Naeyufaq Apr-16

ملاقات(زرین قمر)

نادیہ احمد/سحرش فاطمہ

سحرش فاطمہ: السلامُ علیکم آپا کیسی ہیں آپ؟ آپ کو یہاں خوش آمدید!
یہ بتائیں اپنی ایسی کوئی تحریر جسے لکھتے ہوئے دکھی ہوں؟ کسی اور کی تصنیف جسے پڑھ کر آب دیدہ ہوئی ہوں؟
اب تک آپ کے جتنے افسانے اور ناولز آئے ان میں سے آپ کو کونسا ذاتی طور پر پسند ہے؟
کوئی کردار جو خود سے منسلک کریں؟
کون کون سے مصنفین کو پڑھتی ہیں؟ کوئی پسندیدہ مصنف اور تصنیف؟ نئے لکھنے والوں کو کیا میسج دینا چاہیں گی؟
زرین قمر: وعلیکم اسلام۔شکریہ آپ سب کا۔الحمدُ للہ ٹھیک ٹھاک۔
ایسی بیشمار تحاریر ہیں کسی ایک کا نہیںبتا سکتی۔
میرے اب تک جتنے افسا نے اور ناولز آے ہیں ان میں سے مجھے گزشتہ ماہ نئے افق میں شائع ہونے والا ناول تلاش سحر پسند ہے خود سے کوی کردار منسلک نہیں کرنا چاہتی خاص طور سے کسی ایک مصنف کو نہیں پڑھتی جو کہانی اچھی محسوس ہو وہ پڑھتی ہوں اس طرح زیادہ لوگوں کو پڑھنے کا مو قع ملتا ہے۔
سحرش فاطمہ:آپ کو کہانیاں لکھنے کا شوق کب اور کیسے ہوا؟
زرین قمر: بچپن میں جب پڑھنا سیکھ رہے تھے تو اردو کو امپروو کرنے کے لیے چھوٹی چھوٹی کہانیاںپڑھتے تھے اس سے ہی لکھنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا۔
سحرش فاطمہ : پہلی کہانی کب اور کہاں چھپی؟
زرین قمر: میںنے اپنی پہیلی کہا نی 1969میں نو نہال کراچی میں لکھی اس کا نام موتی کی تلاش تھا۔
سحرش فاطمہ: آج کل کی رائٹرز اور ریڈرز کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی؟ کبھی ٹی وی کے لئے لکھا؟
زرین قمر:آج کل کی رائٹرز کے بارے میں میں یہی کہوں گی سحرش کہ ماشا اللہ سب بہت اچھا لکھ رہی ہیں اور اگر کسی نئی رائٹر کے کام میں کہیں کوئی کمی ہو تی ہے تو ڈائجسٹوں کی انتظا میہ اس کی نوک پلک سنوار کر ان کی رہنمائی بھی کرتی ہے اور حو صلہ افزائی بھی میں نے ٹی وی کے لئے تو نہیں لیکن ریڈیو کے لئے کافی لکھا ہے ۔
سحرش فاطمہ: نئے افق کی کوئی خاص بات؟
زرین قمر: نئے افق کی خاص بات یہ ہے کہ آپ اس میں پیار محبت کی کہا نیوں کے علا وہ گلو بل مسائل پر بھی کہانیاں لکھ سکتے ہیں۔
سحرش فاطمہ: ریڈیو سے متعلق کوئی یاد ہم سے شیئر کرنا چاہیں گی؟
زرین قمر: ضرور سحرش میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ریڈیو اسٹیشن کراچی جوائن کیا تھا گئی تو بزم طلبہ پروگرام کے مو سیقی کے مقابلے میں تھی جس میں پورے کراچی کے کا لجز کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا میں نے سیکنڈ انعام حاصل کیا تھا وہ مشہور شاعر صہبا اختر کا نغمہ تھا جو انہوں نے خاص طور سے میرے لئے لکھا تھا بعد میں یہ نغمہ مزدور بھائیوں کے پروگرام کے علاوہ دوسرے پروگراموں میں بھی براڈ کاسٹ ہوا تھا اس کے بعد میں نے ریڈیو پر1973 سے 1993 تک پروگرام کئے ان میں خبریں میوزک انٹرویوز تبصرے صبح نو پروگرام کے اسکرپٹ شامل ہیں میرے زمانے میں ایک خاص بات یہ تھی کہ ریڈیو یا ٹی وی کا کوئی پروگرام بغیر تلفظ کی غلطیاں درست کئے آن ائیر نہیں جا تا تھا
سحرش فاطمہ: جیسا کہ آپ فنِ مصوری میں بھی ہیں اور گلوگارہ بھی دونوں فیلڈمیں کیسا پایا خود کو اور مصوری میںکون سا میڈیم پسند ہے؟ مزے کی بات بتاؤں میں نے بھی دو سالہ کورس کیا ہوا ہے مجھے آئل پیننٹس کبھی پسند نہیں آئے۔
آپ کو کیا پسند ہے؟ کوئی نمائش ہوئی اب تک؟
زرین قمر: میں نے با قاعدہ مصوری کا کوئی کورس نہیں کیا سحرش دراصل یہ اللہ کی دین ہی کہوں گی مجھے خود بھی اپنی اس صلا حیت کا پتہ نہیں تھا ہوا یوں کہ ایک بار میں نے اسکول میں ایک بچے کو سر سید احمد خان کی تصو یر بنانے کے لئے دی جب وہ بنا کر لایا تو اس میں مجھے کچھ غلطیاں محسوس ہوئیں میں نے وہیں کلاس میں بیٹھے بیٹھے پینسل اور ربر لے کر اسے درست کر نا شروع کردیا پیر یڈ ختم ہونے سے پہلے تصویر بن گئی کیونکہ دور سے کلاس کی طرف آتی ہوئی ایک ٹیچر نے پوچھا کیا سر سید احمد خان بنائے ہیں سب نے بہت تعریف کی پھر میں نے کئی لوگوں کی تصاویر بنائیں ان میں میرے اسکول کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی کو سٹ گارڈ بر یگیڈ یر محمو د بھی شامل ہیں جب میں نے انھیں تصو یر پیش کی تو وہ بہت حیران ہوئے تھے۔
امیر نذیر بلوچ: السلام علیکم، آپ سے پہلا سوال: آپ نے غزہ اور کشمیر جیسے اہم موضوعات کو سپرد قلم کیا ہے تو کیا آپ سمجھتی ہیں کہ صرف قلم سے ان سلگتے ایشوز کو حل کیا جا سکتا ہے؟ دوسرا سوال: موجودہ معاشرے میں خواتین رائٹرز کو آپ کہاں دیکھتی ہیں یعنی ان کا کردار کتنا کارگر رہا ہے مسائل کے حل کی جانب؟
زرین قمر: امیر نذ یر آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ میںنے غزہ پر لکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ یہ بھی جہاد کی ایک قسم ہے کہ اگر میں محاذ پر جا کر غزہ کے لوگوں کے ساتھ دشمن سے لڑنے میں ان کی مدد نہیںکر سکتی تو ان کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اس کے بارے میں دنیا کو بتا تو سکتی ہوں اور اس کے لیے بھی میں مشتاق احمد قر یشی صا حب کی ممنون ہوں کہ انہوں نے مجھے یہ مو قع فراہم کیا ورنہ ہمارا میڈیا تو اس بارے میں خا مو ش ہے۔
آپ کے دو سرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نئی قلمکار بہنیں اچھا لکھ رہی ہیں بس اپنی تحریروں میں عشق و محبت کے افسا نوں کی جگہ کچھ ایسے مسائل بھی شامل کر لیں جو آج انسا نیت کے لیے عذاب بنے ہوے ہیں ان میں لکھنے کی صلاحیتیں بہت ہیں۔
امیر نذیر بلوچ: ریڈیو پاکستان سے بھی آپ وابستہ رہیں تو وہاں کا تجربہ کیسا رہا؟
آپ نے زیادہ تر ایکشن میگزینز میں لکھا ہے جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے تو اس حوالے سے کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
گلوکاری کا شوق کب اور کیسے ہوا؟ اور ذاتی طور پر کیا گانا پسند کرتی ہیں مثلا غزل ،گیت یا کلاسیکل وغیرہ؟
مغربی ادب سے تراجم کرتے وقت کن باتوں کا خیال از حد ضروری ہے؟
زرین قمر: مجھے جو تجربہ ہوا وہ بہت اچھا تھا اتنا اچھا کہ میںنے 1973 سے 1985 تک پروگرام کئے جن میں خبر یں میوزک انٹرویوز تبصرے سب شامل تھے بہت سے پروگرام تو لائیو ہوتے تھے آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ نہیں مجھے کہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا دراصل جب آپ اپنے کام سے مخلص ہو تے ہو اور دوسروں کی عزت کر تے ہو دوسروں کے کام کی تعریف کرتے ہو تو مخالفت کے بجائے آپ کو پزیرائی اور رہنمائی ملتی ہے مخالفت نہیں آپ لوگوں کو آ گے جانے کا راستہ دیں لوگ آپ کو آگے جانے کا راستہ دیں گے گلوکاری کا شوق بچپن سے تھا گانوں میں گیت اور غزل زیادہ پسند ہے اور مغربی ادب سے تراجم کرتے وقت ضروری بات یہ ہے کہ کہا نی کو اگر آپ ایڈاپٹ کر رہے ہیں تو اپنے رسم و رواج اور سوسائٹی کے تقا ضوں کو مد نظر رکھیں اور اگر صرف تر جمہ کر رہے ہیں تو جس ز بان اور معا شرے کی کہانی ہے اسے مسخ نہ ہو نے دیں اور آسان اور عام فہم زبان استعمال کریں۔
انمول اعوان: کیا کبھی آپ کو ایسا لگا زندگی میں کہ اپنا قلمی سفر جاری نہیں رکھ پائیں گی۔ پھر بھی حالات کا مقابلہ کیا ہو؟
زرین قمر:جی انمول ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب میں نے کچھ عر صے کے لیے لکھنا چھوڑ دیا تھا تب میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا اور مجھے ملازمت کرنا پڑی تھی آپ بھی جانتی ہونگی کہ صرف کہا نیاں لکھنے سے گھر نہیں چلا یا جاسکتا چنا نچہ میںنے لکھنا چھوڑ کر ملازمت کی اور اب 14سال بعد پھر اس دنیا میںواپس آگئی ہوں۔
انمول اعوان: آج کل میں لکھنے کی کوشش کررہی ہوں لیکن ایک پیراگراف بھی ٹھیک سے نہیں بن رہا مجھ سے۔ اب تو حوصلہ ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔
زرین قمر: میرا مشورہ ہے کہ کچھ دن لکھنا چھوڑ کر اچھے لکھاریوں کو پڑھیں۔
انمول اعوان: اچھے لکھاریوں کی تحریر پڑھ کر ان پر تبصرہ لکھنا چاہتی ہوں ، لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ لکھوں کیا؟ایک تبصرہ ہی نہیں لکھ پائی۔
زرین قمر: انمول پہلے لکھنا سیکھیں پھر لکھنے والوں پر تبصرہ کریں۔
صداقت حسین ساجد:آپ کی ترجمہ کر دہ تحریر اغوا برائے تاوان کس ادیب کی ہے؟
زرین قمر: یہ ایک انگریزی ناول nigotiator Theکا ترجمہ ہے اور اس کے رایٹر ہیں fredrickforsyth
صداقت حسین ساجد:آپ اپنی کالج لائف اور یونی ورسٹی لائف کے بارے میں بتانا پسند کریں گی؟
زرین قمر: جی ہاں صداقت کالج میںپڑھائی کے علاوہ میں نے Co curricular activities میںبھی حصہ لیا میں اپنے کالج کی طلبہ یونین کی صدر تھی میں نے اپنے کالج میں ہفتہ طلبہ منعقد کروایا تھا جس میں اس وقت کی ملک کی مشہور شخصیات کو مدعو کیا تھا۔
بیگم رعنا لیا قت علی خان اس وقت کی گورنر سندھ جن کے بائیں جانب میں بیٹھی ہوں اس مو قع پر مجھے چار بہتر ین کارکردگی کے انعا ما ت ملے تھے اور بیگم رعنا لیاقت علی نے خاص طور سے اپنی طرف سے سر ٹیفکیٹ عطا کیا تھا۔
یاسین صدیقی:آپ سب سے زیادہ کس مصنف سے متاثر ہیں صرف دو نام۔
زرین قمر:اپنے زمانے کے لکھنے والوں میں ایک مشتاق احمد قریشی صاحب سے متاثر ہوں ان کی مذہبی تحریریں بہت جامع اور سبق آموز ہو تی ہیں اور دوسرے اظہر کلیم صا حب تھے جن کو کہانی کی بنت پر بڑی دسترس تھی۔
قاری ابو بکر:آپ کی کوئی ایسی یادگار تحریر جو آپ کو کبھی نہ بھولی ہو؟
زرین قمر:جی غزہ کی سسکیاں۔
قاری ابو بکر:نئے افق میں کس موضوع پر سب سے زیادہ لکھا؟
جرم و سزا ‘ سپنس‘ فکشن وغیرہ
زُہرہ نور:السلامُ علیکم، ایک بہترین لکھاری کی کیا خصوصیات ہونی چاہیئں؟
زرین قمر: وعلیکم السلام زہرہ نور ایک اچھے قلمکار کی خصو صیت یہ ہونا چاہیے کہ جو لکھے سچ ہو اور دلوں کو چھو لینے والا ہو۔
رابعہ عمران چوہدری: میں یہ پوچھنا چاہوں گی کہ ایک رائٹر کو بھی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیا آپ اپنی مشکلات کو بھی افسانے،ناول کے ذریعے اپنے قارئین سے شیئر کرتی ہیں اور آپ کو کون سا ناول پسند ہے اور اس کی وجہ؟ویسے تو ایک رائٹر کو اپنے لفظوں سے اتنی محبت ہوتی ہے جیسے ماں کو بچے سے‘ یہ میرا ذاتی خیال ہے تو کیا اس بات سے آپ متفق ہیں؟ اور بہت سی دعائیں۔
زرین قمر:شکریہ رابعہ میںبھی یہی سمجھتی ہوں کہ ہر تحریر مصنف کو پیاری ہو تی ہے میں نے کبھی اپنی مشکلات کو کہا نیوں میں بیان نہیں کیا یہ اور بات ہے کہ کہا نی میں کبھی ایسی مشکلات کا ذکر آیا جن کا کبھی میں نے سامنا کیا ہو تو اسے بیان کرنے میں زیادہ دلچسپی سے کام لیا مجھے اپنی کہانی تلاش سحر بہت پسند آئی جو جنوری 2016ء کے نئے افق میں شامل ہوئی ہے اور اس کی وجہ لیلی خالد کی بہادری اور اپنے وطن کو کافروں سے آزاد کروا نے کی لگن ہے
کنول خان: آپ کے خیال میں کیا لکھنا زیادہ مشکل ہے؟ شاعری یا پھر کہانی؟
کوئی ایسا کردار جس میں آپ کو اپنی جھلک نظر آتی ہو؟
زرین قمر: میںنے کبھی کسی کردار کا اپنے آپ سے مقابلہ نہیں کیا اس لئے اپنی جھلک کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی اس کے علاوہ Poetry یا story لکھنا ان کے لئے آسان ہے جن میں لکھنے کی صلا حیت ہو تی ہے اگر کسی کو لکھنے کی سمجھ ہی نہیں تو وہ poetry یا story کچھ بھی نہیں لکھ سکتا اور اس کے لئے دوسرے قلمکاروں کی تحریریں پڑھنا بہت ضروری ہے۔
محسن علی شامی: کسی بھی کہانی کی طاقت کون سی چیزوں پر قائم رہتی ہے؟
کیا آج رائٹر کی وہی اہمیت مل رہی ہے جو پہلے ہوتی تھی یا کچھ فرق پڑا ہے؟ اور کیا آج کے حالات میں لکھائی کو پروفیشن کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے؟
آپ کے پہلے اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ مرکزی خیال اچھا ہو مکالمے جاندار ہوں اور سسپنس آخر تک قائم رہے ایک اچھے مصنف کی اہمیت آج بھی پہلے جیسی ہی ہے اور آج کے دور میںلکھنے کو ذریعہ معاش نہیں بنایا جا سکتا آپ شوق کی حد تک لکھ سکتے ہیں۔
فیصان خورشید: کیا کہانی میں مشکل الفاظ ضروری ہیں؟ اگر کہانی ریجیکٹ ہوجائے تو کیا کرنا چاہئے؟
زرین قمر: فیضان خورشید کہانی میں مشکل الفاظ کا استعمال ضروری نہیں لیکن یہ اپنا اپنا انداز بیان ہے کچھ لوگ مشکل الفاظ استعمال کرنا پسند کر تے ہیں۔
اگر کہا نی مسترد ہوجائے تو دوبارہ اور محنت سے لکھنے کی کو شش کرنا چا ہئے۔
حنا مہر:محبت کے لئے آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟
زرین قمر:محبت کے لئے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بے لوث ہو جس سے آپ محبت کر تے ہیںاسے کبھی آز مائش میں نہ ڈالیں
حنا مہر:اپنی ذات کی خوبیاں اور تعریفی جملے سن کر کیسا محسوس کرتی ہیں؟
زرین قمر:بہت خو شی ہو تی ہے اور زیادہ اچھا کام کر نے کو دل چاہتا ہے میںنے کرن ڈائجسٹ میںجب ملک کی ما یہ ناز رائٹر فردوس حیدر کا انٹر ویو لیا تھا تو اسے بہت پسند کیا گیا تعر یف نے اتنی ہمت بند ھائی کے میں نے لگا تار کئی لوگوں کے انٹر ویوز کئے جن میں ملک کی ما یہ نا ز گلو کا رہ مہناز کا انٹر ویو بھی شا مل ہے اس وقت تک مہناز کا کوئی انٹر ویو کہیں شائع نہیں ہوا تھاکیو نکہ وہ کسی کو انٹر ویو نہیں دیتی تھیں میں نے انھیں بہت مشکل سے راضی کیا تھاپھر میں بھی ان کے ساتھ ریڈیو کے پروگراموں میں حصہ لیتی تھی ہماری دوستی نے بھی میرا کام آسان بنا یا تھا۔
حنا مہرـ:زندگی کب بہت اچھی لگتی ہے؟
زرین قمر:مجھے تو زند گی جب اچھی لگتی ہے جب آپ کسی ضرورت مند کے کام آ ئیں بغیر کسی صلے کی امید رکھے یقین جا نئے بہت خو شی ہو تی ہے ۔
حنا مہر:اچھی تحریریں لکھنے کے لیے کیا ضروری ہے؟
زرین قمر:مہر اس سوال کا جواب بھی دیا جا چکا ہے چلیں میں اپنے بارے میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاؤں جس کا خیال مجھے ابھی آ یا ہے اتفاق سے میں نے دو جگہ ملا زمت کی اور دونوں جگہ میں ان اداروں کی بنیاد رکھنے والوں کی ٹیم کا حصہ تھی آنچل کے پہلے شمارے کی سب ایڈیٹر کے طور پر محترم مشتاق احمد قر یشی صاحب کے ساتھ کام کیا جو میرے لئے ایک اعزاز ہے اور جب اسکول میںجاب کی تو وہاں اپا ئنٹ ہونے والی پہلی ٹیچر تھی اس وقت اسکول میں ایک بھی بچے کا داخلہ نہیں ہوا تھا یہ 1996 کی بات ہے اور جب میں نے اسکول چھوڑا تو وہاں 1500 بچے تھے۔
عروج فاطمہ :السلام علیکم‘ زرین قمرصاحبہ کیسی ہیں آپ؟ میرا سوال یہ ہے کے جب آپ کی تحریر پہلی بار شائع ہوئی تو آپ کو کیسا محسوس ہوا اور میں یہ کہنا چاہوں گی کے ایک اچھے رائٹر کو عاجزی اور انکساری کا پیکر ہونا چاہیے اور وہ آپ ہیں میں بتا بھی نہیں سکتی کے آج آپ سے بات کر کے مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے۔ (امین)
زرین قمر: آپ کی پذ یرائی کا شکریہ میں کچھ نہیں اصل میں اہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے قدم قدم پر میرا سا تھ دیا میں اس سوال کا جواب دے چکی ہوں کہ پہلی تحریر شائع ہو نے پر میرے جذ بات کیا تھے۔
عروج فاطمہ:میں شاعری بھی کرتی ہوں آپ کے لیے کچھ لکھا ہے۔
یاد رکھیں گے کچھ اس طرح سے ہم
ہر دعا میں نام پکارا کریں گے
زرین قمر:عروج آپ کے شعر کے جواب میں خاص طور سے آپ کے لئے ۔
آپ کی ہر دعا کے بد لے ہم
اپنی ساری وفا ئیں دے دیں گے
فہمیدہ انجم:السلام علیکم میم
میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا آپ کو کبھی ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا؟
کبھی بے جا تنقید ہوئی؟
کوئی ایسی تحریر جس کا توقع سے زیادہ رسپانس ملا؟
کوئی ایسا موضوع جس پر لکھنے کی خواہش ہو؟
کوئی ایسا شمارہ جس میں اپنی تحریریں پبلش کروانا زیادہ پسند ہو؟
آپ کی لائف کا کوئی انٹرسٹنگ واقعہ جو فینز سے شئیر کرنا چاہیں؟
ماشاء اللہ ہر فن مولا ہیں شاعرہ ، ناول نگار ، آرٹسٹ ٹیچر بھی ہیں کس فیلڈ میں کام کر کے زیادہ مزا آتا ہے؟
زرین قمر:آپ کی محبت کا شکریہ اتفاق سے مجھے کبھی ریجیکشن کا سا منا نہیں کرنا پڑا کیو نکہ میں نے لکھنا بعد میں شروع کیا اور پڑھنا پہلے بہت پڑھا ہر موضوع پر پڑھا اپنے سلیبس کے نوٹس بغیر کسی کی مدد کے لا ئبر یری میں بیٹھ کر مستند کتا بوں سے خود تیار کرتی تھی پر ان میں جو سب سے بہتر ہو تا اسے کسی اخبار میں شائع ہو نے کے لئے بھیج دیتی تھی پھر ریجیکشن کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا میں نے پہلا تحقیقی مضمون با بائے اردو مولوی عبدالحق پر لکھا تھا جو سلیبس کے لئے تھا جب لکھ لیا تو میں نے سوچا کہ کوئی اسے پڑھے اور مجھے پتہ چلے کہ کیسا لکھا ہے دوستوں نے تو تعریف ہی کر نی تھی چنانچہ میں نے سو چا کہ کسی اجنبی اور ماہر سے رائے لی جائے تو میں نے وہ مضمون روزنامہ جنگ میں بھیج دیااور ایک ہفتہ بعد وہ مولوی عبدالحق کی برسی کے موقع پر جنگ کے سرورق پر شائع ہوا اس وقت میں فرسٹ ائیر میں تھی اور مضمون میںنے ایڈوانس اردو کے سبجیکٹ کے لئے لکھا تھا یہی میری زندگی کا انٹریسٹنگ واقعہ بھی ہے اور نئے لکھنے والوں کے لئے ایک پیغام بھی کہ کس طرح ان کی تحر یر یں مسترد ہو نے سے بچ سکتی ہیں مجھے سب سے زیادہ نئے افق میں لکھنا پسند ہے اور الحمداللہ میں لکھ رہی ہوں۔
حرا طاہر: کیا حال ہے آپ کا؟
آپ ایک کامیاب انسان ہیں ما شاء
اللہ آپ کو مزید کامیابیوں سے نوازے آمین‘آپ کو ایسے فیس بک پر لوگوں کا ٹیلنٹ آزمانا چاہیے اور جو چھوٹے موٹے رائٹر ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہیے۔ اس سے پاکستان کے بڑے بڑے اچھے قلم کار سامنے آئیں گے۔
کوئی بھی ڈائجسٹ میں جتنا مرضی محنت کر کے افسانے بھیجو وہ اپنی مرضی سے پوسٹ کرتے ہیں بلکہ کچھ تو مہینا مہینا رپلائی بھی نہیں کرتے۔ اگرآپ اس معاملے میں کچھ کر سکتی ہیں تو پلیز۔
زرین قمر:والسلام!
حرا پریشان نہ ہوں میں نئے لکھنے والوں کی رہنمائی ضرور کروں گی یہ کام میں اس وقت بھی کرتی تھی جب میں نے آنچل سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا ایک سب ایڈیٹر کا کام صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ اچھی کہا نیاں منتخب کرے بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی کہانی میں کوئی کمی ہے تو اس کی نوک پلک سنوار کر اسے بھی شامل اشاعت کرے اس میں محنت تو ہو تی ہے لیکن رائٹر کو سیکھنے کو ملتا ہے اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے جس سے اس میں مزید لکھنے کا جذ بہ پیدا ہو تا ہے۔
ندا حسنین: میں جاننا چاہوں گی کہ آپ نے ماشاء اللہ بہت خوبصورت کام کیا مگر کیا ابھی بھی تشنگی رہ گئی ہے کہ کام ابھی بھی رہتا ہے؟ یا یوں کہیں کہ ایسا کون سا موضوع جس پر لکھنے کی ابھی بھی خواہش ہے؟ یا پھر جتنا لکھا وہ کم محسوس ہوتا ہو؟
زرین قمر:ندا میں بہت سے مو ضو عات پر لکھ چکی ہوں اور لکھ رہی ہوں مو قع کے حساب سے موضوع منتخب کرتی ہوں اتنے عرصے لکھنے کے باوجود یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہر موضوع پر لکھ چکی ہوں مو ضوع تو بے شمار ہیں لیکن اب بھی یوں محسوس ہو تا ہے کہ کچھ کمی ہے اور بہتر لکھنے کی خواہش ہے جی چا ہتا ہے کہ الفاظ ہاتھ باندھے سا منے کھڑے ہوں اور جیسے چاہوں استعمال کر تی چلی جاؤں لیکن ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے جو شاید ہمیشہ رہے لکھاریوں کی دنیا تو اک گہرا اور بیکراں سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں جب غو طہ لگا ئیں نئے جواہر ہا تھ آتے ہیں۔
ندا حسنین: کبھی الفاظ روٹھتے ہیں آپ سے؟ اگر روٹھ جائیں تو کیسی کیفیت ہوتی ہے آپ کی؟ کس طرح مناتی ہیں؟
زرین قمر:ندا آپ کا یہ سوال بہت اچھا ہے ایسا میرے ساتھ بہت کم ہوا لیکن جب ہوا تو بہت الجھن ہوتی تھی لاکھ یاد کرنے کے باوجود موقع کی منا سبت کا لفظ تحت الشعور میں ہونے کے باوجود قلم کی نوک تک آنے کو تیار نہ ہوتا تھا تو خود پر بہت غصہ آتا ایسے موقع پر کچھ دیر کے لئے کام چھوڑ دینے سے میرا مسئلہ حل ہو جاتا تھا ذہن کو تھوڑا آرام دیں تو لفظ یاد آجاتا ہے۔
ندا حسنین: آپ کو یہ فخر حاصل ہے کہ انتہائی مہربان اور معزز لوگوں سے ملاقات کا شرف پایا۔کس شخصیت نے اتنا متاثر کیا کہ اس کی شخصیت کے رنگ چرانے کا دل چاہا؟
زرین قمر:اس کا جواب ہے محترم اظہر کلیم صاحب جو نئے افق پبلیکیشن کا حصہ تھے جب میرے لئے اجنبی تھے میں نے آنچل جوائن کیا تھا تب سے وہ میری تحریروں پر بے باک تنقید کرتے تھے نقا ئص بتاتے تھے گر بتاتے تھے کہ کہانی میں قاری کی دلچسپی کیسے برقرار رکھی جائے میں ان سے بہت متاثر ہوئی وہ بے لوثی سے مشورے دیتے بھے عام لوگوں کی طرح ہنر کی باتیں چھپاتے نہیں تھے میں بھی ایسا ہی کرنا چاہتی ہوں
سحرش فاطمہ: زرین قمر صاحبہ آپ کا بے حد شکریہ ہمیں وقت دیا۔ نئے افق کے فیس بک کے آفیشل گروپ کے ایڈمنز اور ممبرز کے لئے کچھ کہنا چاہیں گی؟ اور نئے افق میں آپ کو پڑھنے والوں کے لئے کوئی پیغام؟
زرین قمر:میںیہی کہنا چا ہتی ہوں کہ اس گروپ کے ایڈ منز بہت محنتی اور اچھے ہیں وہ ہر کسی کے سوا لات کا جواب بہت خوش دلی سے دیتے ہیں اور لو گو ں سے بھی کہوں گی کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو اسے خوش دلی سے حل کر یں نئے افق پڑھیں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close