Naeyufaq Apr-16

ڈاکو راج

شبیر سومرو

’’اے لڑکے! اِدھر آ … کون ہے تُو؟‘‘
میں سائیکل پر سوار سیتا روڈ قصبے سے کچے کے گوٹھ سِیتا ولیج دوستوں سے ملنے جارہا تھا۔ رستہ کچا، اوبڑ کھابڑ اور گڈھوں والا تھا، اس لیے وہ چھوڑ کر میں نہر کے پُشتے پر بنا ’’وی آئی پی‘‘ رستہ استعمال کر رہا تھا جو علاقے کے سیّد زمیندار نے اپنی جیپ کے لیے مخصوص کر رکھا تھا اور بیلدار دن میں تین بار اس تنگ مگر اچھے رستے کو چھڑکائو کر کے، اس کی مٹی جماتے رہتے تھے۔ میری جو شامت آئی تو اس رستے کو خالی دیکھ کر اس پر سائیکل دوڑانے لگا تھا کہ سامنے سے دو جیپیں آنکلیں۔ قریب آنے پر بھی میں رستے سے نہ اُترا کیونکہ نیچے اُترنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔ ایک جانب کانٹے دار جھاڑیوں کی باڑھ تھی اور دوسری طرف نہر بہہ رہی تھی۔ اس لیے جیپوں کو راستہ دینے کے لیے میں سائیکل سے اُتر گیا اور ممکنہ حد تک کنارے ہو کر کھڑا ہو گیا۔ پہلی جیپ جب میرے برابر آکر رُکی اور میں نے اس میں بیٹھے لوگوں پر نظر ڈالی تو جیسے سانس رُکنے کو آگئی۔ دونوں جیپوں میں مسلح ڈاکو سوار تھے، جن کی سربراہی اس زمانے کا نامی گرامی ڈاکو پَرُو چانڈیو کر رہا تھا۔
پَرُو چانڈیو اس زمانے کا وہ کردار تھا، جو اپنی دلیرانہ وارداتوں کی وجہ سے ملک بھر میں جانا پہچانا کردار بن چکا تھا۔ میں نے جو اسے ٹولے سمیت دیکھا تو میرے حواس جواب دے گئے اور سہم کر وہیں کھڑا رہا۔ ایک ڈاکو جیپ سے اُترا اور مجھے بازو سے پکڑ کر ڈرانے والے لہجے میں پوچھنے لگا۔
’’اے لڑکے! کون ہے تو؟… کس کا بیٹا ہے؟ ادھر آ، پُریل خان (پَرُو) کے پاس چل۔‘‘
میں اس کے ساتھ جیپ کی پیسنجر سیٹ کی طرف آگیا، جس پر پَرُو چانڈیو بیٹھا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر ایک کلاشنکوف رکھی تھی، جس کا لٹکانے والا بیلٹ موتیوں والی کڑھائی کا تھا۔ میں جب اس کے پاس کھڑا ہوا تو اس نے وہی سوال کیا کہ کون ہو؟ میں نے اپنا نام، بابا کا نام اور ذات بتائی۔ پھر پوچھا کہکہاںجا رہے ہو؟ تو بتایا کہ سِیتاولیج میں فلاں ذات والے دوست ہیں، ان کے پاس جارہا ہوں۔ اس پر اس نے کہا کہ پیچھے بٹھائو اسے ۔
اس کے حکم کی دیر تھی کہ میرے ساتھ کھڑے ڈاکو نے مجھے کندھے پر دبائو ڈال کر ڈانٹا کہ جیپ میں چڑھ جائو۔ میں بغیر کسی مزاحمت کے چڑھ گیا۔ میری سائیکل وہیں سڑک پر کھڑی تھی۔ جیپ چلنے لگی اور وہ میری منزل کے مخالف سمت جا رہی تھی۔ تھوڑا آگے چل کر ایک دَم میرے ذہن میں روشنی کا جھماکا سا ہوا اور ایک واقعہ یاد آگیا۔ میں نے پَرُو کو مخاطب کر کے کہا۔ ’’ادھا پَرِیَل! میں فلانے پولیس والے کا چھوٹا بھائی ہوں جو سِیتا تھانے پر ہوتا تھا۔‘‘
’’ہاں‘ وہ پولیس والا موٹا سا؟‘‘ پَرُو نے حیرت سے پوچھا۔
’’جی، ادا وہی … میں اس کا سگا بھائی ہوں ۔‘‘
’’اڑے گوہر! گاڑی روکو … یار! کیا ظلم کیا ہے ہم نے؟… روکو گاڑی ۔‘‘
جیسے ہی گاڑی رُکی، وہ چھلانگ مار کر نیچے اُترا اور مجھے کہنے لگا۔
’’یار! نیچے آجا ۔‘‘
میں ڈر گیا کہ اب آخری وقت آگیا شاید، کیونکہ وہ پولیس والوں کا سخت دُشمن بنا ہوا تھا۔ میں جیسے نیچے اُترا، اس نے میرے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھے اور کہنے لگا۔
’’بابلا! ہم سے بہت بڑی زیادتی ہو گئی ہے کیونکہ ہم تمہیں جانتے نہیں تھے۔ تمہارا بھائی مرد ہے اور نیک انسان ہے۔ اس کا احسان تو میں کبھی بھول ہی نہیں سکتا۔ تو ہمیں بخش دینا اور بھائی سے بھی کہنا کہ مجھے معاف کردے کہ ہم نے انجانے میں یہ غلطی کردی ۔‘‘
اس کے بعد اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور دس دس کے کئی نوٹ نکال کر میری جیب میں ٹھونس دیئے کہ یہ تیری خرچی ہے۔ اور ایک بار پھر معافی تلافی کے الفاظ کہہ کر مجھے اجازت دے دی کہ تم اپنی راہ لو۔ میں کافی دُور تک مُڑ مُڑ کر دیکھتا رہا کہ جیپیں واپس تو نہیں آرہیں؟ میری سائیکل اسی جگہ کھڑی تھی۔ سو میں اس پر چڑھا اور آگے چل کر نیچے کچے رستے پر اُتر گیا کہ پھر نہ کوئی اور سواسیر ٹکرا جائے۔
میں نے پَرُو چانڈیو جیسے بدنام ڈاکو کو اپنے پولیس اہلکار بھائی کا حوالہ اس لیے دیا تھا کہ میں ان کی واقفیت کا گواہ تھا۔ جب پَرُو چانڈیو معمولی چرواہا تھا اور اپنے ایک جرم کی پاداش میں گرفتار ہو کر سِیتاروڈ پولیس چوکی آیا تھا، اس وقت جو انچارج تھا، اس نے پَرُو کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اس نے جب پَرُو کو تین دن تک کھانا نہ دیا تو اس کی حالت بہت ہی قابلِ رحم ہو گئی تھی۔ اس پر میرے بڑے بھائی نے اپنے افسر کی مخالفت مول لے کر پَرُو کے لیے ہوٹل سے کھانا منگوایا تھا اور اسے کھلایا تھا۔ اس پر بھیّا اور پولیس افسر کے مابین تکرار بھی ہوئی تھی مگر بھیّا کا کہنا تھا کہ آخر یہ چرواہا جسے چوری کے الزام میں وڈیرے نے گرفتار کروایا ہے، تو یہ انسان ہے، اس پر اتنا ظلم کیوں روا رکھا جائے کہ تین دن سے بھوکا مر رہا ہے۔ اس کے بعد پَرُو کو رہائی تک بھیّا ہوٹل سے دونوں وقت کھانا منگوا کر کھلاتے رہے تھے۔
میں نے اسی لیے پَرُو چانڈیو کے چُنگل میں پھنس کر بھیّا کا حوالہ دیا تھا کہ شاید پَرُو کو وہ یاد ہو کہ ابتدائی دنوں میں ایک سپاہی نے تھانے میں اس کے ساتھ نیکی کی تھی!
اور اسے سب یاد تھا، جس کے باعث اس نے ایک چھوٹے لڑکے سے بھی معافی مانگنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی اور زیادتی کی تلافی کے طور پر جیب خرچ بھی دے دیا۔ گویا یہ ایک ڈاکو کی جانب سے مغوی کو تاوان کی ادائیگی تھی!!
یہ ایک بدنام ڈاکو کی اخلاقیات کی مثال تھی، جس کے باعث وہ سندھ میں دیومالائی کردار کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اسے بجاطور پر رابن ہُڈ قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس نے کبھی اپنے علاقے میں غریبوں، شریفوں کو تنگ نہیں کیا۔ عورتوں کی عزت کے ساتھ کبھی کھلواڑ نہیں کی۔ اس کی موت پر سیکڑوں لوگ یہ کہتے سُنے گئے تھے کہ پَرُو چانڈیو کی جانب سے انہیں گھر کا راشن یا نقد امداد ملا کرتی تھی۔
سندھ میں رسم ہے کہ جب کوئی مرد عزیز یا جاننے والا فوت ہو جائے تو جنازے میں شرکت کے لیے جانے والے لوگ اجرک لے کر جاتے ہیں جو میت پر ڈال دی جاتی ہے۔ تدفین کے وقت یہ اجرک اُتار کر نمازِجنازہ پڑھانے والے مولوی کو دے دیئے جاتے ہیں۔ دو یا تین اجرک تو گورکن کو بھی ملتے ہیں۔ جب پَرُو چانڈیو جیسے ڈاکو کی موت کی خبر پھیلی تو دو تین اضلاع سے ہزاروں لوگ اس کے جنازے میں شریک ہونے اور اس کا آخری دیدار کرنے سِیتاولیج جیسے چھوٹے گائوں میں آکر جمع ہوئے تھے۔ وہ سب اپنے ساتھ ایک ایک اجرک بھی لیتے آئے تھے۔ اس طرح ہر چند منٹ بعد پَرُو کی میت پر سے اجرک اُتار کر سائیڈ پر رکھے جاتے رہے کیونکہ بار بار ڈھیر لگ جاتا تھا۔ تدفین کے بعد جب اجرک گنے گئے تو ان کی تعداد تین ہزار سے زائد تھی۔ یہ اس ڈاکو کی عوامی مقبولیت کا عالم تھا!
سندھ میں ڈاکوراج کا پس منظر
موہن جودڑو کے زمانے یعنی دو ہزار قبل مسیح میں سندھ میں کولھی اور بھیل، باگڑی جاتیاں اکثریت میں تھیں۔ اس دور میں وسط ایشیا کے آریہ لوگ سندھ پر حملہ آور ہوئے تو یہ سب قبائل مل کر مقابلے پر اُترے، مگر آریہ حملہ آوروں کے پاس اس زمانے کے جدید ہتھیار تھے اور وہ سندھ کے امن پسند لوگوں کے مقابلے میں ظالم اور قاتل تھے۔ اس جنگ میں تقریباً 50ہزار سندھی مارے گئے اور سندھ دیس پر آریہ کا قبضہ ہو گیا۔ بُچ جانے والے سندھی جنگلوں بیابانوں کو نکل گئے اور وہاں سے گوریلا جنگ لڑنے لگے۔ وہ اچانک آریہ پر حملہ کرتے اور جانی نقصان کر کے، ان کے مویشی ہنکا کر جنگل میں غائب ہو جاتے۔ آریہ حملہ آوروں نے ان کولھیوں، بھیلوں، باگڑیوں یعنی دھرتی کے اصل مالکان کو ’’ڈاکو‘‘ قرار دے دیا جبکہ ڈاکو وہ خود تھے۔
326 یا 325قبل مسیح میں سکندر مقدونی سندھ کو فتح کرنے کے لیے حملہ آور ہوا اور اس نے 80ہزار سندھی مار دیئے اور ہزاروں کو غلام بنا کر فروخت کے لیے دوسرے دیسوں کو بھجوا دیا۔ جب سکندر مقدونی Alexander the Great فتح کے نشے میں چُور مکران اور بھنبھور سے واپس روانہ ہو رہا تھا تو اس علاقے میں بحری قزاقوں نے اُن پر حملہ کر کے سخت جانی نقصان پہنچایا۔ ان قزاقوں کو بھی سکندر مقدونی کو عظیم فاتح قرار دینے والے مؤرخوں نے ’’سندھی ڈاکو‘‘ قرار دے دیا۔
محمد بن قاسم نے 712 ہجری میں سندھ پر حملہ کیا اور راجہ ڈاہر سے مقابلہ کر کے اسے مار دیا اور سندھ پر قبضہ کرلیا۔ یہ عرب حکومت تین صدیوں تک سندھ پر برقرار رہی۔ دیبل فتح ہو جانے کے بعد سندھ کے لوگوں نے محمد بن قاسم سے درخواست کی کہ انہیں جان کی امان دی جائے کیونکہ وہ ان قزاقوں کے ساتھی یا عزیز نہیں، جن کی چیرہ دستیوں کی داستانیں سُن کر وہ عرب سے سندھ تک آئے ہیں، مگر عرب فاتحین نے درخواست پر غور نہیں کیا اور تین روز تک سندھ میں قتلِ عام جاری رکھا۔ ساتھ ہی عرب لشکر نے دیبل اور دیگر علاقوں سے سات سو سے زائد سندھی عورتیں یرغمال بنا کر اپنے ملک کو بھجوا دیں۔ جن میں راجہ ڈاہر کی دو بیٹیاں بھی شامل تھیں۔
عربوں کی اس جانب آکر سندھ پر چڑھائی کا جواز بھی یہ تھا کہ سندھی مہاساگر میں ان کے بحری بیڑے قزاقوں نے لوٹ لیے تھے اور ان قزاقوں کی سرپرستی راجہ ڈاہر کرتے تھے۔ ان بحری قزاقوں کا تعلق نکامڑہ قبیلے سے تھا جو سندھ کے راجائوں کی بھی نہیں سنتا تھا۔ عرب لشکر ان بحری قزاقوں یا بقول ان کے سندھی ڈاکوئوں کا قلع قمع کرنے سندھ پر حملہ آور ہوا تھا اور پورا سندھ فتح کر کے یہیں بیٹھ گیا۔
اسی عرب دور میں سندھ کے جت اور میر قبائل ہزاروں کی تعداد میں گروہ بنا کر عراق اور خراسان جا کر ڈاکے مارتے تھے۔ ان سے کارروانوں کی شاہراہیں تک محفوظ نہ تھیں۔ ایک حوالے کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے ان جت اور میر ڈاکوئوں کی تعداد 30ہزار تھی۔ یہ معتصم باللہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ سندھ پر اس کے نمائندے عمران کی حکومت تھی۔ اسے بھی ان سرکش قبائل نے بہت زِچ کیا تھا۔ بالآخر خلیفہ کے حکم پر عمران نے سندھ کو ان ڈاکوئوں سے پاک کرنے کے لیے 30ہزار کے لگ بھگ لوگ قتل کرا دیئے تھے، جن میں سے اکثر میر قبیلے کے لوگ تھے۔
محمد تغلق کے دور میں سندھ شدید قحط سالی کا شکار رہا، جس کے باعث مقامی باشندوں نے بغاوت کر کے لوٹ مار کا راستہ اختیار کیا اور اس طرح پیٹ پالنے لگے۔ وہ ڈاکہ ڈالتے تھے اور لوٹ مار کرنے کے علاوہ لوگوں کو یرغمال بنا کر تاوان بھی وصول کرتے تھے۔ یہ بھوکے سندھی لوگ بھی تاریخ میں ڈاکو کہلائے۔
سومرہ اور سما دور سندھ کی خوشحالی کے زمانے تھے۔ راجہ انصاف پرور اور رعایا کا خیال رکھنے والے تھے۔ اس عرصے کے دوران لوٹ مار کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوئے اور سندھ میں کوئی ڈاکو نہ تھا۔ سما حکمرانوں کو گجرات سے خطرات لاحق رہتے تھے۔ اس کے پیشِ نظر انہوں نے جنوب مشرق سندھ کی سرحد پر بلوچوں کو آباد کیا تاکہ وہ ممکنہ حملہ آوروں کا مقابلہ کریں۔ ان بلوچوں نے زمانہ امن کے دوران مقامی آبادیوں میں لوٹ مار اور قتل عام شروع کردیا تو سما حکمرانوں نے ان بلوچوں کو ڈاکو قرار دے کر ان کے خلاف سخت کارروائی کی۔ جب جلال الدین کو سلطان محمود بیگڑو نے احمد آباد کا کوتوال مقرر کیا تو اس نے طویل المدت کارروائی کر کے چار سو بلوچ لٹیروں کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ اس کے باوجود بچے کھچے بلوچ ان علاقوں میں ڈاکہ زنی کرتے رہے تھے۔
ارغون، ترخان اور مغلوں کے انتہائی خراب طرزِحکمرانی کے باعث سندھ میں انارکی بڑھی اور مقامی لوگ باغی ہو گئے تھے۔ ان ادوار میں غیرملکی حکمرانوں نے ظلم وستم کا بازار گرم کیے رکھا۔ ٹھٹھہ میں شاہ بیگ ارغون اور اس کے سرداروں، سپاہیوں نے لوگوں کا قتلِ عام کیا، بچوں کو نیزوں میں پرو کر ان کی مائوں کو پیش کیا اور حاملہ عورتوں کے بچے کھینچ کر نکال لیے اور کنواری لڑکیوں حتیٰ کہ بچیوں تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ ان مظالم کے خلاف مقامی افراد نے ردّعمل کے طور پر جنگل کا رُخ کیا اور وہاں سے گوریلا جنگ شروع کر دی۔ وہ دن رات حملے کرتے اور بیرونی حملہ آوروں کو نقصان پہنچا کر، لوٹ مار کر کے پھر جنگلوں میں چلے جاتے۔ ان لوگوں کو ارغون، ترخان اور مغلیہ حملہ آوروں نے ڈاکو ڈکلیئر کر دیا اور فوجی کارروائی کر کے ان کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس زمانے میں سندھ کے زیریں علاقوں میں ڈاکے عام زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔
سولہویں صدی کے وسط میں پُرتگالی سندھ کے ساحلی شہروں ٹھٹھہ وغیرہ پر حملہ آور ہوئے اور آٹھ ہزار لوگ مار دیئے۔ انہوں نے اس حملے میں جو دولت لوٹی، اسے تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی (The Great Robery) قرار دیا گیا تھا۔ مغل حکمرانوں نے سندھ کو اپنے صوبیداروں کے حوالے کیا تو انہوں نے مقامی لوگوں کے خلاف ڈاکوئوں، راہزنوں اور ظالم سپاہیوں کے ٹولے تیار کیے جو لوٹ مار کر کے مغل صوبیداروں اور نوابوں کے خزانے بھرتے اور خود بھی کھاتے تھے۔ وہ سندھ کے دیہات پر حملے کر کے لڑکیاں اُٹھا لے جاتے تھے۔ اس زمانے میں نہ رعایا محفوظ تھی اور نہ ہی تاجر ساہوکار اپنی سرگرمیاں کر سکتے تھے۔ ان ڈاکوئوں کے خلاف مقامی آبادی نے اپنے نوجوانوں کے گروہ تیار کر کے مقابلے شروع کیے تو مغلیہ حکمرانوں نے ان مقامی نوجوانوں کو سرکاری طور پر ڈاکو قرار دیا جبکہ اصل ڈاکو ان کے وہ جرائم پیشہ سپاہی بنے ہوئے تھے جو آبادیوں میں لوٹ مار اور قتل وغارت کرتے تھے۔ مرزا احمد بیگ سیوھن کے صوبیدار تھے اور انہوں نے اپنے نااہل بدصورت اور مجرم بھائی مرزا یوسف کو پوری جاگیر کا حکمراں بنا کر تمام جرائم پیشہ سپاہی اس کی سرکردگی میں دے دیئے تھے جو آزادانہ ڈاکے ڈالتے پھرتے تھے۔ ان کے ردّعمل میں جو سندھی، بلوچ کارروائیاں کر رہے تھے، ان کو ’’ڈاکہ زنی‘‘ قرار دیا جاتا تھا۔
اورنگزیب نے اپنے مغل تاجروں اور ان کے قافلوں کو محفوظ بنانے کے لیے سندھ میں کلمتی قبیلے کے لوگ بھرتی کر لیے تھے تاکہ وہ لاہور تا بھوڈے سر تک شاہراہِ تجارت کے ساتھ ساتھ مغل تاجروں کی حفاظت کریں۔ اس ذمہ داری کے عوض کلمتی قبائل کو کوہستان (کراچی)، کوٹری کے علاقوں میں نہ صرف جاگیریں عطا کی گئیں بلکہ سالانہ ساڑھے سات ہزار روپے بھی دیئے جاتے تھے۔ ان دنوں میں جنوب مشرقی سندھ میں کئی ایسے ’’ڈاکو‘‘ اُبھرے جو عوام میں ہیرو کے طور پر مقبول ہوئے۔ وہ بیرونی حملہ آور حکمرانوں کے خلاف تحریک چلا رہے تھے اور انہیں نقصان بھی پہنچا رہے تھے۔ آج بھی ان میں سے کئی حریت پسند سندھ کی تاریخ وادب میں ہیرو کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن میں لاکھو پھُلانی، وکیورام، بھوج راج، بدامانی پنرو، کارایل سموں وغیرہ شامل تھے جو مغلوں کے تئیں ’’ڈاکو‘‘ تھے مگر سندھ میں انہیں آزادی کے سپاہی مانا جاتا تھا۔
سترہویں صدی کی ابتدا میں انگریز لوگ سیاحوں کے رُوپ میں سندھ کا سفر کرتے رہے تاکہ برطانوی راج کے لیے نقشے تیار کرسکیں اور ماحول کی جاسوسی کر کے برٹش حکومت کو آگاہ کیا جاسکے۔ ایسے سیاحوں میں سے نکولس وتھنگٹن احمد آباد سے ہندوستانی تاجروں کے ساتھ انہی جیسا بہروپ بھر کر آیا تو ٹھٹھہ کے علاقے میں سندھیوں نے اسے لوٹ لیا اور اس کے ماتحت انگریزوں کو قتل کردیا تھا۔ وتھنگٹن کو زبردستی تھر کے علاقے نگرپارکر ہانک دیا گیا۔ اس سفر میں بھی سندھ کے حریت پسندوں نے اس کے گھوڑے چھین لیے اور بالکل فارغ کر کے جان بخشی کی۔ سترہویں صدی کے وسط (1639ء) میں ہنری بورڈ نے آگرہ سے ٹھٹھہ تک سفر کیا۔ اس نے لکھا ہے کہ سیوھن سے پُرانا ہالا تک سمیبا قبیلہ راہگیروں، تاجروں اور حکمرانوں کے لیے دردِسر بنا ہوا ہے اور لوٹ مار کرتا ہے۔
میاں نور محمد کلہوڑا کے دورِحکومت (1740ء) میں نادرشاہ نے سندھ پر حملہ کر کے اسے باجگزار بنایا اور میاں کے دو بیٹے بھی بطورِیرغمال اپنے ساتھ لے گیا۔ نادرشاہ لوٹ مار میں جو دولت لے گیا تھا، اس کا تخمینہ ایک کروڑ روپے لگایا گیا تھا اور وہ سالانہ بیس لاکھ روپے کا خراج بھی مسلط کر گیا تھا۔ اس کے بعد میاں عطر کے دورِحکمرانی میں جو کھیا قبیلے کے جوانوں نے تحریک حریت شروع کی تھی اور وہ بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف کارروائیوں میں ڈاکہ زنی اور رہزنی بھی کرتے تھے۔ جب غلام شاہ کلہوڑہ اور ان کے بھائی کا تاج سندھ کے معاملے پر ٹکرائو ہوا اور سندھ میں انارکی پھیلی تو کھوسو قبیلے نے ان کے پائے حکومت خداآباد (دادو) اور اس کے آس پاس ڈاکے مارنا شروع کیے۔ بعد میں غلام شاہ نے برسرِاقتدار آکر ان کا قلع قمع کیا۔
سندھ کو بیرونی حملہ آور ہمیشہ سونے کی چڑیا سمجھ کر ہتھیانے آتے تھے۔ 1780ء میں افغان مددخان پٹھان حملہ آور ہوا جو اسحاق زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والا لٹیرا تھا۔ اس نے سندھ میں وہ قتلِ عام اور لوٹ مار کی کہ آج تک اس کی یاد میں سندھی میں محاورہ ’’گھوڑا … ڑے گھوڑا!‘‘ مروج ہے یعنی گھوڑے والے حملہ آور آرہے ہیں، ان سے جان بچائو، اس کے لیے رچرڈ برٹن نے لکھا ہے کہ وہ ظالم ترین اور بدترین ڈاکو تھا، جس نے سندھ کو تباہ وبرباد کیا۔
ٹالپر دورِحکومت میں عرب ڈاکو جو اسمی بلوچستان کی سون میانی بندرگاہ پر حملہ آور ہوتا تھا اور سندھ کے اندر تک گھس کر کارروائیاں کرتا تھا، اس نے آخری حملے میں اس بندرگاہ کو جلا کر راکھ کر دیا تھا۔
اٹھارویں صدی کے آخر میں کچھ اور کاٹھیاواڑ کے قبیلے واگھا کے لوگ سندھ کے سمندر میں لوٹ مار یعنی قزاقی کا بازار گرم کیے رکھتے تھے۔ یہ قبیلہ 1812ء تک کراچی پر وقتاً فوقتاً حملہ آور ہوتا رہا۔ 1832ء میں اسی قبیلے نے کھوسہ قبیلے کے ڈاکوئوں کے ساتھ مل کر تھر کے امیر شہر راہمکی بازار پر حملہ کر کے لوٹ مار کی۔ ٹالپر ان ڈاکوئوں پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔ راہمکی بازار آج کل تھر کی بھارت سے ملنے والی سرحد کا آخری گائوں ہے۔
اسی دور میں بلوچ قبیلے شمالی سندھ میں ڈاکہ زنی کرتے اور قافلوں پر حملہ آور ہوتے رہے۔ ان قبائل میں جکھرانی، ڈومکی، بگٹی، مری، بروہی اور مگسی شامل تھے جو انگریز راج کے خلاف بھی ایک صدی تک سرگرم رہے۔ ان بلوچوں نے انگریزوں کی راہیں کھوٹی کر کے کھوجک سرنگ تک کا علاقہ اپنی عملداری میں رکھا تھا۔
ای بی ایسٹوک نے اس زمانے کا آنکھوں دیکھا احوال لکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس دور میں روزانہ ڈاکہ زنی، لوٹ مار، چوری اور قتل کی کئی وارداتیں ہوتی تھیں جن سے انگریز بوکھلائے پھرتے تھے۔ وہ ہر حال میں سندھی اور بلوچ قبائل کو دوست بنا کر ان کارروائیوں کو روکنا چاہتے تھے مگر تمام تر کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔
انگریزوں نے خود بھی سندھ پر قابض ہو کر ڈاکوئوں کا رُوپ دھار لیا تھا۔ انہوں نے حیدرآباد میں ٹالپر حکمرانوں کے گھروں پر حملے کر کے لوٹ مار کی، عورتوں کے زیورات اُتروا لیے۔ اس دور میں و ہ دس لاکھ پائونڈ کے برابر دولت لوٹ لے گئے تھے۔ ان کے خلاف سندھ میں بغاوت کی جو آگ بھڑکی، اس میں حر تحریک (پیرپگارہ کے حُر) سرگرم ہوئی۔ حر تحریک میں شامل سندھی لوگ انگریزوں کے حق میں ڈاکو ثابت ہوتے رہے اور ان بیرونی مداخلت کاروں کے خلاف ہر طرح کی کارروائیاں کرتے رہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں تھرپارکر کے سوڈھے (ہندو) انگریز راج کے خلاف سرگرم ہو کر کارروائیاں کرنے لگے تو برٹش سرکار نے ان کو بھی ڈاکو قرار دیے دیا۔ اس دور کا سب سے معروف حریت پسند روپلو کولھی تھا، جسے سندھ کی آزادی کا امام قرار دیا جاتا ہے مگر وہ انگریزوں کے تئیں ’’ڈاکو‘‘ تھا۔
دوسری حر تحریک 1929ء سے شروع ہوئی جو آزادی کی اوّلین تحریک تھی۔ اسے کچلنے کے لیے انگریزوں نے حروں کے پیشوا پیرپگارہ (سورھیہ بادشاہ) کو گرفتار کر لیا اور پھانسی چڑھا دیا۔ اس پر حروں نے قتل وغارت کا بازار گرم کردیا۔ انگریزوں نے سندھ کی آزادی کی اس تحریک کو دہشت گردوں اور ڈاکوئوں کی تحریک قرار دیا اور حر مجاہدین کو ڈاکو کہا گیا۔
انگریزوں کے خلاف حروں کے علاوہ انفرادی جتھے بھی ڈاکہ زنی کی کارروائیاں کرتے تھے، ان کو بھی ڈاکو ڈکلیئر کیا گیا تھا، ان میں لاڑکانہ کے امیر ورند، دادو کے میرن جمالی شامل تھے جو برطانیہ کے افسروں اور مالی اداروں پر حملے کرتے تھے۔ حر تحریک کے معروف حریت پسند، حبا کو انگریز ڈاکو کہتے تھے، ان میں رحیم ہنگورو، پھوٹو چانگ، غلام حسین واڈھو، میرن، سرخیل، الھ ڈتو خاصخیلی، رحمان بروہی، مہرجمالی اور حیدرآباد والے پھُل ماچھی شامل تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد پیرپگارہ شاہ مردان شاہ کے حکم پر حر تحریک ختم ہوئی مگر رحیم ہنگورو کارروائیوں میں مصروف رہے، جس پر اسے گرفتار کر کے حیدرآباد جیل میں پھانسی چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد سندھ میں ڈاکوئوں کا مسئلہ کبھی ختم نہ ہوا اور اب تک جاری ہے۔
دادن چانڈیو، بدنام ڈاکو جس نے کبھی ڈاکہ نہیں مارا!
’’تو آپ وہ خطرناک ڈاکو دادن ہیں؟‘‘
’’صاحب جی! کیا میں آپ کو ڈاکو لگتا ہوں؟… وہ بھی خطرناک ڈاکو!‘‘
’’نہیں، اگر سچی بات کی جائے تو وہ کہیں سے بھی ڈاکو نہیں لگتا تھا۔ ہلکے قد وقامت کا عام سا دیہاتی سندھی، اُدھیڑ عمر مرد، چھوٹی سی داڑھی، سندھی ٹوپی اور سیاہ لباس میں وہ کوئی کسان بھی ہوسکتا تھا اور کوئی مزدور بھی۔ ایک پُرانے زخم کا نشان اس کی ناک سے بائیں گال تک چلا گیا تھا اور یہی ایک نشان اسے خطرناک ثابت کرسکتا تھا اور کوئی علامت اس کے حلیے بُشرے میں ایسی نہ تھی، جس سے اس پر ڈاکو ہونے کا شک کیا جاتا ۔‘‘
دادن چانڈیو ڈاکو سے یہ ملاقات ہمارے ٹریول رائٹر دوست سلمان رشید نے کھیرتھر کے پہاڑوں پر ایک خفیہ ٹھکانے پر کی تھی، جس کا احوال انہوں نے اپنی انگریزی کتاب میں لکھا ہے۔ سندھ میں ڈاکو کلچر کے حوالے سے یہ نہایت دلچسپ قصہ ہے، اس لیے ہم نے اسے یہاں شامل کیا ہے۔ وہ ڈاکو دادن چانڈیو سے حال احوال کرتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ وہ ڈاکو کیسے بنے؟ دادن جو بتاتے ہیں، اس کے مطابق وہ اس قبیلے یا خاندان میں پیدا ہوئے، جس سے چانڈیو برادری کے نواب تعلق رکھتے ہیں۔ دادن کا بچپن بھی نوابی علاقے غیبی دیرو میں گذرا تھا۔
’’میں وہاں تین کلاسیں اسکول میں پڑھا تھا مگر ’’غربت‘‘ اتنی تھی ہمارے کنبے میں کہ پھر میں پڑھائی چھوڑ کر باپ کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ ایوب خان کے دور میں جب زمینیں بانٹی گئیں (یعنی لینڈ ری فارمز متعارف ہوئے) تو ہر ہاری یا کسان کے حصے میں بتیسایکڑ آئے تھے۔ میرے باپ کو بھی اتنی زمین ملی تھی اور میرے حصے میں بھی اتنی آئی۔ ہماری وہ زمین جاگیر نمبر چھ میں تھی مگر ہماری برادری کے اس وقت کے نواب نے وہ زمین ہمارے حوالے کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔ اس سے نواب صاحب اور ہمارے خاندان کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ اسی کے نتیجے میں دادن ڈاکو قرار دیا گیا اور وہ مفرور ہو گیا۔ وہ ڈاکو تھا یا نہیں مگر اس کی بدنامی بطورِ ڈاکو ہو گئی۔ اس تنازعے کے باعث دادن اور نواب کے کارندوں کے مابین دُشمنی تیز ہو گئی۔ ایسے ایک ٹکرائو کے نتیجے میں دادن پر کلہاڑی سے حملہ ہوا، جس کی یادگار وہ زخم ہے جو دادن اپنے چہرے پر سجائے پھرتا ہے۔ جیسے ہی دادن زخم کھا کر گرا، اس کے ساتھی نے حملہ آور کو نشانہ بنایا اور اسے قتل کردیا۔ اس واقعے کے بعد دادن اور اس کا ساتھی روپوش ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد دادن نے نواب سے رابطہ کیا اور اسے صلح صفائی کرنے، دُشمنی ختم کرنے کی گذارش کی۔ دادن کے بقول نواب مان گئے تھے مگر ان کے جو کمی کارندے تھے، وہ آڑے آگئے۔ یوں صورت حال جوں کی توں رہی۔ دادن چونکہ سمجھتا تھا کہ عدالتیں اس کے حوالے سے نرم گوشہ ظاہر نہیں کریں گی، اس لیے اس نے شہری یا قصباتی زندگی ترک کر دی اور پہاڑوں کا رُخ کرلیا۔ وہ لاڑکانہ ضلع کے کوہستانی علاقے میں چلا گیا۔ اس نے گائوں لاکھے جا کونڈا میں تیرہ ایکڑ زمین خریدی اور ایک بار پھر کسان بن کر زندگی گذارنے لگا۔ 1983ء میں جب فوج نے ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تو فوجی افسروں کو بتایا گیا کہ دادن چونکہ ڈاکوئوں کا ساتھی ہے، اس لیے علاقے بھر کے سب جرائم پیشہ لوگ اور ان کے ٹھکانے جانتا ہے۔ فوجی قافلے کے آگے آگے نواب کے دو قریبی ساتھی آرہے تھے۔ دادن نے ان کو لائولشکر کے ساتھ کینجھی ندی کی قریبی پہاڑی سے اُترتے دیکھا تو اس نے سمجھا کہ دُشن‘‘ نے اس پر حملہ کردیا ہے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے دادن کے پاس جو بھی اسلحہ موجود تھا، اس نے استعمال کیا۔ چھ گھنٹے تک یہ دو طرفہ مقابلہ یا فائرنگ جاری رہی، جس کے نتیجے میں ایک فوجی جوان اور دو دیہاتی مارے گئے۔ دادن گرفتار ہو گیا، اس کا گھر جو ایک جھونپڑے کی صورت میں تھا، وہ نذرِآتش کردیا گیا۔ دادن کا خاندان اپنے عزیزوں کے ہاں جاکر پناہ گزین ہوا۔ دادن کو سخت پہرے میں سکھر جیل منتقل کردیا گیا۔ جیل میں غریب ہاری داد محمد چانڈیو بدنام زمانہ دادن چانڈیو کے رُوپ میں دن کاٹنے لگا۔ ایک فوجی کو قتل کرنے کے جرم میں دادن کو سزائے موت سُنائی گئی۔ 1985ء میں جب سکھر جیل توڑنے کا مشہور واقعہ ہوا تو اسے بھی جان بچا کر نکل بھاگنے کا موقع ملا۔ دادن کے بقول اسے یا کسی بھگوڑے کو یہ معلوم نہ تھا کہ جیل توڑنے کا وہ واقعہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور اس میں اس دور کا وزیراعلیٰ بھی ملوث تھا۔ دادن کے مطابق اس واقعے سے متعلق جیل کے اندر افواہ تک نہ سُنی گئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا تھا کہ دادو کے بدنام زمانہ ڈاکو پَرُو چانڈیو اور اس کے ساتھیوں نے کروڑوں روپے بہ طور رشوت کھلائے تھے، تب ان کو بھاگنے کا موقع دیا گیا تھا، جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوسرے جرائم پیشہ افراد بھی نکل بھاگے تھے۔
’’رات کو کسی وقت شور اُٹھا کہ جیل کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، کوئی پولیس والا وہاں نہیں ہے، جس کو بھاگنا ہے، وہ بھاگ لے۔ ہم جیسے لوگوں نے پوچھا کہ تم کون لوگ ہو اور جیل کے دروازے کس نے کھولے ہیں؟ جواب ملا کہ ’’اس بات کو چھوڑو اور جتنی جلدی نکل سکتے ہو، نکل بھاگو، جان بچائو۔‘‘اس پر تقریباً بیالس جرائم پیشہ لوگ، جن میں اکثر وہ ڈاکو اور قاتل تھے، جن کو موت کی سزا کا سامنا تھا، وہ سب نکل بھاگے۔ ہم لوگ جیل کے احاطے میں آئے تو دیکھا کہ گیٹ تو بند تھا مگر اُونچی اُونچی دیواروں کے ساتھ سیڑھیاں ٹکی ہوئی تھیں۔ ہم ایک سیڑھی چڑھ کر جیل کی دیوار پر پہنچے تو دیکھا کہ ویسی ہی سیڑھی باہر کی جانب سے بھی دیوار کے ساتھ لگی تھی۔ ہم فوراً اس سے اُتر کر آزاد زمین پر پہنچے اور دریائے سندھ کے ’’کچے‘‘ (جنگلات) کی جانب دوڑنے لگے جو وہاں سے زیادہ دُور نہیں تھا۔ اگلے دو دن ہم چلتے رہے اور اس دوران جس کے جدھر سینگ سماتے گئے، وہ ادھر کا رُخ کرتا چلا گیا۔ میں رات بھر چلتا رہتا اور دن میں جنگل میں چھپ کر سو جاتا تھا۔ بالآخر چار دن کے سفر کے بعد اپنے گھر پہنچا، مگر مجھے گھر میں سکون سے کہاں بیٹھنے دیا جاتا؟ فوج اور پولیس جیل سے بھاگنے والوں کے گھروں، گوٹھوں کا گھیرائو کر کے چھاپے مار رہی تھی۔ نواب صاحب کے لوگ بھی میرے پیچھے پڑ گئے تھے کہ ان کو پتہ چل گیا تھا کہ میں بھی جیل سے بھاگ نکلا ہوں۔ اس کے بعد میں اور میرا کنبہ اگلے آٹھ سال تک مستقل جان بچا کر بھاگتے رہے۔ اس کے باعث میرا بیس سالہ بیٹا زیب اس بھاگ دوڑ سے تنگ آکر ڈاکو بن گیا اور وارداتیں کرنے لگا ۔‘‘
دادن اپنے بیٹے کی وارداتوں اور کرتُوتوں پر پردہ نہیں ڈالتا اور صاف کہتا ہے کہ اس نے مایوسی میں غلط راستہ چُنا اور وارداتیں کیں۔ بالآخر 1992ء میں فوج نے لاکھے جاکونڈا گائوں پر چھاپہ مارا۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دادن کا ڈاکو بیٹا زیب مارا گیا۔ آگے چل کر دادن کے ہاں دوسرا بیٹا پیدا ہوا تو اپنے پہلے بیٹے کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اس نے نومولود کا نام زیب رکھا جو آج جوان ہے۔ آج کل دادن ڈاکو اپنی دو بیویوں، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں کے ساتھ کھیرتھر کے پہاڑوں میں روپوش جان بچاتا پھرتا ہے، جس نے زندگی میں کبھی کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا۔
اس بھاگ دوڑ کی زندگی سے تنگ آیا ہوا دادن مسلسل کوشش میں رہتا ہے کہ نواب خاندان کے ساتھ اس کا تنازعہ ختم ہو جائے۔ اس عرصے میں وہ نواب جن کے ساتھ یہ جھگڑا شروع ہوا تھا، اس دُنیا سے گذر چکے ہیں بلکہ ان کا جانشین نواب بھی انتقال کرچکا ہے اور اب پوتا نواب بنا ہے۔ دادن سمجھتا ہے کہ نوابوں کے اردگرد رہنے والے ان کے لوگ ہی انہیں امن امان اور پُرسکون ماحول سے دُور رکھتے ہیں ورنہ نواب خود اس ذہن کے نہیں ہوتے۔ وہ حکومتوں سے بھی شاکی ہے اور کہتا ہے۔
’’پی پی پی کی حکومت یہاں رہتی ہے، مگر اس نے بھی ہم غریبوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ہم جیسے لوگ جمہوری حکومت میں بھی ناکردہ گناہوں کی سزا پاتے رہتے ہیں تو پھر انصاف کی اُمید کس سے رکھی جائے۔ میں کیا ڈاکو ہوں؟ کوئی انصاف والا مجھے بتائے نا کہ میں نے کتنے ڈاکے ڈالے ہیں؟ سچ بات یہاں صرف ایک فوجی افسر کرنل باجوہ نے کی تھی جو ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کرنے آیا تھا۔ اس نے مجھے کہلوایا تھا کہ دادن! میں جانتا ہوں کہ تم ڈاکو نہیں ہو مگر تمہیں ڈاکو قرار دے دیا گیا ہے اور یہ کام ان ڈاکوئوں نے کیا ہے جو بڑے شہروں میں بڑے بڑے بنگلوں اور کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔
’’تم اب دُنیا کو کیا پیغام دینا چاہو گے؟‘‘ ہمارے ٹریول رائٹر دوست نے دادن سے پوچھا۔ اس پر ’’ڈاکو‘‘ داد محمد چانڈیو کا جواب تھا۔
’’ان کو بتائو جا کر کہ تم دُنیا کے خوفناک ڈاکو دادن چانڈیو سے مل کر آرہے ہو۔ لوگوں کو بولو کہ کچھ خدا کا خوف کرو، اتنی ’’بے انصافی‘‘ بھی ٹھیک نہیں ہے کہ ایک سیدھے سادے ہاری کی زمین ہتھیا کر تم اسے ڈاکو قرار دے دیتے ہو۔ تمہارے پاس لاکھوں ایکڑ زمین ہے تو پھر میرے بتیسایکڑ تم لوگوں کو کیا دے دیں گے، جس کی خاطر میری اور میرے بچوں کی زندگی تباہ کردی ہے؟‘‘
سندھ کے کچے کے جنگلات اور جنگل جیسے بے امان شہروں میں آج بھی ہزاروں ڈاکو عام لوگوں کی زندگیوں، مال ملکیت اور عزتوں سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ پتہ نہیں ان میں سے کتنے دادن جیسے ناکردہ گناہ لوگ ہیں جن کو آج خطرناک ڈاکو مانا جاتا ہے اور جو اپنی اور اپنے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے پہاڑوں، جنگلوں اور بیابانوں میں دوڑتے بھاگتے پھر رہے ہیں مگر ان جسموں کو ڈاکو بنانے والے وڈیروں، سیاسی ڈاکوئوں، سرکاری اہلکاروں اور افسروں کو سمجھانے، لغام دینے والا کوئی نہیں، جن کے ظلم وستم کے باعث سماج میں غریب، بے روزگار اور بے گناہ لوگ ڈاکو بننے پر مجبور ہوتے ہیں۔
آج یہ رپورٹ پڑھی جانے کے دن بھی سندھ کے شکارپور، لاڑکانہ، دادو اور دیگر اضلاع کے کچے والے جنگلات میں پولیس فورس ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے۔ اس ایک ہفتے کے دوران درجن بھر سے زائد ڈاکو مارے جاچکے ہیں۔ ایسی کارروائیوں میں پولیس اور دیگر فورسز کے اہلکار بھی زندگیاں دائو پر لگا رہے ہیں اور کئی جامِ شہادت نوش کرتے ہیں مگر ڈاکوئوں کی تعداد اور اقسام میں پھر بھی کوئی کمی نہیں آتی۔ اس کا سیدھا سادہ حل یہ ہے کہ حکومت اور فورسز کو اپنی اصل توجہ ’’ڈاکو میکرز‘‘ وڈیروں، زمینداروں، پولیس افسروں اور ایسے دیگر عناصر پر دینا چاہیے جو اپنے اپنے مفادات کے تحت ڈاکو تیار کرنے کی صنعت کو چلا رہے ہیں۔
اللہ بس …باقی ہوس
1984ء تا 1994ء: ڈاکوئوں کے عروج کا عشرہ۔
جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ڈاکو راج سب سے زیادہ مضبوط رہا۔ پَرُوچانڈیو، محب شیدی، علی گوہر چانڈیو، بقادار شاہ، نادر جسکانی اور دیگر ڈاکوئوں کے ٹولے دن رات سرگرم رہے۔ اسی دور میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں باقاعدہ صنعت بن گئیں۔ سرشام سندھ کے قصبے اور دیہات ویران ہو جاتے تھے۔ اس زمانے میں ایک سروے کے مطابق سندھ کے اندر تقریباً بیسہزار ڈاکو سرگرم عمل تھے، جنہوں نے سولہہزار سے زائد لوگوں کو تاوان کے لیے اغوا کیا تھا، اربوں روپے کی دولت لوٹی تھی اور کروڑوں کی فصلیں جلا کر تباہ کر دی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ فوجی حکومت کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک میں بھی سندھ کے ڈاکو اپنا حصہ ڈالتے رہے تھے! اس سیاہ دور میں صوبہ سندھ ترقی کے لحاظ سے ایک صدی پیچھے چلا گیا اور یہ عذاب اب تک سندھ کے لوگ بھگت رہے ہیں۔
اس دور میں جو ڈاکو سرگرم تھے، ان میں بلوچ قبائل سے متعلق ڈاکوئوں کی شرح ساٹھفیصد سے زائد تھی اور سندھی النسل ڈاکو چھتیسفیصد تھے۔ ان سب ڈاکوئوں کی اوسط عمر پچیس تا تیس سال تھی یعنی وہ جوان لڑکے تھے۔ سندھ میں پولیس کے لوگ ان ڈاکوئوں کو اسلحہ اور ایمونیشن بیچتے تھے اور اس کے حصول کا دوسرا بڑا ذریعہ افغان مہاجرین تھے۔ نہ صرف لوگ ڈاکوئوں کو تاوان کے اربوں روپے بھرتے رہے بلکہ 1986ء کے ایک برس میں سندھ حکومت نے بھی کروڑوں روپے تاوان ادا کر کے اپنے لوگ آزاد کرائے تھے!
1991ء ڈاکوئوں کا سرگرم ترین سال تھا، جس کے دوران ہزاروں افراد اغوا ہوئے، عورتیں بھی اغوا کی گئیں۔ اس سے پہلے عورتوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہا جاتا تھا مگر اس سال یہ نئی ’’روایت‘‘ بھی سندھ کے ڈاکوئوں نے قائم کی جو تاحال برقرار ہے۔ خاص طور پر تاجروں اور امیر ہندوئوں، شیخوں اور میمن برادریوں کے بچے اغوا کر کے تاوان وصول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔
پیر مرشد یا ڈاکو
کسی زمانے میں سندھ کے معروف افسانہ نگار اور کالم نویس امرجلیل کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ’’سندھ میں پیری مرشدی کا دھندہ کیا جائے یا ڈاکو بن کر لوگوں کو لُوٹا جائے، دونوں ہی نہایت نفع بخش بزنس ہیں ۔‘‘
اس حوالے کے ثبوت کے طور پر صرف سیاست کے میدان میں سرگرمِ عمل پیروں، سیدوں اور گدی نشینوں ہی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ وہ ہمیشہ اقتدار، طاقت اور حکومت کا حصہ رہتے آئے ہیں اور کروڑوں کماتے آئے ہیں۔ کئی پیروں کی کمائی تو کروڑوں سے بڑھ کر اربوں روپے سالانہ ہوتی ہے۔ کچھ مشہور گدیاں ’’نولکھی‘‘ اور ’’سات لکھی‘‘ کہلاتی ہیں۔ اس سے مراد نولاکھ یا سات روپے کمائی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے باقاعدہ مریدوں کی تعداد ہوتی ہے اور ہر مرید پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی روزانہ کی کمائی میں سے ایک مخصوص حصہ پیرومرشد کے لیے نکال کر الگ رکھیں۔ عقیدت اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک طرح کی ڈاکہ زنی ہی قرار دی جائے گی کہ غریب مرید اپنی محنت مزدوری میں سے لکھ پتی یا کروڑ پتی پیر کو حصہ ادا کرے۔
ڈھائی سو قبائل کے ڈاکو
سندھ میں ظہور پذیر ہونے والے ڈاکوئوں کا تعلق تمام برادریوں، ذاتوں یا قبائل سے نہیں تھا بلکہ یہ ڈاکو تقریباً ڈھائی سو قبائل یا ذاتوں سے تعلق رکھتے تھے، جن میں زیادہ بلوچ اوریجن تھے، جن سے مقابلے کے لیے تمام ذات برادریوں نے اپنی اپنی ’’فورس‘‘ یا مسلح نوجوان تیار کیے تھے۔ بیشتر ڈاکو جن قبائل سے تعلق رکھتے تھے، ان میں چانڈیو، ماچھی یعنی سولنگی، جسکانی، ناریجو، جکھرانی، افغان حملہ آور پٹھان، لاکھو، ہندو، سمیجو، جوکھیو، کھوسو، نومڑیو، نکامڑا (قزاق جنہوں نے عرب بحری بیڑے لُوٹے تھے)، جت، میر، پلی پوٹو، بُرڑو، مغیری، وکو اور دیگر سیکڑوں برادریاں شامل ہیں۔
چند ایک ڈاکو شیدی (مکرانی)، سید، سُومرہ، شیخ، کلمتی، ابڑو جیسی امن پسند برادریوں میں بھی پیدا ہوئے۔
پولیس کے خلاف ڈاکوئوں کا سرعام احتجاج، دُنیا کا انوکھا واقعہ
سندھ میں ڈاکو راج یہاں تک عام ہے کہ بدنام زمانہ مسلح ڈاکو گروہ کی صورت قصبوں میں نکل آتے ہیں اور لوٹ مار کر جاتے ہیں۔ اسی سندھ میں دُنیا کی تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ڈاکوئوں کا مسلح گروہ علاقہ پولیس کی سختیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہو کر قصبائی بازار میں نکل آیا۔ گھوٹکی ضلع کا یہ واقعہ 2014ء کے نومبر میں پیش آیا، جس میں درجن بھر سے زائد ڈاکو اسلحہ لہراتے بازار میں آئے۔ وہ پولیس کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے کہ جب سے نیا ضلعی افسر آیا ہے، اس نے ڈاکوئوں پر سختی بڑھا دی ہے اور بھتے کا ریٹ بھی زیادہ کردیا ہے۔ ڈاکوئوں کا یہ احتجاجی مظاہرہ اور ریلی سندھی نیوز چینل کے ساتھ ساتھ اُردو چینلز پر بھی دکھایا گیا۔ ڈاکوئوں کا کہنا تھا کہ پولیس ان سے کم بھتہ لے اور سختی بھی کم کردے تاکہ وہ اپنا ’’روزگار‘‘ جاری رکھ سکیں۔ اس موقع پر ان ڈاکوئوں کے سرغنہ نے خطاب میں کہا تھا۔
’’پولیس اور عوام کو ہمارے لیے سوچنا چاہیے کہ ہم بھی آخر انسان ہیں۔ ہم سانپ تو نہیں ہیں کہ زیرزمین مٹی کھا کر گذارہ کرلیں گے؟ ہمارے بھی کنبے ہیں، جن کو ہمیں پالنا ہے۔ پولیس کو ’’منتھلی‘‘ دینے سے ہم انکار نہیں کرتے مگر اس کی شرح جو بہت بڑھا دی گئی ہے، وہ کم کردی جائے۔ آخر ہمیں اسلحہ، بارود بھی تو خریدنا پڑتا ہے ۔‘‘
اس انوکھے واقعے سے متعلق میڈیا کے نمائندوں نے جب ضلعی پولیس سربراہ سے بات کی تو اس نے جواب دیا کہ یہ پولیس کی کامیابی ہے کہ ڈاکو اس کی سختی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مذکورہ آفیسر اس سوال کا جواب نہیں دے پائے کہ آخر ان ڈاکوئوں کے پاس اتنا جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے اور کون ان کی سرپرستی کرتا ہے؟
حالیہ برسوں میں سندھ کے سیاستکاروں میں پیشہ ور ڈاکوئوں کی سرپرستی کر کے، ان کے ذریعے وڈیروں اور عوام کو دبائو میں لے کر الیکشن جیتنے کا نیا رُجحان پروان چڑھا ہے۔ ایسے الیکشن فاتح ڈاکوئوں میں قادری چاپڑ نے بہت شہرت حاصل کی، جس نے 2008ء کے انتخابات میں حکمران جماعت کے ایک اُمیدوار قومی اسمبلی کی حمایت میں گائوں گائوں جا کر اعلانات کیے کہ اس حلقے سے فلاں صاحب کو سو فیصد ووٹ پڑنا چاہئیں ورنہ مجھے تم لوگ جانتے ہو! اس کے نتیجے میں وہی اُمیدوار جیتا اور آج کل بھی قومی اسمبلی میں دوسری اہم ترین پوزیشن پر براجمان ہے۔
2015ء کے آخری دنوں میں بدنام ترین ڈاکو نظرو ناریجو مارا گیا۔ یہ واقعہ گڑھی یاسین ضلع شکارپور کے کچے میں پیش آیا۔ اس کے خلاف 1980ء سے پولیس اور ایجنسیاں سرگرم تھیں۔ اس کے خلاف دو سو مقدمات درج تھے، جن میں ڈاکے، قتل اور لوٹ مار شامل تھے۔ اس کے سر پر دو کروڑ روپے انعام رکھا گیا تھا۔
نظروناریجو کو چند برس پہلے سندھ کے ڈاکوئوں نے متفقہ طور پر اپنا سردار مقرر کیا تھا۔ اس کا باپ ربن ناریجو بھی بدنام ڈاکو تھا جبکہ دادا بھائی خان ایک معزز وڈیرہ تھا، جس کے نام سے ان کا گائوں ’’بھائی خان جی وانڈھ‘‘ معروف ہے۔ نظروناریجو کا باپ ربن ناریجو یا ربو ڈاکو سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز تھا۔ یہاں ایک لقمہ یہ دے دیا جائے کہ ماضی کا خوبصورت نوجوان ڈاکو نادر جسکانی بھی سندھ یونیورسٹی میں ماسٹرز کا طالب علم تھا، جب اس کے چچا نے اپنی بیٹی اور اس کی منگیتر کی شادی کہیں اور کردی تو وہ تعلیم چھوڑ کر چچا کو قتل کر کے ڈاکو بن گیا تھا۔
نظروناریجو کے باپ ربوناریجو کا سندھ کے عظیم افسانہ نگار اور وڈیرے نسیم کھرل کے ساتھ زمینوں پر تنازعہ تھا۔ جب1973ء میں نسیم کھرل قتل ہو گیا تو اس میں ربوناریجو کو قاتل قرار دیا گیا۔ 1976ء میں ربو ناریجو قتل ہوگیا تو کھرل اور ناریجو برادری میں دُشمنی کی بنیاد پڑ گئی۔ نظرونوعمری ہی میں باپ کا بدلہ لینے کے لیے ڈاکو بن گیا۔ آج سے تین سال پہلے نظرو کا نوعمر لڑکا اقبال پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔ نظرو لاڑکانہ، گھوٹکی، سکھر، شکارپور اور خیرپور اضلاع میں اپنے ٹولے کے ساتھ وارداتیں کرتا پھرتا تھا اور ان اضلاع میں دہشت کی علامت بنا ہوا تھا۔
ڈاکو کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
ناانصافی، ظلم وستم، معاشی بدحالی اور بے روزگاری اور معاشرے میں انارکی ڈاکوئوں کے ظہور پذیر ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔ جیسے معروف ترین ڈاکو پَرُو چانڈیو ہمارے سامنے چرواہے سے قاتل ڈاکو بنا تھا۔ اس نے جنگل میں بکریاں چراتے ہوئے مقامی زمیندار کی ایک بکری دوسرے چرواہوں کے ساتھ مل کر پکڑی اور وہ اسے ذبح کر کے بھون کر کھا گئے تھے۔ یہ بات زمیندار تک پہنچی تو اس نے پَرُو کو پکڑوا کر مارپیٹ کی۔ اس پر بھی پَرُو نے اعتراف نہ کیا تو اسے مجمعے کے سامنے ننگا کر کے پیٹا گیا۔ پَرُو چیخ چیخ کر کہتا رہا کہ اس کی بے عزتی نہ کی جائے، وہ ایک بکری کے عوض اپنا پورا ریوڑ دینے کو تیار ہے مگر زمیندار اسے نشانِ عبرت بنانا چاہتا تھا تاکہ کوئی اور آئندہ اس کی بکریوں، مویشیوں یا کھیتوں کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھے۔ پَرُو یہ بے عزتی برداشت نہ کرسکا اور مفرور ہو کر جنگل میں چلا گیا۔ سب سے پہلا قتل اس نے اس زمیندار کے کمدار (کارندے، منشی) کا کیا، جس نے اس کے خلاف چغلی لگائی تھی۔
اب بھی سندھ میں بیڈگورننس، کرپشن، بے روزگاری، وڈیرا شاہی، معاشی بدحالی، ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ اس لیے آج بھی سندھی سماج دیہی اور شہری ڈاکوئوں کے رحم وکرم پر ہے۔ روزانہ لوگ اغوا ہوتے ہیں، عورتیں اغوا اور قتل ہورہی ہیں۔ بچے تاوان کے لیے اُٹھائے جارہے ہیں۔ پولیس کے اہلکار تک ڈاکوئوں کے ٹولوں کے سہولت کار بنے ہوتے ہیں اور انہیں مخبری، اسلحہ اور راستہ دیتے رہتے ہیں، جس کے بدلے میں ڈاکو بھی لُوٹ کے مال میں سے اپنے مددگاروں، سرپرست وڈیروں اور سیاستدانوں کا حصہ الگ کر کے ان کو پہنچاتے رہتے ہیں۔
جب تک انصاف، اچھی حکمرانی، تعلیم، صحت، روزگار کے وسائل برابر کی بنیاد پر اور میرٹ پر مہیا نہیں کیے جائیں گے، تب تک سماج سے ڈاکو کلچر کا خاتمہ ناممکن ہے۔
ڈاکہ یا ڈاکہ زنی کیا ہے؟
لفظ ڈاکو ہندی زبان کے لفظ ڈاکٹ سے نکلا ہے جبکہ ڈاکو سنسکرت کے دشتا سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں۔ ہجوم کو یرغمال بنانا اور ہراساں کرنا۔ اس عمل کو ڈاکہ زنی کہا جائے گا، جس کا مطلب ہوا کہ اسلحے کے زور پر، تشدد کر کے لُوٹ مار کرنا۔ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 391 کے تحت ڈاکہ زنی کی تعریف یہ ہے کہ پانچ یا پانچ سے زائد لوگ مشترکہ طور پر لُوٹ مار کریں تو یہ جرم ڈاکہ زنی کہلائے گا۔
ڈاکوئوں کی اقسام
سندھ میں آج تک ڈاکوئوں کی جو تاریخ ہے، اس کے مطابق ایسے گروہوں کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
-1 بیرونی حملہ آور لُٹیرے۔
٭بیرونی حملہ آور، لُٹیرے جو ڈاکوئوں کی فوج کی صورت میں حملہ آور ہوئے۔ سندھ میں لُوٹ مار، قتل عام کر کے اپنے ملکوں، علاقوں کو واپس چلے گئے۔ ایسے غیرملکی ڈاکوئوں میں افغانی پٹھان، ارغون، تُرغان، نادرشاہی ٹولہ، عرب، گجراتی، کچھی ڈاکو شامل تھے مگر ان سے بھی قبل جب موہن جودڑو آباد شہر تھا، تب جن ڈاکوئوں کی فوج وادی سندھ پر حملہ آور ہوئی تھی، وہ آریا تھے۔ انہوں نے سندھ کے مقامی بھیل قبائل پر حملہ کر کے اس خطے پر قبضہ کیا اور 50ہزار بھیل قتل کیے۔ دیگر بھیلوں کی جائیدادوں، مویشیوں پر قابض ہو کر انہیں مار بھگایا۔ وہ اصل سندھی بھیل لوگ یہ خطہ چھوڑ گئے، جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی۔ وہ ایران، ترکی، یونان کے راستے یورپ چلے گئے۔ ان کی کچھ تعداد سندھ سے مصر چلی گئی اور وہاں سے یورپ میں داخل ہوئی، جنہیں مصر (Egypt) سے آنے والے یعنی (Egyptians) کہا گیا۔ یہ لفظ آگے چل کر Gypsy یعنی خانہ بدوش ہوگیا۔ یوں یورپ میں رُلتے پھرنے والے جپسی دراصل وادی سندھ کے اصل نسل لوگ ہیں جو آریا ڈاکوئوں کے باعث اپنا وطن ترک کر کے آوارہ گرد ہو گئے اور اب تک اسی حال میں پھر رہے ہیں کہ امریکہ، فرانس سمیت کسی بھی ملک کی شہریت لینا پسند نہیں کرتے۔
-2 سیاسی ڈاکو
ہر دور میں ہر خطے میں آزادی اور خودمختاری کی تحاریک چلتی رہتی ہیں۔ ان تحریکوں میں شامل حریت پسندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو تحریک کو مالی طور پر مضبوط کرنے کے لیے لُوٹ مار کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اپنے تئیں وہ ’’سامراج‘‘ یا قابض گروہ کے حامی ساہوکاروں، جاگیرداروں، وڈیروں اور افسرشاہی طبقے کو لُوٹ کر مالِ غنیمت کا کچھ حصہ تحریک کے حوالے کرتے ہیں اور غالب حصہ اپنے ذاتی مفادات پر صرف کرتے ہیں۔ ایسے ہی لُٹیروں میں سے آگے چل کر کچھ لوگ باقاعدہ ڈاکہ زنی شروع کر دیتے ہیں اور تحریک میں بھی سرگرم رہتے ہیں۔ ایسے لُٹیروں ہی کو سیاسی ڈاکو قرار دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ تحریکوں کے نام پر بھتہ خوری اور قبضہ گیری میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیرملکی قابض حکمراں ٹولوں کے خلاف سرگرم حریت پسندوں کو بھی یہ حکمراں ڈاکو قرار دے کر ان کے خلاف قوت استعمال کرتے ہیں۔
-3 دھندہ باز ڈاکو
یہ روایتی یا رواجی ڈاکو ہیں جو اپنے مفادات کے لیے عام لوگوں کو لُوٹتے ہیں، ان کی جائیداد مویشیوں، غلّے اور دیگر قیمتی چیزوں کو ہتھیا کر ان پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ اس لوٹ مار میں وہ لوگوں کی جان لینے سے بھی باز نہیں آتے۔ انہی جیسے ڈاکوئوں کا بڑا دھندہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرتے ہیں اور یہاں تک ظالم وسفاک ہوتے ہیں کہ بچوں تک کو اغوا کر کے ان کے والدین سے تاوان کی رقم وصول کرتے ہیں اور رقم نہ ملنے پر مغوی بچوں کو تشدد کر کے مار دیتے ہیں۔ سندھ کے دیہات اور قصبوں شہروں میں اس قسم کے ڈاکو مختلف ادوار میں سرگرم بلکہ عروج پر رہے ہیں۔ خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے دورِحکومت میں ایسے گروہ جیسے زمین سے اُگ آئے تھے، جن کے خلاف فورسز بھی ناکام ہورہی تھیں اور پھر ان کو کچلنے کے لیے ’’آپریشن بلیو فاکس‘‘ کیا گیا تھا، جس سے ڈاکو کلچر کو خاصا نقصان پہنچا تھا اور عوام نے سُکھ کا سانس لیا تھا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر بہت اہم ہے کہ سندھ کی تاریخ میں ڈاکو کلچر تب تب عروج پر پہنچا ہے جب جب اس پُرامن خطے میں آمریت مسلط ہوئی ہے یا پھر بیرونی حملہ آوروں نے مقامی حکمرانوں کو شکست دے کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close