Naeyufaq Apr-16

اقرا

طاہر قریشی

۷
ترجمہ :۔ زمین اور آسمانوں میں جو بھی مخلوق ہے وہ اللہ کی ہے۔ اور جو (فرشتے) اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں- وہ دن ورات اس کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں۔ دم تک نہیں لیتے۔ (الانبیاء۔ ۱۹۔ ۲۰)
تفسیر:۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ تمام کائنات جس میں سیکڑوںکہکشائیں اپنے اپنے مدارمیں گردش میں ہیں جبکہ ہمیں تو صرف اپنی زمین وآسمان ہی نظر آتے ہیںیا وہ کہکشاں جس میں یہ زمین‘چاند‘سورج اور دیگر سیارے محوگردش ہیں یہ تمام نظامِ کائنات ایک ایسے قانونِ قدرت پر قائم ہے جس کے سبب تمام اجزائے کائنات کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور رابطہ قائم ہے۔ کسی بھی ایک جزو کائنات کی حرکت کل کائنات سے مربوط ومنسلک ہے اوریہ سب قانون ایک قانون نافذ کرنے والے‘قانون بنانے والے خالق کے ارادے واختیار کا مرہونِ منت ہے۔
اگر کہیں اس عظیم ترین کائنات کی تدبیر وقوانین بنانے والی ایک ہستی کی جگہ کئی اور ہستیاں ہوتیں تو متعدد قانون ساز اپنے اپنے قوانین نافذ کرتے‘ کیونکہ ارادہ کرنے والی ذات کامظہر کچھ اور ہوتا ہے اور کوئی قانون اور ضابطہ نافذ کرنے والی ذات کے ارادے کامظہر کچھ اور ہوتا ہے اور اگرایسا ہوتا تو کائنات کایہ مکمل نظام وانتظام کب کا بکھرچکاہوتا۔ اول تو اس سارے نظام میں ہم آہنگی‘یہ ربط وضبط کبھی پیدا ہی نہ ہوتا۔ اور کائنات میں آئے دن تصادم ہوتا رہتااور قیامت اس کی آفرنیش کے فو ری بعد ہی برپاہوجاتی۔چونکہ پوری کائنات کے عظیم ترین نظام کو ایک ہی ہستی اپنے اختیار وارادے سے چلارہی ہے اس اکیلیکی منصوبہ سازی وسارا انتظام واہتمام ہے یہ کائنات اپنے ایک اکیلے خالق ومالک کے اختیار وارادے کے مطابق سرگرم ِعمل ہے‘ اس سارے نظام سے سمجھنے والے بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا اور تمام کائنات کی ہر قسم کی تمام مخلوقات کا خالق ومدبر ایک ہی ہے۔ اسی لئے اس کے انتظام وانصرام میں‘ ساخت واختیار میں کبھی کوئی فساد برپا نہیں ہوتا‘یہی وجہ ہے کہ زمین وآسمان کی تمام مخلوقات اللہ کی بندگی اور حمدو تسبیح کرتی ہے اور تمام فرشتے جو اس مالک وخالق کے پاس ہیں وہ کبھی بندگی سے سرتابی نہیں کرتے نہ وہ بندگی سے ملول ہوتے ہیں‘ وہ تو رکے بغیر شب وروز ہردم اللہ کی تسبیح میں مشغول رہتے ہیں‘ نہ کبھی وہ کسی طرح کی برائی میں مبتلا ہوتے ہیں۔
زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے اس کا مکمل علم صرف باری تعالیٰ کو ہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہرچیز کا احاطہ کرسکتا ہے وہ علیم ہی انسانوں اور جنوں اور دیگر تمام مخلوقات کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔اہلِ ایمان کوحکم ہے جنوں اور فرشتوں پر ایمان لانے کا‘ لیکن ان دونوں کے بارے میں انسان صرف اس قدرہی جانتا ہے جس قدر خالقِ کائنات نے علم عطاکیاہے۔ہوسکتا ہے کہ ان دونوں کے علاوہ بھی کواکب ہیں کچھ اور ذی عقل مخلوق بھی ہوں‘ ان کی شکل وصورت اسی سیارے کے ماحول کے طبعی ماحول وحالات کے مطابق ہوں۔ یہ علم بھی اسی ذاتِ علیم اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہورہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لاتعداد مخلوق رات ودن اللہ کی عبادت میں مصروف ہے۔ لیکن انسانوں میں سے بہت سے ایسے ہیں خصوصاً مشرکین جواللہ واحد کی عظمت واطاعت اور بندگی نہیں کرتے۔ حالانکہ اس زمین وآسمان کی ایک ایک چیز ایک ایک حرکت رات ودن کاہونا اور پوری کائنات میں چلنے والا نظامِ فطرت اس بات پر روشن دلیل ہے کہ مدّبرِ کائنات واحد ولاشریک ہے اور اللہ تعالیٰ ہی معبود واحد ہے۔ یہی تعلیم قرآن کریم اور اس سے پہلے کی تمام کتب آسمانی نے دی ہے۔
صفات الٰہی
جس طرح دنیا میں حکومت چلانے اور اسے قائم رکھنے کے لئے ہر حکومت تین مضبوط ستونوں پرقائم ہوتی ہے(۱) مقننہ یعنی قانون ساز ادارہ(لیجسلئیو کونسل)(۲)عدلیہ‘ جونافذ قوانین کی روشنی میں عدل وانصاف کرے۔ (۳)انتظامیہ۔جونافذ قوانین اوران کی روشنی میں عدل وانصاف کے مطابق فیصلوں پرعمل درآمد کرے اور کرائے اور حکومتی انتظام انصرام کو قوانین کے مطابق چلائے۔
ربِّ ذوالجلال کی ذاتِ عالی جو خود قانون ساز اور عادل ونگہبان ومنتظم بھی ہے اللہ تبارک وتعالیٰ کی تمام صفاتِ عالی جن کے باعث یہ عظیم ترین کائنات کاسارا نظام قائم ودائم ہے اور بغیر کسی نقص کے مسلسل چل رہا ہے۔ ان تمام صفاتِ الٰہی کے لئے بھی بنیادی عنوانات قائم کئے جاسکتے ہیں۔(۱)اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحیمی وکریمی(۲)اللہ تعالیٰ کا جاہ وجلال(۳)تنزیہ وکمال۔ ایسی تمام صفاتِ الٰہی جن سے اللہ تعالیٰ کی بڑائی‘ کبریائی‘عظمت وجلال‘ بزرگی وبرتری‘رحم وکرم‘ پرورش ونگہداشت غرض ہر وصف میں اس کا کامل ہونا اس طرح سے ان صفات کامزید پانچ اقسام میں تعین ہوسکتا ہے۔ ایک وہ جن میں وحدانیتِ الٰہی ثابت ہے‘ دوسری وہ جو وجود باری تعالیٰ سے متعلق ہیں‘ تیسری وہ جو اس ذاتِ عالی کے علم سے وابستہ ہیں‘چوتھی صفاتِ الٰہی اس کی قدرت کاملہ سے تعلق رکھتی ہیں اور پانچویں صفاتِ باری و تعالیٰ وہ ہیں جو اس کی تنزیہ وپاکی سے آراستہ ہیں۔ انہیں علمائے تفسیر نے مندرجہ ذیل طریقہ پررقم کیاہے۔
(۱)۔ ’’جمالی‘‘ صفات الٰہی۔ ایسی صفات جن سے اللہ تعالیٰ کے رحم وکرم اور شفقت کا اظہار ہو رہا ہو۔
(۲)۔’’جلالی‘‘ صفاتِ الٰہی۔ وہ صفاتِ الٰہی جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑائی‘کبریائی اور شہنشاہی کااظہار ہو۔
(۳)۔ ’’وحدانی اور وجودی‘‘ صفاتِ الٰہی۔ ایسی صفات جواللہ کی یکتائی اور بے مثالی کی مظہر ہو‘ جن سے اللہ کاوجود‘بقاء ودوام‘ ازلیت اور لا زوالی ظاہر ہو۔
(۴)۔’’قدرت‘‘ کی صفاتِ الٰہی۔ایسی صفات جن سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت کااظہار ہو۔
(۵)۔’’تنزیہ‘‘ صفاتِ الٰہی۔ وہ صفاتِ الٰہی جواللہ تبارک وتعالیٰ کی بزرگی‘ بڑائی‘پاکی‘ نیکی اور ہر عیب ونقصان سے اس کی برات کامظہر ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کاعقیدہ دین اسلام میں محض نظری نہیں بلکہ عملی حیثیت رکھتا ہے یعنی اس کے اوصاف اخلاقِ انسانی کامعیار ہیں‘ ان اوصاف کو چھوڑ کر جو ربِّ ذوالجلال کے لئے خاص ہیں اور جو بندے کی اوقات‘حیثیت وطاقت سے ز یادہ ہیں۔ بقیہ اوصاف انسان کے لئے قابل نقل وعمل ہیں کہ وہ اوصافِ الٰہی سے دور کی نسبت رکھتے ہیں۔ اس لئے انسان پر لازم آتا ہے کہ اگراسے اپنے مالک وخالق سے نسبت پیدا کرنا ہے تواپنے اندر اس ذاتِ عالی سے نسبت کے اوصاف پیدا کرے اور ان اوصاف کی خوبیوں کواپنامعیار جان کراس کی پیروی کی خواہش کرے۔ تاکہ قربِ الٰہی کی لذت سے قلب ونظر آشنا وشاد کام ہوسکیں۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو تمام انسانیت کے لئے آیا ہے نبی آخر ا لزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین اور عظیم ترین نبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی خاص قوم یا کسی خاص علاقے کے لئے مبعوث نہیں فرمایا‘تمام عالم کے لئے بھی نہیں بلکہ تمام عالموں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرتاجِ رسالت بنا کر آپ کو تکمیل دین کا فریضہ عطا فرمایا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ربِ العلمین جوتمام عالموں کاپالنے والا ہے نے رحمت اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودین اسلام مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے جواللہ کاپسندیدہ د ین ہے۔
(جاری ہے)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close