Naeyufaq Apr-16

دہری موت

ڈاکتر ایم اے قریشی

گزشتہ ایک سال سے میں بہت پریشان تھا مجھے ایک مجرم نے پریشان کر رکھا تھا وہ ایک دبلا پتلا، زردرو اور پستہ قد شخص تھا۔ اتنا مختصر جیسے پورٹیبل ریڈیو مگر اس کی قوت ارادی کوہ ہمالیہ کی سب سے اونچی چوٹی سے بھی ناقابل تسخیر تھی اور میں کوئی ایڈمنڈ ہلیری نہیں تھا ایک معمولی سا سراغ رساں تھا۔ اس میں تھوڑا سا انکسار شامل ہے کیونکہ میں نے اچھے خاصے پیچیدہ جرائم کا سراغ لگایا ہے اور بڑے بڑے مجرموں سے اقبال جرم کرایا ہے مگر یہ مجرم میرے لیے چیلنج بن گیا تھا میں نے اس پر سارے طریقے آزمائے سوائے تشدد کے کیونکہ مجھے یقین تھا کہ وہ اس کی ذرا بھی تاب نہ لاسکے گا۔ اس کا نحیف اور بیمار جسم محض قوت ارادی کے بل پر تشدد کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا پہلے میں نے جائے واردات پر موجود شہادتوں کی مدد سے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی۔ انگلیوں کے نشانات کو پولیس کے ریکارڈ سے ملایا۔ ان کے کمپیوٹرز نے ان کو پہچاننے سے صاف انکار کردیا حالانکہ ان کے برقی دماغ میں ہزاروں مجرموں کے فنگر پرنٹ دیگر تمام تفصیلات کے ساتھ موجود تھے۔ اگر وہ ان میں سے ایک ہوتا تو کمپیوٹر فوراً ایک کارڈ نکال دیتے جس پر مجرم کا نام ولدیت، تصویر جرائم کا مکمل ریکارڈ اور موجودہ پتا درج ہوتا۔
پھر میں نے جائے واردات سے بہت سی چیزیں اکٹھی کیں، سگریٹ کے بجھے ہوئے ٹکڑے جو نہ مقتول پیتا تھا اور نہ قاتل۔ مقتول سگار کا شوقین تھا اور قاتل کو تمباکو نوشی کی عادت ہی نہ تھی۔ ہوتی تو وہ مقتول سے پہلے مرچکا ہوتا اور یہ واردات ہی نہ ہوتی، مقتول کے گھر میں آنے جانے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان میں سے بیشتر یہی سگریٹ پیتے تھے اور چونکہ قتل میں نے نہیں کیا تھا اس لیے میں یہ برانڈ پینے والے دوسرے افراد کو بھی قتل کے الزام میں نہیں پکڑ سکتا تھا۔ تاہم میں نے ان سب افراد سے سوال جواب کیے اور ان میں سے ہر ایک نے یہ ثابت کردیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کا جو وقت بتایا گیا ہے اس وقت وہ جائے واردات سے کم از کم ایک کلو میٹر دور تھے اور جہاں جہاں تھے وہاں ان کی موجودگی کے گواہ تھے، ان کے پاس سے آلات قتل بھی برآمد نہیں ہوئے اور مجھے مجسٹریٹ نے بیس بار ناکام ہونے کے بعد اکیسویں مرتبہ خانہ تلاشی کے وارنٹ دینے سے انکار کردیا۔ اگر وہ ایک ہی بار مجھے سارے شہر کی خانہ تلاشی لینے کے وارنٹ دے دیتا تو میں کبھی نہ کبھی یقیناً آلہ قتل ضروربرآمد کرلیتا مگر اس قسم کا پستول تو مجسٹریٹ کے گھر سے ہی مل سکتا تھا اور سارا شہر چھاننے سے پہلے میرا مستقبل یا میں خود ختم ہوجاتا۔
جائے واردات سے جہاں یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں لڑائی اور مار کٹائی سے بھرپور فلم کی فلمبندی کی گئی ہے وہاں چند اور بھی چیزیں ملیں، بکھرے ہوئے کاغذات، الٹے ہوئے صوفوں، ٹوٹے ہوئے شیشوں، گلدانوں اور مجسموں کے ٹکڑوں کے درمیان ایک گھٹیا سا کف لنک جسے مقتول کے گھر میں آنے والے کسی فرد کی ملکیت نہیں کہا جاسکتا تھا کیونکہ وہ بھی لکھ پتی تھا اور اس کے دوست بھی اس کے تو ملازم بھی سونے چاندی کے کف لنک لگاتے تھے۔ پھر کف لنک سے کیا ہوتا ہے قاتل تقریباً ایک لاکھ ڈالر کی مالیت کے نوٹ لے گیا تھا اس نے باہر نکلتے ہی دوسرا کف لنک گٹر میں ڈال دیا ہوگا اور اعلیٰ قسم کے کف لنک لے لیے ہوں گے جو شخص پکڑا گیا تھا وہ کف لنک استعمال ہی نہیں کرتا تھا اور اس کے پاس سے سوائے چند ڈالر کے کچھ برآمد نہیں ہوا تھا۔ اس کے بنک اکائونٹ میں چند سو ڈالر تھے۔ اس کے سارے رشتہ دار غریب تھے۔ بیوی بچے تھے ہی نہیں۔ بہت عرصے تک اس نے اس کے گھر آنے جانے والوں پر نگاہ رکھی اور ان کے بارے میں ہر طرح کی تحقیقات کی اس کے گھر پر موصول ہونے والے ٹیلی فون ٹیپ کیے مگر نتیجہ صفر رہا۔ ان میں نہ کوئی لڑکی تھی نہ مشکوک کردار کی کوئی عورت، ایک اس کی بہن کا فون تھا کیلی فورنیا سے وہ ایک ڈاکٹر کی بیوی تھی جسے اپنے بھائی کے بارے میں سخت تشویش تھی اور ایک اس کی رشتے کی خالہ وہ ایک پرانی وضع کی بوڑھی عورت تھی۔ مقتول کے ساتھی بچپن کے دوست کارخانے میں کام کرنے والے سب شریف لوگ تھے اس کے پڑوسی ملنے جلنے والے سب قسم کھانے کو تیار تھے کہ مقتول کی کسی سے کاروباری رقابت یا دشمنی نہ تھی اور اس کا سلوک سب سے بہت اچھا تھا چنانچہ قتل کا واحد مقصد چوری تھا۔ قاتل کے بارے میں کہیں سے یہ ثابت نہ ہوتا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی جرم کیا ہو، ذہنی اور جسمانی طور پر وہ جرم کرنے کے قابل ہی نہ تھا۔ اس نے کبھی مکھی بھی نہیں ماری تھی، اس کے ساتھی ہمسائے اور رشتہ دار سب اس کی شرافت کے گواہ تھے چنانچہ قانوناً مجھے اس کو نہیں پکڑنا چاہیے کیونکہ وہ کسی صورت قاتل ثابت نہیں ہوتا تھا مگر مشکل یہ تھی کہ وہ اقبال جرم کرتا تھا وہ کہتا تھا قتل اسی نے کیے ہیں۔ جمع کا صیغہ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ تین آدمی مارے گئے تھے، ان میں سے دو سارجنٹ تھے جو فائرنگ کی آواز سن کر اچانک جائے واردات پر پہنچے تھے۔
کہانی کچھ یوں تھی کہ قاتل البرٹ ڈیوڈ سن کو قتل کرنے کی نیت سے کوٹھی میں داخل ہوا مقتول البرٹ ڈیوڈسن نے مزاحمت کی اور اس کی قاتل سے زبردست لڑائی ہوئی۔مقتول چالیس سال کا تندرست جسم والا صنعتکار تھا جو اتفاق سے اس وقت تنہا تھا۔ اس کے بیوی بچے کینیڈا گئے ہوئے تھے نوکروں کو اس نے خود چھٹی دے دی تھی اور رات کا وقت تھا مقتول غالباً کاروباری نوعیت کے کاغذات دیکھ رہا تھا نقد رقم اس نے کسی کو ادائیگی کے لیے منگوائی تھی۔ ادائیگی کے لیے اس نے چیک کیوں نہیں دیا اس کا کوئی سبب معلوم نہ ہوسکا کیا وہ رقم کسی بلیک میلر کو ادا کرنے کے لیے تھی، مگر اسے بلیک میل کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تھی وہ ایک خوش اخلاق، ہمدرد اور فیاض شخص تھا نجانے کتنی رقم خیراتی اداروں اور نیک کاموں کے لیے دیتا تھا اچھا باپ اور اچھا شوہر تھا۔ مذہب کا پابند تھا ماتحتوں کا دوست اور مددگار تھا سینیٹ کارکن تھا اور لوگوں کی نگاہ میں مستقبل کا صدارتی امیدوار، گویہ مستقبل ابھی دور تھا۔ لڑائی کے دوران وہ مارا گیا، چور نے سنگ مرمر کا وینس کا مجسمہ اس کے سر پر مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا مگر اس کی موت گولی سے ہوئی۔ ایک پیٹرول کار میں پولیس کے دو سارجنٹ سڑک پر سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے گولی کی آواز سنی اور مکان کے اندر گھس گئے قاتل نے انہیں بھی گولی مار دی، ڈرائیور جو کار میں بیٹھا تھا مزید دو گولیوں کی آواز سن کر اندر دوڑا اور اس نے قاتل کو پکڑ لیا۔ قاتل کے ہاتھ میں خالی پستول تھا جسے کھلونے کی طرح تھامے وہ صوفے پر بیٹھا تھا۔
مگر یہ کہانی غلط تھا، یہ وہ کہانی تھی جو ملزم خود بارہا سنا چکا تھا۔ مقتول کے مقابلے میں قاتل جسمانی طور پر کمزور تھا کمرے سے رقم غائب تھی مگر رقم قاتل کے پاس سے بھی برآمد نہیں ہوئی، قاتل کے جسم پر لڑائی سے لگنے والی کسی چوٹ یا خراش کا نشان نہ تھا۔ وہ بالکل پر سکون اور مطمئن تھا۔ اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے مزاحمت کرنے یا فرار ہونے کی کوشش نہیں کی اور آرام سے پولیس اسٹیشن آگیا، قتل کی کوئی وجہ نہ تھی، قاتل کوئی اور تھا۔ وہ محض الزام اپنے سر لے رہا تھا، کیوں اور کس کے لیے یہ وہ کچھ نہیں بتاتا تھا اور اقبال جرم کی ایک بے بنیاد کہانی پر اسے موت کی سزا نہیں دی جاسکتی تھی لیکن اسے بچایا بھی نہیں جاسکتا تھا، ایک بات بالکل واضح تھی، وہ قاتل کو جانتا تھا اور اس کا نام نہیں بتانا چاہتا تھا بظاہر وہ قاتل سے خوفزدہ بھی نہیں تھا، بات کچھ اور تھی، حقیقت حال اگلوانے اور اسے بچانے کے لیے مجھے اس کی بہن نے معاوضہ ادا کیا تھا چنانچہ ایک بار پھر میں اس سے جیل میں ملا۔
’’دیکھو، فریڈ تم کیوں مرنا چاہتے ہو، مجھے معلوم ہے قتل تم نے نہیں کیا۔‘‘ اس نے جیب سے ہاتھ نکال کر میرے کندھے پر رکھا اور مسکرایا۔ ’’قتل میں نے ہی کیا ہے۔‘‘
’’فریڈ تم مجھے بے وقوف نہیں بنا سکتے، وہ بہت تگڑا تھا۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’مگر میں نے اسے پستول سے ہلاک کیا ہے تم جانتے ہو پستول تمہارے پاس ہے گولیاں بھی جو مرنے والوں کے جسم سے نکلیں۔‘‘
’’مگر کمرے کی حالت اور رقم۔‘‘
’’وہ حالت اس نے خود کی وہ نشے میں تھا رقم کے بارے میں مجھے نہیں معلوم۔‘‘ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ پتا نہیں چلتا کہ وہ نشے میں تھا۔‘‘
’’پھر وہ اداکاری کر رہا ہوگا۔‘‘ وہ پھر مسکرایا۔ ’’یا اس کا دماغ چل گیا ہوگا۔‘‘
’’اداکاری کرنے کی اسے کیا ضرورت تھی۔‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔ ’’اور اس کا دماغ ٹھیک تھا۔‘‘
’’پھر مجھے نہیں معلوم۔‘‘ وہ میری بے بسی کا مذاق اڑا رہا تھا۔‘‘ مگر تم نے اسے کیوں قتل کیا آخر کوئی وجہ تو ہونی چاہیے۔‘‘ میں نے زور سے کہا۔
’’ہاں اس نے ابراہیم لنکن کو پوپ کو اور الزبتھ ٹیلر کو گالی دی تھی۔‘‘ اس سے سنجیدگی سے کہا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ میں نے دہاڑ کر کہا اور چلا آیا۔
اس نے ضمانت پر رہائی حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ تھا تو یہ مشکل کام لیکن اس کی بہن خاصی بڑی رقم کے عوض ضامن بننے پر تیار تھی۔ اس کا شوہر ڈاکٹر تھا ڈسٹرکٹ اٹارنی ویسے تو ہمیشہ پرائیویٹ سراغرساں کیخلاف ہوتے ہیں لیکن اس کیس میں ڈسٹرکٹ اٹارنی میرا ہم خیال تھا کہ قتل اس نے نہیں کیا لیکن واقعات کی شہادت اور ان سب سے بڑھ کر اس نے اپنا اقبال جرم اسے تختہ دار تک پہنچانے کے لیے کافی تھا۔
آخری کوشش کے طور پر میں نے ماہر نفسیات سے یہ رائے حاصل کرنے کی کوشش کی کہ وہ نفسیاتی مریض ہے اور خود کشی پر آمادہ ہے۔ ماہرین نفسیات کے ایک بورڈ نے ڈسٹرکٹ اٹارنی کے مشورے سے اس کا معائنہ کیا، انہوں نے اسے ایک طویل سوالنامہ دیا جو اوٹ پٹانگ باتوں پر مشتمل تھا، کہیں اسے اپنی پسند کے رنگ کا نام لکھنا تھا تو کہیں اپنی پسندیدہ عورت کی خصوصیات بہت سے سوالوں کا جواب ہاں یا نہیں میں تھا۔ ماں باپ کے بارے میں کچھ تصویریں اور خاکے اور ڈیزائن تھے کہ ان میں سے کسے دیکھ کر اسے اپنے والدین کے بارے میں کیا یاد آتا ہے پھر اسے سو ڈیم پینٹی تھال انجیکشن بھی دیے گئے اور آخر میں انہوں نے فیصلہ دیا کہ وہ بالکل متوازن دماغ کا مالک ہے اور اس کی ذہنی کیفیت ہر گز ایسی نہیں کہ وہ قتل یا خود کشی کرسکے۔ اس کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ وہ کسی کو بچانا چاہتا ہے۔ اسباب کچھ بھی ہوں لیکن اپنی زندگی قربان کردینے کا یہ جذبہ اور اس راز کو افشا نہ ہونے دینے کا عزم بڑے مضبوط کردار کی عکاسی کرتا تھا، میں نے اپنی شکست قبول کرلی، لیکن ڈسٹرکٹ اٹارنی مجھ سے زیادہ ذہنی عذاب میں مبتلا تھا۔ میں فریڈ کو بے گناہ ثابت نہ کرسکا لیکن مائیکل یعنی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے لیے اس کی بے گناہی پر یقین رکھتے ہوئے اسے گناہ گار ثابت کرنا اور اس کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنا زیادہ مشکل تھا۔ سماعت میں صرف دو دن باقی تھے جب وہ رات کو میرے پاس آیا۔
’’الفریڈ، کل میں استعفیٰ دے دوں گا۔‘‘ اس نے کرسی پر گرتے ہوئے کہا۔
’’اس سے مقدمہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، تمہارا ڈپٹی مقدمہ لے لے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’الفریڈ میں ایک بے گناہ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ نہیں کر سکتا جبکہ میرے فرائض میں یہ شامل ہے کہ میں کل اپنا سارا زور خطابت اسے مجرم ثابت کرنے پر صرف کردوں، چلا چلا کر یہ کہوں کہ اسے ایک الیکٹرک چیئر پر بٹھا دیا جائے۔‘‘ اس نے مایوسی سے کہا۔
’’زور خطابت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اس کا اقبال جرم کافی ہوگا، تم صرف واقعاتی شہادت پیش کر دینا، پستول… گولیاں… پوسٹ مارٹم رپورٹ۔‘‘ اس نے ہمیشہ میری مخالفت کی تھی اور اب اسے ذہنی عذاب میں مبتلا دیکھ کر مجھے اگر خوشی نہیں ہو رہی تھی تو رنج بھی نہیں تھا۔ میں نے اسے وہسکی کا ایک جام دیا جسے وہ وحشیوں کی طرح پی گیا۔
’’الفریڈ جو کام تم نہیں کرسکے وہ میں کروں گا۔‘‘ اس نے خالی گلاس ہاتھ میں تھام کر دیوار کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’میں اصلی قاتل کا پتا چلائوں گا۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلایا۔
’’اب اس کے لیے وقت نہیں ہے، جتنا وقت میں لے سکتا تھا لے چکا سماعت اب ملتوی نہیں ہوگی، اس نے تو اپنے دفاع کے لیے وکیل بھی نہیں کیا ہے۔‘‘
’’وہ تواسے حکومت کی طرف سے مل چکا ہے۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے اس نے وکیل سے ملنے سے بھی انکار کردیا تھا اور جب وہ اقبال جرم کرلے گا تو وہ بچارا وکیل کیا کرے گا شہادتیں بھی ساری اس کے خلاف ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’الفریڈ، میں یہ قتل کرنا نہیں جانتا، میں ساری زندگی یہ عذاب جھیل نہیں سکتا، تم سمجھتے کیوں نہیں۔‘‘ اس نے گلاس دیوار پر کھینچ مارا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ کتنا پریشان ہے۔ ’’مائیکل۔‘‘
میں نے کچھ دیر بعد کہا۔
’’یہ سارا قصور اس نظام کا ہے جسے نہ تم بدل سکتے ہو نہ میں اور نہ یہ کسی صورت قتل کہلا سکتا ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو اس میں ہم سب شریک ہیں۔ میں جو اسے بے گناہ ثابت نہ کرسکا۔ تم جو صرف واقعاتی شہادت پیش کرو گے۔ جج جو فیصلہ سنائے گا اور جیوری جو اتفاق رائے سے شریک ہوگی۔ وہ خود جو اقبال جرم کرے گا اور وہ اصل قاتل ہے مگر روپوش ہے اور خاموش ہے اور وہ جو اسے الیکٹرک چیئر پر بٹھائیں گے۔ ہم سب اس میں شریک ہیں۔ تم اکیلے مجرم کیسے ہوگئے۔ اپنے دماغ پر بوجھ مت ڈالو، ورنہ پاگل ہوجائو گے۔‘‘
وہ خاموشی سے سنتا رہا پھر اس نے آہستہ سے سر ہلایا۔ ’’شاید تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔‘‘ اور ہیٹ اٹھا کر باہر نکل گیا، وہ اتنا برا آدمی نہیں تھا جتنا میں اسے سمجھتا تھا۔
اگلے دن ہم دونوں نے اس سے آخری بار ملاقات کی، گزشتہ شب مجھے اس کی بہن کا فون موصول ہوا تھا اور اگر چہ میں نے اسے صحیح صورت حال بتا دی تھی کہ اس کا بھائی کسی کی خاطر جان دینے کا تہیہ کرچکا ہے اور اسے کوئی ارادے سے باز نہیں رکھ سکتا لیکن اس نے فیس کا ذکر کرتے ہوئے مجھے مجبور کیا تھا کہ مجھے آخری وقت تک کوشش کرنی چاہیے اور یہ میرا اخلاقی فرض ہے صبح سویرے مجھے ڈسٹرکٹ اٹارنی نے فون کیا، وہ رات بھر سو نہیں سکا تھا اور میرے ساتھ جانا چاہتا تھا ہمارے ساتھ وہ سرکاری وکیل بھی ہولیا جو ملزم کو حکومت نے فراہم کیا تھا۔
’’فریڈ، آخر تم سچ سچ کیوں نہیں بتا دیتے کہ تمہارے ساتھ کون تھا؟‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’ہم تمہاری مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’ہمیں معلوم ہے تم بے گناہ ہو۔‘‘
’’ہاں، میں بے گناہ ہوں، تمہارا خیال ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ میں بھونچکا رہ گیا۔ یہ الفاظ میں نے پہلی بار اس کی زبان سے سنے تھے۔
’’کیا کل یہی بیان دو گے۔‘‘ سرکاری وکیل صفائی نے پر امید لہجے میں پوچھا مائیکل نے میری طرف دیکھا۔
’’نہیں میں صرف اقبال جرم کروں گا۔‘‘ اس نے مختصراً کہا ہم سب کی امیدوں پر اوس پڑ گئی، مائیکل کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’آل رائٹ فریڈ۔‘‘ میں نے کہا اور مائیکل کا ہاتھ دبایا۔
’’زندگی تمہاری اپنی ہے وہاں نہ سہی یہاں ہمیں بتا دو تمہارے ساتھ کون تھا، قتل کس نے کیا۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’یہاں نہ وہاں میری زبان پر اس کا نام کبھی نہیں آئے گا۔‘‘ زناٹے سے مائیکل کا تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔
’’باسٹرڈ۔‘‘ وہ گر پڑا مگر فوراً اپنے قدموں پر کھڑا ہوگیا۔
’’مسٹر ڈسٹرکٹ اٹارنی، تم مجھے قتل کرسکتے ہو یا الیکٹرک چیئر پر بٹھا سکتے ہو، لیکن تم مجھ سے کبھی یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کون تھا۔‘‘ پھر اس نے پہرے دار کو آواز دی۔
’’سارجنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی کو باہر لے جائو۔‘‘ مائیکل بپھر گیا مگر میں نے اور وکیل صفائی نے مائیکل کو پکڑ لیا، وہ فریڈ کو مسلسل گالیاں دے رہا تھا۔
’’میں تجھ سے ضرور معلوم کروں گا، تجھے بتانا پڑے گا۔‘‘
’’گٹ آئوٹ مسٹر اٹارنی، میری زبان پر وہ نام کبھی نہیں آئے گا۔‘‘ وہ منہ پھیر کر کھڑا ہوگیا۔
’’کیسے نہیں آئے گا۔‘‘ وہ چلایا اور ہم نے مائیکل کو باہر گھسیٹ لیا، دو پہریدار یہ ہنگامہ سن کر آگئے تھے مگر ڈسٹرکٹ اٹارنی کی موجودگی میں وہ ملزم کے احکامات کی تعمیل کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ جب انہوں نے مائیکل کو طیش کے عالم میں دیکھا تو میرے اشارے پر سلاخوں والا دروازہ بند کر دیا اور تالا لگا دیا۔ اب ہم تینوں باہر کھڑے تھے مائیکل نے سلاخیں تھام لیں۔
’’فریڈ، میں معلوم کر کے رہوں گا، میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ میں تمہارے خون کا بدلہ ضرور لوں گا۔‘‘ وہ چیخ کر بولا۔
’’تم کبھی معلوم نہیں کرسکتے، کبھی نہیں۔‘‘ وہ اعتماد سے بولا۔
’’تم مجھے گدھا سمجھتے ہو، تمہاری مدد کے بغیر بھی میں اس کا سراغ لگا لوں گا، کبھی کبھی اس کا پتا چل جائے گا، فریڈ میں اسے اسے ضرور الیکٹرک چیئر پر لے جائوں گا۔‘‘ مائیکل نے چلا چلا کر کہا۔
’’مجرم کبھی نہیں چھپ سکتا، سنا تم نے۔‘‘ میں اور وکیل صفائی سے گھسیٹ کر لے گئے مگر وہ آخر تک چلاتا رہا۔
’’جب تک میں اصل قاتل کو سزائے موت نہیں دلوائوں گا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘ غنیمت ہے وہاں پولیس کا کوئی نمائندہ نہ تھا۔
اگلے دن جب سماعت کا آغاز ہوا تو ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد جیوری کے ارکان کے ناموں کا اعلان ہوا اور جب جج کے ساتھ وکیل صفائی۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی اور کمرہ عدالت میں دیگر افراد اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو ملزم کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی اور اس نے حسب توقع اقبال جرم کرلیا۔ سب سے پہلے پولیس کے اس ڈرائیور کا بیان ہوا جس نے ملزم کو موقع واردات سے محاورے کے مطابق رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کی۔ تینوں قتل ایک ہی پستول سے ہوئے تھے تینوں کے جسم سے دو دو گولیاں برآمد ہوئی تھیں۔ چھ کی چھ گولیاں اسی پستول کی تھیں جو ملزم کے قبضے سے دستیاب ہوا تھا۔ پہلے مقتول کے جسم پر خراشیں تھیں جو دست بدست لڑائی سے لگی تھیں۔ اس کے سر پر کسی بھاری چیز کی ضرب کا نشان تھا جو تحقیقات کے مطابق سنگ مر مر کا ایک آرائشی مجسمہ تھا مگر یہ چوٹ بیرونی اور معمولی تھی اور موت کا سبب نہیں بن سکتی تھی ڈسٹرکٹ اٹارنی نے پستول، گولیاں سنگ مر مر کے مجسمے کے ٹکڑے جو سر سے ٹکرا کر نہیں بلکہ فرش پر گر کر ٹوٹا تھا اور تقریباً ایک لاکھ ڈالر نقد کی گمشدگی کی شہادت پیش کی۔
پھر ملزم نے اپنا بیان دیا۔
’’میں رات دس بجے اس کے گھرپہنچا۔ میں چوری کرنے نہیں اس کو قتل کرنے گیا تھا مجھے معلوم تھا وہ گھر پر تنہا ہے۔ کیونکہ اس کے بیوی بچے کینیڈا گئے ہوئے تھے۔ پستول میں چھ گولیاں تھیں جو میں اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ میں نے اس پر دو فائر کیے۔ وہ مرگیا، پھر پولیس کے دو آدمی آگئے اور مجھے انہیں بھی قتل کرنا پڑا۔ اگر میرے پستول میں مزید گولیاں ہوتیں تو تیسرا پولیس والا بھی مارا جاتا، مجھے افسوس ہے دو پولیس والے بے گناہ مارے گئے مگر مجھے اپنی جان بچانے کے لیے یہ جرم کرنا پڑا۔‘‘
وکیل صفائی نے اسے بے گناہ ثابت کرنے کے لیے جرح کی اجازت چاہی مسٹر فریڈ مقتول البرٹ ڈیوڈ سن سے تمہارا کیا تعلق تھا۔‘‘
’’کوئی نہیں میں اس کے پاس ملازمت حاصل کرنے گیا تھا۔‘‘
’’کب؟‘‘
’’موت سے تین دن پہلے اس نے مجھ سے کہا کہ میں کیا کام کرسکتا ہوں اور میں نے کہا کچھ نہیں، چنانچہ اس نے مجھے بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا۔ اس نے کہا مفت خوروں کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہے اور وہ خیرات دے کر حرام خوروں کی تعداد میں اضافہ کرنا نہیں چاہتا۔ میں نے کہا اس کے پاس اتنی رقم ہے کہ اگر وہ ہر مہینے چند سو ڈالر مجھے دے دے تو اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوگی کیونکہ ہر مہینے اس کے سرمائے میں ہزاروں ڈالر جمع ہوتے ہیں لیکن اس نے مجھے دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ اسی دن اس کے بچے اور بیوی کینیڈا جا رہے تھے، میں باہر کھڑا رہا اور وہ میرے سامنے کار میں ان کے ساتھ ائر پورٹ چلا گیا۔ میں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اسے قتل کردوں گا تین دن تک میں اس کے معمولات کا مشاہدہ کرتا رہا مگر اسے پتا نہ چلا مجھے معلوم ہوگیا کہ رات کو وہ تنہا ہوتا ہے۔ اس کی کوٹھی اتنی بڑی تھی کہ میں تین دن اس میں چھپا رہا اور کسی کو خبر نہ ہوئی میں رات کو اس کے بچوں کے کمرے میں آرام سے سوتا تھا، باورچی خانے سے کھانا چرا کر کھا لیتا تھا اس گھر کے بہت سے کمرے ایسے تھے جہاں وہ بہت کم آتا جاتا تھا اور وہاں نوکر بھی نہیں آتے تھے صرف ایک بار ایک نوکر صفائی کے لیے اس کمرے میں آگیا تھا جہاں میں تھا لیکن میں آسانی سے پردے کے پیچھے چھپ گیا۔ تیسرے دن میں نے اسے مار دیا۔‘‘ یہ بالکل نئی کہانی تھی اور بظاہر بالکل درست۔
’’کمرے کی حالت بتاتی ہے کہ مقتول نے سخت مقابلہ کیا مگر نہ تمہارے جسم پر کوئی نشان ہے اور نہ کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ تم اس کا مقابلہ کر سکتے تھے۔‘‘ وکیل صفائی نے کہا۔
’’میں جب کمرے میں پہنچا تو کمرہ الٹا پڑا تھا میں یہ بتا دوں کہ اسی دن دوپہر کو میں اپنے گھر سے پستول لینے چلا گیا تھا رات کو جب میں پچھلی طرف سے مکان میں داخل ہوا تو وہاں بہت شور مچ رہا تھا جب یہ ہنگامہ ختم ہوا تو میں اندر داخل ہوا وہ زخمی تھا اور اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ کسی کو ٹیلیفون کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ میں نے پہلی گولی اس کے سر میں اور دوسری گرنے کے بعد سینے میں مار دی۔‘‘
’’تم نے کسی کو وہاں سے نکلتے دیکھا۔‘‘ وکیل صفائی نے کہا۔
’’کوٹھی سے۔‘‘
’’نہیں لیکن میرا خیال ہے چند منٹ پہلے وہاں کوئی تھا۔ پولیس اٹارنی کا کہنا ہے کہ وہاں سے تقریباً ایک لاکھ ڈالر غائب ہیں خیر مجھے معلوم نہیں، ممکن ہے اس کی لڑائی کسی چور سے ہوئی ہو، میرے لیے یہ بہترین موقع تھا میں دبے پائوں اس کے پیچھے پہنچ گیا مگر اس کو علم نہیں ہوا میں اسے مار کر صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ دو سارجمنٹ آگئے میں نے فوراً انہیں بھی مار دیا۔‘‘
’’اسے قتل کرنے کے بعد تم نے بھاگنے کی کوشش کیوں نہیں کی، صوفے پر کیوں بیٹھ گئے۔‘‘
’’مجھے اس کا موقع نہیں ملا میں صرف سانسیں قابو میں کرنے کے لیے صوفے پر بیٹھا تھا کہ پولیس پہنچ گئی۔‘‘
’’تم اس کے بعد بھی بھاگ سکتے تھے۔‘‘ وکیل صفائی نے کہا۔
’’ہاں مگر وہ تیسرا اپنا ریوالور لیے پہنچ گیا، میرے پاس اس وقت کوئی گولی نہیں تھی۔‘‘
’’تم نے ضمانت کی یا اپنے دفاع کی کوئی کوشش نہیں کی۔‘‘
’’اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا جرم میں نے کیا تھا جائے واردات سے پکڑا بھی گیا تھا آلہ قتل میرے پاس تھا۔‘‘
’’ڈسٹرکٹ اٹارنی اور پرائیویٹ سراغ رساں الفریڈ کو تم بالکل مختلف کہانیاں سناتے رہے ہو، اس کا کیا مقصد تھا۔‘‘
’’انہیں ٹالنا، ان کا خیال تھا کہ میں کسی کے ساتھ ایک لاکھ ڈالر چرانے گیا تھا وہ میرے ساتھی کا نام معلوم کرنا چاہتے تھے میرے ساتھ کوئی نہ تھا اور حقیقت وہی ہے جو میں نے ابھی عدالت کو بتائی، چور مجھ سے پہلے بھاگ چکا تھا، اس کو پکڑنا اور ایک لاکھ ڈالر برآمد کرنا پولیس کا کام ہے۔ میں اس میں ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ میں نے اسے ذاتی وجوہ کی بنا پر سوچ سمجھ کر قتل کیا ہے میں پاگل نہیں ہوں، ماہرین نفسیات کی رپورٹ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ میں نشے میں نہیں تھا اور میرے ہوش و حواس قتل کے وقت درست تھے۔‘‘
جیوری نے اتفاق رائے سے اسے سزائے موت دی اور جج نے اس کا اعلان کردیا اپیل کے لیے اسے اجازت اور مہلت دی گئی اور چند گھنٹے کے اندر انداز کا قتل کا ایک سیدھا سادا مقدمہ ختم ہوگیا سزائے موت پر عمل کی تاریخ اپیل کی مہلت کے ختم ہونے کے ایک ماہ بعد رکھی گئی۔
حسب توقع نے اس نے اپیل داخل کرنے سے انکار کردیا چنانچہ اس کی زندگی کے صرف دو ماہ ہوگئے اس نے سب سے ملنے سے انکار کردیا اور کال کوٹھری میں سکون سے موت کا انتظار کرنے لگا۔ اس کی بہن کا روتے روتے برا حال ہوگیا مگر اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔
’’اس سے کہہ دو کہ وہ چلی جائے، مسٹر جیلر قانوناً کوئی مجھے کسی سے ملنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اس لیے اگر تم نے کسی کی سفارش کی کوشش کی تو مصیبت میں پڑ جائو گے، میں صدر کو رحم کی درخوست نہیں بھیجوں گا، لیکن یہ ضرور لکھ بھیجوں گا کہ ایک سزا یافتہ شخص کو زندگی کے آخری لمحات میں ذہنی عذاب دینے والا شخص جیلر بننے کا مستحق نہیں۔‘‘ جیلر کا کہنا تھا کہ اس نے ملزم کو پہلی بار مشتعل دیکھا تھا ظاہر ہے اس کے بعد ہمارے لیے اس سے ملنے کا سوال ہی نہ تھا ہم اس کی موت کی تاریخ کو بھولنے کی کوشش میں مصروف ہوگئے، ناکام کوشش میں کیونکہ ہر نئے دن کے غروب ہوتے ہی ہمارا ذہن ایک کمپیوٹر کی طرح ہمیں یہ بتا دیتا تھا کہ اب فریڈ کی زندگی کے کتنے دن گھنٹے منٹ اور سیکنڈ باقی رہ گئے ہیں۔
…٭٭٭…
مائیکل پاگل ہوگیا تھا اس نے مقدمے کے فیصلے کے بعد پولیس اور سراغ رسانی کے سارے محکمے کو اس کو چور کا پتا لگانے پر مامور کردیا جو ایک لاکھ ڈالر لے کر فرار ہوگئے تھے اس کو فریڈ کی کہانی پر ایک فیصد بھی یقین نہ تھا اور اس نے جیوری کے ارکان جج پولیس کے اعلیٰ حکام سب کو ذاتی طور پر اصل صورت حال سے آگاہ کردیا تھا اور ان سب نے اس پر یقین کرلیا تھا۔ یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ بھی نہ تھی لیکن ملزم کی رہائی صرف دو صورتوں میں ممکن تھی یا تو وہ اپیل کرے اور اقبال جرم نہ کرے یا دو ماہ کے دوران اصل مجرم کا پتا لگ جائے۔ دو ماہ بہت ہوتے ہیں گورنر اور پولیس کمشنر کے حکم پر تمام متعلقہ اور غیر متعلقہ افراد اور ادارے تحقیق میں شریک ہوگئے۔ اخبارات میں اپیلیں شائع ہونے لگیں انعامات کے اعلان ہوگئے۔ سرکاری حکام کے ساتھ پرائیویٹ سراغ رساں بھی سر گرم عمل ہوگئے، عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دے کر کوئی توہین عدالت کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن یہ بات کہ فریڈ کسی کو بچانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دے رہا ہے اور اصل مجرم کے پکڑے جانے کی صورت میں اسے بچایا جاسکتا ہے۔ اخبارات کا موضوع بن گئی، فریڈ کی تصاویر اس کی سابقہ بے داغ زندگی کے حالات اس کے کردار کا تجزیہ شائع ہوا تو ان گنت لوگوں نے فریڈ سے ملنے کی کوشش کی۔ ان میں نامی گرامی وکیل تھے جو اس کا مقدمہ کسی معاوضے کے بغیر لڑنے کو تیار تھے۔ جذباتی لڑکیاں تھیں جو اپنے آنسوئوں کے خوب صورت مگر خوفناک ہتھیار سے اس کی قوت ارادی کو شکست دینا چاہتی تھیں چرچ کے معزز اور محترم ارکان تھے جو گلے میں صلیب لٹکائے بائبل ہاتھ میں لیے جیلر سے بحث کرتے رہے کہ کسی شخص کو خود کشی سے روکنا کار ثواب ہے اور اس کے لیے اگر اسے نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں تو یہ بھی کار ثواب ہے لیکن جیلر کا صرف ایک جواب تھا، بات نوکری کی نہیں قانون کی ہے اگر اس کی جگہ کوئی اور جیلر آئے گا تو وہ بھی قانون سے مجبور ہوگا ملزم کی مرضی کے بغیر کوئی اس سے نہیں مل سکتا۔
ذاتی جذبات کے علاوہ اخبارات اور رائے عامہ کے دبائو کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر نے جیل کے معائنے کے بہانے فریڈ کی کوٹھری کے سامنے رک کر اس سے چند منٹ بات کی۔ ’’ہیلو فریڈ، کیا حال ہے۔‘‘
’’فائن مسٹر گورنر… تھینکس۔‘‘ اس نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
’’کیا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے، مدد یا کچھ اور؟‘‘
’’نو سر… تھینکس۔‘‘ گورنر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ بہرحال گورنر تھا۔
وقت گزرتا جا رہا تھا جدوجہد بے مصرف ثابت ہو رہی تھی، اصل مجرم خاموشی سے سب تماشہ دیکھ رہا تھا اور جسے سزا ملی تھی وہ سکون سے سو رہا تھا۔
’’میرا خیال ہے اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اب کتنے دن باقی ہیں۔‘‘ جیلر نے ایک بار مائیکل کو بتایا۔
’’مائی گاڈ میں نے ایسا مجرم نہیں دیکھا، یوں لگتا ہے جیسے وقت آئے گا تو ہمیں اسے سوتے سے جگانا پڑے گا اور وہ کوئی سوال کیے بغیر آنکھیں ملتا ہمارے ساتھ چل پڑے گا اور خود ہی کرسی پر جا بیٹھے گا اور اپنے فیتے باندھ لے گا اور سر ہلائے گا یس۔‘‘ میں اس وقت مائیکل کے ساتھ تھا۔ میں نے دیکھا اس کی حالت غیر ہو رہی ہے۔
’’مسٹر مائیکل قاتل ایسا نہیں ہوسکتا خواہ اسے کتنا بھی یقین ہو کہ قتل کر کے اس نے کوئی نیک مقصد حاصل کیا ہے۔‘‘
’’شٹ اپ یو باسٹرڈ۔‘‘ مائیکل دہاڑا۔ ’’اس کے باوجود تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو، تم۔‘‘ جیلر ہکا بکا رہ گیا۔ مسٹر مائیکل کیا آپ کا دماغ چل گیا ہے میں اگر چاہوں بھی تو اس کی جگہ کرسی پر نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘
واپسی پر میں نے سوچا کہ مائیکل اگر اس وقت پاگل نہیں سزائے موت کی تاریخ تک یقیناً ہوجائے گا، مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس گنت قاتلوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرنے والے کے سینے میں اتنا حساس اور نرم دل ہے۔
صرف ایک ہفتہ باقی تھا جب صبح سویرے کسی نے میرا دروازہ بجایا میں نے سوتے سے اٹھ کر دیکھا۔ وہ مائیکل تھا پرانا مائیکل، معقول لباس میں سنجیدہ اور شگفتہ تازہ شیو کیے ہوئے چہرے کے ساتھ پوری طرح چاق و چوبند، اب تک ہم اچھے دوست بن چکے تھے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا اور وہ اندر آگیا اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔
’’الفریڈ۔‘‘ اس نے کرسی پر بیٹھ کر فائل کھولتے ہوئے کہا۔
’’میں تمہارے پاس ایک ضروری کام سے آیا ہوں میرے پاس وقت نہیں ہے یہ دیکھو۔‘‘ اس نے فائل میں لگا ہوا ایک سال پرانا اخبار میرے سامنے رکھ دیا، میں نے اسے غور سے پڑھا۔ اس میں البرٹ ڈیوڈ سن کے قتل کی خبر تھی پھر میں نے سر ہلایا۔
’’کیا پڑھا ہے تم نے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’یہ۔‘‘ میں نے انگلی رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ خبر البرٹ ڈیوڈ سن کے قتل کی۔‘‘
’’احمق۔‘‘ اس نے ایک اور جگہ انگلی رکھی۔
’’یہ خبر پڑھو، اسے پڑھ کر مجھے ایک خیال آیا ہے۔‘‘ یہ اس روسی کتے کی خبر تھی جس کے دماغ کو اس کی کھوپڑی سے نکال کر بجلی سے چلنے والے دل کی مدد سے زندہ رکھا گیا تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
’’مائیکل۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم یقیناً اتفاق کرو گے کہ کھوپڑی کے اندر انسان کا دماغ اس وقت تک کام شروع نہیں کرتا جب تک وہ سو کر اٹھنے کے بعد پیٹ نہ بھرلے اور کافی نہ پی لے۔‘‘
آدھے گھنٹے بعد میں شیو اور غسل سے فارغ ہوا، کافی بنائی، انڈے تلے، مکھن اور توس کے ساتھ ساری چیزیں ٹرے میں رکھ کر واپس پہنچا۔ مائیکل ابھی تک فائل پر جھکا کچھ سوچ رہا تھا وہ ناشتہ کر آیا تھا چنانچہ اس نے صرف کافی پی اور مجھے ناشتا کرتے دیکھتا رہا۔ اس دوران اس نے مجھے جو بات بتائی اسے سن کر میں پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا دماغ چل گیا ہے اور یہ بات میں نے اس سے کہہ بھی دی۔
’’الفریڈ میں شام کی پرواز سے ماسکو جا رہا ہوں، میں نے ایک نظریہ قائم کیا ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے برا مانے بغیر کہا۔
’’اور غلط بھی۔‘‘ میں نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔
’’کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔‘‘
’’پچاس فیصد امکانات بہت ہوتے ہیں۔ اگر مجھے دیر ہوجائے تو تم فریڈ کی بہن کی طرف سے ایک درخواست دو گے کہ موت کے فیصلے پر عمل در آمد دو ہفتے کے لیے روک دیا جائے پھر کرسمس قریب آجائے گی اور سزائے موت نئے سال کے دوسرے ہفتے سے پہلے ممکن نہ ہوگی۔ میں گورنر سے بات کرچکا ہوں لیکن کسی چوتھے شخص کو یہ بات معلون نہیں ہوگی، سمجھے؟‘‘ اس نے فائل سمیٹ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔
’’مجھے شام تک بہت سے کام کرنے ہیں۔‘‘
…٭٭٭…
اگلے دن صبح کے اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ تین امریکی ڈاکٹروں پر مشتمل ایک وفد سو ویت روس کے دورے پر روانہ ہوگیا ہے دورے میں یہ وفد سو ویت یونین کے طبی تحقیقاتی مراکز دیکھے گا طب کے میدان میں روسی ڈاکٹروں کی کاوشوں کا جائزہ لے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان میڈیکل سائنس میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ کرے گا۔ اس میں مائیکل کا نام نہیں تھا مگر مجھے معلوم تھا وہ اسی پرواز سے گیا ہے اس روز فریڈ کی زندگی کے چھ دن باقی دن تھے۔
ایک ایک کر کے یہ چھ دن گزر گئے چھٹے دن میں نے گورنر کو درخواست دے دی جو اسی وقت منظور ہوگئی۔ اگلے دن صبح طلوع آفتاب سے قبل سزائے موت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی گئی معلوم نہیں فریڈ پر اس کا کیا اثر ہوا۔ رات کو مجھے مواصلاتی سیارے کے ذریعے مائیکل کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس کا مجھے بے چینی سے انتظار تھا۔
’’الفریڈ تم نے وہ کام کیا؟‘‘
’’ہاں سزا ایک ماہ کے لیے ملتوی ہوگئی ہے تمہیں کوئی کامیابی ہوئی؟‘‘
’’ہاں تھوڑی سی مگر میں مایوس نہیں ہوں وہ تو خبطی ہے پولیس کا نام سنتے ہی اس نے مجھے باہر نکال دیا۔‘‘ میں ہنسا۔
’’پھر؟‘‘
’’میں دوسرا طریقہ آزما رہا ہوں مجھے ایک ڈاکٹر کو اپنے ساتھ اس راز میں شریک کرنا پڑے گا۔ ایک آدمی ان تینوں میں سے ذرا قابل اعتماد ہے مگر میں ذرا یہاں سے فارغ ہو لوں میرا خیال ہے کرسمس ماسکو میں گزرے گا، خدا حافظ۔‘‘ ہاٹ لائن بند کرتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’گڈ لک مائیکل میں تمہاری کال کا انتظار کروں گا۔‘‘ اس وقت تک میں ذہنی طور پر پوری طرح مائیکل کے ساتھ تھا۔
’’کرسمس سے ایک دن قبل وہ اچانک آ پہنچا کامیابی کے پہلے مرحلے کی تکمیل سے وہ خاصا مطمئن تھا اگلے دن ہم کیلی فورنیا چلے گئے اور کرسمس ہم نے فریڈ کی بہن الزبتھ جورڈن کے ساتھ منائی۔ فریڈ نے اس سے ملنے سے پھر انکار کردیا تھا اور وہ سخت دل شکستہ اور مایوس تھی۔ ڈاکٹر جورڈن اس سے بھی زیادہ مضطرب تھا۔ الزبتھ کی حالت ایک ایسی بہن کی حالت تھی جس کے واحد بھائی کو سزائے موت دی جانے والی تھی اور جسے اس نے بچوں کی طرح پالا تھا مگر جورڈن اپنی بیوی کی حالت سے پریشان تھا اور اسے سخت شکایت تھی کہ الزبتھ اپنے پاگل بھائی کے لیے خود کو اور اپنے گھر کو تباہ کر رہی ہے۔ الزبتھ کو گلہ تھا کہ جورڈن اس کے جذبات نہیں سمجھتا، چنانچہ ان کے تعلقات سخت کشیدہ تھے اور اس کشیدگی کا اثر گھر کے ماحول اور بچوں پر پڑ رہا تھا۔ کرسمس کے دن ان کے گھر پر موت کی ویرانی مسلط تھی۔
’’مسٹر مائیکل وہ اصل مجرم کا نام نہیں بتاتا اور خود کشی کرنا چاہتا ہے تو اس کی سزا میں کیوں بھگتوں، آپ نے بھی ہزارں لوگوں کی طرح پوری کوشش کرلی ہے اور الزبتھ نے اس سے ملنے کی کتنی بار کوشش کی ہے مگر وہ شخص پاگل ہے، پاگل۔‘‘
’’مسٹر مائیکل۔‘‘ الزبتھ نے روتے ہوئے کہا۔
’’میرا بھائی پاگل نہیں ہے میں اسے جانتی ہوں جب وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں مر گئی تھی۔ اسے میں نے پالا ہے۔ وہ میرے بچوں کی طرح ہے وہ بچپن میں اتنا بیمار رہا کہ کئی بار مرتے مرتے بچا، میں نے دن رات ایک کر دیے اور اسے موت کے منہ سے نکالا۔ وہ اس لیے اتنا کمزور ہے لیکن اب وہ اتنا بڑا ہوگیا ہے اور میں اسے موت سے نہیں بچاسکتی اس سے تو بہتر تھا کہ میں اسے بچپن میں ہی مرجانے دیتی۔ وہ ایسی موت تو نہ ہوتی۔‘‘ ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے جورڈن کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے باہر دیکھتا رہا۔
’’مسٹر الفریڈ۔ اس میں ضرور کوئی راز ہے ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے نہ ملے۔ وہ ضرور کسی کو بچا رہا ہے یہ تو سبھی جانتے ہیں مگر وہ شروع سے ایسا ہے ہمیشہ دوسروں کے لیے دکھ اٹھانے والا۔ دوسروں کے لیے قربانی دینے والا یہ کوئی نہیں جانتا۔‘‘
’’بس کرو لزی، سب جانتے ہیں کہ وہ پاگل ہے۔‘‘ اس کے شوہر نے اچانک پلٹ کر کہا۔
’’صحت ٹھیک نہ ہو تو دماغ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔‘‘
’’اس کا دماغ تو درست ہے مسٹر جورڈن یہ تو میں بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کیونکہ ماہرین نفسیات کے ایک بورڈ نے اس کی تصدیق کی ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’ماہرین نفسیات، ان کا دماغ صحیح تھا۔‘‘ وہ باہر دیکھتے ہوئے بولا۔
شام کو ہم بچوں کو اور الزبتھ کو باہر لے گئے۔ جتنی فیس مجھے اس کی بہن نے دی تھی اس سے دگنی رقم میں نے دعوت اور تحائف پر خرچ کردی۔ ڈاکٹر جورڈن ہمارے ساتھ نہیں گیا مگر واپسی پر جب اس نے بیوی بچوں کو تحائف کے ساتھ خوش و خرم لوٹتے دیکھا تو اس نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔
’’آپ نے میرے گھر کے ماحول کو خراب ہونے سے بچا لیا۔‘‘
’’مسز جورڈن۔‘‘ رات کو لوٹتے ہوئے میں نے کہا۔
’’آپ کا بھائی کسی عظیم تر مقصد کے لیے جان دے رہا ہے آپ کو اس پر فخر کرنا چاہیے۔‘‘
’’اگر میں اسے شہید کہوں تو غلط نہ ہوگا۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’میں آپ دونوں کی بے حد ممنون ہوں، آپ نے مجھے نیا حوصلہ دیا ہے ورنہ میں یہ صدمہ برداشت نہ کرسکتی۔‘‘ الزبتھ جورڈن نے کہا۔
…٭٭٭…
مقررہ وقت کے چوبیس گھنٹے بعد فریڈ کو الیکٹرک چیئر پر بٹھا کر سزائے موت دے دی گئی، جیل کے باہر سخت پہرہ تھا پریس کے کسی نمائندے یا فوٹو گرافر کو اس کا پتا نہ چل سکا۔ ایک دن قبل جیل کے باہر لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہوگیا تھا ان میں مظاہرین بھی تھے جو ایک بے گناہ کی موت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تنقید اور احتساب کا نشانہ پولیس اور سراغ رسانی کے ادارے تھے جو اصل مجرم کو دو ماہ میں بے نقاب نہ کرسکے۔
عدالت کے فیصلے کے پیش نظر کانگریس کی ایک تحریک خلاف ضابطہ قرار دی جا چکی تھی مگر کانگریس اور سینیٹ میں حزب اختلاف کے ارکان حکومت کی نا اہلی پر کڑی نکتہ چینی کر رہے تھے اور اخبارات کے سیکڑوں صفحات کے تبصروں میں جرائم کی تفتیش کرنے والے اداروں کے طریقہ کار کے ساتھ عملے میں تبدیلی کا مسلسل مطالبہ کر رہے تھے فریڈ قومی ہیرو بن گیا تھا اور خدشہ تھا کہ اس کی لاش ورثا کے حوالے کی گئی تو ٹی وی‘ فلم اور پریس والے نجانے صورت حال کو کس حد تک ڈرامائی بنا دیں گے اور عوامی جذبات پر اس کا رد عمل کتنا شدید ہوگا چنانچہ الزبتھ جورڈن کو مطلع کردیا گیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی آخری رسوم اپنی مرضی کے مطابق ادا نہ کرسکے گی اور اسے سرکاری تدفین میں شرکت کی اجازت بھی نہ ملے گی۔ اس کے باوجود جیل کے باہر مجمع بڑھتا گیا۔ متوقع ہنگامے کے پیش نظر آخری وقت میں گورنر نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سزائے موت کو ملتوی کردیا۔ سرکاری اعلان کے مطابق غیر معینہ مدت کے لیے لیکن اسے چوبیس گھنٹے بعد خاموشی سے چند سرکاری حکام کی موجوگی میں سزائے موت دے دی گئی۔
موت کے بعد اس کی لاش قبرستان نہیں لے جائی گئی کسی گرجا میں بھی نہیں پہنچی۔ اسپتال کی ایمبولینس نے اسے سات منٹ بعد سٹی سینٹرل اسپتال پہنچا دیا دروازے پر مستعد سرجن کھڑے تھے انہوں نے تین منٹ بعد فریڈ کی لاش کو گرائونڈ فلور کے ریسرچ سینٹر میں پہنچا دیا۔ یہ پوسٹ گریجویٹ اسکالرز کے لیے وقف تھا اور اس کے جدید ترین ساز و سامان سے آراستہ آپریشن تھیٹر اور تجربہ گاہوں میں دنیا بھر کے ممتاز سرجن اپنا کمال فن دکھا چکے تھے اور ان سے جو کچھ دوسروں نے سیکھا تھا وہ ساری دنیا میں انسانی زندگی کے دفاعی نظام کو مضبوط تر بنانے میں کام آرہا تھا۔ امریکہ کے محقق اور سائنسدان اور ڈاکٹر و کیمسٹ مل کر جو کچھ یہاں کرتے تھے وہ کامیابی اور ناکامی کے مرحلوں سے گزر کر تکمیل تک پہنچتا تھا اور انسانیت کی ملکیت بن جاتا تھا۔
وسیع و عریض بے داغ شیشوں والی کھڑکیوں کے ایک ہال میں بہت سے لوگ جمع تھے شیشے کا گھومنے والا دروازہ بغیر آواز کے کھلا اور سفید ایپرن باندھے ماسک چڑھائے تین افراد اسٹریچر پر فریڈ کی لاش لیے اندر داخل ہوئے۔ ایئر کنڈیشنڈ ہال کی چھت پوری طرح روشن تھی۔ وسط میں آپریشن ٹیبل کے اوپر ایک حلقے میں سرچ لائٹیں نصب تھیں ہر لائٹ کو ہر رخ پر موڑا جا سکتا تھا اور ان کی روشنی کم زیادہ کی جاسکتی تھی اِدھر اُدھر بہت سی مشینیں نصب تھیں اور ان کی ہلکی سی بھنبھناہٹ کے سوا کمرے میں کوئی آواز نہ تھی مشینوں سے موٹے پتلے بہت سے رنگین تار نکل کر اِدھر اُدھر پھیلے ہوئے تھے اور شیشوں کے گول اور چوکور شیشے کے ڈائل اور اسکرین مختلف رنگوں کی روشنی کے نقطوں، لکیروں اور لہروں کو حرکت کرتے دکھا رہے تھے۔ مختلف مشینوں میں سے کچھ چھوٹی تھیں اور کچھ بڑی اور ان کے اسٹین لیس اسٹیل کے چمکیلے حصے سیاہ، سفید، سبز اور سرخ رنگوں کے بٹن پھیلے ہوئے آڑتے ترچھے بازو، حرکت کرنے والے پرزے سے ہال کے ماحول کو بے حد دہشت ناک بنا رہے تھے جراثیم سے پاک فضا میں ایک طویل میز پر سرجری کے چمکیلے آلات قطار میں رکھے ہوئے تھے اور ان کے پیچھے نرسوں کی ایک پوری ٹیم صف بستہ کھڑی تھی۔ ان کے سفید لباس سفید ماسک دستانوں جوتوں اور سر کے سفید رومال میں صرف ان کی آنکھیں نظر آرہی تھیں جو لوگ مشینوں کے سامنے کھڑے تھے یا اسٹولوں پر بیٹھے تھے وہ بھی سفید پوش تھے۔
فریڈ کی لاش کے ٹیبل پر پہنچتے ہی آٹھ دس ڈاکٹر تیزی سے بڑھے وہ سب ملحقہ کمرے میں خاموشی سے بلیک بورڈ پر پھیلے ہوئے لکیروں کے جال اور آڑے ترچھے خطوط کے پس منظر میں ایک لیکچر سن رہے تھے۔ لیکچر دینے والا چالیس سال کا مضبوط جسم والا روسی تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہا تھا ایک مترجم بڑی روانی سے انگریزی میں بتاتا جا رہا تھا پل بھر میں وہ سب میز کے گرد جمع ہوگئے وہ سب آپریشن کے لیے بالکل تیار تھے۔ انہوں نے اپنے منہ پر ماسک چڑھائے نرسیں اور دوسرے لوگ مستعد ہوگئے۔
آپریشن کے دوران روسی ڈاکٹر اور اس کے مترجم کی آواز کے علاوہ کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی اس کی زبان سے جیسے ہی کوئی لفظ نکلتا تھا مترجم کی زبان سے انگریزی میں ادا ہوتا تھا فوراً کوئی نرس کوئی آلہ اٹھا کر پکڑا دیتی تھی کوئی مشین چلنے لگتی تھی یا اس پر بیٹھا ہوا آپریٹر کسی نہ کسی بٹن کو دبا دیتا تھا یا کسی ڈائل کی ریڈنگ بتا دیتا تھا۔ کوئی دوسرا ڈاکٹر کسی تار کو کسی ٹیوب کو فریڈ کے جسم کے کسی حصے میں لگا دیتا تھا۔ جس سے ادویات اور مختلف رنگ کے محلول کا قطرہ قطرہ گزرتا نظر آتا تھا۔ وقت گزرتا گیا صبح سے دوپہر ہوگئی سورج ڈھل گیا لیکن آپریشن تھیٹر میں سب لوگ اپنے کام میں مگن تھے نرسیں، آپریٹر، سرجن، خاموش، سر جھکائے۔ ایک معجزے کے انتظار میں سانس روکے کھڑے تھے جو لمحہ لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے تکمیل کو پہنچ رہا تھا لنچ کا وقت گزرا پھرچائے کا وقت گزر گیا دس گھنٹے گزر گئے کسی کو تھکن اور بھوک کا اور وقت کے گزرنے کا علم ہی نہ ہوا۔
سورج غروب ہوا تو روسی سرجن نے نقاب ہٹا دیا۔ اس کے ساتھ ہی باقی ڈاکٹروں نے نقاب اتار دیے۔ ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ اب فوری طور پر ان کے لیے سیدھا کھڑا ہونا مشکل ہے کیونکہ ان کی کمریں میز پر جھکے جھکے اکڑ گئی تھیں۔ نرسیں معمول کے مطابق ان کے ایپرن کی ڈوریاں کھولنے آگے بڑھیں مگر انہوں نے ایک نظر چھوٹی سی سائڈ ٹیبل پر بھی ڈال لی۔ شیشے کے مرتبان میں پیرا فین کے بے رنگ محلول میں فریڈ کا سر معلق تھا۔ گردن سے اوپر تک کا مکمل حصہ، لا تعداد باریک اور موٹی نلکیاں کٹی ہوئی رگوں سے جوڑ دی گئی تھیں اور ان میں سرخ خون حرکت کرتا ہوا نظر آرہا تھا۔ یہ نلکیاں ایک بہت بڑی مشین کے مختلف حصوں میں گم ہوگئی تھیں، جو ٹیبل سے متصل تھی۔ مشین کے چلنے کی کوئی آواز نہ تھی مگر اس کے ڈائل اور اسکرین روشن نقطوں لکیروں اور لہروں کی صورت میں فریڈ کے دماغ میں گردش کرنے والے خون کی کیفیت کو ظاہر کر رہے تھے۔ فریڈ کی آنکھیں کھلی تھیں، مگر سیدھی اپنے باقی جسم کو دیکھ رہی تھیں جو اب بے مصرف میز پر پڑا تھا کانوں سے بھی دو نلکیاں نکلی تھیں جو مرتبان سے باہر لٹک رہی تھیں، اس کے منہ کے سامنے ایک ننھا سا مائیکر فون تھا جس کے تار باہر ایک ایمپلی فائر سے جوڑ دیے گئے تھے بے رنگ محلول میں ہر چیز واضح تھی۔
’’اس شخص کا دماغ زندہ ہے۔‘‘ روسی نے کہا اور مترجم نے اعلان کیا۔
’’آپ لوگ آزمائش کے لیے اس سے بات کرسکتے ہیں مگر آپ کو مائیکرو فون میں بولنا پڑے گا جو مرتبان سے باہر ہیں۔‘‘ مترجم نے روسی سرجن کی بات دہرائی۔ باقی سب دم سادھے کھڑے مرتبان کو گھور رہے تھے۔ ڈاکٹر برنارڈ نے مائیک ہاتھ میں اٹھایا۔
’’کیا تم میری آواز سن سکتے ہو۔‘‘ اس نے واضح صاف الفاظ میں کہا پھر ایک سیکنڈ کی خاموشی میں سب کے دلوں کی دھڑکن جیسے رک گئی۔ فریڈ کے ہونٹ ہلے۔ ’’ہاں میں سن رہا ہوں۔‘‘ آواز ہال کے تمام اسپیکرز پر گونجی، ایک نرس نے چیخ ماری اور دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی، دوسری نے اپنے سینے پر صلیب بنائی باقی کی حالت بھی غیر تھی مگر وہ کھڑی رہیں ان کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ڈاکٹر پرسکون تھے۔
’’تمہارا نام کیا ہے۔‘‘ دوسرے ڈاکٹر نے دوسرا مائک اٹھایا۔
’’فریڈ کامپٹن۔‘‘ ہال کے اسپیکرز نے ایک ساتھ کہا، سب لوگ دم بخود یہ آواز سن رہے تھے آپریٹرز کو مشین سے نہ ہلنے کا حکم تھا مگر آواز وہ بھی سن رہے تھے، مسحور خوفزدہ ایک ڈاکٹر نے اس کی آنکھوں کے سامنے تین انگلیاں کیں اور دوسرے کو اشارہ کیا۔
’’یہ کتنی انگلیاں ہیں۔‘‘ دوسرے نے پوچھا ’’تین۔‘‘ فریڈ کے سر نے جواب دیا۔ مگر اس کی آنکھیں سامنے دیکھتی رہیں پلکیں جھپکے بغیر روسی سرجن مسکرایا اور ملحق کمرے میں داخل ہوگیا تجربہ کامیاب ہوچکا تھا۔
…٭٭٭…
اگلے دن جب سارے امریکا کے لوگ اخبار میں ایک روسی سرجن کے امریکی ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر ایک انقلاب آفریں آپریشن کی خبر پڑھ رہے تھے اور دونوں ممالک کے ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن ساری دنیا کو یہ بتا رہے تھے کہ کس طرح ایک شخص کی موت کے بعد اس کے سر کو جسم سے الگ کر کے مشینی دل کی مدد سے زندہ رکھا گیا تو الزبتھ جورڈن کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ اس کے بھائی کا سر ہے کیونکہ کسی خبر میں مرنے والا کا نام نہیں تھا۔ روسی سرجن نے اسی شام میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈنر میں آپریشن کی تفصیلات بتائیں جسے ڈنر میں شریک ڈاکٹرز کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں ہزاروں ڈاکٹروں نے سنا اور ساری دنیا کے ڈاکٹرز نے پڑھا میڈیکل ایسوسی ایشن نے اس آپریشن پر ایک مکمل تحقیقاتی کتاب شائع کرنے کا اعلان کیا۔
روسی ڈاکٹر نے صرف ایک بات پر احتجاج کیا کلوز سرکٹ ٹی وی پر یہ آپریشن کیوں نہیں دکھایا گیا اور اس کی فلم کے پرنٹ پریس اور ٹی وی کو ریلیز کیوں نہیں کیے گئے سٹی سینٹرل اسپتال کے حکام نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ عین وقت پر کلوز سرکٹ ٹی وی کا نظام کہیں سے بگڑ گیا تھا اور آپریشن کے دوران ٹھیک نہیں ہوسکتا تھا۔ یہ بات غلط تھی فلم کے پرنٹ لیبارٹری سے موصول نہیں ہوسکے۔ اس لیے اخبارات میں تصویر شائع نہ ہوسکیں اور ٹیلی ویژن کے ناظرین کو فلم نہ دکھائی جاسکی اس کے ایک دو روز میں یہ ممکن ہوسکے گا مگر یہ بات بھی غلط تھی کیونکہ جس وقت روسی ڈاکٹر کے اعزاز میں عشائیہ منعقد ہو رہا تھا سٹی سینٹرل اسپتال میں ڈسٹرکٹ اٹارنی صرف ایک ڈاکٹر، پولیس کمشنر اور میں ہم سب فریڈ کے سر کے گرد بے بس سے کھڑے تھے۔ اسپتال کے گرد پہرہ تھا اور اس ہال میں داخل ہونے کی اجازت کسی پانچویں شخص کو نہ تھی یہ ڈاکٹر ان تین ارکان کے وفد میں شامل تھا جو روسی سرجن کو لینے ماسکو گئے تھے ڈاکٹر برنارڈ اور ہم لوگ تھک چکے تھے۔
’’وہ بھی عجیب آدمی ہے کہتا تھا پولیس کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں۔‘‘ مائیکل نے بیٹھتے ہوئے کہا بڑی مشکل سے ڈاکٹر برنارڈ نے اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ یہ تجربہ صرف میڈیکل سائنس کے لیے کرے وہ کتے کے سر پر کامیاب تجربے کے بعد فوری طور پر آدمی کے سر پر تجربہ کرنے کے لیے تیار نہ تھا، گو وہ اس کی تیاری کر رہا تھا۔‘‘
’’ہم نے اسے تعاون کا یقین دلایا یہ بتایا کہ اسپتال میں کسی مریض کی موت کے بعد اس کے دماغ پر کوئی تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔
’’اس کے بعد اس نے شرط عائد کردی تھی کہ لواحقین کی رضا مندی ضروری ہوگی اور پولیس کا کوئی آدمی نہیں ہوگا تجربے کو پولیس کی مدد کے لیے قطعی استعمال نہیں کیا جائے گا مجبوراً ہمیں جھوٹا وعدہ کرنا پڑا۔‘‘
’’مگر اس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔‘‘ پولیس کمشنر نے کہا۔
ہال میں ہم چاروں کے سوا کوئی نہ تھا آپریشن کے بعد چار بجے صبح کے قریب ہم اندر داخل ہوئے تھے اور ہمیں سولہ گھنٹے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ آپریشن کو چوبیس گھنٹے پورے ہوچکے تھے روسی ڈاکٹر کے بیان کے مطابق جسم سے الگ کر کے فریڈ کے دماغ کو اس مصنوعی نظام کی مدد سے بہتر گھنٹے تک زندہ رکھا جا سکتا تھا اس دوران اس کے سننے دیکھنے اور بات کرنے کی صلاحیت برقرار رہے گی۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس میں کمی واقع ہوگی اور ایک ہفتہ بعد بالکل ختم ہوجائے گی فریڈ کا جسم بدستور آپریشن ٹیبل پر رکھا تھا۔ ہدایات کے مطابق ہال کی ایئر کنڈیشنگ بند کردی گئی اور بے سر جسم کا تعفن پھیلنے لگا جسم سے کپڑے اتار لیے گئے تھے فریڈ کی آنکھیں مستقل طور پر اس جسم پر جمی ہوئی تھیں۔
صبح پہلا سوال مائیکل نے کیا تھا۔ ’’فریڈ مجھے پہچانتے ہو؟‘‘
’’تم ڈینس مائیکل ہو، ڈسٹرکٹ اٹارنی تم مجھے مرنے کیوں نہیں دیتے۔‘‘ فریڈ نے کہا۔ مائیکل کے چہرے کا رنگ پل بھر کے لیے بدلا۔
’’ہم تمہیں ایسے نہیں مرنے دیں گے فریڈ تمہیں اس کا نام بتانا ہوگا۔‘‘
’’میں اس کا نام نہیں بتائوں گا مجھے مرنے دو۔‘‘ اس کی آواز ہال کے اسپیکرز پر صاف سنائی دیتی تھی مگر وہ زیادہ اونچا نہیں بول سکتا تھا۔ اس کے لیے ایمپلی فائر کی آواز بڑھانی پڑتی تھی۔ اس ہال میں یہ گونجتی ہوئی آواز ایک کٹے ہوئے سر کے ہونٹوں سے نکل کر اتی تھی۔ اس منظر کو دیکھنا اور برداشت کرنا خاصے دل گردے کا کام تھا۔
’’فریڈ تمہارے سامنے کیا ہے؟‘‘ پولیس کمشنر نے کہا۔
’’میرا اپنا جسم تم نے اس کے کپڑے کیوں اتار دیے ہیں۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔ اس کا لہجہ سرد مدہم اور پر سکون تھا یوں جیسے وہ نشہ میں بول رہا تھا یا غنودگی کے عالم میں۔
’’فریڈ تم اصل مجرم کو نہیں چھپا سکتے۔ تم اس کا نام نہیں بتائو گے تو یہ جسم ایسے ہی تمہارے سامنے پڑا رہے گا۔ مائیکل نے کہا۔
’’مائیکل تم شیطان ہو، غلیظ کتے ہو، تم مجھے مجبور کرنا چاہتے ہو میں ہر عذاب جھیل سکتا ہوں۔‘‘ فریڈ کے سر نے اسی سپاٹ لہجے میں کہا۔
’’نہیں، تم بتائو گے، تم ضرور بتائو گے۔‘‘ مائیکل نے کہا مگر اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
’’خدا کے لیے مجھے مرنے دو۔‘‘ فریڈ کی آواز نے لجاجت سے کہا۔
ہمارے سارے سوال جواب بے کار ثابت ہوئے، ان سولہ گھنٹوں میں ہم بار بار اس کی زبان سے صرف ایک جملہ سنتے رہے۔ ’’میں کچھ نہیں بتائو گا مجھے مرنے دو۔‘‘ سارا دن یہی سنتے گزر گیا تھا اور اب بھی یہ آواز بار بار ہمارے کانوں سے ٹکرا تھی۔ ہال میں اس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ ’’مجھے مرنے دو، مجھے مرنے دو۔‘‘ یہ آواز دیواروں سے پھوٹ رہی تھی اور سر ٹکرا رہی تھی ان چمگاڈروں کی طرح جو چیختی چلاتی کھنڈروں کے ویران اندھیروں میں چکر لگاتی ہیں مگر باہر نکلنے کا راستہ نہیں پاتیں۔ اس آواز میں بے بسی تھی۔ منت تھی، خدا کے لیے یسوع مسیح کے لیے اس کی آواز ہال کے ہر اسپیکر سے پکار رہی تھی مجھے مرنے دو… مرنے دو۔
’’مائیکل۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں اب برداشت نہیں کرسکتا میرے اعصاب اتنے مضبوط نہیں ہیں۔‘‘
’’اوکے تم جا کے سو جائو کوئی سکون آور دوا کھا لینا۔‘‘ پولیس کمشنر نے کہا۔
’’میں بھی کل صبح سے جاگ رہا ہوں، مجھے بھی سونا ہے۔ ’’ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔ ’’ہم سب جا رہے ہیں۔‘‘ مائیکل نے کہا وہ آخری بار فریڈ کے پاس گیا۔
’’فریڈ۔‘‘ اس نے مائیکرو فون اٹھا کر کہا میں تمہیں ایک رات کی مہلت اور دیتا ہوں سوچ لو میں جا رہا ہوں۔‘‘
’’مائیکل یو باسٹرڈ۔ سن آف اے بچ، مجھے مرنے دو۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔ مگر مائیکل نے ایک ایک کر کے ہال کی روشنیاں بند کردیں ہم تینوں باہر کھڑے تھے جب ہم نے آخری بار اس آواز کو سنا، مائیکل… مائیکل… مجھے اکیلا مت چھوڑو، مجھے مرنے دو… پولیس کمشنر یہ خلاف قانون ہے۔‘‘ پھر شاید میں نے ایک سسکی سنی وہ رو رہا تھا یا یہ میرا وہم ہے۔ میں نے سوچا مائیکل نے آپریشن تھیٹر کے پردے برابر کیے اور دروازے میں تالا لگا دیا۔ خالی کاریڈور میں ہلکی سی روشنی تھی۔ کاریڈور کے آخر میں لوہے کی جالی کا دروازہ تھا۔
’’کوئی ادھر آئے تو گولی مار دو۔‘‘ پولیس کمشنر نے کہا۔ دروازے پر کھڑے ہوئے سارجنٹ نے سیلوٹ کیا۔
’’یس سر۔‘‘ مائیکل نے دروازہ کھینچ کر برابر کیا اور تالا لگا دیا۔ چابی اس نے جیب میں ڈال لی۔ صدر دروازے پر استقبالیہ کے کائونٹر پر رات کی ڈیوٹی والا اسٹاف موجود تھا اور بڑے تجسس کے ساتھ تاریک کوریڈور کو دیکھ رہا تھا مگر وہاں اس قسم کے ڈرامے ہوتے ہی رہتے تھے۔ صرف پولیس کا پہرہ نئی چیز تھی۔ صدر دروازے پر پولیس لیفٹیننٹ کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔‘‘ تم اند رجا کر استقبالیہ کے پاس بیٹھو۔‘‘ پولیس کمشنر نے ناگواری سے کہا۔
’’جب تک گورنر یا میں خود ساتھ نہ آئوں کوئی اندر نہ جانے پائے… اُدھر۔‘‘
’’یس سر۔‘‘ نوجوان لیفٹیننٹ نے اندر جاتے ہوئے کہا۔
’’مائیکل۔‘‘ راستے میں پولیس کمشنر نے کہا۔
’’کیا یہ خلاف قانون نہیں ہے، اگر یہ بات۔‘‘
’’چیف یہ مت بھولو کہ اصل مجرم کو گرفتار نہ کرنے کی ساری ذمہ داری تم پر عائد ہو رہی ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’اور اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں معلوم۔‘‘
’’یہی بات تو خلاف قانون ہے۔‘‘ پولیس کمشنر نے کہا۔
’’عدلیہ یا لواحقین۔‘‘
’’سنو چیف صرف دو تین دن کی بات ہے پھر ہم اسے دفنا دیں گے۔‘‘
’’مگر میرے ضمیر پر ایک بوجھ ہے ہم نے اسے ایک دفعہ مار دیا اب دوسری بار چوری چوری اسے اتنے عذاب سے ہلاک کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔‘‘
’’کیا واقعی فریڈ ہی نے تین آدمی مارے تھے۔‘‘ مائیکل نے کہا ’’یا مجرم نے یہ چوتھا قتل کیا ہے؟‘‘
’’وہ تین آدمی مر گئے تھے کسی تکلیف کے بغیر اور اس کی سزا اسے کل مل چکی کسی جرم کے بغیر مگر اس کے بعد کی سزا اور یہ عذاب خدا مجھے معاف کرے یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔‘‘ کمشنر نے کہا۔
’’اس کی تلافی اصل مجرم کی گرفتاری سے ہوسکتی ہے۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔
’’اور اگر یہ گناہ ہے تو مردے کی آنکھیں یا دل نکالنا یا مرنے کے بعد اس کے جسم کو چیرنا کاٹنا بھی گناہ ہے کمشنر اگر یہ سب نہ ہوتا تو کیا یہ ترقی ممکن تھی جو سرجری نے کی جس نے اتنی بہت سی جانیں بچائیں اور جرائم کے سراغ لگائے۔‘‘
…٭٭٭…
مائیکل رات کو میرے ساتھ ٹھہر گیا مگر اس رات سکون آور ادویات کے باوجود میں نہ سو سکا۔ جیسے ہی میری آنکھ لگتی تھی میرے کانوں میں ایک سرگوشی سی سنائی دیتی تھی۔ ’’مجھے مرنے دو۔‘‘ کبھی یوں لگتا جیسے فریڈ کا بے سر جسم میرے دروازے پر دستک دے رہا ہے اندھیرے میں اس کا کٹا سر کھلی آنکھوں کے ساتھ تیرتا ہوا میرے سامنے آجاتا تھا۔
’’یسوع مسیح کے لیے مجھے مرنے دو۔‘‘ میں نے لائٹ جلا دی۔ مائیکل بالکل سیدھا بستر پر بیٹھا تھا۔ ’’تمہیں بھی اس کی آواز سنائی دے رہی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا مائیکل نے نفی میں سر ہلایا مگر اس کا چہرہ اس کے جھوٹ کی گواہی دے رہا ہے اکیلا ہے اور اپنی موت مانگ رہا ہے۔ ’’مجھے زندگی نہیں موت چاہیے تم نے مجھ سے زندہ رہنے اور مرنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔‘‘
’’اس کی آواز یہاں نہیں آسکتی۔‘‘ مائیکل نے اچانک کہا۔
’’میں نے آتے وقت ایمپلی فائر بند کردیا تھا اور اس کے بغیر اس کی آواز سنائی نہیں دے سکتی۔‘‘ ہم نے ایک ایک سکون آور گولی اور کھائی سگریٹ سلگائی اور صبح کا انتظار کرنے لگے۔
اگلی صبح ہم نے آپریشن ہال میں قدم رکھا تو بدبو نے ہمارا استقبال کیا سڑے ہوئے گوشت کی بدبو بند کھڑکیوں اور دروازے پر پڑے ہوئے پردوں میں قید تھی۔ فریڈ کا جسم سڑ رہا تھا مشین چل رہی تھی اور خون پلاسٹک کی نلکیوں میں آتا جاتا نظر آرہا تھا۔ دوسری مشین خاموش تھی اگر رات کو کسی خرابی کے باعث پہلی مشین خراب ہوجاتی تو دوسری خود بخود چل پڑی مگر اس کی نوبت نہیں آتی تھی۔ دونوں ریزرو جنریٹر بھی خاموش تھے۔ ڈاکٹر برنارڈ نے آپریشن ٹیبل پر پڑے ہوئے جسم کو انگلی سے دبا کر دیکھا۔ وہ نرم پڑ چکا تھا اور اس میں سے پانی خارج ہو رہا تھا لاش کا پیٹ پھول گیا تھا ہم نے رومال اپنی ناک پر رکھ لیے۔
گڈ مارننگ فریڈ مائیکل نے کہا ’’رات کیسی گزری‘‘ اور ایمپلی فائر کو آن کردیا۔
’’مائیکل مجھے اس عذاب میں ڈال کر گناہ گار مت بنو مجھے مر جانے دو۔‘‘
’’فریڈ ایک شخص نے تین قتل کیے ہیں اور ہمارے ہاتھوں تمہارا خون کرایا ہے ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے اور جب تک تم اس کا نام نہیں بتا دو گے تمہیں نہیں مرنے دیں گے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’میں نے کہا نا کہ میں اس کا نام نہیں بتائوں گا۔ بہتر ہے تم مجھے مرنے دو، ورنہ ساری عمر پچھتائو گے۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔
’’اس گناہ کا خمیازہ بھگتو گے۔‘‘
’’میری فکر مت کرو، اپنے جسم کو دیکھو کیسے سڑ رہا ہے۔ تمہیں بد بو آرہی ہے نا، یہ تمہارا اپنا جسم ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
اسے میری آنکھوں کے سامنے سے ہٹا لو۔‘‘ اس نے بڑی تکلیف سے کہا۔
’’نہیں تم اسے سڑتا گلتا دیکھتے رہو، ہمارے لیے تم مر چکے ہو اور ایک مرے ہوئے آدمی سے ایک مجرم کا پتا پوچھنا ہو تو سب جائز ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’مائیکل میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔‘‘ فریڈ نے یوں کہا جیسے وہ رو رہا ہے۔
’’کچھ نہیں مجھے صرف ایک نام بتا دو، ورنہ یہ سمجھ لو یہ جسم تمہارے سامنے رہے گا اس میں کیڑے پڑ جائیں گے تم انہیں اس جسم کا گوشت کھانا دیکھو گے، تمہارا پیٹ پھٹ جائے گا اور وہ اس میں گھس جائیں گے۔ کلبلاتے ہوئے تمہارے سارے جسم کو چاٹتے رہیں گے تمہارا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر گرے گا۔‘‘
’’مائیکل مائیکل تم مجھے نہیں جانتے مجھے عذاب دے کر تم خود عذاب میں مبتلا ہوجائو گے، تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔ مائیکل نے اسپیکرز کی آواز کم کر رکھی تھی چنانچہ فریڈ کی آواز سر گوشی کی طرح آرہی تھی۔ ’’تم تباہ ہوجائو گے۔‘‘
’’اوکے، میں جا رہا ہوں شام کو پھر آئوں گا۔‘‘ مائیکل نے ایمپلی فائر بند کیا، روشنیاں بجھائیں پردے برابر کیے تالے لگائے اور چابی جیب میں ڈال کر چل پڑا، رات کے مقابلے میں دن بہتر تھا ہم خواب آور گولیاں کھا کر سو گئے مائیکل کے فلیٹ میں۔
شام کو میری آنکھ کھلی تو مائیکل ریڈیو لگائے بیٹھا تھا۔ ’’پولیس کمشنر نے خود کشی کرلی۔‘‘ وہ یوں بولا جیسے یہ خبر بالکل متوقع تھی۔
’’کیا؟‘‘ مجھ پر بجلی سی گر پڑی۔ ’’خود کشی؟‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ریڈیو والے کہتے ہیں وہ دوسری منزل پر اپنے بیڈ روم کی کھڑکی سے گر گیا مگر مجھے معلوم ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا اس کا چہرہ سفید پڑ رہا تھا ہم فوراً پولیس کمشنر کے گھر پہنچے۔ تعزیت کے رسمی الفاظ کے بعد مائیکل نے اپنے شبہ کا اظہار کمشنر کی بیوی سے کیا۔
’’نہیں، اس نے خود کشی نہیں کی، رات ہَوا تیز تھی، اس نے دو مرتبہ کھڑکی بند کی مگر وہ بار بار کھل جاتی تھی۔ شاید کنڈی ڈھیلی تھی۔ وہ ویسے بھی پریشان تھا تیسری مرتبہ وہ کھڑکی کا پٹ پکڑنے آگے جھکا اور باہر گر گیا۔‘‘ اس کی بیوی نے کہا۔ ’’اسے خود کشی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ میں نے مائیکل کی طرف دیکھا گزشتہ شب بالکل ہوا نہ تھی۔ ہم دونوں اکٹھے ساری رات جاگتے رہے۔ ’’ہاہاہاہاہا‘‘ دور سے ایک آواز آئی۔ ’’دیکھا تم نے تم سب تباہ ہوجائو گے سب مگر میں کچھ نہیں بتائوں گا۔‘‘ اور اب ہمیں اسپتال میں وہیں جانا تھا۔ ہَوا کے ہر جھونکے کے ساتھ۔ ’’مجھے مرجانے دو، اب بھی وقت ہے ورنہ تم سب مرجائو گے، برباد ہوجائو گے۔‘‘ اس کی بازگشت ہر طرف تھی۔
اسپتال کے تاریک کوریڈور کے دروازے پر دونوں سارجنٹ مستعد کھڑے تھے۔
…٭٭٭…
وہ بالکل پر سکون تھے انہیں کوئی آواز سنائی نہ دی رہی تھی۔ ایک نے مائیکل کو روک لیا۔ ’’آپ اندر نہیں جا سکتے مسٹر مائیکل۔‘‘ ایک نے کہا۔ ’’کمشنر کے بغیر یہ اسی کا حکم ہے۔‘‘
’کمشنر مر چکا ہے۔‘‘ ڈینس مائیکل نے سکون سے کہا۔
’’پھر تو گورنر کو موجود ہونا چاہیے کیوں ٹام۔‘‘ اس نے دوسرے سارجنٹ سے پوچھا۔ اس نے تائید میں سر ہلایا۔ ’’آرڈرز یہی ہیں۔‘‘
’’گیٹ آئوٹ۔‘‘ مائیکل نے دہاڑ کر کہا۔ ’’چابی میرے پاس ہے میں ڈسٹرکٹ اٹارنی ہوں۔‘‘
’’چابی سے کیا ہوتا ہے۔‘‘ سارجنٹ نے فوراً پستول نکال لیا۔ ’’آرڈرز کے بغیر اٹارنی جنرل بھی اندر نہیں جاسکتا۔‘‘
’’او کے اوکے ہم لیفٹیننٹ سے بات کرلیتے ہیں۔‘‘ میں نے مائیکل کے کندھے پر ہاتھ رکھا مگر لیفٹیننٹ بھی نہ ڈسٹرکٹ اٹارنی سے متاثر ہوا نہ ڈاکٹر برنارڈ سے۔ ’’میں مجبور ہوں، پولیس کمشنر کے احکامات ابھی تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ جس وقت پولیس کمشنر نے ہمارے سامنے یہ بات کہی تھی ہم بالکل مطمئن تھے ہم خود ایسے ہی حفاظتی انتظامات چاہتے تھے اور اس نے ہم دونوں کو جس اختیار سے نادانستہ طور پرمحروم کر دیا تھا۔ ہمیں اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوا تھا۔ مائیکل نے گورنر کو فون کیا۔ وہ کسی ڈنر میں شریک تھا اور رات نو بجے سے پہلے اس کی واپسی کا امکان نہیں تھا۔
’’مس جین، میں ڈسٹرکٹ اٹارنی ہوں ڈینس مائیکل مجھے اسی وقت ان سے بات کرنی ہے۔ وہ جہاں بھی ہیں ان سے فون پر رابطہ قائم کرو، کہاں پریس کلب میں؟ اوہ مائی گاڈ اچھا میں وہیں مل لیتا ہوں۔‘‘ اس نے فون بند کردیا اور ایک طویل ٹھنڈی سانس لی۔
پریس کلب کی شاندار عمارت میں روشنی ہی روشنی تھی۔ مائیکل نے کار روک دی۔
’’الفریڈ اگر میںاندر گیا تو وہ سب بھڑوں کی طرح مجھ سے چمٹ جائیں گے اور مجھے گورنر سے بالکل الگ بات کرنی ہے کسی پریس والے کے کان میں یہ بات پڑ گئی تو مصیبت آجائے گی، بتائو میں کیا کروں۔‘‘ پھر اس نے گھڑی دیکھی۔
’’نو بج چکے ہیں ڈنر ختم ہونے والا ہوگا۔‘‘
’’میرا خیال ہے ہم پچھلی طرف سے چلتے ہیں۔‘‘ میں نے مشورہ دیا کار ہم نے سڑک پر ہی چھوڑ دی اور عمارت کے عقب سے اندر آگئے ہال میں بہت شور تھا ہم باورچی خانے میں گھس گئے وہاں پر ویٹرز آجا رہے تھے اور دروازہ باہر کی طرف بار بار کھلتا تھا۔ مائیکل نے ہیڈ ویٹر کو بلالیا۔
’’دیکھو، میں ڈسٹرکٹ اٹارنی ہوں، کسی طرح یہ پیغام گورنر تک پہنچا دو مگر کسی کو خبر نہ ہو، ٹاپ سیکرٹ اور یہ بتائو کوئی کمرہ ایسا ہے جہاں کسی کے آنے کا امکان نہ ہو، مجھے گورنر سے بات کرنی ہے۔‘‘ اس نے سرگوشی میں کہا۔ ہیڈ ویٹر کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
’’آپ خود اندر کیوں نہیں آجاتے مسٹر مائیکل۔‘‘
’’جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسے ہی کرو، یہ صدر کا حکم ہے۔‘‘ میں نے حیرت سے اس جھوٹ کو سنا مگر اس کا خاطر خواہ اثر ہوا، ہیڈ ویٹر نے پرچہ لے لیا۔ ’’آل رائٹ سر آپ اوپر چلے جائیں، یہ میرے کمرے کی چابی ہے مگر کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہے نا، میرا کمرہ دائیں ہاتھ پر پہلا ہے۔‘‘
’’نہیں، نہیں تم جائو۔‘‘ مائیکل نے جھنجلا کر کہا وہ د وقدم چلا اور رک گیا۔
’’یہ دوسرا شخص کون ہے سر، کیا آپ لوگ مسلح ہیں؟‘‘ مائیکل نے اپنا پستول نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’یہ میرا ڈپٹی ہے تم اس کی تلاشی لے لو، تھوڑے سے تامل کے بعد ہیڈ ویٹر نے پستول لے لیا ہم دونوں کی جیبوں کو ٹٹولا۔
’’برا مت مانیے گا سر اگر گورنر کا کوئی دشمن۔‘‘ وہ معذرت سے مسکرایا۔ مائیکل کا پارہ چڑھ گیا، اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ ’’ایڈیٹ یہ دیکھو میرا کارڈ، میں ڈسٹرکٹ اٹارنی ہوں۔‘‘ ہیڈ ویٹر فوراً باہر نکل گیا ہم پچھلے زینے سے اوپر چڑھے اور دائیں ہاتھ کے پہلے کمرے میں بیٹھ گئے ایک چھوٹا سا غلیظ کمرہ پندرہ منٹ گزر گئے پھر دروازہ آہستہ سے کھلا اور گورنر اندر آیا۔
اختصار سے کام لینے کے باوجود ہمیں ساری بات گورنر کو سمجھانے میں آدھا گھنٹہ لگ گیا لیکن جب ہماری بات اس کی سمجھ میں آئی تو وہ گرم ہوگیا۔
’’تم لوگ یہ کیا غیر قانونی ڈرامہ کر رہے ہو، خیر میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر مجھے قانونی مشیر یا صدر سے بات کرنی ہوگی۔‘‘ ویٹر نے پستول مائیکل کو واپس کردیا۔ ہال کے اسپیکرز پر اعلان کیا گیا کہ ناگزیر وجوہ کی بنا پر گورنر رخصت ہوگئے ہیں اس کا پریس سیکرٹری مصیبت میںپھنس گیا اور ہم خاموشی سے نکل گئے اسپتال میں گورنر کی اچانک آمد نے خاصی سنسنی پھیلائی جس وقت ہم ہال کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ہمیں یہ محسوس ہوا جیسے ہم بے ہوش ہو کر گرجائیں گے۔ اندر شدید بدبو تھی۔ مائیکل نے روشنیاں جلائیں پردے برابر کیے اور دروازہ اندر سے بند کردیا۔ گورنر کی نگاہ سیدھے کمرے کے وسط میں گئی، وہ کچھ دیر تک ساکت کھڑا رہا جو کچھ گورنر کے سامنے تھا وہ اس کے لیے ناقابل یقین تھا۔ آپریشن ٹیبل پر سر کے بغیر ایک جسم پڑا تھا۔ لاش کا پیٹ پھٹ گیا تھا غلاظت پوری میز پر پھیلی ہوئی تھی۔ سفید گوشت میں جگہ جگہ دھبے سے نمودار ہوگئے تھے اور ان میں باریک باریک کیڑے کلبلا رہے تھے گورنر نے رومال ناک پر رکھا اور فریڈ کے سر کو دیکھا جو مستقل اپنی لاش کو گھور رہا تھا۔ مائیکل نے ایمپلی فائر آن کیا اور مائیکرو فون اٹھا لیا۔
’’فریڈ۔‘‘ مائیکل نے کہا ’’گورنر تم سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ گورنر شیشے کے مرتبان کے سامنے جھک کر فریڈ کے سر کو غور سے دیکھا رہا تھا کہ اچانک ہال کے سارے اسپیکرز بول پڑے۔ ’’جہنم میں جائے گورنر بھی اور تم بھی تم مجھے مرنے کیوں نہیں دیتے۔‘‘گورنر اچھل پڑا اور دہشت زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے ایک ہاتھ سر پر رکھ لیا۔ مائیکل نے ایمپلی فائر بند کردیا۔
’’مائیکل یہ خلاف قانون ہے خلاف اخلاق ہے۔ بند کرو یہ سلسلہ کیا تم بالکل پاگل ہوگئے ہو، اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو کیا ہوگا نہیں میں اس میں پارٹی نہیں بن سکتا۔‘‘ اس نے طیش میں کہا۔ ’’میں تباہ ہوجائوں گا میرا سیاسی مستقبل ختم ہوجائے گا۔‘‘
’’مجھے چوبیس گھنٹے اور دیں سر۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’صرف ایک دن۔‘‘
’’میں دوں تم مجھ سے اجازت مانگ رہے ہو، تاکہ تمہارے پاس ایک قانونی جواز ہوجائے قطعی نہیں میں تمہیں گورنر کی حیثیت سے حکم دیتا ہوں کہ اسی وقت یہ سب ختم کردو، ورنہ تم جیل میں ہو گے میںتمہیں اسی وقت برطرف کردوں گا۔‘‘ گورنر نے بپھر کر کہا۔
’’کس جرم میں مسٹر گورنر؟‘‘ مائیکل نے اچانک سخت لہجہ میں کہا۔
’’یہ ایک سائنسی تجربہ ہے جو ملک کے ممتاز ڈاکٹروں نے کیا ہے پولیس کمشنر کسی ادارے کے بغیر ایک ایسا حکم دے کر مر گیا جس کی وجہ سے ہمیں آپ کے پاس آنا پڑا ورنہ آپ کو معلوم بھی نہ ہوتا۔ ‘‘
’’شٹ اپ تم اس تجربے کے بعد جو کچھ کر رہے ہو، کس کی اجازت سے کر رہے ہو تمہارا یہ غیر انسانی فعل۔‘‘
’’مسٹر گورنر۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔
’’غیر انسانی تو بہت کچھ ہوتا ہے جب ایک نیگرو حادثے میں ہلاک ہوا تھا تو اس کا دل ایک سفید فام کے سینے میں لگا دیا گیا تھا ڈاکٹر کرسچن برنارڈ نے یہ آپریشن افریقہ میں کیا تھا یہاں ہم ہر روز ایسے آپریشن کرتے ہیں۔‘‘
’’مگر ڈاکٹر اس کے لیے قانونی جواز ہوتا ہے لواحقین کی اجازت ہوتی ہے۔‘‘ گورنر نے کہا۔
’’آپ ہی نے اس کی لاش ورثا کے حوالے نہ کرنے کے حکم پر دستخط کیے تھے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا۔‘‘
’’قانوناً لاوارث لاشیں اسپتال کی ملکیت ہوتی ہیں اسپتال والے اس کے ساتھ جو چاہیں کریںجسم کے ٹکڑے کردیں یا…!‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا ’’اور ہمیں کوئی واضح حکم بھی نہیں ملا تھا۔‘‘
’’مگر وہ مرا نہیں ہے۔‘‘ گورنر نے کہا ’’وہ مرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’وہ مر چکا ہے جیلر نے اسے الیکٹرک چیئر پر بٹھایا اور جیل کے ڈاکٹر نے اس کی موت کے سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے کیا آپ یہ سرٹیفکیٹ دیکھنا چاہتے ہیں آپ کے حکم سے اسے مقررہ وقت کے چوبیس گھنٹے بعد خاموشی سے مار دیا گیا تھا۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔
’’اوہ میرے خدا۔‘‘ گورنر کرسی پر بیٹھ گیا، بدبودار گرمی سے ہم سب کا برا حال تھا۔ ’’آپ مجھے بر طرف کرسکتے ہیں مگر قانوناً میںمجرم نہیں ہوں۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’اور اپنی غیر قانونی برطرفی کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا حق رکھتا ہوں۔‘‘
’’اس کے علاوہ یہ ایک سائنسی تجربہ ہے۔ آپ اس میں مداخلت نہیں کرسکتے جیسے آپ پوسٹ مارٹم نہیں روک سکتے۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔ ’’ورنہ آپ کو بے ہوش کردوں گا۔‘‘ چند سیکنڈ خاموشی میں گزر گئے۔ گورنر نے محسوس کیا کہ وہ پھنس چکا ہے۔
’’دیکھو مسٹر مائیکل یہ مسئلہ دوسرا رخ بھی اختیار کرسکتا ہے اگر میں تمہیں اجازت دے دوں تو کل مجھے بھی تمہارے ساتھ پکڑا جاسکتا ہے کیونکہ یہ امریکی اور روسی حکومت کے درمیان کیے گئے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے ڈاکٹر برنارڈ تم جس سرکاری وفد کے ساتھ گئے تھے۔ اس نے روسی سرجن سے کیا وعدہ کیا تھا، اگر کسی بھی طرح یہ بات پھیل گئی تو کیا ہوگا۔ روسی سرجن ایک بیان دے گا اور روسی حکومت صدر کے نام پر احتجاجی مراسلہ بھیج دے گی کہ سرکاری وفد نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تجربے کو پولیس کے لیے استعمال کیا … نہیں میں ایسی اجازت دینے کا مجاز نہیں ہوں، تمہیں صدر سے بات کرنی ہوگی اور مجھے یقین ہے وہ معاہدے کا پاس کریں گے۔‘‘ گورنر نے کہا ’’یہ بین الاقوامی سیاسی معاملہ ہے۔‘‘
مائیکل نے مایوسی سے میری طرف دیکھا اب کیا ہوگا، یہ سوال ہم دونوں کی صورت پر صاف لکھا تھا ڈاکٹر برنارڈ بھی چپ کھڑا تھا۔
’’آل رائٹ گورنر ہم صدر سے بات کریں گے کیا آپ ہمیں ایک گھنٹے کی مہلت دیں گے؟‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’صرف ایک گھنٹہ۔‘‘
’’سوری میں سرکاری طور پر ایک منٹ کی بھی مہلت نہیں دے سکتا پولیس نے مجھے یہاں آتے دیکھا ہے پریس کلب میں میری اچانک روانگی کا اعلان کیا گیا ہے مجھے ان سب کو بتانا پڑے گا کہ میں رات کیوں آیا تھا میں ایک گواہ بن گیا ہوں۔‘‘ گورنر نے کہا۔
’’مائیکل۔‘‘ میں نے کہا ’’ایک مشین خراب ہوگئی ہے ’’ڈاکٹر برنارڈ نے مائیکل کے ساتھ سر گھما کر دیکھا ایک مشین بند پڑی تھی نہ معلوم دن میں کسی وقت ایک مشین بند ہوئی اور دوسری چل پڑی۔ اب یا تو ہمیں فوری طور پر انجینئرز کو بلوا کر پہلی مشین کو ٹھیک کرانا تھا اور اس طرح ایک اور شخص کو اس راز میں شریک کرنا تھا بصورت دیگر دوسری مشین کے کسی بھی وقت خراب ہونے کا امکان تھا۔ اس کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہوجاتا۔ صدر کے پاس جانے اور اجازت لینے کا وقت نہیں تھا، میں نے ڈاکٹر برنارڈ کی طرف اور اس نے مائیکل کی طرف دیکھا، اچانک مائیکل نے پستول نکال لیا۔
’’مسٹر گورنر اب اس کمرے سے کوئی باہر نہیں جائے گا تجربہ مکمل ہونے تک۔‘‘ گورنر بھونچکا رہ گیا۔
’’مائیکل۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کیا تم پاگل ہوگئے ہو؟‘‘
’’الفریڈ ادھر آئو یہ پستول لے کر دروازے پر کھڑے ہوجائو اگر گورنر باہر جانا چاہے تو اسے گولی مار دو۔‘‘ مائیکل نے کہا ’’میں اپنی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دوں گا۔‘‘ مجھے معلوم تھا میں گولی نہیں چلا سکتا مگر ہم گورنر کو روک سکتے تھے۔ وہاں اس کی چیخ پکار سننے والا کون تھا چنانچہ ایک لمحہ بعد میں نے پستول لے لیا۔ ڈاکٹر برنارڈ کے چہرے کا رنگ کپڑے کی طرح سفید ہوگیا تھا گورنر خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
’’صبح تم سب جیل میں ہو گے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مسٹر گورنر، ہمیں صبح کی فکر نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اس کے علاوہ میں اس تجربہ کو ابھی ختم کر رہا ہوں۔‘‘ مائیکل نے کہا اور ایمپلی فائر کو چلا دیا۔
’’ڈاکٹر برنارڈ ٹیپ ریکارڈر چلا دو۔‘‘ ڈاکٹر نے ٹیپ ریکارڈر چلا دیا اس کے ساتھ ہی گورنر بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر وہ دروازے کی طرف نہیں بڑھا میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔
’’فریڈ۔‘‘ مائیکل نے کہا
’’تم نے اپنے جسم کی حالت دیکھ لی۔‘‘
’’ہاں مائیکل یہ ناقابل برداشت منظر ہے خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔
’’مجھے مرنے دو۔‘‘ گورنر اس کے لبوں کی حرکت کو دیکھتا رہا۔
’’فریڈ میں تمہیں آخری موقع دوں گا ایک گھنٹے بعد میں تمہاری بہن کو یہاں لا رہا ہوں۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’نہیں خدا کے لیے نہیں۔‘‘ فریڈ نے شدید کرب میں کہا۔
’’بالکل وہ تمہیں اس حالت میں دیکھ کر بہت خوش ہوگی۔ شاید وہ زندگی بھر اس منظر کو نہ بھول سکے شاید وہ پاگل ہوجائے شاید وہ خود کشی کرے۔‘‘
’’تم ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا پہلی بار مجھے اس کی آواز میں شکست کا احساس ہوا۔ ’’میں ضرور کروں گا۔ میں تمہاری بہن کے بچوں کو بھی لا رہا ہوں۔‘‘ مائیکل ہنسا اس کی ہنسی میں اعتماد تھا فریڈ نے کوئی جواب نہیں دیا، پورا ایک منٹ گزر گیا لیکن اسپیکرز خاموش تھے۔
’’تم نے سنا فریڈ میں سیدھا کیلی فورنیا جا رہا ہوں۔ الزبتھ کو لینے۔‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھا مائیکرو فون ڈاکٹر برنارڈ نے سنبھال لیا۔ ’’فریڈ وہ واقعی جا رہا ہے۔‘‘
’’ٹھہرو خدا کے لیے رک جائو۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔ ’’میں بتاتا ہوں۔‘‘ میرے ہاتھ پیر کانپنے لگے گورنر لڑکھڑا کر ایک اسٹول پر بیٹھ گیا۔برنارڈ مسکرایا۔
’’مائیکل۔‘‘ ہال کے سارے اسپیکرز بولے۔ ’’اسے مت لائو، ڈاکٹر جورڈن کو لے آئو۔‘‘ اس ہیبت ناک ہال کے المیے کا آخری منظر ہمارے ساتھ گورنر بھی دیکھ رہا تھا۔
’’کیا مجرم ڈاکٹر جورڈن ہے؟‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’ہاں، مگر وہ قاتل نہیں ہے ایک لاکھ ڈالر اسی کے پاس ہیں میں نے اسے فرار ہونے کا موقع دیا تھا تینوں قتل میں نے کیے تھے۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔
’’کیا تم اس کے ساتھ تھے؟‘‘ مائیکل نے کہا ہر لفظ ٹیپ پر ریکارڈ ہو رہا تھا۔
’’ہاں جب ان دونوں کی لڑائی شروع ہوئی تو میں نے البرٹ ڈیوڈ سن کو گولی مار دی اور اس سے کہا کہ وہ چلا جائے۔‘‘ گورنر اب دم بخود بیٹھا ایک مردے کا اقبال جرم سن رہا تھا۔ ’’اس کا کیا ثبوت ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو درست ہے۔‘‘ مائیکل نے پوچھا۔
’’اسے میرے سامنے لے آئو، وہ قبول کرلے گا لیکن خدا کے واسطے الزبتھ کو میرے متعلق کچھ نہ بتانا، جورڈن چند سال میں چھوٹ جائے گا اس پر صرف چوری کا الزام ہوگا نا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ مائیکل نے جیب سے نوٹ بک نکال کر ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور گورنر کے سامنے رکھ دیا۔ ’’گورنر اس پر دستخط کردو ہمیں ہیلی کاپٹر چاہیے اسی وقت۔‘‘ گورنر نے چند سیکنڈ تک خاموشی سے دیکھا پھر دستخط کردیے۔
’’الفریڈ تم ڈاکٹر برنارڈ کے ساتھ جائو کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں اپنے گھر سے دوسرا پستول لے جائو اور اسے اٹھا لائو مائیکل نے کاغذ مجھے تھما دیا اور پستول لے لیا۔
’’مگر وارنٹ۔‘‘ میں نے تامل کرتے ہوئے کہا۔
’’کوئی وارنٹ نہیں تم دونوں اسے زبردستی لے آئو میں اور گورنر یہیں ٹھہریں گے۔‘‘ اس نے ہمیں باہر نکال کر دروازہ بند کردیا۔
’’ہیلی کاپٹر حاصل کرنا ایک اور مرحلہ ثابت ہوا ڈیوٹی آفیسر نے کاغذ کے اس پرزے کو دیکھا جس پر ڈسٹرکٹ اٹارنی کا حکم اور گورنر کے دستخط تھے اس نے فون پر ڈائریکٹر پولیس آپریشن سے رابطہ قائم کیا۔ آدھے گھنٹے تک ہم انتظار کرتے رہے پھر ایک طویل قامت شخص اندر داخل ہوا۔ ڈیوٹی آفیسر نے سلپ اس کے سامنے رکھ دی۔ وہ اسے غور سے دیکھتا رہا پھر اس نے کاغذ میز پر رکھ دیا اور ہمیں دیکھا۔
’’گورنر کہاں ہے؟‘‘ اس نے مشتبہ لہجے میں پوچھا۔
’’وہ پریس کلب کے ڈنر سے سٹی سینٹرل اسپتال گیا ہے میں اسی اسپتال کا ڈاکٹر برنارڈ وائٹ مین ہوں۔‘‘ برنارڈ نے اپنا کارڈ سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’استقبالیہ پر ایک پولیس لیفٹیننٹ موجود ہے آپ تصدیق کرسکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی اس کے ساتھ ہے۔‘‘
’’کیا میں اس سے بات کرسکتا ہوں۔‘‘
’’میرا خیال ہے یہ مشکل ہے۔ مگر اسپتال میں ان کی موجودگی کی تصدیق ہوسکتی ہے۔‘‘
’’وہ وہاں کیا کر رہا ہے گورنر۔‘‘
’’یہ اسٹیٹ سیکرٹ ہے صدر کا حکم۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’آپ پریس کلب میں اس کے پریس سیکرٹری سے پوچھ سکتے ہیں کہ ایک گھنٹے پہلے وہ اچانک ڈنر پارٹی سے رخصت ہوگیا تھا یا نہیں مگر اسپتال نہیں جاسکتے۔‘‘ وہ غور سے دستخط دیکھتا رہا پھر اس نے آہستہ سے سر ہلایا۔
’’اوکے، ہیلی کاپٹر میں مسلح پولیس جائے گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے مگر وہ ایئر پورٹ پر رہیں گے ہم ایک مجرم کو لینے جا رہے ہیں ایئر پورٹ پر ہمیں ایک پولیس کار اور گارڈ بھی چاہیے لیکن وہ کوئی سوال نہیں کریں گے اور کسی معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔‘‘ میں نے کہا۔ ڈائریکٹر پولیس آپریشن نے کچھ کہنے کے لیے سر اٹھایا ہی تھا کہ برنارڈ نے کہا ’’صدارتی حکم۔‘‘ وہ چپ ہوگیا اس وقت رات کے گیارہ بجے تھے ایک گھنٹے بعد ہم کیلی فورنیا کے فوجی ہوائی اڈے پر اترے۔ پولیس کار میں موجود تھی۔ دس منٹ بعد ہم نے الزبتھ کے دروازے پر دستک دی۔ ڈاکٹر جورڈن نے دروازہ کھولا۔ وہ ہمیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔
’’مسٹر الفرڈ خیریت ہے، اندر آئیے۔‘‘ ہم اندر چلے گئے۔ ’’الزبتھ بچوں کے ساتھ اوپر سو رہی ہے کیا میں اسے جگائوں؟‘‘ اس نے پوچھا میں نے اطمینان کا سانس لیا ہمارا کام آسان ہوگیا تھا۔
’’نہیں مسٹر جورڈن ہم ایک کام سے آئے ہیں آپ ایک منٹ ہمارے ساتھ باہر آئیے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’باہر؟‘‘ اس نے حیرت سے کہا۔ ’’آپ یہاں بات کرسکتے ہیں گھر میں کوئی نہیں ہے سب سو رہے ہیں۔‘‘
’’ڈاکٹر جورڈن آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہے،
پولیس اسٹیشن۔‘‘ برنارڈ نے کہا۔
’’پولیس اسٹیشن اتنی رات کو، کس لیے۔‘‘
’’ہم کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ آپ اگر مرضی سے نہیں جائیں گے تو ہمیں زبردستی کرنا پڑی گی۔‘‘ میں نے پستول نکالتے ہوئے کہا میں اس کے پیچھے تھا ڈاکٹر برنارڈ نے بھی پستول نکال لیا وہ ایک قدم پیچھے ہوگیا۔ یہ کیا بکواس ہے وارنٹ کے بغیر تم مجھے کہیں نہیں لے جاسکتے میں نے کیا جرم کیا ہے۔‘‘ میں نے اسے آگے دھکیلا اور اس کی کمر پر پستول کی نالی رکھ دی۔
’’کم آن۔‘‘ میں نے سیفٹی کلچ ہٹاتے ہوئے کہا۔ ’’تمہیں سب معلوم ہوجائے گا ہمارے پاس وقت کم ہے۔‘‘
’’مگر یہ خلاف قانون ہے مجھے اپنے وکیل سے بات کرنی ہوگی۔‘‘ میں نے اسے پیچھے سے دھکا دیا وہ مشتعل ہو کر پلٹا۔ ’’تم مجھے اغوا کرنے آئے ہو۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ برنارڈ نے اس کے سر پر پستول کا دستہ مارا وہ لڑکھڑا کر گر پڑا، ہم نے اسے اٹھا کر پولیس کار میں ڈالا، چلتے چلتے میں نے الزبتھ کے لیے ایک نوٹ چھوڑ دیا کہ اس کا شوہر ایک کام سے گیا ہے اور ممکن ہے دو دن نہ لوٹے کار ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔
راستے میں جورڈن کو ہوش آگیا مگر ہم دونوں اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔
’’تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو، یہ پولیس اسٹیشن کا راستہ نہیں ہے، چھوڑو مجھے۔‘‘ اس نے اپنے آپ کو چھڑانے کی ناکام جدوجہد کرتے ہوئے کہا ہم نے اسے جکڑ رکھا تھا ڈرائیور نے پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کی سامنے دیکھو۔‘‘ میں نے ڈانٹ کر کہا۔
’’کیا تمہیں ہدایات نہیں ملیں۔‘‘
’’یس سر، سوری۔‘‘ جورڈن پر اس کا خاطر خوا اثر ہوا مگر ہیلی کاپٹر پر چڑھاتے ہوئے ہمیں زبردستی کرنی پڑی۔ پندرہ منٹ بعد ہیلی کاپٹر نے پھر پرواز کی۔ اس وقت رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے ہیلی کاپٹر کے اندر مسلح پولیس کو دیکھ کر ڈاکٹر جارڈن نے مزاحمت ترک کردی۔ اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگایا اور اپنے اعصاب پر قابو پانے کی کوشش کی۔
’’میں تمہیں بتا دیتا ہوں تم سب مصیبت میں پڑ جائو گے تم نے کسی جرم کے بغیر ایک شہری کو اس کے گھر سے اٹھایا ہے کسی وارنٹ کے بغیر۔‘‘
’’مسٹر جورڈن۔‘‘ میں نے کہا ’’تمہارا جرم یہ ہے کہ چھبیس اکتوبر کی شب کو تم نے البرٹ ڈیوڈسن کے گھر میں گھس کر ایک لاکھ ڈالر چرائے تھے اسی رات اسی جگہ البرٹ ڈیوڈ اور دو پولیس مین مارے گئے اور ان کے قتل کے الزام میں تمہاری بیوی کے بھائی کو سزائے موت دی گئی۔‘‘
’’تمہارا دماغ خراب ہے مجھے کیا ضرورت تھی ایک لاکھ ڈالر چرانے کی۔‘‘ ڈاکٹر جورڈن نے کہا۔
’’یہی تو ہمیں معلوم کرنا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’مگر یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تھا اس میں کہیں میرا نام نہیں آیا فریڈ نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا تھا پھر اب…!‘‘
’’اب ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایک لاکھ ڈالر لے کر تم فرار ہوگئے تھے۔ فریڈ نے تمہیں بھاگنے کا موقع دیا اور خود پکڑا گیا تمہاری البرٹ ڈیوڈ سن سے لڑائی ہوئی تھی تم نے اس کے سر پر وینس کا سنگ مر مر کا مجسمہ مارا تھا۔ اس پر تمہاری انگلیوں کے نشان ہوں گے۔ فریڈ نے تمہیں بچانے کے لیے البرٹ کو گولی مار دی اور بعد میں دو پولیس والوںکو تم یہ ایک لاکھ ڈالر لینے کیوں گئے تھے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’یہ سب بے بنیاد بکواس ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے سگریٹ پیر سے مسلتے ہوئے کہا۔
’’تم اسے بکواس کہہ سکتے ہو مگر یہ بے بنیاد نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس کا ثبوت ہے۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا۔
کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں، تم مجھے پھنسانا چاہتے ہو، مگر تم خود پھنس جائو گے۔‘‘
’’ڈاکٹر۔‘‘ میں نے کہا۔
’’وہ ایک لاکھ ڈالر کہاں ہیں۔‘‘
’’ایک لاکھ ڈالر، میں نے زندگی میں کبھی اتنی رقم دیکھی تک نہیں تم نے میرا بینک اکائونٹ دیکھا ہے؟‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ ’’میں ایک غریب ڈاکٹر ہوں۔‘‘
’’بینک اکائونٹ تو کسی بھی نام سے ہوسکتا ہے مگر خیر یہ بتائو کیا تم نے وہ تین قتل بھی کیے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’یا فریڈ بے گناہ مارا گیا۔‘‘
’’میرا خیال ہے فضول باتوں سے کوئی فائدہ نہیں، مجھے صرف یہ اطمینان ہے کہ میں پولیس کی تحویل میں ہوں اور تم مجھے کہیں قتل کرنے نہیں، لے جا رہے ہو۔‘‘ وہ ہنسا۔ ’’مگر ممکن ہے تم یہ سب ریکارڈ کر رہے ہو، میں اب اپنے وکیل سے مشورہ کیے بغیر ایک لفظ نہیں بولوں گا۔‘‘
’’ڈاکٹر جورڈن، میں ڈاکٹر برنارڈ ہوں، سٹی سینٹرل اسپتال میں سرجن ہوں، جہاں تک مجھے یقین ہے کہ تم قتل کے الزام سے محفوظ ہو، لیکن البرٹ ڈیوڈ سن لے گھر سے ایک لاکھ ڈالر لے جانے کا الزام تم پر ثابت ہے اسے زخمی کرنے پر اقدام قتل کا الزام بھی آسکتا ہے۔‘‘
جورڈن باہر دیکھتا رہا وہ بالکل مطمئن اور پر سکون تھا اور اپنی بے نیازی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا کہ اسے ہماری باتوں کی بالکل پروا نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر جورڈن چند منٹ کی بات اور ہے اس کے بعد تمہاری یہ اداکاری کی صلاحیت باقی نہ رہے گی۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’تم اپنی زبان سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے۔‘‘ جورڈن کے چہرے کا رنگ بدلا دار کاری ثابت ہوا تھا۔
’’جو ثبوت ہم پیش کریں گے ناقابل تردید ہوگا اور تمہارے اقبال جرم کے گواہ بھی جھٹلائے نہ جاسکیں گے۔‘‘ سگریٹ جورڈن کے ہاتھوں میں کانپنے لگا مگر وہ خاموش رہا مگر اس کی حالت کے تغیر نے مجھے بڑا سکون بخشا ہم نے کوئی غلطی نہیں کی تھی، غلط آدمی کو نہیں پکڑا تھا سوائے گورنر کے مگر وہ مجبوری تھی شاید وہ معاف کردے۔
ملٹری ائر پورٹ سے اپنی ہی کار میں روانہ ہوئے جو اب تک وہیں کھڑی تھی جہاں ہم نے اسے چھوڑا تھا۔ پولیس کی رخصت ہونے کے بعد معاملات پھر ہمارے ہاتھ میں تھے۔
’’برنارڈ میں ڈرائیو کرتا ہوں تم اس کے ساتھ بیٹھو اگر یہ کوئی حرکت کرے تو سوچے سمجھے بغیر گولی مار دو، مگر ٹھہرو۔‘‘ میں نے اپنی جیب سے رومال نکالا۔
’’میں اس کے ہاتھ باندھ دیتا ہوں۔‘‘
’’اس سے آسان یہ ہے۔‘‘ برنارڈ نے پھر ایک بار سر پر پستول کا دستہ مارنے کی کوشش کی مگر وہ بچ گیا اس نے اپنے ہاتھ پیچھے کرلیے اور میں نے انہیں ملا کر مضبوطی سے باندھ دیا میں نے اسٹیئرنگ سنبھال لیا جورڈن میرے ساتھ بیٹھ گیا برنارڈ پچھلی سیٹ پر پستول لے کر بیٹھا کار اسپتال کی طرف روانہ ہوگئی۔
’’تم اب مجھے کہاں لے جا رہے ہو، پولیس کہاں گئی۔‘‘ جورڈن نے تشویش سے پوچھا۔
’’ہم تمہیں قتل کرنے لے جا رہے ہیں پولیس گواہ بننا نہیں چاہتی تھی۔‘‘ برنارڈ نے کہا۔
رات کے دو بجے کار سٹی سینٹرل اسپتال کے دروازے سے اندر داخل ہوگئی، اس وقت تک گورنر کو قید ہوئے ساڑھے تین گھنٹے گزر چکے تھے۔ صدر دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی جورڈن ٹھٹک گیا۔ استقبالیہ پر پولیس لیفٹیننٹ کھڑا تھا۔ ایک تاریک کاریڈور کے آہنی دروازے پر دو سارجنٹ ایستادہ تھے۔ میں نے جیب سے چابی نکال کر تالا کھولا استقبالیہ کی نرس سب سے پیچھے ڈاکٹر برنارڈ کو پستول لیے دیکھ کر حیران کھڑی تھی۔ ڈسٹرکٹ اٹارنی، گورنر، یہ شخص جس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور برنارڈ پولیس اور یہ راز داری اس نے سوچنا شروع کیا یہ کیا چکر ہے۔
ہال کا دروازہ کھولتے ہی بدبو کا اتنا شدید بھبکا آیا کہ میرا دماغ چکرا گیا مائیکل اسی طرح دروازے کے قریب پستول لیے اسٹول پر بیٹھا تھا۔ گورنر کمرے کے آخری کنارے پر بدبو سے بچنے کے لیے ناک پر رومال رکھے بیٹھا تھا کمرے میں گھستے ہی میں نے دروازہ پھر بند کردیا۔
’’مائیکل۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں اب یہاں بیٹھوں گا باقی کام تمہارا ہے۔‘‘جورڈن نے ایک نظر ہال پر ڈالی اور اس کا رنگ زرد پڑ گیا وہ ڈاکٹر تھا اس کے لیے یہ سارا نقشہ سمجھنا مشکل نہیں تھا گورنر اٹھ کر قریب آگیا۔
’’مسٹر گورنر۔‘‘ مائیکل نے کہا ’’ایک مہمان آیا ہے۔‘‘ خلاف توقع گورنر کا موڈ خراب نہیں تھا۔ اس نے غور سے جورڈن کو دیکھا۔
’’ڈاکٹر جورڈن یہ سر ملا حظہ فرمایا آپ نے۔‘‘ مائیکل نے کہا جورڈن نے کوئی جواب نہیں دیا وہ آپریشن ٹیبل پر پڑے گلے سڑے جسم اور اس کے سامنے شیشے کے مرتبان میں معلق فریڈ کے سر پر نظریں جمائے کھڑا تھا آہستہ آہستہ اس کی نظریں تاروں اور ٹیوبوں سے ہوتی ہوئی مشین پر گئیں، اس نے خون کو گردش میں دیکھا اور سب کچھ سمجھ گیا۔ روسی ڈاکٹر کے آپریشن کے تجربے سے عام لوگ بھی واقف تھے۔ وہ تو ایک ڈاکٹر تھا صرف اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ آپریشن اس کے اپنے سالے کے سر پر کیا گیا ہے۔
مائیکل نے ایمپلی فائر کو آن کیا ڈاکٹر برنارڈ نے ٹیپ ریکارڈ چلا دیا۔
’’فریڈ، تمہارے سامنے کون ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔
’’ڈاکٹر جورڈن آئی ایم سوری۔‘‘ فریڈ کے سر نے جواب دیا۔ مائیکل نے عمداً آواز زیادہ رکھی تھی جیسے ہی یہ آواز ہال کے اسپیکرز پر گونجی جورڈن پر اس کا شدید رد عمل ہوا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑ گیا وہ پلٹا اور بھاگنے کی کوشش کی مگر ڈاکٹر برنارڈ سے ٹکرایا۔
’’ڈاکٹر جورڈن یہ البرٹ ڈیوڈسن کا گھر نہیں ہے تم کہیں نہیں بھاگ سکتے۔‘‘ ڈاکٹر برنارڈ نے کہا وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط اور جورڈن سے قد میں چھ انچ لمبا تھا۔ ’’فریڈ تمہارا بہنوئی بھاگنا چاہتا ہے۔‘‘ مائیکل نے کہا۔ ’’اسے کہو سب کچھ صحیح صحیح بتا دے۔‘‘
’’جورڈن انہوں نے مجھے مجبور کردیا ہے بتا دو۔‘‘ فریڈ کے سر نے کہا۔
’’میں…!‘‘ جورڈن ہکلایا۔ ’’میں نے کچھ نہیں کیا میں نے کچھ نہیں کیا۔ ’’وہ پھر بھاگا برنارڈ نے اس کے پیروں میں ٹانگ اڑا دی۔ وہ دھڑام سے فرش پر گرا۔ اٹھا اور پھر بھاگا۔‘‘ مجھے جانے دو، وہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘‘
’’جورڈن، میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں قتل میں نے کیے ہیں تم ایک لاکھ ڈالر لوٹا دو۔‘‘ سارے اسپیکرز نے ایک ساتھ کہا۔
’’الزبتھ کو۔‘‘
’’نو۔‘‘ جورڈن چلایا۔ ’’یہ نہیں ہوسکتا وہ مر چکا ہے وہ نہیں بول سکتا۔‘‘
’’وہ بول رہا ہے مسٹر جورڈن۔‘‘ گورنر نے کہا۔ ’’وہ مرا نہیں ہے۔‘‘
’’وہ مر گیا ہے، مر گیا ہے۔‘‘ جورڈن نے دیوانوں کی طرح سر کے بال نوچتے ہوئے کہا۔
’’اب میں محفوظ ہوں کوئی مجھے نہیں پکڑ سکتا کوئی نہیں۔‘‘ وہ پھر دیوانہ وار بھاگا اور مجھے اس کا مقابلہ کرنا پڑا مائیکل اور برنارڈ اسے گھسیٹ کر پھر سر کے سامنے لے گئے، وہ مچلتا رہا ہاتھ اور ٹانگیں چلاتا رہا۔ اس نے مائیکل کے ہاتھوں پر کاٹ لیا۔ اس کے کپڑے پھٹ گئے۔ بالآخر برنارڈ اور مائیکل نے اسے اپنے شکنجے میں کس لیا۔ اس کشمکش میں ان دونوں کے چہروں پر خراشیں آئیں اور ان کی قمیص پتلون سے باہر نکل آئیں ٹائیاں لٹکنے لگیں بال بکھر گئے۔
’’گورنر۔‘‘ مائیکل نے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا۔
’’مائیکرو فون اٹھائو، فریڈ سے کہو اس رات کا سارا واقعہ پھر سنا دے۔‘‘ انہوں نے خونخوار جورڈن کو تھامنے میں ساری طاقت صرف کردی پھر گورنر نے مائیکرو فون اٹھایا۔
’’فریڈ جو کچھ تم نے ابھی بتایا ہے جورڈن کے سامنے دہرا دو، اس کے بعد ہم تمہیں کوئی تکلیف نہیں دیں گے۔ ہم تم سے اس تکلیف کے لیے معافی مانگتے ہیں، خدا بھی ہمارے گناہ کو معاف کرے۔‘‘ میں نے پستول جیب میں ڈالا اور جورڈن کے بالکل پیچھے آکر کھڑا ہوگیا تاکہ وہ بھاگنے یا خود کو چھڑانے کی کوشش کرے تو میں برنارڈ اور مائیکل کی مدد کرسکوں۔
’’گورنر جورڈن کو کلینک قائم کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت تھی وہ اور البرٹ ویت نام میں…!‘‘
میرا خیال ہے صرف ایک لمحے کے لیے غافل ہوگیا تھا اور شاید ہم سب کی کیفیت ایک جیسی تھی کہ ہم فریڈ کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کی طرف زیادہ متوجہ تھے اچانک جورڈن نے ایک جست لگائی اور ہماری گرفت سے نکل گیا۔ میں دروازے کی طرف بھاگا، اچانک میں نے ایک چھناکا سنا دو تین شعلے سے لپکے میں نے پلٹ کر دیکھا جورڈن اور گورنر گتھم گتھا تھے اور مرتبان فرش پر گر کر ٹوٹ گیا تھا۔ تاریں اور ٹیوبیں الگ ہوگئی تھیں۔ فریڈ کا سر فرش پر پڑا تھا خون اور پیرا فین بہہ رہے تھے پھر گورنر کا ایک مکہ جورڈن کے جبڑے پر پڑا اور وہ مشین پر جا گرا جس کے روشن نقطے اور لکیریں درہم برہم ہوگئی تھیں۔ فریڈ کے گرنے سے ڈائل اور اسکرین ٹوٹ گئے۔ آسلی اسکوپ کے پھٹنے سے ایک دھماکا ہوا پھر برنارڈ اور مائیکل جورڈن پر جا پڑے مشین الٹ گئی۔ گورنر نے میری طرف دیکھا۔ ’’مشین کو آف کرو۔‘‘ وہ چلایا۔ ’’انہیں کرنٹ لگ جائے گا۔‘‘ میں نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ ’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ میں نے کہا پھر میری نگاہ دیوار کے کونے میں دروازے کے ساتھ سوئچ بورڈ پر گئی سوچے سمجھے بغیر میں نے لیور کھینچ لیا سارا ہال تاریک ہوگیا۔
’’یو فول۔‘‘ گورنر نے چلا کر کہا۔ ’’یہ تم نے کیا کیا وہ دروازے سے نکل جائے گا۔‘‘
اسی وقت جورڈن دوڑتا ہوا مجھ سے ٹکرایا میں اس سے لپٹ گیا۔ ہم دونوں فرش پر گرے وہ پاگل ہو رہا تھا اس نے مجھے کسی جگہ سے کاٹ لیا، مجھے خدشہ تھا وہ باہر نکل جائے تب بھی نہیں بھاگ سکتا کاریڈور کے آخر میں لوہے کی جالی کا دروازہ مقفل تھا اور دو سارجنٹ مسلح پہرے پر کھڑے تھے مگر اس ہال کے اندر ہونے والے ڈرامے کے آخری سین کو بھی سب سے پوشیدہ رکھنا تھا۔ میں نے اس کے سر کو بالوں سے پکڑ کر اندھیرے میں دو مرتبہ فرش سے ٹکرایا۔ اتنی دیر میں گورنر نے لائٹر جلایا اور مین سوئچ آن کردیا۔ ڈاکٹر برنارڈ نے فوراً ایک الماری سے سرنج اور شیشی نکالی میں اور مائیکل جورڈن پر سوار رہے۔ اس کی چیخ و پکار اور وحشیانہ جدوجہد کے باوجود ڈاکٹر برنارڈ نے سوئی اس کے بازو میں داخل کردی چند لمحوں بعد وہ ساکت ہوگیا۔ ہم نے ایک طویل سانس لیا اور ایک دوسرے کی خستہ حالت کو دیکھا۔ سرکاری اعلان کے مطابق فریڈ کی سزائے موت جو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی تھی اگلے دن دے دی گئی مگر لاش ورثا کے حوالے نہیں کی گئی فریڈ کی آخری رسوم میں جو پانچ آدمی شریک ہوئے وہ مائیکل ڈاکٹر برنارڈ جیلر میں اور گورنر تھے پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد ہم بہت دیر تک سرنگوں اور شرمسار کھڑے رہے وہ آواز جو ہمیں دن رات پکارتی رہی تھی بلاتی رہی تھی بالآخر خاموش ہوگئی تھی دو دن تک ہم نے اس آواز کو ایک کمرے میں قید رکھا تھا تاکہ وہ دنیا کے کانوں تک نہ پہنچ سکے چنانچہ کسی کو یہ نہ معلوم ہوا کہ فریڈ جو پہلی بار بجلی کے ایک جھٹکے سے چند سیکنڈ میں ہلاک ہوگیا تھا دوسری بار کتنے عذاب سے گزر کر اڑتالیس گھنٹے میں مرا۔ اس کی بہن کو بھی نہیں جس کی خاطر اس نے دو بار موت کا یہ عذاب جھیلا تھا کیونکہ اخبارات میں جو خبر شائع ہوئی وہ بالکل مختلف تھی اس میں کہا گیا تھا کہ ملزم فریڈ نے جس پر تین افراد کے قتل کا الزام تھا آخری وقت میں گورنر، ڈاکٹر برنارڈ ایک پرائیویٹ سراغ رساں اور ڈسٹرکٹ اٹارنی کے سامنے قتل کے اصل اسباب بتاتے ہوئے اس ملزم کی نشاندہی کردی تھی جس نے مقتول البرٹ ڈیوڈ سن کو بلیک میل کر کے ایک لاکھ ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ کیلیفورنیا کا یہ ڈاکٹر فریڈ کا بہنوئی تھا اس نے یہ اقبال جرم گورنر کے سامنے ایک اسپتال میں کیا۔ ڈاکٹر جورڈن کو اس ذہنی صدمے نے پاگل کردیا جو اسے سٹی سینٹرل اسپتال کے متعفن ہولناک آپریشن تھیٹر میں آدھی رات کے وقت برداشت کرنا پڑا۔ عین اس وقت جب وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اسے ایک لاکھ ڈالر کی ملکیت حاصل ہوچکی اور اس کے بلیک میل کے جرم کا واحد گواہ افشائے راز کے بغیر دنیا سے رخصت ہو چکا فریڈ کا سر وہ بات کہنے کے لیے دوبارہ زندہ ہوگیا جو اس کی زبان سے مقدمے کے دوران نہ نکلی تھی ایک ماہ تک ذہنی امراض کے اسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ماہرین نے یہ رپورٹ پیش کردی کہ فوری طور پر اس کے ذہنی توازن کی بحالی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں چنانچہ گورنر کی درخواست پر بند کمرے میں تحقیقاتی عدالت کے سامنے اس مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی کیونکہ خصوصی صدارتی حکم کے ذریعے اس کی کارروائی کی اشاعت پرپابندی عائد کردی گئی تھی پریس یا پبلک کا کوئی نمائندہ وہاں موجود نہ تھا۔
پہلے گورنر کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ اس نے کہا ’’رات کے دس بجے کے قریب ڈسٹرکٹ اٹارنی ڈینس مائیکل اور پرائیویٹ سراغ رساں الفریڈ نے مجھ سے پریس کلب میں رابطہ قائم کیا میں وہاں ڈنر میں شریک تھا انہوں نے کہا ایک مجرم جسے میرے حکم سے سزائے موت دی جا چکی ہے اب اقبال جرم کرنا چاہتا ہے میں اسی وقت سٹی سینٹرل اسپتال پہنچا جہاں پولیس کمشنر کے حکم سے سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے ملزم نے جو بیان میرے سامنے دیا وہ ٹیپ کر لیا گیا تھا مگر وہ اس وقت زندہ نہیں تھا۔ ’’مائیکل ڈاکٹر برنارڈ اور میں ہم تینوں نے جو بڑے اطمینان سے یہ بیان سن رہے تھے ایک دوسرے کی طرف دیکھا گورنر نے اسپتال پہنچنے کے بعد کے واقعات لفظ بہ لفظ بیان کردیے بیان کے آخر میں گورنر نے وہ صدارتی حکم پڑھ کر سنایا جس کے مطابق اس مقدمے سے متعلق تمام مواد، دستاویزات گواہوں کے بیان ملکی امور کی راز داری کے قانون کے تحت ’’سرکاری راز‘‘ قرار دے دیے گئے تھے اور اس سے متعلق کوئی بیان دینا متعلقہ قانون کے تحت افشائے راز کے مترادف تھا جس کی سزا تھی۔
جیلر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم فریڈ کو سزائے موت دینے کے بعد لاش وارثوں کے حوالے نہیں کی گئی تھی اور موت کے دو دن بعد گورنر نے اسے طلب کر کے کہا تھا کہ ملزم کی موت کے بارے میں جو سرکاری اعلان جاری ہوگا وہ اس کی تردید نہیں کرے گا۔ اسی شام وہ ملزم کی تدفین میں شریک ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جس وقت ملزم کی لاش جیل سے لے جائی گئی جیل کا ڈاکٹر اس کی موت کے سرٹیفکیٹ پر دستخط کر چکا تھا مجھے یہ نہیں معلوم کہ اسے کہاں لے جایا گیا تھا۔‘‘
جس وقت جیلر کا بیان جاری تھا گورنر نے میرے کان میں آہستہ سے کہا۔
’’آئی ایم سوری الفریڈ میں حلف اٹھا کر جھوٹ نہیں بول سکتا تھا اور میں یہ بات صدر سے بھی پوشیدہ نہیں رکھ سکتا تھا چنانچہ میں نے ساری حقیقت سے مطلع کر کے ان سے یہ صدارتی حکم حاصل کرلیا تھا۔‘‘
’’میرا خیال ہے آپ نے ہم سب کا مسئلہ حل کردیا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
گورنر کے بیان کے بعد میرے اور مائیکل کے کہنے کے لیے کچھ نہ رہا تھا ہم نے محض گورنر کے بیان کی تصدیق کی ڈاکٹر برنارڈ نے ذرا تفصیل سے اس آپریشن پر روشنی ڈالی سب سے آخر میں فریڈ کا ٹیپ کیا ہوا بیان شروع ہوا۔
’’البرٹ ڈیوڈسن اور ڈاکٹر جورڈن نے کوریا کی جنگ میں کچھ وقت ایک ساتھ گزارا تھا البرٹ نے جو اس وقت فوج میں کیپٹن تھا ایک کوریائی لڑکی کی آبرو ریزی کی اور افشائے راز کے خوف سے اسے گولی مار دی۔ لڑکی شدید زخمی ہوئی اور اس کے والدین جانکنی کے عالم میں اسے ڈاکٹر جورڈن کے پاس لائے جو ریڈ کراس کے لیے خدمات انجام دے رہا تھا جورڈن لڑکی کو نہ بچا سکا لیکن اس نے لڑکی کا اور اس کے والدین کا نام لکھ لیا۔ ریڈ کراس اسپتال کے ریکارڈ میں بھی یہ بات درج کی گئی کہ ایک امریکی فوجی افسر نے آبر ریزی کے بعد ایک کوریائی لڑکی کو قتل کردیا۔ اس فوجی افسر کا نام صرف جورڈن کو معلوم تھا یا اس لڑکی کے والدین کو جن کے گھر میں جائے واردات پر البرٹ اپنا پرس اور شناختی کارڈ چھوڑ کر بھاگ گیا تھا مگر اس وقت جورڈن صرف ایک امریکی تھا جس نے دوسرے امریکی کو رسوائی سے بچانے کے لیے لڑکی کے والدین کو ڈرا دھمکا کر بھگا دیا کہ وہ اس فوجی افسر کا نام نہ لیں ورنہ مصیبت میں پھنس جائیں گے اور ممکن ہے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ ایک ماہ بعد جورڈن نے انہیں بلا کر بتایا کہ وہ نوجوان افسر مارا گیا ہے بات ختم ہوگئی۔
امریکہ واپس آجانے کے بعد البرٹ نے فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا جورڈن نے مزید تین سال ریڈ کراس کے لیے خدمات انجام دیں اور پھر وطن واپس آکر میری بہن الزبتھ سے شادی کرلی۔ اس وقت تک البرٹ خاصی سیاسی شہرت حاصل کر چکا تھا دولت مند ہوگیا تھا اور امریکہ کا صدر بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ جورڈن کو پریکٹس شروع کرنے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی اس نے البرٹ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور دو لاکھ ڈالر کا مطالبہ کیا۔ ریڈ کراس میں اس کے پاس اس جرم کا ریکارڈ تھا لڑکی کے والدین زندہ تھے اور ان کے پاس البرٹ کا پرس اور شناختی کارڈ بھی ضرور ہوگا۔ جورڈن کا ایک بیان البرٹ کے بے داغ سیاسی اور ذاتی کردار کو تباہ کر سکتا تھا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی تھی مگر البرٹ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ جورڈن کا وجود اس کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے اور دو لاکھ ڈالر ادا کردینے سے خطرہ ٹل تو جائے گا مگر باقی رہے گا اس نے جورڈن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک لاکھ ڈالر کی پیش کش کی جسے جورڈن نے قبول کرلیا۔ وقوعہ کی شب جورڈن نے مجھے اپنے ہمراہ لے لیا اور مجھے ایک بھرا ہوا پستول دے کر تاکید کی کہ میں حتی الامکان اس کا استعمال نہ کروں۔ البرٹ نے اپنے بیوی بچوں کو عمداً کینیڈا بھیج دیا تھا اور نوکروں کو چھٹی دے دی تھی مگر مجھے جورڈن کے ساتھ دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی شاید اسی وقت اس نے ہم دونوں کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا اس نے سب سے پہلے اپنا پرس اور شناختی کارڈ طلب کیا مگر جورڈن نے کہا کہ وہ پہلے ایک لاکھ ڈالر لا کر میرے حوالے کردے مجبوراً البرٹ نے سیف سے رقم نکالی جو غالباً اس نے ہنگامی ضرورت یا کسی اور مقصد کے تحت گھر میں رکھ چھوڑی تھی مگر میں نے اسے سیف سے پستول نکالتے ہوئے بھی دیکھ لیا۔ جورڈن نے مجھ سے کہا کہ میں رقم گن کر بریف کیس میں رکھ لوں۔
’’البرٹ۔‘‘ جورڈن نے کہا۔
’’شناختی کارڈ اور پرس میرے پاس نہیں ہیں اس کوریائی لڑکی کے والدین کے پاس ہیں یا نہیں۔ یہ مجھے نہیں معلوم۔‘‘
البرٹ حیران رہ گیا۔ ’’پھر تم کس بات کے ایک لاکھ ڈالر مانگ رہے ہو؟‘‘
’’صرف اپنی زبان بند رکھنے کے ریڈ کراس کے ریکارڈ کا اس لڑکی کے والدین کو علم نہیں ہے۔‘‘
جورڈن نے کہا۔ ’’وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ تم مر چکے ہو میں نے انہیں بتایا تھا۔‘‘
’’جورڈن بلیک میلنگ میں انسان کی زبان بند کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کافی نہیں ہوتے اس کی زبان کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کے لیے دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔‘‘ البرٹ نے سرد لہجے میں کہا۔
’’اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی میں پیشہ ور بلیک میلر نہیں ہوں ڈاکٹر ہوں۔‘‘ جورڈن نے کہا۔ ’’تم میری زبان پر اعتماد کرسکتے ہو۔‘‘
’’سوری ڈاکٹر۔‘‘ البرٹ نے کہا۔ ’’یہ اعتماد کا سودا نہیں ہے رقم واپس کرو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے پستول نکال لیا۔ جورڈن کچھ دیر اسے حیرت سے دیکھتا رہا ’’اوکے۔‘‘ اس نے میرے ہاتھ سے بریف کیس لیتے ہوئے کہا’’اپنی رقم لے لو مگر بہتر ہے ہمیں جانے دو کیونکہ ہم الزبتھ کو سب کچھ بتا کر آئے تھے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں اگر تم نے ہمیں قتل کردیا تو صبح تک بہر صورت پکڑے جائو گے اور اس کے ساتھ ہی تمہارا مستقبل ختم ہوجائے گا اگر تم نے ہمیں جانے دیا تو یہ ایک لاکھ ڈالر بچا کر بھی اپنے سیاسی مستقبل کو نہ بچا سکو گے تمہارے لیے سب سے محفوظ راستہ ان ایک لاکھ ڈالر سے دستبردار ہو کر میری زبان پر اعتماد کرنے کا ہے۔‘‘
البرٹ چند سیکنڈ تک پستول ہاتھ میں تھامے سوچتا رہا، اچانک جورڈن نے بریف کیس اس کے ہاتھ پر پھینک دیا۔ پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا پڑا۔ وہ اسے اٹھانے لپکا اور جورڈن نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے مار مار کر ایک دوسرے کا برا حال کردیا۔ ان کے چہرے سوج گئے اور آنکھوں کے گرد نیل پڑ گئے انہوں نے سارا فرنیچر الٹ دیا کمرے میں رکھی ہوئی شیشے کی چیزوں کو چکنا چور کردیا مگر میں نے ہدایات کے مطابق مداخلت نہیں کی۔ آخر میں جورڈن نے سنگ مر مر کا وینس کا مجسمہ اس کے سر پر مارا جس سے وہ گر پڑا میرا بہنوئی سمجھا کہ وہ مر گیا مگر میں نے اسے گرتے ہی فرش پر پڑے ہوئے پستول کی طرف ہاتھ بڑھاتے دیکھ لیا اور اپنے پستول سے دو فائر کر کے اسے مار ڈالا۔ اگر میں ایک سیکنڈ کی تاخیر کرتا تو وہ جورڈن کو قتل کردیتا جورڈن اسی وقت بریف کیس لے کر نکل گیا میں صرف اس لیے رکا تھا کہ وہاں سے اپنی موجودگی کے نشان مٹا دوں اور کوئی سراغ نہ چھوڑوں مگر اتنی دیر میں پولیس آگئی کسی ارادے کے بغیر میں نے انہیں بھی مار دیا۔ مگر اسی وقت ان کا تیسرا ساتھی ریوالور لیے نمودار ہوگیا۔ اس وقت میرا پستول خالی تھا میں پکڑا گیا مگر مجھے خوشی تھی کہ جورڈن بچ کر نکل گیا۔‘‘
شاید آپ اس سناٹے کا تصور نہیں کرسکتے جو اس وقت عدالت کے اس مختصر سے کمرے پر چھایا ہوا تھا بیان ختم ہوگیا مگر خالی ٹیپ چلنے کی سرسراہٹ باقی رہی، بالآخر ڈاکٹر برنارڈ نے ٹیپ ریکارڈ بند کردیا ہمارا خیال تھا اس کے ساتھ ہی کارروائی بھی ختم ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا، خصوصی عدالت نے ایک مردہ انسان کے بیان کو قانونی گواہی تسلیم نہیں کیا۔ صدر کے اس حکم کو تسلیم نہیں کیا جس کے ذریعے مقدمے کی کارروائی کی اشاعت پر پابندی لگائی گئی تھی اور مقدمہ فیڈرل کورٹ کو بھیج دیا فیڈرل کورٹ نے صدر کے حکم کو غیر آئینی سمجھتے ہوئے کالعدم قرار دیا اور مقدمہ کی تمام روداد پریس کو اشاعت کے لیے دے دی گئی، بے شک ایک سال بعد خود جورڈن نے اقبال جرم کرلیا اور فریڈ کے بیان کی تصدیق کردی جس کے نتیجے میں اسے خاصی لمبی مدت کی سزا ہوگئی لیکن اس کے اور بھی بہت سے نتائج نکلے ہیں مائیکل اور ڈاکٹر برنارڈ بھی اندر ہوگئے۔ گورنر کو حبس بے جا میں رکھنے کے جرم میں، جورڈن کو غیر قانونی طریقے پر اغوا کرنے اور حبس بے جا میں رکھنے کے جرم میں اور اقبال جرم کرانے کے غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کے جرم میں وغیرہ وغیرہ گورنر کا سیاسی مستقبل بھی اس ڈرامے میں ملوث ہونے کی وجہ سے تباہ ہوگیا جسے پریس اور پبلک نے غیر انسانی قرار دیا۔ صدر امریکا کو روسی سرجن اور حکومت سے رسمی طور پر معافی مانگنی پڑی کہ امریکی ڈاکٹر اور پولیس نے ایک اخلاقی معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ مقدمہ کی اشاعت کو روکنے کے حکم پر دستخط کرنے کے باعث ان کے آئندہ صدارتی انتخابات میں جیتنے کے امکانات بھی معدوم ہوگئے۔ فریڈ نے میرا مطلب ہے اس کے سر نے ٹھیک کہا تھا۔ ’’میرے ساتھ تم سب بھی تباہ ہوجائو گے۔‘‘ اس نے ہمیں تباہ کردیا ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close