Naeyufaq Apr-16

روشنی

قیصر عباس

’’آکسیجن لگانے کے باوجود بھی اسے سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی ہے۔‘‘ نرس نے شعبہ ایمرجنسی کے ایک سینئر ڈاکٹر سے کہا۔ ڈاکٹر اپنی جگہ سے اٹھ کر مریضہ کے بیڈ کے پاس آیا اس نے مریضہ کا معائنہ کیا اور نرس سے کہا۔
’’آکسیجن ماسک اتار کر اسے بھاپ دو۔‘‘ نرس نے فوراً ڈاکٹر کے حکم کی تعمیل کی اور بھاپ کی مشین کا ماسک آکسیجن کی جگہ لگا دیا۔ تھوڑی دیر بھاپ دینے کے بعد مشین کا ماسک مریضہ کے منہ سے ہٹا دیا گیا کیونکہ اس کی ہچکولے لیتی سانس میں اب تھوڑا ٹھہرائو آگیا تھا لیکن یہ ٹھہرائو تھوڑی دیر برقرار رہا مریضہ کی سانس دوبارہ پھولنے لگی تو ڈاکٹر نے نرس کو دوبارہ بھاپ دینے کا حکم جاری کیا مگر اب کے یہ حربہ بھی کارآمد نہ رہا بھاپ دینے کے باوجود بھی مریضہ کی حالت بدستور ویسی ہی رہی۔ ۔
’’اس کے پھیپھڑوں میں پانی ہے۔‘‘ ڈاکٹر کے انکشاف پر مریضہ کے پریشان حال بھائی نے جو ڈاکٹر کو مریضہ کی بگڑتی صورت حال کے بارے میں بتانے آیا تھا پریشانی سے ڈاکٹر کے چہرے کی طرف دیکھا۔
’’اس کے پھیپھڑوں سے پانی نکالنا پڑے گا۔‘‘ ڈاکٹر نے دوبارہ کہا۔
’’تو کیا اسی وجہ سے اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘ مریضہ کے بھائی نے پوچھا۔
’’ہاں اور اگر آپ اجازت دیں گے تو ہم آگے کا کام کریں گے۔‘‘ ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب اس میں اجازت کی کیا ضرورت ہے آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔‘‘ اس نے حیرانگی سے کہا۔
’’دیکھیے یہ سنگین مسئلہ ہے اور ایسے مواقع پر ہمیں مریض کے لواحقین سے تحریری اجازت نامہ لینا پڑتا ہے کہ اگر دوران علاج یا آپریشن کے دوران کسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش آگیا تو ڈاکٹر پرکوئی قدغن نہیں ہوگی۔‘‘
’’ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب لائیں کہاں دستخط کرنے ہیں میری طرف سے اجازت ہے آپ جلد سے جلد علاج شروع کیجیے پلیز۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا اور ڈاکٹر نے قلم اور ایک فارم اس کے آگے کردیا۔ اس نے دستخط کردیے تو ڈاکٹر نے فارم کائونٹر کی ایک سائیڈ پر رکھا اور اپنی اسسٹنٹ ڈاکٹر کو ہدایت دینے لگ گیا۔ مریضہ کا بھائی چلتا ہوا مریضہ کے بیڈ کے پاس آگیا اس کی سانس اب بھی ہچکولے لے رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر اور اس کی اسسٹنٹ ڈاکٹر مریضہ کے بیڈ کے پاس آئے اسسٹنٹ ڈاکٹر کے ہاتھ میں دو بڑی بڑی سرنجیں اور ایک تھیلی تھی۔
’’اسے آرام سے اٹھا کے بٹھا دو۔‘‘ اس نے مریضہ کے بیڈ کے پاس پریشان کھڑی مریضہ کی ماں سے کہا وہ آگے بڑھی اور بیڈ پر پڑی اپنی شکستہ حال بیٹی کو سہارے سے بٹھا دیا، ڈاکٹر نے اپنی اسسٹنٹ کے ہاتھ سے ایک سرنج لی اور مریضہ کی کمر پر ایک مخصوص جگہ پر سوئی لگائی یکے بعد دیگرے دونوں سرنجیں گاڑھے مٹیالے رنگ کے محلول سے بھر گئیں تو ڈاکٹر نے اس جگہ پر مستقل تھیلی لگا دی۔
’’میں نے اس کے پھیپھڑوں سے کچھ پانی نکال کر یہ تھیلی لگا دی ہے تھوڑی دیر تک اس کے پھیپھڑوں میں موجود سارا پانی نکل آئے گا۔‘‘
ڈاکٹر نے کہا اور ایک طرف چلا گیا مریضہ کی ماں مریضہ کو آرام سے اپنی جگہ لٹا چکی تھی۔ جوں جوں اس کے پھیپھڑوں سے پانی نکلتا جا رہا تھا اس کی سانسیں نارمل ہو رہی تھیں۔ ڈاکٹر جو تھیلی لگا کر گیا تھا اب آدھے سے زیادہ اسی گاڑھے مٹیالے رنگ کے سیال سے بھر چکی تھی۔ تھوڑی دیر تک اس کی سانسیں نارمل ہوچکی تھیں کیونکہ اس کے پھیپھڑوں میں موجود سارا پانی نکل چکا تھا۔
/…ؤ …/
’’ہم تمہاری شادی کی تمام تر تیاری مکمل کرچکے ہیں۔‘‘ جہاں آرا نے پیار بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا تو اس کی بات کا محور روشنی نے شرم سے سر جھکا لیا۔
’’تمہاری خالہ سے بات ہوگئی ہے ہماری ان کی طرف سے بھی تقریباً تیاری مکمل ہے بس اب تو صرف ڈیٹ فکس ہونا باقی رہ گیا ہے۔‘‘ جہاں آرا نے بات ختم کر کے ڈبڈباتی آنکھوں کو صاف کیا روشنی سارے گھر کی جان تھی اس کی جدائی کا تصور ہی سب کے لیے لرزہ خیز تھا ملک احسان اور جہاں آرا کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے بعد آنے والی روشنی گھر بھر کی روشنی بن گئی تھی۔ وہ اکلوتی تو نہ تھی مگر لاکھوں میں ایک ضرور تھی گھر میں کوئی بھی کام اس کی مرضی کے خلاف نہ ہوتا۔
’’روشنی ایسے نہ کرلیں؟ روشنی یہ ٹھیک نہیں ہے، روشنی کیا خیال ہے؟‘‘ اور اس کی ایک ’’نہ‘‘ سارے گھر کی مرضی پر حاوی ہوجاتی یوں تو وہ سارے ہی گھر کی لاڈلی تھی مگر باپ کی تو جان تھی سارے گھر سارے خاندان کے لیے سخت گیر ملک احسان روشنی کے لیے دوست کی طرح تھے اور جو بات سارا گھر مل کے بھی ان سے نہ منوا سکتا روشنی ایک پل میں منوالیتی۔ باپ نے جسے کندھوں پر اٹھائے جوان کیا تھا اسے گھر سے وداع کرنا بہت کٹھن لگ رہا تھا مگر جانا تو تھا ملک احسان اپنی زندگی میں ہی روشنی کے فرض سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے تھے۔ اپنے دونوں بڑے بیٹوں باسط اور ثامر کی شادی ایک ساتھ کرنے کے بعد اپنی بڑی بیٹی ارم کی شادی بھی وہ اپنے ہی خاندان کے ایک اچھے گھر میں کر چکے تھے۔ انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں اور بیٹی کی شادی بڑے دھوم دھام سے کی تھی اور اب ان کے اور جہاں آرا کے ساتھ ساتھ باسط، ثامر اور ارم بھی اپنی چھوٹی بہن کی شادی پر سارے ارمان پورے کرنا چاہتے تھے کیونکہ آخر روشنی سارے گھر کی لاڈلی جو تھی۔
/…ؤ …/
یہ آزاد کشمیر کا ایک خوب صورت مگر دشوار گزار علاقہ تھا جو کہ سطح سمندر سے دس ہزار فٹ بلند تھا باسط کو یہاں آئے آج آٹھواں روز تھا۔ وہ آرمی میں تھا اور اپنی سروس کا بیشتر حصہ اس نے دشوار گزار علاقوں میں گزارا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چھٹی پر بھی بہت کم جا پاتا تھا۔ اس کا یونٹ تو مظفر آباد میں تھا مگر کسی ٹیکنیکل کام کے لیے وہ دس افراد پر مشتمل ٹیم کے ساتھ پچھلے آٹھ روز سے دس ہزار فٹ بلند پہاڑ پر موجود تھا اس کا تعلق ایک ٹیکنیکل کور سے تھا اور اس یونٹ کے ساتھ اٹیچ تھا اس علاقے میں قدرتی مناظر کی بھرمار تھی۔ خوب صورت سرسبز پہاڑوں پر گنگناتے جھرنوں کا شور فضا کی خاموشیوں کو چیر کر فطرت کی رنگینیوں کو گویائی دینے کی جہد مسلسل پر کار بند تھا دور دور تک بلند و بالا چیڑ کے درختوں کا نہ ختم ہونا والا سلسلہ اور برف سے ڈھکی بلند و بالا چوٹیاں اس علاقے کو واقعی جنت نظیر بنا رہی تھیں۔ باسط اور اس کے ساتھی یہاں نصب اس سرکاری مشینری کی مرمت کے سلسلے میں آئے تھے کام اتنا زیادہ نہیں تھا مگر یہ حساس علاقہ تھا بھارت سے منسلک بارڈر ایریا تو کافی اونچائی پر تھا مگر یہاں میلوں رقبے پر موجود جنگلات اور اس میں پائی جانے والی بے شمار جنگلی حیات سے تحفظ کیلئے انہیں دس افراد کی ایک ٹیم بنا کر بھیجا گیا تھا گو اتنے دنوں سے وہ کام کم اور انجوائے زیادہ کر رہے تھے مگر ایک انتہائی اہم اور سنگین مسئلہ تھا جو انہیں یہاں درپیش تھا۔
موبائل نیٹ ورک پر ابلم کا باسط نے آٹھ روز پہلے مظفر آباد اپنی یونٹ سے اپنے گھر کال کی تھی روشنی کی شادی کے سلسلے میں گھر میں کافی گہما گہمی تھی۔ ملک احسان اور جہاں آرا خریداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ ہر چیز وہ اپنی لاڈلی بیٹی کی پسند سے لے رہے تھے۔ باسط کو وہ دن یاد آگیا جب وہ نیا نیا فوج میں بھرتی ہوا تھا اور چھٹی پر گھر گیا تھا ان دنوں روشنی ابھی چھوٹی تھی۔ اس نے اس سے وعدہ کر رکھا تھا کہ اب کی بار وہ چھٹی آیا تو اس کے لیے چابی والی گڑیا لے کر آئے گا مگر وہ بھول گیا پر روشنی کو تو یاد تھا۔ اس نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا اور نتیجتاً باسط الٹے پائوں وہیں سے بازار گیا اور اپنی لاڈلی بہن کیلئے گڑیا لے کر آیا اس نے ایک لمبی سانس لی اور سوچا۔
’’وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے۔‘‘ اب وہ اسے ہمیشہ کیلئے اپنے گھر سے رخصت کرنے جا رہے ہیں ایک اداسی کی لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔
/…ؤ …/
ملک احسان اپنی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے وہ انتہائی محتاط انداز میں ڈرائیونگ کے عادی تھے لیکن آج ان کی رفتار میں غیر معمولی تیزی تھی وہ کچھ چیزیں لینے کیلئے بازار جا رہے تھے روز مرہ ضرورت کی اکثر اشیاء تو ان کے گائوں سے ہی مل جایا کرتی تھیں مگر زیادہ تر چیزوں کے لیے انہیں گھر سے سات کلو میٹر دور شہر آنا پڑتا تھا ان کے گھر سے تقریباً دو کلو میٹر دور ایک چوراہا تھا جہاں گائوں کی سڑک مین ہائی وے روڈ سے مل جاتی تھی۔ وہاں سے بائیں طرف مڑ کے پانچ کلو میٹر کی مسافت پر ایک چھوٹا سا شہر تھا جہاں سے وہ اپنی ضرورت کی اکثر اشیا لیا کرتے تھے آج بھی وہ اسی طرف جا رہے تھے۔ وہ چوراہے پر پہنچ چکے تھے اب میں روڈ پر چڑھ کر انہیں بائیں طرف جانا تھا اس چوراہے پر بھی ان کے گائوں کے کچھ لوگوں کی چھوٹی موٹی دکانیں تھیں موٹر سائیکل کے بائیں طرف والا انڈیکیٹر لگا کر انہوں نے ایک لمبا چکر کاٹ کر بائیں طرف موٹر سائیکل موڑا، اچانک ایک دھماکہ سا ہوا اور وہ اپنے موٹر سائیکل سمیت دس فٹ دور جا گرے تیز رفتاری کی وجہ سے وہ دائیں طرف سے آتی تیز رفتار کار کو نہ دیکھ سکے۔ لوگ تیزی سے جائے وقوعہ پر آئے۔ وہ لوگ انہیں اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وہ ان کے گائوں کی ایک معزز اور ہر دل عزیز شخصیت تھے۔ لوگ انہیں اٹھا کر اسپتال لے جارہے تھے کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ان کے گھر اطلاع جانے سے پہلے ہی خون میں لت پت ملک احسان کو لوگ ان کے گھر لے آئے۔ گھر میں ایک کہرام مچ گیا، جیتے جاگتے ملک احسان کو خون میں لت پت دیکھنا کسی انہونی سے کم تھا۔ خاص طور پر روشنی کی حالت تو غیر ہو رہی تھی۔ باپ کی لاڈلی ہونے کی وجہ سے جہاں باپ کو اسے خود سے دور کرنا گوارا نہیں تھا وہیں اس کے لیے بھی باپ کے بغیر رہنے کا تصور ہی جان لیوا تھا مگر اب حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا ملک احسان چارپائی پر بے سدھ پڑے ہوئے تھے جہاں آرا بیگم اور روشنی اسے کئی آوازیں دے چکی تھیں۔ کتنا جھنجوڑا تھا مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور کیسے ہوتا کہ وہ زندگی سے بہت دور جاچکے تھے۔
/…ؤ …/
ملک احسان کو دنیا سے گئے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے ایک مہینے کی چھٹی پر آیا ہوا باسط واپس اپنے یونٹ اور ارم اپنے سسرال واپس چلی گئی۔ مگر روشنی اور اس کی ماں ابھی بھی اس اندوہناک حادثے سے باہر نہیں آسکی تھیں جہاںآرا نے تو پھر بھی اپنے رفیق حیات سے فرقت کو کسی حد تک قبول کرلیا تھا مگر روشنی کے احساسات باپ کے ساتھ ہی مرچکے تھے۔
اس کا ہنسنا بولنا، کھانا پینا بڑی حد تک کم ہوگیا تھا سبھی اس کا ذہن بٹانے کی جدوجہد میں لگے رہتے تھے باسط باپ کے مرنے کے بعد گھر کا بڑا ہونے کی ذمہ داری بخوبی نبھا رہا تھا اس نے ماں اور ثامر سے کہہ رکھا تھا کہ روشنی کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے۔ وہ سب جانتے تھے کہ وہ بہت حساس ہے اور باپ سے قربت کی وجہ سے ان کی جدائی نے سب سے زیادہ اسے ہی متاثر کیا ہے وہ سب اسی کوشش میں لگے رہتے تھے کہ روشنی کا ذہن اس صدمے کے حصار سے باہر آجائے مگر اس کے لیے تو اب دنیا اور اس کی آسائشات کا استعمال بس زندہ رہنے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا ان کے گھر میں اب پہلی سی فضا نہیں رہی تھی۔ البتہ گھر بھر کا اب بھی وہی معمول تھا کہ کوئی بھی کام روشنی کی مرضی کے بغیر نہ ہوتا۔
/…ؤ …/
ثامر ابھی ابھی دکان سے گھر واپس آیا تھا ملک احسان نے یہ دکان ایک سرکاری ادارے سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈالی تھی گھر سے چند کوس دور واقع یہ بڑی سی دکان چلانا جب ملک احسان کے لیے مشکل ہوگیا تو ثامر نے دکان چلانے میں باپ کا ساتھ دینا شروع کردیا۔ آخر کار دکان مکمل طور پر ثامر کے زیر اثر چھوڑ کر ملک احسان کم کم نظر آنے لگ گئے۔
’’روشنی۔‘‘ اس نے آتے ہی روز کی طرح آواز لگائی اس کی آواز پر روشنی کے ساتھ ساتھ ان کی ماں بھی کمرے سے باہر آگئی روشنی کی زرد رنگت اور ماں کی خاموشی نے ثامر کو کسی خطرے کا احساس دلایا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے ان دونوں سے پوچھا اور چھ سات دنوں سے جس بات کو انہوں نے معمولی سمجھ کر خود تک محسوس رکھا تھا اب ثامر کو بتا دی۔
’’روشنی پیٹ کی داہنی طرف کسی درد کی شکایت کر رہی ہے اور یہ تقریباً چھ سات دنوں سے ہے۔‘‘
’’اور آپ مجھے اب بتا رہی ہیں۔‘‘ ثامر نے درشت لہجے میں ماں سے کہا۔
’’ہم نے اسے معمولی پیٹ کا درد سمجھ کر نظر انداز کردیا تھا مگر درد جوں کا توں ہی ہے۔‘‘ جہاں آرا نے بات ختم کر کے روشنی کے زرد چہرے کو دیکھا۔
’’چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ ثامر ایک لمحہ بھی ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ روشنی کو لے کر گھر کے قریب واقع ایک کلینک پر آگیا۔
’’مجھے لگتا ہے انہیں اپینڈکس ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے علامات دیکھتے ہوئے کہا۔
’’آپ فوراً اسپتال جا کر الٹرا سائونڈ کرائیں۔‘‘ ڈاکٹر کی بات پر روشنی پریشان ہوگئی۔
’’بھئی اتنی بڑی بات نہیں ہے معمولی سا تو آپریشن ہوتا ہے اپینڈکس کا۔‘‘ ثامر اسے گھر آنے تک تسلیاں دیتا رہا۔ مگر وہ معمولی سا آپریشن بھی روشنی کے ساتھ ساتھ گھر کے سبھی افراد کیلئے بڑا تھا کیونکہ وہ تو اس کی معمولی سی تکلیف بھی نہیں دیکھ سکتے تھے مگر دوسرے دن الٹرا سائونڈ کی رپورٹ نے انہیں اور زیادہ پریشان کردیا جسے ان کے گائوں کا ڈاکٹر اپینڈکس سمجھ رہا تھا وہ رسولی تھی۔
الٹرا سائونڈ کی رپورٹ جہاں آرا کے ہاتھ میں دیتے ہوئے لیڈی ڈاکٹر نے کہا۔
’’ایسا اکثر عورتوں کے ساتھ ہوجاتا ہے کسی بہت زیادہ اسٹریس یا صدمے کی وجہ سے ان کے پیٹ میں رسولی بن گئی ہے۔ آپ جلد سے جلد ان کا آپریشن کروایے رسولی سے کینسر تک کا فاصلہ بہت تھوڑا ہوتا ہے۔‘‘ اور کینسر کے نام پر ہی ان کے دل دہل گئے ثامر اور اس کی ماں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر روشنی کو ایک بہت بڑے سرکاری اسپتال لے گئے یہ اسپتال ان کے گھر سے تقریباً چالیس کلو میٹر دور تھا چیک اپ کے بعد انہیں دوسرے دن آنے کیلئے کہا گیا۔ دوسرے دن باسط بھی چھٹی لے کر آگیا ثامر کو گھر میں ہی رہنے کا کہہ کر باسط خود انہیں لے کر اسپتال گیا اس دن روشنی کو ایڈمٹ کرلیا گیا ایک ہفتے کے بعد اس کا آپریشن ہوا جو کہ ڈاکٹروں کے مطابق کامیاب ترین آپریشن تھا اور آپریشن سے ٹھیک تین دن بعد اسے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔
’’آپ کو جو دوائیں لکھ کر دی ہیں وہ استعمال کرائے بس ایک ماہ بعد آپ کو ٹانکے اتروانے کے لیے آنا پڑے گا۔‘‘ رائونڈ پر آئی ہوئی وارڈ کی سینئر ترین ڈاکٹر سائرہ قدوسی نے باسط سے مخاطب ہو کر کہا روشنی کا آپریشن انہوں نے کیا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب اب پریشانی کی تو کوئی بات نہیں ہے ناں؟‘‘ باسط نے سوال کیا۔
’’اب کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے رسولی کے آپریشن میں اگر کوئی کمی بیشی رہ جائے تو پیچیدگی کا امکان ہوتا ہے مگر ان کا تو بہت کامیاب آپریشن ہواہے کسی مسئلے کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے اسے مکمل یقین دہانی کرائی وہ گھر آگئے۔ روشنی باقاعدگی سے دوائیں استعمال کرتی رہی مگر زخم کی جگہ سے تھوڑا تھوڑا خون رستا رہا۔ مگر زخم ابھی ہرا ہے سوچ کر وہ اسے نظر انداز کرتے رہے پھر جب ایک ماہ بعد وہ ٹانکے اتروانے کیلئے دوبارہ اس بڑے سرکاری اسپتال گئے تو ثامر نے ڈاکٹر سائرہ قدوسی سے پوچھا کہ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی زخم سے خون رسنے کا معمول جاری ہے مگر اس نے اسے معمولی بات قرار دیا اور مزید کچھ دوائیں لکھ کر دے دیں وہ پھر گھر واپس آگئے مگر دوائیں باقاعدگی سے استعمال کرتے رہنے کے باوجود زخم ہرے کا ہرے رہا بلکہ اب تو روشنی کو ہلکا ہلکا درد اور پیٹ کے داہنی طرف اسی جگہ دوبارہ وہی بوجھ محسوس ہونا شروع ہوگیا جو آپریشن سے پہلے ہوتا تھا یہ رسولی کے آپریشن سے ٹھیک دو مہینے بعد کی بات ہے ثامر روشنی کو لے کر اسی سرکاری اسپتال گیا جہاں سے دو ماہ پہلے انہوں نے الٹرا سائونڈ کروا یا تھا دوبارہ الٹرا سائونڈ کی رپورٹ ان پر بجلی بن کے گری۔ روشنی کے پیٹ میں دوبارہ رسولی بن رہی تھی اور لیڈی ڈاکٹر کے مطابق اس کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ وہ بے حد حیران تھی کہ آپریشن کے بعد یہ دوبارہ کس طرح بننا شروع ہوگئی ہے۔ وہ بھی اتنے بھیانک روپ میں اس نے صاف لفظوں میں انہیں بتایا کہ یہ سب سراسر اس بڑے سرکاری اسپتال کے عملے کی بے پروائی اور نا اہلی کی وجہ سے ہوا ہے اس نے خبردار کیا اور دوبارہ جلد سے جلد اسی سرکاری اسپتال میں اسے لے جانے کیلئے کہا۔
’’یہ ان کا ہی بگڑا ہوا کیس ہے اور ان کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا اسپتال بھی آپ کا کیس لینے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے ثامر سے کہا۔ ثامر اور جہاں آرا بیگم روشنی کو دوبارہ اسی سرکاری اسپتال میں لے گئے جو ان کے گھر سے چالیس کلو میٹر کی مسافت پر تھا مگر جب وہ اسے لے کر شعبہ ایمرجنسی گئے کہ روشنی کو ایمرجنسی میں فوری ٹریٹمنٹ کی ضرورت تھی تو وہاں کوئی بھی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھا وہاں کے تمام ڈاکٹرز یہ کہہ کر اپنی جان چھڑانے کے چکر میں تھے کہ یہ ان کا کیس نہیں ہے۔ وہ انہیں گائنی وارڈز میں لے جائیں جہاں اس کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ اسے لے کر گائنی وارڈز میں گئے مگر وہاںکے ڈاکٹرز نے اسے ایمرجنسی کیس کہہ کر شعبہ ایمرجنسی میں لے جانے کے لیے کہا وہ ڈاکٹر سائرہ قدوسی سے بھی ملے مگر اس نے بھی ان کی بات سننے سے انکار کردیا وہ بھی وہاں کے باقی ڈاکٹرز کی طرح اسے ایمرجنسی والوں کا ہی کیس کہہ رہی تھی۔ وہ عجیب و غریب صورت حال میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ایمرجنسی کے ڈاکٹرز اسے گائنی وارڈز میں لے جانے کا کہہ رہے تھے اور گائنی وارڈز والے شعبہ ایمرجنسی میں وہ اسے لے کر دوبارہ شعبہ ایمرجنسی گئے مگر وہاں کے ڈاکٹرز سے لے کر نرسز تک انہیں یکسر نظر انداز کرتے نظر آئے۔
/…ؤ …/
روشنی کی حالت ایسی تھی کہ اسے ایمرجنسی میں فوری ٹریٹمنٹ کی ضرورت تھی۔ مگر یہاں تو کوئی اس کی طرف توجہ دینے کیلئے بھی تیار نہیں تھا۔ وہ سب بے حد پریشان تھے وہ ایسی حالت میں اسے گھر واپس بھی نہیں لے جاسکتے تھے انہوں نے ایک کونے میں پڑے گرد آلود پرانے سے اسٹریچر پہ اسے لٹا رکھا تھا آس پاس تیزی سے گزرتے ڈاکٹرز اور نرسز کی عدم توجہی اور روشنی کی حالت سے ثامر اور اس کی ماں کے چہرے زرد ہو رہے تھے اور ایسی صورت حال میں جب کوئی ان کی دہائی سننے کیلئے تیار نہیں تھا ایک مہربان صورت ڈاکٹر ان کی طرف متوجہ ہوا وہ اس مصیبت کی گھڑی میں انہیں کوئی فرشتہ لگ رہا تھا اس مہربان صورت ڈاکٹر کا نام شفیق تھا وہ اپنے نام کی طرح ہی شفیق انسان تھے انہوں نے توجہ سے ان کی ساری بات سنی اور شعبہ ایمرجنسی کا ایک سینئر ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے روشنی کو ایمرجنسی میں فوری ٹریٹمنٹ دلائی مگر اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتے تھے اس لیے جب روشنی کی حالت تھوڑی سی سنبھل گئی تو انہوں نے اسے گائنی وارڈز میں لے جانے کیلئے کہا۔ ان کے بقول یہ ان کا ہی کیس تھا اور وہ ہی اسے ہینڈل کرسکتے تھے وہ اسے لے کر دوبارہ گائنی وارڈز گئے۔ ثامر نے وارڈ کی سینئر ترین ڈاکٹر سائرہ قدوسی کو یاد دلایا کہ دو ماہ قبل اس نے کہا تھا کہ اب کسی پیچیدگی کا ایک فیصد بھی امکان نہیں ہے تو اتنے کم عرصے میں یہ رسولی دوبارہ اتنی خطرناک شکل میں کیسے ابھر آئی ہے؟ تو وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئی۔ اس نے اس سارے مسئلے میں انہیں ہی قصور وار ٹھہرا دیا کہ ان کی ہی کسی غلطی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے مگر اب وقت بحث کا نہیں تھا روشنی کی حالت کافی خراب تھی اس کا پیٹ روز بروز سوجتا جا رہا تھا ثامر ان کی منت سماجت کرنے لگا مگر وہ اسے اب بھی ایمرجنسی کا کیس کہہ کر اپنی جان چھڑانے کے چکر میں تھے۔ انہیں نہ تو روشنی کی گمبھیر حالت دکھائی دے رہی تھی اور نہ ہی ثامر اور اس کی ماں کے چہرے کی زرد رنگت، ثامر کو پھر اسی مہربان صورت ڈاکٹر کا خیال آیا وہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر جلدی سے شعبہ ایمرجنسی کی طرف آیا ڈاکٹر شفیق کو ڈھونڈنے کے بعد اس نے گڑ گڑا کر ان سے التجا کی اور کہا کہ انہیں مسیحائی کے اس جہان میں ایک وہ ہی مسیحا لگ رہے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق نے اسے تسلی دی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اس نے گائنی وارڈز کی سینئر ڈاکٹر سے فون پر بات کی اور ثامر سے دوبارہ وہاں جانے کے لیے کہا۔
’’میں نے ان سے بات کرلی ہے اب وہ آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘‘ ثامر نے ان کا شکریہ ادا کیا اور دوبارہ گائنی وارڈز کی طرف آگیا اب کی بار وہاں موجود ایک ڈاکٹر نے روشنی کا تفصیلی معائنہ کیا اور خون کا ایک ٹیسٹ لکھ کر دے دیا۔ ثامر نے ایک وہیل چیئر کا بندوبست کیا اور روشنی کو لے کر تھوڑے سے فاصلے پر موجود لیبارٹری کی طرف آگیا۔ وہاں موجود عملے نے خون کے ٹیسٹ کیلئے خون کا سیمپل لیا اور کہا کہ رپورٹ دو دن کے بعد ملے گی۔ مزید دو دن کا انتظار اور اتنی مسافت کا سفر، مگر چار و ناچار وہ واپس آگئے ان کے واپسی کے سفر سے بھی کہیں زیادہ تیزی سے روشنی کے پیٹ میں موجود رسولی کی بڑھوتری نے اپنا سفر جاری رکھا اور ان دو دنوں میں اس نے اپنی تخریب کاری کا دائرہ اتنا وسیع کرلیا کہ معدہ کو اپنی لپیٹ میں لے کر خوراک کا سارا نظام درہم برہم کردیا نتیجتاً کھائی اور پی جانے والی خوراک کا بیشتر حصہ معدے تک پہنچ کر واپس آنا شروع ہوگیا دو دن بمشکل گزار کر ثامر رپورٹ لینے کیلئے اسپتال گیا مگر وہ رپورٹ جب اس نے ایک ڈاکٹر کو دکھائی تو اس نے سی ٹی اسکین کے لیے روشنی کو اسپتال لانے کے لیے کہا اس دن ثامر گھر واپس آگیا اگلے دن وہ روشنی کو لے کر دوبارہ اسپتال آیا ان کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھی روشنی کا سی ٹی اسکین ہوا اور اب کی بار رپورٹ لینے کے لیے دس دن کا وقت دے دیا گیا۔ اس نے پریشانی کے ساتھ اپنی لاڈلی بہن کی طرف دیکھا جو آئے دن کمزور سے کمزور اور زرد پڑتی جا رہی تھی اور اس کا پیٹ تھا کہ پھولتا چلا جا رہا تھا مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے یہ کیس اتنا بگڑ چکا تھا کہ اس اسپتال کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا اسپتال بھی ان کا کیس لینے کیلئے تیار نہیں تھا وہ بے بس تھے اس لیے پھر گھر واپس آگئے روشنی کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتی چلی جا رہی تھی اس کا نظام انہضام مکمل طور پر اس بیماری کی لپیٹ میں آچکا تھا اب خوراک اس کے حلق سے بھی نیچے اترنے سے قاصر تھی اور ان دس دنوں کے گزرنے تک وہ اس قدر لاغر ہوگئی کہ بغیر سہارے کے چلنے کے قابل نہ رہی اور پھر جس دن انہوں نے اسے اسپتال لے جانا تھا اس سے ایک دن پہلے اس کی طبیعت بے حد بگڑ گئی اسے سانس لینے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ وہ رات کو ہی اسے لے کر اسپتال آگئے۔ اسے شعبہ ایمرجنسی لے جایا گیا ڈاکٹروں کے مطابق اس کے پھیپھڑوں میں پانی تھا ثامر سے اجازت نامہ پر دستخط کرانے کے بعد انہوں نے روشنی کے پھیپھڑوں سے سارا پانی نکال لیا تھا ساری رات کرب میں گزری، صبح روشنی کی طبیعت نارمل ہوچکی تھی۔ ثامر سی ٹی اسکین کی رپورٹ لے کر دوبارہ روشنی کو چیک اپ کے لیے لے گیا۔ ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد ثامر سے کہا۔
’’آپ کی مریضہ کو کینسر ہے اور اس کے علاج کے لیے جو انجکشن لگائے جائیں گے انہیں برداشت کرنے کے لیے ان میں اتنی طاقت نہیں ہے۔‘‘
’’مگر ڈاکٹر صاحب علاج میں اتنی تاخیر کی وجہ سے ہی تو ان کی حالت ایسی ہوگئی ہے۔‘‘ ثامر نے جواباً کہا۔
’’دیکھیے جب تک ہمیں مکمل تشخیص نہیں ہوجاتی تب تک ہم ہاتھ نہیں ڈال سکتے۔‘‘
’’چاہے تب تک مریض مر جائے۔‘‘ ثامر نے ڈاکٹر کی بات کے جواب میں زور سے کہا۔
’’چاہے مرجائے ہم مکمل تشخیص کے بغیر علاج نہیں کرسکتے۔‘‘
’’ایک مہینے سے آپ ہمیں مختلف ٹیسٹ لکھ لکھ کر دیتے جا رہے ہیں اور ہر ٹیسٹ کی رپورٹ لینے کے لیے ہم نے دو دو دن، تین تین دن اور ہفتہ ہفتہ انتظار کیا ہے اور اب جا کر آپ کی تشخیص اس صورت میں جا کے مکمل ہوئی ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ہماری مریضہ آپ کے علاج کی بھی متحمل نہیں ہے۔‘‘
’’دیکھیے یہی طریقہ کار ہے یہاں کا، اب آپ خون کا انتظام کیجیے پہلے ان کی خون کی کمی پوری کی جائے گی اس کے بعدعلاج شروع ہوگا۔‘‘ ڈاکٹر نے ثامر کی بات سے لاجواب ہو کر کہا۔ ثامر نے ایک نظر اس سنگ دل مسیحا کی طرف دیکھا اور باہر نکل آیا اس نے سارا دن بھاگ دوڑ کے بعد مطلوبہ خون کا انتظام کرلیا۔ وہ روشنی کو وہیل چیئر پر بٹھا کر ایمرجنسی کی طرف لے آیا ان کی ماں جہاں آرا بھی ساتھ تھیں۔ روشنی کو ایک، دو اور پھر تیسری بوتل ختم ہوئی ڈاکٹر نے ان سے کہا کہ اب ان کی خون کی مطلوبہ کمی پوری ہوگئی ہے وہ اسے لے جاسکتے ہیں مگر اب شام ہوچکی تھی گائنی وارڈز کے تمام ڈاکٹر دوپہر دو بجے کے بعد چلے جاتے تھے اس کے بعد کسی مریض کا ایڈمیشن ممکن نہیں تھا، وہ گھر واپس بھی نہیں جاسکتے تھے کیونکہ یہاں سے اتنی دور واپس جانا اور پھر علی الصبح آنا بہت مشکل تھا انہوں نے اسپتال سے تھوڑی دور واقع ایک ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر رات وہاں بسر کی۔ صبح پھر روشنی کو لے کر وہ گائنی وارڈز کی طرف آئے ڈاکٹرز نے اس کا چیک اپ کیا اور دوبارہ خون کا ایک ٹیسٹ لکھ کر دے دیا۔ اس ٹیسٹ کی رپورٹ ملتے ملتے دوپہر دو بجے سے اوپر ہوگیا اور اس دن بھی روشنی کا ایڈمیشن نہ ہوسکا ثامر اور جہاں آرام بیگم بے بسی اور افسردگی کے ساتھ روشنی کے پژمردہ چہرے کی طرف دیکھتے جسے ایک کانٹا لگنے پر بھی سارا گھر بے چین ہوجایا کرتا تھا آج اس قدر تکلیف میں علاج تو درکنار وہ اسے وہیل چیئر پر بٹھائے اِدھر سے اُدھر اور کبھی اُدھر سے اِدھر لے جا رہے تھے مگر وہ مجبور اور یہاں کے نام نہاد مسیحائوں کے رحم و کرم پر تھے انہوں نے رات پھر ہوٹل میں بسر کی۔ انہیں پتا تھا کہ صبح پھر جب وہ روشنی کو چیک اپ کے لیے جائیں گے تو وہاں کے ڈاکٹرز انہیں پھر کوئی ٹیسٹ لکھ کر دے دیں گے۔ وہ جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہے تھے اسی لیے اس رات وہ اس سرکاری اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر کے پرائیویٹ اسپتال میں گئے ایک ہزار روپے فیس دے کر انہوں نے ان سے صرف یہ درخواست کی کہ وہ روشنی کا ایڈمیشن کرادیں اور پھر دوسرے دن اسے اسپتال میں ایڈمٹ کرلیا گیا اور اسی دن پھر اسے خون کی ایک بوتل لگوانے کے بعد بالآخر انجکشنز لگا دیے گئے۔
/…ؤ …/
’’سر ہمیں پہلے دن سے پتا تھا کہ اس لڑکی کو کینسر ہے اور وہ بھی اس اسٹیج پر کہ جب علاج کارگر ثابت نہیں ہوگا اسی لیے ہم جان بوجھ کر وقت ضائع کرتے رہے۔‘‘ ڈاکٹر سائرہ قدوسی نے ایم ایس ڈاکٹر ریحان سے کہا۔
’’لیکن آپ نے یہ بات ان کے لواحقین کو پہلے کیوں نہیں بتائی؟‘‘ ایم ایس ڈاکٹر نے کہا۔
’’اس لیے کہ سارا الزام ہم پر آنا تھا ہماری ہی غفلت کی وجہ سے ایک ماہ کی رسولی‘ جس کا آپریشن ہوا تھا دو ماہ کے اندر اندر اتنی خطرناک شکل اختیار کرگئی۔‘‘ ایم ایس ڈاکٹر نے ڈاکٹر سائرہ قدوسی کی بات کے جواب میں اثبات میں سر ہلایا۔
’’آپریشن میں کمی بیشی کی وجہ سے ہی رسولی دوبارہ کینسر کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی ہے۔‘‘ ڈاکٹر سائرہ قدوسی لمحے بھر کے لیے رکی اور دوبارہ گویا ہوئی۔
’’ہم نے اس کی فائل تیار کرلی ہے اور اس میں واضح طور پر درج کردیا ہے کہ اس کے لواحقین کی عدم احتیاط سے یہ سب کچھ ہوا ہے اور یوں ہمارے ہاتھ بالکل صاف ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے بات کے اختتام پر اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا اور اس کی بات سن کر ڈاکٹر ریحان بے اختیار مسکرا دیے۔
/…ؤ …/
انجکشنز لگنے کے بعد روشنی غنودگی کی کیفیت میں رہنے لگ گئی تھی کینسر کے طاقت ور انجکشنز نے اس کے دماغ کو ہپناٹائز کردیا تھا اور پھر کافی دنوں سے ایک قطرہ آب بھی اس کے حلق کی بائونڈری کراس نہیں کر پایا تھا شدید بھوک اور پیاس نے اس کے جسم سے گوشت ہضم کرلیا تھا نتیجتاً وہ ہڈیوں کے ڈھانچے کی شکل اختیار کر گئی تھی گو کہ اس کی کمزوری دور کرنے کے لیے اسے یکے بعد دیگرے چار بوتلیں خون کی لگ چکی تھیں مگر پھر بھی وہ ان طاقتور انجکشنز کو سہنے کے قابل نہ تھی کچھ دیر غنودگی میں رہنے کے بعد جب وہ ہوش میں آتی تو بے سر و پا باتیں شروع کردیتی مگر ان بے سر و پا باتوں میں ایک بات ایسی بھی تھی جو بے سر و پا نہ تھی وہ اک التجا تھی مگر اسے پورا کرنا ثامر اور جہاں آرا کے بس میں نہ تھا۔ وہ کبھی کبھار اپنی ماں اور ثامر کو پہچان کر خشک لبوں سے ’’ایک گھونٹ پانی دے دو‘‘ کی صدا بلندکرتی، وہ باری باری ان دونوں کے چہروں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتی اور دوبارہ غنودگی میں چلی جاتی اس اک لمحے میں انہیں اس کے چہرے پر دنیا جہاں کی حسرت سمٹتی دکھائی دیتی اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکل کر ان کے رخساروں کو تر کرنے لگ جاتے مگر وہ بے بس تھی ڈاکٹر نے انہیں روشنی کو پانی پلانے سے سختی کے ساتھ منع کیا تھا اور پھر ویسے بھی اس کے حلق سے نیچے کا جسم اس قدر تباہ ہوچکا تھا کہ پانی اس کے حلق سے نیچے ہی کب جا پاتا تھا اور وہ جو روشنی کے ایک اشارے پر اس کے سامنے دنیا جہاں کی چیزیں ڈھیر کردیتے اور اس کی ہر فرمائش لمحوں میں پوری کردیا کرتے تھے آج اسے ایک گھونٹ پانی دینے کے بھی قابل نہ تھے۔ وہ دن اور ساری رات روشنی اسی کیفیت میں رہی۔ اگلی صبح ان کا بڑا بھائی باسط بھی آن پہنچا اسے بڑی مشکل سے پندرہ دنوں کی چھٹی ملی تھی۔ اتنے دن اس نے گویا سولی پر کاٹے تھے وہ سب کے سب ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے مگر اپنی لاڈلی کو تکلیف میں بے بسی سے تڑپتا دیکھتے رہنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ اس دن روشنی مکمل ہوش و حواس میں تھی۔ اس نے بڑے بھائی کی آواز پر آنکھیں کھولیں اور والہانہ انداز میں اسے پکارا مگر اس کی آواز بہت دھیمی تھی۔ باسط نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے تسلی دی کہ وہ بہت جلد ٹھیک ہوجائے گی۔ بھائی کی بات پر اس کے لبوں پر ایک پھیکی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے آنکھیں بند کرلیں کہ جیسے وہ بہت تھک چکی تھی ایک لمبی اور تکلیف دہ مسافت پر چلتے چلتے خار زار راہ سے اس کا دامن چھلنی ہوچکا تھا اور وہ اپنے نشتر زدہ وجود کے کرب سے ہمیشہ ہمیشہ کے آرام کی متلاشی تھی۔ اس نے جیسے اپنے سفر کا ارادہ بڑے بھائی کے دیدار تک روک رکھا تھا اس نے چند لمحوں کے بعد دوبارہ آنکھیں کھولیں مگر اب کی بار اس کی آنکھوں میں زندگی کی چمک نہیں تھی ثامر بھاگ کر ڈاکٹر کو بلانے گیا مگر جب وہ ڈاکٹر کے ساتھ واپس آیا تو ان کی روشنی ان کی زندگی میں اندھیرے چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا چکی تھی۔ ان کی ماں جہاں آرا بیگم سسکیوں کے درمیان مسلسل روشنی کو پکارے جا رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ وہ تو اسے سرخ جوڑے میں وداع کرنے والے تھے اس نے کیوں اپنے لیے سفید کفن کا انتخاب کرلیا؟ مگر روشنی چپ تھی وہ کیا جواب دیتی کہ وہ تو اپنے پیارے باپ کے پاس جا چکی تھی کہ جس کی فرقت کے شدید غم نے ہی اس کے پیٹ میں رسولی کو جنم دیا تھا مگر ہر غم کا مداوا اور ہر کرب کا علاج ممکن نہیں۔ پر جہاں پر مسیحا ہی قاتل بن جائیں وہاں علاج سے لا علاج ہونے تک بہت تھوڑا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ خود اپنی ہی غفلت کے نتائج سے بچنے کے لیے وہ ان درد کے ماروں کے ساتھ بے اعتنائی برتتے رہے اور جان بوجھ کر وقت ضائع کرتے رہے اس بات کی پروا نہ کرتے ہوئے کہ ہر گزرتا دن ان دریدہ دلوں کی ٹیسوں میں کس قدر اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے یہ تو صرف ایک گھر کی کہانی ہے ایسے نام نہاد مسیحائوں کی غفلت اور بے پروائی سے ہر روز جانے کتنے گھروں کی روشنیاں یونہی بجھ جاتی ہوں گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close