Naeyufaq Jun-16

سکھ دکھ

سید احتشام

ریکھا وارڈ روب کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی کہ کون سی ساڑھی پہنوں، ایسے میں ساوتری دیوی آ پہنچی۔
’’آج اسکول سے ذرا جلدی آجانا۔‘‘
’’کس لیے امی؟‘‘ وہ ہینگر سے ایک بادامی رنگ کی ساڑھی اتارتی ہوئی گھوم گئی۔ ’’کوئی کام ہے؟‘‘
’’جان کام ہی ہے، شںسمجھیں۔‘‘ ساوتری دیوی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
’’آج کچھ لوگ آنے والے ہیں۔ لنچ کے وقفہ میں ہی چھٹی لے کر آجانا، میں اکیلی کیا کیا کروں گی بھلا؟‘‘
’’تو موسیٰ کو بلوا لینا مجھے شاید چھٹی نہ ملے۔‘‘
وہ ماں کا اشارہ سمجھ چکی تھی صبح ہی بجرنگ بابو نے کہا تھا۔
’’آج وہ لوگ ریکھا کو دیکھنے آنے والے ہیں، ڈرائنگ روم کی صفائی کرا دینا۔‘‘
ریکھا نے دانت بھینچ لیے۔ ایک بار پھر وہی سب دہرایا جائے گا۔ ڈرائنگ روم کی جھاڑ پونچھ، صاف دھلے پردے، جنہیں مہمانوں کے جانے کے بعد پھر حفاظت سے رکھ دیا جائے گا۔ ساوتری دیوی اپنی چھوٹی بہن رما کے ساتھ مل کر طرح طرح کی ڈشیں تیار کریں گی اور پھر مہمانوں کے سامنے وہی مکالمے دہرائے جائیں گے۔
’’یہ سب کچھ ریکھا نے بنایا ہے۔‘‘
ریکھا سوچنے لگی میرا ما حصل کہاں ہے، ماں ان لوگوں کو میری ڈگریاں کیوں نہیں دکھاتیں، کیوں نہیں کہتیں کہ میری ریکھا تو یونیورسٹی میں اول آئی تھی۔ وہ اتنے اچھے اسکول میں ملازمت کرتی ہے، عورت کی زندگی کیا صرف چولہے چکی اور سلائی کڑھائی تک ہی محدود ہے؟‘‘
اسی وقت ماں کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’رما کو تو بلوا ہی لوں گی لیکن تم بھی ذرا جلدی آجانا، آکر ذرا آرام کرلینا ورنہ تھکی تھکی لگو گی۔‘‘
ریکھا نے کچھ نہیں کہا، چپ چاپ آئینے کے سامنے جا کر بال سنوارنے لگی۔ لیکن اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ اب اسے ایسی باتوں سے ذرا بھی دلچسپی نہیں رہ گئی تھی۔ تین چار مہینے پہلے ہی تو کچھ لوگ آئے تھے وہی ناٹک دہرایا گیا تھا اس سے بھی چھ مہینے پہلے … پھر اس سے بھی چھ مہینے پہلے… آخر اس سلسلے کا کہیں اختتام ہے بھی، کسی نے کہا لڑکی کا رنگ ذرا کم ہے کسی کو اس کے نین، نقش پسند نہیں آئے پچھلی بار جو لوگ رانچی سے آئے تھے انہوں نے صاف کہہ دیا۔
’’ہمیں تو بھئی گھر کے لیے بہو چاہیے بچوں کو پڑھانے کے لیے ٹیچر نہیں۔‘‘
ساوتری دیوی اس کی نوکری چھڑوانے پر ایک دم آمادہ ہوگئی تھیں لیکن بجرنگ بابو ہی اکڑ گئے تھے۔
’’نہیں، اتنی اچھی نوکری چھڑانا مناسب نہیں، دوسری جگہ دیکھ لیں گے۔‘‘
ساوتری دیوی کڑھ اٹھی تھیں۔
’’تو بٹھا کر رکھو بیٹی کو ایسے تو شادی ہونے سے رہی۔‘‘
پھر بجرنگ بابو نے دو تین جگہ دروازہ کھٹ کھٹایا مگر کہیں بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، کہیں بھاری جہیز کی مانگ تو کہیں کوئی اور شرط ہوتی۔
…٭٭٭…
وہ لوگ ٹھیک پانچ بجے پہنچ گئے لڑکے کے والد ریٹائرڈ فوجی تھے وقت کے بہت پابند اپنی گھڑی دیکھ کر بولے۔
’’دیکھیے جناب بالکل ٹھیک وقت پر آئے ہیں۔‘‘
’’جی… جی ہاں… بالکل درست فرمایا آپ نے۔‘‘
بجرنگ بابو نے خود بھی اپنی دستی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ کل چھ افراد تھے لڑکے کے باپ شیو شنکر ان کی بیوی تارا، بڑا بیٹا اور اس کی بیوی، چھوٹی بیٹی سنگیتا اور خود لڑکا انیل… وہ بھی فوج میں تھا۔
سب لوگ بیٹھ گئے تو ساوتری دیوی نے پوچھا۔ ’’آپ لوگ اپنے شہر سے یہاں کب آئے؟‘‘
’’آج صبح ہی آئے ہیں۔‘‘ تارا دیوی نے جواب دیا۔
’’میں نے تو ان سے کہا تھا کہ آپ لوگوں کو خبر کردیں ٹھہرنے کا انتظام کسی ہوٹل میں ہوجائے تو بہتر ہوگا مگر یہ تو سست آدمی ہے کہنے لگے، اب لڑکی والوں پر ہم زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے یہاں ہمارے ایک قریبی رشتے دار ہیں، وہیں ٹھہر جائیں گے، ایک دن کی ہی تو بات ہے۔‘‘
’’اوہ، تو آپ لوگ آج ہی واپس چلے جائیں گے؟‘‘ بجرنگ بابو نے پوچھا۔
شیو شنکر زور سے ہنس پڑے۔
’’اور کیا، زیادہ خاطر تواضع کرانے کا ہمارا قطعی ارادہ نہیں ہے۔‘‘
’’ارے بھئی کچھ ٹھنڈا منگوائو۔‘‘ بجرنگ بابو نے ساوتری دیوی کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’ہاں، ہاں ابھی منگواتی ہوں۔‘‘ ساوتری دیوی اٹھ کر اندر چلی گئی۔
رما نے وہاں سارا انتظام پہلے ہی کر رکھا تھا ساوتری دیوی نے شربت کی ٹرے ریکھا کے ہاتھ میں تھما کر کہا۔
’’تم لے کر چلو بیٹی… میں آتی ہوں رما تم اس کے ساتھ چلی جائو۔‘‘
بنی، سنوری ریکھا شربت کی ٹرے تھامے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی اور ٹرے میز پر رکھ کر ہاتھ جوڑ دیے۔
’’یہاں آئو، میرے پاس۔‘‘ لڑکے کی بھابی لیلا نے اپنے اور سنگیتا کے درمیان جگہ بناتے ہوئے کہا۔
ریکھا جھجکی تو پیچھے سے رما موسی نے کہا۔
’’جاؤ بیٹی! ان سے باتیں کرو۔‘‘
وہ جا کر ان کے درمیان بیٹھ گئی۔
’’اسکول میں پڑھاتی ہو۔‘‘ لیلا نے پوچھا۔
’’کون کون سے مضامین پڑھاتی ہو۔‘‘
’’جی، تاریخ ہندی اور انگریزی۔‘‘
اسی وقت ساوتری دیوی ناشتے کی ٹرے لیے آ پہنچیں۔
’’سب کچھ ہماری بیٹی نے ہی بنایا ہے۔ آج دوپہر سے ہی لگی رہی ہے، اسکول بھی نہیں گئی۔‘‘
ریکھا کا جی چاہا کہ وہ چیخ پڑے اوہ ماں کیوں اتنا جھوٹ بول رہی ہو اسکول تو میں گئی ہی تھی۔‘‘
’’اسے کھانا پکانے کا بہت شوق ہے۔‘‘ رما موسی نے کہا۔
’’روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش بناتی ہی رہتی ہے۔‘‘
’’پھر جھوٹ۔‘‘
’’ہوں… کٹلس تو واقعی بہت لذیذ بنے ہیں۔‘‘ شیوشنکر نے ایک ٹکڑا توڑ کر منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
’’ہم تو یہ سمجھے تھے کہ آپ کی لڑکی صرف پڑھاتی ہے لیکن دیکھتا ہوں یہ تو امور خانہ داری میں بھی طاق ہے۔‘‘
’’آپ لوگوں کی ذرہ نوازی ہے ویسے میرے خیال میں عورت چاہے جتنا پڑھ لکھ لے اس کی پہلی ذمہ داری گھر اور کچن کو سنبھالنا ہے۔‘‘ بجرنگ بابو نے کہا۔
لگ بھگ آدھا گھنٹہ تک یہ پروگرام چلتا رہا کسی کو کٹلس پسند آئے تو کسی نے پکوڑوں کو لاجواب کہا۔ لڑکے کا بڑا بھائی سدھیر چار رس گلے صاف کر چکا تھا اور اب بھی اس کی نظریں مٹھائیوں کی پلیٹ پر ہی ٹکی ہوئی تھیں اسی دوران تارا دیوی کی نظریں گھر کی ایک، ایک چیز کو بھیدی نظروں سے پرکھتی رہی تھیں۔ ہوں… ڈرائنگ روم میں غالیچہ بھی نہیں بچھا ہے اور صوفہ سیٹ کتنا پرانا لگ رہا ہے۔ ہاں پردے نئے ہیں مگر لگتا ہے، آج ہی لگے ہیں، صرف شربت پلا دیا۔ اب کہاں چلتا ہے یہ سب ارے کم سے کم ٹھنڈی بوتلیں ہی منگوالی ہوتیں، برتن بھی تو معمولی ہی سے ہیں۔ آج کل ایسے برتن بھلا کہاں چلتے ہیں لڑکی نے گہنے بھی کچھ خاص نہیں پہنے ماں اور موسی کی ساڑھیاں بھی کتنی معمولی ہیں۔
کھا، پی کر جب چلنے لگے تو بجرنگ بابو نے پھر ہاتھ جوڑ دیے۔
’’تو اب کیا حکم ہے۔‘‘
’’دیکھیے اتنی جلدی تو ہم یقینی روپ میں کچھ نہیں کہہ سکیں گے اگلے ہفتہ تک انتظار کریں۔‘‘
’’تو میں اگلے ہفتے آپ کی سیوا میں حاضر ہوجائوں گا۔‘‘
’’نہیں، نہیں بلا ضرورت زحمت نہ کریں جیسا ہوگا، ہم خط کے ذریعہ مطلع کردیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے سدھیر سیڑھیاں اترنے لگا۔
تارا دیوی نے ریکھا کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔
’’بہت خوشی ہوئی بیٹی تم سے مل کر۔‘‘
ساوتری دیوی نہال ہوگئیں، ان لوگوں کے جانے کے بعد کہنے لگیں۔
’’لگتا ہے، اس بار بات بن جائے گی۔ لڑکے کی ماں ریکھا سے متاثر لگ رہی تھیں۔‘‘
’’تعلیم اور ہنر کے مداح تو اب بھی ہیں۔ لین دین بھی ایسا کوئی زیادہ نہیں ہے کسی طرح انتظام ہو ہی جائے گا۔‘‘ بجرنگ بابو پر امید ہوگئے تھے کہ اب بات بن گئی دل ہی دل میں بیاہ کی تیاریوں کے متعلق سوچنے لگے ضرورت ہوئی تو جو تھوڑی سی زمین ہے اسے بیچ دیں گے ویسے بھی اب گائوں کون جاتا ہے۔‘‘
…٭٭٭…
پورے دو ہفتے بیت گئے جب شیو شنکر کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا تو بجرنگ بابو فکر مند ہوگئے۔ ساوتری نے کہا۔
’’اب بیٹھے، بیٹھے سوچنے کا وقت نہیں ہے آخر ہم لڑکی والے ہیں۔ خود جا کر دیکھیے کہ کیا بات ہے۔‘‘
لڑکے والوں کے شہر جانے پر بجرنگ بابو کو پتا چلا کہ لڑکے کا رشتہ تو کہیں اور طے کردیا گیا ہے۔ سدھیر نے تو صاف کہہ دیا۔
’’دیکھیے جناب ہمیں آپ سے کچھ بھی نہیں چھپانا آپ تو جانتے ہیں فوجی افسروں کی زندگی کیسی ہوتی ہے، کلب… ڈانس… ڈرنک… انیل کے لیے لڑکی کچھ زیادہ ہی ماڈرن اور اسمارٹ چاہیے تھی۔ آپ میرا مطلب تو سمجھ ہی گئے ہوں گے آپ نے اس دن انیل کو دیکھا بالکل الگ تھلگ بیٹھا تھا ایک لفظ بھی بات نہیں کی۔‘‘
وہاں سے لوٹ کر بجرنگ بابو سر تھام کر بیٹھ گئے۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ساوتری دیوی نے پاس آکر پوچھا۔
’’ان لوگوں نے کہیں اور شادی طے کردی کہہ رہے تھے انہیں بہت ہی ماڈرن اور اسمارٹ لڑکی چاہیے تھی۔‘‘
’’ہائے تو کیا ہماری بیٹی ماڈرن اور اسمارٹ نہیں ہے، ان پڑھ اور گنوار ہے؟‘‘ ساوتری دیوی ہکا بکا رہ گئیں۔
’’انہیں دوسری طرح کی ماڈرن اور اسمارٹ لڑکی چاہیے تھی۔‘‘ بجرنگ بابو نے تھکے، تھکے پژمردہ لہجے میں کہا۔
’’جو کلبوں میں غیر مردوں کے سینے پر چپک کر ڈانس کرسکے اور جو پیتی پلاتی ہو؟‘‘
’’ہائے رام۔‘‘ ساوتری دیوی کو غش آگیا۔
ریکھا کچن میں تھی۔ وہیں سے اس نے ساری گفتگو سن لی تھی اسے اپنے سینے میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
…٭٭٭…
کچھ دن یونہی بیت گئے ایک دن رما موسی ایک رشتہ لے آئیں ان کی جٹھانی کی بڑی بہن کا لڑکا تھا جہیز کا کوئی خاص مطالبہ نہیں تھا۔ صرف لڑکی اچھی چاہیے تھی ان لوگوں کو، بجرنگ بابو لڑکے والوں کے چکر لگاتے لگاتے بری طرح تھک چکے تھے۔ لیکن ساوتری کے زور دینے پر رما کی جٹھانی کے ہاں جانے پر راضی ہوگئے۔ ادھر ریکھا دل ہی دل میں حساب لگاتی رہی بابو جی کے پاس کچھ زیادہ تو ہے نہیں جو کچھ جمع پونجی ہے وہ میری شادی پر خرچ کردیں گے پھر چھوٹے بھائی راجو کے لیے کیا بچے گا؟ ابھی وہ انٹر میں ہے، انجینئرنگ میں داخلہ لینے کی اس کی دلی آرزو ہے تو کیا پیسے کی کمی میں یہ ممکن ہوسکے گا، بابو جی بھی تو اگلے سال ریٹائرڈ ہو رہے ہیں پھر گھر کا خرچ کیسے چلے گا؟ پنشن سے تو چلنے سے رہا اوپر سے مکان کا کرایہ اور راجو کی پڑھائی اس کی تنخواہ کی رقم بھی کسی نہ کسی طرح خرچ ہوجاتی ہے پچھلے سال ماں بیمار پڑ گئی چھ سات ہزار خرچ ہوگئے شادی کے بعد تو میری آمدنی کا سہارا بھی ختم ہوجائے گا وہ لوگ بھلا کیوں چاہیں گے کہ میری آمدنی ان لوگوں کے کام آئے۔ قدرت جو کچھ کرتی ہے شاید ٹھیک ہی کرتی ہے۔ اس لیے میری شادی اب تک کہیں نہیں ہوئی بھلا یہ سب مجھے پہلے کیوں نہیں سوجھا، اگر میں شادی کرلوں تو اس گھر کا کیا ہوگا؟ شوبھا دیدی اور آشا دیدی پر بابوجی بہت خرچ کرچکے ہیں کافی قرض لے لیا تھا اب وہ بھی دنوں بعد آتی ہیں تو انہیں رخصت کرنے میں ہزار ڈیڑھ ہزار لگ ہی جاتے ہیں میری شادی کے بعد بھی تو…
اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہونے لگا بابو جی یہ کیسے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ بیٹی اور بیٹے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، یہی سمجھ کر تو بابو جی نے مجھے اتنی تعلیم دی پڑھانا تو وہ شوبھا دیدی اور آشا دیدی کو بھی چاہتے تھے مگر ان دنوں کو تعلیم سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی آشا دیدی کا سلائی، کڑھائی میں خوب دل لگتا تھا اور شوبھا دیدی امور خانہ داری میں ماہر تھیں، ریکھا بہت ذہین تھی اسکول سے لے کر کالج تک ہمیشہ فرسٹ آتی رہی تھی۔ اسپورٹس میں بھی انعامات جیتتی رہی تھی اور اب ایک بہت ہی اچھے اسکول میں ملازمت کر رہی تھی۔
…٭٭٭…
’’کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں۔‘‘ راجو کھانا کھاتے ہوئے فکر مند لہجے میں بولا۔
’’حالات ہی ایسے ہیں بابو جی میری تعلیم کے لیے کہاں سے پیسے لائیں گے ابھی تو تمہاری شادی بھی کرنی ہے۔‘‘ اس کا گلا رندھ گیا۔
وہ انجینئرنگ کے لیے ہونے والے ٹیسٹ میں بیٹھنا چاہتا تھا لیکن گھر کے حالات دیکھ کر منہ کھولنے کی ہمت نہیں کر پاتا تھا آج ریکھا نے پوچھا تو دل کی بات زبان پر آگئی۔
’’تم ٹیسٹ کی تیاری کرو، راجو… تمہاری پڑھائی کا خرچ میں اٹھائوں گی۔‘‘ ریکھا نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’دیدی تم؟‘‘ وہ حیرت سے بولا۔
’’کل تمہاری شادی ہوجائے گی تو پھر میں کہاں سے روپے لائوں گا، نہ بابا نہ میں اس چکر میں نہیں پڑنے والا۔‘‘
’’راجو، میں وعدہ کرتی ہوں جب تک تم انجینئر نہیں بن جائو گے شادی نہیں کروں گی۔‘‘
’’اوہ، دیدی یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
’’ہاں راجو، میں عہد کرتی ہوں جب تک تمہاری پڑھائی پوری نہیں ہوتی میں اپنے بیاہ کی بابت سوچوں گی بھی نہیں۔ تم بے فکر ہو کر تیاری کرو۔‘‘
’’لیکن دیدی، یہ ممکن نہیں ہوگا اماں اور بابو جی کب تیار ہوں گے؟‘‘
’’انہیں تیار کرنا میرا کام ہے، بابو جی کو منالوں گی تو ماں بھی مان ہی جائیں گی زندگی کا مقصد صرف شادی کر کے گھر بسانا ہی نہیں ہے، یہ تو سرے سے کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔ میں نصب العین پر یقین رکھتی ہوں، راجو… اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا… فرض کرو، میری شادی نہیں بھی ہوتی۔‘‘
’’نہیں دیدی، ایسی بات مت کرو۔‘‘
’’ٹھیک ہے تمہاری بات مان لوں گی شادی کروں گی لیکن تمہاری تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد۔‘‘
…٭٭٭…
بجرنگ بابو نے سنا تو دنگ رہ گئے۔
’’کتنی گہری ہے یہ لڑکی، اتنا بڑا عہد کرلیا۔‘‘
لیکن ساوتری دیوی چپ نہ رہ سکیں۔ ’’ارے اس کا تو دماغ پھر کیا ہے کب تک کنواری بیٹھی رہے گی بھلا؟ لوگ کیا کہیں گے پانچ چھ برس تو لگ ہی جائیں گے راجو کی پڑھائی میں اتنے عرصے کے بعد بھلا اچھا لڑکا مل پائے گا ابھی ہی کتنی مشکل ہو رہی ہے۔‘‘
بجرنگ بابو جانتے تھے کہ ریکھا کو اس کے فیصلے سے ہٹانا آسان نہیں ایک بار جو ٹھان لیا سو ٹھان لیا پھر بھی کہا۔
’’ریکھا تم راجو کو پڑھانا چاہتی ہو، یہ تو خوشی کی بات ہے لیکن شادی نہ کرنے کی بات حلق سے نہیں اتر رہی۔‘‘
’’بابو جی۔‘‘ ریکھا نے مستحکم لہجے میں کہا۔
’’میں اپنے نصب العین کا تعین کر چکی ہوں اور آپ سے بھی التماس کرتی ہوں کہ میرے لیے در، در ماتھا ٹیکنے کی اب کوئی ضرورت نہیں آپ کے وقار کو یوں مجروح ہوتے اب میں نہیں دیکھ سکتی۔‘‘
’’بیٹی بڑا کٹھن ہے یہ راستہ، جو تم چن رہی ہو، ایک بار پھر سوچ لو۔‘‘
’’سب کچھ سوچ لیا ہے بابو جی، آپ کو اب میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں، اب کچھ ہی مہینوں میں آپ ریٹائر ہوجائیں گے گھر کا بوجھ اب مجھے اٹھانے دیجیے یہی سمجھیے میں آپ کا بڑا بیٹا ہوں اور راجو چھوٹا۔‘‘
بیٹی کی باتیں سن کر بجرنگ بابو کی آنکھیں بھر ائیں۔ دھیرے دھیرے پانچ برس بیت گئے راجو کی تعلیم مکمل ہوئی کچھ عرصہ کے بعد ملازمت بھی مل گئی، مزید دو سال بیت گئے ساوتری دیوی نے پھر پرانی بات دہرانی شروع کردی۔
’’مالتی دیدی کی دیورانی کا ایک لڑکا ہے دوسرا لڑکا مظفر پور میں ہے۔‘‘
بجرنگ بابو ایک جگہ گئے بھی تو سننے کو ملا۔
’’لڑکی کی عمر بہت زیادہ ہے۔ بیس سال… ہمارا لڑکا تو تیس سال کا ہے۔‘‘
بجرنگ بابو کی آنکھوں میں موتیا بند تھا۔ کہیں آنے جانے میں پریشانی ہوتی تھی۔ عمر بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ ادھر راجو کی نوکری لگی تو لڑکی والوں نے چکر لگانے شروع کردیے۔ اب تو ساوتری دیوی ریکھا کی شادی کرنے کے لیے بے چین ہوگئیں۔ جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی، وہ راجو کی بات کہیں چلا بھی نہیں سکتی تھیں، لوگ کیا کہتے اور خود ان کا دل بھی تو قبول نہیں کر رہا تھاکہ بڑی بہن کنواری رہے اور چھوٹے بھائی کی شادی ہوجائے ساوتری دیوی شوہر سے اکثر کہتیں۔ ’’ریکھا کے لیے کہیں لڑکا دیکھا؟‘‘
’’کہاں دیکھوں، دیکھتے دیکھتے تو اب آنکھوں کی روشنی بھی جواب دے گئی ہے اب تو چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دیتا ہے۔‘‘
’’ایسا کہنے سے کام تو نہیں چلے گا کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا جب تک اس کی شادی نہیں ہوجاتی راجو کے لیے ہم لوگ کہیں بات بھی تو نہیں چلا سکتے۔ ایک سے ایک لڑکیوں کے رشتے آرہے ہیں۔‘‘
’’تو کیا کہتی ہو، کیا اسے کسی للوپنجو کے گلے باندھ دوں؟ کوئی اس کے لائق ملے تب تو۔‘‘
’’دیکھیے ریکھا خود کما رہی ہے۔ اسے کسی بات کی کمی نہیں ہے، کوئی معمولی سا لڑکا دیکھ کر ہی بیاہ کر دیجیے کچھ نہ بھی کرتا ہو تو چلے گا۔ ریکھا کے ماتھے سے کنواری کی مہر تو مٹ جائے گی ایسے میں راجو کے لیے بھی راستہ صاف ہوجائے گا۔‘‘
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بجرنگ بابو نے کھانا کھاتے ہوئے ہاتھ روک لیا۔
’’اب اس کے سوا کوئی چارا نہیں ہے۔‘‘
’’تم ماں ہو کر ایسا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں، ماں ہو کر ہی کہہ رہی ہوں، ماں ہوکر میں جو کچھ بھگت رہی ہوں، اس کا علم ہے آپ کو؟ میرے لیے گھر سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے جہاں جاتی ہوں، سب جگہ ایک ہی سوال… ریکھا کی شادی کب کر رہی ہیں کب تک بٹھائے رکھو گی اسے سینے پر کنواری لڑکی ماں باپ کے سینے پر نہیں سماج کے سینے پر بوجھ ہوتی ہے میرا تو جینا دشوار ہوگیا ہے آخر کتنا سہوں، اب تو لوگ ریکھا کے چال چلن پر بھی انگلیاں اٹھانے لگے ہیں۔ آج کل اس اپاہج لیکچرار پولن کے ہاں اس کا اٹھنا بیٹھنا کچھ زیادہ ہوگیا ہے۔ لوگ دس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔‘‘
’’تم یہ سب کیا کہہ رہی ہو، ساوتری؟‘‘
’’وہی، جو سب دیکھ اور سن رہی ہوں اب برداشت نہیں ہوتا۔ برادری میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔‘‘ ساوتری دیوی رونے لگیں تو بجرنگ بابو اٹھ کر باہر چلے گئے۔
ریکھا سوچتی رہی شاید ماں کا کہنا صحیح ہے سچ مچ ایک کنواری لڑکی سماج کے سینے پر بھی بوجھ ہوتی ہے مجھے بھی تو سہلیاں اکثر چھیڑ بیٹھتی ہیں کہو ریکھا مٹھائی کب کھلا رہی ہو؟‘‘
تب ریکھا کٹ کر رہ جاتی تھی۔ کیا یہ لوگ شادی بیاہ کے سوا کچھ اور سوچ ہی نہیں سکتے؟ اتنا پڑھ لکھ لینے کے بعد بھی ان کی سوچ وہیں کی وہیں ہے۔ لڑکی کو کسی کھونٹے سے باندھنا ہی چاہیے۔ آخر ماں بھی کیا کرے؟ رہنا تو انہیں اسی سماج میں ہے ان کے مطالبات سے بھلا کب تک کنارہ کرسکتی ہیں سچ مچ لوگوں نے ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ اس دن آشا دیدی کی نند آئی تھیں کہنے لگیں۔
’’ریکھا کے ہاتھ کب پیلے کر رہی ہیں۔‘‘
یہ لفظ جیسا تیسا انہوں نے چاروں طرف سے مایوس ہو کر ہی تو استعمال کیا ہے۔ ورنہ بھلا ماں کی ممتا بھی کبھی اتنی سنگدل ہوسکتی ہے لیکن وہ جیسا تیسا بھی آخر ملے گا کہاں کیا کسی راہ چلتے کے گلے میں برمالا، ڈال دے؟ وہ سوچ رہی تھی اس کے کنوارے رہتے ہوئے راجو کا بیاہ بھی تو نہیں ہوسکتا۔ ماں، باپ اتنے بے رحم تو نہیں ہوسکتے تو… تو پھر پولن ہی کیا برے ہیں مانا کہ اب اپاہج ہوگئے ہیں لیکن مادی سکھ ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولن مجھے اچھے لگتے ہیں۔ کتنی پر وقار شخصیت ہے ان کی، جی چاہتا ہے ان کے پاس بیٹھی رہوں، ان جیسا اسکالر تو کوئی اور نظر ہی نہیں اتا۔ پولن مقامی کالج میں لیکچرار تھے۔ عمر بھی زیادہ نہیں تھی پینتیس اور چالیس کے درمیان رہی ہوگی ایک حادثہ میں دونوں ٹانگیںگنوا بیٹھے تھے۔ لہٰذا وہیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے اپنا سارا کام کرلیتے تھے۔ کسی سے سیوا کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اب کالج نہیں جاتے تھے۔ گھر میں ہی رہ کر دس و تدریس میں لگے رہتے تھے۔ وہ نئی کتابوں پر تنقید لکھا کرتے تھے خود بھی کئی کتابیں لکھ چکے تھے۔ ریکھا ایک کتاب پر تنقید کے سلسلے میں ہی ان سے ملی تھی۔ وہ انگلش ہسٹری میں ایم اے میں داخلہ لینے کی تیاری کر رہی تھی اور پولن نے اس سے ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا تھا۔
ریکھا نے راجو کو اپنے دل کی بات بتائی وہ سنتے ہی بھڑک اٹھا۔
’’کیا کہتی ہو دیدی، تمہارا دماغ تو اپنی جگہ پر ہے۔
’’ہاں، راجو میرا دماغ بالکل اپنی جگہ پر ہے میں جو کچھ کہہ رہی ہوں خوب سوچ سمجھ کر ہی کہہ رہی ہوں۔‘‘
’’لیکن میں پوچھتا ہوں تمہیں اس شادی سے ملے گا کیا، کون سا سکھ؟‘‘
’’اول تو یہ کہ اتنے بڑے نقاد اور اسکالر کی بیوی کہلا کر خوش ہوں گی۔ دوسرے یہ کہ غیر شادی شدہ کے طعنہ سے نجات مل جائے گی کیا یہ کم ہے۔‘‘
دیدی، میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ تم خوامخواہ اپنی قربانی دینے پر کیوں تلی ہوئی ہو؟ میں جانتا ہوں تم یہ سب اس لیے کر رہی ہو تاکہ میری شادی ہوسکے۔‘‘
’’نہیں بھیا ایسی بات نہیں میں سچ مچ پولن جی سے بیاہ کرنا چاہتی ہوں تم ایک بار ان سے بات کر کے تو دیکھو، اگر راضی ہوگئے تو۔‘‘
پولن نے جب راجو کے منہ سے اس رشتے کی بات سنی تو ہکابکا رہ گئے بڑی مشکل سے بول پائے۔
’’آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں، میں اس لائق ہوں بھلا؟‘‘
’’اس لائق ہیں جبھی تو پیشکش کرنے آیا ہوں۔‘‘
’’میں تو اسے اپنی ذات پر ان کا احسان ہی کہوں گا۔‘‘ کہتے ہوئے پولن نے سر جھکالیا۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ آئندہ زندگی بہت کٹھن ہوگی، ریکھا خوش تھی… بہت خوش…

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close