Naeyufaq Jun-16

رضا کار

ایم اکرم امپھال

میرے سامنے ایک بہت زبردست سین چل رہا تھا۔ایک لڑکا چار پانچ لڑکوں کی اکیلے پٹائی کر رہا تھا۔بالکل فلمی سین تھا،ریستوران کاسارا ماحول بگڑ گیا تھا۔کرسیاں ،میزیں الٹ گئی تھیں۔ ویٹرز اور منیجر ایک طرف ہونقوں کی طرح منہ بسورے تماشائی بنے کھڑے تھے۔
ابھی کچھ دیر پہلے یہ غنڈے اپنی ہیوی بائیکس نہ جانے کہاں سے آدھمکے تھے اور آکر لڑکیوں کوچھیڑنے لگے تھے۔پھر کیا تھا اس ہیرو ٹائپ لڑکے نے نہ جانے کہاں سے انٹری مار کر ان کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا تھا۔
کہیں دور سے ایمبولینس کے سائرن کی آواز سنائی دی تو وہ غنڈے پولیس کا سائرن سمجھ کر بھاگنے لگے ،ویسے بھی وہ بہت پٹ چکے تھے۔
میں ریستوران ہال کی لاسٹ والی کرسی پر کافی پیتے ہوئے یہ سارا منظر بخوبی دیکھ رہا تھا۔
غنڈے چلے گئے تو وہ لڑکا میرے سامنے دوسری سائیڈ پرکرسی پر آکر بیٹھ گیا۔اس نے بلیو کلر کی جینزاور گرے شرٹ پہنی ہوئی تھی،وہ چہرے سے شریف لگ رہا تھا۔اس کے خدوخال میں نسوانیت کی جھلک تھی۔اس کی آنکھوں میں اک عجب سی کشش تھی جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
میں اٹھا اور اس کی طرف بڑھ گیا،مجھے اس نے بہت متاثر کیا تھا۔
’’ہیلو! ۔۔۔۔ینگ مین۔۔۔۔مجھے سکندر عظیم کہتے ہیں،کیا میں آپ کے ساتھ یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟میں نے اپنا ہاتھ مصافحہ کے انداز میں بڑھاتے ہوئے کہا۔‘‘
’’کامران۔۔۔۔۔مجھے کامی کہتے ہیں۔۔۔۔۔پلیز تشریف رکھیے۔‘‘اس نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ تھام لیا۔‘‘
ویسے مجھے بھی یہی امید تھی ،کیوں کہ اکثر مجھ سے ملنے والے لوگ متاثر ہوئے بنا نہیں رہتے۔میرے جاننے والے مجھے اکثر کہتے ہیں کہ میری شخصیت بہت جاذب اور پرکشش ہے۔ابھی بھی میں نے قیمتی برانڈڈ پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور آنکھوں پر ریڈ کلر کابڑے فریم والا چشمہ تھا۔شاید کامران بھی مجھ سے تھوڑا بہت متاثر ہوا تھا۔اس لیے اس نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ تھاما تھا۔
’’آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔…مسٹر کامران۔۔۔!‘‘
’’سیم ٹو یو ۔۔۔۔مسٹر سکندر!جی فرمائیے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟‘‘
’’آپ کی معصوم صورت دیکھ کر تو یہ نہیں لگتاکہ آپ چار پانچ لڑکوں کی اکیلے پٹائی کر سکتے ہیں۔۔۔۔مگر آنکھوں سے دیکھا ہوا جھُٹلایا بھی نہیں جا سکتا۔‘‘
’’ایسا ہو جاتا ہے کبھی کبھی مسٹر سکندر صاحب!اور وہ بھی تب جب سامنے کوئی آپ کی منگیتر کو چھیڑ رہا ہو۔۔۔۔۔ویسے بھی مارشل آرٹ میں تو یہ کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’اوہ! آئی سی۔۔۔۔۔۔آپ کی منگیتر۔‘‘
’’جی میری منگیتر مسٹر سکندر۔‘‘اس نے ان لڑکیوں کی طرف اشارہ کیا جنہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے غنڈے چھیڑ رہے تھے۔
ویٹرز نے اب کرسیاں میزیں سیدھی کر دی تھیں ،ماحول اب پہلے جیسا ہو گیا تھا۔
وہ تین لڑکیاں تھیں جو اب بھی وہیں بیٹھیںارد گرد کے ماحول سے بے نیاز برگر سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔لڑکیوں نے کامران کو تھینکس بولنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔
مجھے کچھ حیرانی ہوئی۔۔۔۔۔میں نے کامران سے پوچھا۔’’کیاآپ کی منگیتر آپ سے ناراض ہے؟‘‘
’’اوہ ہاں!مگر آپ کو کیسے پتا؟‘‘
’’اس نے ابھی تک آپ کو تھینکس بھی نہیں بولا اور ایسے بے نیاز بیٹھی ہے جیسے کچھ ہوا بھی نہ ہو،اور وہ آپ کو جانتی بھی نہ ہو۔‘‘
’’ہاں یار!وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔‘‘
’’ابے سالے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘ میں نے بامشکل اپنی ہنسی پر قابوپایااور مسکراتے ہوئے کہا۔’’تمہیں پسند تو اسکول میں بھی کوئی نہیں کرتا تھا۔‘‘
کامی حیران ہوا !’’میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں یا ڈھونگ کر رہے ہو؟‘‘میں نے مسکراتے ہوئے اس کی چٹکی کاٹی۔
وہ اب بھی حیران تھا۔
قارئین کو بتاتا چلوں کہ کامران عرف کامی اور میں یعنی سکندر عظیم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے اور ہم جماعت تھے ،ہم شروع سے ہی ایک دوسرے کے دوست تھے۔کامی اسکول کا ذہین ترین اور اسمارٹ لڑکا ہونے کے علاوہ پوری کلاس کا CRبھی تھا۔جب کہ میں اسکول میں بطور رضا کار کام کرتا تھا،اساتذہ اسکول فنڈ میرے پاس جمع کرواتے تھے اور اُس فنڈ سے غُرب ا سٹوڈنٹس کی مالی امداد کرنا میرے ذمہ ہوتی‘میں ہر فلاحی کام میں سب سے آگے ہوتا تھا۔
اسکول چھوڑنے کے بعد میں ملتان سے کراچی پڑھنے کے لیے اپنے ماموں کے پاس چلا گیا تھا۔جب کہ کامی نے وہیں ملتان کے کسی اچھے کالج میں ایڈمیشن لے لیا تھا۔ہمارا اس کے بعد سے رابطہ منقطع تھااور آج پھر یہاں ملتان کے اس ریستوران نماہوٹل کے ماحول میں ہماری سات سال بعد اتفاقیہ ملاقات ہو گئی تھی۔سات سال کے عرصے میں میری پرسالنٹی کافی حد تک تبدیل ہوگئی تھی۔پہلے میں بہت ہی کمزور اور دبلا پتلا ہوتا تھااور آنکھوں پر نظر کا چشمہ بھی ہوتا تھا۔مگر اب بالکل جینٹل مین کی طرح لگ رہا تھا،یہی وجہ تھی کہ میرے اسکول کے سب سے قریبی دوست نے بھی مجھے پہچانا نہیں تھا۔
میرے برعکس کامی اب بھی ویسا ہی تھابہت زیادہ اسمارٹ اور معصوم۔کامی کو بھی میں اُس کے بات کرنے کے انداز سے پہچان پایا تھا۔شروع میں اس کی شخصیت جانی پہچانی معلوم ہوئی تھی مگر جب کامی نے بات کی تھی تو میں نے اُسے پہچان لیا تھا۔
میں نے کامی کو زیادہ تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھااور بتا دیا کہ میں اصل میں کون ہو۔وہ حیرانی سے اٹھا اور گرمجوشی سے میرے گلے لگ گیا،وہ بہت خوش تھا۔
’’اوئے سالے یہ تو ہے ،یقین نہیں آرہاکمینے۔‘‘ اُس نے مجھے ٹٹول کر دیکھا۔’’کہاں وہ پندرہ،سولہ سالہ دُبلا پتلا اپنے دادا کا اندھے پن والا چشمہ پہنے سکندر اور یہ بائیس تیئس سالہ اک مکمل خوبرو نوجوان۔‘‘
’’یقین نہیں آرہا ناں،مجھے بھی یقین نہیں آیا تھاجب میں نے اپنی شخصیت تبدیل کی تھی۔‘‘
کامی نے کہا۔’’پر یہ کیسے ممکن تھا؟‘‘
تھوڑی دیر بعد میں پھر کافی سے لطف اندوز ہورہا تھامگر فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار کامی ساتھ تھا۔
’’ آج کے دور میں کیا ممکن نہیں ہے یار؟ کراچی میں سب ہائی سوسائٹی کے لوگ تھے ۔۔۔۔وہاں ماموں نے مجھے ایک اچھے آئی اسپیشلسٹ کو دکھایا، جس نے دو ہفتے بعد ہی میرا چشمہ اتار دیا اور آہستہ آہستہ میری شخصیت بدلتی گئی۔‘‘
’’کمال ہے یار!اب سنا کیا کر رہے ہو آج کل،جانے کے بعد کوئی کانٹیکٹ نمبر بھی نہیں دیا۔‘‘
’’ہاں یار جانے کی تیاری اچانک ہوئی تو کچھ خیال نہ رہا،تمہارا تو سیل فون تھا نہیںاور تمہارے ابّو کا نمبر میرے پاس نہیں تھا۔ویسے میں آج کل بھی وہی کام کر رہا ہوں،ایک فلاحی ادارہ چلا رہا ہوںجو لوگوں کو غربت کے خاتمے ، فری ایجوکیشن سسٹم اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے فنڈز مہیا کرتی ہے۔۔۔میں اس کی نگرانی کرتا ہوں۔‘‘
’’وائو!تو اب بھی وہی رضاکارہی ہے۔اور سنا یار شادی ہوئی کیا؟‘‘
’’نہیں یار ! کوئی ایسی ملی نہیں ،جس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا جاسکتا۔‘‘میں نے کامی کو پہلا جھوٹ بولتے ہوئے کہاکیونکہ میں اب شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔میرے لیے ہوچکا ایک تجربہ ہی کافی تھا۔
’’اوہ!یہ تو اچھی بات نہیں ہے یار‘کسی کو ڈھونڈ لو، ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے‘‘
’’ہاں یار !دیکھیں گے‘تم سنائو آجکل کیا کر رہے ہو؟اور یہ مارشل آرٹ وغیرہ کا کیا چکر ہے؟‘‘
’’میں نے اسپیشل فورس پاک آرمی کے لیے اپلائی کیا تھا سلیکٹ ہو گیا ہوں،اب ٹریننگ مکمل کر کے چھٹیوں پر ہوں۔‘‘
’’ وائو…مبارکاں مبارکاں‘بہت اچھے جی‘گواہیڈ۔‘‘
’’خیر مبارک جی‘خیر مبارک۔‘‘
’’ویسے اب چھٹیوں میں کیا ارادے ہیں جناب کے؟کوئی شادی وادی بھی کر رہے ہو کہ نہیں۔۔۔منگیتر تمہاری تو تمہیں پسند نہیں کرتی اور نہ ہی بات کرنا پسند فرماتی ہیں۔‘‘میں نے کامی کو چھیڑنے کے لیے لقمہ دیا۔ویسے بھی اب وہ لڑکیاں اٹھ کر کہیں چلی گئیں تھیں۔مجھے ان کی مغرور طبیعت پہ کچھ غصہ آیا تھا۔
کامی میری حیرانی بھانپ چکا تھا۔ ’’اتنا حیران نہ ہو یار…بس ہمارے درمیان تھوڑی بہت مس انڈرسٹینڈنگ ہے۔‘‘
میں نے پھر سے لقمہ دیا۔’’اوہ !کیسی مس انڈرسٹینڈنگ؟‘‘
’’وہ پہلے کسی اور کو چاہتی تھی،مگر میں نے اُس سے اس بارے میں بات کی تو وہ خفا ہو گئی۔‘‘
’’اوہ!یہ تو برا ہوا۔ویسے تمہیں اس بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘
’’ہاں یار…غلطی ہوگئی۔‘‘
کامی شاید میری باتوں سے بور ہو چکا تھا۔کیوں کہ اتنے عرصے میں ہر انسان کے جذبات اور سوچیں تبدیل ہو جاتی ہیں،ضروری نہیں کہ جو لوگ اسکول میں فرینڈ ز رہے ہوں وہ اسکول چھوڑنے کے بعد بھی گہرے دوست رہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ہر انسان کے جذبات بدلتے رہتے ہیں۔شاید ہماری دوستی میں بھی اب وہ گرمجوشی تھوڑی بہت رہ گئی تھی۔مگر اب چونکہ اتفاقیہ مل چکے تھے تو ازراہ ِخلوص ہم نے ساتھ بیٹھ کر تھوڑی بہت باتیں کر لی تھیں۔مجھے تھوڑاجلدی تھی اس لیے میں نے کامی کو اپنا سیل نمبر دے کر اس کا لے لیاکہ باقی باتیں سیل فون پر کریں گے۔کامی نے کافی کا بل میرے رکھنے سے پہلے ہی ٹیبل پر رکھ دیا تھا…ہم پھر ملنے کا وعدہ کر کے رخصت ہو گئے۔میں نے کامی کی منگیتر کو نہیں دیکھا تھا،کامی نے کل اس سے ملوانے کا کہا تھا۔
میں ریستوران سے باہر نکلا تو سورج بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔یہ اگست کے آخری ایام تھے،سیاہ بادل آسمان پر تیزی سے پھیل رہے تھے۔ہوا کی بڑھتی ہوئی شدت آہستہ آہستہ گرم ٹمپریچر کو نارمل کر رہی تھی۔میں نے اپنی رسٹ واچ میں ٹائم دیکھا ،سہ پہر کے ساڑھے تین ہو رہے تھے۔ٹائم گزرنے کا احساس تک نہ ہو ا تھا۔میں نے جلدی سے سڑک کے کنارے موجود پارکنگ سے اپنی مِنی بلیو جیپ نکالی اور تھوڑی دیر میں سڑک پر موجود گاڑیوں کی بھیڑ میںشامل ہو چکا تھا۔
…٭٭٭…
کامی سے ملے آج دوسرا دن تھا۔میں صبح سویرے اٹھا اور فریش ہو کے گھر کے لان میں دھوپ سینکنے آبیٹھا۔کل بارش ہوتی رہی تھی اس لیے آج کچھ سردی محسوس ہو رہی تھی،ویسے بھی سردیوں کی آمد آمد تھی۔میں نے ٹیبل پر پڑا اخبار اٹھایا اور یوں ہی سرسری اندازمیں مطالعہ کرنے لگا۔ایڈیٹوریل والا صفحہ ہمیشہ سے ہی میرا فیورٹ رہا ہے۔بعض اوقات اس میں بہت کام کی چیزیں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔پڑھتے پڑھتے جس کالم نے مجھے چونکنے پر مجبور کیا وہ میرے ہی بارے میں تھا۔’’ملک میں ایسی شخصیات بھی موجود ہیں جو خالصتاََ عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرتی ہیں۔ان میں سرفہرست سکندر عظیم کا نام سب سے اوپر ہے۔سکندر عظیم ایک ایسی ینگ پرسانلٹی ہیں ،جنہوں نے چھوٹی سی عمر میں بڑے بڑے کام کر کے لوگوں کو حیرت میں چھوڑ دیا ہے۔‘‘پورے کالم میں میرے چھوٹے موٹے کارناموںکا بڑا بنا کر پیش کیا گیا تھا۔میں نے کالم نویس کی فوٹو اور نام دیکھا،ملک آصف۔نام اور فوٹو کچھ جانا پہچانا معلوم ہوا،مگر مجھے کچھ یاد نہیں آیا۔ایسے بہت سے صحافیوں سے اکثر ہمارے ادارے کے اعلــی سطحی اجلاسوں میں ملاقات ہوتی رہتی تھی۔مجھے بیٹھے ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مام ڈیڈ بھی لان میں آگئے ،مام کافی بنا کر لے آئی تھیں۔’’کیسے ہو ینگ مین!‘‘ڈیڈ نے کہا آج وہ کچھ زیادہ پرجوش دکھائی دے رہے تھے۔ ’’آج کل کچھ زیادہ بزی نہیں رہنے لگے ہو؟‘‘
’’بالکل ٹھیک ڈیڈ!کیا کریں تھوڑا بہت بزی رہنا پڑتا ہے۔‘‘
آج شاید موسم کی خوشگواریت کا اثر تھا، ڈیڈی کچھ زیادہ موڈ میں تھے اس لیے انہوں نے چہک کر دوبارہ کہا۔ ’’اچھا جی آج کل جناب کے بارے میں بڑے کالم شالم چھپ رہے ہیں۔کوئی کام وام بھی کیا ہے یا ایسے ہی یہ اخبار والے بڑھا چڑھا رہے ہیں۔‘‘
ڈیڈی شاید کالم پڑھ چکے تھے ،اس لیے وہ پوچھ رہے تھے کیونکہ میرے بارے میں اکثر اوقات ایسے کالم چھپتے رہتے تھے۔میں نے بھی شوخی میں جواب دیا کہ۔ ’’کام تو بہت کیے ہیںڈیڈی پر اب تو یاد بھی نہیں رہے۔‘‘
’’میں تو کہتا ہو اگلے سال تمہیں الیکشن میں اٹھا دوں کیوں کہ تم جیسے ہونہار ،ایماندار اور رضاکارانہ طبیعت کے حامل سیاست دان کی ہمارے ملک کو اشد ضرورت ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں ڈیڈی سیاست تو میرے بس کا روگ نہیں سیاست میں تو اچھے اچھوں کی ایمانداری ختم ہو جاتی ہے۔میں بس ایسے ہی ٹھیک ہوں آپ بس دعا کیا کریں کہ میرے ادارے کو فنڈز ملتے رہا کریں اور میں ایسے ہی لوگوں کے لیے کام کرتا رہوں۔‘‘
’’میری دعائیں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں مائی ڈیئر پر ماں کی دعائیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور ماں تمہاری تو تم سے ناراض ہی رہتی ہیں۔‘‘
مام خاموشی سے ہماری باتیں سن رہی تھیں۔وہ ہائوس وائف تھیں ،اس لیے ان کو تو بس میری شادی کی ہی فکر تھی۔اس لیے وہ تھوڑی بہت مجھ سے خفا تھیں کہ میں نے شادی سے منع کر رکھا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ۔’’میری عمر گزرتی جا رہی ہے ،مجھے اب شادی کرہی لینی چاہیے۔‘‘مگر مجھے اب شادی کے لفظ سے بھی چڑ ہونے لگی تھی۔
تھوڑی دیر میں جب مام ڈیڈ نے پھر میری شادی کی بات چھیڑی تو میں بہانہ کر کے اٹھ گیا۔کیونکہ شادی تو میں اب کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔میرے لیے بڑے بڑے گھرانوں سے لڑکیوں کے کئی رشتے آئے تھے مگر میں نے منع کردیا تھا۔میرے دل میں اب کسی اور لڑکی کے لیے کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔۔۔دل میں بس گیا وہ ایک چہرہ ہی کافی تھا۔مجھے وہ دن آج بھی اچھی طرح یاد تھا ،جب میںانیلہ کو مام ڈیڈ سے ملوانے والا تھا۔مجبوری کی زنجیروں میں جکڑی وہ نہیں آئی تھی۔
میں گھر سے اپنی منی جیپ میں نکلااور جیپ کو یوں ہی ملتان کی سڑکوں پر دوڑانے لگا۔میرے سینے میں ایک غبار بھر گیا تھا اور آج شدت سے امی کے دکھ کا احساس ہو رہا تھا۔ابو کا ساتھ محسوس ہو رہا تھا،کہ انہوں نے میری دل جوئی کے لیے میری حمایت کی تھی کہ جب مرضی ہو گی میں شادی کروں گا۔آج میرا ذہن شادی کی طرف تھوڑا بہت خود بخود مائل ہو رہا تھاکہ کب تک یوں تنہا رہوں گا۔
یونیورسٹی روڈ سے ہوتے ہوئے جب میں شاہ شمس پارک سے گزرا تو ایک سال پہلے کے وہ تمام مناظر میرے دماغ کی اسکرین پر کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔یہی وہ جگہ تھی جب میری پہلی بار انیلہ سے اتفاقیہ طور پر ملاقات ہوئی تھی۔وہ دن مجھے آج بھی اچھی طرح یاد تھا۔ جب میں کچھ دنوں کے لیے ملتان آیا تھاکیونکہ اس وقت ہماری تنظیم کی شاخیں اور دفتر صرف کراچی اور سندھ کے پسماندہ علاقوں میں تھے اور پنجاب میں ہماری تنظیم کو فعال کرنے کے لیے میٹنگز ہورہی تھیں۔لانگ ڈرائیو کرتے ہوئے میں روڈ کنارے جیپ کے ٹائر میں ہوا بھروانے کے لییرک گیا تھا۔میں نے قریبی شاپ سے ایک کولڈ ڈرنک لی اور واپس جیپ میں بیٹھنے کے لیے مڑاتو ٹھٹک گیا۔ سامنے بیچ سڑک پر ایک ڈیڑھ دو سالہ بچہ بڑی زور سے رو رہا تھا۔شاید وہ اپنی ماں سے بچھڑ کر روڈ پر آگیا تھا اور اب ماں کے لیے رو رہا تھا۔یہ سنگل روڈ تھا اور تھوڑا آگے جا کر ایک موڑ پر دو رویہ روڈ سے مل جاتی تھی۔یہ وہی وقت تھا جب میں نے بچے کو دیکھا تھا،اسی وقت آس پاس روڈ کنارے موجود لوگوں میں بے چینی سے شور بلند ہوا۔میں نے شور کی سمت دیکھا تو ایک لمحے کے لیے میں بھی دم بخود رہ گیا۔ نہ جانے کہاں سے دو رویہ روڈ سے دو اسپورٹس کاریں سنگل روڈ پرسماعت شکن شور مچاتی بڑی تیزی سے آگئی تھیںان کے پیچھے کچھ منچلوں کی ہیوی بائیکس بھی تھیں ،جو تیزی سے آگے پیچھے دوڑتی چلی آرہی تھیں۔اس دن اتوار تھا،وہ تمام منچلے اسٹوڈنٹس ہی ہوسکتے تھے۔ہیوی بائیکس پر موجود کچھ لڑکوں کے ہاتھوں میں ڈیجیٹل کیمرے تھے‘ جو اپنے ساتھیوں کی بیوقوفانہ تفریحی ریس کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔ہیوی بائیکس والے لڑکے خطرناک ون ویلنگ بھی کر رہے تھے۔یورپی ممالک میں ایسے مناظر دیکھنے میں تو عام ملتے تھے مگر یہ پاکستان تھا۔لوگوں کا شور اسی لیے بلند ہوا تھا کیونکہ یہ منظر ان کے لیے اور میرے لیے بھی بہت حیران کن تھا۔ایک لمحے کے لیے بیچ سڑک پر موجود بچے کا خیال بھی میرے ذہن سے محو ہو گیا،مگر ایک دم سے مجھے حالات کی سنگینی کا احساس ہواتو میں چونک پڑا…اس دوران کسی کا خیال بچے کی طرف نہیں گیا تھا۔بچہ اب بھی وہیں کھڑا تھا مگر اب خاموش ہو کر کاروں کے شور اور ہیوی بائیکس کی طرف متوجہ تھا۔یہ بڑے خطرناک لمحے تھے ان لڑکوں نے بھی بچے کو نظر انداز کیا ہوا تھا ۔۔۔شاید ان کے جوش نے ان کو اندھا کر دیا تھا۔یہ فیصلہ کن لمحے تھے۔۔۔بچے کی زندگی سخت خطرے میں تھی۔آگے موجود اسپورٹس کاریں کسی بھی وقت اس گمنام بچے کو کچل سکتی تھیں،میں کوئی ہیرو نہیں تھامگر سچویشن فلمی ہو گئی تھی۔ایک رضاکار انہ طبیعت کا حامل ہونے کی وجہ سے اس وقت میں ایک خطرناک فیصلہ کر چکا تھا۔مجھے اپنی زندگی کی پروا نہیں تھی،مگر میرے سامنے ایک معصوم کی زندگی کا سوال تھا۔اگلی کار اور بچے کے درمیان پانچ چھ گز کا فاصلہ تھا،کار والا اگر بریک لگاتا تو بھی کار الٹ کر بچے کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنے خطرناک فیصلے کو عملی جامہ پہنایا،چونکہ میں روڈ کنارے تھا۔۔۔بچے اور میرے درمیان مشکل سے دو گز کا فاصلہ تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ خدا بھی ان کی مدد کرتا ہے جواپنی مدد آپ کر تے ہیں۔بالکل پاس کار کو دیکھ کر بچہ بدحواس ہو کر میری طرف دوڑا۔۔۔میں بھی اسی وقت قلابازی کھا چکا تھا۔بچے کا بدحواس ہو کر دوڑنا ہم دونوں کے حق میں بہتر ہوا کیونکہ بچہ بروقت میر ے بازو کے شکنجے میں آگیا ،اگر بچہ دوسری طرف دوڑ تا یا وہیں موجود رہتا توہم دونوں کے لیے بہت براہو سکتا تھا۔میں کوئی اسپائڈرمین نہیں تھا کہ دوسری طرف دوڑ رہے بچے کو یا وہیں موجود بچے کو اپنے اندازے کے مطابق چھاپ لیتا،اندازے کی ذرا سی غلطی بھی میری اور بچے کی زندگی کا چراغ گل کر سکتی تھی۔جوں ہی بچہ میرے بازو کے شکنجہ میں آیا،اس وقت جمناسٹک کے پلیئر کی طرح میںقلابازی کھاتے ہوئے الٹا ہو کر سڑک کے دوسرے کنارے گرنے لگا تھا۔مگر اسی وقت اسپورٹس کار اور میرا تصادم ہوا کار کی تھوڑی سی سائڈ نے گرتے ہوئے میرے جسم کو ایک بار پھر ہوا میں اچھال دیا۔اس بار میرا جسم دو تین قلابازیاں کھانے کے بعد کچے پر کچھ دور تک لڑھکتا گیا۔عوام کا شور اس سچویشن میں ایک دم سے تھم گیا تھا،اور سب کے منہ ہونقوں کی طرح کھل گئے تھے سب کی سانسیں ایک پل کے لیے رک گئیں۔ایک خطرناک فلمی سچویشن کا اینڈ ہو چکا تھا۔بچہ میرے سینے میں چھپا خاموش تھا۔۔۔وہ کسی بھی چوٹ سے محفوظ رہا تھا۔میرے ماتھے پر ہلکے زخم ،ہاتھوں اور بازو پر بھی ہلکی ہلکی خراشوں کے علاوہ صرف ایک ٹانگ میں ٹخنے کے اوپر تھوڑا سا فریکچر ہوا تھا۔پانچ دس سیکنڈ کے وقفے کے بعد بچے کے رونے کی آواز کے ساتھ عوام کا شور ایک بار پھر سے بلند ہوا اور کچھ لوگ میری طرف دوڑے ،ایک شخص نے مجھ سے بچہ لیا اور دوسرے نے مجھے سہارا دے کر پاس موجود ایک بینچ پر بٹھا دیا۔کچھ آگے جاکر تمام ہیوی بائیکس اور دونوں کاریں رک گئی تھیں۔ان میں سے کچھ لڑکے جو بائیکس پر تھے وہ ہماری خیریت معلوم کرنے آئے ،پھر جب وہاں موجود لوگوں نے ان کو برا بھلا کہا ۔۔۔تو وہ دم دبا کر بھاگ گئے۔یہ وہی وقت تھا جب دو خواتین جو سیاہ لبادہ اوڑھے ہوئے تھیں ،تیزی سے دوڑتی ہوئی لوگوں کی بھیڑ میں گھس آئیں ۔۔۔ان میں سے ایک نے کسی شخص کے ہاتھوں میں موجود روتے ہوئے بچہ کو لے کر سینے سے بھینچ لیا۔دوسری نے بھیڑ میں گھس کر میری خیریت معلوم کی،سیاہ لبادے میں ملبوس وہ دوسری لڑکی انیلہ تھی۔
تھوڑی دیر بعد ہجوم چھٹ چکا تھا،سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگ چکے تھے۔مگر میں اس وقت ایک قریبی ریستوران میں موجود تھا،یہ اور بات تھی کہ مجبوراً مجھے یہاں لایا گیا تھا۔انیلہ اور اس کی بھابی کے پُرزور اصرار پر میں نے ان کی یہ چھوٹی سی دعوت قبول کر لی تھی کہ صرف ایک کافی ان کے ساتھ پی لوں۔انہوں نے پہلے ایک قریبی کلینک سے میری تھوڑی بہت مرہم پٹی بھی کروائی تھی۔ وہ لوگ کھاتے پیتے گھرانے سے تھے ،اس وقت بھی اپنی کار میں ریستوران آئے تھے جو انیلہ ڈرائیو کر کے لائی تھی۔ انیلہ کی بھابی میری بہت مشکور تھی۔اس نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا۔
’’ہم آپ کا کس طرح شکریہ ادا کریں سکندر بھائی‘آپ نے اپنی جان پر کھیل کر میرے بیٹے کی جان بچائی ہے۔میرے پاس تو شکریہ کے الفاظ بھی نہیں ہیں،اگر آج آپ نہ ہوتے تو؟‘‘
’’تو کوئی اوراﷲکا نیک بندہ یہ نیکی کماتا۔‘‘میں نے مذاق میں ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
میری بات پر انیلہ مسکراتے ہوئے بولی۔’’کسی اورنیک بندے نے آپ کی نیکی میں مداخلت کرنا پسند نہیں فرمایا۔ورنہ آپ جیسے اچھے…جنونی انسان سے ہم کیسے مل پاتے؟‘‘
’’جنونی میرے جیسے جنونی تو آپ کو ہر جگہ ملیں گے جی،جو ذرا سی بات پر لڑکیوں کے لیے جان دے دیتے ہیں۔‘‘
انیلہ اور بھابی میری بات پر مسکرا دیں۔انیلہ نے ایک بار پھر شوخی سے کہا۔’’ ویسے جان دینے والے اور بچانے والے جنونیوں میں تو بہت فرق ہوتا ہے۔‘‘
ماحول اچھا خاصا مزاحیہ ہو رہا تھااس لیے میں نے بات گھما دی۔’’شکریہ تو ادا ہوگیاجی،آپ نے ادھر کافی پلا دی میرے لیے یہی بہت ہے۔ویسے آپ کا بچہ سڑک پر کیسے آگیا تھا؟‘‘
انیلہ کی بھابی بچے کو سہلارہی تھی ،اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’ہم اس وقت ڈرنک کر رہے تھے اور یہ کرسیوں کے ساتھ نیچے کھیل رہا تھا،پھر پتا نہیں کیسے یہ شریر کھیلنے کے چکر میں ادھر سے نکل گیا؟‘‘
میں نے کافی کی چسکی لیتے ہوئے کن اکھیوں سے انیلہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ویسے انجان جگہوں پر بچوں کا خاص دھیان رکھا جاتا ہے۔‘‘
اس وقت ان دونوں نے نقاب اتار ا ہوا تھا۔میںچپ کرکے کافی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آہستہ آہستہ کن اکھیوں سے ان دونوں کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ دونوں خوبصورت تھیں ،انیلہ کی بھابی نے تعارف کے دوران اپنا نام زہرا بتایا تھا۔انیلہ کی عمر اکیس سال تھی،جب کہ زہرا پچیس کی تھیں۔تھوڑی دیر میں وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں خود ہی کافی کھل کر انفارمیشن دے چکی تھیں،چونکہ وہ مجھ سے بہت متاثر تھیںاور میں نے ان کے بچے کی جان بھی بچائی تھی۔۔۔اس لیے میں ان کے لیے ہیرو بن چکا تھا۔عورت کی خصلت میں شامل ہے کہ وہ اگر کسی کو اپنا نجات دہندہ مان لیں تو اس سے کوئی بھی بات چھپانے سے گریز نہیں کرتی، اس لیے وہ ایک بار اپنے اور فیملی کے بارے میں بتانا شروع ہوئیں تو بتاتی چلی گئیں۔میں خاموشی سے اور پوری دل جمی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔صنف نازک سے دور رہنے والے شخص کے لیے یہ انوکھا تجربہ تھا کہ کوئی ان سے کھل کر باتیں کر رہا ہے۔شاید پہلی نظر میں انیلہ مجھے پسند آئی تھی اور اس کا اپنی بھابی کے ساتھ یوں کھل کر باتیں کرنا بھی اچھا لگا تھا۔وہ آزاد خیال سوسائٹی کی آزاد خیال خواتین تھیں۔ انیلہ نے بہت کم باتیں کی تھیں، ورنہ خاموش ہی رہی تھی۔میں نے اپنے بارے میں بھی تھوڑا بہت بتایا تھا۔زہرا بھابی نے زبردستی میرا نمبر لے لیا تھا اور کہا تھا کہ میں ان کے گھر دعوت پر ضرور آئوں۔اس دوران ہم برگر بھی کھا چکے تھے،چونکہ مجھے بھوک لگی تھی مگر وہ پہلے کھانا کھا چکی تھیں۔اب دوبارہ میرے لیے منگوانے کے ساتھ اپنے لیے بھی منگوایا تھا۔تھوڑی دیر بعدمیں زبردستی تمام بل ادا کرکے وہاں سے نکل آیا۔زہرا بھابی نے مجھے سہارا دے کر جیپ تک آنے میں مدد دی۔وہ بہت خفا تھیںکہ میں نے بل کیوں ادا کیا۔۔۔مگر میں انہیں کیسے بتاتا کہ۔’’ مرد کے ہوتے ہوئے عورت کا بل ادا کرنا،میری انا کیسے گوارہ کرلیتی۔‘‘ان کا ارادہ تھا کہ وہ ڈرائیو کر کے مجھے گھر چھوڑ آئیں گی،مگر میں اب بالکل ٹھیک تھا۔تھوڑا بہت ٹانگ میں درد کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔اس لیے ان کے بے حد اصرار کے بعد بھی میں نے کہا۔
’’نہیں نہیں بھابی آپ کا بہت شکریہ میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔میں آرام سے ڈرائیو کر کے چلا جائوں گا۔‘‘
’’سکندر بھائی ویسے آپ مجھے پاگل لگتے ہیں۔‘‘زہرا بھا بی نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔’’ دیکھو بل بھی ادا کردیا‘تھینکس لینے کی بجائے الٹا احسان ؟‘‘
میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہہ دیا۔ ’’شاید تھوڑا بہت؟‘‘
…٭٭٭…
جیپ ایک دم سے سڑک پر موجود سیمنٹ کے بلاکس سے جا ٹکرائی،میں ایک دم سے خیالوں کی دنیا سے حقیقی دنیا میں لوٹ آیا۔میرے ماتھے اور سرپر تھوڑی بہت چوٹ آئی تھی،مگر حواس بحال تھے۔پتا نہیں کیسے میں سنگل روڈ پر نکل آیا تھا؟ یہ روڈ سیمنٹ کے بڑے بڑے بلاک رکھ کے بند کی گئی تھی۔یہ علاقہ سنسان تھا،سڑک کی حالت بھی کچھ خاص نہیں تھی۔یہ محکمہ جنگلات کا علاقہ تھا۔سڑک کے دونوں طرف خود رو جھاڑیوںکے علاوہ گھنے درخت بھی تھے۔جیپ بند ہو گئی تھی،سیٹ بیلٹ بندھی ہونے کی وجہ سے مجھے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔ویسے بھی جیپ کی رفتار بہت کم تھی۔سیٹ بیلٹ اتار کے میں نیچے اترا ،جیپ کے بونٹ کے نیچے سے دھواں اٹھ رہا تھا۔جیپ کا اگلا سیف گارڈمڑ گیا تھا۔آس پاس کوئی نہیں تھا،کوئوں اور کوئل برڈز کے بولنے کی آوازیں ماحول میں عجیب طرح کا ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔میں نے جیپ کا بونٹ اٹھا دیا،یہ جاپانی ماڈل کی طاقتور لینڈ کروزر کادوہزار سات کا ماڈل تھا،جو اب بھی بہت اچھی حالت میں تھا۔میں بونٹ کے نیچے جھکا ہوا تھاکہ اچانک تھوڑا سا کھٹکا ہوا،میں چونک کر پیچھے مڑامگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔ڈوبتے ذہن کے ساتھ میں بس اتنا دیکھ پایا،ایک بڑی مونچھوں والا گرانڈیل طاقتور شخص جس نے صرف ایک شلوار اور بنیان پہن رکھی تھی‘مجھے گھسیٹ کے لے جا رہا تھا۔
…٭٭٭…
بیداری کا احساس بڑا دردناک تھا،مجھے ابھی بھی ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا جا رہا تھا۔یہ کمرے کا پختہ فرش تھا،میرا سر اور کندھا لہولہان تھا،خون بہتا بہتا میری آنکھوں میں جارہا تھا۔درد کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔سر بار بار گھسٹتے ہوئے پختہ فرش سے ٹکرا رہا تھا اور سر میں برقی قمقمے جل بجھ رہے تھے۔سنبھلنے کی کوشش نے مجھے اور زیادہ تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹنے والا وہی شلوار بنیان والا گرانڈیل شخص تھا۔میں نے اپنی ٹانگوں کو آزاد کرنے کی ناکام سی سعی کی،مگر سب بے سود۔اس شخص کی مضبوطی کسی ہتھکڑی سے کم نہیں تھی۔میں نے چلا کر اس سے رکنے کی التجا کی مگر شاید وہ تمام احساس سے عاری تھا۔ میرے چلانے سے اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔اس کی بڑی بڑی سرخ آنکھوں میں بلا کی خوفناکی تھی،اس کو دیکھ کر میں ایک دم سے گھبرا گیا۔میرا چیخنا چلانا اک دم سے بند ہو گیا تھا۔درد کی شدت مسلسل بڑھ رہی تھی کیونکہ سر بار بار پختہ فرش سے ٹکرا رہا تھا۔ایک بار پھر میرا ذہن تاریکی میں ڈوب گیا۔دوسری مرتبہ ہوش آیا تو میں ایک نرم بستر پر تھا، میرے زخموں کی ڈریسنگ کی گئی تھی۔۔۔درد اب نہیں ہو رہا تھا۔میں آہستہ سے اٹھ بیٹھا،یہ چھ بائی چھ کا ایک آراستہ اپارٹمنٹ تھا۔چھوٹا ہونے کے باوجود ضرورت کی ہر شے موجود تھی۔ایک طرف فریج کے علاوہ ایل ای ڈی ٹی وی بھی لگا ہوا تھا۔بیڈ کے ساتھ تین کرسیاں اور ایک میز بھی رکھی ہوئی تھی۔میز پر رکھی ایش ٹرے میں سگریٹ اور سگار کے ادھ جلے ٹکڑے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ کچھ دیر پہلے تک کوئی یہاں موجود تھا۔ مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی تھی، میں آہستہ سے بیڈ پر سے اترا اور فریج کھول کر اس میں موجود ایک کولڈ ڈرنک نکال لیا۔اس دوران میرے حواس پوری طرح بیدار ہو چکے تھے ،میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے اغوا کیا گیا ہے۔مگر کس مقصد کے لیے یہ ابھی معلوم نہیں تھا۔اغوا کے باوجود کمرے میں تمام سہولتیں…کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا،کیونکہ بیڈ پر ابھی میں نے اپنا اسمارٹ فون بھی دیکھ لیا تھا۔دل میں ابھی بھی ہلکا ہلکا خوف موجود تھا،مجھے ایک بار اس گرانڈیل شخص کا خیال آیا تو جھرجھری سی آگئی۔وہ بہت خوفناک اور طاقتور تھا۔میں نے جلدی سے بیڈ سے اپنا سیل فون اٹھایا اور اسے آن کر کے کوئی نمبر ڈائل کرنے کی کوشش کی،مگر اسی وقت دروازہ کھلا تو میں چونک گیا۔آنے والے دو افراد تھے جو حلیے اور لباس سے ہائی سوسائٹی کے لگ رہے تھے۔ دونوں نے ایک جیسی پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی۔ ان میں ایک پاکستانی تھا،جب کہ دوسرا یورپین نژاد لگ رہا تھا۔ یو رپین نے شرٹ کے اوپر بلیک کوٹ پہنا ہوا تھا جبکہ پاکستانی صرف پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا۔ دونوں کی عمریں پینتیس چالیس کے درمیان تھیں۔ داخل ہوتے ہی اس پاکستانی لگ رہے شخص نے جسے میں نہیں جانتا تھااس نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔
’’ارے ارے کال نہیں مسٹر سکندر کال نہیں۔‘‘میں نمبر ڈائل کرتے کرتے رک گیاتھااور ان کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
وہ دونوں آگے بڑھے اور کرسیوں پر بیٹھ گئے،ان کے چہروں پر گہرا اطمینان تھا۔
’’پلیز سٹ ڈائون مسٹر سکندر۔‘‘بیٹھتے ہی اس پاکستانی نے مجھے بیٹھنے کا حکم دیا۔
جب میں بیٹھ گیا تو تھوڑی دیر بعد وہ پاکستانی پھر گویا ہوا۔’’تمہارے ذہن میں بہت سے سوال کلبلا رہے ہوں گے مسٹر سکندر کہ یہ سب کیا ہے‘میں کون ہوں‘اور یہ کون ہیں اور آپ کو کیوں زحمت دی گئی ہے؟‘‘
میرا خوف اب کسی حد تک کم ہو گیا تھا،اس لیے جب میں بولا تو میرا لہجہ پر اعتماد تھا۔’’جی بالکل ایسے سوال تو ذہن میں آئیں گے ہی جب کسی کے ساتھ ایسا ہو گا۔‘‘
’’سب سے پہلے ہم اپنا تعارف کروا دیں تو بہتر رہے گا۔‘‘اس پاکستانی نے یورپین نژاد شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔’’ان سے ملیے یہ ہیں مسٹرمارک جانسن اور مجھے تم منیر احمد نیازی کہہ سکتے ہو۔‘‘
کمرے میں آنے کے بعد سے اب تک مارک خاموش ہی رہا تھا،وہ اب بھی بے پروائی سے اپنے بھورے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔شاید وہ اردو سمجھنے کے باوجود اردو میں بات نہیں کر سکتا تھا۔
اگلے پونے گھنٹے میں میرے اورمنیر کے در میان جو باتیں ہوئیں وہ بہت خطرناک اور میرے لیے خاصی حیران کن تھیں۔ان کا لب لباب بہت بھیانک تھا۔منیر حکومتی بندہ تھا۔جب کہ مارک جانسن کے بارے میں مجھے بہت کم بتایا گیا تھا۔ان تمام باتوں کا مختصر خلاصہ یہ تھا کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے میری ہر سرگرمی پر ان کی نظر تھی۔ چونکہ میں تمام لوگوں کی ایک آئیڈیل شخصیت بن چکا تھا۔وہ میری اس آئیڈیل شخصیت کو سیاست میں لا کر اپنے مفاد حاصل کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔مجھے تو زیادہ نہیں پتا تھا،مگر وہ مجھے کسی نہ کسی حوالے سے میڈیا میں ایکٹو رکھے ہوئے تھا۔انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بھی کہہ دیا تھااگر میں ان سے متفق نہیں تو ان کو اور بھی ہتھکنڈے آتے ہیں۔اگر میں ان کے ساتھ شامل ہو جاتا تو مجھے کئی طرح کے فوائد حاصل ہو تے اور نہ شامل ہونے کے نقصانات بھی انہوں نے کلیئر کر دیے تھے۔
جب تمام باتیں ہو چکی تو تھوڑی دیر بعد مسٹر جانسن نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے پہلی مرتبہ اپنی زبان کھولی۔’’مسٹر سکندر!ہم آپ کو ایک گفٹ دیتا ہے ۔۔۔اور آپ کو ایک ہفتے کا سوچنے کا ٹائم دیا جاتا ہے۔۔۔اس میں آپ کا پاسپورٹ اور کچھ کرنسی ہے۔آپ کو آفر کی جا رہی ہے کہ آپ اس ہفتے کسی بھی یورپین ممالک میں گھومنے کے لیے جا سکتے ہیں۔‘‘جانسن کی گلابی اردو میں عیاری کی بو واضح تھی۔شروع میں ہی لالچ کی آفر بہت واضح تھی،بلکہ گفٹ کی صورت میں لالچ اور رشوت کا امتزاج۔
میں خاموشی سے سب سنتا رہا ،میں سب سمجھ گیا تھا،انہوں نے بات نہ ماننے کے اشاروں اشاروں میں سائیڈ ایفیکٹس بھی بتا دے تھے۔یہ اچھی بات تھی کہ انہوں نے ایک ہفتے کا سوچنے کا ٹائم دیا تھا۔۔۔اس دوران شاید میں کچھ کر سکتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد وہ مجھے کمرے میں تنہا چھوڑ کے چلے گئے۔انہوں نے مجھے جانے کی اجازت دے دی تھی۔ سمجھنے کو تو یہ ایک عام بات تھی کہ مجھے وہ یوں کھلا چھوڑ کر چلے گئے تھے ،مجھے اپنے رازمیں برابر کا شریک…بلکہ میں ہی ان کا راز تھا۔ان کے اس بلا خوف عمل میں بھی ایک طرح کی حکمت عملی تھی،ایک طرح سے وہ مجھے چیلنج کر رہے تھے کہ جائو مسٹر سکندر تم ان سات دنوں میں جو کرنا چاہتے ہو کر لو۔۔۔چاہو تو ہمارا راز فاش کرو اور ہمارے خلاف جو کر سکتے ہو کرو۔مگر آخر کار تم ہمارے ساتھ شامل ہو کر ہی رہو گے۔کیونکہ یہ پاکستان ہے بیٹے،اگر تم ہمارے خلاف کوئی سازش کرو گے تو الٹا تم خود ہی پھنسو گے۔ پھر ہم تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے،تمہارے ساتھ تمہاری فیملی ہے۔۔۔تمہارا باپ لاکھ بہت بڑا بزنس مین سہی مگر وہ تمہیں نہیں بچا سکے گا ۔۔۔موت سے ۔۔۔ہمارے قہر سے۔ ہمارے قہر کا ایک معمولی نمونہ تم پہلے ہی چکھ چکے ہو۔اب بتائو مسٹر سکندر ہم تمہارے سامنے باتیں کر کے ،تمہیں تھوڑی دیر پہلے سزا دے کر آسانی سے آکر چلے گئے۔مگر تم کون سے ہیرو تھے جو ہمیں روک سکتے تھے۔بعد میں بھی تم ایسا نہیں کر سکو گے مسٹر سکندر !ہاں بعد میں بھی۔ ہماری تم پر ہر وقت پہلے کی طرح نظر رہے گی۔۔۔ہمیں یقین ہے تم فائدے کا سودا کرو گے۔ایک تمہارے شامل ہونے سے ملک کو کوئی خاص نقصان یا فائدہ نہیں پہنچے گا،کیوں کہ اس ملک کی بنیادیں شروع سے ہی کھوکھلی ہیں۔تمہارے جیسے کئی اور ہمارے ساتھ ہیں۔تمہارے ساتھ شامل ہونے نہ ہونے سے ہمیں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔مگر تمہارے نہ ہونے سے تم پر بہت فرق پڑے گا۔یہ ایسی سوچیں تھیں جو مجھے اندر سے بری طرح سے لرزا رہی تھیں۔انہوں نے میری لائف کا ہر گوشہ کھول کر رکھ دیا تھا۔حتیٰ کہ انیلہ کے بارے میں بھی وہ جانتے تھے۔۔۔جو آئی ہی میری زندگی میں چند دنوں کے لیے تھی۔
میں اپارٹمنٹ سے باہر نکلا ،تو باہر رات اپنے پر پوری طرح پھیلا چکی تھی۔یہاں گزرے وقت میں پتا بھی نہیں چلا تھا کہ اب رات ہے یا کہ دن۔ یہ نو آبادیاتی علاقے میں بن رہی ایک بلڈنگ تھی ،جو نیچے ہی دو تین منزلہ آباد تھی اور ادھر سے لائٹنگ کی روشنی چھن کر باہر آرہی تھی۔باہر سے دیکھنے پر بلڈنگ ویران معلوم ہو رہی تھی ،کیوں کہ بنانے کے بعد بلڈنگ کے باہر سے آرائش اور لائٹنگ ابھی نہیں کی گئی تھی۔
نیچے موجود پارکنگ میں ایک بلب روشن تھا جس کی وجہ سے بیشترحصہ تاریکی کی زینت بن گیا تھا۔یہاں موجود سیمنٹ اور بجری کے جھاڑ جھنکاڑ میں میری منی جیپ کے علاوہ دو اور گاڑیاں بھی موجود تھیں۔ جن میں ایک لوڈر وین اور دوسری ایک کرولا کار تھی۔مجھے دوسری منزل سے یہاں تک آنے میں کسی نے نہیں روکا تھا۔۔۔کیونکہ مجھے یہاں لانے والے کب کے جا چکے تھے۔ جیپ کے اگنیشن میں چابی موجود تھی،وہ جیپ کو تیار حالت میں چھوڑ گئے تھے۔ میں نے رسٹ واچ میں اب ٹائم دیکھا تو ساڑھے آٹھ ہو رہے تھے۔پچھلے دس گھنٹوں سے میں یہاں موجود تھا۔
تھوڑی دیر میں جیپ بلڈنگ سے نکال کر میں روڈ پر آگیا تھا۔اس علاقے میں آنے کا میرا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔گھر سے ابھی تک کسی نے فون نہیں کیا تھا۔۔۔کیونکہ رات کے دس بجے تک اکثر اوقات میں باہرہی رہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں شہر کے اندرونی حصے میں پہنچ چکا تھا۔ مجھے بھوک لگی تھی،گھر اگر جاتا تو وہاں کھانا کھایا جا چکا ہوتا اس لیے میں نے جیپ ایک فائیو سٹار ہوٹل کے سامنے روک دی۔ڈنر کرتے ہوئے میری سو چ کا محور آج کے واقعہ کی طرف چلا گیا۔۔۔اس کے ساتھ ہی مجھ میں بے بسی کی لہر سرایت کرنے لگی۔کسی کی غلامی ۔۔۔کسی کا خود پر حاوی ہو جانا کتنا ذلت آمیز کام ہوتا ہے،مجھے ابھی سے ہی یہ سوچ کرالجھن ہو رہی تھی کہ کیسے میں یہ سب برداشت کر پائوں گا۔میرا ضمیر کیسے ایک رضا کار سے وطن فروش بن جانا گوارہ کر لے گا۔ اچانک میرے ذہن میں جھماکا ہوا۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں جلدی سے وہاں سے اٹھ گیا۔کھانا میں بہت پہلے ہی ختم کر چکا تھا۔
مجھے کامی کا خیال آیا تھا۔۔۔اس نے باتوں باتوں میں ذکر کیا تھا کہ وہ اسپیشل فورس پاک آرمی میں لگا ہے۔شاید میں اس سے کچھ مدد لے سکتا تھا۔۔۔ایک کامی ہی وہ شخص تھا جس پر میں تھوڑا بہت اعتبار کر سکتا تھا۔یہ خیال آتے ہی میں رک گیااور جیب سے سیل فون نکال کر میں کامی کا نمبر ملانے لگا۔
نمبر ملاتے ملاتے اچانک میں پھر سے چونک گیا۔۔۔انہوں نے مجھ پربہت پہلے سے نظر رکھی ہوئی تھی اور وہ کامی کو شاید اب جان گئے تھے ،گو کہ ہم بہت عرصے بعد ملے تھے۔ میں نے سوچا مگر اب وہ بھی ان کی نظروں میں آچکا ہو گا،اگر میں کامی کو کہیں ملنے کے لیے بلاتا تو میری ہر وقت ہو رہی نگرانی ہم دونوں کے لیے نئی پرابلم کری ایٹ کر سکتی تھی۔۔۔یہ بھی ہو سکتا تھا کہ میرا نمبر انہوں نے ٹریس کیا ہوا ہو؟
مگر تھوڑی دیر بعد میں پھر گردوپیش میں پوری طرح تسلی کر کے ایک قریبی فون بوتھ سے کامی کا نمبر ملا چکا تھا۔
…٭٭٭…
میری منی جیپ اس وقت ملتان سے نکل کر ڈی جی خاں کی طرف بڑھ رہی تھی۔منیر نیازی ، مارک جانسن سے ملاقات کو آج چوتھا دن تھا۔اس دوران انہوں نے مجھ سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی تھی اور نہ ہی میں نے کسی سے ملنے کی کوشش کی تھی ،میرے معمول میں بھی کسی چیز کا فرق نہیں آیا تھا۔میں نے وہ واقعہ بھی اپنے تک ہی محدود کر لیا تھا۔دی گئی مہلت میں اب صرف تین دن رہ گئے تھے‘وہ جانتے تھے کہ میں ان کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہو جائوں گا۔اگر راضی نہ بھی ہوں تو ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔کیونکہ میرے نہ کرنے پر وہ مجھے اور میری فیملی کو باآسانی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔پچھلے چار دنوں میں میں پوری طرح سے نارمل رہا تھا۔
تنہائی اور تھوڑی بہت بے چینی کی بدولت میرا خیال اکثر انیلہ کی طرف ہی بھٹکنے لگتا تھا۔جیپ ڈرائیو کرتے ہوئے آج پھر میرا ذہن خود بخود پھر ایک سال پہلے والے واقعات کی طرف مڑتا چلا گیا۔ دوسر ے دن زہرا بھابی کے بچے کی جان بچانے والے لمحات کی خطرناک ویڈیو بہت سے ٹی وی چینلز، یوٹیوب اور کئی سوشل ویب سائٹ پرشیئر کی گئی تھی۔یہ انہی ریس والے منچلے لڑکوں کا کام تھا،جو بائیکس پر ڈیجیٹل کیمرہ کے ساتھ اپنے خطرناک سٹنٹس اور ریس کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔ٹی وی چینلز اور اخبارات نے میرا پورا بائیو ڈیٹا کہیں سے حاصل کر کے ویڈیو کے ساتھ شیئر کر دیا تھا کہ میں کون ہوں؟صحیح معنوں میں ہیرو نہ ہونے کے باوجود میں ہیرو بنا دیا گیا تھا۔گھر میں بھی مجھے ابو کی طرف سے حوصلہ افزائی کی گئی تھی کہ میں نے ایک بڑھیا کام کیا ہے۔مگر حقیقت میں وہ پاگل پن کے سوا کچھ نہیں تھا۔قریباََ ایک بجے کے قریب مجھے انیلہ کی کال موصول ہوئی اور اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔اس نے میرے بارے میں شائع ہونے والی تمام تحاریرحاصل کرلی تھیں اور اب وہ مجھ میں دلچسپی لے رہی تھی۔
پہلی ملاقات کے بعد ہم ہر روز ملنے لگے تھے۔ہماری یہ پسندیدگی آہستہ آہستہ محبت میں کیسے بدلی ہمیں کچھ پتا نہیں تھا۔انیلہ کے گھر والوں سے میں مل چکا تھا،وہ تھوڑے بہت پسماندہ خیالات کے تھے اور لڑکی کا اپنی مرضی سے لڑکے کو پسند کرنا معیوب سمجھتے تھے ،انیلہ سے ملے بارہویں دن ہی اس کے ابو نے اس کی کہیں منگنی کر دی۔لڑکا وہ پہلے سے ہی پسند کر چکے تھے ،منگنی کی چل رہی بات کا انیلہ نے بھی بتایا تھا۔مگر اتنی جلدی ہو جائے گی ہم نے سوچا نہیں تھا۔منگنی کے بعد انیلہ نے مجھ سے آخری ملاقات بھی نہیں کی اور فون پر تھوڑی بہت بات کر کے منع کر دیا کہ ہمارا ساتھ بس اتنا ساہی تھا۔
’’سکندر پلیز اب مجھ سے ملنے کی کوشش نہ کرنا‘میں اب کسی اور کی عزت ہوں۔میں بہت مجبور سہی پر اب بھی تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔شاید بعد میں بھی تمہاری جگہ دل میں کوئی اور نہیں لے سکے گا۔‘‘ ایسی جذباتی باتیں انسان کوہمیشہ سے ہی مجبور کرتی رہی ہیں،میں بھی آخر کار مجبور ہوگیا تھا۔ان بارہ دنوں کی رفاقت داغ مفارقت دے گئی تھی۔۔۔کاش کہ ہم بہت پہلے ملے ہوتے یا میں بہت جلد اپنے گھر والوں کو انیلہ کے گھر بھیج دیتا۔مگر انیلہ کی ان مایوسانہ باتوں نے بھی میرا دل توڑ کر رکھ دیا تھاکہ میں اب اسے بھول جائوں اگر وہ ساتھ دیتی تو منگنی تڑوالی بھی جا سکتی تھی۔مگر شاید جتنی جلدی ہم ملے تھے،اتنی جلدی بچھڑ جانا اس کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔عورت ایک پہیلی سہی مگر میری محبت کے اقرار نہ کرنے کے باوجود وہ جانتی تھی کہ میں اسے پسند کرتا ہوں ،محبت کرتا ہوںگو کہ میں یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ وہ بھی مجھے صرف لائک کرتی ہے یاکہ محبت۔
دو گھنٹے بعد میں ڈی جی خان کے مضافات میں موجود اپنی زمینوں کے فارم ہائوس پر کامی کے ساتھ موجود تھا۔ اس وقت ہم فارم ہائوس کی دو منزلہ چھت پر کرسیوں پر بیٹھے تھے۔چھت سے آس پاس موجود کھیتوں کی ہریالی اور مغرب میں موجود پہاڑ بہت دور ہونے کے باوجود بالکل پاس اور صاف دکھائی دے رہے تھے۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں لہلہا رہے کھیت کسی پارک کا منظر پیش کر رہے تھے۔شہری گھٹن سے دور یہ ماحول ابو کو بہت پسند تھااور وہ سال میں تین مہینے یہاں اور پہاڑوں میں گزارتے تھے۔ڈی جی خان کے بعد مغرب میں پینتیس چالیس کلو میڑ کے بعد فلک بوس خشک پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہوتا تھا،مگر یہ پہاڑ ڈی جی خاں کے مضافات میں اتنا لمبا سفر ہونے کے باوجود ایسے لگ رہے تھے کہ ایک کلو میٹر کے بعد ہی یہ شروع ہو رہے ہیں۔ کامی پہلے بھی کئی بار یہاں آ چکا تھا اور اس کے ان پہاڑوں میں موجود فوجی چھائونی سے گہرے روابط تھے۔اس چھائونی میں نئے بھرتی ہونے والے فوجیوں کی ٹریننگ بھی ہوتی تھی۔کامی کویہاں میں نے بلایا تھا،اس لیے جب میں بہت دیر خاموشی سے اردگرد کا نظارہ کرنے میں مگن رہا تو کامی سے رہا نہیں گیااوروہ بیزاری سے بولا۔
’’ارے یار اب کچھ بولو بھی تو سہی آخر ایسی بھی کیا افتاد آپڑی جو مجھے یہاں بلایااور اتنے دن فون بھی نہ کرنے کا کہا۔‘‘
میں نے پہاڑوں کی طرف ایک بھر پور نظر ڈالی اور گویا ہوا۔’’یارپہلے تو زحمت دینے کے لیے بہت معذرت کہ تمہیں تکلیف دی ۔۔۔مگر کچھ بات ہی ایسی ہے کہ میں تمہارے سوا کسی پر اعتبار نہیں کر سکتا اور صرف تم ہی میری کچھ مدد کر سکتے ہو۔‘‘
’’اوہ!اب ایسی بھی کیا مصیبت ہے‘دوست ہوتا ہی کس لیے ہے۔‘‘کامی نے سکون بھرا گہرا سانس لیا اور پھر بولا۔’’اب پلیز جلدی سے اپنی مصیبت بیان کرو تاکہ ہم کچھ مدد کرسکیں۔‘‘
’’کامی کیا تم اب بھی میرے لیے وہی دوستی کے جذبات رکھتے ہو جو اسکول کے ز مانے میں رکھتے تھے‘مطلب گہرا دوست سمجھتے ہو کہ نہیں؟‘‘
’’سبحان اللہ جی ! اتنی دور کیا یہی سب پوچھنے کے لیے بلایا ہے اگر دوستی کے جذبات ماند پڑ گئے ہوتے تو میں یہاں کب آتا سالے۔‘‘
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا یار۔۔۔اصل میں اتنا عرصہ دور رہنے کے بعد دوستی کے جذبات بدل جاتے ہیں۔‘‘میں نے دور کھیتوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
کا می گرم ہوگیا۔ ’’اچھا جی جذبات بدل جاتے ہیں تو کیا تمہارے بدل گئے ہیں۔جو اب میرے بارے میںتجربہ حاصل کرنے کے لیے صرف یہاںبلایا ہے کہ مجھ سے پوچھ سکو کہ مسٹر کامران کیا تم اب بھی مجھے ایک اچھا دوست سمجھتے ہو کہ نہیں‘ابے سالے شاید جذبات تو مطلبی دوستی کرنے والوں کے بدلتے ہوںگے ،یا پیار کرنے والوں کے بدلتے ہونگے مگر تمہیں کس نے کہہ دیا کہ بے غرض دوستوں کے جذبات بھی بدلتے ہیں۔‘‘
میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔ ’’نہیں یارایسی بات نہیں میرے جذبات اب بھی وہی ہیںجو پہلے تھے۔مگر میں یہ کہہ رہا تھاکہ ہماری دوستی تو بچپن سے شروع ہوئی تھی نااور لڑکپن کے بعد سے ہم ملے نہیں‘مطلب یہ کہ جوانی میں آنے کے بعد نئے دوست بن جاتے ہیں اور اکثر لوگ پرانے دوستوں کو بھول جاتے ہیں،یا کبھی ملتے ہیں تو انجان بن کر۔‘‘
’’گڈ بہت اچھے ویسے بات تو سہی کہی تم نے مگر سالے یہ تو میرے خیال میں جن کا تم نے کہا وہ یا تو دوست نہیں ہوتے یا مطلبی ہوتے ہیں۔مگر دیکھ لو میں تمہارے سامنے ہوں اور میرے تو جذبات سرے سے بدلے ہی نہیں میں تو تمہیں اب بھی سالا بنا لیتا اگر تمہاری کوئی بہن ہوتی۔‘‘
کامی نے ہنستے ہوئے جواب دیا تو میری بھی ہنسی نکل گئی۔ہنسی روک کر کامی نے پھر پوچھا۔’’اچھا سکندر بابااب پلیز یہاں بلانے کا اصل مقصد بتادو مجھے الجھن ہو رہی ہے۔‘‘
تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے ساتھ گزرا تمام واقعہ اس کے گوش گزار کر دیااور اس سے اس بارے میں مدد کی درخواست بھی کردی۔
کامی حیران ہو رہا تھااس نے تمام واقعہ سن کر ایک گہری سانس لی اور دور پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’ہوں تو یہ بات ہے۔‘‘
میں نے سکون بھراسانس لیا اور کہا۔ ’’جی یہی بات ہے‘شکر ہے تم سمجھ تو گئے۔‘‘
کامی نے ایک ہنکارہ بھرااور بولا۔’’جی بالکل بیٹے میں سمجھ گیا تو بری طرح سے پھنس چکا ہے۔‘‘
’’ہاں یار اب تو ہی مجھے اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔‘‘
’’دیکھتے ہیں جی مدد سے انکار ممکن ہی کہاں ہے۔پہلے تو یہ بتا کہ یہ بات تو نے پہلے کسی اور کو تو نہیں بتائی۔‘‘
’’اتنا بیوقوف میں بھی نہیں کہ ہر ایرے غیرے کو بتاتا پھرتا۔اس بات سے تو گھر والے بھی ناواقف ہیں۔‘‘
’’گڈ تمہارا معاملہ بہت اہم ہے۔مجھے اس بارے میں اپنے سینئرز سے بات کرنی ہوگی۔‘‘
’’تو جلدی کرلو ناں یار‘ مجھے تو اس بارے میں الجھن سی ہونے لگی ہے۔‘‘
’’اوکے‘میں کچھ کرتا ہوں۔‘‘کامی یہ کہہ کر کرسی سے اٹھ کر چھت پر تھوڑا آگے چلا گیااور کسی کا نمبر ملا کر دھیمے لہجے میں بات کرنے لگا۔کامی کی باتیں مجھے سنائی نہیںدے رہی تھیںمگر دور سے اس کے چہرے کے تاثرات کئی بار بگڑ سنبھل رہے تھے۔گو کہ مجھے پوری امید تھی کہ کامی کچھ نہ کچھ کر لے گامگر پھر بھی دل میں ایک انجانا ساخوف بیٹھ گیا تھا۔میں بزدل نہیں تھا،مگر مام ڈیڈ پر کوئی مصیبت میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
پندرہ بیس منٹ بعد کامی واپس آیا تو وہ پرجوش دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے آتے ہی کہا۔ ’’منیر نیازی پہلے سے ہی ہماری مشکوک افراد کی لسٹ میں آچکا ہے‘اب ایک بہترین موقع ہے کہ ہم تمہارے ذریعے ثبوت حاصل کرکے اس کے ساتھ موجود لوگوں کا پتا چلائیں۔‘‘
کامی اور میرے درمیان اس معاملے میں مزید ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی اور اس دوران ہم پوری طرح سے ایک دوسرے سے متفق ہو چکے تھے۔ہم ایک دیرپا مصالحانہ منصوبہ بنا چکے تھے جس کا مرکزی کردار میں خودتھا۔
…٭٭٭…
’’اٹھارہ ماہ بعد۔‘‘میں اب ایک بہت اچھاسیّاس بن چکا تھا۔سیاست میں آنے کے لیے مجھے کسی پرابلم کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔یہ سب منیر نیازی کی بدولت ہی متوقع ہو پایا تھا۔کیونکہ ساتویں دن میں نے ان کے ساتھ شامل ہونے کی ہامی بھر لی تھی۔الیکشن سر پر ہونے کی وجہ سے انہوں نے مجھے فوراًایک بہت بڑی سیٹ پر کھڑا کر دیا،کامیابی کی ضمانت میری نیک نامی ہی بنی‘ڈیڈ نے بھی سیاست میں آنے پر کسی مخالفت کا اظہار نہیں کیا تھابلکہ وہ خوش تھے کہ اب میں کھل کر عوام کی خدمت کروں گا۔ہوابھی یہی تھا کہ میں نے اس دوران بڑھ چڑھ کر عوام کی خدمت کی تھی۔اپنے ادارے کو اب فنڈزمیں خود دیتا تھا،جو اب بھی کئی طرح کی فائونڈیشن کی مدد سے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کررہا تھا۔میری مقبولیت میں اب کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا۔
اس دوران منیرنیازی اور مارک جانسن کے علاوہ دو تین اور بندوں سے بھی میری ملاقات ہو چکی تھی۔وہ سب مجھ سے مطمئن اور خوش تھے کہ میں نے شروع میں ہی ان کے دو تین کام کرکے ان کی توقعات پر پورا اترا تھا۔ان دنوں وہ مجھے کئی مراعات سے نوازتے رہے تھے۔ میں خاموشی سے ان کے خلاف بھی کام کرتا رہا تھااور رپورٹس کامی کو پہنچاتا رہا تھا۔
میرے لیے اب راوی بالکل چین ہی لکھ رہا تھا ،مگر دل میں اب بھی ایک خلش سی تھی۔ہر چیز کا آرام و سکون میسر ہونے کے باوجود میں نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی‘انیلہ تصور آج بھی مجھے تنہائیوں میںاکثر تڑپاتا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب کامی نے مجھے ایک دن کال کی اور کہا۔’’سکندر بابا کیسے ہو؟‘‘
’’کامی کی کال نے مجھے خوش کر دیا تھااس لیے میں نے بھی چہک کر کہا’’بالکل ٹھیک بیرو تم سنائوآج کچھ زیادہ خوش نہیں لگ رہے۔‘‘
کامی نے ہنستے ہوئے کہا۔’’ہاں یار بات ہی کچھ ایسی ہے پہلے تم یہ بتائو سکندر باباآج کل زیادہ بزی تو نہیں ہو ناں؟‘‘
’’نہیں یار میں تو آج کل فری ہی ہوں چھوٹے موٹے کام تو سیکرٹری ہی کرتا رہتا ہے۔‘‘
’’تو پھر تیار ہو جائو۔‘‘کامی نے کہا۔’’فورٹ منرو کا نام تو سنا ہوگا ناں۔‘‘
’’ہاں یار!ایک بار گیا بھی ہوں۔بہت خوبصورت علاقہ ہے لائک مری ہے دوسرا۔‘‘
’’جی بالکل درست کہا دوسرا مری ہے۔‘‘کامی نے ہنستے ہوئے کہا۔’’تیار ہو جائو پھر کل وہیں چل رہے ہیں۔‘‘
’’کیا کچھ خاص ہے وہاں کیا؟‘‘میں نے حیرانی سے پوچھا۔
’’ہاں جی بہت خاص ہے۔تم سیاست دان لوگ تو کہیں گھومتے بھی نہیں وہاں کچھ ریلیٹوز جارہے ہیں یار مطلب کچھ گرلز وغیرہ۔‘‘کامی نے میرے تجسس کے لیے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’کیا مطلب یار !میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
’’سب سمجھ جائو گے بیٹے بس بستہ پیک کر لو۔‘‘
’’یار کچھ بتائو گے بھی یاایسے ہی بستہ پیک کر لوں۔‘‘
’’ابے سالے ہر بار تمہیں سمجھانا ہی پڑے گا کیا۔‘‘کامی نے ناراض ہونے کی کوشش کی۔’’کبھی خود ہی سمجھ لیا کرو یار میری منگیتر نہیں دیکھنی کیا۔‘‘
’’ہاں یار اپنی منگیتر سے تو تم نے کبھی ملوایا ہی نہیں۔‘‘
’’تو اب مل لو گے یار‘ ساتھ میں تمہارے لیے کچھ سرپرائز بھی ہے۔‘‘
’’سرپرائز یار تم بات گھماپھرا کر کیوں کر رہے ہو۔‘‘میں نے بور ہوتے ہوئے کہا۔ ’’سیدھے پوائنٹ پہ آئو ناں۔‘‘
’’سکندر بابے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں پہلے شادی نہیں کرنے والی ہوگی تو اکٹھے ہوگی ورنہ نہیں۔ ویسے ہماری پہلی ملاقات بھول گئی کیا۔‘‘کامی نے معنی خیز لہجے میں کہا۔’’ میری منگیتر کے ساتھ دو سہیلیاں بھی ہیں جن کو اس دن غنڈے چھیڑ رہے تھے۔‘‘
’’تو میں کیا کروں یار۔‘‘میں نے بگڑتے ہوئے کہا۔’’میں نے تو ان مغرور لڑکیوں کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔‘‘
’’تو اب دیکھ لینا یاران کی شکل ۔۔۔اور اب کی بار ان میں سے کوئی پسند بھی کر لینا۔تمہارے بارے میں یہ انکل کا خاص حکم ہے میرے لیے۔‘‘
’’انکل کا تو ڈیڈی نے تمہارے کان بھرے ہیں۔‘‘
’’جی بیٹے جلدی سے کوئی پسند کر لو۔‘‘کامی نے شرارت سے ہنستے ہوئے کہا۔’’ورنہ ایک دو سال بعد کوئی سیکنڈ ہینڈ بھی ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔‘‘
اگلے پندرہ بیس منٹ میں کامی اور میرے درمیان بہت دلچسپ گفتگو ہوئی اور کامی نے مجھے آخر کار قائل کر ہی لیا کیونکہ یہ ڈیڈی کا بھی خاص حکم تھاکہ مجھے سیرو سیاحت کے لیے کہیں بھی جانا چاہیے۔ ویسے کامی کا حکم بھی میں کیسے ٹال سکتا تھا۔
…٭٭٭…
دوسرے دن ہم دوپہربارہ بجے فورٹ منرو میں تھے۔گو کہ کامی اور باقی سب پہلے ہی صبح ساڑھے نو دس بجے کے درمیان وہاں پہنچ چکے تھے۔مگر میں تھوڑا لیٹ ہونے کی وجہ سے بارہ بجے پہنچ پایا تھا۔ملتان سے فورٹ منرو کا زیادہ سفر نہیںتھا جیپ پر تین گھنٹے قریباًایک سو اسی کلومیٹر کا سفر کر کے ہم یہاں پہنچے تھے۔چونکہ یہ مئی کے آخری ایام تھے اس لیے صبح سویرے سفر کرنے میں انہیں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔
فورٹ منرو ایک بہت خوبصورت علاقہ تھا۔حقیقت میں یہ مری جتنا ہی خوبصورت علاقہ تھا،مگر کسی وجہ سے زیادہ مشہور نہیں ہو سکا۔فورٹ منرو کے لوگ باقی ملک سے الگ تھلگ زندگی گزارتے تھے۔موسم سرما کی برف باری کے لیے مری کے علاوہ بہت کم لوگ جانتے تھے کہ ان کے پاس ایسی بھی جگہیں ہیںجو ان کے قریب تر بھی ہیں اور جہاں پہنچنا انتہائی آسان ہے۔پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ایک غیر معروف ہل اسٹیشن فورٹ منروایک ایسا ہی ٹورسٹ پوائنٹ تھا جہاں جون جولائی میں بھی ٹھنڈی ہوائیں استقبال کرتی تھیں۔
جنوبی پنجاب کا یہ واحد مقام ہے جہاں ڈیرہ غازی خاں،ملتان،مظفر گڑھ اور راجن پور کی گرمی سے نکل کر تین سے چار گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے۔خصوصاً سندھ اور کراچی کے باشندے ایئر کنڈیشنڈ کوچ کے ذریعے بہت ہی کم کرایہ میں دس بارہ گھنٹوں میں یہاں پہنچ سکتے ہیں۔فورٹ منرو کے علاقہ پر پہلے انگریزوں کا قبضہ تھا مگر اب اس علاقے پر زیادہ تر وڈیرے قابض تھے۔یہاں رہنے کے لیے ریسٹ ہائوس بھی تھے جن کے رومز ٹھنڈے رہتے تھے۔
جب میں وہاں پہنچا تو کامی اور باقی سب اس وقت فورٹ منرو کے سب سے خوبصورت مقام پر موجود ڈیمز جھیل کا نظارہ کررہے تھے۔ پکنک کا سارا سامان وہ لے کر ہی آئے تھے ،جبکہ دیر ہونے کی بدولت میں کچھ خاص نہ لے کے آ پایا تھا۔میں آہستہ آہستہ اوپر ان کی طرف بڑھتا گیا۔کامی نے کال پہ بتا دیا تھا کہ وہ اوپر بیٹھے ہیں۔کامی نے اوپر سے مجھے دیکھ لیا تھا اس لیے وہ خود ہی جلد میری طرف بڑھتا چلا آیااور آتے ہی مصنوعی ناراضی سے بولا۔’’شکر ہے سکندر بابا میں تو انتظار کرتے کرتے مایوس ہو چکا تھا۔‘‘
’’ہاں یار سوری وہ تھوڑا لیٹ ہو گیا۔‘‘میں نے اسے گلے ملتے ہوئے کہا۔
’’ارے یہ تھوڑا لیٹ ہوئے ہو۔۔۔تم تو پورا لیٹ ہوئے ہو۔‘‘کامی نے میرا اکلوتا بیگ اٹھاکر چلتے ہوئے کہا جس میں کچھ کولڈ ڈرنکس کے ساتھ خشک گوشت کے قتلے تھے۔ ’’تمہاری وجہ سے ہم ابھی تک دو گھنٹوں سے یہاں ہی بیٹھے بور ہو رہے ہیں۔‘‘
اتنی دیر میں ہم اوپر پہنچ چکے تھے۔کامی کی ساتھی دوسری صرف چار لڑکیاںتھیں جو دوسری طرف منہ لٹکائے بیٹھی جھیل کا نظارہ کرنے میں مشغول تھیں۔اوپر پہنچتے ہی کامی نے کہا۔’’لو جی کر لو لارڈ صاحب کا دیدار یہی وہ ہستی ہیں جن کا میں آپ کو انتظار کرواتا رہا ہوں۔‘‘
تمام لڑکیوں نے کامی کی آواز سن کر چونک کر یک بیک پیچھے مڑکر یوں دیکھا جیسے وہ مجھے کچا چباڈالنا چاہتی ہوں۔ وہ تھکے تھکے سے انداز میں اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھیںاور میری طرف ہی منہ پھاڑے دیکھ رہی تھیں۔
کامی نے میرا تعارف کرواتے ہوئے سب سے کہا۔’’ویسے تو یہ کسی تعارف کے محتاج نہیں مگر شاید آپ نے انہیں صرف ٹی وی پر ہی دیکھا ہو۔اب لائیو دیکھ لیں تو اچھا رہے گا۔‘‘میں نے کامی کا ہاتھ پکڑ کر اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا۔
’’چھوڑ یار یہ کیا کر رہا تودیکھ۔‘‘
مگر وہ میری بات ان سنی کرتے ہوئے روانی میں بولتا چلا گیا۔
’’یہ ہیں مسٹر سکندر عظیم دی گریٹ پاکستانی سیاست دان اور رضاکارانہ طبیعت کی حامل ینگ پرسنلٹی۔‘‘
لڑکیاں میرے تعارف سے متاثر ہوگئی تھیں اور میری طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔مگر میری نظریں کسی ایک چہرے پہ ہی جاکر تھم چکی تھیں۔
سیاہ روشن آنکھیں،دمکتا چہرہ،تپتے رخسار،سنگترے کی قاش کی طرح رس بھرے ہونٹ اور بھر ا بھرا گدرایا ہوا جسم۔۔۔وہ کوئی اور نہیں انیلہ تھی۔بلیو کلر کے ریشم کے سادہ مگر مہنگے سوٹ میں ملبوس وہ حیرانی سے کبھی مجھے دیکھ رہی تھی اور کبھی کسی انجانے خوف سے سہم کر کامی اور دوسری لڑکیوں کی طرف دیکھتی جارہی تھی۔
پھراس نے آہستہ آہستہ جھجکتے ہوئے دوسری لڑکیوں کی طرح۔’’ ہائے ہیلو کر دیا۔‘‘
میری سٹی گم ہو چکی تھی،کامی بھی میری اس حیرانی کو میری نظروں کا تعاقب کر کے بھانپ چکا تھااور وہ خود بھی حیران تھا۔کیونکہ انیلہ ہی اس کی منگیتر تھی۔
تھوڑی دیر بعدجب ہم جھیل کنارے کھانے پینے کے سامان سے پوری طرح انصاف کر چکے تو کامی مجھے اکیلا بات کرنے کے لیے اوپر لے گیا۔
کامی شاید سارا معاملہ بھانپ چکا تھا اس لیے جب وہ بولا تو بہت پرجوش تھا۔’’تو کیا یار وہ تم ہی تھے جسے انیلہ پسند کرتی تھی۔‘‘
’’ہاں شاید یار۔‘‘ میں نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا۔’’ میں بہت شرمندہ ہوں کامی اس حوالے سے۔‘‘
کامی نے سرگوشیانہ انداز میں نیچے موجود جھیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ارے یارتو پہلے بتایا کیوں نہیں یہ کب کی بات ہے؟‘‘
’’ڈھائی سال پہلے کی۔‘‘
’’اوہ!یہ تو برا ہوا۔‘‘
اگلے بیس منٹ میں کامی کو میں سب کچھ بتا چکا تھا اور کافی باتوں کامجھے بھی پتہ چل چکا تھا۔کامی بھی شرمندہ تھاکہ اس نے ہم دونوں کی پہلے ملاقات کیوں نہیں کروائی۔۔۔انیلہ اور کامی کے درمیان اب بھی تھوڑی بہت مس انڈر سٹینڈنگ تھی،یہی بات تھی کہ انیلہ اب بھی مجھے نہیں بھول پائی تھی اور اکثر خیالوں میں کھوئی کھوئی رہتی تھی۔کامی نے یہ پروگرام ۔۔۔اس کی ریفریشمنٹ اور میرے لیے انیلہ کی خوبصورت سہیلیوں میں سے کوئی لڑکی پسند کرنے کی وجہ سے ہی بنایا تھا۔
کامی اس عرصے میں انیلہ سے صرف دوست کی حیثیت سے ہی پیش آتا رہا تھا۔اس کی انیلہ کے ساتھ کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔۔۔انیلہ اس کی دور پرے کی کزن لگتی تھی اور یہ رشتہ کامی کی مام کی فرمائش پر ہی طے پایا تھے۔
تھوڑی ہی دیر میں کامی اور میرے درمیان بنا کسی غلط فہمی کے ہر بات کلیئر ہو چکی تھی۔کامی خوش تھا کہ میں اب بھی انیلہ کو پسند کرتا ہوں اس کے خیال میں۔ انیلہ اور میرے درمیان سب سے بڑی پرابلم وہ خود تھاجو اب وہ باہمی رضامندی یعنی ہماری بھلائی کے لیے یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوگیا تھا کہ وہ انیلہ کے معاملے سے دستبردار ہو جائے گا۔کسی دوست کی یہ عظیم قربانی قدرت کا ایک انمول عطیہ تھا،جو مجھے یقین ہی نہ آرہا تھا۔
کامی کا معاملہ برعکس تھاکہ وہ ہمارے ملن سے بہت خوش ہو رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد ہم پھر نیچے لڑکیوں کے پاس چلے آئے جو ہمارے یوں اٹھ کر چلے جانے پر بہت حیران تھیں۔
کامی مجھے انیلہ کے پاس تنہا چھوڑ کر باقی لڑکیوں کے ساتھ آگے چلا گیا۔وہ بہت خوش تھااور دور جاتے ہوئے اس کے نعرے اور لڑکیوں کی ہنسی میں کسی طرح کی بناوٹ کا احساس نہیں تھا۔
انیلہ کی شبنمی کاجل بھری آنکھوں میں بے یقینی اور خوشی کی وجہ سے آنسوئوں کی نمی تھی جسے وہ اپنے آنچل سے بار بار پونچھ رہی تھی۔ہم بہت دیر تک یوں ہی ارد گرد کے قدرتی حسین مناظر سے بے پروا ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے۔ہم سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا۔
ایک بے یقینی سی کیفیت تھی ۔۔۔دل کی کیفیت ایسی کہ زبان گنگ ہو کر رہ گئی تھی۔پتا نہیں کیسے آج میرے خود کے آنسو بھی بے ساختہ نکلنا شروع ہو گئے تھے۔اپنے آنسوئوں کا مجھے اس وقت احساس ہوا جب انیلہ نے آگے بڑھ کر میری آنسوئوں کی لڑی کو اپنے آنچل میں سمو دیا۔ہم دونوں کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی۔انیلہ نے تھوڑی دیر بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔’’سکندر پلیز مجھے معاف کر دو میں مجبور تھی مام ڈیڈ کو دکھ نہیں دے سکتی تھی۔‘‘
’’اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں انیلہ یہ سب مقدر کے کھیل ہوتے ہیں۔‘‘
ہم اگلے دو گھنٹوں تک وہیں جھیل کنارے بیٹھے رہے ۔۔۔کامی کا کچھ پتا نہیں تھا۔وہ لڑکیوں کے ساتھ بہت آگے پہاڑوں میں گھومنے کے لیے جا چکا تھا۔اس دوران ہمارے بیچ کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا،ہم خاموشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے،اور کبھی کبھی کوئی پتھر اٹھا کر جھیل کے گہرے نیلے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے پانی میں پھینکتے رہے۔ہمارے درمیان تمام رنجشوں کاپردہ گر چکا تھا۔
…٭٭٭…
یہ نومبر کے آخری ایام تھے۔آج انیلہ اور میری شادی تھی۔۔۔ہمیں بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔سب کچھ خوش اسلوبی سے طے پا گیا تھا،میری شادی کے دوسرے دن کامی کی شادی تھی جو انیلہ کی ایک سہیلی ہانیہ سے طے پائی تھی۔سب خوش تھے۔۔۔سب سے بڑھ کر مام ڈیڈ اور کامی کی خوشی دیکھنے والی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ آج اس کی ہی شادی ہے۔ہماری شادی میں بڑی بڑی سیاسی شخصیات شرکت کر رہی تھیں،گو کہ میں خود بھی ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت کا درجہ حاصل کر چکا تھامگر وزیر اعلی پنجاب کی شرکت نے شادی کو چار چاند لگا دیے تھے۔آج میری سہرا بندی ہونے والی تھی۔۔۔اس لیے کامی اوردو تین اور رشتہ دارلڑکے مجھے ملتان کے کسی بیوٹی پارلر میں لے گئے۔مجھے پارلر کے اندر چھوڑکر سب باہرچلے گئے۔
یہی وہ وقت تھا جب تھوڑی دیر بعد تین ڈھاٹا پوش آدمی پارلر میں گھس آئے۔ ان کے ہاتھوںمیں خطرناک کلاشنکوف اور مائوزر تھے۔انہوں نے اندر آتے کلاشنکوف میری کنپٹی سے لگا دی اور باہر چلنے کا حکم دیا۔ میری شادی کے موقع پر یہ بہت خطرناک سچوئیشن بن گئی تھی۔میں ان کو نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہیں؟اور کیا چاہتے ہیں۔ان کے عزائم بہت خطرناک تھے۔
تھوڑی دیر بعد ہی وہ مجھے ایک ائیر کنڈیشنڈ ہائی ایس نما گاڑی میں ڈال کر بے بس کر کے لے جارہے تھے۔میری آنکھوں پر پٹی چڑھا دی گئی تھی۔کامی کا کہیں پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں ہے،اس خیال سے کہ کامی کو کچھ ہو نہ گیا ہو یہ سوچ کر ہی میرا دل لرز اٹھا گو کہ اب کامی میرے لیے خونی رشتے سے بڑھ کر تھا۔آخر یہ کون لوگ تھے جو مجھے یوں بے بس کر کے لے جارہے تھے۔شاید ان کا ابھی مجھے مارنے کا ارادہ نہیں تھا،ورنہ ابھی تک وہ مجھے دنیا کی رنجشوں سے آزاد کر چکے ہوتے۔
میرے ہاتھ اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی مگر میرا منہ کھلا تھا اس لیے میں نے بے خوف ہو کر ان سے پوچھنے کی کوشش کی۔
’’کون ہو تم اور مجھے کہاں لے جارہے ہو؟‘‘
جواب میں خاموشی سنائی دی کسی نے میری بات کا جواب دینا گوارا نہیں کیا تھا۔اس لیے دوبارہ میں نے گلا پھاڑکر چیختے ہوئے کہا۔
’’کون ہو تم لوگ پلیز کچھ بتائو تو سہی کہ میرے ساتھ یہ کیوں کیا ہے اور کہاں لے جارہے ہو مجھے؟تم لوگ مجھے جانتے۔‘‘
چھناک کی آواز کے ساتھ میرے منہ پر ایک زور دار طمانچہ پڑا اور مارنے والے نے خوفناک آواز میں کہا۔’’اب آواز آئی تو…تو اگلے جہاں جانے میں دیر نہیں لگے گی۔بہتر یہی ہے کہ ابھی خاموشی سے بیٹھے رہو۔‘‘
طمانچے کا اثر تھا کہ اس خوفناک آواز کاکہ میں یک بیک خاموش ہو گیا۔اتنا تو میں سمجھ گیا تھاکہ مجھے کسی کے پاس اغوا کر کے لے جایا جارہا ہے مگر کس کے پاس یہ ابھی کلیئر نہیں تھا۔میں اتنا بزدل نہیں تھا کہ چپ چاپ یہ سہہ جاتا مگر میں نے خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی۔مزاحمت کا ابھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔شاید کچھ دیر بعد سب کلیئر ہو جاتا۔۔۔اور مزاحمت کا کوئی پہلوبھی نکل آتا۔
گاڑی رکی تو مجھے باہر نکال کر راہداریوں میں سے گزارا گیا۔یہ ملتان کی پوش آبادی والا علاقہ تھا،مجھے کسی روم میں پہنچا کر میری آنکھوں سے پٹی ہٹا دی گئی اور بندھے ہاتھوں کو بھی کھول دیا گیا۔
کمرے کامنظر بہت واضح تھا،ہر طرح کی آرائش سے وابستہ ہونے کے باوجود کمرا گن بردار تین غنڈوں اور منیر نیازی کی موجودگی میں بہت کریہہ ماحول پیش کر رہا تھا۔منیر نیازی صوفے کی پشت گاہ سے ٹیک لگائے نیم وا آنکھوں سے میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔مجھے کھڑا کر کے غنڈے میرے پاس کھڑے ہو گئے تھے۔مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی کہ منیر نیازی کیا چاہتا ہے۔۔۔کیونکہ اس کی اور میری سیٹنگ میں تو ابھی تک کسی چیز کا بگاڑ پیدا نہیں ہوا تھا۔
مجھے یوں بے بس کھڑا دیکھ کر وہ خباثت سے مسکرایا اور دوسرے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔’’بیٹھ جائو۔‘‘
’’یہ کیا ہے سر…مجھے میری شادی کے موقع پر ہی یہ تکلیف کیوں دی گئی ہے۔کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘میں بیٹھتے ہی بولا تو میری آواز میں ناگواری کی کیفیت واضح تھی۔
میری بات سن کر وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور فلسفیانہ لہجے میں بولا۔’’بیٹے تم یہ شادی نہیں کر سکتے۔‘‘
’’پر کیوں سر!میں کچھ سمجھا نہیں؟‘‘
’’کیوں کو چھوڑو…بس تم یہ شادی نہیں کر سکتے…تم بس یہ شادی روک دو۔‘‘اس کی آواز خطرناک ہو گئی۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ’’پر کیوں روک دوں۔‘‘
اس کے تاثرات بری حد تک خطرناک ہو گئے تھے،یقینا وہ سیاست میں آنے سے پہلے ایک خطرناک غنڈہ ہی رہا تھا۔اس نے گن برداروں کو اشارہ سے باہر جانے کا حکم دیااور ان کے جاتے ہی اپنی جیپ سے بتیس بور کا خوفناک ریوالور نکال لیا۔وہ ریوالور کو انگلی میں حرکت دیتے ہوئے خوفناک آواز میں بولا۔’’اگر شادی روک نہیں سکتے توپھر مرو ۔۔۔‘‘اس کے ساتھ ہی اس نے گولی چلا دی۔
…٭٭٭…
اوپر نیچے دو دھماکے ہوئے تھے۔ دہشت سے اس وقت میں نیچے گرا ہوا تھا،گولی مجھے نہیں لگی تھی۔مگر کس کو لگی تھی یہ میں دیکھ چکا تھا۔میرے ساتھ زمین پر گرنے والوں میں دو اور انسان بھی تھے۔۔۔منیر نیازی اس وقت اپنا ہاتھ پکڑے فرش پر دوہرا ہو رہا تھا۔اس کے ہاتھ سے ریوالور نکل کر کہیں لڑھک گیا تھا۔جب کہ دوسری طرف کامی ایک ہاتھ سے اپنا کندھا دبائے آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھااس کے دوسرے ہاتھ میں ایک ریوالور نظر آرہا تھا۔اسی وقت دروازہ کھلا اور دو اور ریوالور بردار اندر روم میں گھس آئے۔۔۔ان کے منہ پر ڈھاٹے نہیں تھے۔مجھے سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ وہ سادہ یونیفارم میں ملبوس کامی کے ہی شعبہ کے افراد تھے۔انہوں نے آتے ہی منیرنیازی کو ہتھکڑی لگا دی۔
میں اس دوران کامی کو سہارا دے کر اسے صوفے پر بٹھا کر اس کا خون روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔گولی ابھی اندر ہی موجود تھ۔کامی کو جلد ہی طبی امداد کی ضرورت تھی۔
…٭٭٭…
ڈھائی مہینے بعد ہم ایک بار پھر فورٹ منرو میں تھے۔کامی اب بالکل ٹھیک تھا۔ہماری شادیاں پچھلے ہفتے ہی تکمیل پائی تھیں۔اب ہم چاروں یعنی میں،انیلہ ،کامی اور ہانیہ بھابی ہنی مون منانے اور جنوری کی برف باری دیکھنے کے لیے ہی یہاں آئے تھے۔ہم اس وقت ٹی ڈی سی پی ریزورٹس میں صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوامیں باہر بچوں کے ساتھ روڈ پر کرکٹ کھیل رہے تھے۔روڈ ویران تھا۔ہر کوئی اس سخت ٹھنڈ میں لحافوں میں دبکا بیٹھا تھاجب کہ ہم پاگلوں کی طرح فورٹ منرو کے سیاحتی مقام پر بے ڈھنگی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ہمارے ساتھ کھیلنے میںچار پانچ مقامی بچے بھی شامل تھے جو ہمارے ساتھ کھیلنے پر خوشی خوشی بائولنگ اور فیلڈنگ کرا رہے تھے ۔۔۔جن کے فیلڈنگ کراتے ہوئے سردی سے دانت بجنے کی آواز صاف سنائی دیتی تھی۔
ہمارے علاوہ اس ریزورٹس پر ہی کیا پورے فورٹ منرو میں اور کوئی سیاح نہیں تھا۔انیلہ اور ہانیہ بھابی ریزورٹس کے باہر خشک لکڑیوں کو آگ لگا کر ہمارا کھیل دیکھنے میں مشغول تھیں۔ہم کبھی کبھی وہاں جا کر سردی میں اپنے جم رہے ہاتھوں کو تھوڑی دیر کے لیے گرم کر لیتے تھے۔ اگر کوئی شخص مجھے پہچان جاتا کہ میں اس ملک کا ایک بہت بڑا کامیاب سیاست دان اور رضاکار ہوں اور اس سخت سردی اور سنسان ماحول میں کرکٹ کھیل رہا ہوں تو وہ قطعاً یقین نہیں کرتا۔
کھیلتے کھیلتے جب ہم تھک گئے تو ہم دونوں روڈ پر لانگ مارچ کرنے کے لیے چل پڑے۔کامی اور میرے لیے یہ تفریح اور خوشی گاڈ گفٹڈہی تھی۔کیوں کہ ایسے پل زندگانی میں بار بار کہاں ملنے والے ہوتے ہیں۔
چلتے چلتے میں نے کامی سے آج منیر نیازی والے واقعے کی تفصیل پوچھی تو کامی جو پہلے مجھے کسی وجہ سے بچانے سے چوکتا رہا تھابتانے لگا۔’’منیر نیازی اس وقت بھی پاکستانی خفیہ ایجنسی کی گرفت میں تھا،اس سے ساری باتیں اگلوا لی گئی تھیں۔جس کی بدولت مارک جانسن اور کئی دوسرے وطن فروش عہدے داروں کو بھی حراست میں لیا جا چکا تھا۔اس دن شادی سے منع کرنے والی بات سچ تھی،کیوں کہ مارک جانسن منیر نیازی وغیرہ نہیں چاہتے تھے کہ میری انیلہ سے شادی ہو۔۔۔ان کے خیال میں وہ مجھے پاکستان کے کسی وزیر،مشیر کی بیٹی کے ساتھ بیاہ کر جلد ہی اپنے مفاد حاصل کرنے کی خاطر سیاست میں بہت آگے لے جانا چاہتے تھے۔مگر میرے اس طرح شادی کرنے سے ان کا منصوبہ ناکام ہو رہا تھا۔اس لیے پہلے تو وہ مجھے ڈرا کر شادی رکوانے کی کوشش کرتے ورنہ بعد میں میرا قصہ ہی تمام کر دیتے۔‘‘
کامی کی بتائی گئی تفصیل سن کر میں بہت حیران رہ گیا تھاایک اور بات بھی میرے ذہن میں کھٹک رہی تھی جو میں کامی سے پوچھ بیٹھا۔
’’تو کیا اس دن منیر نیازی نے مجھ پر گولی چلائی تھی یا وہ مجھے ڈرا رہا تھا۔‘‘
کامی چلتے چلتے تھوڑا رک گیا اور روڈ پر موجود پتھر کو ٹھوکر مارتے ہوئے بولا۔
’’نہیں ابھی وہ تمہیں ڈرا رہا تھاکہ ہم وہیں پہنچ گئے‘ میرے آدمیوں نے باہر اس کے آدمیوں کو گن پوائنٹ پر رکھ لیا اور میں تمہاری خبر لینے روم میں آیا تو منیر نیازی نے مجھے دیکھ لیا تھا اور اس نے گولی مجھ پر ہی چلائی تھی۔مگر اس کی بد قسمتی کہ میں بھی سنبھلتے ہوئے پہلے ہی گولی چلا چکا تھا جو اس کے ہاتھ کو لگی تھی۔‘‘
’’ویسے تمہیں کیسے پتا لگا کہ مجھے اغوا کیا جا چکا ہے۔‘‘
کامی مکاری سے مسکرایا اور ہنستے ہوئے بولا۔’’ابے سالے تو کیا سمجھتا ہے کہ ہم نے تمہیں سیاست میں آنے کے لیے ایسے ہی بھیج دیا تھا۔تم چاہے گھر میں آرام سے بھی رہو تو ہمارے دو آدمی ہر وقت تمہاری نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ اس دن تو میں خود بھی تمہارے ساتھ آیا تھا اور تمہیں ان کو لے جاتا ہوا بھی دیکھ لیا تھا،مگر اس وقت ہم نے انہیں خاموشی سے جانے دیا کیوں کہ ہم موقع پر ہی انہیں گرفتار کرنا چاہتے تھے۔‘‘
’’ہوں تو یہ بات ہے کمینے تو اس دن مجھے مرنے کے لیے بھیج دیا ساتھ۔‘‘میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا تو کامی نے شرارت سے میرے کندھے پر زور کا ہاتھ مارنا چاہا،جسے میں نے ہنستے ہوئے جھک کر بخوبی بچا لیا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close