Naeyufaq Apr-16

رشتے

تفسیر عباس بابر

’’تم آئے ہوتومیں آدھابچ گیاہوں‘‘
چاچاجی نے اپنے نحیف سے ہاتھ میں میراہاتھ پکڑتے ہوئے کمزورلہجے میں کہا۔
’’کہاں یہ کہ میں دوقدم چلنے سے بھی قاصرتھااورکہاں یہ کہ میں آج بناسہارے کے خودچل کرتین دفعہ باتھ روم بھی گیاہوں۔یہ کسی اپنے سے ملنے کی خوشی کی طاقت ہوتی ہے ‘‘
میں تاسف کے ساتھ جھلنگاسی چارپائی پرپڑے اس ہڈیوں کوڈھانچے کودیکھ رہاتھا۔کئی سال بعدانہیں اس حالت میں دیکھ کرمجھے شاک لگاتھا۔میری پلکیں بارہانمناک ہوئیں لیکن میں نے ضبط سے کام لیا شایدمیں نہیں چاہتاتھاکہ میری حالت سے انہیں اپنی حالت اورحالات کاکرب محسوس ہو۔
’’اچھا تم یہاں بیٹھو، نا میرے پاس‘‘
انہوں نے اپنی چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔میں خودکاراندازمیں ان کاہاتھ سہلاتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گیا۔
’’تم کافی بدل گئے ہو۔بڑے ہوگئے ہوناں‘‘وہ بمشکل زیرلب مسکرائے ۔
’’مجھے چھوڑیں آپ بتائیں اب طبیعت کیسی ہے ؟‘‘
میں نے رسماًان کاحال پوچھاورنہ وہ کیسے تھے ۔کس حال میں تھے ۔یہ تومیں انہیں دیکھتے ہی سمجھ گیاتھا۔
’’طبیعت تمہارے سامنے ہے بیٹا۔‘‘ انہوں نے قدرے افسردگی سے کہا۔’’ڈاکٹروں نے توجواب دے کرمجھے گھربھیج دیاہے ۔اب توبس اس کے بلاوے کاانتظارہے ‘‘۔
’’ایسی مایوسی کی باتیں نہ کریں چاچوجی۔آپ انشااللہ ٹھیک ہوجائیں گے ‘‘۔میں نے گویاانہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا
’’جواحوال پرسی کے لئے آتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں پتر‘‘
وہ آہستگی سے بولے ’’کیونکہ یہی عیادت کی رسم ہے لیکن تم توایسانہ کہو۔تم نے تومیراعروج بھی دیکھاہے اورزوال بھی تمہارے سامنے ہے یہ سب قدرت کے رنگ ہیں۔اعمال کی سزاہے ۔یایوں کہوکہ کرنی کی بھرنی ہے ‘‘۔
’’ایسانہ کہیں چاچوجی ابھی آپ کے بچوں کوآپ کی ضرورت ہے ‘‘میں نے ان کے مدقوق چہرے کودریدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔’’سب اچھاہوگا اللہ اپنے بندے کے لیے بہترسوچتاہے ‘‘۔
انہوں نے نحیف سی آوازمیں ہلکاساقہقہہ لگایا۔اتنے میں ہی اْن کی سانس پھولنے لگی۔ان کے پاس بیٹھی ہوئی ان کی بیوی نے انہیں پانی کے دوگھونٹ پلائے ۔سانس بحال ہوئی تووہ گویاہوئے۔
’’ارشد پتر۔ اب کسی کومیری ضرورت کیاہوگی۔جب تک میں اپنوں اوربچوں کی ضرورتیں پوری کرتاتھاتب تک انہیں میری ضرورت تھی۔اب بچے بڑے ہوگئے ہیں۔میراکاروباراب رہانہیں۔میں بوجھ ہوں اوربوجھ کون برداشت کرتا ہے۔‘‘
’’اچھااب کچھ دیرچپ کرجائیں ڈاکٹرنے آپ کوزیادہ بولنے سے منع کیاہے ‘‘چاچی نے آہستگی سے کہا۔اس کی آوازمیں ضبط کی لرزش اورآنسوؤں کی نمی تھی۔’’اورایسی باتیں نہ کیاکریں آپ کے یہ بچے بھی توہیں جوچھوٹے ہیں ۔انہیں آپ کی کمائی کی نہیں آپ کے سائے کی ضرورت ہے ‘‘
’’لو اتنے دنوں بعدمیرابھتیجاارشدآیاہے اورمیں ڈاکٹرکے کہنے پرچپ کرجاؤں۔‘‘ وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولے ’’ڈاکٹروں کاکیاہے یہ توایویں ای حکم چلاتے رہتے ہیں۔یہ نہ کھاؤ۔وہ نہ کھاؤاوراب بولنابھی منع ہے ‘‘
وہ اپنی دھن میں بولتے رہے ۔دل کاغبارنکالتے رہے ۔میں ان کے کرب کااندازہ کرسکتاتھا۔کیونکہ میں نے ان کاعروج جوانی اوربخت کی بلندی دیکھی تھی۔میں نے اپنی زندگی کے گیارہ سال ان کے ساتھ گزارے تھے اورپھروقت کی تقسیم نے ہمیں الگ الگ کردیا۔وہ اپنے مسائل میں الجھ کررہ گئے اورمیں اپنے حالات کی تلخیوں سے نبردآزماہوگیا۔یہاں انہیں اس حالت میں اس عسرت زدہ گھرمیں دیکھ کرمجھے صدمہ ہواتھا۔بدلتاہے رنگ آسماں کیسے کیسے ایک کمرے کے خستہ حال گھرمیں چندچارپائیاں اورکچھ گھریلو سامان میلے کچیلے چاربچے اورایک پریشان حال بیوی ان کے زوال وزبوں اورتلخی ایام کانوحہ گھرکے درودیوارپہ رقم تھا۔وہ بیک وقت کئی جان لیواامراض میں مبتلاتھے ۔شوگر ہیپاٹائیٹس سی اورگردوں کی خرابی۔وہ اپنی جسامت سے کئی گناکم نظرآرہے تھے ۔میری آنکھوں کے سامنے ان کے بھلے وقت کے مناظرگھوم رہے تھے ۔ہنستے مسکراتے خوش مزاج صحت منداورملنسارطبیعت کے حامل میرے چاچواحمدحسن آج موت کی دہلیزپرکھڑے حسرت زدہ نظروں سے ان اپنوں کی راہ ک رہے تھے جواب اپنے نہیں رہے تھے ۔چلتی کانام گاڑی ہے ۔رک جائے تورگوں میں بہتاہوالہوبھی جیسے رک جاتاہے ۔
چاچوکی پہلی بیوی بڑی حوصلے والی عورت تھیں۔چاچونے ان کی زندگی میں ہی دواورشادیاں کرلی تھیں لیکن انہوں نے اس بات کودل پرنہیں لیا۔یالیابھی توکسی کومحسوس نہیں ہونے دیا۔
وہ اپنی دونوں سوتنوں اوران کے بچوں کے لیے عیدپر یازندگی کے کسی بھی موقعے پرفراخدلی سے شاپنگ کرتیں اور میں اْن کے اعلی ظرف کاقائل ہوجاتا۔وہ مجھے بہت اچھی لگتی تھیں کیونکہ انہوں نے مجھے ماں جیساپیاردیا۔اپنے گھرمیں اولادکے برابررکھا۔میں اندازہ کرسکتاتھاکہ جتنابھی ضبط کریں۔جتنی بھی اعلی ظرفی کامظاہرہ کریں۔آخروہ ہیں توایک عورت ہی ان کے بھی جذبات اوراحساسات ہیں۔امنگوں اورحسرتوں بھرادل ہے ۔ان کی شادی بھی پسندکی تھی۔توایسی کیامصلحت تھی کہ انہوں نے خاموشی کے قفل کوکبھی ٹوٹنے نہیں دیاجبکہ وہ خوداندرسے ٹوٹتی جارہی تھیں۔شکست وریخت کاشکارتھیں۔مجھے اس دن یقین ہوگیاکہ عورت ایثارکاپیکرہے۔ ماں ہے توقربانیوں اورمحبتوں کابہتادریاہے ۔بہن اوربیٹی ہے توغیرت ودستارکی امانتدارہے ۔بیوی ہے تووفاکااہرامِ مصرہے ۔یہ تمام خوبیاں ان میں بدرجہِ اتم موجودتھیں۔میں نے کبھی انہیں افسردہ نہیں دیکھاتھا لیکن مسکرانے والوں کی آنکھیں بہت کچھ بتادیاکرتی ہیں۔میں ان کی آنکھوں سے دردکے سندیسے پڑھ لیاکرتاتھا۔وہ ایک قدآورصحت منداورخوبروعورت تھیں۔ان کی شخصیت میں ایک وقاررکھ رکھائو اورایسارعب تھاکہ دیکھنے والامرعوب ہوجاتاتھا۔اس دن عیدسے کچھ روزپہلے وہ بڑے بڑے کئی شاپرلے کرگھرمیں داخل ہوئیںاورخوشگوارموڈکے ساتھ چارپائی پربیٹھ گئیں۔ان کے بچے ان کے اردگردجمع ہوئے توانہوں نے مجھے بھی اپنے پاس بلاکربٹھالیا۔وہ سب بچوں کوان کے عیدکے کپڑے جوتے اورمختلف چیزیں دکھارہی تھیں۔بچے خوش ہورہے تھے ۔دفعتاً انہوں نے گہری نظروں سے مجھے دیکھازیرلب مسکرائیں اورایک شاپرمیری طرف بڑھایا۔
’’ارشدبیٹا اس میں تمہارے لیے کپڑے اورجوتے ہیں۔‘‘
انہوں نے انتہائی خلیق لہجے میں کہا۔
’’اس کی کیاضرورت تھی آنٹی‘‘میں نے آہستگی سے کہا۔
’’ارشد تمہیں ضرورت نہیں ہوگی لیکن تم سے جومیرارشتہ ہے اسے اس کی ضرورت ہے ۔تم بالکل میرے بیٹے کی طرح ہوبلکہ میرے بیٹے ہو۔‘‘
ان کے لہجے میں اپنائیت کی چاشنی نے مجھے مہربہ لب کردیا۔ان کے بچے کھیلنے کودنے میں مصروف ہوئے توانہوں نے مجھے اپنے قریب بلایااورایک بڑاساشاپراورکچھ رقم میری طرف بڑھاتے ہوئے بولیں۔
’’ارشد یہ کپڑے وغیرہ تمہاری دوسری چاچی اوراس کے بچوں کے لیے ہیں یہ ان کے گھردے آؤ‘‘
میں حیرت سے گنگ یک ٹک انہیں دیکھے جارہاتھا۔
آج ان کی اداس آنکھوں میں دردہلکورے لے رہاتھا۔اتناضبط کہ رگیں ٹوٹنے کااحتمال تھا۔میں نے ان کی ویران آنکھوں میں نمی محسوس کی ۔وہ منہ دوسری طرف کرکے کسی غیرمرئی نکتے کودیکھنے لگیں
’’آنٹی ایساکیوں اورکیسے کرلیتی ہیں آپ ان سے کیارشتہ ہے آپ کا۔‘‘میں پوچھے بغیرنہ رہ سکا۔
’’اگرتمہارے چاچوسے ان کارشتہ ہے توظاہری بات ہے میرابھی ہے۔‘‘ ان کے لہجے میں دردکی آمیزش نے مجھے بھی افسردہ کردیا۔
’’کیونکہ سب کچھ میرے پاس ہوتاہے تومیں ان کاحق تونہیں رکھ سکتی ناں۔خیرچھوڑو تم ابھی بچے ہواوریہ باتیں بڑی ہیں‘‘۔
میں کچھ نہیں بولالیکن میں سمجھتاتھاکہ وہ کس قدر ایثاراورضبط کامظاہرہ کررہی ہیں۔ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جواپنی خوشیاں اوروں کودے کران کی خوشیوں میں خوش بھی ہوتے ہیں۔وقت اپنی مخصوص رفتارسے گزرتارہا۔چاچونے تیسری شادی کرلی۔تب بھی آنٹی کی پلکوں کے بندنہیں ٹوٹے ۔
شب وروزومہ وسال کی منزلیں طے ہوتی رہیں۔بچے بڑے ہوگئے اوربڑے۔۔۔بوڑھے ہوگئے ۔چاچوجی شوگرہیپاٹائیٹس کے مریض تھے ازاں بعدگردوں نے بھی ساتھ دینے سے انکارکردیا۔ان کی صحت دن بہ دن گرتی چلی گئی۔اپناکاروباراورجائیدادوہ اپنی پہلی بیوی بچوں کودے چکے تھے ۔دوسری بیوی کے بچے جوان ہوکربرسرِروزگارتھے اورتیسری بیوی کے ساتھ وہ رہ رہے تھے ۔ان دنوں میں ان کے ہاں نہیں تھا۔دنیاترقی کے راستوں پرگامزن تھی۔ان دنوں موبائل فون عام نہیں ہوئے تھے تاہم مارکیٹ میں دستیاب تھے ۔دھیرے دھیرے یہ رحجان بڑھ رہاتھا۔میرے پاس بھی سیل فون تھا۔ایک دن میرے کزن عمران نے کال کرکے ایسی خبرسنائی کہ مجھ پرغم کاپہاڑٹوٹ پڑاتھا۔چاچوکی پہلی بیوی کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے تھے ۔وہ نہ جانے کب سے اندرہی اندر ختم ہورہی تھیں اورآج بالآخرختم ہی ہوگئی تھیں۔اْن کی اچانک موت کاصدمہ ناقابلِ برداشت تھا لیکن تقدیرکے فیصلے اٹل ہوتے ہیں میں وہاں پہنچاتووہ اپنے آخری سفرکے لیے رخت سفرباندھ چکی تھیں۔انہیں ہارٹ اٹیک ہواتھاجوکہ جان لیواثابت ہوا۔
وہاں مجھے چاچواوران کی دوسری بیویاں اوربچے بھی ملے ۔چاچوغم کی تصویربنے چٹائی پردیوارسے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔میں ان سے ملاتووہ پھوٹ پھوٹ کرروئے تھے ۔اتنے حصوں میں بٹ کروہ بہت کمزورہوگئے تھے ۔چہرے کی تازگی مفقودہوچکی تھی۔آنکھوں کی چمک لبوں کاتبسم اورطبیعت کی شگفتگی اب کہیں نظرنہیں آرہی تھی۔آنٹی سپردخاک ہوئیں تووہ کچھ دن اپنے پہلے بچوں کے پاس رہے اورپھرچلے گئے ۔وقت بہرطورگزرجاتاہے ۔وقت گزرتارہامیں پھرزندگی کے جھمیلوں میں کھوگیا۔موبائل فون عام ہوئے توخبریں بھی عام ہونے لگیں۔عمران نے مجھے فون پرایک دودفعہ بتایاکہ چاچوبہت بیمارہیں۔شوگرنے انہیں تقریباًختم کرکے رکھ دیاہے ۔خاندان میں ایک عزیزکی وفات پراچانک وہ میرے سامنے آگئے ۔ لاغر اور نحیف وجود اندرکودھنسی ہوئی آنکھیں پچکے ہوئے گال چندلمحے میں انہیں پہچان نہیں پایاتھا۔وہ ہڈیوں کاتکلیف دہ مجموعہ تھے ۔
بے ساختہ میری پلکیں نمناک ہوگئیں۔میں ان سے گلے ملاتوضبط کے بندٹوٹ گئے ۔میں رویاتووہ بھی رونے لگے ۔
’’ارشد پتر یہ کیایار تم نے مجھے حوصلہ دیناتھا۔‘‘ وہ آبدیدہ ہوکربولے ۔’’یہ زندگی کے رنگ ہیں۔تلخ تجربات ہیں۔انہی رنگوں سے اپنوں بیگانوں کی شناخت ہوتی ہے ۔زندگی کے اتارچڑھاؤکاپتہ چلتاہے ۔یہ وہ کڑاوقت ہے جب بڑے سے بڑارشتہ تذبذب کاشکارہوجاتاہے ۔نگاہیں پھیرلیتاہے۔‘‘
ان کاتجربہ بہت وسیع تھا۔لہذاان کے تجزیے سے انکارممکن نہیں تھا۔ہم بہت دیروہاں ایک ساتھ رہے ۔انہوں نے اپنے تلخ شب وروزکااحوال حرف بہ حرف مجھے سنادیاتھا۔
وہ ان سے میری آخری ملاقات ثابت ہوئی اورمجھے وہ ملاقات یادآرہی تھی جب ہم پہلی بارملے تھے ۔
اگرچہ کہ اْن سے میراخونی رشتہ نہیں تھالیکن میرامانناہے کہ رشتے خون کے نہیں ہوتے ۔رشتے احساس اورخلوص کے ہوتے ہیں۔اپنائیت اورایثارکے ہوتے ہی۔ ورنہ خون توجانوروں اوردرندوں میں بھی ہے لیکن ان میں احساس نہیں ہے۔ فی زمانہ حضرتِ انسان بھی احساس خلوص اورجذبات سے عاری ہے ۔بس ریٍڈی میڈرشتوں کی فارمیلٹیزہیں۔یوں جیسے گلے میں پڑے ڈھول بجانے پڑتے ہیں۔ سو ہرکوئی یہ رشتوں کے ڈھول بجانے پرمجبورہے۔ منافقت اورمجبوری کے اسی ڈھول کی ڈھم ڈھم اس گمان پریقین کی مہرثبت کرتی ہے کہ دورکے ڈھول ہی سہانے ہوتے ہیں۔
پہلی ہی ملاقات میں وہ مجھے اچھے لگے تھے کیونکہ وہ ایک ہنس مکھ اورزندہ دل انسان تھے ۔میں بسلسلہِ روزگاراْن کے ہاں قیام پذیرہوگیا۔وہ پراپرٹی ڈیلرتھے ۔شیخوپورہ میں ان کاآفس تھااورآفس سے تین کلومیٹرکے فاصلے پرہی ان کاگھرتھا۔یہ آج سے کم وبیش پندرہ سال قبل کی بات ہے ۔انہوں نے خوبصورت دومنزلہ مکان بنایاتھا۔جہاں وہ اپنی پہلی بیوی اوربچوں کے ساتھ رہتے تھے ۔دوسری شادی بھی انہوں نے کررکھی تھی۔اس بیوی سے بھی ان کے چاربچے تھے ۔رفتہ رفتہ میں ان سے گھل مل ساگیا۔ ان کا طرزگفتگو طنز و مزاح سے بھرپور باتیں اور دلکش ہنستا مسکراتا چہرہ میری کمزوری بن گیاتھا۔وہ مجھے دنیاکے اتارچڑھاؤسے متعلق بتاتے رہتے تھے ۔
’’دیکھو زندگی میں کسی دوست یااپنے سے کوئی امیدمت باندھنا۔‘‘ ایک دن آفس میں بیٹھے ہوئے وہ اپنی زندگی کے تجربات سنارہے تھے ’’کیونکہ جب امیدٹوٹتی ہے توتعلق اوررشتہ بھی ٹوٹ جاتاہے اوراس کے ساتھ ہی دل بھی‘‘
اس وقت ان کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔لیکن ان کا ہرقول قول زریں تھا یہ مجھے تب جاکراحساس ہواجب میں زندگی کے گوناگوں مسائل میں الجھ کررہ گیاتھا۔
’’یارجوباتیں تمہیں آج سے دس سال بعدٹھوکریں کھاکھاکر اذیّتیں سہہ سہہ کرپتہ چلنی ہیں وہ مجھ سے ابھی سنتے رہواورلکھتے جاؤ۔کیونکہ میں یہ سب سہہ چکاہوں ۔برداشت کرچکاہوں‘‘ان کے لہجے میں تنبیہہ آمیزنصیحت تھی ’’دنیامیں صرف دوہی خالص اوربے لوث رشتے ہیں ماں اورباپ باقی سب ضرورتوں کے سلسلے ہیں‘‘
غیرارادی طورپران کی باتیں میرے لاشعورمیں پنپتی رہیں۔وقت اپنے سنگِ میل طے کرتارہا۔اس دوران وہ تیسری شادی بھی کرچکے تھے ۔
’’چاچوجی‘‘ایک دن میں کہے بغیرنہ رہ سکا۔’’یہ آپ کوشادیوں کاکیاشوق چرایاہے ‘‘؟
وہ زیرِلب مسکراتے ہوئے بولے
’’یارکل ملاکرچاردن کی توزندگی ہے ۔کم ازکم چارشادیاں توہونی چاہئیں۔شریعت منع نہیں کرتی تولوگ کیوں کرتے ہیں۔یہ فلسفہ میری سمجھ سے بالاترہے اورشادی برائی سے بہترہے ‘‘
ان کی یہ منطق میری سمجھ سے ماوراتھی۔وہ پرمزاح لہجے میں بولے ۔
’’سچی بات تویہ ہے کہ جتنی شادیاں کروگے اتناہی برائی سے بچوگے ‘‘
اس وقت ان کی باتیں میری عقل سے بڑی تھیں۔ان کی تیسری شادی کے کچھ ماہ بعدہی میں ان کی ملازمت چھوڑچکاتھا۔انہوں نے مجھے بہت محبت دی تھی۔زندگی جینے کے گرسکھائے تھے ۔ان سے ایک انتہائی محترم رشتہ استوارہوگیاتھا لیکن وقت کی دھول نے اس رشتے کوبھی دھندلاکے رکھ دیا۔وہ سچ کہاکرتے تھے کہ اسی دنیامیں ہی نفسانفسی ہے ۔اسی دنیامیں ہی دوزخ ہے اوراسی دنیامیں ہی احتساب ہے ۔جوبوناہے وہی کاٹناہے ۔میں بھی نفسانفسی کاشکارہوگیااورادھران کااحتساب بھی شروع ہوچکاتھا لیکن اس سے پہلے ان کی پہلی بیوی راہیِ ملک ِعدم ہوچکی تھیں۔انہوں نے کافی کچھ پہلی بیوی سے بڑے بیٹے کے نام کیااورخوداپنے احتساب کے لیے تیارہوگئے ۔شایداسی کوعرصہِ محشرکہتے ہیں۔
وہ اپنی تیسری بیوی کے پاس رہنے لگے تھے ۔کاروبارکاستارہ ماندپڑگیاتھا۔وہ بام ِعروج سے خاک نشیں ہوچکے تھے ،میں اپنے کاروبارمیں کھوگیا اورشادی کے بعدجب بچے قطاربناکرکھڑے ہوگئے تومجھے ان کی ایک ایک بات یادآنے لگی۔اس دوران یکے بعددیگرے میرے والدین رختِ سفرباندھ کراس دارِفانی سے کوچ کرچکے تھے
کچھ عرصے کے لیے میں ان سے بے خبرہوگیاتھا کیونکہ میں خودگردشِ دوراں کی زدمیں تھا میرے ابانے میرے لیے ترکے میں اپنی یادوں کے سواکچھ نہیں چھوڑاتھا اورظاہری بات ہے یادوں سے زندگی کانظام نہیں چلتا بلکہ بعض اوقات تویادماضی بھی عذاب کی شکل اختیارکرجاتی ہے ۔گھریلوحالات ومعاملات اس قابل نہیں تھے کہ میں چاچوجی سے رابطہ رکھ پاتا لہذاان سے ربط معطل ہوااورزندگی بے ربط سی ہوگئی۔چہاراطراف لوگوں کی بھیڑتھی لیکن کوئی اپنانہیں تھا۔زندگی پرت درپرت مصائب کے درواکررہی تھی۔
’’ارشدپتر یاراب توفرازصرف احمدفرازکے شعروں میں ہی نظرآتاہے ‘‘انہوں نے مایوس لہجے میں کہا۔’’باقی تو ہرطرف نشیب ہی نشیب ہے ‘‘۔ماں باپ کے بعدتوحسرت ہی رہ گئی ہے کہ کوئی بے لوث پیارکرے بلاغرض تعلق رکھے دردکوسمجھے دکھ کامداواکرے اوراگرکبھی کوئی کڑاوقت ہو توکوئی کام آجائے ‘‘
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں چاچوجی‘‘میں نے تائیدی لہجے میں کہا۔’’شایدیہی نفسانفسی ہے ‘‘
’’بالکل ایساہی ہے پریارکچھ تورشتوں کے بھرم ہوتے ہیں۔‘‘ وہ تاسف سے بولے ۔’’ہم جنہیں سینے پہ سلاکر اپنانوالہ انہیں کھلاکرپروان چڑھاتے ہیں وہ پلک جھپکتے میں اجنبی کیوں بن جاتے ہیں۔‘‘
میں چْپ رہا کیونکہ میرے پاس ان کے سوال کاجواب نہیں تھا۔اب میں بھی زندگی کے اس موڑپرتھاکہ مجھے اچھے برے کی پہچان بخوبی ہوچکی تھی لیکن چندلمحوں بعدانہوں نے میرے اس دعوے کوردکرکے رکھ دیا۔
’’عجب زمانہ آگیاہے پہلے میں سمجھتاتھاکہ میں سب کچھ اور سب کو سمجھتا ہوں۔‘‘ ان کے لہجے میں جھنجلاہٹ تھی ’’لیکن ایسانہیں ہے َاب توسمجھ ہی نہیں آتی کہ کون مخلص ہے اورکون نہیں ۔ہرکسی نے ایک خول چڑھارکھاہے۔‘‘
وہ بلاشبہ درست کہہ رہے تھے ۔اْن کے پاس عروج وزوال کاتجربہ تھا۔وہ اپنوں بیگانوں کے رویوں سے نالاں تھے ۔بلاشبہ انہوں نے ماضی میں بہت پروقارزندگی گزاری تھی لیکن اب وہ ابتلامیں مبتلاتھے ۔ان کی دوسری بیوی اوراس کے بچوں نے بھی ان سے ترک تعلق کررکھاتھا۔محض اس لیے کہ اب ان کے پاس دولت نہیں تھی۔ توکیا رشتے دولت سے مشروط ہوتے ہیں؟ عیش وآرام کے رہن منت ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب میرے پاس موجود تھا۔ چند لمحوں کے لئے وہ کہیں مصروف ہوئے تومیں اْن کے موجودہ حالات کے تناظرمیں اپنے آپ کودیکھ رہاتھا۔چندماہ پہلے میں ایک میڈیسن کمپنی میں اچھی پوسٹ پرتھا۔ماہانہ اتنی رقم آجاتی تھی کہ میں انتہائی اطمینان کے ساتھ زندگی کی گاڑی رواں رکھ رہاتھا۔اْن دنوں میرے دوست بھی بہت تھے اوررشتہ داروں کابھی انت نہیں تھا۔چاہنے والے تواتنے تھے کہ شمارسے باہرتھے ۔پھروقت نے کروٹ بدلی۔میں بام ِعروج سے زمین پراتراتو۔۔تاحدنگاہ کوئی اپنانظرنہیں آیا سب چڑیوں کی طرح کھیت چگ کرجاچکے تھے ۔عشرت کے بعدعسرت کاتجربہ یقیناًتکلیف دہ تھا لیکن اللہ اپنے بندے کوہررنگ دکھاتاہے ۔وہ سکھ عیش وآرام اوردولت دے کرانسان کے ظرف کامعیاردیکھتاہے اوردکھ دے کراسے آزماتابھی ہے ۔
بھلے وقتوں میں میراایک دوست مجھ سے اچھی خاصی رقم لے گیاتھا۔بات پیسوں کی نہیں ہوتی۔بات احساس کی ہوتی ہے رویوں کی ہوتی ہے۔ تنگدستی حدسے زیادہ بڑھی تومیری شریک ِسفرنے مشورہ دیا۔
’’آپ نے بھلے وقتوں میں جاویدبھائی کوایک لاکھ مستعاردیاتھا‘‘وہ جھجکتے ہوئے بولی ان سے ہی بات کرکے دیکھ لیں۔
مجھے اس کی بات میں وزن محسوس ہواویسے بھی ہم نے اپنی رقم مانگنی تھی ۔اس میں تذبذب کی کیابات تھی۔میں نے موبائل فون نکالا اورمطلوبہ نمبرڈائل کردیا۔تیسری چوتھی بیل پرکال ریسیوکرلی گئی۔رسمی حال احوال کے بعدمیں نے عرضِ مدعاکیا۔
’’جاویدبھائی مجھے کہناتونہیں چاہیے لیکن میں گزشتہ کئی مہینوں سے بیروزگارہوں۔آپ کوپتہ ہی ہے کچھ دن پہلے میراایکسیڈنٹ بھی ہواہے تو…‘‘
’’او… ارشدبھائی آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں وہ اتنے شیریں لہجے میں بولاکہ میری ٹینشن دورہوگئی۔’’بس مجھے ایک دودن کاوقت دے دیں۔آپ کوپتہ ہے میرے بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔پھربھی میں کوشش کرتاہوں کہ آپ کی کچھ مددکرسکوں۔‘‘
مددکے لفظ پرمجھے کافی تعجب اورافسوس ہواتاہم میں نے چپ رہناہی مناسب سمجھا۔
’’جاویدبھائی شرمندہ نہ کریں‘‘میں نے واقعی شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔’’ویسے آپ کاکام توٹھیک چل رہاہے ۔آپ چاروں پانچوں بھائی برسرروزگارہیں اور۔۔‘‘
’’او…ارشدبھائی کام چل رہاہے تومسائل بھی تواتنے ہی چل رہے ہیں۔بہرحال آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے خیرآپ کل شام مجھے کال کیجیے گا‘‘
کل کی امیدپرمیں نے کال منقطع کردی۔دوسری شام اسے کال کی تونمبرپاورڈآف جارہاتھا۔خداخداکرکے تین دن بعدرابطہ ممکن ہوا۔کال میری بیوی نے کی اور ریسیواس کی بیوی نے کی۔
اس باررسمی حال احوال بھی دریافت نہیں کیاگیا۔
’’جی میں شاہدہ بول رہی ہوں‘‘دوسری طرف سے قدرے درشت لہجے میں کہاگیا۔
’’میں ثنابات کررہی ہوں‘‘میری بیوی نے کہا۔’’کل جاویدبھائی سے بات ہوئی تھی انہوں نے آج کال کرنے کوکہاتھا۔‘‘
’’جی وہ توسورہے ہیں اورآپ پلیزہمیں تنگ نہ کریں ۔ہمارے حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔آپ کی مہربانی ہوگی‘‘
میں سن ہوکررہ گیاتھا۔کال منقطع ہوچکی تھی۔ثناتحیرآمیزنظروں سے فون کوگھوررہی تھی اورپھران سے رابطہ ناممکن ہوگیا بلکہ رابطہ ہی نہ رہا۔
’’یہی نفسانفسی ہے ارشدمیاں۔‘‘چاچوکومیں نے مختصراًبتایاتووہ بولے ’’ہرکسی کواپنی پڑی ہے ۔کوئی مرے جیے جائے بھاڑمیں‘‘
خیر یہاں مقصدچاچوکی کہانی بیان کرناہے ۔میں ان کی موجودہ حالت دیکھ کربجھ ساگیاتھا۔چاچوکے اپنے خاندان والوں سے تعلقات نہیں تھے ۔حتی کہ اولادبھی پرسانِ حال نہیں تھی۔میں نے اندازہ کرلیاتھاکہ وہ دم بہ دم موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
نفرت محبت احساسِ محرومی اورگھریلوتلخیاں بچوں کے ذہن میں پنپتی رہتی ہیں۔اْن کے لاشعورمیں گرہ سی پڑھ جاتی ہے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے ۔ارم کے ساتھ بھی ایساہی ہواتھا۔اس کابچپن میرے سامنے گزراتھا۔بچپن سے جوانی تک اس کی آنکھوں میں اپنے باپ کے لیے اک عجیب سی اجنبیت تھی۔ایسے شکوے تھے جن کااظہاروہ کبھی نہیں کرپائی تھی۔وہ چاچوکی بڑی بیٹی تھی۔ چاچو نے کبھی بچوں سے محبت اورشفقت کے سلسلے میں امتیازنہیں برتا لیکن دیگربچوں کی طرح لاشعوری طورپروہ بھی ان سے دورہوتی چلی گئی۔وہ چاچوکی سب سے پہلی بیوی کی پہلی اولادتھی۔مجھے اچھی طرح یادہے جب وہ اچانک بیمارپڑگئی تھی توچاچوکوجان کے لالے پڑگئے تھے اورجب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئی تھی وہ چین سے سوئے تھے نہ ہی کچھ رغبت سے کھایاپیاتھا۔
وہ گرمیوں کی ایک اداس شام تھی جب میں ان کے فون کرنے پران کے گھرگیاتھا۔سورج مغربی افق کے پردے میں روپوش ہونے کی تیاری کررہاتھا۔حبس اتناتھاکہ پسینہ خشک نہیں ہورہاتھا۔ان کے گھرکے ساتھ پختہ روسڑک پرگاڑیوں کاہجوم ہارنوں کاشور اورآنے جانے والوں کاتا نتا بندھا ہواتھا۔گھرپہنچتے پہنچتے مجھے شام ہوگئی تھی۔پہلی ہی دستک پردروازہ فوراًکھل گیا۔
میرے سامنے چاچوکھڑے تھے ۔ان کی حالت اورچہرے کی یاسیت نے مجھے تکلیف دی تھی۔
’’کیابات ہے چاچو آپ ٹھیک توہیں‘‘؟
رسمی حال احوال کے بعدمیں نے تشویش زدہ لہجے میں استفسارکیا۔
’’وقت اورحالات ٹھیک نہ ہوں توکچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتاارشدپتر‘‘وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولے ۔’’یار کچھ دنوں سے زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے ‘‘
’’ہواکیاہے ؟کچھ بتائیں توسہی۔‘‘ میرے لہجے میں اصرارتھا۔
’’یار میں تودعاکرتاہوں کہ اللہ ہراس شخص کوکچھ دنوں کے لیے زوال ضروردکھائے جوعروج پرہے ‘‘
’’یہ کیسی دعاہوئی چاچو‘‘میں نے تعجب سے کہا ’’بلکہ یہ توبددعاہے ‘‘
’’اس لیے کہ عروج میں ہرکوئی اپنامحسوس ہوتاہے ‘‘حسبِ عادت وہ زندگی کاتلخ فلسفہ بیان کرنے لگے ۔’’لیکن ایساہوتانہیں۔جب تک وقت صحیح ہوتاہے سب کچھ صحیح لگتاہے ‘‘
وہ سچ کہہ رہے تھے ۔وقت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے ۔زندگی کتنے رنگ بدلتی ہے ۔وہ دل کی بھڑاس نکالتے رہے ۔اپنے دکھ سناتے رہے اس دوران کھانابھی آگیا۔ہم ساتھ ساتھ کھانابھی کھاتے رہے اورباتیں بھی کرتے رہے ۔یہ ان کی پہلی بیوی کی وفات سے کچھ ماہ بعدکی بات ہے ۔صبح ہوئی توہم صحن میں چارپائی پربیٹھ گئے ۔ارم کی شادی ہوچکی تھی۔وہ خاصی خوش نظرآرہی تھی تاہم میں نے محسوس کیاکہ وہ چاچوسے ابھی تک گریزپاہے ۔وہ چھوٹے بچے کودکان سے کچھ لانے کے لیے کہہ رہی تھی۔اس نے اپناپرس کھولا۔غیرارادی طورپرمیری نظرپڑگئی۔اس کے پرس میں نیا ٹچ اسکرین موبائل فون اور پانچ سواورہزارہزارکے ان گنت نوٹ نظرآرہے تھے ۔میرے استفسارپرچاچونے بتایاکہ میں نے تمہیں بس یونہی بلایاہے ۔
’’یارزندگی کابھروسہ نہیں ہے سوچاایک بارمل ہی لیں‘‘
وہ شایداپنے آس پاس موت کی آہٹ محسوس کررہے تھے ۔ان کی صحت بھی بتارہی تھی کہ اب چل چلاؤکاوقت ہے۔
’’آج تمہیں تلخیِ حیات کی ایک جھلک دکھاؤں‘‘
اچانک انہوں نے ایک غیرمتوقع ساسوال کیا۔
’’جھلک؟کیامطلب چاچوجی‘‘
’’ابھی بتاتاہوں۔‘‘انہوں نے آنکھ دباکرکہا۔
اسی لمحے ارم چائے کے دوکپ لے کرآئی۔
’’ارم آج ایک کام توکرو‘‘وہ چائے کاکپ پکڑتے ہوئے بولے ۔
’’جی بتائیے۔‘‘،وہ درشت لہجے میں بولی۔
انہوں نے ذومعنی نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔میں سمجھ گیاکہ یہی تلخی ِحیات کی جھلک ہے۔ ‘‘
’’بیٹا میرے بچے بیمارہیں‘‘وہ اپنی دوسری بیوی کے بچوں کی بات کررہے تھے ’’گھرمیں سوداسلف نہیں ہے ۔میں نے اپنی دوائی بھی لینی ہے ۔پرسوں تک کے لیے مجھے ایک ہزارروپیہ دے دو۔‘‘
انہوں نے کہااوراسے پرامیدنظروں سے دیکھنے لگے۔
’’آپ بھی کمال کرتے ہیں ابوجی‘‘وہ کٹیلے لہجے میں بولی۔میرے پاس پیسے کہاں سے آئے ۔آپ توشایدآتے ہی اس لیے ہیں۔،وہ تیزتیزقدم اٹھاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
میں نے ان کی آنکھوں میں کرب کی نمی محسوس کی ۔وہ چندلمحے بیٹی کوتاسف سے دیکھتے رہے اورپھرمیری طرف متوجہ ہوئے ۔
’’دیکھا؟یہ ہے تلخی ِحیات کارنگ۔یہ وہ اولادہے جسے میں نے منتوں مرادوں سے لیا۔نازنخرے برداشت کیے ۔ہرممکن خواہش پوری کی۔آج اس کے پاس میرے لیے چندروپے نہیں ہیں‘‘
مجھے واقعی بہت دکھ ہوا۔اب سے کچھ دیرپہلے میں اس کے پرس میں اچھی خاصی رقم دیکھ چکاتھااوروہ اپنے باپ کودوائی کے لیے کچھ روپے دینے سے انکارکررہی تھی۔توکیایہ بھی جدیددورکے تقاضے ہیں؟چاچونے بتایاکہ میرایہاں رہناتودرکنار انہیں یہاں میراآنابھی ناگوارگزرتاہے ۔مجھ میں برداشت کایارانہیں تھا۔میں وہاں مزیدکچھ دیربے دلی سے بیٹھارہااورپھرواپس آگیا۔
چندہی دنوں بعدیہ روح فرساخبرملی کہ چاچوجی اب اس دنیامیں نہیں رہے ۔دیگراقرباکے ساتھ میں بھی بروقت پہنچ گیاتھا۔ان کی آخری تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔خاندان کے لوگ جوق درجوق آرہے تھے ۔
میری ہمت نہیں ہوئی کہ آگے بڑھ کردیکھوں کہ وہ زندگی کی قیدسے آزادہوکرکیسے لگ رہے ہیں۔لیکن جنازہ اٹھانے کے لیے مجھے بھی آگے جاناپڑا جہاں ان کے سب عزیزاوررشتہ داررورہے تھے ۔دھاڑیں ماررہے تھے ۔ایک منظرنے مجھے جھنجوڑکے رکھ دیا۔
ارم بری طرح رورہی تھی۔میت اٹھانے والوں کوروک رہی تھی۔چارپائی کوچھوڑہی نہیں رہی تھی۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے ایک دلخراش چیخ ماری اورچارپاٰئی سے لپٹ گئی ’’میں نہیں جانے دوں گی۔میں ابوکواپنے پاس رکھوں گی۔‘‘
اس کے دردناک بین لوگوں کوبھی رلارہے تھے ۔ دلوں میں چھیدکررہے تھے ۔میرے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کررہاتھا۔
’’جب وہ زندہ تھے توتمہیں ان کایہاں رہنا تو کیا آنابھی ناگوارتھا۔اب اس بے جان وجودکویہاں رکھ کرکیاکروں گی؟‘‘
لیکن میں یہ سوال اس سے یاکسی سے براہ راست نہیں کرپایا۔تدفین کے فوراًبعدمیں وہاں سے نکل آیا کیونکہ اب وہاں میراکوئی نہیں تھا۔جواپنوں کے نہ ہوسکے وہ کسی کے کیاہوں گے ۔یہی زندگی ہے ۔آنے والوں کاجاناجزوِلازم ہے ۔کاش ہم جانے والوں کومحبتیں اوروہ احترام دے سکیں جن کی اْنہیں ضرورت ہوتی ہے بالاخر آخرہم نے بھی جاناہے ۔یہ سب کچھ یہیں کاہے ۔یہیں رہ جاناہے ۔ سب مایاہے ۔ہرشے فانی ہے ۔رہے نام اللہ کا۔

نظم

چپ ہے نظم
( اسکول کے ننھے شہدا کی نذر)
ظلمت آگے انسان بھی چپ ہے
اور وقت کا سلطان بھی چپ ہے
جبر کے عکاس ہیں چہرے
ظلم کا ترجمان بھی چپ ہے
آہووں کا زندان بھی چپ ہے
انساں ہے حیواں یا درندہ
اس کی کوئی تفسیر تو سوچو
امن کی کوئی تدبیر تو سوچو
کب تک مائیں بین کریں گی
کوئی زندہ ضمیر تو سوچو
عدل کی کوئی زنجیر تو سوچو
شدت پسندی کی بے مقصد جنگ میں
لعل جس کا بچھڑ گیا ہے
چمن جس کا اجڑ گیا ہے
بیٹھی بال نوچ رہی ہے
اور یہ بھی سوچ رہی ہے
حق کاپندار بھی چپ ہے
گلی اور بازار بھی چپ ہے
ہرسو وحشت طاری
دھڑکن کی رفتار بھی چپ ہے
رعایا کا مختار بھی چپ ہے
بستی کا سردار بھی چپ ہے
عدل ڈر کی صلیب پر لٹکا
قاضی کا دربار بھی چپ ہے
زندگی خونی نہر میں ڈوبی
آزادی قفس کے قہر میں ڈوبی
کشتی جیسے بھنور میں ڈوبی
فضا گولے بارود سے لرزی
دہشت مرے شہر میں ڈوبی
غیرت کا رواج بھی چپ ہے
فطرت اورمزاج بھی چپ ہے
بے رحم سماج بھی چپ ہے
باہر خوف ناچ رہاہے
کل بھی چپ تھی
آج بھی چپ ہے
عامر زمان عامر…بورے والا

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close