عینی کے خونخوار محافظوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں سو خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اس کے بعد جعلی نکاح کا ڈرامہ شروع ہوا عینی اور اس کے لوگوں کی منصوبہ بندی اتنی عمدہ تھی کہ میں داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔
چچا صاحب کو خبر ہی نہ ہوسکی کہ اس کی ناک کے نیچے کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ‘ا نہوں نے طے شدہ منصوبے کے مطابق بڈھے کو مبارک سلامت کے شور میں گھیر گھار کر سائیڈ پر کرلیا جبکہ قاضی صاحب نے جو کہ شاید اپنا ایمان وغیرہ کسی امپورٹڈ تجوری میں محفوظ کرکے آئے تھے مجھ سے ایک نکاح نامے کی طرز کے کاغذ پر دستخط لیے جس پر نجانے کیا اول فول قسم کی عبارتیں لکھی ہوئی تھیں اس کے بعد کھانے کا دور چلا اور دیگر خرافات کے بعد چچا بہادر مجھے مزید ارشادات جھاڑنے کے بعد خوش رہنے کی دعائیں دیتے ہوئے واپس چلے گئے۔
ء…/…ء
تقدیر میرے ساتھ خوب اٹکھیلیاں کرتی پھررہی تھی چچا حسن کے جاتے ہی مجھے واپس کمرے میں بند کردیا گیا۔ دن ڈھلنے لگا تھا میں نے جو سوچ رکھا تھا کہ عینی کے چچا کو کسی طرح اشارے کنائے میں صورت حال بتاکر بازی پلٹ دوں گا وہ سب غلط ثابت ہوا تھا۔ اب مجھے ایک طویل اعصابی جنگ کا سامنا تھا فی الحال مجھے اس بات کی طرف سے اطمینان تھا کہ جائیداد کی منتقلی کا مسئلہ حل ہونے تک وہ میرے ساتھ کسی قسم کا ایڈونچر کرنے کا نہیں سوچ سکتی۔ وہ اتنی پاگل نہیں تھی کہ مجھے لڑھکا دیتی اور اس کا سنکی چچا عین جائیداد کی منتقلی کے وقت مجھے ساتھ رکھنے کی خواہش کردیتا‘ اس طرح تو بنا ہوا کھیل بگڑ سکتا تھا۔
ہاں البتہ اگر اس کی جائیداد والا مسئلہ حل ہوجاتا تو پھر میرے دن پورے ہونے یقینی تھے کیونکہ وہ مکار بیوہ بن کر بڈھے کو یقین دلاسکتی تھی کہ چچا جی میرا انتخاب دھوکے باز نکلا مجھے چھوڑ کے بھاگ گیا‘ اب تو مجھے مردوں پر یقین نہیں رہا چچا جی۔ اب آپ مجھ پر رحم کیجیے اور شادی کا نام بھی نہ لیجیے گا‘ قصہ ختم۔ بڈھا چچا کون سا سی آئی اے کا ایجنٹ تھا جو انکوائریاں کرتا پھرتا۔ اسے یہ تسلی ہی کافی ہوتی کہ مرحوم بھائی کی وصیت پر عمل تو ہوگیا اب دولہا راجہ بھاگ بھی گئے تو کیا ہوا۔ بیٹی رانی جب سانحے کے اثرات سے نکلے گی تو خود ہی شادی کرلے گی۔ مجھ پر ایک مرتہ پھر یاسیت چھانے لگی‘ مایوسیاں ہر طرف منہ کھولے کھڑی تھیں‘ سارے دن کے تھکے ہوئے دماغ اور جسم اب نیند کا تقاضہ کررہے تھے اور پھر دل کو بھی مانتے ہی بنی۔ اگلے چند لمحوں تک میں بیڈ پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔
ء…/…ء
فائرنگ کافی شدید تھی‘ ساتھ میں انسانی آوازوں کا شور بھی شامل تھا‘ میں بستر پر اٹھ کے بیٹھ گیا‘ کچھ دیر مجھے نیند کے اثرات سے نکلنے میں لگ گئے تبھی چند فائر مزید ہوئے۔ مجھے لگا کہ ساراہنگامہ مین گیٹ پر ہورہا ہے اسی وقت کہیں اندر سے بھی گولیوں کی تڑتڑاہٹ ابھری‘ یہ فائرنگ بڑے ہال کی طرف ہوئی تھی میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا رات کا ایک بج رہا تھا‘ کمرے کا دروازہ حسب توقع باہر سے بند تھا مجھے بے چینی ہونے لگی‘ باہر ایسی خاموشی چھا گئی تھی جیسے کوئی طوفان گزر جانے کے بعد ہوتی ہے۔ میری نیند نجانے کہاں اڑ گئی تھی اور میں باہر کی صورت حال جاننے کے لیے بے چین تھا۔
کیا رات کے اس پہر کسی نے کوٹھی پر حملہ کردیا تھا‘ شدید فائرنگ کے بعد یہ خاموشی کیا مطلب ظاہر کررہی تھی‘ حملہ آور پسپا ہوئے تھے یا کوٹھی کے محافظ؟ اس طرح کے کئی سوالات کا ہجوم میرے ذہن میں امڈ آیا تھا۔ اتنے میں باہر سے بھاری قدموں کے دوڑنے کی آوازیں سنائی دیں جیسے کچھ لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگ رہے ہوں اور پھر یہ آوازیں بتدریج مجھے اپنے کمرے کی طرف آتی محسوس ہونے لگیں پھر دروازے پر دو فائر ہوئے میں بے ساختہ اچھل پڑا یہ فائر یقینا دروازے کے لاک پر کیے گئے تھے‘ دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور تین آدمی اندر داخل ہوئے ایک نے اپنے پستول کے اشارے سے مجھ سے پوچھا۔
’’تم فضلوہو؟‘‘ میں بمشکل سر ہلا سکا زبان جیسے گنگ ہوگئی تھی سوال کرنے والے نے بھی میرے اڑے ہوئے رنگ اور کانپتی ٹانگوں سے صورت حال کا اندازہ لگالیا۔
’’گھبرائو نہیں میرے بھائی۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔ ’’ہم دشمن نہیں ہیں‘ ٹونی صاحب بھی ہمارے ساتھ آئے ہیں‘ جلدی سے آئو۔‘‘ وہ تیزی کے ساتھ واپس مڑے‘ میں بھی ان کے پیچھے تھا۔ میں حیرت کے پہلے جھٹکے سے سنبھل چکا تھا‘ ہم نہایت تیز رفتاری سے چلتے ہوئے بڑے ہال نما کمرے کے ساتھ والے کمرے میں گھس گئے۔ باہر کے اندھیرے سے اچانک آرائشی کمرے کی چکا چوند میں آتے ہی میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ ذرا دیر بعد جب میں دیکھنے کے قابل ہوا تو گویا وہاں میلہ لگا ہوا تھا‘ ایک صوفے پر جہازی سائز مونچھوں والا آدمی بیٹھا تھا اور اس کے ساتھ میرا یار ٹونی براجمان تھا اس کا لباس بری طرح میلا ہورہا تھا اور چہرے پر تھکن کے آثار کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے اس نے نظر اٹھا کر بھی میری طرف نہیں دیکھا بلکہ سامنے یک ٹک فرش کو گھورتا رہا۔ ان دونوںکے آس پاس درجن بھر مسلح افراد مستعد کھڑے تھے‘ دوسرا منظر جو سب سے زیادہ حیرت ناک تھا وہ وہاں عینی اور اس کے چچا حسن کی موجودگی تھی۔ ان دونوں کے ساتھ وہ طوطے کی شکل والے نکاح خواں صاحب بھی تھے جنہوں نے میرا اول جلول قسم کا نکاح پڑھایا تھا اب مجھے معاملہ کچھ سمجھ میں آنے لگا تھا۔ ٹونی کے ساتھ والے خدائی فوجدار نے عینی کو ایک بھرپور مقابلے کے بعد یرغمال بنالیا تھا چند لمحے کمرے میں سناٹا رہا پھر مونچھوں والا آدمی بولا۔
’’حسن صاحب! اب جبکہ آپ کو سب حقیقت معلوم ہوچکی ہے تو پھر کیا کہتے ہیں آپ؟ ‘‘ چچا حسن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بدستور خلا میں گھورتے رہے۔
’’حسن صاحب! میں آپ سے مخاطب ہوں‘ مونچھوں والا اس بار ذرا بلند آواز میں بولا تھا۔‘‘ چچا حسن جیسے کسی خواب سے جاگے۔
’’ارے بابا! اب میں کیاکہوں‘ تم جو مناسب سمجھتے ہو وہ کرو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی ان کی آواز رندھ گئی اور آنکھوں میں رکی ہوئی نمی باہر ابل پڑی۔
’’اس لڑکی نے میرا بھروسہ توڑا ہے‘ میں نے اسے اپنے لہو سے سینچ کر اتنا بڑا کیا اور یہ مجھے بے وقوف بناتی رہی۔ میرے سفید بال بھی نہ دیکھے اس نے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ مونچھوں والا اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ٹھیک ہے محترم بزرگ! ہم چلتے ہیں‘ مجھے افسوس ہے بہرحال یہ آپ کی بیٹی ہے آپ جو بہتر سمجھتے ہیں کریں البتہ میں اس قاضی صاحب کا قصہ ماضی بنانے کے لیے اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ میں چاہوں تو آپ پر اچھا خاصا تگڑا کیس بناسکتا ہوں کہ آپ نے اتنے دن بے گناہ بندے کو حبس بے جا میں رکھا‘ جعلی نکاح کروایا‘ ڈرایا دھمکایا اور سب سے بڑھ کر اغوا کیا لیکن یہ کرتوت چونکہ آپ کے نہیں بلکہ آپ کی لاڈلی کے ہیں لہٰذا میں ان سب باتوں کو یہیں دفن کرتا ہوں مگر جو وعدہ آپ نے کیا ہے اسے پورا کیجیے گا۔ چلو بھئی سب۔‘‘ اس نے مونچھوں کو بل دے کر کہا اور سب چل پڑے۔
ء…/…ء
سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ مجھے ایک حسین خواب معلوم ہورہا تھا اب ہم ایک فور وہیل جیپ میں نامعلوم منزل کی طرف جارہے تھے میرے ساتھ وہی تین آدمی تھے جنہوں نے مجھے کمرے سے نکالا تھاباقی لوگ دوسری گاڑیوں میں تھے اور ٹونی مونچھوں والے کے ساتھ ایک شاندار لینڈ کروزر میں سب سے آگے جارہا تھا۔ مجھے ابھی تک ٹونی سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا اور نہ ہی ٹونی نے میری طرف نظر اٹھائی تھی۔ وہ جان بوجھ کر مجھے نظر انداز کررہا تھا یہ سب کیسے ممکن ہوا‘ ٹونی کو یہ لوگ کہاں سے ملے اور اس طرح کے کئی سوال… بہرحال میرے اندازے کے مطابق ہم نے آدھے گھنٹے کا سفر کیا ہوگا کہ تمام گاڑیاں رک گئیں۔ یہ کافی بڑا گھر تھا جو خوب صورت طرز پر تعمیر کیا گیا تھا‘ مجھے ایک شاندار کمرے میں پہنچادیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ وہ مونچھوں والا آدمی بھی پہنچ گیا ٹونی اس کے ساتھ نہیں تھا۔ ملازم نے چائے وغیرہ میز پر رکھی اور الٹے قدموں واپس لوٹ گیا۔
اب کمرے میں ہم دونوں تھے‘ میں کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اس نے حسب عادت مونچھوں کو تائو دیا۔
’’ارے بھائی بیٹھو‘ چائے پیو‘ پیٹ پوجا کرو۔ تب تک میں ایک سگریٹ اڑالوں پھر بات کرتے ہیں۔‘‘ اس نے جیب سے لائٹر نکال کر سگریٹ سلگایا‘ بلاشبہ اس کی شخصیت رعب دار تھی۔ میں نے بمشکل چائے ختم کی اور اس کی طرف دیکھا وہ دھویں کے مرغولے اڑا رہا تھا۔
’’مجھے تمہارے پاس تمہارے دوست ٹونی نے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر بات شروع کی۔ ’’وہ تم سے بہت ناراض ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پوری داستان میں ہی سنائوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر مونچھوں کو تائو دیا۔ ’’تو پھر میں تمہیں بتادوں کہ معاملہ کیا ہوا تھا؟‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’جی ضرور۔‘‘ میں نے اپنی کرسی آگے کھسکالی۔
ء…/…ء
’’میرا نام سیٹھ خادم ہے اور وہ لڑکی عینی… میری منکوحہ تھی‘ اس نے گویا ایک دھماکہ کیا اور پھر اس دھماکے کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے غور سے میری طرف دیکھا‘ میرے تاثرات نارمل تھے اور یہ نکاح دو سال قبل ہوا تھا۔‘‘ اس نے بات جاری رکھی۔ ’’میں جدی پشتی جاگیردار ہوں‘ میری آبائی علاقے بہاولنگر میں میری کافی زمینیں ہیں مگر میں ایک عرصہ سے لاہور کا ہوکر رہ گیا ہوں یہاں میں نے ایک کامیاب بزنس مین کی حیثیت سے خود کو منوایا ہے جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ لڑکی دو سال پہلے میری زندگی میں داخل ہوئی تھی ہماری پہلی ملاقات بظاہر حادثاتی تھی مگر مجھے یقین ہے کہ اس میں اس کی کوئی چال ہوگی تم دیکھ ہی چکے ہو کتنی معصوم اور حسن کا بے مثال شاہکار ہے تب یہ اور بھی معصوم تھی… نرم و نازک گڑیا! اس نے ایک غریب گھرانے کی لڑکی کی حیثیت سے مجھے اپنا تعارف کروایا والدہ کو ٹی بی کی مریضہ بتایا‘ والد کو مرحوم کہا اور یہی واحد سچ تھا جو اس نے بولا۔‘‘ سیٹھ خادم کی آواز میں تلخی گھل گئی۔ ’’اور میں نے اسے اپنے شاپنگ پلازہ میں کمپیوٹر آپریٹر کی نوکری دے دی‘ مجھے یاد ہے وہ اتنی خوشی ہوئی تھی کہ میں حیران رہ گیا تھا اس نے مجھے دیوتا‘ غریب پرور اور نجانے کون کون سے القابات سے نوازا تھا۔ شب و روز گزرتے گئے اور وہ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت میرے حواس پر سوار ہوتی گئی۔ میں لاکھ کاروباری شخصیت سہی مگر ایک دیہاتی بیک گرائونڈ رکھنے والے تقریباً اجڈ انسان تھا تب میں تازہ تازہ لاہور میں وارد ہوا تھا اس نے مجھ پر حسن و شباب کے اوچھے وار کیے۔ معصومیت کے جال بچھائے اور میری خاطر لوگوں کی باتیں سنیں۔ وہ باقاعدہ ایک چال کے تحت خود کو مجھ سے منسوب کرتی چلی گئی‘ بات میرے دفتر سے نکل کر باہر بھی پھیل گئی پھر ایک دن اس نے بڑے ڈرامائی انداز میں میری جان بچائی۔ وہ بھی تقریباً اپنی جان پر کھیل کر ‘ تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ کتنی عمدہ منصوبہ ساز ہے تب بھی اس نے نہایت ہی بے داغ منصوبہ کے ساتھ مجھے موت کے منہ میں دھکیلا اور پھر بچالیا میں اس پر فدا ہوگیا ۔ میرے وہم و گمان میں بھی وہ سب کچھ نہ تھا جو دو سال بعد سامنے آیا میں بُری طرح دیوانہ ہورہا تھا‘ میں نے اسے شادی کی آفر کردی چونکہ وہ فلم کا اسکرپٹ بہت پہلے لکھ چکی تھی چنانچہ اس نے میری آفر جزوی طور پر قبول کرلی اور وہ بھی بعض شرائط کے ساتھ۔‘‘ سیٹھ خادم نے دوسرا سگریٹ سلگایا‘ میں ہمہ تن گوش سن رہا تھا۔
’’جزوی طور پر یوں کہ اس نے مجھے کہا کہ وہ شادی صرف مجھ سے ہی کرے گی کیونکہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے مگر فی الحال صرف نکاح ہوگا۔ رخصتی اس کی ماں کے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد عمل میں آئے گی‘ مجھے کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ نکاح کی تقریب ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوئی‘ میری مت ماری گئی تھی میں ہوائوں میں اڑ رہا تھا۔ میں نے اس سے یہ پوچھنا بھی مناسب نہ سمجھا کہ تمہاری ماں کدھر ہے‘ اسے تو بلالو‘ یا کم از کم مجھے ملواہی دو۔ وہ اپنے داماد کو دیکھے اور داماد اپنی ساس کو۔ نکاح کے بعد اس نے یہ کہہ کر مجھے مطمئن کردیا کہ اس نے ابھی اپنی ماں کو میرے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ حالات ٹھیک ہوئے تو وہ اسے منالے گی اور تبھی ہماری رخصتی ہوجائے گی ۔ میری منکوحہ ہونے کے بعد ظاہر ہے وہ کمپیوٹر کی نوکری کیوں کرتی‘ میں نے شاپنگ پلازہ اسے گفٹ کردیا اور خود دوسرے کاموں کی طرف توجہ مرکوز کردی۔ اس طرح ایک سال گزر گیا سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ہاں البتہ اس نے میرے لاکھ اصرار کے باوجود مجھے اپنی ماں سے نہیں ملوایا تھا کیونکہ اس کے بقول ماں کی صحت مسلسل گرتی جارہی تھی اور ایسی حالت میں وہ ماں کو اپنے نکاح کی خبر دے کر تکلیف میں نہیں ڈال سکتی تھی۔ میں تقریباً ایک ماہ بعد شاپنگ پلازہ کا رسمی چکر لگالیا کرتا تھا‘ ویسے ہر دوسرے دن ہماری ملاقات ہوتی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک شام اس نے مجھے بتایا کہ وہ بوتیک کے سلسلے میں پندرہ دن کے لیے اسلام آباد جارہی ہے اس لیے میں پریشان نہ ہوں پندرہ دن گزر گئے مگر وہ نہ آئی۔ میں ان دنوں بری طرح مصروف تھا‘ میں نے چند روز انتظار کرنا بہتر سمجھا مگر اس کی طرف سے کوئی خبر نہ مل سکی۔
میں تقریباً بائیس دن بعد شاپنگ پلازہ پہنچ گیا وہاں سب کچھ ویسے ہی تھا مگر اس روم میں مالک کی کرسی پر ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان براجمان تھا‘ میں نے عینی کا پوچھا تو جواب ملا۔
’’جناب وہ تو یہ پلازہ ہمیں بیچ چکی ہیں‘ سودا ہونے کے بعد ان سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے۔‘‘
پلازہ کی چھت گویا میرے سر پر آن گری‘ آنکھوں تلے اندھیرا سا آیا۔ اس نوجوان نے جلدی سے اٹھ کر مجھے سنبھالا دیا۔
’’جناب! آپ ڈسٹرب لگ رہے ہیں‘ پلیز کیا کوئی مسئلہ ہوا ہے۔‘‘ اب میں اسے کیا بتاتا‘ میرے لیے تو یہ مسئلہ کشمیر تھا اس کے بعد جو ہوا وہ ذرا شارٹ کٹ میں تمہیں بتادیتا ہوں‘ تم نے صبح واپسی کا سفر بھی کرنا ہے۔‘‘ سیٹھ صاحب ذرا رکے اور تیسرا سگریٹ نکال لیا۔
عینی کے غائب ہونے کے بعد مجھ پر یکے بعد دیگرے کئی انکشافات ہوئے‘ ہمارے جوائنٹ اکائونٹ سے بھاری رقم غائب تھی اور اس کے بعد وہ دو قیمتی ہیرے جن کی قیمت لاکھوں ڈالرز میں تھی اور ان کے لیے بیرون ممالک کے جوہری پاگل ہورہے تھے وہ میری ذاتی تجوری سے غائب تھے اور تجوری کا سیکورٹی پاس ورڈ ہم دونوں کے علاوہ کسی تیسرے بندے کو معلوم نہیں تھا۔ میرے خیال میں اس نے سارا کھڑاگ وہ ہیرے حاصل کرنے کے لیے ہی پالا تھا اور سب سے بڑا جو گھائو تھا میرے لیے… جانتے ہو وہ کیا ہے؟‘‘ سیٹھ خادم نے ناک کے راستے دھواں نکالتے ہوئے پوچھا جواباً میں نے سوالیہ نظریں اس پر مرکوز کردیں‘ وہ بولا۔
’’ارے بھائی تم بھی مجھے بدھو ہی کہو گے اور بالکل بجا کہو گے۔ ہمارا نکاح جعلی تھا‘ قاضی جعلی… نکاح نامہ اس پر عینی کے سائن… اس کی طرف سے پیش کردہ اس کے ولی‘ گواہان… سب جعلی۔ وہ بہت بڑی فنکارہ ہے‘ شاطر دماغ کی مالک ہے۔ ملک کی سب سے بڑی بزنس ٹائیکون بننا چاہتی ہے اور نفسیاتی مریضہ ہے کیونکہ کنواری رہنا چاہتی ہے۔ میں نے اپنے بندوں کو اس کی تلاش میں لگادیا‘ اصل ماجرا کسے کہتا جسے بھی کہتا تو باتیں سننی کو ملتیں۔ میں نے اسے ڈھونڈنے میں دن رات ایک کردیا۔ اس کا نمبر ٹریس کیا تو وہ کسی ایسے شخص کے نام نکلا جس کی میانی صاحب کے قبرستان میں قبر تھی گویا وہ سارے نشان مٹاکر اڑن چھو ہوئی تھی۔ میں بھی دھن کا پکا تھا‘مجھے صرف یہ پروا نہیں تھی کہ اس نے میرے جذبات سے کھلواڑ کیا۔ جعلی نکاح کرکے دو سال تک تڑپایا مگر قریب نہ آنے دیا۔ مجھے دراصل وہ ہیرے چاہیے تھے‘ وہی میرا ناقابل تلافی نقصان تھا اور ایک دن میں نے اسے ڈھونڈ نکالا مگر ایسے موقع پر جب وہ کسی دوسرے شکار پر جھپٹنے کے لیے تیار تھی اور وہ شکار تم تھے۔ عین اس وقت جب میں اسے اٹھانے کے لیے پر تول رہا تھا اس نے تمہیں شکار کرلیا‘ اس دن میں بھی اپنے بندوں کے ساتھ مینار پاکستان کے احاطے میں موجود تھا مگر جب اس نے تمہارے والا ڈرامہ شروع کیا تو میں نے فیصلہ کرلیا کہ پہلے دیکھا جائے وہ کیا کرتی ہے تبھی میں نے تمہارے دوست ٹونی کو اپنے ساتھ لیا اور عینی کا کامیاب تعاقب کرنے کے بعد ہم واپس آگئے اس کے بعد ہم نے اپنا ایک مخبر اس کی کوٹھی میں داخل کردیا جس کے ذریعہ ہمیں ہر پل کی رپورٹ ملنا شروع ہوگئی۔ دو تین دن ہمیں اپنے کام کی منصوبہ بندی کرنے میں لگے کیونکہ کوٹھی پر کامیاب حملہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ تمہیں وہاں کے دفاعی حصار کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا جبکہ میں پولیس کو اس معاملے میں ملوث نہیں کرنا چاہتا تھا۔ قصہ مختصر کہ ہم نے بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ اس شاطر لڑکی کو مات دی‘ تمہیں وہاں سے بحفاظت برآمد کیا۔ اس کے چچا کو اس کے کرتوت بتائے اور میں نے اپنے ہیرے واپس لیے۔‘‘
’’بہت خوب…‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ ’’تو اس کا مطلب یہ ہوا سیٹھ صاحب کہ آپ کو ہیرے مل گئے۔‘‘
’’بالکل مل گئے۔‘‘ سیٹھ خادم نے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسلا۔ ’’نہ صرف ہیرے مل گئے بلکہ اس کے چچا نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے میرا شاپنگ پلازہ بھی واپس میرے نام کروادے گا۔‘‘
’’آپ کا تو پھر تمام نقصان پورا ہوگیا جناب!‘‘ میں نے خوشدلی سے کہا۔
’’نہیں میرے بھائی!‘‘ سیٹھ خادم نے سرد آہ بھری۔ ’’میں محبت کے نام پر دھوکا کھاگیا اور یہ محبت میرے دل سے نہیں نکل سکے گی‘ یہ نقصان کیا کم ہے؟‘‘ اس نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ میرے پاس اس سوال کا سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ تھا۔
’’ٹھیک ہے جوان!‘‘ سیٹھ خادم نے طویل انگڑائی لی۔ ’’رات آخری پہر میں داخل ہوچکی ہے‘ تم اپنی کمر ذرا بستر سے لگالو۔ میں نے تمہارے ٹکٹ کنفرم کروادیئے ہیں‘ صبح ناشتے کے فوراً بعد تم جاسکتے ہو۔ ‘‘
میں نے کہا۔ ’’سیٹھ صاحب مجھے تو نیند تبھی آئے گی جب میرا جگر ٹونی ناراضگی ختم کرے گا۔‘‘ سیٹھ خادم نے قہقہہ لگایا۔
’’ارے بھائی ایک یار بھلا اپنے یار سے کب تک ناراض رہ سکتا ہے اور ویسے بھی اس بدھو کو گھر تک جانے کے لیے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ جواباً میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔
ء…/…ء
اسی ٹریول کمپنی کی بس تھی اورہم دونوں تھے‘ فرق صرف یہ تھا کہ سفر واپسی کا تھا۔ ٹونی منہ پھلائے کھڑکی سے باہر دیکھے جارہا تھا۔ میں نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا۔
’’ٹونی جگر! مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے کیا؟‘‘
ٹونی چار دنوں کا غصہ دل میں دبائے میری پہل کا انتظار ہی کررہا تھا۔ ایک طاقتور قسم کا گھونسہ گردن کے پاس لگا اور پھر بغیر کسی وقفے کے تابڑ توڑ پانچ چھ فولادی مکے مختلف حدود اربعہ کے حساب سے میرا مقدر بنے۔
’’حرام خور… ذلیل… اتنی بڑی غلطی تو بش کی ماں نے اسے جنم دے کر نہیں کی جتنی غلطیاں تُو نے کی ہیں۔ ابھی تک تجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ تیری غلطی کیا ہے۔‘‘ اس نے ہانپتے ہوئے ایک جھانپڑ میری پشت پر رسید کیا۔
’’ٹونی میرا بھائی!‘‘ میں نے اس کا حرکت میں آتا ہوا ہاتھ جلدی سے پکڑلیا۔
’’بہت جلدی غلطی یاد آگئی تجھے کمینے! تیرے ٹھرکی پن کی وجہ سے سار ا ٹورغارت ہوگیا‘ ذلالت الگ مقدر بنی۔‘‘ ٹونی اپنا ہاتھ چھڑا کر مزید گھونسے برسانے کے موڈ میں تھا۔
’’ٹونی میری جان آئندہ ایسا نہیں ہوگا‘ میرا تجھ سے وعدہ ہے۔‘‘ میں نے لہجے میں مظلومیت سمونے کی پوری پوری کوشش کی مگر اس بار نشانہ میرا پیٹ بنا‘ یہ گھونسہ بھی معیار کے لحاظ سے عمدہ تھا۔
’’آئندہ اپنے باپ کو ساتھ لے کر آنا ٹور پر‘ کسی ایٹم بم کی اولاد!‘‘ اب کی بار ٹونی کافی بلند آواز سے چلایا تھا سارے لوگ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ٹونی کو غلطی کا احساس ہوا تاہم اس نے مستقل مزاجی سے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا۔
’’ابے گنجے! ادھر کیا جامن کے درخت پر تربوز لگ گئے ہیں جو اتنی زور آزمائی کرکے دیکھ رہے ہو۔‘‘ اگلی نشستوں سے گردن موڑ کر پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے سبھی لوگ ٹونی کے شائستہ ریمارکس سن کر فوراً ہی سیدھے ہوگئے البتہ انہیں یہ فرض کرنے میں ضرور دقت پیش آئی ہوگی کہ ٹونی نے گنجا کہہ کر کسے مخاطب کیا تھا کیونکہ پوری بس میں اتفاق سے کوئی بھی گنجے صاحب دستیاب نہیں تھے غالباً یہ ٹونی کی سیاسی چل تھی میں نے اسے ڈھیلا پڑتے دیکھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’چل چھوڑ دے بے چاروں کو۔‘‘ ٹونی نے زہر خند نظروں سے مجھے گھورا۔
’’میں نے تجھے ابھی معاف نہیں کیا فضلو! اس لیے تمیز سے رہ ۔‘‘
’’کردے نا معاف یار! میں مان رہا ہوں غلطی اپنی۔‘‘ میں نے خوشامدانہ انداز میں اس کے گھٹنے پکڑلیے۔
’’اب کھوتے! ‘‘ وہ اچھلا۔ ’’یہ کیا کررہا ہے؟‘‘
’’تو پھر کردے معاف۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہوں… معاف…‘‘ اس نے افلاطونی انداز میں تھوڑی پر دونوں ہاتھ رکھے۔
’’معافی مل سکتی ہے فضلو جگر! مگر ایک شرط پر۔‘‘
’’کون سی شرط؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔ ٹونی بیان بدلنے میں کسی بھی طرح سیاستدانوں سے کم نہیں تھا‘وہ بولا۔
’’شرط یہ ہے کہ تُو گائوں جاکر چاچا برکت کے ڈھابے سے مرغی کھلائے گا۔‘‘
’’ڈن ہوگیا‘ بس اتنی سی بات تھی ٹونی یار؟‘‘
’’اتنی سی بات نہیں ہے۔‘‘ ٹونی نے میری بات کاٹی۔ ’’ابھی میری شرط پوری نہیں ہوئی۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ میں نے فکری مندی سے پوچھا۔
’’وہ ایسے کہ گائوں جاکر تم کسی کو کچھ نہیں بتائو گے مگر وہی بتائو گے جو میں کہوں گا۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا‘وہ مسکرایا۔
’’مثلاً یہ کہ تم کہو گے کہ شاہی قلعہ میں ٹونی کی ملاقات انار کلی سے ہوئی جوکہ ایک بھرپور لنچ پر مشتمل تھی اس کے علاوہ وہاں نرگس بھی میری آمد کا سن کر خصوصی طور پر تشریف لائی اور فی سبیل للہ اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔‘‘ میں ہنسا۔
’’مگر مسٹر ٹونی صاحب! آپ شاید بھول رہے ہیں کہ آتے وقت آپ باراک اوباما سے ملاقات کا عندیہ دے کر آئے تھے۔‘‘
’ ’دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘‘ ٹونی نے دانت نکالے ۔’’سوائے شکل کے۔‘‘
’’اچھا نرگس کون سی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’نرگس فخری؟‘‘
’’ابے نہیں‘ اپنی پاکستان والی نرگس وکھری۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’سمجھو تیرا کام ہوگیا ٹونی!‘‘ ٹونی اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’پھر تیرا کام بھی ہوگیا فضلو! اٹھ جھپی ڈال جگر۔‘‘ اسی وقت بس کی رفتار تیز ہوئی اور وہ ہوا سے باتیں کرنے لگی شاید اسے بھی ہماری طرح کسی بلائے ناگہانی سے بچ کر آنے کی خوشی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close