Naeyufaq Apr-16

عورت زاد(قسط نمبر1)

امجد جاوید

آسمان پر چاند روشن تھا۔ جس کی کرنیں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی لہروں پر مچل رہی تھیں۔ دور تک دریا کنارے ملجگا اندھیرا تھا۔ گھاس پھوس، سرکنڈے، جھاڑیاں اور درختوں پر پڑتی ہوئی چاندنی نے ماحول کو پراسرار بنا دیا تھا۔ ایک جگہ دریا کنارے سے ذرا ہٹ کر تھوڑے سے فاصلے پر موجود سردار مٹھن خان کا ڈیرہ تھا۔ جس پر لگی ہوئی سرچ لائیٹس ساری رات روشن رہتیں۔
ڈیرے پر موجود بر جیوں میں گارڈ بیٹھے رہتے۔ وہ ہیولوں کی طرح دکھائی دینے والے گارڈ اُن سرکنڈوں، درختوں اور جھاڑیوں کی نگرانی کرتے رہتے، جہاں تک روشنی پڑتی تھی۔ ویسے بھی اس پورے علاقے میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس ڈیرے کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ کیونکہ سردار مٹھن خان کایہ ڈیرہ دہشت کی علامت تھا۔ جہاں ہر وقت مجرموں اور اشتہاریوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ دریا کا یہ کنارہ ڈیرے کی پشت پر پڑتا تھا۔ ڈیرے کی پشت سے دریا تک پھیلی ہوئی ریتلی زمین بھی اسی ڈیرے کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔وہ اسی حصے کو محفوظ بھی خیال کرتے تھے لیکن ا ن کی نگرانی اسی طرف اتنی ہی تھی، جتنی وہ دوسری طرف رکھتے۔
اس علاقے میں دہشت کی علامت سردار مٹھن خان کا عام عوام پر تو خوف تھا ہی، پولیس اور دوسری فورسز بھی اس پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی تھی۔وہ اس علاقے کا ایم این اے تھا اور پورے علاقے میں اپنا اثر و رسوخ رکھتا تھا۔اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی حفاظت سے غافل تھا۔ اس کی مرضی کے بغیر وہاںنہ کوئی آ سکتا تھا اور نہ کوئی جا سکتا تھا۔ خطرناک مجرموں اور اشتہاریوں کے علاوہ اس کے اپنے بندے بھی وہاں موجود رہتے تھے۔اسے مختلف نسل کے خطرناک کتے پالنے کا بھی شوق تھا۔ جو وہاں کی سب سے بڑی سیکورٹی تھے۔ وہ انسانوں پر کم اور کتوں پر زیادہ بھروسہ کرتا تھا۔
رات کے اس وقت چاندنی بھرے ماحول اور ڈیرے سے چھن کر آنے والی اسی ملجگی روشنی میں دریا کنارے لکڑیوں کی آگ روشن تھی۔ جس کے ارد گرد وہ چاروں لڑکے کچھ دیر پہلے ہی آ کر بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھوں میںجام تھے۔ آگ کے شعلوں سے اٹھنے والی روشنی میں ان کے چہرے واضح دکھائی دے رہے تھے۔وہ دریا کنارے ریت پر بیٹھے ہوئے تھے اور ساتھ میںدریا ٹھاٹھیں مارتا ہوا بہہ رہا تھا۔ ان کے پاس شراب کی بوتلیں اور کھانے کی چیزوں سے بھری پلیٹیں پڑی ہوئی تھیں۔ ابھی وہ پوری طرح موج میں نہیںتھے۔ ان پر نشہ طاری نہیں ہواتھا۔ وہ اونچی اونچی آواز میں باتیں کر رہے تھے، کبھی زور زور سے ہنسنے لگتے، کبھی غلیظ گالیاں اور کبھی غصہ میں اول فول بکنے لگتے۔ انہی میں سردار مٹھن خان کا بیٹا فر حا ن خان تھا۔ باقی تینوں اس کے دوست تھے،جو ڈیرے پر عیاشی کرنے آئے ہوئے تھے۔ لیکن انہیں نہیں پتہ تھا کہ ان سے تھوڑے ہی فاصلے پر موت گھات لگائے بیٹھی ہے۔
ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا، دہشت کی علامت اس ڈیرے اور نشے میں دھت ان لڑکوں سے کافی فاصلے پر وہ اندھیرے میں سرکنڈوں کے درمیان دبکی بیٹھی تھی۔ وہ بڑے محتاط انداز سے کچھ فاصلے پر موجود لڑکوں پر نظر جمائے ہوئے تھی۔ اس نے ٹائیٹ جین اور ٹی شرٹ پر سلیولیس اپر نما جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔ جس کی جیبوں میں دو پسٹل اور پشت پر گن کے علاوہ کافی کچھ بھرا ہوا تھا۔ اندھیرے میں اس کا چہرہ صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن جسم کی ساخت سے لگ رہا تھا کہ وہ دارز قد نوجوان لڑکی ہے۔ اس نے اپنے بال پونی میں باندھے ہوئے تھے جو اس کی ٹوپی میں سے جھلک رہے تھے۔ وہ چند لمحے وہیں دُبکی ہوئی سامنے دیکھتی رہی پھر دھیمے دھیمے سرکتے ہوئے آگے بڑھتی چلی گئی۔چند میٹر فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ ایک جھاڑی کی اُوٹ میں دُبک کرپنجوںکے بل بیٹھ گئی۔اس کا انداز ایسے تھا، جیسے بلّی اپنے شکار پر جھپٹنے سے پہلے شست باندھتی ہے۔ جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی، وہاں سے بہتے ہوئے دریا کا کنارہ تقریباً سو قدم کے فاصلے پرتھا۔ وہ جھاڑی میں چند لمحے دبکی رہی۔ اسے ایک خاص وقت کا انتظارتھا۔
وہ خان فرحان کو پہچان چکی تھی۔اس کی چال ڈھال اور ملجگے اندھیرے میںچہرہ دیکھ کر وہ سمجھ چکی تھی۔ عیاش باپ کا بگڑا ہوا بیٹا، وہی اس کا اصل ٹارگٹ تھا۔ باقی تینوں اس کے وہ دوست تھے، جن کی ضرورت ہر امیر زادے کو ہوتی ہے کہ وہ کھانے پینے، عیاشی اور تحفظ کے عوض اس کی خدمت میں لگے رہیں۔ وہ تینوں بھی معمولی گھر کے نہیںتھے۔ فہد ایک سرکاری آفیسر کا بیٹا تھا، ریاض اور بابر شہر کے کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان تینوں کا تعلق کالج سے شروع ہوا تھا۔ خان فرحان کو اپنے اردگرد وفاداروں کی ضرورت تھی اور ان تینوں کو ایک مضبوط سہارے کی، یوں یہ گروپ کالج میں دہشت کی علامت بن گیا۔ جس کی شہرت کالج کی چار دیواری سے نکلی اور شہر بھر میںپھیل گئی۔ غنڈہ گردی سے شروع ہونے والا کھیل ایک گروہ بن گیا۔جو دن بدن پورے علاقے میں اپنی دھاک بٹھانے کے ساتھ ساتھ ہر آمدنی والی جگہ پر قبضہ جمانے میں لگ گیا۔ خان فرحان کو اپنے باپ مٹھن خان کی پوری حمایت ہی نہیںآشیر واد بھی حاصل تھی۔
زیادہ وقت نہیں گذرا تھا، ڈیرے کی پچھلی طرف کا گیٹ کھلا اور اس میں سے دو آ دمی نکلے۔انہوں نے ایک نازک سی لڑکی کو پکڑا ہوا تھا۔ وہ لڑکی ان دونوں آ دمیوں کے چنگل میں ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہی تھی۔ اس کے بدن پر بہت مختصر لباس تھا۔ ان دو آ دمیوں نے وہ لڑکی ان چاروں لڑکوں کے پاس یوں پھینکی جیسے کتوں کے آگے راتب پھینکا جاتا ہے۔ وہ آدمی لڑکی کو وہیں چھوڑ کر پلٹ گئے۔ سہمی ہوئی لڑکی ان چاروں کو ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی تھی جیسے وہ ہوش میں نہ ہو۔ وہ چاروں لڑکے اس نوجوان لڑکی کو یوںدیکھ رہے تھے، جیسے جھپٹنے سے پہلے کتے اپنے دانت کچکچاتے ہیں۔
اس کے سامنے کا منظرواضح تھا۔اس منظر کو دیکھنے کے لیے اس نے بڑا جان لیوا انتظار کیا تھا۔ اس نے یہ ڈیرہ اچھی طرح دیکھا ہوا تھا۔وہ ایک سال پہلے اسی ڈیرے پر آئی تھی۔ اس رات وہاں جو کچھ بھی ہوا، اس واقعہ نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ وہ دوبارہ اسی منظر کو دیکھنے کی تڑپ میں ایک سال سے زیادہ کا وقت گزار چکی تھی۔ جیسے ہی اس کی نگاہ اس تڑپتی ہوئی لڑکی پر پڑی، اس کا دوران خون تیز ہو گیا تھا۔ اسے خود پر قابو پانا مشکل ہونے لگا۔ لیکن وہ پھر بھی دانت پر دانت جمائے خود پر جبر کیے بیٹھی رہی۔ اسے خود پر قابو پاتے ہوئے پسینہ آ گیا تھا۔ حالانکہ اکتوبر میں رات کے دوسرے پہر کھلی جگہ میں کافی خنکی تھی۔مگر اس کی کنپٹیاں سلگ رہی تھیں۔
وہ اس لڑکی کو پہچان گئی تھی۔ یہ لڑکی آج ہی شہر سے اغوا ہوئی تھی۔ بلاشبہ یہ اسے اپنی عیاشی کے لیے اس ڈیرے پر لے آ ئے تھے۔ انہیں دیکھ کر اسے خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک برس پہلے ایسا ہی کچھ اس کے سامنے تھا۔ وہ ظالم رات اس کے سامنے لہرا گئی تھی جس نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی۔ یہ اسی سیاہ رات کا دیا ہوا زخم تھا کہ وہ سراپا انتقام بنی ان چاروں کوختم کرنے کے لیے یہاں تک اکیلی آن پہنچی تھی۔ یہ دیوانگی تھی یا اس کے اندر کی دردندگی، اسے وہ کوئی نام نہیں دے پائی تھی۔لیکن گردش کرتے ہوئے خون سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اس کا جسم پھٹ جائے گا۔
وہ ایک خاص وقت کے انتظار میںتھی۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ نشانہ اسی وقت لگایا جاتا ہے، جب شکار رینج پرہو۔اسے انتظار کر نا تھا۔وہ خود پر جبر کیے وہاں دبکی ہوئی سامنے دیکھتے رہی۔ جہاں کا منظر اس کے اندر کی درندگی کو مزید بڑھاوا دے رہا تھا۔ وہ اندر ہی اندر سے کھول رہی تھی۔اس وقت وہی خان فرحان اس کے نشانے پر تھا۔ وہ چاہتی تو اسے مار سکتی تھی۔ بس ٹرائیگر کو انگلی کا اشارہ درکار تھا۔ اسے اپنے نشانے پر بھر پور اعتماد تھا۔ مگر وہ اسے یونہی نہیںمارنا چاہتی تھی۔ اس نے ایک برس کانٹوں پر لوٹ کر اسی حسرت میں گزارا تھا کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے مارے گی۔
اس نے دیکھا، خان فرحان اس لڑکی کے پاس جا کر کھڑا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ میںشراب کی بوتل پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے میں کانچ کا گلاس تھا۔ وہ لڑکی سے کہہ رہا تھا کہ بوتل سے گلاس میںشراب ڈال کر دے۔ مگر لڑکی کو سمجھ نہیںآ رہی تھی۔ تبھی خان فرحان نے ایک زناٹے کا تھپڑ اس لڑکی کے گال پر مارا، لڑکی گھوم کر ریت پر جا گری۔ تبھی اس کے تینوں ساتھی قہقہہ لگا کر ہنس دئیے۔ وہ پھر اس کی طرف بڑھا اور کانپتی ہوئی لڑکی کو اٹھایا۔ ا س بار اس نے لڑکی کو گلاس نہیںتھمایا بلکہ بوتل سے شراب اس پر انڈیلنے لگا۔ بوتل خالی کر چکا تو دوسری اٹھا لی۔
’’ارے ٹھہر ٹھہر! اس کے کپڑوں کو کیوںبھگو رہا ہے، اس کا بدن بھگو نا یار۔‘‘ ایک دوست نے انتہائی سوقیانہ لہجے میں ہنستے ہوئے کہا۔
’’ارے صبر کر، کون سا شراب ختم ہو رہی ہے۔‘‘ خان فرحان نے ہتک آ میز انداز میں کہا۔وہ چند لمحے کھڑا رہا، پھر آگے بڑھ کر اس لڑکی کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر زور کا جھٹکا دیا۔ لڑکی کی قمیص پھٹ گئی۔ لڑکی نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سینہ چھپانا چاہا تو خان فرحان نے اس لڑکی کے گال پر زور سے تھپڑ مارا اور کھینچ کر پرے پھینک دیا۔وہ لڑکی منتیں کرنے لگی۔ گھٹے گھٹے انداز میں واویلا کرتے ہوئے واسطے دے رہی تھی۔ لیکن خان فرحان نے اس کی نہیںسنی۔ اس نے پھر لڑکی کے گریبان میںہاتھ ڈالا اور پھٹی ہوئی قمیص کو کھینچا تو وہ تار تار ہو گئی۔ لڑکی کا سینہ عریاں ہو گیاتو اس نے دوبارہ اپنے ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔ تبھی ایک قہقہہ لگا۔ اس کا دوست فہد اٹھا اور لڑکی کی شلوار پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ شلوار اتارنا چاہتا تھا۔ وہ لڑکی ریت پر جا گری۔ وہ بوتل سے شراب اس پر لنڈھانے لگا۔باقی دونوں بھی پیچھے رہنے والے نہیںتھے۔ وہ بھی تیزی سے آ گے بڑھے اور اس لڑکی کو بھنبھوڑنے لگے۔
یہ وہ وقت تھا، جس کے انتظار میں وہ شست لگائے بیٹھی ہوئی تھی۔وہ پنجوں کے بل تیزی سے آگے بڑھی۔ وہ سرکنڈوں میں یوں تیزی سے بڑھتی چلی جارہی تھی جیسے کوئی چیتا اپنی نگاہ شکار پر رکھے بڑھتا چلا جائے۔ جب وہ چاروں اس سے تقریباً دس فٹ کے فاصلے پر رہ گئے تو اس نے انتہائی سرعت کے ساتھ دوڑ لگاتے ہوئے قریب جا کر چھلانگ لگائی اور خان فرحان کو جھپٹ لیا۔ وہ اسے لیتے ہوئے ریت پر جا گری۔چند لمحے کے لیے خان فرحان کو اس افتاد کا پتہ ہی نہ چلا۔جیسے ہی دونوں ریت پر گرے، اسی دوران اس نے خان فرحان کے سر پر پوری قوت سے پسٹل کا دستہ دے مارا تھا۔ وہ بوکھلا گیا اور اس کے منہ سے مغلظات نکلنے لگیں۔ اس نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر پسٹل اس کی ٹانگوں کے درمیان رکھا اور ٹرائیگر دبا دیا، ہلکی سی ٹھک کی آواز آئی لیکن خان فرحان کی چیخ نے فضا میںارتعاش پیدا کر دیا۔ اس نے خان فرحان کی طرف توجہ نہیں دی، بلکہ ہونقوں کی طرح کھڑے تینوں لڑکوں کو دیکھا، پھر بغیر کسی تردد کے ان پر فائر کھول دیا۔ ان تینوں کی کھوپڑیوں میں سوراخ ہو چکے تھے۔وہ لہرا کر ایک بعد ایک کرکے گرتے چلے گئے۔ تبھی اس نے اونچی آواز میں تیزی سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’اے لڑکی کپڑے پہنو، جلدی۔‘‘
ساکت پڑی لڑکی میںجیسے جان آ گئی۔ اس نے فوراً اپنی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جس وقت وہ لڑکی سے کہہ رہی تھی، اسی دوران وہ خان فرحان تک جا پہنچی تھی۔ اس نے وہاں پڑی شراب کی بوتلیں اٹھائیں اور انہیں خان فرحان پر لے جا کر ایک دوسری میںمار کر توڑ دیں، ساری شراب اس پر گر گئی۔ اس نے مزید دو بوتلیں اٹھائیں، وہ بھی ویسے ہی اس پر توڑ دیں۔ اسی لمحے ڈیرے کی طرف سے فائر ہونے لگے۔ اس نے جلدی سے خان فرحان کو گھسیٹا اور لا کر جلتی ہوئی آ گ پر پھینک دیا۔ لمحے سے بھی کم وقت میں اُسے آ گ لگ گئی۔ اس کی ہولناک چیخیں کان پھاڑ رہی تھیں۔
اسی وقت ڈیرے کا بڑا گیٹ کھلا اور اس میں سے کتوں کے ساتھ کئی آ دمی باہر نکلے۔ وہ بھاگتے ہوئے اسی کی طرف بڑھتے چلے آ رہے تھے۔ اس نے ایک نگاہ، چیختے ہوئے خان فرحان کو دیکھا،ایک دم سے نفرت پھر عود کر آئی،وہ اذیت میںتھا، مگر زندہ تھا، وہ یہ رسک نہیںلینا چاہتی تھی۔ سو اس نے، فرحان کے سرپر پسٹل رکھ کر فائر کر دیا۔ پھر ایڑیوں پر گھومی لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور پوری قوت سے بھاگی۔ اس کا رُخ دریا کی طرف تھا، جو اس سے بیس قدم کے فاصلے پر تھا۔ کتے اس سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھے، دریا کنارے وہ ایک لمحے سے بھی کم وقت کے لیے رکی، ہاتھ فضا میںاچھالا اور لڑکی سمیت دریا میںچھلا نگ لگا دی۔جیسے ہی چھپاک کی تیز آواز کے ساتھ اس نے خود کو ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے سپرد کیا۔ اسی لمحے ایک ہینڈ گرنیڈ فضا میں اچھلتا ہوا ان لوگوں کے درمیان گرا جو اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ایک خوف ناک دھماکے کے ساتھ کئی کربناک چیخیں ایک ساتھ فضا میں ابھریں۔ اس نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیںکی تھی کہ اس میںکتنے آدمیوں اور کتنے کتوں کی آوازیں تھیں۔
چند لمحوں کے لیے وہ پانی کی تہہ میں گئی تھی، پھر تیزی سے اُبھرتی چلی آئی۔ ا س دوران اس نے لڑکی کو اپنے کاندھوں پر سوار کر لیا۔ اس کیپیچھے فائرنگ اور تیز باتوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ وہ آوازیں لمحہ بہ لمحہ دو ر ہوتی چلی جا رہی تھیں، کیونکہ وہ انتہائی جانفشانی سے تیرتی چلی جارہی تھی۔
دریا کا پاٹ کافی چوڑا تھا۔چاندنی میں وہ دیکھ سکتی تھی کہ دوسرا کنارہ کہاں تک ہے۔وہ کئی بار دریا کے س پاٹ کو تیر کر عبور کر چکی تھی۔ اسے امید تھی کی دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لیے اسے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، یہی وہ وقت تھا، جس میںاگر ڈیرے والے اس کا پیچھا کرتے تو اسے ختم کر سکتے تھے۔ اس کی سار ی پلاننگ میں یہی ایک ایسی جگہ تھی، جو اس کی کمزوری بن سکتی تھی۔ اچانک اس نے محسوس کیا کہ اس کے پیچھے کچھ فاصلے پر خرخراہٹ ہو رہی ہے۔اسے خطرے کا احساس ہو گیا۔ وہ اسی وقت گھومی تو اس کے قریب ایک خونخوار کتا تیرتا ہوا آ رہاتھا۔ اس سے پہلے کہ وہ خود پر قابو پاتی، وہ کتا اس پر جھپٹا۔ اگر چہ وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکا لیکن اس کا توازن خراب ہو گیا۔وہ ڈول گئی تو لڑکی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ ایک طرف غوطے کھاتی ہوئی وہ لڑکی تھی اور دوسری طرف کتا۔ کتے نے دوبارہ اس کے کاندھے پر منہ مارا تو گوشت ادھیڑ گیا۔ اس کے منہ سے سسکاری نکلی۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے پسٹل والا ہاتھ بلند کیا اور فائر کر دیا۔کتے کے منہ سے کراہ نکلی جو دور ہوتی چلی گئی۔ وہ گھومی تو قریب ہی لڑکی چھپکے ماررہی تھی۔ وہ تیزی سے اس تک پہنچ۔ دوبارہ اسے خو د پر سوار کرتے ہوئے، اسے انتہائی مشکل ہورہی تھی۔ اس کا شانہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ دوسری طرف وہ لڑکی مدہوش ہو رہی تھی۔ اس کے اپنے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔ اس نے اپنے بدن کی قوت کو یکجا کیا اور تیرنے لگی۔وہ زیادہ دور تک نہیںجا پائی تھی کہ اسے لگا کہ اس میں قوت ختم ہو رہی ہے۔ اسے پوری طرح احساس ہورہا تھا کہ اس کے شانے کا درد پوری جسم میںپھیل گیا ہے۔ اسے یہ بھی احساس نہیںتھا کہ وہ لڑکی ہوش میںتھی یا بے ہوش۔ زندہ بھی ہے یا مر گئی۔ لمحہ بہ لمحہ اس کی قوت جواب دینے لگی۔ اسے لگا کہ وہ لڑکی سمیت بہہ جائے گی۔ چاندنی میں اسے دوسرا کنارا بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔اسے لگا اس کے ہاتھ پائوں ڈھیلے ہو رہے ہیں۔ ایسے ہی وقت میں اس کے سامنے سے تیز روشنی اُبھری۔وہ لمحہ بھر رہی اور پھر غائب ہو گئی۔ کیا اس کے دشمن کا کوئی بندہ اس تک پہنچ گیا ہے؟ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے لگا کوئی موٹر بوٹ اس کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہ اپنے حواس کھو رہی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ موٹر بوٹ اس کے قریب آ رہی تھی۔روشنی پھر لپکی۔ اس نے اپنے حواس کو پوری قوت لگا کر بیدار کیا۔ اس کے ساتھ ہی خاموشی کو چیرتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’گولی! ہمت کرو میںآ گیاہوں۔‘‘
یہ آواز سنتے ہی اس میں زندگی سرسرانے لگی۔ وہ شعیب کی آواز تھی۔ تب اسے لگا کہ وہ کم از کم ڈوب کر نہیں مرے گی۔ موٹر بوٹ جیسے ہی اس کے قریب آ ئی۔وہ تقریباً بے ہوش ہو چکی تھی۔ اسے اتنا تو احساس تھا کہ اس پر سے لڑکی کا بوجھ کم ہو گیا ہے، لیکن وہ بوٹ میںکیسے گئی؟ اس کا اسے قطعاً احساس نہیںرہا تھا۔ وہ ہوش و حواس سے بے گانہ ہو چکی تھی۔
خ…خ…خ
وہ نجی اسپتال کے ایک کمرے میںپڑی تھی۔ اس کی بڑی بڑی آ نکھیں بند تھیں۔ تیکھی کمان چتون، چوڑا ماتھا، سیاہ گھنے گیسو، تکیے پر پھیلے ہوئے تھے۔ جن کے درمیان گلابی گول چہرہ دمک رہا تھا تیکھا الف ناک، پتلے پتلے سرخ ہونٹ، بھر بھرے گال، ہلکی سی خم دار ٹھوڑی، لمبی گردن، بھاری سینے تک کمبل اوڑھا ہوا تھا۔ وہ دوائوں کے زیر اثر سو رہی تھی۔ اس کے قریب ہی شعیب ایک کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ وہ گاہے بگاہے، اسے دیکھ لیتا اور پھر اخبار کے صفحات میں گم ہو جاتا۔ پوری رات اسی طرح گذر گئی تھی۔ اس وقت صبح ظاہر ہونے کو تھی۔ تبھی شعیب کی نگاہ اس پر پڑی، وہ ذرا ذرا سی کسمسا رہی تھی۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس چلاگیا۔ وہ اس کے حسین چہرے پر نگاہیں گاڑے ہوئے تھا کہ اس کے پپوٹے ہلے اور پھر چند لمحوں بعد اس نے آنکھیں کھول دیں۔ پہلے اس نے اجنبی سے انداز میں ماحول کو دیکھا، پھر شعیب کے چہرے کو دیکھتے ہی ہلکے سے مسکرا دی، جیسے وہ سب کچھ سمجھ گئی ہو۔ تبھی شعیب نے اس کے کان کے پاس ہلکے سے کہا۔
’’شکر ہے، تمہیںہوش آ گیا۔‘‘
’’ہوش توآ نا تھا، تم جو میرے پاس ہو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے دھیمے سے بولی۔
’’میڈم نینا صاحبہ، میں وقت پر نہ پہنچتا نا،تو تم بھی اور وہ بے چاری لڑکی بھی، دونوں ہی سوہنی کی طرح دریا برد ہو جاتیں۔‘‘ اس نے انتہائی طنزیہ لہجے میںغصہ بھرے انداز میںکہا تو وہ دھیما سا زیر لب مسکراتے ہوئے بولی۔
’’اوئے نہیں شعیب سوہنے نہیں۔ سوہنی تویار کے لیے مری تھی اور میرے یار نے مجھے بچایا، اتنافرق تو ہے نا؟‘‘
’’تو ذرا ٹھیک ہو لے، پھر میںتمہیںبتائوں گا، کسی کی بات کیسے نہیںمانتے ہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ تم نے یہ بے وقوفی کرنی ہے اور تمہیں بچانے کے لیے مجھے ہی جانا پڑے گا، مجھے دو گاڑیوں اور ایک بوٹ کا بندوبست کرنا پڑا۔‘‘ وہ مصنوعی خفگی میںبولا تو وہ ہلکا سا مسکرائی، پھر ایک دم سنجیدہ ہو کر اس نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھا کر شعیب کے سینے پر رکھتے ہوئے بولی۔
’’خدا شاہد ہے شعیب، اک تو ہی میرا دوست ہے اس دنیا میں، ورنہ کون ہے میرا اور تیرے ہی مان پر یہ سب کرتی ہوں۔ تو نہیں ہے تو میںبھی نہیں ہوں۔ میں جانتی تھی کہ تم مجھے بچا لو گے۔‘‘
’’اچھا چل یہ جذباتی بلیک میلنگ چھوڑ اور اٹھ سکتی ہے تو اٹھ، کچھ کھا لے، پھر دوا بھی لینی ہے۔‘‘ شعیب نے اس موضوع سے توجہ ہٹا کر کہا۔
’’ابھی کچھ دیر ٹھہر جا،پھر جیسے تم کہو گے، آئو، ادھر میرے پاس بیٹھ جائو۔‘‘ اس نے بیڈ پر اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔پھر اس کے بال سنوارتے ہوئے بولا۔
’’اب بس جلدی سے ہمت پکڑو۔‘‘
’’شعیب! میںنے بس چمکتی روشنی دیکھی تھی، پھر کیا ہوا تھا؟‘‘ اس نے اپنے لہجے میںمحبت سمیٹتے ہوئے پوچھا۔
’’مجھے تمہارے پلان کا تو پتہ تھا اور میں یہ بھی جانتا تھا کہ تم جائو گی ضرور، میںنے تمہیں ڈرائیور کے ساتھ بھیج تو دیا اور خود سارا بندو بست کر لیا تھا۔ میں تو اسی وقت تمہاری طرف بڑھ آ یا تھا، جب دوسرے کنارے پر ہنیڈ گر نیڈ پھٹا تھا۔ میں تم سے تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’پھر، یہ کہ میں تمہیں اور اس لڑکی کو لے کر دوسرے کنارے آ گیا۔ وہ بھی بے ہوش تھی۔ میں نے تم دونوں کو گاڑی میںڈالا اور یہاں لے آ یا۔ خدا ڈاکٹر وسیم کا بھلا کرے میرے ہر آڑے وقت میں کام آ تا ہے۔ تمہیں تو آ پریشن روم میں بھیج دیا اور اس لڑکی کو ہوش دلایا۔‘‘
’’اس لڑکی کو ہمارے بارے پتہ تو نہیںچلا؟‘‘ وہ ایک دم سے تشویش زدہ لہجے میںبولی۔
’’نہیں، میں نے اس لڑکی کو بھی پتہ نہیںلگنے دیا کہ وہ کہاں پر ہے، بس اسے شہر میں ایک جگہ لے جا کر چھوڑ دیا، پھر اس کے باپ کوفون کر دیا،جواسی لڑکی نے بتایا تھا۔‘‘ شعیب نے سکون سے بتایا۔
’’کیا کہا تھا۔‘‘ وہ تجسس سے بولی۔
’’یہی کہ کوئی بے ہوشی کی حالت میں اس لڑکی کو چھوڑ گیا ہے۔ وہ سڑک پر پڑی ہے۔ بہرحال وہ اُسے گھر لے گئے ہیں۔‘‘ شعیب نے بتایاتواس نے تیزی سے پوچھا۔
’’پولیس اور مٹھن خان کے کارندے ہمیں تلاش کر رہے ہوں گے، کہرام مچا ہوگا مٹھن خان کے گھر ؟‘‘
’’مٹھن خان …‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور بیزاری سے بولا۔
’’کہرا م مچا ہے یا نہیں، پولیس تلاش کر رہی ہے یا نہیں،مجھے اس کا نہیں پتہ۔تھانے میں موجود اپنے کسی دوست سے پوچھ لے، یاپھر اس سے جو تمہارا کوئی عاشق ہو۔‘‘
’’شعیب بری بات، ایسے تو نہ کہو اگر کوئی مجھ پر عاشق ہو جاتا ہے تو بھلا اس میںکسی عاشق کا قصور ؟ میں ہوں ہی ایسی۔‘‘ وہ پیار سے بولی تو شعیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’یار، میں کون سا تمہارا عاشق ہوں، جو میں کسی سے جیلسی محسوس کرو ں گا۔ اب تمہیںتو پتہ ہے کہ میں تمہا ر ے ساتھ یہاں پر ہوں، مجھے کیا پتہ؟‘‘
’’اوکے۔میں سمجھ گئی۔‘‘ وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولی،’ ’ لیکن پھر بھی …‘‘
’’شکر کر زیادہ گہرا زخم نہیں ہے،تم محض آج کی رات ہو یہاں پر، سورج نکلنے سے پہلے تم یہاں سے شفٹ ہو جائو گی،اس لیے سو جائو۔‘‘ شعیب نے اسے بتایا
’’چلو ٹھیک ہے جیسے تم کہو۔‘‘ وہ ہولے سے بولی
’’اچھا،اب کچھ کھا پی لو،پھر میں گھر کا چکر لگا آئوں پھر نکلتے ہیں۔‘‘ شعیب نے کہا تو وہ مزہ لینے والے لہجے میں نقاہت سے بولی۔
’’تھوڑا اور قریب ہو کر بیٹھ نا، اتنی دور کہاں ہو۔ تیرے پاس ہونے کااحساس تو ہو۔‘‘
’’بس آ گئی ہوش میں اور شروع کر دی یہ بکواس،ٹھرکی کہیں کی۔ میں کیا تم سے دس فٹ کے فاصلے پر بیٹھا ہوں۔‘‘ اس بار شعیب نے سچ مچ غصے میںکہا اور اٹھ گیا۔ وہ باوجود تکلیف کے ہنس دی پھر بولی۔
’’ہائے، تیرے یہی نخرے تو مجھے مار دیتے ہیں، جان نکال لیتا ہے تو نا۔لائو مجھے کچھ کھانے کو دو۔‘‘
شعیب اسے جوس دے کر پھل کاٹنے لگا۔ وہ کھا پی چکی تو ذرا سی دیر میں نرس اس کے پاس آ گئی۔ اس نے دوا کے ساتھ انجکشن دیا تو وہ سکون سے پھر لیٹ گئی۔ اس کی نگاہیں شعیب پر جمی ہوئی تھیں۔
’’شعیب ! آئو، ادھر میرے پاس لیٹ جائو۔‘‘ اس نے پیار سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہیں، میں گھرجا رہا ہوں، صبح ہونے سے پہلے آ جائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اسے خدا حافظ کہہ کر باہر چلا گیا۔
نینا کو پوری امید تھی کہ وہ گھر کا چکر لگا کر آ جائے گا۔ ایک وہی تو اس کا مخلص دوست تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ اس وقت وہ کس نازک وقت سے گذر رہا ہوگا۔ وہ جانتی تھی کہ مٹھن خان کتوں کی طرح اس کی بُو سونگھتا پھر رہا ہوگا، صرف وہی نہیں اس کے سارے گماشتے صرف اسے ہی تلاش کررہے ہوں۔اس نے مٹھن خان کا بیٹا اس نے انتہائی بے دردری سے مار دیا تھا۔ یہ ایسے لمحات تھے، جس میں جتنا محتاط ہوا جاتا، اتنا ہی کم تھا۔ نینا کے دماغ میںآگ بھرنے لگی۔وہ سمجھ رہی تھی کہ ابھی تو اس نے مٹھن خان کا بیٹا ہی مارا ہے، دشمنی تو اب شروع ہوئی ہے، جس کا آغاز مٹھن خان نے کیا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے وہ ماضی کے ان راستوں پر جا نکلی، جنہوں نے اُسے ’’گُولی‘‘ بنا دیا تھا۔ اورجس کی دہشت پورے علاقے میںپھیلی ہوئی تھی۔ وہ ماضی میںکھوگئی۔
خ…خ…خ
جس گھر میں اس نے آ نکھ کھولی تھی، اس کی دیواریں کچی تھیں۔ ان کچی دیواروں میں غربت نے جہاں رشتوں ناتوں میں بے حسی بھر دی تھی، وہاں حالات نے سبھی افرا د کو ایک دوسرے سے نگاہیں چرانے پر مجبور کر دیا ہو اتھا۔ وہ ایک بہن اور تین بھائیوں کے بعد سب سے آخر میںپیدا ہوئی تھی۔ شاید اس کی قسمت شروع ہی سے ایسی تھی کہ وہ اپنے باپ کا چہرہ بھی نہ دیکھ پائی۔ اس کے پیدا ہونے سے تین ماہ پہلے اس کا باپ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اس وقت تک بڑی بہن اور بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔جس وقت ساری ذمہ داری اس کے بھائی کے کاندھو ں پر پڑی تو گھر کا ماحول زیادہ کشیدہ ہو گیا۔ زمین کا کوئی ٹکرا اپنا نہیںتھا، جو مستقل آ مدنی کا وسیلہ بنتا، لے دے کہ مزدوری تھی یا پھر مزارع بن کر کاشتکاری کر نا تھی۔ دو بھائی اس کام میںلگ گئے، جس سے روزی روٹی پوری ہونے لگی۔
وہ چھوٹی تھی، محلے کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ گائوں کے واحد پرائمری اسکول میںجانے لگی۔ اس وقت وہ اتنا بوجھ محسوس نہ ہوئی، اس پرکوئی خرچ نہیںتھا، سو کسی نے دھیان ہی نہیںدیا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ اسکول میں وہ سب سے زیادہ ذہین طالبہ تھی۔اس کا اسکول ہی میں دل لگتا تھا۔ جب تک اسکول کا وقت رہتا، وہ ہنستی کھیلتی، شرارتیں کرتی وقت گذار دیتی۔ لیکن جیسے ہی گھر میں آ تی اس کی بھابی اسے اپنے ساتھ کاموں پر لگا لیتی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی ان کا ر نہیںکر سکتی تھی۔ پھر گھر کا ماحول بھی ہر وقت کشیدہ رہتا۔ جس میں اس کی بھابی ہی تھی جو چڑ چڑی رہتی، اسے یہ زعم بھی تھا کہ اس کا شوہر سب کا کفیل ہے۔ اس دوران اس کے بھی دو بچے ہو چکے تھے۔ اسے ان کا بھی خیال تھا۔ اس کی ماں خاموشی سے سب دیکھتی رہتی لیکن کسی سے کوئی گلہ نہیںکرتی تھی۔اس نے تو جیسے اپنے لب ہی سی لیے ہوں۔ یہی خاموشی اس کی ماں کے اندر کا روگ بن گیا۔ وہ دن بدن کمزور پڑنے لگی لیکن نہ اس نے کہا اور نہ کسی نے دھیان دیا، یوں دن گذرے چلے گئے۔
ان کے گائوں کے قریب ہی ایک ہائی اسکول تھا۔ وہاں پڑھنے جاتی رہی۔ اسی کے اسکول کی ایک ٹیچر کا تبادلہ وہاں ہوا تو وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے لگی۔ یوں اس کا جو بھی چھوٹا موٹا خرچ ہوتا، وہ استانی برداشت کرتی تھی۔ دوسرا وہ ایک ذہین طالبہ تھی۔ وہ اسے ضائع نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔ یوں وہ میڑک بھی کر گئی۔
جس وقت اس نے میٹرک کیا، اس وقت تک وہ ایک بھرپور اور جوان لڑکی کا روپ دھار چکی تھی۔ ہرن کے نافے میں کستوری ہو اور اس کی خوشبو نہ پھیلے، ایسا ہو نہیںسکتا، گائوں میں ایک حسین لڑکی ہو، اور اس کا چرچا نہ ہو، یہ بھی ممکن نہیںہوتا۔بظاہر لاابالی دکھائی دینے والی لڑکی پر حسن ٹوٹ کر آ یا تھا۔ موٹی موٹی آنکھ، سیاہ بھنورا ایسی، جسے نگاہ بھر کے دیکھتی، اس پر جادو کر دیتی، تیکھا الف تلوار ناک، پتلے پتلے تراشیدہ ہونٹ، اوپری لب کے دائیں جانب ہلکا سا تل،گول چہرہ، بھرے بھرے رخسار، چوڑی پیشانی اور دراز گیسو،چوڑے شانوں کے ساتھ، اس کا بھرا بھرا بدن، بھاری سینہ، پتلی کمر، لمبے قد کے ساتھ جب چلتی تو راستے بھی ہلکورا لیتے ہوئے محسوس ہو تے۔ کستوری کی مہک ہو یا لڑکی کا حسن جب پھیلتا ہے تو اس کا ذکر ضرور ہوتاہے۔ جہاں جوانی کی اپنی مہک ہوتی ہے، وہاں کشش بھی سر چڑھ کر بولتی ہے۔ گائوں کے لڑکے، ڈیروں پر، رات کی تنہائیوں میں اس کی باتیں کرنے لگے۔جس کی سرگوشیوں بہت دور تک پھیل گئی تھیں۔
گھر میںطوفان ا س وقت اٹھا جب اس نے شہر کے کالج میںداخلہ لینے کی بات کی۔ سبھی حیران تھے کہ اس گھر میں کسی لڑکے نے اسکول پاس نہیںکیا،اور یہ لڑکی ہو کر کالج پڑھنے جائے گی اور وہ بھی شہر، ایسا تو ممکن ہی نہیںتھا۔ہفتہ دس دن یہی چخ چخ چلتی رہی۔ اس دوران بھابی نے سب سے زیادہ ناک بھوں چڑھائی تھی۔بھائی الگ چیخے،لیکن ایک ماں تھی جو اب تک خاموش تھی۔ اس نے ہاں اور ناں میں جواب نہیںدیا تھا۔وہ بھی اسی کشمکش میں رہی تھی کہ اس کی ماں کیا کہتی ہے۔ اگر ماں نے ہاں کر دی تو وہ کسی کا کہنا نہیں مانے گی اور اگر انکار کردیا تو وہ خاموشی سے گھر بیٹھ جائے گی۔
اس مسئلے کا حل گائوں کی اسی استانی نے آکر حل کیا، جو اب تک اس کی مدد کرتی چلی آ ئی تھی۔ اس نے اخراجات کی ذمہ داری خود پر لی۔ تب اس کی ماں نے کالج جانے کی اجازت دے دی۔ اصل میں معاشی مسئلہ ہی تھا جس کے سبب وہ خاموش تھی۔ اسے اجازت مل گئی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ برقعے اوڑھا کرے گی۔ اس نے یہ شرط مان لی۔
اس نے کالج میںداخلہ لے لیا، گویا ایک نئی دنیا میںآگئی۔وہاں بھانت بھانت کی لڑکیاں تھیں۔ مختلف عمر اور طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ طرح طرح کی لڑکیوں میں اس نے بہت جلد اپنی شناخت بنا لی۔ وہ کالج میں ہر دلعزیز، شرارتی اور ذہین طالبہ کے طور پر مشہور ہو گئی۔دراصل وہ خود کوکالج کی اس دنیا میں پا کر اپنا سب کچھ بھول جانا چاہتی تھی۔وہ جب گھر سے نکلتی تو سکھ کا سانس لیتی۔ وہ بھول جاتی کہ گھر کی تنگی، پریشانیاں، طعنے، گھٹن جو سب غربت کی وجہ سے تھا، کچھ دیر سہی سکون میں رہتی۔اسے یہ قطعا ً یقین نہیںتھا کہ وہ یہاں کالج کے دو سال پورے بھی کر پائے گی یا نہیں۔ کیونکہ اسے ایک نئی افتاد کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔اسے کالج میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، مگر جب وہ گھر سے نکلتی اور اسٹاپ تک جاتی تو کئی بھنور ے اس کے ارد گرد منڈلانے لگتے۔ وہ برقعے کی اوٹ سے سب کو دیکھا کرتی لیکن اپنے کسی بھی عمل سے کسی کو بھی یہ محسوس نہ ہونے دیتی کہ اس کی کوئی ذرا سی بھی دلچسپی ہے۔ اس لیے کسی کی ہمت نہ پڑتی کہ اس سے بات کر سکے۔ وہ کا لج سے واپس آتی تو یہی سلسلہ لگا رہتا۔ سو وہ بہت محتاط رہی۔
اگرچہ اس کا تعلیمی سلسلہ اس استانی کی وجہ سے چل رہا تھا، لیکن وہ ماں بیٹی خود بھی محنت کر تی تھیں۔ کسی کے کپڑے کاڑھ دئیے۔ چنگیریں بنا دیں، یا ایسے ہی وہ کام جو عموماً گائوں کی گھر بیٹھنے والی عورتیں کرتی ہیں۔ اس سے جو ملتا اسی سے وہ اپنا خرچ چلا لیتی تھی۔ دن گذرتے گئے اور دو برس پلک جھپکتے بیت گئے۔ اس نے امتحان دیا اور اعلی درجے کے نمبروں میں پاس ہوگئی۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیںتھا۔ اس نے مزید تعلیم حاصل کرنے کی ٹھان لی۔ اسے پورا یقین تھا کہ اس کے بھائی اسے ایسا کرنے نہیںدیں گے لیکن وہ مطمئن تھی کہ وہ ایسا کرکے ہی چھوڑے گی، وہ ضرور پڑھے گی۔
کالج کے داخلے شروع ہوئے تو پھر گھر میں طوفان اٹھ گیا۔ لیکن اس بار اس کا موقف مضبوط تھا۔ اب اس کی وہ استانی نہیں رہی تھی، جو اس کی معاشی مدد کرتی تھی۔ اس کی شادی ہوچکی تھی اور وہاں سے اس کا تبادلہ ہوگیا تھا، جہاں اس کے سسرال تھے۔ لیکن پھراب وہ اپنے بھائیوں پر معاشی بوجھ نہیں تھی۔اس کے کردار پر کوئی انگلی نہیںاٹھا سکتا تھا، وہ دو برس کالج جاتی رہی تھی لیکن ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے اس کے کردار پر شک کیا جاسکتا تھا۔ اس کی ضد تھی کہ وہ مزید پڑھے گی سو اس نے کالج میںداخلہ لے لیا۔
شہر کا وہی کالج تھا، وہی آنا جانا، وہی دور دور سے تاڑتے ہوئے لڑکے تھے مگر اس میں اعتماد کہیں زیادہ آ گیاتھا۔ وہ پہلے اندر سے دَبّو قسم کی لڑکی تھی۔ لیکن خود پر اعتماد کی وجہ اس کا اپنا بوجھ آپ اٹھانا تھا۔ کالج جاتے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ انہی دنوں شہر میں ایک ایف ایم ریڈیو آگیا۔ اسے شہر بھر کا تو نہیں پتہ لیکن کالج کی لڑکیوں میں ایک دم سے کریز آ گیا۔ ایف ایم ریڈیو پر چلنے والے گیت اور نغمے وہی ہوا کرتے تھے جو ویسے بھی سنے جا سکتے تھے لیکن لڑکیوں میں وہاں ایک پروگوام کے ڈی جے فواد کا بڑا چرچا ہو نے لگا تھا۔ ملا جلا کر جو اس کی تعریف بنتی تھی وہ یہی تھی کہ اس کی آواز اتنی موہ لینے والی ہے کہ سیدھی دل میں اُتر جاتی ہے، اس کا لہجہ یوں ہے کہ جذبات اور احساسات کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کی باتیں ایک نئے جہان کا در کھول دیتی ہیں۔ وہ بھی یہی باتیں سنا کرتی تھی لیکن اس کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیںتھا کہ وہ بھی اس کی آواز، لہجہ اور باتیں سن سکے۔ ایک سیل فون خریدنے کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔
ایک دن بیٹھے بیٹھے اس کا یہ احساس شدت اختیار کر گیا۔ وہ کیوں اتنی مجبور ہے کہ چھوٹی چھوٹی حسرتوں کے لیے تڑپتی رہتی ہے ؟ وہ بھی اسی دنیا کی رہنے والی ہے جہاں اتنے پیسے ایک لھانے پر خرچ کر دیتے ہیں۔ وہ کیوں اور وہ ہی کیوں ؟دماغ میں بہت سارے خیال آتے چلے گئے۔ یہی سوچتے ہوئے اسے ایک دم سے اپنی ٹیچر سمیراکا خیال آ یا۔ وہ بیوہ تھی، شہر میں اس کا اپنا گھر تھا۔ اس کی ایک ہی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ گھر میں لڑکیوں کو ٹیوشن دیتی تھی۔ وہ ان کے پاس گئی اور کہا۔
’’میڈم ! کیا مجھے آپ کے ٹیوشن سینٹر پر جاب مل سکتی ہے ؟‘‘
ایساپہلے کبھی کسی نہیںکہا تھا۔ وہ اس کی بات سن کر چند لمحے خاموش رہیں،پھر پوچھا۔
’’بیٹا! میں کوئی اکیڈمی نہیں چلاتی یا وہ کوئی اسکول نہیںہے، کچھ والدین کے اصرار پر میں ان کی بچیوں کو ٹیوشن دے دیتی ہوں، باقی میں سمجھتی ہوں کہ تمہارا کوئی معاشی مسئلہ ہو گا اسی لیے تم کہہ رہی ہو۔‘‘
’’جی، میری چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بھی رہ جاتی ہیں۔ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں کوئی شے خرید وں، پھر میرے تعلیمی اخراجات…‘‘ اس نے کہنا چاہا تو ٹیچر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’مجھے تمہارے تعلیمی کیرئیر کا پتہ ہے، تم ایک ذہین لڑکی ہو، میری مدد گار ثابت ہو سکتی ہو۔ خاص طور پر تمہارا انگریزی میںکافی حد تک مضبوط ہونا۔ تم کل سے آ جانا، باقی ہم دیکھ لیں گے۔‘‘
اپنے بارے میں یہ باتیں سن کر اسے لگا کہ جیسے وہ ترقی کی بلندیوں پر ہے۔ یہ سب اسی گائوں والی استانی کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔اسی نے بچپن ہی سے اس کے ذہن میںیہ ڈال دی تھی کہ اگر ترقی کرنی ہے تو انگریزی زبان پر عبور حاصل کرو۔ وہ اسے خوب انگریزی پڑھاتی تھی۔ جس کی وجہ سے اسے روزگار کی سہولت میسر آ گئی تھی۔ اسے انگریزی کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔اسی دن اس نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ وہ شہر میں ٹیوشن دیا کرے گی، اس لیے اب لیٹ آ یا کرے گی۔بھائیوں نے پھر جز بز کی، لیکن بات کمانے کی تھی، سو زیادہ نہیںبولے۔ وہ اگلے دن سے وہاں پڑھانے لگی، زندگی نے ایک نئی کروٹ لے لی۔ اسے مہینے بعد اچھی خاصی رقم ملنے لگی تھی۔ اس نے سیل فون نجانے کب کا خرید لیا ہوا تھا۔ وہ گیت اور نغمے سننے کے علاوہ فواد کی آواز اور باتیںبھی سنا کرتی تھی۔ وہ ایک نشہ تھا، جو اسے لگ چکا تھا۔ جب بھی اس کا پر گرام آ تا، وہ سننے بیٹھ جاتی اور پھر دنیا مافیہا سے بے خبر ہو جاتی۔ وہ کپڑے بھی تھوڑے اچھے پہننے لگی تھی۔ ماں کے لیے پھل بھی لے جاتی۔ میڈم کی بیٹی فاخرہ اس کی بہت اچھی سہیلی بن چکی تھی۔ کبھی دیر ہوجاتی تو انہیں کے ہاں رہ جاتی، دھیرے دھیرے وہ اس فیملی کا ہی حصہ بن گئی۔ یوں ایک برس پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ اس دوران فواد خان اس کے حواس پر چھاگیا تھا۔ وہ اسی کے خیالوں میں رہنے لگی تھی۔
وہ گر میوں کی چھٹیوں سے پہلے بہار کے دن تھے۔ ایک دن فواد خان نے ایف ایم ریڈیو پر باتیں ہی کچھ ایسی کیں کہ اس کا من مچل اٹھا کہ وہ فواد سے بات کرے۔ پورا ایک دن اس نے خود پر جبر کیا لیکن پھر وہ خود کو نہ روک سکی اور اس نے کال ملا لی۔ چند ثانیے بعد ہی اس کی کال رسیو ہو گئی۔
’’جی فرمائیے۔میںفواد خان بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’مجھے … آپ ہی … سے بات کرنی ہے۔‘‘ اس نے دھڑکتے ہوئے دل سے بہ مشکل کہا۔
’’وائو، آپ کی آواز تو بہت خوبصورت ہے، کہئے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں۔‘‘ اس نے خمار آلود لہجے میںکہا جو سیدھا اس کے دل میں اُتر گیا۔ پھر اس سے بات نہیںہوسکی اس نے فون بند کر دیا۔ ابھی اس کی سانسیں ہی درست نہیں ہو پائی تھیں کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ اسکرین پر فواد کے نمبر جگمگا رہے تھے۔اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کال رسیو کر لی۔
’’فون کیوں بند کر دیا آپ نے ؟‘‘ وہ خمار آلود پیار بھرا لہجہ جو من کی دنیا کو گدگدا رہاتھا۔
’’بس ایسے ہی۔‘‘ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ اس کا وہ سارا اعتماد کہیں غائب ہو گیا تھا۔
’’یہ تو کوئی ایسی بات نہ ہوئی، کہیے آپ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔‘‘ اس نے نشیلے لہجے میںکہا تو اس وقت تک اپنا اعتماد بحال کر چکی تھی۔ اس لیے بولی۔
’’آپ کی آواز بہت اچھی ہے اور آپ باتیںبھی بہت خوبصورت کرتے ہیں۔‘‘
اس پر فواد خان نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگایا اور بولا۔
’’یہ تو مجھے معلوم ہے، کوئی نئی بات ہو تو بتائیں۔‘‘
’’جی کوئی نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔
یہ تھی ابتدا،اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ کبھی یہ فون کر لیتی اور کبھی وہ۔ شروع شروع میں وہ کچھ جھجکتی تھی، اتنا کھل کر بات نہیںکرتی تھی،لیکن فواد خان کی حوصلہ افزائی سے، کچھ اپنے اوپر اعتماد نے اس کی جھجک ختم کر دی۔ وہ اس کے پروگرام سے لے کر اس کی باتوں پر تنقید کرنے لگی۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔
ہر نئی ایجاد بذات خود اچھی بری نہیںہوتی بلکہ اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔ سیل فون کی ایجاد کے ساتھ ہی ہر سیل فون رکھنے والے نے اسے اپنی سمجھ اور عقل کے مطابق استعمال کیا۔انہی دنوں اس پر انکشاف ہوا کہ سیل فون کی بھی اپنی دنیا ہے۔ہر روز کوئی نہ کوئی لڑکی ایک نئی کہانی سناتی تھی۔ کوئی کسی کے پیار پاگل میں ہو رہی تھی اور آہیں بھر بھر کے رات ہونے والی باتوںکے قصے سناتی۔کوئی کسی لڑکے کو بے وقوف بنا کر اسے کس طرح پاگل کررہی تھی یہ کہانی سناتی۔ کوئی یہ داستان کہتی کہ سچی محبت بھی کتنی ظالم ہوتی ہے۔ کسی نے ر ا بطے کے لیے اور کسی نے کھیل کے لیے اسے کھلونا سمجھ کر کھیلنا شروع کردیا۔ ایسی کھٹی میٹھی باتوں کا ایک الگ ہی چسکا تھا۔
کالج میں دوسری لڑکیوں کی طرح اس کا بھی اپنا ہی ایک گروپ تھا، جس میں وہ چھ لڑکیا ں تھیں۔ ان میںرابعہ بہت زیادہ چالاک تھی۔اس نے ایک شغل پکڑا ہوا تھا کہ وہ چند دن کسی لڑکے سے بات کرتی اور پھر اس سے فرمائشیں شروع کر دیتی۔ بات سیل فون کارڈ سے شروع ہوتی اور مہنگی چیزوں تک جاپہنچتی۔ جب تک وہ یہ فرمائشیں پوری کرتا وہ باتیں کرتی رہتی، جیسے ہی وہ فرمائش پوری نہ کر پاتا، یہ نگاہیںپھیر لیتی۔کوئی زیادہ ہی تنگ کرتا تو اپنے بھائیوں سے کہہ کر اس کی پٹائی کروا دیتی۔اور یہ کہانی وہ بڑے ذوق و شوق سے سناتی۔ایک عجیب ماحول تھا، جس کی کوئی سمجھ نہیںآ رہی تھی۔ ہر کوئی اپنی دنیا میںگم تھی۔ لیکن ایک بات طے تھی کہ ان میں شرارت کا عنصر زیادہ تھا، لڑکوں کو تنگ کرنا، انہیںبے وقوف بنانا اور پھر اگلے دن تبصرے کر کے خوش ہونا، یہ ان کا مشغلہ بن گیا تھا۔ایسے ہی ایک دن رابعہ نے اس سے کہا۔
’’یار ! ایک لڑکا بڑے دنوں سے تنگ کر رہاہے، اسے ٹھیک کرنا ہے؟‘‘
’’پہلے تو مجھے یہ بتا کہ تم اسے کب سے تنگ کر رہی ہے؟‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’او یار، وہ مجھ سے بھی کہیں گھاگ نکلا ہے، میں نے جب دیکھا کہ یہ میرے مطلب کا نہیں تو میں نے بات کرنا بند کر دی، اب وہ …‘‘
’’سم بدل لو، یا پیار سے سمجھا دو۔‘‘ اس نے اپنی رُو میںکہا تو وہ تیزی سے بولی
’’مجھے مت سمجھا ئو تم، میری امی بن کر۔‘‘رابعہ کے یوں کہنے پر وہ ایک دم سے ٹھٹک گئی۔رابعہ نے ایسے ہی نہیںکہا تھا۔ اسے نینا کی اس صلاحیت کا پتہ تھا۔ وہ اس طرح آواز بدل کے بات کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی کہ ایک آواز دوسری سے نہیںملتی تھی۔اس کی اس خوبی کے بارے میں سب کو پتہ تھا۔ کالج میںہونے والے ڈراموں میں وہ کئی کردار کر چکی تھی۔ ہر کردار کے ساتھ اس کی اپنی آواز ہوتی۔ وہ بہت اچھی پیروڈی کر لیتی تھی۔ اس کی گانے والی آواز بہت خوبصورت تھی۔ اسی وجہ سے ایک ٹیچر نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ ایسی آوازیںنہ نکالا کرے ورنہ اس کے گانے والی آواز خراب ہو جائے گی۔ رابعہ کے کہنے پر اس نے یہ تجربہ کرنے کی ٹھان لی۔ اس نے رابعہ کا سیل فون لیا اور اس لڑکے کو کال ملا لی۔ اس کے گروپ کی لڑکیاںبھی سامنے تھیں۔اس نے ایسی ایسی باتیں کیں کہ پھر دوبارہ اس لڑکے کی ہمت نہیں پڑی۔ رابعہ اور اس کی سہلیوں کو ایک نیا کھیل مل گیا۔
نینا کا فواد خان کے ساتھ رابطہ تھا۔ بات تکلفات سے بھی آ گے نکل چکی تھی۔ فواد خان کا یہ تقاضا تھا کہ وہ اس سے کہیںملے۔ وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ اسے ہر بار طرح دے جاتی تھی۔ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی۔ یہاں تک کہ معاملہ ناراضگی تک آ گیا۔ فواد خان اس سے ناراض ہو گیا۔ اس کے مان جانے کی یہی شرط تھی کہ وہ اس سے تنہائی میں ملے۔
انہیں دنوں ایف ایم ریڈیو والوں نے گانے کا ایک مقابلہ رکھ دیا۔ جس میںلڑکے اور لڑکیوں کی انٹری ہوئی اور الگ الگ دن ان کا مقابلہ ہونا تھا۔ نینا نے اپنی انٹری کسی دوسرے نام سے کروا دی۔ اصل میںوہ یہ چاہتی تھی کہ اس کے گھر والوں کو پتہ نہ چلے۔اس کا نام اگر ریڈیو پر گونج جاتا تو پورے علاقے میں دھوم مچ جاتی تھی۔ دوسرا فواد خان اُسے پہچان نہ لے، وہ اس کا سامنا نہیںکرنا چاہتی تھی لیکن اسے باور کرانا چاہتی تھی کہ وہ اسے دیکھ سکتی ہے لیکن وہ اسے خود کو نہیںدکھائے گی۔ اسے پتہ ہی تب چلے جب وہ ریڈیو سے آ جائے۔ مقابلے والے دن وہ وہاں جا پہنچی۔ اس نے حجاب لیا ہو اتھا۔ جس میں سے اس کی صرف آ نکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اسے خود نہیں پتہ تھا کہ وہاں پر موجود لوگوںمیںفواد خان کون ہے؟ دونوں میں یہی ایک آواز کا تعلق تھا۔
وہ ریڈیو کی عمارت میں اپنی سہلیوں کے ساتھ سہمی سہمی سی داخل ہو گئی۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اس نے اپنا اعتماد بحال کر لیا۔چند لڑکیاں تھیں جنہوں نے مقابلے میںحصہ لیا تھا۔ چو نکہ نتیجے کا اعلان بعد میںہونا تھا، اس لیے وہ اپنا گانا ریکارڈ کراتے ہی وہاں سے آ گئی۔
اسی شام جب وہ اپنی ٹیچر سمیرا کے گھر میں تھی۔ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ اجنبی نمبر دیکھ کر اس نے فون نہیںاٹھایا۔ کچھ دیر بعد پھر فون بجا تو اس نے کال رسیو کر لی۔اس کی ہیلو کے جواب میں ایک شائستہ مردانہ آواز ابھری۔
’’مس نینا، میرانام شعیب ہے۔ میں پہلی بار آپ سے مخاطب ہوں۔میںآپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’جی بولیں، آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ اس نے بھی انتہائی سائستگی سے جواب دیا
’’میں پہلے اپنا تعارف کرادوں، میں انجینئرنگ کا طالب علم ہوں۔ میرا یونیورسٹی میںآخری سال ہے۔ میں فواد خان کا دوست ہوں۔ اور …‘‘
فواد خان کا نام سن کر اسے کچھ اچھا نہیں لگا، اس لیے بات کاٹتے ہوئے بولی۔
’’آپ نے جو کہنا ہے پلیز وہ کہیں۔‘‘
’’جی، وہی کہہ رہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، پھر بولا۔
’’میں آج ریڈیو ہی تھا، جب آپ نے اپنا گانا ریکارڈ کروایا۔ میںآپ کو پہچان گیا تھا کہ آپ کون ہیں۔ اس لیے …‘‘
’’آپ نے کیسے پہچانا؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا تو شعیب نے کہا۔
’’آپ کی آواز سے، آپ نے مجھ سے باتیں بھی کیں۔ میں نے آپ کا گانا ریکارڈ کیا تھا۔‘‘
’’اوہ، تووہ آپ تھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے نینا کی آنکھوں کے سامنے ایک وجہیہ، اسمارٹ اور گہری آنکھوں والا نوجوان آگیا، جیسے دیکھتے ہی اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی۔ وہ اسے اتنا اچھا لگا تھا کہ سیدھا دل میںاتر گیا تھا۔شاید لاشعوری طور پر وہ اس کی وجہ سے بھاگ کر وہاں سے آئی تھی۔وہ جو اتنا اچھا لگ رہا تھا کہ سیدھا دل میں اترتا جارہا تھا۔
’’جی میں وہی تھا، یہاں میرا مقصد اپنے بارے میں کچھ کہنا نہیں، میں نے آپ کی بھلائی کے لیے کچھ کہنا چاہا تھا، اگر آپ مجھ پر یقین کریں تو…؟‘‘ اس نے اپنے تلے لفظوں میںاپنا مدعا کہہ دیا۔
’’میری بھلائی ؟ میںسمجھی نہیں؟‘‘ اس نے تیزی سے کہا تو وہ سکون سے بولا۔
’’دیکھیں، میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ فواد خان کی دوست ہیں۔میںنے کانفرنس کال میں آپ کو نجانے کتنی بار سنا ہے اور…‘‘
’’مطلب وہ میری باتیں کسی دوسرے کو بھی سناتا رہا ہے ؟‘‘ اس نے دکھ اور حیرت میںتیزی سے پوچھا تو اس نے بڑے سکون سے جواب دیا
’’کسی دوسرے کو نہیں، صرف مجھے، وہ میرا بہت اچھا دوست، لیکن کافی حد تک کمینہ بھی ہے، وہ ایسا کیوں ہے، اس کی اپنی منطق ہے۔‘‘
’’تو آپ میری بھلائی کیوں چاہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
’’بات دراصل یہ ہے کہ اگر آپ بھی عام لڑکیوں کی طرح ہوتیںتو شاید میں آپ کی بھلائی کے بارے میںسوچتا بھی نہ لیکن آپ حجاب میںتھیں، وہاں آکر آپ نے کوئی چھچھوری حرکت نہیںکی اور سب سے بڑی بات کہ آپ نے خود کو فواد خان سے چھپایا، اسی بات نے مجھے متاثر کیا۔‘‘ اس نے تفصیل سے کہا تو اس نے پوچھا۔
’’اچھا، آپ میری کیا بھلائی چاہتے ہیں؟‘‘
’’جیسے کہ میں نے کہا فواد خان میرا بہت اچھا دوست ہے لیکن ہے کمینہ، وہ لڑکیوں سے صرف اپنے ایک ہی مقصد کے لیے دوستی کرتا ہے اور وہ ہے ان کے جسم کا حصول، یہ مطلب نکل گیا تو وہ پہچانتا بھی نہیں۔ جب تک وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتا، وہ بہت سارے سبز باغ دکھاتا ہے، لچھے دار باتیں کرتا ہے اور وہ سب کچھ جو وہ کر سکتا ہے، جس سے لڑکی اس کے لیے پاگل ہو جائے۔ وہ تنہائی میںبلاتا ہے۔ آپ کو بھی یہ آفر کر چکاہے لیکن آپ نہیںگئیں، اس لیے وہ آپ سے ناراض بھی ہے۔سو میرا آپ سے صرف یہی کہنا ہے کہ آپ یہ سب چھوڑ کر اپنی پڑھائی پر توجہ دیں۔ آپ ایک اچھی لڑکی ہیں، خدا نخواستہ کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائیں۔‘‘
’’آپ نے بالکل درست کہا، میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں،لیکن آپ ایسا کیوں…‘‘ اس نے پوچھنا چاہا تو شعیب نے دُکھ اور اُکتائے ہوئے لہجے میں اس کی بات کاٹ کر کہا۔
’’مجھے یہی امید تھی کہ آپ کو ئی ایسا ہی شک بھرا فضول ساسوال کریںگی۔ میں نے آپ کو انفارم کر دیا۔ اب آپ جو چاہیں سو کریں۔ مجھے کوئی غرض نہیں۔ خدا حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ نینا دیر تک اس فون کے اثر میں رہی۔ ا س کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ خلوص ہے یا کوئی سازش ہے ؟
اس دن کے بعد شعیب کا فون تو نہیںآ یا لیکن وہ اس ٹرانس سے نہ نکل سکی۔ کیونکہ دو دن بعد ہی فواد خان کا فون آ گیا۔ اس نے بتایا کہ نینا کا گایا ہوا گانا پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس نے یہ نہیںپوچھا اور نہ کوئی بحث کی کہ تمہیںتو پتہ ہی نہیںتھا کہ میں وہاں گئی بھی تھی یا نہیں، میں نے تو فرضی نام سے انٹری کروائی تھی۔ تاہم فواد خان نے خود ہی بتا دیا کہ اس نے گانا سنا اور اس کی آواز پہچان گیا۔ وہی سوال اس کے ذہن میںگونجتا رہا کہ یہ خلوص تھا یا کہ سازش ؟ فواد خان کے لیے اس کا دل ہمک اٹھتا تھا۔ اس سے بات کرنے کو دل چاہتا۔اس نے چند دن بات نہیں کی تو پر سکون سی ہو گئی تھی۔ اب اس نے پھر بات کی تو دل مچلنے لگا تھا، مگر شعیب کی باتوں سے اٹھنے والا سوال اب اس کی راہ میںحائل تھا، وہ اسے روک لیتا تھا۔ ایک دن اس نے بیٹھ کر فیصلہ کر لیا کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس کی تان یہیں پر ٹوٹی کہ شعیب کی بات کو آ زمایا جائے۔ اگر فواد ویسا ہی ہوا، جیسا اس نے بتایا ہے تو پھر وہ پوری زندگی کے لیے فواد خان کو چھوڑ دے گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو فواد خان پر اس کا اعتماد بڑھ جائے گا۔ اب فواد خان کو آ زمایا کیسے جائے ؟ وہ اس پر سوچتی رہی۔ اچانک ایک دن اس کے دماغ میں آ ہی گیا کہ اسے کیاکرنا ہے۔
ان دنوں بازار سے نئی سم خرید لینا کوئی اتنا مشکل نہیں تھا۔اسے ایکٹو کرنے میںبھی اتنا مسئلہ نہیں تھا۔اس نے ایک نئی سم لے لی اور آواز بدل کر فواد خان کو فون کر دیا۔بنائی ہوئی آواز کچھ زیادہ ہی پر کشش ہو گئی تھی۔ وہی ہوا دونوں طرف سے بات آواز کی تعریف سے شروع ہوئی اور تقریباً دس دنوںمیںملاقات تک آ ن پہنچی۔ اتنا تو وہ پہلے ہی نینا سے کہتا رہتا تھا۔ آزمائش تو اب تھی۔ سو اس نے کھل کر پوچھ لیا۔
’’آپ مجھے تنہائی میں بلا رہے ہیں، ممکن ہے آپ میری تنہائی کا فائدہ اٹھائیں ؟‘‘
’’میں پکا تو نہیںکہہ سکتا اگر آپ چاہیں تو؟‘‘ اس نے شاطرانہ انداز میں کہہ دیا۔ یہیں سے ان کے تعلق نے نیا موڑ لے لیا۔ اس نے کہہ دیا کہ وہ آ رہی ہے۔ لیکن کہاں پر ؟ سارا پروگرام طے پا گیا لیکن یہ طے نہیںہوا۔ دو دن کے بعد کے وقت کا تعین ہو گیا۔
وہ پورے وقت پر وہاں جا پہنچی جہاں سے فواد نے اسے پک کرنا تھا۔ اگرچہ وہ دل ہی دل میںڈر رہی تھی لیکن اسے خود پر اعتماد تھا۔ دئیے گئے وقت پر وہ بائیک پر آ گیا۔وہ ایک نئے طرح کے برقعے میں تھی۔ اس نے نینا کو بائیک پر پیچھے بٹھایا اور چل دیا۔ وہ اسے ایک گھر میں لے گیا۔ جہاں سوائے ایک ملازم کے دوسرا کوئی نہیںتھا۔ وہ جا کر بیٹھی تو فواد خان نے اس سے دست درازی شروع کردی۔ وہ چاہتی بھی یہی تھی کہ وہ اُس پر کُھل جائے۔ زیادہ وقت نہیںگذرا تھا کہ فواد خان نے اس سے اپنی خواہش کے بارے میںکہہ دیا۔ تب اس نے اپنی اصل آواز چھپاتے ہوئے کہا۔
’’پتہ ہے میںکون ہوں، کیا وعدے کیے ہیںتم نے مجھ سے ؟‘‘اس پر فواد خان چونک گیا۔ کافی دیر تک وہ بول نہ سکا۔ پھر اس نے بھی ڈھیٹ بن کر کہا۔
’’دیکھو، تم کوئی ستی ساوتری تو ہو نہیں، جو لڑکی ایک انجان لڑکے سے بات کرتی ہے تووہ کس لیے ؟ اس کا بھی تو یہی مقصد ہوتا ہے نا، میں نے بھی تم پر اسی لیے محنت کی۔ تم قابو نہیں آئی توکوئی بات نہیں تیرے جیسی کئی اور ہیں جو لائین میں لگی ہوئی ہیں۔‘‘
’’یہ جو تم لوگ لڑکیوں کو محبت کے جھوٹے جال میں پھنساتے ہو، کیا یہ …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو وہ ڈھٹائی سے بولا۔
’’تو وہ نہ پھنسیں، میں کسی کو فو ن نہیں کرتا، خود کرتی ہیں، تم نے بھی تو خود فون کیا تھا، یاد ہے ؟‘‘
’’یہ انتہائی …‘‘ اس نے غصے میںگالی دینا چاہی تو فواد نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے کہا۔
’’اے سُن! جو میںچاہتا ہوں، اس پر راضی ہو تو رُکو، ورنہ میرا وقت خراب نہ کرو، نکلو یہاں سے، فوراً۔‘‘
’’وہ تو میںجا ہی رہی ہوں، لیکن تم بہت پچھتائو گے۔ میں تمہیںچھوڑوں گی نہیں۔‘‘ اس نے اٹھتے ہوئے کہا تو فواد خان ہنستے ہوئے بولا۔
’’ایسا بہت کہتی ہیں، جائو، نکلو یہاں سے کسی دوسری کو آ نے دو، سارا موڈ خراب کردیا۔‘‘ اس نے کہا اور بے نیازی سے صوفے پر جا بیٹھا۔ پھر اپنا فون نکال کر کسی لڑکی سے بات کرنے لگا۔ جیسے وہ اسے جتانا چاہتا ہو کہ اسے کوئی پروا نہیں ہے۔ نینا کو غصہ تو بہت آ رہا تھا لیکن وہ پی گئی۔ اسے شعیب کی بات سچ ماننا ہی پڑی۔ سو وہ خاموشی سے نکلی اور واپس کالج آ گئی۔ یہ اس کی زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ تھا۔ جسے وہ چاہتی بھی تو بھلا نہیں سکتی تھی۔
اس سارے واقعے میں نینا کو فائدہ یہ حاصل تھا کہ اس کی اصل شناخت کے بارے میںفواد خان کو بھی معلوم نہیںہوا۔ وہ جس فرضی نام سے اس کے ساتھ ملی تھی، فواد کو وہی معلوم تھا۔ وہ کبھی بھی نینا سے یہ نہیںکہہ سکتا تھا کہ وہ اس سے ملی ہے اور وہ اس کے ساتھ کس حد تک جا چکا ہے۔ اس کے گمان میںبھی نہیںتھا کہ نینا اس سے مل چکی ہے۔یہ سوچ اسے ایک نئی راہ دکھانے لگی تھی۔ اس نے فواد خان کو سبق سکھانے کا سوچا،لیکن پھر رُک گئی۔ لیکن اس کے اندر بیٹھی ہوئی ضدی لڑکی مسلسل اسے اُکسا رہی تھی کہ فواد خان کے ساتھ ایک بار ایسا ہونا چا ہئے کہ پتہ چل جائے کہ لڑکیاں یوں فالتو چیزیں نہیں ہو تیں کہ انہیں استعمال کیا اور پھینک دیا۔ اگر وہ انتقام لینے پر آ ئیں تو بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ اسے سمجھ نہیںآ رہی تھی کہ کرے کیا؟
ایک دن اچانک اس کے ذہن میں خیال آ گیا۔ اس نے وہ سم ایک جانب ڈال دی ہوئی تھی، جس سے وہ فواد خان سے باتیں کرتی تھی۔ اس نے چند دن بعد ہی اسے کال کی اور انتہائی جذباتی ہو جانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔
’’میںخود کشی کر رہی ہوں۔‘‘
’’شوق سے کرو، لیکن مجھے کیوں فون کیا، کیا خود کشی کرنے کا آسان طریقہ پوچھنا ہے۔‘‘ اس نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر انتہائی طنزیہ انداز میں کہا۔
’’نہیں، میں نے اس لیے کیا ہے کہ میں نے ایک طویل خط لکھ دیا ہے کہ جس میںلکھا ہے کہ میں نے خود کشی کیوں کی۔ میری خود کشی کی وجہ تم ہو۔‘‘ اس نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا۔
’’میں کیوں؟‘‘ اس نے تیزی سے پوچھا۔
’’تم نے میری محبت کا مذاق اڑایا، میںنے اپنی ملاقات کا وہ سارا واقعہ لکھ دیا ہے۔ میںنے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری باتیں ہوتی تھیں فون پر اور تم لڑکیوں کو کس طرح پھانستے ہو۔ سب لکھ دیا۔ میں آ ج رات خود کشی کر لوں گی۔ صبح وہ خط منظر عام پر آ جائے گا۔ ہمیشہ کے لیے خدا حافظ۔‘‘ اس نے کہا اور فون سے سم نکال کر محفوظ کر دی۔ ایک طرح سے اس نے اس فرضی نام کو مار دیا تھا۔ وہی سم واپس لگا لی، جو وہ معمول کے مطابق چلا رہی تھی۔
زیادہ وقت نہیںگزرا تھا کہ اس کے فون پر شعیب کی کال آ گئی۔ اس نے انتہائی معصوم بن کر بات کی۔ شعیب نے تھوڑ ی ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد جھجکتے ہوئے نرم لہجے میںکہا۔
’’مجھے تم سے ایک بہت ضروری کام ہے، اگر تم کر سکو، میں تمہارا بہت احسان مندہوں گا۔‘‘
’’بولو، میں اگر کر سکی تو۔‘‘ اس نے کہا۔
’’بات دراصل یہ ہے کہ تم جانتی ہو، فواد خان ایک کمینہ قسم کا بندہ ہے۔ ایک لڑکی جو تمہارے کالج میںپڑھتی ہے۔ اس کا نام …‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے وہ ساری روداد سنا دی، جس کے با ر ے میں وہ خود واقف تھی۔ تفصیل سنانے کے بعد بولا۔
’’تم چاہو تو دونوں کو بچا سکتی ہو،پلیز انہیں بچا لو، یہ تمہارا مجھ پر …‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن فواد خان ایک غلط آ دمی ہے، تم اس کی مدد کیوں کر رہے ہو، اسے سزا تو ملنی چاہئے۔ اس نے غلط کام کیا ہے۔‘‘ اس نے دلیل دیتے ہوئے کہا تو شعیب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’چاہے وہ کمینہ ہے لیکن ہے تو دوست۔ ایک بار تو اسے بچانا ہے نا، پھر دیکھتے ہیں۔‘‘
’’اوکے، میں کوشش کر تی ہوں۔ میںجانتی ہوں وہ کون ہے۔‘‘ اس نے ایک دم سے شعیب کا مان رکھتے ہوئے کہا
’’کل تک کا وقت نہیںہے، تم جیسے بھی ہو آ ج ہی نکلو، اسے کسی طرح منائو پلیز۔‘‘اس نے منّت بھرے لہجے میںکہا۔
’’ٹھیک ہے میں ابھی جاتی ہوں، اس سے بات کرتی ہوں، اسے منانے کی پوری کوشش کروں گی۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔
دو گھنٹے گذر گئے۔ اس نے ایک خط نما تحریر لکھ لی۔ تبھی اس نے شعیب کو فون کیا۔ وہ اسی کے انتظار میںتھا۔ اس نے کہا۔
’’یہ میرے سامنے بیٹھی ہے۔میں اسی کے گھر میں ہوں اور اسے منایا ہے۔ منایا کیا،اسے سمجھایا ہے۔ وہ کافی حدتک مان گئی ہے۔ اس کا خط میرے پاس ہے۔ لو اس سے بات کرو، تم بھی اسے سمجھائو۔‘‘ یہ کہہ کر ایک نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، پھر اسی فرضی آواز میں روتے ہوئے بولی۔ ’’جی بولیں۔‘‘
’’دیکھیں، اس نے جو بھی کیا، غلط کیا میںمانتا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تم خود بھی بدنام ہو، اپنے والدین کو بھی رسوا کرو اور اس نے تو پھنس ہی جانا ہے۔ زندگی اس طرح نہیںگنواتے میں …‘‘
’’آپ جو بھی کہیں، وہ سب ٹھیک ہے،لیکن اسے سزا تو ملنی چاہئے نا؟‘‘ اس نے روتی ہوئی آواز میںکہا تو وہ فوراً بولا
’’بالکل ! ملنی چاہئے، لیکن اتنی بھیانک صورت میں نہیں۔ ہم کچھ دوسرا سوچ سکتے ہیں۔‘‘
’’تو پھر، اس کی آواز ریڈیو پر نہیںگونجنی چاہئے۔ میں اس کی آواز نہ سنوں۔ وہ کسی دوسری لڑکی کو اپنے جال میںنہ پھنسا ئے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، اب وہ کبھی ریڈیو پر نہیںبولے گا۔‘‘ شعیب نے ایک دم سے اس کی بات مان لی
’’یہ مت سمجھنا کہ آپ نے کہہ دیا اور میں نے مان لی، جس دن میںنے اس کی آواز سنی، اسے وہیں جا کر گولی مار دوں گی۔ جو اپنی زندگی ختم کر سکتی ہے، وہ اسے بھی مار سکتی ہے۔ وہ کسی لڑکی کو خراب کرنے کے لیے زندہ نہیں رہے گا، یہ میری وارننگ ہے۔‘‘
’’اب اس کی آواز کم از کم آپ کو کبھی سنائی نہیں دے گی نہ ریڈیو پر اور نہ سیل فون پر، یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔‘‘ اس نے کہا تووہ بولی۔
’’ٹھیک ہے، میں یہ خط نینا کو دے رہی ہوں، وہی اسے جلا دے گی۔ خدا حافظ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چند ثانیے رُکی اور بھر اپنی اصل آواز میںبولی۔ ’’میں نے خط لے لیا ہے شعیب، اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، وہ ایسا ویساکچھ نہیں کرے گی۔ میںاب گھر جا رہی ہوں۔ چاہو تو راستے میں مجھ سے خط لے سکتے ہو۔اس نے یہ مجھے دے دیا ہے۔‘‘
’’نہیں، تم اسے ضائع کردو۔ ابھی تم گھر پہنچو پھر بات کرتے ہیں۔‘‘ اس نے تیزی سے کہا اور فون بند کر دیا۔وہ بہت دیر تک ہنستی رہی۔ وہ خود پر حیران ہوتی رہی تھی کہ شعیب بھی اس کی آواز نہیںپہچان پایا تھا۔ وہ بہت مسرور ہوئی کہ اس نے ایک بہت اچھا کام کردیا، جو اس کی صلاحیت کی وجہ سے ممکن ہو گیا۔ اس دن اسے پتہ چلا یہ صلاحیت اس میںہے۔
اس دن کے بعد فود خان کی آواز ریڈیو پر سنائی نہ دی۔ دن گذرتے گئے۔ لڑکیوں میں وہ نام ایک قصہ پارینہ بن گیا۔ اب وہی لوگ زیر بحث آ نے لگے جو سنائی دیتے تھے۔وہ اپنے کام میںلگ گئی۔ کالج سے آنے کے بعد وہ میڈم سمیرا کے گھر چلی جاتی،جہاں پڑھنے والی لڑکیاں آئی ہوئی ہوتیں۔ وہ انہیںپڑھاتی، شام ہونے سے قبل وہ اسٹاپ پر آ جاتی اور وہیں سے اپنے گھر چلی جاتی۔ دن اسی طرح گذرتے چلے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ بی اے کے فائنل امتحان کا وقت آ گیا۔ امتحان اس نے میڈم سمیرا کے گھررہ کر دئیے۔
ان دنوں اس کی میڈم کی بیٹی سائرہ سے بہت زیادہ دوستی ہوگئی۔ ایک ہی چھت تلے رہنا، اورہر وقت کا ساتھ ہونے کہ وجہ تو تھی ہی، دوسرا سائرہ کی کوئی بہن نہیںتھی۔ اس لیے نینا میں اس کا پیار کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ بھی اپنی ماں کی طرح لیکچرار بنے لیکن یونیورسٹی کی۔ اسے یونیورسٹی میںپڑھنے اور پڑھانے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر خواب دیکھا کرتی تھی اور یہ خواب پورا ہونے میں کچھ ہی ماہ باقی تھے، امتحانوں کے بعد رزلٹ آ نے تک ہی تو انتظار کرنا تھا۔ میڈم سمیرا نے نینا سے کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ پڑھنے چلی جائے، سارا خرچ وہ برداشت کر لے گی۔ سائرہ اس پرنہ صرف راضی تھی بلکہ بہت خوش کہ اس کا ساتھ مل جائے گا۔ اسے وہاں اکیلا نہیںرہنا پڑے گا۔ لیکن نینا نے مزید بوجھ بننا گوارا نہیںکیا۔ اس لیے انکار کر دیا۔ اس نے سوچ لیاتھا کہ وہ پرائیوٹ طور پر ایم اے کا امتحان پاس کر لے گی۔ وہاں رہنے کا یہ فائدہ ہوا کہ ایک تو اسے وقتی طور پر اتنی رقم مل جاتی تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے، دوسرا، سائرہ کو انگریزی ناول اور کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا، وہ نہ صرف وہاں پڑھتی رہی بلکہ سائرہ کے ساتھ اس کی باتیںبھی چلتی رہتی۔ تیسرا یہ دن بہت اچھے گذرے تھے، جنہیں وہ یاد کر سکتی تھی۔
امتحان ختم ہوگئے اور وہ واپس اپنے گائوں آ گئی۔ وہ کالج کے دنوں کو بڑا یاد کیا کرتی تھی۔ گھر میں وہی افراتفری رہتی تھی کہ برتن دھو لو، جھاڑو دے دو۔ اسے اپنے گائوں گئے زیادہ دن نہیںہوئے تھے کہ انہی کے گائوں کے پاس ایک پرائیویٹ اسکول کھل گیا۔ انہوں نے بطور ٹیچر اسے آفر کی۔ نینا نے یہ سوچا کہ گھر میں فارغ بیٹھنے سے اچھا ہے کہ وہ اسکول میں پڑھا لیا کرے اور اس سے آمدنی ہو جائے۔ اس نے اسکول جوائن کر لیا۔ اسکول چونکہ نیا تھا، اس لیے وہاں تعداد اتنی زیادہ نہیںتھی، اس لیے وہاں ٹیچرز پڑھاتی کم اور گپیں زیادہ لگاتی تھیں۔ جس طرح علاقے میںاسکول بننے کی شہرت ہوئی، اسی طرح وہاں پر موجود ٹیچرز کا حوالہ بھی زبان ِ زد عام ہو گیا۔ ہر کسی کو معلوم تھا کہ وہاں کون پڑھارہا ہے۔ کون سی ٹیچر کیسی ہے۔
نینا کے حسن کا شہرہ تو پہلے ہی تھا۔ اس پر جن نوجوانوں کے من میں اس کے’’عشق‘‘ کی دبی ہوئی چنگاری پھر سے دھواں دینے لگی۔ نینا گھر کے قریب ہی ایک اسٹاپ سے ایک وین میں سوار ہوتی اور دوسرے گائوں اسکول چلی جاتی تھی۔لڑکوں کا یہ تماشا وہ اس وقت سے دیکھتی آ ئی تھی، جب سے وہ شہر کالج پڑھنے جایا کرتی تھی۔اس دوران اس کا رابطہ شعیب سے رہا۔ وہ کبھی کبھار فون کر لیا کرتا تھا۔ دھیرے دھیرے بات بڑھتی گئی۔ ان کا رابطہ فون پر تو رہا، لیکن وہ کبھی ملے نہیں۔ نینا کے ذہن میں شعیب وہی تھا جو ایف ایم ریڈیو میں ریکارڈنگ کر رہا تھا۔ وہی تصویر اس کے حافظے پر نقش تھی۔ ان کے درمیان تعلق کچھ اتنا گہرا ہو گیا کہ اس نے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ اس نے یہ بات قطعاً نہیں بتائی کہ وہ فرضی طور پر فواد خان کو کیا جھٹکا دے چکی ہے۔ انہی دنوں شعیب نے اپنے بارے میںاسے تفصیل سے بتایا۔ وہ شہر کے ایک امیر ترین بزنس مین کا بیٹا تھا۔ وہ ایک بڑے بھائی اور دو بہنوں کے بعد تھا۔ بڑا بھائی اپنے باپ کے ساتھ بزنس میںتھا، بہنیں امریکا بیاہ دی گئی تھیں، وہ انجینئر بننے کے بعد مزید تعلیم کے لیے امریکا چلا جائے گا۔ شعیب نے اسے آفر دی کہ وہ یہ سب چھوڑ دے اور سی ایس ایس کی تیاری کرے۔ اس پر جتنا بھی خرچ آ ئے گا وہ اسے مالی طور پر سپورٹ کرے گا۔ لیکن نینا کو اپنے بارے میںزیادہ بہتر پتہ تھا۔ اس لیے وہ خاموش رہی۔ اس نے کوئی جواب نہیںدیا۔ مگر اس کا اصرار رہا کہ جو وہ کہہ رہا ہے وہ کرے۔ ایک دن جب وہ شہر گئی تو شعیب سے ملی۔ یہ اس کی دوسری ملاقات تھی۔ وہ حجاب میں رہی۔ شعیب نے تب بھی اُسے نہیںدیکھا تھا۔ لیکن اس کے لیے بہت ساری چیزیں، کپڑے، اور کتابیں لے کر آ یا تھا۔ یہ ساری وہ کتابیں تھیں جو سی ایس ایس میں اسے مدد دے سکتی تھیں۔اس نے وہ ساری چیزیں ایک دوست کی حیثیت سے قبول کرلیں۔ یوں دن گذرتے گئے۔ ان کے درمیان ایک انجانا سا تعلق رہا پھر ایک دن شعیب بھی باہر چلا گیا۔ وہ ایسا گیا کہ پھر اس کی خبر نہ ملی۔ پہلے پہل ایک دو بار فون آیا، اس کے بعد وہ جیسے گم ہی ہو گیا۔پھر یوں غائب ہوگیا، جیسے وہ اس سے کبھی ملا ہی نہیںتھا۔
نینا اسی اسکول میںپڑھاتی رہی۔ان دنوں اس کا بی اے کا رزلٹ آ نے والا تھا۔وہ یونیورسٹی جانے کے سہانے خواب دیکھ رہی تھی کہ انہی دنوں ساتھ ہی کے گائوں کا چوہدری پرویز اس کے بارے میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لینے لگا۔ جس وقت و ہ اسکول جاتی، وہ اس کے اسٹاپ پر اپنی بائیک لیے کھڑا ہوتا۔ وہ اس وقت تک کھڑا رہتا، جب تک وہ وین میں نہ بیٹھ جاتی۔ پھر وہ وہاں دکھائی دیتا، جہاں اس نے وین سے اترنا ہوتا تھا۔ ایک ادائے خاص سے اس کی طرف دیکھتا اور آنکھوں ہی آنکھوں میںنجانے کتنے پیغام دے کر وہاں سے غائب ہو جاتا۔ پہلے پہل نینا نے اسے اتنا محسوس نہیںکیا۔ اس نے یہی سمجھا کہ وہ بھی چند دن اسی طرح کوشش کرنے کے بعد خود ہی دفعان ہو جائے گا لیکن اس کا یہ اندازہ غلط ثابت ہو ا۔ وہ جان چھوڑنے والا نہیںتھا۔ اس کی خاموشی نے اسے مزید شہہ دی۔ وہ اسے فون کرنے لگا۔ نینا نے اسے بڑے پیار سے فون پر سمجھایا کہ وہ باز آ جائے۔ اس کا کچھ نہیںجانا، کسی بھی لڑکی کی عزت ایک پانی کے بلبلے کی مانند ہوتی ہے۔ذرا سی ٹھیس لگتی ہے توپھر لڑکی کہیںکی نہیںرہتی۔ مگر وہ باز نہیںآیا۔ وہ اس کے لیے دن بدن مسئلہ بنتا چلا جا رہا تھا۔ پھر ایک دن اس نے سوچ لیا کہ وہ اس کے بارے میںسوچنا ہی چھوڑ دے۔ کب تک وہ راہوں میںکھڑا رہے گا ؟ دراصل چوہدری پرویز کوئی اتنا بڑا جاگیر دار نہیںتھا اور نہ بڑا زمیندار تھا۔ یہ بھی نہیںتھا کہ اس کا شمار چھوٹے زمینداروں میںہوتا تھا۔ ایسے کئی خاندان تھے لیکن لوگ اُن سے اس لیے خوف زدہ رہتے تھے کہ وہ بدقماش اور بد معاش تھے۔ جرائم پیشہ ہونے کی وجہ سے لوگ ان سے کنی کترا تے تھے۔ ان کا تعلق کیسے لوگوں سے تھا، یہ ایک کھلا راز تھا، اسی بل بوتے پر وہ سیاست کے میدان میں بھی تھے۔ یہ صرف اسی وجہ سے تھاکہ ان کے جرم چھپ جائیں اور جو کچھ کرتے پھریں انہیںکوئی نہ پوچھے۔
زیادہ دن نہیںگزرے تھے کہ وہی ہوگیا جس سے وہ خود خوف زدہ تھی۔ وہ چند لڑکیوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اسٹاپ پر کھڑی تھی۔ وین آ نے والی تھی۔ وہ سڑک کی دوسری جانب کھڑا تھا۔ اچانک وہ بائیک پر اس کے پاس آ کر بڑے دھڑلے سے بولا۔
’’آئو بیٹھو، تمہیںاسکول چھوڑ دوں۔‘‘
اس نے کوئی جواب نہیںدیا۔ تقریباً سبھی لوگوں نے اس کی نہ صرف یہ حرکت دیکھی بلکہ اس کی یہ آفر بھی سنی۔ وہ خاموش رہی تو اس نے دوبارہ کہا تب نینا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’جائو چلے جائو اور دوبارہ میری راہ میںنہ آ نا، ورنہ بہت پچھتائو گے۔‘‘
یہ سن کر وہ ہلکا سا مسکرایا اور پھر خوشگوار لہجے میںبولا
’’اوئے خیر ! حضور بولے تو، میرے ساتھ بیٹھو، راستے میںسمجھاتا ہوں۔‘‘
’’چلے جائو یہاں سے، میرے منہ مت لگو،ہر بندے کی عزت اپنے ہاتھ میںہوتی ہے۔‘‘ اس نے غصے میں کہا لیکن اس کی آواز دبی ہوئی تھی۔
’’شکر کر تو مجھے پسند آ گئی ہے۔تیری تو قسمت کھل جائے گی۔ ایک بار اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے کر دیکھ، رانی بنا کر رکھوں گا۔‘‘ اس نے ہلکا سا قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو نینا کا غصہ قابو سے باہر ہونے لگا۔ اس لیے دانت پیستے ہوئے بولی۔
’’چلا جا کُتّے، ورنہ سر پھاڑ دوں گی۔‘‘
’’اے ! زبان سنبھال کے بات کر، ورنہ ادھر ہی چیر کر رکھ دوں گا، اپنی اوقات دیکھ پہلے۔‘‘ اس نے غصے میںبھنّا کر کہا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ وہ آ گے بڑھی اور اس نے پوری قوت سے اپنا دایاں ہاتھ اٹھایا اور چوہدری پرویز کی گال پر دے مارا۔ چٹاخ کی آواز نے وہاں پر موجود ہر شخص کو ان کی جانب متوجہ کر دیا۔ اس کے گمان میں بھی نہیںتھا کہ وہ ایسا کر گزرے گی۔ اس نے انتہائی حیرت سے نینا کو دیکھا۔ تب تک وہاں ایک شور مچ گیا۔ وہ غصے میں آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑنا چاہتی تھی کہ چوہدری پرویز کو جیسے ہوش آ گیا۔وہ بر وقت سنبھل گیا اس لیے مزید کچھ کہے بنا اس نے اپنی بائیک کو گیئر لگایا اور وہاں سے رفو چکر ہو گیا۔ کئی سارے لوگ تو ویسے ہی اِدھر اُدھر ہو گئے۔ وہ اس پھڈّے میںپڑنا ہی نہیںچاہتے تھے۔کہیں یہ نہ ہو کہ انہیںگواہی ہی دینا پر جائے۔کئی تماشا دیکھنے کو وہیں کھڑے رہے۔ اس نے کسی کی طرف توجہ نہیں دی اور اپنے اسکول چلی گئی۔
شام ہونے کو آ گئی۔ چوہدری پرویز کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیںآیا۔ یہ خاموشی بہت خوفناک تھی۔ چوہدری پرویز کے حامیوں کو دکھ ہوا یا نہیں یہ الگ بات تھی مگر ان کے دشمنوں کویہ بات مل گئی اور انہوںنے پورے علاقے میںیہ بات پھیلا دی۔ سیل فون ایک ایسی ایجاد تھی جس نے یہ خبر دُور دُور تک پھیلا دی۔ اس کے بھائی بھی یہ بات سن چکے تھے۔ انہوںنے گھر میںکوئی تبصرہ نہیںکیا اور خاموش رہے۔ گھرکی فضا یوں ہو گئی جیسے اس میںخوف گُھل گیاہو۔ وہ ساری رات نہ سو سکی۔ہر وقت دھڑکا لگا رہا کہ اب کچھ ہوا کہ اب کچھ ہوا۔
صبح وہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو گئی۔ اس کی ماں نے دبے لفظوں میںکہا ابھی مت جائو، کہیںکوئی ایسی ویسی بات نہ ہوجائے۔ اس نے یہی جواب دیا کہ ماں اگر میںآج ڈر گئی تو پوری زندگی ڈرتی رہوں گی۔ اس نے ماںکی بات نہ مانی اور گھر سے چل پڑی
وہ اسٹاپ پر آ کر رکی اور وین کا انتظار کرنے لگی۔کچھ دیر بعد وین آ گئی۔ وہ روزانہ کی طرح اپنے دھیان وین میں سوار ہو گئی۔ ابھی وہ بیٹھنے بھی نہ پائی تھی کہ وین چل پڑی۔مگر وہ دیکھ اور سمجھ چکی تھی کہ دھوکا ہو گیا۔ اس وین میں چوہدری پرویز کے ساتھ چند غنڈے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے علاوہ کوئی ایسا مسافر نہیںتھا جو روزانہ آ نے جانے والا ہو۔ وہ بیٹھی نہیں بلکہ پلٹ کر دروازے کی جانب لپکی۔ اس نے دروازہ کھولنا چاہا تو وہاں بیٹھے لوگوں میںافراتفری مچ گئی۔ پکڑوپکڑو کی آوازیں آنے لگیں۔ تبھی اس نے ڈرائیور سے کہا۔
’’ویگن روک دو، ورنہ میںچلتی ویگن سے چھلانگ مار دوں گی۔‘‘
’’چل چل تو بھگا، یہ تو اب ڈیرے پر ہی جا کر رُکے گی، وہیں تیری اکڑ نکالتے ہیں یہ سب۔‘‘ چوہدر ی نے ایک ہی وقت میںدونوں سے کہا مگر نینا نے اس کی بات نہیںسنی اس نے چیخ کر ڈرائیور سے کہا کہ روک دو اور دروازے کی جانب بڑھی۔ اسی وقت دو غنڈوں نے اٹھ کر اسے قابو میںکرنا چاہا تب تک وہ وین کا دروازہ کھول چکی تھی۔ڈرائیور سمجھ دار بندہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسی رفتار میںاگر اس لڑکی نے چھلانگ لگا دی تو قتل اس کے ذمے پڑ سکتا ہے۔ اس نے ایک دم سے بریک لگا دئیے۔ وہ اپنے پائوں پر جمی نہ رہ سکی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا، رفتار کم تھی اس نے چھلانگ لگا دی۔ وہ پکی سڑک کے کنارے کچی جگہ پر گری اور وہاں سے لڑھکتی ہوئی جھاڑیوں میںجا پڑی۔ اس کے سر اور بازو میںسخت چوٹیں آئیں تھیں۔ وہ گرنے کے چند لمحے بعد بے ہوش ہو گئی تھی۔
اسے جب ہوش آیا تو وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی ایک کار میںتھی۔کچھ دیر تک اسے سمجھ میں نہیں آیا، پھر اسے ہوش نہ آیا۔ سڑک پر سے گزرنے والی کار کو لوگوں نے روکا تھا۔ اور اس میں اسپتال کی جانب چل پڑے تھے۔ وہ اسپتال جا پہنچے۔ تو کار والا انہیں چھوڑ کر جا چکا تھا۔ جب نینا کے حواس بحال ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کا چہرہ دیکھا۔ تب اس نے آ نکھیں موند لیں۔ وہ چا رپانچ گھنٹے تک اسپتال میں رہی۔ مختلف چیک اپ کے بعد اسے اسپتال سے جانے کی اجازت مل گئی۔ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ گائوں جانے کے لیے اسپتال سے نکلی ہی تھی کہ پولیس کے چند لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ ان کے ساتھ ایک لیڈی کانسٹیبل بھی تھی۔ وہ انہیں تھانے لے جانا چاہتے تھے۔
’’ہمارا قصور کیاہے بھائی ؟‘‘ اس کے ایک بھائی نے پوچھا تو پولیس والے نے کہا۔
’’یہ تو تھانے جانے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ آرام سے چلو تو ٹھیک ورنہ …‘‘
وہ ان کے ساتھ تھانے چلے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ڈرائیور کی طرف سے درخواست دی گئی ہے کہ لڑکی نے اس کے سر پر ضرب لگائی اور اس کا پرس چھین کر بھاگی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ وین سے گری۔ اس پر ڈکیتی اور راہزنی کا الزام تھا۔ وہ حیران رہ گئی۔
’’ظلم تو ہمارے ساتھ ہوا ہے، ہم اپنی بدنامی کے خوف سے تھانے نہیںآئے الٹا انہوں نے ہم پر یہ الزام لگا دیا ؟‘‘ اس کے بھائی نے واویلا کیاتو منشی نے اسے ڈانٹ دیا
’’اوئے چپ کر، ظلم ہوا، بہن کو ڈکیتی پر لگایا ہوا ہے اور تھانے میںمظلوم بنتا ہے۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو منشی جی، ہم جھوٹ نہیں کہہ رہے ہیں، ہم سچ…‘‘ اس کے چھوٹے بھائی نے کہا تو منشی نے انتہائی حقارت سے کہا۔
’’اوئے بھونک نہ مار، دفعہ ہو جا، یہ رونا صاحب کے آ گے رونا، جائو ادھر جا کر بیٹھ جائو۔‘‘
وہ دونوں کسی ملزم کی طرح ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے، نینا ایک دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔ چند منٹ بعد اس کے بڑے بھائی نے کہا۔
’’میںکچھ کرتا ہوں، کسی بندے کی منّت کرتا ہوںجا کر، میںجلدی آ جائوں گا، تم لوگ فکر مت کرنا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور تھانے سے باہر چلا گیا۔ ہر آنے جانے والا انہیں دیکھ رہا تھا۔ کسی کی نگاہ میںکیا تھا اور کوئی کیسے دیکھ رہا تھا۔ دوسرا برداشت نہ کر سکا۔ وہ بھی کچھ دیر نینا کے پاس بیٹھا اور پھر اٹھ گیا۔ وہ اکیلی وہاں بیٹھی رہ گئی۔اسے یہی سوچ کر غصہ آ رہاتھا کہ اس نے کوئی جرم نہیںکیا بلکہ اپنے کو بچایا ہے، وہ کام کیا جو پولیس کو کرنا چاہئے تھا،لیکن انہیںہی مجرم بنا کر تھانے میں رکھا ہوا ہے۔ کیا ایسا صرف اسی لیے ہے کہ وہ غریب ہیں اور ایک دولت مند کی بات اس نے نہیںمانی۔ کیا انصاف کا معیار صرف دولت ہے ؟ کیا غریب یہاں جھوٹا ہے ؟ وہ چاہئے مظلوم بھی ہو ؟ کیا طاقتور کی حکومت ہے ؟ کیاوہ سب لوگ بکواس کہتے ہیں کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں سب کے حقوق برابر ہیں ؟ کیا عام آدمی کو جینے کا کوئی حق نہیں ؟ وہ یہی سوچتی چلی جارہی تھی اور اسے لگ رہاتھا کہ اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔وہ لڑکی جس نے کبھی تھانہ نہیںدیکھا تھا، وہاں جانے کے بارے میںسوچا تک نہیںتھا، وہ ایک ملزم کی حیثیت سے وہاں زمین پر بیٹھی ہوئی ہے۔ صبح سے سہ پہر کا وقت ہو گیا تھا۔ اس کا بھائی نہیںلوٹا تھا۔ وہ نجانے کن خیالوں میں گم تھی کہ ایک لیڈی کانسٹیبل اس کے پاس آ گئی۔ اس کے ہاتھ میںپانی کا گلاس تھا۔
’’لو یہ پی لو۔‘‘
اس نے سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا، اس کے حلق میںکانٹے چبھنے لگے تھے۔ وہ چند لمحے ہونقوں کی طرح دیکھتی رہی پھرگلاس لیا اور ایک ہی سانس میں پانی پی گئی۔
’’کوئی نہیں آیا تیرے پیچھے ؟‘‘
’’کون آ ئے گا، دو بھائی تھے، وہ بھی بے چارے باہر چلے گئے ہیں۔‘‘ اس نے دکھ سے کہا۔
’’میں یہ نہیںپوچھتی کہ تم نے کوئی جرم کیا ہے یا نہیں، لیکن ایک بات پر مجھے حیرت ہو رہی ہے وہ پوچھنا چاہتی ہوں۔‘‘ لیڈی کانسٹیبل نے پوچھا۔
’’پوچھو۔‘‘ اس نے فرش پر نگاہیںگاڑے کہا تو لیڈی کانسٹیبل نے پوچھا۔
’’تیرے جیسی لڑکیاں یہاں آئیں تو چاہے جھوٹ چاہے سچ میں، روتی ضرور ہیںمگر تمہاری آ نکھ سے ایک بھی آ نسو نہیںنکلا، یہ کیا بات ہوئی بھلا؟‘‘
’’تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟‘‘ اس نے ایک دم لیڈی کانسٹیبل کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’پتہ نہیںکیوں روئی، میںنہیں جانتی۔‘‘وہ بولی
’’لیکن میں سمجھتی ہوں۔ مجھے بیس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اس محکمے میں، تم مجھے کچھ الگ سی لگی ہو۔ میں نے تم سا کوئی دوسرا دیکھا نہیں کہ اس پر وار ہو اور وہ نہ روئے، ایسا بس وہی کرتا ہے جو درندہ ہو۔‘‘
’’میں سمجھی نہیں؟‘‘ نینا نے تیزی سے سر اٹھا کر کہا تو لیڈی کانسٹیبل بولی۔
’’کبھی کسی درندے کو روتے ہوئے دیکھا ہے، نہیںنا، کیونکہ درندے کی درندگی اسی وقت تک رہتی ہے،جب تک اس کا آنسو نہیںبہتا۔‘‘
’’جب مجھے رونے کی جگہ غصہ آ رہا ہے تو میںکیا کروں۔‘‘ اس نے اکتائے ہوئے لہجے میںکہا۔
’’میں سمجھتی ہوں اور میرا اندازہ بالکل ٹھیک نکلا، اور سنو ! میری بیٹی کی عمر بھی تمہارے جتنی ہے۔مجھے تم میں اپنی بیٹی دکھائی دے رہی ہے۔ایک بات یاد رکھنا، تلوار اور بندوق دونوں ہی ہتھیار ہیں۔لیکن تلوار بندوق کا مقابلہ نہیںکر سکتی۔ یاد رکھنا۔ میںکرتی ہوں تیرے لیے کچھ۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھی اور باہر کی جانب چل دی۔
تقریباً دو گھنٹے ابھی پورے نہیںہوئے ہوں گے۔ ایک درمیانے قد کا ادھیڑ عمر شخص تھانے میں آ یا تو ایک دم سے ہلچل مچ گئی۔ تھانے کا وہ منشی جو کسی کی بات نہیںسن رہا تھا اور فرعون بنا بیٹھا تھا یوں لپک کر اٹھا جیسے کوئی عزرائیل آ گیاہو۔ جیسے ہی وہ تپاک سے ملا تو اسی ادھیڑ عمر بندے نے سکون سے پوچھا۔
’’کہاں ہے تمہارا صاحب ؟‘‘
’’شاہ جی وہ تو گشت پر ہیں۔ آتے ہی ہوں گے۔ آپ بیٹھیں، مجھے بتائیںکیا خدمت ہے۔‘‘ منشی نے اپنے لہجے میں مٹھاس بھرتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ ایس ایچ او ابھی آ ئے گا یا نہیں؟‘‘ شاہ جی نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔ اس دوران اس کی نگاہ نینا پر پڑی۔ وہ اسے چند لمحے تک دیکھتا رہا پھر نگاہیں منشی پر ٹکا دیں۔
’’جی، وہ آج شاید ہی …‘‘ وہ منمناتے ہوئے کہنے لگا تو شاہ جی نے کہا۔
’’اس لڑکی پر ظلم کرنے کے لیے تم لوگوں نے کتنے پیسے لیے ہیں۔‘‘اس اچانک سوال پر منشی ایک دم سے گھبرا گیا۔ پھر تیزی سے بولا
’’آپ بیٹھیں، میںآپ کو بتاتا ہوں۔‘‘
’’مجھے بیٹھنانہیں ہے میری بات کا جواب دو۔‘‘
’’وہ جی، صاحب کو…‘‘
’’بکواس بند کرو اور اس بے غیرت کو بتا دینا کہ لڑائی مردوں سے لڑتے ہیں، عورتوں سے نہیں، اس لڑکی کو جانے دو اور اس کی طرف کوئی نگاہ بھی نہ کرے، میں دیکھتا ہوں اُسے۔‘‘ شاہ جی نے غصے میںکہا تو منشی نے ایک لمحہ سوچے بغیر نینا کو جانے کا اشارہ کیا۔ نینا اٹھ کر تھانے کے باہر چلی گئی۔ اسے یہ ہوش ہی نہیںتھا کہ وہ شاہ جی کا شکریہ ادا کر سکے۔ اس کے دماغ میں تو یہی چلنے لگا تھا کہ انصاف نہیں، تلوار کے سامنے بندوق نہ ٹھہر سکی۔
تھانے کے باہر دیوار کے ساتھ اس کا بھائی بیٹھا ہو اتھا۔ وہ اپنے بڑے بھائی کا انتظار کر رہا تھاجو ابھی تک لوٹ کر واپس نہیںآ یا تھا۔اسے یوں دیکھ کر وہ جلدی سے اُٹھا۔اس کے قریب آ کر بولا
’’کیاہو ا، چھوڑ دیا انہوںنے ؟‘‘
’’ہاں، آئو چلیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ یوں چل دی جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکی ہو۔ اس کے دماغ میںآندھیاں چل رہی تھیں۔اسے اس نظام پر ہی نہیں اپنے آپ پر بھی غصہ آ رہا تھا۔ وہ کیوں اس قدر اپنے آپ کو سنبھالنے والی بن گئی ؟ کیوں اس نے پڑھا لکھا اور تعلیم حاصل کی ؟ اس کی اوقات ہے ؟ کیا قدر ہے اس معاشرے میں، وہ معاشرہ جو خود کو اسلامی کہتا ہے لیکن جہاں عورت کا تقدس تو کیا اس کی عزت تک نہیںکی جاتی ؟ یہ کس کا قصور ہے ؟ اس کا اپنا ہے۔ وہ کیوں اس معاشرے میں پیدا ہوگئی۔ اگر عورت کی عزت نہیںکرنی تو اسے بچپن میں ہی زندہ درگور کر دیا جانا چاہئے تھا؟ کیا عورت کو اپنی عزت سمجھنے والے، غیرت میں آ کر قتل کرنے والے یہ نہیںجانتے کہ عورت کی عزت بھی کی جاتی ہے ؟ کیا یہ معاشرہ صرف طاقتوروں کا ہے ؟ کیا یہ جنگل ہے اور یہاں کا قانون بھی جنگلوں جیسا ہے کہ جو طاقت ور ہے وہ جو مرضی کرسکتاہے؟ سوالوں کا ایک سلسلہ تھا جو اسے پاگل کیے دے رہا تھا، اس کے دماغ میں یہ سوال نجانے کہاں سے آ رہے تھے، اس کا جواب اسے کیا خاک ملتا؟
وہ اپنے گھر پہنچ گئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بھابی کیا کہے گی۔ اس کا رویہ کیسا ہوگا؟ سو اس نے ٹھان لی کہ وہ جو کہے گی، وہ خاموشی کے ساتھ سن لے گی۔ اس نے اپنی ماں کو ساری بات من و عن بتا دی۔
’’پتر ! ہم غریب لوگ ہیں، ہم کسی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، ہمارا جینا اسی طرح سے ہے، یونہی جینا ہوگا۔‘‘ اس کی ماں نے روتے ہوئے اسے حوصلہ دیا۔ وہ ماں کے آ نسوئوں کو دیکھ کر بھی نہیںروئی۔ اس کے دماغ میںیہ چلنے لگا کہ نصاب کی ان کتابوں کو آ گ لگا دی جائے جس میں انصاف، بھائی چارہ اور روا دا ر ی کا سبق دیاجاتا ہے۔ وہاں تو یہ پڑھانا چاہئے کہ یہ معاشرہ جس میںہم رہ رہے ہیں یہ ایک جنگل ہے، یہاں انسان کی قدر نہیں، یہاں طاقت کی حکومت ہے۔ اس میں کس طرح رہنا ہے، یہ طریقہ سکھایا جائے کہ طاقتور کے آگے ا کس طرح جھکے رہنا ہے اور کمزور پر کس طرح ظلم کرنا ہے۔ان طاقت ور لوگوں نے ایسے اصول اور ضابطے بنا لیے ہیں، جو اچھے انداز میںغریبوں کو پھنسانے اورانہیںذلیل کرنے کا ہتھکنڈہ ہیں۔ ان میں ایک پنچائت بھی ہے۔ ممکن ہے کبھی پنچائت میںفیصلہ ہوتا ہوگا۔ لیکن جب فیصلہ کرنے والا ہی ڈنڈی مار جانے والا ہو، ملزم ہی کا ساتھی ہو تواس سے انصاف کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ وہاں بے انصافی ہی ہوگی۔
چوہدری پرویز یہیں تک محدود رہتا تو شاید بات آ گے نہ بڑھتی۔ نینا نے تو اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔ مگر وہ اسے فون پر دھمکیاں دینے لگا۔ اس نے علاقے ہی کے ایک معتبر بندے کے پاس اس ڈرائیور کو بھیجا تاکہ پنچائت بلا کر اس لڑکی نینا سے اپنی رقم لے سکے۔ علاقے کے اس معتبر بندے کی طرف سے پیغام آنے لگے کہ فلاں دن پنچائت ہے۔ اس لیے پنچائت میںحاضر ہو کر اپنی صفائی بیان کریں، ورنہ باقاعدہ ایف آئی آر درج کر ا دی جائے گی۔اس کا بھائی پیغام لے کر آنے والے بندے کی منّت سماجت کرنے لگا کہ وہ علاقے کے اس معتبر بندے کو ہمارے بارے میںبتائے۔ ہم پر جھوٹا الزام ہے۔ وہ کسی نہ کسی طرح اس پنچائت سے بچنا چاہتے تھے۔ ایک بار تو وہ سن کر چلا گیا لیکن اگلے دن وہ پھر پیغام لے کر آ گیا کہ اگر پنچائت میںنہیںآنا تو اس کی رقم چپ چاپ واپس کر دی جائے۔ یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا تھا۔نینا کو اُس پر بے تحاشا غصہ بھی آ رہا تھا۔ مگر وہ مجبور تھی۔ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ تبھی اس نے اسی لیڈی کانسٹیبل سے مدد لینے کا سوچا، اس نے فون کر کے اسے ساری روداد بتائی تو اس نے چند مشورے دئیے۔ تیسرے دن پھر وہی بندہ پیغام لے کر آ گیا کہ کل شام کو پنچائت ہے، اگر نہ آ ئے تو اٹھا کر لے جائیںگے۔ اس پر نینا نے آ کر غصے میں کہا۔
’’اوئے، چپ کر کے یہاں سے چلا جا اور جا کر اپنے اس پنچائتی سے کہہ، اگر دوبارہ اس در و ا ز ے پر آ یا تو پھر وہی ذمے دار ہوگا۔ جا دفعہ ہو جا، دوبارہ مت آنا۔‘‘
اس دن وہ بندہ ان کے گھر سے چلا گیا مگراس کے بعد کوئی ان کے دروازے پر نہیںآیا۔ اصل میں اسی لیڈی کانسٹیبل نے، اس ادھیڑ عمر بندے کو بتا دیا، پھر ان کی جرات نہ ہوئی کہ دوبارہ ان کی طرف کوئی منہ کرتا۔ سو دن سکون سے گذرنے لگے۔
انہیں دنوں نینا کو احساس ہوا کہ طاقت کس حد تک ضروری ہے۔ یہ جو نام نہاد معاشرے کے اصول و ضوابط ہیں، یہ بھی طاقت وروں کے لیے ہیں۔وہ انہی اصولوں کی وجہ ہی سے کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ وہ باغی ہو گئی۔ شرافت، ہمدردی، حق، فرض، قانون اس کے لیے بے معنی لفظ بن گئے۔ اس کی سوچ بدل گئی۔ شاید وہ کچھ دنوں بعد معمول پر آ جاتی، اگر چوہدری پرویز اس کا پیچھا چھوڑ جاتا۔ اس نے نینا کو پر یشان کر کے رکھ دیا تھا۔وہ فون کرنے سے، اسے دھمکیاں اور گالیاں دینے سے اب بھی باز نہیںآتا تھا۔ وہ اپنا فون بند رکھنے لگی تھی
یہ واقعہ ان کی گھریلو زندگی پر بھی اثر انداز ہو ا۔ اس کا بڑا بھائی تو اس کے خلاف پہلے ہی تھا، بھابی نے جو چور مچایا تو ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ چند دنوں میںہی وہ اپنے بال بچوں کو لے کر الگ ہوگیا۔ اس کا اثر اس کی ماں پر بھی پڑا، وہ وقت بے وقت رونے لگتی۔ ایک ذریعہ معاش تو تھا ہی وہ ختم ہو گیا، دوسرا ان کا کون سا لمبا چوڑا خاندان تھا، بیٹا الگ ہوا تو ماں صدمے سے نڈھال ہو گئی۔
اس کی ماں یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائی تھی کہ ایک دن اس کا منجھلا بیٹا اپنے کام پر جا رہا تھا۔وو راستے ہی میںتھا کہ ایک موٹر سائیکل والا اس میںآ لگا۔موٹر سائیکل پر تین لوگ سوار تھے۔ انہوںنے بغیر کوئی بات کیے اسے مارنا شروع کر دیا۔اسے اتنا مارا کہ وہ وہیں سڑک پر بے ہوش ہو گیا۔ وہاں پر موجود لوگوں نے بتایا کہ اس کا کوئی قصور نہیںتھا، پھر بھی انہوں نے یوں مارا جیسے اُسے جان بوجھ کر مار رہے ہو۔ اسے لوگ اٹھا کر اسپتال لے کر گئے۔ وہاں جا کر پتہ چلا کہ اس کے بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔اور جو چوٹیں آ ئی ہیں، وہ اسے دو تین ماہ سے پہلے نہیںاٹھنے دیں گیں۔ وہ بے چارہ گھر آن پڑا۔ چند دن بعد ہی پتہ چل گیا کہ وہ لوگ چوہدری پرویز کے تھے۔ اس نے جان بوجھ کر انہیںبھیجا تھا۔
ان کے گھر پر خوف کی فضا نے ڈیرا جما لیا۔ بھائی چار پائی سے لگ گیا۔ اس کے دوا اور علاج کے لیے گھر کی چیزیں بکنے لگیں۔بڑا بھائی الگ ہو گیا تھا۔ اس نے کوئی مدد نہ کی۔ چھوٹا بھائی جو پڑھ رہاتھا، اس نے پڑھائی چھوڑ دی اور مزدوری کرنے لگا۔ ایک مزدور کی آ مدنی کیا ہو سکتی تھی۔ وہ اپنے بھائی کا علاج کرواتا یا گھر کی روٹی پوری کرتا، وہ جو لاتا اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھ دیتا۔ نینا نے ایک باردبے لفظوں میںکہا بھی کہ وہ دوبارہ اسکول میںملازمت کر لیتی ہے لیکن اس کی ماں نے سختی سے منع کر دیا۔حالات دن بدن سخت ہوتے چلے جا رہے تھے۔ اس نے ایک دن اپنے پرانے اسکول میں رابطہ کیا تاکہ پھر سے جا سکے، اس کا خیال یہ تھا کہ وہ اپنی ماں کو منا لے گی۔ اسکول سے جو جواب ملا، اس نے نہ صرف اسے چکرا دیا، بلکہ خود اسے اپنی ہی نگاہوںمیںگرا کر رکھ دیا۔ انہیںنے کہا تھا کہ ایسی لڑکی جو تھانوں میںپھر آ ئی ہو، جس پر ڈکیتی کا الزام ہو اور بدمعاشوں سے سر پھٹول کرتی پھر رہی ہو، ہم اسے اسکول میں کیسے جگہ دے سکتے ہیں، وہ سوچے بھی نہیں۔ اس کی ہمت جواب دے گئی، اس کا کیا قصور ؟ یہ بات اس کی سمجھ نہیں آئی۔
ایک دن وہ اپنی ماں والے کمرے میں کھری بان کی چارپائی پر لیٹی سوچ رہی تھی کہ کیا ہے یہ زندگی ؟ میں اتنی مجبور کیوں ہوں ؟ یہ چوہدری پرویز جیسا شخص مجھے تنگ کر رہا ہے اور میں اس کا کچھ بھی نہیںکر سکتی۔ یہی سوچتے ہوئے اچانک اسے لیڈی کانسٹیبل کی بات یاد آ گئی۔’’ایک بات یاد رکھنا، تلوار اور بندوق دونوں ہی ہتھیار ہیں۔لیکن تلوار بندوق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یاد رکھنا۔‘‘ یہ سوچتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ چند لمحے سوچتی رہی اور اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے کیا کرنا ہے۔اس نے ساری مجبوریوں کو ایک طرف رکھ دیا اور اس زمانے سے لڑ نے کو تیار ہو گئی۔
وہ اٹھی اس نے اپنا وہ بہترین سوٹ نکالا، جو ان دنوں اُس کے پاس تھا۔ جسے اس نے استری کیا، خوب نہائی، فریش ہو کر اس نے خود کو سنوارا اور اپنا فون اور پرانی سمیںلے کر بیٹھ گئی۔ اس نے وہ سارے میسج دیکھے جو ہو تے رہے تھے۔ ان میں سے اس نے ایک ایسے لڑکے کو منتخب کیا جو چوہدری پرویز کا دوست تھا۔ اس نے ایک پرانی سم اس میںڈالی اور آواز بدل کر اسے فون کر دیا۔ وہ کبھی اُسے’’پٹانے‘‘کے چکر میںتھا اور اِس بار وہ ایک نئی لڑکی بن کر اس سے باتیں کرنے لگی۔
صرف تین ہفتوں میں اس نے علی اکبر کو یہ باور کرا دیا کہ اس کا تعلق لاہور کے ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ اس نے یونہی نمبر ڈائل کیا تو قسمت سے مل گیا۔ اس نے اپنی امارات کے بارے میں ایسا کچھ بتایا کہ وہ چکرا کر رہ گیا۔ ایک بات نے تو اسے خود حیران کر کے رکھ دیا۔ انگریزی میں بات کرنا، یا ایک فقرے میںایک آ دھ لفظ جڑ دینا، ایسے ہی تھا، جیسے خود کو امیر، اور عقل مند ہونے کی تصدیق کروا دے۔ وہ جانتی تھی کہ علی اکبر انگریزی نہیںجانتا لیکن وہ بے حد مرعوب ہوا تھا۔ وہ اسے احساس نہیںدلانا چاہتا تھا کہ وہ کوئی کم پڑھا لکھا لڑکا ہے۔یہ سارا زبان کا کھیل تھا۔نینا نے فقط علی اکبر پر توجہ نہیں دی تھی۔ اس دوران اس نے کئی دوسرے لڑکوں سے بھی دوستی کر لی۔اس نے اپنے طور پر ایک معیار اور حد بنا لی ہوئی تھی کہ کسے کہاں تک رکھنا ہے۔تقریباً تین مہینوں میںاس نے چوہدری پرویز کے بارے میں جان لیا کہ اس کی مصروفیات کیا ہوتی ہیں۔ کون اس کا دشمن ہے اور کون اس کا دوست۔اسے احساس دلائے بغیر اس نے تمام تر معمولات کے بارے میں جان لیا۔ یہاں تک کہ اس نے پوری طرح تصدیق بھی کر لی۔
جن لڑکوں کو اس نے دوست بنایا تھا، ان میں ایک ملک زاہد تھا، جن کے ساتھ چوہدری پرویز کی خاندانی دشمنی چل رہی تھی۔اس کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح چوہدری پرویز کو مزا چکھا سکے۔ نینا نے اس پر سب سے زیادہ توجہ دی اور باقیوں کو فی الحال نظر انداز کر دیا۔ یہ تین مہینے اُس نے پوری توجہ سے یہ کھیل کھیلا، ایک بالکل نئی لڑکی بن کر اس نے پوری طرح ملک زاہد کو شیشے میںاتار لیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا، جب اس نے اس کھیل کو منطقی انجام تک لے کر جانا تھا۔ ملک زاہد اس سے ملاقات کا مطالبہ کرتا تھا اور وہ اُسے طرح دے جاتی تھی۔آخرایک دن اس نے ملک زاہدکو ملنے کا عندیہ دے دیا۔ ایک ریستور ا ن میں ملاقات کا اہتمام ہوا، اور طے کیے وقت پر وہاں پہنچ گئی۔ وہ اسے ایک ایسی لڑکی کے روپ میں ملی کہ جس کے والدین ہیں تو بہت امیر لیکن اسے باہر نہیںنکلنے دیتے۔ وہ چوری آ ئی ہے اور جلد واپس پلٹ جائے گی۔اس نے اپنا نقاب نہیں اٹھایا اور تھوڑی دیر بیٹھ کر پلٹ گئی۔
اس کے خیال میں یہ ضروری تھا۔ ملک زاہد نے اس سے شادی کرنے کا وعدہ کیا اورنجانے کیا کیا، جس سے اسے کوئی غرض نہیںتھی۔ چند دن بعد ہی اس نے ملک زاہد کو یہ بتایا کہ کوئی چوہدری پرویز اسے تنگ کرتا ہے ؟ وہ کہہ رہا ہے ملک زاہدسے ملنا بند کر دو، کیا تم نے اُسے بتایا ہے ؟ کیا وہ تمہارا دوست ہے ؟ اُسے کیسے پتہ چلا؟ نینا نے کچھ اس انداز سے بتایا کہ ملک زاہد کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے انتہائی غصے میں بس اتنا ہی کہا۔
’’اسے کہنا اگر وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے تو میرے سامنے آ ئے، میں اسے بتائوں گا، میںتمہیں کوئی صفائی نہیںدوں گا۔‘‘
’’لیکن میرے سوالوں کے جواب تو دو اس نے میرے کسی عزیزکو بتا دیا، میرے والدین کو پتہ چل گیاتب میں تو خود کشی کر لوں گی۔‘‘ اس نے روتے ہوئے کہا۔
’’تم نہیں، کوئی اور کرے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پہلی بار خود فون بند کیا تھا۔ نینا کو احساس ہو گیا کہ اب کچھ نہ کچھ تو ضرور ہوگا۔ اس لیے وہ پوری طرح علی اکبر کے ساتھ رابطے میںتھی۔ اسے پتہ چلا کہ وہ کل دن کے وقت عدالت میں ایک پیشی پر جانے والے ہیں۔پوری طرح تسلی کرنے کے بعد اس نے یہ بات ملک زاہد کو بتا دی۔نینا نے اسے پوری کہانی بنا کر بتایا۔
’’آج ا س کا فون آ یا تھا اور پھر سے فضول باتیں کر رہا تھا، میں نے آپ کا پیغام اسے دے دیا۔‘‘
’’پھر کیا بولا وہ ؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یہی کہ میں کل پیشی پر جا رہا ہوں،اگر اس میں ہمت ہے تو مجھ سے اتنا ہی آ کر پوچھ لے، میں خاموش ہوگئی۔‘‘
’’اچھا، ایسے کہا اس نے؟‘‘ وہ غصے میں بے قابو ہونے لگا تو وہ تیزی سے بولی۔
’’اب آپ اس کے منہ نہ لگنے چلے جائیں، ایسے ہی فضول آ دمی ہے، اس کا کیا بھروسہ۔‘‘
’’یہ تو کل ہی پتہ چلے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ وہ یہ سوچنے لگی کہ اگلے دن کیا ہوگا۔
اگلے دن شہر سے باہر جانے والی سڑک پرتصادم ہو گیا۔ واقعہ کچھ یوں بتایا گیا تھا کہ چوہدری پرویز اور اس کے ساتھی کار پرشہر جارہے تھے۔ راستے میں ملک زاہد نے ناکہ لگایا ہوا تھا۔ انہوںنے بغیر کوئی بات کیے، ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ میں علی اکبر مارا گیا۔چوہدری پرویز شدید زخمی ہو گیا۔ اسے زخمی حالت میںاسپتال پہنچا دیاگیا تھا۔ اس کے بچنے کی بالکل بھی امید نہیں رہی تھی۔ نینا اس وقت کا انتظار کر رہی تھی کہ کب اسے ہوش آتا ہے اور وہ کب اسے بتائے گی کہ میںنے تم سے انتقام لے لیا ہے۔ مگر اس کی حسرت دل میں رہی، وہ ہوش ہی میں نہیںآ رہا تھا۔ ملک زاہد پکڑا گیا اور اسے جیل ہو گئی۔ اس سے بات ہونا بھی بند ہو گئی۔ لوگوںکو یہی پتہ چلا کہ دونوں کے درمیان خاندانی لڑائی تھی۔
دوسرے ہفتے اسے ملک زاہد کی کال ملی۔ وہ جیل میں سے کسی کے سیل فون سے کال کر رہا تھا۔
’’دیکھ لیا تم نے، میں نے صرف تمہاری خاطر اسے ایسی حالت میںکر دیا ہے،کہ اب وہ دوباہ تجھے فون کرنے کے لائق نہیں رہے گا۔‘‘ اس نے فتح مندی کے احساس سے کہا۔
’’میں نے ایسا کب چاہا تھا۔ اب تم بھی…‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے رونے کی ادا کاری کی
’’گھبرائو نہیں، میں بس کچھ دنوں میں باہر آ جائوں گا، بس تم میرا انتظار کرنا۔‘‘ اس نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تو وہ پیار بھرے لہجے میںبولی
’’اب تمہارا ہی تو انتظار ہے۔‘‘
’’دیکھ، میں اب پتہ نہیںکب فون کر پائوں گا، تم بس اپنا خیال رکھنا۔‘‘ اس نے پیار میں بھیگے ہوئے لہجے میںکہا۔
’’بس تمہارا ہی خیال ہوگا، بس تم جلد لوٹ آ نا۔‘‘وہ بولی۔
اس طرح کی چند دوسری باتوں کے بعد فون بند ہو گیا۔ اس نے وہ سم نکالی اور اسے توڑ دیا۔ ایک باب ختم ہو گیا۔
نینا نے بدلہ تو لے لیا تھا لیکن معیشت کا عفریت منہ کھولے انہیں نگلنے کو تیار تھا۔ گھر میں معاشی بدحالی نے انہیں کہیںکا نہ چھوڑا۔ اس کا چھوٹا بھائی انتہائی صبر سے صبح کام پر نکل جاتا، اگر کہیں مزدوری مل جاتی تو کرلیتا، نہ ملتی تو واپس گھر آ کر چار پائی پر گرجاتا۔ اس کی ماں کی حالت بھی دن بدن خراب رہنے لگی تھی۔اسے یہ اچھی طرح پتہ تھا کہ اگر اس نے اپنی ماں کاعلاج بر وقت نہ کرایا تو وہ اسے بھی کھو دے گی۔اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ پورے علا قے میں اس کی ذات کے بارے میںکوئی اچھا تصور نہیں ہے۔ اسکول والوںکی رائے سن کر اس کی ہمت نہیںپڑ رہی تھی کہ وہ کہیںنوکری کا سوچے۔ اس کی سمجھ میںکچھ نہیںآ رہاتھا کہ وہ کیا کرے۔
ایک دن اسی لیڈی کانسٹیبل کا فون آ گیا۔ اس نے حال احوال پوچھنے کے بعد کہا۔
’’تمہارے پاس نوکری کرنے کا ایک بہترین چانس ہے اگرتم کرنا چاہو ؟‘‘
’’کہاں پر ؟‘‘یہ پوچھنے کے بعد وہ اگلے ہی لمحے تیزی سے بولی،’’لیکن جہاں بھی ہو، میںنوکری ضرور کروں گی، ہمارے گھر کی حالت…‘‘ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کہہ سکی
’’نوکری پولیس ڈیپارٹمنٹ میںہے، لڑکیوں کو بھرتی کیاجا ہے، اگر تم نوکری کرنا چاہو تو کل صبح اپنے کاغذات لے کر تھانے آ جانا، مجھے امید ہے کہ تمہیں نوکری ضرور مل جائے گی۔‘‘ لیڈی کانسٹیبل نے کہا تو وہ حتمی لہجے میں بولی۔
’’میںپہنچ جائوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ لیڈی کانسٹیبل نے کہا اور کچھ دیر بعد فون بند کر دیا۔
اگلے دن اپنے گھر میں کسی کو بتائے بغیروہ صبح کے وقت ہی پولیس لائن پہنچ گئی۔دوڑ وغیرہ لگانے کے بعد ان کا تحریری امتحان لیا گیا۔ ان کے قد ناپے گئے اور انہیںجانے کا کہہ دیا۔ سو وہ گھر آ گئی۔
ان دنوں فون کھلا رکھنا اس کی مجبوری تھی، وہ جو ٹسٹ دے کر آ ئی تھی،اس کے بارے اسے دوسرے کسی ذریعے سے پتہ نہیںمل سکتا تھا۔
دو ہفتے بعد اسی لیڈی کانسٹیبل کا فون آ گیا۔ اس نے بتایا کہ لسٹ لگ گئی ہے اور اس میںتمہارا نام سب سے اوپر ہے۔ تمہیںنوکری مل گئی ہے کل صبح آ کر نوکری جوائن کرو۔
خ…خ…خ
سہ پہر کا وقت تھا۔ ڈھلتے سورج کی روشنی انگریزوں کے زمانے کے بنے ہوئے اس پیلے کوارٹر پر پڑ رہی تھی، جس کے سامنے وہ کھڑی تھی۔ ارد گرد کا ماحول سنسان تھا۔ حالانکہ کوارٹروں کی ایک لمبی قطار تھی،ان میں پولیس والے ہی رہتے تھے۔ اس نے باہر لکھا ہوا پڑھا،’’بارک نمبر تین‘‘
’’یہ تمہارا کوارٹر ہے اور تم اسی میں رہو گی۔‘‘
’’میں یہاں، میرا مطلب…‘‘ اس نے تیزی سے گھبراتے ہوئے پوچھا تواسے وہاں لانے والا سمجھ گیا کہ و ہ کیا پوچھنا چاہتی ہے۔ اس لیے تحمل سے سمجھاتے ہوئے بولا۔
’’تم اندر جائو، وہاں تم سے سینئر ہیں، وہ تمہیںخود ہی ایڈجسٹ لر لیں گی۔‘‘
اس پر نینا نے گہری سانس لیا اور کوارٹر کے اندر قدم رکھ دیا۔ سامنے ہی برآمدے میں ایک فربہ مائل خاتون چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی نگاہیں نینا پر جم کر رہ گئیں۔ پھر چند لمحوں کے بعد اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکان پھیل گئی۔ وہ اس کے قریب گئی تو وہ لیٹے لیٹے ہی بولی۔
’’نئی بھرتی ہو؟‘‘اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا نام بتایا تو وہ بولی۔’’جائو اندر، آپی فوزیہ ہے، اے ایس آئی ہے، یہاں ہم سب میں سینئر، وہ سب سمجھا دے گی۔‘‘
وہ اندر کمرے میںگئی تو کمرے کے ایک کونے میں ایک پتلی سی مگر مضبوط خاتون اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جب تک وہ اس کے قریب نہیں گئی اور ہاتھ نہیںملا لیا وہ اسے سر سے پیر تک دیکھ کر اس کاجائزہ لیتی رہی۔
’’خوش آمدید، ڈیپارٹمنٹ میں اوریہاں ہماری ساتھی بننے پر بھی۔‘‘ آپی فوزیہ نے کہا۔
’’جی بہت شکریہ۔‘‘وہ منمنائی۔دراصل اسے الجھن ہو رہی تھی۔ آپی فوزیہ مسلسل اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ جیسے ایکسرے کر رہی ہو۔
’’اچھا جائو، یہ ساتھ والا کمرہ ہے، وہاں چار پائی پڑی ہے، شاید بستر بھی ہوگا۔ تم جاکر وہیں آرام کرو، باقی باتیں رات کھانے پر ہوں گی۔‘‘ ہیڈ کانسٹیبل فوزیہ نے کہا تو وہ جلدی سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
اس کمرے میں تین چارپائیاں پڑی تھیں، ایک پرانا میز اور دو کرسیاں، یہی اس کمرے کی کل کائنات تھی۔ ایک کونے میں ٹرنک اور بیگ دھرے ہوئے تھے۔ وہیں اس نے اپنا بیگ بھی رکھ دیا اور ایک چارپائی پر لیٹ گئی۔ جس پر بستر نہیں تھا۔
انہیں لمحات میں اسے اپنی ماں کا چہرہ یاد آ گیا، خاص طور پر وہ ڈبڈبائی آ نکھیں، جن میں نجانے کتنی باتیں پوشیدہ تھیں۔ وہ ان ساری باتوں کو سمجھتی تھی۔ ماں نے ایک لفظ نہیںکہالیکن وہ ہر بات سمجھ گئی کہ ماں آخر کہنا کیا چاہتی ہے۔اسے پتہ تھا کہ آنے والے دنوں میں اسے فقط ماں کا ہی احساس ہو گا۔ اس نے اپنا جی کڑا کر لیا۔ وہ بہت کچھ سوچنا چاہتی تھی لیکن اس کی آ نکھ لگ گئی۔
رات کے کھانے پر اسے کوارٹر میں رہنے والی سبھی خواتین ملیں۔ اسے یہ دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی کہ وہاں دو مزید لڑکیاں آ گئی تھیں، جو اس کی ہم عمر اور اس کے ساتھ ہی بھرتی ہوئیں تھیں۔ کھانے کے بعد گپ شپ میںآپی فوزیہ نے بہت ساری باتیں کیں، اسے سب بھول گئیں سوائے ایک بات کے کہ، یہ دنیا جنگل ہے اور یہاں نجانے کیسے کیسے درندوں سے واسطہ پڑتا ہے۔یہاں ہر وقت آ نکھیں کھول کر رکھنا پڑتی ہیں۔جب تک تم اپنا خیال نہیںرکھوگی، تب تک کوئی دوسرا تمہارا خیال نہیںرکھے گا۔ وہ رات تعارف اورباتوں میں گزر گئی۔ اس رات سے اس کی ملا ز مت کا آ غاز ہو گیا۔
وہ چند کپڑے لے کر آ ئی تھی۔ اگلی بار جب گھر سے وہ بستر اٹھانے لگی تو اسے اپنی کتابوں اور ناول کا خیال آ یا، جو اس کی چار پائی کے نیچے اور الماریوں میںبھرے پڑے تھے۔ وہ یہ سب پڑھ چکی تھی۔ اس نے اپنے چند پسندیدہ ناول اٹھانے چاہے تو ایک دم سے اسے خیال آ یا کہ اس کا مذاق اُڑایا جائے گا۔ انگریزی ناول پڑھنے والی ایک معمولی کانسٹیبل ؟ اس نے ان میںسے کوئی نہ اٹھایا۔اس نے اپنی ماں سے کہہ دیا کہ اب کوئی ردی والا آ ئے تو اسے یہ سارے بیچ دے۔ وہ شہر آ گئی۔
ملازمت کے شروع دنوں میں اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ یہ حال اس کی دوسری نئی بھرتی ہونے والی لڑکیوں کا تھا۔ وہ ڈیوٹی کرتی، جو زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا کہ کسی ملزم عورت کو عدالت لے جاتی اور واپس تھانے یا جیل لے جاتی۔ یا پھر کسی تھانے میں کسی ملزمہ کے پاس بیٹھنا پڑتا۔ اس کے علاوہ وہ یا تو سوتی رہتی تھی، یا دوسری لڑکیوں کے ساتھ گپیں لگاتی رہتی۔
وہ ایک عام سی لڑکی کی مانند نوکری کرتی رہی،جیسے دوسری لڑکیاں کر رہی تھیں۔ انہیںکہا گیا کہ ابھی ان کی ٹریننگ ہونی ہے۔ اس وقت ان سے پہلے والا بیج چل رہا جیسے ہی وہ پاس آئوٹ ہوگا انہیںٹریننگ کے لیے جانا ہوگا۔ اس دوران وہ اپنی محسن لیڈی کانسٹیبل سے ملتی رہی۔ وہ اسے نوکری کرنے کے گُر اور طریقے بتاتی رہی۔ اس نے اس بندے کے بارے میںبھی بتا دیا کہ وہ کون تھا۔ ایسے لوگوں سے کس طرح بنا کر رکھنی چاہئے، وہ کیسے کیسے مقام پر کس طرح کام آ تے ہیں۔ یو ں چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت گیا۔
اُس دن وہ تھانے میںتھی۔جب اس کی ٹیچر سمیرا کا فون آ یا۔ اس سے نینا کا رابطہ رہتا تھا۔ وہ اکثر ان کے ہاں چلی جاتی، جب سائرہ آ ئی ہوتی۔ لیکن وہ اس کے پاس زیادہ نہ بیٹھا کرتی تھی۔ اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا تھا۔ ٹیچر سمیرا نے اسے فوراً اپنے ہاں بلایا تھا۔ وہ آپی فوزیہ کو بتا کر ان کے گھر چلی گئی۔ سائرہ آ ئی ہوئی تھی۔ وہ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی تو میڈم نے سائرہ کو چائے بنانے بھیج دیا پھر اس سے بولی۔
’’یہ جو بات میں تمہیںبتانے لگی ہوں، اس کا سائرہ سے ذکر نہیںکرنا، وہ خوامخواہ پریشان ہو گی۔‘‘
’’ایسی کیا بات ہے؟‘‘ نینا نے تجسس اور حیرت سے پوچھا، کیونکہ ان دو ماں بیٹی کے درمیان کچھ بھی چھپا ہو انہیںتھا۔
’’بات یہ ہے کہ میں ایک اکیلی بیوہ عورت ہوں۔ بیٹی پرایا دھن ہے، اس کا ماسٹرز مکمل ہوجائے تو میں اس کی شادی کردوں گی۔ اورمیرے پاس بچے گا، میرا یہی گھر، جہاں میں اپنی زندگی کے باقی دن گزارنا چاہتی ہوں۔ لیکن…‘‘
’’لیکن کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تقریباً دو مہینے ہو گئے ہیں، چند لوگ فون کر کے اور دو بار عورتیں بھیج کر مجھے اس بات پر راضی کرنا چاہتے ہیں کہ میں یہ گھر انہیںفروخت کردوں۔ اور جو قیمت بتاتے ہیں وہ انتہائی معمولی سی ہے۔ ظاہر ہے میں نے انکار ہی کرنا ہے۔ میں کہاں جائوں ؟ میں کیوں فروخت کروں ؟‘‘ میڈم نے کافی حد تک غصے میںکہا۔
’’تو پھر، وہ کیوں؟‘‘ اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا تو میڈم بولیں
’’دراصل جو لوگ یہاں پلازہ بنانا چاہ رہے ہیں، انہوں نے کچھ غلط قسم کے لوگوں کا تعاون لیا ہوا ہے اور مجھے ہر وقت دھمکاتے رہتے ہیں۔مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میںکیا کروں۔ میرا توکوئی ٹھکانہ ہی نہیں بنے گا۔‘‘
’’دیکھیں میڈم ! یہ بہت ظالم دنیا ہے۔ آپ شاید ان کا مقابلہ نہ کرپائیں، میرے خیال میں آپ کو یہاں سے شفٹ ہو جانا چاہئے، وہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ اس نے اپنی دانست میں درست کہاتھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ شہر میں ایک ہی لینڈ مافیا ہے اور وہ لوگ بہت ظالم تھے
’’لیکن جو قیمت دے رہے ہیں، میں تواس سے گھر نہیں خرید سکتی۔ میں یہاں سکون سے ہوں، کیوں ڈسٹرب کرتے ہیں یہ لوگ؟‘‘ میڈم نے غصے میں کہا۔ وہ خاموش ہو گئی پھر چند لمحے سوچنے کے بعد پوچھا۔
’’تو کیا کریں ؟‘‘
’’میں یہی چاہ رہی ہوں کہ پولیس کی مدد لی جائے، ممکن ہے وہ پولیس ہی کے ڈر سے یہ خیال چھوڑ دیں۔‘‘ میڈم نے ایک اُمید پر کہا تو وہ بولی۔
’’میں اس علاقے کے انسپکٹر سے آپ کو ملوا دوں گی، کوشش کروں گی کہ ڈی ایس پی صاحب سے ملوا دوں۔ باقی دیکھیں کیاہوتا ہے۔‘‘
وہ اسی شام واپس پولیس لائین چلی گئی۔ رات گئے تک سوچتی رہی کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ہر حال میں اپنی میڈم کا ساتھ دینا چاہتی تھی۔ میڈم اس کی محسن تھی اور وہ احسان فراموش نہیںتھی۔اسے یہ اچھی طرح خبر تھی کہ وہ لینڈ مافیا خطرناک لوگوں کا ہے،لیکن وہ پولیس کے بغیر نہیں چل سکتے تھے۔ اسے بہت حد تک یقین تھا کہ یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔ سو اس نے دو دن میںہی میڈم سمیرا کی ملاقات ڈی ایس پی سے کروا دی۔
میڈم نے پوری تفصیل کے ساتھ ڈی ایس پی کو ساری بات سمجھائی۔ پھر اس سے مدد کی درخواست کی۔ ڈی ایس پی نے وعدہ کیا کہ کوئی انہیںکچھ نہیں کہے گا، سکون سے رہیں۔ وہ مطمئن ہو کر آ گئی۔ نینا کو خوشی ہوئی کہ وہ اپنی محسن کے کام آئی۔ پہلی بار اسے پولیس کی نوکری کرنا اچھا لگا تھا۔ وہ رات خوب جی بھر کے سوئی تھی۔
اگلے دن کی سہ پہر تھی۔ وہ عدالت سے ڈیوٹی کر کے آ ئی تھی۔ابھی اس نے یونی فارم بھی نہیںاترا تھا کہ اسے میڈم سمیرا کی کال آ ئی،اس نے کال رسیو کی تو میڈم سمیرا ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔
’’خدا کے لیے کچھ کرو، وہ لوگ سائرہ کو اُٹھا کر لے گئے ہیں۔میری بیٹی، وہ ظالم …‘‘
یہ سنتے ہی نینا کے پائوں تلے سے زمین نکل گئی۔ یہ کیا ہو گیا۔ میڈم کی چیخیں اس کے کان میںپڑ رہی تھیں اور اس پر سکتہ طاری ہو گیا تھا۔وہ معصوم سی سائرہ، جس نے دنیا داری تو کیا اس کی خُو بو سے بھی واقف نہیںتھی۔ فاختہ کی طرح چھوٹے دل والی سائرہ تو یہ خوفناک حالات برداشت ہی نہیں کر پائے گی۔ وہ تو مر جائے گی۔ یہ خیال آتے ہی وہ بولی
’’جی جی میڈم، میںکچھ کرتی ہوں۔‘‘
’’جلدی کرو۔ اللہ کے لیے جلدی کرو۔‘‘ وہ چیخ رہی تھی، دھاڑیں مار رہی تھی۔ اس نے تیزی سے سیل فون بند کیا اور اسی طرح پلٹ گئی۔ اسے معلوم تھا کہ آپی فوزیہ تھانے میں تھی۔ وہ انتہائی تیزی سے اس کے پاس پہنچی اور اسے ایک ہی سانس میںسب بتا دیا۔ وہ بھی حیرت زدہ رہ گئی۔
’’یہ کیا ہوا ؟‘‘
’’پتہ نہیں آ پی، وہ میری بہنوں کی طرح ہے، خدا کے لیے اسے بچا لیں۔‘‘ اس نے منّت کرنے والے انداز میں کہا تو آپی فوزیہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’آئو ! چلتے ہیں۔‘‘
وہ سیدھی ڈی ایس پی کے پاس گئی۔ وہ اس وقت گھر پر تھا۔ اس نے جاتے ہی کہا۔
’’سر جی! کیا اس میڈم کا یہی قصور تھا کہ وہ آپ کے پاس آ گئی تھی۔اس نے پولیس سے مدد چاہی تھی ؟ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی معصوم بیٹی کو اٹھا لیا گیا؟‘‘اس پر ڈی ایس پی خاموش رہا، پھر غصے میں کانپتے ہوئے بولا۔
’’ایک منٹ ٹھہرو۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے سیل فون نکالا اور انسپکٹر سے ساری بات کہہ کر بولا۔’’ایک تویہ پتہ کرو کہ دفتر میںان کا مخبر کون ہے؟ دوسرا فوراً وہ لڑکی بازیاب کرو، کوئی سمجھوتہ نہیں، جانتے ہو وہ یہاںکے کالج کی لیکچرار ہے، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘یہ کہہ کر اس نے سیل فون بند کر دیا۔ پھر انہیں انسپکٹر رفاقت سے ملنے کو کہا۔ وہ فوراً تھانے آ ئی تو پولیس پارٹی تیار تھی۔ وہ ان کے ساتھ میڈم سمیرا کے گھر چلے گئی۔ کچھ دیر تفصیل سننے کے بعد انسپکٹر رفاقت وہاں سے نکلا تب تک اس کے پاس کافی نفری آ گئی تھی۔ وہ لوگ دو جگہ سے بندے پکڑ کر تھانے چھوڑ آ ئے تھے۔
اس وقت سورج ڈوب رہا تھا، جب انہیںمعلوم ہوا کہ لڑکی کہاں ہو سکتی ہے۔ جیسے ہی انسپکٹر رفاقت کو پتہ چلا، اس نے ڈی ایس پی کو فون کیا۔ پھر وہ سیدھا سردار مٹھن خان کے ڈیرے پر جا پہنچا۔ نینا اس کے ساتھ ہی تھی۔ گیٹ پر انہیں روک لیا گیا۔
’’سردار سائیں کی اجازت کے بغیر تم لوگ اندر نہیں جا سکتے ہو ؟‘‘ گیٹ پر موجود ایک لحیم شحیم بند ے نے کہا تو وہ بولا
’’جائو پھر کہو سردار کو، بتائو انسپکٹر رفاقت آیا ہے۔‘‘
اس نے انٹر کام کا رسیور اٹھایا اور اندر کسی کو بتایا۔ پھر تھوڑی دیر بعد سن کر بولا۔’’جائو، لیکن ہتھیار ادھر رکھ کر جائو۔‘‘
انسپکٹر رفاقت نے سنا اور ڈی ایس پی کو کال کر دی۔اسے ساری صورت حال بتائی تو ہدایات لے کر گیٹ پر کھڑے بندے سے بولا’’سردار سے کہہ دینا میں واپس جا رہا ہوں لیکن جلدی آ ئوں گا۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ مڑ گیا اور تھوڑے فاصلے پر جا کر مختلف لوگوںکو فون کرنے لگا۔
نینا یہ سب دیکھتے ہوئے تڑپ رہی تھی۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ایسا کیا کرے کہ اُڑ کر ڈیرے کے اندر چلی جائے اور سائرہ کو نکال کر لے آ ئے۔ وہ مضطرب سی انسپکٹر رفاقت کے پاس گئی اور بڑی لجالت سے پوچھا۔
’’سر جی یہ کیا ہے ہم ایسے ہی …‘‘
’’یہ وہ بڑے لوگ ہیں جو ہم پر حکومت کرتے ہیں، ہم عوام بے غیرت ہیں جو ایسے حرام زادوں کو اپنے اوپر مسلط کرتے ہیں۔ یہ عوام کے گھروں سے ان کی بیٹیاں اٹھا لیں اور ہم ان کے ڈیرے کے اندر نہیںجا سکتے۔ لعنت ہے اس سٹم پر۔‘‘ اس نے بے ساختہ کہاتو وہ تڑپ کر بولی۔
’’سر کیا ہم ناکام ہو جائیں گے۔‘‘
’’نہیں، میں ان بہن … کو انہی کے بِل سے نکالتا ہوں۔ شہر میں ان کے گماشتے تھانے پہنچ چکے ہیں اور وہاں ان کی چھترول ہو رہی ہے۔وہ بک رہے ہیں، کتنی دیر چھپیں گے یہ ؟‘‘ اس نے غصے میں بے ساختہ مغلظات بکتے ہوئے کہا۔
وہ تھانے کے ساتھ رابطے میںتھا، اسے پل پل کی خبر مل رہی تھی۔ دس سے زیادہ لوگ تھانے میںلا کر لٹا لیے تھے اور ان کے ورثاء انہیںبچانے کی کوشش میںتھے۔ زیادہ وقت نہیںگذرا تھا کہ اندر سے چار پانچ بندے تیزی سے باہر آ ئے۔ ان میںسے ایک بڑی عمر کا تھا، وہ آتے ہی ایک سانس میں کہتا چلاگیا
’’اُو سر جی ہمیں تو پتہ ہی نہیںتھا کہ آ پ ہیں۔انسپکٹر رفاقت آ ئے تو اس کے لیے ڈیرے کادروازہ نہ کھلے یہ ناممکن ہے سر آ ئیں۔‘‘
’’لڑکی کہاں ہے؟‘‘ اس نے کوئی تاثر لیے بغیر پوچھا تووہی ادھیڑ عمر آ دمی بولا۔
’’اند ر ہے، آ ئو نا۔‘‘
’’دیکھ لو …؟‘‘ انسپکٹر رفاقت نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا تو وہ بولا۔
’’ٹھیک کہہ رہا ہوں۔‘‘
اس نے کہاہی تھا کہ انسپکٹر رفاقت نے وائرلیس پر پیغام دے دیا کہ وہ سردار مٹھن خان کے ڈیرے کے اندر جا رہا ہے۔اس نے ادھیڑ عمر آ دمی کو باور کرا دیاکہ وہ ڈیوٹی پر ہے اور اس کا محکمہ جانتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اپنے لوگوں کے ساتھ اندر چلاگیا۔
اندر کا منظر وحشت ناک تھا۔بڑا سارا صحن جہاں ختم ہوتا تھا، وہیں سے دالان شروع ہوتا تھا۔ اس کے بعد کہیںکمرے تھے۔ اس دالان کے پاس ایک لڑکی فرش پر ڈھیر تھی۔ نینا کی نگاہ جیسے ہی اس پر پڑی، وہ پہچان گئی یہ توسائرہ ہے۔ اس کی حالت اس قدر خستہ تھی کہ پہلی نگاہ میں پہچانی ہی نہیں جا رہی تھی۔ وہ تیر کی مانند اس تک پہنچی۔ اس نے جا کر سائرہ کا چہرہ اٹھایا۔ وہ ہونقوں کی مانند اسے دیکھ رہی تھی، جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔اس کا چہرہ ناخنوں سے چھدّا ہوا تھا۔ گردن پر سرخ دھبے تھے، جیسے کسی کتے نے اپنی خباثت دکھائی ہو۔ اس کے کپڑے گریبان سے پھٹے ہوئے تھے۔ وہ اپنا جسم ڈھاپنے کی کوشش میںسمٹی ہوئی تھی۔وہ پاگلوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی۔جیسے اس کچھ بھی سمجھ میں نہ آ رہا ہو۔
’’تم ٹھیک ہو سائرہ بولو پلیز۔‘‘ نینا نے لرزتے ہوئی آواز میںپوچھا تو سائرہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر پاگلوں کی طرح بولی۔
’’نہیں،ان کتوں نے مجھے چیر پھاڑ کر کھا لیا ہے۔ میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیںرہی۔ میں گندی ہو گئی ہوں، تم پرے ہٹ جائو۔‘‘ اس نے ہذیانی انداز میںکہا۔ ایسے میں اسی کے پیچھے دالان میں ایک نوجوان ظاہر ہوا، اس کے ساتھ تین لڑکے مزید بھی تھے۔ وہ نوجوان زیادہ تروتازہ اور امیر دکھائی دے رہاتھا۔ اس نے انتہائی سختی سے کہا۔
’’تم اپنی ماں کو سمجھاتی نا کہ تھانے جانے سے کچھ نہیں ہو تا، اب جائو یہاں سے، شکر کرو میںنے تمہیں مارا نہیں، ورنہ میں زندہ نہیںرکھتا کسی کو۔‘‘
نینا نے سنا تو اس کے دماغ میں ایک الائو اٹھ گیا۔ غصے سے مائوف ہوتے دماغ میں وہ بے ساختہ بولی۔
’’تم کون ہو بے غیرت؟‘‘
’’زبان سنبھال اُو دو ٹکے کی پولیس والی۔‘‘ اس نوجوان کی بجائے اس کے قریب کھڑے ایک شخص نے کہا جو شکل سے ہی نوکر دکھائی دے رہاتھا۔
’’تم تو دو ٹکے کے بھی نہیںہو کتے۔‘‘ نینا نے اس کی آنکھوںمیںدیکھتے ہوئے کہا۔
’’واہ ! سلامت خان واہ،پہلی بار کسی پولیس والی کی جرات دیکھی ہے کہ وہ خان فرحان کے سامنے بولے۔‘‘ اس نوجوان نے تالی بجاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا اور دو قدم آ گے بڑھ آ یا۔ پھر اپنے گن مین سے گن لے کر بولا۔’’شکر کرو، میں نے اسے مارا نہیںتھا، ایویں بس اپنا بستر گرم کیا تھا،اور چھوڑ دیا کہ پولیس والوں کو اس کی ضرورت ہے، لیکن اب نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے چشم زدن میں گن سیدھی کی اور فرش پر پڑی مدہوش سائرہ پر فائر کر دیا۔ بلاشبہ وہ گولی اسے لگ جانی تھی، لیکن نینا اپنی جگہ سے یوں اچھلی تھی کہ اُڑتی ہوئی اس کے ہاتھ پر جا پڑی، جس سے نشانہ خطا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مدہوش سائرہ کا ردعمل یوں تھا کہ جیسے اسے کوئی خبر ہی نہ ہوکہ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔وہ ہوش و حواس سے بے گانہ پڑی ہوئی تھی۔ خان فرحان کی گن گر چکی تھی۔اسی لمحے انسپکٹر رفاقت نے اونچی آواز میںکہا۔
’’بہت ہو چکا،بند کرو یہ ڈرامہ چھوٹے خان۔‘‘
’’ہوں، میں بند کروں یہ ڈرامہ، ارے ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے۔ اب دیکھو۔‘‘
’’میں اب بھی سمجھا رہا ہوں چھوٹے خان۔‘‘ انسپکٹر رفاقت نے کہا تو خان فرحان سے سلامت خان نے کہا۔
’’خان جی آپ اندر چلیں، میں دیکھتا ہوں۔‘‘
’’نہیں، یوںنہیں۔‘‘ اس نے غصے میں یوں کہا جیسے خود پر قابو نہ ہو۔ تبھی سلامت خان نے ان تینوں نوجوانوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’آپ ہی لے جائیں خان جی کو اندر۔‘‘
ان تینوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور پھر ایک نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
’’یہ تو خان کا فیصلہ ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘
’’دیکھ، یہ پولیس والی بھی کیا کم خوبصورت ہے، اس کے ابھی کپڑے اُتار اور اِدھرہی اُتار، اسے دیکھتے ہیں، جتنی یہ خوبصورت ہے اس کا جسم بھی اتنا ہی خوبصورت ہوگا۔‘‘اس نے مڑ کر اپنے دوستوں سے پوچھا۔ وہ کھلکھلا کر ہنس دئیے، تبھی ایک نے کہا۔
’’ہاں خان، ہے تو خوبصورت، یہ اس سے زیادہ رسیلی لگ رہی ہے۔ کیوں ناآج یہی سہی۔‘‘
’’ہاں، ذرا نہلا دھلا کر چمکا لیں گے۔‘‘ اس نے کہا تواس کے حواری دوستوں نے زور دار قہقہہ لگادیا۔ اس پر انسپکٹر رفاقت آ گے بڑھا اور اس نے سائرہ کو اٹھا نے کا اشارہ کیا۔ تبھی خان فرحان نے اونچی آواز میںکہا۔
’’نہیں انسپکٹر، ان دونوں میں سے ایک کوچھوڑ کر جانا ہو گا تمہیں، اب یہ میری ضد ہے۔‘‘
’’خان جی چلیں نا اندر میں بتاتاہوں نا آ پ کو۔‘‘ سلامت خان نے التجا سے کہا تو وہ بولا۔
’’اور یہ میرا حکم ہے کہ اس پولیس والی کے کپڑے اُتارو، ابھی اسی وقت، ورنہ تم میں سے کوئی نہیںرہے گا، جلدی۔‘‘
اس کے حکم پر چند گن مین نینا کی جانب آ گے بڑھے۔ پولیس والے اسے بچانے کے لیے لپکے تو وہاں پر موجود سیکورٹی والوں نے اپنی گنیں ان پر تان لیں۔وہ ایک لمحے کے لیے گھبر اگئی۔پولیس والے اپنی جگہ ساکت ہو گئے۔ یہ صورت حال دیکھ کر انسپکٹر رفاقت نے آگے بڑھتے ہوئے مصالحانہ انداز میں کہا۔
’’دیکھ ! چھوٹے خان، میں اس وقت ڈیوٹی پر ہوں، میں اس لڑکی کو بازیاب کرنے آ یا ہوں، اندر جائو، اور مجھے میرا کام کرنے دو۔‘‘
’’تم مجھے نہیں جانتے ہو، اور نہ میری ضد سے واقف ہو، جائو، اور اس پولیس والی کو چھوڑ جائو۔‘‘ اس نے حقارت سے کہا پھر گھور کر رُکے ہوئے سیکورٹی والوں کو دیکھا، وہ آ گے بڑھ کر نینا کو پکڑنے لگے، نینا بے بس ہو چکی تھی۔ سلامت خان آگے بڑھا اور اس کے پاس گیا۔ اس کے گریبان میںہاتھ ڈالا، اور اس کا گریبان چاک کر دیا۔ اسی لمحے اس کے پیچھے کھڑے ایک گن مین نے اسے گردن سے پکڑ کر دھکا دیا۔وہ فرش پر جا پڑی۔ اس کے سر کی ٹوپی وہیں کہیںگر گئی۔
’’اس کی قمیض پھاڑو سلامت خان۔‘‘ خان فرحان کا حکم گونجا۔ اس نے آ گے بڑھ کر نینا کی قمیص پکڑ کر پھاڑ دی۔ نینا کا اوپری سفید اُجلا بدن، گہری نیلی وردی کی دھجیوں میں سے جھانک رہا تھا۔’’اب اس کی شلوار بھی۔‘‘ اس کا حکم پھر گونجا ہی تھا کہ ایک ٹھنڈی سی آواز گونجی۔
’’کیا کرتے ہو بیٹے، ایسے خواہ مخواہ ضد نہیں کرتے، یہ انسپکٹر اپنا کام کر رہاہے، اسے کرنے دو۔‘‘
اس ٹھنڈی آواز کے ساتھ ہی ایک ادھیڑ عمر شخص نمودار ہوا۔ وہ سردار مٹھن خان تھا، جو اسی وقت وہاں آ گیا تھا۔ درمیانے قد کا، سرخ سپید چہرہ، اس کے چہرے پر خاص بات اس کی اوپر کو اٹھی ہوئیں نوک دار خشخشی مونچھیں تھیں۔سفیدکرتا اور شلوار پہنے ہوئے تھا۔ اس کے کاندھے پر لنگی نما چادر تھی۔ اس کے یوں کہنے پر سیکورٹی والے ایک دم پیچھے ہٹ گئے۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا ہوا چند قدم آ گے آ یا اور انسپکٹر رفاقت سے مخاطب ہوکر بولا،’’لے جائو، اس بے چاری لڑکی کو لے جائو۔ ادھر رستے میں بے ہوش پڑی تھی۔ میرے آ دمی اسے اٹھاکر لے آئے ہیں۔ ورنہ یہ بے چاری وہیں مر جاتی۔
’’سردار جی ! آپ کے بیٹے نے بہت…‘‘
’’وہی سنو، جو میںکہہ رہا ہوں۔ یہی بات تم نے ایف آ ئی آر میںبھی لکھنی ہے نا، میں اسی لیے تمہیںبتا رہا ہوں۔ اب ایسا کر جلدی سے چلا جا، اس بے چاری لڑکی کو کسی اسپتال میں داخل کروا۔ تم بھی تلاش کرو، ہم بھی وہ مجرم ڈھونڈتے ہیں، جنہوں نے اس بے چاری پر ظلم کیا، میںنے ڈی ایس پی سے بات کر لی ہے۔‘‘ اس نے یہ کہا، چند لمحے انسپکٹر رفاقت کے چہرے پر دیکھا پھر مڑ کر واپس چلا گیا۔خان فرحان اپنے دوستوں کے ساتھ، اس کی باتوں کے دوران ہی وہاں سے چلا گیا تھا۔ انسپکٹر رفاقت نے کوئی بات نہیںکی۔ نینا نے خود کو سمیٹا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے دماغ میں جو بے بسی کا دکھ تھا، وہ سلگنے لگا۔ وہ سائرہ کے پاس گئی اور اسے اٹھاکر ڈیرے سے چل دی۔ آگ کا شعلہ اس کے دماغ میںبھڑک اٹھا تھا۔ اس نے اپنا آپ اپنے آنچل میںچھپا لیا تھا۔
انسپکٹر رفاقت غصے سے زیادہ دکھ سے بھرا ہوا تھا۔ ڈی ایس پی وہیںموجود تھا۔ اسے دیکھ کر وہ دکھ بھرے لہجے میںبولا۔
’’سر ! میں ایف آئی آر نہیں، اپنا استعفی لکھوں گا، مجھے یہ نوکری نہیں کرنی۔‘‘
’’نہیں، تم ابھی اپنا غصہ ان پر نکال لو جو اس میڈم کو تنگ کرتے رہے ہیں، انہیں لے آئے ہیں۔ پہلے تم ایف آئی آر درج کرائو پھر جائو اور اس بچی کو اسپتال داخل کرا آئو۔‘‘ ڈی ایس پی نے کافی حد تک نرم لہجے میںکہا۔
’’نہیں سر، میں…‘‘
’’جو کہہ رہا ہوں نا وہ کرو، بعد میں تم جو کہو گے وہی گا، تھوڑی سی عقل برتو۔ان کے جسم پر نشان چھوڑو،میںبیٹھا ہوں ادھر۔‘‘ ڈی ایس پی نے کہا۔نینا کو معلوم تھا کہ ایف آئی آر کے بعد وہ سائرہ کا میڈیکل کروانا چاہتے ہیں۔ وہ بھی ساتھ جانے کو تیار تھی۔ ایف آئی آر درج ہو گئی۔ اتنے میں میڈم سمیرا آ گئی۔ اس کی حالت پاگلوں کی طرح تھی۔ اس کی ایسی حالت کیوں نہ ہوتی، جس کی ایک اکلوتی بیٹی کو بھیڑیوں نے چیر پھاڑ کر رکھ دیا ہو۔
کیسی یہ زمین ہے اور کیسا اس کا قانون ہے، ایک بے غیرت شخص نے بڑے آرام سے ان پولیس والوں کو سمجھا دیا تھا کہ ایف آ ئی آر کیسے درج کر نی ہے۔ قانون کی دھجیاں یوں اڑائی جاتی ہیں؟ اس میں ایک استاد کی یوں تو ہین ہی نہیں اس پر ظلم بھی کیا جائے گا، نینا سے برداشت نہیںہو رہا تھا۔ میڈم سمیرا آ ئی اور کچھ کہے بنااپنی بیٹی کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے یوں تکنے لگی، جیسے وہ پہلی بار دیکھ رہی ہو۔وہ اس کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگی یوں جیسے اس کے زخموں کواپنے بدن پر محسوس کر رہی ہو۔ پھر اس نے بڑی نرمی سے سائرہ کو اٹھاتے ہوئے بولی۔
’’آئو چلیں، اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔‘‘ یہ لفظ کسی تیر کی طرح نینا کے سینے میںپیوست ہو گئے۔ وہ بے ساختہ آ گے بڑھی تو میڈم سمیرا نے ہاتھ کے اشارے سے وہیںروکتے ہوئے کہا۔
’’وہیں رُک جائو، آ گے مت بڑھنا، میں نے سوچا تھا، پولیس تحفظ دیتی ہے، جب پولیس ہی ناکارہ ہے تو کسی کا کیا دوش۔ ہم پہ ظلم ہو اکوئی بات نہیں، تم بھی کبھی اپنی صورت نہ دکھانا۔‘‘ میڈم کا لہجہ اس کا جگر چھلنی کر گیا۔ وہ ساکت ہو گئی تھی۔ ڈی ایس پی نے جب اسے جاتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
’’میڈم، ایف آئی آر درج کرنی ہے اور …‘‘
’’جو حفاظت نہ کر سکے، وہ انصاف کیادلاسکتا ہے۔یہ زمین اب انسانوں کے لیے نہیں رہی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سائرہ کو لے چل دی۔باوجود شدید خواہش کے وہ ایک قدم بھی آ گے نہ بڑھا سکی۔ سبھی بے دست و پا، وہیںکھڑے رہ گئے۔
ڈی ایس پی چلاگیا توانسپکٹر رفاقت اپنا غصہ وہاں پکڑے ہوئے ملزموں پر اتارنے لگا۔ جبکہ نینا وہاں سے نکلی اورپولیس لائین میں اپنی بارک جا پہنچی۔ اس نے کپڑے بدلے تو وہاں موجود ہر لڑکی کو پتہ چل گیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔آپی فوزیہ نے زبردستی اسے کھلانا پلانا چاہا مگر اس کا جی نہیںچاہا۔ وہ ایک کونے میںجا بیٹھی۔وہ رونا چاہتی تھی، مگر رو نہیںپا رہی تھی۔ آنسو اس کی پلکوں پر خشک ہو چکے تھے۔ اسے بار بار خان فرحان کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ کس قدر غرور اور رعونت کے ساتھ اس نے سائرہ پر گولی چلائی تھی۔ اس کا دماغ پھٹنے لگا۔ ا س کا دل چاہا کہ ابھی اٹھے اور اس بے غیرت سانپ کا سر اپنے ہاتھوں سے کچل دے۔ لیکن وہ بے بس تھی۔
ساری رات بیت گئی۔ وہ اسی طرح چارپائی کے ساتھ لگی فرش پر بیٹھی خود سے سوال کرتی رہی۔ کیا ظلم کے لیے کمزور ہی ہوتے ہیں؟ہاں کمزوروں پر ہی ظلم ہوتا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ طاقت ور کیوںنہیں؟ یہ مظلوم ہی ہے جو ظالم کو جنم دیتا ہے۔ظالم کے ظلم ہی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر بے غیرت، کمینہ اور ننگ ِانسانیت ہے۔ وقت کا احساس ہی نہ ہوا۔ابھی ملجگا اندھیرا تھا۔اس کا فون بج اٹھا۔ انسپکٹر رفاقت کی کال تھی۔ اس نے فوری طور پر اسے تھانے بلایا تھا۔
جس وقت وہ تھانے پہنچی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔سامنے دوچارپائیوں پر سفید چادر سے ڈھکے دو جسم پڑے تھے۔انسپکٹر رفا قت نے اشارے سے کہا کہ اس لاش کا منہ دیکھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے کپڑا ہٹایا تو وہ تاب نہ لاسکی۔ جلے ہوئے چہرے، مسخ ہو چکے تھے۔اگر وہ ان کے ساتھ نہ رہی ہوتی تو شاید وہ انہیںپہچان بھی نہ پاتی۔ وہ میڈم سمیرا کی لاش تھی۔ وہ میٹھی نیند سو چکی تھی۔ وہ میڈم کا چہرہ دیکھتے ہوئے جم کر رہ گئی۔ اس کے کانوں میں میڈم کے کہے یہ لفظ گونج گئے کہ ’’آئو چلیں، اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔‘‘ اس کی ہمت نہیںپڑ رہی تھی کہ وہ سائرہ کی لاش دیکھے۔ اس کے قریب کھڑی ایک اہلکار نے سائرہ کے چہرے سے بھی کپڑا ہٹا دیا۔وہ معصوم بھی اس دنیا کے ظلم کا شکار ہو کر یہاں سے جا چکی تھی۔ نینا سے دیکھا نہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ اس کا سر گھوما اور وہ وہیں گر گئی۔وہ ہونقوں کی طرح یہ سب دیکھتی رہی جیسے بندہ سامنے دیکھ رہا ہوتا ہے، لیکن اس کی عقل سمجھ مائوف ہو جاتی ہے۔ وہیں اسے پتہ چلا کہ ان دونوں ماں بیٹی کو کچھ لوگوں نے قتل کیا ہے؟ یہ ساری کارروائی وہاں موجود ایک چوکیدار نے دیکھی تھی۔ دو لوگ تھے جو ایک کار میں سے نکلے تھے۔ وہ گھر کی چار دیواری پھلانگ کر اندر کود گئے۔ چند منٹ بعد ہی ایک دم اندر سے فائرنگ کی آواز یںآ نا شروع ہو گئیں۔ چوکیدار اکیلا ان کا مقابلہ نہیںکر سکتا تھا۔ اس نے واویلا کیا، لوگوں کو بلانے کے لیے بھاگا،اس کے واویلے پر لوگ اپنے گھروں سے نکل بھی آئے لیکن اس وقت تک وہ حملہ آور باہر آ چکے تھے۔ وہ اطمینان سے کار میںبیٹھے اور وہاں سے چل پڑے۔وہ گلی سے نکلے نہیںتھے کہ گھر کو آ گ لگ گئی۔ لوگوں نے بڑی مشکل سے ان دونوں کو باہر نکالا،لیکن یہ کوشش انہیںبچا نہ سکی۔ اس وقت تک وہ دونوں ماں بیٹی اس جہاں سے جا چکی تھیں۔ اس قدر بھیانک موت ؟ کیا قصور تھا ان کا۔ یہی قصور تھا کہ وہ اس جنگل میں رہ رہی تھیں۔ جہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ قانون کے رکھوالے؟بے غیرتی انسانی آبادی میں دندناتی پھر رہی ہے؟
میڈم سمیرا اور سائرہ کی تدفین کے دو دن بعد تک وہ پوری طرح ہوش میں نہیں آئی۔ انسپکٹر رفاقت اس کی حالت سمجھ رہا تھا۔ اس لیے اس نے نینا کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔ وہ اپنے گھر گائوں آ گئی۔ جہاں اس کے پاس سوائے سوچوں کے اور کچھ نہیںتھا۔اسے سب سے زیادہ غصہ مٹھن خان کے بیٹے فرحان پر آ رہاتھا۔ کس قدر رعونت سے وہ اس کے کپڑے اتار دینے کی بات کر رہا تھا۔ عام حالات میں ایک پولیس والا کسی بندے کو بات نہیںکرنے دیتا، گالیاں بک دے، تھپڑ ماردے، غریب آ دمی سہہ جاتا ہے۔ لیکن مٹھن خان جیسے لوگوں کے سامنے یہی پولیس والے بھیگی بلی کی مانند خاموش رہتے ہوئے ان کی تابعداری کرتے ہیں۔
یہ اس معاشرے کی منافقت ہے یا کہ حکمران طبقوں کی بے غیرتی کہ عوام کو انسان نہیں سمجھتے اور خواص کے بے دام غلام ہوتے ہیں۔وہ جتناسوچتی، اتنا ہی اس کا دماغ خراب ہوتا، دوسری طرف سائرہ کا معصوم چہرہ جب بھی اسے یاد آتا تو ڈیرے پر ہونے والا ظلم اسے جھنجوڑ کے رکھ دیتا۔وہ ایک دم سے انتقام لینے کا سوچتی۔ اس کا جی چاہتا کہ وہ ان سب کو شوٹ کر دے، انہیں بھی اسی طرح اذیت دے کر مار ہے، جیسے انہوںنے سائرہ اور میڈم سمیرا کو قتل کیا تھا۔ لیکن وہ بے بسی کی انتہا پر تھی۔ایک غریب مجبور لڑکی، جسے اپنی روٹی پوری کرنے کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ وہ نوکری کرے تو اسے یونہی جینا تھا، سر جھکا کر ہر طرح کی بے عزتی کا سامنا کرنا تھا، انسپکٹر رفاقت میں تھوڑی غیرت تھی،اس نے استعفی دے دیا تھا۔ وہ ایک معمولی کانسٹیبل، جس کی کوئی شنوائی ہی نہیں تھی۔ وہ اپنی بے عزتی کروائے یا پھر ہر قسم کی اذیت ختم کرنے کے لیے سوائے خود کشی کے دوسرا کوئی راستہ نہیںہے۔ وہ مر جائے گی تو کوئی جھنجٹ نہیں رہے۔ ہر نیا دن اس کے اندر یہی سوچ مضبوط کرتا چلا گیا۔وہ بہت اذیت ناک دن تھا۔ اس کے اندر کی وہ لڑکی غیرت سے مر رہی تھی۔یہ سوچ روز بروز اس قدر پختہ ہو رہی تھی کہ اسے خود لگتا تھا کہ بس کسی ایک دن اس نے خودکشی کر لینی ہے۔
وہ دوپہر کا وقت تھا۔ اس نے نہاکر نیا جوڑا پہنا اور اپنی ماں کے پاس چلی گئی۔ماں نے اسے سر سے پائوں تک دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
’’بیٹی، یہ تم تیار ہو کر کہاں جا رہی ہو؟‘‘
’’ماں، اب تودل کرتا ہے، بہت دُور کہیں چلی جائوں، جہاں سے پھر کبھی واپس نہ آئوں۔‘‘
ماں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر منہ دوسری طرف کر کے بولی۔
’’جب بیٹوں کا بوجھ بیٹیاں اٹھا لیں، تو انہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، انہیں مر ہی جانا چاہئے۔‘‘
ماں کی بات اور اس کے حسرت بھرے لہجے پر وہ چونک گئی۔اسے ایک دم سے خیال آیا کہ اس بوڑھی ماں، بیمار بھائی کا کون ہے ؟ یہ تو مجبور ہیں۔ چھوٹا بھائی جو مزدوری کر رہا ہے، وہ تو خود کو سنبھال لے گا، وہ ان کی مجبوری کا بوجھ برداشت نہیں کر پائے گا۔ وہ بھی اگر انہیںچھوڑ گیا تو؟ وہ اس سے آ گے سوچ نہ سکی۔ وہ گڑبڑا گئی۔تبھی اس نے بات بناتے ہوئے کہا۔
’’میرا تبادلہ بھی تو ہو سکتا ہے، چوبیس گھنٹے کی نوکری کہیںبھی کرنا پڑ سکتی ہے، مجھے گولی بھی لگ سکتی ہے، ہمارا واسطہ مجرموں سے ہوتا ہے۔‘‘
’’بیٹا! موت موت کافرق ہوتا ہے، موت برحق ہے، اسے ناحق نہ بنائو، اس خدا کے پاس جائو، تو سرخرو ہوکر، وہ بڑا بے نیاز ہے۔‘‘ ماں نے دھیمے لہجے میں ایسی حوصلہ افزا بات کی کہ وہ باقی سارا دن یہی سوچتی رہی۔ اسی شام اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ واپس پولیس لائن چلی جائے گی۔
بارک نمبر تین میںموجودلڑکیاں اس سے یوں ملیں جیسے وہ اسی کی منتظر ہوں۔آپی فوزیہ نے جہاں اسے بہت حوصلہ دیا۔ وہاں نئے راستے بھی دکھائے۔ اس نے بہت ساری معلومات بھی دیں۔ اُس رات نینا کو بہت دیر بعد نیند آ ئی تھی۔ وہ بستر سے اٹھی اور اپنے کوارٹر کے باہر آ کر بیٹھ گئی۔چاندنی رات میں آنگن میںدھری چار پائی پر وہ بہت دیر تک سوچتی رہی۔ کوئی بھی سرا ہاتھ نہیں آ یا سوائے خیال کے۔ وہ بے بس ہے، مجبور ہے اور کمزور ہے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور اٹھ کر اندر چلی گئی۔
خ…خ…خ
اس دن وہ عدالت میںتھی۔ایک ملزم عورت کا بیان کروانے کے لیے اس کے ساتھ میںڈیوٹی لگی ہوئی تھی۔ وہ ایک بینچ پر ملزم عورت کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ ایک کانسٹیبل بھی کھڑا تھا۔ لوگ آ جارہے تھے۔ اچانک اسے زور دار قہقہہ سنائی دیا۔ اس نے لاشعوری طور پر ادھر دیکھا۔ملک زاہد عدالت سے باہر آرہا تھا۔ اس کے ساتھ کئی پولیس والے تھے۔وہ قہقہہ وہی لگا رہا تھا۔وہ لوگ کسی خوشی کی خبر پر خوش تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ یا کہ وہ خوشی کیا ہو سکتی ہے۔اچانک ہی اسے اپنی گزری ہو ئی زندگی وہ لمحات سارے کے سارے یاد آ گئے۔ وہ آنکھیںبھر کر اسے دیکھتی رہی۔ایک لمحے کے لیے اس کے اندر یہ خواہش اٹھی کے وہ اس کے پاس جا پہنچے، اسے بتائے کہ میرے ساتھ کیاظلم ہو چکا ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ ٹھٹک گئی۔ وہ تو اسے بھلا چکی ہے۔ ملک زاہد نے تو اسے یاد کیا ہوگا، شاید کالز بھی کی ہوں گی۔ اب وہ قصہ پارینہ ہے۔ وہ جا کر بھی بتائے کہ میں کون ہوں تو وہ یقین نہ کرے۔اس کے ساتھ کھڑا کانسٹیبل آ گے بڑھ گیا تھا۔ کچھ دیر بعد ملک زاہد کو پولیس کی گاڑی میںبٹھا دیا گیا، وہاں موجود لوگ بھی ادھر اُدھر ہوگئے۔ اس کا ساتھی کانسٹیبل بھی واپس آ گیا۔ اس نے یونہی تجسس میںپوچھا کہ کون تھا اور کیا بات تھی تو اس کے ساتھی کانسٹیبل نے جواب دیا۔
’’یہ ملک زاہد ہے، اس نے اپنے ایک دشمن کو مارنے کی کوشش کی تھی۔ وہ مرا نہیںزخمی ہو گیا تھالیکن کل وہ مر گیا ہے۔ یہ لوگ اسی کی خوشی منا رہے تھے۔‘‘
’’کیا نام تھا زخمی کا ؟‘‘
’’چوہدری پرویز، بڑا نامی بندہ تھا۔‘‘ اس نے تو یونہی سر سری سے انداز میںکہا تھا لیکن اس کے اندر سے خوشی کی لہر پھوٹی، جس نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی ایک حسرت سی اس کے دل میںاٹھی تھی۔وہ دل مسوس کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنی خوشی بھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی تھی۔ پھر اس نے ملزمہ کے بیان کروائے،عدالت سے تھانے آئی اور پھر بارک چلی گئی۔ اس کے ذہن سے ملک زاہد نہیںنکلا۔ وہ شام بھی یونہی سوچوں میں گز ر تی چلی جارہی تھی کہ اچانک وہ ایک خیال سے ٹھٹک گئی۔پھر وہ سوچتی چلی گئی۔
ایک وقت تھا، جب اس نے ملک زاہد کو استعمال کر کے اپنا مقصد پورا کر لیاتھا۔مرنے والا اور مارنے والا دونوں ہی کوئی انسانیت کی خدمت نہیں کر رہے تھے کہ افسوس کیا جاتا۔ اسے پھر اسی لیڈی کانسٹیبل کی بات یاد آگئی کہ’’ایک بات یاد رکھنا، تلوار اور بندوق دونوں ہی ہتھیار ہیں۔لیکن تلوار بندوق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یاد رکھنا۔‘‘ وہ اس بات کو سمجھ گئی تھی۔
اس معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ اچھے بھی اور برے بھی۔ بہت سارے اچھوں میںبظاہر اچھے، بڑے بڑے کریہہ وجود سڑاند مارتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سارے بروں میں کہیںکہیں اچھے لوگ بھی پڑے ہیں۔ اسی طرح کوئی صرف چھری جیسا ہے، کوئی خالی بڑھکیں مار کر بدمعاشی قائم رکھے ہوئے ہیں، کئی بہن بدمعاش ہیں جو عورتوں کو آ گے کر کے ان کے پیچھے بدمعاشی کرتے ہیں، کئی تلوار جیسے ہیں، کوئی خنجر ہے اور کوئی گن جیسے۔ مقابلہ ایک جیسے کا ہی ہوتا ہے اور جو بھاری ہوتا ہے، وہ جیت جاتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے، یہ طاقت جیسی بھی ہو،چوہدری پرویز اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے تو کوئی دوسرا کیوں نہیں؟یہ خیال پھیلتا چلاگیا۔ رات گئے تک اس نے سوچ لیا کہ اسے لوگوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کر لڑوانا نہیں، چند لوگوں کو اپنا دوست بنانا ہے، جو کہیں بھی اس کے کام آ سکیں، پھر دیکھا جائے گا۔ اب یہ کھیل صرف زبان کا تھا، جس کی بنیاد میں یادداشت اور ذہانت ہی کا کام تھا۔ وہ یہ سب سوچ کر مسکرا دی۔ نجانے کتنے دنوں بعد وہ مسکرائی تھی۔
خ…خ…خ
وہ ایک الجھی ہوئی شام تھی۔ وہ سارا دن عدالت میں ڈیوٹی کر کے تھانے پہنچی۔ وہ تھکی ہاری ہوئی ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئی۔ ساتھی کانسٹیبل نے چائے کا کہا تھا، وہ اسی انتظار میں تھی۔ساتھ والے کمرے سے انسپکٹر کی باتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ چند دن پہلے ہی نیا آیا تھا۔ اس کے بارے میں گما ن یہی کیا جا رہاتھا کہ اسے سردار مٹھن خان نے ذاتی دلچسپی لے کر یہاں لگوایا ہے۔ ظاہرہے اس انسپکٹر نے اسی کی جی حضوری کرنا تھی۔ مگر اب تک کوئی ایسا کیس یا معاملہ سامنے نہیںآ یا تھا، جس سے یہ ظاہر ہو جائے کہ یہ سردار مٹھن خان کا بندہ ہے۔ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کے سامنے چائے آ گئی، اور اس کے ساتھ ہی ایک انتہائی کرب ناک خبر بھی سننے کو ملی۔
’’یہ جو بندہ صاحب کے پاس بیٹھا ہے، پتہ ہے کون ہے ؟‘‘ اس کے کولیگ کانسٹیبل نے بتایا
’’کون ہے ؟‘‘ اس نے کپ اٹھاتے بے پروائی سے پوچھا۔
’’یہ شہر کا مشہور جوئے باز ہے۔ سب سے زیادہ بھتہ یہیں سے آتا ہے۔‘‘ پھر اس کے بعد جو اس نے بتایا وہ نینا کے لیے روح فرسا تھا۔ میڈم سمیرا کا گھر، جو کبھی علم کی آ ماجگاہ تھا، وہ شہر کے سب سے بڑے جواری نے خرید کر اس میں کرکٹ جوئے کی ابتدا کر دی تھی۔ خریدا کس سے، کس نے بیچا؟ کچھ پتہ نہیں ؟ تھانے میںنئے آ نے والے انسپکٹر کو بھاری رقم پہنچا دی گئی تھی۔انسانیت ہار گئی اور ظلم جیت گیاتھا۔ نینا کو لگا کہ اُس دن وہ خود ہار گئی ہے۔ اسے وہ چائے زہر لگنے لگی۔ وہ وہاں بیٹھ نہ سکی۔وہ تیزی سے اٹھی اور بارک نمبر تین میں آگئی۔
خ…خ…خ
وہ مایوسی کی انتہائوں پر تھی۔خود کشی کا خیال مزید پختہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔اس نے میڈم سمیرا اور سائرہ کا انتقام اوراپنی بے عزتی کا بدلہ تو کیا لینا تھا، اس کے دشمن زیادہ طاقت ور ہو کر اس کے سامنے آ گئے تھے۔ وہ سوچ کی جس راہ پر بھی چلتی، اسے کچھ بھی ایسا دکھائی نہیں دے رہا تھا، جس سے وہ اپنے دشمنوں کو نیچا دکھا سکتی۔ یہ سو چتے ہوئے آدھی رات سے زیادہ وقت کروٹیں بدلتے ہوئے گذر گیا تھا۔ پھر نجانے کب وہ گہری نیند سو گئی تھی۔ اچانک اسے لگا جیسے وہ شکنجے میںآگئی ہے۔ وہ چیخ مار کر اٹھ گئی۔وہ ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ ایک دم سے روشنی ہوگئی۔ آپی فوزیہ نے بلب روشن کر دیاتھا۔ نینا خواب میںڈر گئی تھی۔
’’کیا ہوا؟‘‘ آپی فوزیہ نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے گھبراہٹ سے پوچھا۔ وہ چند لمحے ہونقوں کی طرح سب کو دیکھتی رہی۔تب تک اسے خود ہی احساس ہو گیا کہ وہ خواب میںڈر گئی ہے۔اور جو کچھ خواب میں اس نے دیکھا تھا، وہ انہیںبتانہیںسکتی تھی۔ اس لیے وہ آپی فوزیہ کی طرف ممنونیت سے دیکھتے ہوئے بولی
’’کچھ نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر دوبارہ آنکھیںبند کر کے لیٹ توگئی مگر اندر سے لرز رہی تھی۔ اسے یوں لیٹا ہوا دیکھ کر آپی فوزیہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، پھر وہ بھی پلٹ کر سو گئیں۔ وہ خواب کا ایک ایک لمحہ یاد کرنے لگی۔
اس کے خواب میں سائرہ تھی۔ اس نے سفید براق لباس پہنا ہوا تھا، لیکن اس پر خون کے چھینٹے تھے۔ اس کے چہرے پر لہو بہہ رہا تھا۔وہ رو رہی تھی۔ نینا بھاگ کر اس کے پاس گئی تو اس نے اسے دور ہی سے روکتے ہوئے تڑپ کر بولی۔
’’مت آنامیرے پاس، تم بھی گندی ہو جائو گی۔ نہ میرے قریب نہ آنا۔‘‘
’’تم تو مظلوم تھی۔ تمہیں تو جنت میںجانا تھا، یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ اس نے پیار سے پوچھا۔
’’جنت گندے لوگوں کے لیے نہیںہے، وہاں پاک صاف لوگ جاتے ہیں، میں نہیںجارہی ہوں، میںگندی ہوں نا۔‘‘ وہ حسرت آمیز لہجے میں بولی۔
’’نہیںتم پاک ہو، تم جائو جنت میں۔‘‘ نینا نے سمجھایا
’’نہیں، میں گندی ہوں۔‘‘ وہ بولی۔
’’میں تمہیںصاف کر دیتی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔
’’جب تک مجھے گندہ کرنے والے اس دنیا میں موجود ہیں، میں پاک نہیںہو سکتی۔میںجنت میں نہیں جا سکتی۔ کیا تم ان کا گند دنیا سے صاف کر سکو گی ؟‘‘ سائرہ نے پوچھا تو ایک لمحہ کے وہ سوچ میںپڑ گئی پھر پوری ہمت سے کہا۔
’’ہاں ان کے گند سے دنیا کو صاف کر دوں گی۔‘‘
’’تو پھر میں جنت میںہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مڑی اور سامنے پھیلے ہوئے دھویں میں غائب ہو گئی۔ وہ اس کے پیچھے لپکی تھی لیکن اسی لمحے ایک اژ دہا اس کے سامنے آگیا۔ جس کی لپلپاتی ہوئی زبان، اس کے بدن کو چھوئی۔ اسے لگا جیسے اس کے بدن پر دہکتے ہوئے کوئلے رکھ دئیے ہوں۔ وہ اژدہا اسے اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ تبھی اس کی آ نکھ کھل گئی۔
اس رات اسے نیند نہیںآئی تھی۔ وہ خواب کے زیر اثر رہی۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھی کہ اسے ایسا خواب کیوں دکھائی دیا ہے۔ وہ پوری طرح سمجھ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہے۔ اس نے اتنے اردو، انگریزی ناول پڑھے تھے، اس لٹریچر نے اسے شعوری پختگی تو دی ہوئی تھی لیکن وہ صرف فکشن کی حد تک مزہ لینے کے لیے۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیںتھا کہ ایسا عملی زندگی میںبھی کرنا پڑ جائے گا، یا اسے ضرورت پڑ سکتی ہے۔اب اس کے سر پر پڑی تھی، کوئی راستہ نہیںتھا۔اسی کے شعور نے اسے جوراستہ سمجھایا۔ اس نے سمجھ لیاتھا لیکن بے بس تھی۔ اس کے پاس زندگی گزارنے کا مقصد نہیںتھا۔ یہ خواب اسے زندگی گزارنے کا مقصد تودے گیا۔ مگر یہ کیسے ہوگا؟ کس طرح ہوگا، اس بارے میں وہ نہیںجانتی تھی۔ یہ طے تھا کہ اب اسے اس دنیا سے گند صاف کرنا تھا۔
اس صبح وہ وقت پر تیار ہو کر تھانے چلی گئی۔وہاں اس سے بیٹھا نہیںجا رہا تھا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ وہاں سے چلی جائے۔نئے انسپکٹر کی موجودگی کا احساس ایسے ہی تھا کہ وہ بھی اس کا دشمن ہے۔ دشمن کا دوست تو دشمن ہی ہوتا ہے نا۔نئے انسپکٹر کی آواز اور قہقہے اسے تیر کی مانند لگ رہے تھے۔وہ حد درجہ مضطرب تھی۔ وہ تھانے کی عمارت سے نکل کر چار دیواری کے ساتھ آ کر ایک بینچ پربیٹھ گئی۔ ابھی اسے وہاں بیٹھے ہوئے زیادہ دیر نہیںہوئی تھی کہ وہی لیڈی کانسٹیبل اسے سادہ لباس میں آتے ہوے دکھائی دی۔ اس نے چلتے ہوئے اسے دیکھا، پھر مڑ کر اس کی جانب آ گئی۔ نینا کا دل چاہا کہ وہ اس کے سامنے رو دے، اپنی شکست کا اعتراف کر لے، اسے کہہ دے کہ وہ اب یہاں نہیں رہ سکتی۔وہ لیڈی کانسٹیبل اس کے قریب آ گئی، وہ نینا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولی
’’پریشان ہو ؟‘‘
’’ہاں۔ بہت زیادہ پریشان ہوں۔‘‘ نینا نے بھیگے ہوئے لہجے میں کہا تووہ چونک گئی۔
’’نہ نینا بیٹی نہ، ایک آنسو بھی نہیں ضائع کرنا، اگر تمہارا ایک آ نسو بھی ضائع ہو گیا تو تمہارے اندر کی ساری قوت ختم ہو کر رہ جائے گی۔‘‘
’’کیا کروں میںپھر؟‘‘ اس نے تیزی سے کہا۔
’’میں نے ایک کاغذ پر صاحب سے سائن کروانے ہیں، تم یہیںٹھہرنا، میں واپس آتی ہوں، پھر سکون سے بات کرتے ہیں۔‘‘وہ لیڈی کانسٹیبل انتہائی سکون سے بولی
یہ کہہ کر وہ اسے وہیں چھوڑ کر اندر کی جانب بڑھ گئی اور وہیں دوبارہ بینچ پر بیٹھ گئی۔ وہ لیڈی کانسٹیبل چند منٹ بعد ہی واپس آ گئی۔ اس نے دور ہی سے اشارے کے ساتھ کہا۔
’’آئو، میرے ساتھ۔‘‘
وہ اٹھ کر اس کے ساتھ چل دی۔ تھانے کے باہر ایک چھوٹی سفید رنگ کی کار کھڑی تھی۔ وہ اس میںجا کر بیٹھ گئی۔ نینا بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ڈرائیور کار لے کر چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ بالکل نئے علاقے میں ایک نئے تعمیر شدہ گھر میں جا پہنچے۔ ڈرائنگ روم میںبیٹھنے کے بعد اس نے اپنی بہو سے ملواتے ہوئے کہا۔
’’یہ میرے ڈاکٹر بیٹے کی بہو ہے۔‘‘ وہ مل کر پلٹ گئی تو لیڈی کانسٹیبل نے کہا۔
’’میںکل پولیس کی ملازمت سے ریٹائر ہو چکی ہوں۔ اچھا ہوا تم آج مل گئی ہو۔ میںنے اس ملازمت میںکیا کھویا، کیا پایا، یہ سب ایک طرف،گھر اولاد کی تربیت ایک طرف، مگر میں کچھ باتیں بتادوں، اسے غور سے سننا۔‘‘
’’جی میںسن رہی ہوں۔‘‘ نینا نے کہا تو وہ لیڈی کانسٹیبل کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی
’’اس وقت اگر کوئی تمہیں پسٹل تھما دے اور تمہارے سامنے کھڑے تمہارے دشمن کو مارنے کا اختیار بھی مل جائے تو کیا تم دشمن کو مار سکو گی؟‘‘
’’شاید ہاں یا شاید نہیں۔‘‘ اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا تو لیڈی کانسٹیبل بولی
’’تمہارا جواب نفی میں ہے۔ سنو!کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پہلے مضبوط ہونا پڑتا ہے۔پسٹل چلا تے وقت جس کا ہا تھ کانپ جائے، وہ کبھی اپنا نشانہ پختہ نہیں کرسکتا۔ بہترین نشانہ لگانے کے لیے مضبوط ہاتھ کی ضرورت ہے۔تمہیں مضبوط ہوناہے۔ پسٹل پکڑنے والے ہاتھ کو طاقت ور ہونا چاہئے، اور پختہ نشانہ لگانے کے لیے مہارت، اور یہ بنا ریاضت کے نہیں ملتی۔‘‘
’’یہی توبات ہے، میںمجبور اور بے بس ہوں۔‘‘ اس نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا۔
’’یہ صرف تمہاری سوچ ہے۔سب سے پہلے اپنی سوچ کو پختہ کرو۔ فیصلہ کرو، تم نے اپنے دشمن سے انتقام لینا ہے۔ یہی پہلاقدم ہے۔ اور اگر تم نے آنسوبہا دیا، اور ایک آنسو کے ساتھ تمہاری ذات بھی ضائع ہو جائے گی۔جب تک تمہاری آ نکھ میں سے آ نسو نہیںنکلتا، تمہارے اندر کی درندگی قائم رہے گی۔جس نے انتقام کو زندہ رکھنا ہے۔‘‘
’’یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ اس نے اپنی سوچ کی لگا میں تھامتے ہوئے کہا۔
’’جب فیصلہ کر لوگی تو سب ممکن ہو جائے گا۔ اور ہاں، میں شاید ہی آج کے بعد تمہیں ملوں، کیونکہ میں یہاں سے اپنے دوسرے بیٹے کے پاس جا رہی ہوں۔ میں تمہیں ایک نمبر دیتی ہوں، وہاں سے ایک خاتون بات کرے گی۔ میں آج انہیں تمہارے بارے میںبتا دوں گی۔ اگر تم فیصلہ کر لو تو انہیں اپنے فیصلے سے آ گاہ کر دینا، پھر انہیں سے رابطہ رکھنا، یہ تجسس نہیں کرنا کہ وہ کون ہے ؟ جب تک وہ خود نہ کہیں، پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔‘‘ لیڈی کانسٹیبل نے حتمی انداز میں کہا۔ اتنے میں اس کی بہو چائے لے کر آ گئی تو باتوں کا رخ ہی بدل گیا۔ بلاشبہ اس نے جان بوجھ کر اپنی بہو کے سامنے بات نہیں کی تھی۔ کچھ دیر بعد ڈرائیور اسے واپس تھانے چھوڑ کر گیا تو اس کے اندر کی بے بسی کہیںگم ہو چکی تھی۔ وہاں ایک نئی نینا کا وجود میں آگیا تھا۔
اسی رات اس نے ریاضت سے گذرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور فیصلہ بھی اس پختگی کے ساتھ کیا کہ ابھی اور اسی وقت سے۔ اس وقت ابھی اندھیرا ہی تھا۔ مگر اس نے پروا نہیں تھی۔ خود سے کی ہوئی کمٹمنٹ کو پورا کرنا تھا، اِس لیے اُس نے ٹریک سوٹ پہنا اپنے کوارٹر سے نکلی اور بارک نمبر تین کے سامنے وسیع و عریض میدان میں پہنچ گئی، جہاں پریڈ ہوتی تھی۔
وہ جس وقت واپس کوارٹر آئی تو ہلکی خنکی والے دنوں میں بھی اس کا ٹریک سوٹ پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ اس کے رخسار سرخ تھے۔ آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ اس کا لہجہ بھی بدل گیا۔ اس نے اپنے اندر سے مظلوم عورت نکال باہر پھینکی تھی۔
چند دن بعد ہی وہ پولیس کی لازمی ٹریننگ کے لیے اپنی دوسری بھرتی ہونے والی کانسٹیبل لڑکیوں کے ساتھ پولیس کے ٹریننگ سنٹرآ گئی۔ جہاں اس نے ٹریننگ کرنا تھی۔ پہلے ہی دن کے لیکچر نے اسے سکھا دیا کہ اس نے جو سوچا تھا، وہ درست تھا۔ اسے ہر طرح سے مضبوط ہونا تھا۔ یہی مضبوطی اسے دشمن کو زیر کرنے کے لیے ایک بڑا ہتھیار تھی۔
چند ہفتوں بعد ہی اس کے انسٹرکٹر حیران رہ گئے۔ دوسری لڑکیاں تو ڈرل مشکل سے کرتی تھیںاور نینا صبح منہ اندھیرے میدان میںہوتی، نومبر کی ٹھنڈ میںبھی اس کا ٹریک سوٹ پسینے میںبھیگا ہوا ہوتا۔شام کو وہ جم چلی جاتی۔ وہاں لوگ حیران تھے کہ یہ ایک کھسکی ہو ئی جنونی ہے، جسے کسی سے کوئی غرض نہیں سوائے اپنے بارے میں سوچنے کے۔ نینا نے یہ راز افشا ہی نہیںکیا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ سبھی نے اس کا شوق سمجھا۔ اس کے انسٹرکٹر اسے گائیڈ کرنے لگے اسے بہترین مشورے ملے۔ کئی رہنمائی کرنے والے مل گئے۔ وہ اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی دھن میں سب کچھ بھلا چکی تھی۔ اسے یاد تھا تو صرف یہ کہ اس نے سائرہ اور میڈم سمیرا کا انتقام لینا ہے۔ اور جس نے اسے منہ بھر کے ننگا کر دینے کی بات کی تھی، اسے بتا نا کہ جب کمزور اپنے انتقام کی ٹھان لیتا ہے تو کس قدر خطرناک ہو جاتا ہے۔
اس کی دوسری توجہ سیل فون دوستوں پر تھی۔ وہ ان سے رابطے میںرہتی تھی۔ وہ لوگ کون تھے، کیسے تھے، اس بارے میںکبھی اس نے کسی سے کوئی بات نہیںکی تھی۔ یہ ایک راز تھا، جسے وہ خود سے بھی چھپا کر رکھتی تھی۔
ایک برس یوں گزر گیا۔ ان کی پاسنگ آئوٹ پریڈ ہو گئی۔ اس نے کئی انعام جیتے۔ سب سے اہم نشانہ بازی کا انعام تھا۔ شوٹنگ کلب میں نشانہ بازی سے اس کا نشانہ اتنا پختہ ہو گیا تھا۔ وہ کوئی بھی شے اچھال کر اس کا نشانہ لگانے میںماہر ہو چکی تھی۔دوبدو فائٹنگ میں کوئی لڑکی اس کے سامنے نہیں آتی تھی۔ جس حد تک جوڈو کراٹے کی تربیت سینٹر میں دی جاتی تھی وہ اس میںتاک ہو گئی۔ جب وہ ٹریننگ سے واپس آ ئی تو وہ پہلے والی نینا نہیں رہی تھی۔ وہ بالکل بدل چکی تھی۔اس کی سوچ یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ وہ اپنی ٹریننگ کر کے واپس آ گئی تھی۔
اس پورے دورانیے میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار، اس کا سیل فون تھا۔ اس نے بہت سارے لوگوں کی چھان پھٹک کے بعد محض چند لوگوں کے ساتھ دوستی بنائی تھی۔ جن میں دو لڑکیا ںاور کچھ مرد حضرات تھے۔وہ انہی سے بہت سارا کام لینے والی تھی۔ وہ سبھی اپنی اپنی جگہ کوئی نہ کوئی ’’شے‘‘ تھے۔
خ…خ…خ
اس دوپہر وہ اپنے کوارٹر میں بیٹھی ہوئی اپنی آئندہ کی پلاننگ کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔وہ نمبر اس کے لیے اجنبی نہیںتھا۔ اسی لمحے اس کے اندر سے جو خوشی کا طوفان اٹھا، اس طوفان سے وہ یک لخت ٹھٹک گئی۔ کیا وہ اس قدر شعیب کا انتظار کر رہی تھی۔کیا وہ لاشعوری طور پر اس کی منتظر تھی؟ اس نے کال رسیو کی تو اسے اپنی آواز کی لرزش واضح محسوس ہوئی۔ اس نے ہیلو کہا۔
’’شکر ہے تمہارا نمبر نہیںبدلا، ورنہ شاید میں تمہیںکھو چکا ہوتا۔‘‘ شعیب کی چہکتی آواز میںبولا
’’مگر میں تمہارا انتظار کر رہی تھی۔‘‘ اس نے جب یہ لفظ کہے تو نجانے ان لفظوں کے ساتھ کیسے کیسے احساس گندھے ہوئے تھے کہ شعیب نے پوچھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو؟‘‘
’’ہاں میںٹھیک ہوں؟‘‘ اس نے خود پر قابو پاکر کہا۔
’’ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے واپس آئے ہوئے۔ تب سے سوچ رہاتھا کہ تمہیں فون کروں۔‘‘ اس نے خوشی سے کہا۔
’’تو پھر کیا نہیں؟‘‘اس بار وہ خود پر قابو پا چکی تھی
’’ڈر رہاتھا، کہیں تمہارا نمبر نہ بدل گیا ہو، یا پھر تم مجھے پہچاننے سے انکار کردو۔‘‘ اس نے صاف گوئی سے کہا تو وہ ہنس دی پھر بولی۔
’’نہیں، ایسا تو نہیںہے۔‘‘
’’سنائو، سی ایس ایس کی تیاری کہاں تک پہنچی؟‘‘ اس نے بڑے پیار سے پوچھا تو وہ خاموش رہی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ لمحوںتک اُسے کوئی جواب نہ دے پائی تو شعیب نے پوچھا۔
’’خیریت ہے، تم بول نہیںرہی ہو ؟‘‘
’’جب حالات ہی کسی دوسری راہ پر ڈال دیں تو پھر اپنی خواہشوں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔چھوڑو، کوئی دوسری بات کرو۔‘‘ اس نے حسرت آمیز لہجے میں کہا۔
’’نینا ! کیا بات ہے، تیرا لہجہ کتناکرب ناک ہے، کیا ہوا، بتائوپلیز۔‘‘اس نے تیزی سے پوچھا۔
’’چھوڑو شعیب، کیوں زخم کریدتے ہو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھیگ گئی۔ جس پر شعیب نے تڑپتے ہوئے انداز میں پوچھا۔
’’بولو، مجھے بتائو، کیاہوا، میںجاننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’جب ملے تو بتا دوں گی۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو شعیب غصے میںبولا۔
’’تمہاری یہ عادت مجھے انتہائی گندی لگتی ہے جو تم پہیلیاں ڈالتی ہو۔ میں تو تم سے ابھی اور اسی وقت مل سکتا ہوں، تو کیا مل لو گی ؟ تم تو کئی …‘‘
’’بتائو کہاں ملنا ہے، میں ابھی آ جاتی ہو ں۔‘‘اس نے شعیب کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’بولو کہاں سے پک کروں؟‘‘ اس نے بھی کہہ دیا تو نینا نے ایک پوائنٹ بتایا۔ اس پر شعیب نے کہا۔
’’میں پندرہ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔‘‘ شعیب نے کہا اور فون بند کردیا۔
وہ دئیے گئے وقت پر وہاں پہنچ گئی۔ اسے وہاں ایک کلین شو، سرخ و سپید رنگت والا، جوان نئے ماڈل کی کار میںبیٹھا دکھائی دیا۔ وہ بہت حد تک بدل گیا تھا۔یہاں تو وہ پتلا سا تھا، لیکن سامنے موجود شعیب اس قدر پر کشش ہوگا یہ اس نے تصور بھی نہیںتھا۔سیاہ ریبین لگائے وہ ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔وہ دھیرے سے مسکرا دی۔ اس کے اندر کی عورت انگڑائی لے کر بیدار ہو گئی تھی۔اس کے اندر کی عورت نے آنکھ کھول لی، نسوانیت نے زور سے ہلچل محسوس کی۔ وہی کشش جو ایک عورت مرد میں محسوس کرتی ہے۔
شعیب نے اسے حجاب ہی میںدیکھا تھا۔اس نے صرف آ نکھیں دیکھی تھیں، وہ تو اس کے بدن کے نشیب و فراز سے بھی واقف نہیںتھا۔ وہ جو خود اسے پہچان نہیںپائی تھی، تووہ اسے کیا پہچان سکتا تھا۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ چلتے ہوئے اس کی کار کے پاس گئی، پسنجر سیٹ والا دروازہ کھولا اور بیٹھتے ہوئے ہولے سے بولی۔
’’چلو، کہاں لے جاتے ہو ؟‘‘
شعیب دیدے پھاڑے حیرت سے ا س کی طرف دیکھ رہا تھا۔اس نے نینا کی طرف یوں دیکھا جیسے کوئی عجوبہ دیکھ لیا ہو۔اس نے سر سے پائوں تک دیکھتے رہنے کے بعد سرسراتی ہوئی آواز میںکہا۔
’’امیزنگ! اگر تم نہ بولتی تو میں تمہیں کبھی نہ پہچان پاتا۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے گیئر لگا دیا۔
’’نہ بولتی تب تم کیا کرتے ؟‘‘ اس نے شوخی سے پوچھا تو اسی حیرت میںبولا
’’فوراً اتر جانے کو کہتا۔‘‘
’’یار میں اتنی بھی ’ماٹھی‘ نہیںہوں۔‘‘ اس نے مصنوعی حیرت سے کہا۔
’’ماٹھی ؟ تم خود کو ماٹھی کہتی ہو، او یار تم نے تو میرا دماغ ہلا کر رکھ دیا ہے۔کہاں وہ دیہاتی لڑکی اور کہاں یہ تراشیدہ بدن والا بت، جو نگاہوں کو خیرہ کر رہا ہے، پاگل کر رہا ہے۔‘‘ اس نے کہا تو پہلی بار اسے اپنی تعریف اچھی لگی تھی۔چند لمحے سرور میں رہنے کے بعد اس نے خود پر قابو پا لیا اور مصنوعی غصے میںبولی۔
’’امریکا جا کر تم کچھ زیادہ ہی اسمارٹ نہیںہوگئے، مطلب منہ پھٹ، بے حیا اور …‘‘
’’حسن پرست۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے زور دار قہقہہ لگا دیا، پھر بولا،’’یقین جانو گولی کی طرح سینے پر لگی ہو۔‘‘
’’گولی ؟یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو ؟‘‘ اس نے پوچھا تو شعیب ایک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا
’’کیا تم مجھ پر اعتماد کرو گی ؟‘‘
’’بالکل، کیوں نہیں ایک تم ہی تو ہو جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔‘‘ اس نے یہ بات دل سے کہی تھی
’’تو پھر سنو! میرے ذہن میں تمہارا جو تصور تھا، وہ بس ایویں سی ایک لڑکی کا تھا، جو ذہین تو ہے لیکن خود کو اس لیے چھپا کر رکھتی ہے کہ وہ اتنی زیادہ خوبصورت نہیں ہے۔ لیکن اس وقت تمہیںدیکھا تو یقین نہیں آ رہا، میں تو اب بھی یہ گمان کر رہاہوں کہ تم وہ نہیںہو، جسے میںجانتا ہوں۔‘‘ شعیب نے پورے جوش اورحیرت ملے انداز میں کہا۔
’’یہی حسن تو مجھے برباد کر رہا ہے۔کیا کروں ؟‘‘وہ بجھے ہوئے لہجے میںبولی۔پوچھا۔
’’میں سمجھا نہیں؟‘‘اس نے پوچھا۔
’’نہ ہی سمجھو تو اچھا ہے۔‘‘ اس نے ہولے سے کہا اور سامنے سڑک کو دیکھنے لگی پھر ایک دم سے اسے خیال آ یا کہ وہ اسے لے جا کہاں رہا ہے؟ اسے یہ خیال تو آ یا لیکن اس نے یہ سوال نہیں کیا۔ چپ چاپ بیٹھی رہی۔ تبھی شعیب نے یوں کہا جیسے اس کا ذہن پڑھ لیا ہو۔
’’تم نے پوچھا نہیں،ہم کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
’’تم میرے بہت اچھے اور قابل اعتماد دوست ہو، جہاں بھی لے جائو، چلی جائوں گی۔‘‘اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ اس پر شعیب چند لمحے یوں خاموش رہا جیسے سوچ رہا ہو، پھر بولا
’’بہت بدل گئی ہو۔‘‘
’’ہاں وقت اور حالات نے بدل دیا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے لمبی سانس لی۔
ان کے سفر کا اختتام شہر سے باہر ایک فارم ہائوس پر ہوا۔ ایک طرف خوبصورت سارہائشی پورشن بنا ہوا تھا۔ جس کے پورچ میں اس نے کار روکی تو وہ دونوں باہر آ گئے۔
’’یہ فارم ہائوس میرے بھائی کا شوق تھا۔ اب اس کی دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ یہاں وہ بہت کم آتا ہے۔اب میں آ گیا ہوں تو میں نے یہاں اپنی ایک چھوٹی سی لیب بنائی ہے۔‘‘
’’لیب، وہ کس لیے ؟‘‘ نینا نے پوچھا۔
’’مختلف تجربات کے لیے، یا ر میں الیکٹرونکس انجینئر ہوں، دنیا کے ٹاپ کے ادارے سے پڑھ کر آ رہا ہوں۔ کمال ہے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دی۔
دونوں ہولے ہولے چلتے ہوئے لائونج میں آ گئے۔ وہاں شعیب نے نینا کو بھرپور نگاہوں سے دیکھا، پھرایک دم سے نگاہیں چرا لیں، جیسے وہ کوئی چوری کررہا ہو۔ وہ اس کی ادا دیکھ کر ایک دم سے ہنس دی، مگر نے احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ دیکھ چکی ہے۔ اگرچہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیںتھی لیکن نینا کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ اس سے بے حد متاثر ہو چکا ہے۔ شاید اس سے، اس کے حسن سے؟
’’آئو، تمہیں لیب دکھائوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر کی جانب چلا گیا۔ دوسری طرف ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ اس نے جا کر دروازے میںلگا تالا کھولا اور اندرچلا گیا۔ وہ بھی اس کے پیچھے اندرپہنچ گئی۔وہاں پر کافی ساری چھوٹی بڑی مشینیں، کمپیوٹر، مختلف قسم کے برقی آلات اور بہت کچھ تھا، جس کی اُسے سمجھ نہ آسکی۔تبھی اس نے پوچھا۔
’’یہ سب کیا ہیں، ان پر کیا تجربے کرتے ہو؟‘‘
’’کوئی بھی نئی چیز بنانے کے لیے۔جیسے دنیا میں نئی سے نئی چیزیں بن رہی ہیں، کیا تم نہیںجانتی کہ آئے دن کوئی نہ کوئی نئی چیز آ جاتی ہے یا پہلی میںکچھ نئی تبدیلی آ جاتی ہے۔‘‘اس نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی سامنے بیٹھتے ہوئے بولی
’’ہاں یہ تو ہے۔ جیسے کوئی سیل فون سے واقف نہیںتھا، لیکن اب ہر کوئی اپنے پاس رکھتا ہے۔‘‘
’’بالکل، ابھی جو کچھ سیل فون میں ہے، اس میں ایسی تبدیلی جو دنیا کو حیران کر دے، یہی تجربات کرتا ہوں۔‘‘
’’تو کچھ کیا؟‘‘ اس نے ایک دم پوچھا۔
’’ہاں، کافی کچھ کیا۔ مطلب یہ سیل فون ہی لے لو، میرے پاس ایسا فون ہے،جسے کوئی چاہے بھی تو ٹریس نہیں کر سکتا۔ یہ ہم نے وہاں بنایا تھا،میں اس پر مزید کام کر رہا ہوں۔‘‘
’’وائو۔ یہ توکمال کی چیز ہے۔‘‘ اس نے دلچسپی سے کہتے ہوئے تیزی سے پوچھا۔
’’یہاں اس کا کوئی تجربہ کیا، مطلب کسی کو کال کی۔‘‘
’’ہاں، میں کئی بار آزمایا۔ کسی کو پتہ نہیںچلتا۔‘‘ وہ بولا
واہ۔‘‘ وہ خوش ہوتے ہوئے بولی
’’خیر تم سنائو، اتنی تبدیلی کیسے آ گئی، ایک ایسی لڑکی جو کبھی حجاب میں رہتی تھی اور آج ایسے دکھائی دے رہی ہے جو بہت ماڈرن ہے۔‘‘اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو نینا نے ایک لمبا سانس لیا اور پھر بڑے دکھ بھرے لہجے میںبولی۔
’’یہ ایک لمبی کہانی ہے شعیب، کیا بتائوں اور کیا نہ بتائوں، چھوڑو، پھر کسی وقت سہی۔‘‘
’’اگر تم بتانا نہ چاہو تو الگ بات ہے لیکن میں سننا چاہتا ہوں، جتنی بھی لمبی کہانی ہو۔‘‘ اس نے گہری سنجیدگی سے کہا تو نینا نے اس کی طرف دیکھا اور یاسیست بھرے لہجے میںبولی۔
’’کیوں سننا چاہتے ہو؟ سن لینے سے کیاہوگا؟‘‘
’’تم شاید اسے جو بھی سمجھو لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے اپنے بارے میں بتائو۔ میں تمہارے بارے جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے ضد کرنے والے انداز میںکہا تو وہ تیکھے لہجے میں بولی۔
’’کیوں، کیوں جاننا چاہتے ہو ؟‘‘
’’اس لیے کہ میںتم سے قربت محسوس کرتا ہوں۔ دل سے چاہتا تھا کہ تم جیسی باصلاحیت لڑکی کسی اچھی پوسٹ پر ہو، میں نے تمہیں مدد کی آفر بھی کی مگر تم نے نجانے کیوں قبول نہیںکی، اور پھر اتنی بڑی تبدیلی یونہی نہیںآ سکتی۔ کہیں جاب تونہیںکرلی یا تمہاری شادی تو نہیںہوگئی، بتائو نا یار۔‘‘ اس نے اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا تووہ ہنس دی۔ اسے شعیب کا یہ انداز بہت اچھا لگاتھا۔ وہ چند لمحے سوچتی رہی، پھر بولی
’’میں نے پولیس کی نوکری کر لی ہوئی ہے۔ایک معمولی کانسٹیبل کی نوکری۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں حسرت بھری تلخی اُتر آئی تھی۔
’’وہاٹ ! کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’سچ یہی ہے۔‘‘وہ بولی۔
یہ سن کر شعیب چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا۔
’’یہ پولیس کی نوکری، یہ کیوں کی؟ ظاہر ہے کوئی مجبوری رہی ہو گی، دراصل میں وہ مجبوری جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ ایک دم سے کہتا چلاگیا۔
’’پھر کیا ہوگا؟‘‘ اس نے عجیب لہجے میں پوچھا۔
’’میں کوشش کروں گاکہ …‘‘ اس نے کہنا چاہا تو نینا نے اُ س کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’خدا کے لیے شعیب، مجھے کوئی خواب مت دکھانا، میں اب کوئی بھی خواب نہیںدیکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے میری مجبو ر یو ں کے ساتھ زندہ رہنے دو۔ تم نے واپس چلے جانا ہے۔ میں جیسی ہوں، مجھے ویسی ہی رہنے دو۔ میں ایسے ہی خوش ہو ں۔‘‘
’’بہت زہر ہے تمہارے لہجے میں ؟‘‘ اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جب وہ خاموش رہی تو اس نے کہا۔
’’اوکے، کچھ بھی مت بتائو، لیکن ہم یہاں جتنی دیر تک ہیں،اتنی دیر تک تو ہم اپنی باتیںکر سکتے ہیں نا، وہ سوال جو پرانی یادوں کے حوالے سے اب بھی ذہن میںہیں۔‘‘
’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ نینا نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا تو ان کے درمیان کافی دیر تک خاموشی آن ٹھہری۔ جیسے ان کے پاس بات کرنے کے لیے کوئی موضوع نہ رہا ہو۔ تبھی شعیب نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’آئو باہر چلتے ہیں۔‘‘
وہ اٹھ گئی اور اس کے پیچھے پیچھے لیب سے نکلتی چلی گئی۔ وہ دونوں کھلی فضا میں آ گئے۔اچانک نینا کو خیال آیا تو وہ چند لمحے سوچتی رہی، پھر اس نے پوچھا۔
’’یہاں کوئی ملازم دکھائی نہیںدے رہا ہے، جیسے ہمارے علاوہ یہاں کوئی بھی نہ ہو۔‘‘
’’پہلے یہاں کافی ملازم ہوتے تھے، چونکہ بھائی کی دلچسپی کم ہوگئی ہے اور یہاں کام کرنے والے مزارعے ساتھ گائوں میںرہتے ہیں، اس لیے لیے یہاںکی دیکھ بھال کے لیے ایک جوڑا رہتا ہے، وہ بھی دو تین دن کے لیے اپنی کسی عزیز کی شادی میںگئے ہیں۔‘‘
’’مطلب ہمارے سوا کوئی نہیںہے۔‘‘ نینا نے شوخی سے پوچھا تو شعیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’فکر مت کرو، میںکوئی ناجائز فائدہ نہیںاٹھائوں گا۔‘‘
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ تم ایسا کرو گے نہیں، دوسری بات اگرفائدہ اٹھانے کی کوشش کروگے تو بہت پچھتائو گے، اور تیسرا یہ کہ …‘‘ وہ کہتے کہتے رُک گئی۔
’’تیسرا کیا؟‘‘
’’تیسرا یہ کہ جس دن میرا دل کیا، میں خود تمہارا جائز فائدہ اٹھا لوں گی۔‘‘
’’تم بھی نا۔‘‘ شعیب نے ہنستے ہوئے کہا۔
وہ رہائشی عمارت کے لان میںبیٹھے یونہی باتیں کرتے رہے۔ ان کے درمیان ماحول خوشگوار ہو گیا تھا۔ شعیب اپنے بارے میں بتاتا رہا کہ اس نے امریکا میں رہتے ہوئے کیسے وقت گزرا۔ کس طرح تعلیم حاصل کی۔ وہ چپ چاپ سنتی رہی۔ اس نے اپنے بارے کچھ نہ بتایا۔
اس وقت سورج ڈوب رہا تھا، جب وہ دونوں کار میں بیٹھے اور واپس شہر کی جانب چل دئیے۔ ان کے درمیان خاموشی تھی۔وہ فارم ہائوس سے نکل کر اندازاً دو کلو میٹر تک گئے ہوں گے کہ ایک سیاہ کار نے انہیںتیزی سے کراس کیا۔وہ کار پہلے آہستہ ہوئی پھر کافی آ گے جا کر یوں رک گئی کہ اس کی وجہ سے شعیب کو زوردار بریک لگانا پڑے۔ جیسے ہی اِن کی کار رُکی سامنے والی کار سے چار آدمی نکل کر باہر آگئے۔ پسنجر سیٹ سے جو بندہ نکلا اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا، اس نے نکلتے ہی ان کی کار پر فائرنگ کرنا شروع کردی۔ شعیب کا رنگ ایک دم سے پیلا پڑ گیا۔بلاشبہ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔
نینا انہیںغور سے دیکھنے لگی۔وہی شخص ڈرائیور سائیڈ پرآگیا۔ اس نے شعیب کی طرف والا دروازہ کھولنا چاہا۔ وہ بند تھا۔ اس نے اشارے سے باہر آ نے کا اشارہ کیا۔ شعیب نے ایک بار نینا کی جانب دیکھا اور پھر باہر نکل گیا۔ اس نووارد نے پہلے شعیب کو گردن سے پکڑا اور اسے قریب کھڑے بندے کے حوالے کیا،پھر کار کے اندر جھانک کر دیکھا تو بڑے گھٹیا سے انداز میں دوسروں کو سناتے ہوئے کہا۔
’’اوئے واہ اوئے ! فل عیاشیاں، اُوئے اندر نرم مال بھی ہے، کمال ہے یار۔‘‘
اس دوران وہ دوسرا بندہ شعیب کو گریبان سے پکڑکر ہیڈ لائیٹس کی روشنی میں لے گیا۔ اسی لمحے پیچھے کھڑے تیسرے بندے نے کہا۔
’’اوئے ٹھہر! رُک جا۔‘‘
’’کیا ہوا ؟‘‘جس نے گریبان پکڑا تھا اس نے پوچھا تو پیچھے والا بولا۔
’’یہ وہ نہیں جسے ہم نے مارنا ہے، یہ اس کا چھوٹا بھائی ہے، جو ابھی امریکا سے آیا۔‘‘
’’یہ تو پھراطلاع دینے والے کی غلطی ہے نا، اب تو اسے مارنا پڑے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پسٹل کی نال اس کے سر پر رکھی تو پیچھے کھڑے بندے نے کہا۔
’’ایک منٹ رک جا، مجھے پوچھ لینے دے، جلدی نہ کر۔‘‘ اس کے کہنے پر اس نے پسٹل کی نال ہٹا لی۔ پیچھے والا شخص کار تک گیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بندے سے بات کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب نینا کی نگاہ سامنے کار میںبیٹھے شخص پر پڑی۔
یہ وہی شخص تھا جسے اس نے مٹھن خان کے ڈیرے پر دیکھا تھا۔اسی نے بڑی بے دردی کے ساتھ سائرہ کو اٹھا کر پھینکا تھا اور اُس کے کپڑے پھاڑے تھے۔وہی تھا جو خود کو مٹھن خان کا سب سے بڑا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہی کہہ رہا تھا کہ میں سب دیکھ لوں گا۔ اسی نے سب سے پہلے اس پر ہاتھ ڈالا تھا، جب فرحان خان نے اسے ننگا کرنے کو کہا تھا۔اسے پہچانتے ہی نینا کا دماغ ایک دم سے گھوم گیا۔ اس شخص کو دیکھتے ہی اس کے دماغ میںآگ بھڑک اٹھی۔ نجانے وہ کون سی قوت تھی جو اس کے بدن میںسرائیت کرنے لگی۔اس نے ایک ہی لمحے میںفیصلہ کر لیا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
نینا نے طویل سانس لے کر خود پر قابو پاتے ہوئے اپنی کمر کی بائیں طرف لگے ہولسٹر میں سے پسٹل نکال کر اس کا سیفٹی کیچ ہٹایااور کار سے باہر نکلی آئی۔وہ ہولے ہولے چلتی ہوئی یوں آگے بڑھی جیسے ڈر رہی ہو۔ اس نے دور ہی سے کہنا شروع کر دیا۔
’’خدا کے لیے ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے ایسا کیا قصور ہو گیا، ہمیں جانے دیں پلیز۔‘‘
’’اوئے پٹولے! تم سے کیا قصور ہونا ہے۔ یہ تو اس امریکا پلٹ کا بھائی ہے جو مٹھن خان کے خلاف بولتا ہے۔ اسے بڑا معاف کیا، سمجھایا بھی بہت تھالیکن باز نہیںآتا۔ تم چلو ہمارے ساتھ عیش کروا دیں گے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس نے آ نکھ ماردی۔
نینا نے دیکھا۔ وہ سیل فون بات کرنے والے کی کال نہیں مل رہی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا، جس سے وہ فائدہ اٹھا سکتی تھی۔ اس نے انتہائی سرعت سے اپنا پسٹل نکالا اور کوئی مہلت دئیے بغیراس کے سر پر فائر کر دیا، جس نے شعیب کا گریبان پکڑا ہوا تھا۔اس کی چیخ بلند ہوئی۔وہ یوں پیچھے گرا جیسے لکڑی کا لٹھ گرتا ہے، نینا نے کوئی مہلت نہیں دی، اس نے سامنے کھڑے فون کال کرنے والے پر فائر کر دیا۔ اس کے ہاتھ سے فون دور جاگرا، اس کے ساتھ ہی تیسرا بھی سڑک پر تڑپنے لگا۔وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ کار میں بیٹھا ہوا بندہ تیزی سے کاربھگا لے جائے گا۔ اس نے ٹائروں پر فائرنگ کر دی۔ٹائر پھٹ گئے مگر پھر بھی اس نے کار سٹارٹ کر کے بھگا لی تھی۔ لیکن اگلے ہی لمحے وہ سڑک سے نیچے اتر کر الٹ گئی۔وہ شخص اس میں پھنس گیا۔ کار الٹتے ہی پیٹرول کی بو پھیلنے لگی۔ نینا کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے چند ثانئے انتظار کیا اور کار کی طرف فائر کر دیا۔ ایک دم سے شعلہ بھڑکا اور کار کو آ گ لگ گئی۔ وہ لمحہ بھر جلتی ہوئی کار کو دیکھتی رہی پھر پلٹ آ ئی۔ شعیب ہونقوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آ رہا ہو۔
’’اب کھڑے کیا دیکھ رہے ہو، چلو نکلو۔‘‘ نینا نے تیزی سے کہا تو شعیب کوہوش آیا۔ وہ کار کی طرف مڑ گیا۔ تبھی نینا کی نگاہ سڑک پر گرے سیل فون پر پڑی، وہ بجائے کار میںبیٹھنے کے اس فون کی جانب بڑھی جو چندقدم کے فاصلے پر پڑا تھا۔ اس نے وہ سیل فون اٹھا یا اور تیزی سے آ کر کار میں بیٹھ گئی
’’چلو اب نکل چلو۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ شعیب نے کاندھے اُچکا کر گیئر لگایا اور کار بھگا دی۔ ذرا سا آگے جا کر اس نے پوچھا’’اب بتائو، کیا کرنا ہے، پولیس کو اطلاع …‘‘
’’پاگل ہو گئے ہو۔بھول جائو کہ کچھ ہوا تھا۔تم نے وہ لوگ دیکھے ہی نہیں۔‘‘ نینا نے تیزی سے کہا۔
’’وہ لوگ…‘‘ وہ کہنا ہی چاہتا تھا کہ سڑک سے اٹھایا ہوا سیل فون بج اٹھا۔ نینا نے وہ فون اٹھایا اور کال رسیو کرکے اسپیکر آن کر دیا۔ دوسری طرف سے کوئی بولا
’’اوئے ہاں، کیابات ہے۔ کام ہو گیا؟‘‘
’’ہاں ہو گیا۔‘‘ اس نے گمبھیر لہجے میںآواز بدل کر کہا
’’یہ تمہاری آواز کو کیا ہوا؟‘‘ دوسری طرف سے حیرت بھری آواز میں پوچھا گیا۔
’’وہ آواز ہمیشہ کے لیے بند کر دی ہے میںنے، جسے تم سننا چاہتے ہو۔صرف وہی نہیں باقی تینوں بھی مار دئیے ہیں، جیسے آوارہ کتے مار تے ہیں،بالکل ویسے۔‘‘ اس نے نفرت سے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’کیا؟کون ہو تم؟‘‘گھبراہٹ میںپوچھا گیاتو نینا نے کہا۔
’’میں… گُولی… جو بہت جلدی مٹھن خان کے بھیجے میں اُتر جانے والی ہے۔ کہہ دینا اس بے غیرت سے۔‘‘
’’گُولی…؟‘‘ حیرت سے پوچھا گیا۔
’’ہاں گُولی،بتادینا مٹھن خان کو آج کے بعد وہ سکون کی نیند نہ سوئے، تم بھی اُس کے کتّے ہو، اور میںتم سب کی موت ہوں۔‘‘ اس نے نفرت سے کہااور فون بند کر دیا۔ وہ خود پر قابو پاتے ہوئے سڑک کو گھور رہی تھی جبکہ شعیب پاگلوں کی طرح اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’اب اس فون کا کیا کرنا ہے ؟ پتہ ہے، اس فون سے ہم ٹریس بھی ہو سکتے ہیں۔‘‘ شعیب نے اسے سمجھانے والے انداز میںکہا۔
’’جانتی ہوں، تم نہیں،جس کے پاس یہ فون ہوگا، ٹر یس وہ ہوگا، میں مٹھن خان سے رابطہ چاہتی ہوں، وہ اسی پر کال کرے گا۔‘‘وہ سرد سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو شعیب کی آنکھوں میں خوف اتر آیا اس نے سر جھٹکتے ہوئے تیزی سے کہا۔
’’یہ تو نری خود کشی ہے نینا، میں…‘‘
(باقی آئندہ ان شاء اللہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close