Naeyufaq Jun-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

میاں صاحب عقل کے ناخن لیں

میاں نواز شریف آج کل پاناما لیکس کے باعث شدید دبائو میں ہیں ان کے مخالف سیاست دانوں کا خیال ہے اب بھینس پانی میں آگئی ہے ہر قسم اور سائز کا سیاست دان بڑے جوش و خروش سے میاں صاحب کے لتے لے رہا ہے اور میاں صاحب ہیں کہ میںنہ مانوں کی گردان کر رہے ہیں ان کے لیے ہر نیا سورج نئی خبر کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میاں صاحب کو اب عادت ہوگئی ہے وہ جب تک اپنی اچھی طرح بے عزتی نہیں کرا لیتے اس وقت تک وہ گھر واپس جانے کو تیار ہی نہیں ہوتے اگر ان کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ہر بار وہ ڈنڈے کے زور پر ہی ایوان اقتدار سے نکالے گئے ہیں اس بار بھی شاید وہ اپنے ماضی کے تجربات کو دہرانا چاہ رہے ہیں کہ حالات ان کی ہٹ دھرمی سے اس نہج پر پہنچ جائی کہ افواج پاکستان کو مجبوراً ہی سہی ملک و قوم کی بہتری اور بھلائی کے لیے کوئی مثبت قدم اٹھانا پڑ جائے شاید اس طرح میاں صاحب اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنا چاہتے ہیں تاکہ آئندہ حالات درست ہونے پر ایک بار پھر موقع آسانی سے مل سکے ویسے بھی عوام بے چارے اتنے ذہین نہیں ہے کہ وہ ماضی کے واقعات و حادثات کو یاد رکھ سکیں عوام کی یہی فراموشی کی خصلت ہے جس کے باعث یہ کرپٹ اور بد عنوان سیاست دان اپنی بے ایمانی، بد عنوانی کے ذریعہ ہر بار بظاہر عوام کے ہی ووٹوں سے منتخب ہوجاتے ہیں اور بڑے فخر سے سینہ پھلا پھلا کر اپنی عوامی مقبولیت کے نعرے لگاتے رہتے ہیں ان کی منتخب بے ایمانیوں میں ان کے شانہ بشانہ نوکر شاہی بھرپور انداز میں کھڑی ہوتی ہے کیونکہ اسے ہر بار الیکشن کے ذریعے لاکھوں نہیں کروڑوں کمانے کا نادر و نایاب موقع میسر آتا ہے جس بھی سیاسی پارٹی سے ان کے معاملات طے ہوجاتے ہیں اس کی جیت کو یقینی بنانے میں وہ اپنا بھرپور کردار سر انجام دیتی ہے اور پھر اقتدار میں آنے کے بعد جیتنے والی جماعت سے مسلسل فوائد بھی حاصل کیے جاتے رہتے ہیں یوں نوکر شاہی آم کے آم گٹھلیوں کے دام کا سودا کرتے ہیں۔
میاں صاحب اور ان کے تمام ہی ساتھی خوب اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ بات چند دنوں یا چند ہفتوں کی رہ گئی ہے چل چلائو کی ہَوا چل پڑی ہے اس لیے تمام وزرا اپنی بساط کے مطابق زور آوری کے جوہر دکھا رہے ہیں اور حزب اختلاف کی زور آوری لمحہ لمحہ بڑھتی ہی جا رہی ہے میاں صاحب کو حواس باختہ کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ اگر میاں نواز شریف سیدھے سیدھے اپنے صاحبزادگان کے تعلق سے بحیثیت وزیر اعظم پاکستان کوئی مناسب رویہ اختیار کرلیتے اور ان کے خلاف کوئی مناسب اقدام اٹھانے کا ارادہ ظاہر کردیتے تو بہتر تھا لیکن اس کے برعکس وہ خود اپنے بچوں کی صفائی کی مہم پر کمر کس کر کھڑے ہوگئے یہی ان کی غلطی ہے۔ ایسا شاید انہوں نے اس لیے کیا کہ بظاہر تو وہ تمام سرمایہ جو آف شور کمپنیز میں لگایا گیا وہ ان کے بیٹوں بیٹیوں سے منسوب ہے لیکن در حقیقت ہے تو خود ان کا ہی سرمایہ۔ اگر میاں صاحب بحیثیت وزیر اعظم پاکستان اس بات کا برملا اقرار کرلیتے اور اعلان کرتے کہ میں تمام سرمایہ واپس وطن لا کر تمام قانونی تقاضوں کو پورا کروں گا تو شاید اتنا شور شرابہ نہ مچتا اور بولنے والوں کے منہ اس قدر نہ کھلتے اگر کوئی کچھ کہتا بھی تو عوام کے دلوں میں ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا اور یوں یہ محاورہ درست ثابت ہوجاتا سو سنار کی ایک لوہار کی۔ ان کی ایک ہی ضرب انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ان کا قد کاٹھ سیاسی طور پر عوامی مقبولیت کے طور پر بلند ہوسکتا تھا لیکن ان کے بد خواہوں نے انہیں الٹے سیدھے مشورے دے دے کر انہیں نہ گھر کا رکھا نہ گھاٹ کا اب وہ بتدریج اپنی جانب سے تو ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھا رہے ہیں لیکن ان کا ہر اٹھنے والا قدم انہیں جی ایچ کیو کی طرف لے جا رہا ہے وہ خود دعوت دے رہے ہیں کہ آبیل مجھے مار اب دیکھنا یہ ہے کہ کب کیا ہوتا ہے عوام کو ان کا سورج ڈوبتا نظر آرہا ہے عوام حیران ہی نہیں پریشان بھی ہے کہ ان کا پیشرو آصف علی زرداری نے جو ایک بالکل نیا سیاست کا کھلاڑی ہے کس طرح اور کیسے اپنے عہدے کی مدت کو پورا کر کے وطن عزیز میں بھی ایک تاریخ رقم کردی جبکہ میاں صاحب تو کئی بار کی مار کھائے سیاسی کھلاڑی ہیں پھر بھی ان کی مدت اقتدار ڈھائی تین سال سے آگے نہیں بڑھ پاتی اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ میاں صاحب کو سیاست کی الف ب کی کوئی خبر نہیں وہ خود خوشامدیوں کے حصار میں گھرے رہتے ہیں ان کی مرضی و منشا سے ہی قدم اٹھاتے ہیں جو بالآخر بدنامی رسوائی اور ذلت سے دوچار کردیتے ہیں۔ اللہ وطن عزیز کی حفاظت فرمائے ہر بلا و مصیبت سے محفوظ رکھے، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close