Naeyufaq Apr-16

احساس

سیدوجاہت علی

وہ تینوں خاصے لحیم شحیم تھے اور ان میں سے دو کے ہاتھ میں ریوالور تھے‘ جو علی کی جانب اٹھے ہوئے تھے۔
وہ مارکیٹ سے واپس آرہا تھاکہ ایک گلی میں اس کا سامنا ان سے ہو گیا۔ تینوں اچانک ہی کہیں سے نکل آئے تھے۔ یہ مشرقی سمت میں لندن سے متصل علاقہ ٹاور ہیم لیٹس تھا۔ اس کے جنوب میں دریائے ٹیمز بہتا تھا۔ ٹاور ہیم لیٹس میں مسلمانوں کی خاصی آبادی رہائش پذیر تھی۔ اگر چہ مارکیٹ اور علی کے گھر کا درمیانی راستہ بڑا محفوظ تھا لیکن پھر بھی کبھی کبھی چھینا جھپٹی کی وارداتیں ہو جاتی تھیں۔ بگڑے ہوئے نو جوانوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے گینگ بنا رکھے تھے۔ وہ اپنا جیب خرچ نکالنے یا اپنی عیاشیوں کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کو لوٹتے تھے۔ لٹ جانے والے شخص کو کچھ نہ کہتے تھے۔ انھیں صرف پاونڈزسے یا ایسی چیزیں جن کو بیچ کر پائونڈز ہاتھ آسکیں‘سروکار تھا’ تاہم اگر مزاحمت پر انھیں طیش آجا تا تھاتو جھنجلا کر فائر کھولنے میں انھیں کوئی جھجک نہیں تھی۔ قتل کی ایسی ایک دو وارداتیں ہو بھی چکی تھیں اس لیے لو گ چپ چاپ لٹ جایا کرتے تھے۔ چند سو پائونڈ کے لیے کون اپنی زندگی خطرے میں ڈالتا؟
اسی طرح کے کچھ گینگز ٹاور ہیم لیٹس کے آس پاس بھی پائے جاتے تھے۔ ایسے ہی کسی گروہ کے ان تین لڑکوں نے علی کو گھیرا ہوا تھا۔ عمریں بائیس چوبیس سال کے درمیان میں رہی ہوں گی لیکن تینوں اتنے کسرتی جسم کے تھے کہ کوئی ان میں کسی ایک سے بھی نبرد آزمائی کرنے سے قبل سوچ میں ضرور پڑ جاتا‘ کجا یہ کہ ان کے ہاتھوں میں ریوالور تھے ۔ ایک لڑکے کے گلے میں موٹی سی چین پڑی ہوئی تھی۔ وہ ریوالور نکال کر علی کے دائیں طرف آکے کھڑا ہو گیا تھا۔ دوسرے فرد نے اپنے ہاتھ میں بغیر انگلیوں کے سیاہ رنگ کے دستانے چڑھائے ہوئے تھے لیکن اس کے پاس موت اگلنے والی وہ چھوٹی سی مشین نظر نہیں آرہی تھی۔ اس نے علی کو بائیں طرف سے گھیر لیا ۔ تیسرے نے جو اپنے سر پر کیپ ترچھا کر کے لگایا ہوا تھا‘ اس کے سامنے کھڑاتھا۔ ہاتھ میں اعشاریہ بائیس بورکا پستول چمک رہا تھا ۔
چین پہنے ہو ئے شخص نے ریوالور علی کے پہلو سے لگا دیا اور درشت لہجے میں بولا۔ اپنی جیبیں خالی کر دو ورنہ یہ گولیاں تمھیں چاٹ جائیں گی۔‘‘ درشتی کے ساتھ اس کے لہجے میں اکھڑپن بھی نمایاں تھا۔ علی خود بھی تن سازی کرتا تھا اور کراٹے میں بھی مہارت تھی لیکن وہ چند پائونڈز کی خاطر رسک لینا نہیں چاہتا تھا۔
اس کی جیب میں تین سو پائونڈز اور سیل فون تھا۔ تلاشی لینے والے نے دونوں چیزیں نکال کر‘ ترچھی کیپ والے کے حوالے کر دیں۔ وہ شاید ان کا سرغنہ تھا۔ اسی لیے پائونڈز اور سیل اس کو دیے گئے تھے۔
’’لڑکا سیدھا سادا ہے ٹونی … مجھے بہت ترس آرہا ہے اس کو لوٹتے ہوئے…‘‘ تلا شی لینے والے نے سامنے کھڑے ٹونی سے کہا۔ اس کا لہجہ مذاق اڑاتا ہو ا معلوم دے رہا تھا۔‘‘ اس کو جانے دے یار… اس کی چیزیں واپس کردے ۔
ٹونی نے جواب دینے کی بہ جائے علی کو دستی گھڑی اتارنے کا اشارہ کیا۔ اس نے کچھ کہے بغیر گھڑی اتاردی۔ ٹونی نے دوبارہ اپنی انگلی سے واپس مڑ جانے کا کنایہ دیا۔
وہ ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ اس کو ٹونی کا قہقہہ سنائی دیا جس میں نفرت اور حقارت محسوس کی جا سکتی تھی۔
’’نہیں کارلائل… یہ مسلما ن بھولے بھالے نہیں ہوتے۔” وہ شاید علی کی گھنی داڑھی‘ جو اس پر بڑی خوب صورت معلوم ہوتی تھی اور ٹخنوں سے اوپر جینز دیکھ کر اس کے مسلمان ہونے کا اندازہ لگا چکا تھا۔‘‘ اندر سے یہ پکے دہشت گرد ہوتے ہیں۔ انھیں جب موقع ملتا ہے‘ دہشت گردی کر جاتے ہیں۔ پوری دنیا کو انھوں نے پریشان کر رکھا ہے مگر ابھی تو الٹا اس پر ہماری دہشت طاری ہو چکی ہے … ہاہاہاہاہا …‘‘ جملے کے اختتام پر اس نے پھر قہقہہ لگایا تھا اور اب اس کی ہنسی میں کارلائل اور اس کا ساتھی بھی شریک ہوگئے تھے۔ یہ طنز علی کے لیے نا قابل برداشت تھا۔ معاملہ صرف مال کرنسی تک محدود تھا‘ تو یہ اتنی قابل اعترض اور قابل مزاحمت حرکت نہیں تھی لیکن اب انھوں نے پوری قوم‘ پوری ملت کو ٹارگٹ کیا تھا۔ اس طنز کو پی جانا علی کے لیے اتنا آسان نہ تھا۔ یک دم وہ ایک جھٹکے سے رک گیا۔ اس طرح رکتے دیکھ کر ایک لحظے کے لیے وہ بھی چونک گئے۔ شاید انھیں یہ توقع نہیں تھی۔ وہ ان کی طرف مڑگیا اور واپس اسی جگہ آ کے اس نے کہا۔
’’اس حقیقت سے سب ہی واقف ہیں کہ اصلی دہشت گرد کون ہے؟ جن کی آنکھوںپر تعصب کی موٹی چربی چڑھی ہوئی ہے‘صرف انھیںظالم اور مظلوم میں فرق نظر نہیں آتا۔”
’’واپس مڑ جائو ٹونی نے کرخت لہجے میں کہا۔‘‘ ورنہ کبھی واپس نہیں جا سکوگے۔” تم مسلمانوں سے مجھے نفرت ہے۔ دنیا کا امن و سکون تم لوگوں نے برباد کر کے رکھ دیا ہے۔”
’’ہم تو خود مظلوم ہیں۔ دنیا کا امن ہم نے نہیں بلکہ ان عالمی قزاقوں نے تباہ کیا ہے جو عدل و انصاف کا نظام قائم ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ جن کے لیے دنیا میں امن کا پنپ جانا ایک بھیانک خواب ہے۔ جن کو روشنیوں سے نفرت اور اندھیروں سے محبت ہے۔: ” اس نے ٹہرے ہوئے مگر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی تیزی سے چل رہا تھا۔ اسے جو کچھ کرنا تھا‘ سیکنڈوں میں کرنا تھا اور بہت کاری گری سے کرنا تھا۔ وقت اور مہارت کی ذرا سی بھی خطا کی قیمت اس کی زندگی ہوسکتی تھی کیوں کہ گینگز کے لٹیرے مزاحمت کی صورت میں بے رحم ثابت ہوتے تھے۔ سفاکی اور درندگی پر اتر آتے تھے۔ ان سے بھڑجانا بہت پر خطر تھا لیکن علی یہ آفت مول لینے پر تیار ہو چکا تھا۔ ٹونی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے اس نے تینوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی اور جملے کے آخری لفظ پر آیا تو ان سے نبٹ لینے کی ترتیب بنا چکا تھا۔ اسے رکتا اور واپس آتا دیکھ کر وہ پہلے ہی ہوشیار ہو رہے تھے اور اب مڑید ایک لمحے کی تاخیر کا مطلب یہ تھا کہ اچانک اور سرعت سے ان پر حملہ کرنے کے امکانات کم ہو جاتے۔ اسے ان سے مقابلہ کیے بغیر واپس جانا پڑتا یا شکست کھانے کے لیے تیار ہونا پڑتا۔ دیرسے حملہ کر نے کی صورت میں وہ انھیں بے خبری میں نہیں چھاپ سکتا تھا۔ جیسے ہی علی نے اپنا جملہ پورا کیا‘ اس نے بائیں طرف کھڑے اس لڑکے کی کلائی پر اپنا ہاتھ رکھا‘ جس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا اور کار لائل کی طرف ایک زور دار جھٹکا دیا۔ وہ خاصا جان دار تھا لیکن علی نے مخصوص تیکنیک سے دھکا دیاتھا۔ وہ کار لائل سے جا ٹکرایا اور دونوں گلے ملتے ہوئے زمیں بوس ہوگئے۔ اس کا ایک ہاتھ کارلائل کے گرد لپٹ گیا تھا۔ اس اثناء میں ٹونی کو کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ وہ اگر فائر کرتا تو گولی سے اس کا اپنا ساتھی شکار ہو سکتا تھا۔ علی کی جیب میں ایک ناخن تراش تھاجس کو تلاشی کے دوران میں کار لائل نے بے قیمت سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔ ٹونی کے فائرکرنے سے قبل ہی علی نے وہ ناخن تراش پوری قوت سے اس کی پیشانی پر کھینچ مارا۔کراٹے کے فن میں کسی معمولی چیز سے ایک جان لیوا ہتھیار کا کام لیا جا سکتا ہے۔ ضرورت رفتار اور طاقت کے درست استعمال کی ہوتی ہے۔ اگر لڑنے والا اپنے پورے جسم کی قوت کو ایک نکتے پر جمع کر سکتا ہے تو پھر ایک ہلکی سی چیز بھی ایک خوف ناک ہتھیار میں ڈحل جاتی ہے۔وہ اس وقت اسی گر کو کام میں لایا تھا ۔ناخن تراش سر سے ٹکراتے ہی ٹونی کے منہ سے سسکی نکلی۔ اس کے اٹھائیس طبق روشن ہو گئے تھے۔ وہ بھول ہی گیا کہ اس کے ہاتھ میں پستول ہے اور اب وہ اس پوزیشن میں ہے کہ علی پر فائر کھول سکے کیوں کہ گولی اس کے ساتھی کو لگنے کا اندیشہ نہیں تھا مگر ناخن تراش کی چوٹ نے اس کو بوکھلا کے رکھ دیا۔ ٹونی کے دونوں ہاتھ لا شعوری طور پر اپنے سر پر گئے۔ اس لمحے کا علی نے فائدہ اٹھایا اور اس پر عقاب کی مانند جھپٹا ۔ اس نے ٹونی کے ہاتھ سے پستول چھین لیا اور بائیں ہاتھ اور بازو سے اس کی گردن کے گرد حلقہ بنا لیا۔ ادھر کار لائل اور اس کا دوست سنبھل چکے تھے۔ کارلائل نے اپنا ریوالور اٹھا لیا تھا لیکن جب اس نے موت کے کھلونے کا رخ علی کی جانب کیاتوٹونی کو اس کی گرفت میں دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ علی نے پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا کہ وہ ان کو اسی صورت میں بے بس کر سکتا ہے کہ ٹونی کو قابو کرلے۔ اس کی زندگی پر موت کے سائے دیکھ کر وہ لا چار ہو جاتے۔ اب صورت حال یہ تھی کہ کارلائل کا ریوالور علی کی جانب اٹھا ہو اتھالیکن ٹونی کی گردن کو اس نے الٹے ہاتھ کے شکنجے میںجکڑ رکھا تھا جس کی گرفت تنگ سے تنگ ہوتی جارہی تھی اور ٹونی کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔ علی نے دائیں ہاتھ سے پستول اس کی کنپٹی سے لگا رکھا تھا۔
’’آگے بڑھنے یا مجھ پر فائر کرنے کی غلطی مت کرنا ۔” علی نے سرد لہجے میںکہا۔” ورنہ میرے ساتھ جو ہو‘ سو ہو‘ اس پستول کی گولی ٹونی کی کھوپڑی کوچٹخادے گی۔‘‘
کارلائل شش وپنج میں پڑگیا۔ اس نے اپنے برابر میں کھڑے ساتھی اور پھر ٹونی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر اذیت کے آثار تھے۔ ٹونی نے اس کو اشارہ کیا کہ علی کی بات مان لے۔
’’کیا چاہتے ہو تم…. ؟؟” کار لائل نے اکھڑے ہوئے لہجے میں پوچھا۔اب بھی اکڑ باقی تھی۔اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ ٹونی کو خطرے میں دیکھ کر رک گیا ہے ۔ بہ صورت دیگر وہ
پے در پے علی پر فائر کرتا چلا جاتا۔
’’میں نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی۔ تمھاری ہدایت پر عمل کیا تھا۔” علی نے پر سکون مگر بہ دستور برفیلے لہجے میں کہا۔‘‘لیکن ٹونی نے میری قوم اور اجتماعی وجود پر طعنہ زنی کی جس کو پی جانا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ اب یہ میرے قابو میں ہے۔ میں چاہوں‘ اس کے دماغ میں گولیاں اتار سکتا ہوں۔ مجھے یہ پروا نہیں ہوگی کہ جواباََ تم مجھ پر فائر کھولتے ہو یا نہیں؟ لیکن کسی کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فعل ہمارے دین میں پسندیدہ نہیں ہے۔ تم اپنا ریوالور گرا دو‘ میں خاموشی سے چلا جائوں گا۔تم لوگ شکست کھا گئے‘ یہ ہی میرے لیے بہت ہے۔ یہ ہی تمہارے طنز کا جواب ہے۔ اور اگر تم مجھ پر اپنا ریوالور خالی کرنا چاہتے ہو تو ساتھ ہی اپنے دوست کو دوسری دنیا کے سفر کے لیے الوداع کہہ دو۔
کارلائل دوبارہ تفکر میںپڑ گیا۔ اس نے ایک بار پھر اپنے ساتھیوں کو مشورہ طلب نگاہوں سے دیکھا۔
’’اس کی بات مان لو کار ٹونی نے بہت دقت سے اسے تاکید کی۔” بازی ہمارے ہاتھ میں نہیںرہی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ یہ اننگزتم جیتے‘‘ کارلائل نے ایک گہرا سانس لیا‘‘ لیکن آئندہ کبھی تمھارا ہم سے ٹکرائو ہوا تو اس دن کو یوم آخر تصور کرنا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے ریوالور دور پھینک دیا۔
’’گڈ۔‘‘ علی مسکرایا۔ اب ایک طرف ہو جائو۔‘‘ میں کچھ دور جاکے ٹونی کو چھوڑ دوں گا۔”
وہ ایک طرف ہو گئے۔ علی ٹونی کو لے کر دھیرے دھیرے محتاط انداز میں آگے سرکنے لگا۔ اس کا دھیان ٹونی پر بھی تھا کہ وہ کوئی حرکت نہ کر بیٹھے۔
یکایک غیر متوقع طور پر سائرن کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ چاروں ہی حیرت زدہ رہ گئے۔ جو کچھ ہو ا‘ منٹوں میں ہو ا اور پھر ٹونی اینڈ کو کے خیال کے مطابق انھوں نے علی کو لوٹنے کے لیے ایک ویران جگہ کا انتخاب کیا تھا۔ وہاں سے لوگوں کا گزر ہوتا تھا‘ نہ پولیس عموماََ ادھر گشت کرتی تھی۔ پولیس کو کیسے خبر ہو گئی؟ اور اتنی جلدی وہ آ بھی گئی؟ معاََ ان کی نظر گلی کے کونے پر پڑی۔وہاں کچھ لوگ جمع تھے اور ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ یقیناََ ان میں سے ہی کسی نے ان کی زور آزمائی دیکھ کر پولیس کو اطلاع کرد ی تھی اور غالباََ کسی وجہ سے موبائل کار آس پاس ہی گھوم رہی ہو گی چناں چہ… اب وہ سائرن کا شور سن رہے تھے۔ ٹونی علی کی گرفت میںتھا۔ اس وجہ سے وہ لوگ بھی مجبور تھے۔ وہاں سے بھاگ نہیں سکتے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد گلی میں موبائل کار آ پہنچی۔ گلی کے اختتام پر کھڑے تماش بین بھی قریب آنے لگے۔ موبائل کار میں ڈرائیور کے علاوہ ایک سارجنٹ اور دو کانسٹیبل تھے۔ وہ کار سے اتر پڑے۔
’’کیا ہو رہا ہے یہ… ؟؟” سارجنٹ نے ان چاروں کو باری باری گھورتے ہوئے تیز آواز میں پوچھا۔
’’یہ شخص ہمیں لوٹنا چاہتا تھا۔” کارلائل نے علی طرف اشارہ کیا۔‘‘ اس نے پستول کے زور پر ہمارے ساتھی کو اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ یہ ہمیں دھمکی دے رہا تھا کہ اپنی جیبیں الٹ دو ورنہ تمھارے دوست کے سر میںگولیاں اتار دوں گا۔”
’’ہاہاہاہاہاعلی نے ٹونی کو چھوڑتے ہوئے قہقہہ لگا یا۔‘‘ مجھے امید نہیں تھی کارلائل کہ تم اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے اتنا بودا بیان دو گے۔ کوئی شخص کتنا ہی دلیر ہو‘ محض لوٹا ماری کے لیے اکیلا تین افراد سے’ اور وہ بھی تم جیسے بلڈرز‘ ہر گز مقابلہ نہیں کرے گا۔”
’’سر.. اس کے پاس دو ریوالور تھے.. کارلائل اسی طرح اعتماد کے ساتھ اپنے جھوٹے موقف پر قائم تھا۔‘‘ شاید وہ یہ امید کر رہا تھا کہ علی مسلمان ہے لہذا پولیس کا عملہ کمزور دلیلوںکے باوجود ان کی حمایت کرے گا۔‘‘ ہم نے مزاحمت کی اور ایک ریوالور چھین کر دور اچھال دیالیکن دوسرے ریوالور کی وجہ سے یہ ٹونی کو یر غمال بنانے میں کامیاب ہو گیا۔”
’’ہوں ۔” سارجنٹ نے پرخیال انداز میں اس کی تائید کی۔‘‘ تمہاری بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا فیصلہ بہر حال انسپکٹر ڈینیل کریں گے۔”
’’سارجنٹ صاحب… وہ رہا مسٹر کارلائل کا ریوالور… آپ فنگر پرنٹس نکلوا کر میچ کرسکتے ہیں۔ اس پر آپ کو کارلائل کی انگلیوں کے نشانات ملیں گے۔ اگر یہ میرا ریوالور ہوتا تو اس پر میرے نشانات ہوتے۔ لیکن آپ کو اس پر میرا ایک بھی پرنٹ نہیں ملے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کارلائل یہ کہے کہ جب اس نے مجھ سے ریوالور لے کر دور پھینکا تو اس پر سے میری انگلیوں کے نشانات مٹ گئے اور کارلائل کے پرنٹس آگئے۔ چلیں اگر یہ دعویٰ درست تسلیم کر لیا جائے تومیرے تین سو پائونڈز‘ سیل فون اور گھڑی ٹونی کی جیب میں ہے۔ اگر میں لٹیرا ہوتا‘ ان کی چیزیں میرے پاس ہونی چاہیے تھیں لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔‘‘
علی کے دلائل مضبوط تھے۔ سارجنٹ سوچ میں پڑگیا۔ کچھ ثانیے توقف کے بعد اس نے کہا۔
’’تم لوگ اپنے اپنے سٹانسز اسٹیشن پر پیش کرنا۔ فیصلہ انسپکٹر ڈینیل کریں گے … اور اس کار میں ویسے ہی جگہ نہیں ہے۔ ایک اور موبائل کار منگوانی پڑے گی۔” پھر اس نے اسٹیشن سے رابطہ کیا اور دوسری کار بھیجنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد ایک کانسٹیبل کو دور پڑا ریوالور اٹھانے کی ہدایت کی۔ کانسٹیبل نے تعمیل کی اور ریوالور پر رومال ڈال کر اپنی تحویل میں لے لیا۔
وہ لوگ اسٹیشن پہنچے۔ انہیں انسپکٹر ڈینیل کے سامنے پیش کیا گیا۔ انسپکٹر ایک جاذب اور پر متانت شخصیت تھی۔ اس کی عمر تیس اور پینتیس کے درمیان تھی۔ قد لمبا تھا اور رنگت خاصی سفید تھی اور لندن پولیس کی وردی اس پر جچتی تھی۔ سارجنٹ نے اسے واقعے سے آگاہ کیا۔ پھر اس نے علی اور ان تینوں کے منہ سے اس قضیے کو سنا۔ دونوں طرف سے تفصیل سننے کے بعدوہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اس نے ایک طویل سانس لیا اور لب کھولے۔
’’علی کے جملے کافی وزنی نظر آتے ہیں۔” علی واقعہ دہراتے وقت اس کو اپنا نام بتا چکا تھا۔‘‘ تم لوگ ہی قصور وار ہو۔ تم نے اس کو لوٹا اور طنز بازی کی۔ تمہارے متعلق پہلے ہی شکایتیں آرہی تھی۔ لٹ جانے والے لٹیروں کے جو حلیے لکھواتے تھے‘ تم اس پر فٹ آتے ہو لیکن تم لوگ ہاتھ آ کے نہیں دے رہے تھے۔ اب تم لوگ پھنس چکے ہو۔ تاہم مجھے شدید حیرت ہے کہ اس نو جوان نے اکیلے کیسے زیر کر لیاتمھیں؟ اس نے جوخطرہ مول لیا‘ اس کے لیے پہاڑ جیسا حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ میں داد دیتا ہوں۔” اس کے بعد وہ سارجنٹ سے مخاطب ہوا۔
’’گریگ… تم ان تینوں کو لاک اپ میں لے جائو۔ یہ اب عدالت میں ہی جائیں گے لیکن پہلے میں چیف انسپکٹر کورپورٹ کر دوں۔ یہ لوگ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور چیف انسپکٹر ان کے ساتھ کوئی رعایت کرنے کی بہ جائے انھیں عدالت پہنچاناہی پسند کریں گے۔” انسپکٹر ڈینیل کے ان الفاظ پر ان کے چہرے رات کے آخری پہر کے چراغ کی طرح بجھ گئے لیکن اس سے پہلے کہ سارجنٹ گریگ انھیں باہر لے جاتا‘ علی نے لب کھولے۔
’’سر… اگر اس سے قبل یہ کسی بہت بڑ ے جرم میں ملوث نہیں رہے تو انھیں چھوڑ دیں۔ معاملہ اگر عدالت میں چلا جائے ‘ پھر چھوٹے سے چھوٹا جر م بھی معاف نہیں ہونا چاہیے تا کہ معاشرے کے باقی افراد بے خوف نہ ہو جائیںلیکن اگر عدالت تک معاملہ نہ گیا ہو‘ مجرم شرمندہ ہو اور جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ‘ وہ دل سے معاف کرنے پر تیار ہو‘ تو پھر معاف کر دینے میں حرج نہیں۔ انھوں نے مجھے لوٹنے کی کوشش کی لیکن اس معاملے میں میرادل صاف ہے۔ یہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں۔ انھیں چھوڑ دیںانسپکٹر صاحب۔”
ٹونی اور اس کے ساتھیوں کے دل و دماغ میں نفرت اور غصے کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں مگر علی کے الفاظ‘ کہ‘ یہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں‘ ایک نشتر کی طرح ان کے دلوں پر لگے جس نے طیش اور عداوت کے دبیز پردوں کو کاٹ کے رکھ دیا۔ ایکا ایکی ہی ان کی سوچوں کا دھارا مخالف سمت میں بہنے لگا۔ وہ قدرے ساکت ہو کے علی کو تکنے لگے لیکن انسپکٹر ڈینیل نے سارجنٹ گریگ کو دوبارہ حکم دیا کہ انھیں لاک اپ میں لے جائے۔ یہ آرڈرانسپکٹر نے دوبارہ دیا تھا۔ اب سارجنٹ اپنے افسر کی ہدایت پر عمل کرنے میں مزید تاخیر نہیں کر سکتا تھاچناں چہ علی کوکچھ کہنے کا موقع دیے بغیر وہ انھیں باہر لے گیا۔
ان کے جانے کے بعد انسپکٹر ڈینیل گویا ہوا۔
’’میں شرمندہ ہوں کہ ان لڑکوں نے تمھارے ساتھ راہزنی اور طعنہ زنی کی۔ میں واقعی دل سے معذرت خواہ ہوں۔”
’’ہر قوم اور مذہب میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ معذرت کرنے کی ضرورت محسوس نہ کریں۔”
’’شکریہ۔” پھر اس نے استفسار کیا۔‘‘ چائے چلے گی؟”
’’اس تکلف کی ضرورت نہیں انسپکٹر صاحب …
’’یہ تکلف نہیں۔ میری عادت ہے کہ اپنے آفس آنے والے ہر شخص کو چائے ضرور پلواتا ہوں بہ شرط یہ کہ وہ مجرم نہ ہو۔‘‘
اس نے انٹرکام کا ریسیور اٹھا کے آرڈر دیا۔ چند لمحے توقف کے بعد اس نے آفس کی دیواروں کے ساتھ لگے شیلفس کی طرف اشارہ کیا جس میں کافی ساری کتابیں سلیقہ مندی سے سجی ہوئی تھیں۔
’’مجھے مطالعے کا شوق ہے۔ میں نے اسلام کے متعلق پڑھا ہے اور بہت گہرائی میں جا کے پڑھا ہے۔ مجھ پر اچھی طرح واضح ہو گیا ہے کہ اسلام ایک خوب صورت ہی نہیں بلکہ بر حق اور پوری زندگی کا دین ہے۔ میں نے بائبل کی وہ پیش گوئیاں بھی پڑھی ہیں جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ہیں۔ مجھے کوئی شک نہیں رہا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی وہ آخری نبی اورآخری ر رسول ہیںجن کے آنے کی نوید ہمارے مسیح علیہ السلام اور دوسر ے تمام نبیوں نے دی تھی ۔ دل کے اس اطمینان کے باوجود اسلام قبول نہ کرنے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ اپنا آبائی مذہب چھوڑنا آسان نہیں۔‘‘ یہاں تک کہہ کر وہ رک گیا۔
’’دوسرا سبب… ؟؟” علی نے قدرے تجسس‘ بے تابی اور فکر سے استفسار کیا۔
’’دوسرا سبب مسلمانوں کے اخلاق ہیں۔ میں نے مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا ہے۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے واقعات پڑھ کر اکثر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ کہتے ہوئے مجھے بہت صدمہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق کی جھلک بھی نہیںہے۔ امتی کے اخلاق نبی جیسے ہونا نا ممکنات میں سے ہے لیکن امتی کو اپنے نبی کے اخلاق اپنانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے مگر مسلمانوںنے کوشش بھی نہیںکی انسپکٹر ڈینیل خاموش ہو گیا۔ علی اس کی بات سن کر سناٹے میں آگیا تھا۔ پہلے پہل اسے حیرت اور خوشی ہوئی تھی کہ انسپکٹر ڈینیل نے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا ہو اہے مگر مسلمانوں کے اخلاق کے متعلق انسپکٹر کے تبصرے نے اسے رنجیدہ کر دیا تھا۔ بیان غلط تو نہیں تھا۔ اس کا کہنا صد فی صد درست تھا۔ جو اس نے کہا ‘ وہ ناقابل انکار اور ناقابل تردید تھا۔ یہ مسلمانوں کا اخلاقی زوال ہی ہے جس نے غیر مسلموں پر اسلام کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔
’’آپ کی رائے سے مجھے اتفاق ہے بلکہ میر اخیال ہے کہ آپ نے مسلمانوں کی اخلاقی حالت بیان کرتے ہوئے بہت نرم الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ویسے تو مسلمان دین کے ہر شعبے میں ہی بے عمل ہو چکے ہیں لیکن اخلاقیات میں وہ پست ترین سطح پر آگئے ہیں۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی حیات‘ گھریلو معاملات ہوں یا معاشرتی مسائل‘ سیاست ہو یا معاش و تجارت‘ ہر جگہ ان کا طرز عمل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے بر عکس ہے۔ جھوٹ ‘ بد دیانتی‘ چوری اور چور بازاری‘ دھوکا دہی‘ خیانت اور کرپشن‘ سود اور زنا و بے حیائی لہجے کی تلخیاں اور بے پروائی… کون سی ایسی برائی ہے جو مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی ؟؟ آج اگر کوئی شخص اسلام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے ‘ اس لیے نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے متاثر ہو ا اور اس نے اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا بلکہ شاید اللہ کو اس کی کوئی نیکی پسند آجاتی ہے اور اللہ اسے کسی ذریعے سے ہدایت کے راستے پر چلا دیتا ہے۔ آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرعت سے اسلام کی طرف آرہی ہے اور اس تناسب میںتیزی سے اضافہ ہوتاجارہاہے لیکن جس طرح اسلام کا ایک ایک پہلو روشن ‘ فطری اور اتنابر حق ہے کہ دل بے ساختہ اس کے سچے ہونے کی گواہی دینے لگتا ہے تو اس پیمانے پر یہ تناسب بہت کم ہے اور اس نقصان کے ذمے دار وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ انسپکٹر صاحب… مجھے بہت زیادہ حیرت اور اس حیرت سے کہیں زیادہ خوشی ہے کہ آپ نے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے بارے میں پڑھا ہے اور آپ پر اسلام کا حق ہونا واضح ہو گیا ہے لیکن اگر آپ مسلمانوں کی اخلاقی حالت کی وجہ سے تذبذب میں ہیں تو یہ آپ کی ہی نہیں ہماری بھی بدقسمتی ہے کہ ہماری وجہ سے ایک فرد کل کے بڑے دن کی تباہی سے نہیں بچ سکا۔” اتنا کہہ کر وہ ایک سیکنڈ کے لیے رکا۔ وہ مزید کچھ کہنا چاہتا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک شخص چائے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوا۔ اس نے چائے ٹیبل پر لا کے رکھ دی اور باہر نکل گیا۔ انسپکٹر نے علی کو چائے اٹھا کر دی۔ علی نے ’شکریہ‘ کہہ کر کپ لے لیا اور ایک سپ لینے کے بعد دوبارہ سلسلئہ کلام جوڑا۔
’’ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے متعلق ہر مذہب میں خوش خبریاں موجود ہیں۔ پرانا عہد نامہ‘ انجیل برناباس ‘ انجیل متی‘ انجیل مرقش‘ انجیل یوحنا ‘ کتاب استثناء‘ کتاب پیدائش‘ عیسائیت کی تقریباََ ہر کتاب میںہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر موجود ہے۔ اہل کتاب کے متعلق قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے یہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
آپ بھی اہل کتاب میں سے ہیں تو آپ کو حق قبول کرنے میں دیر نہیںکرنی چاہیے۔ جہاں تک آبائی مذہب کی بات ہے تو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک ہر نبی اور رسول کا دین ایک ہی دین اسلام تھا۔ اب قیامت تک کوئی نبی‘ کوئی رسول نہیں آئے گا اور حشر قائم ہونے تک سب کے لیے ایک ہی دین‘ دین اسلام ہے۔ اگر آپ اس دین کو اختیار کرنے میں تامل کریں گے تو کل آپ کو روح اللہ سیدنا عیسی ابن مریم علیہ السلام کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑ جائے۔
انسپکٹر ڈینیل اس کی گفت گو سن کے دھیرے دھیرے سر ہلا رہا تھا۔ اس نے چائے کی پیالی پرچ میں رکھ دی اور ایک لمبا سانس لیتا ہوا بولا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ میں تمھاری باتوں پر غور کروں گا۔‘‘
چائے ختم ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد علی نے اجازت طلب کی۔
’’اس عزت افزائی کا شکریہ۔ اگر آپ کے قیمتی وقت اور اپنے گھر والوں کے انتظار کا احساس نہ ہوتا ‘ مجھے آپ کے ساتھ مزید وقت گزارنے میں خوشی ہوتی۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔ انسپکٹر ڈینیل نے بھی کرسی چھوڑدی اور ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’کوئی بات نہیں۔ اگر کبھی ملنا چاہو تو میرے آفس اور یہیں قریبی رہائش گاہ… دونوں کے دروازے کھلے ہیں۔‘‘
پھر جب وہ دونوں باہر نکل رہے تھے ‘ علی نے ٹونی اور اس کے ساتھیوں سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انسپکٹر ڈینیل اسے لاک اپ تک لے گیا۔ اس نے سارجنٹ گریگ کو بھی ساتھ لے لیا تھا۔ تینوں انھیں وہاں دوبارہ دیکھ کے کچھ حیرت زدہ ہوئے۔
’’اگر آپ انھیں چھوڑ دیں انسپکٹر صاحب تو مجھے زیادہ خوشی ہو گی۔”
انسپکٹر ڈینیل نے ایک نظر ان تینوں پر ڈالی ۔
’’علی نے دوبارہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے چناں چہ اب اس گزارش کو رد کرنا میرے لیے مشکل ہے ۔” پھر اس نے سارجنٹ گریگ کو لاک اپ کا دروازہ کھولنے کو کہا۔ سارجنٹ نے دروازہ کھول دیا۔ وہ لاک اپ سے نکل آئے۔ تینوں علی کے نزدیک آگئے۔
’’ہمیں بہت شرمندگی ہے کہ ہم نے تمھیں لوٹنے کی کوشش کی۔ ہمیں معاف کر دو۔‘‘ کارلائل کے لہجے سے ندامت ٹپک رہی تھی۔
’’نہیں ۔ افسوس مجھے ہے کہ ٹونی کو میرے ہاتھ سے چوٹ کھانی پڑی۔‘‘ علی نے ٹونی کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔‘‘ لیکن میری مجبوری تھی۔‘‘
’’غلطی ہماری تھی اور سب سے زیادہ قصور میرا ہے کہ میں نے تمھارے جذبات کوبھی زخمی کیا۔‘‘ ٹونی نے علی کا ہاتھ تھام لیا۔
’’ہم تینوں اور خاص طور میں معافی چاہتا ہوں… پلیز۔‘‘
’’ہم نہ صرف تمھاری بہادری بلکہ اعلی ظرفی کے بھی قائل ہو گئے ہیں۔” تیسرے ساتھی نے بھی اعتراف کیا۔‘‘ یقیناََ مسلمانوں کے بارے میں ہمارے خیالات درست نہیں ہیں۔”
’’اگر تم لوگوں کی سوچ میں اتنی تبدیلی بھی آگئی ہے تو میرا جان پر کھیل جانا رائیگاں نہیں گیا ۔” پھر اس نے اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالا۔
’’یہ تین سو پائونڈ تم رکھو ٹونی۔ سیل فون کار لائل کے لیے اور یہ گھڑی میرے اس ساتھی کے لیے۔‘‘ اس نے گھڑی اتارتے ہوئے کہا۔
’’ہمیں مزید شرمندہ نہ کرو۔ ہمیں اب ضرورت نہیں ان چیزوں کی۔‘‘
’’نہیں۔ یہ تمھیں رکھنا ہی پڑیں گی۔‘‘ اس نے زبردستی انھیں پائونڈز ‘ سیل اور گھڑی تھما دی۔ اس کے بعد علی نے دوبارہ لباس میں ہاتھ ڈالا۔ ہاتھ باہر نکالا ‘ اس میں کچھ پائونڈز نظر آئے۔
’’یہ ڈیڑھ ہزار پائونڈز ہیں۔ میں عموماََ اتنی رقم لے کر باہر نہیں نکلتا لیکن آج ایک ضرورت کے تحت ساتھ رکھنی پڑی مگر یہ پائونڈز ایک خفیہ جیب میںتھے۔ کارلائل ڈھونڈ نہیں پایا تھا مگر اب ان کو تم تینوں آپس میں تقسیم کر لو۔” وہ دوبار ہ ششدر رہ گئے۔ پہلے اس نے انھیں لاک اپ سے نکلوایا۔ پھر لوٹ کا مال بھی ان کو واپس کر دیا۔ اور اب وہ ایک بڑی رقم ان کو دے رہا تھا۔ انھیں علی کے اس فعل پر یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔
’’ہمیں تعجب ہے کہ ہم نے تمھیں لوٹنے کی کوشش کی اور تم ان چیزوں کے علاوہ مزید پائونڈز ہمیں دے رہے ہو ۔ ہمیںسخت حیرت اور ندامت ہے۔”
’’ہمارے دین میںسخاوت کی بہت تحسین اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ جو لوگ ہم سے قبل گزرے ہیں‘ تم ان کی فیاضی کے واقعات سن لو تو انھیں نا قابل یقین تصور کرو گے۔ یہاں میری اچھی جاب ہے۔ یہ میری اس ماہ کی تنخواہ ہے لیکن مجھے خوشی ہو گی‘ اگر تم اس کو قبول کر لو۔”
’’ہمیں یہ واقعہ بھی خواب محسوس ہو تا ہے۔ یہ تمھاری رواں مہینے کی سیلری ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھو۔‘‘ کارلائل نے اصرار کیا۔‘‘ اگلا مہینہ ابھی دور ہے لیکن اگر پہلی تاریخ کل بھی ہوتی‘ ہم اسے نہیں لیتے۔ ہمیں مزید شرمندہ نہ کرو۔ جیب میں ڈالو ان پائونڈ ز کو۔ تم اٹھائیس دن بغیر تن خواہ کے کس طرح گزارا کرو گے؟”
’’ہم اللہ کو صرف اپنا خالق ہی نہیں بلکہ اپنا رب بھی مانتے ہیں۔‘‘ علی کہنے لگا۔‘‘ وہ اللہ جس نے ہمیں صرف پیدا ہی نہیں فرمایا بلکہ پیدائش سے لے کر موت تک ہمیں کھلاتا پلاتا ہے۔ وہ اللہ جو آسمان کی ہر مخلوق کو‘ زمین کی ہر مخلوق کو‘ خشکی والوں کو‘ سمندر والوں کوسب کو ان کی ضروریات کے مطابق رزق دیتا ہیے۔ وہ اللہ جس کا کوئی وزیر مشیر نہیں اور وہ تن تنہا اس پوری کائنات کا شہنشاہ ہے۔ وہ اللہ ‘ جس کے خزانے لا محدود ہیں۔ ہم سمندر میں سوئی ڈال کر نکالیں تو سمند کے پانی میں اتنی کمی آجاتی ہے کہ اس کا کچھ پانی سوئی پرلگنے کی وجہ سے کم ہوجاتا ہے لیکن اللہ کے خزانے اتنے لا محدود ہیں کہ وہ ہر ہر جان دار کو اس کی خواہش کے مطابق نواز دے‘ پھر بھی اس کے خزانوں میں اتنی کمی بھی نہیں آئے گی جتنی سوئی ڈالنے سے سمندر کے پانی میں کمی آجاتی ہے۔ ہم مسلما ن ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو ہوتا ہے ‘ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس کے غیر سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ پانی پیاس بجھانے میں اللہ کے حکم کا محتاج ہے‘ اللہ پیاس بجھانے میں پانی کا محتاج نہیں۔ کھانا بھوک مٹانے میں اللہ کے حکم کا محتاج ہے۔ اللہ بھوک مٹانے میں کھانے کا محتاج نہیں۔ ۔ ہر اچھی بری چیز فائدہ نقصان پہنچانے میں اللہ کی محتاج ہے۔ اللہ کسی کو فائدہ نقصان پہنچانے میں چیزوں اور اسباب کا محتاج نہیں۔ مجھے ان پائونڈز پر بھروسہ نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو کہیں نہ کہیں سے پائونڈز آہی جائیں گے۔ اگر اللہ چاہے تو بغیر پائونڈز کے پورا مہینہ میرا گھر اچل سکتاہے۔پلیز.. تم یہ رکھ لو۔‘‘
وہ تینوں‘ انسپکٹر ڈینیل اور سارجنٹ گریگ گم صم ہو ئے اس کی باتین سن رہے تھے۔
’’خدا کی قدرت کے متعلق ایسی گفت گو ہم نے اب تک نہیں سنی۔ شاید ہماری دل چسپی نہیں تھی یا پہنچانے والوں کی کوتاہی تھی۔‘‘ ٹونی نے قدرے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ اس نے دوبارہ علی کے ہاتھ تھام لیے تھے۔‘‘ ہم اندھیروں کے مسافر ہیں۔ ہم نے تمھارے ساتھ جو کیا ‘ اس پر ہمیں معاف کر دو علی۔‘‘
’’نہیں ٹونی… معافی کس بات کی؟؟ بلکہ معافی مجھے مانگنی چاہیے کہ میرے ہاتھ سے تمھیں زخم اٹھانا پڑا۔ اچھا چلو اگر تم میری دو شرطیں مان لو تو پھر حساب برابر سمجھ لوں گا۔”
’’ کیا … ؟” تینوں کے منہ سے بیک وقت نکلا۔
’’پہلے‘ تم لوگ یہ ساری چیزیں اپنے پاس رکھو۔ دوسرے‘ تم سب مع انسپکٹر ڈینیل اور سارجنٹ گریگ کسی روز میرے گھر لنچ یا ڈنر پر آئو۔ میرا ایک دوست ہے زبیر… پاکستان سے آرہا ہے۔ وہ عالم دین ہے۔ اس کے ساتھ ایک نشست رکھ لیں گے۔ اسلام سے متعلق جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘ آپ زبیرسے ان کے متعلق سوالات کیجیے گا۔ ٹھیک ہے… ؟؟”
’’ہمیں دوسری شرط منظور ہے۔‘‘ ٹونی نے فوراََ کہا۔
’’جی نہیں۔ یہ دو شرطوں کا پورا پیکج ہے۔ آپ کو دونوں شرطیں ماننی پڑیں گی۔‘‘
علی کے لہجے کی پختگی اور خلوص کی وجہ سے تینوںمجبور ہوگئے۔ انھوں نے اثبات میں گرد ن ہلا دی۔ ادھر انسپیکٹر ڈینیل جو اس ساری گفت گو میں خاموش رہا تھا‘ دل میں سوچ رہا تھا کہ اب مجھے اسلام قبول کر لینا چاہیے ورنہ کہیں کل حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کے حضور شرمندہ نہ ہونا پڑجائے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close