Naeyufaq Jun-16

عورت زاد(قسط نمبر3)

امجد جاوید

شعیب کہتے ہوئے رک گیا تھا۔ خوف کے سائے اس کی آنکھوں میںلرز رہے تھے۔
’’اب مجھے کوئی ڈر نہیں، مجھے بس مٹھن خان کو قتل کرنا ہے۔‘‘ نینا کے لہجے میںقہر اُتر آیا تھا۔اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے شعیب کی طرف دیکھا اور پھر گہرے لہجے میں بولی۔‘‘ ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’تم وہ نینا نہیںہو، جسے میںجانتا ہوں۔‘‘ اس کے لہجے میںبلا کی حیرت اُتری ہوئی تھی۔
’’تو پھر کون ہوں؟‘‘ یہ کہتے ہوئے اُس نے گہری مسکان سے اسے دیکھا۔ جس سے کار میںپھیلا ہوا خوف کافی حد تک ختم ہو کر رہ گیا۔
’’کچھ ایسی جس کی مجھے سمجھ نہیںآ رہی، یا پھر وہ پہلی والی تو کم از کم نہیںہو۔یہ سب کیسے، تم…؟‘‘ شعیب سے کوئی سوال بن نہیں پا رہا تھا۔
’’شعیب۔! میں نے خود کو مار لیا ہے۔‘‘
’’مار لیا مطلب؟‘‘ اس نے انتہائی تجسس سے پوچھا تو اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی۔
’’اور یہ سب کچھ ایک نئی زندگی ہے، جو بہرحال میری نہیں ہے۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے خودکلامی کر رہی ہو۔ ان کے درمیان خاموش چھا گئی تبھی شعیب یوںبولا جیسے اسے کوئی اہم بات یاد آ گئی ہو۔
’’اس سیل فون کو پھینک دو۔مٹھن کا نمبر ہے میرے پاس، اسے پھینک دو۔‘‘
’’یہ لو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نینا نے ایک بار فون کو دیکھا اور پھر باہر پھینک دیا۔
’’یہ سب کیسے ؟ تم نے بتایا نہیں؟‘‘ شعیب نے کہا تو نینا نے اپنا ہاتھ اس کی گردن میںحمائل کیا، اپنا سر اس کے بائیں کاندھے پر رکھتے ہوئے اس کے قریب ہو کر بولی۔
’’وقت اور حالات نے سکھا دیا پیارے، میری زندگی کا اب صرف ایک ہی مقصد ہے، اس مٹھن خان کو ختم کرنا۔‘‘
’’وہ بہت طاقتور آ دمی ہے۔ ہماری اس سے خاندانی د شمنی چل رہی ہے، آج سے نہیںبہت پہلے سے، یہ تو آج میں تمہاری وجہ سے بچ گیا ورنہ …‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے جھرجھری لی اور کانپ گیا۔
’’بچانے والا رَبّ ہے میری جان، میںکیا اور میری اوقات کیا۔ مٹھن خان کی طاقت ہی اس کی کمزوری بنا دو ڈئیر۔ اچھا ہوا کہ آج سے ہی یہ کام شروع ہوگیا۔‘‘ اس نے انتہائی نفرت سے کہا۔
’’لیکن ہم حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اب یہی دیکھ لو، یہ چار بندے یہاں قتل ہوگئے ہیں۔ مٹھن خان کو پتہ ہے کہ یہ بندے کسے مارنے کے لیے بھیجے گئے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ خود مرگئے۔اب مٹھن خان کا تمام تر فوکس ہمارے خاندان پر ہوگا۔ مجھ سے پوچھا جائے گا اور…‘‘
’’یہ تو ہو گا۔‘‘ نینا نے اس کی بات کاٹ کر کہا، پھر چند ثانئے بعد بولی۔‘‘مگر تم نے یہی کہنا ہے کہ کسی کو نہیں دیکھا اور نہ کوئی تجھے قتل کرنے آیا ہے۔‘‘
’’یہ کیا بات کر رہی ہو، قتل ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو نینا نے اس کے چہرے پر دیکھا پھر چند ثانئے بعد طنزیہ لہجے میںپوچھا۔
’’تو کیا تم ڈر گئے ہو؟‘‘
’’نہیں، میںڈرا نہیں، میںتمہیںبچانا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے تیزی سے جواب دیا
’’مجھے مت بچائو۔ بھول جائو سب اور یہ سوچو مٹھن خان کو صرف قتل نہیں،ختم کیسے کرنا ہے۔‘‘ اس نے نفرت سے کہا تو ان کے درمیان پھر سے خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر بعد شعیب یوں بولا جیسے بات کرنے کا محض بہانہ ہو۔
’’نینا، یہ تم نے اسے اپنا نام گولی کیوں بتایا؟‘‘
’’بس ایسے ہی سامنے نام آیا تو میں نے کہہ دیا۔‘‘ وہ دھیمے سے لہجے میں بے پروائی سے بولی۔
’’یہ جو تم اس قدر بدل گئی ہو، یہ سب کیسے کیا؟‘‘ شعیب ابھی تک وہیںاٹکا ہوا تھا۔ اس کا تجسس ختم نہیں ہوا تھا۔
’’شہر پہنچنے میںکتنا وقت لگے گا؟‘‘ نینا نے شعیب کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پوچھا۔
’’زیادہ سے زیادہ دس منٹ۔‘‘ اس نے جواب دیا
’’بس تو پھر، اپنے گھر جائو تم، کسی سے کچھ مت کہنا کہ کیا ہوا، اپنے والدین کو بھی نہیں بتانا۔ میں جا کر بات کرتی ہوں تم سے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی، تم …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔
’’اب کسی کو بھی نہیںآئے گی، جو کہا ہے وہی کرو، باقی میںدیکھتی ہوں۔ ڈرائیونگ پر دھیان دو۔‘‘
پھر ان دونوں میںکوئی بات نہ ہو ئی۔ یہاں تک کہ وہی اسٹاپ آ گیا، جہاںسے وہ اس کے ساتھ گئی تھی۔ اس نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا، چادر اپنے گرد اچھی طرح لپیٹی اور کار رُکتے ہی اُتر کر چل دی۔ اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہیںدیکھا۔
٭…٭…٭
وہ بارک نمبر تین میں موجود اپنے کوراٹر پہنچی تو آپی فوزیہ برآمدے میںکھڑی تھی۔ دیگر لڑکیاںدروازوں میں سہمی ہوئی کھڑی تھیں۔ نینا کو حالات معمول پر نہیںلگے۔ اسے دیکھتے ہی آپی فوزیہ نے غصے میں تیزی سے پوچھا۔
’’کہاں تھی تم؟‘‘
اُسے یقین ہوگیا، صورت حال ٹھیک نہیں تھی۔آپی فوزیہ کے چہرے پر غصے کے ساتھ پریشانی بھری جھنجٹ تھی۔ لگتا تھا جیسے زلزلہ آگیا ہو۔دوسری نئی لڑکیاں گھبرائی ہوئی کچھ فاصلے پر کھڑی تھیں۔کوارٹر میںافراتفری کا عالم تھا۔ تبھی اس نے پوچھا۔
’’آپی کیا ہوا، اس قدر …‘‘ اس نے کہنا چاہا تھا کہ وہ بات کاٹتے ہوئے غصے میں بولی۔
’’آئو میرے ساتھ، جلدی سے وردی پہنو۔‘‘
’’آپی،کیا ہوا؟‘‘ اس نے پوچھا تو وہ پلٹ کر کمرے کے اندر جاتے ہوئے کہتی چلی گئی۔
’’یار کچھ بندے قتل ہوگئے ہیں۔ ان کی لاشیں اس وقت اسپتال میںپڑی ہیں۔ انسپکٹر نے سارے تھانے کو الرٹ کیا ہے۔ظاہر ہے مجھے بھی جانا ہوگا، یہاں تو ساری نئی لڑکیا ں ہیں، کوئی بھی ساتھ لے جانے والی نہیں۔ تم پتہ نہیںکہاں دفع ہو گئی تھیں۔ اب چلو، پتہ نہیںکتنا وقت لگے وہاں پر۔‘‘ آ پی نے اپنی قمیص اُتارتے ہوئے کہا۔
’’کوئی بھی نہیں تھی ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہوتی بھی تو اس وقت کسی دوسری کو ساتھ نہ لے جاتی، تیری بات ذرا کچھ اور ہے، اسی لیے تیرے نخرے سہتی ہوں، چل اب جلدی سے وردی پہن۔‘‘ آپی نے قمیص کی سلوٹیں دور کرتے ہوئے کہا۔ نینا نے ایک طویل سانس لیا اور اپنے کمرے میںآگئی۔ اس نے بھی تیزی سے وردی پہنی۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی تیار ہو کر آپی فوزیہ کے ساتھ اسپتال کے لیے چل دیں۔ انسپکٹر نے اسے وہیں بلایا تھا۔
وہاں لوگوں کارش لگا ہوا تھا۔ ان میںکافی ساری عورتیں بھی تھیں۔ ایک مجمع لگا ہوا تھا۔کچھ لواحقین تھے اور بہت سارے لوگ تماش بین تھے۔اس وقت ڈاکٹر پوسٹ مارٹم کر رہے تھے۔ انہیں وہاں اس لیے بلوایا گیاتھا کہ وہاں پر موجود عورتیںکوئی ہنگامہ نہ کر دیں۔ لیکن کچھ نہیںہو ا، وہاں پر موجود عورتیں روتی، پیٹتی اور چلاتی رہیں۔ اُسے لگا، یہ سب اسے ہی سنا رہی ہیں۔ گالیاں، گریہ زاری، بین، بد دعائیں جو بھی جس کے منہ میںآتا تھا، وہی کہتی چلی جا رہی تھیں۔جس طرح ان کا شور تھا، اسی قدر نینا کے اندر طوفان اٹھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی گن یا پسٹل نہیںتھا، ورنہ انہیں بتاتی جنہیںیہ رو پیٹ رہی ہیں، اصل میں وہ کرنے کیا گئے تھے۔ وہ اگر انہیں نہ مارتی تو اب تک اس کی لاش ان لوگوں کی جگہ پڑی ہوتی۔ نینا کو اپنے آپ پر قابو پانے میں مشکل ہو رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی اسے یہ خیال آتا کہ اس نے یہ چھری مٹھن خان پر چلائی ہے تو اس کے اندر تسکین اتر جاتی۔
پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔ لاشیں وصول کرنے کے بعد وہاں موجود عورتیں رونے پیٹنے اور چلانے لگیں۔ اس وقت نینا نے بڑے غور سے دیکھا۔ جنہیں اس نے گولیاں ماری تھیں، ان کی حالت کیسی ہوگئی تھی۔یہی وہ لمحات تھے، جب نینانے اپنے اندر ایک سرمستی اُبھرتے ہوئے محسوس کی۔ دشمن کو مارنے کے بعد کیسا سرور ملتا ہے، وہ اس کیفیت سے گذر رہی تھی۔ یہ درندگی تھی، ایک مظلوم کا انتقام تھا یا طاقت کا نشہ تھا۔ وہ خود نہ سمجھ سکی بلکہ اسے خود سے خوف آ نے لگا۔ وہ کیا تھی اور کیا بن گئی ہے۔ اس نے ایک جھر جھری لی اور خود پر قابو پا نے لگی۔
وہ لاشوں کے پاس سے ہٹ گئی تھی۔وہ ایک طرف کونے میں جا کر کھڑی ہوگئی۔وہ پوری توجہ سے آج کے اس واقعہ کے بارے میںسوچتی چلی جا رہی تھی۔ جو ہونا تھا، وہ تو ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے دشمن مٹھن خان پر پہلا چرکا لگا دیا تھا۔ یہ ممکن ہی نہیںتھا کہ وہ اس کے درد کا احساس نہ کرتا۔ اس نے تو بلبلا اٹھناہے۔وہ کتوںکی طرح اُس ’’گولی‘‘ کو تلاش کر رہاہوگا، جس نے اس کے بندے مار دئیے ہیں۔ یہ صرف بندے نہیں مرے تھے، اس کی طاقت اور حاکمیت کو چیلنج کیاتھا۔ اس نے جوپیغام دیا تھا، وہ مٹھن شاہ کے سینے میں چھری گھونپ دینے کے مترادف تھا۔ وہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں تھا۔لیکن اگر مٹھن خان کو ختم کرے، وہ پکڑی گئی تو یہ اس کی سب سے بڑی شکست ہو گی۔ اس نے سوچ رکھاتھا، ایسا کبھی ہو بھی گیا تھا تو موت کو ترجیح دے گی۔ مٹھن خان کی موت سے پہلے وہ کسی صورت بھی قانون کی نگاہوں میں نہیںآنا چاہتی تھی۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ شعیب کا فون آگیا۔
’’کہاں ہو؟‘‘ اس کے لہجے میںسر سراہٹ تھی۔
’’میں ڈیوٹی پر ہوں۔‘‘ اس نے پر سکون لہجے میں عام انداز میںکہا
’’ڈیوٹی پر ؟کچھ ہوا تو نہیں، میرا مطلب …‘‘ اس نے گھبرائے ہوئے انداز میںپوچھا
’’یار تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو؟‘‘ اس نے ایک دم سے سنجیدہ ہوتے ہوئے ہولے سے کہا۔
’’نہیں، میں گھبرایا ہوا نہیںہوں، مجھے تمہاری فکر ہے۔ میں تو بڑے آرام سے اپنے گھر میں ہوں۔‘‘ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’بالکل، یوں ہی پر سکون رہو، صبح ملتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔جس وقت وہ بات کررہی تھی، اسی دوران آپی فوزیہ اس کے قریب آگئی تھی۔نینا نے اپنا فون بند کر دیا۔ کچھ دیربعد آپی فوزیہ کو انسپکٹر نے جانے کے لیے کہہ دیا۔
آدھی رات کے بعد کہیں جا کر انہیں تھانے سے کوارٹر آنے کی اجازت ملی۔ انہوں نے آتے ہی کھانا کھایا اور سونے کیلئے لیٹ گئیں۔نینا کو باوجود کوشش کے نیند نہیںآئی، وہ یہی سوچتی رہی تھی کہ اس نے چار بندے پھڑکا دئیے ہیں، ابھی تو اس نے مٹھن خان کو برباد کرنا ہے، اگر اس سے پہلے وہ پکڑی گئی، یا اس کے بارے میںپتہ چل گیا تو کیا ہوسکتا ہے؟یہ ایک ایسا سوال تھا جس نے اسے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا۔اسے ایک بار پھر اپنے آپ پر غور کرنا تھا۔
پولیس ٹریننگ کا ایک سال اس نے ضائع نہیںکیا تھا۔ ایک ایک لمحہ اس نے خود کو مضبوط بنانے پر صرف کیا تھا۔جہاں اس نے اپنی جسمانی مضبوطی کی طرف توجہ دی، وہاں اس نے سیل فون کو ایک ہتھیار کے طور استعمال کیاتھا۔اس نے اپنی آواز کو برتا، ایک ایسا نیٹ ورک بنا لیا، جس میں بہت محتاط رہ کر ایک فرضی نام سے وہ معلومات لیتی اور دیتی تھی۔اس کی ساری توجہ مٹھن خان پر تھی لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا میں آگے سے آگے جاتی گئی، نت نئے انکشافات اس کے سامنے کھلتے چلے گئے۔لوگ کہاں سے کہاں پہنچ گئے تھے؟ دنیا کس طرح بس رہی ہے، چوری چھپے کیا کھیل کھیلے جارہے ہیں، بظاہر شرفاء اور معزز لوگ کیا کیا گُل کھلا رہے ہیں، کیسی کیسی وارداتیں ہو رہی ہیں، انسان کب تک انسان رہتا اور کب وہ درندہ بن جاتا ہے، اس پر سب کھلتا چلا گیا۔ عادی یا پیشہ ور مجرم تو بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ اس دنیا میں نئے لوگ کتنا آ گے بڑھ گئے تھے، یہ کسی کی نگاہ ہی میںنہیںتھا۔اسے پہلی بار پتہ چلا کہ انفار میشن کتنی بڑی قوت ہو تی ہے۔
پولیس کی نوکری نے اسے بہت اچھی ٹریننگ تو دے دی تھی، لیکن جو اس کے عزائم تھے، اس میں کہیں بھی وہ پکڑی جا سکتی تھی۔ یوں ناک کے نیچے کب تک چل سکتا تھا۔کوئی بھی ادارہ ہو، اس کے اپنے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں اور خاص طور پر جب معاملہ فورسز کا ہو، اس میں نگاہ رکھی جاتی ہے۔ لیکن اگر انہی اصول و ضوابط کی پاس داری کی جائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ہو تو اس میں کرپشن نہیں ہو سکتی۔ کہیںنہ کہیں راستے کھلتے ہیں، چور دروازے بڑے بڑے راستوں میں تبدیل ہوتے ہیں تو معاملات بگڑ جاتے ہیں۔ نینا نے یہ دیکھ لیا تھا کہ اس کے محکمے میںبھی بڑے چور دروازے ہیں۔ اسے انہیں استعمال کرنا آ گیا تھا۔اس نے آتے ہی آپی فوزیہ کو اس طرح سے اپنے ہاتھوں میںلیا کہ وہ من مانی کرنے لگی تھی۔ جب چاہے چھٹی لے لیتی اور جب چاہے واپس کوارٹر پر آ جاتی، دل چاہتا تو ڈیوٹی کر لیتی اور من نہ چاہتا تو موج کرتی۔ مگر یہ کب تک چل سکتا تھا؟
وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ مجرم چاہے جتنا مرضی چالاک، شاطر اور طاقت ور ہو، قانون کے شکنجے میں آ ہی جاتا ہے۔ اگر بالفرض وہ بچ بھی جائے تو رب تعالی کاایک دوسرا نظام موجود ہے، جسے مکافات عمل کہتے ہیں۔ مظلوم کی آہ رائیگاں نہیںجاتی اور ظالم کبھی بچ نہیںسکتا۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ مٹھن خان کو ختم کرنا اس اکیلی کے بس میں نہیں لیکن وہ اس راہ پر چل پڑی تھی۔ وہ تو پہلے ہی قانون کی آنکھوں میں دھول نہیں ڈال رہا تھا بلکہ کھلے عام قانون شکنی کر رہا تھا۔ اس پر سیدھا ہاتھ ڈالا ہی نہیںجا سکتا تھا۔اس نے طے کیا ہوا تھا کہ وہ مٹھن خان سے ٹیڑھے ہاتھوں ہی سے نمٹے گی، یہ کیسے ہوگا، وہ خود نہیں جانتی تھی۔ یہ طے تھا کہ اس کا مقصد اور پولیس کی نوکری دونوں نہیں چل سکتے تھے۔
یہی سوچتے ہوئے اُسے صبح ہو گئی مگر اس کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہیںتھا۔وہ اپنے وقت پر اٹھی اور میدان میںچلی گئی۔واپس آئی تو آپی فوزیہ سمیت سبھی ناشتہ کررہے تھے۔ وہ تھانے جا نے کو تیار تھی۔تبھی اس سے کہا۔
’’آپی چھٹی چاہے ، گھر جانا ہے، کل آجائوں گی۔‘‘
’’چلی جانا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے خالی کپ بڑھایا اور باہر نکلتی چلی گئی۔ نینا کچن میںگئی، خوب ڈٹ کر ناشتہ کیا اورتیار ہونے لگی۔ اسے آج ہر حال میں شعیب سے ملنا تھا،وہ اسے فون کر کے سب طے کر چکی تھی۔
٭…٭…٭
وہ شہر کی مشرقی سمت میں شعیب کے دوست کا فارم ہائوس تھا۔وہ شہر میں نہیںتھا لیکن اس کے تمام ملازم اسے جانتے تھے۔ نینا اور شعیب رہائشی عمارت کی دوسری منزل کے ایک کمرے میںبیٹھے ہوئے تھے جہاں سے لان میںکھلے پھول، دور تک کھیت اور سڑک تک سب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوئی ہلکی ہلکی ہوا ماحول کو معطر کررہی تھی۔ وہ آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ نینا نے اپنی پوری روداد شعیب کو سنا دی تھی۔اس نے کچھ بھی نہیںچھپایا تھا۔ یہاں تک کہ فواد کے ساتھ ہونے تمام باتیں کہہ ڈالیں۔ سب کچھ سننے کے بعد شعیب نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے جذباتی لہجے میںکہا
’’تو اس کا مطلب ہے تم انتقام کی راہ پر چل نکلی ہو۔‘‘
’’کیا کروں پھر، مرجانا بھی آسان نہیںرہا میرے لیے میںذِلّت کے ساتھ نہیںجی سکتی۔‘‘ اس نے بے بسی سے کہا
’’کون کہتا ہے کہ تم ذلّت کے ساتھ جیو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم یوں بندے پھڑکاتی پھرو۔ چار بندے مار دئیے ہیںتم نے، میں تمہارا پاگل پن دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں، اس قدر وحشت…‘‘ اس نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے جھر جھری لے کر کہا۔
’’میںانہیں نہ مارتی تو وہ تمہیںمار دیتے، مجھے اٹھا کر لے جاتے۔ وحشی درندوں کی طرح مجھے بھنبھوڑ دیتے اور پھر قتل کرکے کہیںپھینک دیتے۔ یہ سوچا تم نے ؟ وہ رحم کھاتے ہم پر، تصور کرو، وہ میرے بدن سے لپٹے ہوئے مجھے بھنبھوڑ رہے ہوتے تو تمھارا کیا ردعمل ہوتا، تم اپنی لاش کے بارے میں سوچو کہیں…۔‘‘ نینا نے ایک دم سے کہا۔
’’بس کرو…‘‘ شعیب نے جھرجھری لے کر کہا۔
’’جانتا ہوں، تبھی تو تم پر اتنا اعتماد کیا ہے۔ میں نے کسی کو بھی نہیںبتایا، مگر ایک سوال ہے تم سے ؟‘‘ اس نے اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’بولو۔‘‘ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’تم جانتی ہو کہ مٹھن خان اب خاموش بیٹھنے والا نہیں، اس کے بندے اُس قاتل کو ضرور تلاش کریںگے، جس نے اس کے بندے پھڑکا ئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ ہم تک پہنچ پاتے ہیںیا نہیں، لیکن سوال یہ ہے تم نے میرے لیے اتنا بڑا رسک کیوں لیا ؟ صرف مٹھن خان کی دشمنی میں یا…‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گیا۔
’’تم جو مرضی سمجھو، دشمنی تو میری مٹھن خان سے ہے وہ مرے گا یا میں۔‘‘ نینا نے گہری سنجیدگی سے کہا۔
’’بس تو پھر، یہ جان لو،کل کے حملے کے بعد، میںنے یہ سوچ لیا ہے، میرا بھی اگر کوئی دشمن ہے تو وہ صرف مٹھن خان ہی ہے۔ مجھے قتل کرے یا میرے بھائی کو بات تو ایک ہی ہے۔‘‘ اس نے نفرت بھرے لہجے میںکہا۔
’’شاید قسمت نے ہم دونوں کو ایک ہی راہ کا مسافر بنانا تھا۔‘‘ نینا نے دُکھ بھرے لہجے میںکہا۔
’’نہیں، ہم ایک ہی راہ کے مسافر نہیں بن سکتے؟‘‘ شعیب نے حتمی لہجے میں کہا تواس نے چونکتے ہوئے کہا۔
’’کیوں، وہ کیوں نہیںبن سکتے ؟‘‘
’’تم انتہائی جذباتی ہو،لہر جتنی بھی طوفانی ہو، ساحل سے ٹکرا کر ختم ہو جاتی ہے۔جذبات کا، طاقت سے کیا مقابلہ ؟ میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ اس نے صاف لفظوں میںکہا
’’تو پھر کیا تمہارے پاس اس جتنی طاقت ہے؟‘‘ نینا نے طنزیہ لہجے میںپوچھا
’’بلا شبہ نہیںہے، لیکن میرے پاس صبر ہے، مناسب وقت کے لیے صبر،وحشی درندے کو طاقت سے زیر نہیں، بلکہ عقل سے کیا جاتا ہے، دوسرے لفظوں میں انسان کے پاس شیر جتنی طاقت نہیںہے، لیکن شیر کو انسان زیر کر لیتا ہے، کیسے، یہ تم سمجھ سکتی ہو؟‘‘ شعیب نے سکون سے کہا۔
’’یہ بھی دیکھو نا، ایک من وزن کی بوری اٹھانا ہے تو عقل اس بوری کا وزن کم نہیں کر سکتی،وزن اتنا ہی رہے گا۔ لیکن میں یہ بھی مانتی ہوں کہ عقل اس وزن کو اٹھانے میںسہولت دے دے گی۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’یہی میں تمہیں سمجھا رہاہوں، ناممکن کچھ بھی نہیںہے، ہمارے پاس طاقت بھی نہیں جتنی اُس کے پاس ہے، تو ہمیں کیا کرنا، ہمیں صبر، تحمل اور سکون سے سوچ سمجھ کر آ گے بڑھنا ہے۔‘‘ شعیب نے سنجیدگی سے کہا۔
’’میںسمجھ گئی تم کیا کہنا چاہتے ہو، اگر تم وعدہ کرو کہ تم اس راستے پر میرے ہم سفر بن جائو گے، توپھر تم جیسے چاہو گے، ویسے ہی ہوگا۔‘‘ نینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’چلو، ایسے ہی سہی۔‘‘ اس نے کہا تو ہنس دیاتو وہ بولی۔
’’شکر ہے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ تو آ ئی۔‘‘
’’آئو کھانا کھاتے ہیں، نیچے ملازم مجھے بلا رہا ہے۔‘‘ شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا۔
وہ نیچے لائونج میں آ گئے۔ جہاں ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا ہوا تھا۔ کھانے کے بعد وہ لان میںآ کر بیٹھ گئے۔ ملازم وہیں چائے دے گیا۔ اِدھر ُادھر کی باتوں کے بعد اچانک شعیب نے گہرے لہجے میںکہا
’’یار۔! پتہ نہیں مٹھن خان کیا کر رہاہوگا۔وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کے بارے میںہمیں پتہ چلنا چاہے ۔ خاص طور پر ان چار بندوں کے بارے میں۔‘‘
’’ان بندوں کے بارے میں مجھے پتہ ہے، رات میری وہیں پر ڈیوٹی تھی۔ مٹھن خان صرف’ گولی‘ کوتلاش کر رہا ہے۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’ان چاروں کے بارے میں تمہیںپتہ ہے؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’کہا نا، وہاں اسپتال میںبہت ساری عورتیں تھیں، وہ کہاں کہاں رہتے تھے، کون تھے، سب جانتی ہوں۔ سبھی اس کے پروردہ پالتو تھے۔‘‘ نینا نے نفرت سے کہا۔ اس پر وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر بولا۔
’’میں نے رات ہی سوچ لیا تھا کہ کرنا کیاہے۔ میں تمہیں ایک فون دیتا ہوں۔ تم گولی بن کر اسے ذہنی طور پر ٹارچر کرو، اسے بھڑکائو، پھر دیکھتے ہیںکیا کرنا ہے۔‘‘ شعیب نے سمجھاتے ہوئے کہا تونینا کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ پھر بولی۔
’’اس فون سے ہم ٹریس نہیںہوں گے کیا؟‘‘
’’نہیں، وہ میں نے خود بنایا ہے اور اس پر بارہا دفعہ تجربہ کر چکا ہوں، وہ کہیںٹریس نہیںہوگا۔اب تمہیں پتہ ہے کہ کیا کرنا ہوگا تمہیں؟‘‘ شعیب نے سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ فوراً سمجھ گئی کہ اس نے کرنا کیا ہے۔ یہی سوچ کر وہ ہولے سے مسکرا دی۔ پھر سکون بھرے لہجے میںبولی
’’اوئے کیا کہنے تیرے، چل دے مجھے کہاں ہے وہ سیل فون، میں کرتی ہوں بات۔‘‘
’’دیتا ہوں، ذرا صبر کرو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور باہر کی جانب چلا گیا۔ وہ پورچ میںکھڑی گاڑی تک گیا تھا۔ اس میں سے بیگ نکالا اور واپس آ گیا۔ اس کے بیگ میںبہت ساری چیزیں تھی، وہ ایک ایک کرکے سب نکال کر رکھنے لگا۔ وہ ساری الیکٹرونکس کی چیزیں تھیں۔ اس پرنینا نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’یہ کیا مینا بازار لگا رہے ہو؟‘‘
اس نے کوئی جواب نہیںدیا اور احتیاط سے مختلف ڈبے نکالتا رہا، یہاں تک کہ ایک ڈبے سے سیل فون نکال کر بولا۔
’’تجھے نہیں پتہ یہ کیا کچھ ہے، ابھی تم یہ پکڑو، اسے آن کرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے وہ سیل فون اُسے تھما دیا۔ وہ اسے دیکھنے لگی تو وہ چیزیں واپس بیگ میںرکھنے لگا۔سب چیزیں سنبھال چکا تو بیگ ایک طرف رکھ کر پوچھا۔’’آن ہو گیا؟‘‘
’’ہو گیا۔‘‘ نینا نے بتایا
’’تو بس ہو جائو شروع، اس میں مٹھن خان کا ہی نمبر محفوظ ہے، کسی دوسرے کی ضرورت ہو گی تو کر لینا۔‘‘
نینا کے بدن میں ایک دم سے سنسنی پھیل گئی۔ اس نے اسکرین پر نمبر دیکھا اور صوفے پر بیٹھتے ہوئے نمبر پش کر دیا۔ اگلے ہی لمحے کال مل گئی۔ اس نے اسپیکر آن کر دیا۔
’’کون ؟‘‘دوسری طرف مٹھن خان بول رہا تھا، وہی کہر آلود سی کرخت آواز، جس میں زندگی کم اور درندگی زیادہ تھی۔
’’میں گولی…‘‘ اس نے بھی سرد لہجے میں کہا تھا۔ چند ثانئے خاموشی رہی، بلاشبہ مٹھن خان کو شاک لگا تھا۔پھر یوں کہا گیا جیسے کوئی خود کو روک رہا ہے۔
’’کون ہو تم ؟ کس نے …‘‘
’’بکواس بند کر مٹھن، موت کے سامنے نہیںبولتے، چپ چاپ اپنا آپ موت کے حوالے کر دیتے ہیں۔‘‘
’’تم اور موت … تیرے جیسی موت کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں، اتنی ہمت ہے تو سامنے آ، پھر دیکھوں گا تو کتنی بھیانک ہے۔‘‘ اس نے طنزیہ لہجے میںکہا
’’میں وہ موت ہوں، جو تمہیں ایک دم نہیں مارنے والی، ذرا ذرا کر کے ماروں گی، تو خود موت مانگے گا لیکن تجھے موت نہیںملنی، جب چاہے تیرے بھیجے میں اُتر سکتی ہوں۔‘‘
’’تو نہیں، میںتجھے اپنے پاس لا کر ماروں گا، صرف چند گھنٹے، زیادہ نہیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میں انتظار کروں گی مٹھن خان۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ شعیب ایک دم سے ہنس دیا
’’شاید اس نے فون اسکرین نہیں دیکھی تھی۔ اس نے سوچا ہوگا کہ نمبر سے تجھ تک پہنچ جائے گا، ایسا نہیںہوگا، رات کو پھر فون کر دینا۔‘‘ اس نے کہا اور صوفے پر پھیل گیا۔ ان کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔
وہ دونوں وہیں لائونج میںبیٹھے باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ شام اتر آ ئی۔ ان کے درمیان اتنی باتیں ہوئی تھیں کہ انہیںخود نہیںپتہ چلا کہ وہ اپنی زندگی کے کیسے کیسے گوشے بے نقاب کرتے گئے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کچھ بھی نہیںچھپایا۔
شعیب ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ بچپن ہی سے اسے انجینئربننے کا شوق تھا۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس کے والدین حیات تھے۔ اسے روپے پیسے کی کوئی فکر نہیںتھی۔ اپنے شوق کی خاطر امریکا پڑھنے گیا اور واپس آ کر بھی اس نے کوئی نوکری تلاش نہیںکی۔
بہت عرصہ قبل اس کا والد قومی اسمبلی کے الیکشن پر کھڑا ہوا تھا۔ اس کے مقابل مٹھن خان تھا۔ شروع شروع میںمٹھن خان نے لالچ اور دھونس سے انہیںالیکشن سے دستبردار کرانا چاہا، شعیب کے والد نے ایسا نہیںکیا۔ الیکشن سر پر آ گیا تو وہ اپنی روائتی کمینگی پر اُتر آ یا۔ اس نے لو گوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ دو قتل بھی کروا دئیے۔ لوگ ڈر گئے۔ انہوں نے ووٹ مٹھن خان کو دیا۔ وہ جیت گیا۔ ووٹوں کا بہت کم فرق تھا۔ تب سے اس نے شعیب کے خاندان سے دشمنی کی ابتدا کر دی۔ وہ ہر معاملے میں، ہر جگہ ان کی مخالفت کرتا چلا آ رہا تھا۔ شعیب کے والد نے بہت اچھا وقت گذار لیاتھا، لیکن شعیب کا بھائی زوہیب گرم خون تھا۔ وہ برداشت نہیںکر پاتا تھا۔ سو مٹھن خان اس کا بھی دشمن ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس کے قتل کرنے کو قاتل بھیج دئیے تھے۔ یہ ساری باتیں کرتے ہوئے انہیں پتہ ہی نہ چلا۔سورج غروب ہو رہا تھا جب وہ رہائشی حصے سے باہر آ گئے۔ باہر کرسیاں پڑی تھیں، وہ اس پر آ کر بیٹھ گئے۔ وہاں بیٹھ کر وہ یہی سوچتے رہے کہ اگر انہیں مٹھن خان کے گرد گھیرا کرنا ہے تو وہ کس طرح تنگ کرنا ہوگا۔ ان کی سمجھ میں بہت کچھ آیا لیکن وہ کسی ایک نکتے پر خود کو مرکوز نہیں کر پائے۔
نیند ان کی آنکھوں سے غائب تھی۔تبھی نینا کو خیال آیا کہ اس نے مٹھن خان کو فون کرنا ہے۔ اس نے فوراً فون اٹھایا اور اسے کال ملا دی۔ ابھی دوسری بیل پوری طرح نہیں گئی تھی کہ فون رسیو کر لیا گیا۔
’’کون ہو تم؟‘‘ اس بار مٹھن خان کی آواز میں غصے کے ساتھ جھنجلاہٹ بھی تھی۔
’’یہ نہ پوچھ مٹھن خان، مجھے یہ بتا کہ مزید کتنے گھنٹے لوگے مجھ تک پہنچنے کے لئے، میں منتظر ہوں۔‘‘ نینا نے طنز سے بھرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’میں پوچھ رہا ہوں تم ہو کون ؟‘‘ اس نے غصے کی انتہا کو چھوتے ہوئے پوچھا۔
’’مطلب، میں مان لوں کہ تم مجھ تک نہیںپہنچ سکتے، مان لو شکست، تاکہ تمہیںکوئی حسرت نہ رہے، تم ہار مان لو، میں تم تک پہنچ جاتی ہوں، کیونکہ آج کے بعد ذلت تیرے مقدر میں ہے اور وہ بھی میرے ہاتھوں، میں …‘‘ اس نے کہنا چاہا تومٹھن خان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’بکواس بند کر … میں تمہیں نہیںچھوڑوں گا، جہاں مرضی چھپ جائو،تم جو بھی ہو، میں تم تک پہنچ جائوں گا۔‘‘
’’مطلب چند گھنٹے والی تمہاری بات جھوٹی ہو گئی۔‘‘ اس نے طنزیہ انداز میںکہا اور قہقہہ لگا دیا۔ جس نے بلاشبہ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مٹھن خان گالیاں دینے لگا۔ وہ ہنستی رہی، پھر ایک دم سے خاموش ہو کر ایک بھاری گالی دیتے ہوئے کہا۔
’’اوئے ہیجڑے۔! مرد اپنی بات کا پاس کرتے ہیں… اب سن، ایک عورت کی بات سن… میں تمہیں آسانی سے مار سکتی ہوں،لیکن میں تمہیں آ سانی سے ماروں گی نہیں، اس وقت تک نہیں، جب تک تم ختم نہ ہو جائو… میرے سامنے میرے پائوں پر سر رکھ کر مرنے کی بھیک نہیں مانگوں گے،تب تک،یاد رکھ آ سانی سے نہیں، کتے کی موت ماروں گی۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ اس کے اندر کا غصہ ابل پڑا تھا۔ شعیب اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’چل اب رکھ دے فون، بہت ہو گئی۔دودن بعد اسے ٹارچر کر لینا۔‘‘
’’اگر مجھے آج ہی موقعہ مل جائے تومیں اسے چیر پھاڑ دوں۔‘‘ نینا نے نفرت سے کہا تو شعیب تحمل سے بولا۔
’’میںتمہارے جذبات جانتا ہوں۔آئو اندر چلتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں۔ یہ طے ہوتا رہے گا کہ ہمیں کیا کرنا ہوگا۔‘‘
وہ اندر چلے گئے۔رات گہری ہو چکی تھی۔اس رات انہوں نے بہت کچھ طے کر لیا تھا۔اگلی صبح وہ ڈیوٹی پر تھی۔
ایک ہفتے سے بھی زیادہ دن یونہی گذرگئے۔ان دونوں کی ملاقات تونہ ہو پائی لیکن، ان کے درمیان فون پر لمبی لمبی باتیں ہوتی رہیں۔ تھانے میں اور اس کے ارد گر د انہی چار لوگوں کے قتل اور اس کے قاتلوں کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔ مٹھن خان کا ایک کارندہ صبح سویرے ہی تھانے میںآ کر بیٹھ جاتا۔کچھ خوشامد پسند صحافی دن میںکئی کئی چکر لگاتے اور اس تفتیشی آفیسر کا سر کھاتے۔ اب اس کے پاس کوئی سرا ہوتا تو بتاتا۔ نینا پوری طرح اس کیس کے بارے میںخبر رکھ رہی تھی۔ قتل کا کوئی سراغ تو نہ مل رہا تھا لیکن مٹھن خان کا غصہ اپنے عروج پر چلا گیا۔ اس نے کئی بار ڈی ایس پی کو اپنے ڈیرے پر بلایا تھا۔ شہر میں واویلاکرانے اور ہڑتال کی دھمکیاں دینے لگا تھا۔’اُوپر‘ سے آنے والی فون کالز سے دن بدن تھانے والوں پر سختی بڑھنے لگی تھی۔لیکن کچھ پتہ نہیںچل رہا تھا۔
ان کے درمیان ہونے والی فون کالز اور باتوںسے ہر طرح کا تکلف ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ ایک رات تو نینا نے بڑے رسان سے اسے یہ بھی بتا دیاکہ وہ اسے بہت اچھا لگتا ہے۔ اس نے اپنی ساری کیفیات اسے بتادیں۔شعیب نے بس ایک ہی بات کہہ کر اپنی جان چھڑا لی۔
’’چل ٹھرکی کہیںکی۔‘‘
اس پر وہ بہت دیر تک ہنستی رہی تھی۔یوں بات مذاق میںاُڑ گئی۔ اس رات نینا نے اپنے آپ کو ٹٹول کر دیکھا، بہت دیر بعد اسے سمجھ میںآ گیا کہ یہ شعیب ہی ہے جس پر وہ خود فدا ہو گئی ہے۔ اس نے دل سے یہ دعا کی کہ وہ اس کے ساتھ چل سکے کہیں وقت اور حالات کی تاب نہ لا کر وہ بچھڑ نہ جائے۔نینا کو لگا کہ وہ اسے اپنا دل دے چکی ہے۔
کئی دن گذر گئے۔ ایک شام شعیب نے فون کرکے پوچھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔
’’اُو ظالم، میں تیرے لیے ہر وقت حاضر ہوں، بتا کیا بات ہے۔‘‘
’’آج ہمارے والے فارم ہائوس پر کوئی نہیںہے۔ کیا خیال ہے، آتی ہو ؟‘‘ شعیب نے نجانے کیوں اس طرح پوچھا۔ نینا نے چند لمحے اس کی آفرپر غور کیا، پھر بولی۔
’’میںخود وہاں پہنچوں یا پھر تم مجھے پک کرو گے؟‘‘
’’اسی پوائنٹ پر آ جائو، پک کر لوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میںکرتی ہوں کوشش۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر کے آپی فوزیہ کو دیکھا۔ وہ ابھی تک تھانے سے نہیںآ ئی تھی۔اس نے اپنے ساتھ والی کو بتایا کہ میںگائوںجا رہی ہو ں، کل صبح تک آ جائوں گی۔ یہ کہہ کر وہ نکلی اور اس اسٹاپ تک جا پہنچی،جہاں اس کے انتظار میں شعیب کھڑا تھا۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’کار چلاتے ہوئے ذرا بچ بچا کے چلا کر، اِدھر ُادھر دیکھ لیا کر کوئی پیچھا تو نہیںکر رہاہے۔‘‘
’’پچھلے آدھے گھنٹے سے یہی کر رہا ہوں۔ یونہی شہر میں چکر لگایا، کوئی میرے پیچھے تو نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے گیئر لگا دیا
’’تو پھر… سب کلیئر ہے نا؟‘‘ نینا نے یونہی پوچھا تو وہ جلتے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’نہیںبندے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔‘‘
یہ سن کر وہ ایک دم سے ہنس دی۔ یوں لگا جیسے کار کے اندر گھنٹیاں بج اٹھی ہوں۔ شعیب نے اس کی طرف دیکھا، پھر سامنے دیکھ کر بولا۔
’’یار تم ایسی ہی ہو یا پھر جان بوجھ کر کرتی ہو؟‘‘
’’تم میرے بارے میں نہ سوچو، یہ بتائو، یہ اچانک ملاقات کا خیال تیرے ذہن میںکیسے آ گیا۔‘‘
’’بتاتا ہوں تفصیل سے۔‘‘ اس نے کہا تو ان کے درمیان ادھر ادھر کی باتیںچل پڑیں۔
سورج غروب ہو گیا تھا جب وہ فارم ہائوس پہنچے۔ کار پورچ میںکھڑی کرنے کے بعد اس نے اپنے ساتھ لایا ہوا سامان نکالا اور نینا کے ساتھ سیدھا کچن میںچلاگیا۔ اس نے وہ سامان فریج میںرکھا اور نینا کوبٹھانے کے بعد خود چائے بنانے لگا۔وہ اس دوران خاموشی سے کپ نکالنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے سامنے مگ رکھے ہوئے بیٹھے تھے۔ پہلا سپ لے کر شعیب نے کہا۔
’’مٹھن خان کے ڈیرے کا تفصیلی ویڈیو لے لیا ہے۔‘‘
’’کیسے؟‘‘ نینا نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
’’وہاں بہت عرصے سے ہمارا ایک بندہ ہے، بابا نے اسے وہاں چھوڑا ہوا ہے۔ کوئی ایسی ویسی بات ہو تو پہلے بتا دیتا ہے۔بڑے حساب سے وہاں جمایا ہوا ہے، اس کے ذریعے سے کوئی نہ کوئی خبر ملتی رہتی ہے۔‘‘ شعیب نے بتایا
’’اس نے کیسے کر لیا۔ کسی کو …‘‘
’’اس نے بذات خود نہیں کیا، اس کا بیٹا گیا تھا وہاں پر، یہ کئی دونوں بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میںبنائی ہے۔ خیر بن گئی ہے۔‘‘ شعیب نے تفصیل سے بتایا
’’وہ بندہ مزید یہ پتہ…‘‘ نینا نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
’’وہ بندہ جو کر سکتا ہے، وہی کیا ہے۔ تم نے جو تھانے کے حوالے سے بتایا، یاجو میں نے اب تک خبریں لی ہیں، اس کے مطابق،مٹھن خان کا سارا فوکس اس گولی پر ہے۔ ویڈیو دکھانے کے علاوہ میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ آج رات تم اس سے بات کرو اور اس کا دماغ خراب کرو۔‘‘
’’اس کے علاوہ۔‘‘ نینا نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’یہ بھی ڈسکس کرنا چاہتا ہوں کہ شہر میں اور گرد ونواح میں اس کے پروردہ لوگ کون ہیں اور کون اس کے دشمن ہیں۔میں نے کافی حد تک اس پر تحقیق کی ہے۔‘‘
’’یہ تو خیر میںبھی تمہیں بتا سکتی ہوں، اس کے علاوہ مزید …‘‘ نینا نے پھر سنجیدگی ہی سے پوچھا تو شعیب نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا پھر سمجھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’مزید کچھ نہیں۔‘‘
’’کاش تم یہ کہتے کہ میں نے تم سے دل کی باتیں کہنا تھیں، کچھ حال دل، کچھ میٹھی پیار محبت کی باتیں کرنا تھیں، کچھ…‘‘ وہ مزید کہنا چاہتی تھی کہ شعیب نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’چل اُوئے ٹھرکی کہیں کی۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے چائے کا سپ لینے کے لیے مگ اٹھالیا مگر نینا قہقہہ لگا کر ہنس دی۔وہ چائے پینے کے بعد اوپری منزل کے ایک بیڈ روم میںآ گئے۔کچھ دیر بعد نینا نے مٹھن خان کو فون کر دیا۔
’’اب تک نہیںپہنچ پائے ہو مٹھن خان ؟‘‘
’’تم ایک بار میرے سامنے آ جائو تو میںتمہیںبتائوں۔‘‘ دوسری طرف سے انتہائی غصے میںکہا گیا
’’میں آئوں گی، ضرور آئوں گی، لیکن اس وقت میں تمہاری موت بن کر آئوں گی اور اس میںزیادہ وقت نہیںہے۔‘‘ نینا نے طنزیہ اور حقارت بھرے انداز میںکہا
’’اس سے پہلے میں تم تک پہنچ جائوں گا۔‘‘ اس نے کہا۔
’’چلو دیکھتے ہیں، تمہیں اگر ذرا جلدی مرنے کا شوق ہے تو یہ شوق بھی پورا کر لو، مگر یہ مان لو کہ تم ہیجڑے ہو اور اپنی بات پوری نہیں کر پائے ہو۔‘‘ اس نے اتنا کہاتھا کہ دوسری طرف سے ایک دم خاموشی چھا گئی۔ جیسے وہ سمجھ گیا ہو کہ ’گولی‘ کیا چاہ رہی ہے۔ اس نے فون بند کر دیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شعیب نے کہا۔
’’نینا! سمجھ لو آج سے اس نے تمہارے فون کو سنجیدگی سے لے لیا ہے۔ وہ اب تمہیں پکڑنے کے لیے بہت کچھ کرے گا۔‘‘
’’صرف مجھے؟‘‘ نینا نے ایک دم سے پوچھاتو اس پر شعیب نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر نینا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر انتہائی جذباتی انداز میںبولا
’’نینا! تم نے مجھے لڑنے کا حوصلہ دیاہے، یہ وقت بتائے گا، کون پہلے پکڑا جاتا ہے اور کون پہلے جان دیتا ہے۔‘‘
اس پر نینا کے اندر تک حوصلہ اُتر گیا۔
وہ رات گئے تک انہی موضوعات پر بات کرتے رہے۔ درمیان میں نینا محض شغل کی خاطر اسے چھیڑ بھی لیتی۔ آدھی رات کے بعد انہوں نے کھانا کھایا اور پھر باتیں کرتے چلے گئے۔ اصل میں وہ کوئی ایسا راستہ تلاش کرنے کی فکر میںتھے، جس سے مٹھن خان کو ختم کیا جا سکے،شعیب کاخیال تھا، اسے قانونی طور پر گھیرا جائے۔اس کے خلاف ثبوت اکھٹے کئے جائیں۔ ان ہی باتوں میں یونہی رات گذر گئی، یہاں تک کہ صبح کا اُجالا پھیلنے لگا تو وہ فارم ہائوس سے نکل آئے۔
/…/…/
اس دن وہ تھانے میں موجود تھی۔ ایک ادھیڑ عمرخاتون روتے ہوئے تھانے میںداخل ہوئی۔ اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔اس نے تھانے میں آکر یہی واویلا کیا کہ کچھ بدمعاش اس کی بیٹی کو دن دہاڑے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہ کالج سے واپس آ رہی تھی کہ چند لوگ جیپ پر آ ئے، انہوں نے اس کی بیٹی کو اٹھایا اور جیپ میں ڈال کر فرار ہوگئے۔
’’تمہیں کیسے پتہ چلا؟ منشی نے حسب روایت پوچھا۔
’’محلے کی ان دوسری لڑکیوں سے بتایاجو اس کے ساتھ کالج سے واپس آ رہی تھیں۔‘‘ اس عورت نے روتے ہوئے کہا تو منشی نے پوچھا۔
’’کون لوگ تھے وہ ؟ کسی پر شک ہے؟‘‘
’’کئی دن سے ہمارے گھر میں فون آ رہے تھے، میری بیٹی کو تنگ کیا جارہاتھا۔ مٹھن خان کا بیٹا فرحان فون کرتا تھا فون۔‘‘ عورت نے دلدوز انداز میںکہا تو منشی کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس نے تیزی سے کہا۔
’’اے مائی ذرا ہوش کی دوا کر، کس کا نام لے رہی ہے، جا پہلے تصدیق کر، پھر ایسا کوئی نام لینا۔‘‘
’’ہمارے فون میں اس کانمبر ہے، جو آئے دن اسے اٹھا لینے کی دھمکیاں دیتا تھا۔‘‘ عورت نے چیختے ہوئے کہا۔
’’تمہارے گھر میںکوئی مرد ہے؟‘‘ منشی نے پوچھا۔
’’میرا خاوند ہے جو دوسرے شہر میںکام کرتا ہے، اسے میں نے بتادیا ہے، وہ آتا ہی ہوگا۔‘‘ عورت نے بتایا
’’تو پھر جب وہ آئے تو اسے لے کر آ جانا۔ ابھی جائو۔‘‘ منشی دھتکارنے والے انداز میںکہا
’’آپ میری رپورٹ تو لکھو۔‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔
’’جائو اپنے خاوند کو لے کر آئو،اور جب اسے ساتھ لانا تو سوچ سمجھ کر آ نا، تمہاری بیٹی کس نے اٹھائی ہے۔ ایویں ہی لوگوں کو بدنام کر رہی ہے، وہ چا ہے خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو۔‘‘ منشی نے حقارت سے کہا۔
’’کیا بات کر رہے ہو تم، میں بتارہی ہوں اور تم…‘‘ اس نے کہنا چاہا تو منشی نے اکتاتے کہا۔
’’اُوئے جا مائی، پہلے اچھی طرح پتہ کرو،پھر آ نا، ہم تمہارے لیے ویلے نہیںبیٹھے ہوئے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اندر انسپکٹر کے کمرے میںچلا گیا۔ بلا شبہ اس نے یہی بات کرنا تھی کہ باہر جو عورت فریاد لے کر آ ئی ہے، وہ کس کے خلاف ہے۔ نینا دوسرے کمرے میںچلی گئی جہاں سے ان کی گفتگو سن سکتی تھی۔ انسپکٹر غصے میںمنشی سے کہہ رہا تھا۔
’’اوئے بے وقوف کے بچے،پہلے مٹھن خان کے ڈیرے سے پتہ کر لے، اگر وہ لڑکی وہاں ہے تو ٹھیک ورنہ کچھ کرتے ہیں، پہلے پتہ تو کر۔‘‘
انسپکٹر کا یہ حکم سن کر منشی نے کسی کا فون نمبر ملایا۔ کچھ لمحے بعد اس نے استفسار کرتے ہوئے یہی سوال دہرایا۔ بات ختم کرکے وہ انسپکٹر سے بولا۔
’’سر جی! لڑکی وہیں ہے، وہ کہتا ہے کہ خان جی سے پوچھ کر بتاتا ہوں کہ لڑکی کب چھوڑ دیں گے۔‘‘
’’چل تو ایسے کر، اس عورت کو یہاںسے نکال، میںرابطہ کرتا ہوں ڈیرے پر پھر دیکھتے ہیں۔‘‘ انسپکٹر نے کہا تومنشی دفتر سے باہر نکل کر اس عورت کو طفل تسلیاں دینے لگا۔ کارروائی کے لیے اس نے درخواست بھی لے لی اور انہیں بھیج دیا۔
نینا جس طرح یہ سب سنتی گئی، اسی طرح اس کے بدن میںآ گ لگتی چلی گئی۔ اسے خود پر قابو پانا مشکل ہونے لگا۔ اسے ایک دم سے ہی سائرہ یاد آ نے لگی۔ اسے لگا جیسے سائرہ اسے پکار رہی ہے۔ وہیںبیٹھے بیٹھے اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس لڑکی کو بچائے گی، چاہے اس کے لیے اس کی اپنی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔وہ تھانے سے باہر آ گئی۔ اس نے باہر آتے ہی شعیب کو فون کیا، اس نے تیزی سے پوچھا۔
’’مجھے بات بتائو، ہوا کیا ہے ؟‘‘
’’بس تم جتنی جلدی مجھے مل سکتے ہو، ملو،میں نہیںجانتی۔‘‘ اس نے متوحش لہجے میں کہا تو اس نے ایک پوائنٹ بتایا جہاں وہ مل سکتے تھے۔ نینا پہلے اپنے کوارٹر میں گئی اور آپی فوزیہ کو بتایا کہ اس کی والدہ بہت بیمار ہے، اس کے پاس جانا ضروری ہے، وہ صبح تک واپس آ جائے گی۔ آپی نے اسے جانے کی اجازت دے دی۔ وہ سادہ لباس میں وہاں سے رکشے میں نکلی اور سیدھی اس پوائنٹ پر گئی۔ شعیب پہلے ہی وہاں اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ اس کے ساتھ جا بیٹھی تو اس نے کار بڑھادی۔ اپنے دوست کے فارم ہائوس تک پہنچتے ہوئے اس نے ساری تفصیل بتا ئی توشعیب نے ساری بات سن کر اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ شاید اتنی جلدی ممکن نہ ہو سکے، تم کیا سوچ رہی ہو، یہ موت کے منہ میںجانے والی بات ہے۔‘‘
’’مجھے اس لڑکی کو بچانا ہے بس، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔‘‘ اس نے ضدی لہجے میں جواب دیا۔
’’تم نہیںجانتی کہ وہ ڈیرے پر ہی لڑکی کو لے کر گئے ہیں، یہ اندازہ ہی ہے۔پھر تم ڈیرے کے اندر کیسے جائو گی، یہ اس سے بھی مشکل کام ہے۔‘‘
’’وہ جو فرحان خان ہے نا بہت بے غیرت ہے۔میں جانتی ہوں کہ وہ کیا کرتا ہے۔ یہ میںکیسے کروں گی، یہ تم مجھ پر چھوڑ دو، مجھے چاہے جتنے بندے مارنے پڑیں مار دوںگی۔‘‘ اس نے گہرے لہجے میںکہا۔
’’یہ نرا پاگل پن ہے۔خودکشی ہے اور میںتمہیںایسا نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ اس نے سختی سے کہا۔
’’مجھے اس لڑکی کو ہر حال میںبچانا ہے۔‘‘ نینا نے حتمی لہجے میںکہاتو شعیب اپنے تئیں ہتھیار ڈالتے ہوئے بولا۔
’’ٹھیک ہے، کرتے ہیں کچھ لیکن یوںاندھا دھند نہیں۔‘‘
’’ایک برس ہو گیا ہے، میںجھک نہیںمار رہی ہوں، میں نے وہاں ڈیرے میںاپنا سورس بنا لیاہوا ہے۔‘‘ نینا نے جذباتی لہجے میں جواب دیا
’’وہ سورس تمہیں کبھی بھی پکڑوا سکتا ہے۔‘‘ شعیب نے کہا تو نینا کو ایک دم سے ہوش آ گیا۔ وہ غصے اور جذبات میں اپنا راز کہہ بیٹھی تھی،جسے اس نے شعیب سے چھپایا ہوا تھا۔بات ہونٹوں سے نکل گئی تھی تبھی اس نے کہا۔
’’اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کسے خبر دیتا ہے، اسے اس رقم سے غرض ہے جو ہر ماہ اسے پہنچ رہی ہے۔‘‘
’’اوکے، پہلے اس سے کنفرم کرو، پھر پلان بناتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے بتانا، میں تمہاری کیا مدد کر سکتاہوں۔‘‘ شعیب نے ہار مانتے ہوئے پوچھا۔
’’صرف یہ کہ تم مجھے کچھ چیزیں دے دو، باقی میںدیکھ لوں گی۔میں نے دیکھا ہے کہ فارم ہائوس میںبہت کچھ پڑا ہے۔‘‘ نینا نے کہاتو شعیب نے پوچھا۔
’’تم جو چاہو لے سکتی ہو۔ لیکن پہلے مجھے پلان بتائو۔‘‘
’’فارم ہائوس چل کر بتاتی ہوں۔‘‘ نینا نے کہا اور سکون سے سیٹ کی پشت گاہ کے ساتھ اپنا سر لگا لیا۔
اس وقت سور ج غروب ہوئے کافی وقت ہو گیا ہو اتھا۔ جب ڈیرے پر موجود نینا کے مخبر نے یہ تصدیق کر دی کہ ایک لڑکی یہاں موجود ہے۔خان فرحان اور اس کے دوست ابھی نہیں پہنچے۔ لیکن ان کے لیے کھانے پینے کا اہتمام ہو رہا ہے۔ دریا کنارے آگ جلائی جا رہی ہے۔
’’تو اس کا مطلب ہے وہ جو بھی موج مستی کریں گے، دریا کنارے ہی کریںگے۔‘‘ نینا نے چمکتی ہوئی آنکھوں سے کہا تو شعیب نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’دریا کنارہ، جس کے شمال میں ڈیرہ ہے۔ مشرق کی طرف گائوں اور مغرب کی جانب شہر جانے والا راستہ، اگر تم لڑکی چھڑا بھی لو تو کہاں نکلو گی؟‘‘
’’ظاہر ہے، پھر دریا ہی بچتا ہے،میں دریا میں چھلانگ لگا دوں گی۔‘‘ نینا نے سکون سے کہا۔
’’لیکن اتنے کم وقت میں کوئی ایسا بندو بست نہیں ہے کہ تمہیں دریا میںکوئی مدد دے سکوں؟‘‘ شعیب نے کہا۔
’’تو کوئی بات نہیں، دو ہی سورتیں ہیں، یا تو میںمر جائوں گی، یا پھر دریا پار کر جائوں گی، کچھ تو ہوگا، لیکن میں اس لڑکی کی عزت تار تار نہیں ہونے دوں گی۔ آج اگر میںکچھ نہ کر سکی تو پھر کبھی کچھ نہ کر پائوں گی۔‘‘ اس نے حتمی لہجے میں کہا تو شعیب چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر بولا۔
’’اچھا کہو، کیا پلان ہے۔‘‘
یہی وہ سوال تھا، جس کی بنیاد پر انہوںنے پلان بنا لیا۔ جو کچھ بھی لینا تھا، نینا نے وہاں سے لے لیا۔ شعیب نے نینا کو دریا کے پاس چھوڑا اور واپس چلا گیا۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔وہ دریا کنارے پیدل چلتی چلی گئی۔ پھر کسی پھرتیلی بلی کی مانند ان سر کنڈ و ں، جھاڑیوں اور پودوں میں سے سرکتی ہوئی، آہستہ آہستہ دریا کنا ر ے ڈیرے تک جا پہنچی اور پھر وہ خان فرحان پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑی تھی۔
٭…٭…٭
اس وقت سورج نکل رہا تھاجب وہ کلینک سے نکل کر جانے کے لیے تیار تھے۔ اسی وقت ڈاکٹروسیم اس کے پاس آیا۔ وہ بستر سے اتر کر کھڑی تھی۔ اس کے کاندھے کی مرہم پٹی ہوگئی تھی۔جسے اس نے کپڑوں کے نیچے یوں چھپا لیا تھا کہ احساس تک نہ ہو۔
’’ڈاکٹر، آپ کا بہت شکریہ۔‘‘ نینا نے ممنونیت سے کہا۔
’’مجھے شکریہ تو تمہارا ادا کرنا ہے، تم زخم ذرا کم لگوا کر لائی ہو، ورنہ مجھے زخم کے مطابق تمہاری ٹریٹمنٹ کرنا پڑتی۔‘‘ ڈاکٹر وسیم کے یوں کہنے پر وہ ہنس دئیے
’’پھر بھی ڈاکٹر…‘‘ اس نے کہنا چاہا تووہ بولا۔
’’دوستوں میں شکریہ نہیں ہوتا، دوائیں ساتھ ہیں،وہ لیتے رہنا، مجھے امید ہے کہ سب ٹھیک رہے گا۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ شعیب نے کہا اور وہ وہاں سے نکل پڑے۔
وہ دونوں فارم ہائوس جا پہنچے۔ اس دوران اس نے گائوں فون کر کے خیریت پوچھ لی تھی۔ وہاں سب ٹھیک تھا۔ اس نے اپنی ماں کو سمجھا دیا کہ اگر کوئی پوچھے تو اس سے کیا کہنا ہے۔ فارم ہائوس جا کر اس نے وہی لباس پہنا، جسے پہن کر وہ کوارٹر سے نکلی تھی۔ شعیب کے ساتھ ناشتہ کیا۔ وہ دونوں میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے، تبھی شعیب نے کہا۔
’’نینا۔! میرے خیال میں تم اب پولیس کی نوکری چھوڑ دو کیونکہ اب تم یہ نوکری نبھا نہیںپائو گی۔‘‘
’’میرا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن میں اس نوکری کو فوراً تو نہیںچھوڑ سکتی۔‘‘ اس نے جواب دیا
’’وہ کیوں؟‘‘ شعیب نے پوچھا۔
’’میں ذرا سا بھی شک نہیں چاہتی ہوں۔یہ فرحان خان کے قتل کا شور اٹھا ہے، اسے ذرا کم ہو نے دو، یہ معاملہ بھی سامنے رہے گا۔خبر ملتی رہے گی۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا تو شعیب سر ہلا کر رہ گیا۔
دوپہر ہونے سے قبل ہی نینا اپنے کوارٹر پہنچ گئی۔ وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ صرف ایک نئی لڑکی تھی۔ وہ اپنے بستر پر جا بیٹھی تو وہ اس کے پاس آگئی۔ اس نے پاس بیٹھ کر پوچھا۔
’’باجی۔! کیا بات ہے، آپ بڑی پریشان لگ رہی ہو۔‘‘
’’کیا بتائوں، اماں بڑی بیمار ہیں، ساری رات جاگتی رہی ہوں، اب ڈیوٹی پر، تھک گئی ہوں۔‘‘ اس نے جان بوجھ کر نقاہت بھرے لہجے میں کہا۔
’’میں آپ کیلئے چائے بناتی ہوں، پی کر سو جانا۔‘‘
’’نہیں، میں نے چائے نہیںپینی، یہ سب کہاں ہیں، سب کی ڈیوٹی لگ گئی ہے؟‘‘ اس نے جان بوجھ کر پوچھا۔
’’پتہ نہیںکیا بات ہے، تھانے سے ہنگامی کال آ گئی تھی، سب ہی وہاں ہیں۔سنا ہے شہر سارا بند ہے، وہ مٹھن خان کا بیٹا قتل ہو گیا ہے نا۔‘‘
’’اچھا،تم ایسے کرو،اگر آپی فوزیہ کو فون آ جائے تو اسے میرا بتا دینا، میںتھوڑی دیر سو لوں، پتہ نہیںپھر جانا پڑ جائے، اگر وہ کہیں تو مجھے جگا دینا۔‘‘ یہ کہہ کر بستر پر لیٹ گئی۔
شام تک اُسے کسی نے نہیںجگایا۔ یہاں تک کہ سب آ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں کافی ہنگامے ہوئے ہیں۔ تھوڑ پھوڑ ہوئی۔ کافی فساد مچا تھا۔ مٹھن خان کے بیٹے کا قاتل تو کیا اس کا سراغ تک نہیںملا۔ کئی سارے تبصرے ہوتے رہے اور وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ اس کے اندر کہیں دور تک خلا تھا۔ وہ جب بھی فرحان خان کا خیال کرتی اس کا رعونت بھرا لہجے اس کے کانوں میںگونجنے لگتا۔
دو دن یونہی گذر گئے۔ یہاں تک کہ مٹھن خان کے بیٹے کے قتل والا معاملہ عوام کے نزدیک ایک بہت بڑا سانحہ بنا دیا گیا۔ مٹھن خان جوش انتقام میں نہیںآیا۔ وہ سیاسی طور پر اپنے دشمنوں پر الزام لگاتا رہا۔ لیکن پولیس کے ساتھ وہ انتہائی سرگرم تھا۔ دو دن میں کئی آفیسر آنا شروع ہوگئے۔ کئی بے گناہ پکڑے گئے۔ مٹھن خان نے اپنی طاقت کا بھر پور اظہار کیا تھا۔ یہ سب دیکھ کر نینا کے من میں آگ مزید بھڑک اٹھی تھی۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ مٹھن خان کو ذہنی اذیت دے۔ لیکن وہ ابھی تک خاموش تھی۔ اس کے کاندھے کا زخم کافی حد تک ٹھیک تھا۔ اتنا درد تھا کہ وہ سہہ سکتی تھی۔ نینا کا دل چاہتا کہ وہ مٹھن خان کو فون کرے اور اسے مزید بھڑکائے۔ لیکن ان دو دنوں میں وہ ایسا نہیںکر پائی تھی۔ اس کی ساری توجہ اس تفتیش کی طرف تھی جو فرحان خان کے حوالے سے ہو رہی تھی۔دودن گذارنے کے بعد اس نے شعیب سے رابطہ کیا۔ دونوں نے ملاقات طے کر لی۔ایک شام وہ دونوں اپنے دوست کے فارم ہائوس پر تھے۔ ان کے درمیان چائے دھری ہوئی تھی اور ان کی باتوں کا محور فرحان خان کا قتل اور اس کے بعد کی باتیں تھیں۔
’’ہمارے کئی بندے بھی پولیس لے گئی ہے۔ بابا بھی بہت پریشان ہیں۔ مٹھن خان نے اخیر کی ہوئی ہے۔‘‘ شعیب نے انتہائی پریشانی سے کہا۔
’’یہ تو ہونا ہی ہے، اس نے اب اپنے سارے پرانے دشمنوں پر شک کرنا ہے۔‘‘ نینا نے کہا۔
’’یہ سمجھ لو کہ اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔اس کی نسل پر وار ہوا ہے،وہ تو پاگل ہو گیا ہے۔‘‘ شعیب نے نفرت سے کہا۔
’’جنہیںوہ مارتا تھا، جنہیں وہ ذلیل کرتا تھا، وہ بھی تو کسی کی اولا د ہی ہیں۔ہونا تو یہ چاہے کہ وہ انسان بن کر اس سانحہ کے بعدتوبہ تائب ہو کر سکون سے بیٹھ جاتا۔ لیکن وہ اب بھی طاقت کے نشے میں لوگوں پر ظلم کر رہا ہے۔ یہی لوگ اس دھرتی کا بوجھ ہیں۔انہیںختم کرنا ہی ہوگا۔‘‘ نینا نے سرد سے لہجے میںیوں کہا جیسے اس کا بس نہ چل رہا ہو۔
’’کبھی تم نے آکٹوپس کے بارے میں سنا ہے نا، یہ بالکل ویسا ہے، اس کی جڑیں نجانے کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں، یہ اگر اب سکون سے بیٹھنا بھی چاہے تو نہیںبیٹھ سکتا، دوسرے نہیں بیٹھنے دیں گے، وہ اسے خود ختم کر دیں گے۔ وہ قوتیں بھی اس کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں، اس گولی کی تلاش میں، جس نے اس کے بیٹے کو مارا ہے۔‘‘ شعیب نے عجیب سے لہجے میں کہا، جس میںخوف تو تھا لیکن وہ ظاہر نہیںکرنا چاہتا تھا۔
’’کیا تم مجھے ڈرا رہے ہو؟‘‘ نینا نے طنزیہ پوچھا۔
’’نہیں، بلکہ بتا رہا ہوں۔ہم نے ایک آدمی درمیان میں ڈالا ہے، مٹھن خان کو یہ باور کرانے کے لیے کہ ہماری طرف سے ایسا کچھ نہیںہوا ضمانت دیتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ ہم اپنے بندے چھڑوا سکیں۔‘‘ اس نے وضاحت کی
’’ٹھیک کیا، اپنا بچائو لازمی ہے، لیکن یہ جان لو شعیب کہ ہو خوف زدہ ہو گیا ہے۔ جیسے جیسے اسے گولی نہ ملی، اس کا خوف بڑھتا جائے گا۔ آج میں نے سوچا تھا کہ اس سے بات کرکے اسے ذہنی اذیت دوں گی، لیکن نہیں، اب اس سے بات نہیںکروں گی۔اسے الجھن ہی میںرہنا چاہے ۔‘‘
اس یوں کہا توشعیب سوچ میںپڑ گیا۔ پھر کچھ دیر بعد سراٹھا کر بولا۔
’’نینا۔! یہ نہ ہو کہ ہم انجانے میںمارے جائیں۔ کچھ کئے بغیر، ہمیں بہت کچھ سوچنا ہوگا۔ پوری سنجیدگی کے ساتھ۔‘‘
’’تو سوچو، جو کہو گے وہی کروں گی۔‘‘ اس نے شعیب کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا اور مسکرا دی۔ اس کی یہ ذرا سی موہوم مسکراہٹ نے شعیب کو جیسے زندگی دے دی، وہ بھی مسکرا دیا، اس کی طرف دیکھ کر بے پروائی سے بولا۔
’’جو ہوگا دیکھا جائے۔‘‘
’’ہاں۔! یہ وقت پیار اور محبت میں گزار دینا چاہئے، چلیں بیڈ روم میں۔‘‘ نینا نے کہا تو شعیب نے اس کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’چل ٹھرکی کہیں کی۔‘‘
’’کیسے مرد ہو یار تم، ایک لڑکی تمہیں کہہ رہی ہے اور تم ہو کہ چھوئی موئی لڑکیوںکی طرح…‘‘ اس نے کہنا چاہا لیکن شعیب اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔
’’تم میری دوست ہو،محبوبہ نہیں، اس فرق کو سمجھو۔‘‘
’’دوست ہی دوست کے کام آ تا ہے نا۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولی تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’بکواس نہیں کرو۔ چلو نکلتے ہیں، رات ہو رہی ہے۔‘‘
وہ ہنستے ہوئے اٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ وہاں سے نکل پڑے تھے، دونوں نے ایک دوسرے کو بہت ساری معلومات دے دی تھیں، جو ان کے بہت کام آسکتی تھیں۔
کوارٹر میں وہی معمول تھا۔ کچھ لڑکیاں کھانے کے انتظار میںتھیںاور باقی کچن میں کھانابنا رہی تھیں۔ آپی فوزیہ اپنے کمرے میںبیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ وہ بڑے سکون سے کمرے میںآ کر بیٹھ گئی۔ آپی فوزیہ نے ایک نگاہ اسے دیکھا پھر ٹی وی کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
’’کہاں گئی تھی اتنی دیر سے،خیر تو ہے نا؟‘‘
’’آج ایک پرانی سہیلی کے پاس گئی تھی۔ اس سے گپ شپ ہوتی رہی۔‘‘
’’کوئی خاص ہی گپ شپ لگتی ہے۔‘‘ اس نے ہنوز ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں، باقی توسب ایویں باتیںتھیں لیکن ایک بات اس نے بہت اچھی کی۔ اس نے مجھے سوچ دی ہے کہ میںآگے پڑھوں۔‘‘ اس نے یونہی کہہ دیا
’’تو ٹھیک کہا نااس نے۔تم ویسے بھی ٹھیک ہو پڑھنے میں…‘‘ یہ کہہ کر وہ ٹی وی پر کسی اداکارہ کو دیکھ کر اس کے بارے میںباتیںکرنے لگی۔ سب کچھ معمول پر تھا۔ وہ اٹھی اور اپنی چار پائی پر جا پہنچی۔ ابھی اسے وہاں بیٹھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اس کا فون بج اٹھا۔
اس فون کال میں اس کے لیے اندوہناک خبر تھی۔ اس کا بھائی بتا رہا تھا کہ اس کی ماں اس دار فانی سے کوچ کر گئی ہے۔ اس کے حواس ایک دم سے مختل ہو گئے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس خبر کو کیسے برداشت کرے۔ ساری دنیا میںایک ہی اس کا سہارا تھی، اب وہ بھی نہیں رہی تھی۔ چند منٹ میں سب کو پتہ چل گیا۔اسے فوراًگائوںجانے کی باقاعدہ اجازت مل گئی۔ وہ گائوں نکل گئی۔
اگلی صبح تک اس کی ماں منوں مٹی کے نیچے دفن ہو چکی تھی۔ وہ قبر کے سرہانے بیٹھی سوچ رہی تھی کہ انسان کتنا طویل سفر کرتا ہے یہاں تک پہنچنے کے لئے۔ یہاں پہنچ کر عافیت میں ہوتا ہے، ورنہ زندگی میںکہیںبھی سکون نہیںہے۔ خوشی کا حصول بھی دکھ کے بعد ہی ہے۔
دوپہر ہونے تک گھر میں آئے مہمان واپس پلٹ گئے۔ وہ اور اس کے بھائی بہن رہ گئے۔ ان کی کل جمع پونجی وہی مکان تھا۔ جس کے حصے داری کی باتیں ہونے لگیں۔ اس شدید دکھ ہوا۔ ماںکی قبر کی مٹی بھی خشک نہیںہوئی اور یہاں حصے داری شروع ہو گئی۔ وہ مکان کوئی بھی نہیںرکھ سکتا تھا۔ سو اس کے بیچنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ کسی نے بھی نہ سوچا کہ وہ کہاں رہے گی۔ نینا اس لیے بھی خاموش رہی کہ وہ اس وقت اتنے پیسے والی تھی کہ شہر میںکہیں بھی نیا مکان کھڑا کر سکتی تھی۔ وہ خاموش رہی اور دکھ سے اپنے بھائیوں کی بندر بانٹ دیکھتی رہی۔لیکن اس کے اندر دکھ پھیلتا رہا۔
ایک ہفتے بعد وہ شہر یوں پلٹی کہ اب اس کا گائوں میںبھی کوئی نہیںتھا۔سب ختم ہو گیا۔ وہ اس دنیا میںخود کو تنہا محسوس کرنے لگی تھی۔ وہ سیدھی کوارر نہیںگئی، بلکہ شعیب کے ساتھ اس کے دوست کے فارم ہائو س چلی گئی۔ شعیب کو اندازہ تھا کہ وہ غم زدہ ہے۔ اس لیے اس کی والدہ کا افسوس کرنے بیٹھا تو وہ پھٹ پڑی۔اپنوں کا دکھ آنسو بن کر بہنے لگا۔شعیب نے اسے رونے دیا۔ کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا، نینا اس کی طرف دیکھنے لگی۔ شعیب نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے بڑے جذباتی لہجے میںکہا
’’نہیںتم اکیلی نہیںہو، میں ہوں تمہارے ساتھ۔جو غم بھی ہیں، انہیںبھلا دو آج کے بعد تمہاری آ نکھ میں آنسو نہیںہونا چاہئے۔‘‘
جب خوب رونے کو دل چاہئے اور آنسوئوں کا بندھ بھی ٹوٹ جائے تو ایسے میں کسی اپنے کا کاندھا مل جائے تو دکھ کی شدت میں کمی آ ہی جاتی ہے۔وہ کچھ دیر تک اس کے کاندھے سے لگی آنسو بہاتی رہی۔ پھر الگ ہو گئی۔ اس شام شعیب نے اسے یوں کھانا کھلایا، جیسے بچوں کا ضد کر کے کھلاتے ہیں، رات گئے تک اس کی دل جوئی میںلگا رہا۔ پھر اسے سو جانے کا کہہ کر دوسرے کمرے میںچلا گیا۔ وہ رات گئے تک سوچتی رہی، نجانے کیسی کیسی سوچیں گھیرے رہیں۔ پھر نجانے کب اس کی آ نکھ لگ گئی۔اگلی صبح وہ اپنی ڈیوٹی پر تھی۔
ایک ہفتے کے دوران کیا کچھ ہو گیا، یہ اسے معلوم نہیں تھا۔ عام حالات ہوتے اور وہ گائوں میں ہوتی تو ارد گرد سے باخبر رہتی، لیکن وہ دن ہی ایسے تھے کہ نہ اپنی خبر اور نہ ہی کسی کی اطلاع۔وہ یوں تھی جیسے خلا میں ہو۔ واپس کوارٹر میںآتے ہی اسے خوفناک خبروں سے واسطہ پڑا۔
فرحان خان کا قتل ہوئے دس دن سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا، لیکن قاتل تو کیا، ان کا کہیں نام نشان تک نہیں ملا۔ مقامی پولیس کو بھی کوئی سراغ نہیںملا تھا۔ شہر بھر کے ٹائوٹ، کھوجی، مخبر،سب کو کھنگال مارا تھا۔ بات یہاں سے گم ہو جاتی تھی کہ قاتل کو ملجگے اندھیرے میں دریا میںچھلانگ لگاتے دیکھا گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا کوئی پتہ نہیں۔ وہ اس لڑکی کو بھی ساتھ لے گیا۔ جس کتے نے پانی میںچھلانگ لگائی تھی، وہ ابھی تک نہیںملا تھا۔ وہ اپنا کوئی سراغ وہاں چھوڑ کر نہیںآئی تھی۔ صرف وہ لڑکی بچی تھی، جسے اُس نے بچایا تھا، وہ کہاں تھی، اس کے بارے میں اسے کچھ پتہ نہیںتھا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ خون ظالم کا ہو یا مظلوم کا، وہ چھپتا نہیں، جرم جتنا بھی چھپ کر کیا جائے وہ ظاہر ہو جاتا ہے۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی، اس کے لیے خوفناک بات یہ تھی کہ مٹھن خان نے مقامی پولیس اور خفیہ والوں سے مایوس ہو کر اپنے ذرائع سے ایک ٹیم بلوا لی تھی۔ وہ ٹیم ایسے لوگوں پر مشتمل تھی، جو سراغ رساں ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین فائیٹر اور کمانڈو تھے۔ وہ لوگ مٹھن خان کے ڈیرے پر پہنچ چکے تھے اور انہوں نے اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ ایسا نہیںتھا کہ وہ فرحان خان کے قاتل کو تلاش نہ کر سکتے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے وہ ٹیم اس کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے۔ اسے کسی دوسرے کا نہیں ان لوگوں کا ڈر تھا جو وہاں اس کے سورس تھے۔ بلا شبہ یہ ٹیم ان تک ضرور پہنچ جانے والی تھی۔ یہ ایک نئی افتاد تھی، جس کا اس نے سامنا کرنا تھا۔ وہ دماغی طور پر کافی حد تک پریشان ہو گئی۔
اسی دوپہروہ ڈیوٹی پر چلی گئی۔ وہ تھانے میں یونیفارم پہنے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کے پاس فوزیہ آپی تھی۔ دو مزید لڑکیاں تھیں۔ وہ سب باتیں کر رہی تھیں۔ انہیں لمحات میں اسے ایک ایسے نمبر سے فون کال آگئی، جس سے بات کرنے کے لیے وہ ترستی رہی تھی۔ وہ بی بی صاحب کی کال تھی۔ وہ کال سننے کے لیے اٹھ گئی۔ بی بی صاحب کایہ نمبر اس کی محسن لیڈی کانسٹیبل نے دیا تھا۔ انہی دنوں ایک بار کال آ ئی تھی، پھر جیسے وہ بھول گئی تھی۔اس نے سختی سے خود کو اس وعدے پر کار بند رکھا تھا کہ وہ خود سے کبھی فون نہیںکرے گی۔ بی بی صاحب سے نہ ملنے کی کو شش کرے گی اور نہ جاننے کی۔ بی بی صاحب کی شفیق اور نرم آواز اُسے آج بھی یاد تھی۔ اس نے کال رسیو کر لی۔ دوسری طرف سے وہ نرم اور محبت میں بھیگی ہو ئی آواز ابھری۔
’’کیسی ہو؟‘‘
’’میںٹھیک ہوں۔‘‘
’’مجھے تمہاری والدہ کے جنت میں چلے جانے کا پتہ چلا، یہ رَبّ کی رضا ہے، اسے اسی کی رضا سمجھ کر قبول کرو۔‘‘ بی بی صاحب نے کہا تو اسے یوں لگا جیسے کسی نے زخم پر نرم پھاہا رکھ دیا ہو۔
’’جی، اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیںہے۔‘‘ اس نے دھیمے سے لہجے میںجواب دیا
’’گھبرانا نہیں، یہ زندگی ہے، اس میں طوفان آتے ہی رہتے ہیں۔ایسے طوفانوں کا مقابلہ ہمت والے ہی کرتے ہیں۔ تم تھانے میں ہو ؟‘‘ انہوں نے حوصلہ دیتے ہوئے پوچھا۔
’’جی میںتھانے ہی میں ہوں۔‘‘ اس نے جواب دیا
’’تو پھر ذرا آنکھیں کھلی رکھنا، ابھی ایک لڑکی کے بارے میںیہاں ہلچل ہو گی، اس کی ہر طرح سے مدد کرنا۔‘‘ دوسری طرف سے انتہائی نرم لہجے میںکہا گیا۔
’’لڑکی۔! مطلب کیا ہوگا اس کے ساتھ؟‘‘ اس نے سمجھنے کی خاطر پوچھا۔۔
’’کہا نا آنکھیںکھلی رکھنا اور اس کی مدد کرنا۔ پھر ہوتا ہے رابطہ، اللہ حافظ۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ نینا چند لمحے فون کو دیکھتی رہی، پھر اسے جیب میں رکھ لیا۔
زیادہ وقت نہیں گذرا تھا۔ دفتر سے آپی فوزیہ کا بلاوا آ گیا۔ وہ اندر گئی اور چند منٹ بعد ہی پلٹ آئی۔
’’کیا ہوا، خیر تو ہے نا؟‘‘اس نے آپی سے پوچھا۔
’’ایک مشکوک لڑکی کو پکڑ کر لانا ہے، جائو گی یا میںچلوں ساتھ؟ تیرے ساتھ دو جوانوں کو بھی بھیجتی ہوں۔‘‘
’’ہاں بھیج دو۔ لے آتی ہوں۔‘‘اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو آپی نے پھر پوچھا۔
’’ان دونوں کو بھی لے جا، لے آئو گی نا؟‘‘
’’کچھ نہ کچھ تو کروں گی۔‘‘ اس نے پھرمسکراتے ہوئے کہا تو آپی ان جوانوں کی طرف دیکھنے لگی، جو اس کے ساتھ جانے والے تھے۔ اتنی دیر میں اس نے وہ جگہ بتا دی، جہاں وہ لڑکی تھی۔
وہ شہر کا مشہور دربار تھا۔ زائرین دن پھر زیارت کے لیے آتے رہتے تھے۔ وہاں کا اپنا ایک نظام تھا۔ کچھ دیر پہلے اس دربار کے منتظمین کی طرف سے فون ملا تھا کہ ایک لڑکی سورج نکلنے سے بھی پہلے کی یہاں بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ وہاں سے کہیںبھی نہیںگئی۔ پوچھنے پر اس نے کچھ نہیںبتایا۔ وہ مشکوک ہے، اس کے بارے میں پتہ کیا جائے۔ نینا کے ساتھ ایک لیڈی کانسٹیبل اور دو جوان تھے۔ وہ دربار کے اندر چلے گئے۔ مین داخلی دروازے کے ساتھ ہی منتظم کا دفتر تھا۔ وہ سیدھی وہاں گئی۔ وہ ادھیڑ عمر منتظم پولیس ہی کا منتظر تھا۔ وہ ساتھ ہو لیا۔
آستانے کا صحن کافی بڑا تھا۔ ایک طرف مزار تھا۔ جس کے سامنے صحن تھا۔ باقی چاروں طرف برآمدہ تھا۔ مزار کے دائیں جانب والے برآمدے میں وہ لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ پہلی نگاہ میں یوں دکھائی دے رہا تھا کہ وہاں ایک گٹھڑی پڑی ہوئی ہے۔ اس نے کالی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ ہلکے سبز رنگ کا لباس پہنے ہوئے تھی۔ نینا اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔اس نے لڑکی کے سر کو ہلاتے ہوئے پوچھا۔
’’اے لڑکی کون ہو تم؟‘‘
اس کے یوں پوچھنے پر لڑکی نے سر اٹھایا اور اجنبی نگاہوں سے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی نینا کو دیکھا۔ وہ اس کی طرف یوں دیکھ رہی تھی، جیسے کوئی فاتر العقل کسی کو دیکھتا ہے۔ وہ لڑکی بلاشبہ خوبصورت تھی۔سانولا رنگ، تیکھے نین نقش، آنکھوں میں بلا کی وحشت، پتلے پتلے ہونٹوں پر دنداسہ، بھرے بھرے گال، جس میں ڈمپل پڑتا تھا، لمبی گردن اور چوڑا ماتھا۔ نینا نے اسے غور سے دیکھا اور اپنا سوال پھر دہرایا
’’میں تاجا ں،تاج بی بی۔‘‘وہ لڑکی جانگلی لہجے میںبولی۔ اس سے نینا کو اندازہ ہوگیا کہ وہ کہاں کی ہو سکتی ہے۔
’’یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’فلک شیر نوں اڈیکدی پئی آں، اوہنے ایتھائیں آونا ہا۔ ہالی توڑی نئیں آیا۔‘‘ اس نے ان سب کی طرف دیکھ کر کہا۔
(فلک شیر کا انتظار کر رہی ہوںاس نے مجھے یہیں آنے کا کہا تھا۔وہ اب تک نہیںآیا۔)
’’لگتا ہے باجی عشق کی ماری ہوئی ہے۔‘‘ اس کے پیچھے کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے طنزیہ لہجے میںکہا، جس پر نینا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے تاجاں سے پوچھا۔
’’اس فلک شیر کا کوئی اتہ پتہ ہے یا اس کے بارے میں کچھ جانتی ہو ؟‘‘
’’ناہی۔اوہنے ایتھائیں آون دا آکھا ہا۔ میں آ گئی آں پر اوہ نہئی اپڑا ہن توڑی۔‘‘ اس نے بے پروائی سے کہا۔
( نہیں، اس نے یہیں آنے کو کہا تھا۔ میںپہنچ گئی، مگر وہ نہیںآیا ابھی تک۔)
’’اگر وہ نہ آیا تو کیا کرو گی؟‘‘ نینا نے بڑے تحمل سے پوچھا۔
’’ایتھائیں پئی رھساں۔‘‘(پڑی ہوں یہاں پر۔) اس نے بے چارگی سے جواب دیا تو نینا نے کہا۔
’’یہاں تمہیں اب بیٹھنے نہیںدیا جائے گا، چپ چاپ واپس اپنے گھر چلی جائو، جہاں سے تم آ ئی ہو۔ ورنہ تمہیں ہمارے ساتھ تھانے جانا پڑے گا۔‘‘
’’نہ میںواپس آدے گھر نئی جا سکنی آں، میرے گھر آلے مینوں مار دیسن۔‘‘
( نہیں میں واپس اپنے گھر نہیں جا سکتی، میر ے گھر والے مجھے مار دیں گے۔)
’’تو چلو پھر تھانے۔‘‘ ایک دم سے نینا نے کہا تو تاجاں نے ذرا سی بھی مزاحمت نہیں کی۔ ویسے ہی بیٹھی رہی۔ ساتھ والی لیڈی کانسٹیبل نے اسے بازو سے پکڑکر اٹھا لیا۔وہ آرام سے اٹھ گئی۔ انہوں نے اسے دربار سے باہر لاکروین میںڈالا اور تھانے چل دئیے۔
’’کہاں سے آئی ہو ؟‘‘ وین چلتے ہی نینا نے اس سے پوچھا تو وہ خاموش رہی، اگر نینا کو فون نہ ملاہوتا تو شاید وہ کوئی دوسرا ہی سلوک کرتی۔ اس کے تحمل سے دوسری بار پوچھنے پر تاجاں نے سر اٹھایا اور بڑے جذباتی لہجے میںبولی
’’ہن میرا اوتھے نال کوئی تلق نئی رہ گیا آں، کی کرسیں پچھ کے، میں واپس کوئی نئی جاوناں۔‘‘
( اب میرا وہاں سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا، کیا کریں گی پوچھ کر، مجھے واپس نہیںجانا۔)
’’چلو ٹھیک ہے۔‘‘ نینا نے کہا اور خاموش ہو گئی۔یہ خاموشی تھانے پہنچ جانے تک برقرا ررہی۔
نینانے تاجاں کو انسپکٹر کے سامنے پیش کیا۔ اس نے تاجاں کو سر سے پیر تک دیکھا، حسن کہیں بھی اور کیسا بھی ہو، اس کا اپنا جادو ہوتا ہے، جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وہ جیسی بھی دیہاتی تھی، جنگل میںکِھلا ہوا پھول بھی اپنی خوشبو رکھتا ہے۔ اس کے انگ انگ سے جوانی پھوٹ رہی تھی۔حسن پرستوں کا ایمان ڈول جائے، ایسا بدن رکھتی تھی۔ انسپکٹر نے اس سے بھی وہی بنیادی سوال کئے۔جس کے تاجاں نے وہی جواب دیئے جو وہ پہلے نینا کو دے چکی تھی۔ کچھ دیر سوچنے اور منشی سے مشورہ کرنے کے بعد اس نے کہا۔
’’اس کی رپورٹ لکھو اور اسے دار الامان کے لیے مجسٹریٹ صاحب کے پاس لے جائو، ابھی اجازت لے کر اسے وہیں چھوڑ آئو۔‘‘
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘ نینا نے کہا اور اسے لے کر دفتر سے باہر آ گئی۔ منشی کاغذی کارروائی میںلگ گیا تو نینا نے تاجاں سے پوچھا۔
’’بھوک لگی ہے؟‘‘
’’ناہی، میں دربار توں لنگر کھادا ہا۔‘‘ اس نے سکون سے جواب دیا
( نہیں، دربار سے لنگر کھایا تھا۔)
’’اچھا جب کچھ بھی کھانے پینے کو دل چاہے، مجھے بتا دینا۔‘‘ نینا نے کہاتو اس نے احسان مندانہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی۔
مجسٹریٹ، گھر پر نہیںتھا۔ اسے تاجاں کو دارالامان میں رکھنے کی اجازت نہیںملی۔ یہ بات اس نے فون پر انسپکٹر کو بتائی تو اس نے اکتاتے ہوئے کہا۔
’’میں دارالامان کی انچارج کو کہہ دیتا ہوں، وہ اسے ساتھ میں رکھ لے گی، تم بھی ادھر ہی رہنا، صبح اسے پیش کرکے، دارالامان میں داخل کروا کے آنا۔‘‘
اسے نوکری کرنا تھی۔ نینا بھی تو ایک معمولی کانسٹیبل تھی۔ اس نے حکم کی تعمیل کی اور اسے لے کر دارالامان چلی گئی۔ وہاں کاغذی کارروائی کے بعد ا نہیںایک کمرہ دے دیا گیا۔ جس کے فرش پر دو میٹرس لگے ہوئے تھے۔ تاجاں ایک میٹرس پر بیٹھ گئی تو اس نے دوسرے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’بھوک لگی ہے؟‘‘ اس کے پوچھنے پر تاجا ں نے انکار میں سر ہلا دیا۔تب نینا مسکراتے ہوئے بولی،’’ابھی تو کچھ مل جائے گا، پھر رات گئے کچھ نہیںملنا۔‘‘
’’کجھ نئی ہوندا۔‘‘(کچھ نہیںہوتا۔) اس نے سکون سے کہا اور کمرے کی دیوار سے ٹیک لگالی۔ پھر چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد پوچھا۔
’’تو مینوں اتھائیں کیوں لے آئی آں۔‘‘( تم مجھے یہاں کیوں لے آئی ہو؟)
’’تاجاں۔! تم جتنی بھولی نظر آ رہی ہو، اتنی ہو نہیں، یار کے لیے گھر سے بھاگ آ ئی ہو، یہ کوئی…‘‘ نینا نے طنزیہ لہجے میں اس کی آنکھوں میںدیکھتے ہوئے کہا۔
’’تینوں کیہہ پتہ پیار کی ہونداے، توں پیار کیتا ہوندا،تاں پتہ ہوندا۔‘‘( تجھے کیا پتہ پیار کیاہوتا ہے، تو نے پیار کیا ہوتا تو پتہ ہوتا۔) اس نے دکھ سے کہا۔
’’وہی تو میںکہہ رہی ہوں، پیار محبت توکرنا آ تا ہے، یار بھی پال لیتی ہو، پر تجھے یہ سمجھ نہیں کہ یہاں پر کیوں آئی ہو۔ خیر، سن لو، یہ وہ جگہ ہے، جہاں تم اب رہو گی، یہاں کی جو ہیڈ ہے اس کی مرضی کے مطابق۔ماں باپ بھی نہیںلے جاسکتے ہیں تمہیں۔پر …‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی،جیسے وہ کہنا چاہتی ہو لیکن خاموش رہنا بہتر سمجھا ہو۔
’’سوہنی سپہین آ،گل نہ لُکا، آکھ چا۔‘‘( خوبصورت سپاہی عورت بات نہ چھپا، کہہ دے۔ ) اس نے دھیمی سی مسکان سے کہا۔
’’بات نہیں، مشورہ ہے، واپس اپنے ماں باپ کے پاس چلی جا، گھر سے بہتر کوئی پناہ گاہ نہیں۔‘‘
’’گل تاں توں ٹھیک آہندی پئی اے، پر کیہ آکھاں، میں اتھاں ریہہ نہئی سکدی۔‘‘( بات تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو، مگر کیا کہوں، میں یہاں رہ نہیںسکتی۔) اس نے نینا کی طرف دیکھ کر کہا، وہ خاموش رہی تو تاجاں بولی۔
’’چل مُڑ سُن۔‘‘ ( چل پھر سن۔)وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر کہتی چلی گئی۔
٭…٭…٭
تاجاں ایک زمیندار گھر کی لڑکی تھی۔ ان کی زرخیز زمین ہڑپہ شہر اور دریائے چناب کے درمیانی علاقے میں تھی۔ وہ اپنی زمینوں ہی میں اپنے گھر بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ گھر کے ساتھ ہی ڈیرہ تھا۔ جہاں وہ مویشی پالتے تھے۔ باہر سے آئے مہمان ٹھہراتے اور اپنا غلّہ وغیرہ محفوظ رکھتے تھے۔ تاجاں دو بھائیوں کریم بخش اور اللہ بخش کی اکلوتی بہن تھی۔ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا۔ اس لیے وہ تندھی سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ ماں کو ان کی شادیوں کی فکر رہتی تھی۔ اس نے اپنے دونوں بیٹوں کی منگنیاں کر دی ہوئی تھیں۔ جب تک اس کے بھائی بستی کے پرائمری اسکول میں پڑھتے رہے، وہ بھی پڑھتی رہی۔ بھائی پانچویں کلاس پاس کر گیا تو یہ چوتھی میں تھی، پھر اس کے بعد وہ سکول نہیںگئی۔ یوں تھوڑا بہت لکھنا پڑھنا جانتی تھی۔یوں وہ بچپن کی منزلیں طے کرتی ہوئی لڑکپن میں آ گئی۔ انہی کی طرح اس کے چچا زاد بھی اپنی ہی زمینوں میں بیٹھے ہو ئے تھے۔ فلک شیر اس کے چچا کا بیٹا تھا۔ وہ اکلوتا تھا، اس لیے اپنے باپ کا بہت لاڈلہ تھا۔ وہ پڑھا لکھا نہ بلکہ بچپن ہی سے اپنی زمینوں کی دیکھ بھال میںلگ گیا تھا۔ بڑا گھبرو جوان نکلا تھا۔ ان دونوں خاندانوں کاآپس میںبڑا اتفاق تھا۔ فلک شیر کے باپ نے لڑ کپن ہی میںتاجاں کو مانگ لیا تھا۔ یوںوقت بہت اچھا گذرتا چلا جا رہا تھا۔
ان کی نز دیک ترین بستی فضل داد تھی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔ جو اس علاقے کے سب سے بڑے زمیندار فضل داد کے نام پر ہی تھی۔ بستی میںزیادہ تر اس کے مزارع اور دوسرے لوگ ہی بیٹھے تھے۔
بستی فضل داد کے ساتھ درگاہ پر ہر سال میلہ لگا کرتا تھا۔ وہ بھی پنجاب کے عام میلوں کی طرح تھا۔ اس میںکبڈی ایک اہم کھیل تھا جو کھیلا جاتاتھا۔ علاقے بھر کے جوان اس دن کی مناسبت سے تیاری کرتے تھے۔ مقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ پورے علاقے میںدھاک بیٹھ جائے۔ تاجاں کا بھائی بڑا بھائی کریم بخش بھی کبڈی کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ میلے والے دن وہ بھی اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں اُترا تھا۔ ان کے مقابلے پر زاہد دادا کی ٹیم تھی۔
بستی میں موجود فضل داد کے بیٹے جوان ہو گئے تھے۔ لیکن ان کی شہرت اچھی نہیںتھی۔ بڑا بیٹا صادق داد ذرا کم بدمعاش تھا، لیکن چھوٹا زاہد داد زمانے کا چھٹا ہو اتھا۔لوگوں پر رعب، لڑائی اور بدمعاشی کے علاوہ وہ مرزاعوں کی لڑکیوں پر نگاہ رکھتا تھا۔ وہ افسروں سے بنا کر رکھتا تھا۔ آئے دن ان کی دعوتیں کرتا تھا۔ میلے میں اس نے مقامی تھانے کے ڈی ایس پی کو بلوایا ہو اتھا۔ اس کے ساتھ شہر کے چند اور علاقے کے بہت سارے معززین کو اس نے دعوت دی ہوئی تھی۔ اس دن اس کا خیال تھا کہ اسی کی ٹیم جیتے۔ جس کے بہانے وہ عیاشی کا سامان کر سکے، جس کی اس نے تیاریاں کر رکھی تھیں۔ وہ ہر حال میںسامنے والی ٹیم کو ہرانا چاہتا تھا۔ لیکن ویسا نہ ہوا، کریم بخش اور اس کے دو مزید ساتھیوں نے ایسا فنکارانہ کھیل پیش کیا کہ علاقے کے لوگ واہ واہ کر اٹھے۔ انہوںنے زاہد داد کی ٹیم کو بری طرح ہرا دیا۔
جیتنے والی ٹیم انعام اکرام لے کر کریم بخش کے ڈیرے پر جمع تھے۔ وہیں انہوں نے کھانا کھایا اور رات آرام کے بعد صبح اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے زاہد داد کے دل میں انتقام کی آ گ بھڑکا دی۔ وہ اس وقت تو کچھ نہ کہہ سکا لیکن چند دن بعد ہی زاہد داد کے مزارعے، کریم بخش کے ایک مزارع پر چوری کا الزام لگا کر اسے مارنے پیٹنے اس کے گھر آگئے۔ یہ تو ممکن ہی نہیںتھا کہ کریم بخش اس پر خاموش بیٹھ جاتا۔ جیسے ہی اس نے سنا وہ موقعہ پر پہنچا۔ لیکن اس وقت تک مزارع کو اس قدر مارا کہ اسے جان کے لالے پڑ گئے۔ اسے اسپتال لے جایا گیا۔ جبکہ دوسری طرف اسی مزارع پر چوری کا پرچہ بھی کٹوا دیا۔ کریم بخش نے اسپتال میں اس کی دیکھ بھال کے علاوہ تھانے میںبھی بات کی۔اس کے ساتھ ہی چند دن بعد علاقے کے معززین کی پنچائت بلوا لی۔ اگلی شام پنچائت ہونا تھی۔ لیکن صبح ہی مزارع کی بیٹی کو اٹھوا لیا گیا۔ جس پر کریم بخش بھڑک اٹھا۔ یہی کچھ وہ چاہ رہے تھے۔ اس نے گن اٹھائیاور اس لڑکی کو لانے چل دیا۔ مزارع کی وہ لڑکی زاہد داد کے ڈیرے پر سے ملی۔ کریم بخش اسے لے توآیا، مگر اس کی چال سمجھ گیا۔ بڑے لوگوں کی پنچائت میںکیا ہوتا ہے سوائے صلح صفائی کے۔ وہ ہو گئی، بظاہر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ لیکن کریم بخش کو اس بات کا بڑا دکھ تھا کہ زاہد داد نے اس کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے۔
آگ سلگ جائے تو اس کا دھواں ضرور اٹھتا ہے۔ چاہئے اس کا شعلہ کم ہی ہو لیکن دکھائی ضرور دیتا ہے۔ تب اسی آگ کو جانے انجانے بھڑکانے والے بہت سارے لوگ آجاتے ہیں۔دن بدن یہ آ گ بھڑکتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اگلا میلہ آ نے سے پہلے زاہد داد نے اپنے ہی ایک مزارع کو اندر کروا دیا، جو یہ فریادکر رہا تھا کہ اس کی بیٹی کو زاہد دادا نے کہیںکا نہیںچھوڑا۔اس کے گھر والے علاقے کے کئی لوگوں کے پاس فریاد لے کر گئے مگر ان زمینداروں کے ساتھ خواہ مخواہ کی دشمنی کوئی کیوں لیتا۔ وہ کریم بخش کے پاس آگئے۔ وہ اسی انتظار میں بیٹھا تھا۔ وہ جھٹ ان کے ساتھ تھانے جا پہنچا۔
شام تک وہ تھانے سے اس مزارع کو نہ صرف چھڑوا لایا بلکہ اس کی بیٹی پر ہونے والی زیادتی کے لیے ایف آئی آربھی درج کروا آیا۔ زاہد داد بھی تھانے میںتھا،جہاں ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی بھی ہو گئی۔ ایک دوسرے کو دیکھ لینے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ زاہد داد کے خلاف جو ایف آئی درج ہوئی، وہ اس کے تھانے کے چلے جانے کے بعد ہوئی تھی۔ کریم بخش شہر میں اپنے جاننے والے لوگوں سے ملنے کے بعد شام ڈھلے جب واپس کار پر اپنے کی گھر کی طرف آ رہا تھا۔ اس کا راستہ زاہد داد نے روک لیا۔ کریم بخش اکیلا تھا۔ جبکہ زاہد داد کے ساتھ چند غنڈے تھے۔ کریم بخش نے کار روک لی۔ اسے یہ اندازہ تھا کہ زاہدداد اس پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس لیے کار سے باہر آ کر بولا۔
’’راستہ مت روک زاہد داد،مزارعوں کی لڑائی میں اپنی آگ مت بھڑکا۔‘‘
’’آگ بھڑکے یا طوفان آئے، میں یہ سب کچھ کر ہی تیرے لیے رہا ہوں۔‘‘ زاہد داد نے کہا۔
’’تو پھر مردوں کی طرح میرے ساتھ لڑ، یہ ان بچارے غریبوں کو تنگ کر کے کیا کر رہاہے۔‘‘ کریم بخش نے طنزیہ لہجے میںکہا۔
’’چل پھر تجھے بتا ہی دیتے ہیں کہ سیدھی طرح لڑائی ہوتی کیا ہے۔ پکڑ لو اسے۔‘‘ زاہد داد نے کہا ہی تھا کہ اس کے پالتو غنڈے کریم بخش پر پل پڑے۔ کریم بخش جتنا بھی شہہ زور تھا، لیکن اکیلا تھا، وہ کافی دیر تک لڑتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے سامنے کے کئی لوگ زخمی بھی کر دئیے۔کریم بخش نے جب یہ دیکھا کہ وہ اسے اب مار دیں گے بخشیںگے نہیں، تب اس نے کارمیںپڑی گن اٹھا لی۔ اس نے پہلا فائر ہی زاہد داد پر کیا۔ وہ غافل نہیںتھا، اس نے بھی فائر کر دیا۔ ایک دم سے آمنے سامنے کی فائرنگ ہو نے لگی، کریم بخش زیادہ دیر تک ان کا سامنا نہ کر سکا۔ اس کے کئی فائر لگے اور وہ موقعہ پر ہی دم توڑ گیا۔ وہ اس کی لاش وہیںچھوڑ کر بھاگ گئے۔
جس وقت کریم بخش کی لاش گھر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اللہ بخش تو اسی وقت سب کو ختم کر دینے پر تل گیا تھا۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو، بھائی کی لاش کو دفنانے سے پہلے ہی فضل داد کی حویلی جا پہنچا۔ اس کے سامنے جو بھی آ یا اس نے مار دیا۔ اس میں زاہد داد کا بڑا بھائی صادق داد سمیت فضل داد، اس کی ماں اور تین نوکر مارے گئے۔ قاتل پھر بھی نہ ملا۔اللہ بخش فرار ہو گیا۔ اس نے حویلی میںکھڑے ہو کر یہ اعلان کیا تھا وہ زاہد داد کو مار کر ہی دم لے گا۔ اس کے بعد وہ خود کو پولیس کے حوالے کر دے گا۔ اور اگر کسی نے اس کے خاندان کی طرف انگلی اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اسے بھی ختم کر دے گا۔کریم بخش کو دفنا دیا گیا۔لیکن اس کی دشمنی پیدا ہو گئی۔ زاہد داد کو بہت بھاری قیمت چکانا پڑی تھی۔
اگلہ میلہ آ کر ختم ہو گیا۔ پولیس اللہ بخش کو پکڑنے کے لیے چھاپے مارنے لگی۔ مگر وہ ہاتھ نہیںآیا۔ گھر پر بوڑھی ماں ہوتی یا پھر تاجاں۔ وقت اور حالات نے تاجاں کو بہت کچھ سکھا دیا۔ دن تو جیسے تیسے گزر جاتا،لیکن رات ہوتے ہی اُن پر ایک عذاب اتر آتا۔ ماں گھر کے اندر جاگتی رہتی اور تاجاں گن لیے باہر پہرہ دیتی تھی۔ ایسے میں فلک شیر اس کے پاس آ جاتا۔ وہ دونوں ساری رات نہ صرف پہرہ دیتے، بلکہ باتوں میں ساری رات گذار دیتے۔
ایک دن فلک شیر کا باپ تاجاں کی ماں کے پاس آ یا۔ اس نے اپنی بھابی کو یہی صلاح دی کہ اب تاجاں اور فلک شیر کی شادی کر دینی چاہئے۔ کیونکہ اب اللہ بخش کا نہیںپتہ کہ وہ اب واپس گھر کب آتا ہے۔ ماں تو مان گئی لیکن خود تاجاں نے انکار کر دیا کہ وہ اپنی ماں کو اکیلا نہیںچھوڑ سکتی۔ اگر دشمنوں نے میری ماں کو مار دیا تو میںخود کو معاف نہ کر پائوں گی۔ اگر اللہ بخش نہ مار سکا تو میںزاہد داد کو ماروں گی۔ تاجاں کا جواب فلک شیر کے باپ کو اچھا نہ لگا۔ وہ خاموشی سے واپس چلا گیا۔ یہ پہلا وقت تھا، جب ان کے رشتوں میںدراڑ پڑی۔ اس نے گھرجاتے ہی فلک شیر کے سامنے اپنی بیوی کو ساری بات بتا کر کہا۔
’’بھاگ وان! اب تم انہیں یہ پیغا م بھجوا دو کہ یہ منگنی اب ختم ہی سمجھیں۔ اب اس گھر میں فلک شیر کی شادی ممکن نہیںہے۔‘‘
’’ابا، یہ کیا کہہ رہے ہو تم، ایسا نہیںہو سکتا۔ میں تاجاں کے بغیر کسی سے شادی نہیںکروں گا۔‘‘ فلک شیر نے حتمی لہجے میں کہا تو اس کا باپ سمجھاتے ہوئے بولا۔
’’اس طرح تو ساری عمر شادی نہیںہو سکتی۔یا تو پھر وہ تمہیںبیاہ کر یہاں سے لے جائے، تم ان کے گھر رہو اور جس طرح اب ان کی دشمنی بن گئی ہے، ان کا ساتھ دو۔ میں اپنے پتر کو ایسا نہیں کرنے دوں گا۔‘‘
’’ابا، میری شادی ہوتی ہے یا نہیں، اسے چھوڑو، لیکن یہ دیکھو، وہ میرا خون بھی ہے، تیرا بھی خون ہے، اس وقت انہیںاکیلا چھوڑ دیں؟ یہ میری غیرت نہیں گوارہ کر سکتی۔‘‘ فلک شیر نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔
’’پر پتر، بات صرف اتنی نہیںہے، تاجاں جس طرح مرد بن کر اپنے گھر کی حفاظت کر رہی ہے نا، وہ اب تیری بیوی نہیں، تیری حاکم بن سکتی ہے۔تیری ساری زندگی اب ان کی دشمنی کے ساتھ گذرے گی یا پھر اللہ بخش کو بچاتے ہوئے کچہریوں کے چکر لگائے، وہ بھی اگر اللہ بخش پکڑا گیا تو ورنہ…‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کا باپ کانپ گیا۔ تبھی اس کی ماں نے ڈرتے ہوئے کہا۔
’’مان لے اپنے باپ کی بات،ٹھیک کہہ رہاہے۔‘‘
’’کچھ بھی ہو جائے میںاب انہیں اکیلا نہیںچھوڑ سکتا۔میرے ہوتے ہوئے انہیںکچھ ہو جائے، کیا اس پر لوگ مجھ پر نہیںتھوکیںگے‘‘ وہ ضدی لہجے میںبولا۔ اس کے یوں کہنے پر ماں نے غصے میں کہا۔
’’یہ تو غنیمت ہے کہ اب تک یہ راتوں کو چھپ کر ان کی پہرے داری پر جاتا ہے، اگر لوگوںکو یہ پتہ چل گیا کہ یہ اب راتیں اس کے ساتھ گذارتا ہے تو کیا عزت رہ جائے گی بھلا، شادی سے پہلے ہی تم ان کے گھر…‘‘
’’پہرہ دینے جاتا ہوں ماں۔ یہ میرا، میرے لہو کا فرض ہے۔‘‘ اس نے صاف لفظوں میںکہا اور ان کے پاس سے اٹھ گیا۔
اسی رات تاجاں کو ساری بات پتہ چل گئی۔ اس نے فلک شیر سے کہا۔
’’دیکھ پھلکو، ہماری قسمت میں تو اب یہی لکھا ہے، تو اپنی زندگی خراب نہ کر، چاچا ٹھیک کہہ رہا ہے، تو شادی کر لے اور اپنی زندگی ہنسی خوشی گذار۔‘‘
’’تاجاں۔! جو میں نے اپنے ماں باپ سے کہا، وہ سچ ہے، لیکن تو میری محبت بھی تو ہے، میں تمہیںکیسے چھوڑ دوں۔‘‘ فلک شیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میںلے کر پیار سے کہا۔
’’جب میں کہہ رہی ہوں، تم تو اپنی زندگی سکون سے گذارو تو بھی نہیں۔‘‘ اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر کہا۔
’’چل تاجاں۔! تُو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ دے کہ تمہیںمجھ سے محبت نہیں ہے، تو میں تیرا کہنا مان لوں گا۔‘‘ فلک شیر نے دھڑکتے ہوئے دل سے کہا تو تاجاں ایسا نہ کر سکی۔ دونوں ہی جانتے تھے کہ وہ ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو نہیںچھوڑسکتے۔
یونہی دن اور رات گذرتے تین ماہ ہو گئے۔ اللہ بخش پکڑا نہیںگیا۔ بس اس کے بارے میںاطلا ع ملتی تھی کہ وہ کہاں ہے۔ ایک باروہ اپنی ماں سے ملنے آ یا تھا،وہ رات بھر یہاں رہا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے گھر پر آ ئے دن پولیس آنے لگی۔ تاجاں اور اس کی ماں کو دھمکیاں ملنے لگیں۔
ایک رات دوسرا پہر ختم ہو نے کو تھا۔ تاجاں اور فلک شیر گھرکی چھت پر چار پائی ڈالے بیٹھے ہوئے تھے۔ جہاں سے دن کے وقت تو انہیں دور تک راستہ نظر آتا تھا۔ لیکن رات کے وقت اندھیرے میںکچھ بھی دکھائی نہیںدیتا تھا۔ وہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ انہیں اپنی زمینوں کے راستے پر دو جیپوں کی روشنی دکھائی دی۔ ہر لمحے کے ساتھ وہ نزدیک ترین ہوتے چلی آ رہی تھیں۔ دونوں نے اپنی گنوں کو بولٹ مار لیا۔
وہ جیپیں ان کے دروازے کے سامنے آ کر رکیں۔ لکڑی کا پھاٹک بند تھا۔ کچھ ہی دیر بعد ایک بندہ دیوار پر چڑھا اور اندر کود کر پھاٹک کھولنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ پھاٹک کھولتا، تاجاں نے ایک برسٹ مارا، وہ شخص پھاٹک کھولنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ باہر سے اندازہ لگا لیاگیا تھا کہ فائر کہاں سے ہو ئے ہیں۔ سامنے سے جوابی فائرنگ ہو نے لگی۔شاید ان کے گمان میںبھی نہیںتھا کہ ان کے گھر سے کوئی مزاحمت بھی ہو سکتی ہے۔ فائرنگ کی آواز سن کر اُن کے مزارعے بھی گنیں لے کر نکل آ ئے تھے۔ جیپیں واپس مڑنے لگی تھیں۔ لیکن ہر طرف کی فائرنگ سے وہ ایسا نہ کر پا رہے تھے۔ کافی کو شش کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوگئے۔ دن کی روشنی میں جب دیکھا تو وہاں تین لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔
اس رات پورے علاقے میںخبر حیرت سے سنی گئی کہ گھر کے اندر سے تاجاں نے فائرنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ فلک شیر تھا۔ وہ رات کو پہرہ دیتا رہاتھا۔انہوں نے تین ڈاکو مار دئیے تھے جو ان کے ہاں حملہ کرنے آ ئے تھے۔ پولیس وہ لاشیں اٹھا کر لے گئی۔ ان میںدو اشتہاری تھے۔اب مرنے والے یہ اقرار نہیں کر سکتے تھے کہ انہیںبھیجنے والا کون ہے۔لیکن چند دن بعد ہی اللہ بخش نے شہر میں زاہد دادا پر حملہ کر دیا۔
زاہد داد شہر میںکچہری گیا ہوا تھا۔ اس نے آدھا دن وہیں گذارا تھا،۔ وہ اپنے کام ختم کر کے، اپنے گارڈوں کے ساتھ کچہری سے نکلا تھا، ایک سڑک پار کی تھی کہ اس کے سامنے اللہ بخش آ گیا۔ اس نے کوئی بات نہیں کی۔سیدھی فائرنگ ہی کی۔ جس میں وہ اپنے گارڈوں سمیت مارا گیا۔اسی دوپہر اللہ بخش نے اپنی گرفتاری دے دی۔
ا س دشمنی میں اگر تاجاں کا کچھ نہیںبچا تھا تو فضل داد کا سار ا خاندان تباہ ہو گیا تھا۔ فضل داد کی صرف ایک بیٹی بچی تھی، جس کی شادی اس کے پھوپی زاد کے ساتھ ہو گئی ہوئی تھی۔ اب ساری جائداد کی وارث وہ تھی۔ اس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیںہوئی۔یہاں تک کہ انہوں نے زاہد داد کے قتل کے بارے میںبھی کوئی ایف آئی آر نہیںکٹوائی۔وہ بالکل خاموش ہو گئے۔
وقت ذرا سا آ گے بڑھا۔ اللہ بخش کا یوں تو مقدمہ چل پڑا تھا۔ لیکن اصل میں کچھ بھی نہیںہو رہا تھا۔ جب مدعی ہی کچھ نہیں کر رہے تھے، تو فائلیں ہی آ گے پیچھے ہو رہی تھیں۔ یہ سارا کھیل پیسے کا تھا، جو تاجاں اور فلک شیر بہا رہے تھے۔
ایک دن فلک شیر اغواء ہو گیا۔ وہ اپنی زمینوں پر تھا۔ اس وقت وہ اپنے ڈیرے پر بیٹھا ہو اتھا۔ اس سے کافی فاصلے پر اس کے مزارع کام کر رہے تھے۔ کچھ لوگ اس کے پاس آئے، وہ تھوڑی دیر بیٹھے بھی رہے۔پھر اسے ساتھ لے کر چل پڑے۔ اس کے بعد اس کا کوئی پتہ نہیںملا، وہ کہاں غائب ہو گیا۔ تاجاں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ وہ خود نہیںنکلی، مگر اس کے ارد گرد کے لوگ، جگہ جگہ اسے تلاش کرنے نکل پڑے۔یہاں تک کہ انہیں پتہ چلا کہ فضل داد کے داماد نے سامنے آئے بغیر کسی طاقتور بندے کے ذریعے اسے اٹھوا لیا ہے۔
٭…٭…٭
’’لیکن تم تو درگاہ پر فلک شیر کے انتظار میں بیٹھی تھیں، یہ کیا ڈرامہ ہے ؟‘‘ نینا نے کافی حد تک سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’مینہوں ای پتہ اے اُوس نہی آونا ہا، پر میرے دشمناں نوںتاں پتہ لگ گئیا ہو سی، میں اونہوں لبھن لئی نکل پئی آں۔‘‘ اس نے دھیمی سی مسکراہٹ سے کہا( مجھے بھی پتہ ہے کہ اس نے نہیںآنا، مگر میرے دشمنوں کو تو پتہ لگ گیا ہوگا کہ میں اسے تلاش کرنے نکل پڑی ہوں۔)
’’کس نے اٹھایا فلک شیر کو،کون ہے وہ تیرا دشمن ؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’مٹھن خان۔‘‘ تاجاں نے دانت پیستے ہوئے کہا تو نینا کے اندر دور تک سرور اُتر گیا۔ وہ چند لمحے سوچتی رہی، اسے یہ اچھی طرح پتہ تھا کہ وہ تاجاں کے سامنے اپنا راز نہیںکھول سکتی ہے۔ اگر اسے بی بی صاحب کی طرف سے فون نہ ملا ہوتا تو وہ یہی سمجھتی کہ یہ تاجاں اسے گھیرنے کے لیے ایک جال ہے۔ لیکن وہ ایسی عورت کو یونہی نہیںچھوڑ سکتی تھی۔ اسے لگا جیسے یہ بھی ایک نئی نینا ہے جو معاشرے کے ان فرعونوں کے ہاتھوں ستائی ہوئی ہے۔ بی بی صاحب نے اسے شاید اسی لیے تاجاں کے بارے میںآگاہ کیا تھا۔ اس نے یہ طے کر لیا کہ وہ ہر حال میں تاجاں کا اعتماد حاصل کر ے گی۔ بظاہر وہ جس طرح بھولی بھالی اور گنوار دکھائی دے رہی تھی، اندر سے وہ اتنی ہی شاطر تھی۔ وہ بہت چالاکی سے اپنے دشمنوں کو بل سے نکالنا چاہتی تھی۔
’’یہ تو بہت ظالم بندہ ہے۔‘‘ نینا نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’مینہوں پہلاں ای پتہ ہاں، مٹھن خان دا ناں سُن کے تیری بولتی بند ہو جاسی،پر کوئی نہی،میں آدے فلک شیر توں لبھ لیئسا۔‘‘ (مجھے پہلے ہی پتہ تھا، مٹھن خان کا نام سن کر تیری بولتی بند ہو جائے گی۔‘‘ اس نے مثبت انداز میںسر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’تجھے پتہ ہے، میںکیا ہوں، ایک معمولی سی ملازمہ ہوں، وہ اتنا بڑا بندہ، میں تو اس کے ڈیرے میں نہیںجا سکتی، بھلامیں کیا کر سکتی ہوں۔‘‘ نینا نے بالکل ہی مردہ سے لہجے میںکہا
’’مڑ ٹھیک اے، توں سو جا، کل ویکھی جاسی جو ہوسی۔‘‘ (پھر ٹھیک ہے، کل جو ہوگا، وہ دیکھا جائے گا۔) اس نے حتمی لہجے میںکہا۔ اس نے اپنی چادر اُتار کر دائیں جانب رکھی، تو اس کی بھر پور جوانی کا احساس ہوا۔قمیص کے اندر اپنے سینے میں ہاتھ ڈال کر سیل فون نکالا اور اپنے سرہانے رکھ لیا۔پھر ایک انگڑائی لے کر میٹرس پر لیٹ گئی۔
نینا نے اپنے سیل فون پر وقت دیکھا۔ رات کا دوسرا پہر شروع ہونے کو تھا۔شعیب نے اس کے لیے فون پر پیغام بھیجا ہو اتھا۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ تم کہاں ہو ؟ وہ فون پر ہی پیغام کے ذریعے اسے بتانے لگی کہ وہ کہاں ہے اور اس کے ساتھ کون ہے۔ شعیب اس بارے میں بہت زیادہ پر جوش ہو گیا تھا۔ اس نے جب یہ پوچھا کہ تاجاں کے پاس فون ہے، تب اس کے ذہن میںخیال آ گیا کہ وہ تاجاں کا اعتماد کیسے حاصل کر سکتی ہے۔
تاجاں کے پاس فون تھا لیکن نہ ابھی تک اس نے کسی کو کال کی تھی اور نہ ہی اسے کسی نے فون کیا تھا۔نینا کے لیے یہی مسئلہ یہی تھا کہ وہ تاجاں کو بتائے بغیر اس کے فون کے بارے میں پتہ کرے اور اس کانمبر لے۔ وہ پہلو بدل کر یہی سوچ رہی تھی کہ تاجاں نے ایک دم سے پوچھا۔
’’توں کسے بندے نوں جاننی اے، جہیڑا مٹھن خان دا وڈا دشمن ہووے۔‘‘ ( تم مجھے کسی ایسے بندے کے بارے میںبتاسکتی ہو جو مٹھن خان کا سب سے بڑا دشمن ہو ؟)
’’میں کچھ نہیں جانتی، چپ کرکے پڑی رہ، مجھے اپنی نوکری نہیںگنوانی۔‘‘ نینا نے ڈرنیوالے لہجے میںکہا تو وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے بولی۔
’’پتہ لگّاہا، اوس دے چھوہر نوں کوئی مار گیئا، او کد ّرے لبھ جاوے نا، مڑ ویکھیں۔‘‘ ( پتہ چلا ہے، اس کے بیٹے کو کوئی مار گیا ہے، وہ کہیں مل جائے نا۔ پھر دیکھنا۔) اس نے حسرت سے کہا، پھر چند لمحے بعد اٹھ کر واش روم کی طرف چلی گئی۔ نینا کی نگاہ اس کے سرہانے پڑے فون پر پڑی۔ نینا نے ہاتھ بڑھایااور اپنے نمبر پر کال کی۔ اس کا نمبر آ گیا۔تاجاں کے فون سے نمبر ڈیلیٹ کردیا۔ اس کام میں زیادہ سے زیادہ ایک منٹ لگا۔ وہ مطمٗن ہو گئی۔ تاجاں واپس آ کر میٹرس پر لیٹ گئی۔
اس رات تقریبا ً چار بجے کا وقت ہوگا۔ نینا کو یوں لگا جیسے کہیں دور فائر ہوئے ہیں۔ وہ کچی نیند میں تو پہلے ہی تھی،ایک دم سے پوری طرح جاگ اٹھی۔ اس نے بہت غور کیا۔ کسی کے جھگڑنے اور بحث کرنے کا پتہ چل رہا تھا۔ اس نے سامنے پڑی تاجا ں کو دیکھا، وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھی تو تاجاں بھی اس کے پیچھے ہی اٹھ گئی۔وہ سر پر چادر لینا نہںبھولی تھی۔ نینا نے انتہائی محتاط انداز میں دروازہ کھولا تو راہدری میںکوئی نہیںتھا۔ وہ باہر نکل گئی۔کچھ فاصلے پر سیڑھیاں تھیں، اس نے وہاں جا کر نیچے لائونج میں دیکھا تو وہاں کا منظر عجیب سا تھا۔
دار لامان کی ہیڈ ایک صوفے پر خوف زدہ سی بیٹھی ہوئی تھی، اس کے سر پر ایک شخص پسٹل تانے ہوئے تھا۔ اس کے ساتھ دوسرا شخص کھڑا تھا، اس نے دھمکی آمیز لہجے میںپوچھا۔
’’بتا کہاں ہے وہ، ورنہ بہت برا ہو گا؟‘‘
’’میری نوکری کا سوال ہے، میںنے اس کے بارے میں بتایا تو میری نوکری چلی جائے گی۔‘‘ ہیڈ نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا تو وہی شخص بولا۔
’’بکواس بند کر بڑھیا، ورنہ تیری زندگی چلی جائے گی۔‘‘
اس سے پہلے کہ ہیڈ کوئی جواب دیتی، نینا کے پیچھے کھڑی تاجاں نے اونچی آواز میںپوچھا۔
’’کہندا پچھدا پیااے؟‘‘ ( کس کا پوچھ رہے ہو۔)
’’وہ کھڑی۔‘‘ ایک بندے نے کہا تو سبھی اوپر کی طرف دیکھنے لگے۔
’’جے پیئو دے پوتر حین تاں اُتے آ جا۔‘‘ (اگر اپنے باپ کے بیٹے ہو تو اوپرآ جائو۔)تاجاں نے کہا تو ان سب نے اوپر کی جانب دیکھا۔ پھر لمحہ بھر کے بعد وہ تیزی سے سیڑھیوں کی جانب لپکے۔
یہی ان کی پہلی بے وقوفی تھی۔ سیڑھیاں اوپر کی جانب گھومتی ہوئی آتی تھیں۔ نینا سمجھ گئی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔ اس نے ہیڈ کی جان چھڑوائی تھی۔ وہ تین تھے۔ تبھی تاجاں نے نیفے میںاڑسا ہوا پسٹل نکالتے ہوئے نینا سے کہا،’’سپہن آ، ہن توایں بچ تے بھج جا۔میں ویکھ لیئساں۔‘‘(سپاہی عورت تم بچ کر بھاگ جائو، میں انہیںدیکھ لوں گی۔)
’’نہیں میری ڈیوٹی ہے، مجھے تمہاری حفاظت کرنی ہے۔‘‘ نینا نے کہا تو وہ بولی۔
’’نوکری بچاندے بچاندے زندگی نا گوا بیٹھیں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’دیکھا جائے گا۔‘‘ اس پر تاجاں نے ایک لمحہ کو سوچا، اپنا پسٹل نیفے میںاُڑستے ہوئے اوپر سے اچھی طرح چادر لے لی۔نینا ہنس کر ایک طرف ہو گئی۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ تاجاںمیںکتنا دم ہے۔ سیڑھیاں گھوم کر آتی تھیں۔ جیسے ہی وہ چند سیڑھیاں چڑھ کر سامنے آئے، تاجاں نے زور سے کہا۔
’’اُدآئیں رکو، میں تھلے آندی پئی آں۔‘‘ ادھر ہی رکو میںنیچے ہی آ ری ہوں۔)
وہ سیڑھیاں اترنے لگی۔ نینا بھی محتاط انداز میں اس کے پیچھے تھی۔محکمے کی طرف سے کسی ہتھیار کی اجازت تو نہیں تھی،لیکن اس کے پاس اپنا ذاتی پسٹل تھا۔ وہ شاید دوبارہ لائونج میںچلے گئے تھے۔، جیسے ہی وہ نیچے آئیں، ایک لمبے قد والے شخص نے پسٹل کی نال سے اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’تاجاں تمہارا ہی نام ہے؟‘‘
’’ہا، دس کہہ آکھداں اے۔‘‘ (ہاں، کہو کیا کہتے ہو۔)اس نے بے خوف لہجے میںپوچھا
’’تم ہو جو فلک شیر کو تلاش کر رہی ہو ؟‘ اس نے پوچھا۔
’’تو گل کر جہیڑی کرنی اے۔‘‘( تو بات کر جو کرنا چاہتا ہے)اس نے اکتائے لہجے میںکہا
’’چل پھر میرے ساتھ،تجھے فلک شیر سے ملا دوں۔‘‘ یہ کہہ کروہ طنزیہ ہنس دیا۔اس پر تاجاں اس کے پاس گئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔
’’فلک شیر تیرے پاس ہے؟‘‘
’’میرے پاس تو نہیں، لیکن…‘‘ اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ تاجاں نے پوری قوت سے اس کی ٹھوڑی پر گھونسہ مارا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کے پسٹل پر مارا، جو دور جا گرا، تیسرا اس نے اپنا گھٹنا اس کی ٹانگوں کے درمیان مار دیا۔ تاجاں تو حملے کے لیے تیار تھی لیکن وہ شاید یہ تو قع نہیںکر رہا تھا کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے۔ ایک عورت اس کے گلے یوں پڑ سکتی ہے۔ پسٹل گرتے ہی نینا نے جھپٹ کر وہ پسٹل اٹھا لیا۔ باقی دونوں کے ہاتھ میںپسٹل تھا مگر وہ اس افتاد کوایک دم سے نہ سمجھ پائے۔لمبا آدمی ٹانگوںکے درمیان ہاتھ رکھ کر کراہ رہا تھا کہ تب تک تاجاں نے دونوں ہاتھ باندھ کر اس کی گردن پر مارے، وہ ڈکارتا ہوا فرش پر گر گیا۔ نینا باقی دو پر پسٹل تان چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی تاجاں نے بھی اپنا پسٹل نکال لیا تھا۔وہ دونوںایک دم سے گھبرا گئے تھے۔
’’ہتھیار پھینک دو، ورنہ گولی مار دوں گی۔‘‘ نینا نے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔ انہوں نے اپنے پسٹل پھینک دئیے۔
’ ’ میںتھانے فون کرتی ہوں۔‘‘ ہیڈ نے یوں کہا جیسے اسے ابھی ہو ش آ یا ہو۔ تبھی تاجان نے غراتے ہوئے کہا۔
’’نہ، ہُنے ناں، ایندھے کولوںپچھ تاں لواں فلک شیر دا۔‘‘ ( نہ ابھی نہیں، اس سے پوچھ تو لوں فلک شیر کے بارے میں۔ ) یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے لمبے شخص کی سرمیںٹھوکر ماری۔ وہ بلبلا اٹھا۔ تاجان پر جیسے جنون سوار ہو گیا، وہ اسے پیٹنے لگی، نینا دیکھ رہی تھی کہ اس میںجوش اورحوصلہ تو ہے،لیکن وہ لڑنے کے فن کو بالکل نہیںجانتی تھی۔
’’بس کرو تاجاں اور ادھر بیٹھ جائو، میں دیکھتی ہوں اب۔‘‘ نینا نے کہا اور ہیڈ کو فون کرنے کا کہا۔ وہ فوراً اپنے آ فس کی جانب بھاگی۔اسی دوران ان کی ذرا سی غفلت پاکر ان دو میں سے ایک نے موقعہ دیکھا اور سیدھا نینا پر آ رہا۔ وہ اس کا پسٹل چھین لینا چاہتا تھا۔ نینا ایک دم سے گھوم گئی، وہ اس کے بالکل ساتھ مس ہوتا ہوا فرش پر گر گیا۔ نینا کو ایک دم سے تپ چڑھ گئی۔ اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کہا تھانا کہ آرام سے کھڑے رہو۔ اب بھگتو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فرش پر پڑے اس لڑکے کو کالر سے پکڑ کر اٹھایا اور اٹھاتے ہوئے لڑکے کے منہ پر گھونسہ مارا۔ پھر گھو م کر پائوںکی ٹھوکر اس کے سینے پر ماری تو وہ دہرا ہوتا چلا گیا۔ تاجاں دوبارہ اٹھ گئی تھی۔ وہ دہاڑتی ہوئی اٹھی اور اس نے پسٹل سیدھا کیا اور فائر دے مارا۔ فائرکی آواز سارے دارالامان میںپھیل گئی۔ اس لمحے تیسر ے نے بھاگنے کی کوشش کی تو تاجاں اس کے پیچھے جا لپکی۔ اسے دروازہ پار نہیںکرنے دیا۔ اس کے پائوں میں فائر دے مارا۔ وہ لڑکھڑا کر گر گیا۔ وہ اسے گھسیٹ کر لے آئی۔ وہ تینوں لائونج میںڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ ایسے میں دار الامان کی ہیڈ آفس سے نکلتے ہوئے زور سے بولی۔
’’میں نے تھانے فون کر دیا ہے، پولیس آتی ہی ہوگی۔‘‘
نینا نے اس کی بات سن لی لیکن کوئی تبصرہ کئے بنا لمبے قد والے شخص کے بال پکڑ کر کھینچتے ہوئے بولی۔
’’بتا کس نے بھیجا ہے تمہیں، یہیں آرام سے بتا دے گا یا تھانے چل کر بتائے گا۔‘‘
’’تیرا دائو چل گیا ہے، تھانے چل تجھے پتہ چل جائے گا۔‘‘ اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
’’اچھا تویہ بات ہے، اکڑتا ہے، میں تیرے ہی پسٹل سے تجھے مار دوں گی تو تھانے بھی نہیںجا سکے گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکی پھر اونچی آواز میںبولی۔‘‘تاجاں مجھے دو اس کا پسٹل۔‘‘ نینا نے کہا تو وہ گھبرا گیا۔ اس وقت تک تاجاں فرش پر پڑے دونوں لڑکوں کو ٹھوکریں مار چکی تھیں۔
’’بتاتا ہوں۔‘‘ لمبے قد والے شخص نے کہا۔
’’بولو۔‘‘ اس نے سرد سے لہجے میں کہا۔
’’مٹھن خان کے منشی سلامت خان نے بھیجا ہے، فلک شیر اسی کے پاس ہے۔‘‘
’’کتھاں ہے سلامت خان،بہن …‘‘ تاجاں نے دانت پیستے ہوئے انتہائی غلیظ گالی دی۔ تاجاں تو جو پاگل ہوئی سو ہوئی لیکن سلامت خان کا نام آتے ہی نینا کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ یہی وہ شخص تھا، جس نے اس کے گریبان میںہاتھ ڈال کر اسے ننگا کیا تھا۔ فرحان خان نے اسے کہا تو وہ پوری خباثت کے ساتھ آگے بڑھا تھا اور اسی نے اس کا لباس تار تار کیا تھا۔ وہ یہی سوچتی بھڑک اٹھی تھی۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو، سامنے پڑے لڑکے پر پل پڑی۔ وہ وحشیوں کی طرح اسے مارنے لگی تھی۔اس دوران دار ا لا ما ن کی بہت ساری لڑکیاں اور عورتیں وہاں آن موجود ہوئی تھیں۔ وہ سب پھٹی پھٹی نگاہوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔ ہیڈ نے آ گے بڑھ کر کہا۔
’’بس کرو اور ان غنڈوں کو باندھ دو رسیوں سے۔‘‘
اس کا یہ کہنا تھا کہ اگلے چند منٹ میں نجانے کہاں سے رسیاں آ گئیں اور انہیں باندھ دیا گیا۔تبھی تاجاں نے اپنا فون نکالا اور نجانے کس کے نمبر ملا کر اسے یہ سب بتانے لگی۔ وہ بہت جذباتی ہو رہی تھی۔اس کے منہ سے گالیاں نکل رہی تھیں، اس کے ساتھ وہ یہ بتا رہی تھی کہ ابھی انہیںلے کر تھانے جانا ہے۔ ممکن ہے وہاں کوئی چکر چل جائے۔ اس لیے پوری قوت سے یہ معاملہ دیکھنا ہے۔
اس وقت تک سورج طلوع ہوچکا تھا۔ جب وہ مختلف گاڑیوں میں تھانے کی طرف جا رہے تھے۔ نجانے نینا کو یہ ڈر کیوں تھا کہ وہ تھانے نہیںجا پائیںگے۔ راستے میںضرور کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسپکٹر تو مٹھن خان ہی کا بندہ تھا، وہ کس طرح چاہے گا کہ سلامت خان کا نام آ ئے سلامت خان کا نام آنے کا مطلب سیدھے سیدھے مٹھن خان کا سامنے آجانا تھا۔ ان تینوں لڑکوں کے ساتھ کیا ہوتی، یہ تو وہی بہتر جانتے ہوں گے، لیکن ممکن ہے کہ وہ وہا ں تھانے میںجا کر اس نام ہی سے مکر جائیں۔ یہ معاملہ تو تب پیش آتا نہ کہ اگر وہ تھانے پہنچ جاتے ہیں۔اگر اس سے پہلے ہی سلامت خان انہیںچھڑوانے کے لیے اپنے بندے بھیج دیتا ہے تو کیا ہوگا؟ سیدھی سی بات ہے کہ پولیس والے سکون سے وہ بندے دے دیں گے تاکہ سارا مدعا ہی غائب ہو جائے۔پھر حاصل کیا ہوگا؟ اس دوران اگر ایک آدھ بندہ پھڑک ہی جاتاانہیں کوئی فرق نہیںپڑنے والا تھا، سچ مچ کا پولیس مقابلہ بن جاتا۔ اور پھر جس طرح اس نے ان لڑکوں کو پکڑا تھا، وہ فرض شناسی کی بجائے اس کا جرم بن جاتا۔ تاجاں نے جو انہیںبل سے نکالنے کیلئے اتنا بڑا رسک لیا تھا، وہ رائیگاں جائے گا؟ وہ کسی بھی موقع پر ہنگامے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھی۔ راستے میںکہیں بھی مد بھیڑ ہو سکتی تھی۔ یہ سب کچھ اس نے چلنے سے پہلے ہی سوچ لیا تھا۔ اس لیے اس نے شعیب کو فون کیا اور ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا۔
’’میں نکلتاہوں ابھی،ذرا فاصلے پر رہوں گا۔کوئی بھی ایسی صورت ہوئی تو نپٹ لیںگے۔‘‘ شعیب نے اسے حوصلہ دیا تو وہ گاڑی میںآ بیٹھی تھی۔ لیکن یہ سب اس کا وہم ثابت ہوا۔ وہ تھانے پہنچ گئے۔
تھانے میں انسپکٹر کے کمرے میں چند لوگ موجود تھے جنہیں نینا نہیںجانتی تھی۔ وہ انسپکٹر کے آفس کے باہر ہی رک گئی۔ وہ آفس میںجانے سے پہلے ہی مٹھن خان کے ڈیرے سے فلک شیر کے بارے میں معلومات لے لینا چاہتی تھی۔ اس لیے وہ ایک خالی کمرے میں چلی گئی۔ اس نے ڈیرے پر موجود اپنے سورس سے پوچھا کہ فلک شیر کہاں ہے اور اس کی بابت کیا ہو رہا ہے۔ سورس نے یہی بتایا کہ کچھ دیر پہلے سلامت خان یہاں ڈیرے پر آیا ہے۔ اسے مٹھن خان کا فون آیا تھا۔ اس نے ایک بندے کو لے جانے کاحکم دیا ہے۔ اس بندے کو شہر لے جانا ہے، وہ ابھی برآمدے میں بیٹھا ہوا ہے۔ سلامت خان اندر ہے۔ شاید اس کے بعد وہ اس بندے کو لے کر شہر والی کوٹھی میںجائیں یا جہاں بھی۔ اس کا مجھے نہیںپتہ۔ وہ تیزی سے سوچنے لگی۔ اس نے شعیب کا نمبر ملایا اور اسے تازہ صورت حال کے بارے میںبتا دیا۔ وہ ابھی بات مکمل نہیںکر پائی تھی کہ اس کا بلاوا آ گیا۔
’’مجھے کسی بھی وقت آفس میںبلایا جا سکتا ہے۔ میںکال بند نہیںکروں گی، تم سنتے رہنا۔ پھر بعد میںبات کرتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا اور کمرے سے نکل آ ئی۔اس نے اپنا فون چھپا لیاتھا۔ وہ آفس میںجا پہنچی، جہاں چند اجنبی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے کن اکھیوں سے انہیںدیکھا اور سلیوٹ مار کر ایک جانب کھڑی ہو گئی۔ تاجاں بڑے ٹھسّے سے ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ سبھی لوگ اس کے جاننے والے تھے۔اس کے ساتھ ہی تینوں بندے وہاں لائے گئے، جنہیںدیکھتے ہی انسپکٹر نے پوچھا۔
’’اوئے، کیوں گئے تھے دار الامان ؟‘‘
’’اس لڑکی کو اٹھانے۔‘‘ لمبے قد والے شخص نے اعتماد سے کہا تو وہاں موجود دو بندوں نے گھوم کر انہیںدیکھا۔
’’کیوں گئے تھے ؟‘‘
’’مجھے اپنے وکیل سے بات کرنے دیں، پھر جو بیان بھی ہوگا ہم دے دیں گے۔‘‘ لمبے قد والے شخص نے کہا تو ان میں سے ایک بندہ بھنّاکر اٹھا لیکن دوسرے نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔وہ دوبارہ بیٹھ گیا۔
’’میری بات کا جواب دو؟‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
’’کوئی جواب نہیںہے۔‘‘ اسی نے پھر نڈر لہجے میںکہا تو انسپکٹر کے ماتھے پر تیوریاں آ گئیں۔ وہ بندے ابھی تک خاموش تھے۔ لیکن اس کے یوں جواب دینے پر ان میں سے ایک نے کہا۔
’’تھانے دار جی، آپ نے ابھی تک ایف آئی آر تونہیںلکھی نا، اس لیے ہم انہیںاپنے ساتھ لے کر جا رہے ہیں، وہ فلک شیر دے جائیںگے تو انہیں لے جائیں۔ دیکھتے ہیں کون ہیں وہ،اب ہم خود ان تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
’’نہیںآپ ایسا نہیں کر سکتے، یہ اب ہمارے پاس …‘‘ اس نے کہنا چاہا کہ انسپکٹر کا فون بج اٹھا۔ وہ اسکرین دیکھ کر اٹھ گیا۔چند لمحے کسی سے باتیںکرتا رہا پھر واپس آ کر بولا،’’دیکھو، کچھ دیر میں فلک شیر آ جاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہی بندہ خود لے کر آئے، جس نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، بتا دو اسے۔‘‘ اسی بندے نے کہا تو انسپکٹر نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’آپ اپنا بندہ لے جائیں، چھوڑیں۔ختم کریں۔‘‘
’’میںجانتا ہوں، وہ مٹھن خان کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، لیکن ذرامل تولیں، آپ اسے بتا دیں۔‘‘
’’جانے دیں،پھر کسی وقت ملاقات رکھ لیںگے۔ میں کروادوں گا ملاقات۔‘‘ انسپکٹر نے صلح جو انداز میںکہا پھر نینا کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔ وہ سلیوٹ مار کر آفس سے باہر آ گئی۔ اس سے رہا نہیںجا رہا تھا۔ اس لیے بے تابی سے سوچ رہی تھی کہ مٹھن خان کو ذہنی جھٹکا دے۔ وہ ابھی کوارٹر نہیںجانا چاہتی تھی۔ نینا نے سلامت خان کو دیکھا ہوا تھا۔اسے شہر والی کوٹھی کے بارے میںبھی پتہ تھا۔ اس نے شعیب کو فون کیا۔ وہ جیسے اس کے انتظار میںتھا۔
’’ٹھیک توہونا۔‘‘ اس نے بے تابی سے پوچھا۔
’’میںٹھیک ہوں لیکن ایک بڑا کام پڑ سکتا ہے۔‘‘اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’وہ کیا؟‘‘ اس نے پوچھا تو اس نے انتہائی مختصر انداز میں سارا واقعہ بتا کر کہا۔
’’اگر ہم سلامت خان کومروا دیں؟‘‘ اس نے کہا تو شعیب نے پوچھا۔
’’کب اور کیسے ؟‘‘
’’ابھی ایک گھنٹے کے اندر اندر، وہ ڈیرے سے اپنے گھر جائے گا یا کسی طرح بھی نکلے گا وہاں سے، فلک شیر کو لے، اگر وہاں کوئی دوسرا سورس ہے تو پوچھو، پوری اور اعتمادوالی انفارمیشن چاہئے، راستے ہیں کام کر دیتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنا پلان دیا۔
’’ابھی بتاتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ تقریبا پانچ منٹ کے اندر اندر اسے فون مل گیا کہ وہ ڈیرے سے نکل پڑے ہیں۔ فلک شیر ان کے ساتھ ہے۔انہوں نے آپس میںطے کیا اور فون بند کردیا۔ نینا کے بدن میںسنسنی پھیل گئی تھی۔وہ سیدھی منشی کے پاس گئی۔
’’سر جی،میں کوارٹر جا رہی ہوں۔‘‘ اس نے بتایا
’’ابھی کچھ دیر ٹھہر جائو، صاحب چلے جائیں تو پھر جانا۔‘‘ اس نے سمجھانے والے انداز میںکہا
’’اچھا، پھر میںیہیں ہوں۔ جب صاحب چلا جائے تو میںنکل جائوں گی، نیند بہت آ رہی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’اچھا جا جو مرضی کر۔‘‘منشی نے کاغذوں میںالجھتے ہوئے کہا تو وہ خالی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
اس نے خالی کمرے میںایک چکر لگایا اور وہاں سے نکل پڑی۔ وہ ٹہلتے ہوئے تھانے کے باہر آ گئی۔ آدھے منٹ سے بھی کم وقت میں اس کے پاس شعیب کی کار آن رُکی۔وہ تیزی سے اس میںبیٹھی تو شعیب نے کار بھگا تے ہوئے کہا۔
’’وہ سفید کار میںنکلے ہیں اور راستے میںہوں گے۔ میرا خیال ہے شہر پہنچتے ہی فلک شیر کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
’’اس سے پہلے ہم نے ان کے پاس پہنچنا ہے۔‘‘ نینا نے کہا اور پچھلی سیٹ پر پڑی چادر اٹھا لی۔ اس کے نیچے گن پڑی ہوئی تھی۔اس نے وہ اٹھائی، تیزی سے میگزین چیک کیا۔ ایک میگزین بیلٹ میںاُڑسا تب اس دوران شعیب نے کہا۔
’’نیچے ہینڈ گرنیڈ بھی ہیں۔ وہ اگر…‘‘
’’لیتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا اور ہاتھ بڑھا کر دونوں ہینڈ گرنیڈ اٹھا لئے۔ وہ پوری طرح تیار ہو چکی تھی۔تبھی اس نے تیزی سے کہا،’’اپنا چہرہ ڈھک لو شعیب، کچھ بھی ہوجائے، تم نے سامنے نہیںآنا، میںدیکھ لوں گی۔کام ہوتے ہی نکلنا ہے، وقت نہیںہوگا ہمارے پاس۔‘‘
’’کیا تم نے یہ سوچ لیا ہے انہیں روکنا کیسے ہیں، روکنا بھی ہے یا…‘‘ اس نے کہنا چاہا تووہ تیزی سے بولی۔
’’بیچ سڑک میں کار روک دینا۔ہیڈ لائیٹس بندنہ کرنا، لیکن سنو۔! واپسی کے لیے تیار رہنا،کسی بھی حالت میں اپنا آپ نہ دکھانا۔ میں چاہئے مر جائوں۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ شعیب نے تیزی سے کہا اوررفتار بڑھا دی۔وہ ابھی شہر سے نکلے ہی تھے کہ سامنے سے ایک سفید کار آتی ہوئی دکھائی دی۔ شعیب کے منہ سے بے ساختہ نکلا،’’مجھے لگتا ہے یہی ہیں۔‘‘
’’روکو، سامنے روک دو۔‘‘اسی تیزی سے نینا نے کہا تو شعیب نے ایک دم سے بریک لگا دئیے۔سامنے کی کار بھی بہت مشکل چند گز کے فاصلے پر آ کر رک گئی۔ چند لمحے یونہی گذر گئے۔ ممکن ہے سامنے والے یہی سوچ رہے ہوں کہ کار سائیڈ سے گذرے گی یا کوئی مسئلہ ہو گیا۔اتنی دیر میں نینا نے دروازہ کھولا اور سڑک پر گرتے ہی رولنگ کرتی ہوئی نشیب میںاتر گئی۔ جہاں مکمل اندھیر ا تھا۔ تقریباً تین منٹ بعد سامنے کی کار کے پچھلے دروازے ایک ساتھ کھلے۔ ان میں سے دو آدمی باہر نکل آئے ان کے ہاتھوں میں جدید گنیں تھیں۔ ان میں سے ایک نے اونچی آواز میںکہا
’’اُو، راستہ چھوڑو، کون ہو تم ؟‘‘
اس کے ساتھ ہی شعیب نے کار کو بیک گیئر لگایا اور کار کو کافی سارا پیچھے کیا ہی تھا کہ نینا کی آواز گونجی
’’اوئے، فلک شیر کو باہر نکالو۔‘‘
’’کون ہو تم ؟‘‘ایک بھاری مردانہ آواز گونجی، جس میں انتہائی حیرت تھی۔
’’تاجاں۔‘‘ نینا نے اونچی آواز میں کہا۔
’’تاجاں…یہ یہاں کیسے؟‘‘ یہ کہہ کر خاموشی چھا گئی، اگلے چند لمحوں بعد آواز پھر آئی۔’’ہم اسے شہر لے جا رہے ہیں، وہیں دیں گے۔‘‘
’’یہیںچھوڑ دو، تھانے لے جانے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’یہ غلط بات ہے، اسے ہم تھانے ہی لے کر…‘‘
’’میں کہہ رہی ہوں اسے یہیںچھوڑ دو اور واپس چلے جائو میں اسے یہیں لے لوں گی۔‘‘ اس کے یوں کہنے پر چند لمحے خاموشی رہی،پھر کسی نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔‘‘
نینا کے لیے یہ ایک جوا تھا۔ اسے فلک شیر سے کوئی سروکار نہیںتھا۔ اگر حقیقی فلک شیر اس کے ہاتھ لگ جاتا تو بھی اس کا مقصد سلامت خان ہی کو قتل کرنا تھا۔ اور اگر حقیقی نہ ملتا تو بھی اس کا پلان یہی تھا کہ سلامت خان کو قتل کرے۔اس میں اگر فلک شیر ختم بھی ہو جاتا تو پھر بھی اس کا کوئی نقصان نہیں تھا۔ آواز کی باز گشت میں ہی کار میں سے ایک آدمی باہر نکلا، اس نے چادر اور کرتا پہنا ہوا تھا۔ وہ تیزی سے سامنے والی کار کی جانب بڑھا۔ تبھی نینا نے زور سے کہا۔
’’فلک شیر۔!میری طرف آئو۔‘‘
وہ مڑ کر اندھیرے کی سمت چل پڑا۔ وہ اس کے پاس آ گیا، مگر اسے دیکھ نہیںپایا تھا۔ اس نے صرف آواز کی جانب رخ کیا تھا۔ وہ نینا سے فاصلے پر تھا۔ تب تک نینا نے ایک ہنیڈ گرنیڈ کی پن نکال کر کار کی جانب یوں پھینک دی کہ وہ کار تک جا پہنچے۔فلک شیر اس تک پہنچا ہی تھا کہ نینا نے کہا۔
’’یہیں کھڑے رہو۔‘‘
دوسری کار والے بیک گیئر لگاچکے تھے۔ کار ذرا سی پیچھے ہٹی تھی کہہ بلاسٹ ہو گیا۔ ایک دم سے کار کو آگ لگ گئی۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہر کوئی اپنی جان بچاتا ہے۔ کار سے بد حواسی میں جو بھی نکلا، نینا نے گن سیدھی کی ہوئی تھی۔ اس نے فائر کرنا شروع کر دیا۔ آدھے منٹ میں وہ چاروں زمین پر گر چکے تھے۔ فلک شیر اس کے سامنے نہیں تھا۔ نینا انتہائی تیزی سے پلٹی اور پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ شعیب کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔اس نے بھی اپنا چہرہ چھپا لیا۔ اس کے بیٹھتے ہی شعیب نے کار گھمائی۔ جس کے ساتھ ہیڈ لائیٹ کی روشنی بھی گھومی۔ تبھی فلک شیر اندھیرے میں دکھائی دیا۔ وہ انہی کی طرف بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ جیسے ہی وہ قریب آیا۔ تبھی نینا کی آواز گونجی
’’فلک شیر ہونا تاجاں والا؟‘‘
’’جی جی، میں فلک شیر۔‘‘ اس کا لہجہ حیرت زدہ تھا۔
’’سامنے دیکھتے رہو، پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ تاجاں سے کہنا، میں اسے فون کروں گی۔ پہلا تحفہ لے لو۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ ہنوز اسی لہجے میںبولا۔
’’ٹھیک ہے اب تم جائو۔‘‘ نینا نے کہا اور شعیب کو چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ فلک شیر کو وہیںچھوڑ کر چل دئیے۔ نینا اپنے اندر وہی سکون محسوس کر رہی تھی، جو اس نے پہلے دن چار بندوں کو مار کر کیا تھا۔ سلامت خان کو مارنے سے جو اس کے اندر سے جذبات ابھرے تھے، وہ صرف وہی جانتی تھی۔ وہ اپنے اندر کے جذبات پر قابو پا رہی تھی۔ اسے پتہ ہی نہیںچلا کب شہر آ گیاہے۔ جیسے ہی وہ شہر کے قریب پہنچے تبھی شعیب نے پوچھا۔
’’میںیہ کار فار م ہائوس میںچھپا دوں گا، تم کہاں …‘‘
’’میرے کوارٹر کے قریب اتار کر،پھر نکل جانا، میرے لیے وقت بہت اہم ہے۔‘‘ نینا نے کہا تو شعیب بولا۔
’’دو دن تک ہم نہیںملیں گے۔فون ہے نا جو ٹریس نہیںہوتا، اسی سے بات کرلیا کرنا۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ اس نے کہا۔ اور سامنے دیکھنے لگی۔ شعیب تیز رفتاری سے بڑھتا چلا گیا۔کوارٹر کے پاس آ کر نینا نے چادر اتاری، گن واپس رکھی، ادھر ادھر دیکھ کر کار سے اتر گئی۔
اس وقت سورج نکلنے کو بے تا ب تھا۔ملجگا اندھیرا چھٹ رہا تھا، جب وہ اپنے کوارٹر کے سامنے تھی۔کوارٹر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو وہاں کوئی لڑکی جاگ رہی تھی اور کوئی ابھی سو رہی تھی۔ وہ سیدھی واش روم میںچلی گئی۔کچھ دیر بعد وہ وہاں سے نکلی اور اپنے بستر پر جا گری۔ اس کا بدن اب تک سنسناہٹ میںتھا۔وہ اس وقت کی سنسنی میںالجھی ہوئی تھی، جب سلامت خان کے مرنے کی خبر پھیل جانی تھی۔ کچھ دیر بعد آپی فوزیہ اس کے پاس آ گئی۔ اسے دیکھ کر بولی۔
’’یونیفارم تو اُتار لیتی۔‘‘
’’آپی ساری رات ہوگئی جاگتے ہوئے اور پھڈا بھی بہت بڑا پڑ گیا تھا، قسم سے دماغ گھوم گیا ہے۔‘‘ اس نے سنسنی خیز لہجے میں آنکھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔ شاید اس وقت اس کا لہجہ اس قدر فطری تھا کہ آپی فوزیہ نے اس کے پاس ہی بیٹھ کر حیرت سے پوچھا۔
’’ہوا کیا؟‘‘
اس کے یوںپوچھنے پر نینا ساری روداد سنا کر بولی۔
’’بس میں نے منشی سے کہا۔ اور سیدھی ادھر آ گئی، انگ انگ دکھ رہا ہے آپی۔ اُسے پتہ نہیں، وہ شاید اب بھی مجھے تھانے میں ہی سمجھ رہا ہوگا۔‘‘
’’اچھا چل میںابھی جا کر کہہ دوں گی اگر اس نے پوچھا تو، سونا ہے، تو سو جا۔‘‘
’’کچھ کھا پی تو لوں، بھوکے پیٹ تو نیند بھی نہیںآئے گی۔‘‘ اس نے ترسے ہوئے انداز میںکہا تو آپی اٹھتے ہوئے بولی۔
’’کچن میںدیکھ لے اگر کچھ ہے، ورنہ چائے بنا لے۔‘‘
وہ چلی گئی تو نینا نے ایک لڑکی کو بلایا اور اسے چائے بنانے کا کہا۔ خود وردی اتارنے لگی۔ وہ ایسا صرف اس لیے کر رہی تھی کہ وہاں موجود لوگوں کو یہ تاثر دے سکے کہ وہ نارمل ہے۔
اس وقت وہ چائے پی رہی تھی۔ جب انہیںیہ خبر مل گئی کہ سلامت خان سمیت دو بندے اور ایک ڈرائیور قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ جو خبریں تھیں، ان سے یوں لگا جیسے پورا شہر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا ہو۔
اس وقت دن کے نو بجے کا عمل تھا۔ نینا کو خاص طور پر تھانے میںبلایا ہوا تھا۔ وہ نئی یونی فارم پہن کر وہاں جا پہنچی۔ اس میںکوئی شک نہیںتھا کہ وہ سو نہ سکی تھی۔ اس لیے قدرتی طور پر اس کے چہرے پر تھکن اور اکتاہٹ تھی، کچھ اس نے خود بنا لی ہوئی تھی۔ نینا کو یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ اسے جو بلوایا گیا ہے، بلاشبہ کوئی اہم بات ہی ہو گی۔
تھانے میںکافی سارے لوگ تھے۔ وہ منشی کے پاس گئی تو اس نے نینا کو سر سے پائوں تک دیکھا۔ پھر کوئی بات کئے بغیر اس نے آفس میں جا کر بتایا۔ کچھ دیر بعد ہی اُسے بلوا لیا گیا۔ کمرے میں انسپکٹر کے علاوہ تین لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ایک جیسے رائل بلیوسوٹ تھے۔ ایک ہی گہرے میرون رنگ کی ٹائیاں تھیں، جیسے انہوںنے بھی یونیفارم پہن رکھا ہو۔ان کے ساتھ دار الامان کی ہیڈ بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں۔ اس پر نگاہ پڑتے ہی انسپکٹر نے ہتک آ میز لہجے میںپوچھا
’’رات کیا ہوا تھا دار الامان میں ؟‘‘
’’سر۔!میں نے آپ کو پوری تفصیل بتا دی تھی۔‘‘
’’پھر سے دہرائو۔‘‘ انسپکٹر نے اسی ہتک آمیزلہجے میں حکم دیا، جس سے نینا کا دماغ ایک بار گرم ہوا لیکن اگلے ہی لمحے وہ موقع کی نزاکت بھانپ گئی۔ اس لیے تیزی سے وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی جو اس نے صبح بتایا تھا۔
’’کیا تجھے اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ تاجاںکے پاس پسٹل ہے۔‘‘ ان میں سے ایک شخص نے پوچھا۔
’’جی نہیں، مجھے تو اس کے ساتھ دار لاامان بھیجا گیا تھا۔‘‘ نینا نے بات گول کرتے ہوئے کہا۔ حالانکہ وہ تاجاں کودربار سے پکڑ کر لائی تھی۔ وہیں اس کی تلاشی بھی بنتی تھی۔ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوگئی۔ شاید انسپکٹر کسی شدید دبائو میںتھا،اس لیے اسے یہ خیال ہی نہیںآیا۔ سو خاموش رہا۔
’’تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی یہاں تلاشی لی ہی نہیںگئی اور اگر تلاشی لی گئی تھی تو جان بوجھ کر نظر انداز کیاگیا۔‘‘ دوسرے شخص نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا۔
’’یہاں کوئی نہ کوئی ایسا بندہ ہے، جو تاجاں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔ اب وہ کون ہو سکتا ہے، ظاہر ہے جس نے تلاشی لی۔‘‘ تیسرے نے فیصلہ دے دیا
’’اس سے کچھ اور پوچھنا ہے؟‘‘ پہلے نے کہا۔
’’نہیں۔‘‘ دوسرے نے حتمی لہجے میںکہا تو انسپکٹر نے یوں نینا کی طرف دیکھا جیسے اس نے جان بوجھ کر اس کی بے عزتی کرا دی ہو۔ پھر ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے اس سے بولا۔
’’اب جائو۔‘‘
’’جی سر۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے سیلوٹ مارا اور واپس چل دی۔ اس کے اندر انسپکٹر کے خلاف ابال اٹھ رہا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اسے بھی شوٹ کر دے۔ لیکن یہ کو ئی ایسی بات نہیں تھی کہ وہ جو سوچے وہ پورا بھی ہو جائے۔ وہ وہاں سے ہٹ کر دوسرے کمرے میںبیٹھ گئی۔ اسے انسپکٹر کے کمرے میںہونے والی باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
وہاں جو تین لوگ موجود تھے، یہ وہی لوگ تھے، جو مٹھن خان نے اپنے بیٹے کے قاتل کو پکڑنے کے لیے بلوائے تھے۔ وہ اس قاتل کو توکیا پکڑتے۔ سلامت خان والا واقعہ ہو گیا۔ کہاں وہ فلک شیر کو اغوا کر کے بیٹھے ہوئے تھے اور کہاں سلامت خان بھی جاتا رہا۔ اس وقت یہ تینوں تفتیشی یہی معلوم کرنے کی فکر میںتھے کہ یہاں کون ایسا بندہ ہے جس نے تاجاں کے ساتھ ہمدردی کی ؟ انسپکٹر کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کہے اور کیانہ کہے۔اسے مٹھن خان کی یہ تابعداری مہنگی پڑ رہی تھی۔ ساری بحث کے آخر میں اس نے کہا۔
’’یہاں کوئی نہیںہے، میرے خیال میں، لیکن اب شک ہو گیا ہے تو آپ بھی دیکھیں، میںبھی دیکھتا ہوں۔ میںآپ سے پہلے بھی پورا تعاون کر رہا ہوں، اب بھی کروں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، ہمیں یہاں کی پوری انفارمیشن چاہئے، خاص طور پر تاجاں کے معاملے کے بارے میں جو لوگ بھی اسے پکڑ کر لائے تھے۔ہم سب سے بات کریں گے۔‘‘ ان میں سے کسی ایک نے کہا تو نینا کے دماغ میںالارم بج گیا۔ وہ اگر سوچ رہے تھے توٹھیک ٹریک پر جا رہے تھے۔ ظاہر ہے وہ اس معاملی کی پوری جانچ کریں گے۔ اتنا زیادہ وقت بھی نہیںتھا، شام سے صبح تک کا دورانیہ تھا۔ نہ ہی یہ اتنا پرانا واقعہ تھا۔ اس دورانیہ کی تفتیش میں انہیںکہیںبھی شک ہوگیا تو وہ اسے بخشیںگے نہیں۔ دوسری بات وہ چونکہ پہلے بھی ڈیرے پر ان سے نفرت کا اظہار کر چکی ہے اس لیے کڑی سے کڑی ملانا ان کے لیے مشکل نہیںتھا۔پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ دشمن اس کی طرف بڑھ آیا تھا۔وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے ساتھ والی لیڈی کانسٹیبل وہیں آ گئی جو اس کے ساتھ تاجاں کو پکڑنے گئی تھی۔اس نے آتے ہی سر گوشی میں تلخی سے کہا۔
’’اب یہ نئی مصیبت آ گئی ہے۔ ایک سرکار کا کام کریں، اوپر سے شک میں تفتیشیں بھی ہوں۔‘‘
’’تو پھر کیا ہوا۔ ہم نے کون سا جرم کیا ہے، جو سچ ہے وہی بتا دیں گے، بلکہ میں تو ابھی پیشی بھگت کے آ ئی ہوں۔ پھر بلائیںگے تو پھر چلی جائوں گی۔‘‘ نینا نے بے پروائی سے کہا۔
’’مجھے تو تیری سمجھ نہیںآتی، تو اللہ میاں کی گائے ہے، بدھو اور بے وقوف ہے یاپھر حد درجہ چالاک ہو۔نارمل نہیںہو، تجھے پتہ ہے کہ ان کے شک ہو جانے کا مطلب کیا ہے؟‘‘وہ حیرت سے بولی۔
’’شک تو تب کریں گے نا، اگر ہم نے کچھ کیا ہو، تاجاں کو بچانے میںجو کچھ مجھ سے ہوا میں نے کیا۔اب جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ نینا نے پھر بے پروائی سے کہا، اصل میں اس وقت وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس افتاد سے نکلا کیسے جائے۔وہ خوامخواہ کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ نہیںکر نا چاہتی تھی۔ اس کے اندر سنسنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ صرف اپنے آپ سے خوف زدہ تھی۔
’’لیکن انہیں بھی تو چاہئے نا کہ ہمارا ساتھ دیں۔ یہ محکمے والے ہی ہمیںان کے سامنے پیش کر دینا چاہتے ہیں۔‘‘ اس لیڈی کانسٹیبل نے دکھ سے کہا۔
’’کر دیں یار اب کیا کریں۔‘‘اس نے بے پروائی سے کہا۔ اور آنکھیںبند کر لیں
’’تمہیں نیند آرہی ہے؟‘‘ لیڈی کانسٹیبل نے پوچھا۔
’’تو اور کیا ساری رات تو اس تاجاں کے ساتھ رہی ہوں، پھر یہیںتھانے میں۔کوراٹر گئی تھی کہ پھر واپس بلا لیا۔مشکل سے وردی بدل سکی ہوں۔‘‘ اس نے کہا اور کرسی سے ٹیک لگا لی۔ وہ لیڈی کانسٹیبل کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی رہی پھر اٹھ گئی۔وہ بھی وہیںبیٹھی رہی۔ اس وقت بھی اس کے پہلو میں پسٹل میںموجود تھا۔ اگر اس کی تلاشی لے لی جاتی تو یہ انکشاف بھی اسے پکڑوانے کے لیے کافی تھا۔
اس وقت دن کے آٹھ بجے تھے، دن کافی نکل آیا تھا۔ ایسے میں جب وہ تینوں تفتیشی ایک دم سے اٹھے اور آفس سے باہر نکل گئے۔ وہ اپنی کارمیںبیٹھے اور نکل پڑے۔ جیسے ہی وہ انسپکٹر کے آفس سے نکلے۔ منشی سمیت چند دست راست قسم کے اہلکار آفس میںگھس گئے۔
’’کیا ہوا سر جی، یہ ایک یوں کیسے چلے گئے؟‘‘ ایک حیرت زدہ سی آواز ابھری،جسے وہ جانتی تھی
’’یار فون آیا انہیںمٹھن خان کا۔ اسے پتہ چل گیا ہے کہ قاتل کون ہے؟‘‘ انسپکٹر کی آواز آئی تو نینا نے سانس روک لیا۔ اس کی ساری سماعتیں اسی جانب لگ گئیں۔
’’کون ہے سر، کچھ پتہ چلا؟‘‘ دوسری آواز ابھری
’’کوئی گولی نام کی عورت ہے یا مردہے۔ اس کا نام پہلے بھی سن چکا ہوں۔‘‘ انسپکٹر نے تجسس آمیز لہجے میںکہا
’’اوہ۔! سر یہ تو بڑی مصیبت پڑنے والی ہے ؟‘‘ ایک اہلکار کی تشویش زدہ آواز آئی
’’ہاں ہے تو ایسا ہی۔یہ مٹھن خان کی کوئی اپنی دشمن داری ہے، اب بھگتنی ہمیں پڑے گی۔‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
’’وہی تو کہہ رہا ہوں، اب دیکھو کیسے ناک کے نیچے سب ہو گیااور ہم کچھ نہیںکر سکے،تاجاں کے ساتھ آ نے والے لوگ بھی ڈاہڈے تھے۔‘‘ منشی بولا تو انسپکٹر نے چند کمحے رک کراعتراف کیا
’’ڈاہڈے تو تھے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر بولا،’’اچھا یار، فی الحال تو میں جا رہا ہوں گھر، واپس آئوں گا تو بات کریں گے، ساری رات ہوگئی دماغ خراب ہو رہا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ آفس سے نکلتا چلا گیا۔ نینا کے لیے وقتی طور پر خطرہ ٹل گیا تھا۔ لیکن نینا تیزی سے سوچ رہی تھی۔یہ سب ہو کیسے گیا؟ کہیں یہ طوفان سے پہلے والی خاموشی تو نہیں؟
دوپہر کے بعد وہ کہیں اپنے کوارٹر پلٹ سکی۔ وہ واپس آکر سوئی نہیں، بلکہ مسلسل سوچتی رہی۔ ایسا بالکل ناممکن ہے کہ وہ یہیں رہے اور مٹھن خان سے انتقام بھی لے سکے۔وہ بے پناہ وسائل رکھنے والا شخص تھا اور اس کے پاس سوائے شعیب کے دوسرا ساتھ دینے والا نہیںتھا۔اس نے اب تک اگر کسی سے کام لیاتھا تو وہ خود اپنی ذات کے ساتھ سامنے نہیںآ سکی تھی۔ جس دن اس کے بارے میںپتہ چل گیا، اس کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ شعیب جو اس کا ساتھ دے رہا تھا، اسے اگر کچھ ہوگیا تو خود کو کبھی معاف نہیںکر پائے گی۔ وہ شعیب جس کے لیے اس کے من میںمیٹھی میٹھی کسک جاگ اٹھی تھی، اس کا ساتھ اس لیے بھی اچھا لگتا تھا کہ وہ اسے اپنا لگتا تھا۔ اب تک جو اس نے کر لیا تھا، یہ اتنا کچھ تھا کہ عام حالات میں وہ میں ساری زندگی بھی لگی رہتی تو مٹھن خان کا کچھ نہیںبگاڑ سکتی تھی۔تو پھر اسے کیا کر نا چاہئے؟
اسی سوال کا جواب اسے نہیںمل رہا تھا۔لیکن اس سے پہلے اُسے یہ بھی پتہ نہیںچل رہا تھا کہ سلامت خان کو مارنے والی ’’گولی‘‘ ہے، مٹھن خان کو کیسے پتہ چلا؟ شام تک وہ یہی سوچتی رہی، پھر اس نے شعیب کو فون کر دیا۔ وہ اس وقت اپنے والد کے ساتھ اپنی حویلی کے لان میںتھا۔ حال احوال کے بعد اس نے اپنی سوچیں اس کے سامنے رکھ دیںتو وہ بولا۔
’’تم کیوں فکر کرتی ہو، میںجو ہوں نا تیرے ساتھ، میں نے تیرے بارے میںسب سوچ لیا ہوا ہے۔‘‘
’’سچ۔! کیا سوچا۔‘‘اس نے خود سپردگی سے پوچھا۔
’’یہی کہ دو چار دن تک سکون کرو۔کچھ بھی نہ کرو۔یہاں تک کہ تمہارا دشمن بھی تمہارے سامنے آ جائے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’یہ کیا بات ہوئی بھلا۔ کچھ تو بتائو۔‘‘ اس نے زچ ہوتے ہوئے کہا تو شعیب ہنستے ہوئے بولا۔
’’فارم ہائوس پر ملو گی نا سب بتا دوں گا۔‘‘
’’دیکھ لو، میں نے تم سے ملنا ہے، مگر تم نے یہ کہہ کر بھاگ جانا کہ ٹھرکی کہیںکی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ زور دار انداز میںہنس دی
’’اچھا چل ٹھیک ہے، دیکھ لیںگے۔ اس وقت تم سکون کرو۔میںفارم ہائوس…‘‘ اس نے کہنا چاہا تو نینا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ گولی کے بارے میں کیسے، کچھ سمجھ آتی ہے ؟‘‘
’’یار اس پر زیادہ سوچنے والی کیا بات ہے۔ فلک شیر نے جا کر تاجاں کو بتایا ہوگا اور تاجاں سے بات نکل گئی ہوگی جو مٹھن خان تک پہنچ گئی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ایک لمحہ کو رک کر کہا،’’تم ایسے کرو، گولی بن کر تاجاں سے بات کرو، سب پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’یہاں کا ماحول نہیں، مجھے کہیں اور بندو بست کرنا پڑے گا، خیر میںدیکھ لیتی ہوں۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’اوکے پھر، تم یہ بات کرو، میںتمہیںکال کرتا ہوں۔‘‘ شعیب نے کہا اور فون بند کر دیا۔
نینا کچھ دیر سوچ کر اپنے خیالوںاکٹھا کرتی رہی پھر اٹھ کر باہرکی طرف چل دی۔ کوارٹر میںہلچل مچی ہوئی تھی۔ شام کے کھانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، کسی نے گانا لگایا ہوا تھا، آپی کے کمرے میںٹی وی چیخ رہا تھا۔ باہر سامنے کھلا میدان تھا۔ شام اُترنے کو تھی۔ اس کے دور دور تک کوئی نہیںتھا۔ بس کوارٹروں کی لائن میںکوئی ایک دو لوگ آ جا رہے تھے۔وہ ایک درخت کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ چند لمحے بیٹھی رہی، پھر اس نے تاجاں کا نمبر ملا لیا۔ کافی دیر تک بیل جاتی رہی لیکن فون نہیںرسیو کیا گیا۔ اس نے کچھ دیر ٹھہر کر فون کیا تو پہلی بیل پر ہی فون رسیو ہوگیا۔
’’حیّلو۔کون گل کردا پیا اے۔‘‘ ( ہیلو، کون بات کر رہا ہے۔) تاجاں نے تیزی سے پوچھا تھا۔ نینا اس کی آواز پہچان گئی تھی۔ اس لیے وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میںبولی
’’تاجاں، تجھے تیرا پیار مل گیا ہے نا۔‘‘
’’اوہ گولی۔! توایں گل کر دی پئی اے نا۔‘‘ ( تم ہی بات کر رہی ہو نا) وہ پر جوش لہجے میںبولی
’’ہاں، میں ہی بات کر رہی ہوں۔‘‘ اس نے پر سکون لہجے میں جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی تاجاں شروع ہو گئی۔جس سے نینا کو سب پتہ چل گیا۔
جیسے ہی انہوں نے فلک شیر کو جانے کے لیے کہا، وہ وہاں سے پیدل چلتا ہوا شہر کی طرف چلا گیا۔ شہر زیادہ دور نہیںتھا۔وہیں سے اسے ایک موٹر سائیکل والا مل گیا جو تھانے کی طرف جا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ تھانے میںجاتا، تاجاں اور دوسرے لوگ تھانے سے باہر آ چکے تھے۔ انہوں نے فلک شیر کو سنبھال لیا۔ اس کے بعد وہ سیدھے اپنے گائوں جا پہنچے۔ وہاں جا کر اس نے خود مٹھن خان کو فون کیا کہ وہ فلک شیر کو لے آ ئی ہے۔ اب اگر اس میںہمت ہے تو دوبارہ اسے لے جا کر دکھائے۔کیونکہ اب گولی اس کے ساتھ ہے، جس نے تمہارا بیٹا مار دیا ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گیا اور پھر زیادہ بات نہیں کی۔
’’جب بھی تجھے میری ضرورت پڑے، مجھے کہہ دینا، میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ نینا نے کہا۔
’’پر تیرا تو نمبر ہی نہیںیہاں آیا، میںتجھے کیسے…‘‘
’’میںپوچھ لوں گی تم سے۔‘‘ نینا نے کہا اور فون بند کر دیا۔
اس پورے علاقے میں تاجاں ایک ایسی عورت تھی جو اس کی دشمن نہیںمدد گار ثابت ہو سکتی تھی، یہ اندازہ اس نے لگا لیا تھا۔ وہ بڑی ڈاہڈی عورت تھی۔
٭…٭…٭
تین دن بڑے سکون سے گذر گئے تھے۔تیسرے دن کی شام اس نے آپی سے چھٹی مانگ لی۔
’’گائوں میںتیرا اپنا توکوئی رہا نہیں، جانا کس کے پاس ہے۔‘‘ آپی نے تجسس سے پوچھا۔
’’میری ایک سہیلی ہے، اس کے پاس۔‘‘وہ منمنا کر بولی۔
’’سیدھی طرح بکواس کیوں نہیںکرتی ہو، سہیلا پال لیا ہے تو نے ؟‘‘
’’چل یہی سمجھ آپی، ویسے بات ایک ہی ہے، تیری طرح ایک ہی وقت میں تین تین نہیں رکھے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو آپی نے کھسیاتے ہوئے گالی دے دی۔
’’مجھے بلیک میل کرتی ہے؟‘‘ اس نے آنکھیںنکال کر پوچھا تو نینا نے اس کے کاندھے پر پیار سے ہاتھ پھیر کر کہا۔
’’جو خود طوفان میل ہو، اس کے سامنے کیاکالا، کیا گورا، کیا گندمی۔‘‘
’’چل بد تمیز، دفعہ ہو جا۔‘‘ آپی سمجھ گئی کہ وہ کن کے بارے میںبات کر رہی ہے۔
’’کل دوپہر تک آئوں گی،چھٹی بھی تو ہے نا۔‘‘ نینا نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گئی۔
سورج غروب ہو چکا تھا، جب وہ ایک رکشہ پر مارکیٹ پہنچی۔ وہ وہیںکہیں گم ہو جا نا چاہتی تھی۔ وہ کچھ دیر وہاں پھرتی رہی۔ یہاں تک کہ اسے شعیب دکھائی دیا۔ دونوں نے نظروں ہی نظروں میںطے کیا اور آگے پیچھے چل دئیے۔ دونوں ایک ساتھ کار تک پہنچے اور پھر وہاں سے چل دئیے۔
اس رات وہ اپنے دوست کے فارم ہائوس پر پہنچے تو وہاں کا مہیب سناٹا ڈرا دینے والا تھا۔
’’کوئی نہیں ہے یہاں؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’میںنے سب کو بھگا دیا ہے، بس تم اور میں، کوئی نہیں ہو گا ہمارے درمیان۔‘‘ اس نے خمار آلود لہجے میںکہا تو نینا ہنس دی۔ پھر پیار بھرے لہجے میںبولی
’’کاش یہ وقت کبھی ختم نہ ہو،آئو جلدی چلو اندر۔‘‘
’’مجھے پتہ تھا، تم آ گے سے یہی کہو گی۔ ابھی آ جائے گا چوکیدار اور اس کی بیوی۔ وہ گائوں میںگئے ہوئے ہیں۔‘‘ شعیب نے یوں کہا جیسے اس کا سارا موڈ خراب ہوگیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اندر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔ تبھی نینا اس کے ساتھ بڑھتے ہوئے بولی۔
’’لیکن آج کی رات تو ہماری ہے نا،ہم جیسے گذاریں۔‘‘
’’کسی کام کی بات ہی کے لیے گذارنی ہے، ایویں فضول باتوں کے لیے تو نہیں۔‘‘ وہ لائونج میںآگیا۔
’’ہائے، محبت سے بڑھ کر اور کیا کام ہو سکتا ہے، میرے بھولو، تیری محبت مجھے مل جائے تو اور مجھے کیا چاہئے۔‘‘ نینا بالکل اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’اچھا،تمیز سے وہا ں سامنے بیٹھو، بلکہ یوںکرو، کھانا گرم کرو، کھاتے ہیں، چائے میںبنائوں گا۔‘‘ شاید شعیب نے اس کا دھیان بٹانے کو کہا تو وہ منہ بناتی ہوئی اٹھ گئی۔
کھانے کے بعد وہ اوپری منزل کے بیڈ روم میںتھے۔ شعیب ایک صوفے پر بیٹھا ہوا چائے پی رہا تھا، جبکہ نینا کھڑکی میںکھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔کافی دور ایک پول پر بلب جگمگا رہا تھا۔ جس کی روشنی زیادہ دور تک نہیںجا رہی تھی۔اس میںسڑک کا ایک کنارہ اور لان کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا تھا۔اس کے ساتھ آگے تک تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ تبھی چائے کا آخری سپ لے کر نینا مڑی اور سامنے پڑے بیڈ پر پھیلتے ہوئے کہا۔
’’کیا سوچا پھر تم نے میرے بارے میں؟‘‘
’’نوکری چھوڑ دو۔ کیونکہ تھوڑے عرصے کے لیے تمہیں چھٹی تو ملنے والی نہیں۔‘‘ شعیب نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’اس کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’پھر تم اس دنیا میںگم ہو جائو گی۔ کوئی تجھے پوچھنے والا نہیں ہوگا، نہ کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی، جو چاہے مرضی کرنا، آزاد ہوگی تم۔‘‘ شعیب نے کہا۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو، میںبھی یہی سوچ رہی تھی لیکن…‘‘ نینا نے کہنا چاہا تو وہ بولا۔
’’میں نے سب پلان کر لیا ہے۔تمہارا کیا مطلب ہے، میں نے کچھ بھی نہیںسوچا؟‘‘
’’کیا سوچا ؟‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔
’’وہ میں تمہیں سب بتاتا ہوں، لیکن ایک اعتراف میں تم سے کر لوں، ممکن ہے تمہیںبعد میںپتہ چلے اور تم بد گمانی کرو۔‘‘ ا س نے دھیمے سے لہجے میںکہا
’’ایسا کیااعتراف ہے؟‘‘ نینا نے تجسس سے پوچھا۔
’’میں نے سب کچھ اپنے بابا کو بتا دیا ہے۔‘‘ اس نے نینا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کیوں؟‘‘ اس کا چہرہ ایک دم سے سرخ ہو گیا
’’اس کے بغیر کوئی چارہ نہیںتھا، وہ چار قتل جو ہوئے، اس پر بابا کو شک ہو گیا تھا، مٹھن خان کوئی بے وقوف بندہ نہیںکہ اسے پتہ نہ چلے۔اس نے یہ کھوج نکال لیا تھا کہ جو کچھ ہوا، اسکا تعلق مجھ سے ضرور ہے۔ اس کے لوگ بابا تک آتے رہے، یہ تک کہا گیا کہ بتا دیں، آگے کی کوئی کارروائی نہیںہوگی۔ بابا بہت پریشان ہو گئے تھے۔ انہوں نے مجھ سے نہیںپوچھا لیکن میں نے خود بتا دیا کہیں وہ لاعلمی میں پھنس نہ جائیں۔‘‘ اس نے تفصیل سے بتا دیا
’’تو پھر…؟‘‘ نینا کو اپنا آپ ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔
’’تو پھر فائدہ ہی ہوا۔ بابا نے پورے اعتماد سے انہیں کسی دوسرے ہی ٹریک پر لگا دیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مٹھن خان نے ہمیںفری چھوڑ دیا۔ وہ اب بھی اسی تاک میں ہے، خیر۔! بابا نے مجھے پورا اختیار دے دیا ہے کہ میںجو مرضی کروں، جس قدر چاہوں اور جیسی چاہوں،بابا کی مدد لوں۔ اور انہوں نے ایسا کیا۔‘‘
’’کیا کیاانہوں نے ؟‘‘
’’وہ اس وقت ہماری ڈھال بن چکے ہیں۔جس وقت میں سلامت خان کے لیے تمہارے پاس گیا تھا،میں انہیںبتا کر آیا تھا اورانہوں نے جو کار مجھے دی وہ میری نہیں تھی،چوری کی تھی، جسے اب تک ٹھکانے لگا دیا گیا ہے۔ جو اسلحہ لے کر گیا، وہ گھر سے لے کر گیا، ہینڈ بم کا آئیڈیا بابا نے ہی مجھے دیا تھا، تم نہ بتاتی تو میںتجھے یہی مشورہ دینے والا تھا۔مطلب، وہ ہماری پوری طرح سے سپورٹ کریں گے، یہاں تک کہ مٹھن خان ختم ہو جائے۔‘‘ شعیب نے کہا تو نینا کو چپ لگ گئی، جس پر وہ بولا،’’اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ بابا نے ایسا اپنے فائدے کے لیے کیا تو تم ٹھیک سوچ رہی ہو۔ جب تک مٹھن خان ہے، بابا کا بھی اس علاقے پر رعب نہیںرہے گا، وہ اپنی ساکھ تک ختم کر چکے ہیں۔ کبھی وہ اس علاقے سے اسمبلی ممبر ہوتے تھے، اب نہیں، ان کی سوچ بھی عام جاگیرداروں والی ہے، بابا میںبھی کچھ نیا نہیں، لیکن۔! نینا، میںایک وعدہ کرتا ہوں۔‘‘ شعیب نے آخری لفظ بڑے جذباتی لہجے میں کہے تو نینا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں، تم کوئی وعدہ نہیںکرو گے، مجھے تم پر ویسے ہی اعتبار ہے، تیری ہر بات میرے لیے وعدہ ہے۔‘‘
یہ سن کر شعیب چند لمحے صوفے پر بیٹھا اس کی طرف دیکھتا رہا، پھر اٹھ کر اس کے پاس بیڈ پر آگیا۔ اس نے نینا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلیتے ہوئے ہولے سے پوچھا۔
’’اتنا اعتماد کیوں؟‘‘
’’تم میرے اپنے ہو، تمہیںیقین کیوں نہیںآتا۔ مجھے تم پر اتنا بھروسہ ہے کہ مرنے کے لیے کہو گے توفوراً جان دے دوں گی، آزما لینا۔‘‘ نینا نے کہا اور اس کے کاندھے پر اپنا سر رکھ دیا۔ شعیب اس کے بال سہلاتا رہا۔نینا کا دل رونے کو چاہ رہا تھا، لیکن ایک بھی آنسواس کی آ نکھ میں نہیںتھا۔ وہ چند لمحے یونہی دم سادھے بیٹھے رہے، پھر شعیب نے ایک دم سے الگ ہوکر کہا۔
’’یہ ہم جذباتی کیوں ہو رہے ہیں؟‘‘
یہ کہتے ہی وہ اٹھنے لگا تو نینا نے اسے کاندھوں سے پکڑ لیا اور پھر بیڈ پر اسے پھینک کر اس کے اوپر بیٹھ گئی۔
’’بکواس کرتا ہے، وہاں سے اٹھ کر تم یہاں آئے ہو، مجھے اپنے ساتھ لپٹایا اور اب پار سا بنتے ہو۔‘‘نینا نے کہا اور اپنا چہرہ اس کے چہرے کے بالکل پاس لے گئی۔
’’میرا وہ مطلب تو نہیںتھا جو تم سمجھ رہی ہو۔‘‘ شعیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’جھوٹا کہیںکا، بہانے کیوں بناتا ہے، میںخود جب … یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ لگا دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ نینا کیاکرنے والی ہے، وہ اپنا چہرہ دائیں بائیں کرتے نیچے سے نکلنے کے لیے زور لگانے لگا۔ مگر وہ نینا کے ہاتھوں میںجکڑا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد زور لگا کر تھک گیا تو نینا نے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر لب رکھ دئیے۔ وہ ایک دم سے تڑپ اٹھا۔ نینا بیڈ پر ایک طرف جا گری تو پھولے ہوئے سانسوں سے بولا۔
’’نہیں، یہ سب نہیںہو گا نینا، میں …‘‘ لفظ اس کے منہ ہی میںتھے کہ نینا اچانک اچھلی اور پھر اس پر جا پڑی، اسے دبوچ کر بولی۔
’’بھاگ کے دکھا۔‘‘
’’نہیںبھاگ سکتا۔‘‘ وہ بہ مشکل پھولی سانسوں میںبولا تو نینا نے اسے چھوڑ دیا، پھر اس کی حالت دیکھ کر بولی۔
’’تیرا تو سٹیمنا بالکل نہیںہے، تم تومرد ہو؟‘‘
’’میںتیری طرح کسرت نہیںکرتا۔‘‘ وہ بولا۔
’’تو کیا کرو نا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’آنے والے دنوں میںجو میں نے پلان کیاہے، اس میںیہ بھی ہے کہ میں نہ صرف اپنا سٹیمنا بنائوں بلکہ اور بہت کچھ سیکھنا ہے مجھے۔‘‘ شعیب نے سکون سے بیڈ پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
’’وہ پلان کیاہے، وہ تو بتائو نا؟‘‘ اس نے تجسس سے پوچھا۔
’’تم چند دن میںیہ جاب چھوڑ دو گی۔اس کے بعد تم ایک گھر میںرہو گی، سکون سے، تمہیںکچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیںسوائے ایک کام کے ؟‘‘ اس نے بتایا
’’وہ ایک کام؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’مٹھن خان کا خاتمہ،بس۔‘‘ شعیب نے کہا تو نینا کی آنکھوں میںایک دم سے چمک بڑھ گئی۔
وہ اس بابت بہت سوچا کرتی تھی۔ نوکری کی پابندی اسے کچھ بھی نہیںکرنے دیتی تھی۔ اس پر وہ کھل کر کسی کو فون بھی نہیںکر سکتی تھی۔تھانے یا کوراٹر میںہر وقت لوگوں کے درمیان رہنے سے وہ کئی لوگوںسے رابطہ چھوڑ چکی تھی۔ وہ یہی سوچتی رہتی تھی کہ اگر اسے آزاد زندگی مل جائے تو وہ کیا کچھ کر سکتی ہے۔ وہ وقت اب آ نے والا تھا۔
’’اوکے، میںایک ہفتے کے اندر نوکری چھوڑ دوں گی۔‘‘ نینا نے ایک دم سے کہا۔
’’گڈ گرل شعیب نے کہا اور سکون سے لیٹ گیا۔ تبھی نینا نے اس کے پہلو میںلیٹتے ہوئے کہا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے، تاجان کچھ کرے گی مٹھن خان کے خلاف ؟‘‘
’’وہ صرف دفاع کر سکتی ہے۔ ابھی وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ بڑھ کر وار کر سکے۔‘‘ اس نے اپنا خیال بتایا تو نینا نے شرارت سے کہا۔
’’یار دل کرتا ہے کہ مٹھن خان کو چھیڑوں۔‘‘
’’تو چھیڑ لو۔‘‘ وہ ہنستے ہوئے بولا۔ تب نینا اٹھی، اس نے اپنے پرس میں سے فون نکالا اور کال کرنے کے لیے نمبر پُش کر دئیے۔ چند بیل بعد اس نے فون رسیو کرتے ہوئے کہا۔
’’ہیلو۔‘‘
’’سلامت خان کا تحفہ کیسا لگا؟‘‘
’’تم جو بھی ہو،مجھ سے بچ نہیںسکتی ہو، تمہیںجس نے بھی یہاں بھیجا ہے، میں اس سے وہ انتقام لوں گا جسے دنیا یاد رکھے گی۔‘‘ وہ غصے میںیوں بولا جیسے خود پر بڑی مشکل سے قابو پا رہا ہو۔
’’تم زندہ بچو گے تو انتقام لو گے، تم نہیںجانتے، تم ہر وقت میرے نشانے پر ہو۔ میںجب چاہے، تمہیںمار دوں۔‘‘ نینا نے یوں کہا جیسے اس کا مذاق اُڑا رہی ہو
’’بلف کر رہی ہو تو مان لیتا ہوں، ایک بار سامنے آجا، پھر تو بچ نہیںسکتی۔تجھے اور اُسے دونوں کو …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔
’’کوئی یونہی کروڑوں نہیںلگا دیتا، میںجانتی ہوں تیرا دوسرا بیٹا لندن سے ادھوری تعلیم چھوڑ کرآ گیا ہے۔اُسے بچا، میں…‘‘اس نے کہنا چاہا تووہ بات کاٹتے ہوئے دہاڑ کر بولا۔
’’اوئے … اپنی زبان کو لگام دو، اگر ہمت ہے تو میرے بیٹے کی طرف انگلی کر کے دیکھو، جو حشر میںتم سب کا کرنے والا ہوں، وہ تم بھی جانتی ہو اور تیرا وہ کتا بھی جس نے بھونکنے کے لیے تجھے چھوڑ دیا ہے۔‘‘
’’بھونک میں نہیںرہی، تم بھونک رہے ہو اس وقت۔ میںتوکاٹتی ہوں اور اس طرح کہ بندہ مر جاتا ہے۔ گنتی کرو، اتنے قتل اتنے دنوں میں۔‘‘ وہ طنزیہ لہجے میںبولی
’’بہت جلد میں…‘‘ اس نے کہنا چاہا تونینا نے پھر اس کی بات کاٹ دی اور بولی۔
’’وہ جو تین کارٹون منگوائے ہیں نا تم نے، وہ میری گرد بھی نہیںپا سکتے، البتہ میں ان کا کام کر دینے والی ہوں۔‘‘
’’جہاں سے تم آئی ہو، وہیں سے اور بھی آ رہے ہیں، بس چند دن، اب جب بھی تم سامنے آئی، پھر بچ کر نہیں جا سکتی ہو۔‘‘ اس نے کہاتو نینا نے فون بند کر دیا۔ تبھی شعیب نے کہا۔
’’یہ تمہیں کسی باہر کے ملک کی سمجھ رہا ہے اور وہ بندہ بھی باہر رہتا ہے، جس نے تمہیںبھیجا ہے۔‘‘
’’وہ بھی بلف کرا رہا ہے، یا حقیقت میںایسا ہی سمجھ رہا ہے، جو بھی ہے، ابھی اسے پتہ نہیں، میںکون ہوں، لیکن میں یہ بتا دوں اس کی بات میں سنجیدگی ہے کہ اسے ایک پل بھی چین کا نہیںہے۔‘‘ وہ گہرے لہجے میںبولی
’’خیر جو بھی ہے، سمجھ لو کہ وہ ایک زخم خوردہ شخص ہے اور اپنا زخم چاٹ رہا ہے۔ وہ بہت بھیانک ہو رہا ہے۔‘‘ اس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تو نینا کے اندر کہیںدور تک سکون اُتر گیا۔
٭…٭…٭
اگلی صبح وہ اپنے کوارٹر پر تھی۔ آپی فوزیہ کے علاوہ صرف ایک لڑکی وہاںپر تھی، باقی سب اپنے گھروں کو چلی گئی تھیں۔ آپی فوزیہ بھی اس وقت کہیںباہر جانے کو تیار ہو رہی تھی۔ وہ جا کر اس کے پاس بیٹھی تو پہلے اس نے غور سے نینا کو دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’تم نے تو آج آنا ہی نہیںتھا۔‘‘
’’بس آ گئی ہوں۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میںبولی
’’کیوں، اس سہیلے سے لڑائی ہو گئی ہے کیا؟‘‘ وہ طنزیہ لہجے میںبولی
’’آپی، یقین جانو، وہ کوئی مرد نہیںہے، میری دوست ہے، ایک بڑے گھر کی ہے۔‘‘ نینا نے یوں کہا جیسے اسے بہت دکھ ہو رہا ہے۔ اس پر آپی نے چند لمحے اسے دیکھا اور پھر پوچھا۔
’’تو پھر، کیا …؟‘‘
’’وہ میری شادی کروا دینا چاہتی ہے۔اس کا ایک کزن ہے، دوبئی میںہوتا ہے۔ میری سہیلی کو تو پتہ ہے کہ میں یہاں پولیس میںجاب کرتی ہوں لیکن اس کے کزن کو نہیں۔ اگر اب میںشادی کرتی ہوں تو مجھے جاب چھوڑنا ہو گی۔‘‘
یہ سن کر آپی چند لمحے سوچتی رہی پھر انتہائی گہرے لیجے میںبولی۔
’’اگر تمہیںشادی کا آپشن مل رہا ہیاور وہ بھی دوبئی میںکام کر نے والے کیلئے تو ایک منٹ بھی مت لگائو۔ جاب چھوڑو اور شادی کر کے اپنا گھر بسا لو۔‘‘
’’اور اگر …‘‘ نینا نے بے چارگی سے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔
’’دیکھو، تم حسین ہو،خوبصورت ہو، ہزاروں لڑکیوں میں سے ایک ہو، یہی ایک تیری خوبی ہے، جس پر کوئی بھی فریفتہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تیرے پاس کیا ہے ؟ یہی ایک جاب، جسے کوئی پوچھتا نہیں۔چند برس بعد تیری یہی اکلوتی خوبی بھی ختم ہو جائے گی۔ پھر نہ کوئی تمہیںپوچھے گا اور نہ تیری جاب کو، زیادہ سے زیادہ اے ایس آئی بن جائوں گی۔‘‘آپی فوزیہ نے بے چارگی سے کہا۔
’’آپ بھی تو ہیں، آپ نے شادی کر کے جاب کی۔‘‘ نینانے کہا۔
’’میں کوئی غربت کا رونا نہیںروئوں گی اور نہ میںحالات کا دکھڑا سنائوں گی۔ وہ وقت ایسا تھا، نہ میںتیری طرح حسین تھی اور نہ ہی میں کوئی مضبوط لڑکی تھی۔ میںکب کی نوکری چھوڑ چکی ہوتی اگر میں اور میرا خاوند اس قابل ہوتے کہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکتے اور اچھی جگہ شادیاں کر سکتے، یہی نوکری میری اولاد کے آڑے آرہی ہے۔‘‘ اس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔
’’کیوں، نوکری کیوں؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’ہم جو مرضی کر لیں، ہمارے معاشرے میں جو عورت کومقام ہے نا، وہ گھر ہی ہے۔گھر سے باہر نکل کر جو بھی ہے، اس کی عزت نہیںہے۔ وہ چاہے کسی جاب میںبھی ہو۔ میرا محکمہ توپھر پولیس ہے۔‘‘وہ دکھی لہجے میںبولیں
’’آپ ٹھیک کہتی ہیں آپی۔ یہ معاشرہ ہے ہی منافق، وہ کسی خاتون کو عزت نہیں دے سکتا، اسے گھر کی دہلیز پر روزگار نہیں دے سکتا، اس کی کسی طرح کی کفالت کا ذمہ دار نہیں، تو ایسا معاشرہ عورت کو بے عزت کر نے کا کوئی حق نہیںرکھتا۔اسے قسم کی روک ٹوک کا بھی حق نہیں۔‘‘ نینا جذباتی ہوگئی۔ اسے اپنا وقت یاد آگیا۔
’’لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اسی معاشرے کے ساتھ رہنا ہے۔بھاگ کر کہیںجا بھی نہیںسکتے۔ دن بدن پائوں میں بیڑیاں پڑ جاتی ہیں۔‘‘ آ پی بھی دکھی ہوگئی
’’نہ ڈالے بندہ بیڑیاں۔‘‘ نینا بولی۔
’’نہ ڈالے، لیکن ہم خود ہی اس کے ذمے دار بن جاتے ہیں، سب سے پہلے تحفظ چاہئے ایک عورت کو۔ورنہ اکیلی عورت مردار کی ہوتی ہے، جس پر لوگ گدھوں طرح آ جھپٹنا اپنا حق سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ دوسرا ہمارے اپنے ہی بدن کی پکار ہمیں خود سے اجنبی کر دیتی ہے۔کب تک اس پکار کو نظر انداز کر سکتے ہیں، ایک کمزور لمحہ، صرف ایک کمزور لمحہ ہمیںنجانے کہاں سے کہاں تک لے جا سکتا ہے۔ مرد تو ہمیشہ کنوارا رہتا ہے لیکن، عورت ایک بار ہی کنواری رہتی ہے۔ میری بات سمجھ رہی ہو نا۔‘‘ آپی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’آ پ ٹھیک کہتی ہو، مجھے یہ چانس گنوانا نہیں چاہئے۔‘‘ نینا نے کہا تو وہ تیزی سے بولیں۔
’’بالکل، کبھی بھی نہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے، آپ پھر کریں نا بات، میں خاموشی سے یہ نوکری چھوڑ کر چلی جائوں، پلٹ کر اگر کوئی پوچھے بھی تو میرا پتہ نہ چلے۔‘‘ نینا نے بے چارگی سے کہا۔
’’میں کرتی ہوں بات۔ تم چپ چاپ چلی جانا۔‘‘ آپی نے کہاتو اس نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’کب تک ہو جائے گا؟‘‘
’’آج تو چھٹی ہے، کل پہلا کام ہی یہی ہوگا۔ بس ہیڈ کو ایک درخواست دینی ہے، تمہاری کون سی اتنی نوکری ہے،دو سال ہی تو ہوئے ہیں، ایک دو دن بس۔‘‘ آپی نے اسے بتایا
’’مطلب، پھر یہی ہوگا کہ میں خاموشی کے ساتھ اپنی دنیا میںچلی جائوں گی؟‘‘ نینا نے پر جوش لہجے میںپوچھا
’’ہاں ہاں، مشکل توتب ہو گی نا کہ اگر تم نے کوئی جرم کیا ہو، تمہارا تو کیس ہی نہیں، ایک سادہ درخواست اور پھر کلیئرنس، بات ختم،اس کے بعد جو مرضی کرنا۔‘‘آپی نے کہا تو ایک دم سے خوش ہوگئی۔
’’اچھا چل مجھے آج بازار جانا ہے، آکے باتیںکرتی ہوں۔‘‘ آپی نے اٹھتے ہوئے کہا تو بھی اٹھ کر اپنے بستر پر آگئی۔اس کے دماغ سے آپی کی باتیںنہیںنکل رہی تھیں۔ اسے یہ اچھی طرح احساس تھا کہ وہ اس وقت بہت مجبور عورت ہے۔ اس نے من ہی من میںفیصلہ کر لیا کہ اگر اسے موقعہ ملا تو وہ ضرور اس کی مدد کرے گی۔ وہ رات بھر کی جاگی ہوئی تھی۔ یہی سوچتے ہوئے نجانے کب سو گئی۔اُس کی آنکھ جب کھلی تو کوارٹر میں شام اتر آئی تھی۔
اگلی صبح وہ اپنی درخواست لے کر ہیڈ آفیسر کے پاس چلی گئی۔ اس نے سلیوٹ مارا اور اپنی درخواست میز پر رکھ دی۔ ہیڈ نے بڑے غور سے پڑھا، چند لمحے سوچتا رہا، پھر اس سے چند عام سے سوال پوچھ کر اس کی درخواست پر دستخط کر دئیے۔ اسے اندازہ نہیںتھا کہ اتنی جلدی وہ نوکری سے چلی جائے گی۔
’’پولیس میں ہوتا ہے، لڑکیاں آتی کم اور جاتی زیادہ ہیں، یہ کوئی اتنی انہونی بات نہیںہے۔ اب بس تو لائین میں متعلقہ آفیسر سے کلیئرنس لے اور ختم۔‘‘ آپی نے کہا تو وہ بجائے تھانے کے لائین میںچلی گئی۔ شام تک اس نے کوارٹر سے اپنا بوریا بستر اٹھا لیا تھا۔اس نے کوارٹر میںکوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی تھی، جس سے اس کے بارے میںکوئی پتہ چلے۔ وہ جب وہاں سے چلی توآپی رو پڑی تھی۔وہ بھی بھاری دل سے چل پڑی۔
اس وقت دن غروب ہو چکا تھا، جب وہ اپنا سامان لیے اپنے گائوں چلی گئی۔اگر چہ اب وہاں کوئی نہیںتھا۔ اس کے بھائی گھر بار بیچ کر نجانے کہاں چلے گئے تھے۔ اس نے وہ سارا سامان گائوں کی ایک غریب عورت کو دے دیا۔ چند گھنٹے وہاں اس کے پاس رہی۔ اور پھر جیسے ہی شعیب کی کال آ ئی وہ گائوں سے نکل پڑی۔وہ سڑک پر آئی تو چند لمحے بعد شعیب کی کار اس تک آن پہنچی، وہ اس میںبیٹھی تو اس نے کار بڑھا دی۔
’’کیسا محسوس کر رہی ہو ؟‘‘ شعیب نے پوچھا تو وہ چند لمحے خاموش رہی پھر بڑے ہی جذباتی لہجے میںبولی
’’یوںلگتا ہے جیسے میں اپنی ساری اُترن یہاں پھینک دی ہے، یا پھر اپنا خالص پن یہاں چھوڑ کر جا رہی ہوں، کچھ سمجھ میںنہیں آرہا۔‘‘
’’اوہ! تو اس وقت تم جذباتی ہو رہی ہو۔‘‘ شعیب نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ہاں، میں اس وقت اپنے آپ میں نہیںہوں۔‘‘
’’اوکے، تم آج سو جائو، کل باتیںکریں گے۔‘‘ وہ گہرے لہجے میںبولا
’’کہاں سونا ہے، کوئی جگہ ہے تمہارے پاس، دیکھو، میںکیا ہوں، ایسی عورت، جس کے پاس اپنے رہنے کو بھی گھر نہیںہے۔ یہاں تک کہ سونے کو بھی جگہ نہیںہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔ اس پر شعیب خاموش رہا۔کوئی جواب نہ پا کر وہ بھی خاموش ہو گئی۔یہاں تک کہ شہر کے شمالی علاقے میں ایک نئی پوش کالونی میں موجود بنگلے کے آگے کار روک دی۔ ہارن بجتے ہی گیٹ کھل گیا۔وہ کار لیے پورچ میںچلا گیا۔ کار سے اتر کر خود داخلی دروازہ کھولا اور اسے اندر آ جانے کا اشارہ کیا۔ وہ اتر کر اندر چلی گئی۔
ایک بڑا سارا لائونج تھا۔ جو بیش قیمت اشیاء سے سجا ہوا تھا۔وہ یہی دیکھ رہی تھی کہ شعیب نے دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا اور ہلکے سے کہا۔
’’یہ سب تمہارا ہے۔ آئو، بیڈ روم دکھائوں۔‘‘نینا اس پر خاموش رہی، اس کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ اوپر کی منزل میں ایک کمرہ کھول کر اسے اندر لے گیا۔ کمرے میں ہر طرح کی جدید سہولیات تھیں۔
’’نینا! یہ تمہارا بیڈ روم ہے، وارڈ روب دیکھو،شاور لو اور تیار ہو کر نیچے آجائو، میں تمہارا انتظار کر رہاہوں۔‘‘
’’میں بہت ڈسٹرب ہوں شعیب، آج …‘‘
’’جیسے کہہ رہا ہوں، ویسا کرو، پلیز۔‘‘ اس نے کہا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد جب وہ تیار ہو کر نیچے گئی تو سادہ ساحسن سیدھے شعیب کے دل میںاُتر گیا۔ وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔شعیب نے ہاتھ بڑھایا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میںدے دیا۔ وہ اسے لا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔تبھی ا س نے آواز دی۔
’’باغ علی۔‘‘اس کی آواز کی باز گشت میں ایک ادھیڑ عمر مضبوط بدن والا شخص نمودار ہواتو اس نے کہا،’’یہ جو میرے ساتھ بیٹھی ہیں، میری بیوی ہیں، میں نے ان سے شادی بابا سے چھپ کر کی ہے، جیسے ہی میں سمجھا کہ انہیں منالوںتب ہی یہ راز کھلے گا تب تک یہ راز یہاں سے نکلنا نہیںچاہئے۔‘‘
’’نہیںنکلے گا۔‘‘ باغ علی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
’’یہ مجھے، خود سے بھی زیادہ پیاری ہیں، مزید تم سمجھ دار ہو۔‘‘ شعیب نے کہا تو وہ بولا۔
’’سمجھ گیا۔‘‘
’’اب ڈنر۔‘‘ شعیب نے کہا توباغ علی پلٹ گیا۔ نینا کو یہ سب اچھا لگا تھا۔ وہ جو اداسی اس پر طاری ہوگئی تھی،ایک دم ہی سے ختم ہوگئی۔ تبھی باغ علی کے جاتے ہی نینا نے اپنی بانہیں شعیب کے گلے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
’’واہ ! کیا بات ہے تمہاری، خود ہی پھنس گئے میرے جا ل میں، اب جب چاہوں تجھے پیار کر سکتی ہوں۔‘‘
’’زیادہ نہیںپھیلنا،سمجھی تم،ٹھرکی کہیں کی۔‘‘ اس نے آرام سے اس کی بانہیں اپنے گلے سے نکال دیں۔
’’دیکھ لو ؟‘‘ نینا نے مسکراتے ہوئے دھمکی دی۔
’’دیکھ لیا۔ اب سنو، ہم چند دن یہاں رہیں گے۔ صرف اتنے دن جب تک تمہارا پاسپورٹ نہیںبن جاتااور دوبئی کا ویزا نہیںلگ جاتا۔ کم از کم دو ماہ وہیں دوبئی میںگذاریں گے، اس وقت تک یہاں معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا، ہمیں بھی کچھ سوچنے کا موقع مل جائے گا اور مٹھن خان نے جو بھی کچھ کیا ہوگا ’’گولی‘‘ کو پکڑنے کے لیے اس کا بھی پتہ چل جائے گا۔‘‘ اس نے تفصیل سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’مگر میرا خیال ہے کہ ہم اتنی جلدی یہاں سے نکل نہیںپائیں گے۔‘‘ نینا نے سنجیدگی سے کہا۔
’’وہ کیوں؟‘‘ شعیب نے آنکھیںسکیڑتے ہوئے پوچھا۔
’’میرا اچانک نوکری چھوڑ دینا، یہاں سے جانا غائب ہونا، یہ سب انہیںسمجھا دے گا، جس دن بھی انہیںمیرے بارے میں شک ہوا، میرا ماضی سامنے آ جائے گا اور پھر انہیںساری بات سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔‘‘ نینا نے وہ نکتہ بتایا، جو اس کی کمزوری تھی۔
’’تو کیا تم ان کے سامنے رہنا چاہتی ہو؟‘‘ شعیب نے پوچھا تو وہ بولی۔
’’نہیں، اس طرح تو انہیں میرے بارے میںجاننے کا موقع مل جائے گا،میرا مطلب یہ ہے کہ کام ادھورا نہیںرہنا چاہئے، یہاں رہیں گے، چاہیں چھپ کر رہیں، ان کے بارے میںپتہ چلتا رہے گا۔ جہاں بھی ان پر وار کرنے کا موقع ملا، کر دیں گے، اسے سکون نہیںملنا چاہئے۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی تواس کے لہجے میں نفرت عود کر آئی تھی۔
’’دیکھو نینا! ہم صرف دو ہیںاور وہ لائو لشکر رکھتا ہے، دولت ہے وسائل ہیں، یہ تم جانتی ہو۔ جس طرح تم سوچ رہی ہو، یہ پوری ایک گینگ کا کام ہے اور …‘‘ وہ کہہ رہا تھا کہ اس نے شدت سے کہا۔
’’مگر ہم نے د وہوتے ہوئے بھی ان کے کتنے بندے پھڑکا دئیے ہیں۔‘‘
’’یاد رکھو، کسی چور یا ڈاکو کو صرف یہ فوقیت ہو تی ہے کہ وہ ارادہ کر کے آتا ہے، سوچ کے وار کرتا ہے۔ جس کے ہاں چوری یا ڈاکا پڑنے والا ہو، وہ بے خبر ہوتا ہے۔وار ہو جائے یا نہ ہو، لیکن یہ ارادے اور بے خبری کا کھیل ہے۔اب تک جو بھی ہوا، وہ ان کی بے خبری تھی، چاہئے وہ کسی صورت میںبھی تھی۔ اب وہ محتاط ہی نہیںہو شیار بھی ہیں۔حالات کاتقاضا یہ ہے کہ ہم پوری انفارمیشن کے ساتھ کریں، جو بھی کرنا ہے۔ورنہ اب تو وہ گھات لگا کر بیٹھے ہیں۔‘‘ شعیب نے سمجھایا
’’تمہارا کیا مطلب ہے، پہلے ایک گینگ بنائیں، ان کے مقابلے کا، ارے میرے مُنّے، یہ بناتے تو ہم بوڑھے ہو جائیںگے، کچھ اور سوچنا ہو گا۔‘‘ نینا نے اس کی بات سمجھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا۔ وہ یہ سمجھ گئی تھی کہ شعیب جو کچھ کہہ رہا ہے، وہ ٹھیک ہے۔
’’وہ سوچ لیتے ہیں۔‘‘ وہ بولا۔
’’میں یہ بات سمجھتی ہوں کہ اُن کے درمیان جو بھی لوگ ہیں، جن سے انفارمیشن مل سکتی ہے۔ انہیںزیادہ مضبوط کیا جائے،جب تک ان کے اندر کوئی بندہ پیدا نہیںہوگا، تب تک ہم وہ کچھ نہیں کر سکتے جو ہمیںکرنا ہے۔‘‘نینا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہاتو انہیںباغ علی آ تا ہوا دکھائی دیا۔وہ قریب آ کر بولا۔
’’جناب! ڈنر لگ گیا ہے۔‘‘
’’ہم آ رہے ہیں۔‘‘ شعیب نے جواب دیا۔ وہ پلٹ کر چلا گیاتو یہ دونوں اٹھ گئے۔
٭…٭…٭
صبح کا اُجالا پھیل چکا تھا۔ نینا جب بیدار ہوئی تو ابھی ملجگا اندھیرا تھا۔ وہ فریش ہو کر آئی تو اس کی نگاہ وارڈ روب پر پڑی۔ جہاں رات شعیب نے اسے سنہرے رنگ کا وارم اپ سوٹ دکھایا تھا۔ وہ اس طرف بڑھی۔ اس نے وہ سوٹ اٹھایا اور واپس واش روم میںپلٹ گئی۔ واپس آئی تو اس کے گلابی بدن پر وہ سنہرا سوٹ یوں لگ رہا تھا، جیسے کسی مجسمے پر پینٹ کیا گیا ہو۔ اس نے خود کو آ ئینے میں دیکھا۔ وہ پہلی بار خود کو کسی اجنبی کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہو گئی تھی۔اسے یوں لگا جیسے آ ئینے میںکوئی دوسرا کھڑا ہے۔وہ اپنے بدن کے خدو خال دیکھنے لگی، اسے احساس ہوا کہ اس کا بدن تراشیدہ ہے۔ اگر وہ اسے مزید تراش لے تو قیامت برپا کر سکتی ہے۔ وہ زیر لب مسکرا دی۔ بہت عرصے بعد اسے ایکسرسائیز کرنے کا موقعہ ملا تھا۔ کچھ دیر تک وہ اپنے بعد کے سارے اعضاء کی ورزش کے بعد خود میں نئی توانائی محسوس کر نے لگی۔ اس وقت دھوپ ہر طرف پھیل چکی تھی، جب وہ ناشتے کی میز پر تھی۔ اس نے ایک بہترین تراش کا ہلکے کاسنی رنگ کا شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔شعیب رات چلا گیا تھا۔ وہ کچھ دیر تک جاگتی رہی تھی۔ اس نے اپنے ذاتی سیل فون سے سِم نکال کر ایک جانب رکھ دی اور جو دوسری سمیں تھیں، وہ ایک ایک کرکے فون میںلگاتی رہی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنی اس دنیا کو پھر سے آباد کر لے گی۔
وہ اس رات اپنی اس دنیا میں چلی گئی، جہاں ایک نیاجہان آباد تھا۔ کہنے کو وہ صرف آوازیں ہی تھیں،لیکن وہاں ایک سے ایک کمینہ پڑا تھا۔اس کے ذہن میں ایک لڑکی تھی۔ جس کا نام اس کے ذہن سے تو نکل گیا تھا، مگر وہ اسے یاد تھی۔ کچھ دیر کوشش کے بعد اس کا جیسے ہی نام پتہ چلا، وہ اس کی تلاش میںلگ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اس کے ساتھ لائین پر تھی۔
اس لڑکی کا نام اصل میںکیا تھا، نہ اس نے بتایا اور نہ کسی کو پتہ تھی، مگر وہ اپنے حلقے میں بلیو کیٹ کے نام سے جانی جاتی تھی۔کوئی بندہ بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اس کے بارے میںپوری طرح جانتا ہے۔ وہ جس کسی کے ساتھ بات کرتی، اسے بتا دیتی کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ دنیا کی کسی جدید سے جدید شے کی معلومات لینی ہو تو اس سے لی جا سکتی تھی۔ جنسی گفتگو سے لے کر جرم تک بات کرتی تھی۔ اس کی بری عادت یہ تھی کہ وہ بولتی بہت گندہ تھی۔
’’بہت عرصے بعد کال کی ہے، لگتا ہے کوئی کام آ پڑا ہے لونڈی کو، بول کیا کہتی ہے۔‘‘ بلیو کیٹ نے عام سے انداز میںکہا تو وہ بولی۔
’’کوئی بات نہیں یار، بس دل سے دل اچاٹ ہو گیا۔‘‘
ان دونوں کی بات چلی تو پھیلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ رات گہری ہوگئی۔ ان کے درمیان دوبارہ رابطہ بحال ہو گیا تھا۔اس نے واپس اپنی سِم نہیںڈالی اور سو گئی تھی۔
شعیب سے رابطہ ہمیشہ سے اس کے دئیے ہوئے فون پر ہوتا تھا۔اس نے صبح بتا دیا تھا کہ وہ دو پہر سے پہلے ہی آ جائے گا۔وہ ناشتہ کر کے واپس بیڈ روم میںآ گئی۔وہ ایک صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ ٹی وی آن کر نے کا سوچ رہی تھی کہ اس کی نگاہ،سرہانے پڑے فون پر پڑی۔اس نے بڑھ کر فون اٹھایا۔ پرانی دونوں سِمّوں کو فون ہی میںرکھ کر اپنی والی سِم لگائی۔ جیسے ہی اس نے فون دوبارہ آن کیا تو اس کے ساتھ ہی کئی سارے پیغام آ گئے۔ اس نے وہ کھولے تو سارے کے سارے آپی فوزیہ کی طرف سے تھے۔ ان سب میں یہی تھا کہ جب بھی فون آن کرے تو اسے فون کر لے۔
’’کچھ نہ کچھ ضرور ہو گیا ہے۔‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے کال ملانے لگی۔ایک منٹ سے بھی کم وقت میںرابطہ ہو گیا۔جیسے ہی اس کی کال ملی، آپی نے تیزی سے پوچھا۔
’’کہاں ہو تم؟‘‘
’’میں گائوں میں ہوں، کیا ہوا آپی، اتنے میسج؟‘‘اس نے بے تابی سے پوچھا۔
’’نینا، تم کون ہو ؟ کہیں تم نے کوئی جرم تو نہیں کیا۔ مطلب کوئی جرائم پیشہ …‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا تو وہ بولی۔
’’آ پی یہ آپ کیا کہہ رہی ہو، میں نے کیا جرم کیا؟ ڈیوٹی کی ہے جتنی بھی ہو سکی، اب اسے اگر جرم سمجھا جائے تو میںکیا کر سکتی ہوں۔ پر ہوا کیا، کچھ بتائیں گی بھی ؟‘‘
’’کل شام سے تمہارے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔سمجھو تفتیش چل رہی ہے۔ پتہ نہیں یہ کب سے چل رہی تھی، لیکن کل اس وقت یہ پتہ چلا جب تمہارے بارے میںسنا گیا کہ تم نوکری چھوڑ گئی ہو۔ رات انسپکٹر نے مجھے بلایا تھا اور تمہارے بارے میں پتہ کرتا رہا، بے شمار سوال کئے۔ اس نے مجھے یہ بھی کہا کہ تم کسی خطر ناک گروہ سے تھیں اور …‘‘ وہ تیزی سے کہتی چلی جا رہی تھی، جبکہ نینا سمجھ گئی کہ بات کیا ہو سکتی ہے۔ جو اس کا شک تھا، وہی بات ہو گئی۔ اس کا دماغ اسی رفتار سے چلنے لگا۔ جبکہ وہ کہتی چلی جا رہی تھی،’’پھر تمہارا فون بند تھا۔ دوسرا وہ مٹھن خان نے جو باہر سے تفتیشی بلائے ہیں، وہ بھی وہیں تھے۔ انہوں نے بھی تمہارے بارے میںبہت کچھ پوچھا۔‘‘ اس نے تیزی سے بتایا
’’کون سا گروہ، انہیںکوئی وہم ہو گیا ہے۔یہ تو اچھا نہیںہوا آپی، میں نے ایسا کیا کردیا؟‘‘ اس نے جان بوجھ کر بے چارگی سے کہا۔
’’انسپکٹر نے مجھے کہا کہ تم سے رابطہ کروں اور تمہیں تھانے بلائوں، اگر تم معصوم ہوئی تو آ جائو گی، ورنہ نہیں۔‘‘ وہ اپنی رُو میںکہتی چلی گئی۔ تب اس نے ایک دم سے کہا۔
’’میں آ جاتی ہوں تھانے، میں نے کون سا جرم کیا ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں، مت آنا، وہ تجھے بہت ذلیل کریں گے۔ انہیں کوئی بندہ نہیں مل رہا جس پر یہ ڈال دیں قتل۔‘‘ وہ ڈرے ہوئے لہجے میںبولی
’’جب میں نے قتل کیا ہی نہیں۔‘‘اس نے کہا تو آپی بولی۔
’’اچھا سن میں تجھے بتاتی ہوں، انہوں نے رات کیا کیا باتیں کی ہیں، تم خود سمجھ جائو گی کہ اصل میںبات کیا ہے۔‘‘
جیسے ہی اس نے یہ کہا، نینا کے دماغ میں ایک دم سے یہ بات آ گئی کہ آپی فوزیہ تو وہ ہے جو زیادہ لمبی بات نہیںکرتی، یہ تفصیل کیوں سنانے بیٹھ گئی ہے۔ اگلے ہی لمحے وہ سمجھ گئی کہ اسے ٹریپ کیا جا رہا ہے۔ تبھی اس نے کہا۔
’’آپ تھانے ہی میںہو نا، میں ابھی آدھے گھنٹے میں ادھر پہنچ جاتی ہوں۔ وہیں باتیں ہوں گی۔‘‘
’’اچھا رُک بات سن، میں آ جاتی ہوں، تم خدا کے لیے یہاں نہ آ نا۔‘‘ اس نے کہا تو نینا نے تحمل سے کہا۔
’’آپی فکر مت کر، میں آ رہی ہوں، چل پہلے کوارٹر میں آتی ہوں، وہیں بات کرتے ہیں، خدا حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کچھ بھی سنے بغیر فون بند کر دیا۔
وہ اپنے فون کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ یہی فون اس کا پھندا بن جانے والے تھا۔ فون پر خواہ مخواہ کی لمبی بات سے اس نے جو اندازہ لگایا تھا، وہ ٹھیک لگ رہا تھا۔وہ ابھی یہی سوچ رہی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا۔ وہ انسپکٹر کی کال تھی۔اس نے فون رسیو کر لیا،لیکن باہر کی جانب چلتی چلی گئی۔
’’جی سر۔‘‘ وہ مودبانہ لہجے میںبولی
’’اوئے تو نے بتایا ہی نہیں اور ایویں سُکّی بھاگ گئی او، تو نے نوکری چھوڑ دی ؟‘‘ انسپکٹر نے یوں بے تکلفانہ انداز میںکہا جیسے وہ اس کے بارے میں عام سی بات کر رہا ہو۔
’’بس سر، چھوڑ دی۔‘‘ اس نے منمناتے ہوئے کہا۔
’’اوئے ایسے کیسے چھوڑ دی، تیری پارٹی وارٹی کرتے، تجھے عزت احترام سے رخصت کرتے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’بس سر۔‘‘ وہ پھر منمنائی اور باہر والا داخلی دروازہ پار کر کے پورچ میں آ گئی۔ وہاں پر موجود لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ اس سے کچھ فاصلے پر باغ علی بھی یوں دیکھ رہا تھا، جیسے اسے سمجھ نہ آ رہی ہو۔جبکہ نینا اسے گاڑی نکالنے کااشارہ کر ہی تھی۔ وہ اشارہ سمجھ گیا۔ وہ تیزی سے ادھر بڑھ گیا۔
’’اچھا یہ بتائو، کیوں چھوڑی یہ ملازمت؟‘‘انسپکٹر نے کہا تو وہ سمجھ گئی کہ وہ بات کو طول دینا چاہتا ہے۔تبھی اُس نے کہا۔
’’سر جی، میں ایک گھنٹے تک تھانے ہی آ رہی ہوں، آپی فوزیہ کو مجھ سے کوئی کام ہے۔ وہیں آ کر ساری باتیں کرتی ہوں۔‘‘ اس نے بے چارگی سے کہا۔
’’ٹھیک ہے، آجا، ہم تیرے لیے پارٹی کا بندو بست کرتے ہیں۔‘‘ انسپکٹر نے کہا۔
’’اوکے سر آ رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
اس وقت تک کار اس کے پاس پورچ میں آ چکی تھی۔ اس نے بیٹھتے ہی ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔
اس کا خیال تھا کہ جس قدر جلدی ہو سکے وہ اس سیل فون سے نجا ت حاصل کر لے۔ اس نے بیٹھتے ہی سِم نکالی اور فون ڈیڈ کر دیا۔ اتنے میںگاڑی گیٹ سے باہر جا چکی تھی۔
’’میڈم کہاں جانا ہے۔‘‘ ڈرائیور نے پوچھا۔
’’مارکیٹ۔‘‘ اس نے کہا تو ڈرائیور نے گاڑی دائیں جانب موڑ کر تیز کرتا چلا گیا۔ اگلے ہی موڑ پر مڑتے ہی وہ دھک سے رہ گئی۔
ان شاء اﷲ باقی آئندہ ماہ

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close