Naeyufaq Jun-16

سفینہ

زرین قمر

مختصر افراد کے کنبے پر گزرنے والی قیامت کے وہ پگھلتے لمحے جب سفاک اور خون آشام درندوں نے ان کو ایک دوسرے سے جدا کرکے ہولناک مصائب کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ ایک ناقابل فراموش تحریر جس میں جرم و سزا کی ازل سے جاری کشمکش کے کئی بہروپ کار فرماہیں۔ ایک طرف سفاک اور ظالم مجرموں کا ٹولہ اور دوسری طرف محبت کے مضبوط بندھنوں میں بندھی ایک بہادر دوشیزہ کا قصہ ۔ جس نے اپنی بقا کے لیے لہو رنگ معرکہ سے نمٹنے کے لیے کمر بستہ تھی۔ مسلسل امتحانوں کے کئی کڑے مراحل سے گزرنے کے باوجود اس کا حوصلہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے کے بجائے ہر سازش کی کوکھ سے جنم لینے والی دلیری اور ذہانت کی کہانی لکھتا چلا گیا۔
پل پل رنگ بدلتی نئے افق کی سنسنی خیز اور رنگارنگ داستان ہے۔
ز…ز…ز…ز
حد نظر تک پھیلے ہوئے بلند و بالا برف پوش پہاڑ عجب خوش کن منظر پیش کررہے تھے۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بہت پر لطف تھے۔ جگہ جگہ لگے درخت جو اوپر سے برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ خوب صورت منظر دکھا رہے تھے اور برف کے میدانوں میں اسکیٹنگ کرنے والے نوجوان جو بڑی تیزی سے اس کے سامنے سے گزرتے جارہے تھے۔
بہرام لاری اپنی موسم سرما کی چھٹیاں منانے ملک کے خوب صورت ترین مقام مری آیا ہوا تھا۔ اس کی عمر پینتالیس سال تھی اور وہ ایک بینک میں اہم عہدے پر فائزتھا ۔ وہ سال بھر کی تھکا دینے والی زندگی کے بعد اپنی چھٹیاں کسی پرفضا مقام پر گزارتا تھا۔ اسے مری آئے ہوئے دو دن ہوئے تھے اور وہ برف باری کے سہانے موسم کا بھرپور مزا لے رہا تھا۔ اس نے بیٹھنے کے لیے اپنے ریسٹ ہاؤس سے دور ایک درخت کو منتخب کیا تھا۔ جس کے نیجے کرسی رکھ کر وہ بیٹھا سامنے میدانوں میں اسکیٹنگ کرتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا پھر اس نے اپنے قریب رکھے تھرماس سے ایک کپ میں چائے انڈیلی تھی اور آہستہ آہستہ چائے کی چسکیاں لینے لگا تھا۔
’’ارے بھئی بہرام! مزے کررہے ہو؟‘‘ اچانک آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا جہاں اس کا دوست ندیم کھڑا تھا۔ ندیم سے اس کی جان پہچان مری آنے کے بعد ہی ہوئی تھی لیکن دو دن کے ساتھ میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے تھے۔
ندیم کے دو بیٹے تھے اوردونوں ہی اپنی تعلیم کے سلسلے میں ملک سے باہر تھے۔ اس کی بیوی کا انتقال ہوئے بھی کافی عرصہ گزر چکا تھا اور وہ تنہا زندگی گزار رہا تھا۔ وہ جلد ہی دوست بنا لیتا تھا اور اس کے دوستوں کا حلقہ خاصا وسیع تھا۔ پچاس سال کی عمر کے باوجود وہ خاصا چاق و چوبند تھا۔
’’ہاں! میں نے سوچا کہ موسم سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ چائے کا لطف بھی اٹھایا جائے ۔ چنانچہ میں نے ریسٹ ہاؤس کی کینٹین سے کہہ کر چائے یہاں ہی منگوالی۔‘‘ بہرام نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’چلو یہ اچھا کیا! اور ہے؟‘‘ ندیم نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’کیا؟‘‘ بہرام نے انجان بن کر پوچھا انداز مزاحیہ سا تھا۔
’’بھئی چائے اور کیا؟‘‘ ندیم نے بھی اسی انداز میں کہا پھر دونوں ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔
’’ہاں بھئی ہے…کیوں نہیں…بیٹھو…لیکن کپ اور نہیں ہے تمہیں تھرماس کے گلاس ہی میں پینا ہوگی۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’منظور ہے بھئی! مگر اس وقت چائے کی طلب بہت شدید ہے۔‘‘ ندیم نے بیٹھتے ہوئے کہا پھر بہرام نے ندیم کو بھی تھرماس میں سے چائے نکال کر دے دی تھی اور وہ دونوں چائے کا لطف اٹھانے لگے تھے۔
’’برف باری تو شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔‘‘ ندیم نے پہاڑیوں پر گرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے برف کے گالوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں! اور اگر تیز ہواہیں چل گئیں تو سردی بڑھ جائے گی لیکن موسم پر لطف ہے۔یہ بات تو ماننا ہی پڑے گی۔‘‘ بہرام نے اپنے اوور کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔
’’تمہارا کیا پروگرام ہے۔یونہی درخت کے نیچے بیٹھے برف باری سے لطف اندوز ہوتے رہو گے یا…؟‘‘ ندیم نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’نہیں بھئی یہاں بیٹھنے کے لیے تو نہیں آیا ہوں…میں یہاں سے آگے کے علاقے میں جاؤں گا ۔ سنا ہے بہت اچھا میلہ لگا ہے۔‘‘ بہرام لاری نے کہا۔
’’کیا تم چلوگے؟‘‘
’’ہاں…کس وقت چلنا ہے؟‘‘
’’میرا ارادہ ہے کہ کل صبح روانہ ہوا جائے۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ٹھیک ہے پھر کل ناشتے کے بعد نکلیں گے۔‘‘ ندیم نے جواب دیا۔
’’ندیم !آگے زندگی میں پھر شادی کرنے کا ارادہ ہے یا یونہی زندگی گزاردوگے؟‘‘ بہرام نے ہنستے ہوئے ندیم کو چھیڑا۔
’’نہیں بہرام اب بڑھاپے میں کیا شادی کروں گا ۔ بس ایک بار ہوگئی شادی ۔ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا اس کے بعد میں دوسری شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو اﷲ کی مہربانی جانا، ان کی پرورش کی اور پڑھا لکھا کر انہیں اس قابل بنادیا کہ وہ آج اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔ ایک بیٹا ڈاکٹر ہے اور لندن میں جاب کرتا ہے ۔ اس کی شادی ہوگئی ہے اور دوسرا بیٹا سوفٹ ویئر انجینئر ہے ۔ اس کی رہائش بھی لندن ہی میں ہے۔ اب اس کی شادی کی فکر ہے۔‘‘ ندیم نے بتایا۔
’’ہاں! تم بھی ٹھیک ہی کہتے ہو ندیم…میںنے بھی شادی نہیں کی میری شادی کے کچھ ہی عرصے بعد میری بیوی کا انتقال ہوگیا اور میرے تو کوئی اولاد بھی نہیں تھی ۔ میں چاہتا تو اپنے خاندان کا نام زندہ رکھنے کے لیے پھر شادی کرلیتا لیکن میں ایسا نہیں کر سکا ۔ اب تو اس بات کو کافی عرصہ گزر گیا اس وقت میں اٹھارہ سال کا تھا اور میری تعلیم مکمل بھی نہیں ہوئی تھی۔ بس میری والدہ کی ضد تھی جو اتنی جلدی میری شادی کردی گئی۔ میں نے اپنی شادی کے بعد ہی اپنی تعلیم مکمل کی تھی ا ور اس کے بعد ٹیلسن بینک میں ملازمت کرلی تھی جہاں آج تک موجود ہوں اور بینک مینجر کے طور پر خدمات انجام دیتا ہوں۔‘‘
بہرام نے بھی اپنے بارے میں تفصیل سے بتایا ۔ندیم بڑی توجہ سے اس کی بات سن رہا تھا۔
’’تو یہ طے ہوگیا کہ ہم دونوں یونہی زندگی گزاردیںگے۔‘‘ ندیم نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں! اور عیش سے گزاریں گے ۔ کوئی فکر نہیں ، بیوی کا ڈر نہیں۔‘‘ بہرام لاری نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اچھا تو پھر کل کی روانگی طے ہے میرا خیال ہے کہ ہم اس سفر سے محظوظ ہوں گے اور یہ میلہ جس میں ہم شرکت کرنے جارہے ہیں۔یہ رنگارنگ رہے گا۔‘‘ ندیم نے کہا۔
’’ہاں! بالکل…میں تو رات کو ہی اپنے سامان کی پیکنگ کرلوں گا۔ میرا خیال ہے کہ تم بھی تیاری کرلو۔‘‘ بہرام لاری نے ندیم کو مشورہ دیا۔
’’ہاں ! ٹھیک کہتے ہو۔‘‘ندیم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’اب چلتا ہوں…ایک زبردست ناول پڑھ رہا ہوں۔ اسے مکمل کروں گا۔‘‘ ندیم جانے کے لیے تیار ہی ہوگیا تھا۔
’’ٹھیک ہے…میں بھی چلوں…تھوڑا آرام کروں گا… پھر رات کے کھانے پر ملتے ہیں۔‘‘ بہرام لاری نے ندیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ریسٹ ہاؤس کی طرف چلے گئے تھے۔
بہرام لاری جب ریسٹ ہاؤس میں پہنچا تو وہاں تفریح کے لیے آنے والی ملکی اور غیرملکی سیاحوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ ہال میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ سال کے اس حصے میں مری کے ہوٹلوں ، ریسٹ ہاؤسوں اور قحبہ خانوں میں ایسا ہی رش ہوتا تھا اور یہاں ہر زبان ہر مذہب و فرقے کے لوگ پائے جاتے تھے۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آتے اور دوستانے بڑھاتے تھے۔ ایسے ہی جب ندیم سے اس کی دوستی ہوگئی تھی۔ شاید اس لیے بھی کہ ان کی زندگی کی کہانی ایک جیسی تھی۔
جب بہرام اپنے کمرے میں پہنچا تو اس نے اپنا موبائل چیک کیا جس پر اس کے بینک ملازم کا میسج آیا ہوا تھا۔
’’میں کافی دیر سے آپ کو کال کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔لیکن رابطہ نہیں ہورہا…کچھ ضروری کام ہے مجھے کال کرلیں۔‘‘
بہرام حیران تھا کہ ناصر کو اس وقت میسج کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی۔ وہ چھٹی پر ہے اور کہہ کر آیا تھا کہ اسے ڈسٹرب نہ کیا جائے پھر اس نے سوچا کہ کوئی ضروری کام ہی ہوسکتا ہے ۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے ناصر کو کال کی۔
’’ہیلو!۔‘‘ اس نے کہا تو دوسری طرف سے اسے ناصر کی آواز سنائی دی۔
’’جی !سر…میں ناصر بات کر رہا ہوں…میں کافی دیر سے آپ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’کیوں…؟ خیریت…کیا بات ہے؟ ‘‘ بہرام لاری نے پوچھا۔
’’سر ! میں آج آنے والی ڈاک چیک کر رہا تھا کہ اس میں ایک خط نکلا ہے جو آپ کے کسی دوست منیر خان کا ہے۔‘‘
’’منیرخان؟‘‘ بہرام نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’جی سر منیرخان! خط آزاد کشمیر سے آیا ہے۔‘‘
ناصر نے کہا اور بہرام کو یاد آیا کہ اس کے بینک کا ایک ملازم منیرخان ہوتا تھا وہ کافی عرصہ پہلے ریٹائر ہوگیا تھا اور وہ کشمیر میں رہتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے اپنے گھر میں ہی ایک ریسٹورینٹ بنالیا تھا ۔ ریسٹورینٹ گراؤنڈ فلور پر تھا اور وہ خود دوسری منزل پر رہتا تھا۔
’’ہاں ہاں ! مجھے یاد آیا…کیوں خیریت …کیا بات ہے؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’یہ خط بہت مختصر ہے ۔ صرف یہ لکھا ہے کہ آپ جلد از جلد ان سے ملیں ان کے پاس آپ کے کوئی پرانے دوست ڈاکٹر تمیز الدین ہیں۔‘‘ ناصر نے کہا۔
’’ ڈاکٹر تمیز الدین؟‘‘ بہرام نے حیرت سے پوچھا۔
’’ سر بس اتنا ہی لکھا ہے۔ میں آپ کو عبارت پڑھ کر سناتا ہوں۔‘‘ ناصر نے کہا اور پھر خط میں لکھا ہوا ایک جملہ پڑھ کر سنا دیا۔
’’بہرام جلد از جلد مجھ سے ملو میرے پاس ڈاکٹر تمیز الدین ہیں۔تم ان کی بیٹی سفینہ الدین کو بھی ساتھ لانا۔‘‘
’’ٹھیک ہے ! اگر کوئی اورخط یا کال آئے تو مجھے بتانا۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’اوکے سر!‘‘ ناصر نے جواب دیا اور سلسلہ منقطع کردیا۔
بہرام لاری پر یہ کال ریسیو کرنے کے بعد حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ ڈاکٹرتمیز الدین اس کے طالب علمی کے زمانے کا دوست تھا۔ دونوں نے ایک ساتھ بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹیلسن بینک جوائن کرلیا تھا اس کے کچھ عرصے بعد بہرام کی شادی ہوگئی تھی لیکن اس وقت تک تمیز الدین کا شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ کالج کے زمانے میں اپنی کلاس فیلو تہمینہ سے محبت کرتا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جینے مرنے کا عہد کیا ہوا تھا۔
پھر جب تہمینہ کے والدین نے کئی اچھے رشتے آنے پر تہمینہ سے اس کی شادی کی بات کی تو اس نے انہیں تمیز الدین کے بارے میں بتایا۔ تمیز الدین کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا ۔ اس کا تعلق ایک امیر گھرا نے سے تھا اور والدین کے انتقال کے بعد ان کی جائیداد تمیز الدین اور اس کے بڑے بھائی حفیظ الدین کو ملی تھی ۔ حفیظ الدین مزاج کا بہت سخت تھا اورتمیز الدین کی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے سامنے اپنی محبت کا ذکر کرے اس کام میں بھی بہرام نے ہی اس کی مدد کی تھی اور سمجھایا تھا کہ اگر اس نے ہمت نہیں کی تو وہ اپنی محبت سے محروم ہوسکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر حفیظ الدین اس کی شادی کے لیے فوراً ہی مان گئے تھے اور بہرام کی شادی کے دوسال بعد تمیز الدین کی شادی ہوگئی تھی۔
تہمینہ اور بہرام کی بیوی ذکیہ میں دوستی ہوگئی تھی اور ایک دوسرے کے گھر آنے جانے لگی تھیں۔ تمیز الدین کی شادی کی دو سال بعد سفینہ پیدا ہوئی تھی جسے ذکیہ اور بہرام نے بھی گود وں میں کھلایا تھا وہ اس سے محبت کرتے تھے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ انہوںنے ہمیشہ سفینہ کو اپنی بیٹی ہی کا درجہ دیا تھا۔
پھر اپنے کاروبار کے سلسلے میں تمیز الدین کو سری لنکا جانا پڑا تھا۔ جہاں اس کی آبائی زمینیں بھی تھی۔ ان دنوں وہاں حالات ٹھیک نہیں تھے اور ہر طرف پاکستان سے الحاق کے سلسلے میں جلوس نکل رہے تھے۔ ہڑتالیں ہورہی تھیں ۔ پھر ایک موقع پر بہت ہنگامہ ہوا تھا گولیاں چلی تھیں اور کافی قتل و غارت کے بعد بہت سے لوگ گرفتار ہوگئے تھے۔
تمیز الدین ان دنوں سری لنکا میں ہی تھا۔ پھر کافی عرصہ تک اس کی کوئی خبر نہیں آئی تھے تو تہمینہ کے کہنے پر بہرام لاری نے اسے بہت ڈھونڈا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ خود بھی سری لنکا آیا ہر جگہ سے معلومات جمع کیں لیکن کہیں سے بھی تمیز الدین کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ۔ کئی سال وہ تمیز الدین کو ڈھونڈتے رہے پھر تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ تمیز الدین کے کھوجانے کے بعد تہمینہ اس کے غم میں بیماررہنے لگی اور پھر کچھ عرصے بعد اس کا بھی انتقال ہوگیا۔
پھر سفینہ کی ذمہ داری اس کے تایا حفیظ الدین پر آن پڑی اور انہوں نے ہی سفینہ کی پرورش کی۔ شروع کے سالوں میں بہرام لاری کبھی کبھی سفینہ سے ملنے حفیظ الدین کے گھر چلا جاتا تھا لیکن پھر حفیظ الدین کے غلط رویے کی وجہ سے اس نے بھی وہاں آنا جانا آہستہ آہستہ چھوڑ دیا۔ اس نے جب سفینہ کو آخری بار دیکھا تھا۔ تب وہ پانچ سال کی تھی وہ کافی دیر تک تمیز الدین کے بارے میں سوچتا رہا تھا اور پھر سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔ کافی رات گئے اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی۔
’’کون؟‘‘ اس نے بستر سے اٹھ کر دروازہ کھول دیا تھا۔
’’ارے ندیم تم؟ خیریت ۔‘‘ اس کے دروازے کے باہر اپنے دوست کو کھڑے دیکھا تو اسے حیرت ہوئی۔
’’ہاں ! رات کافی ہوگئی ہے ۔ میں بہت دیر تک کھانے پر تمہارا انتظار کرتا رہا جب تم نہیں آئے تو میں نے سوچا کہ خود چل کر دیکھوں کیا بات ہے۔‘‘ ندیم نے کہا۔
’’ہاں آؤ اندر آجاؤ۔‘‘ بہرام نے پیچھے ہٹ کر ندیم کو کمرے میں آنے کا راستہ دیا۔
’’دراصل طبیعت کچھ بوجھل ہورہی تھی۔ اس لیے لیٹ گیا۔ پھر آنکھ لگ گئی۔‘‘ بہرام نے کہا۔ندیم اس کے بیڈ کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
’’صبح کا پروگرام تو طے ہے نا؟‘‘ ندیم نے پوچھا۔
’’نہیں وہ تو کینسل کرنا پڑے گا۔‘‘ بہرام نے جواب دیا۔
’’کیوں خیریت؟‘‘ ندیم نے پوچھا ۔ اسے حیرت تھی کہ چند گھنٹے پہلے تو بہرام میلے میںجانے کے لیے بڑا بے چین تھا پھر اچانک پروگرام کیوں کینسل کردیا۔
’’مجھے صبح جانا تو ہے لیکن میں آزاد کشمیر جاؤں گا۔ مجھے ضروری کام سے وہاں جاناپڑے گا۔ اس لیے میلے میں جانے کا پروگرام کینسل کرنا پڑے گا۔‘‘
’’لیکن ایسا بھی کیا ضروری کام ہے بہرام تم تو چھٹیوں پر ہو۔‘‘ ندیم نے کہا۔
’’ہاں لیکن کچھ کام چھٹی میں بھی کرنا پڑتے ہیں…دراصل مجھے اپنے ایک دوست کو لینے کے لیے کشمیر جانا ہے۔‘‘ بہرام نے بتایا۔
’’اچھا، وہ دوست کون ہے…کیا مجھے بتاؤگے کوئی خاص دوست ہی ہوگا؟‘‘
’’ہاں…خاص ہی ہے…میرے بچپن کا ساتھی…میرے لیے بھائی کی طرح ہے لیکن تقریباً اٹھارہ سال پہلے وہ ہم سے بچھڑ گیا تھا۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’بچھڑ گیا تھا… اٹھارہ سال پہلے؟‘‘
’’ہاں…وہ کسی کام کے سلسلے میں سری لنکا گیا تھا…پھر واپس نہیں آیا…ہم نے بہت ڈھونڈا…وہاں جن لوگوں کے پاس گیا تھا ان سے بھی معلومات لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں پہنچا ہی نہیں۔ جہاں جہاں سے رابطے تھے اورکچھ بھی امید تھی وہاں سے معلومات لیں لیکن کچھ پتہ نہیں چلا ۔آخری دو ،ڈھائی سال چھان بین کرنے کے بعد ہم مایوس ہوگئے… اب اچانک اطلاع ملی ہے کہ وہ کشمیر میں میرے ایک دوست منیر خان کے پاس ہے۔ کل ہی مجھے اطلاع ملی ہے اور انہوں نے مجھے بلایا ہے تاکہ میں اسے شناخت کرکے اپنے ساتھ لے آؤں۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’یہ تو بہت اچھی بات ہے…تمہارا برسوں کا بچھڑا دوست مل گیا ہے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے۔ تم ضرور جاؤ۔‘‘ ندیم نے کہا۔
’’ہاں ! میں صبح روانہ ہوجاؤں گا۔ ‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ اچھا پھر میں چلتا ہوں…اگر کہو تو کھانا بھجوادوں؟‘‘ ندیم نے پوچھا۔
’’نہیں اب نہیں…وقت گزرنے کے بعد میں کھانا نہیں کھاتا…اب تو صبح ہی ناشتہ کروں گا۔‘‘ بہرام نے کہا۔ پھر ندیم رخصت ہوگیا تھا اوربہرام سونے کے لیے لیٹ گیا تھا۔
دوسری صبح بہرام لاری نے ایک پرائیویٹ کار کرائے پر لی تھی۔ کشمیر کے لیے روانہ ہوگیا تھا اسے مظفر آباد جانا تھا جہاں اس کا دوست منیر رہتا تھا۔ کم از کم تین چار گھنٹے کا سفر تھا راستے میں جگہ جگہ برف پڑی ہوئی تھی اور منظر بہت دلکش لگ رہا تھا۔ ابھی برف باری اپنے پورے زور کے ساتھ نہیں ہوئی تھی ۔ ورنہ وہ اتنی آسانی سے بائی روڈ سفر نہیں کر سکتا تھا اور اسے منیر خان سے ملنے کے لیے کچھ دن مری ہی میں رک کر موسم ٹھیک ہونے اور راستے کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا۔ سڑک کے اطراف کبھی سر سبز کھیت اپنی بہار دکھاتے اور کبھی سر سبز پہاڑیاں دل فریب منظر پیش کررہی ہوتی تھیں۔ وہ ان خوش کن مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔
راستے میں اسے کئی بار تمیز الدین کا خیال آیا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے مدت سے اسے نہیں دیکھا تھا ۔ اب نہ جانے وہ کیسا لگتا ہوگا۔ پھر اسے سفینہ کا خیال آیا تھا اور اس نے سفینہ کو موبائل سے کال ملائی تھی ۔ کچھ دیر بعد دوسری طرف سے کال ریسیو کی گئی تھی۔ اس نے سفینہ سے اطمینان سے بات کرنے کے لیے اپنی گاڑی سڑک کے ایک طرف رکوادی تھی۔ ڈرائیور ایک مقامی شخص ہی تھا اور راستوں سے خوب واقف تھا۔
’’ہیلو! میں بہرام لاری بات کر رہا ہوں…آپ سفینہ ہیں نا؟‘‘ اس نے تصدیق چاہی اسے یہ نمبر اس کے بینک کے ساتھی نے دیا تھا جس نے اس سے فون پر بات کی تھی ۔
’’جی ہاں! ‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’کیا آپ کو کوئی پیغام ملا ہے کشمیر جانے کے بارے میں؟‘‘
’’جی ہاں ! میں کل پہنچ جاؤں گی مجھے رائل ہوٹل پہنچنے کے لیے کہا گیا ہے۔کیا آپ بتائیں گے کہ کیا مسئلہ ہے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’بس یوں سمجھ لیں کہ بہت اہم بات ہے ۔ ورنہ آپ کو زحمت نہ دیتے یہ مسئلہ آپ کے بغیر حل نہیں ہو سکتا ۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ٹھیک ہے…میں کل دوپہر تک پہنچ جاؤں گی۔‘‘ سفینہ نے جواب دیا اور فون بند کردیا۔
بہرام لاری کواب اطمینان ہوگیا تھا کہ سفینہ سے بات کرنے کے بعد اسے اپنا کام آسان لگ رہا تھا۔ وہ لاکھ تمیز الدین کا دوست سہی لیکن سفینہ بہرحال اس کی بیٹی تھی۔ پھر وہ سہ پہر کے وقت مظفر آباد کے رائیل ہوٹل پہنچ گیا تھا۔ جہاں اس کے بینک کی طرف سے اس کا کمرہ بک کردیا گیا تھا۔
’’بہرام لاری! دیکھیں میرا کمرہ بک ہوگا مجھے کمرے کی چابی دے دیں۔‘‘ بہرام نے ہوٹل میں داخل ہونے کے بعد کاؤنٹر پر موجود لڑکی سے کہا۔
’’جی ہاں کمرہ نمبر305 آپ کے لیے بک ہے۔‘‘ لڑکی نے رجسٹر میں دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے پیچھے دیوار پر لگے keyboard سے ایک چابی نکال کر بہرام کی طرف بڑھادی۔ ساتھ ہی اس نے قریب کھڑے ملازم کو اشارہ کیا تھا ۔ جس نے آگے بڑھ کر بہرا م کا اٹیچی کیس اٹھالیا تھا اور بہرام کو اشارے سے لفٹ کی طرف چلنے کو کہا تھا۔
بہرام کا کمرہ تیسری منزل پر تھا۔ یہ ایک آرام دہ اور پر کشش کمرہ تھا۔ جہاں ہلکے بلو کلر کا پینٹ کیا گیا تھا اور کمرے کا فرنیچر بھی خاصا نفیس تھا۔ کمرے میں بیڈ کے قریب ہی ایک سائیڈ ٹیبل پر فون رکھا تھا اور قریب ہی ایک صوفہ سیٹ موجود تھا۔ ملازم اس کا اٹیچی کیس رکھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ شاید اسے بہرام کے کسی آرڈر کا انتظار تھا۔
’’میں ابھی فریش ہو کر کھانا کھاؤں گا اور کچھ دیر آرام کروں گا۔‘‘ بہرام نے ملازم کو ٹپ دیتے ہوئے کہا۔ ملازم ادب سے سلام کرکے واپس چلاگیا تھا اور بہرام نے اٹیچی کیس سے کپڑے اور سامان نکال کر کمرے کی الماری میں منتقل کردیئے تھے۔
ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ملازم کھانا لے آیا تھا اور بہرام کھانے سے فارغ ہونے کے بعد آرام کے لیے لیٹ گیا تھا۔ کافی دیر وہ سفینہ کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔ جسے اس نے بچپن میں گودوں میں کھلایا تھا۔ اسے یاد تھا جب وہ سفینہ کی خاطر اس کے گھر اکثر جاتا تھا اور اسے تمیز الدین کے لاپتہ ہوجانے کا بھی دکھ تھا۔ وہ سفینہ کی دل جوئی کی خاطر جاتا تھا اور تہمینہ کے مرنے کے بعد تو اس کی توجہ سفینہ کے لیے بہت زیادہ ہوگئی تھی لیکن پھر بہرام کو حفیظ الدین نے ایک بار بہت بے عزت کیا تھا اور اسے اپنے گھر آنے سے منع کردیا تھا۔ اس کا خیا ل تھا کہ بہرام کی دوستی بس تمیز الدین تک ہی رہنا چاہیے تھی اور وہ عام اور متوسط طبقے کے لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتا تھا۔ بہرام نی بھی بات بڑھانا مناسب نہیں سمجھا تھا اور اس کے گھر جانا بند کردیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ سفینہ کتنی بدل گئی ہوگی۔سفینہ کو دیکھے ہوئے تقریباً اٹھارہ سال ہوگئے تھے۔ یہی سوچتے سوچتے اسے نیند آگئی تھی۔
اس کی آنکھ رات کو آٹھ بجے کھلی تھی ۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھاتھا کہ اسے منیر خان کو فون کرکے بتانا تھا کہ وہ کل اس کے گھر پہنچ رہا ہے اور سفینہ بھی اس کے ساتھ ہی ہوگی۔ وہ فریش ہو کر نیچے ہوٹل کے ہال میں پہنچا تھا ۔ وہاں خاصی رونق تھی۔ مختلف میزوں پر لوگ بیٹھے تھے وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔
’’میری ایک مہمان آہیں گی ۔ ان کا نام سفینہ تمیز الدین ہے ۔ ان کے آنے پر انہیں میرے کمرے میں بھیج دیجیئے گا۔‘‘ بہرام نے کاؤنٹر پر موجود لڑکی سے کہا ۔ وہ وہی تھی جس نے اسے اس کمرے کی چابی دی تھی۔
’’بی بہتر۔‘‘ لڑکی نے جواب دیا۔ بہرام نے پھر ہال میں ایک طرف نظر دوڑائی تھی اور اسے دور ایک کونے میں ایک میز خالی نظر آئی تھی وہ اس کی طرف بڑھ گیا تھا۔ وہاں سے اسے ہال کا منظر واضع نظر آرہا تھا وہ کافی دیر بیٹھا آنے جانے والوں کو دیکھتا رہا تھا۔ پھر اپنے لیے رات کے کھانے کا آرڈر دیا تھا۔ اس سے کچھ فاصلے پر تیس پینتیس سال کی ایک خوش شکل خاتون بیٹھی تھی جو بار بار اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر اس کی ٹیبل پر آگئی تھی۔
’’معاف کیجئیے کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟‘‘ خاتون نے مسکرا کر پوچھا۔
’’بالکل کیوں نہیں…تشریف رکھیے۔‘‘ بہرام لاری نے خوش دلی سے کہا وہ خود بھی تنہائی سے بور ہورہا تھا۔
’’آپ یہاں نئے لگتے ہیں؟‘‘ خاتون نے پوچھا۔
’’نیا تو نہیں ، میں یہاں اکثر آتا رہتا ہوں۔‘‘ بہرام لاری نے جواب دیا۔
’’آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟‘‘ وہ اس کا پورا انٹر ویو لینے کے موڈ میں تھی۔
’’میں کراچی سے آیا ہوں۔ وہاں ایک بینک میں ملازم ہوں۔ میرا نام بہرام لاری ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کروایا۔
’’مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی مجھے فاخرہ اکرام کہتے ہیں۔‘‘ بہرام کے جواب میں خاتون نے بھی اپنا مختصر تعارف کروایا۔ تب تک بہرام کے آرڈر کا کھانا آچکا تھا۔
’’آپ کھانے میں کیا لے گی؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’نہیں …میں تو کھانا کھاچکی ہوں…ابھی کھایا ہے۔ کچھ دیر پہلے۔‘‘ فاخرہ نے جواب دیا۔
’’پھر بھی …آپ کچھ لیں۔‘‘ بہرام نی میز پر رکھے کھانے کی طرف اشارہ کیا۔
’’نہیں …اب گنجائش نہیں ہے۔‘‘فاخرہ نے مسکرا کر کہا۔
’’بھئی میرا ساتھ دینے کے لیے ہی سہی…تھوڑا سا تو لیں۔‘‘ بہرام نے پھر کہا اور ایک پلیٹ اس کی طرف بڑھادی ۔ فاخرہ نی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول لیے تھے۔ پھر وہ دونوں کھانے کے دوران ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے تھے اور بہرام کو پتہ چلا کہ اس کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے۔ اس لیے اس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور وہ ایک مقامی فرم میں ملازمت کرتی ہے۔ بہرام نے اپنے بارے میں بھی کافی کچھ بتایا تھا۔
’’ہم دونوں کی کہانی ملتی جلتی ہی لگتی ہے۔‘‘ فاخر ہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں! ہم جیسے اور بھی بہت سے ہوں گے۔‘‘ بہرام نے جواب دیا ۔ پھر فاخرہ رخصت ہوگئی تھی اور بہرام ایک بار پھر کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا تھا۔ جہاں اسے اس نے منیر خان کو فون کیا تھا ۔ دوسری طرف سے فون منیر خان نے ہی اٹھایا تھا۔
’’ہیلو منیر! میں بہرام بول رہا ہوں پہچانا؟‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ہاں پہچانوں گا کیوں نہیں۔ تمہاری آواز تو میں ہزاروں میں پہچان سکتا ہوں۔‘‘ منیر خان نے جواب دیا۔
’’مجھے تمہارا پیغام مل گیا ہے۔ تمیز الدین تمہیں کیسے ملا؟ کہاں تھا وہ؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’ہاں …لمبی کہانی ہے…فون پر کیا بتاؤں؟ اب آؤ گے تو تفصیل سے بات ہوگی۔ تم نے سفینہ کو بتادیا ہے ؟ منیر خان نے پوچھا۔
’’ہاں! اس سے میری بات ہوگئی ہے…تم نے جب ٹیلسن بینک کراچی کو تمیز الدین کی اطلاع دی تھی ۔ میں مری میں تھا اپنی چھٹیاں انجوائے کررہا تھا۔ جیسے ہی مجھے پتہ چلا میں یہاں کے لیے روانہ ہوگیا۔ سفینہ کو بھی میں نے یہاں ہی بلالیا ہے ۔ میں رائیل ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ کل وہ آجائے گی ۔ تو میں شام تک تمہارے گھر آجاؤں گا۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘ منیر خان نے کہا۔
’’تمیز الدین کیسا ہے۔‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’مجھے اس کی حالت ٹھیک نہیں لگتی … تم آؤ گے تو دیکھ لینا۔‘‘ منیر خان نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے کل ملاقات ہوگی۔‘‘ بہرام نے کہا اور ریسیور رکھ دیا پھر وہ اپنے کمرے میں چلاگیا تھا۔ اسے بار بار تمیز الدین کا خیال آرہا تھا کہ منیر خان نے یہ کیوں کہا کہ اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ بھلا اسے کیا ہوا تھا؟ ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار ہو۔ بہرام اس کے بارے میں سوچتے سوچتے سوگیا تھا۔
دوسرے روز اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی وہ اٹھا تو میز پر ایک چٹ رکھی ہوئی تھی جس پر اس کے لیے پیغام لکھا تھا۔
’’مسز فاخرہ آج دوپہر کا لنچ آ پ کے ساتھ کر رہی ہیں۔‘‘
’’چٹ استقبالیہ سے آئی تھی ۔ بہرام مسکرادیا اسے یقین نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اس کی دوست بن جائے گی۔ اس وقت بارہ بج رہے تھے اور فاخرہ نے لنچ کے لیے ڈیڑھ بجے کا وقت دیا تھا۔ وہ جلدی سے اٹھ گیا اور فریش ہونے کے بعد نیچے ہوٹل کے ہال میں پہنچ گیا ۔ اس نے سرمئی رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ جس کے ساتھ سرمئی اور بلیک دھاری کالر ٹائی لگائی تھی اور آف وائٹ شر ٹ پہنی تھی ۔وہ ہال میں موجود اسی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا تھا ۔ جہاں کل فاخرہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ پھر اسے زیادہ انتظار نہیں کر نا پڑا تھا۔ ایک بجے کے قریب فاخرہ نظر آئی تھی ۔ وہ ہوٹل کے مین گیٹ سے اندر ہال میں داخل ہورہی تھی ۔ اس نے ہلکے گلابی کلر کی ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی اور بالوں کا سادہ سا جوڑا بنا ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کی ٹیبل کی طرف آرہی تھی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
’’میں نے استقبالیہ طور پر تمہارے لیے پیغام چھوڑ دیا تھا۔‘‘ فاخرہ نے اس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ! مجھے مل گیا تھا…جب ہی تو یہاں بیٹھا ہوں۔ ورنہ گھومنے کے لیے کہیں نکل جاتا۔ ویسے اکیلے بیٹھے بیٹھے بور ہی ہوتا۔‘‘ بہرام نے جواب دیا۔
’’دراصل میرا آفس یہاں قریب ہی ہے اور میں لنچ کرنے یہاں ہی آتی ہوں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ تمہارے ساتھ لنچ کرلیا جائے۔‘‘ فاخرہ نے کہا۔
’’کیوں نہیں۔‘‘
’’تم کھانے میں کیا لوگے؟‘‘ فاخرہ نے بے تکلفی سے پوچھا۔
’’میں کچھ بھی کھالیتا ہوں…کوئی خاص پسند نہیں تم جو چاہو منگوالو۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’نہیں…مینو دیکھتے ہیں۔‘‘ فاخرہ نے میز پر پڑا مینو اٹھالیا۔ پھر کچھ دیر دیکھنے کے بعد بہرام سے مشورہ کرکے دو ڈش منتخب کی تھیں اور کھانے کا آرڈر دے دیا۔
کھانے سے فارغ ہو نے کے بعد فاخرہ زیادہ دیر نہیں رکی تھی اس کا لنچ ٹائم ختم ہونے والا تھا۔ چنانچہ وہ پھر ملنے کا وعدہ کرکے بڑی عجلت میں واپس چلی گئی تھی اور بہرام اپنے کمرے میں واپس آگیا تھا۔ اب اسے سفینہ کا انتظار تھا جو راستے میں تھی اور تھوڑی ہی دیرمیں رائیل ہوٹل پہنچنے والی تھی۔ بہرام اپنے کمرے میں آتے ہوئے استقبالیہ کلرک کو بتا کر آیا تھا کہ اس کی مہمان سفینہ کو اس کے کمرے میں پہنچادیا جائے ۔ پھر اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی اور اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا تھا۔
اٹھارہ سال بعد سفینہ اس کے سامنے کھڑی تھی وہ اپنی ماں کی طرح دراز قد ، نکھری رنگت اور خوب صورت نقوش کی مالک تھی ۔ اس کے گھنے سیاہ بال اس کے کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے بلیو کلر کی جینز اور شرٹ پہنی ہوئی تھی اور گلے میں پتلا سا دوپٹہ مفلر کی طرح پڑا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بہرام کے لیے پسندیدگی کی جھلک محسوس ہوئی ۔ جسے اس نے چھوٹی عمر میں بہت سال پہلے گودوں میں کھلایا تھا۔ پھر وہ جھلک یکلخت معدوم ہوگئی۔
’’سفینہ تمیز الدین ؟‘‘ بہرام لاری نے نرم لہجے میں پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’بہرام لاری!‘‘ سفینہ نے بھی اسی انداز میں پوچھا۔
’’جی ہاں ۔‘‘ بہرام نے کہا اور اسے اندر کمرے میں آنے کے لیے اشارہ کیا وہ اندر آگئی تھی۔ کچھ دیر کھڑے رہ کر اس نے کمرے کا جائزہ لیا تھا اور پھر صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
’’مجھے ٹیلسن بینک کی جانب سے ایک پیغام ملا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ … اپنے والد کی جائیداد کی واحد وارث ہوں…جن کا شاید انتقال ہوچکا ہے…اس سلسلے میں کوئی خاص بات سامنے آئی ہے۔‘‘ سفینہ نے ٹھہر ٹھہر کر کہنا شروع کیا۔
’’ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ مجھے مظفر آباد میں ایک شخص سے ملنا ہے جس کا تعلق اس بینک ہی سے ہے۔‘‘
’’ہاں وہ میں ہی ہوں۔‘‘ بہرام نے کہا اور مجھے یہ کام کر کے خوشی ہوگی۔‘‘
’’میں اس کے لیے آپ کی مشکور ہوں۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ آپ مجھے اس بارے میں مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ تاکہ میں خود کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے تیار کرسکوں۔‘‘ سفینہ نے اطمینان سے کہا۔
’’ہاں کیوں نہیں …دراصل میں …‘‘کچھ دیر کے لیے بہرام خاموش ہوگیا۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیسے بتاؤں…یہ بہت مشکل کام ہے۔‘‘
’’مشکل کیوں؟ کیا آپ میرے لیے بالکل اجنبی ہیں؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’کیا میں آپ کو آپ کے نام سے مخاطب کرسکتا ہوں؟ ‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’بالکل…بالکل کرسکتے ہیں۔‘‘ سفینہ نے جواب دیا۔ بہرام سوچ رہا تھا کہ وہ اسے اس کے والد کے بارے میں کیسے بتائے کہ جس کو وہ مردہ سمجھتی ہے وہ دراصل زندہ ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے کسی اور انداز میں بتائے گا۔
’’میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔‘‘ بہرام لاری نے کہا۔
’’کہانی؟‘‘ سفینہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’کیسی کہانی؟‘‘
’’ہاں…دراصل یہ میرے ایک بینک کے کسٹمر کی کہانی ہے۔ وہ ایک پاکستانی ہے اور بہت قابل اور سمجھ دار۔‘‘
’’کیا وہ کوئی عمر رسیدہ شخص ہے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’ہاں …یوں سمجھ لو تمہارے والد تمیز الدین جیسا ہی ہے۔ اس سے مل چکا ہوں وہ آزاد کشمیر کا رہنے والا تھا۔ پھر اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگیا تھا۔ ۔ ہمارے تعلقات کاروباری نوعیت کے تھے۔… اور اس بات کو تقریباً اٹھارہ سال گزر چکے ہیں۔‘‘
’’لیکن اس کہانی سے میرا کیا تعلق ہے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’آپ کہانی تو سنیں…بیس سال پہلے اس کی شادی ہوئی۔ شادی اس کی پسند کی تھی۔میں گواہوں میں شامل تھا۔ اس کے سارے کاروبار، معاملات ہمارے ٹیلسن بینک کی ذمہ داری تھی اور ان کے معاملات دیکھنا میرا فرض تھا۔ میں اپنے فرائض میں جذباتیت کا قائل نہیں ہوں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ میرے والد کی کہانی ہے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔ ’’اور جہاں تک میری معلومات ہیں ۔ میرے والد کے لاپتہ ہونے اور میری والدہ کے انتقال کے بعد آپ نے ہی مجھے کافی عرصہ تک سنبھالا تھا۔‘‘ سفینہ نے پر یقین لہجے میں کہا۔ وہ بہرام کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ جیسے حقیقت جاننا چاہتی ہو۔
’’ہاں سفینہ …وہ میں ہی تھا ۔‘‘ بہرام نے کہا۔‘‘
’’اب تو تمہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ میں تم سے بالکل درست بات کر رہا تھا اور تمہاری اور تمہاری والدہ کی دیکھ بھال کرنا میری ذمہ داریوں میں شامل تھا ۔ میں اتنے عرصے تم سے نہیں مل سکا اس کی بھی کچھ وجہ تھی اس کے علاوہ میرے سپرد تمہاری فیملی کے تمام قانونی معاملات بھی تھے۔‘‘
’’بہرحال سفینہ جیسا کہ تم نے خود بھی کہا ۔یہ کہانی تمہارے والدین کی کہانی ہے ۔ اب اس بات کا تصور کرو کہ جب تمہارے والد فوت ہوئے ۔ اگر فوت نہ ہوئے ہوتے تو اس وقت تمہارا رویہ کیا ہوتا؟‘‘ بہرام نے کہا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔ اس کے چہرے پرغیر یقینی سی کیفیت تھی۔
’’شکر کرو…خدا کا شکر ادا کرو…اور خود کو سنبھالو…زندگی میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ بہرام لاری اسے سمجھا رہاتھا اور وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی ۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے بہرام کی آواز اسے بہت دور سے آرہی ہو۔
’’تم تصور کرو اگر وہ نہیں مرا تھا تو کیا مجبوری تھی ۔ جس کی وجہ سے وہ تم سے اتنے عرصے دور رہا اور یوں اچانک خاموشی سے غائب ہوگیا۔ بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے کسی دشمن نے اسے اغوا کرلیا ہو۔ وہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہو؟ اس وقت حالات بہت خراب تھے۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا لیکن اصل بات تو ہمیں تمیز الدین سے ملنے کے بعد ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ تمہاری والدہ نے بھی اسے ہر جگہ تلاش کرلیا تھا اور اسی کے غم میں چل بسی لیکن تمہارے والد کی کہانی کیا تھی ۔ وہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔‘‘ بہرام نے اسے سمجھایا۔
مجھے ان کے بارے میں اور کچھ بتائیں…میں سب کچھ جاننا چاہتی ہوں۔ آپ تصور نہیں کر سکتے میں نے اپنے والد اور والدہ کے بغیر کس طرح زندگی گزاری ہے۔ میں نے ایک ایک پل میں ان کی کمی محسوس کی ہے ۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ مجھ سے ان کی دوری کا سبب کیا تھا ۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ہاں میں تمہیں بتاؤں… ضرور بتاؤں گا…کیا تم وہ سب کچھ سن سکو گی ؟ برداشت کرسکوگی؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’ہاں میں سب کچھ سن سکتی ہوں…سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں۔ سوائے اس بے یقینی کی کیفیت کے جس میں اس وقت مبتلا ہوں ۔ مجھے اس صورت حال سے نکالیے مجھے حقائق سے آگاہ کیجئے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’تم جانتی ہو جائیداد کا جو بھی حصہ ہے وہ تمہارا ہے اور وہ سب کتنا ہے یہ بھی تمہارے علم میں ہے۔ چنانچہ میں نے اس لیے تو تمہیں یہاں نہیں بلایا کہ میں تمہاری جائیداد اورزمینوں کے بارے میں کوئی نئی معلومات دوں بلکہ…‘‘ وہ کہتے کہتے رک گیا۔ وہ سفینہ کے چہرے پر آنے والے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ پریشان نظر آرہی تھی اور بہرام اسے حقیقت بتانے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہاتھا۔
’’وہ مل گئے ہیں…تمہاری دعاؤں سے وہ زندہ ہیں…لیکن کافی بدل گئے ہیں…وہ شاید بہت سی مصیبتوں سے گزرے ہوں تو بدلنا تو ممکن ہے لیکن ہمیں بہتر ی کی امید رکھنا چاہیے…وہ زندہ ہیں اور ہمارے لیے یہی بات اہمیت رکھتی ہے۔ تمہارے والد کو ٹیلنس بینک کے ایک پرانے ملازم کے گھر پر بھیج دیا گیا ہے۔ وہ ان کا بہت اچھا دوست بھی تھا اور اب ہم بھی ان سے ملنے وہیں جارہے ہیں۔ میں بھی تمہارے والد اور اپنے دوست کو پہچاننے کی کوشش کروں گا۔ اگر یہ ممکن ہوا اور تمہاری یہ ذمہ داری ہوگی کہ تم انہیں دوبارہ زندگی کی طرف واپس لاؤ گی۔ انہیں ایک بیٹی کا پیار دوگی۔ ان کا خیال رکھو گی۔ انہیں آرام پہنچاؤ گی۔ یہ تمہاری ذمہ داری ہوگی۔‘‘ بہرام نے اسے سمجھانے والے انداز میں سب کہا۔
’’کیا میں ان کی روح سے ملوں گی؟ اور ان کی روح ہی ہوسکتی ہے… وہ تو اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔‘‘ سفینہ بول رہی تھی۔ جیسے خواب میں بول رہی ہو۔
بہرام نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ہمت، ہمت، ہمت کرو سفینہ… سمجھنے کی کوشش کرو…زندگی کے اچھے اور برے دن دیکھ چکی ہو… تم نے اپنے والد اور والدہ کے بغیر زندگی گزاری ہے بہت سی محرومیاں دیکھی ہوں گی لیکن تمہارے والد جن حالات سے بھی گزر کر آئے ہیں وہ یقینا بہت اچھے نہیں ہوں گے۔ اس لیے وہ اتنے عرصے تم سے جدا رہے اور تمہاری والدہ بھی ان کے غم میں اﷲ کو پیاری ہوگئیں۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’میں ٹھیک تھی… جیسی بھی تھی… زندگی گزر رہی تھی… میں اس کی عادی ہوگئی تھی… لیکن اب… میں ان نئے حالات کا مقابلہ کیسے کروں گی؟‘‘ سفینہ بے خودی میں بولے جارہی تھی۔
’’ میں تمہیں ایک بات اور بتانا چاہتا ہوں۔‘‘ بہرام نے کہا تو وہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’تمہارے والد اب ملے ہیں تو اپنے نئے نام کے ساتھ ملے ہیں وہ اپنا اصلی نام مدتوں پہلے بھول چکے ہیں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کن حالات میں زندگی گزار رہے تھے اور ابھی اس معاملے میں انہیں کریدنا بھی میرے خیال میں مناسب نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر ہم نے کوئی پرانی بات کی یا انہیں کچھ یاد دلانے کی کوشش کی تو یہ ان کے لیے خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔‘‘
’’آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ کیا وہ اپنی یاد داشت کھو چکے ہیں؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’ہاں! یہی سمجھ لو… لیکن ابھی اہم یہ ہے کہ کسی طرح انہیں واپس گھر لے جایا جائے اور جو بھی تکلیف دہ وقت انہوں نے گزارا ہے ان کے ذہن سے بھلانے کی کوشش کی جائے ۔ یہ تمہارا کام ہے اور یہ بہت مشکل ہے۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا ۔ اس کا ذکر ان سے نہیں کرنا ہے۔ میں بھی اپنے ساتھ بینک کے کوئی کاغذات نہیں لایا ہوں۔ اس وقت ان باتوں کا موقع نہیں ہے۔ اس صورت حال کو میں صرف ایک نام دے سکتا ہوں اور وہ ہے۔ دوسری زندگی۔‘‘ بہرام نے کہا ۔
لیکن یوں محسوس ہورہا تھا جیسے سفینہ اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی ہے اور کوئی بات بھی نہیں سن رہی ہے۔
’’سفینہ !…سفینہ ! بہرام نے اسے آوازیں دیں لیکن وہ ساکت بیٹھی تھی۔ بس اس نے بہرام کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جس کا شاید اسے احساس بھی نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ بہرام کو تک رہی تھی۔
’’سفینہ! تم میری بات سن رہی ہو؟‘‘ اس نے دوسرے ہاتھ سے سفینہ کا گال تھپتھپایا اور وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ لاری کو اس کا بچپن یاد آرہا تھا۔ جب وہ بہت چھوٹی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھتی تھی ۔ اپنی توتلی زبان سے اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کرتی تھی لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے بعد جب وہ ایک جوان اور خوب صورت دوشیزہ کا روپ دھار چکی تھی ۔ اعلی تعلیم حاصل کر رہی تھی جو اپنے حلقے میں بہت ذہین اور باہمت سمجھی جاتی تھی۔ وہ آج بھی اسے ایسے ہی معصوم انداز میں سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے بہرام لاری کے بارے میں تمام تفصیلات بتانے کے باوجود اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا ہو۔ بہرام نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے آزاد کروایا اور قریب رکھی میز پر سے پانی کا جگ اٹھا کر گلاس میں پانی ڈالا تھا۔
’’لو…سفینہ یہ پانی پی لو…تمہارا جی ہلکا ہوجائے گا۔‘‘ بہرام نے اسے پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہا۔ اس نے بغیر کچھ کہے گلاس لیا تھا اور اس میں سے چند گھونٹ پانی پی لیا تھا۔ پھر بہرام نے گلاس واپس لے کر میز پر رکھ دیا تھا اور واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا تھا۔
’’سفینہ ! ہر کسی کو زندگی میں سب کچھ نہیں ملتا۔‘‘ اس نے کچھ دیر بعد ٹھہر ٹھہر کر کہنا شروع کیا۔
’’کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ ، بہن بھائی، دوست ، احباب سب ملتے ہیں لیکن محبت اور پیا ر نہیں ملتا۔ کچھ کو یہ سب ملتا ہے تو تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ غرض یہ زندگی اسی طرح چل رہی ہے اور یہی ہمارے لیے کافی ہے کہ جو کچھ اﷲ کی طرف سے ہمیں ملا ہے اس کا شکر ادا کریں اور جو نہیں ملا اس کے لیے دعا کریں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں اگر مل جائے تو سبحان اﷲ اور نہ ملے تو اس پر صبر کریں۔ محرومیوں کا رونا بزدل روتے ہیں اور تم تو بہت بہادر ہو۔‘‘ بہرام نے کہا ۔ سفینہ خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔
’’ہم ان کے پاس کب چلیں گے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’ابھی تو رات ہورہی ہے۔ ہم کل ان کے پاس چلیں گے تم آج یہیں میرے کمرے میں سوجاؤ۔‘‘
’’اور آپ؟ سفینہ نے پوچھا۔
’’میں …اپنے لیے کوئی ارینجمنٹ کروالوں گا۔‘‘ بہرام نے کہا۔
پھر کافی رات تک سفینہ سے باتیں کرتا رہا تھا۔ اس نے سفینہ کو تمیز الدین کے ساتھ گزاری کالج لائف کے قصے سنائے تھے۔ پھر بتایا تھا کہ کس طرح ان دونوں نے ٹیلسن بینک میں ایک ساتھ ملازمت کی تھی اور ایک طویل عرصہ ساتھ گزارا تھا۔ بہرام نے اسے بتایا تھا کہ تمیز الدین کو جائیداد میں زمینیں، جائیداد، کاروبار، روپیہ پیسہ سب کچھ ملا تھا لیکن اس نے صرف بہرام لاری کے ساتھ اور اس کی دوستی کی وجہ سے ٹیلسن بینک کی ملازمت نہیں چھوڑی تھی اور پھر تمیز الدین کی شادی بہرام نے کیسے کروائی تھی وہ قصہ بھی اس نے سفینہ کو بتایا تھا۔ پھر تمیز الدین کے اچانک غائب ہوجانے پر بہرام لاری نے اسے کتنا ڈھونڈا تھا اور اس کی غیر موجودگی میں اس نے اپنا اخلاقی فرض سمجھا تھا کہ وہ سفینہ اور اس کی ماں تہمینہ کی دیکھ بھال کرے ۔ پھر کچھ ناگوار واقعات کی وجہ سے اس نے زریاب محل جانا چھوڑ دیا تھا۔ جہاں تمیز الدین کے بعد صرف حفیظ الدین کے اصول چلتے تھے۔
’’میں جانتی ہوں میرے انکل حفیظ بہت سخت طبیعت کے مالک ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ زندگی گزاری ہے وہ اپنے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے اور ان کی بات اگر کوئی نہ مانے تو وہ اس کو بالکل پسند نہیں کرتے اور وہ شخص ان کے عتاب کا شکار ہوجاتا ہے۔‘‘سفینہ نے کہا۔
’’تمہارے ساتھ کیسے ہیں؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں لیکن میں بھی ان کی حکم عدولی کا تصور نہیں کرسکتی وہ جو بھی حکم دیں اس پر عمل کرنا ہوتا ہے شاید ان کی یہی سختی ہے جس نے ہمارے گھر کو باندھ کر رکھا ہواہے۔‘‘
’’ہاں تم بھی ٹھیک کہتی ہو۔‘‘
’’کیا یہاں آنے کے بارے میں تم نے انہیں بتایا تھا؟‘‘بہرام نے پوچھا۔
’’جی ہاں! بلکہ ٹیلسن بینک سے جو لیٹر آیا تھا وہ انہوں نے ہی رسیو کیا تھا۔‘‘
’’تو انہیں تمہارے تنہا یہاں آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہوا؟‘‘
’’نہیں! میں نے بچپن ان کے ساتھ گزارا ہے وہ عورت ہو یا مرد ہر کسی کو نڈر و بہادر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مجھ سے کہا کہ اپنے تمام کام خود کرنے کی عادت ڈالو حالانکہ گھر میں ملازمین موجود ہیںلیکن انہوں نے ہمیشہ یہی سمجھایا کہ کسی بھی شخص یا چیز کو کبھی اپنی کمزوری مت بتانا ۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ میری مزید ٹریننگ بھی کروائی ہے عام طورپر لڑکیاں وہ تربیت نہیں لیتیں جو انہوں نے مجھے دلوائی ہے میں مارشل آرٹ کی ماہر ہوں۔ میں نے مصوری میں بھی انعام جیتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف میرے شوق پورے کروائے بلکہ مجھے اس میں تربیت بھی دلوائی اس کے لیے میں ان کی مشکور ہوں۔ اگر وہ یہ سب نہ کرتے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں مجبور نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ اپنی مرضی کے بادشاہ ہیں۔ ‘‘سفینہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’گھر میں تمہاری والدہ کی وفات کے بعد کس نے تمہاری دیکھ بھال کی۔‘‘بہرام نے پوچھا۔
’’میری انٹی(اس کا اشارہ حفیظ الدین کی وائف کی طرف تھا) اور اس کے علاوہ نور بی بی نے تو ماں کی طرح مجھے پالا ہے۔‘‘
’’نور بی بی؟جب تک میرا زریاب محل میں آنا جانا تھا تب تک تو کوئی نور بی بی نام کی شخصیت وہاں نہیں تھی۔‘‘
’’نور النسا میری آیا ہیں میری والدہ نے ہی انہیں ملازم رکھا تھا تب سے اب تک وہ میری دیکھ بھال ایک ماں کی طرح کررہی ہیں۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں اورمیرا بڑا خیال رکھتی ہیں۔ ان کی مرضی نہیں تھی کہ میں اکیلی یہاں آئوں وہ میرے ساتھ آنا چاہتی تھیں۔‘‘
’’تو تم انہیں لے آتیں تمہارا بھی ساتھ ہوجاتا۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’میں نے مناسب نہیں سمجھا‘ خوامخواہ انہیں پریشانی ہوتی… اور پھر مجھے اندازہ نہیں تھاکہ مجھے یہاں رکنا بھی پڑے گا اور یہاں مجھے کن معاملات کا سامنا کرنا پڑیگا۔‘‘سفینہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
’’یہاں تم میرے ساتھ ایسے ہی محفوظ ہو سفینہ جیسے اپنے گھر میں حفیظ انکل کے ساتھ‘ میں بھی تمہارے والد سے دوستی اور محبت کا رشتہ کے ناتے تمہارا انکل ہی ہوتا ہوں۔‘‘بہرام نے اسے اطمینان دلایا۔
’’جی!‘‘سفینہ نے مختصر سا جواب دیا تھا۔ پھر کافی دیر تک وہ لوگ باتیں کرتے رہے تھے اور صبح ہوتے سفینہ کی آنکھ لگی تھی۔
صبح جب وہ اٹھی تو اس کی آنکھ دروازے پر ہونے والی دستک سے کھلی تھی۔ اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا تو سامنے ہوٹل کاملازم کھڑا تھا۔
’’جی بہرام صاحب نیچے ہال میں ناشتے پر آپ کا انتظار کررہے ہیں۔ آپ تیار ہوکر نیچے آجائیں۔‘‘اس نے کہا۔
’’اچھا ٹھیک ہے میں ابھی دس منٹ میں آتی ہوں۔‘‘اس نے کہا اور واقعی وہ ٹھیک دس منٹ میں تیار ہو کر ہال میں پہنچ گئی تھی۔ بہرام نے اسے سیڑھیاں اتر کر اپنی طر ف آتے دیکھا تو اسے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔ اس کا اندازہ اسے رات میں نہیں ہوا تھا تیار ہو کر وہ بہت نکھر گئی تھی۔ اس میں اپنی ماں تہمینہ کی بہت مشابہت تھی۔ تہمینہ ہی کی طرح سرخ وسفید رنگ‘ نیلگوں اور کشادہ آنکھیں‘ ستواں ناک وہ مسکراتی ہوئی اس کی طرف بڑھ رہی تھی اس کے دودھیا سفید دانت گلابی رنگت والے ہونٹوں سے جھانک رہے تھے اور اس کے دراز قد پر بلوجینز اور جیکٹ بہت سج رہی تھی۔ وہ بے تکلفی سے اس کے سامنے رکھی ہوئی ٹیبل کے دوسری طرف موجود کرسی پر بیٹھ گئی تھی اور بہرام نے ہاتھ کے اشارے سے ویٹرکو ناشتہ لانے کے لیے کہا تھا جس کا آرڈر وہ پہلے ہی دے چکا تھا۔
’’میں نے تم سے بغیر پوچھے بغیر ہی ناشتے کا آرڈر دے دیا تھا دراصل میں نہیں چاہتا کہ ہمیں جہاں جانا ہے اس میں ہمیں دیر لگے…میں جلد ازجلد اس کام کو نمٹانا چاہتا ہوں۔‘‘بہرام نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے…مجھے بھی ناشتے میں اتنی دلچسپی نہیں میں بھی جلد از جلد ان سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘سفینہ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ہاں بس ناشتہ کرکے پھر چلتے ہیں میں نے رینٹ اے کار سے کار منگوالی ہے۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’اس کی کیا ضرورت تھی میں اپنی گاڑی میں آئی ہوں ہم اس میں چلیں گے۔‘‘سفینہ نے کہا۔
’’اچھا؟میں تم سے پوچھنا بھول گیا تھا ۔ میں ابھی اس کار کو واپس کردیتا ہوں۔‘‘بہرام نے اٹھتے ہوئے کہا پھر وہ ہوٹل کے استقبالیہ کی طرف گیا تھا اور چند منٹ استقبالیہ کلرک کو کچھ سمجھانے کے بعد واپس آگیا تھا۔
’’میں نے استقبالیہ کلرک کو سمجھا دیا ہے وہ اس کار کو فارغ کردے گا اگر مجھے پہلے اندازہ ہوتا تو میں اس کو ہائر ہی نہ کرتا۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’دراصل ہم رات اپنے معاملات پر گفتگو میں ایسے مصروف ہوئے کہ اور سب باتیں ہمارے ذہن سے نکل گئیں۔‘‘سفینہ نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی حالت اب رات سے بہترلگ رہی تھی اور وہ نارمل نظر آرہی تھی۔
’’اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟‘‘بہرام نے پوچھا۔سفینہ اس کا مطلب سمجھ کر مسکرا دی ۔
’’میں اب بالکل ٹھیک ہوں دراصل اپنے والد سے اتنے طویل عرصے دور رہنے کی وجہ سے مجھے وقتی طورپر ان کے بارے میں معلوم ہونے پر کچھ گھبراہٹ ہوئی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ میں ان کا سامنا کیسے کروں گی۔ پھر میں ان کی طرف سے مایوس تھی کیونکہ ہم سب تو انہیں مردہ تصور کرچکے تھے کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یوں اٹھارہ سال بعد وہ اچانک ہمیں مل جائیں گے۔یہاں آتے وقت بھی میں یہی سمجھ رہی تھی کہ شاید جائیداد کا بینک کے کچھ معاملات ہوں گے لیکن یہاں آکر جو کچھ مجھے پتہ چلا اس کے لیے میں ذہنی طورپر تیار نہیں تھی لیکن اب صورت حال واضح ہونے کے بعد میں مطمئن ہوں اور یہ بھی میری مارشل آرٹ کی ٹریننگ کا کمال ہے ۔ اس میں ہمیں اپنے ذہن کو پرسکون رکھنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے ہم اچھے برے حالات میں اپنے ذہن کو اپنے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں لیکن پرسکون رہنا شرط ہوتی ہے ۔‘‘سفینہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’یہ بہت اچھی بات ہے اور میں اس کا کریڈٹ تمہارے انکل حفیظ کودیتاہوں۔‘‘
’’جی ہاں!میری زندگی ایسے بہت سے واقعات سے بھری ہوئی ہے جن میں ‘میں نے اپنی انہی صلاحیتوں کی بنا پر کامیابی حاصل کی اور اس کے لیے میں اپنے انکل کو دعائیں دیتی ہوں۔‘‘سفینہ نے کہاپھر وہ لوگ ناشتہ کرکے ہوٹل سے باہر آگئے تھے۔
’’رائیل ہوٹل کے باہر سڑک پر اس وقت زیادہ گہما گہمی نہیں تھی صبح کے سات بجے تھے اور سڑک کے دونوں اطراف موجود دکانوں میں سے زیادہ تر بند تھیں کچھ دکانیں کھل گئی تھیں اور کچھ آہستہ آہستہ کھل رہی تھیں۔
’’ہمیں منیر حسین کے گھر تک پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگے گا۔ یعنی ہم آٹھ بج تک وہاں پہنچ جائیں گے۔ میں نے اسے فون کرکے اپنی آمد کے بارے میں بتا دیا ہے۔‘‘بہرام نے سفینہ کو بتایا پھر وہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوگئے تھے۔ سفینہ بڑی مہارت سے کار ڈرائیو کررہی تھی۔
’’تم بہت خوش قسمت ہو سفینہ کہ تمہیں انکل حفیظ جیسے تایا ابو ملے ہیں۔ انہوں نے تمہاری تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔‘‘بہرام نے تعریفی انداز میں کہا۔
’’جی ہاں وہی آپ کی والی بات کہ اللہ اگر کسی چیز سے محروم کرتا ہے تو اس کے بدلے کوئی اور نعمت سے نواز دیتا ہے اور میرے لیے میرے انکل اور نور بی بی کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔‘‘سفینہ نے جواب دیا۔
’’بالکل ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ بہرام لاری نے کہا پھر وہ سڑک کے اطراف میں گزرتے ہوئے مناظر کو دیکھنے میں مشغول ہوگیا تھا۔
منزل مقصود تک پہنچتے پہنچتے تقریباً آٹھ بج گئے تھے۔ سڑک پر اب گہماگہمی بڑھ گئی تھی اور کاروبار زندگی حرکت میں آچکا تھا اب سڑک پر آتے جاتے لوگوں کا رش تھا جس میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔ بہرام لاری راستے بھر سفینہ کو گائیڈ کرتا رہا تھا کیونکہ سفینہ کو اس علاقے کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھالیکن بہرام کو بھی اس شہر میں آتے ہوئے ایک عرصہ گزر گیاتھا۔ بہت سی چیزیں تبدیل ہوچکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی کار منیر حسین کے ریسٹورینٹ کے باہر رکی تھی تو بہرام لاری حیران رہ گیا تھا۔ اب وہ ایک چھوٹا سا ریسٹورینٹ نہیں تھا بلکہ ایک پانچ منزلہ عالیشان عمارت میں تبدیل ہوگیا تھا جس میں گرائونڈ فلورپر ہوٹل اور اوپری منزلیں کرائے پر چلتی تھیں انہی میں سے کسی فلورپر منیر حسین کی بھی رہائش تھی۔ بہرام اور سفینہ جب ہوٹل کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے تو کائونٹر کے پیچھے ایک تیس پینتیس سالہ خاتون بیٹھی تھی اور اس کے سامنے تین افراد کھڑے تھے جنہوں نے معمولی سا لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور وہ خاتون سے باتوں میں منہمک تھے‘ بہرام نے آگے بڑھ کر خاتون سے منیر حسین کے بارے میں دریافت کیا تھا اورخاتون نے باتوں کا سلسلہ روک کر بہرام کی طرف دیکھا تو پھر ہاتھ سے ایک ویٹر کو اشارہ کرکے بلایا تھا۔
’’منیر کو بلائو…اس کے مہمان آئے ہیں۔‘‘اس عورت نے کرخت لہجے میں کہا اور ان دونوں کو ایک میز پر بیٹھنے کے لیے کہہ دیا۔ بہرام سفینہ کے ساتھ قریب ہی موجود ایک خالی ٹیبل پر بیٹھ گیاتھا۔
’’میں حیران ہوں… جب کافی عرصہ پہلے میں یہاں آیا تھا تو یہ ایک چھوٹا ساریسٹورینٹ تھا لیکن اب تو کافی تبدیل آگئی ہے۔‘‘بہرام نے ہال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا قریب ہی کائونٹر پر موجود خاتون ان تینوں افراد سے باتوں میں مصروف تھی۔
’’تم اوپر پانچویں منزل پر چلے جائو۔‘‘ اس نے ان لوگوں کو ہدایت کی تو وہ لفٹ کی طرف بڑھ گئے تھے اتنی دیر میں منیر حسین وہاں آگیا تھا۔
’’اوہ بہرام!کافی عرصے بعد تمہیں دیکھ رہا ہوں…راستے میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’نہیں لیکن راستے میں کافی تبدیلیاں آچکی ہیں۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’ہاں وقت بھی کافی بیت گیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں تو ہوتی رہتی ہیں۔‘‘منیر حسین نے ہنس کر کہا اور سفینہ کی طرف دیکھنے لگا۔
’’یہ تمیز الدین کی بیٹی سفینہ ہے۔‘‘بہرام نے سفینہ کا تعارف کروایا۔
’’اور یہ میرے اور تمہارے والد کے دوست منیر حسین ہیں ہم تینوں نے کافی عرصے ایک ساتھ ٹیلسن بینک میں کام کیاتھا۔‘‘بہرام لاری نے کہا۔
’’ہاں اور میری وائف سے تم لوگ مل ہی چکے ہو یہ کائونٹر پر موجود خاتون میری وائف ہے۔‘‘منیر حسین نے خوش دلی سے کہا۔
’’کچھ چائے وغیرہ چلے گی؟‘‘منیر حسین نے بہرام سے پوچھا۔
’’نہیں‘ بس ہمیں تمیز الدین سے ملوا دو۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’آئو میرے ساتھ۔‘‘منیر حسین نے کہا اور انہیں لے کر لفٹ کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’کیا وہ اکیلا ہے؟‘‘ بہرام لاری نے لفٹ میں داخل ہونے کے بعد منیر سے پوچھا۔
’’اکیلا! خدا اس کی مدد کرے بھلا اس کے ساتھ ہوبھی کون سکتا ہے۔‘‘منیر نے کہا ۔
’’ہاں۔‘‘اس بار منیرنے مختصر جواب دیاتھا۔
’’کیا یہ اس کی خود کی خواہش ہے؟‘‘ بہرام نے پھر پوچھا۔
’’وہ اس کی اپنی ضرورت ہے جب میں نے اس کو پہلے دیکھا وہ اسے میرے پاس لائے تھے اور انہوں نے مجھے مجبور کیاتھا کہ میں اسے پناہ دوں اور اس کے لوگوں تک پہنچا دوں وہ میرے مشکور ہوں گے…یہ تب ہی ایسا ہی تھا…تنہائی پسند…اور آج بھی ایسا ہی ہے۔‘‘
’’وہ کون؟…تمہارے پاس اسے کون لایا تھا؟‘‘
’’کچھ سرکاری اہلکار تھے۔‘‘
’’وہ بہت بدل گیا ہے کیا؟‘‘بہرام نے کہا۔
’’ہاں بہت بدل گیا ہے۔‘‘منیر نے جواب دیا تبھی ہی لفٹ رکی تھی اور پانچویں منزل پر اس کا دروازہ کھلا تھا۔ منیر حسین نے لفٹ سے باہر نکلتے ہوئے اپنے کوٹ کی جیب سے چابیاں نکالی تھیں۔
’’کیا اس کا مطلب ہے کہ میرے دوست کا دروازہ لاک ہے؟‘‘بہرام نے پوچھا۔ اس کی آواز میں حیرت تھی۔
’’ہاں!‘‘منیر نے مختصر جواب دیا۔
’’کیا تمہارے خیال میں یہ ضروری تھا کہ اسے لاک کرکے رکھا جائے۔‘‘
’’میرا خیال ہے یہ ضروری تھا۔‘‘منیر نے جواب دیا لفٹ سے باہر آنے کے بعد وہ ایک راہ داری میں آگئے تھے۔
’’کیوں؟‘‘بہرام نے پوچھا۔
’’کیوں؟ اس لیے کہ وہ ایک طویل مدت تک لاک اپ میں رہا ہے…اب وہ خوفزدہ رہتا ہے حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اگر اس کا دروازہ کھلا رہے گا تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے لیکن وہ مطمئن نہیں ہوگا۔‘‘ منیر نے جواب دیا وہ دونوں سفینہ سے چند قدم آگے چل رہے تھے اور سرگوشیوں میں بات کررہے تھے انداز ایسا ہی تھاکہ وہ نہیں چاہتے کہ سفینہ ان کی باتیں سنے۔ چند قدم چلنے کے بعد انہیں راہداری میں وہ تین افراد نظر آئے تھے جنہوں نے بہت معمولی لباس پہنا ہوا تھا اور کچھ دیر پہلے وہ ہوٹل کے ہال میں مسز منیر سے بات کررہے تھے اور وہ تینوں اس راہداری میں واقع واحد کمرے کے دروازے کی جھری سے اندر جھانک رہے تھے اور آنے والوں کے قدموں کی آہٹ سن کر سیدھے کھڑے ہوگئے تھے۔
’’اوہ!تم لوگوں سے باتیں کرنے میں‘ میں انہیں بھول ہی گیا تھا۔‘‘منیر نے بہرام سے کہا اور پھر ان تینوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’گڈبوائز…جائو تم جاسکتے ہو…ہمیں تنہا چھوڑدو۔‘‘منیر نے ان سے کہا اور وہ تینوں لفٹ کی طرف بڑھ گئے اور منیر حسین کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
’’کیا تم نے یہاں اس کا تماشہ بنایا ہوا ہے؟‘‘بہرام نے قدرے ناراضگی سے کہا۔
’’میں نے تماشہ بنایا ہوا ہے؟بھئی کچھ لوگ ہیں جو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘
؟’’کیا یہ مناسب ہے؟‘‘
’’میرا خیا ل ہے کہ یہ ٹھیک ہی ہے۔‘‘منیر نے جواب دیا۔
’’وہ چندلوگ کون ہیں؟انہیں کس نے یہاں آنے کی اجازت دی ہے؟‘‘بہرام نے پوچھا۔
’’ان کا انتخاب میرے علاوہ اور کون کرسکتا ہے؟میں یہاں کا مالک ہوں اور میں نے ہی ان کا انتخاب کیا ہے یہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس پر نظر رکھی جائے تم یہ بات سمجھ سکتے ہو۔‘‘منیر نے جواب دیا اور چابی سے کمرے کا لاک کھولنے لگا۔
’’تم لوگ کچھ دیر باہر ہی ٹہرنا۔‘‘اس نے سرگوشی میں کہاوہ لاک میں چابی زور زور سے گھمارہا تھا جس سے اچھی خاصی آواز پیدا ہورہی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے وہ جان بوجھ کر شور پیدا کررہاہے۔ اس نے بھی جھری سے اندر جھانک کر دیکھا تھا پھر لاک کھولنے کے بعد ہاتھ سے ہلکا سا دھکا دے کر دروازے کو اندر کی طرف دھکیل کر کھول دیا تھا اور کمرے میں جھانک کر کوئی سرگوشی کی تھی الفاظ بہرام کی سمجھ میں نہیں آئے تھے‘ سفینہ اور بہرام دروازے پر ہی رک گئے تھے اور منیر اندر داخل ہوگیا تھا۔ کمرے میں سے کسی نے بہت کمزور اور ہلکی آواز میں اس کا جواب بھی دیا تھا۔ منیر نے پیچھے دیکھ کر بہرام کو اندر آنے کا اشارہ کیا تھا اور بہرام سفینہ کے ساتھ اندر داخل ہواتھا۔
’’مجھے ڈر لگ رہاہے۔‘‘سفینہ نے سرگوشی کی۔
’’ڈر!کس چیز سے؟‘‘بہرام نے بھی سرگوشی میں پوچھا۔
’’ان سے…اپنے والد سے۔‘‘سفینہ نے آہستہ سے کہا۔ بہرام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا تھا اور منیر نے دروازہ دوبارہ اندر سے لاک کردیا تھا۔ چابی اس کے ہاتھ ہی میں تھی۔ یہ سب اس نے زور سے کہا تھا اور خاصا شور پیدا کیا تھا۔ انداز ایسا ہی تھا کہ اندر موجود شخصیت کو سنایا جارہا ہو کہ اب دروازہ لاک ہوگیا ہے اور وہ محفوظ ہے۔
کمرے میں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی پشت دروازے کی طرف تھی اور اس کے سامنے دیوار میں ایک کھڑکی تھی جس میں ایک جھری سے کچھ روشنی اندر ارہی تھی وہاں اب منیر کھڑا ہوا تھا اور کمرے میں موجود شخص کی طرف دیکھ رہا تھا اس شخص کے بال سفید تھے وہ ایک بنچ پر بیٹھا ہوا تھا اور آگے کو جھکا ہوا تھا وہ جوتے بنا رہا تھا کمرے میں بہت کم پاور کا بلب روشن تھا۔
’’صبح بخیر!‘‘منیر حسین نے نیچے بیٹھے ہوئے شخص سے دھیمے لہجے میں کہا جو جوتے بنانے میں منہمک تھا چند لمحوں کے لیے اس نے سر اٹھایا۔
’’صبح بخیر!‘‘نیچے بیٹھے ہوئے شخص نے بہت نحیف اور دھیمی آواز میں جواب دیا۔
’’تم اب بھی کام میں مصروف ہو تم بہت محنت کرتے ہو۔‘‘منیر حسین نے کہا وہ شخص کافی دیر خاموش رہا پھر اس نے سر اٹھایا۔
’’ہاں! میں کام کررہا ہوں۔‘‘جواب دیا گیا اس پر اس نے ایک نظر سامنے کھڑے منیر حسین پر ڈالی تھی اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ بہرام نے محسوس کیا کہ اس کی آواز میں زندگی نہیں ہے اور کوئی دور سے بول رہا ہے۔خاموشی کے چند اور لمحے گزر گئے تھے پھر اس نے ایک بار اور سر اٹھایا تھا اور منیر کی طرف یوں دیکھا تھا کہ جیسے پوچھ رہا ہو کہ وہ اب تک کیوں کھڑا ہے۔ منیر حسین بھی اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔
’’میں سوچتا ہوں کہ یہاں مزید روشنی کا انتظام کروں۔‘‘منیر حسین نے کہا اس کی بات کا فوراً ہی جواب نہیں دیا گیاتھا نیچے بیٹھے ہوئے شخص نے سر جھکا کر اپنے دائیں جانب کمرے کے فرش کو دیکھا تھا اور پھر بائیں جانب سر گھما کر نیچے فرش کو دیکھا تھا اورپھر منیر حسین کی طرف دیکھاتھا۔
’’تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’میں کہہ رہا ہوں کہ تمہیں مزید روشنی کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تھوڑی اور روشنی میں برداشت کرلوں گا۔‘‘اس نے جواب دیا اور منیر حسین نے پیچھے موجود کھڑکی کو ذرا سا اور کھول دیا اور روشنی کی ایک کرن اس شخص پر پڑی اور اس کی گود میں رکھا ہوا نامکمل جوتا نظر آنے لگا جو بناتے بناتے وہ باتوں میں مصروف ہوگیا تھا کچھ عام سے جوتا بنانے کے اوزار اس کے سامنے پڑے ہوئے تھے اور چمڑے کے کے ٹکڑے اس کے پیروں کے قریب اور اس کی بینچ پر رکھے تھے اس کے چہرے پر سفید داڑھی تھی جو بے ترتیبی سے کٹی ہوئی تھی اور اس کا چہرہ کسی انسانی ڈھانچے کی کھوپڑی لگ رہا تھا لیکن اس کی آنکھیں چمک دار تھیں اس کی بھویں ابھی تک سیاہ تھیں اس کے سر کے سفید لمبے بال اس کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے اس نے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے ان کا کلر پیلاہٹ مائل ہوچکا تھا اس نے کھڑکی سے آتی ہوئی روشنی اور اپنی آنکھوں کے درمیان ہاتھ سے آڑ کرلی تھی جیسے وہ روشنی اسے اچھی نہ لگ رہی ہو۔
’’کیا تم آج جوتوں کی یہ جوڑی مکمل کرلوگے؟‘‘ منیر حسین نے اس سے پوچھا اور بہرام لاری کو آگے آنے کا اشارہ بھی کیا۔
’’تم نے کیا کہا؟‘‘
’’کیا تم جوتوں کی جوڑی آج مکمل کرلوگے؟‘‘منیر حسین نے اپنی بات دہرائی ۔
’’شایدمیں کرلوں…مجھے نہیں پتہ۔‘‘ اس نے مبہم سا جواب دیا لیکن اس سوال نے اسے اس کا کام یاد دلادیا تھا اور وہ پھر جوتا بنانے میں مصروف ہوگیا تھا۔
بہرام لاری بغیر آواز پیدا کئے تھوڑا آگے بڑھا تھا۔ سفینہ ابھی تک دروازے کے قریب ہی کھڑی تھی۔ بہرام چند لمحے اپنی جگہ کھڑا رہا پھر نیچے بیٹھے ہوئے شخص نے سر اٹھایا اسے کمرے میں ایک اور شخص کو دیکھ کرکوئی حیرت نہیں ہوئی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا تھا اور اپنی ایک انگلی اپنے ہونٹ پر رکھی تھی اور بہرام کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش کررہا ہو لیکن پھر وہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔
’’تم نے دیکھا تمہیں کوئی ملنے آیا ہے۔‘‘منیر حسین نے اس سے کہا۔
’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ اس نے پھر منیر حسین سے پوچھا۔
’’کوئی تم سے ملنے آیا ہے۔‘‘ منیر حسین نے دہرایا تو اس نے پھر بہرام کی طرف دیکھا اس بار اس نے ہاتھ اوپر نہیں اٹھایا تھا۔
’’دیکھو! یہ صاحب اچھے جوتے کی پہچان رکھتے ہیں انہیں یہ جوتا دکھائو جو تم بنا رہے ہو ۔لیں جناب آپ یہ دیکھیں۔‘‘ منیر حسین نے کہا اور جوتا اس کے ہاتھ سے لے کر بہرام کی طرف بڑھا دیا۔
’’انہیں بتائو کہ یہ کون سا جوتا ہے اور اسے کس نے بنایا ہے۔‘‘منیر حسین نے نیچے بیٹھے ہوئے شخص سے کہا۔
’’میں بھول گیا تم نے مجھ سے کیا پوچھا تھا۔‘‘اس شخص نے کافی دیر خاموش رہنے کے بعد منیر حسین سے پوچھا۔
’’میں نے کہا ہے کہ کیا تم بتا سکتے ہو کہ یہ کس قسم کا جوتا ہے؟‘‘منیر حسین نے کہا۔
’’یہ ایک لیڈیز جوتا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ یہ ایک جوان لڑکی کے جوتے ہیں یہ بہت اچھے ہیں…میں نے محنت سے بنائے ہیں۔‘‘
’’اور بنانے والے کا نام کیا ہے؟‘‘ منیر حسین نے پوچھا اس کے سوال پر نیچے بیٹھے ہوئے شخص نے ہاتھ میں پکڑا ہوا اوزار سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پکڑا پھر کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد واپس دائیں ہاتھ میں پکڑ لیا پھر اس نے اپنا بائیاں ہاتھ اپنی سفید داڑھی پر پھیرا تھا انداز ایسا ہی تھا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو۔
’’تم نے مجھ سے میرا نام پوچھا ہے؟‘‘اس نے پھر منیر حسین سے پوچھا۔
’’ہاں!میں نے تمہارا نام پوچھا ہے۔‘‘منیر حسین نے جواب دیا۔
’’وہ سینٹرل جیل۔‘‘اس نے جواب دیا۔
’’بس یہی نام ہے؟‘‘منیر نے پوچھا۔
’’ہاں سینٹرل جیل۔‘‘اس نے دوبارہ مردہ اور نحیف آواز میں کہا اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
’’تم پیشے کے حساب سے موچی تو نہیں ہو۔‘‘بہرام نے آہستہ سے کہا وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا اس شخص نے اس سوال پر پہلے منیر حسین کی طرف دیکھا جیسے اس سے جواب کی امید کررہا ہو لیکن جواب نہ ملنے پر وہ بہرام کو دیکھنے لگا۔
’’میں موچی نہیں ہوں…میں پیشے کے اعتبار سے موچی نہیں ہوں…میں نے یہ کام یہاں سیکھا ہے…میں نے خود ہی سیکھا ہے…میں نے جانے کے لیے کہا تھا…‘‘وہ بولتے بولتے چپ ہوگیا پھر خلائوں میں گھورنے لگا کافی دیر کے بعد اس نے پھر بہرام کی طرف دیکھا اور بے خودی کے عالم میں بولنے لگا اس کی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہورہی تھی…زندگی سے عاری۔
’’میں نے کہا تھا کہ میں یہ کام سیکھنے کے لیے جانا چاہتا ہوں لیکن مجھے بہت مشکل ہوئی…میں بہت عرصے سے جوتے بنا رہا ہوں۔‘‘اس نے کہا اور بہرام کے ہاتھ میں پکڑا ہوا جوتالینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
’’تمیز الدین!‘‘ بہرام نے اس کے نام سے پکارا۔
’’کیا تمہیں یاد نہیں ؟‘‘بہرام نے کہا اور جوتا اس کے ہاتھ میں تھما دیا جو کہ سوال سننے کے بعد اس کے ہاتھ سے نیچے گرگیا تھا اور وہ خود بہرام کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’تمیزالدین…‘‘بہرام نے دوبارہ اس کا نام لیا اور اپنے ہاتھ سے اس کا ندھا جھنجوڑا۔
’’کیا تمہیں میں بالکل یاد نہیں؟‘‘بہرام نے کہا اور پھر منیر حسین کی طرف اشارہ کیا ۔’’کیا تمہیں یہ بھی یاد نہیں؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’دیکھو اسے دیکھو…مجھے دیکھو کیا تمہیں اپنے پرانے بینک کے ساتھی یاد نہیں؟‘‘
’’کیا کچھ بھی یاد نہیں؟تمیز الدین؟‘‘ بہرام نے ایک ساتھ کئی سوال کردیئے اور برسوں قید میں رہنے والا شخص حیرت سے کبھی اسے اور کبھی منیر حسین کو دیکھ رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہورہا تھا جسے اس کے دماغ میں دھواں ہی دھواں ہوگیا ہو اور اس کا دم گھٹ رہا ہو۔ سفینہ آہستہ آہستہ دیوار کے سہارے آگے کی طرف کھسک ائی تھی جہاں سے وہ اسے صحیح طورپر دیکھ سکتی تھی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ مضبوطی سے اپنے سینے پر باندھے ہوئے تھے اس کے چہرے پر محبت اور دکھ نظر آرہا تھا اور اس کی آنکھوں میں ہمدردی تھی۔ نیچے بیٹھا شخص کبھی بہرام اور کبھی سفینہ کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظروں میں اجنبیت تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی پھر اس نے دوبارہ سر جھکالیا تھا اور ایک گہری سانس لے کر دوبارہ جوتا اٹھالیا تھا اور اپنا کام شروع کردیا تھا۔
’’کیا تم نے انہیں پہچانا؟‘‘منیر حسین نے بہرام سے سوال کیا۔
’’ہاں ایک لمحے کے لیے…پہلے میں سمجھا تھا کہ یہ ناممکن ہوگا لیکن ایک لمحے کو مجھے لگا کہ یہ وہی ہے جیسے میں بہت پہلے سے جانتاہوں…شش۔‘‘ بہرام نے منیر کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
’’میں مزید کچھ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘اس نے منیر سے کہا۔
سفینہ آہستہ آہستہ کھسکتی اس بنچ تک آگئی تھی جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا۔ وہ محسوس کررہی تھی کہ کوئی چیز ہے جو اسے مجبور کررہی ہے اس شخص کی طرف بڑھنے کے لیے پھر اس نے اپنے کام میں مصروف اس شخص کا کاندھا چھوا تھا اس شخص نے کوئی حرکت نہیں کی تھی نہ ہی کچھ بولا تھا۔ سفینہ اس کے قریب کسی روح کی طرح کھڑی تھی۔ وہ اس کے سامنے تھی لیکن وہ کام میں مگن تھا۔ پھر وہ رکا تھا شاید یہ جوتا بنانے کا اوزار بدلنے کے لیے اس نے پہلا اوزار رکھ کر جوتا بنانے والا تیز چاقو اٹھالیا تھا اورپھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا۔ پھر اچانک اس کی نظر سفینہ کی جنیز پر پڑی تھی اور اس نے سفینہ کے چہرے کی طرف دیکھا تھا سفینہ اپنی جگہ کھڑی رہی تھی اسے خوف نہیں تھا کہ اس کے سامنے والے شخص کے ہاتھ میں تیز دھار چاقو ہے اور وہ اسے مارنے کی کوشش بھی کرسکتا ہے وہ اپنی جگہ بے حرکت کھڑی تھی اور نیچے بیٹھا ہوا وہ شخص خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا کچھ دیر کے بعد اس کے ہونٹوں سے کچھ لفظ نکلے تھے لیکن کوئی آواز نہیں تھی وہ منہ ہی منہ میں کچھ کہہ رہا تھا لیکن اس کے الفاظ سمجھنے سے سب قاصر تھے پھر بڑی مشکل سے کچھ الفاظ ادا ہوئے۔
’’کیا ہے؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا اس کی نظریں سفینہ کی آنکھوں سے گرتے ہوئے آنسوئوں پر تھیں جو اس کے گالوں پر ڈھلک آئے تھے۔سفینہ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھے ہوئے تھے جیسے کچھ بولنے سے خود کو روک رہی ہو۔
’’تم جیلر کی بیٹی تو نہیں ہو؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘سفینہ نے سرگوشی کی۔
’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے پوچھا اور سفینہ آہستگی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ وہ پیچھے کو کھسکا لیکن سفینہ نے اس کا بازو پکڑکر اس کو روک لیا۔ اب وہ بنچ پر اس کے ساتھ بیٹھی تھی اوراس نے جوتا بنانے کا فریم بھی وہاں سے ہٹا دیا تھا۔ پھر اس شخص نے چاقو رکھ دیا تھا اور وہ حیرت سے سفینہ کو دیکھ رہا تھا۔ سفینہ کے سیاہ لمبے گھنے بال جو اس کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے اسے کچھ یاد دلا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی نظر سفینہ کے چہرے سے ہٹالی تھیں اور نیچے زمین کوتکنے لگا تھا۔
’’ادھر دیکھو!میری طرف۔‘‘سفینہ نے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا اور وہ پھر اسے دیکھنے لگا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو۔ جیسے اسے پہچاننے کی کوشش کررہاہو۔ اب روشنی سفینہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور وہ اپنی ماں سے بہت مشابہہ تھی۔اسی لمحے تمیز الدین کو تہمینہ کا خیال آیاتھا اور وہ سوچ رہا تھاکہ آخری بار جب وہ اس سے جدا ہوا تھا تو اس نے اپنا سر میرے کاندھے پر رکھا ہوا تھا وہ میرے جدا ہونے پر خوفزدہ تھی اور جب مجھے جیل لایا گیا تھا تو میں نے اسے بہت یاد کیا تھا۔ میں اس کی یادوں کو بھلا نہیں سکا…وہ دل میں سوچ رہا تھا لیکن الفاظ اس کے ہونٹوں سے ادا نہیں ہورہے تھے اور جب اسے وہ الفاظ ملے جنہیں وہ ادا کرسکے تو اس کے ہونتوں سے صرف اتنا ہی نکلا۔
’’یہ کیسے ہوا؟‘‘ کیا یہ تم ہو؟‘‘ اس نے سامنے بیٹھی سفینہ سے پوچھا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا بس وہ اسے دیکھ رہی تھی پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کے لیے کہا تھا۔
’’تم اپنی جگہ بیٹھے رہو…کوئی حرکت مت کرو… کچھ مت بولو۔‘‘اس نے کہا۔
’’ہا؟یہ کس کی آواز ہے؟‘‘ اچانک تمیز الدین نے کہا اور اپنے ہاتھوں سے اپنے سر کے سفید بال پکڑ لیے تھے وہ کچھ دیر گہری سانس لیتا رہا تھا اور پھر اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چمڑے کا سیاہ ٹکڑا نکالا تھا جس میں کچھ لپٹا ہوا تھا پھر اس نے کئی تہیں کھول کر اس میں سے ایک سونے کی انگوٹھی نکالی تھی۔
’’جب سے یہ میرے پاس ہے تب سے ہی اس کے پاس یہ انگوٹھی دیکھ رہا ہوں۔‘‘منیر حسین نے کہا۔
’’شاید اس سے اس کی کوئی یاد وابستہ ہے جو لوگ اسے میرے پاس چھوڑ گئے تھے ان کا کہنا تھاکہ گرفتاری کے وقت یہ اس کی جیب سے ملی تھی۔‘‘ منیر حسین نے بتایا اور بہرام نے اس کے ہاتھ سے انگوٹھی لے کر دیکھی۔
’’اوہ…وہی وہی ہے…اس کی شادی پر میں نے ہی یہ انگوٹھی بنوا کر اسے دی تھی تہمینہ کو منہ دکھائی میں دینے کے لیے۔‘‘بہرام نے انگوٹھی کو پہچانتے ہوئے کہا۔
’’وقت اور حالات نے اس کی صحت اور حلیہ اتنا بگاڑ دیا ہے کہ ہم پہچان نہیں پا رہے تھے اور شاید یہ بھی اپنی یاد داشت کھو بیٹھا ہے لیکن یہ انگوٹھی…یہ تو وہی ہے۔‘‘بہرام نے تصدیق کی۔
تمیز الدین ان باتوں سے بے خبر حیرت سے سفینہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’نہیں…نہیں وہ تم نہیں ہوسکتیں…تم تو بہت کم عمر ہو۔ تم بہت خوبصورت ہو۔ یہ وہ ہاتھ نہیں ہیں جنہیں میں جانتا ہوں۔‘‘ تمیز الدین نے سفینہ کے ہاتھوں کو چھوتے ہوئے کہا ۔سفینہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اگر وہی اس کا باپ ہے تو سفینہ کے لیے کتنا اجنبی ہے اس کا چہرہ اس کے ہاتھ اس کی آواز سب کچھ سفینہ کے لیے اجنبی ہے۔ شاید اس لیے کہ جب اس سے جدا ہوئی تو بہت چھوٹی تھی اور اس نے سینٹرل جیل میں اٹھارہ سال گزارے ہیں ان کے درمیان دوری تھی جس سے یہ نا آشنائی پیدا ہوئی۔
’’تمہارا کیا نام ہے؟‘‘تمیز الدین نے محبت سے پوچھا اور سفینہ بنچ سے ہٹ کر اس کے سامنے زمین پر دوزانو بیٹھ گئی۔
’’نام میں پھر بتائوں گی اور یہ بھی کہ میری ماں کون تھی…میرا باپ کون تھا… اور ان کی دکھ بھری کہانی مجھے کتنے عرصے تک پتہ نہیں چلی… یہ باتیں اس وقت میں نہیں کرسکتی۔ یہاں نہیں کرسکتی۔ یہ سب تو میں آپ کو بعد میں بتائوں گی۔ اس وقت تو میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ ایک بیٹی کی حیثیت سے مجھے قبول کریں۔ مجھے دعا دیں مجھے پیار کریں۔ ‘‘سفینہ بول رہی تھی اس نے اپنا سر تمیز الدین کی گود میں رکھ دیا تھا۔
’’اگر آپ میری آواز سن رہے ہیں…حالانکہ مجھے شک ہے کہ ایسا نہیں ہے لیکن میں دعا کرتی ہوں کہ آپ سن بھی رہے ہوں اور سمجھ بھی رہے ہوں۔ اگر آپ میری آواز سن رہے ہیں اور اس میں کسی ایسی آواز کی جھلک ہے ہے جس نے کافی عرصہ پہلے آپ کے کانوں میں رس گھولا ہے۔ تو اسے یاد کرکے رولیں۔ اگر آپ نے کسی کے سیاہ بالوں کو چھوا ہے جیسے آج میرے سیاہ بال چھوئے تو انہیں یاد کرکے رولیں۔جب آپ آزاد تھے اور جوان تھے ان دنوں کو یاد کرکے رولیں۔ اگر آپ کو وہ گھر یاد ہے جہاں آپ نے محبت بھرے دن گزارے اور اب میں آپ کو وہاں لے کر جائوں گی اور آپ کو آپ کا مقام دلوائوں گی تو اس گھر کو یاد کرکے ایک بار رولیں۔‘‘سفینہ آہستہ آہستہ کہہ رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے تمیز الدین کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں اسے دیکھ رہا تھا لیکن اسے ہٹانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
’’میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کا دکھ ختم ہوگا اور میں آپ کو لینے آئی ہوں اور آپ کو اس تکلیف سے نکالوں گی اور ہم اپنے گھرجائیں گے جہاں آرام و سکون کی زندگی گزاریں گے۔ آپ رولیں۔آپ کا دل ہلکا ہوجائے گا۔‘‘سفینہ نے کہا۔
بہرام اور منیر پر بھی رقت طاری ہوگئی تھی۔ بہرام نے آگے بڑھ کر سفینہ کو اٹھایا تھا جس کے ساتھ ہی تمیز الدین بھی بنچ سے اتر کر نیچے فرش پر بیٹھ گیاتھا۔
’’اسے مزید پریشان مت کرو۔‘‘بہرام نے سرگوشی کی۔
’’آپ جلد از جلد انہیں کراچی لے جانے کے انتظامات کریں۔‘‘سفینہ نے بہرام سے کہا۔
’’کیا یہ ابھی جانے کی پوزیشن میں ہے؟‘‘منیر حسین نے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے کہ یہاں رہنے سے ان کا یہاں سے چلاجانا ہی بہتر ہے۔‘‘بہرام نے جواب دیا۔
’’شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ کیا میں کچھ انتظامات کروں؟‘‘ منیر حسین نے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے یہ کام میں خود ہی کروں گا۔ بینک نے یہ ذمہ داری مجھے دی ہے۔‘‘بہرام نے جواب دیا۔
’’ٹھیک ہے تو تم انتظامات کرلو۔ پھر انہیں لے جانا۔‘‘منیر حسین نے کہا۔
’’نہیں انہیں میں ابھی اپنے ساتھ ہوٹل لے جائوں گا۔ رات ہم وہیں رہیں گے اور صبح یہاں سے روانہ ہوجائیں گے کراچی کے لیے۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔جیسے تمہاری مرضی تمہیں ان کا یہ سامان ساتھ لے جانا پڑے گا۔‘‘منیر حسین نے جوتے بنانے کا سامان اسے دکھاتے ہوئے کہا۔
’’اس کی اب ضرورت نہیں ہے۔‘‘بہرام نے کہا۔
’’اس کی بہت ضرورت ہے…اس کا احساس تمہیں بعد میں ہوگا۔ جیل میں قید کے دوران اٹھارہ سال تک انہوں نے یہی کام کیا ہے۔ یہ اس کے عادی ہیں اگر یہ کام نہ کریں تو ان پر دورے پڑنے لگتے ہیں اور انہیں سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے ہوسکتا ہے اپنی مختصر سی ملاقات میں تم نے ابھی اس بات کو کسی حد تک محسوس بھی کیا ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے!آپ یہ سامان بھی پیک کروادیں۔ ہم یہ بھی لے جائیں گے۔‘‘سفینہ نے کہا۔پھر ان لوگوں نے سہارا دے کر تمیز الدین کو کھڑا کیا تھا۔
کوئی انسانی طاقت تمیز الدین کے دماغ کی کیفیت کا اس وقت اندازہ نہیں کرسکتی تھی۔ اس کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھ کرکوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھاکہ کیا وہ جانتا ہے کہ اب اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ کیا وہ سمجھ گیا ہے کہ اس کے بارے میں وہ لوگ کیا باتیں کررہے ہیں۔ کیا وہ جان گیا ہے کہ وہ آزاد ہورہا ہے۔ یہ وہ معاملات تھے جن کے جوابات کسی کے پاس نہیں تھے۔ انہوں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت کنفیوز تھا اور بہت دیر میں جواب دے رہا تھا۔ پھر بھی انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں دیر نہیںکرنا چاہئے وہ بار بار اپنے سر کو اپنے ہاتھوں میں لے کر جھنجوڑ رہا تھا اور منیر حسین نے بتایا کہ پہلے اس نے کبھی ایسا نہیں کیا لیکن وہ اپنی بیٹی سفینہ کی آواز سن کر مسکرایا بھی تھا جیسے اسے کوئی خوشی مل رہی ہو اور اس کی آواز سن کر اس کی سمت مڑجاتا تھا۔
بہرام اور منیر حسین نے مل کر اس کے کپڑوں کے اوپر سے اسے اوور کوٹ پہنایا تھا تاکہ راستے کی سردی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ پھر سفینہ نے اسے کچھ کھانا کھلایا تھا۔ جو منیر حسین نے نیچے سے لاکردیا تھا۔ اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔ پھر وہ اسے لے کر کمرے سے نکل گئے تھے ۔ منیر حسین نے کمرے کا دروازہ لاک کردیا تھا اور لفٹ کی طرف بڑھ گئے تھے۔ لفٹ کے قریب آکر تمیز الدین چھت کی طرف دیکھنے لگا تھا۔
مظفر آباد سے واپس آنے کے بعد سفینہ کی ساری توجہ اپنے والد کی طرف تھی۔ اس نے ان کے لیے جو کمرہ منتخب کیا تھا ۔اس میں بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جو گھر کے پیچھے بنے وسیع و کشادہ لان میں کھلتی تھی۔ جہاں بڑے بڑے سر سبز درخت موجود تھے۔ جن پر پرندے چہچہاتے رہتے تھے۔کیاریوں میں موسم کے خوش رنگ پھولوں والے پودے موجود تھے۔ جنہیں کریم بابا بہت توجہ سے پانی دیتے اور ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
تمیز الدین کے لیے آرام دہ بیڈ کا انتخاب بھی سفینہ نے خود کیا تھا۔ ان کے کمرے میں کھڑکیوں اور دروازوں پر اس نے خوب صورت و خوش رنگ پردے ڈلوائے تھے۔ تاکہ جب انہیں کمرے میں روشنی کی ضرورت نہ ہو تو وہ کھڑکیاں دروازے بند کر کے ان پر پردے ڈال دے۔ اس نے اپنے والد کے ہر طرح کے آرام کا خیال رکھا تھا لیکن ایک چیز جو وہ تبدیل نہیں کرسکی تھی ۔ وہ تمیز الدین کا جوتے بنانے کا سامان تھا۔ جسے وہ کسی حالت میں بھی خود سے جدا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ تمیز الدین کی یادداشت واپس نہیں آئی تھی لیکن اس نے سفینہ کو بیٹی کے طور پر قبول کرلیا تھا اور وہ خود کو اس کی موجودگی میں محفوظ اور پرسکون سمجھتا تھا۔ سفینہ بھی اپنی تمام ذمہ داریوں سے زیادہ اپنے والد کے کاموں کو اہمیت دیتی تھی۔ جب وہ مظفر آباد گئی تھی تو اپنی ملازمت سے چھٹی لے کر گئی تھی اور وہاں سے واپس آئے اسے دو ہفتے ہوگئے تھے لیکن وہ ابھی تک اس انسٹیٹیوٹ نہیں گئی تھی۔ جہاں وہ مارشل آرٹ کی ٹریننگ دیتی تھی۔
سفینہ کا ہر وقت اپنے والد کا خیال رکھنا اس کے تایا حفیظ الدین کو بہت پسند آیا تھا۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ لاکھ سفینہ نے ہوش سنبھال کر اپنے ماں باپ کو نہیں دیکھا لیکن یہ خون کا رشتہ ہی ہے کہ اس کے دل میں اپنے باپ کے لیے اتنی محبت ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ انہیں توجہ دیتی ہے۔ اس وقت بھی وہ تمیز الدین کے کمرے میں سفینہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تمیز الدین سے سفینہ نے جوتے بنانے کا سامان لے کر بہت مشکل سے رکھا تھا ۔ تاکہ وہ کچھ بات حفیظ الدین سے بھی کرلیں لیکن تمیز الدین نے اب تک ان سے کوئی بات نہیں کی تھی وہ صرف اور صرف سفینہ سے بات کرتے تھے وہ بھی بہت مختصر ہوتی تھی۔
’’اور تیمی کیسے ہو؟‘‘ حفیظ الدین نے کہا وہ تمیز الدین کو بچپن ہی سے تیمی کہہ کر پکارتے تھے۔ تمیز الدین نے ان کے اس طرح پکارنے پر چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا لیکن ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
’’وہ کون سا خوش قسمت دن ہوگا سفینہ جب میرا بھائی مجھے پہچانے گا اور مجھ سے پھر اسی بے تکلفی سے بات کرے گا۔ جیسے پہلے کرتا تھا؟‘‘ حفیظ الدین نے اداسی سے کہا۔
’’وہ دن ضرورآئے گا انکل ۔ آپ پریشان نہ ہوں ۔ جب اﷲتعالی نے ہمیں ان سے ملوایا ہے تو وہ یہ ملاقات ادھوری نہیں رکھے گا۔ یہ سب کو پہچانیں گے…مجھے امید ہے…ڈاکٹر رضیہ بھی یہی کہہ رہی تھیں۔‘‘ سفینہ نے اپنے انکل کو سمجھاتے ہوئے کہا ۔
اس نے واپس آتے ہی ڈاکٹر رضیہ کو اپنے والد کے علاج کے لیے چنا تھا۔ کیونکہ وہ اس کی دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر نفسیات بھی تھیں۔ اس کا دور دور تک شہرہ تھا اور اس نے بہت سے مریضوں کو صحت مند کیا تھا۔ سفینہ کو اپنے والد کے چیک اپ کے لیے ایک گھنٹے کی مسافت طے کرکے اس کے پاس جانا پڑتا تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر رضیہ کا کلینک کراچی شہر کے بارونق علاقے طارق روڈ پر واقع تھا۔ جب کہ حفیظ الدین کا گھرکراچی سے باہر واقع تھا ۔ جسے تمیز الدین کے غائب ہوجانے کے بعد سے انہوں نے سفینہ پیلس کا نام دے دیا تھا۔ایسا انہوں نے اپنی بھتیجی کی محبت میں کیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ سفینہ کو کبھی بھی یہ احساس ہو کہ اس کے والدین نہیں ہیں تو اس کا کوئی گھر نہیں ہے۔ اس کی تائی مسز حفیظ الدین بھی اس فیصلے میں ان کے ساتھ تھیں۔ چونکہ حفیظ الدین کی کوئی اولاد نہیں تھی اس وجہ سے بھی وہ سفینہ کو بہت چاہتے تھے۔
’’تم بہت بہادر اور سمجھ دار ہو سفینہ…تم نے یہ بہت بڑا کام کیا ہے کہ اکیلے جا کر تمیز الدین کو لے آئی ہو۔ اگر تم مجھ سے پوچھ کر جاتی تو شاید میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دیتا یا پھر خود تمہارے ساتھ جاتا۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’کوئی بات نہیں انکل…میں ہوں ناں…میرے ہوتے ہوئے آپ کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟…دیکھیں میں اپنے ڈیڈی کو لے کر آگئی ہوں نا۔‘‘ سفینہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ اس وقت نور بی بی چائے کی ٹرے لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی ۔ ٹرے میں تمیز الدین کے لیے ناشتہ بھی رکھا تھا۔ اس نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی تھی۔ تمیز الدین بیڈ پر خاموش لیٹا چھت کو گھور رہا تھا۔ اس نے باتوں میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ نوری نے چائے کی کیتلی سے ایک کپ چائے انڈیل کر حفیظ الدین کی طرف بڑھا ئی تھی۔
’’لیں سر کار۔‘‘
’’ارے میں تو ناشتہ کر چکا ہوں۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا لیکن چائے پکڑلی تھی۔ دراصل چائے انہیں بہت پسند تھی اور یہ بات گھر کے تمام افراد اور ملازموں کو بھی پتہ تھی۔ چنانچہ جب بھی کسی کے لیے چائے بنائی جاتی تھی تو حفیظ الدین کے لیے اس میں ضرور حصہ رکھا جاتا تھا۔ نوری چائے دینے کے بعد کمرے سے چلی گئی تھی اور سفینہ اپنے ڈیڈی کے قریب بستر پر آبیٹھی تھی۔ اس نے ناشتے کی ٹرے اپنے قریب رکھی تھی اور تمیز الدین کو ناشتہ کرانے کے لیے لقمہ بنانے لگی تھی ۔ وہ جب سے انہیں لائی تھی ۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ہی کھانا کھلارہی تھی اور تمیز الدین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔
’’سفینہ ! تم نے مجھے بتایا تھا کہ جب تم اور بہرام تمیز الدین کو لے کر واپس کراچی آرہے تھے تو منیر خان نے کوئی لفافہ دیا تھا ۔ جس میں کچھ ضروری کاغذات تھے ۔ جو تمیز الدین کے بارے میں تھے…ہمیں وہ دیکھنا چاہیے۔ شاید اس کی مدد سے کچھ پتہ چل سکے کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا رہا ؟ ‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’جی ! …جی ہاں…بہرام انکل کا فون آیا تھا ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ آج ڈیڈی کو دیکھنے آئیں گے… وہ کچھ مصروف تھے ۔ چنانچہ ابھی تک آنہیں سکے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ہاں ! تمیز الدین کے جانے کے بعد کچھ عرصے تک وہ یہاں آتا رہا تھا لیکن پھر تمہاری والدہ کے انتقال کے بعد تو اس نے بالکل ہی آنا چھوڑ دیا ۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’جی!‘‘ سفینہ نے کہا ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ حفیظ الدین کو اس بات کا انہیں کیا جواب دے۔ کچھ دیر تمیز الدین کے کمرے میں بیٹھنے کے بعد حفیظ الدین چلے گئے تھے اور سفینہ تمیز الدین کو ناشتے سے فارغ کروانے کے بعد انہیں لان میںلے گئی تھی۔ شروع کے دنوں میں یہاں آنے پر تمیز الدین مستقل اپنے کمرے میں بند رہتے تھے۔ انہیں روشنی بری لگتی تھی لیکن آہستہ آہستہ سفینہ نے انہیں لان میں لے جانا شروع کیا تھا اور اس نے محسوس کیا تھا کہ وہ لان میں جا کر خوش ہوتے تھے۔ زیادہ دیر نہیں بیٹھتے تھے۔ وہ لان میں گئی تو وہاں اس کی آنٹی پہلے سے موجود تھی۔
’’آؤ سفینہ! دیکھو یہ گلاب کتنے خوب صورت لگ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے لان میں کھلے سرخ گلاب کی طرف اشارہ کیا ۔ جن کی مہک سے فضا معطر ہورہی تھی۔
’’میں تو کافی دیر سے بیٹھی ہوں۔‘‘ انہوں نے پتھر کی بینچ پر سفینہ کے لیے جگہ بنائی لیکن سفینہ دوسری بینچ پر تمیز الدین کے ساتھ بیٹھ گئی تھی ۔ اس نے تمیز الدین کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اس کے بغیر نہیں بیٹھیں گے۔
’’آنٹی! آج شام بہرام انکل چائے پر آرہے ہیں تو چائے پر کچھ بنوالیں۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ہاں ہاں !ضرور… تم بتاؤ کیا بنواؤں؟‘‘ مسز حفیظ الدین نے پوچھا۔
’’جو آپ مناسب سمجھیں…مجھے تو کچھ ایسی خواہش نہیں ہے۔‘‘ سفینہ نے کہا ۔ پھر وہ کافی دیر تمیز الدین کے ساتھ لان میں بیٹھی رہی تھی اور اس کی آنٹی وہاں سے چلی گئی تھی۔
’’ڈیڈی !…آپ خوش ہیں؟‘‘ سفینہ نے تمیز الدین کے کاندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا…؟ تم نے کیا کہا؟‘‘ تمیز الدین نے اپنی عادت کے مطابق اس سے سوال دہرانے کے لیے کہا۔
’’میں نے پوچھا آپ خوش ہیں؟‘‘ سفینہ نے اپنی بات دہرائی۔
’’میں…خوش…ہوں۔‘‘ تمیز الدین نے رک رک کر کہا اور وہ مسکرادی ۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ اس کے والد نے اسے ذہنی طور پر اپنا دوست مان لیا تھا لیکن وہ اسے بیٹی کے طور پر نہ پہچان سکے تھے لیکن اسے امید تھی کہ ایک نہ ایک دن اس کی محنت رنگ لائے گی اور اﷲ تعالی اپنا کرم کرے گا۔
شام چار بجے کے قریب بہرام لاری ایک ہاتھ میں بریف کیس پکڑے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔ جہاں سفینہ پہلے سے موجود تھی اور ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ اس نے دوپہر کا کھانا تمیز الدین کے ساتھ کھالیا تھا اور وہ سورہے تھے۔ بہرام کو ڈرائنگ روم میں آتا دیکھ کر وہ کھڑی ہوگئی تھی۔
‘‘آئیے انکل! ‘‘ اس نے انہیں خوش آمدید کہا۔
’’کیسی ہو سفینہ!‘‘ بہرام لاری نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا اور صوفے کے سامنے پڑی سینٹر ٹیبل پر بریف کیس رکھ دیا۔
’’میں ٹھیک ہوں…آپ تو ہمیں چھوڑ کر گئے تو اتنے دن آئے ہی نہیں۔‘‘ سفینہ نے پیار سے شکوہ کیا۔
’’ ہاں ! دراصل میں خاصا مصروف ہوگیا تھا۔‘‘ کل تمہارا فون آیا تھا تو میں آیا ہوں اور وہ لفافہ بھی لے آیا ہوں جو منیر خان نے مجھے دیا تھا۔‘‘
’’اس میں کیا ہے؟‘‘ سفینہ نے پوچھا۔
’’ اس میں جو کاغذات ہیں ان سے پتہ چلا ہے کہ اٹھارہ سال تک ان کے ساتھ کیا ہوا… تم اپنے انکل کو بلاؤ… تاکہ ان کے سامنے ہی بات ہوجائے۔‘‘ بہرام نے کہا تو سفینہ اٹھی۔
’’ٹھیک ہے…میں بلواتی ہوں۔‘‘ سفینہ ڈرائنگ روم کے دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ پھر باہر موجود نور بی بی کو اس نے انکل اور آنٹی کو بہرام کے آنے کی اطلاع دینے بھیج دیا تھا۔
’’اب تمیز الدین کی حالت کیسی ہے؟‘‘ بہرام نے اس سے پوچھا وہ واپس آکر پھر صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
’’ کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی ہے…بس شروع میں ان پر جو دورے پڑرہے تھے اور وہ بہت گھبرائے بھی تھے اس میںکچھ کمی آئی ہے لیکن مجھے اپنے پاس سے ہٹنے نہیں دیتے۔ جب تک میرا ساتھ رہتا ہے پرسکون رہتے ہیں۔ میں اپنے انسٹیٹیوٹ بھی نہیں جارہی ہوں۔ میں نے وہاں کے منتظم کو فون کرکے اپنی مصروفیت بتادی ہے۔ مارشل آرٹ کی جو کلاس میں وہاں دیتی تھی وہ آج کل عرفان صاحب خود ہی دے رہے ہیں۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ تمہارے ذہن میں مارشل آرٹ سیکھنے اور سکھانے کا خیال کیسے آیا؟‘‘ بہرام نے پوچھا۔
’’بس انکل ! ایک تو میں روایتی لڑکیوں کی طرح بے بسی کی تصویر بن کر بیٹھنا نہیں چاہتی تھی۔ دوسرے مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ میں اپنی حفاظت خود کرسکوں ۔ کسی کی مجبور نہ رہوں۔‘‘
’’یہ تو اچھی بات ہے۔‘‘ بہرام نے کہا۔ اس لمحے حفیظ الدین اپنی بیوی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے ۔ اس وقت انہوں نے سرمئی رنگ کا کوٹ پتلون پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ان کی مخصوص چھڑی تھی اور وہ بہت پروقار نظر آرہے تھے۔
’’بھئی جمیلہ! چائے یہیں منگوالو۔‘‘ انہوں نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا۔
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’اور بہرام ! تم تو عید کا چاند ہوگئے ہو! کتنے عرصے بعد آئے ہو وہ بھی بلوانے پر۔‘‘ حفیظ الدین نے شکوہ کیا۔
’’بس بھائی صاحب کچھ مصروفیت ہوگئی تھی۔‘‘ بہرام نے کہا ۔ وہ ہمیشہ سے حفیظ الدین کو بھائی صاحب ہی کہتا تھا۔ تمیز الدین کے حوالے سے ۔ کیونکہ تمیز الدین بھی یہی کہتا تھا اور وہ تمیز الدین کا دوست تھا۔ چنانچہ وہ بھی بھائی صاحب ہی کہنے لگا تھا۔
’’ہاں ! تو ان کاغذات میں کیا ہے؟‘‘ حفیظ الدین نے پوچھا۔
’’آپ دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے۔‘‘ بہرام نے بریف کیس سے سفید رنگ کا وہ لفافہ نکالتے ہوئے کہا جو منیر خان نے اسے دیا تھا۔ پھر اس لفافے میں سے کاغذات نکال کر حفیظ الدین کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے۔
’’ ان میں لکھا ہے کہ اب سے اٹھارہ سال پہلے 1998ء میں جموں کشمیر میں سری نگر کے شہر میں تھے۔ جہاں عوام کا کوئی جلوس گزر رہا تھا اور اس میں ہنگامہ ہوگیا تھا۔ پھر فائرنگ ہوئی ۔آنسوگیس کے شیل بھی پھینکے گئے یہ بھی اسی ہنگامہ میں شریک تھے۔ عوام کی طرف سے بھی فائرنگ ہوئی ۔ جس میں ایک انڈین سپاہی ہلاک ہوا اور اس کے قتل کے سلسلے میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا اور کاروائی کے بعد انہیں عمر قید سنادی گئی تھی ۔ جو پوری ہونے کے بعد انہیں رہا کیا گیا اور ان کاغذات کی روشنی میں انہیں رابطے کا جو قریب ترین ذریعہ ملا وہ منیر خان تھا۔ جس کے حوالے تمیز الدین کوکردیا گیا۔‘‘ بہرام لاری بول رہا تھا اور کمرے میں موجود ہر شخص خاموشی سے سن رہا تھا۔
’’تو گویا میرے والد کو ناکردہ گناہ کی سزا دی گئی۔‘‘ سفینہ نے افسوس سے کہا۔
’’میں اس بات کو مان ہی نہیں سکتا کہ تمیز الدین نے کسی انڈین سپاہی کو قتل کیا ہوگا۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’ان کاغذات میں یہ بھی لکھا ہے کہ جائے واردات سے ایک پستول بھی ملا تھا۔ جس پر تمیز الدین کی انگلیوں کے نشانات تھے اور یہی وجہ ثبوت تھا۔ جس کی بنیاد پر تمیز الدین کو اٹھارہ سال قید تنہائی میں رکھا گیا۔‘‘ بہرام لاری نے کہا۔
’’یہ تو ظلم کی انتہا ہے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ہاں ! اگر ایسا تھا بھی تو انہیں پاکستان کی حکومت کو بھی اعتماد میں لے کر کاروائی کرنا چاہیے تھی۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’لیکن اس طرح تو انہیں اپنا جھوٹ ثابت کرنا پڑتا اور پاکستانیوں سے ان کی نفرت تو ڈھکی چھپی نہیں ہے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’اب جو ہمارا اتنا بڑا نقصان ہوا اس کا کیا ہوگا؟اس کی بیوی صدمے سے مرگئی۔ اس کی بیٹی بے آسرا ہوگئی… ہم سب اتنے عرصے اس سے دور رہے اور خود وہ؟ اس کی حالت دیکھی ہے…؟ وہ زندہ درگور ہوگیا ہے…اس کا قصور کیا تھا؟‘‘حفیظ الدین نے غصے سے کہا۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں لیکن اب کیا ہوسکتا ہے…؟‘‘
’’ یہ کاغذات مکمل نہیں ہیں۔ تمیز الدین اپنی یادداشت کھو چکا ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر ہی اتنا سمجھا جاسکتا ہے کہ جیل میں اسے تنگ و تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہوگا اور مشقت کروانے کے لیے اسے جوتے بنانے کے لیے دیئے ہوں گے۔ یہ کام وہ اٹھارہ سال تک کرتا رہا ۔ یہاں تک کہ بس وہی کام اس کی زندگی کا مقصد بن گیا ۔ وہ اس کام سے اس کے سامان سے جدا ہونا نہیں چاہتا۔ اس کام کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے اور کسی کو نہیں پہچانتا۔ پتہ نہیں اسے کس قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے؟‘‘ بہرام لاری نے کہا۔
’’کچھ بھی سہی…تم یہ کاغذات مجھے دے دو… میں دیکھ لوں گا کہ اس معاملے میں میںکیا کرسکتا ہوں۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا اور بہرام نے وہ کاغذات لفافے میں رکھ کر حفیظ الدین کے حوالے کردیئے ۔
پھر کچھ دیر بعد انہوں نے چائے پی تھی۔ جس کے ساتھ سفینہ کی آنٹی نے سموسے بنوائے تھے۔ کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد بہرام رخصت ہوگیا تھا اور سفینہ اپنے والد کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
’’نور بی بی! ڈیڈی کی چائے ان کے کمرے میں پہنچادو۔ میں وہیں جارہی ہوں۔‘‘سفینہ نے نور بی بی سے کہا تھا اور آگے بڑھ گئی تھی۔
اس رات سفینہ جب سونے کے لیے لیٹی تو وہ اپنے ڈیڈی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اپنے ڈیڈی کو ان کی نارمل لائف کی طرف لانا اب اس کی ذمہ داری تھی لیکن ان میں بہت کم تبدیلی آرہی تھی۔ خاص طور سے انہیں ان کے جوتے بنانے کے سامان اور تنہائی سے دور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر کوئی ذرا بھی ان چیزوں کے بارے میں کوئی بات کرتا تو وہ جذباتی ہوجاتے تھے۔ ان کا ذہن کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے خاصی حد تک محروم ہوچکا تھا۔سفینہ نے انہیں ایکسرسائز کے طور پر اور ان کے خول سے نکالنے کے لیے انہیں صبح صبح لان میں چہل قدمی کے لیے لے جانا شروع کردیا تھا۔پہلے تو وہ اس تبدیلی کے لیے بالکل تیار نہیں تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ اس کے عادی ہوتے چلے گئے تھے اور اب تو انہیں انتظار رہتا کہ سفینہ آئے گی تو وہ اس کے ساتھ لان میں ٹہلنے جائے گی۔
وہ کافی دیر تک یہی کچھ سوچتی رہی اور پھر اسے نیند آگئی تھی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی آنکھیں کسی آہٹ سے کھلی تھیں اور وہ اپنے بیڈ پر ہی اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ پھر وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ جو آہٹ اس نے سنی وہ شاید کوئی واہمہ ہو گا کہ اچانک وہی آواز دوبارہ اس کے کانوں سے ٹکرائی اور وہ چیتے جیسی پھرتی سے بیڈ سے نیچے آئی اور دبے پاؤں اپنے کمرے کی کھڑکی پر پڑے پردے کی اوٹ سے باہر جھانکا تھا لیکن وہاں اسے کچھ نظر نہیں آیا تھا۔ باہر چاند کی چاندنی میں ہر شے صاف نظر آرہی تھی ۔ گھنے گھنے تناور درخت سر اٹھائے کھڑے تھے۔
لان کی کیاریوں میں پودوں کی قطاریں سایوں میں ایک انسانی ہیولا حرکت کررہا ہے۔ اس نے غور سے دیکھا کوئی آہستہ آہستہ اس کے ڈیڈی کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا۔ اتنی دور سے دیکھنے پر یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ اسے نظر آنے والا سایہ کوئی مرد تھا یا عورت ۔ وہ خاموشی سے پیچھے ہٹی تھی۔ پھر اس نے دراز میں رکھا ہوا اپنا پستول نکالا تھا اور دبے قدموں اپنے کمرے سے باہر آگئی تھی۔
پھر اس نے بجلی کی سی سرعت سے اپنے کمرے سے لان تک کا فاصلہ طے کیا تھا اور خود کو پوشیدہ رکھتے ہوئے اس سمت بڑھی تھی جہاں چند لمحے پہلے اس نے کوئی سایہ دیکھا تھا۔ دو چار قدم آگے بڑھنے کے بعد وہ سایہ پھر دکھائی دیا تھا۔ اب وہ اس کے ڈیڈی کے کمرے کی کھڑکی تک پہنچ چکا تھا۔ سفینہ نے اپنی جگہ سے سیدھے اس سایہ پر چھلانگ لگائی تھی اور اسے دبوچ لیا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا اور زمین پر گر گیا تھا ۔ اس نے چہرے پربھی سیاہ نقاب پہنا ہوا تھا۔ سفینہ کو یاد تھا کہ جب اس نے اس سایہ پر چھلانگ لگائی تھی تو اس کا پستول اس کے ہاتھ میں ہی تھا لیکن شاید چھلانگ لگانے اور اسے دبوچنے کے دوران وہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ سایہ اس کے ہاتھوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سفینہ نے اندازہ لگایا کہ وہ طاقت میں اس سے زیادہ تھا وہ اسے دبوچے سیدھی کھڑی ہونے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ اس کے ہاتھ سے نکل کر باہر گیٹ کی طرف بھاگا ۔ اس عرصے میں ان کی آوازوں سے گھر کے افراد جاگ گئے تھے اور آہستہ آہستہ سفینہ پیلس کے کمروں کی روشنیاں آن ہونے لگی تھیں۔ سفینہ بھی سایہ کے پیچھے دوڑی تھی۔ وہ حیران تھی کے کون ہوسکتا ہے۔ اسے کسی پر شبہ بھی نہیں تھا اور یہ اس کی زندگی میں ہونے والا پہلا واقعہ تھا کہ کوئی یوں ان کے گھر میں گھس آیا تھا اور خاص طور سے اس کے ڈیڈی کے کمرے کی کھڑکی کی طرف ہی بڑھ رہا تھا۔
گیٹ سے نکلنے کے بعد وہ سیاہ کپڑوں میں ملبوس ہیولا تیزی سے دائیں جانب بھاگتا جارہا تھا۔ سفینہ نے بھی اس کا تعاقب شروع کردیا تھا لیکن گلی سے نکلنے کے بعد وہ اچانک غائب ہوگیا تھا۔ پھر سفینہ نے اسے کافی دیر تلاش کیا لیکن دوسرے مکانوں کے دروازے لاک تھے روشنیاں بند تھیں اور یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہاں کوئی ذی روح ہے ۔ وہ حیران تھی کہ اس سائے کو زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھاگیا تھا۔ آخر مایوس ہو کر وہ واپس آگئی تھی۔ گھر کے افراد لان سے نکل آئے تھے۔
’’سفینہ ! خیر تو ہے؟ کون تھا؟…تم کس کے پیچھے گئی تھیں؟‘‘ اس کے انکل نے اس سے پوچھا لیکن وہ انہیں جواب دینے کے بجائے اپنے ڈیڈی کے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔ گھر کے دوسرے افراد بھی اس کے پیچھے پیچھے گھر میں آگئے تھے‘ نور بی بی نے مین گیٹ بند کردیا تھا۔ جب وہ تمیز الدین کے کمرے میں گئی تو وہ پرسکون انداز میں اپنے بیڈ پر سورہے تھے۔ اس نے ان کے کمرے کی کھڑکیاں چیک کیں وہ سب اندر کی سمت سے مضبوطی سے بند تھیں۔ پھر وہ کمرے سے باہر آگئی تھی۔
’’کیا ہوا سفینہ بیٹا…تم اتنی پریشان کیوں ہو؟‘‘ ہم نے بھی کچھ آوازیں سنی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی دولوگ آپس میں گتھم گتھا ہوں۔‘‘ سفینہ کی آنٹی نے اس سے کہا۔
’’جی !آپ نے صحیح سنا! میں سورہی تھی کہ کوئی آہٹ سنائی دی ۔ جس سے میری آنکھ کھل گئی۔‘‘ سفینہ نے بتایا۔
’’اچھا یہاں باتیں مت کرو…چلو تمہارے کمرے میں چلتے ہیں یا ڈرائنگ روم میں…یہاں تیمی جاگ جائے گا۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’جمیلہ! ‘‘ وہ پھر اپنی بیوی کی طرف مڑے ۔
’’تم ایسا کرو کہ چائے بنوالو اور ڈرائنگ روم میں لگوادینا…آؤ سفینہ چلو ڈرائنگ روم میں چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے جمیلہ سے بات مکمل کرکے سفینہ سے کہا پھر وہ اسے لے کر ڈرائنگ روم میں چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے جمیلہ سے بات مکمل کرکے سفینہ سے کہا پھر وہ اسے لے کر ڈرائنگ روم میں جابیٹھی تھے۔
’’کریم بابا کہاں ہے؟ وہ نظر نہیں آیا؟ سب کی آنکھ کھل گئی ۔ اسے کچھ پتہ نہیں چلا۔‘‘ حفیظ الدین نے کسی قدر ناراضگی سے کہا۔
’’یہ سب کچھ اتنا اچانک اور تیزی سے ہوا کہ شاید انہیں خبر نہ ہوئی ہو۔ پھر ان کا کمرہ بھی لان کے آخری سرے پر ہے اور وہ سورہے ہوں گے۔‘‘ سفینہ نے کہا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس بڑھاپے میں کریم بابا اس کے انکل کے عتاب کا شکار ہوں وہ ان کے غصے سے اچھی طرح واقف تھی۔
’’اچھا تم بتاؤ کیا ہوا تھا؟ ‘‘ انہوں نے پھر پوچھا۔
’’ میری آنکھ لگے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ایک آہٹ سے میری آنکھ کھل گئی ۔ آواز مجھے اپنے کمرے کی کھڑکی کے باہر لان کی سمت سے آئی تھی۔ کچھ دیر میں اندازہ کرتی رہی کہ کہیں یہ میرا وہم تو نہیں تھا لیکن پھر جب وہ آہٹ مجھے دوبارہ سنائی دی تو مجھے یقین آگیا اور میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ پہلے تو مجھے کچھ نظر نہیں آیا لیکن پھر چاندنی میں مجھے درختوں کے نیچے ایک سیاہ ہیولا نظر آیا جو چپکے چپکے ڈیڈی کے کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں نے تیزی سے اپنی پستول نکالی اور اس کے پیچھے لان میں پہنچ گئی۔ پھر میں نے اسے دبوچ لیا تھا اور وہ جو کوئی بھی تھا تھانیچے گر گیا تھا اور میری گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہاتھا۔ اس جدوجہد کی وجہ سے میرے ہاتھ سے پستول چھوٹ کر کہیں کیاریوں میں گرگیا۔ جب میں اسے پکڑ کر کھڑا کر رہی تھی تو وہ میری گرفت سے نکل کر باہر کی طرف بھاگا گیٹ کھلا ہوا تھا نکل کر سیدھے ہاتھ پرمڑا اور دوڑتا چلا گیا۔میں اس کے پیچھے ہی دوڑ رہی تھی وہ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر تھا لیکن گلی کا کونا مڑنے کے بعد وہ اچانک غائب ہوگیا ۔ میں نے بہت تلاش کیا لیکن دور دور تک اس کا کوئی پتہ نہیںتھا۔ ‘‘ سفینہ نے تفصیل سے بتایا۔ اس عرصے میں جمیلہ بھی نور بی بی کے ساتھ چائے لے کر کمرے میں آگئی تھی۔
’’اور تم اکیلی ہی اس کے پیچھے بھاگ پڑیں؟ اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو؟‘‘ اس کی آنٹی جمیلہ نے فکر مندی سے کہا۔
’’تم کم از کم مجھے ہی اٹھا لیتیں!‘‘ اس کے انکل نے کہا۔
’’ ان سب کا وقت نہیں تھا…اگر میں آپ لوگوں کو خبردار کرنے میں وقت لگاتی تو وہ بھاگ جاتا یا اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا۔‘‘ سفینہ نے کہا اور پھر چونک کر حفیظ الدین کو دیکھنے لگی۔
’’اپنے مقصد میں؟‘‘ اس نے اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ حیرت سے دہرائے۔ اس کا کیا مقصد ہوسکتا ہے…؟ انکل…ڈیڈی کو یہاں آئے ہوئے ابھی اتنا عرصہ بھی نہیں ہوا اور ان کی موجودگی کا علم زیادہ لوگوں کو ہے بھی نہیں پھر بھلا…ان کا دشمن کون ہوسکتا ہے… وہ جو کوئی بھی تھا وہ ڈیڈی کے کمرے کی کھڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کھڑکیاں بند تھیں اور میں نے رات کو خود بند کی تھیں۔ ‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’یہ تو میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تیمی سے کسی کی کیا دشمنی ہوسکتی ہے؟‘‘ حفیظ الدین نے حیرت سے کہا۔
’’جو کچھ بھی ہو…ہمیں اس معاملے کی اطلاع پولیس کو دینی چاہیے…اگر آنے والے کا کوئی مقصد ہے اور وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا ہے تو وہ دوبارہ آئے گا اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ہوں ! تم ٹھیک کہتی ہو۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’اگر وہ میری گرفت سے نہیںنکلتا تو میں اس کا نقاب چہرے سے اتار لیتی ۔ پتہ چل جاتا کہ کوئی ہے؟ ‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’اچھا! اس نے چہرے پر نقاب بھی پہنا ہوا تھا؟‘‘ جمیلہ آنٹی نے کہا۔
’’ہاں! اس نے بالکل سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور چہرے پر بھی سیاہ نقاب تھا۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’کوئی بھی تیمی کے سامنے اس واقعے کا ذکر مت کرنا۔‘‘ حفیظ الدین نے تنبیہی انداز میں کہا۔
’’ہاں ! میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘ سفینہ نے اس کی تائید کی۔
’’اور سفینہ تم بھی احتیاط کیا کرو…یوں اچانک تمہارا اکیلے نکل جانا مناسب نہیں تھا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس کے ساتھ اور بھی لوگ ہوتے تو تم ان کا اکیلے کیسے مقابلہ کرتیں؟‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’انکل میں مارشل آرٹ کی ماہر ہوں اور اپنے انسٹی ٹیوٹ میں اپنے شاگردوں کو بھی سکھاتی ہوں کہ دشمن کا مقابلہ کیسے کیا جاتا ہے دو چار لوگوں سے نمٹنا تو میرے لیے کوئی خاص بات نہیں آپ اطمینان رکھیں۔‘‘ سفینہ نے ہنستے ہوئے کہا تو حفیظ الدین مسکرانے لگے۔
’’میری محنت تم پر ضائع نہیں ہوئی سفینہ اس کی مجھے خوشی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’مجھے فخر ہے کہ میں آپ کی امیدوں پر پوری اتری ہوں۔‘‘ سفینہ نے بھی اسی انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔
’’چلو اب کچھ آرام کرلو ۔ رات تو تقریباً بیت ہی گئی ہے۔‘‘ حفیظ الدین نے اٹھتے ہوئے کہا۔ پھر سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے تھے۔
اگلے روز حفیظ الدین نے سفینہ سے مشورہ کے بعد گھر کے لیے سیکیورٹی گارڈ کا بندوبست کرلیا ۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے طور پر بہرام لاری سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی بہتر سیکیورٹی کمپنی سے کوئی اچھا گارڈ ہائر کروادیں او ر اسی شام بہرام لاری ایک مشہور کمپنی کے بہترین گارڈ کو لے کر ان کے گھر پہنچ گئے تھے۔ حفیظ الدین اپنے کمرے میں ہی تھے جب انہیں بہرام لاری کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ سفینہ کو ڈرائنگ روم میں بلوا کر خود بھی وہاں پہنچ گئے۔
’’ہاں بہرام کیسے ہو؟‘‘ انہوں نے بہرام لاری کے سلام کا جواب دینے کے بعد صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’میں سیکورٹی گارڈ کو لے آیا ہوں۔ آپ بھی اس سے مل لیں۔‘‘ بہرام نے کہا ۔
’’بس ٹھیک ہے تم نے اپنی تسلی کرلی ہے؟‘‘ حفیظ الدین نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا۔
’’میں نے تو تسلی کرلی ہے لیکن آپ کا مطمئن ہونا بھی تو ضروری ہے۔‘‘ بہرام لاری نے کہا۔
’’وہ کہاں ہے؟‘‘
’’باہر لان میں بیٹھا ہے۔ آئیں اس سے مل لیں پھر آپ سے کچھ اور بھی ضروری باتیں کرنا ہیں۔‘‘ بہرام لاری نے کہا تو وہ اٹھ کر اس کے ساتھ گھر کے باہر بنے لان میں چلے گئے۔
کچھ دیر بعد سفینہ بھی آگئی تھی اور سیکورٹی گارڈ سے مل کر اپنی تسلی کرلینے کے بعد حفیظ الدین بھی بہرام کے ساتھ وہاں پہنچ گئے تھے۔
’’گارڈ تو ٹھیک ہے۔ میں اس سے مطمئن ہوں۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا ۔ پھر سفینہ کی طرف مڑے تھے۔
’’سفینہ ! میں تو گارڈ سے مل لیا ہوں۔ تم بھی مل کر اپنی تسلی کرلینا میں نے تمہیں بتایا تھا کہ بہرام سے میں نے گارڈ کا انتظام کرنے کے لیے کہا ہے تو یہ اسے لے کرآئے ہیں۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’جی ٹھیک ہے۔’’ سفینہ نی مختصر سا جواب دیا تھا۔
’’اچھا اور تم کیا کہہ رہے تھے بہرام؟‘‘ حفیظ الدین نے پوچھا۔ اسی لمحے نور بی بی کمرے میں چائے کی ٹرے لے کر آگئی تھی۔
’’سرکار! یہ جمیلہ بیگم نے بھجوائی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے یہاں میز پر رکھ دو۔‘‘ سفینہ نے کہا اور وہ میز پر چائے رکھ کر چلی گئی تھی۔
’’میں کہہ رہا تھا کہ کل میرے پاس کورٹ سے ایک لیٹر آیا ہے۔ انہوں نے مجھے‘ تمیز الدین اور سفینہ کو کورٹ پہنچنے کے لیے کہا ہے۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’کیوں بھئی خیریت؟ بھلا ہم کس سلسلے میں کورٹ کو مطلوب ہیں؟‘‘ حفیظ الدین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
’’دراصل جب ہم تمیز الدین کو کشمیر سے کراچی لارہے تھے تو سفینہ نے اپنی کار ہوٹل کے گیراج میں بند کروادی تھی جو بعد میں منگوالی لیکن واپس ہم ٹرین سے آئے تھے اور واپسی کے اس سفر میںہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی تھی جو کشمیر ہی سے ہمارے ساتھ ٹرین میں بیٹھا تھا۔ دیکھنے میں تو وہ بہت معصوم اور اچھا شخص لگ رہا تھا۔ اس نے راستے میں ہماری بہت مدد بھی کی تھی لیکن یہاں اسے کسی جرم میںپکڑا گیا ہے اور اس نے بتایا کہ جب وہ کراچی آرہا تھا تو راستے میں ہم سے اس کی ملاقات ہوئی وہ ہم سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ کیسے کریکٹر کا مالک ہے۔ ہمیں صرف گواہی دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’لیکن ہمارا اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں تو پھر ہم کیوں جائیں؟‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’تمہیں تمیز الدین کی حالت کا اندازہ تو ہے ۔ وہ بھلا گواہی دینے کے قابل کہاں ہے۔‘‘
’’آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں ۔ پھر اب کیا کریں؟‘‘ بہرام پریشان ہو گیا۔
’’میں نے تو وعدہ کرلیا ہے کہ میں انہیں اور سفینہ کو لے آؤں گا۔میں آپ لوگوں کو اطلاع دینے کے لیے اپنے بینک کے چپراسی اخلاق احمد کو بھیجتا لیکن جب سیکیورٹی گارڈ والا کام آپ نے بتایا تو پھر میں نے سوچا کہ یہ اطلاع بھی میں خود ہی دے دوں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے! سفینہ نے کہا…‘‘ میں ویسے بھی تو ڈیڈی کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہوں چیک اپ کے لیے۔ انہیں کل بھی جانا ہے ہم واپسی میں سٹی کورٹ آجائیں گے۔ہمیں کس وقت پہنچنا ہوگا؟ سفینہ نے پوچھا۔
’’وہاں صبح نوبجے۔‘‘ بہرام نے بتایا۔
’’تو وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہم ڈاکٹر رضیہ سے ملنے چلے جائیں گے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’دیکھ لو سفینہ ! کیا تیمی دو دو جگہ جاسکے گا؟‘‘ حفیظ الدین نے پوچھا۔
’’ہاں میرا خیال ہے وہ جاسکتے ہیں۔ ان کی حالت کافی بہتر ہورہی ہے اورمیں چاہتی ہوں کہ کبھی کبھی انہیں پبلک گیدرنگ میںلے جاؤں۔ تاکہ وہ عام لوگوں سے ملنے کے بھی عادی ہوجائیں۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے جیسے مناسب سمجھو… تم اپنے ساتھ گارڈ کو بھی لے جانا۔‘‘ حفیظ الدین نے اپنے اطمینان کے لیے کہا۔
’’ٹھیک ہے!‘‘ سفینہ نے کہا پھر وہ بہرام کی طرف مڑی تھی۔
’’انکل ! وہ شخص…جو ہمیں ٹرین میں ملا تھا وہ آصف عرفان تھا نا؟ اس نے یہی نام بتایا تھا شاید؟‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے میںکل ڈیڈی کے ساتھ وہاں پہنچ جاؤں گی…آپ بھی وہیں ہونگے نا؟‘‘
’’ہاں میںاخلاق احمد کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔کسی کام کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ میں تمہیں وہی ملوں گا۔ ‘‘ بہرام نے جواب دیا۔ حفیظ الدین ان کی گفتگو سے مطمئن نظر آرہے تھے۔
رات کو سفینہ نے کل کی مصروفیت کے لیے اپنے ڈیڈی کا ذہن بنانے کی کوشش کی تھی اور انہیں رات کا کھانا کھلاتے ہوئے ان سے باتیں کرتی رہی تھی۔
’’ڈیڈی! کیا کل باہر گھومنے چلیں۔‘‘اس نے پوچھا تو تمیز الدین نے اثبات میں سر ہلادیا۔
سفینہ ڈاکٹر رضیہ سے بھی ملوانے کے لیے بھی انہیں اسی طرح تیار کرتی تھی لیکن وہ دل ہی دل میں ڈر رہی تھی کہ عدالت میں اچھی خاصی بھیڑ ہوگی وہاں پتہ نہیں اس کے ڈیڈی کا رویہ کیا رہتا ہے ۔ وہ گھبراتے ہیں یا پرسکون رہتے ہیں۔
دوسرے روز وہ تقریباً آٹھ بجے گھر سے نکلی تھی۔ اس نے سیکورٹی گارڈ نبیل کو بھی اپنے ساتھ گاڑی کی پچھلی نشست پر بٹھالیا تھا۔ کیونکہ وہ خود گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی اس کے ڈیڈی اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ ٹھیک نوبجے وہ لوگ کورٹ پہنچ گئے تھے۔ جہاں گیٹ پر ہی ان کی ملاقات بہرام لاری سے ہوگئی تھی۔ جو اپنے چپراسی اخلاق احمد کے ساتھ ان کے منتظر تھے۔
’’چلیں بس کارروائی شروع ہونے ہی والی ہے۔‘‘ بہرام لاری نے کہا اور انہیں لے کر کمرہ عدالت میں چلے گئے۔ جہاں پہلے سے اور لوگ بھی بیٹھے تھے اور کارروائی کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے۔ سفینہ بھی اپنے والد کے ساتھ دوسری لائن میں بیٹھ گئی۔ قریب ہی پچھلی نشستوں میں بہرام لاری ا ور اخلاق احمد کے ساتھ بیٹھا تھا۔
سفینہ نے اگلی نشستوں پر نظر ڈالی تو اسے پہلی لائن میں درمیانی ٹیبل پر آصف عرفان بیٹھا نظر آیا۔ اس کے سرخ و سفید چہرے پر وہی اعتماد موجود تھا جو اس نے ٹرین کے سفر کے دوران دیکھا تھا۔ اس کے سیاہ گھنگھریالے بال قرینے سے ترتیب دیئے گئے تھے اور اس کے ساتھ اس کا ادھیڑ عمر وکیل موجود تھا وہ آپس میں آہستہ آہستہ کچھ گفتگو کر رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں جج کمرے میں داخل ہوا تھا۔ سب اس کے احترام میں کھڑے ہوئے تھے۔ اس نے اپنی کرسی کے قریب آکر ایک طائرانہ نظر کمرہ عدالت میں موجود لوگوں پر ڈالی تھی اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی کا آغاز ہوگیا تھا۔
آصف عرفان پر لگائے جانے والے الزامات کی تفصیل کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی تھی اور شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ جس رات آصف عرفان ٹرین میں سفر کر رہا تھا اس رات اس ٹرین کو لوٹا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آصف عرفان جب جب بھی کشمیر سے کراچی آتے ہوئے ٹرین میں سفر کر رہا ہوتا تھا۔ ٹرین میں یا قریبی علاقوں میں کہیں کوئی ڈکیتی کی بڑی واردات ضرور ہوتی تھی اور ان تمام وارداتوں کا شک آصف عرفان پر ظاہر کیا جارہا تھا۔
جب آصف عرفان پر الزامات لگائے جاچکے اور سرکاری وکیل خاموش ہوگیا تو کمرہ عدالت میں مکھیوں کی سی بھنبھناہٹ کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ لوگ ایک دوسرے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے تھے۔ تب ہی جج نے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آصف عرفان کے وکیل کو صفائی کا موقع دیا گیا۔
’’میرا موکل کبھی بھی ایسے کاموں میںملوث نہیں رہا۔‘‘ آصف عرفان کے وکیل نے کہا۔
’’ اس کی گزر اوقات کیسے ہوتی ہے؟‘‘ سرکاری وکیل نے پوچھا۔
’’ اس کی اپنی دولت اور جائیداد ہے۔‘‘ جواب دیا گیا۔
’’ اس کی جائیداد ؟ مسٹر جہانگیر کیا آپ اس کی وضاحت کریں گے؟‘‘ سرکاری وکیل نے کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ جہانگیر نے پوچھا۔
’’یہی کہ اس کی جائیداد کہاں ہے؟‘‘ سرکاری وکیل نے پوچھا۔
’’اسے یہ صحیح طور پر یاد نہیں ہے کہ وہ جائیداد کہاں ہے۔ کسی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ جہانگیر عالم نے کہا۔
’’کیا یہ جائیداد اسے ورثے میں ملی ہے؟‘‘
’’ہاں ! یہ اسے ورثے میںملی ہے۔‘‘ جہانگیر عالم نے کہا۔
’’کس سے ؟والد سے؟‘‘ پھر پوچھا گیا۔
’’نہیں ! ایک دور کے رشتے دار سے۔‘‘ جہانگیر عالم نے جواب دیا۔
’’کیا آصف کو کبھی جیل ہوئی ہے؟‘‘
’’نہیں …ہر گز نہیں۔‘‘ جہانگیر عالم نے کہا۔
’’اس کا پیشہ کیا ہے؟‘‘ پھر سوال کیا گیا۔
’’وہ ایک انسانی حقوق کی آرگنائزیشن کا بانی ہے اور دکھی انسانوں کی مدد کرتا ہے۔‘‘ جہانگیر عالم نے جواب دیا۔
’’اس سلسلے میں وہ اکثر مختلف علاقوں میں سفر کرتا ہے۔ اس کا مطلب نہیں کہ اگر اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو ا تو اس کا ذمہ دار میرا موکل ہو۔‘‘ جہانگیر عالم نے وضاحت کی۔
کمرہ عدالت میں ایک بار پھر آوازوں کا ہلکا سا شور سنائی دیا تھا اور جج کے منع کرنے پر خاموشی چھاگئی تھی۔ اس کے بعد بہرام لاری کو گواہی کے لیے بلایا گیا تھا۔
’’مسٹر لاری کیا آپ ٹیلسن بینک میں منیجر ہیں؟‘‘ سوال پوچھا گیاتھا۔
’’جی ہاں۔‘‘ لاری نے جواب دیا۔
’’کیا تم جس ڈبے میں سفر کر رہے تھے اس میں کوئی اور بھی تھا؟‘‘
’’ہاں! میرے ساتھ میرا دوست تمیز الدین اور اس کی بیٹی سفینہ بھی سفر کر رہے تھے۔ ‘‘ لاری نے جواب دیا۔
’’کیا آصف عرفان بھی اسی ڈبے میں سوار تھا؟‘‘
’’وہ کشمیر اسٹینڈ سے کچھ آگے جا کر ایک چھوٹے اسٹیشن سے سوار ہوا تھا۔‘‘
’’وہ کس وقت ٹرین میں سوار ہوا تھا؟‘‘
’’تقریباً آدھی رات کے بعد۔‘‘ بہرام لاری نے جواب دیا۔
’’کیا آدھی رات کے بعد ٹرین میں سوار ہونے ولا یہ واحد مسافر تھا؟‘‘
’’نہیںلیکن اس کے ساتھ کوئی اور شخص نہیں تھا۔‘‘ لاری نے کہا ۔ ’’وہ اکیلا ہی تھا۔‘‘
’’کیا ملزم سے تمہاری گفتگو بھی ہوئی تھی؟‘‘
’’کچھ زیادہ نہیں…موسم خراب تھا۔ ٹھنڈی اور طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں اور میں برتھ پر لیٹا ہوا تھا۔‘‘ بہرام نے جواب دیا اور اسے واپس جانے کے لیے کہہ دیا گیا اس کے بعد سفینہ الدین کا نام پکارا گیا تھا اور وہ کھڑی ہوگئی تھی۔ کمرہ عدالت میں موجود تمام لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے تھے۔ اس کے والد بھی اس کے ساتھ ہی کھڑے ہوگئے تھے۔ انہوں نے سفینہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔
’’مس سفینہ! آپ ملزم کو بغور دیکھیں۔‘‘ سرکاری وکیل نے کہا اور سفینہ کی نظریں آصف عرفان کی طرف اٹھ گئیں جو بڑے پروقار انداز میںکٹہرے میںکھڑا تھا ۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے یہ کارروائی اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور اسے اپنے بے گناہ ہونے کا پختہ یقین ہے۔
’’مس سفینہ! کیا تم نے اس سے پہلے اس شخص کو دیکھا ہے۔‘‘
’’جی ہاں!‘‘ سفینہ نے مختصر جواب دیا۔
’’کہاں؟‘‘
’’جیسے ابھی بہرام لاری نے بتایا میں نے بھی اسی سفر کے دوران ٹرین کے ڈبے میں انہیں دیکھا تھا۔‘‘
’’جس خاتون کا ذکر بہرام لاری نے کیا ہے کیا آپ وہی ہیں؟‘‘
’’بد قسمتی سے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’آپ سے جو سوال پوچھا جائے آپ اس کا ہی جواب دیں ۔ کوئی ریمارکس دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ صرف ہاں یا ناں میں جواب دیں۔‘‘ جج نے ناخوشگوار ی سے کہا۔
’’جی جناب!‘‘ سفینہ نے کہا وہ آصف عرفان کی طرف دیکھ رہی تھی اور اس نے محسوس کیا کہ اس کے والد بھی آصف عرفان کو پسندیدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’میرے والد اس وقت بہت بیمار اور کمزور تھے ۔ میں ڈر رہی تھی کہ میں انہیں خیریت سے کراچی لے جاؤں گی ۔ میں نے ٹرین کے ڈبے میں ان کے لیے بینچ پر بستر لگادیا تھا اور ان کا خیال رکھنے کے لیے ان کے قریب ہی بیٹھ گئی تھی۔ اس رات اس ڈبے میں ہم چار لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔آصف نے ہماری بہت مدد کی تھی اس نے میرے والد کا خاص خیال رکھا تھا ۔ اس نے مجھے سونے کا موقع دیا تھا اور خود میرے والد کے قریب بیٹھ کر ان کا خیال رکھا تھا۔ اس نے میرے والد کی حالت دیکھتے ہوئے ہماری مدد کی تھی اور شرافت کا بہترین نمونہ پیش کیا تھا ۔اور میرا خیال ہے کہ اس نے یہ سب انسانی جذبے کے تحت ، انسانی ہمدردی کے تحت کیا تھا۔ میرے دل میں اس کے لیے قدر بیدار ہوگئی تھی اور میں اس کی شرافت کی قائل ہوگئی تھی۔‘‘
’’ایک منٹ رکو۔‘‘ جج نے اسے روکا۔
’’کیا یہ اکیلا ڈبے میں سوار ہوا تھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ سفینہ نے کہا۔ ’’کئی لوگ سوارہوئے تھے۔‘‘
’’اس کے ساتھ اور کتنے لوگ تھے؟‘‘
’’کیا وہ اس کے ساتھ ہی تھے؟‘‘
’’ہاں! وہ اس کے ساتھ ہی تھے اور پورے سفر میں ساتھ ہی رہے تھے لیکن انہوں نے ہماری گفتگو میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔‘‘ سفینہ نے جواب دیا۔
’’کیا ان کے درمیان کسی قسم کے کاغذات کا تبادلہ ہوا تھا؟‘‘
’’ہاں! ان کے درمیان کچھ کاغذات کا تبادلہ ہوا تھا لیکن میں نہیں جانتی کہ وہ کس قسم کے کاغذات تھے۔‘‘
’’جیسا کہ میں نے پہلے کہا اس نے بہت اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ۔ اس نے مجھ پر اپنا اعتماد قائم کیا…میں والد کے لیے بہت پریشان تھی…اور سفر میں تھی۔ اس نے میری اور میرے والد کی مدد کی ۔ اس کا رویہ اتنا اچھا تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے تھے…اور اس کے بدلے میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ آج اسے میری وجہ سے کوئی نقصان پہنچے۔‘‘
’’مس سفینہ! یہ بات تو ملزم بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس وقت آپ کا فرض ہے کہ آپ بالکل درست بیان دیں۔ جو سچ ہو وہی کہیں تاکہ کورٹ کو اپنا فیصلہ مرتب کرنے میں آسانی ہو۔‘‘ سرکاری وکیل نے کہا۔
’’آپ سے اس کی کیا گفتگو ہوئی؟‘‘
’’اس نے مجھے بتایا کہ وہ کسی مشکل ترین معاملے کی وجہ سے سفر کر رہا ہے۔ کوئی ایسا معاملہ جس میں وہ کچھ لوگوں کو کسی مسئلے سے نکالناچاہتا ہے اور اس کام میں اسے چند دن لگیں گے اور اس دوران میں شاید اسے کراچی اور کشمیر کے دوران کئی بار سفر بھی کرنا پڑے۔‘‘ سفینہ نے کہا۔ جس کے بعد اس کے والد تمیز الدین کا نام پکارا گیا۔
’’تمیز الدین ! ملزم کی طرف دیکھو! کیا تم نے پہلے کبھی اسے دیکھا ہے؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’کیا یہی شخص تم لوگوں کے ساتھ ٹرین میں سفر کر رہا تھا اور تمہاری بیٹی سے بات بھی کی تھی؟‘‘
’’شاید!’’ تمیز الدین نے جواب دیا۔
’’کیا یہ تمہاری بد قسمتی ہے کہ تم ایک طویل قید گزار کر رہا ہوئے ہو۔ ایسی قید جس کا کوئی مقدمہ نہیں چلا…سزا نہیں سنائی گئی… ایک لمبی قید۔‘‘ سرکاری وکیل نے کہا۔
’’ایک لمبی قید۔‘‘ تمیز الدین نے دہرایا۔
’’کیا تم حال ہی میں رہا ہوئے ہو؟‘‘
’’مجھے یہ ہی بتایا گیا ہے۔‘‘
’’کیا تمہیں یاد نہیں کہ تمہیں قید کیوں ہوئی؟‘‘
’’نہیں! میرے ذہن میں بالکل اندھیرا ہے…کافی عرصے سے…میں نہیں کہہ سکتا کہ کب سے؟ جب میں نے جوتے بنانے کا کام کیا…قید کے دوران…اور پھر اب میں اپنی بیٹی کے ساتھ یہاں رہتا ہوں۔ میرا خیال رکھتی ہے اور کہتی ہے کہ میری بیٹی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں اس پر اعتماد کیوں کرتا ہوں؟ ایسا کیا ہوا ہے کہ مجھے اس پر یقین ہے؟‘‘
پھر جج کے اشارے پر سفینہ اپنے والد کے ساتھ اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔ پھر جج کی سیٹ سے نچلی جانب ایک میز پر بیٹھے ہوئے شخص نے جو ساری کارروائی کو نوٹ کررہا تھا ۔ ایک پیپر جج کی طرف بڑھادیا تھا اور جج نے بہرام لاری کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا۔
’’ کیا تم نے اس شخص آصف کو ہی دیکھا تھا؟‘‘
’’کیا مطلب؟ جناب!‘‘
’’تم نے ٹرین میں جس شخص کو دیکھا تھا یہ وہی ہے؟ جج نے کہا۔
’’جی ہاں۔‘‘ بہرام لاری نے کہا اور پھر جج کے اشارے پر ایک شخص نے آگے بڑھ کر اس وکیل کے سر سے بالوں کی وگ اتاری جس نے کچھ دیر پہلے جج کو ایک پیپر پیش کیا تھا۔ اس کی وگ اتارے جانے پر کمرے میں موجود لوگوں کو حیرت میں ڈوبی آوازیں بلند ہوئی تھیں۔ اس وکیل اور آصف عرفان میں بہت مشابہت تھی جو لوگوں نے پہلے وکیل کی وگ کی وجہ سے محسوس نہیں کی تھی۔
آصف عرفان کا وکیل اس میز کی طرف بڑھا تھا جہاں آصف کی شکل سے مشابہہ وکیل بیٹھا تھا اور اس نے کچھ کاغذات اس میز پر ڈال دیئے تھے۔
’’مجھے تم سے بات کرنا ہے سلیم بہزاد۔‘‘ جہانگیر عالم نے کہا ۔ عدالت میں موجود سارے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئے تھے۔ جج اٹھ کر اپنے چیمبر میں چلا گیا تھا اور سفینہ نے اپنا سر اپنے والد کے کاندھے پر رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں ناکام ہوئی تھی ۔ اس وقت سلیم بہزاد کی نظر اس پر پڑی تھی۔
’’آفیسر! دیکھو اس لڑکی کو…اس کی مدد کرو اور انہیں باہر نکلنے میں مدد کرو۔ تم دیکھ رہے ہو… وہ گر رہی ہے… کھڑی نہیں ہوسکتی۔‘‘ اس نے کمرہ عدالت میں کھڑے ہوئے پولیس آفیسر سے کہا جو انہیں سہارا دے کر کورٹ سے باہر لے گیا تھا۔ بہرام لاری بھی ان کے ساتھ باہر گیا تھا لیکن تھوڑی دیر میں ہی واپس آگیا تھا اور اس نے اخلاق احمد کو مخاطب کیا تھا۔
’’اخلاق تم باہر جاؤ اور سفینہ اور تمیز الدین کے ساتھ رہو مجھے کسی بھی وقت تمہاری ضرورت پڑسکتی ہے۔‘‘ اس نے کہا اسی وقت سلیم بہزاد اس کے قریب آکھڑا ہوا۔
’’اب وہ لڑکی کیسی ہے؟‘‘ اس نے سفینہ کے بارے میں بہرام سے پوچھا۔
’’ وہ حیرت سے بے ہوش ہونے والی تھی لیکن اس کے والد اسے دلاسہ دے رہے ہیں۔‘‘ بہرام نے کہا۔
’’ اور وہ باہر جا کر کچھ بہتر محسوس کر رہی ہے۔‘‘
’’میں ملزم کو بتادوں گا کہ آپ جیسا عزت دار آدمی جو ایک بینک میں عزت دار عہدے پر فائز ہو ۔ اس کا یوں پبلک میں ایک ملزم سے بات کرنا اچھا نہیں ہے۔‘‘
سلیم بہزاد نے کہا اور کمرہ عدالت سے باہر چلاگیا۔ اسی وقت کورٹ کے احاطے میں اخلاق احمد کو آصف عرفان نظر آیا تھا اور وہ اس کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’مسٹر آصف! ‘‘ اس نے آواز دی تو آصف اسے دیکھ کر اس کے قریب آگیا۔
’’تم نے مس سفینہ کا بیان تو سناہی ہوگا اپنے بارے میں… لگتا ہے انہوں نے اس واقعے کا بہت برا اثر لیا ہے… ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے۔‘‘ اخلاق نے کہا۔
’’مجھے بہت افسوس ہے کہ میں ان کی پریشانی کا سبب بنا ہوں ۔ کیا تم انہیں بتا سکتے ہو کہ مجھے اس بات پر کتنا افسوس ہے۔‘‘ آصف نے کہا۔
’’ہاں ہاں، کیوں نہیں…میں انہیں بتاسکتا ہوں…اگر یہ تمہاری خواہش ہے۔‘‘ اخلاق احمد نے کہا ۔
سلیم بہزاد بھی تھوڑے فاصلے پر کھڑا تھا ۔ اس کے انداز سے بے پروائی نمایاں تھی۔
’’میں تمہارا شکر گزار ہوں۔‘‘ آصف سلیم نے کہا۔
’’کیا مطلب ؟تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ سلیم بہزاد نے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے تمہاری وجہ سے عدالت کے ذمہ دار افراد کی سوچ کا رخ کسی اور سمت مڑ گیا ہے۔‘‘ آصف عرفان نے کہا۔
آصف کی اس بات کے ساتھ ہی اخلاق احمد وہاں سے ہٹ گیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ وہ شکلوں میں تو ایک دوسرے سے مشابہہ ہیں لیکن ان کی حرکات و سکنات بھی ایک دوسرے سے بہت ملتی ہیں لیکن ان کا رویہ بہت مختلف ہے۔ ان میں اتنی مشابہت ہے جیسے ان دونوں کے درمیان آئینہ رکھا ہو۔ جس میں ایک دوسرے کا عکس نظر آرہا ہو۔
جب اخلاق احمد آگے بڑھا تو بہرام لاری اس کا منتظر تھا اس نے ایک پیپر اس کی طرف بڑھادیا۔
’’جاؤ یہ فوراً لے کر بینک جاؤ اور میرا وہیں انتظار کرنا۔‘‘ بہرام لاری نے کہا تو اخلاق وہ پیپر لے کر فوراً بینک روانہ ہوگیا تھا اور کچھ دیر بعد تمام لوگ دوبارہ کمرہ عدالت میں جمع ہوگئے تھے۔ کیونکہ لنچ کا وقفہ ختم ہوگیا تھا۔ سب اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ سفینہ اور تمیز الدین بھی واپس اندر آ کر اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے تھے۔
کچھ ہی دیر بعد جج کمرے میں آیا تھا اور اس نے مختصر سی کارروائی کے بعد آصف عرفان کے بے گناہ ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ کمرہ عدالت میں سب لوگ خوشی کا اظہار کرنے لگے تھے۔ جج واپس اپنے چیمبر میں چلا گیا تھا اور آصف عرفان سفینہ کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔
’’میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ آپ کو میری وجہ سے بہت پریشانی ہوئی ہے۔ جس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
اور سفینہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔ اسی اثناء میں آصف کا وکیل جہانگیر عالم وہاں آگیا تھا۔
’’مجھے خوشی ہے کہ آپ کی بھی جان چھوٹ گئی مسٹر بہرام۔‘‘ جہانگیر نے بہرام لاری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر آصف کی طرف مڑا۔
’’مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کو با عزت بر ی کروانے میںکامیاب ہوگیا ہوں مسٹر آصف۔‘‘
’’ میں آپ کا شکرگزار ہوںجہانگیر صاحب!‘‘ آصف نے کہا۔
’’یہ میرا فرض تھا جناب!۔‘‘ جہانگیر عالم نے جواب دیا۔
اس کے بعد سفینہ سب سے رخصت ہو کر اپنے والد کے ساتھ ڈاکٹر رضیہ سے ملنے چلی گئی تھی۔
ز…ز…ز…ز
شام کا وقت تھا اس وقت میں کراچی کی سڑکوں پر بہت رش ہوتا ہے۔ مختلف دفتروں میںکام ختم کرکے ملازم گھروں کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک اور لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے ۔ سٹی کورٹ کے باہر بھی تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ مختلف مقدمات کی کارروائیوں میںشرکت کرنے والے واپس جارہے تھے۔ وکیل بھی کورٹ سے فارغ ہو کر اپنے دفتروں کی طرف رواں دواں تھے۔
سلیم بہزاد بھی ہاتھوں میں فائلوں کا پلندہ لیے سڑک عبور کرنے کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا۔ وہ سٹی کورٹ کے سامنے ہی ایک عمارت کے دفتر میں بیٹھتا تھا اور اکثر وہیں سو بھی جاتا تھا۔ اس کی شہرت اچھی نہیں تھی ۔ وہ مقدمات میں بے ایمانی اور جعلسازی کرکے انہیں جیتنے کی کوشش کرتا تھا اور اکثر جیت بھی جاتا تھا۔ اس کی فطرت میں چالاکی اور عیاری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ اسے اپنی لالچی فطرت کے آگے یہ بھی احساس نہیں ہوتا تھا کہ اس کی بھاری فیس ادا کرنا کسی غریب شخص کے لیے کتنا مشکل ہوسکتا تھا۔
اس وقت بھی اس کے چپراسی نے اطلاع دی تھی کہ اس کے دفتر میںکوئی شخص کسی مقدمے کے سلسلے میں اس سے ملنے آیا ہے۔ سلیم بہزاد بڑی عجلت میں راستہ طے کرتا ہوا دفتر پہنچا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی تاخیر کی وجہ سے کوئی اچھا مقدمہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وہ جانتاتھا کہ اگر قسمت ساتھ دے تو ایک ساتھ کئی کئی کیس مل جاتے ہیں اور اگر نہ ملیں تو پھر کافی کافی دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اچھے مقدمے سے مراد ہمیشہ وہ مقدمہ ہوتا تھا ۔ جس میں اسے زیادہ محنت نہ کرنی پڑے اور فیس بھی بھاری ملے۔ دفتر میں داخل ہو کر اس نے فائلوں کا پلندہ آفس میںبنے کاؤنٹر پر رکھ دیا تھا اور خود اپنے کمرے میں داخل ہوگیا تھا۔ اس نے کن انکھیوں سے دیکھ لیا تھا کہ کاؤنٹر کے قریب بیٹھا شخص معمولی حیثیت کا مالک لگ رہا تھا ۔ اس نے ملگجے سفید رنگ کا شلوار قمیص پہنا ہوا تھا اور وہ چہرے سے خاصا پریشان لگ رہا تھا۔
’’سر ! کیا کلائنٹ کو اندر بھیجوں؟‘‘کچھ ہی دیر بعد اس کا ملازم جاوید کمرے میںداخل ہوا۔
’’ہاں ! لیکن معاملہ کیا ہے؟‘‘ سلیم بہزاد نے مقدمے کی مالی حیثیت کا اندازہ لگانے کے لیے پوچھا کیونکہ مقررہ فیس تو شاید ہی کوئی لیتا ہو۔ یہاں تو مقدمے کی سنگینی دیکھ کر دام مقرر کیے جاتے تھے اور خاص طور سے سلیم بہزاد تو اس کے لیے مشہور ہی تھا لیکن اسے مقدمے پھر بھی مل جاتے تھے کیونکہ وہ انہیں جیتنے کے لیے جائز ناجائز ، جھوٹ فریب ہر چیز کا سہارا لیتا تھا۔
’’سر جی! وہ اس کی بیٹی کا مسئلہ ہے…شاید کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘ جاوید نے جوا ب دیا۔
’’ہوں…کچھ دیر بٹھا کر رکھو کہو صاحب تھکے ہوئے آئے ہیں ذرا ٹھہر کر بھیجنا۔‘‘
’’جی سر۔‘‘ جاوید نے سعادت مندی سے کہا اور چلاگیا۔ اس کے جانے کے بعد سلیم نے سگریٹ سلگایا تھا اور کرسی کی پشت گاہ سے سر ٹکا کر سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف ہوگیا تھا۔ وہ اپنی تھکن یونہی اتارتا تھا۔
اس وقت اس کے دماغ میں آج کے مقدمے کی کارروائی گھوم رہی تھی وہ حیران تھا کہ آصف عرفان سے اس کی اتنی زیادہ مشابہت تھی کہ اسے خود پر حیرت ہورہی تھی۔ وہ تو یہی جانتا تھا کہ وہ دنیا میں اکیلا ہے۔ چنانچہ کسی جڑواں بھائی کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کی پرورش رشتے کی آنٹی نے کی تھی۔ اس کے والدین بچپن میں کسی حادثے کا شکار ہوگئے تھے اور اسے ماں باپ ، سگے بہن بھائیوں کا پیار نہیں ملا تھا ۔ جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں بڑا خلا تھا۔و ہ پر خلوص اور بے لوث محبت سے ناآشنا تھا۔ اس کی تربیت جس انداز سے ہوئی تھی اس کی وجہ سے وہ صرف یہ جانتا تھا کہ بس کسی بھی طرح اسے اپنا کام نکالنا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچا کر اپنا مطلب کیسے حل کرنا ہے۔
اس کی آنٹی جنہوں نے اسے پالا تھا۔ شاید ان کی کوئی مجبوری تھی جو انہوں نے اسے پالنے کا بیڑہ اٹھالیا تھا لیکن انہوں نے کبھی اس سے اولاد والا پیار نہیں کیا تھا۔ جب اس نے ہوش سنبھالا تھا تو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسرے بچوں سے چھینا جھپٹی کرتا۔ اسے اچھی طرح یاد تھا۔ اسکول میں وہ چوریاں کرکے گزارا کرتا تھا اور کالج کی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد دوستوں سے ہنسی مذاق میں رقم اینٹھ لینا، شرطیں لگا کر بے ایمانی سے جیت لینا، کینٹین والے سے مہینوں تک ادھار لے کر کام چلانا اس کے معمول تھے۔ پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ایک مشہور وکیل کا اسسٹنٹ بن گیا تھا ۔ جو اسے تھوڑی بہت رقم دے دیتا تھا اور اس کا کا م چل جاتا تھا۔ اب کچھ عرصے سے وہ خود اپنی الگ پریکٹس کر رہا تھا اور کرائے پر دو کمروں کا چھوٹا سا دفتر لے لیا تھا جس کا کرایہ وہ کبھی بھی باقاعدگی دے اور ٹائم پر ادا نہیں کرتا تھا اور اس سلسلے میں بلڈنگ کے مالک سے اکثر منہ ماری ہوتی رہتی تھی۔
آصف عرفان کے مقدمے میں وہ سرکاری وکیل تھا لیکن کارروائی میں حصہ نہیں لیا تھا بلکہ اسے مقدمے کی کارروائی کو لکھنے کا کام دیا گیا تھاجو وہ کمپیوٹر سے کر رہاتھا اور تمام کارروائی کی تفصیل اس نے کمپیوٹر میں محفوظ کردی تھی۔
اسے اس کی ساری زندگی میں کبھی کوئی لڑکی متاثر نہیں کرسکی تھی لیکن آج جب اس نے عدالت میں سفینہ کو دیکھا تو اس کی خوب صورتی اور ذہانت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا تھا۔ پھر سفینہ کا رویہ اپنے والد کے ساتھ دیکھ کر اسے احساس ہوا تھا کہ والدین اور اولاد کی محبت کیا ہوتی ہے۔سفینہ سارا وقت اپنے والد کے ساتھ ان کا ہاتھ تھامے یوں بیٹھی رہی تھی جیسے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ اسے اپنے والد سے محبت ہو۔
اس نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ سفینہ نے مقدمے کے دوران گواہی دی ۔ اس میں اسے آصف عرفان کا بہت خیال تھا اور اس کی کوشش تھی کہ آصف بے قصور ثابت ہوجائے ۔ اسے نہ جانے کیوں یہ بات پسند نہیں آئی تھی اور پھر اس کے دوست جہانگیر عالم نے تو حد ہی کردی تھی کہ مقدمے کی کارروائی کے اختتام پر آصف سے اس کی مشابہت کو عدالت کے سامنے آشکار کردیا تھا۔ اسے تو خود بھی ساری کارروائی کے دوران یہ شبہ نہیں ہوا تھا کہ وہ آصف سے مشابہت رکھتا ہے۔
’’سر جی! کیا اب بھیج دوں؟‘‘ جاوید نے کمرے کے دروازے سے اندر جھانکتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’ہوں۔‘‘ سلیم نے خیالوں سے چونکتے ہوئے کہا اور اپنی کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ سگریٹ کو اس نے بجھا کر ایش ٹرے میں ڈال دیا تھا۔ دوسرے ہی لمحے کلائنٹ اس کے دفتر میں داخل ہوا تھا اور سلیم بہزاد نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔
’’ہاں ! کیا معاملہ ہے؟‘‘ سلیم بہزاد نے خاص پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا۔
’’جناب! میں بہت پریشان ہوں…میری بیٹی اپنے آشنا کے ساتھ…‘‘ آگے جملہ اس نے ادھورا چھوڑدیا تھا۔ شاید جملہ پورا کرنے کی اس کی شرم نے اجازت نہیں دی تھی۔
’’ بھاگ گئی ہے؟‘‘ سلیم نے بلا جھجھک جملہ پورا کردیا۔
’’جی جناب!‘‘ کلائنٹ نے کہا۔
’’پھر ! اب کیا چاہتے ہو؟‘‘ سلیم نے پوچھا۔
’’میں چاہتا ہوں وہ واپس آجائے۔‘‘کلائنٹ نے کہا۔
’’پہلے تو بھگادیا اور اب اس کی محبت میں رو رہے ہو۔‘‘ سلیم نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
’’کیا کریں جناب آج کل کی اولاد ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ انہیں اپنے ماں باپ کی عزت کا تو کوئی خیال ہی نہیں ہے۔ میں نے بڑے لاڈوں سے اسے پالا تھا۔‘‘
’’خیر اب معاملہ بتاؤ… یہ سب کیسے ہوا؟ اور اس کے بھاگنے کی نوبت کیسے آئی۔’’ سلیم نے بات مختصر کرتے ہوئے کہا۔ پھر کلائنٹ نے اسے بتایا تھا کہ کس طرح کالج جانے کے دنوں میں ضیاء نامی لڑکا اس کی بیٹی شائستہ کے پیچھے لگا اور کس طرح شروع میں شائستہ اسے دھتکارتی رہی۔لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ اس کے قریب ہوتی چلی گئی اور اپنے والد فاروق کے منع کرنے کے باوجود وہ گھر سے ایک رات چپکے سے بھاگ گئی۔
’’اچھا ٹھیک ہے تم کل آجانا اسی وقت تو تمہارا مقدمہ در ج کرادوں گا اور میرے سیکرٹری سے مل کر فیس کی بات کرلو۔‘‘ سلیم نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔
’’جی بہتر۔‘‘ اس کے کلائنٹ فاروق نے کہا اور رخصت ہوگیا ۔ اسی وقت اس کے آفس میں جہانگیر عالم داخل ہوا وہ بڑے اچھے موڈ میں تھا۔
’’کیا ہورہا ہے بھئی۔‘‘ جہانگیر نے کمرے میں آ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہورہا ہے…بس آرام کر رہا تھا کہ یہ کلائنٹ آگیا۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’ کیا بات ہے؟ آج کل تو تمہاری قسمت زوروں پر ہے۔ بڑے مقدمے مل رہے ہیں۔‘‘ جہانگیر نے تعریفی اندا ز میں کہا۔
’’ہاں تو تم نظر لگادو…‘‘ سلیم نے برا ماننے والے انداز میں کہا۔
’’نہیں یار! ہم نظر کیوں لگائیں گے۔ ہم تو خوش ہورہے ہیں۔‘‘ جہانگیر عالم نے جوا ب دیا۔
’’ہاں جیسے تم نے بھری عدالت میں میری مشابہت آصف پر ظاہر کی تھی… میں بھی حیران رہ گیا تھا۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’مجھے بھی احساس نہیں ہوا تھا ۔ پھر اچانک جب کورٹ کی کارروائی وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو میری توجہ اس طرف ہوئی تھی۔‘‘ جہانگیر نے جواب دیا۔
’’ہاں تم نے تو اپنے کلائنٹ کو آزاد کروالیا لیکن میں مصیبت میں گرفتار ہوگیا ہوں۔‘‘ سلیم بہزاد نے کہا۔
’’تم مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہو؟ ‘‘ جہانگیر نے حیرت سے اس کا جملہ دہرایا۔ ’’بھلا میں بھی تو سنو…تم کیسے مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہو؟‘‘
’’یار ! مجھے سفینہ پسند آگئی ہے۔‘‘ سلیم بہزاد نے کہا۔
’’ارے اپنے ہوش میں ہو؟ وہ بہت امیر گھرانے کی لڑکی ہے ۔ اس کے باپ کی ایک بڑی جائیداد ہے ۔ بھلا سفینہ تمہیں کیسے پسند کرسکتی ہے؟ پھر وہ تم سے زیادہ پڑھی لکھی ،ذہین، نڈر اور انسانیت کی ہمدرد ہے۔‘‘ جہانگیر نے کہا۔
’’بس بس رہنے دو تم نے اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے ہیں۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’وہ ہے ہی تعریف کے قابل…تم نے دیکھا اسے دوسروں کا کتنا خیال ہے۔ اس نے اپنے والد کے لیے اپنی زندگی مخصوص کردی ہے۔ ہر وقت سائے کی طرح ان کے ساتھ رہتی ہے۔ ان کا خیال کرتی ہے۔ انہیں اپنے ہاتھ سے کھا نا کھلاتی ہے اور تمہیں پتہ ہے وہ مارشل آرٹ کی بھی ماہر ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ان کے گھر میں کوئی چور گھس آیا تھا تو اس نے اسے مار بھگا یا۔ وہ بہت بہادر ہے۔‘‘ جہانگیر نے کہا۔
’’مجھے بہادر لڑکیاں پسند ہیں۔‘‘ سلیم نے مسکرا تے ہوئے کہا۔
’’اچھا چلو چھوڑو کھانا کھانے چلتے ہیں۔‘‘ جہانگیر نے بات ختم کرتے ہوئے کہا وہ روزانہ سلیم کے ساتھ ہی کھانا کھاتا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ سلیم نے بھی اپنی سیٹ سے اٹھتے ہوئے کہا۔ پھر وہ دونوں قریبی رسٹورینٹ میں جا کر بیٹھ گئے تھے اور اپنی پسند کے کھانے کا آرڈر دے دیا تھا۔
’’یار جہانگیر کچھ کرو…کسی طرح میری ملاقات اس سے کروادو ۔‘‘ سلیم نے کھانا کھاتے ہوئے کہا۔
’’کس سے؟‘‘ جہانگیر نے پوچھا ۔ حالانکہ وہ اس کا مطلب سمجھ گیا تھا۔
’’سفینہ سے…میں اسے کھونا نہیں چاہتا۔‘‘ سلیم نے بے چینی سے کہا۔
’’کھونا نہیں چاہتے ؟ بھئی تم نے اسے پایا ہی کب ہے جو کھونے کی بات کر رہے ہو؟‘‘ جہانگیر نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
’’تم نے شاید آصف کی آنکھوں میں نہیں دیکھا … مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ سفینہ کو مجھ سے نہ چھین لے۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’تم پاگل ہوگئے ہو۔‘‘ جہانگیر نے لاپروائی سے کہا۔
’’نہیں جہانگیر میری بات سنو! جب سفینہ عدالت میں بے ہوش ہونے لگی تھی اور میں نے اس کی طرف لوگوں کی توجہ دلائی تھی تو آصف بھی اسی کی طرف دیکھ رہاتھا۔ وہ بہت پریشان ہوگیا تھا۔ بھلا اسے اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر اس کے دل میں سفینہ کے لیے کچھ نہیں تھا؟‘‘ سلیم نے کہا۔
’’بھئی تم کیوں بھول رہے ہو کہ وہ دونوں ایک بار پہلے بھی ٹرین کے سفر کے دوران بھی مل چکے ہیں۔ جب سفینہ اپنے والد کو کراچی لارہی تھی۔‘‘
’’وہ سب ٹھیک ہے اور میں آصف پر اسی لیے شک کر رہا ہوں کہ اس کے دل میں پہلے سے سفینہ کے لیے جگہ موجود ہوگی۔‘‘ سلیم نے خدشہ ظاہر کیا۔
’’تم تو بے سروپا باتیں کررہے ہو…سفینہ بہت پریکٹیکل لڑکی ہے ۔ کم از کم میں اس سے یہ توقع نہیں کرسکتا۔‘‘ جہانگیر نے جواب دیا۔ پھر وہ کھانا کھا کر دوبارہ اپنے چیمبر میں آگئے تھے۔
اس بار وہ جہانگیر کے آفس میں آئے تھے۔ جہاں ایک کمرے میں اس کا دفتر تھا اور دوسرے میں بیڈ اور صوفہ پڑا تھا۔ جہاں اکثر سلیم جہانگیر کے ساتھ سو بھی جاتا تھا۔ پھر وہ خاصی رات تک باتیں کرتے رہے تھے۔ سلیم زیادہ تر اپنی بدقسمتی اور محرومیوں کا ذکر کرتا رہا تھا اور جہانگیر اسے تسلیاں دیتا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے شراب کی بوتل نکال لی تھی۔
’’ارے یہ کیا؟‘‘ جہانگیر نے حیرت کا اظہار کیا۔
’’تمہیں پتا ہے میں اس کے بغیر سو نہیں سکتا…‘‘ سلیم نے کہا۔ ’’مجھے دنیا کے غموں اور میری محرومیوں سے بے خبر کردیتی ہے۔‘‘ سلیم نے کہا۔
’’یہ تمہیں مل کہاں سے جاتی ہے؟‘‘ جہانگیر نے حیران ہو کر کہا۔
’’تم بچے تو نہیں ہو…؟ سب ملتا ہے؟پیسہ پھینک تماشہ دیکھ…سب ملتا ہے…ہے کوئی مہربان جو میرا خیال کرتا ہے۔‘‘ سلیم نے گلاس میں شراب انڈیلتے ہوئے کہا۔
’’دیکھو سلیم …یہ تمہیں نقصان پہنچاسکتی ہے۔ تم سگریٹ بھی بے تحاشہ پیتے ہو اور اس کی لت بھی لگالی ہے۔‘‘ جہانگیر نے سمجھانے والے انداز میں کہا لیکن سلیم نے اس کی ایک نہ سنی تھی اور شراب پیتا رہا تھا۔
’’اچھا میں تو سو رہا ہوں…رات کافی ہوگئی ہے۔‘‘ جہانگیر نے کہا اور بیڈ پر لیٹ گیا۔ سلیم بہت دیر تک بیٹھا پیتا رہا تھا اور اکیلے ہی اکیلے کچھ بڑبڑاتا رہا تھا۔ اسے دنیا سے بہت شکوے تھے…محبت نہ ملنے کا غم تھا…نامحرومیوں کا گلہ تھا۔ جو وہ خود سے کر رہا تھا۔ پھر کافی دیر بعد جب اس کی بوتل خالی ہوگئی تھی تو وہ بھی نڈھال ہو کر صوفے پر گر گیا تھا۔ ایسا اکثر ہوتا تھا جب وہ زیادہ اداس ہوتا تھا تو وہ شراب بھی زیادہ پیتا تھا اور پھر اختتام مدہوش ہو کر سو جانے پر ہوتا تھا۔
ز…ز…ز…ز
سفینہ جب اپنے والد کے ساتھ ڈاکٹر رضیہ کے کلینک پہنچی تھی تو رات کے سائے بڑھ رہے تھے۔ ڈاکٹر رضیہ اس کی منتظر ہی تھی۔ وہ تمیز الدین کو اپنے معائنے کے خاص کمرے میں لے گئی تھی اور انہیں بیڈ پر لٹا دیا تھا۔
ڈاکٹر رضیہ نے معمول کے مطابق تمیز الدین کو سفینہ کے سامنے ہی ہپناٹائز کرکے سلادیا تھا اور پھر سفینہ نے اس کمرے سے نکل کر اس کے آفس میں جا بیٹھی تھی۔ایسا ہمیشہ ہی ہوتا تھا۔ اپنے ہوش و حواس میں اس کے والد ہر گز بھی کسی اجنبی کے ساتھ تنہا رہنا پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر رضیہ سفینہ کی موجودگی میں ہی انہیں ہپناٹائز کرتی تھی۔تاکہ وہ پرسکون طریقے سے کام کرسکے اور ان کے سوجانے کے بعد سفینہ کمرے سے چلی جاتی تھی اور ڈاکٹر رضیہ اسی حالت میں تمیز الدین سے سوالات کے ذریعے ان کی پچھلی زندگی سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہتی تھی تاکہ پتہ چل سکے کہ قید کے دوران وہ کہاں اور کن حالات میں رہے تاکہ ان کی موجودہ کیفیت کا علاج کیا جاسکے لیکن اس معاملے میں ڈاکٹر رضیہ کو زیادہ کامیابی نہیں ہوئی تھی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر رضیہ کے کلینک کی ایک سسٹر نے آکر اشارے سے سفینہ کو بتایا کہ اب وہ واپس اس کمرے میں جاسکتی ہے۔ جہاں تمیز الدین ڈاکٹر رضیہ کے ساتھ موجود ہیں۔ سفینہ اٹھ کر اس کمرے میں چلی گئی تھی۔ اس کے والد اب بھی بیڈ پر بہت پرسکون حالت میں لیٹے ہوئے تھے۔ پھر ڈاکٹر رضیہ نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’سفینہ ! میں جب بھی ان سے ان کی پچھلی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں اور کوئی سوالات کرتی ہوں تو یہ جواب نہیں دے پاتے اور بے چین ہونے لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بہت تکلیف میں ہوں ۔ میں زیادہ زور نہیں دیتی کیونکہ زبردستی کرنے سے ان کے ذہن پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔ یہ بہت صبر آزما کام ہے ۔ تمہیں بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ کوشش کرنا کہ گھر میں بھی کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ نہ ہو ۔ جس کا اثر ان کے ذہن پر برا پڑے۔ انہیں خوش اور پرسکون رکھنے کی کوشش کرنا ان کے سامنے کسی بھی الجھادینے والے مسئلے کا ذکر مت کرنا۔‘‘ ڈاکٹر رضیہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’آج یہ خاصے ڈسٹرب محسوس ہورہے تھے کیا کوئی خاص بات ہوئی تھی؟‘‘ ڈاکٹر رضیہ نے پوچھا۔
’’آج دراصل مجھے کسی کارروائی میں شرکت کرنے سٹی کورٹ جانا تھا ۔ میں انہیں بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ دراصل کسی معاملے میں ہماری گواہیاں درکار تھیں۔‘‘
’’وہاں ان کا جانا ضروری تھا؟‘‘ ڈاکٹر رضیہ نے پوچھا۔
’’ہاں کیونکہ اس واقعے میں ان کا بھی کچھ تعلق تھا۔‘‘ سفینہ نے کہا۔
’’دیکھو سفینہ! میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا کہ کوئی بھی ایسا مسئلہ جس پر انہیں اپنے ذہن پر زور دینا پڑے یا انہیں بہت سے لوگوں کے درمیان لے جایا جائے۔ ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ جب یہ اپنے ذہن پر زور ڈال کر زبردستی کچھ یاد کرنے کی کوشش کریں گے اور انہیں وہ چیز یاد نہیں آئے گی تو ان کا ذہن الجھے گااور یہ پریشان ہوں گے۔ یہ کیفیت ان کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔‘‘ رضیہ نے اسے تفصیل سے سمجھایا۔
’’تم دعا کرو کہ تمہاری اپنی والدہ سے مشابہت ان کے کام آجائے…دراصل تم بھی جب اپنے والدین سے بچھڑیں تو بہت چھوٹی تھیں۔ اپنے والدین کا ایک دوسرے کے ساتھ سلوک اور برتاؤ تمہیں یاد نہیں ہوگا۔ اگر ان پچھلی باتوں کو کسی بہانے سے ان کے سامنے پیش کیا جاسکے ۔ وہ بھی بہت غیر محسوس طریقے سے تو شاید ان کی یادداشت میں کوئی تصویر ابھرے اور انہیں پچھلی زندگی کا کوئی منظر یاد آجائے۔ اس سلسلے میں شاید تمہاری آنٹی اور انکل تمہاری کچھ مدد کر سکیں۔ یا تمہارے والد کے کچھ پرانے اور بے تکلف دوست جنہوں نے زندگی کا کچھ حصہ ان کے ساتھ گزارا ہو ۔ تمہارے مدد گار ہوسکتے ہیں۔‘‘
’’جی میں ان باتوں کا خیال رکھوں گی۔‘‘ سفینہ نے کہا اس کے بعد سفینہ کے سامنے ہی ڈاکٹر رضیہ نے اس کے والد کو اس مصنوعی نیند سے جگایا تھا انہوں نے آنکھیں کھولتے ہی اطراف کا جائزہ لیاتھا اور سفینہ کو اپنے قریب پاکر ان کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نظر آئی تھی۔ سفینہ نے انہیں سہارا دے کر بیٹھنے میں مدد دی تھی پھر وہ انہیں اپنے ساتھ ڈاکٹر رضیہ کے آفس میں لے گئی تھی جہاں ڈاکٹر رضیہ نے ایک پرچے پر اسے کچھ دوائیں لکھ کردی تھیں۔
’’پہلے جو دوائیں میں نے لکھی تھیں اگر وہ باقی ہیں تو پہلے انہیں ختم کرنا اور اس کے بعد اس نئے نسخے کی دوائیں شروع کروانا میں نے دوائوں کے ساتھ لکھ دیا ہے کہ کونسی دوا کتنی اور کب دینا ہے۔‘‘ڈاکٹر رضیہ نے کہا۔
’’جی ٹھیک ہے۔‘‘سفینہ نے جواب دیا ۔’’اچھا اب ہم چلتے ہیں مجھے اب پھر کب آنا ہے؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’پندرہ دن بعد! اور اب انہیں لانے کی ضرورت نہیں تم خود آجانا میں ان کی کیفیت پتہ کرنے کے بعد دوائیں تجویز کردوں گی۔‘‘رضیہ نے کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘سفینہ نے کہا پھر وہ اپنے والد کا ہاتھ تھام کر انہیں سہارا دیتی ہوئی باہر لے آئی تھی۔
راستے میں اس نے ایک بڑے میڈیکل اسٹور کے سامنے گاڑی روک کر وہاں سے اپنے والد کی نئی دوائیں خریدی تھیں اور پھر گھر کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔ رات کا اندھیرا خاصہ پھیل چکا تھا اور ابھی اسے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ کا سفر کرناتھا وہ رات گہری ہونے سے پہلے گھر پہنچنا چاہتی تھی چنانچہ اس نے گاڑی کی اسپیڈ معمول سے کچھ زیادہ بڑھا دی تھی۔
ٹھیک ایک گھنٹے بعد وہ سفینہ پیلس پہنچ گئی تھی گاڑی کی آواز سن کر کریم بابا گیٹ پر آگئے تھے اور انہوں نے گاڑی اندر آنے کے لیے گیٹ کھول دیا تھا۔ سفینہ نے اپنے والد کو ان کے کمرے میں پہنچایا تھا اور نور بی بی سے ان کا کھانا لانے کے لیے کہا تھا۔ وہ ان کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد ہی اپنے کمرے جانا چاہتی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ فارغ ہوئی تھی۔ اس کے والد سوگئے تھے اور وہ دبے قدموں ان کے کمرے سے نکل کر گئی تھی۔ کمرے سے باہر نکلی تو اس کی نظر حفیظ الدین پر پڑی جو بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔ شاید آج کی روداد کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔
’’میں تو بہت پریشان ہورہا تھا کہ آج تو سارا دن ہی باہر گزر گیا۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’جی ہاں! بہت مصروفیت رہی۔‘‘ سفینہ نے جواب دیا۔ وہ خاصی تھکی ہوئی نظر آرہی تھی۔
’’اچھا ایسا کرو تم فریش ہو کر آجاؤ ۔ کھانا ساتھ ہی کھائیں گے۔ میں اور جمیلہ نے ابھی کھانا نہیں کھایا ۔ ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ پھر کھانے پر ہی باتیں ہوں گی۔‘‘ حفیظ الدین نے کہا۔
’’ٹھیک ہے ۔‘‘ آدھے گھنٹے بعد وہ ڈائنینگ ہال میں بیٹھی اپنے انکل اور آنٹی کے ساتھ رات کا کھانا کھارہی تھی۔
’’کورٹ میں تیمی کا کیا رویہ رہا؟‘‘ حفیظ الدین نے پوچھا۔
’’دراصل یہ پہلا موقع تھا کہ وہ لوگوں کے درمیان تمہارے ساتھ باہر نکلا تھا۔‘‘
’’جی ہاں! میں بھی ڈر رہی تھی لیکن کوئی پریشانی کی بات سامنے نہیں آئی۔ بس ایک موقع پر جب وکیل نے ان سے ذہن پر زور دے کر ملزم آصف کو پہچاننے کے لیے کہا تو ان کے چہرے پر کچھ پریشانی کے آثار نظر آئے تھے لیکن حیرت کی بات اس کے بعد ہوئی جب میں ملزم آصف اور سرکاری وکیل سلیم بہزاد کی ایک دوسرے سے مشابہت دیکھ کر بے ہوش ہونے لگی تو انہوں نے مجھ سینے سے لگالیا اور سہارا دے کر گرنے سے بچایا۔سفینہ کے لہجے میں خوشی نمایاں تھی۔
’’اچھا!‘‘حفیظ الدین نے حیرت سے کہا۔ ’’لیکن یہ مشابہت والی بات ؟اس کا کیا مطلب؟‘‘حفیظ الدین نے پوچھا۔
’’میں خود بھی حیران ہوں وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہیں۔ ملزم آصف عرفان ہمیں سفر کے دوران ٹرین میں ملا تھا۔ وہ بہت شریف اور ہمدرد دل رکھنے والا نوجوان ہے اس نے مظلوم اور غریب لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ایک انسانی حقوق کی تنظیم بنائی ہوئی ہے۔ وہ مالی اعتبار سے خاصا مستحکم ہے لیکن اس پر چوریوں اور ڈکیتیوں کا الزام تھا اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ جن جن تاریخوں پر یہ واقعات جہاں جہاں ہوئے تھے وہاں بھی سفر میں تھا لیکن یوں تو بہت سے لوگ سفر کرتے ہیں تو کسی کی اس علاقے میں موجودگی اس بات کا ثبوت تو نہیں ہوتی کہ وہ اس حادثے میں ملوث بھی ہے جب تک کہ اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا گواہ موجود نہ ہو۔ چنانچہ آصف کے سلسلے میں بھی یہی ہوا اور ایک چھوٹی سی کارروائی کے بعد اسے رہا کردیا گیا لیکن کارروائی کے اختتام پر جہانگیر عالم نے ہماری توجہ سرکاری وکیل سلیم شہزاد کی طرف دلائی جو بالکل آصف کا ہمشکل تھا۔ اس پر عدالت میں موجود ہر شخص کو حیرت ہوئی تھی اور میں تو اتنی زیادہ مشابہت دیکھ کر بے ہوش ہونے والی تھی۔‘‘سفینہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’حیرت کی بات ہے۔‘‘حفیظ الدین نے کہا۔
’’اچھایہ بتائو سفینہ کہ ڈاکٹر رضیہ نے تمیز الدین کے بارے میں کیا کہا۔‘‘اس بار اس کی آنٹی نے سوال کیا تھا۔
’’ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے پہلے تو وہ کسی اجنبی شخص کے سامنے بہت نروس ہوتے تھے۔ اس سے آنکھیں چراتے تھے۔ اس کے سوالوں کے جواب نہیں دیتے تھے لیکن آج میں نے عدالت میں بھی یہ تبدیلی محسوس کی کہ انہوں نے میری مد دکے بغیر سوالوں کے جواب دیئے جو زیادہ واضح تو نہیں تھے لیکن بہرحال انہوں نے بولنے کی کوشش کی اور پھر مجھے سہارا بھی دیا۔ اس بات کی مجھے زیادہ خوشی ہے۔‘‘سفینہ نے کہا۔
’’اور ڈاکٹر رضیہ!وہ کیا کہتی ہے۔‘‘جمیلہ آنٹی نے اس کی توجہ پھر اپنے سوال کی طرف دلائی۔
’’وہ اس لحاظ سے تو مطمئن ہے کہ ڈیڈی میں مثبت تبدیلی آرہی ہے لیکن اس نے منع کیا ہے کہ انہیں زیادہ تر پبلک مقامات پر لے کر نہ جائوں اور پابندی سے ان کی دوائوں کا خیال رکھوں اور وہی خاص ہدایت کہ ان کے سامنے کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو یا ان سے پچھلی زندگی کے بارے میں ایسے سوالات نہ کئے جائیں جن کے وہ جواب نہ دے سکیں اور انہیں اپنے ذہن پر زیادہ زور دینا پڑی یہ ان کے لیے خطرناک ہوگا۔‘سفینہ نے کہا۔
’’ہم اس بات کا خیال رکھیں گے…اور تم بھی تو ان کا کتنا خیال کرتی ہو۔‘‘جمیلہ نے کہا۔
’’بس اللہ سے دعا کریں کہ وہ میرے ڈیڈی کو جلد از جلد نارمل انسان بتا دے وہ مجھے ایک ہمدرد ساتھی کے طورپر تو قبول کرچکے ہیں لیکن اپنی سگی بیٹی کی حیثیت سے بھی پہچان جائیں وہ میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔‘سفینہ نے کہا۔
’’میں تو ہر نماز میں دعا کرتی ہوں سفینہ اللہ بہتر کرے گا۔‘‘جمیلہ آنٹی نے کہا۔
’’اچھا آنٹی کل سے میں اپنے انسٹی ٹیوٹ بھی جائوں گی وہاں کے منتظم کا فون آیا تھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘جمیلہ نے کہا۔
’’میں ان کے کام کر جائوں گی اور ناشتہ کروانے کے بعد جائوں گی۔دو ڈھائی گھنٹے میں واپس آجائوں گی اکیلے تو وہ رہ لیتے ہیں بس میری غیر موجودگی کوئی ان کے کمرے میں نہ جائے۔‘‘سفینہ نے کہا۔
’’ہاں ہاں کوئی نہیں جائے گا۔ سب کو یہ بات معلوم ہے۔‘‘جمیلہ نے کہا۔
کھانے سے فارغ ہو کر سفینہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور بستر پر ڈھیر ہوگئی تھی۔ آج بہت مصروف دن گزراتھا۔ سیکورٹی گارڈ کا چونکہ پہلا دن تھا چنانچہ اس نے سفینہ کے کاموں میں کوئی مداخلت نہیں کی تھی۔ کئی موقعوں پر گاڑی سفینہ نے ڈرائیو کی تھی ۔ تب اس نے ڈیڈی کو اپنے ساتھ اگلی سیٹ پر بٹھایاتھا اور جب نبیل نے ڈرائیونگ کی تو سفینہ پچھلی سیٹ پر اپنے ڈیڈی کے ساتھ بیٹھی تھی۔ وہ سارا دن کی مصروفیت کے بارے میں سوچتے سوچتے سوگئی تھی۔
صبح اس کی آنکھ معمول کے مطابق چھ بجے کھل گئی تھی۔ اس کی یہ خاصیت تھی کہ وہ دن بھر چاہے کتنی بھی مصروف رہے اور رات کو کتنی ہی دیر سے بیڈ پر جائے لیکن صبح اس کی آنکھ ٹھیک پانچ بجے کھل جاتی تھی۔ اسے اٹھنے کے لیے کبھی گھڑی میں الارم لگانا نہیں پڑتا تھا۔ وہ اپنے کمرے سے جب باہر آئی تو تیار ہو کر ہی آئی تھی۔ نوربی بی نے ناشتہ تیار کیا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ناشتے کی ٹرے لے کرتمیزالدین کے کمرے میں گئی تھی اور ٹرے رکھ کر واپس آگئی تھی۔ سفینہ نے اپنے ڈیڈی کو ناشتہ کروایاتھا پھر کچھ دیر ان سے باتیں کرتی رہی تھی اور انہیں سمجھایا تھا کہ اسے کسی کام سے باہر جانا ہے وہ تھوڑی دیر میں واپس آجائے گی اس کے والد نے اس کی بات کا کوئی جواب تو نہیں دیا تھا لیکن ان کے چہرے پر کوئی پریشانی بھی نظر نہیں آئی تھی۔سفینہ گھر سے نکلی تو سیکورٹی گارڈ آگے بڑھا اس کا ارادہ سفینہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کا تھا۔
’’نہیں…نہیں نبیل!میں چلی جائوں گی۔‘‘سفینہ نے کہا۔
’’جی مجھ سے صاحب نے کہا تھا۔‘‘نبیل کا اشارہ حفیظ الدین کی طرف تھا۔’’وہ کہہ رہے تھے کہ سفینہ بی بی کے ساتھ جانا۔‘‘
’’نہیں !تم انہیں بتا دینا کہ میں ٹھیک ہوں تمہاری ضرورت یہاں ہے۔‘‘سفینہ نے کہا اور گاڑی آگے بڑھادی۔
راستے میں وہ سوچ رہی تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں پتہ نہیں انسٹیٹیوٹ کے منتظم عرفان صاحب نے مارشل آرٹ کی کلاسسز میں اسٹوڈنٹس کو کیا کچھ بتایا ہوگا اسے اپنی ایک اسٹوڈنٹ تانیہ کی بڑی فکر تھی۔ تانیہ سب سے بہادر اور ہوشیار تھی اور سفینہ سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ کار ڈرائیو کرتے کرتے سفینہ کا احساس ہوا کہ ایک بلیک کلر کی کار کافی دیر سے اس کا تعاقب کررہی ہے۔ اس نے کئی بار اس کار کو آگے نکلنے کے لیے راستہ دینے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ کار آگے نہیں گئی تھی۔ وہ خود کو کچھ فاصلے پر رکھے ہوئے اس کا تعاقب کررہی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close