Naeyufaq Jun-16

ملاقات(ڈاکتر شیخ اقبال)

ممتاز احمد

پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال بصارت سے محروم ہزاروں افراد کے لیے سرمایہ نور بصیرت ہیں وہ اپنے جیسے بے شمار افراد کے لیے حوصلے اور آرزو مندی کی روشن کرن ہیں۔ شیخ اقبال صاحب آٹھ سال تک دنیا کو اپنی روشن آنکھوں سے دیکھتے رہے اور فطرت کے مظاہر والوان سے متمتع ومستفید ہوتے رہے۔لیکن
؎روئے گل سیرنہ دیدیم وبہار آخر شد
کے مصداق ان کی بینائی رخصت ہوگئی اور اس عالم رنگ وبو میں رنگوں کے دیدار سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے۔ کوئی عام سا بچہ ہوتا تو اس حادثے پر رو دھو کر اور مایوسی کاشکار بن کر زندگی کو کمتر شرائط کے ساتھ قبول کرلیتا مگر یہ بچہ عزم و ہمت کاپتلا تھا۔ اس نے معذوری کو بے عملی کابہانہ بنانے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے آہنی ارادے سے کام لے کر اور محنت پیہم کووسیلہ بنا کر برابر آگے بڑھتا رہے گااور یہ ثابت کردے گا کہ اگر عزم مصمم ہواور محبت پیہم اس میں شامل ہوجائے تو کسی قسم کی معذوری انسان کاراستہ نہیں روک سکتی۔ اس معذور بچے نے نامساعد حالات میں دن رات محنت کی اور رفتہ رفتہ اعلیٰ تعلیمی مدارج طے کیے۔ ایم اے انگریزی کے بعد بھی رسمی اور غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھااور موقر اداروں میں پروفیسر کی حیثیت سے کام کرنے کے ساتھ ایم اے اردو کیااور پھر ایم فل (گولڈمیڈلسٹ) اور پی ۔ ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ حصول تعلیم کے سفر کی جدوجہد ان کاایک جزوصغیر ہے۔ انہوں نے’’سفید چھڑی‘‘ کے نام سے ایک علمی وادبی ماہنامہ جاری کیااور اس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کاسلسلہ بھی جاری رکھا۔ ادیبات سے شغف ہونے کی وجہ سے نظم ونثر دونوں میں اپنی ذات اور تجربات کو سمودیا۔ رفتہ رفتہ ان کی کئی مطبوعات منظر عام پر آئیں جنہوں نے اہل علم وادب سے خراج تحسین حاصل کیا۔ معمول کی گھریلو زندگی بھی اپنائی۔ شادی کی اور اللہ نے انہیں لائق اور صالح اولاد سے نوازا ان کی جدوجہد یہیں ختم نہیں ہوئی۔بلکہ وہ معاشرے کی خدمت میں اور زیادہ توانائی سے منہمک ہوگئے۔ تعلیمی ادارے چلائے‘ فلاحی انجمنیں قائم کیں اوربالخصوص معذور اور مستحق افراد کی فلاح وبہبود کے لیے زندگی وقف کردی۔ یہ ان کی کاوشوں کاہی نتیجہ ہے کہ کثیر تعداد میں نابینا اور معذور افراد ان کے زیر سایہ زیور تعلیم اور ہنر سے آراستہ ہو کر درس وتدریس کے کام سرانجام دے رہے ہیں اور ہنر سیکھ کر باعزت روزگار کما رہے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابل ستائش ہے کہ وہ آج بھی معاشرے کوبہتر بنانے کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔ ان کی زندگی ان تمام افراد کے لیے ایک مثال ‘نمونہ بلکہ مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے جو اپنی ذات کے حصار سے نکل کر سوسائٹی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال محض شاعر‘ ادیب‘ افسانہ نگار‘مترجم‘ ماہر تعلیم‘ مدیر اور سماجی کارکن ہی نہیں وہ ایک مدبر‘ مفکر اور ہردلعزیز استاد ہونے کے ساتھ چاہتوں کے اسیر ہیں‘ محبتوں کے سفیر ہیں‘ اپنے کلام اور افکار وخیالات کے حوالے سے نہایت زیرک‘ دانا عزم وہمت اور صبر واستقامت کے پیکر ہیں۔ آپ بڑے حساس‘ ذمہ دار‘ فرض شناس‘ بردبار‘ اوراونچے حوصلے والے ایک انسان دوست ہستی ہیں۔

السلام علیکم! جناب پروفیسر صاحب کیسے ہیں آپ؟
ج:۔ وعلیکم السلام! الحمداللہ‘ اللہ کریم کابے پناہ لطف وکرم ہے اس کے فضل سے ٹھیک ہوں اور اپنے ملک کے موقر اور بہترین ادبی جریدے ’’ماہنامہ نئے افق‘‘ کابے حدممنون ومشکور ہوں کہ میرے خیالات‘ حالات‘ پیغام اور کام دوسروں تک پہنچانے کے لیے انٹرویو کااہتمام کیا۔
س :۔آپ کی تاریخ پیدائش؟
ج :۔میں 15مارچ 1945ء ہندوستان کے ضلع کرنال مشرقی پنجاب میں پیدا ہوا۔
س :۔آپ کی بینائی کب اور کیسے ضائع ہوئی؟
ج :۔میری بینائی پیدائش ہی سے کمزور تھی۔ آنکھوں میں درد کی وجہ سے گھنٹوں رویا کرتاتھا گھروالے سمجھتے تھے کہ پیٹ میں کوئی تکلیف ہے۔ والد صاحب نے میری آنکھوں کامعائنہ امرتسر کے ماہر چشم ڈاکٹر سوہن سنگھ سے کرایاتو انہوں نے بتایا کہ آنکھوں میں کالا موتیا ہے‘ فوراً علاج کروائیں ورنہ بینائی جاتی رہے گی۔ جب پاکستان بناتو میری عمر دو سال تھی۔ جب والد صاحب نے مجھے لاہور میوہسپتال میں ماہر چشم ڈاکٹر محمد رمضان صاحب کو دکھایا تو انہوں نے میرے علاج سے معذوری ظاہر کی۔ پھر آٹھ سال کی عمر میں میری بینائی مکمل طور پر ختم ہوگئی۔
س :۔آپ کی تعلیم؟
ج :۔ایم اے انگلش‘ ایم اے اردو‘پہلانابینا ایم فل(گولڈ میڈلسٹ) پہلانابینا پی۔ ایچ ڈی ہوں۔
س :۔آپ کی کامیاب زندگی میں سب سے اہم کردار کس کا ہے؟
ج :۔میری زندگی میں اہم کردار‘ میرے والد ماجد جناب شیخ اللہ دیا(مرحوم) کاہے۔
س :۔اپنی ابتدائی زندگی اور بچپن کے بارے میں کچھ بتائیں؟
ج :۔پارٹیشن کے وقت جب میری عمر دوسال تھی میرے والد محترم کوبسلسلہ ملازمت جوئیہ جلال پور خوشاب میں لوئر مڈل اسکول کاہیڈ ماسٹر لگادیاگیا چنانچہ والد صاحب نے رہائش خوشاب میں اختیار کی۔ میرے چھوٹے بھائی محمد اشفاق کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ اس کی بینائی بھی ضائع ہوگئی تھی۔ جب ہم دونوں بھائیوں کی بینائی بالکل جاتی رہی تو والد صاحب کوبہت صدمہ ہوا۔ وہ ایک پختہ نمازی اور پابند شریعت ہوتے ہوئے بھی اس عظیم شاک کی وجہ سے انہوں نے پوشیدہ طو رپر دریائے جہلم (خوشاب کے قریب ) میں ڈوب مرنے کا تہیہ کرلیا۔ ایک رات جب ہم سب گھر والے سوئے ہوئے تھے تووہ آہستہ سے اٹھے اورباہر جانے کے لیے کنڈی کھولی تووالدہ صاحبہ اٹھ کھڑی ہوئیں ہم سب بھی جاگ گئے اور معاملہ سمجھ گئے تو میں نے چیخ کر کہا اباجان آپ اپنے آپ کو نہیں ہمیں قتل کرنے جارہے ہیں۔ خدارا ایسا نہ کریں تو میری استدعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے والد صاحب کو استقامت بخشی اور وہ اس ارادے سے باز آگئے اور ہماری تعلیم وتربیت میں منہمک ہوگئے۔ ہم دونوں بھائیوں کواندرون گیٹ شیرانوالہ لاہور میں سرکاری نابینائوں کے پرائمری اسکول میں داخل کروادیاجہاں پربریل رسم الخط میں تعلیم دینے کے علاوہ دستکاری بھی سکھائی جاتی اور میوزک کی کلاسز بھی تھیں جہاں میں نے چار سال میں بلائینڈ اسکول کا کورس مکمل کیااور گھر آگیا۔
س :۔ اپنی ابتدائی تعلیم اور مشکلات کے بارے میں بتائیں؟
ج :۔بلائینڈ اسکول کاکورس مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول خوشاب میں نویں‘ دسویں کلاسز میں بیٹھنا شروع کردیا۔ والد صاحب گھر پرمیٹرک کے تمام مضامین کی تعلیم شب وروز دیتے رہے۔ چھ ماہ کے بعد فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کرلیا۔ میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ کالج جوہر آباد میں داخلہ لے لیا جو خوشاب سے پانچ کلومیٹردور ہے۔ جہاں تک مشکلات کاتعلق ہے ایک تو یہ کہ خوشاب سے جوہرآباد آناجانابہت دشوار تھا‘ دوسرا کورس کی کتب بریل رسم الخط میں نہ ملنے کی وجہ سے بڑی تکلیف اٹھاناپڑتی۔تیسرا بریل لکھنے کاکاغذ تک پاکستان میں دستیاب نہ تھا۔ زرمبادلہ کی منظوری لے کر لندن سے منگوانا پڑتاتھا چوتھا کمرہ امتحان میں پیپر حل کرنے کے لیے درست رائیٹر کاحصول بہت مشکل تھا۔ ایف اے کاامتحان گورنمنٹ کالج جوہر آباد سے پاس کیااور کالج میں فرسٹ آیا۔ پھر گورنمنٹ کالج سرگودیا میں تھرڈ ایئر کی کلاسز میں داخلہ لیا اس زمانے میں کوئی بھی نابینا کالج کاطالب علم نہ تھا۔ جب میں تھرڈ ایئر کاطالب علم تھا تومیری ملاقات کئی بار ایزابل ایل ۔ڈی گرانٹIssabel-L.D-Grant سے ہوئی۔ ان کاتعلق امریکہ سے تھا۔ وہ امریکن نابینائوں کی ایسوسی ایشن کی خزانچی تھیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں نابینائوں کی تعلیم کااہتمام کرنے کی پوری کوشش کی اور تیسری دنیا میں نابینائوں کے لیے تنظیموں کاجال پھیلادیا۔ انہوں نے نابینا ہوتے ہوئے افریقہ‘ لاطینی امریکہ‘ ایشیا اور یورپ کا دوبار سفر کیا۔ انہوں نے مجھے حوصلہ دلایا ۔ ایک بریل ٹائپ رائٹر اور ایک عام ٹائپ رائٹر مہیا کردی جن کے ملنے سے بریل نوٹ لینے میں بڑی سہولت ہوگئی۔ اس کے ساتھ وہ بیش قیمت بریل کتب فراہم کرتی رہیں اور اپنی وفات تک مجھ سے خط وکتابت کاسلسلہ جاری رکھا اور میری حوصلہ افزائی جاری رکھی۔ میں نے بی۔ اے کاامتحان 1965ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا سے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ ایزابل ایل ڈی گرانٹ سے بھی متاثر ہوکرمیں نے نابینائوں کی فلاح شروع کی۔
س :۔اعلیٰ تعلیم کے بارے میں بتائیں کہاں سے حاصل کی؟
ج :۔ ایم اے کے لیے گورنمنٹ کالج (لائل پور) فیصل آباد میں داخلہ لیااور امتحان میں پوری یونیورسٹی (پنجاب یونیورسٹی لاہور) میں پانچویں نمبر پر اور کالج میں پہلے نمبر پررہا۔ ایم اے اردو کیا۔ ایم فل میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ پی ایچ ڈی کی ‘ ہر جماعت میں رول آف آنر‘ وظائف او رمتعدد انعامات جیتے۔
س:۔نابینا افراد کی کتابیں کیسی ہوتی ہیں؟
ج :۔نابینائوں کی کتابوں کوبریل کہاجاتاہے ان کاکاغذ موٹا ہوتا ہے اور الفاظ ابھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے باریک نکتوں کی طرح ہوتے ہیں جن پر ہاتھوں کی انگلیاں پھیری جاتی ہیں جن کے ذریعے حروف ابجد کی شناخت ہوتی ہے یعنی لفظوں کے مختلف زاویے حروف کی علامتیں ہوتی ہیں تو لفظوں کی سمجھ آتی ہے۔
س :۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے کیریئر کاآغاز کب کیا؟
ج :۔میں تو اپنے آپ کو اب بھی طالب علم سمجھتاہوں کیونکہ علم ایک سمندر ہے اور کوئی بھی انسان یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتا کہ اس نے تعلیم مکمل کرلی ہے۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد 1968ء میں گورنمنٹ کالج سرگودھا میں بطور لیکچرار تعینات ہوا اور اپنے کیریئر کاآغاز کیا۔ میں پہلانابینا فرد ہوں جسے بصارت میں محرومی کے باوجود اعلیٰ سرکاری ملازمت پرمتین کیاگیا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر رہا۔ دسمبر1997ء میں اپنی ملازمت سے قریبا نو سال قبل ریٹائر منٹ لے لی پھر یونیورسٹی آف سرگودھا میں پروفیسر رہا۔
س :۔درس وتدریس کے علاوہ آپ کی اور کیا کیا خدمات ہیں؟
ج :۔اللہ پاک کی مہربانی سے در س وتدریس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چالیس برس سے بے بصر افراد کی تعلیم وتربیت کے لیے کوشاں ہوں کہ وہ اپنے پائوں پرخود کھڑے ہو کرباعزت مقام بنائیں۔ ایک ہمہ جہتی اسکول سفید چھڑی مرکز برائے نابینا افراد نیو سٹلائٹ ٹائون سرگودھا میں قائم ہے جہاں نابینائوں کوتعلیم کے ساتھ مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ تابش اکیڈیمی کے نام سے ایک پرائیویٹ ادراہ بھی میری سرپرستی میں شہر بھر کے بچوں اور بچیوں کے لیے تعلیمی سہولیات فراہم کرتا ہے۔اپنے علاقہ رحمت پارک کی ویلفیئر سوسائٹی کاصدر ہوں۔ کنٹیونمنٹ بورڈ سرگودھا کی پبلک سیفٹی کارکن ہوں۔ ایڈوائزری کمیٹی ریڈیوپاکستان سرگودھا کارکن ہوں۔ ایڈیٹرز کونسل سرگودھا ڈویژن کاایک مدت تک ایگزیکٹو ممبر رہا۔ ’’ماہنامہ سفید چھڑی‘‘ کابانی اور ایڈیٹر ہوں جو کہ ایک علمی اور ادبی جریدہ ہے اور گزشتہ چوبیس سال سے مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ گزشتہ تیس سالوں سے ’’بزم فکر وخیال‘‘ کابانی اور صدر ہوں‘ نابینائوں کی ملک گیر تحریک ’’پاکستان ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ کاایک مدت کے لیے بیک وقت ضلعی‘ صوبائی‘ اور مرکزی صدر منتخب ہوا۔ صدر تھنکرز فورم فارسوشل اپ لفٹ لاہور۔ میری غزلیات پرمبنی معروف گلوکاروں کی آواز میں دو البم منظر عام آچکے ہیں۔ اب میں نے ’’تعلیم سب کے لیے ‘‘ کے نظریے سے ایک welfare Education Centerٹورئیس اکیڈمی کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس میں ان بچوں کومفت تعلیم دی جائے گی جو فیس نہیں دے سکتے کیونکہ ہم پاکستان کو سچ مچ پڑھا لکھا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔
س :۔ جب آپ کالج اور یونیورسٹی میں پڑھایا کرتے تھے تو آپ کے شاگرد آپ سے تعاون کرتے تھے؟ آپ کے پڑھانے سے مطمئن ہوتے تھے؟
ج :۔ مجھے ہمیشہ بہت اچھے شاگرد ملے اور مجھے اپنے تمام شاگرد اپنے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔ ان کاتعاون ہمیشہ مجھے شامل حال رہا ہے۔ اور الحمداللہ میرے سب شاگرد مجھ سے مطمئن رہے ہیں۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں میرے شاگرد جج‘ آفیسر‘ وکیل‘ ڈاکٹر‘ انجینئر اور بیوروکریٹ ہیں۔ کثیر تعداد میں میرے شاگردوں نے مجھ سےCSSاورPCS(مقابلے کے امتحانات) کی تیاری کی اور کامیاب ہوئے۔
س :۔آپ کی زندگی کاکوئی یادگار دن؟
ج :۔جب مجھے لیکچرار کی جاب ملی۔
س :۔زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ؟
ج :۔جب مجھے اچھی بیوی ملی۔
س :۔آپ کی آئیڈیل شخصیت جس سے متاثر ہوں؟
ج :۔حضرت ڈاکٹر محمد علامہ اقبال۔
س :۔آپ کے پسندیدہ رائٹر اور شاعر؟
ج :۔علامہ اقبال‘ فیض احمد فیض۔
س :۔موسیقی سے لگائو ہے؟ کیااس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے؟
ج :۔ جی ہاں موسیقی سے لگائو ہے ‘ اداس نغمے اچھے لگتے ہیں اور بالکل اتفاق کرتا ہوں۔ اچھی موسیقی روح میں اتر جاتی ہے۔
س :۔پسندیدہ گلوکار؟
ج :۔ملکہ پکھراج‘لتامنگیشر‘ حبیب ولی محمد‘ نورجہاں۔
س :۔آپ کی خواہش؟
ج :۔آنکھیں مل جائیں دیکھ سکوں۔
س :آ پ کے خیال میں اچھی شاعری کیا ہے؟
ج :۔اچھی شاعری وہ ہے جس میں جذبات کااظہار جمالیاتی پیرائے میں ہو۔
س :۔آپ اللہ سے کیامانگتے ہیں؟
ج :۔اللہ سے وہ طاقت مانگتاہوں جس سے انسانیت کے لیے کچھ بہتر کرسکوں۔
س :۔آپ کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں اور ان میں غالب پہلو شاعری دکھائی دیتاہے۔ شاعری کے تین پہلو ہیں‘ فن‘ فکر اور تخیل تو آپ کے خیال میں آپ کی شاعری میںان میں سے کون سا عنصر غالب ہے؟
ج :۔میری شاعری میں فن‘ فکر اور تخیل میں کیا چیز غالب ہے اس کافیصلہ کرنا نقاد کاکام ہے لیکن میرے خیال میں یہ تینوں عناصر ہی شاعری کے لیے ضروری ہیں فکر میں فن شامل ہوگا تو شاعری ہوگی فکر کے بغیر شاعر محض خیالی گھوڑے دوڑاتا رہتا ہے اور تخیل کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔
س :۔آپ کو شاعری کاشوق کیسے پیدا ہوا؟
ج :۔مجھے شروع سے ہی اشعار اچھے لگتے تھے۔ شعر سنتاتھا‘ شعراء کرام کی محفل میں بیٹھتاتھا مشاعروں میں جاتاتھا تو مجھے بھی شاعری کاشوق پیدا ہوا‘ پھر ایم اے کرنے کے بعد شاعری شروع کی۔
س :۔آپ کے کتنے مجموعہ کلام اور کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور انکے نام کیاہیں؟
ج :۔الحمداللہ اب تک میری نثری اور شعری تخلیقات سولہ عدد شائع ہوچکی ہیں جن کے نام یہ ہیں۔
نثر:۔
1۔ذوق تماشا(1993ء)…2۔جہان مہ وپرویں(1997ء)…3۔دیدہ دل(1998ء) … 4۔ کب رات بسر ہوگی۔2001ء)… 5۔آشوب آگہی (2007 ء)… 6۔مجھے ہے حکم اذاں (2012ء) …7۔ڈپریشن‘ علامات‘ اسباب اور علاج (2013ء)
شاعری :۔
1۔ساحل تشنہ لب(1982ء)…2۔سوالیہ نشان (1993ء)…3۔اک ہمسفر اچھا لگا (1998ء) … 4۔تلاوت دل مجموعہ حمدونعت(1998ء)…5 ۔Love`s no crime(2005ء)…6۔یہ کافر دل نہیں مانا(2007ء)
تنقید:۔
1۔جون ڈن شخصیت اور شاعری (1993ء) …2۔اقبال بحضور اقبال (1999ء)… 3۔جون کیٹس شخصیت اور شاعری(2001ء)
خود نوشت:۔
پردہ سیمیں سے(چند سوانحی جھلکیاں(2009ء)
زیر طبع:۔The impact of british poets on iqbal(پی ۔ایچ ۔ ڈی کامقالہ)
اس کے نام (شاعری)
س :۔ابھی زندگی میں کچھ اور کرنے کی خواہش اور جو کچھ اب تک کیا اس سے مطمئن ہیں؟
ج :۔بہت زیادہ خواہش ہے کہ انسانیت کے لیے اور کچھ کروں۔ جو کچھ کیا اس سے مطمئن نہیں ہوں کیونکہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔
س :۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج :۔پرائیویٹ ایجوکیشن درست ہے ٹھیک ہے مگر مقصد کاروبار پیسہ کمانا نہ ہوبلکہ علم تقسیم کرناہو۔
س :۔موجودہ تعلیمی نظام سے آپ مطمئن ہیں؟
ج :۔میں موجودہ تعلیمی نظام سے مطمئن نہیں ہوں۔ سمسٹر سسٹم سے تعلیم کوعلم نہیں سمجھتا یہ صرف ڈگری کے حصول کا ذریعہ ہے۔ علم نہیں‘ ہماری نوجوان نسل کتابوں سے اس لیے دور ہوتی جارہی ہے کہ ان میں علم حاصل کرنے کی خواہش اور جستجو نہیں ہے وہ صرف ڈگری برائے حصول جاب‘ ملازمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
س :۔ آپ ماہر تعلیم بھی ہیں تو اس حوالے سے محکمہ تعلیم میں کیا کیا اصلاحات ہونی چاہئیں؟
ج :۔اداروں کے ہیڈز کوارباب اختیار محکمہ تعلیم سے لینا چاہیے ‘ تعلیم کو آزاد کردیاجائے۔ اساتذہ کوwell qualifiedہونا چاہیے ان کی تقرری کے وقت نفسیاتی ٹیسٹ ہونا چاہیے۔
س :۔غصہ کب آتا ہے اور کیوں آتا ہے؟
ج :۔مجھے غصہ بہت کم آتا ہے اگر کوئی جھوٹ بولے تو پھر غصہ آتا ہے۔
س :۔ کس طرح کے لوگوں سے مل کر کوفت ہوتی ہے؟
ج :۔مجھے کسی سے بھی کوفت نہیں ہوتی میں انسانیت سے پیار کرتا ہوں۔
س :۔فار غ اوقات میں آپ کیا کرتے ہیں؟
ج :۔فرصت میں اشعار لکھتاہوں‘ دوستوں عزیزوں کو فون کرتاہوں‘ موسیقی سنتاہوں‘ ہارمونیم بھی رکھاہوا ہے اسے بجاتاہوں اور گیت گاتاہوں۔
س :۔کوئی ایسا کام جو کرکے آپ خوشی محسوس کرتے ہیں؟
ج :۔کسی کے دکھ درد‘ پریشانی کو شیئر کرکے‘ کسی کی دلجوئی کرکے کسی کے آنسو پونچھ کر‘ بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے۔
س :۔ڈاکٹر صاحب آپ جیسے علم وادب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بے پناہ مصروفیات ہوتی ہیں اور اس سلسلے میں فیملی بہرحال متاثر ہوتی ہے تویہ فرمائیں کہ آپ نے اپنی فیملی کو کس طرح وقت دیا اور بچوں کی پرورش کیسے ممکن ہوئی؟
ج :۔میں نے انگریزی کے شاعر الیگزینڈر پوپ کوپڑھا‘ اس نے کہا کہ میں نے شاعر بننے میں اپنے گھر کا کوئی نقصان نہیں کیااور پھر بھی شاعر بن گیا ۔ میں شاعر بنایانہیں اس کافیصلہ ناقدین ادب کریں گے لیکن اپنے خاندان کو بہرحال میں نے ہمیشہ پیش نظررکھا۔ میراایک بیٹا تابش اقبال ایک ملٹی نیشنل …سیمنٹ فیکٹری میں بطور سنیئر انجینئر فرائض سرانجام دے رہا ہے اور خاصا خوشحال ہے۔ بیٹی کوکب اقبال لاہور کے ایک سرکاری کالج میں انگریزی کی پروفیسر ہے اور شاعرہ بھی ہے۔جبکہ دوسری بیٹی کشور اقبال سرگودھا کے ایک سرکاری اسکول میں سنیئر انگلش ٹیچر ہے۔ تینوں بچوں کی شادیاں کردی ہیں۔ میرے تینوں بچوں کومجھ سے یہ شکایت کبھی نہیں رہی کہ میں نے انہیں توجہ نہیں دی بلکہ میں نے خود ان کوپڑھایاہے اور نتیجہ اللہ کے فضل وکرم سے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور برسرروزگار اپنے اپنے گھروں میں خوشحالی اور آسودگی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میرا اصول ہے کہ میں جو کام کرتا ہوں اس میں کھوجاتاہوں۔ لہٰذا جب میں پڑھاتاہوں تو واقعی پڑھاتاہوں‘ اورجب میں پیار کرتا ہوں تو واقعی پیار کرتاہوں۔ یہ ضروری ہے کہ جب آپ کام کریں تو اس سے انصاف کریں میں نے کبھی اپنی فیملی کو نظر انداز نہیں کیا اورمیرے خیال میں اس کے نتائج بھی ٹھیک رہے ہیں۔
س :۔آپ کے کام اور خدمات کے نتیجے میں کون کون سے انعامات اور اعزازات سے آپ کو نوازاگیا؟
ج :۔1۔ سکائوٹنگ میں خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ۔
2۔سماجی خدمات کے اعتراف میں پنجاب سوشل سروسز ایوارڈ۔
3۔ستارہ سماج منجانب پاکستان سوشل ایسوسی ایشن۔
4۔نشان خدمت منجانب ینگ سرونٹس ویلفیئر سوسائٹی سرگودھا۔
5۔پنجاب انجم ایوارڈ منجانب انجم ایوارڈ سوسائٹی وقاسم آرٹ سوسائٹی سرگودھا۔
6۔تین عدد ایوارڈ منجانب ایڈیٹرز کونسل سرگودھا۔
7۔تین عدد شیلڈ منجانب یونیورسٹی آف دی پنجاب لاہور۔
8۔شیلڈ منجانب گورنمنٹ کالج سرگودھا۔
9۔شیلڈ منجانب قائد اعظم لاء کالج سرگودھا۔
10۔عمدہ کارکردگی پرقائداعظم گولڈ میڈل۔
11۔خدمت انسانیت ایوارڈ منجانب رائومنان ڈائلسز سینٹر سرگودھا۔
12۔بیٹ پرفارمنس ایوارڈ منجانب الیکٹرونک میڈیا کلب سرگودھا۔
13۔مرکزی وزارت ثقافت کی طرف سے زبان وادب۔
14۔شیلڈ منجانب کمانڈنٹ اینڈ آل آفیسرز(آرمی وٹینری اسکول )سرگودھا۔
س :۔آپ نے زندگی میں بھرپور کام کیا ہے ادبی حوالے سے بھی اور عملی طور پر بھی اور آپ نے یہ سب کچھ کسی صلے یاستائش کی خواہش کے بغیر کیا ہے تو کبھی آپ کواحساس ہوا کہ یہ صدارتی ایوارڈ اور پرائڈ آف پرفارمنس ایسے لوگوں کو دیئے جاتے ہیں جو شاید اس کااستحقاق نہیں رکھتے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟
ج :۔ میں مانتا ہوں کہ کام کرنے کے لیے ایوارڈز اور تمغے ضروری نہیں ہوتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے ایوارڈز بعض اوقات آپ کی آواز کو اس کھوکھلی دنیا میں توانابناتے ہیں اس لیے میرے خیال میں ان کی ضرورت ہونی چاہیے اور کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے کہ شاید میری آواز ان ایوانوں تک نہیں پہنچی ۔ سرگودھا سے دو مرتبہ میری صدارتی ایوارڈ(پرائڈ آف پرفارمنس) کے لیے نامزدگی ہوئی لیکن شاید منسٹریل سطح پرApproveنہیں ہوسکا لیکن میرا خیال ہے کہ جب میری آواز موثر انداز سے ان ایوانوں تک پہنچے گی تو یقینا اسے تسلیم کیاجائے گااوراس کی ضرورت شاید اس لیے بھی ہے کہ میں جو پیغام معذورین کے حوالے سے دینا چاہتاہوں اس سے اس آواز کوتوانائی ملے گی شرط یہ ہے کہ حکومت اور علمی وادبی ادارے اس حقیقت کی طرف توجہ دیں۔
س :۔پاکستان آپ کی نظرمیں؟
ج :۔میری نظر میں پاکستان دنیا کاسب سے خوبصورت اور بہت پیارا خطہ ہے۔ اللہ رب العزت نے اسے ہر نعمت سے نوازاہے۔ چاروں موسم ہیں‘ ہر طرح کے پھل‘ سبزیاں اور دیگرفصلیں یہاں کاشت ہوتی ہیں۔ پاکستان ہمارا پیارا ملک عطیہ خداوندی ہے۔ پاکستان میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ٹیلنٹ سے صحیح طرح سے مستفید ہونے کے مواقع زیادہ ہونے چاہئیں۔ پاک پروردگار ہمارے ملک کوہمیشہ سلامت اور آباد رکھے آمین۔
س :۔پاکستان کی سیاست اور حکومت سے آپ مطمئن ہیں؟
ج :۔میں پاکستان کی سیاست اور حکومت سے ہرگز مطمئن نہیں ہوں‘ پاکستان ہمارا پیارا عظیم ملک بڑی قربانیوں کے بعد ہمیں ملا مگر پاکستان میں مسائل صرف اس وجہ سے ہیں کہ یہاں پردولت کی غیر مساوی تقسیم ہے‘اقتصادی ‘ سیاسی نظام بہتر نہ ہونے کی وجہ سے بگاڑ دیاگیاہے۔ یہاں دین کوسیاست سے الگ کردیاگیا ہے۔ ہمارا دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں سب کچھ ہے۔ دین معاشی انقلاب کابہت بڑا ذریعہ اور حصہ ہے۔ کاش امیر شخص اتناامیر نہ ہو کہ غریب کاگلا گھونٹ دے‘ کاش ہم ایک دوسرے کااحترام کرنا سیکھیں‘ فرقہ واریت‘ انتہاپسندی اور دہشت گردی کاہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے۔ کرپشن کاوجود مٹ جائے۔ ناانصافی نہ ہو۔
س :۔آپ سخت دل ہیں یانرم مزاج؟
ج :۔جی میں بہت نرم مزاج ہوں۔
س :۔اگر کچھ دیر کے لیے آپ کو آنکھیں مل جائیں تو؟
ج :۔تومیں اپنے آپ کو ہی دیکھتا رہوں گا۔
س :۔آپ کے خیال میں حب الوطنی کیاہے؟
ج :۔سب سے پہلے یہ وضاحت کردوں کہ درست لفظ حب الوطن ہے اور یہ ہے کہ ایمانداری ‘دیانت داری‘ محنت‘ لگن‘ خلوص نیت‘ اور مستقل مزاجی سے قائد اعظم کے فرمان کے مطابق کام‘ کام اور بس کام کریں۔ اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے ملک کوآگے بڑھائیں۔
س :۔ماشاء اللہ آپ کی عمر اکہتر سال ہوگئی ہے ۔ کیاآپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ اپنی صحت کا خیال کیسے رکھتے ہیں؟
ج :۔ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان مبارک ہے کہ جب آپ کھائیں تو اس وقت کھانا چھوڑ دیں جب کچھ بھوک ابھی باقی ہو۔ میں اس فرمان پرعمل کرتاہوں۔ جب میں سری ہوچکاہوتاہوں تو آپ میرے سامنے کچھ بھی رکھ دیں نہیں لوں گا۔ دوسرا میری یہ بھی کوشش ہوتی ہے کہ میں پریشانیوں کوزیادہ ذہن میںجگہ نہ دوں‘ اور تیسرا صحت کے لیے چہل قدمی کرلیتاہوں۔
س :۔آپ کاخواب؟
ج :۔میراخواب ہے کہ پاکستان کا ہربچہ‘ ہرشخص زیور تعلیم سے آراستہ ہو‘ کہیں غربت نہ ہو‘ ہر کسی کو اس کاحق ملے انصاف ملے‘ عدم مساوات نہ ہو‘ ہر ایک کو روزگارملے‘ ہرفرد باعزت مقام پر ہو‘ معذوروں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں تاکہ وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر صحت مندانہ زندگی گزاریں ۔
س :۔آپ کے اپنے دو پسندیدہ اشعار؟
ج : 1
وہ جتنی چاہے دعائیں خرید سکتاہے
امیر شہر کو کچھ بددعا کاخوف نہیں …!!
قتل حسین روز کامعمول بن گیا…!!
دنیا میں آج بھی ہے حکومت یزید کی
س :۔آپ نے سفید چھڑی کے نام سے جو ادارہ بنایا ہے اس کے اغراض ومقاصد کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟
ج :۔پاکستان ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈڈسٹرکٹ سرگودھا ۔نابینائوں کے لیے عرصہ دراز سے یہ ادارہ چلارہا ہے۔ جس میں قیام وطعام اور تدریس کامفت انتظام ہے۔ اسکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹی کی سطح کے نابینا طلباء کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حفظ وتجویز قرآن کابھی اہتمام ہے ۔ نابینا طلباء کو جدید تقاضوں کے پیش نظر کمپیوٹر کی تربیت بھی دی جارہی ہے علاوہ ازیں دستکاری بھی سکھائی جاتی ہے تاکہ یہ نابینا بچے اپنے پائوں پر کھڑے ہوسکیں۔ ایک بڑی تعداد کالجز اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ طلبہ کو تعلیمی وظائف بھی دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں طالب علم اپنی روزی اب خود کماتے ہیں۔ ادارے کاماہانہ خرچ کم وبیش دولاکھ روپے ہے۔ ہمارے اس ادارے میں پاکستان بھر سے نابیناافراد مفت داخلہ لے سکتے ہیں جنہیں تعلیم اور ہنر سکھانے کے ساتھ مفت رہائش اور کھانا بھی دیا جاتا ہے۔
س :۔یہ تمام اخراجات آپ کیسے برداشت کرتے ہیں؟
ج :۔اپنی جیب سے مجھ سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرتاہوں۔ علاوہ ازیں مخیرحضرات بھی ادارے کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ادارہ چل رہا ہے۔
س :۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ آپ کی انجمن کی مالی معاونت کرناچاہے تو؟
ج :۔جی بالکل مالی معاونت کرسکتاہے یہ توبہت بڑا کارخیر ہے۔ اگر کسی کووقت ملے تو وہ بذات خود تشریف لاکرہماری ادنیٰ سی کاوشوں کوملاحظہ کرسکتاہے۔
س :۔کوئی تحفہ جو آج تک سنبھال کررکھاہو؟ کس نے دیا؟
ج :۔اہلیہ کے خطوط اور کسی کی آواز۔
س :آپ کاپہلا شعری مجموعہ کونساتھااور کب شائع ہوا؟
ج :۔ساحل تشنہ لب 1982ء میں شائع ہوا۔
س :کیاشعور سے آگہی کے لیے علم اور تعلیم ضروری ہے؟
ج :۔بہت ضروری ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر شعور سے آگہی نہیں مل سکتی۔
س :۔آخرمیں نئے افق کے قارئین کے لیے کوئی پیغام؟
ج :۔میراپیغام ہے محبت جہاں تک پہنچے۔ انسانیت سے پیار کریں‘ انسانیت کااحترام کریں‘ دوسروں کے کام آئیں کسی کی دل آزاری نہ کریں۔
*…*…*…*
مجموعی طور پر پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کی زندگی اہل دانش کے لیے مینارہ نور ہے وہ بے بصر ہونے کے باوجود ہر ایک کوزندگی کا درس دیتے ہیں ہر ایک کو انسانیت کی راہ دکھاتے ہیں۔ وہ عمل پرزور دیتے ہیں۔ وہ دوستی کو‘ امن کو‘ بھائی چارے کو اور امن وآتشی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close