Naeyufaq May-16

کاٹھ کا الو

ریاض بٹ

سیانے کہتے ہیں کہ جب تک بے وقوف زندہ ہیں عقل مند بلکہ دوسرے لفظوں میں شاطر لوگ بھوکے نہیں مرسکتے۔ اس کی مثال ایک لطیفے کی صورت میں آپ کی نذر کررہا ہوں۔
ایک شخص مجمع اکٹھا کیے ہوئے تھا اور کہہ رہا تھا لوگوں سنو! مجھے پتا ہے آج کیا ہے؟ا ور کل کیا ہوگا؟ انسان کی فطرت میں تجسس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے‘ مجمع بڑی توجہ اور انہماک کے ساتھ اس کی باتیں سن رہا تھا۔
ایک شخص بولا۔ ’’بتائو! آج کیا ہے اور کل کیا ہوگا؟‘‘
شاطر شخص بولا۔ ’’پہلے اس ڈبے میں کچھ ڈالو۔‘‘ اس نے اپنے سامنے رکھے ٹین کے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تھوڑی دیر میں ڈبہ ریز گاری اور نوٹوں سے بھرگیا۔ شاطر شخص نے ڈبے میں سے سب کچھ نکالا اور ہاتھ لہرا کر بولا۔
’’آج بدھ ہے‘ کل جمعرات ہوگی۔‘‘ اوریہ جا وہ جا۔ مجمع اپنا سرپیٹ کر رہ گیا۔
اب کہانی کی طرف آتا ہوں‘ ایک دن ایک بندہ میرے پاس آیا اور بولا۔
’’تھانیدار صاحب! میرے قیمتی باز کو کسی نے زہر دے کر مار دیا ہے اور اس کے قریب ایک پرچہ بھی ملا ہے۔‘‘ لیجیے ملاحظہ فرمایے۔
میں نے بغور اس کا جائزہ لیا اس کی عمر چالیس سال کے اریب قریب ہوگی۔رنگ گورا اور آنکھیں اخروٹ کی طرح تھیں۔ دو گھوڑا بوسکی کی قمیص‘ لٹھے کی شلوار اور قیمتی کالی کوہاٹی چپل پہنے ہوئے تھا۔
جس دور کی یہ کہانی ہے اس دور میں صاحب حیثیت اور امیر کبیر آدمی یہ لباس‘ جسم کی زینت بناتے تھے وہ بھی ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک تھا۔
نام اس کا سعید تھا‘ میں نے پرچہ پر تحریر کردہ عبارت پڑھی‘ لکھا تھا۔
’’سعید صاحب! یہ ابھی ابتدا ہے‘ اگر آپ نے میرا مطالبہ پورا نہ کیا تو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ نیچے کسی کا نام نہیں لکھا تھا۔
’’سعید صاحب!‘‘ میں نے اپنے سامنے بیٹھے متمول شخص کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’جناب! آپ نے پرچہ پڑھ لیا ہے اور میں نے آپ کو بتادیا ہے کہ پالتو باز کو زہر دے کر مار دیا گیا ہے‘ مجھے اپنی جان کا بھی خطرہ ہے اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کا ایسا کون سا دشمن ہے جس نے یہ سب کچھ کیا ہے۔‘‘
’’جناب! آپ ذرا میرے ساتھ چلیں اور حالات کا جائزہ لیں۔ میری تو مت ماری گئی ہے میرے ذہن میں تو ایسا کوئی دشمن نہیں آرہا۔‘‘
بہرحال قصہ مختصر یہ کہ میں نے سپاہی مراد کو ساتھ لیا اور اس کی ڈیڑھ کنال پر بنی وسیع و عریض کوٹھی پر پہنچ گیا۔
میرے ذہن میں کسی کتاب سے پڑھا ہو افقرہ در آیا اگر آپ کسی عالی شان اور بڑے رقبے پر پھیلی کوٹھی کے باہر کھڑے ہوکر سوچیں تو آپ کا دل یہ کہے گا کہ اس کوٹھی کے مکین کتنے خوش نصیب ہیںلیکن جب آپ کو ٹھی کے اندر داخل ہوکر حالات کا جائزہ لیں گے تو حالات (عموماً) آپ کی سوچ کے برعکس ہی ہوں گے اور میں نے کوٹھی کے اندر ایک خوب صورت سجے سجائے کمرے میں بیٹھ کر محسوس کیا کہ یہاں تو سب خوف زدہ ہیں‘ پریشان حال ہیں‘ مایوسی کا شکار ہیں۔ آگے پڑھنے سے پہلے میں یہاں کے مکینوں کے متعلق بتاتا چلوں۔
اس کوٹھی میں سعید صاحب‘ ان کی بیگم صندل‘ پانچ نوکر اور سعیدصاحب کی بیوہ بہن نائلہ کے علاوہ اندھا بھائی نوید رہتے تھے۔ سعید صاحب کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
میں نے مردہ باز کا جائزہ لیا‘ واقعی اس کو زہر دیا گیا تھا۔ بڑا خوب صورت اور قیمتی باز تھا۔ باز کی دیکھ بھال اکرم نامی ایک نوکر کے ذمہ تھی۔ میں نے سب سے پہلے اسے سوالوں کی زد پر رکھ لیا۔
’’اکرم! یہ سب کیسے ہوگیا‘ جب کہ مجھے پتا چلا ہے کہ تم اس چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے جس میں باز کو رکھا گیا تھا۔‘‘
اکرم ایک دبلا پتلا گندمی رنگ کا بندہ تھا‘ آنکھیں اسے ایک وفادار اور مخلص انسان کے روپ میں پیش کررہی تھیں‘ اس نے مری مری سی آواز میں کہا۔
’’تھانیدار صاحب! سعید صاحب نے ایک شکاری سے یہ باز اس وقت لیا تھا جب یہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا۔ میں نے ہی اسے پالا ہے‘ یہ سعید صاحب سے زیادہ میرے ساتھ مانوس تھا۔ مجھے خود حیرانگی ہے کہ اس کو کس نے زہر دیا ہے؟ آپ برائے کرم مجھ پر کسی قسم کا شک نہ کریں‘ مجھے باز کے مرنے کا بہت دکھ ہے۔‘‘
’’دیکھو! شک کرنا پولیس والوں کی فطرت میں ہوتا ہے۔ ہماری تفتیش کی گاڑی شک کے پیٹرول کے بغیر نہیں چلتی۔‘‘ میں نے چند لمحے اس کی آنکھوں میںدیکھا پھر بولا۔ ’’خیر تم یہ بات بتائو کہ تمہارے خیال میں باز کو زہر کس چیز میں دیا گیا ہے۔‘‘
’’جناب میرے خیال میں زہر پانی میں دیا گیا ہے‘ پانی کا برتن الٹا پڑا ہوا تھا اور ہاںجناب تھانیدار صاحب! ایک بات اور بھی ہے میں اتنی گہری نیند کبھی نہیں سویا لیکن پچھلی رات مجھے بڑی گہری نیند آئی تھی اور صبح جب میں سوکر اٹھا تو سر بھاری بھاری تھا۔‘‘
’’اوہ…‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ یہی بات مجھے کھٹک رہی تھی‘ آخر باز چپ چاپ تو نہیں مرا ہوگا۔ وہ کچھ پھڑپھڑایا ہوگا‘ تڑپا ہوگا۔ وہ سخت گرمیوں کے دن تھے‘ جولائی کا مہینہ اپنا آدھے سے زیادہ سفر طے کرچکا تھا۔ ظاہر ہے لوگ کمروں کے دروازے کھلے چھوڑ کر سوتے تھے اس کے باوجود باہر کا کوئی آدمی کوٹھی کے اندر آکر اتنی دلیری سے یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے اکرم کو تفتیش کی چکی میں پسینے کے بعد باقی لوگوں سے بھی سوال و جواب کیے تھے لیکن کوئی کام کی بات معلوم نہ ہوسکی تھی۔
عجیب پُراسرار معاملہ تھا بالکل کسی جاسوسی ناول کی طرح اور مجھے اس سارے معاملے کی تفتیش کسی سراغ رساں کی طرح کرنی تھی۔
سعید صاحب اس معاملے میں کوری تختی ثابت ہوئے تھے۔ کافی سو چ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ سعید صاحب کسی خو ف کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کررہے۔ وہ میرے کاندھے پر رکھ کر بندوق چلانا چاہیے تھے۔
بہرحال جو کچھ بھی تھا‘ مجھے تو اس رپورٹ پر تفتیش کرنی تھی کہ سعید صاحب کو کسی نامعلوم آدمی کی طرف سے دھمکی ملی تھی۔ یہاں یہ بات بتادوںکہ سعید صاحب نے باقاعدہ رپورٹ درج کروادی تھی۔
بہرحال تھانے میں واپس آکر میں نے تمام حالات اے ایس آئی ابرار کے گوش گزار کردیئے۔
’’سر! میرا بھی یہی خیال ہے کہ سعید صاحب نے ساری بات نہیں بتائی اور یہ بات حقیقت کے قریب نہیں لگتی کہ یہ پہلا پرچہ ان تک پہنچا ہے اور پرچے میں کسی مطالبے کا ذکر بھی ہے جو کوئی اور ہی کہانی سنارہا ہے۔‘‘
’’اس کہانی تک تو ہمیں پہنچنا ہے۔ سعید خوفزدہ ہے‘ وہ کھل کر بات نہیں کررہا۔ ہمیں جلد از جلد حالات کی تہہ تک پہنچنا ہے ورنہ کوئی بڑی واردات بھی ہوسکتی ہے۔‘‘
اس کے بعد اے ایس آئی یہ کہہ کر وہ مجھ سے اجازت لے کر چلا گیا تھا کہ سر! میں آج سے کام شروع کردیتا ہوں۔‘‘
قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک باز کی موت پر میں سعید کی کوٹھی پر چلا گیا تھا ‘ یہ حقیقت ہے کہ تھانیداروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر اتنی توجہ دیں۔ دراصل میری تھانیدارانہ حس نے مجھے خبردار کردیا تھا کہ معاملہ صرف باز کی موت تک ٹلنے والا نہیں۔
میں نے سعید کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگالیا تھا کہ معاملہ گمبھیر ہے۔ یہ چار دن بعد کی بات ہے میں کاغذوں میں الجھا ہوا تھا کہ مجھے اطلاع دی گی۔
’’سر! سعید صاحب کی کوٹھی سے بندہ آیا ہے کہتا ہے اکرم کو کسی نے قتل کردیا ہے۔ لاش کوٹھی کے پائیں باغ میں پڑی ہے۔‘‘ اطلاع سپاہی انور نے مجھ تک پہنچائی تھی۔
میں نے ضروری تیاری کی اور کانسٹیبل وزیر اور سپاہی انور کو ساتھ لے کر سعید کی کوٹھی پر پہنچ گیا۔ کوٹھی کے پائیں باغ کی بڑے سلیقے سے تراش خراش کی گئی تھی۔ گھاس بڑی خوب صورت تھی‘ آنکھوں کو بھلی لگ رہی ہے۔ باغ میں ایستادہ شیر اور ہرن کے مجسمے کسی ماہر سنگ تراش کے ماہرانہ کمال کا منہ بولتا ثبوت تھے لیکن میرے خیال میں اکرم کی خون آلود لاش نے باغ کے سارے حسن اور خوب صورتی کو نگل لیا تھا۔
لاش ہرن اور شیر کے مجسموں کے عین سامنے پڑی تھی۔ لاش کروٹ کے بل پڑی تھی میں نے نیچے بیٹھ کر باریک بینی سے اس کا معائنہ کیا تو پتا چلا کہ ایک زخم سینے پر عین دل کے مقام پر ہے جبکہ دوسرا زخم دائیں گردے کے مقام پر ہے دونوں زخم گہرے اور مہلک تھے اور میری تجربہ کار نگاہوں نے فیصلہ دے دیا کہ یہی دونوں زخم موت کا باعث بنے ہیں ۔ ویسے صحیح صورت حال تو پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے واضح کرنی تھی۔زخم کسی تیز دھار خنجر یا چھری کے لگتے تھے۔
میں نے ضروری کارروائی کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی تھی ۔کانسٹیبل وزیر کو لاش کے ساتھ بھیج دیا۔ سعید صاحب نے کچھ کرسیاں باغ میں رکھوادیں۔
میں نے ایک کرسی پر بیٹھ کر تھانیداری شروع کردی۔ سعید کا چہرہ ہلدی کی طرح پیلا پڑگیا تھا۔ سپاہی کو میں نے باقی مکینوں کی نگرانی پر مامور کرکے سعید صاحب کو اپنے سامنے بٹھالیا اوربغور اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے اس سے سوال کیا۔
’’سعید صاحب! اب تو پانی سرکے اوپر آپہنچا ہے؟‘‘
’’جی… کیا مطلب۔‘‘ اس نے کچھ نہ سمجھ میں آنے والے لہجے میں کہا۔ مجھے اس پر غصہ آگیا‘ میں نے تپتے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’آپ نے اصل بات مجھے نہیں بتائی تھی جس کی وجہ سے یہ اتنا بڑا حادثہ ہوگیا۔‘‘
’’دیکھیں جناب! میں نے پہلے رقعہ کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی۔‘‘ وہ چونک کرمیری طرف دیکھنے لگا۔ اس کی زبان سے بات نکل گئی تھی‘ میں نے اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور ذرا تیز لہجے میں بولا۔
’’اس کامطلب ہے کہ پہلے بھی آپ کو کوئی رقعہ ملا تھا اورآپ نے اسے پھاڑ کرپھینک دیا تھا۔یہ دوسرا رقعہ تھا جو آپ نے مجھ تک پہنچایا تھا وہ بھی بازکے مرنے کے بعد۔‘‘
’’جی۔‘‘ اس نے اتنا ہی کہا اور سر جھکالیا۔
’’ہوں۔‘‘ میں نے ہنکارا بھرا اورچند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتے رہنے کے بعد کہا۔
’’پہلے رقعہ میں کیا لکھا تھا؟‘‘
’’صرف دو لفظ۔‘‘
’’صرف دو لفظ؟‘‘ میں نے اس کے کہے ہوئے لفظ دہرائے پھر استفسار کیا ۔ ’’وہ لفظ کیا تھے؟‘‘
’’بے وقوف‘الّو۔‘‘ اس نے جھینپتے ہوئے لہجے میں کہا۔ میں نے اپنی ہنسی کا گلہ گھونٹتے ہوئے (کیونکہ یہ ہنسی کا موقع نہیں تھا) چالیس سالہ مل اونر کی آنکھوںمیں دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’عجیب بات ہے‘ بہرطور بات ہوجائے دوسرے رقعہ کی اس میں کسی مطالبے کا ذکر تھا؟‘‘
’’جی ہاں‘ لیکن یقین کریں میں کسی مطالبے کے متعلق نہیں جانتا۔‘‘
’’بات کچھ الجھ سی گئی ہے‘ اگر بات بازکی موت تک رہتی تو سمجھا جاسکتا تھا کہ کوئی شخص آپ کو صرف خوفزدہ کرنا چاہتا ہے لیکن یہ قتل کسی اور طرف ہی اشارہ کررہا ہے۔‘‘ میں نے صاف گوئی کامظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
’’لیکن… صرف خوفزدہ کرنے کے لیے بھی کوئی وجہ ہوتی ہے۔‘‘
قارئین میں ذرا احمد بن کر اس کو جس طرف لانا چاہتا تھا وہ اس طرف آرہا تھاکبھی کبھی ایسے نفسیاتی جھٹکے کسی تیز بہدف نسخے کا کام دیتے ہیں۔
’’اب آپ صحیح پٹڑی پر چڑھے ہیں۔‘‘ میں نے نادیدہ ہاتھوں سے اس کی پیٹھ تھپکتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب! صغیر…‘‘
’’ہاں ہاں کہیں… بے شک آپ کی نظروں میں اس بات کی کوئی اہمیت ہو یا نہ ہو۔‘‘
’’دراصل صغیر میرے کارخانے میں کام کرتا تھا‘میرے کارخانے میں عورتیں بھی کام کرتی ہیں۔ صغیر نے ایک دفعہ شاہین نامی ایک عورت سے الٹ پلٹ باتیں کی تھیں‘ بات مجھ تک پہنچی تومیں نے صغیر کو نوکری سے نکال دیاتھا۔‘‘
’’اچھا…‘‘ میں نے دلچسپی کااظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’صغیر چپ چاپ چلا گیا یا اس نے کوئی دھمکی وغیرہ بھی دی تھی؟‘‘
’’وہ تومیرا فیصلہ سن کر خاموشی سے چلا گیا تھا لیکن بعدمیں مجھے رفاقت نے بتایا تھا کہ کارخانے سے اپنا حساب وغیرہ لے کر جاتے جاتے اس نے کہا تھا…’’سعید کی آنکھوں پر غفلت اور بے وقوفی کی پٹی بندھی ہوئی ہے یہ ایک دن پچھتائے گا۔‘‘اس کے بعد میں نے کوٹھی کے باقی مکینوں سے سوال و جواب کیے تھے جس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ صغیر بھی ان معاملات میں ملوث ہوسکتاہے۔ میں نے سب سے سوال و جواب میں یہ نقطہ ان کے سامنے رکھا تھا۔‘‘
تھانے میں واپس آکر میں نے اپنی سیٹ سنبھالی اور اے ایس آئی ابرارکے متعلق پوچھا۔ پتا چلا وہ اس وقت تھانے میں موجود نہیں ہے۔راستے میں سپاہی انور نے مجھ سے سارے حالات سن کر کہا تھا۔
’’سر!لگتا ہے کوئی گھر کا بندہ کلہاڑی کا دستہ بنا ہے۔‘‘
’’بالکل‘ ویری گڈ!‘‘ میں نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔’’تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے‘ اگر کسی طرح صغیر یا باہر کا کوئی آدمی ان معاملات میں ملوث ہے تواس کی مدد گھر کا کوئی فرد ضرورکررہا ہے۔‘‘
اب ہم یہ بھی نہیں کرسکتے تھے کہ گھرکے تمام افراد کو پکڑ کر تھانے لے آتے اور انہیں باری باری ٹرائل روم کی سیر کرواتے بہرحال ہمیں قدم بہ قدم آگے بڑھنا تھا۔ شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے سے بعض اوقات لینے کے دینے پڑ جاتے تھے۔ ہم مجرم کو ہوشیار نہیں کرنا چاہتے تھے۔
میں نے کانسٹیبل وزیر کو (جو لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال میں پہنچا کر واپس آگیا تھا) اپنے کمرے میں بلالیا۔
’’وزیر!‘‘ میں نے اسے مخاطب کیا۔
’’یس سر!‘‘وہ اٹین شن ہوکر میرے اگلے حکم کا انتظار کرنے لگا۔ میں نے اسے صغیر کا پتا بتا کر کہا۔ ’’اسے تھانے لے آئو‘‘ یہاں یہ بات بتانا مناسب ہوگا کہ صغیر کا پتا میں نے سعیدسے لے لیا تھا۔
’’ٹھیک ہے‘ میں جلد ہی اسے آپ کے سامنے حاضر کردوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ صغیر کا جو پتا میرے علم میںآیا تھا اس کے مطابق اس کا گھر تھانے سے صرف ایک میل کے فاصلے پر تھا لیکن ایک گھنٹے بعدکانسٹیبل نے آکر مجھے بتایا۔
’’سر! صغیر گھر پر موجود نہیں ہے‘ اس کے گھر والے کہتے ہیں کہ وہ فیصل آباد کی کسی ٹیکسٹائل مل میں ملازم ہے اور پندرہ دن بعد دو دن کے لیے گھر آتا ہے اور مزید یہ کہ ابھی چار دن پہلے آیا تھا کل ہی واپس گیا ہے۔‘‘ میں نے کانسٹیبل کو واپس بھیج دیا اور خود حساب لگانے لگا۔
’’اس کامطلب تھا کہ اب اسے کم ازکم بارہ دن بعد آنا تھا میں اتنے دن اس کے آنے کا انتظار نہیں کرسکتا تھا حالانکہ موجودہ حالات کے مطابق وہ ان واقعات میں کسی طرح بھی ملوث نظر نہیں آرہا تھا لیکن نہ جانے کیوں مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ اس سے ملنا میرے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔
ابھی میں انہی سوچوںکے تانے بانے بننے میں مصروف تھا کہ اے ایس آئی ابرار میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کیس کے واقعات اس تیزی سے آگے بڑھے تھے کہ مجھے اے ایس آئی سے تفصیلی بات چیت کرنے کا موقع نہیں ملا۔
اب جو وہ میرے سامنے آیا تومجھے یاد آگیا کہ میں نے اسے سعید کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کہا تھا ۔ اس نے میرے کچھ پوچھنے اور کہنے سے پہلے ہی اب تک حاصل کردہ معلومات سے مجھے آگاہ کردیا۔
ان میں سے کچھ باتیں میں آپ کو بتادیتا ہوں باقی وقت آنے پر آپ کے سامنے آجائیں گی۔
سعید کے متعلق جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ شادی کو تقریباً پندرہ سال ہوچکے تھے وہ اولاد کے نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھا۔اس کی کارخانے کے علاوہ بھی کچھ زمینیں تھیں کوٹھی بھی تھی۔
اس کا سالاملک نیاز اچھی شہرت کا مالک نہیں تھا‘ رنڈی بازی اور جوا اس کے محبوب مشغلے تھے اوراس کا یارانہ جواریوں اور جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تھا۔
کبھی کبھی شراب بھی پیتا تھا‘جس دن صبح باز مردہ حالت میں ملا تھا اس رات وہ کوٹھی میں موجود تھا۔ صبح صبح وہ چلا گیا تھا اور جس رات اکرم قتل ہوا تھا وہ رات بھی کوٹھی میں رہا تھا اب یہ سب اتفاق تھا یا…؟
یہ سب کچھ ابھی اندھیرے میں تھا۔میں نے اے ایس آئی کو تازہ حالات سے آگاہ کیا تو وہ تھوڑی کھجاتے ہوئے بولا۔
’’سر!میں نے سپاہی نواز کی ڈیوٹی لگادی ہے کہ وہ ملک نیاز پر نظر رکھے۔‘‘
’’تمہارے خیال میں ان سب واقعات کا ذمہ دار وہ ہوسکتا ہے؟‘‘
’’سر!ایسے بندے سے کچھ بھی توقع کی جاسکتی ہے پھر سعید ذرا چاپلوسی پسند اوراحمق سا ہے۔نیاز تقریباً کنگال ہوچکا ہے۔‘‘
ہوں۔‘‘میں نے ہنکارا بھرا‘چندلمحے اے ایس آئی کی باتوں پر غورکیا پھر بولا۔
’’تم نے اچھا کیا کہ ملک نیاز کی نگرانی کا بندوبست کردیا‘ اب تم نے ایک کام اورکرنا ہے۔‘‘
’’یس سر!‘‘ وہ ہمہ تن گوش ہوگیا۔
’’تم نے فیصل آباد جانا ہے اور صغیر کولے کر آنا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر! کل صبح ان شاء اللہ وہ آپ کے سامنے ہوگا۔‘‘ اے ایس آئی کے جانے کے بعد میں نے کانسٹیبل وزیر کو اپنے کمرے میں بلالیا۔
’’یس سر!‘‘
’’دیکھو یہ کیس الجھا ہوا ہے کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا۔تم اپنی بیوی کی مدد سے شاہین نامی عورت کے متعلق معلومات حاصل کرو۔وہ کردار کی کیسی ہے؟ کیا واقعی صغیر نے اس سے کچھ الٹی سیدھی باتیںکی تھیں؟‘‘
’’سر! آپ بالکل بے فکر ہوجائیں اگر آپ حکم کریں تومیں اسے بیوی کی معرفت اپنے گھر بلالوں اور…‘‘
’’نہیں‘ابھی اس کی ضرورت نہیں ہے تم صرف اتنا کرو جتنا کہا جارہا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر! کام آپ کی حسب منشاء ہی ہوگا۔‘‘
شام تک اس کیس کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔اگلے دن تقریباً دس بجے پوسٹمارٹم کی رپورٹ آگئی جو میرے اندازوں اور توقع کے عین مطابق تھی۔
اکرم کی موت رات بارہ اور ایک بجے کے درمیان واقع ہوئی تھی اور موت کاباعث وہی دونوں زخم تھے۔ خنجر کے ایک زخم نے دل چیر دیا تھا جبکہ دوسرا زخم گردے کو نقصان پہنچانے کا باعث تھا۔
حیرانگی والی بات یہ تھی کہ وہ اتنی رات گئے وہاں کیا کررہا تھا۔ قتل کی وجہ کے متعلق صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے وہ باز کو زہر دینے میں شامل ہو‘ اور ان سب واقعات میں ملوث ہونے والے نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہو۔ ایک اہم گواہ سے جان چھڑائی اور دوسرے سعید کو مزید خوفزدہ کرنے کے لیے یہ کارروائی کی ہو لیکن سوال یہ اٹھتا تھا کہ سعید سے کون سا مطالبہ منوانے کا چکر تھا ‘ کیا سعید کا کوئی راز اس کے پاس تھا۔
عجیب الجھی ہوئی گتھی تھی‘ جسے سلجھانے میں حقیقتاً دانتوں پسینہ آرہا تھا۔
میرا تجربہ یہ کہتا تھا کہ سعید ابھی بھی کچھ نہ کچھ چھپا رہا تھا‘ وہ واقعی احمق تھا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا اور ہاتھی کے کان میں عملاً سونے کا مظاہرہ کررہا تھا جب اگلے دن صغیر میرے سامنے لایا گیا تو اس پر مجھے کسی چھوٹے ہاتھی کا گمان ہوا۔ قد بامشکل ساڑھے چار فٹ ہوگا۔ رنگ گہرا سانولا اور ہاتھ پیر عجیب بے ڈھگے تھے۔ اللہ معاف کرے میں اس کا مذاق نہیں اڑارہا۔ بہرحال اس کا حلیہ ہی کچھ ایسا تھا‘ صغیر کی عمر لگ بھگ تیس سال تھی میں نے اسے کرسی پر بٹھایا اور آفس بوائے کو بلاکر چائے بسکٹ کا کہہ دیا۔
وہ حیران نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘وہ شاید اس بات پر حیران ہورہا تھا کہ کیا اسے تھانے میں دعوت کے لیے بلایا گیا ہے۔ میں نے چند لمحے خاموشی میں گزارے اور پھر آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’صغیر ! حیران کیوں ہورہے ہو‘ تمہارے خیال میں میں نے تجھے کیوں بلایا ہے؟‘‘
’’تھانیدار صاحب یہ تو میں نہیں جانتا لیکن کم از کم میرا ذہن یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ آپ نے مجھے فقط چائے بسکٹ پلانے کے لیے بلایا ہے۔‘‘
’’سعید صاحب کو جانتے ہو؟‘‘
’’اوہ‘ اب میں سمجھا کہ آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے۔‘‘ صغیر نے گویا اپنے ذہن کا بوجھ اتار پھینکتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں نوکری سے کیوں نکالا گیا تھا؟‘‘ میں نے اس کی آنکھوں مین دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جناب! اگر میں حقیقت آپ کو بتادو تو آپ شاید یقین نہ کریں۔‘‘
’’تم بتائو تو سہی‘ خود ہی نتیجے اخذ نہ کرو۔‘‘ میں نے ذرا رعب سے کہا۔
’’میں سازش کا شکار ہوا تھا‘ دراصل فورمین رفاقت صاحب اپنا بندہ رکھوانا چاہتے تھے۔ اس لیے مجھ پر یہ الزام لگایا گیا کہ میں نے شاہین نامی عورت (جو کارخانے میں کام کرتی تھی) سے اپنی کسی غلط خواہش کا اظہار کیا تھا۔‘‘
’’کیا… ایسا نہیں تھا؟‘‘ میں نے بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’بالکل نہیں جناب! شاہین بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی تھی۔ اس نے سعید صاحب کو بتایا تھا کہ صغیر نے مجھے رات کو اپنے گھر بلایا تھا۔ خدا کی قسم ایسی کوئی بات نہیں تھی‘ میں روزی کمانے کارخانے جاتا تھا۔ ایسی حرکت کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔‘‘
اس دوران چائے آگئی تھی اور میرے اصرار پر اس نے اس سے دو دو ہاتھ کرلیے تھے۔
’’اچھا‘ اب آخری سوال۔ کیا تم نے سعید صاحب کے متعلق کہا تھا کہ سعید کی آنکھوں پر غفلت اور بے وقوفی کی پٹی بندھی ہوئی ہے‘ وہ ایک دن پچھتائے گا۔‘‘
’’یہ بات آپ کو کس نے بتائی ہے؟‘‘
’’تم اس بات کو چھوڑو کہ کس نے مجھے کیا بتایا ہے تم میرے سوال کا جواب دو۔‘‘
’’قطعی نہیں تھانیدار صاحب! میری نیت صاف تھی‘ میرے من میں کھوٹ نہیں تھا۔ مجھے فیصل آباد میں اس سے زیادہ تنخواہ کی نوکری مل گئی ہے اور عزت بھی ہے۔ مجھے تو گویا کبڑے والی لات لگ گئی تھی۔‘‘
میں نے اسے رخصت کردیا اور ساتھ یہ تاکید بھی کردی کہ ان باتوں کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ وہ مجھے ایسا ہی کرنے کی یقین دہانی کراکے گیا تھا۔
اس نے مجھے متاثر کیا تھا اور کچھ بندوں پر مجھے واقعی غصہ آگیا تھا اور میں نے تفتیش کی سمت بدل کر رفاقت فورمین اور شاہین نامی عورت کو ملنے کا فیصلہ کرلیا۔
کارخانے میں ابھی چھٹی ہونے میں دو گھنٹے باقی تھے‘ میں نے سپاہی انور کو بھیج کر پتا کروالیا تھا کہ سعید صاحب‘ فورمین اور شاہین نامی عورت کارخانے میں موجود ہیں۔
میں نے سپاہی انورکو ہی ساتھ لیا اور کارخانے پہنچ گیا۔ میں نے اور سپاہی انور نے سیدھا سعید صاحب کے کمرے کا رخ کیا۔
وہ ہمیں اپنے دفتر میں دیکھ کر حیران رہ گیا‘ یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ اس سے پہلے سپاہی انور سفید کپڑوں میں کارخانے میں آیا تھا اور ذرا خفیہ طریقے سے اس بات کا سراغ لگایا تھا کہ سعید‘ رفاقت اور شاہین کارخانے میں موجود ہیں۔
اس نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر میرا استقبال کیا تھا‘ میں نے وقت ضائع کیے بغیر سعید سے کہا۔
’’رفاقت فورمین اور شاہین کو بلادیں اس کے پاس سوال و جواب کی گنجائش نہیں تھی۔
جب وہ دونوں میرے سامنے آئے تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار ہیں۔ رفاقت فورمین ایک فربہ اندام شخص تھا۔ شاہین بتیس تینتیس سالہ ایک چلتا پرزہ قسم کی عورت تھی۔
میرا تجربہ یہ کہتا تھا کہ ایسی عورتیں گھر میں آگ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ میں نے سعید کے سامنے ہی دونوں کو اپنے سوالات کی زد پر رکھ لیا۔
پہلے میں نے شاہین کو کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ذرا اپنے ذہن کو تھوڑا پیچھے لے جائو۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے چالاک بننے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’صغیر نے تم سے کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے خالص تھانیدارانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔
’’صغیر نے…‘‘ اس نے زیر لب دہرایا‘ اس کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرانے لگے تھے اور وہ کسی ایسی ہرنی کی طرح نظر آرہی تھی جو کسی شکاری کے جال میں پھنس چکی ہو۔
’’دیکھو میرا وقت بہت قیمتی ہے‘ صاف صاف بات کرو ورنہ میں تم دونوں کو تھانے لے جائوں گا۔‘‘ میری دھمکی کام کرگئی فورمین رفاقت کی طرف دیکھتے ہوئے وہی کہانی سنائی جو صغیر مجھے سناگیا تھا۔
’’تم دونوں نے ایک سازش کے تحت کسی کی روزی چھین لی تھی۔‘‘ میں نے دونوں کو باری باری کڑی نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا۔
دونوں کے سر جھک گئے تھے اور وہ سعید سے نظریں چرا رہے تھے۔ اچانک سعید نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا۔
’’تم نے مجھ سے ایک بہت بڑاگناہ کروایا تھا شاید اسی وجہ سے آج کل … خیر میں تم دونوں کو اور تنویر کو نوکری سے نکالنے کا حکم دیتا ہوں۔ تم تینوں کیشیئر سے اپنا حساب کتاب لے کر جاسکتے ہو۔‘‘ انہوں نے منت سماجت شروع کردی‘ معافیاں مانگنے لگے لیکن سعید نے ان کی کسی فریاد پر کان نہیں دھرے۔
یہاں یہ بات بتادوں کہ تنویر اس شخص کا نام تھا جسے صغیر کو نکل والا کر رکھوایا گیا تھا۔ جب وہ دونوں نکل گئے تو میں نے سپاہی کو بھی باہر جانے کا اشارہ کیا۔ جب میں اور سعید اکیلے رہ گئے تو میں نے سعید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سعید صاحب! جو کچھ آپ کے دل میں ہے اب اگل دیں ورنہ وہ ہوجائے گا جس کا تصور بھی آپ نے نہیں کیا ہوگا۔‘‘
’’تھانیدار صاحب! میں عجیب گورکھ دھندے میں پھنس چکا ہوں۔ میں نے ایک لاکھ روپیہ اب تک گنوادیا ہے پھر اس نے جو کہانی مجھے سنائی وہ ایک ایسی کہانی تھی جس کا شائبہ بھی میرے ذہن میں نہیں آیا تھا۔
میں نے سعید سے پوچھا۔ ’’آپ کو شک کس پر ہے‘‘
’’تھانیدار صاحب مجھے اپنی بیوی اور سالے پر شک ہے۔ انہوں نے میری دولت پر نظریں رکھی ہوئی ہی۔‘‘
ابھی میں سعید کی کہانی آپ کو نہہیں سنائوں گا بلکہ یہ بتائوں گا کہ اس کے بعد میں نے کیا کہا تھا؟ تھانے میں واپس آکر میں نے کانسٹیبل کو بھیج کر سیعد کے سالے کو بلوالیا۔
وہ پہلی دفعہ میرے سامنے آیا تھا‘ رنگ اس کا گورا تھا‘ ماتھے کی بناوٹ اسے کینہ پرور اور لالچی ظاہر کرتی تھی۔ میں نے اسے بٹھایا اور پہلے اس کے ساتھ ادھر اُدھر کی باتیں کیں پھر اصل بات کی طرف آگیا۔
’’ملک نیاز صاحب! آپ سعید کے حالات سے تواقف ہوں گے۔‘‘
’’ صرف اس حد تک کہ اس کے قیمتی باز کو ہلاک کردیا گیا تھا اور اس کی دیکھ بھال پر مامور اکرم نامی بندے کو بھی بڑی بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ مجھے تو ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ ان سب حرکتوں کا ذمہ دار کون ہے؟ جب یہ دونوں وارداتیں ہوئی تھیں میں کوٹھی میں موجود تھا شاید آپ نے مجھے بلایا ہے۔‘‘
’’میں تو صرف آپ کے خیالات سے آگاہی چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے اسے گھسیٹنے کی خاطر کہا۔
’’اور ابھی میں اسے یہ نہیں بتانا چاہتا تھا کہ اس کے بہنوئی نے اس پر شک کا اظہار کیا تھا۔
’’تھانیدار صاحب! آپ بادشاہ ہیں‘ میں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے اور…‘‘ چند لمحے اس نے توقف کیا۔ میز پر رکھے جگ میں سے جگ میں سے گلاس میں پانی انڈیلا اور اسے ایک ہی سانس میں پینے کے بعد بولا۔
’’آپ کے دل میں جو کچھ بھی ہے‘ میں اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے اتنی عرض کروں گا کہ میرے اوپر آپ کسی قسم کا شک نہ کریں۔ میں نے اس دوران کچھ کام کیا ہے‘ میں آپ کو ابھی کچھ نہ بتاتا لیکن آپ نے میرے اوپر شک کرکے مجھے اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ…‘‘ پھر اس نے اپنے شک کا اظہار کیا تھا۔ میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اگر اس کا شک صحیح ثابت ہوجاتا تو… میں نے رخصت کردیا اور ساتھ یہ تاکید بھی کردی کہ اپنے طور پر کچھ کرنے کی کوشش نہ کرے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے متعلق سوچے بھی نہیں۔
یہ اسی شام کی بات ہے‘ میں کانسٹیبل وزیر‘ سپاہی انور اور سپاہی نوازکو لے کر سعید کی کوٹھی پر پہنچ گیا۔
میں نے سعید کو پیغام بھجوادیا تھا کہ وہ شام کو کوٹھی میں موجود رہے اس نے میرے کہنے پر کوٹھی میں موجود سب افراد کے لیے پائیں باغ میں رکھوادیں۔ نوکر ایک طرف کھڑے ہوگئے اور میرے سمیت باقی سب افراد کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ سپاہی انور کے پاس ایک تھیلا بھی تھا۔
بعض اوقات پولیس والوں کو بھی کرتب دکھانے پڑتے ہیں۔ میری اسکیم میں سپاہی نواز کے پاس موجود تھیلے کی بڑی اہمیت تھی۔ میں نے اسے بتادیا تھا کہ کب اسے حرکت میں آتا ہے‘ جس شک کی طرف ملک نیاز نے اشارہ کیا تھا اسی سلسلے میں یہ سب کچھ ہورہا تھا۔میں نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اس کوٹھی میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ سب آپ کے سامنے ہیں‘ میں نے اس لیے سب کو یہاں اکٹھا کیا ہے کہ اگر ان سارے واقعات کے متعلق کسی کے ذہن میں کوئی بات‘ کوئی شک یا اشارہ ہے تو وہ بلاخوف خطر بتادے۔ پولیس والے بھی انسان ہوتے ہیں وہ کسی سراغ یا شک پر ہی تفتیش کرتے ہیں۔‘‘ ہر طرف خاموشی ہی رہی‘ میں نے سب کے چہروں پر تھانیدارانہ نظریں گاڑھ دیں۔
میں نے دیکھا کہ ایک شخص کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جارہا تھا ‘ وہ مضطرب لگتا تھا۔ میں نے سپاہی کو اشارہ کیا جس نے ربر کے موٹے دستانے پہنے ہوئے تھے۔ اچانک اس نے تھیلے میں ہاتھ ڈال دیا‘ تھیلے میں چند سوراخ تھے۔ سپاہی کے ہاتھ ڈالتے ہی تھیلے میں ہلچل پیدا ہوئی اور ایک سوراخ سے سانپ نے سر نکالا‘ سپاہی کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص اچانک چیخ پڑا۔
’’سانپ…‘‘ اور اٹھ کھڑا ہوگیا۔ اچانک کانسٹیبل وزیر بھی اسکیم کے مطابق اٹھ کھڑا ہوا اور اس شخص کو دبوچ لیا۔ اس کے ساتھ ہی سعید بھی کھڑا ہوگیا تھا۔
’’تھانیدار صاحب! یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’سعیدصاحب سب کچھ آپ کے سامنے ہے‘ یہ آپ کا بھائی تو اندھا تھا پھر اسے سانپ کیسے نظر آگیا پھر میں نے باقی حاضرین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ خوفزدہ نہ ہوں‘ایک تو یہ سانپ تھیلے سے باہر نہیں آسکتا دوسرا یہ بے ضرر ہے اس کا زہر نکلا ہوا ہے۔‘‘
اس کے بعد ہم سعید کے بہروپیے بھائی کو لے کر تھانے میں آگئے۔ تھانے میں آکر میں نے نوید کو ایک جلاد صفت حوالدار کے حوالے کردیا صرف ایک گھنٹے بعد ہی اس کا چیںبول گیا اور اس نے سب کچھ بتادیا۔ وہ احسان فراموش اور آستین کا سانپ تھا۔
قارئین! اب پردے اٹھانے کا وقت آیا ہے‘ جیسا کہ ذکر آچکا ہے نوید اور سعید بھائی تھی۔ ان دونوں کے باپ نے ان کو اپنا اپنا حصہ دے دیا تھا۔ نوید شروع سے ہی آوارہ اور عورتوں کا رسیا تھا اسے ایک اور بھی شوق تھا‘ ریس کا وہ ریس کے گھو ڑوں پر شرطیں لگاتا تھا۔ اس کا دست راست جابر نامی ایک بدمعاش تھا اور وہی اس کی تباہی کا باعث تھا چند سالوں میں ہی وہ یعنی نوید کنگال ہوگیا۔
نوید نے جابر نامی بدمعاش سے کہا۔ ’’ اب کیا کریں‘ تم نے مجھے ریس کا چسکا ڈالا تھا۔‘‘ وہ ایک مجرمانہ اور لالچی ذہن کا بندہ تھا اب اس کی نظریں سعید کی دولت پر تھیں۔
پھر دونوں نے مل کر ایک منصوبہ بنایا‘ جابر نے کچھ دے دلا کر ایک سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا جس میں نوید کو اندھا ظاہر کیا گیا تھا۔
سعید جابر کو نہیں جانتا تھا اس کا دل نرم اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنے والا تھا۔ لیکن میرے خیال میں اگر اس کو کاٹھ کا الو کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ بہرحال ایک دن جابر سعید سے ملا اور اداکاری کے جوہر دکھاتے ہوئے کہا۔
’’سعید صاحب! آپ کا بھائی اندھا ہوچلا ہے‘ پلے پھوٹی کوڑی نہیں ہے اس کی بری حالت ہے۔ میں بھی ایک غریب آدمی ہوں ورنہ اس کی مدد ضرور کرتا۔ آپ ایک بار اس سے مل لیں‘ وہ آپ… کو بہت یاد کرتا ہے۔‘‘
قصہ مختصر یہ کہ سعید نوید سے ملا وہ اس کے سامنے رو پڑا اور ایک اندھے شخص کی اداکاری کرنے لگا۔ سعید اسے لے کر کوٹھی میں آگیا اور ہر طرح اس کا خیال رکھنے لگا نوید اور جابر کی اسکیم کامیاب ہوگئی تھی۔
پھر جابر اکثر نوید سے ملنے کوٹھی میں آنے لگا۔ وہ دونوں سعید کے کسی ایسے رازکے چکرمیں تھے جسے بنیاد بناکرسعید کو بلیک میل کیا جاسکتا۔
ادھر سعید اولاد نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھا‘ اسے جائیداد کا وارث چاہیے تھا۔ اس کی بیوی صندل ایک وفا شعار عورت تھی لیکن اس کے بھائی یعنی سعید کے سالے کی نظریں اپنے بہنوئی کی دولت پر تھیں اور اسے یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں سعید دوسری شادی نہ کرلے۔ ایک دن اس نے سعید کے کانوں میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اگر اس نے اس کی بہن کے اوپر سوکن لانے کی غلطی کی تو اسے پچھتانا پڑے گا لیکن ایک سال پہلے سعید نے جمیلہ نامی ایک عورت سے شادی کرلی تھی۔ یہ بہت خفیہ شادی تھی صرف پانچ بندوں کو اس شادی کا پتا تھا۔جمیلہ کو اس نے ایک گائوں میں اپنے قریبی اور لنگوٹیا یار کے گھر میں رکھا ہوا تھا۔ ہفتے میں ایک رات وہ وہاں جاتا تھا جب سعید کی اس روٹین کا جابر کو پتا چلا تو اس نے اپنے ایک واقف کار کو سعید کے پیچھے لگادیا اور اس طرح سعید کا یہ راز جابر کو معلوم ہوگیا۔
یہ تو واقعی اندھے کے ہاتھوں بٹیر آنے والی بات ہوگئی تھی۔ یہیں سے انہوں نے سعید کو بلیک میل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ سب سے پہلے رقعہ میں اسے لکھا گیا ’’الو ‘ بے وقوف‘‘ سعید نے یہ رقعہ پھاڑ دیا لیکن وہ پریشان ضرور ہوا۔
پھر باز کو زہر دے دیا گیا‘ زہر دینے والے واقعے میں اس کا سالا کسی طرح بھی ملوث نہیں تھا۔ باز کی موت کے اگلے دن اسے اپنی مل کے پتے پر ایک بند لفافہ ملا۔ جب اس نے اسے کھولا تو اس کے اندر سے نکلنے والے کاغذ کو پڑھ کر اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ آگے پڑھنے سے پہلے ایک بات کی وضاحت ضرور سمجھتا ہوں کہ سعید کاٹھ کے الو نے باز والے واقعے کے بعد جو رقعہ دیا تھا وہ خود اس کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا۔ اس طرح وہ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا چاہتا تھا۔ اس وقت شاید اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ اگلے دن اسے کیسا رقعہ ملنے والا ہے بہرحال رقعہ کا مضمون یہ تھا۔
’’تم واقعی بے وقوف اور الو ہو۔ کیا تم سمجھ بیٹھے تھے کہ تمہاری خفیہ شادی کے متعلق کسی کو پتا نہیں چلے گا۔تم ایک دو دن کے اندر درج ذیل پتے پر ایک لاکھ روپیہ بذریعہ منی آرڈر بھیج دو ورنہ…‘‘ نیچے پتا تھا جو تقریباً دس میل دور ایک بڑے شہر کا تھا۔
اس رقعہ کو بھی سعید نے آگ دکھادی لیکن وہ اندر اور باہر سے ہل کر رہ گیا تھا۔جب سعید کی طرف سے مجرموں کو پیسے نہیں ملے تو ان کا غصہ دو چند ہوگیا۔ انہوں نے سعید کو مزید خوفزدہ کرنے کے لیے اکرم کو قتل کردیا ‘ یہ کام جابر نے کیا۔ وہ کوٹھی میں آتا رہتا تھا اس کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں گیا۔ انہوں نے ایک نوکرانی جو اکرم سے تعلقات رکھتی تھی کو بھی ساتھ ملالیا۔ وہ اکثر رات کو بارہ بجے کے بعد شیر اور ہرن کے مجسموں کے پاس ملتے تھے اس رات بھی اکرم وہاں بیٹھا نوکرانی کا انتظار کررہا تھا کہ…
اب سعید بہت زیادہ ڈر گیا اور اسی دن ایک لاکھ روپیہ بھیج دیا اور آئندہ مجھے کچھ نہ بتانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ اب معاملہ زیادہ خراب ہوگیا ہے۔ وہ اندر باہر سے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا اور کسی سہارے کی تلاش میں تھا۔
پھر میں اس کی مل میں پہنچ گیا اور شاہین اور رفاقت کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ اس نے سب کچھ مجھے بتادیا لیکن یہ بات تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اصل مجرم اس کا اندھا بھائی ہوگا۔
اس طرف اشارہ تو اس کے سالے ملک نیاز نے کیا تھا‘ اس نے کہا تھا کہ میرا اندازہ ہے نوید بنا ہوا اندھا ہے اور جابر نامی بدمعاش سے اس کا ملنا جلنا بھی مشکوک ہے جب اس کو نوید پر شک ہوا تو اس نے گاہے بگاہے اس کی نگرانی شروع کردی۔ ایک رات کو اس نے اسے بغیر کسی سہارے کے چلتے دیکھا۔
اگر میں اسے نہ بلاتا تو وہ خود ہی کوئی گل کھلادیتا۔ بہرحال جس طرح خدا کو منظور ہوتا ہے اسی طرح ہوتا ہے۔
یہ بات اپنی جگہ پر ایک اٹل حقیقت ہے کہ سعید واقعی کاٹھ کا الّو تھا کیونکہ نقص اس میں خود تھا‘ وہ باپ بننے کی قابل ہی نہیں تھا۔ یہ بات کچھ عرصے بعد ثابت ہوگئی تھی ہم نے جابر اور اس کے ساتھی کو بھی گرفتار کرلیا تھا

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close