Naeyufaq Jun-16

پر اسرار پھندہ

خلیل جبار

وہ خوب صورت دوشیزہ ایک سول کورٹ کے دروازے پر کھڑی تھی۔ ایک ہاتھ میں اس کے فائل دبی ہوئی تھی‘ میں آج زرا جلدی کورٹ آگیا تھا ورنہ عموماً میں گیارہ اوربارہ بجے کے درمیان کورٹ آتا ہوں اور کورٹ آتے ہی میری نگاہ بے اختیار اس دوشیزہ پر پڑگئی تھی۔آپ بھی حیران ہورہے ہوں گے کہ عدالتی عملہ صبح سویرے ہی آجاتا ہے پھر ہم نوابوں کی طرح اتنی لیٹ کیوں کورٹ آتے ہیں۔ ایسی بات نہیں کہ ہم جلدی نہیں آتے بعض مقدمات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی کارروائی کی رپورٹ لینے ہمیں صبح سویرے بھی آنا پڑجاتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بار سول کورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری جب صدر منتخب نہیں ہوتے تھے۔ انہیں ایک مقدمے میں سول کورٹ میں بیان ریکارڈ کرانا تھا انہیں خصوصی طیارے میں حیدرآباد لایا گیا تھا اس دن ایسا لگ رہا تھا کہ سول کورٹ کے احاطے میں صحافیوں اور فوٹو گرافروں کی پوری فوج آگئی ہے۔ اس طرح کے مقدمات کئی سالوں میں ہی ہوتے ہیں ورنہ عموماً جس نوعیت کے مقدمات ہوتے ہیں ان کی سماعت صبح سویرے ہی ہوجاتی ہے۔ مقدمات کا فیصلہ بھی آجاتا ہے مگر ریڈر اس وقت ہمیں رپورٹ نہیں دیتا جب تک فیصلے کی کاپی تیار ہوکر اس پر جج صاحب کے دستخط نہ ہوجائیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم بھی آرام سے ہی کورٹ آتے ہیں اور ایک بجے کے بعد مختلف کورٹ سے خبریں ملنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو تین بجے تک جاری رہتا ہے یعنی خبروں کے لیے ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم کورٹ کی عمارت سے نکلتے ہیں تو اس وقت تمام کورٹ بند ہوچکی ہوتی ہیں۔ یوں سمجھ لیں جب تک ایک کورٹ بھی کھلی ہے وہ ہمیں کورٹ میں رکنے پر مجبور کردیتی ہے۔ حیران نہ ہوں چلیں میں آپ کو بتائے دیتا ہوں بعض اوقات سول جج کو سیشن جج کی طرف سے حکم ملتا ہے کہ وہ فلاں تھانے پر جاکر چھاپہ مارے کیونکہ تھانے پر کسی شخص کو پولیس والوں نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے اور سول جج ریڈ کمشنر کی حیثیت سے چھاپہ مارتا ہے اور اس شخص کو بازیاب کرالیتا ہے۔ یہ خبر اخبار کے لیے بڑی اہم ہوتی ہے۔ کورٹ ریڈر ہمیں تو نہیں بتایا کہ سول جج تھاے پر چھاپہ مارنے گیا ہے مگر اشارہ دے دیتا ہے کہ جب تک کورٹ بند نہیں ہوجاتی رکنا تمہیں خاص خبر ملے گی اور ہمیں اس خاص خبر کے لیے رکنا پڑتا ہے۔
اس خوب صورت دو شیزہ کو دیکھ کر میں بے چین سا ہوگیا یہ فطری سی بات ہے کہ کوئی خوب صورت دوشیزہ پریشانی کی حالت میں نظر آجائے اس کی پریشانی دور کرنا ہم پر فرض ہوجاتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا اس کے نزدیک پہنچا وہ مجھے دیکھ کر ایک لمحے کو چونکی ضرور تھی مگر پھر سنبھل گئی۔ میں نے پہلے اپنا تعارف کرانا ضروری سمجھا پھر میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کورٹ کس سلسلے میں آئی ہے۔
’’میں… میں نے اپنے شوہر عرفان کو حاصل کرنے کے لیے سول کورٹ سے رجوع کیا ہے۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’شوہر کو حاصل کرنے کے لیے۔‘‘ میں بے اختیار چونکا۔
میرے چونکنے کی وجہ یہ تھی کہ عموماً لوگ اپنی بیویوں کے خلاف درخواست دیتے ہیں کہ وہ میکے جاکر بیٹھ گئی ہیں اور عدالت انہیں حق زوجیت ادا کرنے کا حکم صادر کرے۔ یہ پہلی خاتون تھی جو اپنے شوہر کو حاصل کرنے عدالت آئی تھی۔
’’ہاں میں اپنے شوہر کو حاصل کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’کیا تمہارے شوہر کو کسی نے قید کرلیا ہے؟‘‘ میں نے نوٹ بک سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
’’میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے میرے شوہر عرفان کو اس گھر والوں نے دولت کی چمک دمک دکھا کر چھین لیا ہے۔ اس کی خاطر میں نے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا تھا مگر برا ہو میرے سسرال والوں کا انہوں نے ہمیں ایک سال بھی ساتھ رہنے نہیں دیا۔ محض مجھ سے انتقام لینے کی غرض سے ایک امیر خاندان میں عرفان کی دوسری شادی کرانا چاہتے ہیں۔ میں یہ برداشت ہی نہیں کرسکتی کہ عرفان کسی اور کا ہو میں کورٹ کے ذریعے اس شادی کو رکوا کر عرفان کو حاصل کروں گی۔‘‘
’’اگر تمہارے شوہر نے تمہیں دھوکہ دیا ہے تو پھر اسے کیوں حاصل کرنا چاہ رہی ہو‘ چھوڑ دو اسے تم نوجوان ہو۔ حسین ہو تمہیں کوئی بھی دوسرا نوجوان اپنالے گا۔‘‘
’’نہیں…‘‘ وہ سخت غصے سے آگئی۔ ’’عرفان میرا ہے اور اس کی دنیا کی کوئی طاقت ہم دونوں کو جدا نہیں کرسکتی۔‘‘ اسے شدید غصے میں دیکھ کر میں بری طرح چونکا‘ وہ اس قدر اپنے بے وفا شوہر کو چاہتی ہے۔
’’لگتا ہے کہ تمہیں اپنے شوہر سے بہت محبت ہے۔‘‘ میں نے اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کو کہا۔
’’ہاں دنیا میں وہی تو ہے جس سے میں محبت کرتی ہوں اور کیوں نہ کروں اسے پانے کو میں نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ عرفان مجھ سے کہتا تھا کہ زرینہ میں دنیا میں کسی کو چاہتا ہوں تو وہ تم ہو‘ تمہارے بغیر میں زندہ رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا پھر… پھر اس نے کیوں ایسا کیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔
’’زرینہ بی بی ذرا حوصلہ سے کام لیں اور مجھے تفصیل سے بتائیں کہ تمہارے ساتھ کیا بیتی ہے۔ میرا تم سے وعدہ ہے کہ میں تمہاری کہانی کو تفصیل سے اخبار میں دوں گا تا کہ نا صرف تمہارا ش۷ہر اور اس کے گھر والے شرمندہ ہوں بلکہ دوسرے لوگوں کو اس سے نصیحت حاصل ہو۔‘‘ میں نے لوہا گرم دیکھ کر کہا۔
مجھے اس کی کہانی سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ مجھ میں اور ایک عام رپورٹر میں یہی فرق ہے۔ مجھے بچپن سے ہی کہانی لکھنے کا شوق ہے‘ ظاہر ہے کہانیاں لکھنے سے گھر کا چولہا نہیں جل سکتا۔ گھر کا چولہا جلانے کے لیے کوئی دوسرا کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ دور نہیں رہا جب نواب‘ بادشاہ اور دیگر ادب کے قدردان ادیب و شاعروں اور داستان گو حضرات کا وظیفہ مقرر کردیا کرتے تھے تاکہ وہ گھر سے بے فکر ہوکر شعر و ادب کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔
ادیب و شاعروں کے لیے صحافت ایک اچھا کام ہے‘ صحافت میں رہ کر وہ اپنی ادبی تخلیقات تخلیق کرنے میں بھی سرگرم رہتے ہیں اور گھر کا چولہا بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔
’’کیا تم میری آپ بیتی شائع کرو گے؟‘‘ وہ بولی۔
’’ہاں ہمارا کام یہی ہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں ضرور تمہیں اپنی کہانی سنائوں گی۔‘‘ وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ میں پوری توجہ سے اس کی طرف متوجہ تھا۔ مجھے زرینہ کی باتوں سے اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھے آج ایک اچھی کہانی ملنے والی ہے‘ جو پڑھنے والوں کے لیے ضرور دلچسپ ہوگی۔
’’یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں کالج کی اسٹوڈنٹ تھی۔ عرفان اپنی چھوٹی بہن عرفانہ کو چھوڑنے آیا تھا جب پہلی بار میری اور عرفان کی ایک دوسرے سے نظریں چار ہوئیں بے اختیار ہم دونوں ایک دوسرے کو دل دے بیٹھے۔ دوچار مہینے ایک دوسرے کو دیکھنے میں ہی گزر گئے‘ ہم دونوں میں سے کسی نے بھی بات چیت کا آغاز نہیں کیا بس دل میں ہی یہ سوچتی رہتی تھی کہ پہلے وہ بات چیت کا آغاز کرے اور عرفان ڈرتا تھا کہ کہیں میں اس کے مخاطب ہونے پر ڈانٹ نہ دوں۔
یہ محض اتفاق ہی تھا کہ میرا اس سے بات کرنے کا ارادہ نہیں تھا ہوا یوں کہ مجھے ڈرائیور لینے نہیں آسکا کیونکہ اچانک گاڑی خراب ہوگئی اور اسے گاڑی گیراج لے جانی پڑگئی۔ اس دن سڑک پر گاڑیاں بھی معمول سے کم تھیں۔ صبح ہی سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری تھا‘ عرفانہ مجھے گاڑی نہ آنے پر فکر مند دیکھ کر میری جانب بڑھا۔
’’کیا بات ہے آج تمہاری گاڑی نہیں آئی۔‘‘
’’ہاں‘ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ڈرائیور نے اتنی دیر کیوں کردی۔‘‘
’’کہیں گاڑی خراب نہ ہوگئی ہو؟‘‘ عرفانہ نے کہا۔
’’ہاں مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے ورنہ اتنی دیر تو نہیں کرتا۔‘‘ میں نے کہا ۔
’’اگر تمہیں برا نہ لگے تو میرے بھائی کی بائیک پر چل دو‘ ہم تمہیں تمہارے گھر پر ڈراپ کردیں گے۔‘‘ عرفانہ نے کہا۔
وہ میری گاڑی سے بڑی مرعوب تھی‘ اسے معلوم تھا کہ میرا تعلق ایک امیر گھرانے سے ہے۔ میرے والد ناصر ایک بڑے بزنس مین تھے ان کا وسیع کاروبار کے سبب گھر میں خوشحالی تھی۔ عرفانہ کا متوسط گھرانے سے تعلق تھا ظاہر ہے ایسے میں وہ ڈرتے ڈرتے ہی مجھے آفر کرسکتی تھی اسے یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ کہیں میں اس پر گرم نہ ہوجائوں مجھے اس وقت گھر پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے میں نے رضا مندی ظاہر کردی جس پر عرفانہ اور اس سے زیادہ عرفان خوش ہوگیا تھا۔ میرے بائیک پر بیٹھ جانے پر عرفان نے گاڑی چلادی‘ ابھی ہم مشکل سے تھوڑی دور گئے تھے اس کی گاڑی پرابلم کرنے لگی۔
’’گاڑی پرابلم کررہی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ہاں گاڑی سروس مانگ رہی ہے‘ کافی دنوں سے اس کی ٹیوننگ نہیں ہوئی ہے۔‘‘ عرفان نے کہا۔
’’گاڑی کی وقفے وقفے سے سروس ہوتی رہنی چاہیے ورنہ پرابلم پیدا ہوجاتی ہے۔‘‘ عرفانہ نے ہنستے ہوئے۔ عرفان کے ایک ریسٹورنٹ کی سامنے گاڑی روک دی۔
’’موسم بہت اچھا ہے اس موسم کا مزا لیتے ہوئے آپ دونوں سموسے اور چائے کا دور چلائو‘ میں سامنے مستری کو گاڑی چیک کراکے آتا ہوں۔‘‘ عرفان نے کہا۔
ہم دونوں نے مناسب یہی سمجھاکہ عرفان کی بات پر عمل کرلیں اسی میں غنیمت ہے ورنہ سڑک پرہر چلتا ہوا آدمی ہمیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہوا جائے گا۔ ہمارے ریسٹورنٹ میں جانے پر عرفان موٹر سائیکل لے کر مستری کے پاس چلا گیا۔ بارش ہونے سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں جو بدن کو بہت اچھی محسوس ہورہی تھیں۔ ایسے میں سموسے اور چائے کا دور بہت اچھا لگ رہا تھا ہم نے چائے اور سموسے کی دعوت جیسے ہی اڑائی عرفان بھی آگیا‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’پلک میں کچرا آگیا تھا جس سے گاڑی پرابلم کررہی تھی‘ آئو چلیں۔‘‘
’’چائے اور سموسوں کا بل ادا کرن کرے گا؟‘‘ عرفانہ نے کہا۔
’’او‘ ہاں میں بھول گیا تھا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے عرفان بل ادا کرنے کائونٹر کی طرف بڑھا۔
’’بل میں دے دیتی ہوں۔‘‘ میں نے کائونٹرکی طرف بڑھنا چاہا۔
میرے بل دینے سے پہلے ہی عرفان نے بل ادا کردیا اور پھر ہم موٹر سائیکل پر بیٹھ گئے۔ راستے میں جگہ جگہ موٹر سائیکلیں نظر آئیں جو خراب ہوگئی تھیں اور موٹر سائیکل سوار انہیں اپنے طور پر ٹھیک کرنے میں مصروف تھے زیادہ تر لوگ پلک صاف کرتے نظر آئے۔ برسات کے موسم میں حیدرآباد میں جگہ جگہ پانی بھر جانامعمول تھا۔ ذرا سی بارش ہوئی اور گھٹنوں گھٹنوں پانی بھرگیا۔
موٹر سائیکل سواروں کو بہت احتیاط برتنا پڑتی ہے ورنہ موٹر سائیکل جیسے ہی پانی میں گئی گاڑی بند۔ عرفان ایک ماہر ڈرائیور ثابت ہورہا تھا‘ وہ گہرے پانی سے بچاتا ہوا مجھے بنگلے پر چھوڑ گیا۔ گھر میں ایک مختصر سی تقریب تھی اس لیے مجھ سے کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ میں کیسے آئی کیونکہ میرے تھوڑی دیر بعد ہی ڈرائیور بھی بنگلے پر پہنچ گیا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ تھوڑا لیٹ ہوگیا تھا‘ وہ جیسے ہی کالج پہنچا چوکیدار نے اسے بتادیا تھا کہ میں جاچکی ہوں۔
’’زرینہ بیٹی! ڈرائیور بتارہا تھا کہ تم اس کے آنے سے پہلے ہی کالج سے روانہ ہوگئی تھیں۔‘‘ ابو نے مجھ سے پوچھا۔
میں اس وقت ڈرائنگ روم میں امی کے ساتھ ٹی وی پروگرام دیکھ رہی تھی۔ ابو کسی کام سے ڈرائنگ روم میں آئے تھے وہ مجھے دیکھ کر میرے قریب آئے اور پوچھ ہی لیا۔
’’ابو ڈرائیور ذرالیٹ ہوگیا ‘ میں نے سوچا بارش کا موسم ہے کہیں گاڑی خراب ہوکر گیراج پر نلی گئی ہو۔ رکشے بھی نظر نہیں آرہے تھے‘ ایسے میں عرفانہ کے بھائی نے مجھے اپنی گاڑی پر لفٹ دے دی۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’کیا وہ بھی کار میں آتی ہے؟‘‘
’’نہیں‘ اس کے بھائی کے پاس موٹر سائیکل ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’ اس کا مطلب ہے غریب فیملی سے ان کا تعلق ہے۔ زرینہ بیٹی میں نے اس کالج میں تمہیں اس لیے داخل کیا تھا کہ اس کالج کا اسٹینڈرڈ بڑا ہے‘ امیر گھرانے کی لڑکیاں پڑھتی ہیں مگر اس کے برعکس تم غریب گھرانے کی لڑکیوں سے دوستی کررہی ہو۔‘‘
’’ابو وہ میری دوست نہیں ہے کالج میں پڑھتی ہے۔ مجھے پریشان دیکھ کر اس نے آفر کی تھی۔ میں نے مجبوری میں آفر قبول کرلی۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’دیکھو زرینہ بیٹی! میں نے دنیا دیکھی ہے‘ میں جانتا ہوں کہ یہ غریب لوگ بڑے مطلب پرست ہوتے ہیں ایسے ہی امیر لوگوں سے دوستیاں گانٹھتے پھرتے ہیں پھر دوستیاں ہوجانے پر مختلف بہانوں سے نوٹ بٹورتے ہیں۔‘‘
’’ابو مجھے عرفانہ میں ایسی بات نظر نہیں آئی‘ وہ پر خلوص لڑکی لگی ہے۔‘‘
’’تم ابھی بچی ہو تمہیں نہیں پتا‘ میں جانتا ہوں ان لوگوں کو آگے چل کر تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ وہ کتنے لالچی لوگ ہیں مگر میرا تمہیں یہی مشورہ ہے کہ تم ان سے دوستی ہی مت کرو۔ کامیاب انسان وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’ہاں بیٹی تمہارے ابو بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ یہ غریب لوگ بہت ہی لالچی ہوتے ہیں ان سے دوستی رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ امی نے ابو کی بات کی تائید کی۔
میں امی اور ابو کی بات کومسترد تو نہیں کرسکتی تھی ان کا تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ تھا اور میرا تجربہ ابھی ان کے سامنے کچھ بھی تو نہیں تھا بس ہاں ہوں کرکے رہ گئی۔
میری پرورش امیر گھرانے میں ہوئی تھی میرے طور طریقے بھی ویسے ہی تھے مگر نہ جانے کیوں میرا دل نہیں مانتا تھا کہ عرفان اور عرفانہ ایسے ہوسکتے یہ شاید عرفان کی محبت تھی جو میں اس میں اندھی ہوگئی تھی جو ان پر اعتبار کرتی چلی جارہی تھی۔ اس دن کے بعد سے میری ان دونوں بہن بھائیوں سے دوستی ہوگئی تھی‘ میں اپنی سہیلی سے ملنے کا کہہ کر عرفان سے ملنے لگی تھی۔ عرفان کی ایک پرائیوٹ ادارے میں نوکری تھی‘ وہ کوشش کررہا تھا کہ کسی سرکاری ادارے میں ملازم ہوجائے مگر کامیابی نہیں ہوپارہی تھی۔ عرفان سے ہر ملاقات پر ناجانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ لالچی انسان نہیں بلکہ مخلص دوست ہے کبھی اس نے مجھ سے پیسوں یا کوئی اور ڈیمانڈ نہیں کی تھی حتیٰ کہ ابو کے پاس ملازمت کرنے کا مشورہ دینے پر بھی اس نے انکار کردیا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے‘ وہ کیا سوچیں گے کہ میں نے ایک دن تمہیں لفٹ کیا دے دی ‘ اچھی نوکری کے خواب دیکھنے لگا ہوں ۔ اس کی انہی باتوں سے متاثر تھی کہ کس قدر خوددار شخص ہے۔ میرے ایک اشارے پر اسے بہترین نوکری مل سکتی تھی۔
وہ اتوار کا دن تھا‘ چھٹی والے دن ہمارا ناشتا دن کے دس بجے ہوتا تھا۔ ہم سب ٹیبل پر جمع تھے‘ امی ابو میرے دونوں بھائی کاشف اور ماجد موجود تھے۔ ابو نے توس پر مکھن لگاتے ہوئے میری طرف دیکھا۔
’’زرینہ کل تم شام میں موٹر سائیکل پر کس کے ساتھ اور کہاں جارہی تھیں؟‘‘
میرے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک رنگ گزر گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ابو نے مجھے عرفان کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ہم دونوں ایک ریستوران میں گئے تھے‘ واپسی پر ابو کی نظر پڑگئی ہوگی۔ میں نے حواس باختہ ہونے کی بجائے سنبھل کر کہا۔
’’ابو میں عرفانہ کے گھر گئی تھی‘ واپسی پر میں رکشے میں گھر آنا چاہ رہی تھی کہ اس کا بھائی عرفان آگیا۔ اس نے کہا کہ میں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘
’’تم نے فون کرکے ڈرائیور کو کیوں نہیں بلایا‘ یہ اچھی بات نہیں کہ میری بیٹی معمولی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر آئے اور ہاں میں نے تمہیں پہلے بھی سمجھایا تھا کہ تم ان غریب لوگوں سے دوستی مت رکھو پھر بھی تم ان سے دوستی کر بیٹھی ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ تم اپنے بھائیوں کو ہی دیکھ لو ان کی کسی غریب گھرانے کے فرد سے دوستی نہیں ہے پھر بھی تم اپنے بھائیوں سے کچھ نہیں سیکھ رہی ہو۔‘‘
’’عرفانہ اور اس کے گھر والے بہت اچھے لوگ ہیں۔‘‘ میں نے ان کی حمایت کی‘ وہ غصے میں آگئے۔
’’زرینہ کیا تم نے مجھ سے زیادہ دنیا کو دیکھا ہے‘ ہاں بولو۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے مختصراً جواب دیا۔
’’پھر میں تمہیں جو کہتا ہوں وہ کرو‘ چھوڑ دو ان کو اور اپنے برابر کے لوگوں میں دوستی کرو‘ میری بات سمجھ رہی ہو نا۔‘‘
’’ہاں سمجھ رہی ہوں۔‘‘
’’پھر ٹھیک ہے میں آئندہ یہ نہیں سنوں کہ تم عرفانہ سے ملنے اس کے گھر گئی تھیں یا اس کے بھائی کی موٹر سائیکل پر گھر آئی ہو۔‘‘ ابو کا غصہ بدستور موجود تھا۔
ابو غصے کے بہت سخت تھے اس لیے میں نے غنیمت یہی جانا کہ خاموش رہوں۔ وہ جب غصے میں آتے تھے پورے گھر میں خاموشی چھا جاتی تھی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے پورے گھر کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ کسی کی مجال نہیں تھی ان کے سامنے اس وقت کوئی بول دے‘ میں نے بھی اسی لیے خاموشی لگالی تھی۔ امی جان کا چہرہ فق ہوگیا تھا وہ ڈر رہی تھیں کہ کہیں وہ مجھے چھوڑ کر ان پر نہ برس پڑیں کہ تم نے یہ سکھایا ہے زرینہ کو وہ غریب لوگوں میں جاکر دوستی کرے۔
میں نے صبح کے واقعہ سے یہی سیکھا کہ یہ شہر بہت چھوٹا ہے ہمیں بہت ہی محتاط طریقے سے ملنا پڑے گا۔ ابو جتنا چاہ رہے تھے کہ میں عرفان سے دور ہوجائوں میں اتنا ہی اس کے قریب ہوتی جارہی تھی۔ میری خود سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ مجھے عرفان سے اتنا شدید عشق کیوں ہوتا جارہا ہے۔ وہ ایک دن ملاقات نہ کرے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کئی سال سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ مجھے خرچے کے لیے ٹھیک ٹھاک رقم ملتی تھی۔ میں نے عرفان کو مشورہ دیا کہ وہ لطیف آباد میں کوئی بنگلہ کرائے پر حاصل کرلے۔ میں اس سے وہاں پر ملنے آجایا کروں جو کرائے کی مد میں اضافی رقم ہوا کرے گی میں ادا کردیا کروں گی۔ پہلے وہ نہیں مانا مگر میرے اصرار پر وہ بلآخر مان گیا کیونکہ وہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے بنگلے میں جانے پر انہیں کرائے کی مد میں جو اضافی رقم دینی پڑتی وہ میں دے رہی تھی اس لیے ان پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑرہا تھا۔
اب میں عرفان سے ملنے آسانی سے کار میں جاسکتی تھی اور ابو کو بھی اعتراض نہ ہوتا کہ میں غریب لوگوں سے دوستی کرتی ہوں۔ میں ڈرائیور کو لے کر بنگلے پر جاتی اور جو وقت اسے بتاتی وہ مقررہ وقت پر آجاتا۔زندگی اچھی گزر رہی تھی عرفان نے مجھ سے ملاقات کے لیے الگ کمرہ رکھا ہوا تھا اس میں کسی گھر کے فرد کی مجال نہیں تھی کہ میرے ہوتے ہوئے آجائے۔ گھر کا ہر فرد میرا احسان مند تھا کہ میرے تعاون سے وہ بنگلے میں رہ رہے ہیں اس سے قبل جس مکان میں وہ رہتے تھے وہ کسی کو بھی پسند نہیں تھا مگر مجبوری میں رہ رہے تھے۔ ان کی اتنی آمدنی نہیں تھی کہ کوئی اچھا کرایہ کا مکان لے سکیں۔ اب میرے تعاون سے انہیں یہ سہولت حاصل ہوگئی تھی کہ وہ اچھے گھر میں رہ سکیں اور مجھے عرفان سے ملاقات کی سہولت مل گئی۔ بنگلہ دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگاسکتا تھا کہ اس گھر میں متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ ہمیں جس آزادی سے بنگلے میں موقع مل رہا ہے یہ ہمارے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے۔ ایک دن میں جب عرفان کے گھر گئی سب گھر والے سورہے تھے وہ رات ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرکے صبح چار بجے لوٹے تھے انہیں سونے میں صبح کے پانچ بج گئے تھے اب ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ سب گھوڑے بیچ کر سورہے ہیں۔ عرفان نے بھی دفتر سے چھٹی لی ہوئی تھی۔ میں نے چوں کہ اسے بتادیا تھا کہ آج مین کالج سے چھٹی ہوتے ہی سیدھا اس سے ملنے گھر آجائوں گی اس لیے وہ نیند سے جلد ہی بیدار ہوگیا تھا۔ گھر میں ایسا سناٹا تھا جیسے وہاں کوئی نہ ہو۔
’’کیا گھر والوں کا ابھی اٹھنے کا ارادہ نہیں ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’رات بھر تھکے ہوئے ہیں‘ شام میں بارات کے ساتھ کراچی گئے تھے۔ وہاں شادی میں شرکت کرکے بارات کے ساتھ ہی واپس آگئے۔ صبح چار بجے پہنچے ہیں‘ تم ہی بتائو ایسی حالت میں کوئی جلدی سے جاگے گا۔‘‘ وہ بولا۔
’’ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
عرفان بھی میرے نزدیک ہی بیٹھ گیا تھا‘ وہ کہتے ہیں نا کہ جب مرد اور عورت تنہا ہوں تو تیسرا شیطان ہوتا ہے ایسا ہی اس وقت ماحول ہوگیا تھا۔ سوتے ہوئے لوگ نہ ہونے کے برابر ہی تھے عرفان کھسک کر میرے اور قریب ہوگیا تھا۔ باتیں کرتے ہوئے اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا‘ اس کے ہاتھ کا لمس میرے بدن میں حرارت پیدا کررہا تھا دل میں آئی کہ اس سے کہہ دوں کہ اپنا ہاتھ ہٹالے لیکن میں ایسا چاہنے کے باوجود نہ کرسکی۔ وہ حوصلہ پاکر میرے قریب ہو گیا اور اپنی مخمور سی آنکھیں لیے میرے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے اس عمل سے میرے تن بدن میں ایک انجانا سا نشہ اتر رہا تھا میری نس نس میں کیف وسرور کی لہریں دوڑا رہا تھا۔ کچھ دیر ہم یونہی باتیں کرتے رہے پھر آہستہ آہستہ عرفان کی شرارتوں میں اضافہ ہوتا گیا اور میں سب کچھ دیکھتے ہوئے اسے روک نہ سکی پھر وہ ہوگیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہم دونوں ہی اس حرکت پر شرمسار تھے مگر انجانے میں یہ فعل ہم سے سرزد ہوگیا تھا۔
میرا خیال تھا عرفان دوبارہ ایسا نہیں کرے گا میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ وہ ہفتے پندرہ دن میں پھر وہی حرکت کر بیٹھتا میں عرفان کو سمجھاتی کہ ’’عرفان یہ سب غلط ہے جو کام شادی کے بعد میں کرنے کے ہیں وہ شادی کے بعد ہی اچھے لگتے ہیں‘ اس کا ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔‘‘
میری بات پر ہاں ہوں کرکے رہ جاتا۔ مجھے عرفان سے محبت تھی میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتی تھی اس لیے سمجھا ہی سکتی تھی۔ گھر میں اسے تنہائی میسر تھی جس کا وہ بھرپور فائدہ اٹھار ہا تھا اور پھر وہی ہوگیا جس کا مجھے ڈر تھا۔ یہ خبر مجھ پر بجلی بن کر گری تھی کہ میں ماں بننے والی ہوں جب میں نے اسے یہ خبر سنائی وہ بھی ایک لمحے کو پریشان ہوگیا تھا مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
’’اس کا ایک حل میری سمجھ میں آتا ہے کہ شادی ہمیں ویسے بھی کرنا ہے تو کیوں نہ ہم کورٹ میرج کرلیں۔‘‘
’’عرفان میرے امی ابو کیا سوچیں گے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے وہ ہمیں اس کارنامے پر شاباش دیں گے‘ میری سمجھ میں یہی آرہا ہے اگر تمہارے ذہن میں اس سے اچھا حل ہے تو وہ بتادو۔‘‘ عرفان نے کہا۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا‘ سوچ سوچ کر دماغ گھومتا محسوس ہورہا تھا۔ امی بھی مجھ سے کئی بار پوچھ چکی تھیں کہ کیا بات ہے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔ میں انہیں کیا بتاتی‘ مجھے اپنی عزت اسی میں نظر آئی کہ کنواری ماں بننے سے بہتر ہے کہ میں کورٹ میرج کرلوں۔ میں نے عرفان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کورٹ میرج کرلی مگر اس کا اعلان نہیں کیا۔
یہ میری خام خیالی تھی کہ کورٹ میرج کی خبر کو چھپالینے سے معاملہ دب جائے گا۔ میرے جسم میں تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا تھا وہ کسی طرح بھی چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔ میرے جسم میں تبدیلیاں رونما ہونے پر امی نے مجھ سے استفسار کیا۔ اس وقت میرے ذہن میں خیال آیا کہ جو بات کل بتانی ہے وہ آج ہی بتادی جائے۔میری بات سن کر امی جان کا چہرہ فق رہ گیا‘ انہیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔
’’زرینہ تم نے اپنی زندگی کاا تنا بڑا اور اہم فیصلہ کیسے کرلیا‘ کیا تمہیں اپنے خاندان کی عزت کا ذرا بھی خیال نہیں آیا۔‘‘ امی جان دیر تک نجانے کیا کچھ کہتی رہی‘ میں خاموشی سے ان کی بات سنتی رہی۔ واقعی میں نے اچھا نہیں کیا تھا مگر کرتی بھی کیا مجھے خاندان کی عزت بچانے کے لیے یہی طریقہ اچھا لگا تھا وہ میں کر گزری تھی خدا جانتا ہے یہ سب کچھ مجبوری میں کیا تھا۔ ابو پر یہ خبر بجلی بن کر گری تھی ان کی معاشرے میں عزت تھی وہ کس طرح یہ برداشت کرتے کہ ان کی بیٹی کے بارے میں لوگوں کو پتا چلے کہ ان کی بیٹی نے کورٹ میرج کرلی ہے۔ابو نے امی کے ذریعے صاف صاف کہلوادیا تھا کہ میں عرفان سے طلاق لے لوں وہ اس کے بدلے جتنی رقم کی ڈیمانڈ کرے گا ہم دے دیں گے اور اس کے گند کو بھی صاف کرالوں تاکہ معاشرہ ہم پر انگلیاں نہ اٹھاسکے۔ دوسری صورت میں مجھے یہ گھر چھوڑنا پڑے گا‘ میں عرفان کی محبت میں اتنی اندھی ہوگئی تھی کہ میں نے اس سے طلاق لینے کی بجائے گھر چھوڑنا منظور کرلیا ۔ گھر چھوڑتے ہوئے جتنا دکھ مجھے ہوا تھا وہ کسی کو بھی نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ گھر چھوڑنے کا مطلب یہی تھا کہ سب سے رشتے ناتے ختم ہوگئے تھے۔ میں نے جب عرفان کو بتایا کہ میں اپنا گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس کے پاس آگئی ہوں‘ وہ بہت خوش ہوگیا تھا۔
’’یہ تم نے بہت اچھا کیا تمہیں اس گھر میں آنا تھا یہ گھر ہی تمہارا اصل گھر ہے۔‘‘
’’عرفان مجھے دھوکا مت دینا‘ میں سب رشتے ناتے توڑ کر تمہارے پاس آئی ہوں۔‘‘
’’بے وقوف ہو تم کبھی انگلی سے ناخن جدا ہوتے ہیں‘ ہم نے جو کام کیا ہے وہ اچھا نہیں ہے گھر والوں کا وقتی طور پر ناراض ہونا بجا ہے تم دیکھنا کچھ عرصہ گزرنے پر انہیں تم سے ملنے کی تڑپ اسے ہم سے ملا دے گی۔‘‘
’’کاش ایسا ہو تم میرے ابو کو نہیں جانتے‘ وہ ایک بار جو فیصلہ کرلیتے ہیں پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کے فیصلے کو نہیں بد ل سکتی۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’میں مانتا ہوں ایسا ہوگا لیکن خون کے رشتے کی الگ بات ہوتی ہے ان کے لیے انسان کو اپنے فیصلوں میں ردو بدل کرنا پڑجاتا ہے۔‘‘ عرفان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ میں نا چاہتے ہوئے بھی عرفان کو مسکراتا دیکھ کر ہنس دی۔
مجھے اپنے سسرال میں رہتے ہوئے پلک جھپکتے ایک ماہ کا عرصہ ایسے گزر گیا تھا کہ جیسے کل کی بات ہے۔ عرفان اور اس کے گھر والوں کی طرف سے مجھے جو پیار ملا تھا‘ اس کے سبب میں سب غم بھول گئی تھی۔ گھر والے یاد ضرور آتے تھے ان کی یاد آنے پر میں رنجیدہ ہوجاتی‘ ایسے میں عرفان مجھے سمجھاتا کہ گھبرائو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔
ایک ماہ گزرجانے پر میں محسوس کرنے لگی تھی کہ گھر والے کچھ کھنچے کھنچے سے لگنے لگے تھے۔ عرفان بھی پریشان نظر آنے لگا تھا‘ اسے پریشان دیکھ کر میرا پریشان ہونا بجا تھا جب مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اس سے پوچھ ہی لیا۔
’’کیا بات ہے عرفان! تم پریشان رہنے لگے ہو۔‘‘
’’ہاں زرینہ! بات ہی ایسی ہے۔‘‘ وہ بولا۔
’’کیوں‘ کیا ہوا؟‘
’’ڈلیوری سر پر آگئی ہے اوپر سے بنگلے کا کرایہ دینا مشکل ہورہا ہے میری آمدنی اتنی ہے نہیں کہ بنگلے کا کرایہ اور گھر کے اخراجات پورے کرسکوں۔‘‘ عرفان نے بتایا۔
’’تم گھبرائو نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ میں نے اسے حوصلہ دیا۔
’’میری سوچ سوچ کر دماغ کی نسیں پھٹنے کو ہیں اور تم کہہ رہی ہو‘ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ عرفان نے غصے سے کہا۔
’’عرفان اس طرح غصہ کرنے سے کیا مسئلہ حل ہوجائے گا۔‘‘
’’پھر کیا کروں تم ہی مجھے بتادو۔‘‘
’’تم پریشان نہیں ہو میرے پاس سونے کی جیولری ہے وہ تم بیچ کر کام چلا لو۔ ڈلیوری ہوجانے پر میں کوئی نوکری کرلوں گی اس طرح گھر کا کام چل جائے گا۔‘‘
’’میں کچھ اور ہی سوچ رہا ہوں میں کب تک نوکری کرتا رہوں گا‘ تمہارے والد کا اتنا بڑا کاروبار ہے۔ تم جاکر ان سے جائیداد میں سے اپنا حصہ کیوں نہیں مانگ لیتیں اس طرح جو رقم ملے گی میں اس سے چھوٹا موٹاکاروبار کرلوں گا۔‘‘ عرفان نے کہا۔
’’میں وہ گھر چھوڑ چکی ہوں ‘ میں اپنے ابو کو اچھی طرح جانتی ہوں وہ مجھے جائیداد سے حصہ دینے کی بجائے عاق کردیں گے اسی لیے ہماری خاموشی میں ہی بہتری ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں‘ تم نہیں چاہ رہی تو میں کون ہوتا ہوں تمہیں جائیداد سے حصہ دلانے کے لیے اکسانے والا۔‘‘ عرفان نے یہ کہتے ہوئے گردن نیچے جھکالی۔
’’میرے اب سب کچھ تم ہی ہو‘ اس طرح کی باتیں کرکے مجھے دکھی مت کیا کرو۔ لو یہ جیولری اس سے کام چلالو۔‘‘میں نے اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں اور دیگر زیورات اس کی جھولی میں ڈال دیئے۔
’’مجھے اچھا نہیں لگ رہا ہے کہ تمہیں زیورات پہنانے کی بجائے جو تمہارے گھر کے زیورات ہیں وہ بھی فروخت کردوں۔‘‘ عرفان نے کہا۔
’’ہم پھر بنوالیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’زیورات دیتے ہوئے مجھے اندر سے بہت دکھ ہورہا تھا میں نے کتنے شوق سے یہ زیورات بنوائے تھے اور آج حالات ایسے رخ پر آگئے تھے کہ مجھے بیچنا پڑرہے تھے۔‘‘
میرے زیورات بکنے سے گھر میں پھر سے خوشیاں لوٹ آئیں‘ سب خوش تھے اچھا کھانا ‘ اچھے کپڑے ملنے سے سب کے رویوں میں تبدیلی آگئی تھی۔ میں بھی خوش تھی کہ زیورات کی قربانی دینے سے گھر میں خوشیاں لوٹ ئیں‘ مجھے کیا پتا تھاکہ یہ خوشی عارضی ثابت ہوگی۔ میری بچی کی ولادت سے گھر والوں کا منہ بن گیا تھا ان سب کی خواہش تھی کہ لڑکا ہوگا۔ عرفان بھی میرا دل رکھنے کو میرا حوصلہ بڑھا رہا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے جب لڑکی ہوتی ہے تو لڑکا بھی ہوجائے گا تم کیوں غم زدہ ہوتی ہو۔ مجھے حوصلہ دیتے ہوئے اس کا چہرہ ساتھ نہیں دے رہا تھا جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ لڑکی ہونے پر وہ بھی خوش نہیں ہے۔سب کچھ جانتے ہوئے بھی میں بھلا کیا کرسکتی تھی۔ صبر و شکر کرکے خاموش رہی‘ لڑکی کی ولادت ہوئے مشکل سے ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ عرفان نے اعلان کردیا کہ اگلے ماہ ہم یہ بنگلہ خالی کرکے واپس پرانے گھر میں چلے جائیں گے جب مجھ تک یہ خبر پہنچی میں چونکی اور رات میں جب ہم سونے کو لیٹے میں نے پوچھ ہی لیا۔
’’عرفان میں یہ کیا سن رہی ہوں۔‘‘
’’کیا سن لیا۔‘‘ اس نے مصنوعی حیرت سے میری طرف دیکھا۔
’’تم یہ بنگلہ چھوڑ کر پرانے گھر میں جارہے ہو۔‘‘
’’ہاں تم نے ٹھیک سنا ہے۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اس کے بغیر کوئی گزارہ نہیں ہے‘ میری اتنی تنخواہ نہیں ہے کہ ہم بنگلے میں رہنے کی عیاشی کرسکیں۔ ہمیں اپنی اوقات میں رہتے ہوئے ایسے مکان میں رہنا چاہیے جو ہماری گنجائش کے مطابق ہو۔‘‘
’’میں نے جو زیورات دیئے تھے؟‘‘
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ ان زیورات کے پیسے ابھی تک چلتے رہیں گے۔‘‘ وہ غصے سے بولا۔
’’میں تم پر کسی قسم کا شک نہیں کررہی‘ میں پوچھ رہی ہوں۔‘‘
’’میں بھی بتارہا ہوں کہ وہ پیسے ختم ہوگئے ہیں اور تم یہ چاہتی ہو کہ ہم اس بنگلے میں کرائے پر رہتے رہیں تو اپنے باپ سے کہہ دو کہ وہ اپنی جائیداد میں سے حصہ دے دیں۔‘‘ عرفان نے کہا۔
وہ کہہ تو ٹھیک رہا تھا کہ والد صاحب کی جائیداد میں سے بیٹی کا بھی حصہ ہوتا ہے اگر مجھے حصہ مل جانے سے ہم خوش حال زندگی گزار سکیں توکون سی بری بات ہے۔ حقیقت یہی تھی کہ میرا دل جائیداد میں سے حصہ لینے کو نہیں چاہ رہا تھا مگر میں عرفان کو پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس لیے میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جائیداد سے حصہ لینے پہنچ گئے‘ ابو مجھے دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
’’تم… تم… کیوں آئی ہو‘ ضرور تمہیں عرفان نے جائیداد میں حصہ مانگنے کے لیے مجبور کیا ہوگا۔‘‘ وہ بولے۔
’’وہ…‘‘ میں گھبرا سی گئی تھی‘ ان کا اندازہ درست تھا۔ میں پھر سنبھل گئی میں نہیں چاہتی تھی کہ سسرال میں عرفان کے متعلق کسی بھی قسم کی غلط رائے قائم ہو‘ اس لیے میں نے بات بنائی۔
’’ابو عرفان بہت اچھے انسان ہیں‘ وہ بھلا مجھے کیوں جائیداد میں سے حصہ لینے کو بھیجیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں ان لوگوں کی فطرت اچھی طرح سے جانتا ہوں‘ تم عرفان کی وکالت نہ کرو جن لوگوں کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد نہیں ہوتا وہ شارٹ کٹ راستے سے راتوں رات امیر بننے کے لیے تم جیسی لڑکیوں کو پھانس کر ان سے کورٹ میرج کرتے ہیں پھر انہیں مجبور کرتے ہیں کہ جائیداد میں سے حصہ مانگو۔‘‘
’’عرفان نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا‘ میں خود ہی چاہ رہی ہوں کہ وہ نوکری کرنے کے بجائے چھوٹا موٹا کاروبار کرلیں تاکہ ہم دونوں کی زندگی اچھی گزر سکے۔‘‘ میں نے کہا۔ ابو میری بات پر غصہ کرنے کی بجائے مسکرادیئے۔
’’زرینہ! تمہاری بہت اچھی زندگی گزر سکتی ہے تم میری بات مان لو۔ عرفان سے چھٹکارا حاصل کرلو پھر دیکھو میں تمہار ے لیے کیا کچھ کرتا ہوں۔‘‘ ابو نے کہا۔
’’نہیں… نہیں… میں عرفان کو نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘میں نے گھبرا کر کہا۔
’’کیوں… کیوں نہیں چھوڑ سکتی۔‘‘ وہ بولے۔
’’میں ایک بچی کی ماں بن چکی ہوں۔‘‘
’’یہ کون سا مسئلہ ہے اس گند کو اسی کے منہ پر ماردو پھر تم آزاد ہوجائو گی۔‘‘
’’نہیں‘ میں اپنی بیٹی کو خود سے الگ نہیں کرسکتی۔‘‘ میں نے اپنا فیصلہ سنایا۔
’’ٹھیک ہے پھر تم عرفان کو یہ خوشخبری سنادینا کہ مجھے جیسے ہی پتا چلا تھاکہ تم نے عرفان سے کورٹ میرج کرلی ہے میں نے تمہیں اپنی جائیداد سے عاق کردیا تھا۔ وہ تمہیں طلاق دینے پر راضی ہوجائے تو میں اپنی جائیداد میں سے اسے بہت کچھ دینے کو تیار ہوں۔‘‘ ابو نے کہا۔
مجھے اچھی طرح سے اندازہ تھا جب ابو کسی بات کا انکار کردیں ان سے ہاں کرانا ناممکن بات تھی۔ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر جائیداد میں سے حصہ لینے چلی گئی تھی مگر ابو مجھے جائیداد سے کچھ دینے کو تیار نہ تھے۔ میں مایوس گھر لوٹ آئی‘ میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر ہی عرفان سمجھ گیا‘ میری ابو سے کیا بات ہوئی ہے۔
’’میں نے ٹھیک ہی سوچا ہے نا پرانے مکان میں جانے کا۔‘‘
’’ہاں تم نے ٹھیک ہی سوچا ہے۔‘‘ میں نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
میری ساس اور نند عرفانہ نے مجھ پر بہت زور دیا کہ میں جائیداد میں سے حصہ مانگوں اس پر مجھے غصہ آگیا اور میں نے غصے میں بھرکر کہا۔
’’کون سا حصہ… کیسا حصہ… کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ جسے جائیداد سے عاق کردیا گیا ہو اور پھر بھی اسے حصہ ملا ہو۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میری ساس زبیدہ کو ایک جھٹکا لگا۔ ’’کیا تمہارے باپ نے تمہیں جائیداد سے عاق کردیا ہے؟‘‘
’’نہیں تو کیا وہ مجھے تمغہ جرأت دیتے‘ میں نے کورٹ میرج کرکے نافرمانی کی ہے اور نافرمان اولاد کو عاق ہی کیا جاتا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم نے ہمیں پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ساس نے پوچھا۔
’’مجھے خود نہیں پتا تھا اب حالات سے مجبور ہوکر جانے پر یہ انکشاف ہوا ہے مجھے کورٹ میرج کرنے پر عاق کردیا گیا ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
میری ساس اس وقت کچھ نہیں بولی مگر پھر اس کا رویہ مجھ سے اچھا نہیں رہا وہ بات‘ بات میں مجھ سے جھگڑا کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگی تھی۔ ایسے مواقع پر میری نند بڑھ چڑھ کر اپنی امی کی حمایت لیتی۔ عرفان جیسے ہی شام کو گھر لوٹتا وہ شکایت کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتی‘ میں شکایتوں کی وضاحتیں کرتے کرتے تھک جاتی مگر ساس نہیں تھکتی تھی۔ مجھے اندازہ تھا کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ اس لیے ہورہا ہے کہ میں جائیداد میں سے حصے سے محروم ہوچکی ہوں جب تک جائیداد میں سے حصہ ملنے کی توقع تھی ساس اور نند کا مجھ سے رویہ اچھا تھا‘ اب ان کا رویہ تبدیل ہونا فطری تھا۔
بنگلے کو چھوڑ کر ہمیں پرانے بوسیدہ مکان میں جانا پڑگیا تھا۔ مکان پرانا اور اس کی مرمت نہ ہونے کے سبب خستہ حال تھا۔ اس مکان کو دیکھ کر مجھے وحشت سی ہورہی تھی مگر عرفان کو میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ میرے اسے کچھ کہنے پر وہ یہی کہتا کہ میری گنجائش نہیں ہے اسی لیے میں نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا‘ خاموش رہی۔
میں نے ایک پرائیوٹ اسکول میں نوکری کرلی تاکہ گھر کے خرچ میں عرفان کی کچھ مدد ہوجائے گی گھر کی ساری ذمہ داری عرفان کے کاندھوں پر آگئی تھی۔ مہنگائی تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی میں صبح اسکول بھی جاتی تھی اور اسکول سے آکر میں گھر کا کام کرتی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ میں نے اپنے گھر میں کبھی ایک برتن نہیں دھویا تھا‘ عرفان کے گھر آکر میں کھانا بھی پکاتی تھی‘ برتن بھی دھوتی‘ کپڑے بھی گھر پر ہی دھولیتی تھی۔ دھوبی کو کپڑے دینے کی فضول خرچی نہیں کرسکتی تھی‘ اتنا کچھ کرنے پر بھی میری ساس اور نند کا رویہ مجھ سے اکھڑا اکھڑا رہتا تھا۔ عرفان کے آنے پر شکایت کرنا ان کا معمول بن گیا تھا جب میری برداشت سے ان کا رویہ باہر ہوگیا تو میں نے الگ سے کرایہ کا مکان لے لیا۔ عرفان نے میرے الگ مکان لینے پراحتجاج ضرور کیا مگر پھر خاموشی اختیار کرلی۔
شام کو وہ ماں کے گھر چلا جاتا تھا‘ رات ہونے پر میرے پاس چلا آتا۔ میرے الگ گھر لینے پر مجھے بہت سکون مل گیا تھا‘ آئے دن کے جھگڑے سے نجات مل گئی تھی۔ میں بہت خوش تھی مگر میری یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی‘ اب عرفان ہفتے میں دو‘ کبھی تین راتیں ماں کے گھر گزارنے لگ گیا تھا میں جب اس بات پر احتجاج کرتی وہ کہتا۔
’’کیا میری ماں کا اتنا بھی حق نہیں ہے کہ ہفتے میں ایک رات ان کے گھر گزار لوں۔‘‘
’’میں نے کب تمہیں کہا ہے کہ اپنی ماں کے گھر نہ جائو‘ تم ضرور جائو مگر رات کو میرے پاس آجائو‘ میں عورت ہوں اکیلی کیسے رات گزاروں؟‘‘
’’کیوں نہیں گزار سکتی ‘ ہفتے میں ایک رات اکیلے گزار لینے میں کون سی قیامت آجائے گی جن عورتوں کے شوہر باہر ممالک جاتے ہیں وہ بھی تو گھر میں اکیلے زندگی گزارتی ہیں۔‘‘وہ کہتا۔
’’بس میں نے کہہ دیا کہ رات تم میرے پاس ہی گزارو گے۔‘‘ میں کہتی۔ میرے کہنے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا وہ ایسے ہی اپنی ماں کے گھر راتیں گزارتا رہا۔
ایک دن میری بچی کی طبیعت سخت خراب ہوگئی‘ میں پوری رات عرفان کا انتظار کرتی رہی وہ نہیں آیا میں حالانکہ شام میں ڈاکٹر سے دوائی دلا کر لائی تھی مگر دوائی سے وقتی آرام ضرور آگیا تھا مگر رات میں پھر طبیعت خراب ہوگئی عرفان گھر میں ہوتا تو میں اس کے ساتھ اسپتال چلی جاتی۔ میں عورت زاد کیسے اکیلی رات میں جاتی۔ پوری رات میری پریشانی میں گزری‘ میں یہی سوچتی رہی کب صبح ہو اور میں اسپتال لے کر جائوں۔ صبح ہونے پر میں بچی کو اسپتال لے کر گئی مگر مجھے بہت دیر ہوگئی تھی میری بچی اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔میں روتی ہوئی اپنی ساس کے گھر گئی وہاں عرفان بڑے مزے سے سورہا تھا۔ میں نے روتے ہوئے بچی کے مرجانے کا بتایا‘ اس نے یہ خبر ایسے سنی جیسے کسی غیر کی بچی کی مرنے کی خبر ہو۔
’’اوپر سے کمر توڑ مہنگائی ایسے میں اب اس کے کفن دفن کا بھی انتظام کرنا پڑے گا۔‘‘
میں بچی کے مرنے سے گم صم رہنے لگی تھی میں نے جس کی خاطر ماں‘ باپ‘ بھائیوں کو چھوڑا‘ جائیداد سے اپنے حصے سے محروم ہوئی۔ اس کا یہ صلہ ملا ہے‘ عرفان بھی مجھ سے بے پروا سا ہوگیا تھا۔ اچانک مجھے خبر ملی کہ میری ساس میرے شوہر عرفان کی شادی کسی امیر گھرانے میں کررہی ہے یہ خبر مجھ پر بم بن کر گری تھی میں نے جب عرفان سے اس خبر کے بارے میں استفسار کیا تو وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’اس میں حرج ہی کیا ہے‘ کیا لوگ دو شادیاں نہیں کرتے۔ میں تمہارے بھلے کے لیے ہی دوسری شادی کررہا ہوں کہ اس بہانے ہم لوگ بہتر زندگی گزارلیں گے۔‘‘
’’تم مجھ پر سوکن لارہے ہو اور پھر یہ کہہ رہے ہو کہ ہم بہتر زندگی گزار لیں گے‘ میں ایسا ہر گز بھی نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
’’زرینہ! میری بات سمجھنے کی کوشش کرو‘ لڑکی کے والدین مجھے کاروبار کے لیے بہت اچھی رقم دے رہے ہیں‘ میرے کاروبار سے گھر میں خوش حالی آجائے گی۔‘‘
’’خوش حالی آجائے گی‘ عرفان میں نے تمہیں پانے کے لیے خوش حالی کو خیرباد کہہ دیا پھر بھی تم میری وفائوں کا یہ صلہ دے رہے ہو‘ میرے ہوتے ایسا نہیں ہوگا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں بھی دیکھتا ہوں کہ مجھے شادی کرنے سے کون روکتا ہے ہاں ایک صورت ہے تم اپنے والد سے جائیداد میں سے حصہ لے آئو‘ میں دوسری شادی نہیں کروں گا۔‘‘ عرفان نے مکاری سے میری طرف دیکھا۔
میں کسی صورت یہ برداشت نہیں کرسکتی تھی کہ عرفان مجھ پر سوکن لائے۔ وہ دولت کی خاطر سوکن لانا چاہتا تھا اس لیے میں مجبور ہوگئی کہ ابو کے پاس پھر جائوں میں انہیں اپنی مجبوری بتائوں گی شاید ان کا دل پسیج جائے اور وہ مجھے اپنی جائیداد میں سے حصہ دینے پر مجبور ہوجائیں آخر کو وہ میرے والد تھے۔ اس طرح عرفان مجھ پر سوکن نہ لاسکے گا‘ میری خود سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ عرفان مجھ پر ظلم پہ ظلم کررہا تھا اور میں اندھی ہوکر اس کی محبت میں گرفتار ہوچلی تھی اس سے جدائی کا تصور کرکے کانپ جاتی تھی۔
میں ابو کے پاس بڑی امیدوں کے ساتھ گئی تھی‘ ابو نے مجھے حوصلہ دینے کی بجائے عاق نامہ کی کاپی تھمادی۔ وہ کسی صورت میں اس رشتے کے برقرار رہنے کے قائل نہیں تھے‘ امی جان چاہ رہی تھیں کہ وہ کچھ رقم بیٹی سمجھ کر نہیں تو ایک مجبور عورت سمجھ کر میری مدد کردیں مگر وہ کسی صورت بھی مجھے پھوٹی کوڑی دینے کو تیار نہ تھے۔ امی جان بھی ان کے آگے مجبور تھیں وہ انہیں مشورہ دے سکتی تھیں مجبور نہیں کرسکتی تھیں۔ میں مایوس ہوکر چلی آئی‘ مجھے اپنے چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا تھا۔ ابو کی خواہش تھی کہ عرفان سے طلاق لے لوں مگر میں دل کے ہاتھوں مجبور تھی‘ میں کسی بھی صورت عرفان کو خود سے جدا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ عاق نامہ کی کاپی دیکھ کر عرفان نے زور دار قہقہہ لگایا۔
’’ہوں‘ تم یہ تحفہ لائی ہو میرے لیے۔‘‘
’’عرفان! تم میری بات کو سمجھو میرے ابو جو چاہ رہے ہیں وہ میں نہیں کرسکتی۔‘‘میں نے کہا۔
’’وہ کیا چاہ رہے ہیں؟‘‘
’’وہ چاہتے ہیں کہ میں تم سے طاق لے لوں ‘ میں ایسا ہر گز بھی نہیں کروں گی۔‘‘
’’بے وقوفی کی باتیں نہیں کرو ان کی بات مان لو‘ اس بہانے تمہیں بھی فائدہ ہوجائے گا اور شاید طلاق کے عوض وہ مجھے بھی کچھ دے دیں۔‘‘
’’آگئے نا اپنی اصلیت پر میرے ابو ٹھیک کہہ رہے تھے تم نے مجھ سے کورٹ میرج دولت کی خاطر کی تھی۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔
’’اس میں برا ماننے کی کون سی با ت ہے ہر شخص اپنے فائدے کے لیے کرتا ہے تم سے کورٹ میرج کرنے میں مجھے فائدہ نظر آرہا تھا اب تمہارے والد طلاق دینے میں مجھے فائدہ دے سکتے ہیں تو میں تمہیں طلاق دے کر فائدہ لے لوں گا۔ غربت اور پریشان کن زندگی گزار دینے سے سمجھوتہ کرلینا زیادہ بہتر ہے۔‘‘ عرفان نے کہا۔
’’کان کھول کر سن لو میں نہ طلا ق لوں گی اور نہ ہی تمہاری دوسری شادی ہونے دوں گی۔ میں کورٹ جائوں گی‘ کورٹ سے انصاف نہ ملنے پر تمہیں زندہ نہیں چھوڑ وں گی۔ تم صرف میرے ہو اور میرے ہی رہو گے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’یہ وقت بتائے گا کہ کون کس کاہے فضول بحث کرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔‘‘ عرفان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا۔
میں سمجھ رہی تھی کہ معاملہ ختم ہوگیا ہے مگر ایسا نہیں ہوا اس کی شادی کی تاریخ طے ہوچکی ہے اسی لیے میں نے کورٹ سے رجوع کیا ہے۔‘‘ زرینہ نے کہا۔
میں ابھی زرینہ سے مزید سوالات کرنا چاہ رہا تھا کہ وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ میرے ذہن میں نہیں تھا کہ وہ اس طرح اچانک آگے بڑھ جائے گی۔ اس لیے مجھے بھی تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پیچھے جانا پڑا‘ وہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اچانک میں کسی آدمی سے بری طرح ٹکرا گیا‘ میرا پین اور نوٹ بک بھی زمین پر گرپڑی۔
’’خلیل جبار! دیکھ کر چلا کرو‘ اس طرح لوگوں سے ٹکرانا اچھی بات نہیں ہوتی۔‘‘ ایس ایم رضوی نے چہکتے ہوئے کہا۔
’’میں دراصل ایک خبر کی…‘‘ میں نے نوٹ بک اور پین اٹھاتے ہوئے کہنا چاہا۔
’’خبر پوری نہیں ملی ہوگی۔‘‘ نعیم قریشی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ہاں میں خبر پوری کرنے کے لیے خاتون کے پیچھے دوڑا تھا‘ ارے وہ کہاں غائب ہوگئی۔‘‘ میں چونکا۔
کورٹ کے احاطے میں زرینہ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی وہ کیسے کورٹ کے احاطے سے غائب ہوگئی۔ نعیم قریشی اور ایس ایم رضوی مسلسل مسکرارہے تھے۔
’’زرینہ کا پتا ہے تمہارے پاس ہے۔‘‘ نعیم قریشی نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’نہیں…‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’کس کورٹ میں اس کا مقدمہ چل رہا ہے۔‘‘ ایس ایم رضوی نے پوچھا۔
’’میں اس سے یہی پوچھنا چاہ رہا تھا مگر وہ اچانک تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل دی۔ میں اس کے تعاقب میں جارہا تھاکہ تم سے ٹکر ہوگئی اور وہ غائب ہوگئی۔‘‘
’’نعیم بھائی میرا خیال ہے خلیل جبار کی خبر مکمل کرادیتے ہیں۔‘‘ ایس ایم رضوی نے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’ہاں لکھوادو۔‘‘ نعیم قریشی نے کہا۔
’’آئو خلیل جبار! کینٹین میں چلتے ہیں وہاں چل کر تمہاری خبر پوری کراتے ہیں۔‘‘ ایس ایم رضوی نے کینٹین کی جانب بڑھتے ہوئے کہا۔
دونوں کی گفتگو سے مجھے انداز ہوگیا تھا کہ ان کی زرینہ سے بات چیت ہوگئی ہے اور انہیں پتا چل گیا ہے کہ کس کورٹ میں اس کا مقدمہ چل رہا ہے۔
’’گلو! یہ کیا ہے گرمی میں گرم پانی رکھا ہے‘ دیکھ رہے ہو تین معزز صحافی کینٹین میں آئے ہوئے ہیں۔جلدی سے ٹھنڈا پانی لے کر آئو۔‘‘ ایس ایم رضوی بیرے پر برہم ہوگئے۔
’’رضوی بھائی! ابھی لاتا ہوں فکر کیوں کرتے ہو۔‘‘ گلونے کہا۔
’’اور ہاں فریج میں سے پانی لانا‘ اس گندی ناند میں سے نہیں لانا‘ تم نے گندا پانی پلا پلا کر لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی اور سی کا مریض بنادیا ہے۔‘‘ ایس ایم رضوی نے کہا۔
’’رضوی بھائی خیریت ہے نا‘ آج بڑے غصے میں ہو۔‘‘ گلو نے فکر مند لہجے میں کہا۔
’’ہاں ہاں خیریت ہے تم فوراً ٹھنڈا پانی اور گرم گرم چائے لائو اور ہاں کچھ بسکٹ بھی لے آنا۔‘‘
’’رضوی بھائی! آج چائے کے ساتھ بسکٹ بھی منگوارہے ہو۔‘‘ نعیم قریشی نے کہا۔
’’ہاں سمجھا کرو شروع کی تاریخ میں اپنی جیب گرم رہتی ہے سمجھا کرو۔‘‘ ایس ایم رضوی نے کہا۔
’’اور یہ گلو کو کس خوشی میں گرم کردیا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سمجھا کرو خلیل جبار! ایسا کرنا پڑتا ہے ورنہ یہ لوگ صحافیوں کی خدمت کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ ایس ایم رضوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ٹھنڈا پانی اور گرم چائے آچکی تھی بسکٹ بھی گلو رکھ گیا تھا۔ بسکٹ اور چائے کا دور چل پڑا‘ ایس ایم رضوی میں یہ بات تھی جب اس کی جیب میں نوٹ ہوں ساتھیوں کی خوب خدمت کرتا ہے خاص طور پر کورٹ رپورٹر حضرات کی۔
’’تم اس خبر کے لیے بڑے بے چین ہوگئے۔‘‘ ایس ایم رضوی مسکرایا۔
’’ہاں خبر ہی ایسی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اس نے تمہیں یہاں تک ہی بتایا ہوگا کہ کس طرح اس کی عرفان سے ملاقات ہوئی اور پھر شادی ہونے کے ایک سال ہونے سے قبل ہی عرفان کے گھر والوں نے اس کی شادی کسی امیر گھرانے میں کرانے کی کوشش شروع کرادی ہے اور وہ اپنے شوہر کو حاصل کرنے کے لیے کورٹ آئی ہے۔‘‘
’’ہاں اتنا ہی بتایا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اب اس سے آگے کی کہانی میں تمہیں بتاتا ہوں جسے سن کر تم چونک اٹھو گے۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نعیم بھائی!‘‘ ایس ایم رضوی نے نعیم قریشی کی طرف دیکھا‘ نعیم قریشی نے تائید میں گردن ہلائی۔
’’میں چونک اٹھوں گا۔‘‘ میں چونکا۔
’’ہاں ایسی ہی بات ہے‘ یہ بات ہے کچھ عرصہ قبل کی۔ میرے اخبار کے لیے زرینہ کی خبر بڑی اہم تھی ہمارا اخبار خواتین کی خبروں کوبڑی شہ سرخیوں سے شائع کرتا ہے۔زرینہ اپنے شوہر کو بڑی شدت سے چاہتی تھی وہ کس بھی طرح یہ گوارا نہیں کرسکتی کہ اس کا شوہر اس پر سوکن لائے۔ اسے شوہر کی جدائی بھی برداشت نہیں تھی اس کے برعکس عرفان کو زرینہ سے زیادہ اس کی دولت عزیز تھی۔ دولت نہ ملنے پر وہ ایک امیر گھرانے میں شادی کرنا چاہ رہا تھا۔ زرینہ کے عدالت میں مقدمہ داخل کیے جانے پر عرفان عدالت کے روبرو پیش ہوا اور اس نے عدالت میں طلاق نامہ داخل کردیا اور عدالت کو بتایا کہ وہ زرینہ کو طلاق دے چکا ہے وہ اور زرینہ الگ الگ گھر میں رہتے ہیں۔ اس کا زرینہ سے اب کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی نکاح نامے میں ایسی کوئی شرط تحریر ہے جس کا کرنا ضروری ہے۔ زرینہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی‘ وہ نیم پاگل سی ہوگئی تھی اس نے عرفان کے لیے اپنے ماں باپ کو چھوڑا‘ باپ کی دولت سے محروم ہوگئی اور اس کا عرفان سے صلہ طلاق کی صورت میں ملا تھا۔
ایک صبح کا ذکر ہے عرفان شادی کے چوتھے روز دفتر جارہا تھا زرینہ شدید غصے کی حالت میں رکشہ میں بیٹھی اس کا تعاقب کرنے لگی۔ دفتر پہنچ کر عرفان نے موٹر سائیکل روکی‘ زرینہ نے پیچھے سے حملہ کردیا اس کے ہاتھ میں تیز دھار خنجر تھا پلک جھپکنے میں اس نے کئی وارکر ڈالے وہاں موجود لوگ دم بخود رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں ہی کچھ نہ آسکا تھا جب ہوش آیا تو عرفان سڑک پر گرا ہوا بری طرح سے تڑپ رہا تھا۔ کچھ لوگ عرفان کو لے کر اسپتال بھاگے اور کچھ نے زرینہ کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ عرفان نے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا تھا ۔ زرینہ پر مقدمہ چلا اور اسے عمر قید کی سزا ہوگئی‘ جیل میں بھی وہ پرسکون نہیں تھی اکثر قیدی عورتوں سے اس کی لڑائی ہوجاتی تھی۔ اس لیے مجبور اً اسے الگ کمرے میں رکھا گیا تھا۔
ایک صبح جیل کے عملے نے دروازہ بجایا مگر زرینہ نے دروازہ نہیں کھولا۔ زور زور سے بجانے پر بھی دروازہ نہیں کھولا مجبوراً دروازہ توڑ دیا گیا‘ زرینہ کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی تھی اس کے گلے میں موٹا پھندا لگا ہوا تھا سب حیرت زدہ رہ گئے کہ یہ سب کیسے ہوا۔ قیدی عورتوں سے آئے دن جھگڑا کرنے کی وجہ سے زرینہ کو قیدی عورتوں کے بیرک میں رکھنے کی بجائے سزا کے طور پر کمرے میں اکیلا رکھا گیا تھا۔ رات بھی وہ کمرے میں اکیلی تھی‘ سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کمرے میں پھانسی کا پھندا کہاں سے آیا اور پھندا زرینہ کے گلے میں کیسے آیا۔ کمرے میں کوئی اسٹول بھی نہیں تھا جس سے پتا چلتا کہ اس پر چڑھ کر زرینہ نے گلے میں پھندا ڈال کر ٹھوکر سے اسٹول کو گرادیا ہو۔ کمرہ بھی اندر سے بند تھا‘ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے زرینہ پر کسی بھی قسم کا تشدد یا زیادتی کا نشان نہیں ملا۔
آج تک زرینہ کی خودکشی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے کئی بار زرینہ کورٹ کے احاطے میں گھومتی ہوئی نظر آئی مگر جیسے ہی اس کی مجھ پر نظر پڑتی تھی وہ غائب ہوجاتی تھی۔آج بڑے عرصے بعد زرینہ نظر آئی ہے اور ہمیشہ کی طرح اس کی مجھ پر جیسے ہی نظر پڑی ایک دم سے غائب ہوگئی اس لیے تم زمین پر سے اٹھتے ہی زرینہ کو دیکھ نہیں پائے اور حیرت میں پڑگئے کہ وہ کہاں غائب ہوگئی۔
’’بڑی ہی پراسرار کہانی ہے۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’خلیل جبار! ایسی ہی پتا نہیں کتنی لاتعداد کہانیاں تمہیں اس کورٹ میں ملیں گی مگر ہر کہانی کے پیچھے ایک پیغام ایک سبق ہوتا ہے اگر ہم سمجھ سکیں۔‘‘ ایس ایم رضوی یہ کہتے ہوئے کہیں کھو سے گئے تھے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close