Naeyufaq Jun-16

گفتگو

عمران احمد

عزیزان محترم… سلامت باشد

جون کا شمارہ حاضر مطالعہ ہے ہم نے اس کی تیاری میں جو محنت کی ہے امید ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے قارئین کے سامنے سرخرو کرے گا کرنے کو باتیں تو بہت ہیں مگر گرمی کی شدت اے سی میں بھی ہمارا حال پوچھ رہی ہے سو اس ماہ اتنے پر ہی گزارا کرلیں ہاں محترم تفسیر عباس بابر کا شکریہ ہم پر واجب ہے انہوں نے بڑی محبت سے اپنا ناول سنگ ریزے ہمیں ارسال کیا۔ اس ناول پر محترم امجد جاوید، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی، ناصر ملک، اعجاز احمد راحیل کے تبصروں کے بعد ہمارا کچھ کہنا… دوسرے لفظوں میں ان صاحبان نے ہمارے لیے کچھ کہنے کو چھوڑا ہی ہی نہیں۔ ہم صرف اپنے قارئین کو اتنا ہی مشورہ دیں گے کہ اگر آپ کوئی اچھی تحریر پڑھنا چاہتے ہیں تو ایک بار سنگ ریزے کا مطالعہ ضرور کریں۔
ہمارے وہ قاری جو گفتگو اور دیگر سلسلوں میں حصہ لیتے ہیں اور اپنی رائے سے ہماری اصلاح کرتے ہیں ان میں سے بیشتر اپنے ایڈریس واضح طوپر نہیں لکھتے جس کی وجہ سے ہمیں انعامی رقم ارسال کرنے میں دشواری ہوتی ہے اور منی آرڈر کی رقم واپس آجاتی ہے لہٰذا قاری اپنا ایڈریس واضح اور صاف صاف لکھا کریں تاکہ ہمیں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انعام یافتہ قارئین فون کرکے بھی ہمیں اپنے ایڈریس سے آگاہ کرسکتے ہیں۔
اب چلتے ہیںآپ کے محبت ناموں کی طرف اس ماہ کا انعام یافتہ خط ہے۔عبدالجبار رومی کالاہور سے۔ آپ فرماتے ہیں لطیف نرم و نازک شگفتگی کا احساس دلاتا سرورق بہت ہی خوب صورت تھا بازوئے قاتل میں کتنا زور ہے ثمرات تو ہم دیکھ ہی رہے ہیں اور دہشت گردی پر بھی قابو پایا جا چکا ہے اور دہشت گرد کہیں بچے کچے رہ گئے ہیں وہ بد حواسی میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا جاتے ہیں جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ جاوید احمد صدیقی کی انعام یافتہ باتیں بہت اچھی لگیں اس معاشرے میں اچھائی کا پرچار کرنے کے لیے اچھے لوگوں کو انفرادی طور پر خود آگے آنا ہوگا ملکی حالات اس طرح کے ہیں ہم اپنے رہنمائوں کو رہنما بھی نہیں کہہ سکتے وہ تو خود کرپشن لوٹ مار میں پور پور ڈوبے ہوئے ہیں تو ان سے خوشحال اور پر امن معاشرے کی کیا توقع کریں۔ مجید احمد جائی کی سطر سطر اثر انگیز رہی بہت اچھا تبصرہ کیا ہے۔ دعائوں میں یاد رکھیے۔ صائمہ نور کا تنقید و تعریف سے مامور تبصرہ بے حد اچھا لگا۔ ایم اے راحیل بھی بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ابرار حسین رضوی اقوام متحدہ کے کان کھڑے ہوتے ہیں وہ بھی یہود و نصاریٰ کے لیے اہل مسلم کے لیے وہاں کوئی شنوائی نہیں ہے ورنہ اب تک کشمیر و فلسطین چیختا و بوسینا اور برما میں مسلمانوں پر مظالم نہ ڈھائے جاتے ہوں باقی آپ کاتبصرہ بہترین رہا۔ طاہرہ جبیں تارا لاہور میں ہوئی دہشت گردی نے تو خون کے آنسو رلایا کے گلشن کو لہو رنگ میں ڈبو دیا گیا اللہ تعالیٰ ہمارے شہر کو امن و امان دے۔ آپ کی تبصرہ نگاری نہایت عمدہ رہی۔ محفل میں آتی رہنا۔ بشریٰ کنول نے بھی مصروفیت سے وقت نکالا بہت اچھی بات ہے۔ ایم اشفاق بٹ کے دل کی آواز بھی خوب گونج رہی تھی حساس دل سے نکلے الفاظ یقیناً اثر رکھتے ہیں۔ محترم خلیل جبار کا اصلاحی تبصرہ بھی معاشرے کے منفی پہلوئوں پر نظر رکھے ہوئے ان کی اصلاح کا خواہاں تھا جو بہت اچھی بات ہے یہی تو عوام کے دل کی آواز ہے کسی طرح ہمارے معاشرے کو امن و استحکام نصیب ہو عمر ارشد اور پرنس افضل شاہین کا تبصرہ بھی زبردست رہا۔ ریاض بٹ، رمشا ملک اور ریاض حسین قمر کے بھرپور خط بھی نمایاں رہے اس کے علاوہ ایم ریاض الحق، حذیفہ چوہان، شعبان کھوسہ، محمد یاسر اعوان، محمد احمد رضا انصاری اور محمد رفاقت نے بھی بہترین تبصرہ نگاری کی ہے۔ لیپ کا سال بہت اچھا ناول تھا۔ خاک ہو کے بھی مہکتے ہیں گلابوں کی طرح مظلوم کشمیریوں پر کون کون سے ظلم نہیں ہوتے سن کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے بغل میں چھری منہ میں رام رام اپنی مکارانہ ذہنیت سے ہندو مسلمانوں پر ظلم کرنے سے بھی بات نہیں آتا۔ ایک خدیجہ کا جنازہ پڑھ دینے سے وہ دکھی تو ہوگئے لیکن اس پر اور اس کے خاندان پر ظلم کرنے والے بھی تو وہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کشمیریوں کو صبر و استحکام بخشے اور آزادی نصیب فرمائے آمین۔ خاک نشیمن نے دکھی کردیا کشمیریوں کی عظمت کو سلام ہے۔ بے شک اللہ ہی فلسطینیوں کا مددگار اور پرسان حال ہے۔بیت الحنین آہوں، سسکیوں میں ڈوبی زریں قمر کی جھنجوڑ دینے والی تحریر تھی اللہ تعالیٰ سبھی مسلمانوں کو یکجا ہونے کی توفیق دے ۔ کاٹھ کا الو خفیہ شادی بھی کی لیکن پھر بھی کچھ ہاتھ نہ آیا سعید تو بے چارہ رہ گیا خالی ہوشیاری چالاکی کسی کے بھی کام نہ آئی۔ ریاض بٹ کی مختصر مگر اچھی تحریر تھی۔ پکھی داس یہاں انسان بھی پکھی داس ہے تو پھر کیوں نہیں سمجھتا اپنی انا کے بت میں اکڑتا ہے اگر عاجزی اختیار کرلے تو ہمدردی و انکساری سے سبھی کو ساتھ ملا کر چلے تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بپھر جائیں۔ صداقت حسین شاہین کی پر اثر تحریر بے حد عمدہ رہی۔ فن پارے میں سہرا سجانے کا ارمان ہندسوں کے ہیر پھیر اور پکار بہت اچھی تحریریں تھیں۔ ذوق آگہی میں ارم خان، مہوش ارم اور حسین خواجہ کے اقتباس نہایت عمدہ رہے جبکہ خوش بوئے سخن میں فرح بھٹو، زبیر قیصر اور عثمان انیس کا کالم بہترین رہا۔
مجیداحمد جائی…ملتان شریف۔ اُمید ہے اللہ تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے خوشگوار زندگی گزارتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ رحمتوں ،نعمتوں کے سائے تلے ہمیشہ خوشحال رکھے ،خوشیوں کے میلے ہوں ،غم و الم سے بچائے اور دین اسلام پہ عمل پیرا رہنا کی توفیق عطا فرمائے رکھے آمین ثم آمین۔ ما ہ مئی 2016کا شمارہ بروقت مل گیا۔سر ورق پہ بیٹھی حسینہ یورپ سے درآمد شدہ تھی۔جو مدہوش سی تھی۔اب مدہوشی کی وجہ تو وہی بتا سکتی ہے ہم تو یہ بتا سکتے ہیں کہ ملتان میں گرمیاں زوروں پہ ہیں اور ہم گرمیوں کو انجوائے کر رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ پاک وطن عطا کیا جس میں چاروں موسم آتے ہیں۔گرمیوں میں پھلوں کی کئی اقسام منڈیوں میں آجاتی ہیںاور سڑکوں پہ جگہ جگہ شربت،شکنجی فروخت کرنے والے وارد ہو جاتے ہیں اور سادہ دِلوں سے کھیلتے ہیں ،ان کے نقصانات اسکول کے بچے اُٹھاتے ہیں جو چھٹی کے وقت پیاس بجھانے کے لئے اِن کا رُخ کرتے ہیں۔ دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے خوب لکھا۔پاک افواج کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بیدار ہونا ہوگا۔ان سیاستدانوں کو جگانا ہو گا جن کے ضمیر تک سو چکے ہیں ۔ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہر معاملے میں افواج اپنا کردار ادا کر رہی ہے لیکن کیا یہ سبھی ذمہ داریاں پاک افواج پہ ڈال کر عوام اور حکمران بری الذمہ ہو جائیں گے ۔۔؟نہیں سب کو مل کر ملک دُشمن عناصر کو کیفر کردارانجام تک پہنچانا ہوگا۔ گفتگو میں عمران احمد صاحب نے حدیث کا سلسلہ برقرار رکھ کر روایت کو قائم رکھا۔ہم سب کو ایسے اعمال ضرور بہ ضرور کرنے چاہیں جو بعد مرنے کے بھی کام آئیں۔۔۔عمران بھائی آپ خوب اچھا فرماتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔پچھلے دِنوں نابینا بچوں کے اسکول جانا ہوا یقین کریں ان کے جذبات ،ارادے جان کر ہم شرمندہ ہو گئے ۔ہم بصارت رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں اور وہ دل اور دماغ کی آنکھوں سے دُنیا کو دیکھتے ہیں۔بریل قرآن کا لکھنا اور پڑھنا،سائنس،اردو، تعلیم حاصل کرتے بچوں نے حیران کر دیااور تو اور وہاں کھانا بنانے والی ملازمہ بھی نابینا تھی ۔اور گیٹ کیپر بھی ،وہ کرسیاں بن لیتے تھے ۔اس کے علاوہ بہت کچھ ان آنکھوں نے دیکھا۔جن کا بیان کرنا دل گردے کاکام ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ جاوید احمد صدیقی کا خط واقعی انعام کا مستحق ہے میری طرف سے بہت بہت مبارک باد۔خط مدلل او رشاندار تھا۔صائمہ نورنے عمدہ لکھا اور ایم ۔اے راحیل چھائے رہے۔ (راحیل صاحب کسی قسم کا ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے، ادارہ) تبصرہ شاندار رہا۔احسن ابرار رضوی کی حاضری بھی خوب رہی۔علی اصغر انصاری کا خط دو بار پرنٹ ہوا،مبارک۔طاہرہ جبیں تاراکا خط قابل ستائش تھا۔بشری کنول نے مختصر حاضری کمال کی دی ،خلیل جبار صاحب نے ہمارے خیالات سے اتفاق کیا،شکریہ ۔میرے بھائی ہر کسی کی سوچ و فکر کے دائرے مختلف ہوتے ہیں ،بحرحال آپ کی وضاحت زبردست رہی۔عمر فاروق ارشد،پرنس افضل شاہین طویل غیر حاضری کے بعد جلوہ گرہوئے۔ریاض بٹ صاحب تبصرہ شاندار رہا،کوئی بات نہیں جو ہمیں بھول گئے ہیں۔تبصرے میں ہمارا نام تک نہیں ہے ۔انجم فاروق ساحلی مختصر خط کے ساتھ حاضر ہوئے۔رمشا ملک،محمد یاسر اعوان،ریاض حسین قمرکے خط کمال کے تھے۔محمد شعبان کھوسہ کا بہت بہت شکریہ کہ میری دعوت پہ نئے اُفق میں آئے۔یقینا نئے اُفق کاپلیٹ فارم لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔عبدالجبار رومی ،بہت پیارا لکھتے ہیں سلامت رہیں ۔آپ کی محبتیں ہمیشہ یاد رہیں گی۔ اقراء نے دل کے نہہ خانوں کو روشن کر دیا۔ملاقات میں محمد یاسین صدیق نے محی الدین نواب کی ملاقات کو خوب صورت حروف میں مرتب کیا۔مجھے یاد ہے جب اُنہوں نے فیس بک پر محی الدین نوا ب کا نمبر لینے کا ایڈ دیا تھا۔ملاقات میں لکھاری نروس رہا لیکن بعد میںدلیری کے ساتھ گفتگو کرتے رہے۔اَس ملاقات سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔کاش محی الدین نواب زندہ ہوتے تو آپ کو شاباش دیتے۔ کاٹھ کا الو شاندار تحریر تھی لیکن آخری پیرے میں بد مزگی نے مزہ کرکرا کر دیا اور کہانی کا حسن ماند پڑ گیا۔جاندار کردار میں مجبوریوں کو اُجاگر کیا گیا۔ان آنکھوں نے دیکھا ہے کہ مجبوریوں کے باعث بیٹا ،باپ کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا اور دیار غیر گئے لوگوں کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔کہانی کمال کی لکھی گئی ۔بہت خوب۔دستِ خطانے مسکراہٹیں بکھیر دیں۔اس طرح کے کارنامے دیہات میں آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔ابھی چند دِنوں کی بات ہے ہمارے علاقے میں ایک شخص نے نیم کے گھنے درخت کے نیچے مٹی کا ڈھیر لگا کر قبر بنا دی اور اوپر گرین کلر کی چادر ڈال کر چراغ جلا دئیے اور چند دِنوں میں مشہور ہو گیا کہ یہاں اللہ والے کا مزار ہے اور اندھے لوگوں نے یقین کرکے اپنی منتیں مرادیں فریادیں شروع کردیں۔کہیں پرانے درخت سے دودھ نکل رہا ہے ۔تو کہیں پرانی عمارت سے پانی نکل رہا ہے ۔۔۔۔لوگوں کے عقائد اتنے کمزور ہو گئے لوگ ترقی کرکے بھی وہیں کھڑے ہیں۔خاک نشمن کا اختتام خوب تر تھا۔بہت پیاری کہانی تھی۔ اس ماہ کی خوبصورت کہانی فیک بک تھی۔مہتاب خان کمال لکھتے ہیں (وہ لکھتے نہیں لکھتی ہیں) اس کے علاوہ پکھی واس،عشوقہ کمال کی تحریریں تھیں۔ قسط وار ابھی پڑھنی شروع کی ہیں۔تبصرے سے معذرت۔۔۔فن پارے کی تحریریں کمال رہی اور ذوق آگہی،خوش بوئے سخن میں انعام پانے کو بہت بہت مبارک باد۔زریں قمر نے بیت الحنین اچھی لکھی گئی۔اب اجازت۔
صائمہ نور…ملتان، السلام علیکم! اُمید کرتی ہوں ٹھیک ٹھاک ہوں گے اور خوشیاں بانٹتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔دُکھ درد ،آفات سے محفوظ فرمائے اور لمبی زندگی کے ساتھ ساتھ صحت و تندرستی ہمیشہ قائم فرمائے آمین ثم آمین۔ماہ مئی کا نئے اُفق نئے اسٹائل کے ساتھ ملا۔سر ورق پہ سفید سنہری زلفوں والی حسینہ کو محو اُداس دکھایا گیا ہے۔ہاں البتہ پچھلے دو ماہ کے ٹائٹل کمال کے تھے ۔اس بار سرورق متاثر نہ کر سکا۔دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی صاحب نے ملکی حالات کو احاطہ تحریر کیا ہے۔گفتگو کی محفل اِس بار پُرامن تھی اور عمران احمد بھیا ء کی بارہا گزارشیں کام نہیں آئیں تبھی تو اتنی تفصیل سے لکھاریوں کو بتایا گیا ہے ۔۔۔۔بلاوجہ کی تنقید سے حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔کیوں کسی کا رونا روتے ہیں اپنا کام کریں دوسرے جو کرتے ہیں اُن کو چھوڑیں۔۔۔جاوید احمد صدیقی ۔انعام یافتہ قرار پائے ۔بہت بہت مبارک ۔خط طویل ضرور تھا مگر مدلل تھا۔مجیداحمد جائی ہمیشہ دوسرے نمبر پہ آتے ہیں اور چھائے رہتے ہیں۔اس بار بھی اُن کا لیٹر زبردست رہا۔ ایم اے راحیل بھی خوب جلوہ گر تھے۔احسن ابرار رضوی،علی اصغر انصاری،طاہرہ جبین تارا،بشری کنول،محمد احمد رضا انصاری چھائے رہے۔خلیل جبار کا خط بھی متاثر کن تھا،عمرفاروق ارشد بھیاء اس بار کا خط پڑھ کر یقینا آپ کا شکوہ دُور ہو گیا ہو گا۔آپ کا خط بھی کمال کا ہے۔پرنس افضل شاہین کبھی کبھار جلوہ دکھاتے ہیں۔ریاض بٹ بھی زبردست جواب دیتے نظر آئے۔انجم فاروق ساحلی مختصر حاضری دے رہے تھے۔رمشا ملک ہر دوسرے ماہ حاضر ہوتی ہیں۔کیوں؟محمد یاسر اعوان،ریاض حسین قمر،شعبان کھوسہ ،خوش آمدید،عبدالجبار رومی بھی چھائے رہے۔ ملاقات میں محمد یاسین صدیق نے کمال کر دیا۔۔۔ڈرتے ڈرتے انٹرویو لے ہی لیا۔۔۔۔بڑے خوش قسمت ہیں کہ محی الدین نواب صاحب جاتے جاتے آپ کو اتنے اچھے گُر دے گئے۔ناصر ملک کا ناول لیپ کا سال عمدہ لکھا گیا ہے۔کاٹھ کے الو میں سعید کا کردار عجیب سا لگا۔کوئی اتنا بیوقوف بھی ہوتا ہے۔۔۔۔خیر کہانی اچھی رہی۔دستِ خطا نے لوٹ پھوٹ کر دیا۔۔۔۔آج بھی ترقی یافتہ دُور میں بہت سی کرامات ہوتی ہیں ۔۔۔دیکھنے والی آنکھ کا ہونا ضرور ی ہے۔۔۔۔۔درباروں میں فال نکالنے والے ،محبوب قدموں میں لا نے والے،امتحان میں یقینی کامیابی دلانے والے،روٹھی بیوی منانے والے ۔۔۔پیدا ہو گئے ہیں یہی تو کرامات ہیں ۔۔۔۔۔ان کے پیچھے کیا راز چھپے ہیں کو ن جانتا ہے اور کس نے جاننے کی کوشش کی ہے۔جاندار کردار۔۔۔میں مجبوریوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔۔۔ہر فرد مجبوریوں کی چکی میں پس رہا ہے ۔ہر کوئی مجبوریوں میں جکڑا ہو ا ہے۔۔۔فیک بک نے حیرا ن کر دیا۔۔۔زبردست تحریر تھی۔عشوقہ بھی عمدہ تحریر تھی۔خاک نشمین شروع شروع میں بوریت سوار کرتی رہی لیکن اختتام نے رلا دیا۔اس کے علاوہ ذوق آگہی،خوشبوئے سخن بھی کمال ہیں ۔انعام یافتگان کو دلی مبارک باد ۔
جاوید احمد صدیقی… راولپنڈی۔مدیران ایڈیٹرز جناب عمران و اقبال بھٹی صاحب۔ السلام علیکم مئی نئے افق اپنی تمام تر جلوہ ترانیوں سمیت نظروں کے سامنے اور خوب صورت ٹائٹل آنکھوں کو تراوٹ بخش رہا تھا اس جہاں فانی میں فی میل جیسی انوکھی چیز نہ لائی گئی ہوتی تو یقیناً یہ ایک صحرا ہی ثابت ہوتا اسی صنف نازک سے ہی تمام کائنات کے رنگ سجے ہیں اور صنف کرخت محض پرچھائیں کے تعاقب میں اکثر تمام عمر گزار دیتا ہے بہرحال زبردست اور بہت خوب رہا اندرونی مواد تو بھئی پہلے تو یہ گزارش ہے کہ لکھائی اور خاص لکھنے کے طرز سے 290 صفحات میں اتنا کچھ آپ قارئین کو پڑھنے کے لیے دے دیتے ہیں کہ بندہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا ہے اور یہ حقیقت کہ اکثر قارئین کے ساتھ ہاتھ کرنے والے میگزین 200, 224 صفحات اور قیمت زبردست نئے افق کے ہمارے 290 صفحے ان جیسے میگزین کے 100 صفحات کے برابر ہیں اسی لیے نئے افق روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ محترم عمران جی کا اداریہ پڑھ کر مجھے تو کم از کم بے حد خوشی ہوئی ہے کہ اور پھر جو فیصلہ لیا گیا ہے یہ پھر بھی کم از کم ایکشن ہے اور ہمارے میگزین کے با شعور قارئین اس طرح کی حرکت کریں گے ہی نہیں۔ بھئی خود دیکھیں کوشش کریں اور نام بنائیں۔ باقی میرا تبصرہ اول آنے پر میری طرف سے آپ سب احباب مجلس کو بھی مبارک باد اور میرا شکریہ گفتگو میں بڑی فکر انگیز اور سنجیدہ قسم کے تبصرے آتے ہیں تجربہ بھی با شعور لوگوں کی طرح ہوتا ہے ملکی حالات پر بھی کچھ نہ کچھ تنقید ہوتی ہے ہلکی پھلکی ہی رہے یہ گفتگو کی مجلس تو ذہن بھی نہیں الجھے گا اور ہم غیبت جیسے خوفناک جرم سے بھی بچے رہیں گے وگرنہ گفتگو صرف ان باتوں کے ہی گرد ٹھوکر کھا کر ختم ہوجایا کرے گی لیکن ہمارے قارئین با شعور ہیں اچھے برے کی تمیز کو پوری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ مجید احمد جائی صاحب تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ وگرنہ آپ ہمیں کہاں سے شدت سے یاد کرتے ہیں اور نہ ہی رابطہ کا کہتے ہیں چلیے جیسی آپ کی مرضی صائمہ نور باقاعدہ آیا کریں اور کہانی بھی لائیں طاہرہ جبیں تارا کی حاضری خاصے عرصہ کے بعد ہوئی ریگولر آیا کریں جناب خلیل جبار کی کہانیوں کے تو ہم گرویدہ ہیں مگر یہ وضاحت کرنی ضروری تھی تاکہ رائٹر کسی صنف کی کلی طور پر مخالفت نہیں کرتا بڑی اچھی وضاحت تھی ریاض بٹ جی بڑی شاندار کہانی آپ پھر لائے ہیں کاٹھ کا الو زبردست اور ذرا ڈگر سے ہٹ کر بہت ہی اچھا آپ نے کہانی کی ٹریٹمنٹ کو نبھایا مبارک لیکن ہمیں آپ بھول گئے؟ ریاض حسین قمر جی کسی زمانے میں منگلا بھی وزٹ کیا کرتا تھا اسی لیے منگلا ڈیم دیکھ کر یادوں کے چراغ جل اٹھتے ہیں پسندیدگی کا شکریہ باقی خطوط بھی قابل تعریف ہی تھے۔ اقرا میں اللہ پر لکھے ہوئے الفاظ کو ہر ماہ دل میں اتر جاتے ہیں۔ محمد یاسین صدیق کا انٹرویو جناب محی الدین نواب ایک جہاں کھل گیا یادوں کے چراغ ایسے جل اٹھے جیسے جشن بہاراں منایا جاتا ہے بہت زبردست کا مربوط ہر پہلو واگزار اور انتہائی خوب صورت طریقے سے لیا گیا انٹری ماری تھی مرحوم تو لکھتے ہوئے دماغ ہر گز ہرگز اسے قبول نہیں کرتا یہ کارروائی بھی ہمارے مدیران کی توجہ سے انٹرویو میں ڈھلی۔ کہانی سب پر تبصرہ نہ کرسکوں گا کیونکہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے خاص طور پر عشوقہ پر لکھوں گا ہمارے رائٹر بہت سے ذرا اوپن لکھتے ہیں ہمارے ناصر ملک بھی مگر بڑے محتاط اور طریقے سے مگر اس میں رائٹر زیادہ ہی اوپن ہوگیا ہے ایک تو کہانی نابالغ بچے سے شروع کی اور اس کی حرکات واقعی عامیانہ تھیں بچہ سے اس قسم کی حرکات کی کون توقع کرے گا اور آگے آگے کہانی بے باکی سے بڑھائی اور پھر رائٹر نے یہ نہ سوچا کہ یہ رسالے کمسن اور کچے دماغ کے بچے اور بچیاں بھی پڑھتی ہیں یہ کچے ذہن ان سب باتوں کا کیا اثر لیں گے اور اتنی سی عمر اور پھر وہی بھکڑ میں آخر تک چلا گیا یہ چھچوری عشق و محبت کی حرکات، کیا مطلب؟ یاسین صدیق آپ بانع نظر اور خوب لکھنے والے ہیں امید ہے کہ اصلاح کریں گے پکھی داس منفرد اور الگ سی کہانی بہت خوب۔ فیک بک میں عام معاشرے کے گند کے متعلق لکھا گیا ہے اہرمن گزیدہ ساحل ابڑو کی بڑی خوب صورت کوشش رہی خاک نشیمن نے تو پرانے ہندو مسلم فسادات کی یاد دل کے اندر اترتی چلی گئی باقی تمام کہانیاں بشمول دونوں سلسلے زبردست تھے۔ عورت زاد کا تو ہر ماہ منتظر ہوتا ہوں فن پارے میں تمام کہانیاں خوب تھیں مجھے ہندسوں کا ہیر پھیر سادہ اور عام سی کہانی لگی۔ ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن بہت ہی اچھے تھے پوری توجہ دی جا رہی ہے اور چن چن کر بہترین انتخاب دیا جا رہا ہے۔ اس دفعہ ڈاکٹر ایم اے قریشی، جناب حسام بٹ دونوں کی غیر حاضری لگ گئی ہے

جناب اجازت والسلام۔

عبدالحمید… کھلا بٹ ٹائون شپ۔ جناب محترم مشتاق احمد قریشی صاحب السلام علیکم، آپ کو اور دیگر اسٹاف کو اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عطا فرمائے آمین،مارچ 2016ء کے شمارے میں میرا تجزیہ لگایا میں تہہ دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان بزرگوں، دوستوں، ساتھیوں اور برخورداروں و دیگر لکھاریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے تجزیہ کو پسند کیا اور سراہا۔ مئی 2016ء کے شمارے کی دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے دہشت گردوں ان کے سہولت کاروں اور حکمرانوں کو خوب لتارا ہے مگر ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی ہوگی۔ یہ ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ گفتگو میں خطوط کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مئی 2016ء میں تئیس خطوط آئے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے بھرپور تبصرے کیے ہیں مثلاً جاوید احمد صدیقی، مجید احمد جائی، صائمہ نور، ایم اے راحیل، احسن ابرار رضوی، طاہرہ جبیں تارا، خلیل جبار، عمر فاروق ارشد، ریاض بٹ، محمد رفاقت، ریاض حسین قمر اور عبدالجبار رومی دیگر ساتھیوں کے اچھے تھے جاوید احمد صدیقی صاحب کا خط انعام یافتہ تھا مبارک باد قبول کریں۔ آپ کو گفتگو میں کرسی صدارت پر دیکھ کر از حد خوشی محسوس ہوئی۔ ریاض بٹ صاحب میں آپ کی تفتیشی کہانیاں شوق سے پڑھتا ہوں میں آپ کا فین ہوں جب سے آپ نے تفتیشی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا ہے میں نے پڑھنا شروع کیا ہے اور مئی 2016ء تک تمام کہانیاں پڑھی ہوئی ہیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے آپ اپنا مشن جاری رکھیں۔ مئی کے شمارے میں سب سے پہلے مشتاق احمد قریشی صاحب کی دستک پڑھی پھر قارئین کے خطوط اور طاہرہ قریشی کا ایمان افروز سلسلہ اقرا پڑھا موصوف نے اللہ تعالیٰ کی صفات جمالی کی بہت اچھی تشریح کی ہے معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایمان میں تازگی پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے آمین۔ محمد یاسین صدیق صاحب نے محی الدین نواب (مرحوم) کا انٹرویو لیا یہ ایک پاور فل انٹرویو تھا مرحوم کی پیدائش سے وفات تک تمام پوشیدہ حالات اور واقعات ہجرت، شادیاں اور دیگر چھپے ہوئے گوشوں کو اجاگر کیا۔ میں نے اپنی فیورٹ رائٹر، معلمہ اور شاعرہ زریں قمر صاحبہ کی کہانی بیت الحنین پڑھی اور ایک ہی نشست میں پڑھ لی میں محترمہ زریں قمر صاحبہ سے عرض کروں گا کہ ہر ماہ باقاعدگی سے اپنی کہانی نئے افق کے لیے بھیجا کریں، شکریہ۔
احسن ابرار رضوی …ساہیوال۔ سنایئے کیسے ہیں ؟اللہ تعالیٰ کے فضل و خاص سے ٹھیک ٹھاک ہوں گے۔اللہ تعالیٰ صحت وتندرستی کے ساتھ ،دُشمنوں کے شر سے محفوظ اور خوش باش رکھے آمین ثم آمین۔ماہ مئی 2016کا نئے اُفق ملا۔ٹائٹل خوبصورت تھا۔دستک میں محترم جناب مشتاق احمد قریشی صاحب نے بہت عمدہ اور اعلی باتیں کیں۔اب وقت آگیا ہے پاک افواج کرپٹ حکمرانوں ،سیاستدانوں کا احتساب کرئے۔اُمید کرتاہوں بہت جلدخوشی کی خبر ملے گی اور ملک سے کرپشن ،رشوت،ختم ہو جائے گی اور ملکی خزانے کا ٹھیک استعمال ہو گا۔غریبوں کے چولہے جل اُٹھیں گے اور کرپٹ لوگ جیلوں میں سزاکاٹے ہوں گے انشااللہ!گفتگو ہمیشہ کی طرح پھول چہروں سے جگ مگ کر رہی تھی۔اُمید ہے دوست احباب عمران احمد قریشی بھائی کی باتوں پر عمل کریں گے اور نئے اُفق کے پلیٹ فارم کو اپنے مفاد کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔جاوید احمد صدیقی کا خط انعام یافتہ قرار دیا گیا ۔بالکل دُرست فیصلہ تھا ۔اُن کا خط ہر لحاظ سے عمدہ اور مدلل تھا۔خط میں کہیں بھی جُھول نہیں ہے اورنہ ہی فضول باتوں کو موضوع بنایا گیا تھا۔ویری گڈجاوید احمد صدیقی صاحب۔ اِن کے علاوہ صائمہ نور،ایم اے راحیل،رمشاملک،بشری کنول،عمرفاروق ارشد،محمد یاسر اعوان،عبدالجبار رومی انصاری،انجم فاروق ساحلی،خلیل جبار،طاہرہ جبیں تارا،ریاض بٹ اور ریاض قمر صاحب کے تبصرے نہایت پیارے اور اچھے تھے۔محمد شعبان کھوسہ پہلی بار شریک ِمحفل ہوئے ،خوش آمدید ،اب آئے ہیں تو آتے رہیے گا۔ اس کے علاوہ بہت سے دوست منظر عام سے غائب بھی ہیں ۔جن میں ممتاز احمدسرگودھا،محمد منشی عزیز مئے،احسان سحر،سرفہرست ہیں ،اپنی سلامتی کی خبر دیں۔اقراء نے دل منور کیا ۔اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ملاقات طویل اور خاصے کی تھی۔محمد یاسین صدیق نے کمال خوبصورتی کے ساتھ محی الدین نواب سے ٹیلی فونگ گفتگو کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا۔رہنمائی کرتی ملاقات اچھی رہی،مبارک باد۔کہانیوں میں فیک بک ،آفتاب احمد خان نے کمال موضوع چنا اور خالد نے اپنا جُرم قبول کرکے معصوم اریبہ کو بچا لیا۔۔۔خاک نشمین بھی اچھی رہی۔جاندار کردار،موجودہ معاشرے کی عکاس تحریر تھی۔معشوقہ نے دل خوش کر دیا۔کاٹھ کے اُلو ریاض بٹ نے ہمیشہ کی طرح بہترین لکھا۔فن پارے کی تمام تحریریں اپنی مثال آپ تھیں اور ذوق آگہی،خوشبوئے سخن بھی بہترین انداز میں سجائے گئے تھے۔انعام حاصل کرنے والوں کو مبارک باد۔اس بار شاعری سلسلہ نہیں شامل ہوا۔جس میں شاعر کا تعارف اور شاعری دی جاتی تھی۔اللہ تعالیٰ سبھی کو خوش و خرم رکھے آمین۔
ایم ۔اے ۔راحیل …سلام محبت!اُمید واثق ہے بخیریت ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ خوشیوں بھری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صحت کی دُعائیں ،ایمان کی سلامتی اور دُشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں دُعائیں صبح و شام کرتے ہیں ۔رب کریم قبول و مقبول فرمائے۔آمین ثم آمین!ماہ مئی 2016کا نئے اُفق اپنی جلترنگ کے ساتھ موصول ہوا۔سر ورق نے نیم بے ہوش لڑکی کے ساتھ مدہوش ہی کر دیا۔۔۔دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی صاحب پاک افواج کو داد دے رہے تھے ۔واقعی پاک افواج نے بہت کردار ادا کیا ہے اگر فوج دلیر اور باہمت نہ ہوتی تو حکمرانوں نے کب کا ملک کی کشتی کو بھنور میں ڈال دیا ہوتا۔۔۔اللہ کرے جنرل راحیل صاحب بڑی بڑی سیاسی مچھلیوں کو کہٹرے میں لائیں اور اس طرح ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو گا۔۔اللہ کرے یہ صفائیاں جلد از جلد ہو جائیں آمین۔ جاوید احمد صدیقی صاحب انعام بہت بہت مبارک ہو ۔۔۔ہمیں تو ابھی تک انعام نہیں ملا۔۔۔۔آپ کو ملا ہوتو بتائیے گا کہ کیا لاٹری نکلی ہے ۔۔۔آپ کا خط بہت زبردست تھا۔۔۔ مجیداحمد جائی کا تبصرہ جامع اور دِل سوز تھا۔الفا ظ کا چنائو خوب کرتے ہیں ۔صائمہ نور بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔پیارا لکھتی ہیں۔احسن ابرار رضوی بھی خوب تیر چلاتے ہیں۔طاہر ہ جبین تارا ،بشری ٰ کنول ،خلیل جبارکی وضاحتوں سے اتفاق کرتا ہوں،عمر فاروق ارشد ،پرنس افضل شاہین،ریاض بٹ،انجم فاروقی ساحلی، محمد رفاقت،رمشا ملک،محمد یاسر اعوان،ریاض حسین قمر،عبدالجبار رومی انصاری کے تبصرے زبردست رہے۔محمد شعبان کھوسہ کو نئے اُفق میں خوش آمدید۔ اقراء نے زنگ آلود دِلوں پہ اثر کیا۔ملاقات میں محی الدین نواب سے ملے ۔لیکن دل ڈوب ہو گیا کیونکہ دِل حقیقت ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اب وہ ہم میں نہیں رہے ۔۔۔۔یاسین صدیق نے عمدہ ملاقات کی صورت میں انٹرویو پیش کیا۔۔۔کئی راز کھلے اور گُر بھی ملے ۔اللہ تعالیٰ محی الدین نواب کو کروٹ کروٹ راحت وسکون عطا فرمائے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔آمین۔کہانیوں میں فیک بک زبردست رہی جاوید نے اپنا جرم قبول کرکے معصو م اریبہ کو بچا لیا۔۔۔اِسی طرح خاک نشمین نے اختتام پر رولادیا۔جاندار کردار مجبوریوں کی بھینٹ چڑھتے لوگوں کا حال دِل خوب رہا۔۔۔۔بظاہر معمولی واقعے کو تحریر کیا گیا ہے لیکن ہر دوسرے فرد کا یہی حال ہے ۔۔۔پیٹ کا پالنا اتنا دشوار ہو گیا ہے کہ دوسروں کا خیال ہی نہیں رہتا ۔۔۔دستِ خطا نے اختتام پہ اچھا اثر چھوڑا ۔اس طرح کے واقعات کا ہونا بڑی بات نہیں ہے ۔۔۔۔کاٹھ کا اُلو ۔۔۔عمدہ تحریر تھی۔پکھی واس نے بھی متاثر کیا۔۔۔،فن پارے بھی خوب تھے اور ذوق آگہی،خوش بوئے سخن میں انعام پانے والوں کو مبارک۔بیت الحنین اچھی رہی۔اللہ تعالیٰ نئے اُفق کے ساتھ جُڑ ہر فرد کو سلامت رکھے آمین۔
(محترم اگر آپ کا ایڈریس درست ہوتا انعام آپ تک پہنچ چکا ہوتا، دوسرے نہ آپ نے کوئی ثبوت دیا نہ کسی اور نے اس لیے الزام تراشی کا سلسلہ بند کردیں تو بہتر ہے)
غلام یاسین نوناری… چوک سرور شہید۔ محترم جناب طاہر قریشی عمران احمد اور جملہ اراکین محفل السلام علیکم اللہ پاک آپ سب کو خوش و خرم رکھے اور مصائب زیست سے محفوظ رکھتے ہوئے ہر لمحہ اپنی رحمتوں سے فیض یاب کرے نئے افق اس بار ایک ہفتہ دیر سے ملا سرورق پر نظر پڑی تو جلدی سے صفحہ الٹ دیا بھئی سچ بتائوں اس بار سرورق پسند نہیں آیا۔ گفتگو کی رنگ برنگی دنیا میں عمران احمد صاحب کا اداریہ پڑھ کر افسوس ہوا کہ ابھی تک ہم لسی میں مدھانی پھیر رہے ہیں حالانکہ اس سے مکھن نہیں نکلنے والا۔ مجید صاحب جب معذرت کر چکے تو باقی احباب کو اب تنقید کے نشتر چلانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انعامی خط جاوید احمد صاحب کا تھا جس پر ان کی محنت قابل داد ہے۔ بہت عمدہ لکھا۔سب سے طویل خط مگر بوریت سے محفوظ۔ مجید احمد جائی حالات کا تجزیہ کرتے نظر آئے۔ باقی خطوط میں جن کے خط سے مابدولت حقیقی معنوں میں لطف اندوزہوا ان کے نام درج ذیل ہیں۔ صائمہ نور آپی، طاہرہ جبیں،خلیل جبار صاحب، ریاض بٹ بھائی، ریاض حسین قمر اس کے بعد اقراء کا مطالعہ کیا جس سے ایمان تازہ ہوگیا اور معلومات میں اضافہ ہوا۔ صفحہ الٹا تو خوشی کا جھٹکا لگا۔ محی الدین نواب صاحب کا انٹرویو کا پڑھ کر دل و دماغ میں مسرت دوڑ گئی پھر جو انٹرویو پڑھنا شروع کیا تو آخری لفظ پر دم لیا۔ قبل ازاں بہت سے انٹرویو پڑھے مگر اس انٹرویو کی بات ہی الگ ہے جسے میرے دوست یاسین صدیق نے تحریر کیا۔ سب سے اہم چیز انٹرویو کا منفرد انداز ہے، اس سے پہلے اس انداز میں کبھی انٹرویو دیکھا نہ پڑھا ویلڈن یاسین صدیق اس انٹرویو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا کہانیوں میں لیپ کا سال نے بے حد متاثر کیا۔ ناصر ملک کا کاٹ دار انداز تحریر دل میں اتر گیا بلاشبہ یہ کہانی اس ماہ کی نمبر ون تحریر ہے۔ عورت زاد کی ابتدا زبردست ہے۔ کاٹھ کا الو سسپنس فل تحریر آخر تک میں ملک نیاز پر شک کرتا رہا اور مجرم نکلا سعید کا بھائی جو دولت کے لالچ میں اندھے پن کا ناٹک کر رہا تھا۔ پکھی داس امیری غریبی کے فرق پر ایک خوبصورت تحریر جان سے پیارے دوست صداقت حسین کے جاندار قلم کی شاہکار کہانی اس کے بعد عشوقہ پڑھی جو کہ یاسین صدیق کی عمدہ کاوش ہے۔ اس میں محبت کے اس رخ کو دکھایا گیا کہ محبت ایک آگ ہے جو جس کو لگ جائے جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ شہباز اور شازیہ نے بھی اس آگ کو سینے سے لگایا اور بالآخر اپنے بچوں سمیت موت سے ہمکنار ہوگئے محبت کیا ہے بہتا جھرنا ہے جہاں کوئی بھی پیاسا پیاس بجھا سکتا ہے اور محبت تپتا صحرا ہے جہاں محبت کے مارے صحرا کی تپش سے جھلس جاتے ہیں۔ فن پاروں میں آج کل پرانے ادیبوں کی تحریریں لگ رہی ہیں۔ یہ صفحات اگر نئے ادیبوں کے لیے وقف کردیے جائیں اور ان کو مناسب اصلاح کرکے تحریریں شائع کر دی جائیں تو بہتر ہوگا۔ آخری صفحات اس بار زریں قمر کے بے مثال نام سے جگمگا رہے تھے بس اتنا کہوںگا کہ جب کہانی شروع کی تو ایک ہی نشست میں پڑھ کر دم لیا۔ اب اجازت دیں۔ زندگی رہی تو پھر حاضر ہوں گا۔ خدا حافظ۔
پرنس افضل شاہین… بہاول نگر۔ پیارے بھائی مشتاق احمد قریشی، بھیا عمران احمد السلام علیکم۔ اس بار کا نئے افق کا سرورق دیکھ کر ایک سفید چمڑی والی انگریز دوشیزہ یاد آگئی۔ اسے دیکھ کر زبان پر یہ شعر مچلنے لگا۔
یہ جو پانی میں چلا آیاہے سنہرا سا غرور
اس نے دریا میں کہیں پائوں اتارا ہوگا
آپ کی دستک پاک فوج کو سلام پیش کر رہی تھی۔ واقعی جو کام پچھلے تقریباً ستر سال میں نہیں ہوا وہ کام جنرل راحیل شریف کی کپتانی میں فوج دل جمعی سے کر رہی ہے پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ جاوید احمد صدیقی کی انعام یافتہ دستک واقعی کمال کی تھی باقی خطوط نگاروں میں ایم اشفاق بٹ، مجید احمد جائی، صائمہ نور، زہرہ جبیں، بشریٰ کنول، عمر فاروق ارشد، ریاض بٹ، رمشا ملک، ریاض حسین قمر، عبدالجبار رومی چھائے رہے۔ شعبان کھوسہ کو پہلی دستک پر خوش آمدید ہم محمد یاسر اعوان کی بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نئے افق کی کہانیوں میں شراب، جوا، قتل و غارت، زنا، ڈکیتی جیسی تحریروں سے اجتناب کیا جائے کہانیوں میں عورت زاد، پل صراط عشق تو اچھی جا رہی ہے۔ ان کے علاوہ جاندار کردار، لیپ کا سال، پکھی داس، فیک بک بھی پسند آئیں ملاقات میں محی الدین نواب مرحوم کو انٹرویو پڑھ کر آنکھیں نم ہوگئیں۔ واقعی مرحوم ایک ہیرا تھے ذوق آگہی اور خوشبوئے سخن کے انعام یافتگان عبدالجبار رومی اور محمد قمر شہزاد کو دلی مبارکباد ان کے علاوہ ارم خان، مہر پرویز احمد دولو، حذیفہ چوہان، حسین خواجہ، فاخرہ گل، ایم اشفاق بٹ، عمر فاروق ارشد، سلمیٰ غزل اور ریحانہ سعیدہ چھائے رہے میں بھی اس بات پر متفق ہوں کہ نئے افق میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ضرور شروع ہونا چاہیے اتنے خطوط دیکھ کر بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ واقعی اتنے خطوط بہت ہی کم میگزین میں شائع ہوتے ہیں خدا حافظ۔
سیدہ حجاب فاطمہ… لیاقت آباد، کراچی۔قابل احترام جناب مشتاق احمد قریشی و عمران احمد صاحب السلام علیکم۔ بعد از سلام نئے افق کی پوری ٹیم اور تمام قارئین اور لکھاری حضرات کے لیے دعا گو ہوں کہ سب بخیر و عافیت ہوں۔ نئے افق بالکل اپنے نام کی طرح دل گداز حسیات رکھنے والا شمارہ ہے گو کہ میں اس کی نئی قاریہ ہوں مگر دل نے مجبور کیا اور دیکھیے کہ دوسرے شمارے نے ہی صفحہ قرطاس پر رنگ بکھیر دیے ہیں نئے افق کو متعارف کرانے کا سہرا ہمارے پیارے لکھاری بھائی شاہد رفیق کے سر جاتا ہے ورنہ تو مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ اس قدر خوب صورت شمارہ ہمارے ہی شہر کی دین ہے سرورق کو اگر کوئی نام دیا جاتا تو میں اس کا نام ’’خواب جزیرہ‘‘تجویز کرتی عمران بھائی میں بھی نوآموز لکھاری ہوں اور اس محفل میں ایک قلم کار کی حیثیت سے شامل ہونا چاہتی ہوں کیا مجھے یہ سند بخشی جاسکتی ہے؟ اب اجازت زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔

عمر فاروق ارشد…

فورٹ عباس۔ محترم مدیر صاحب کیسے مزاج ہیں، امید ہے کہ بخیریت ہوں گے، مئی کا شمارہ ہلکے پھلکے ٹائٹل کے ہمراہ موصول ہوا محترم قریشی صاحب حسب معمول تازہ ملکی حالات کی منظر کشی کر رہے تھے بجا فرمایا کہ مفاد پرست سیاستدان ٹولہ اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ یہ ملک کے طول و عرض میں ہونے والا آپریشن اور فوج کی گندگی مکائو مہم جلد از جلد ختم ہو تاکہ ایک بار پھر کرپشن اور لوٹ مار کی تاریخ دہرائی جائے کچھ عقل سے عاری ملک دشمن اس بات پر بغلیں بجا رہے ہیں کہ مرد آہن جرنل راحیل بس جانے والا ہے اور اس کے بعد موجیں ہی موجیں مگر یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اب پاک فوج میں ہر آنے والا جرنیل، راحیل شریف کے ویژن کو ہی لے کر آگے بڑھے گا۔ گفتگو میں داخل ہوئے تو ہر طرف رونقیں لگی نظر آئیں، خطوط کی محفل ما شاء اللہ وسیع ہوتی جا رہی ہے مگر مجھے اپنے تبصرے کا تیا پانچہ ہوا دیکھ کر بہت دکھ پہنچا۔ کہانیوں کی طرف آتے ہیں ہائے ناصر ملک میں قربان جائوں آپ پر، وللہ کیا لکھتے ہو صاحب جی۔ ویسے بھی مجھے ان کے لفظوں سے لیجنڈ محی الدین نواب صاحب کی خوش بو آتی ہے انداز ذرا ذرا ملتا ہے ابتدائی صفحات پر شاہکار ناول تھا بس اب ناصر ملک نئے افق کو چھوڑ کر جانے نہ پائیں۔ عورت زاد کی یہ قسط کچھ نکھری سی تھی لگتا ہے کہ یہ ناول آگے چل کر مزید بہتری کی جانب گامزن ہو جائے گا دیگر کہانیوں میں ریاض بٹ سر فہرست رہے تفتیشی کہانی پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہوتا ہے سچی۔ مگر مجھے محسوس ہونے لگا کہ ریاض صاحب کی کہانیوں میں اب سسپنس کی کمی ہوتی جا رہی ہے نجانے یہ تکنیکی خامی ہے یا ویسے ہی ان کا ریڈی ایٹر گرم ہوگیا ہے جسے کچھ وقفے کی ضرورت ہے تاکہ دوبارہ گاڑی اپنی پہلی والی رفتار سے بھاگ سکے۔ پکھی واس اور فیک بک بلا شبہ اعلیٰ درجے کی اصلاحی کہانیاں تھیں ایسی کہانیوں کی اس معاشرے کو ضرورت ہے۔ ہر قاری خود کو اس کا مرکزی کردار سمجھے تو سبق حاصل کرنے میں بڑی آسانی ہوجائے گی اللہ کرے زور قلم اور زیادہ دیگر کہانیاں بھی عمدہ تھیں۔ ریاض حسین شاہد کا ناول کچھ زیادہ ہی معاشرتی سا ہوتا جا رہا ہے اس طرح ناول والے محسوسات باقی نہیں رہتے کوئی تھرلنگ پوائنٹ بھی ہونا ضروری ہے محترمہ زریں قمر حسب عادت تاریخی ناول لے کر آئیں بے شک سیدھی سادھی تاریخ کو ناول کے دلچسپ پیرائے میں ڈھالنا کوئی معمولی فن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کو صحت والی لمبی عمر عطا فرمائے آمین۔ سب ساتھی محنت سے لکھتے ہیں اور سب کو اس کا اجر ملنا چاہیے کچھ بات ہوجائے خوش بو سخن کی نہایت خوشی ہوئی کہ اس دفعہ یہ سلسلہ بھی کافی وسیع تھا اس طرح زیادہ ساتھیوں کو موقع ملتا ہے۔ نیر رضوی صاحب بھی حاضر تھے لگتا ہے بھائی کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا تبھی تو اتنی زبردست غزل ان کے قلم سے نکلی ہے۔ احسان سحر کی غزل کمال تھی ریحانہ سعیدہ بھی آزاد نظم کے ساتھ براجمان تھیں (آہم) فلسفہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا آخر فلسفی کے قلم سے برآمد ہوئی ہے نظم بھئی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ عمران بھائی کچھ دل پر لگا ہوا تو معاف کردینا یار یہ نئے افق سے پیار ہے جو اتنی کڑوی کسیلی باتیں بھی کرجاتے ہین آپ سے پیار ہے تو خط لکھ کر بجھواتے ہیں باراک اوبامہ کو کیوں نہیں بجھوا دیتے (ہاہاہا) دعائوں میں یاد رکھیے گا والسلام۔
محمد احمد رضا انصاری… کوٹ ادو۔السلام علیکم و رحمتہ اللہ و براکاتہ کے بعد امید واثق ہے کہ بخیریت ہوں گے نئے افق دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ امید ہے ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔ مئی کا نئے افق 20 اپریل کو ملا سرورق کچھ خاص نہیں تھا مگر پہلے والے ٹائٹل سے بہتر تھا پہلے تو کبھی ڈائنو سارز اڑتے پھرتے تھے کہیں چمگاڈر، سانپ اور اسی قسم کے سرورق ہوتے تھے سرورق اگر کسی آرٹسٹ سے بنوائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ دستک میں مشتاق انکل دہشت گردی کے بارے میں بتاتے نظر آئے اور یہ تو سب کو پتا ہے کہ سیاست دان ہی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ ایسے میر جعفر، میر صادق کو تو سر عام پھانسی پر چڑھا دینا چاہیے گفتگو میں داخل ہوئے تو پہلا خط جاوید احمد کا تھا اتنا بڑا خط دیکھ کر بہت حیران ہوئے ایسا خط سالانہ تجزیہ، سال میں صرف ایک بار لگتا ہے مگر نئے افق میں اتنے بڑے بڑے خط ہر ماہ لگتے ہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے خط کا مطلب کہانیوں پر تبصرہ کرنا ہوتا ہے نہ کہ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنا۔ محی الدین نواب صاحب کا آخری انٹرویو کچھ خاص نہیں تھا لیپ کا سال معاف کیجیے گا مجھے لگتا ہے کہ آپ پڑھے بغیر ہی کہانیاں لگا دیتے ہیں۔ کاٹھ کا الو، جاندار کردار، دست خط، پکھی واس، بہترین کہانیاں تھیں۔ عشوقہ ایسی کہانیاں نہ شائع کیا کریں کچے ذہنوں پر برا اثر پڑا ہے برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ فن پارے میں تمام تحریریں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں بیت الحنین بہت پر اثر تحریر تھی۔ ذوق آگہی خوشبوئے سخن میں تمام تحریریں اچھی لگیں میرا پہلا خط شائع کرنے کا شکریہ اور آخری بات انعامی خط ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو تین چار صفحات پر مشتمل ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جس میںکوئی کام کی بات ہو تجاویز ہوں اب اجازت۔
عبدالغفار فردوس… ایبٹ آباد۔ السلام علیکم۔ نئے افق کے سبھی اسٹاف، تمام لکھاریوں اور پڑھنے والوں کو میرا سلام و دعا اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش و خرم رکھیں اور صحت و تندرسی عطا فرمائے آمین۔نئے افق کیے لیے یہ میرا پہلا خط ہے پاکستان کے سبھی ڈائجسٹ میں پڑھے، پرکھے اور صرف دو ڈائجسٹ جو ہر ماہ میں پڑھتا ہوں پسند آئے اور ایک اور شمارے کو اپنی لائف کا حصہ بنانے کے لیے ہم چل پڑے کافی دکانیں کنگھالنے کے بعد ہماری ذوق نظر جا کر نئے افق پر ٹھہری ایک دلکش سرورق لیے متناسب پرائس میں سب سے جدا لگ رہا تھا۔ پہلے تو سوچا اتنے مہنگے ہائی پرائس والے ڈائجسٹوں کا معیار زیرو ہے نجانے اس کا کیسا ہو، خیر گھر لے آئے بہت سی مصروفیات سے وقت نکال کر جب صرف دہری موت پڑھنا شروع کی تو ایک ہی نشست میں ختم کر ڈالی واہ کیا کہانی تھی اور آج 21 اپریل کو مئی کا نئے افق بھی لے آئے اب سمے نکال کر اسے بھی پڑھیں گے۔ امید ہے بہترین ہوگا۔ سلسلوں کی طرف دیکھیں تو سبھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ۲۰۱۶ء جہاں اور بہت سے المیے جنم لے رہے ہیں وہاں بہت سے ادیب، مصنف ہم سے جدا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جانے والوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔ کاشف زبیر صاحب اور محی الدین نواب کا میں بہت بڑا فین ہوں وہ ایسا لکھتے تھے کہ بندہ پڑھتے ہوئے ارد گرد بھول جاتا تھا کیا اعلیٰ پائے کے مصنف تھے کیا ان جیسا کبھی کوئی اور ادب کی دنیا میں آسکے گا ان جیسا لکھ سکے گا؟
محمد رفاقت… واہ کینٹ۔محترم ایڈیٹر صاحب السلام علیکم، ماہنامہ نئے افق میرے ہاتھ میں ہے اس میں اپنا پہلا خط دیکھ کر بہت خوشی ہوئی پہلے بھی میں نئے افق پڑھتا تھا اور کبھی خط نہ لکھا تھا مگر اب میرا یہ دوسرا خط ہے امید ہے کہ آپ میرے خط کو ضرور اپنی بزم میں جگہ دیں گے اس کے لیے ایڈوانس شکریہ۔ محترم سب لکھنے والے اچھی محنت سے لکھتے ہیں میں سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ملاقات میں محی الدین نواب کا انٹرویو پڑھ کر اچھا لگا محمد یاسین صدیق نے اسے اچھے انداز میں پیش کیا ہے ناصر ملک صاحب کی لیپ کا سال جاندار کردار میں ایک فنکار کی کہانی اور بے حسی محسوس ہوئی خلیل جبار نے پیش کی۔ اچھی کہانیاں ہیں دست خطا، آغاز الدین کی کہانی پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ کیسے کیسے کردار ہوتے ہیں دنیا میں اچھی کہانی تھی خاک نشیمن دستگیر شہزاد کی اچھی کہانی ہے دل کو لگتی ہے۔ پکھی داس صداقت حسین شاہین کی اچھی کہانی ہے پسند آئی۔ اب میں آتا ہوں اس ماہ کے سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے رائٹر محترم ریاض بٹ صاحب کی طرف نئے افق میں سب کو چن کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے ان کی کہانی کا اس دفعہ ان کی کہانی نئے افق کی مان تھی جس خوش اسلوبی سے ریاض بٹ صاحب نے اس کو پیش کیا ہے یہ ان کی ہی صلاحیت ہے اس دفعہ تفتیش کا انداز بھی نیا تھا اور بہت اچھی کہانی لکھی ہے۔ امید ہے سب لوگوں کو پسند آئے گی۔ گفتگو میں سب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو کہ اچھی بات ہے میں اور میری طرح کے جو لوگ اخلاق کے دائرے میں بات لکھتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے مگر کسی پر تنقید بھی اخلاق کے دائرے میں کی جائے تو اچھا ہے۔ ہوسکتا ہے لوگ میری بات سے اتفاق نہ کریں مگر کہتے ہیں کہ اچھی بات بھی کسی کو بتائی جائے تو وہ بھی صدقہ جاریہ بن جاتی ہے باقی میری طرف سے سب کو سلام قبول ہو اگلے شمارے تک پھر ملاقات ہوگی، ان شاء اللہ۔
بشریٰ کنول… فیصل آباد۔ گرامی قدر جناب ایڈیٹر ماہنامہ نئے افق سلام مسنون ہمیشہ خوش رہیں اس بار شمارہ تھوڑا لیٹ ملا سب سے پہلے میں بھائی جاوید احمد صدیقی کو ان کا خط انعام یافتہ لگنے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں اور بہت مشکور ہوں کہ گفتگو میں مجید احمد جائی، ایم اے راحیل، احسن ابرار رضوی، پرنس افضل شاہین، ریاض بٹ، رمشا ملک، ریاض حسین قمر نے مجھے نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ میرے خط کو پسند بھی کیا بھائی ریاض بٹ صاحب آپ نے میری کڑی تنقید کا مثبت جواب دیا اور ناراض نہیں ہوئے بہت شکریہ۔ ملاقات میں محی الدین نواب کا انٹرویو بہت اچھا لگا اور بہترین کہانی تھی کاٹھ کا الو، جاندار کردار، خاک نشیمن، پکھی داس اور فیک بک بلا شبہ بہت اچھی کہانیاں تھیں باقی شمارہ ابھی زیر مطالعہ ہے اب اجازت چاہوں گی، والسلام۔

ممتاز احمد…

سرگودھا۔قابل صد احترام جناب مشتاق احمد قریشی صاحب جناب عمران احمد صاحب جناب طاہر احمد قریشی صاحب جناب اقبال بھٹی السلام علیکم، اپنے خط کی ابتدا اس دعا کے ساتھ کرتا ہوں کہ اللہ کریم ہم سب پر اپنے لطف و کرم کا اضافہ فرمائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین۔ ماہ مئی کا نئے افق 23 اپریل کو ملا۔ دستک میں محترم مشتاق احمد قریشی ساحب نے اداریہ کی شکل میں سب کے ذہنوں پر بہت خوب صورت اور فکر انگیز دستک دی اللہ کریم ہمارے پیارے ملک کو امن کا گہوارہ بنائے آمین۔ پچھلے چند ماہ سے گفتگو میں جس طرح کا ماحول پیدا ہوگیا تھا تو اس سے دلبرداشتہ ہو کر نئے افق کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ نہ تو خط لکھنا ہے اور نہ ہی کوئی تحریر بھیجنی ہے مگرمئی کا شمارہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا کہ آپ نے اختلافات کردار کشی اور بلا وجہ تنقید برائے تنقید والے خطوط شائع نہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے تاکہ کسی بھی حوصلہ شکنی اور دل آزاری نہ ہو ہاں تحریر پر مثبت تنقید برائے اصلاح کی ضرور گنجائش ہونی چاہیے۔محترم جاوید احمد صدیقی کا خط انعام یافتہ لگنے پر بہت بہت مبارک پیش کرتا ہوں بلا شبہ خط بہت مدلل اور شاندار تھا مجید احمد جائی، صائمہ نور، ایم اے راحیل، احسن ابرار رضوی، طاہرہ جبیں تارا، بشریٰ کنول، خلیل جبار، عمر فاروق ارشد، پرنس افضل شاہین، ریاض بٹ، انجم فاروق ساحلی،محمد رفاقت، محمد یاسر اعوان، ریاض حسین قمر، شعبان کھوسہ اور عبدالجبار رومی انصاری بہترین تبصروں کے ساتھ گفتگو کی محفل کو مہکا رہے تھے اکثر خطوط میں ان کہانیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور بقول تبصرہ نگاروں کے کہ عورت کی کردار کشی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں سب سے بہترین تبصرہ محترم خلیل جبار کا تھا میں ان سے سو فیصد متفق ہوں کہ رائٹر کا کام معاشرے میں مسائل اور خامیوں کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے بات یہ ہے کہ رائٹر کی نظر اور مشاہدات ارد گرد کے واقعات کو قلم بند کرنا ہوتا ہے مرد یا عورت کی کردار کشی کرنا ہر گز مقصود نہیں ہوتا اس ضمن میں اپنا ایک تجزیہ اور نکتہ نظر لکھنا چاہوں گا وہ یہ کہ جب تک عورت کی اپنی مرضی اور رضا مندی نہ ہو تو اس وقت تک کسی مرد کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ کسی غیر عورت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے یا کوئی کرے۔ عورت کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ہی مرد اس کی طرف پیش قدمی کرتا ہے آج کل تو موبائل فونز، واٹس ایپ، انٹرنیٹ جیسی جدید سہولتوں نے اس کام کو اور آسان بنا دیا ہے اکثر لڑکیاں اور عورتیں اپنی مرضی سے ہی اپنی تصاویر بذریعہ موبائل، ایم ایم ایس وغیرہ کے ذریعے بھیجتی ہیں۔ گو سب عورتیں ایسی نہیں ہیں مگر ایک کثیر تعداد عورتوں کی ایسی ہے تو ایسے عوامل کے نتیجہ میں ہونے والی خرابیاں کوئی اچھے اثرات نہیں چھوڑتیں تو مصنف ایسی ہی خرابیوں اور برائیوں کی مکروہ شکل اور احاطہ تحریر میں لا کر پیش کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگ سبق دیکھیں اور عبرت حاصل کریں مقصد ہر گز کردار کشی نہیں ہوتا ہمارا الیکٹرانک میڈیا کیا دکھا رہا ہے سب جانتے ہیں مگر تنقید صرف تحریر پر ہوتی ہے لہٰذا جو سچ ہے اسے مان لینا چاہیے سب سے پہلے محترم محی الدین نواب مرحوم کا انٹرویو ملاقات میں پڑھا محمد یاسین صدیق صاحب نے بہت عمدہ انٹرویو مرتب کیا مرحوم محی الدین نواب کو میں اپنا روحانی استاد مانتا ہوں وہ ایک بلند پایہ ادیب تھے ان کی وفات سے ادب کی دنیا میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جو کہ شاید کبھی پورا نہ ہو کسی شاعر کا ایک بہت خوب صورت شعر محی الدین مرحوم کے نام۔
کچھ ایسے بھی اٹھ جائیں گے اس بزم سے
جن کو ڈھونڈنے نکلو گے مگر پا نہ سکو گے
اللہ پاک ان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ لیپ کا سال کے عنوان سے محترم ناصر ملک نے بہت شاندار کہانی پڑھنے کو دی۔ ریاض بٹ صاحب نے حسب سابق کاٹھ کا الو کی شکل میں بہترین کہانی لکھی۔ ویلڈن، خلیل جبار صاحب کی جاندار کردار، اچھی کہانی تھی۔ دستگیر شہزاد کی کہانی خاک نشیمن بہت اچھی لگی پسند آئی، اب تک صرف اتنا ہی پڑھ سکا ہوں ذوق آگہی عبدالجبار رومی انصاری کا انتخاب بہت اچھا تھا انعام یافتہ اقتباس کی بہت بہت مبارک قبول ہو، عائشہ پرویز کے ٹوٹکے بہت مزیدار تھے۔ ان شاء اللہ اگلے ماہ حاضری ہوگی اگر زندگی نے وفا کی تو۔ اللہ نگہبان۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ محترم و مکرم جناب عمران احمد صاحب السلام علیکم امید رکھتا ہوں کہ آپ محترم و مکرم جناب مشتاق احمد قریشی کے زیر سایہ خلوص دل کے ساتھ شمارہ جون کی نوک پلک درست فرما رہے ہوں گے اور آپ کے مخلص رفقا بھی آپ کے ساتھ بھرپور تعاون فرما رہے ہوں گے ماہ مئی کا نئے افق پیش نظر ہے ٹائٹل جریدے کے شایان شان ہے لائق صد احترام جناب مشتاق احمد قریشی کا کالم دستک چشم کشا ہے افواج پاکستان نے جس طرح اپنی قوم کا مان بڑھایا ہے اس نے پوری قوم کی نظر میں ان کا مرتبہ بلند کردیا ہے اور افواج پاکستان کے کمانڈر جناب راحیل شریف نے تاریخ کا وہ باب رقم کیا ہے کہ تاریخ پاکستان میں اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے رہی بات ہمارے سیاستدانوں کی تو یہ لوگ ’’پوتڑوں کے بگڑے ہوئے ہیں‘‘ خدا تمہیں کسی طوفاں سے آشنا کردے کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں۔ رب قدوس ہماری قوم پر رحم فرمائے اور ہمیں چھوٹو گینگوں اور ان کے سرپرستوں سے محفوظ فرمائے۔ گفتگو سے پہلے آپ ہر بار ہمیں ایک پیاری سی حدیث مبارکہ سے نوازتے ہیں عمران بھائی لاہور دھماکا ایک سانحہ نہیں جس نے ہمیں خون کے آنسو رلایا ہے بلکہ ایسے لا تعداد سانحات ہیں جن کو ہم بھول نہیں پاتے۔ اس ماہ گفتگو میں طویل و مختصر چوبیس خطوط کی اشاعت بڑی خوش کن اور امید افزا ہے۔ پیارے بھائی جاوید احمد صدیق کا طویل اور مدلل خط واقعی ہی انعام کے لائق ہے۔ انہوں نے مختلف گوشوں کا ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ یقینا اس معاشرے کی سڑانڈ نے ان کے دل و دماغ کو متاثر کیا ہوگا۔ جاوید احمد صدیقی بھائی اتنا پیارا تبصرہ اور خط لکھنے پر میری طرف سے دلی مبارکباد۔ میرے بارے میں لکھے گئے الفاظ میرے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہیں۔ محترم مجید احمد جائی صاحب بھی بڑے کروفر کے ساتھ تشریف لائے۔ مجید بھائی ہماری دعائوں میں فرق نہیں ہے مگر معیشت ایزدی کے آگے دعائیں مجبور ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت اگر دعائوں سے ٹل سکتی تو کوئی عورت بیوہ نہ ہوتی کوئی ماں اپنے لخت جگر کو خود سے جدا نہ ہونے دیتی۔ محترمہ صائمہ نور ایک اچھے تبصرے کے ساتھ تشریف لائیں اور مدلل باتوں سے ہمیں نوازا۔ ایم اے راحیل صاحب کا خط بھی حقائق پر مبنی خط تھا احسن ابرار رضوی صاحب اچھے خط کے ساتھ تشریف لائے۔محترمہ طاہرہ جبیں تارہ صاحبہ کے خط نے ایک بار پھر سے زخم تازہ کردیے کاش زخم لگانے والوں کو بھی اللہ کی طرف سے کچھ زخم لگیں۔ بشریٰ کنول اور علی اصغر انصاری کے مختصر تبصرے پسند آئے۔ ایم اشفاق بٹ صاحب واقعی کسی کو یہ تک یاد نہیں کہ یہ مملکت خداداد کس طرح معرض وجود میں آئی۔ شاید یہ سب کچھ جان بوجھ کر نوجوان ذہنوں سے نکالا جا رہا ہے۔ خلیل جبار کا وضاحتی خط پسند آیا پیارے بھائی عمر فاروق ارشد صاحب مختصر مگر جامع تبصرہ کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ بھائی اس غم گزیدہ معاشرے میں انسان کو فریش ہی رہنا چاہیے ورنہ زندگی موت سے بھی بدتر ہوجائے۔ پرنس افضل شاہین کا مختصر خط اچھا ہے ان کی تجویز جائز اور قابل غور ہے۔ محترم ریاض بٹ ایک بہترین کہانی کاٹھ کا الو اور جامع اور دلفریب خط کے ساتھ تشریف لائے بھئی کہانی پڑھ کر مزہ آگیا آپ کے قلم میں روانی بدرجہ اتم موجود ہے۔ سوئٹ برادر آپ تو میری شاعری کے حد سے زیادہ مداح ہیں میری کئی غزلیں آپ کی ڈائری میں لکھی ہوئی ہیں فروری کے نئے افق میں میرا تعارف اور نو عدد غزلیں شائع ہوئیں مگر آپ کے قلم سے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہ نکلا جس سے کچھ شک گزرا بہرحال ہم تو بے لوث چاہت کی ریشمی ڈوری میں بندھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت مند اور خوش و خرم رکھے، آمین۔ انجم فاروق ساحلی اور محمد رفاقت صاحب کے خطوط مختصر مگر جامع ہیں۔ محترم شعبان کھوسہ صاحب پہلی بار محفل میں تشریف لائے بھائی جی آیاں نوں۔ موسٹ ویلکم پخیر راغلے آئندہ بھی محفل کو رونق بخشتے رہنا شکریہ۔ محترم عبدالجبار رومی انصاری کا خط خوب ہے حذیفہ چوہان اور ایم ریاض الحق کی مختصر حاضری پسند آئی۔ ’’اقرا‘‘ ہمارے پیارے میگزین کا وہ پیارا سلسلہ ہے جو ہمیں صراط مستقیم پر چلنے پر مائل کرتا ہے جناب طاہر قریشی صاحب لائق صد مبارک باد ہیں رب کریم ان کو ان کی کاوش پر اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔ ملاقات پڑھ کر مرحوم محی الدین نواب صاحب کے بارے میں سب کچھ جاننے کا موقع ملا لیپ کا سال ناصر ملک صاحب کی تحریر بہت پسند آئی جناب عامر زمان عامر صاحب کی حمد اور نظم بہت خوب ہیں محترمہ سباس گل صاحبہ اور محترمہ نوشین اقبال نوشی صاحبہ پوری لگن، محنت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں خدا انہیں مزید ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے فن پارے میں کہانیوں کا انتخاب بہت خوب ہے نیک تمنائوں کے ساتھ۔
گل مہر… کراچی۔ نئے افق کے سارے اسٹاف تمام ریڈرز اور رائٹرز کو میرا سلام امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ سرورق اچھا تھا، ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ مغربی حسینائوں کے بجائے مشرقی حسینائوں سے ٹائٹل سجایا جائے۔ اس بار مشتاق احمد قریشی صاحب نے دستک میں رینجرز اور فوج کی جان توڑ کوششوں کا ذکر کیا اور سیاستدانوں کی چالبازیوں اور فریب کاریوں کا پردہ چاک کیا اللہ کا شکر کہ فوج اور رینجرز کی انتھک کوششوں سے ملک میں تقریباً اسی فیصد امن قائم ہوچکا ہے۔ اس بار چوبیس خطوط گفتگو کی محفل میں شامل کیے۔ لاہور میں بم دھماکے میں سو کے قریب اموات ہوئیں پھر یکے بعد دیگرے ادبی افق کے روشن ستاروں کے خاک نشین ہونے کی اطلاع موصول ہوئی بے انتہا افسوس ہوا یہ سب نامی گرامی رائٹرز تھے ان کے نعم البدل ملنا نا ممکن ہے افسوس اب ہم ان کی تحریروں سے ہمیشہ محروم رہیں گے۔ جاوید صاحب میں سب سے پہلے تو آپ کو انعام یافتہ خط پر مبارکباد پیش کرتی ہوں آپ نے ملکی حالات اور عوام میں سرائیت کر جانے والی خامیاں بیان کی ہیں مجھے آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ جب تک عوامیں شعور بیدار نہیں ہوگا تب تک ملکی حالات ایسے ہی ابتر رہیں گے۔ دوسرا خط مجید جائی صاحب کا تھا انہوں نے مشتاق صاحب کی دستک میں دیے گئے ہندو بنیے کی چالبازیوں کے بارے میں لکھا آپ کے خیالات پڑھ کر خوشی ہوئی حقیقت سے قریب باتیں کیں آپ نے۔ صائمہ نور کیسی ہیں آپ ہمیں مختصر خط لکھتی ہیں مگر اپنی بات خوب صورتی سے بیان کردیتی ہیں۔ میری غیر حاضری نوٹ کرنے اور تبصرے کو پسند کرنے پر آپ کی مشکور ہوں۔ پرنس افضل شاہین آپ کا بھی بے حد شکریہ تبصرہ کو پسند کرنے اور میری رائے سے اتفاق کرنے کا اس کے علاوہ میں ایم اے راحیل، ریاض بٹ، احسن ابرار رضوی کی بھی شکر گزار ہوں۔ احسن آپ خود بھی اچھے تبصرے لکھتے ہیں اور کھلے دل سے سراہتے ہیں سب کے تبصرے۔ رمشا ملک آزاد کشمیر سے گفتگو کی محفل میں شریک ہوئیں۔ رمشا ہمیں نقصان صرف دشمن ہی نہیں پہنچا رہا ہے بلکہ خود مسلمان ان دشمنوں کے آلہ کار بن کر اپنے ہی ملک کی جڑیں کھود رہے ہیں۔ شعبان کھوسہ آپ کا بھی شکریہ اور ریاض حسین قمر صاحب آپ کی گفتگو کی محفل میں شرکت محفل کو چار چاند لگا دیتی ہے بہت اچھے تبصرے کرتے ہیں آپ، آپ نے میرے تبصرے کو بہترین ستائش سے نوازا جس کے لیے میں آپ کی مشکور ہوں۔ احسان سحر صاحب اور دیگر حضرات محفل سے غیر حاضر ہیں۔ اب کچھ ڈائجسٹ کی دیگر تحریروں کے بارے میں اس بار ادارے نے نامور رائٹر محی الدین نواب کا انٹرویو شائع کیا۔ ان کے بارے میں بہت سی معلومات آگاہی حاصل ہوئی اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے جس ہمیں بے حد افسوس ہے۔ ایک درخواست ہے کہ اگر ادارے کے پاس کاشف زبیر اور طاہر جاوید مغل کے پرانے یا نئے انٹرویوز ہوں تو انہیں نئے افق کی زینت بنایا جائے۔ نئے افق میں پہلی تحریر ناصر ملک صاحب کی تھی جن کی تعریف سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ امجد جاوید کی عورت ذات کی جتنی پبلسٹی کی گئی تھی ایسا اس میں کچھ بھی نہیں یہ قارئین کی امیدوں پر اترنے میں ناکام رہی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جسے عورت ذات، قلندر ذات کا تسلسل ہے۔ اس کے بعد عشق کسی کی ذات نہیں پڑھی تھی۔ دوسری سلسلے وار تحریر پل صراط عشق ہے جو انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی پہلی قسط پڑھ کر ایسا لگا کہ جیسے کسی کتاب کا پریفنس نظر کے سامنے ہے۔ اس کے علاوہ ریاض بٹ کی کاٹھ کا الو، خلیل جبار کی جاندار کردار، ساحل ابڑو کی اپرمن گزیدہ، محمد یاسین کی عشوقہ پسند آئیں فن پارے کی ساری کہانیاں اچھی تھیں۔ ذوق آرہی انمول موتیوں سے بھرا تھا۔ خوشبوئے سخن میں فرح بھٹو، پرنس افضل شاہین، نیئر رضوی اور احساس سحر کی غزلیں پسند آئیں۔
خواجہ حسین… منچن آباد۔عزیزم عمران احمد صاحب بڑے ہی خلوص انداز میں سلام عرض ہے نومبر 2015ء سے نئے افق کی دہلیز پر بیٹھا ہوں اور تین چار مرتبہ سلسلہ ذوق آگاہی پر دستک دینے کی جسارت بھی کر چکا ہوں قارئین کرام پر تبصرہ کروں اتنی میری جرات اور مجال نہیں میرے علاوہ جتنے لوگ بھی نئے افق میں شامل ہیں خواہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں یا چھوٹے یقیناً وہ سب ہر لحاظ سے مجھ سے بہتر ہیں آپ کے ماہ مئی کے شمارہ نئے افق میں اپنے تبصرہ میں جن لوگوں کو بلیک لسٹ قرار دیا ہے اس میں بندہ ناچیز کا نام بھی شامل ہے قدرت حق گواہ ہے کہ نہ تو میں نے محترم عامر زمان عامر پر تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی قبلہ مجید احمد جائی پر۔ آخر میں بڑی ہی عاجزانہ التجا ہے کہ بندہ ناچیز بندہ خاکسار نے دو عدد کہانیاں لکھنے کی حماقت کی ہے کمپوز کرا کر ارسال کر رہا ہوں اپنی شفقت کے سائے تلے ان کی نوک پلک سنوار کر شمارہ میں جگہ عنایت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہوں نئے افق کے لیے نیک تمنائوں کا خواہش مند۔
محترم خواجہ صاحب ہم نے کسی کو بلیک لسٹ نہیں کیا ہے آپ کی کہانیوں کا انتظار رہے گا۔
علی اصغر علی انصاری… منچن آباد۔ محترم جناب عمران احمد صاحب اور تمام مدیران اور قارئین کو عقیدت مندانہ سلام عرض ہے نئے افق کی پوری ٹیم کے لیے دعا گو ہوں کہ رب کریم ان کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، ان کی خدمات جاری و ساری رکھے دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب کے خیالات جان کر اچھا لگا جاوید احمد صدیقی راولپنڈی والے کو بہترین تبصرہ کا انعام حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جناب محمد یاسین صدیق صاحب ملاقات میں آپ نے محی الدین نواب کا انٹرویو کیا ہے کیا خوب لکھا ہے یقین کیجیے پڑھتے وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے نواب صاحب میرے ساتھ ہی گفتگو فرما رہے ہیں آپ کا انداز بیان بڑا پر اثر تھا آپ کی معلومات کو سراہتا ہوں جناب ناصر ملک صاحب آپ کی تحریر لیپ کا سال میں اتنی کشش تھی کہ ایک بار شروع کی نظر ہٹانے کو من نہ کیا۔ بہت ہی خوب صورت انداز بیاں اور منظر کشی کی ہے۔ ریاض بٹ صاحب آپ بہت اچھا تبصرہ کرتے ہیں احسن ابرار رضوی، خواجہ حسین، بشریٰ کنول، محمد رفاقت، محمد یاسر اعوان، عبدالجبار رومی اور حذیفہ چوہان آپ کے تبصرے بڑے اچھے لگے۔ خلیل جبار کی تحریر جاندار کردار آغاز الدین کی دست خطا، سباس گل کی ذوق آگاہی اور بہن نوشین اقبال نوشی نے خوش بوئے سخن میں خوب خوش بو بکھیری ہے اچھا لگا پڑھ کر تمام رائٹرز بہت اچھا لکھتے ہیں کون کہتا ہے کہ ہمارے پاس ادبا کی کمی ہے بس پہچاننے والی آنکھوں کی ضرورت ہے ذوق آگاہی میں حسین خواجہ صاحب نے ماضی کی خوب منظر کشی کی ہے پسند آیا اچھا لکھتے ہیں آپ ایسے ہی لکھتے رہیے گا بہن عائشہ پرویز آپ کے ٹوٹکے بڑے فنی تھے آپ نے تو بڑے حکیمانہ انداز میں مزاح کی تعریف کی ہے مبارک باد کی مستحق ہیں جناب۔ محمد قمر شہزاد آسی کے کلام کو انعام یافتہ کلام میں شامل کیا گیا نئے افق کو چار چاند لگانے میں نئے افق کی ٹیم کا خاص و خاص کردار ہے کہ انہوں نے سرورق سے اختتام تک خوب سنوارا ہے میری ایک گزارش ہے کہ میرے شہر منچن آباد سے کراچی کا فاصلہ زیادہ ہے یا شاید ڈاک اتنی سست ہے کہ نئے افق کا شمارہ ہم تک پہنچتے پہنچتے 15 دن گزر جاتے ہیں اور ٹائم کی کمی ہے اسے بغور پڑھ کر اس پر تبصرہ کرنے بیٹھوں تو اور لیٹ ہوجائوں گا اور میرے تبصرے شاید اسی وجہ سے اکثر شائع نہیں ہوتے لہٰذا نئے افق کے منتظمین سے التماس ہے کہ ضلع بہاولنگر کی تحصیل منچن آباد میں اس کی جلد از جلد رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہم نہ صرف نئے افق کو گہرائی کے ساتھ پڑھ سکیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کرسکیں۔
فلک شیر ملک… رحیم یار خان۔ مئی کا شمارہ دینی، ادبی، واقعاتی غرضیکہ ہر لحاظ سے پرفیکٹ پایا گیا، ٹائٹل جو کہ ہماری سسکتی، سلگتی خواہشات اور زندگی بھر کی الجھنوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مستقبل کی طرف اشارہ بھی دے رہا ہے۔ یہ انوکھا سرورق، زبردست تھا۔ جہاں عورت زاد اور پل صراط عشق نے پرچے کی خوب صورتی میں اضافہ کیا ہے وہیں لفظوں کو موتیوں کی لڑیوں میں پرونے والے الفاظ کے جادو گر ناصر ملک نے لیپ کا سال لکھ کر جریدے کو چار چاند لگا دیے پھر سونے پر سہاگے کا کام یاسین صدیق نے عشوقہ اور محی الدین نواب سے ملاقات کرا کے کردیا۔ نواب صاحب پر ایک شعر یاد آگیا
ہمت پر خلوص لوگ تھے جو تنہا کر گئے
دستک ضرب عضب پر مشتاق قریشی کی دلچسپ باتیں خوب صورت انداز میں بیان ہوئیں۔ گفتگو میں عمران احمد کا دکھ بجا ہے ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے درد سر میں ہو تو پورا جسم تکلیف میں رہتا ہے۔ جاوید احمد صدیقی کا بھرپور تبصرہ اور طویل خط نمبر ون تھا دوسرا فن پاروں میں صدقہ لکھ کر انہوں نے بے حساب ثواب کمایا، بے شک صدقے سے مال گھٹتا نہیںبڑھتا ہے صدقات و خیرات صرف رمضان اور عید کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اپنی اپنی بساط کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہنا چاہیے۔ خطوط کی محفل عروج پر تھی۔ ریاض بٹ کا تبصرہ تحریر کاٹھ کا الو اور ذوق آگہی میں لکھا اقتباس شاندار تھے۔ کہانی کا اینڈ بھی سسپنس پر ہوا۔ حذیفہ چوہان تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ نے میرے اور میری بیٹی عائشہ اعوان کے اقتباسات اتنی باریکی سے پڑھ کر سبق سیکھا ہمیں اپنے ماضی اور تاریخ کے ان درخشاں ستاروں کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے جن کی بدولت مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ہم آزاد بھی ہیں۔ عائشہ میری بیٹی ہے اور اسے نئے افق، آنچل اور حجاب سے جنون کی حد تک پیار ہے۔ ناقابل اشاعت کہانیوں والا سلسلہ شروع کر کے ادارے نے ہمارے دل کی بات سن لی۔ اقرا، طاہر قریشی صاحب کی نیکیوں میں اضافہ کرتی ہوئی رواں ہے۔ ہمہ گیر صفات کا مالک اللہ عزوجل اور اس پاک ہستی کی ہر صفت کی افادیت مختصر انداز میں بیان طاہر قریشی کا فن کمال ہے۔ ناصر ملک کو مبارکباد دیتا ہوں ان کی اس تحریر میں بہت بڑا سبق ہے کہ تکبر اور غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔ خلیل جبار کی جاندار کردار ایک جامع تحریر تھی واقعی بعض اوقات انسان مجبوریوں کے آگے بے بس ہوتا ہے۔ امجد جاوید کی عورت زاد کے لیے کیا لکھوں کمال کا رائٹر ہے اور ہر فن مولا ہے ساحل ابڑو دیر بعد آئے مگر زبردست قصہ لائے۔ پکھی داس بھی خاص تحریر تھی۔ فیک بک حالات حاضرہ کی نسل خصوصاً ینگ جنریشن کا جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ، فیس بک وغیرہ کے غلط استعمال کے نقصانات پر زبردست تحریر تھی۔ پل صراط عشق کی دوسری قسط نے بہت محظوظ کیا فن پاروں میں اقبال حسن آزاد کی مزاح سے بھرپور تحریر سہرا سجانے کا ارمان بہت پسند آئی، باقی کتھائیں بھی خوب تھیں۔ مگر جاوید صدیقی کی صدقہ نے بہت متاثر کیا اللہ اجر دے۔ ذوق آگہی میں پاکیزہ اور شاندار باتیں پڑھ کر روحانی سکون ملا۔ عبدالجبار رومی کا اقتباس ٹاپ آف لسٹ تھا۔ حذیفہ چوہان کی محبت نے دل موہ لیا۔ مہکتی کلیاں نادیہ عباس اور عائشہ پرویز کراچی کے ٹوٹکے خوب رہے۔ خوش بوئے سخن میں ہر کلام ایک سے بڑھ کر ایک تھا مگر محمد احمد رضا کی نظم لوٹ آنا نے دل چیر کے رکھ دیا۔ زریں قمر صاحبہ بڑے اچھے موضوع پر لکھتی ہیں اور کبھی کبھی تو بہت اداس کرجاتی ہیں رب تعالیٰ مسلمانوں کو ہر مقام پر کامیابی سے سرفراز کرے۔ چند گزارشات کرنا چاہتا ہوں اگر برا نہ لگے۔ ما شاء اللہ نئے رائٹر اور نئے قارئین میں بہت اضافہ ہو رہا ہے جو کہ رسالے کی مقبولیت اور کامیابی کی دلیل ہے زیادہ تر کہانیاں اسی وجہ سے رہ جاتی ہیں کہ 290 صفحات میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی۔ پلیز جس طرح بہنوں کے لیے حجاب نکالا گیا نئے رائٹرز کے لیے ایک رسالہ نئی منزلیں یا نئے کارواں کے نام سے نکال دیں ملک میں بڑا ٹیلنٹ ہے سب کو یکساں موقع مل جائے گا۔ مغربی ترجمہ شدہ کہانیوں کی تعداد کم کرلیں اور فن پاروں کی بجائے پرانا سلسلہ یعنی سچے واقعات آپ بیتیاں، جگ بیتیاں شروع کریں، معیار تو پہلے بھی بہتر ہے اس سے اور بھی ترقی ہوگی اور پڑھنے کا لطف دوبالا ہوگا۔ اگلے ماہ تک کے لیے اجازت اللہ حافظ۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close