Naeyufaq Apr-16

گفتگو

عمران احمد

عزیزان محترم… سلامت باشد۔

اپریل کا شمارہ حاضر مطالعہ ہے۔
گزشتہ ماہ ہم نے محترم کاشف زبیر کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی جونہی پرچہ چھپ کر بائنڈنگ کے مراحل میں داخل ہوا معروف مصنف کاشف زبیر جو اسپتال سے گھر شفٹ ہوگئے تھے اچانک ان کی رحلت کی خبر آگئی، انا للہ ونا علیہ راجعون اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل دے ہماری تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اپنی مصروفیات میں سے چند لمحے نکال کر مرحوم کاشف زبیر کی مغفرت کے لیے دعا ضرور کریں۔
اس ماہ نئے افق میں ہم سب کے پسندیدہ کہانی کار امجد جاوید کی تحریر کردہ سلسلے وار کہانی عورت زاد اور مایہ ناز ادیب ریاض حسین شاہد کی پل صراط شامل اشاعت ہے۔ قارئین کو دونوں کہانیوں کا ذائقہ مختلف محسوس ہوگا۔ امید ہے آپ تمام قارئین کو یہ دونوں سلسلے بہت پسند آئیں گے۔
اب آئیے اپنے خطوط کی طرف
(اس ماہ کا انعام یافتہ خط)
ایم اے راحیل … بورے والا۔محترم جناب عمران احمد،طاہر احمد قریشی ،مشتاق احمد قریشی ،اقبال بھٹی صاحب،تمام ریڈرز،لکھاریوں اور تمام اسٹاف کو نہایت عقیدت سے السلام علیکم ! اُمید ہے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے خوش و خرم زندگی گزار رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ خوشیوں کے ساتھ سلامت رکھے۔شر پسند عناصر کے شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے اور صحت و تندرستی کی نعمت ہمیشہ رہے۔آمین ثم آمین !جہاں رہیں خوشیاں تقسیم کریںکیونکہ یہی زندگی ہے۔دُنیا اور آخرت میں کامیابی اِسی میں ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے نوازے اور اپنے قہر سے محفوظ فرمائے آمین۔ میرا نام ایم اے راحیل ہے۔قارئین نئے اُفق کے لئے نیا ضرور ہوں مگر خاموش قاری کئی سالوں سے ہوں۔جب بھی وقت ملتا ہے نئے اُفق کامطالعہ کرتا ہوں۔نئے اُفق سے خاصا لگائو بھی ہے۔آج کاغذ قلم سنبھالنے کی وجہ ہے۔جو میں آپ سے شیئر کرنا چاہتاہوں۔ماشااللہ!آپ مذہبی بندے ہیں اور نئے اُفق بہت سالوں سے لاکھوں قارئین کے بند دریچوں کو کھولنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔لیکن پچھلے چند مہنیوں سے اِس میں بد مزگی سی ہو رہی ہے۔ماہ مارچ 2016کا پرچہ میرے ہاتھو ں میں ہے اور تقریباًپورے کا پورا پڑھ چکا ہوں۔چند ایک تحریروں پر اپنی رائے دینا چاہتا ہوں کیونکہ یہ قاری کا حق ہوتا ہے۔سب سے پہلے سرورق کی بات کرتے ہیں۔ماشااللہ !بہت خوبصورت ہے۔نظریں ٹک سی جاتی ہیں۔حیرت میں مبتلا لڑکی گم صم کسی کونظروں سے ڈھونڈ رہی ہے یا پھر کسی کے بچھڑنے کے دُکھ میں مر ی جا رہی ہے۔سوکھے درخت کی پتلی سی شاخ پر بیٹھی شاہین اپنے بچوں کی حفاظت پر مامور ہے اور اُس کا نر محوپرواز کسی محافظ کی طرح نگرانی کررہا ہے۔بہت خوب۔زبردست سرورق دیا گیا ہے۔ دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی صاحب سند ھ کی سیاست کا ذکر فرما رہے ہیں اور عزیز بلوچ کو لے موجودہ حکومت اور مفاد پرست ٹولے کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں اور خودکومتحدہ قومی موومنٹ کے حامی ظاہر کر رہے ہیں۔میں تو کہوں گا صحافی اور ادیب کو کسی سیاسی پارٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔سیاسی پیچیدگیاں کبھی ختم نہیں ہو نگی۔ (محترم! مشتاق احمد قریشی کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں) گفتگو میں عمران احمد صاحب کا بڑا اچھا فیصلہ ہے کہ تنقید لکھاری کی شخصیت پر نہیں تحریر پر ہونا چاہیے۔مجیداحمد جائی نے اعلی ظرفی کا مظاہر ہ کیا ہے۔ امجد جاوید کا تبصرہ بھی زبردست تھا۔مجیداحمد جائی کا طویل خط مدلل اور پیارا تھا۔تحریروں پر باریک بینی سے تبصرہ کرتے ہیں ،اِسی طرح صائمہ نور کا خط بھی خاصے کا ہے۔احسن ابرار رضوی سے ہم اتفاق کرتے ہیں۔ناز سلوش ذشے چند ماہ کی غیر حاضری کے بعد آئیں اور انعام حاصل کیا بہت بہت مبارک باد۔عمر فاروق ارشددلائل کے ساتھ جواب دے رہے ہیں، عامر زمان عامر اپنی کہانی نہ لگنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ ممتاز احمد، انجم فاروق ساحلی ،عابد غفار عابد، فلک شیر ملک،رانا حبیب الرحمان ،ریاض حسین قمر ،ایم حسن نظامی ،علی حسین تابش اچھے تبصرے کررہے ہیں اوراحسان سحر نے دلائل کے ساتھ مجیداحمد جائی کی سفارش کی ہے ،آپ کا خط بہت پسند آیا۔عبدالجبار رومی انصاری،غلام یاسین نوناری کے تبصرے بہترین رہے ماہ فروری ادیبوں پر بھاری گزررہا ہے اور یکے بعد دیگرے نامور ڈرامہ نگار،افسانہ نگار اِس دُنیا سے چلے گئے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر و جمیل عطا کرے آمین۔اقراء میں طاہر قریشی نے خوبصورتی کے ساتھ اللہ واحد ہے کے بارے میںبتایا۔اِس بار انٹرویو کی جگہ تجزیہ پیش کیا گیا جو زبردست ٹھہرا۔ کہانیوں کی بات کی جائے تو سب سے پہلے (ضرورت) کی بات کروں گا۔نوشاد عادل نے بہترین اور اچھوتا موضوع پکڑا اور واقعی رشتے بے مو ل اور انمول ہوتے ہیں۔ راہ خار ،حلال رزق کا پیغام دیتی خوبصورت تحریر تھی۔ اوجھل،حسن عادل نے بہترین موضو ع کا انتخاب کیا۔اس کہانی سے شیر اور بلی والی کہانی یاد آگئی۔بلی نے شیر کو سارے گُر سیکھا دئیے لیکن درخت پر چڑھنا نہ سیکھایا اِسی طرح گلریزکے ساتھ بھی ہوا شیطان ،عتیق حسن بیگ نے خوب لکھا لیکن جنات کے بارے میں اُن کی معلومات کم لگتی ہے۔کہانی میں کہیں کہیں تسلسل ٹوٹتا رہا۔گورکھ دھندا(آغاز الدین )نے مزاح کے انداز میں خوبصورت تحریر لکھی۔ پاداش (عامر زمان عامر)یہ کہانی 1996کے مشہور و معروف پرچے میںمعروف ادیب کے نام سے شائع ہوئی تھی لکھاری نے چند تبدیلیوں کے ساتھ من و عن یہاں اپنے نام سے شائع کرائی ہے۔ میں پروف پیش کر سکتا ہوں۔ادارہ بنا تحقیق کئے کیسے کہانیاں لگا دیتا ہے۔ لکھاری سے کم از کم تحریری ثبوت لینا چاہیے۔باعصمت پرویز احمد دِلو نے خواہ مخواہ کی فلاسفری جھاڑ کر کہانی کو طول دینے کی کوشش کی ہے۔شروع میں منصف نے غریب کو کتوںسے بھی گیاگزرا پیش کیا ہے۔میاں فخر نے جب بشیراں کی ماں اور بھائی کو چھٹی دے کر بشراں کو روک لیا اور میاں فخر کی پوری فیملی باہر چلی گئی تھی۔تواُس کے اِس فعل سے شیطانیت نہیں ٹپکتی تھی۔اور بشیراں کی ماں اور بھائی اتنے بیوقوف تھے کی جوان سالہ بہن ،بیٹی کو اکیلا چھوڑ کر چلے گئے اور خود بشیراں کو پہلے بھی سبز باغ دِکھائے گئے تھے۔وہ نادان کیسے رہ سکتی تھی۔دوسری جگہ منصف کنفیوز ہوتا نظر آتا ہے کہ جب نادیہ یونیورسٹی سے گائوں آرہی ہے تو نصیر اور اُس کا دوست اتنے پاگل تھے کہ نادیہ کے گاڑی سے اُترتے ہی کھیتوں میں گھسیٹنے لگے۔ نصیر نے اپنی بہن کی عزت کا بدلہ لینا تھا۔اوروہ غیرمحفوظ طریقہ کیوں اپنا رہا تھا۔ اور پھر یہ تو کسی فلم کی کہانی لگتی ہے اور زاد سفر کے آخر ی حصے نے رُلا دیا۔ سلگتے چنار والی مصنفہ نے بہترین لکھاری ہونے کا ثبوت دے دیا‘ ذوق آگہی اور خوشبوئے سُخن بہترین رہے۔اگر پورے پرچے کی بات کی جائے تو پروف ریڈنگ اور کمپوزنگ کی غلطیاں بہت پائی گئیں۔لگتا ہے پرچہ جلدی نکالنے کی وجہ سے توجہ نہیں دی گئی۔اِس کے علاوہ عرض کروں گا کہ نئے اُفق کے پلیٹ فارم میں عورت کی کردار کشی کی کہانیاں عام شائع کی جا رہی ہیں ۔کیا اِس طرح بُرائیوں ،گناہوں کی طرف دعوت دینے کا سبق نہیں سیکھایا جا رہا ہے۔کیا لکھاریوں کے پاس اس موضوع کے علاوہ کسی موضو ع پر لکھنے کا ہنر نہیں ہے۔عورت کی کردار کشی کے علاوہ دُنیا مسائل میں جکڑی ہوئی ہے۔اِن مسائل کو اُجاگر کیا جاسکتا ہے اور ویسے بھی نئے اُفق کا اسٹاف مذہبی ہے۔آخر کیا مجبوری ہے جو ادارہ اِس طرح کی کہانیاں کثرت سے شائع کرنے کو ترجیح دے رہا ہے۔فروری میں (بھوک)(فریب خوردہ)مارچ میں(پاداش)(باعصمت)کی مثال سامنے ہے۔ہندئووں کی طرح عورت کو بالکل بدکردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔نئے اُفق لاکھوں لوگ پڑھتے ہیں ،اُن میں کتنی بہنیں،مائیں ،بیٹیاں ،بیویاں نئے اُفق پڑھتی ہوں گی۔وہ کیا تربیت لیں گی۔خدارا ایسی کہانیاں شائع کرکے معاشرے کو مزید بُرائیوں کی دلدل میں نہ پھینکیں اُمید ہے میری عرض پر غور وفکر کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ نئے اُفق کو مزید ترقی سے ہمکنار فرمائے آمین ثم آمین والسلام !
٭محترم ایم اے راحیل! نئے افق کی پسندیدگی کا شکریہ‘ ہمیں خوشی ہوئی کہ آپ اتنی گہرائی اور باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں۔ آپ کی بات درست ہے کہ جلدی کے چکر میں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں‘ بہرحال ہم کوشش کریں گے کہ اس کا سدباب کریں۔ رہی کہانیوں کی بات تو عورت ہمارے لیے بھی محترم ہے۔ ماں،بہن اور بیٹی کی حیثت سے عورت کا کردار بہت ہی پاکیزہ اور بلند ہے۔ مصنف جو کچھ معاشرے میں دیکھتا ہے اس سے متاثر ہو کر ہی کہانی لکھتا ہے ‘ اس کا مقصد کسی کی کردار کشی نہیں ہوتا بلکہ تعمیر ہی ہوتا ہے۔
احسن ابرار رضوری… ساہیوال۔ السلام علیکم! تمام اسٹاف ،لکھاریوں اور قارئین کو عقیدت بھرا سلام قبول ہو۔ بہار کی رُت اپنے پر پھیلائے بانہو ں میں لینے کو بے تاب کھڑی ہے۔سردی کا زور ٹوٹا اور موسم خوشگوار ہو گیاہے۔زردی مائل چہروں پر لالی آنے لگی ہے اور کسانوں کے چہرے کھلکھلا اٹھے ہیں۔گندم کے کھیت ہر طرف لہلہاتے نظر آرہے ہیں۔پرندوں نے سُریلے گیت گنگنانے شروع کر دیے ہیں۔ٹنڈ منڈ درختوں پر کونپلیں نکلنے لگی ہیں۔اللہ کرے یہ بہاریں۔ یہ خوشبوئیں ،یہ مسکراہٹ سدا رہیں۔ملک میں امن کی فضا قائم ہو اور ہمارے ننھے معمار بے خوف وخطر اسکولوں میں پڑھ سکیں۔ سر ورق خوبصورت لگا۔نئے اُفق پچھلے چند شماروں سے ٹائٹل پر خوب توجہ دے رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کسی بھی پرچہ کی کامیابی کا راز سرورق ہی ہوتا ہے۔کمرشل کی دُنیا کو سلامی دیتے، سرفہرست پر سرسری نظرٹکائی اور دستک میں جا قدم جمائے۔مشتاق احمد قریشی صاحب سیاست کو کرید رہے ہیں۔ہمیشہ اداریہ ادبی ہوا کرتا ہے نہ کہ سیاسی۔سیاست کے لئے ملکی اخبار ،ٹی وی چینلز بہت ہیں۔میں التماس کروں گا کہ نئے اُفق کا اداریہ خالص ادبی ہونا چاہیے۔سیاست کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔بحرحال مشتاق احمد قریشی تجربہ کار ہیں ،بہتر سمجھتے ہیں۔ہم تو مشورہ دے سکتے ہیں۔گفتگو میں کاشف زبیر کی صحت یابی کے لئے دُعا کی اپیل کی گئی ہے اللہ تعالیٰ اُن کو اور سپتالوں ،گھروں میں جو بھی کسی مرض میں مبتلا ہیں اُن کو شفا یابی عطا فرماے آمین ثم آمین۔مجیداحمد جائی کو بحال کرکے اعلی ظرفی کا ثبوت دیا گیا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں جو اُس کی ذات،شہرت ،کو داغ دار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مجیداحمد جائی اپنی توہین کا دعویٰ کر سکتے ہیں لیکن میں اُن کو داد دیتا ہوں کہ ایک تو اُن کا خط مدلل اور خوبصورت جملوں پر مشتمل تھا، دوسرا اعلیٰ ظرفی کا ثبوت بھی دیا۔اپنا معاملہ اِنسانوں کی بجائے اللہ پر چھوڑ دیا۔بہت خوب۔امجد جاوید کا خط بھی اچھارہا۔صائمہ نور بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔معاشرے کی بُرائیوں کو خوبصورت لفظوں میں پیش کیا۔میں شکرگزار ہوںکہ مجھے شامل اشاعت کیا گیا لیکن خط پر قینچی خوب چلائی گئی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایڈیٹر کو پورا حق ہوتا ہے ،جو کانٹ چھانٹ کرے مگر انصاف کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔ناز سلوش ذشے۔انعام یافتہ خط کے ساتھ حاضری لگوا رہی ہیں۔ اُن کے ساتھ متفق بھی ہوں۔ریاض بٹ ،عمر فاروق،رمشا ملک ،ممتاز احمد ،فلک شیر ملک،ریاض قمر ،ایم حسن نظامی،علی حسنین تابش،احسان سحرتفصیلی خط،عبدالجبار رومی،غلام یاسین نوناری کے تبصرے مدلل اور پیارے تھے۔مہر پرویز دولو ایم اے انگلش ہو کر بھی لفظوں ادائیگی کا علم نہیں ہے ،اس کا جواب ادارے نے بھی دے دیا۔(نفیسہ سعید لیکچرار اور سنیئر استاد ہیں) والا۔ کہانیوں میں ضرورت بہت پسند آئے ،سلگتے چنار بھی زبردست تحریر تھی۔’’راہ پُر خار ‘‘محبت کی نادانیاں اجاگر کرتی تحریر نے بہت بڑا درس دیا اور حقیقت سے بھی پردا اٹھایا۔یہی سب کچھ ہمارے اردگرد ہو رہا ہے۔’’شیطان ‘‘بہت پسند آئے۔ عتیق حسن بیگ واقعی داد کے مستحق ہیں۔ اوحھل بھی خوب رہی، عاقبت اندیش نے متاثر نہیں کیا۔ لفظوں کا تسلسل ٹوٹا رہا۔ عبدالحمید نے خوبصورت تجزیہ پیش کیا۔گورکھ دھندا ،لبِ بام اچھی تحریریں تھیں۔ زادِ سفر کا اختتام بہت پیارا تھا ،آنکھوں سے آنسو آگئے۔ذوق آگہی ،خوش بوئے سخن اور اِس بار زریں قمر صاحبہ کو شاعرہ کی حیثیت سے متعارف کروایا گیا۔پورے نئے افق کی بات کی جائے تو خوب رہا اور کہیں کہیں خامیاں ضرور تھیں مگر امید کی جاتی ہے کہ ان پر قابو پالیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ حامی و ناصر رہے۔ والسلام !
مجیداحمد جائی… ملتان شریف مزاج گرامی! اُمید واثق ہے بخیریت ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دوست نما دُشمنوں اور حاسدین کے حسد سے محفوظ رکھے۔صحت کی بادشاہی ،ایمان کی سلامتی اور ہنستا مسکراتا رکھے۔دین اور دُنیا میں کامیاب و کامران فرمائے آمین۔ ماہ مارچ کا نئے اُفق معمول کے مطابق جلد ہی مل گیا۔سرورق پر بیٹھی حسینہ کھلے بالوں سے محو حیرت جانے کس غم میں جلی بیٹھی ہے۔جیسے ابھی ابھی ٹی وی چینل پر بُری خبر سن لی ہو۔ ایک شاہین پرواز میں ہے تو اُس کی مادہ انڈوں پہ بیٹھی رکھوالی کر رہی ہے۔کونے میں کسی جھیل کا منظر بھلا لگ رہا ہے ،سورج دن بھر کی تھکن سے چُور آرام کرنے چلا ہے۔بہت خوبصورت سر ورق بنایا گیا۔دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی،کراچی کی سیاست بلکہ پورے ملک کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہوئے عزیز بلوچ کا ذکر کر رہے ہیں۔کہتے ہیں سیاست میں جھوٹ نہ ہو تو اُسے کوئی سیاست مانتا ہی نہیںاور یہی سب کچھ یہاں ہو رہا ہے۔عوام کو نت نئے مسئلے میں اُلجھا کر اپنا اُلو سیدھا کر رہے ہیں۔باری کی سیاست پرانی روایات ہے اور کوئی بھی حکومت ہو ہمیشہ عوام کو خوار ہی کیا ہے۔ گفتگو میں عمران احمد زاد سفر ،عشق کسی کی ذات کے اختتام کی خبر سنا رہے ہیں۔ناول کو دو تین اقساط میں ختم نہیں ہونا چاہیے۔ایک ہی قسط وار ناول شروع کروایا جائے جو کم از کم ایک سال تو چلے۔نامور لکھاری کاشف زبیر کی صحت یابی کے لئے ہمہ تن دُعا گو ہیں۔امجد جاوید کے خط میں شروع کی سطور پسند آئی۔ صائمہ نور نے خوبصورت پیراہن میں معاشرے میں پھیلی بُرائیوں کو اُجاگر کیا ہے۔احسن ابرا ر رضوی،پہلے خط میں تنقید فر ما رہے تھے۔قارئین کو مکمل اختیار ہو تا ہے کہ وہ لکھاری کی تحریر پر اپنی تنقید اور تعریف پر رائے دے۔ ہاں لکھاری کی شخصیت کو نشانہ بنانا درست نہیں۔ ادب میں ایسا بہت زیاد ہ ہورہا ہے۔لکھاری حضرات معاشرے میں پھیلی بُرائیوں کا تدارک کرنے کے لئے جہاد کریں نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچے پر وقت صرف کریں۔ناز سلوش ذشے اللہ تعالیٰ آپ کو صحت کے ساتھ ساتھ ہنستا مسکراتا رکھے۔آپ کا خط واقعی انعام کا حقدار ہے۔ آپ سے ملاقات اسلام آباد میں ہوئی تھی اور اِس ملاقات کو چار سال بیت گئے ہیں۔ یقینا آ پ کو یاد ہو گا۔ ریاض بٹ صاحب آپ کا خط مختصر اور جامع تھا۔لفظ ’’خدا‘‘کی جگہ اگر ’’اللہ‘‘لکھا جائے تو بہتر ہو گا۔اگر میں تفصیل میں جائوں تو پورا مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ عمر فاروق ارشد بھائی میرا کسی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے اور نہ ہی میں نئے اُفق کے پلیٹ فارم پر گھسیٹ کر آیا ہوں امن پسند ہوں۔ امن سے رہتا ہوں۔ ممتاز احمد صاحب کا تبصرہ شاندار اور جاندار تھا۔رانا حبیب الرحمان صاحب اللہ تعالیٰ آپ پر آسانیاں فرمائے۔میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ فری لانسر لکھاریوں کے ساتھ ہوتا ہی یہی ہے۔لمباانتظار کروایا جاتا اوراگر اداریہ فوری طور پر اتنا ہی کہہ دے کہ آپ کی کہانی قابل اشاعت ہے تو لکھاری انتظار سے بچ سکتا ہے۔ رہی بات ریاض حسین قمرصاحب کی تواُنہوں نے عمران احمد صاحب کے فیصلے کو سراہا اور ادب کی کالی بھیڑوں کا اشارہ کرتے ہوے عمران صاحب کا فیصلہ بروقت ہے کہا۔میں مودبانہ عرض کروں گا۔میرے پیارے کم ازکم حقیقت کو جان کر ہی اتفاق کیا جا تا ہے۔ بُرا کوئی نہیں ہوتا اور نہ کوئی جان بوجھ کر غلطی کرتا ہے۔ علی حسین تابش،احسان سحر،عبدالجبار رومی انصاری کے تبصرے بھرے تھے۔اللہ زور قلم کرے اور زیادہ۔اقراء میں طاہر قریشی صاحب بڑے خوبصورت انداز میں’’ اللہ واحد ہے ‘‘قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین! تجزیہ ،عبدالحمید نے شاندار پیش کیا عرض کروں گا میرے 2015میں تین لیٹر شائع ہوئے ،ماہ جون ،نومبر اور دسمبر۔ماہ جون کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔بحرحال داد کے مستحق ہیں۔شاندار تجزیہ پیش کرنے پر مبارک باد قبول کریں۔کہانیوں میں اِس بار سب سے پہلے ’’راہ پُرخار‘‘پڑھی،لکھاری نے خوب محنت کی ،بحرحال فریب خوردہ سے پیچھے ہی رہی۔ابھی تک تین کہانیاں پڑھیں اور تینوں ہی ماڈرن محبت کے موضوع پر تھیں۔معاشرے میں یہی کچھ ہو رہا ہے او ر اگربات کی جائے ’’راہ پُرخار ‘‘کی تو طاہرہ کا کردار بہت پسند آیا۔آج کے پُر فتنہ دُور میں عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دُشمن ہے۔عورت ہی عورت کا گھر اجاڑ تی ہے مرد بیچارے تو خواہ مخواہ مجرم بن جاتے ہیں۔کہیں ساس کے رُوپ میں ،تو کہیں بہو کے رُوپ میں ،کہیں نند اور کہیں سوکن کے رُوپ میں جھگڑے کرواتی اور گھر کو قبرستان بناتی نظر آتی ہے۔کیا کمال فقرہ لکھاگیا ’’چاروں طرف جھوٹ کی حکمرانی ہو تو سچ تنہا رہ جاتا ہے ‘‘واقعی آج کے دُور میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔کوئی بھی سچ بولنے کا روادار نہیں۔جو سچ کی آوا ز بلند کرتا ہے اُس کا جینا حرام کر دیا جاتا ہے۔جھوٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔آج کا اِنسان اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور انسان سے ڈرتے ہیں۔مسلمان اِسی لئے مار کھا رہے ہیں۔کہانی میں بہترین سبق بھی دیا گیا ہے۔حلال ،کا ایک نوالہ حرام کے سو نوالوں سے افضل ہوتا ہے۔ کمال تحریر تھی۔عاقبت اندیش،ہمیشہ کی طرح کمال تحریر لائے۔کمپوزنگ کی خال خال غلطیوں نے مزہ کرکرا کر دیا۔شمائلہ نے خود کے ساتھ بہت بُرا کیا۔ آخری سطور سے میں اتفاق نہیں کرتا کہ’’ انسانی خون بڑے بڑے مجرموں کو ہضم نہیں ہوتا‘‘یہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں آج قاتل سرعام دندناتے پھرتے ہیں اور مدعی کورٹ کچہریوں کی خاک چھانتے رہتے ہیں۔یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں اکثریت بے گناہ لوگوں کی ہے۔مجرم آزاد پھرتے ہیں۔ آج کے انسان کی اوقات بھیڑ بکری سے بھی گئی گزری ہے۔خون سے سڑکیں رنگین ہیں۔درختوں پر انسانی اعضا لٹکے نظر آتے ہیں۔اب انصاف بکتا ہے۔انصاف ہوتا نہیں ہے۔اگر آج بھی ہر فرد انصاف کرنے پر آجائے تو ملک کا نظا م بدل سکتا ہے۔ (ریاض بٹ صاحب کئی بار آپ کے نمبر کر کال کی مگر رسیو نہیں ہوئی۔ہو سکے تو میرے اِس نمبر پر رابطہ کریں 0301-7472712)۔اس کے علاوہ ’’ضرورت‘‘ سلگتے چنار، شیطان، اوجھل، گورکھ دھندا،خوبصورت تحریریں تھیں۔اگر تفصیلاً تبصرہ کروں تو خط بہت طویل ہو جائے گا۔فن پارے بھی خوب رہے اور خوش بوئے سخن ،ذوق آگہی نے اپنی روایات برقرار رکھی۔زاد سفر کا شاندار اختتام ہو ا۔اسی طرح عشق کسی کی ذات نہیں بھی خوبصورت موڑ پر ختم ہوا۔اب اجازت۔
صائمہ نور…بہاول پور روڈ ملتان السلام علیکم ! اللہ تبارک وتعالیٰ سدا مسکراتا اور خوشیوں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔آپ کے ہاتھوں ،باتوں ،کردار سے کسی کی دِل آزاری نہ ہواور دین اسلام کو پھیلانے میں ترغیب دلاتے رہیں۔آمین ثم آمین۔ماہ فروری سردیوں کے ساتھ ساتھ ادب کے اُفق پر جلاد بن کر اُبھرا ہے او ر کئی ہیرے نگل گیا۔نواب محی الدین ،فاطمہ ثریا بجیا،محمد اعظم۔اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اورلواحقین کو صبر کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین ! ماہ مارچ کا نئے اُفق20فروری کو ملا،بظاہر چند روز لیٹ سہی مگر جلد آگیا۔سرورق اعلی اور جاذب نظر بنایا گیا۔دستک میں مشتاق احمد قریشی سیاست پر روشنی ڈال رہے ہیں۔جناب یہاں تو حالت یہ ہے کہ اندھے کے پائوں تلے بیٹر آجائے تو وہ بھی نواب بن جاتا ہے اور کہتا ہے میں تو روز بیٹر کھاتا ہوں۔سیاست میں یہی ہو رہا ہے۔گفتگو میں عمران احمد اِس بار حدیث کا حوالہ دینا شاید بھول گئے۔امجد جاوید،مجیداحمد جائی ،احسن ابرار رضوی،عمرفاروق ارشد بھائی،رمشا ملک ،انکل ممتاز احمد،انجم فاروق ساحلی،فلک شیر ملک،رانا حبیب الرحمان ،ایم حسن نظامی،علی حسین تابش،احسان سحر،عبدالجبار رومی،کے تبصرے زبردست تھے۔ریاض صاحب،آپ کی بہن بالکل ٹھیک ہے اور آپ کے لئے دعائیں کرتی رہتی ہے۔ناز سلوش ذشے کو انعامی لیٹر کی بہت بہت مبارکباد۔آپ کی باتیں بالکل دُرست ہیں اور میں آپ کی ہاں میں ہاں ملاتی ہوں۔اقراء میں (اللہ)کی وحدانیت کو قرآن مجیداور حدیث سے ثابت کیا گیا۔بہت خوب۔اللہ تعالیٰ ہمیںدُرست راستے پر گامزن فرمائے آمین۔عبدالحمید نے نئے اُفق پر تجزیہ بہت خوب لکھا۔اِس دفعہ شاعرہ زریں قمرسے ملاقات اچھی رہی۔کہانیوں میں ’غضرورت‘‘بہت خوبصورت تحریر تھی۔ سائنس دان نے گھڑی کمال کی بنائی تھی۔کاش کوئی سائنس دان ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروائے جس سے دہشت گرد خود ہی بتائے کہ میں ہی وہ درندہ ہوں جو اِس وطن کے معماروں کو شہید کر رہا ہوں۔عاقبت اندیش،ہمیشہ کی طرح اچھوتی تحریر تھی۔لیکن مجرم خود تھانے پیش ہوا یہ بات دِل نہیں مانتا۔گورکھ دھندابھی خوبصورت تحریر تھی۔ سلگتے چنار میں زریں قمر نے وادی کشمیر میں ہندوئوں کے ظالمانہ تشدد کو لفظوں میں خوب پرویا۔دِل غمگین اور آنکھیں نم ہیں۔ راہ پُرخار،بہترین تحریر لکھی گئی۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو بدلنا چاہیے تو سبب بنا دیتا ہے۔ شیطان زبردست تحریر تھی۔ہمارے معاشرے میں اِنسانی رُو پ میں کئی شیطان پیدا ہو گئے ہیں جو اپنی شیطانیت سے بہن ،بیٹیوں کی عزتیں لوٹتے پھرتے ہیں۔ لب بام ،ترجمہ شدہ تحریر نے متاثر نہیں کیا اور گورکھ دھندا میں مزاح نے تحریر کو چار چاند لگا دئیے۔زاد سفر کا اختتام ہوا،آخر بالی کے اوپر ایک اور ذمہ دار آن پڑی۔بہت خوب لمحہ لمحہ روتا ناول تھا۔کتناخوبصورت جملہ لکھا گیا کہ (ادب اِنسان کو عظیم بناتا ہے مگر مستقبل نہیں سنوارتا)سعادت حسن منٹو،احمد ندیم قاسمی،ساغر صدیقی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور مرزا غالب بھی۔اِن کی زندگیاں کس کرب سے گزری ہیں۔یقیناسب جانتے ہوں گے۔اور نواب محی الدین ،فاطمہ ثریا بجیا۔مرنے کے بعد ادیبوں کو تین دن مشکل یاد رکھا جاتا ہے اور پھر کوئی ذکر تک نہیں ہوتا۔ہمیشہ کسی ادیب ،لکھاری کی خدمات کا اعتراف بعد مرنے کے کیوں کیا جاتا ہے۔ گھنٹوں اِس کے سحر میں ڈوبی رہی۔بہت اعلی۔عشق کسی کی ذات نہیں بھی اختتام کو پہنچا۔اچھا رہا۔اِس کے علاوہ باقی تحریر یں پڑھنی باقی ہیں سو تبصرے سے معذرت۔البتہ فن پارے کی تمام تحریریں خوب تر تھیں۔ذوق آگہی اور خوش بوئے سخن کامیاب جا رہے ہیں اور انعام پانے والوں کو دلی مبارک باد۔اللہ حافظ!
علی حسنین تابشؔ… چشتیاں۔ محترم چیف ایڈیٹر صاحب ، ایڈیٹر صاحب اور اسٹاف و قارئین کو سلام قبول ہو۔ امید واثق ہے سب خیریت سے ہونگے۔ مارچ کا شمارہ ملا تو دل کے تار بجنے لگے۔خوشی کی انتہاء نہ رہی۔ ٹائٹل لاجواب تھا۔ شامِ تنہائی اور اُفق سے پرے ڈھلتا سورج۔واہ کیابات ہے۔ ایسا معلوم ہو رہا ہے جیسے ڈھلتاسورج اس بات کی ترجمانی کر رہا ہے کہ ہر عروج کو زوال پذیر ہونا ہے۔ اس بات سے شناسائی دلوا رہا ہے کہ نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہاں !اگر یہ نہ ہوں تو شاید یادِ خدا بھی کم کم ہو۔ بلندی و پستی خداوند کریم کے اپنے بندے سے امتحان ہیں۔ صابر لوگ ہی اس امتحان میں پاس ہوتے ہیں۔ جو امیری میں غرور اور غریبی میں شکوہ نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے رب کے شاکر بندے ہوتے ہیں۔ خیر بات کہاں نکل گئی۔ ڈھلتے سورج کے ساتھ میں اداس ومنتظر نگاہوں والی حسینہ اس منظرکو اور والہانہ بنا رہی تھی۔ مجھ جیسے شاعر حضرات تو دل تھام کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ معصوم چہرہ اور غمِ ہجر سچ پوچھو بہت ترس آیا۔زبردست ٹائٹل تھا۔ اب بات ہو جائے ’’دستک ‘‘ کی۔اچھا لکھا گیا تھا۔ ــ’’گفتگو ‘‘ میں سب دوستوں کے احوال اچھے تھے۔اس بار میں تفصیل میں نہیں پڑنا چاہتا۔ کیونکہ پچھلی مرتبہ احوال پر زبردست قینچی چلائی گئی۔ سب دوستوں کا مشکور ہوں جو میرے تبصرے کو پسند کرتے ہیں۔ کہانیوں میں سلسلہ وار ناول کا اینڈ اچھا رہا۔باقی کہانیوں میں ضرورت،عاقبت اندیش،لبِ بام،پاداش اور شیطان کے ساتھ ساتھ سب تحریریںاچھی تھیں۔ مستقل سلسلے بھی زبردست رہے۔ ممبر شپ کیلئے ادارے کا مشکور ہوں۔اب اجازت دیں۔حرفِ آخر سب کو سلام اللہ نگہبان۔
بشیر احمد بھٹی… بہاولپور۔ السلام علیکم، جناب محترم عمران احمد صاحب ایک عرصہ سے ماہنامہ نئے افق تمام تر رعنائیوں سے مارکیٹ میں جلوہ افروز ہو رہا ہے لگتا ہے آپ اور آپ کی پوری ٹیم نئے افق پر خوب توجہ دے رہی ہے توجہ بر قرار رہنی چاہیے۔ 290 صفحات کا نئے افق آپ 50 روپے میں قارئین کو فراہم کر رہے ہیں مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ کئی مدیران ڈائجسٹ کاغذ کی گرانی کا رونا روکے قیمت بڑھاتے رہتے ہیں آخر وہ ایسا کیوں کرتے ہیں کیا آپ کے لیے کاغذ مہنگا نہیں ہوتا، آپ بھی صابر شاکر بن کے متعدل قیمت پر اپنے پرچے فراہم کر رہے ہیں یہ اچھی بات ہے۔ قارئین کو عمدہ کاغذ والا ڈائجسٹ مناسب قیمت پر دینا بھی لالچ سے ماورا نظر آتا ہے اب اسکیچز بھی خوب صورت ہوتے ہیں انعامی سلسلے بھی جاری ہیں لکھائی بھی موٹی ہے کتابت خوب صورت ہے ہاں جملوں میں کہیں کہیں غلطیاں ہیں۔ اس طرف توجہ فرمائیں۔ ڈائجسٹوں کی دوڑ میں اب نئے افق عمدہ شکل میں پیش پیش ہے قارئین کی توجہ کے لیے محنت کی ضرورت ہے جو آپ کر رہے ہیں ورنہ قارئین کا کیا ہے یہ تو دس روپے کا پرانا ڈائجسٹ کباڑی سے لے کر بھی مزہ حاصل کرلیتے ہیں قارئین کو قابو کرنے کے لیے خوب صورتی بہت ضروری ہے جو نئے افق میں نظر آرہی ہے۔
ریاض بٹ… حسن ابدال۔ السلام ماہ مارچ 2016ء کا شمارہ منفرد اور دیدہ زیب سرورق کے ساتھ 19 فروری کو ہی بے قرار اور مضطرب نگاہوں کی تسکین کے لیے مل گیا یہ ادارے کی مہربانی ہے کہ ہمیں انتظار کی کوفت سے بچا لیتا ہے دستک میں مشتاق احمد قریشی صاحب باتوں سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن ایک بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں ہر ایک نے اپنے مفادات اور تحفظ کے لیے کسی نہ کسی کے پیچھے پناہ لی ہوئی ہے… اب بڑھتے ہیں محفل گفتگو کی طرف۔ امجد جاوید آپ ایک منجھے ہوئے لکھاری ہیں ایک اور رسالے میں بھی آپ کی کہانیاں میں پڑھتا رہتا تھا آپ کو نہ صرف لکھنے کا فن آتا ہے بلکہ آپ اپنی بات قارئین تک پہنچانے کا گر بھی جانتے ہیں یہی بات میں ناصر ملک صاحب کے لیے بھی کہہ سکتا ہوں۔ اس بار آپ دونوں حضرات کی کہانیاں اختتام پذیر ہوگئی ہیں میں آپ دونوں حضرات کو مبارکباد دیتا ہوں اتنی اچھی کہانیاں لکھنے پر، مجید احمد جائی بھائی شکر ہے آپ نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے معذرت کرلی اور نئے افق کے مدیر اعلیٰ مدیر اور دوسرے اسٹاف نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کردیا آپ کا اس بار کا خط بھی خوب صورت اور مدلل ہے۔ آپ نے میری تفتیشی کہانی کو پسند کیا جس کے لیے یہ بندہ ناچیز شکر گزار ہے آپ نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اس بابت عرض ہے کہ اس قسم کے حالات میں تھانیدار کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ بندے کو اس کا بیان لے کر اسی طرح آزاد کردے جو کچھ کترنیں میں ہوا اس کے متعلق آپ نے پڑھا ہوگا موقع کا کوئی گواہ نہیں تھا سب کچھ رات کی تاریکی میں ہوا جو کچھ ہوا اس کے متعلق خدا بزرگ و برتر کے علاوہ صرف فرحت اور امتیاز کو پتا تھا اگر امتیاز کو آزاد کردیا جاتا تو فرحت کا باپ بذریعہ وکیل عدالت میں جا کر کہہ سکتا تھا کہ تھانیدار نے شاید پیسہ لے کر امتیاز کو آزاد کر دیا ہے یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ امتیاز کو بعد میں عدالت نے با عزت بری کردیا تھا یہ میری غلطی یا کوتاہی ہے کہ میں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ آئندہ اس قسم کی تفتیشی کہانیوں میں میں عدالتی فیصلے کا ذکر بھی کردیا کروں گا۔ یہی وضاحت بہن صائمہ نور کے لیے بھی ہے بہن آپ نے جس کہانی کے متعلق لکھا ہے میں خالد بھائی کی ڈائری میں ڈھونڈوں گا اگر ہوئی تو ضرور تحریر کروں گا۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب مجھے احساس ہوتا ہے کہ قارئین اتنی دلچسپی اور باریک بینی سے میری کہانیاں پڑھتے ہیں اب بات ہوجائے ناز سلوش ذشے کے خط کی، بہن یہ خط واقعی انعام کے قابل ہے یہ میں کوئی رسمی بات نہیں لکھ رہا بلکہ جو محسوس کیا وہ احاطہ تحریر میں لا رہا ہوں آپ کے خیالات بھی ارفع و اعلیٰ ہیں میری کہانیوں کے متعلق آپ کا تبصرہ میرے لیے باعث تقویت ہے۔ سدا سکھی رہو، احسن ابرار رضوی میرا تبصرہ پسند کرنے کا بے حد شکریہ، عمر فاروق ارشد بھائی اس بار آپ بھرپور تبصرے کے ساتھ حاضر ہیں بہت خوب لکھتے ہیں مہروں کی تکلیف کے متعلق عرض ہے کہ کافی افاقہ ہے بس دوائیں کھاتا رہتا ہوں، میری کہانی پسند کرنے اور دعائیں دینے کا شکریہ۔ آپ قارئین کی دعائیں اور ڈاکٹروں کی دوائیاں ہی اس آخری عمر میں میرا سہارا ہیں پتا نہیں کب زندگی کا چراغ بجھ جائے رمشا ملک آپ نے جو کچھ لکھا اچھا لکھا اور ٹھیک لکھا اب آئندہ بھی آپ میری بہن آتی رہیے گا۔ انجم فاروق ساحلی صاحب میری کہانی پسند کرنے کا شکریہ، مہر پرویز دولو بھائی آپ کو محفل میں دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ نے بائیکاٹ کا سلسلہ ختم کردیا ہے اور اپنے بھائی کا مان رکھ لیا ہے فلک شیر ملک صاحب کیسے ہو، میرا خط پسند کرنے کا شکریہ لیکن میری تحریر کردہ کہانی پر تبصرہ گول کردیا، خیز کبھی کبھی ایسے ہوجاتا ہے خوش رہو ریاض حسین قمر بھائی آپ کے خطوط بہت خوب ہوتے ہیں میری تفتیشی کہانیوں کے متعلق آپ کے خیالات پڑھ کر ڈھیروں خون بڑھ جاتا ہے بہت مہربانی نوازش احسان سحر آپ کا بھی شکریہ آپ کو کبھی میری کہانی پسند آئی آپ کا تبصرہ بھی جاندار اور قابل تعریف ہے خوش بوئے سخن اور ذوق آگہی میں سب کا انتخاب خوب صورت ہے۔ زرین قمر کی کشمیر کی تحریک آزادی کے پس منظر میں لکھی کہانی سلگتے چنار اپنی مثال آپ ہے بہن آپ کی تحریریں دکھ دیتی ہیں آپ نے جو موضوع چنا ہے وہ آپ کا یہ خاصا ہے باقی پرچہ ابھی زیر مطالعہ ہے۔
علی اصغر… منچن آباد۔ نئے افق کا تازہ شمارہ ملا تعریف کے لیے میری پاس الفاظ نہیں ہر لحاظ سے رنگا رنگ تھا نئے افق میں جو حالیہ تبدیلیاں کی گئی ہیں سرورق سے لے کر اختتام تک اپنی مثال آپ تھا میں عرصہ دو سال سے نئے افق کے ساتھ منسلک ہوں۔ دل پہ ہاتھ رکھ کر سانسوں کو روک کر ایک احمقانہ فیصلہ کیا ہے کہ میں با ذوق اور اہل علم کی محفل میں شریک ہوسکوں۔ یقیناً یہ فیصلہ احمقانہ فیصلہ ہی ہوگا آپ با شعور اعلیٰ قسم کے لوگوں میں، میں بھی شامل ہو سکوں گا۔ خیر ہمت کر کے یہ ٹھانی کہ نئے افق پر دستک دوں گا۔ ماہ رواں کے شمارے میں بہن زریں قمر کی تحریر ’’سلگتے چنار‘‘ بہت اچھی لگی عامر زمان عامر کی تحریر ’’پاداش‘‘ نے اس قدر متاثر کیا کہ پرانی یادیں تازہ ہوگئیں پیارے بھیا امجد جاوید آپ کی کہانی ’’عشق کسی کی ذات نہیں‘‘ اپنی مثال آپ تھی پڑھ کر ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔ ’’راہ پرخار‘‘ محمد یاسین صدیق صاحب سے مجھے مستقبل میں بھی اچھی اور دل کو چھو لینے والی تحریروں کی امید رہے گی۔ دوسرے تمام رائٹرز نے بھی نئے افق کو چار چاند لگائے یقیناً علم ہی کی بدولت معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔ پیارے بھائی مجید احمد جائی آپ کی نذر حضرت علامہ اقبال شعر۔
ذرا سی بات تھی اندیشہ عجب میں
بڑھا دیا فقط زیب داستان کو
تمام قارئین سے گزارش ہے کہ میری کوتاہیوں کو اپنی محبت کی نظر سے در گزر فرمائیں اللہ تعالیٰ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو، آمین۔
ریاض حسین قمر… منگلا ڈیم۔ قابل احترام جناب عمران احمد صاحب سلام شوق رب کریم سے امید واثق ہے کہ آپ کے رفقا بالکل خیریت سے ہوں گے اور ہم قارئین کی تسکین کے لیے اپریل 2016ء کے نئے افق کو سجا اور سنوار رہے ہوں گے مارچ 2016ء کا نئے افق زیر نگاہ ہے اس شمارے کے خوب صورت ٹائٹل کی تعریف نہ کرنا ایک مجرمانہ غفلت ہی تصور ہوگی۔ ٹائٹل پر جو منظر پیش کیا گیا ہے وہ باعث تسکین ہے خوب صورت حسینہ کے پس منظر میں جو سین دیا گیا ہے بہت ہی خوب صورت ہے اس کے لیے آپ سب کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی میں شمار ہوگا دستک میں جناب مشتاق احمد قریشی نے جو کچھ فرمایا ہے وہ ایک سو بیس فیصد سچ ہے آپ جس طرح برائی اور برائی کے مرتکب لوگوں کا بھانڈہ چوراہے میں پھوڑتے ہیں ایسا اور کوئی شاید نہ کرسکے رب ذوالجلال آپ کو سچ لکھنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین، گفتگو کے آغاز میں بیان کردہ حدیث مبارک مومن بندے کے لیے کتنی بڑی خوشخبری ہے گفتگو کے آغاز میں آپ نے اپنی بات میں معروف مصنف جناب کاشف زبیر کی شدید علالت کا بتایا پڑھ کر بہت دکھ ہوا اور دل سے دعا نکلی کہ رب کریم ان کو جلد صحت کاملہ عطا فرمائے، آمین۔ کرسی صدارت پر متمکن جناب امجد جاوید صاحب نے قارئین کے بہت سے رویوں کی نشاندہی کی ہے۔ محترم آپ کی سب باتیں سر آنکھوں پر بعض اوقات سلسلہ وار ناول کی قسط قاری نہیں پڑھ سکتا اور وہ اپنا خط ارسال کردیتا ہے جس میں جتنا پڑھا ہوتا ہے اس کا ذکر کردیتا ہے اور ناول کی قسط اس کے بعد پڑھتا ہے۔ بہرحال ہم قارئین کو چاہیے کہ جریدے میں چھپنے والے مواد پر مثبت تبصرہ کریں جو مصنف کے لیے ایک گائیڈ لائن ہو آپ کے ناول کی تو ہر قسط قابل تعریف ہے آپ کہانی کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتے ہیں اللہ کرے زور قلم اور زیادہ مجید احمد جائی صاحب کا مفصل خط پڑھا انہوں نے بہت خوب لکھا ہے اور جس طرح انہوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور معذرت کی وہ ان کی اعلیٰ ظرفی کو ظاہر کرتی ہے اب سب قارئین کے دل ان کی طرف سے صاف ہوجانے چاہیں اور انہیں صاف اور کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے انہوں نے پرچے پر بھی بھرپور تبصرہ کیا ہے۔ محترمہ صائمہ نور بھی اچھے تبصرے کے ساتھ تشریف لائیں۔ جناب احسن ابرار رضوی ایک اچھے اور جاندار تبصرے کے ساتھ تشریف لائے۔ ان کا خط ہر لحاظ سے ایک اچھا خط تھا آپ نے خوب فرمایا کہ ہر فرد اپنے ساتھ انصاف کرے تو معاشرے کی بہت سی برائیاں خود بخود ختم ہوجائیں۔ محترمہ ناز سلوش ذشے ایک بہترین انعامی خط کے ساتھ آئیں۔ انہوں نے بہت سی باتوں پر بھرپور تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے مجھ نا چیز کی بھی بڑی حوصلہ افزائی فرمائی ہے جس کے لیے میں ان کا بہت شکر گزار ہوں۔ مجھے ان کی اس تجویز سے اتفاق نہیں ہے کہ خوش بوئے سخن میں ایک ماہ غزلیں دی جائیں اور ایک ماہ نظمیں بلکہ موجودہ طریقہ ہی بہتر ہے کیونکہ غزل پسند کرنے والے قارئین اور نظم پسند کرنے والے قارئین کی ذہنی تسکین کا سامان ہوجاتا ہے محترم ریاض بٹ صاحب ایک بہت خوب صورت کہانی عاقبت اندیش اور اچھے تبصرے کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔ اتنی اچھی کہانی لکھنے پر مبارک باد۔ ریاض بھائی آپ کسی وجہ سے میرے ساتھ ناراض سے لگتے ہیں۔ بھائی اگر ایسا ہے تو میں آپ سے پیشگی معافی مانگتا ہوں۔ پیارے بھائی عمر فاروق ارشد ایک بہت ہی جاندار تبصرے اور خط کے ساتھ تشریف لائے۔ انہوں نے جناب نیر زیدی کے خط کے بارے میں جو وضاحت فرمائی ہے وہ بہت ہی واضح ہے اب موصوف کو سب باتیں دل سے نکال کر حسب سابق نئے افق کے صفحات پر جلوہ افروز ہوتے رہنا چاہیے پیارے بھائی آپ نے جس طرح میری شاعری پسند فرمائی ہے کن الفاظ میں آپ کا شکریہ ادا کروں، میرے اور میرے کلام کے بارے میں اتنی چاہت اور اتنی لگن یقیناً آپ نے اپنی چاہت اور محبت کا مجھے مقروض بنا دیا ہے۔ رب لم یزل آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، آمین۔ رمشا ملک صاحبہ کچھ باتوں سے بہت نالاں نظر آئیں ان کی بات یقیناً صحیح ہے کہ کسی بھی شخص کی کردار کشی سے ہر ایک کو اجتناب برتنا چاہیے بھائی عبدالغفار عابد بڑے اچھے اور نیک جذبات کے ساتھ تشریف لائے ہیں میں ان کی ہر بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، محترم عامر زمان عامر کا خط بہت خوب تھا میں ان کی اس تجویز سے اتفاق کرتا ہوں کہ اس ماہ کا شاعر کا پورا کلام ایک جگہ شائع کیا جائے۔ محترم آپ نے میرے کلام کو پسندیدگی کی عطا فرمائی اس سے میرے حوصلے بہت بلند ہوئے۔ خدا آپ کو جزائے خیر دے آمین۔ اچھے بھائی ممتاز احمد صاحب خوب صورت تبصرے اور اچھی باتوں کے ساتھ تشریف لائے آپ نے میرے کلام کو اتنی پذیرائی بخشی خدا آپ کو خوش رکھے۔ انجم فاروق ساحلی صاحب مختصر تبصرے کے ساتھ تشریف لائے مہر پرویز احمد دولو صاحب نئے افق کے بارے میں بڑے اچھے جذبات لے کر تشریف لائے ان کی ہر بات سو فیصد درست ہے۔ فلک شیر ملک صاحب کا تبصرہ خوب رہا۔ بھائی رانا حبیب الرحمان کا مفصل خط پسند آیا خدا انہیں اس اذیت ناک کیفیت سے با عزت نجات عطا فرمائے، آمین۔ ایم حسن نظامی بھائی میرا کلام پسند فرمانے کا شکریہ قبول فرمائیں۔ اچھے بھائی احسان سحر کا تبصرہ اس ماہ کی گفتگو کا طویل ترین اور بہت خوب صورت تبصرہ تھا لگتا ہے انہوں نے جریدے کا لفظ لفظ مطالعہ کیا اور اس کا نچوڑ اپنے خط میں پیش کردیا محترم احسان سحر آپ نے جس طرح میرے کلام کو پذیرائی بخشی اور جس انداز سے اس کی تعریف کی میں اس کے لیے آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں میں سمجھتا ہوں کہ میری محنت رنگ لائی ہے اور میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ آپ جیسے زیرک قارئین کی سمجھ میں آرہی ہے۔ جناب عبدالجبار رومی صاحب کا تبصرہ بھی خوب ہے۔ عبدالجبار بھائی میری شاعری پسند کرنے پر میں آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، آخر میں جناب غلام یاسین نوناری صاحب کا مختصر تبصرہ اچھا تھا۔ عمران بھائی اس دفعہ آپ نے گفتگو میں تقریباً 21 قارئین کے تبصرے شائع فرما کر ایک ریکارڈ قائم کردیا۔ ان میں اکثر تبصرے بڑے طویل تھے۔ فاطمہ ثریا بجیا کے انتقال کی خبر دل کو بہت غمگین کر گئی۔ ادب کا انوکھا باب ختم ہوگیا رب کائنات ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین، اقرا میں محترم طاہر قریشی صاحب جس طرح رب کائنات اللہ کے بارے میں ہمارے دل و دماغ کو روشن فرما رہے ہیں خدا انہیں اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔ تجزیہ میں واجب الاحترام جناب عبدالحمید صاحب نے جو معلومات ہمیں عطا فرمائی ہیں وہ بہت ہی قابل ستائش ہیں۔ تجزیہ کے آخر میں انہوں نے جس چاہت کے ساتھ میرے کلام کے چار اشعار پیش فرمائے ہیں وہ ان کی باریک بینی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کہانیوں میں ریاض بٹ صاحب کی عاقبت اندیش نے بہت متاثر کیا اس ماہ کے شاعر میں آپ نے محترمہ زریں قمر صاحبہ کا تعارف اور کلام پیش فرمایا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ خوش بوئے سخن میں اور ذوق آگہی میں انتخاب بہت خوب ہے زریں قمر صاحبہ کی سلگتے چنار بھی خوب رہی۔
عالیہ انعام الٰہی… کراچی۔ محترم عمران بھائی، السلام علیکم۔ رب تعالیٰ سے امید قوی ہے کہ آپ بخیریت و عافیت ہوں گے۔ آپ کی محنت، تگ و دو، مصروفیت اور ہمت لا جواب نئے افق کے ہر نئے شمارے کی صورت میں ظہور ہوتی رہتی ہے۔ نئے افق سے قطعی دور نہیں ہوں ہاں البتہ رابطہ منقطع ہوئے کافی لمبا عرصہ گزر گیا ہے کچھ تو مصروفیات آڑے آتی رہیں کبھی مزاج کی بد مزاجی راستہ روکتی رہی اور اکثر شمارہ موصول ہی بہت دیر سے ہوا اب شہر سے دور یہاں گلزار ہجری کی حدود میں آئے ہوئے تیسرا سال شروع ہوچکا ہے مگر نئے افق کے لیے وہیں فیصل بازار، مینا بازار کے اطراف کے چکر لگانے لڑتے ہیں جو کبھی بھی وقت پر ممکن نہیں ہوپاتا کہ رسالہ مل جائے۔ جنوری کا شمارہ ہی ابھی پچھلے ہفتے مل سکا ہے کہ اب شہر کی طرف جانا ذرا کم ہی رہ گیا ہے وہ تو قسمت کہ بھائی نے فروری کا نئے افق دو فروری کو لا دیا تو چانس لے کر خط لکھنے بیٹھ گئی ہوں حالانکہ مکمل مطالعہ تو قطعی نا ممکن ہے پہلے جب آتش جوان تھا تو ایک ہی رات میں تمام شمارہ پڑھ کر دم لیتے تھے اب تو یقین کریں آٹھ بجتے ہی دماغ کی بتی گل ہونے لگتی ہے۔ سونے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں سوجھتا، کچھ دل سے لگن اور امنگ رخصت ہوچکی ہے جو مہمیز ہوا کرتی تھی قلم کو لگام ڈال کر صفحہ قرطاس پر ایڑ لگا کر دوڑ لگا دینے کی۔ مگر اب بھی سرد ہوتے ہوئے جذبوں کو نئے افق کا دیدار وہ حدت عطا کرتا ہے جو میں گیارہ سال کی عمر میں نئے افق کے مطالعے سے حاصل ہوا کرتی تھی اس ماہ کے نئے افق کا سرورق لاجواب رہا۔ شاید کسی کی راہ دیکھتی ہوئی خوب صورت دوشیزہ اور راستوں میں مائل بہ سفر مسافر مگر ایسا شاذ و نادر ہی ممکن ہوپاتا ہے کہ راستے کی دھول سے امڈتا ہوا پہلا چہرہ ہی آپ کے انتظار میں اختتام پذیر ہونے کا پیغام ثابت ہو، ورنہ اکثر اوقات راستے وقت کی دھول میں گم ہوجایا کرتے ہیں اور آنکھیں جذبے کی جگمگاتی ہوئی قندیل سے بے نیاز ہو کر اندھیرے غار جیسی ہوجایا کرتی ہیں۔ دستک میں مشتاق انکل کی موجودہ سیاسی منظر نام پر سیر حاصل گفتگو اچھی رہی۔ انکل ان موضوعات پر ہمارے گھر میں صبح و شام خوب تبصرے ہوتے ہیں کیونکہ ابو کا کمرہ ہو یا بھائی کا چاہے کامن ڈرائنگ روم میں ہر جگہ ٹی وی پر صرف نیوز چینل ہی چل رہے ہوتے ہیں گفتگو میں نئے پرانے بہت سے چہرے خوب رونق لگائے ہوئے تھے دنیا تو ہوتی ہے آگے بڑھنے کے لیے ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا۔ شہناز باجی، شہنی، عبدالمالک کیف، شاذ بھائی، پیاری نازش اور سب سے بڑھ کر بخش انکل کی غیر حاضری بہت کھلی۔ ریاض صاحب خوب ہی اپنی تحریروں کے ذریعے ذہنوں پر خوشگوار طریقے سے اثر انداز رہتے ہیں عمر فاروق بھائی کا روایتی طنطنہ ہمیشہ کی طرح بہت خوب معلوم دیتا ہے۔ ان کی باتوں میں اثر ہی اتنا ہوتا ہے کہ اختلاف کرنے کا تو بنتا ہی نہیں ہے۔ بھائی آپ کو میں یاد ہوں یا بھول گئے۔ آپ جیسا لکھنے کی خواہش ہی رہتی ہے۔ اقرا کا سلسلہ باعث ثواب و آگہی ہے کہ ہم جیسے دین سے دوری پر رہنے والوں کو ایسے سلسلے نصیب ہوجانا بڑی خوش نصیبی کی بات ہے۔ مختلف رائٹرز کے انٹرویو پڑھتے پڑھتے طبیعت جلد ہی اوب جائے گی۔ اب رونق کیسے لگی یہ تو مجھے نہیں معلوم بس جو بات محسوس ہوئی کہہ دی۔ ’’ٹماٹو کیچپ‘‘ انتہائی حساس تحریر تھی خود کو بیان کرنا ثابت کرنا اور منوا لینا ایک لڑکی کے لیے کسی پہاڑ کی چوٹی کو سر کر لینے سے ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ خود کو زندہ رہتے ہوئے ختم کرلینا بڑا اذیت ناک تجربہ ہوتا ہے۔ لفظوں کے نرم پھولوں کی صورت احساسات کی مالا پرونے والوں پر سماج کے ٹھیکیدار کچھ اس طرح پابندی لگاتے ہیں کہ پھول چننے والے ہاتھ رویوں کے کانٹوں سے چھلنی ہوجاتے ہیں ڈھیر سارا ہنر منوں کے حساب سے لطیف جذبات، کومل جذبات کے انبار، معاشرتی پابندیوں اور سماج کی جھوٹی انائوں کی بھینٹ جب چڑھتے ہیں ناں تو نہ تو کہیں دھواں اٹھتا ہے نہ کہیں ماتم سنائی دیتا ہے اور نہ ہی کوئی آنسوئوں کا ریلا دکھائی دیتا ہے۔ بس فقط ایک وجود باقی رہ جاتا ہے جس کا کام صبح سے لے کر رات تک ذمہ داریوں کو پورا کر کے تھک ہار کے پڑ جانا ہوتا ہے۔ جیتے جی روزانہ بے حسی کی لحد میں اترا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ایک ہی بار کفن پہن کر قبر میں اتر جانا ہوتا ہے۔ فن پارے پڑھ کر طبیعت باغ باغ ہوگئی۔ ’’دہلی میں موت‘‘ سماعتوں کی زبان سناتی ہوئی زبان سے ادا نہ ہونے والی باتوں کو انداز تکلم عطا کرنے والی تحریر تھی۔ طبیعت حساس ہو تو دور و نزدیک بپا ہونے والے مغربی شور اور موت کے ہاتھوں اٹھنے والے بڑے طوفانوں کو سن بھی لیا جاتا ہے اور سمجھ بھی لیا جاتا ہے ورنہ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زیست یونہی تمام ہوتی ہے۔ ’’اگنی پریکشا‘‘ بہت مختصر مگر بہت وسیع اثر انگیزی کی حامل تحریر تھی کہنے سننے کو اس میں شاید کوئی کہانی نہیں تھی مگر کیا کسی بھرپور زندگی کا موت میں ضم ہوجانا بذات خود کوئی بڑا قصہ نہیں ہے۔ ’’کتنے دہشت گرد‘‘ موجودہ حالات کے تناظر میں ایک جھنجوڑ دینے والی کہانی رانی کا پربت بنا لینا اندیشوں کو طوفان بنا لینا انسانی ذہن کی فکری کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے جو اکثر اوقات ایسے ہی کسی دلدوز سانحہ پر منتج ہوتی ہے۔ ’’غدار‘‘حب الوطنی کے جذبے سے معمور ایک بوڑھے کی اولاد جو نادانستگی میں غداری کر بیٹھا مگر ضمیر کے شفاف لوگ کبھی خود سے جھوٹ نہیں بول پاتے۔ دنیا سے جھوٹ بول کر اپنا آپ بچا لینا بڑا آسان ہوتا ہے مگر اپنے دل اور روح کے آگے صاف نیت کے لوگ ایسے ہی جان لٹا دیا کرتے ہیں۔ ’’یکم اپریل‘‘ مغربی تقلید کی خاطر خود کو نقصان پہنچاتی ہوئی ہماری تہذیب اور اخلاق قدروں کے لیے ایک بھرپور طمانچہ تھی شاید کہ ہم آج بھی ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ ہوجائیں ورنہ خود سے جدا ہو کر غیروں کی تقلید کرنے والی قوموں کی تقدیر میں فقط تباہی اور رسوائی ہی رہ جاتی ہے۔ ’’میرا محرم میرا مجرم‘‘ نئے افق کی روایتوں سے ہٹی ہوئی تحریر تھی۔ بہت سی پرنٹنگ کی غلطیوں کے باعث پڑھنے میں کافی دقت آتی رہی۔ غلط فہمیاں اور بد گمانیاں انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتیں۔ ایک لمبے عرصے کے لیے جدائی کی تڑپ سے متاثر ہوتے ہوئے جذبوں کی یہ کہانی دل کو لبھانے والے رومانس کا کہیں نام و نشان نہ تھا مگر دل بے نام سی اذیت اٹھاتا ہوا دکھائی دیا۔ کبھی ماضی تو کبھی حال کے قصے کہانی کو جوڑے رکھنا کافی مشکل کام تھا مگر خوب ہوا، حالانکہ پڑھتے ہوئے کافی الجھن ہوتی رہی۔ بہرحال یہ ناولٹ اچھا رہا حالانکہ اس تجربہ کو پسند کرلینا میرے مزاج کے خلاف ہے عمران بھائی مزید مطالعہ نا ممکن ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی میں ضرور مطالعہ کر کے رائے سے آگاہ کروں گی۔ اللہ حافظ
عمر فاروق ارشد… فورٹ عباس۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ محترم مدیر صاحب کیسی طبیعت ہے امید ہے کہ اللہ کی رحمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ مارچ کا شمارہ قدرے دیر سے موصول ہوا جس کی وجہ ہماری یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کا تصادم اور حالات کی خرابی تھی۔ لائبریری کافی دیر بند رہی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے کامیاب مذاکرات کے ذریعے صورت حال پر قابو پانے کی سعادت بھی اس بندہ ناچیز کے حصے میں آئی۔ بہرحال، حسینہ کی زلفوں کی اوٹ سے جھلک دکھلاتے ہوئے سورج کے ساتھ سرورق اس بار بھی منفرد تھا۔ بلا شبہ اس معاملے میں نئے افق نے بہت کم عرصے میں بہت زیادہ بہتری حاصل کی ہے۔ امید کرتا ہوں بہتری کا یہ سفر جاری رہے گا۔ سرورق سے جو چھلانگ لگائی تو سیدھا گفتگو میں جا ٹپکے۔ وللہ، اس دفعہ محفل گفتگو کو جس وسیع القلبی کوسعت عنایت فرمائی گئی ہے اس نے تو ہمارا دل جیت لیا۔ میں چاہوں گا کہ مستقل طور پر خطوط کی تعداد اتنی ہی کردی جائے جتنی اس مرتبہ تھی۔ امجد جاوید صاحب کرسی صدارت پر براجمان پائے گئے جناب جتنی اچھی کہانیاں لکھ لیتے ہیں اس سے کہیں بہتر تبصرہ کرتے ہیں۔ ناجانے مجھے کیوں محسوس ہوا کہ بھائی جان کو میرے اوپر خاص تپ چڑھی ہوئی ہے مگر صبر کا پیالہ پی کر رہ گئے ہیں۔ محترم ہمارے سینئر لکھاری ہیں تنقید کے کوڑے برسا بھی دیتے تو ہم ہنس کر سہہ لیتے۔ خیر آپ کے تجویز کردہ دیسی نسخہ جات استعمال کرنے کی کوشش کروں گا، دعا فرما دیجیے گا۔ ناز سلوش ذشے آپ کے نام کا پس منظر جان کر میں دنگ رہ گیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ بعض اوقات بندے کی اس حد تک بھی مت ماری جاتی ہے جو سیدھا سادا نام ہو انسان اس کو ہی آگے لے کر چلے تاکہ ان کا مان بھی بڑھے جنہوں نے جنم دے کر ہزاروں چاہتوں سے نام رکھا ہوتا ہے شاید کوا چلا ہنس کی چال بھی اسی کو کہتے ہیں۔ رانا حبیب الرحمان صاحب خوش آمدید۔ ماہنامہ سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ میں طبع آزمائی کرتے ہوئے آخر آپ نے نئے افق میں بھی قدم رنجہ فرما ہی دیا وہاں تو آپ خاصا اچھا لکھا کرتے تھے مگر یہاں کیا ہوگیا؟ کلو میٹرز کے حساب سے لمبا تبصرہ اور منہ متھے کے بغیر…؟ شروع میں کہہ رہے ہیں کہ چپ ہی بھلی اور آخر میں نئے افق کے تمام غریب لکھاریوں کو چیلنج کردیا کہ ہو جس میں دم آئے آزمائے مجھے اس بہادری کے لیے تعریف قبول فرمائیں۔ مگر خیال رکھیے گا کہ نئے افق کے تبصرہ نگاروں میں بڑے بڑے توپ قسم کے بندے پڑے ہیں جو ایک ہی توپ سے اکیس توپوں کی سلامی دے دیتے ہیں محترم عبدالحمید صاحب نے اپنے تجزیے سے ہمیں حد درجہ متاثر کیا۔ یقین کریں اتنی محنت ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ یہ سب کچھ دلی تعلق کی بنیاد پر ہی ہوسکتا ہے۔ یقیناً عبدالحمید صاحب کے اس احسان کا بدلہ قارئین اور ادارہ چاہتے ہوئے بھی نہیں دے سکتا۔ ان کا تجزیہ ایک جھومر تھا جو انہوں نے نہایت ہی عقیدت سے نئے افق کی پیشانی پر سجا دیا۔ جب تک اس طرح کے مخلص لوگ ہمارے ساتھ منسلک ہیں تب تک ہم نئے لوگ بھی اپنی بساط کے مطابق نئے افق کی کامیابیوں میں حصہ ڈالتے رہیں گے۔ اب بڑھتے ہیں کہانیوں کی طرف دو ناول اختتام پذیرہوئے امجد جاوید صاحب ’’عورت زاد‘‘ کب تک لے کر آرہے ہیں کوشش کریں کہ ذرا جلدی حاضری دیں ناصر ملک صاحب کو اب جانے مت دیجیے گا بلکہ ان سے کوئی طویل ناول شروع کرائیں دیگر کہانیوں میں ریاض بٹ سب سے اوپر موجود ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ ’’شیطان‘‘ نامی کہانی انتہائی دقیانوسی پلاٹ پر تعمیر کی گئی تھی۔ وہی پر اسرار خوش بو، لوبان کی دھونی اور وہی بابا جی جو کہ اس طرح کی کہانیوں میں خاک چھانتے پھرتے ہوتے ہیں۔ البتہ سیاہ بکرے کی جگہ سیاہ مرغی اور کالے الو کی بجائے مرغی کا انڈہ شامل کر کے عزت مآب لکھاری نے دانشمندی کا ثبوت دیا۔ نوشاد عادل کی ’’ضرورت‘‘ نامی کہانی اچھی کاوش تھی۔ اس کے علاوہ راہ پرخار اور لب بام بھی زبردست تھیں۔ کہانیوں کے سلسلے میں میری ایک خواہش ہے کہ ہر بار کم از کم ایک آدھ تحریر تو مزاح پر مشتمل ہونی چاہیے گزشتہ دنوں میں نے ٹونی اور منظور سیریز شروع کر کے اپنی سی کوشش کی تھی جو کہ کسی حد کامیاب بھی رہی مگر اس کے بعد اس سیریز کی دو کہانیاں آپ کے پاس پڑی ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ آج کے اس دور میں جب ہر دوسرا بندہ ذہنی اذیت اور پریشانیوں سے دوچار ہے تو ایسے میں معیاری طنز و مزاح انسانی نفسیات پر ایک اچھا اثر ڈالتا ہے بڑھتے ہیں ذرا اپنے خوش بوئے سخن کی طرف آپ نے ریاض قمر صاحب کی پچھلی بار بلے بلے کرا کر اس دفعہ کھڈے لائن لگا دیا، یار کم از کم اس کی غزل تو ہر ماہ شامل کردیا کریں دیگر ساتھیوں نے عمدہ لکھا خاص طور پر ڈاکٹر علی تابش کی غزل اچھی لگی آزاد نظموں کا لمبا سلسلہ چل نکلا ہے پہلے ایک فلسفے کی طالبہ ہوا کرتی تھیں اور اب نجانے کتنی محترمائیں اس میدان کارزار میں کود پڑی ہیں اس کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک آزاد نظم نجانے کتنی غزلوں کا حلق گھونٹ دیتی ہے۔ کیونکہ اس کا محل وقوع اور حدود و اربعہ خاصا وسیع ترین ہوتا ہے امید ہے کہ نوشین بہنا میری بات کو سمجھ گئی ہوں گی آخر میں اقبال بھٹی بھائی اور اپنے عمران صاحب کا خصوصی مشکور ہوں کہ ان کی پیار بھری توجہ سے میں نے مسلسل سب سے زیادہ خطوط لکھنے کا اعزاز اپنے نام کرلیا ہے دعائوں میں یاد رکھیے گا، والسلام۔
بشریٰ کنول… جناح کالونی، فیصل آباد۔ جناب مشتاق احمد قریشی صاحب، سلام مسنون کہیے مزاج گرامی کیسے ہیں میں ایک اسکول ٹیچر ہوں اور ماہنامہ نئے افق کی خاموش قاری ہوں کئی جرائد پچھلے ایک لمبے عرصے سے میرے زیر مطالعہ رہتے ہیں مجھے مطالعے کا جنون کی حد تک شوق ہے یہ میرا نئے افق کو پہلا خط ہے اور خط لکھنے کی وجہ ڈائجسٹ کا معیاری ہونا ہے مجھے کوئی لمبا چوڑا تبصرہ کرنا تو نہیں آتا بس لگی لپٹی رکھے بغیر سیدھا سیدھا اپنے خیالات کو قلم بند کر رہی ہوں۔ دستک میں آپ نے عزیر بلوچ کی گرفتاری کے حوالے سے جو لکھا ہے اور جو نکتہ نظر آپ نے پیش کیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل قابل غور ہے۔ گفتگو میں سب لوگوں کے خطوط باریک بینی سے پڑھے۔ امجد جاوید، مجید احمد جائی، صائمہ نور کے خطوط مدلل تھے احسن ابرار رضوی نے زبردست انکشاف کیا ہے اور میں تائید کرتی ہوں صفحہ نمبر 158 پر شائع ہونے والی کہانی پاداش ایک چوری شدہ کہانی ہے یہی کہانی کچھ عرصے پہلے ایک جریدے میں شائع ہوچکی ہے۔ اس کا عنوان ہوس کے پجاری تھا اور اصل مصنف سعید جاوید ہیں اب کئی سال کے بعد عامر زمان عامر نے اس کے کرداروں کے نام وغیرہ تبدیل کر کے اپنے نام سے شائع کرائی ہے تو یہ ایک انتہائی شرمناک اور گھٹیا حرکت ہے۔ میں اس کی پر زور مذمت کرتی ہوں اور آپ سے ریکوئسٹ کرتی ہوں کہ خدارا ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں کیونکہ اس طرح کی چوری شدہ تحریریں ڈائجسٹ کے معیار کو گرا رہی ہیں پیاری بہن ناز سلوش ذشے انعامی خط لگنے پر بہت بہت مبارک ہو آپ کا خط بہت خوب صورت تھا اور واقعی انعام کا حقدار تھا آپ نے درست کہا اب خواتین رائٹرز کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ ریاض بٹ صاحب آپ اگر برا نہ مانیں تو ایک گزارش ہے وہ یہ کہ انگریز دور کے احمد یار خان کی لکھی ہوئی کہانیوں کی طرز پر اب گھسی پٹی کہانیاں لکھنا چھوڑ دیں اب ان میں دم خم نہیں رہا۔ اب موجودہ دور کی پولیس کی تفتیش پر لکھیں جہاں ہر قدم پر ظالم اور مظلوم کی جیبیں کاٹی جاتی ہیں۔ پیسے کے بغیر نہ تو ایف آئی آر درج ہوتی ہے اور نہ ہی تھانیدار بات سنتا ہے جب تک اس کی جیب گرم نہ ہو، عمر فاروق ارشد تو صرف وضاحتیں کرتے نظر آئے۔ رمشا ملک میری بہن آپ نے ٹھیک کہا مذہب سے عاری اور ادب سے ناپید لوگ صرف کردار کشی ہی کرسکتے ہیں ان میں کوئی خوبی اور کمال تو ہوتا نہیں بس قلم کے ذریعے دوسروں پر برسنا ہی آتا ہے بھائی ممتاز احمد آپ نے محترم ڈاکٹر محمد اقبال صاحب کے انٹرویو کی بات کی تو عرض کردوں میں خود ان کی بہت بڑی مداح ہوں وہ میرے استاد ہیں بس اب آپ اور انتظار نہ کرائیں جلد از جلد ان کا انٹرویو اور افسانہ بھیجیں یہ آپ کا ہم سب پر بہت بڑا احسان ہوگا اور ہاں اپنی بھی کوئی کہانی بھیجیں نا پلیز۔ فلک شیر ملک اور رانا حبیب الرحمان کے تبصرے بہت مدلل تھے بھائی ریاض حسین قمر کی شاعری بہت لاجواب تھی فروری کے شمارے میں بزرگوار جناب ایم حسن نظامی صاحب کی پہلی انٹری اچھی لگی۔ بھائی علی حسنین تابش کا خط مختصر مگر مدلل اور بہت اچھا تھا احسان سحر کا خط بہت طویل اور اچھا تھا۔ عبدالجبار رومی انصاری اور غلام یاسین نوناری کے خطوط بھی اچھے تھے۔ آپی جان زریں قمر کی شاعری اور کہانی سلگتے چنار نے تو دل جیت لیا۔ نوشاد عادل کی ضرورت بہترین کہانی تھی۔ راہ پرخار اچھی تحریر تھی۔ شاہدہ صدیقی بہت اچھی کہانی لے کر آئیں۔ شیطان شیطان زبردست کہانی تھی اوجھل اچھی کاوش تھی۔ باقی فن پارے ابھی زیر مطالعہ ہیں۔ حنا نور، حمیرا فضا، عروج فاطمہ کی شاعری بہت اعلیٰ تھی۔ اب تک کے لیے بس اتنا ہی اگلے ماہ اپنے خط کے ساتھ حاضری کی کوشش کروں گی تب تک کے لیے اللہ حافظ۔
ریحانہ عامر…بورے والا۔ پیارے انکل محترم مشاق احمد قریشی، محترم اقبال بھٹی ،بھائی طاہر قریشی ، ڈیر رائٹر حضرات۔ سلام مسنون۔امید گو ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہوں گے، خدا وند کریم ملک عزیز کو دشمن کے ناپاک عزائم اور ہر اندرونی و بیرونی آفت سے محفوظ رکھے (آمین)مارچ کے شمارے کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کا خلاصہ و تبصرہ ذیل کی سطور میں حاضر خدمت ہے،اس دفعہ تو ٹائٹل بہت ہی پیارا تھا کیونکہ خوبصورت ریشمی زلفوں والی نازک حسینہ نے مارچ کے شمارے کا ٹائٹل جاندار اور قابل دید بنا دیا،ابتدا انکل مشتاق قریشی کے فکر انگیز اداریے سے کی جس میں سندھ کی برسر اقتدار حکومت کے کرتوں کا تجزیہ بیان کر کے انکل قریشی صاحب نے حق ادا کر دیا ، حیرت انگیز انگشافات پڑھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے صرف کرپشن ،لوٹ مار کا ہی بازار نہیں گرم کر رکھا بلکہ ،قتل و غارت، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اسٹریٹ کرائم سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیوں میں ملک دشمن عناصر کی پشت پناہی کرنے والے بھی ہمارے ہی حکمران ہیں جن کی بدولت روشنیوں کے شہر کا امن غارت ہو چکا ہے ، مٹھی، تھر سمیت پورا سند ھ مسائل کا شکار ہے ، ان کی کا ر ستانیاں جان کر دل تو کڑھتا ہے مگر پوری قوم سے میرا ایک سوال ہے کہ قوم کب تک چشم تماشا بنی رہے گی ہم عملی طور پر ان کے خلاف کب سر گرم ہوں گے کیا یہ فرض محض اہل قلم،میڈیا پر عائد ہے ،کیا پست معیارِ زندگی، غربت ، پسماندگی، بد امنی ہی ہمارا مقدر ہے،جن معصوم ہاتھوں میں قلم کتاب ہونی چاہیے تھی آج ان ہاتھوں میں یا تو بم ، بندوق ہے یا کشکول گدائی ہے، بھوک زندگی کی تہذیب بھلا دیتی ہے۔
تُو تو رازق ہے تجھ سے کیا پردہ
کل سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا
نئے افق کا مستقل سلسلہ اقراء پڑھ کر دلی تسکین ملتی ہے۔ معروف ڈرامہ ، افسانہ نگار محترمہ فاطمہ ثریا بجیا کی جدائی کا دلی صدمہ ہوا ،ان کی رحلت کی صورت اردو ادب کا ایک سنہری باب بند ہو گیا، خدا ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرئے۔خطوط کی محفل میں اول انعام کی حق دار آزاد کشمیر کی ہماری بہن ناز سلوش ذشے لاجواب تبصرے کے ساتھ سر فہر ست ہیں ،پیاری ناز آپ کو کس نے کہہ دیا کہ نئے افق کی سر زمین پہ محض مردانہ رائٹرز کا قبضہ ہے ،حال ہی میں میرا افسانہ ’’کشول‘‘ نئے افق کے صفحات پہ جگمگایا تھا شاید آپ کی نظر سے نہیں گذرا ،بہر حال فکر ناٹ ہم تمام بہنیںمل کرخواتین رائٹرز کی شرح کبھی کم نہیں ہونے دیں گی،گڈ سسٹر بلا تاخیر گفتگو میں شرکت کرتی رہنا ، آپ کا خط پڑھ کے بہت خوشی ہوئی ، گذشتہ ماہ کا خط جس میں ان تمام خواتین و حضرات کا شکریہ ادا کیا تھا جنہوں نے میرے افسانے کو پسندیدگی کی سند سے نوازا مگر شاید وہ خط ادارہ کی ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گیا۔بہر حال جن بہن بھائیوں نے حوصلہ افزائی کی ان کی تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔خطوط میں ایک راز جو باوجود کوشش کے ہضم نہیں ہو سکا ایک ہی حضرت نے تین عدد خط تین مختلف ناموں سے لکھے بالتریب تینوں ہی خطوط کا طرزِ تحریراور متن بخوبی پول کھول رہا ہے ،انکل حسن نظامی اور بھائی ممتا ز احمد اچھے الفاظ میں یاد آوری کا شکریہ،سولہ سال بعد انکل عبدالحمیدنے تو سولہ سال کی کسر ایک ہی شمارے میں پوری کر دی ، آپ کے تبصرے کی داد دینا پڑے گی،ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے اپنی فیورٹ لکھاری پیاری آنٹی زرین قمرکی ’’سُلگتے چنار‘‘پڑھی جو کہ بہت متاثر کن تھی انشاء اللہ ایک نہ ایک دن تو ضرور ہمارے کشمیری بھائیوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی،طاہرہ جبیں کی رگ جاناں،ریاض بٹ کی عاقبت اندیش اور نوشاد عادل کی ’’ضرورت‘‘دونوں میں معاشرتی جھلک نظر آتی ہے ،زینب اصغرکی پس آیئنہ، یاسین صدیق کی تخلیق ’’راہ پُر خارشاہدہ صدیقی کی لبِ بام،عتیق حسن بیگ کی شیطان لاجواب تخلیقات ہیںجوپڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں،عامر زمان عامرکی پاداش جنسی ہوس کاشکار کرداروں کی نشان دہی کے ساتھ دوستی جیسے نازک رشتوںمیںشعورکا درس بھی دیتی ہے ، بھائی پرویزدولو کی لا جواب شاہکار تخلیق،باعصمت سبق آموزاور ٹاپ آف دی لسٹ کہانی تھی گڈ بڑے بھائی،ذوقِ آگاہی کالم میں سبھی کے انتخاب اچھے تھے،خوشبو سخن میں حنا نور ، حمیرا فضا،عروج فاطمہ اور کامی شاہ کی شاعری بہترین اور لاجواب تھی ، نامور شاعرہ زریں قمر کاتعارف اور شاعری پڑھ کر خوشی کے ساتھ خوشگوار حیرت بھی ہوئی کہ آپ باکمال کہانی نویس کے ساتھ ساتھ بہترین شاعرہ بھی ہیں ان کے کلام میںفنی پختگی، گہرا مشاہدہ اور فطرت کے مناظر کی عکاسی، بے مثال ہے خدا آپ کو مزید کامرانیاں عطا کرئے ، کسی کو کوئی بات بری لگی ہو تو اس کے لئے معذرت بہت جلد تازہ کاوش کے ساتھ حاضر ہوں گی تب تک اجازت۔خدا حافظ۔
عامر زمان عامر…بورے والا۔ مدیرِمحترم وقارئین کرام آداب عرض! ورطہِ حیریت کے تخیل میں ڈوبی دلکش حسینہ کے ساتھ سرورق جاذبِ نظر تھا،مارچ کے شمارے کی دستیابی اور راقم الحروف کی تخلیق’’پاداش‘‘ شاملِ اشاعت کرنے پر ادارہ ’’نئے افق ‘‘کا ممنون ہوں’’جناب مشتاق قریشی‘‘ کے نشتر قلم سے سیاسی قائدین کو آیئنہ دکھاتا ، عوام الناس کے ضمیر جھنجوڑتا ’’دیکھنا ہے کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا ‘‘پڑھا، بہت خوب ،کاش یہ باز گشت اقتدار کے نشے میں مست حاکمِ وقت کے ایوانوں تک سنائی دئے، ازل سے غلام ابنِ غلام قوم کے لئے صورِ فیل کا کام کرئے ، صد افسوس کہ کرپشن زدہ نظا م کاپودا ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے سیاست کی زمین پہ بویا ہے، جو ہماری لاچارگی کے صحنوں میںروز بروز پھیلتا جا رہا ہے۔ مقامِ غور و فکر تو یہ بھی ہے کہ قوم دلی یکسوئی و سنجیدگی کے ساتھ پختہ عزم کی ٹھان لے تو تقدیر بدل جائے بقولِ محسن نقوی۔
کل شب یوں ہوا کہ ہوائوں کے دوش پر
بجھتے ہوئے چراغوں نے جلنے کی ٹھان لی
قابل قدر امجد جاوید ’’عورت زاد‘‘ کے لئے پیشگی مبارکباد قبولیئے۔ خدا وند کریم محترم کاشف زیبر صاحب کو شفائے کاملہ دے۔ اردو ادب کے معتبر حوالے’’فاطمہ ثُریا بجیا‘‘ممتا ز مصنف محی الدین نواب، محمد اعظم کو خداجوارِ رحمت میںجگہ اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے‘بھائی ریاض بٹ،ریاض قمر،عزت افزائی کے لئے بے حد سپاس گذار ہوں۔برادر عزیز ممتاز احمد سرگودھا۔جس جنگ میں رشتوں کے ہار جانے کا اندیشہ ہو اس میں ہتھیار ڈال کر شکست تسلیم کر لینا ہی اصلی جیت ہے،اللہ رشتے برقرار رکھنے والوں کو پسند کرتا ہے،ہماری توکسی سے کوئی ناراضگی ہے ہی نہیںکیونکہ‘‘مُشک آنست کہ خودببوریدنہ عطار بگوید‘‘ (خوشبو خود بتائے کہ’’میں‘‘خوشبو ہوں،نہ کہ دکانداربتائے یہ خوشبو ہے) بڑے بھائی عبدالغفار عابدآپ کی مثبت سوچ اور محبتوں کا پیغام قابلِ صد تحسین ہے ،بلا شبہ آپ کے تجزئے ، تبصرے آپ کی بلند ظرفی کی واضح دلیل ہیں، آپ ہمارے قلمی فخرکا مان ہو ‘حسن نظامی،آپ کے خط کی سطریں آپ کے ذوق کی آیئنہ دار ہیں،اپنائیت کے لئے مشکور ہوں‘ایمان افروزاسلامی سلسلے’’اقراء‘‘میں کتابِ حکمت کا ترجمہ و تفسیرپڑھ کرایمان تر و تازہ ہو گیا، جزاک اللہ ‘سولہ سال کے طویل عرصے بعد محترم عبدالحمیدنے چالیس سال چار ماہ تک کے نشیب و فراز کاتجزیاتی نچوڑکاغذ کے حوالے کر دیا ، قوت ِ حافظہ اور ذوقِ مطالعہ پہ آفرین ہے۔ محترمہ زرین قمر کے قلم سے جدو جہد ِآزادی کی روداد پہ مبنی ’’سُلگتے چنار‘‘میںسطر بہ سطر غاصب سامراج کوآزادی کا پیغام دیا گیا ہے،گذشتہ کئی دہائیوں سے آزادی کے متوالے مظلوم کشمیری بھائی جذبہ آزادی لئے فیصلِ شب میں روزن بنانے نکلے ہیں، رات کس قدر کالی ہی کیوں نہ ہو چٹکی بھر روشنی سے ہار جاتی ہے، وہ دن دور نہیں جب کشمیر ی عوام کے نہ حق خون سے آزادی کا سورج پھوٹے گا(انشاء اللہ)’’عاقبت اندیش ‘‘میںپیشہ ورانہ معمولات سے ایک واقعہ سادہ زبان میں بیان کیا گیا جو کہ شوہر سے ازدواجی انتقام کی عام سی کہانی ہے (معذرت کے ساتھ )بوقتِ تخلیق کہانی کے متن کی مناسبت سے موزوںعنوان اور کردار کی مماثلت کے لحاظ سے نام کا انتخاب فنی پختگی کا لازمی جز ہے ،جھگیوں میں رہنے والے پکھی واس کردار کا نام افشاں تجویز کرنا سوٹ نہیں کرتا،کردار سے مشابہت کا حامل نام منتخب کیا جاتا تو حسن اور بڑھ جاتا بہرحال تھیم اچھا تھا اور ہاں ریاض بٹ صاحب یہ میری ذاتی رائے ہے جسے قبول یا رد کرنے کا مکمل اختیار آپ کو حاصل ہے۔ نوشاد عادل کی ’’ضرورت‘‘میں معاشرے کی تلخ حقیقت بے نقاب کرنے کی اچھی کاوش ہے۔خواہشات کا دائرہ وسیع کرلینے سے اپنے ہی نفس کے ہاتھوں خواری ہوتی ہے ’’عشق کسی کی ذات نہیں‘‘آخری کڑی لاجواب رہی۔
قُربتِ یار سے محسن کو بقا ملتی ہے
ظرف پروانے کا چھوٹا ہے جو مر جاتا ہے
محترم یاسین صدیق کی تخلیق ’’راہ پُر خار‘‘مصنف کی عمدہ کاوش ہے ،جذباتیت کی رو میں سرزد ہمارے اکثر فیصلے عمر بھر کے لئے پچھتائوے کے طوق بن کر گلے سے لٹک جاتے ہیںمغربی ادب سے کشید شدہ ’’لبِ بام‘‘ میں اندازِ بیان ، منظر نگاری کا فن، الفاظ کی مینا کاری لاجواب ہے‘عتیق حسن بیگ کی ’’شیطان‘‘رحمن اور شیطان کی پیروی کے درمیان واضح خط کھینچتی ہے‘جاگیردارانہ نظام کے خلاف بھرپور انداز میں کلمہ حق بلند کرتے نظر آئے بھائی مہر پرویز احمد دولواپنی شاہکار تخلیق ’’باعصمت‘‘میں ،بطور ماہر کہانی کار مہر پرویز کی ہر تخلیق بذریعہ قلم مشاہدہ بلا شبہ منفرد ہوتا ہے۔محترم حسن عادل کی ’’اوجھل‘‘پڑھ کر دوستی جیسے مقدس رشتوں کے گر د گھومتا منفرد مشاہدہ ہے، جس میں ہر حال میں رشتے مقدم رکھنے کا درس ملتا ہے ‘صد ر ا مین الدین کی’’بے چین شہر کی پر سکون لڑکی‘‘باہمی درد سے عاری لوگوں کے لئے اچھا میسج ہے بطورِ خاص مصنف کا شاعرانہ عنوان منتخب کرنا بے حد پسند آیا‘فکر و فن کے نایاب گوہر بانٹتی ’’رگِ جاناں‘‘طاہرہ جبیں تارا کے نشتر قلم سے معاشرے کے پوشیدہ کرداروں سے خوب انصاف کرتی ہے ،جس میں ہر خاص و عام کو لاجواب انداز سے دعوتِ فکردی گئی ’’پسِ آیئنہ‘‘ثمینہ چوہدری اور مہرین مرزا کی صورت رشتوں کو اجاگر کرتی ناقابلِ فراموش کہانی ہے ویلڈن زینب اصغر مغل عمران راجپوت کی ’’یادوں کی پرچھائیاں ماضی کی یادوں سے جڑی تلخیوں کی ایک ہلکی سی تصویر ہے ، یادوں سے کٹ کر جینا بھی ممکن نہیں مگر جو اپنے ماضی کو یاد رکھتا ہے اس کے زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں۔’’خالد جاوید کی قربانی‘‘کی پیشانی پر ایڈیٹر کی جانب سے زریں الفاظ کچھ اس طر ح رقم تھے ’’وہ محبوبہ تھی،دوست تھی ، محبوبہ تھی،محافظ یا قاتل تھی‘‘جو کہ یقینا پروف ریڈنگ کی غلطی ہو سکتی ہے مگر ایڈیٹر محترم سے گذارش ہے گو کہ معمولی غلطی ہے مگر معیار کے ساتھ پروف ریڈنگ کسی بھی پرچے کی مقبولیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بہرحال کہانی اچھی تھی۔ آغازالدین کے قلم سے گورگھ دھندا ’’ لمحاتی مشاہدے کے ساتھ مغربی و مشرقی کلچر کی بھر پور نمائندگی کرتی بہترین کوشش ہے ‘ذوقِ آگاہی پڑھ کر خوشی ہوئی کہ میرے اپنے ضلع وہاڑی سے محترمہ شمائلہ رفیق نے میدان مارا ہے علاوہ ازیں مہر پرویز، ریاض بٹ اور گل مہر کے انتخاب اچھے تھے خوشبو سخن میں صداقت حسین ساجد کا احمد فراز کے کلام سے انتخاب انعام یافتہ ٹھہرا ،حنا نور،عروج فاطمہ، عمر فاروق ارشد،سید کامی شاہ کا کلام قابل تعریف تھا ناصر ملک کے قلم سے مخصوص کیفیت میں تخلیق شدہ زادِ راہ کے آخری حصے کا اختتام بھی اچھا رہا اپنے نام کی معنوی تعبیر رکھنے والی خوش شکل،شاعرہ محترمہ زریں قمر کاتعارف اور دلو ں کے تار چھوتا کلام پڑھ کر شاعر انہ جذبوں کو تقویت میسر آئی،مشاہدات سے ذات کے سفر پہ نکلنا درحقیقت آگاہی کی طرف بڑھنے کا واضح اشارہ ہے کیونکہ باہر کے مناظر سمٹ کر ذات میں حلول ہوتے ہیں تو احساس و جذبے نمو پاتے ہیں، پھر یہی جذبے اظہار کو الفاظ کے ڈھانچے میں ڈھالتے ہیں تو حرف صورت ِبسمل قرطاس کی چادر پہ ٹوٹنے لگتے ہیں ، زریں قمر کے کلام میںنئی تراکیب ، لفاظی و مینا کاری پڑھنے والے کو مجبور کرتی ہے کہ ٹھٹک کے رک جائیں،عجیب سی دھند کے غلاف میں لپٹے مناظرکے بیان میں لفظوں کا بر محل استعمال جملوں کو دوآتشہ کردیتا ہے،اس کے اندازِاسلوب میں خیال کی کو ملتا بھی ہے اور الفاظ کی سندرتا بھی اسے لفظوں کو اذن خرام دینا بھی آتا ہے اور خیال کو پرلگانا بھی آتا ہے۔ زریں قمرکی جو خوبی عہدِ حاضر کے جملہ ہم عصرشعرا سے ممتار کرکے اسے پروانے جیسا ظرف بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ نہ صرف فطرت کے بیان میں قدرت نے آپ کو مناظر کی زبان دے رکھی ہے بلکہ آپ کمال فطرت شناس بھی ہیں جیسا کہ انگریزی ادب میں رجحان ہے کہ(William Words Worth)کو فطرت کا شاعر کہا جاتا ہے۔کلام میں جا بجاعصری شعور، قومی و ادبی فکر، ملی احساس ، عوامی درد اور معاشرتی زبوں حالی کی کسک بھی نظر آتی ہے۔کلام میں مشاہدے کے بیان کے موضوعات اور شیڈز مختلف ہیں، لہجے کی کاٹ ،بلند خیالی ، منظر کشی، محبوب سے مکالمہ، آگاہی، غم دنیا و دل، زمانے سے گلہ گرازی، زندگی و کائنات کے بارے سوالات اور مذہبی فکراس کی اجزائے ترکیبی ہیں،دلی دعا ہے کہ اس کی شاعری دوائمی پذیرائی حاصل کرے اور کومل جذبوں کی عکاس زریں قمر اپنے مداحوں کے لبوں پہ مانندِ گلاب سدا مہکتی رہیں۔(آمین)
گل مہر… کراچی۔ السلام علیکم امید ہے کہ آپ اور نئے افق کا اسٹاف خیریت سے ہوں گے سب سے پہلے تو مارچ کے مہینے کی غیر حاضری پر معذرت مصروفیت کے باعث گفتگو کی محفل میں شریک نہ ہو سکی جس کا بے حد افسوس ہوا۔ مارچ کا نیا افق بھی اس بار ہماری طرف دیر سے آیا لیکن شکر ہے کہ مل گیا بہرحال مارچ کا شمارہ ملاحظہ کیا حسب معمول ٹائٹل پر نگاہ ڈالی بدیسی گرل کا کلوز اپ اس کے عقب سے طلوع آفتاب کا حسین منظر ہمیں امید صبح بہار رکھنا کا پیغام دیتا محسوس ہوا۔ پھر افق پر محو پرواز عقاب کو دیکھا واہ کیا شان ہے اس کی اور کس شان سے فضا میں محو پرواز ہے۔ غالباً ان کی جوڑی دار ہیں جو اپنے سر تاج کو بڑے فخر سے گردن اٹھا کر پرواز کرتا دیکھ رہی ہیں لیکن یہ خوب صورت منظر لڑکی کے عقب میں چھپ گیا بہتر ہوتا کہ لڑکی کے کلوز اپ کے بجائے اس کی تصویر کو چھوٹا کردیا جاتا اور بیک گرائونڈ کو نمایاں کردیا جاتا تو یہ خوب صورت بیک گرائونڈ اور واضح ہوجاتا ہمیں تو طلوع آفتاب کا منظر بے حد پسند ہے ایک سحر سا طاری کردیتا ہے طلوع اور غروب ہوتا آفتاب، ٹائٹل گرل سوسو لگا بحیثیت مجموعی سرورق اچھا لگا۔ ٹائٹل دیکھنے کے بعد جناب مشتاق احمد قریشی کی دستک پر لپکے اس بار انہوں نے دستک کے نیچے کیپشن لگایا دیکھنا ہے کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا؟ آپ نے عزیر بلوچ کے بارے میں بتایا کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ یہ سب آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں آگے دیکھنے کے بجائے ہم پیچھے مڑ کر کیوں نہ دیکھیں جب بالکل اسی طرح صولت مرزا کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا روز نئی تفتیش، روز نئے ہولناک انکشافات اس نے بھی اپنے گاڈ فادر کے متعلق سب بتا دیا تھا لیکن آئوٹ کم کیا نکلا وہ تو قاتل تھا اپنے انجام کو پہنچ گیا لیکن اس کے کرتا دھرتا اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا لیکن کیا یہ منصفانہ عمل ہے ایک شخص سب کے کرتوت کھلے بیان کر رہا ہے لیکن انہیں اپنے اشاروں پر نچانے والے آزاد ہیں دندنا رہے ہیں حالانکہ ان کے سارے کرتوت قانون نافذ کرنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں اب کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی چلے گی اور کچھ نہیں ہوگا۔ قانون واقعی اندھا ہے ملک میں انصاف ملنا محال نظر آتا ہے ان مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے آزاد رہیں گے۔ عزیر بلوچ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا اس کے بعد کوئی اور عزیز بلوچ یا صولت مرزا کی شکل میں اسکیپ گوٹ تیار ہوجائے گا جانے کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ اب کچھ خطوط کے بارے میں اس بار اکیس خطوط گفتگو کی محفل میں شامل تھے ایسا لگ رہا تھا کہ اکیس تارے محفل کو روشن کر رہے ہیں۔ مزید کچھ کہنے سے پہلے میں ان تمام اراکین محفل کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جنہوں نے میرے خط اور تبصرے کو پسند کیا محترم مجید احمد جائی، صائمہ نور، احسن ابرار رضوی، ریاض بٹ، عامر زمان عامر، ممتاز احمد، ریاض حسین قمر، ایم حسن نظامی، احسان سحر، عبدالجبار روحی انصاری، غلام نوناری یاسین اگر کوئی نام رہ گیا تو معذرت آپ سب کا بے حد شکریہ، خطوط میں سب سے پہلا خط امجد جاوید صاحب کا تھا جو کچھ شکایتی سا لگا آپ جناب نے ارشاد فرمایا کہ دل کے پھپھولے پھوڑنے اور علمیت جھاڑنے کے لیے علیحدہ سے صفحات مختص کیے جائیں امجد صاحب نہایت معذرت کے ساتھ مجھے آپ کی بات سے اختلاف ہے بقول آپ کے خطوط میں صرف کہانیوں پر تبصرہ کیا جائے شاید آپ نے غور نہیں کیا کہ ان خطوط میں قارئین اور رائٹرز سبھی ہر موضوع پر دل جمعی سے سیر حاصل تبصرہ کرتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ان معاملات سے دلچسپی ہے خط آدھی ملاقات کہلاتا ہے اب اتنے طویل خط میں انسان صرف کہانیوں پر تبصرہ کر کے گفتگو کا اختتام نہیں کرسکتا۔ اپنے دکھ درد ایک دوسرے سے شیئر کرنا یا ملکی اور غیر ملکی معاملات پر تبصرہ کرنا علمیت جھاڑنا نہیں بلکہ یہ اپنی رائے کا اظہار ہے میرے خیال میں محفل گفتگو میں ہر طرح کی ورائٹی ہونی چاہیے۔ اس سے محفل کا حسن برقرار رہتا ہے۔ اگر کسی ایک ہی چیز کو موضوع بحث بنا لیا جائے گا تو اس سے محفل کی رونق ماند پڑ جائے گی اور لوگ بے زاری کا اظہار کرنے لگیں گے۔ بہرحال ہر شخص کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ دوسرا خط مجید احمد جائی صاحب کا تھا آپ نے فرمایا کہ سیاست کو ادب میں نہ گھسیٹا جائے بجا فرمایا لیکن جناب کون سا شعبہ ایسا ہے جہاں سیاست نہیں چل رہی ادب میں سیاست آل ریڈی موجود ہے میں نے فروری کے نئے افق کے خطوط پڑھے تھے میں حیراں رہ گئی تھی پڑھ کر مجھے ایسا لگا تھا کہ جیسے ہماری نام نہاد گریجویٹ اسمبلی کے اراکین آپس میں دست و گریباں ہوں خواتین تو مفت میں بدنام ہیں مرد حضرات میں برداشت صبر و تحمل ناپید ہوگیا ہے۔ یہ ہمیں خطوط پڑھ کر اندازہ ہوا دستک میں محترم مشتاق قریشی انتہائی مہذب انداز میں ملکی حالات بیان کرتے ہیں ان کی باتیں ہمیں قبول ہیں ان خرافات کے مقابلے میں خیر یہ بتائیے کہ آپ کی تحریر کب پڑھنے کو ملے گی، صائمہ نور آپ نے مختصر خط لکھا لیکن بہت اچھا لکھا بڑی بہادری کا ثبوت دیا آپ نے جعلی ووٹنگ کا بھانڈا پھوڑ کر ہمارے علاقے میں تو مرحومین نے بھی ووٹ ڈالے تھے ہے نا مزے کی بات۔ محترمہ ناز سلوش ذشے آپ میری طرف سے مبارکباد وصول کریں اپنے انعام یافعہ خط کی، محترم عامر زمان آپ کی تجویز قابل عذر ہے واقعی ہر شاعر کا انٹرویو اور شاعری ایک ساتھ دی جانی چاہیے الگ الگ صفحات پلٹنے سے تسلسل ختم ہوجاتا ہے محترم ریاض حسین قمر صاحب میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ نے کھلے دل سے میرے تبصرے کو سراہا یہ آپ کا بڑا پن ہے محترم میں واقعی آپ کی باتوں کو غور سے پڑھتی ہوں ایک خط رانا حبیب الرحمان کا تھا آپ نے اپنے خط میں لکھا کہ آپ کو میرا خط پڑھ کر ہنسی آئی جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے کوئی جوک لکھ کر نہیں بھیجا تھا انتہائی سنجیدہ موضوع پر لکھا تھا لگتا ہے اوپر والے نے آپ کو حد سے زیادہ اعلیٰ درجے کے سینس آف ہیومر سے نوازا ہے مجھے تو آپ کا اپر چیمبر خالی لگا میرا خط دوبارہ غور سے پڑھیے گا پھر رائے دیجیے گا۔ اب کچھ تحریروں کے بارے میں جو کچھ پڑھ چکی اس پر تبصرہ ضرور کروں گی پہلی تحریر محترمہ زریں قمر کی تھی سلگتے چنار جو مقبوضہ کشمیر سے متعلق تھی مسئلہ کشمیر کا ہو یا فلسطین کا دونوں جگہ مسلمان ہنود اور یہود کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہمارا بڑا دل دکھتا ہے یہ سب پڑھ کر مجاہدین کی جدوجہد سے متعلق اس کہانی کو پڑھ کر دل دکھ سے بھر گیا امجد جاوید کی سلسلہ وار تحریر عشق کسی کی ذات نہیں اپنے انجام کو پہنچی۔ امجد صاحب کی اس تحریر کا آغاز خوب صورت اور انجام شاندار تھا نہایت خوب صورت طریقے سے انہوں نے اسے وائنڈ اپ کیا کہانی کے تینوں کرداروں کے ساتھ بھرپور انصاف کیا۔ غور و فکر کو دعوت دیتی اس تحریر نے بہت سارے لوگوں کو اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کردیا ہو گا۔ دوسری سلسلے وار تحریر ناصر ملک کی زاد سفر تھی جس کی پہلی قسط تو ہمیں اچھی لگی تھی لیکن دوسری اور تیسری قسط بالکل متاثر نہ کرسکی۔ کہانی میں بے تحاشہ لفاظی کی گئی ہیروئن کا کردار بھی عامیانہ سا لگا پھر بالی کا بار بار صرف رنگت کی وجہ سے مسترد کیا جانا بے تکا سا تھا یہ سب۔ سب سے زیادہ ناگوار اس تحریر کا اختتام تھا جس طرح فضول تاویلیں پیش کر کے دونوں یعنی بانو اور بالی کو ازدواجی بندھن میں باندھا گیا جبکہ وہ بچپن سے ایک دوسرے کو سگے بہن بھائی کی طرح چاہتے تھے بے شک دونوں میں کوئی رشتہ نہ تھا اگر سب ایسے کرنے لگیں تو اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ میرے خیال میں رشتوں کے تقدس اور حرمت کو ایسے پامال نہیں کرنا چاہیے افسوس کے ساتھ ہمیں بالکل متاثر نہیں کرسکی یہ تحریر۔ اس کے علاوہ ریاض بٹ کی عاقبت اندیش محمد یاسین صدیق کی راہ پرخار، عتیق حسن بیگ کی شیطان اور پرویز احمد دولو کی با عصمت اچھی تحریریں تھیں۔ فن پارے کی پانچوں تحریریں لا جواب تھیں ابھی یہ ہی سب پڑھ سکی ہوں خط کافی طویل ہوگیا آخر میں یہی کہوں گی کہ سب کے خطوط اور تبصروں نے گفتگو کی محفل کا لطف دوبالا کر دیا تھا میں ایک بار پھر آپ سب کا بے حد شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ نے میرے خط اور تبصرے کو توجہ سے پرھا اور پسند کیا اب اجازت اللہ حافظ۔
محمد یاسر اعوان… رحیم یار خان۔ محترم جناب مشتاق احمد قریشی، عمران احمد آداب عرض ہے خوب صورت ٹائٹل کے ساتھ شمارہ مارچ ملا دل بے قرار کو سکوں ملا جیسے صحرا میں کسی پیاسے کو پانی مل جائے یا صحرا میں سایہ دیوار نصیب ہوجائے اس دفعہ کمال کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ فن پارے، ذوق آگہی، خوشبو سخن اور پھر زرین قمر صاحبہ کا کلام دل کو اتنا چھوگیاکہ کچھ چیزیں بار بار پڑھیں دستک میں مشتاق احمد قریشی سندھ کی حکومت پر خوب برستے ہوئے دکھائی دیے۔ گفتگو میں پہلے کی طرح عمران صاحب بڑی ہی خوب صورت حدیث بیان کرتے ہیں کوئی نہ سمجھے تو، امجد جاوید اور ناصر ملک کے ناولوں کا جلدی اختتام پڑھ کر دل کو دھچکا سا لگا۔ یہ دونوں ناول رسالے کی جان تھے نواب محی الدین اور فاطمہ ثریا بجیا کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ عزوجل دونوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے اور کاشف زبیر کو صحت کاملہ سے نوازے یہی لوگ ہمارے ادب کا سرمایہ ہیں۔ محفل یاراں میں ناز سلوش ذشے صاحبہ کو اول انعام یافتہ ہونے پر ڈھیر ساری مبارک باد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ناز صاحبہ کی زندگی میں کبھی غم کی پرچھائیاں نہ آئیں آمین بڑے دلکش لکھے گئے خطوط تھے پیارے امجد جاوید صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے میرے خط کو پسند کیا سر جی کہانی بھی لکھوں گا مگر ابھی تو طفل مکتب ہوں۔ عشق کسی کی ذات نہیں کی تیسری اور آخری قسط نے بھی خوب رنگ جمایا۔ زرق شاہ کو حسینیت کی سمجھ آگئی اور شبانہ وقار واقعی با وقار نکلی جس نے اپنے پیار کی قربانی دے دی اینڈ بہت زبردست رہا مکالمہ نگاری انتہا پر تھی۔ زاد سفر بھی جلدی ختم ہوگیا دوسرے حصے میں تو ملک صاحب نے کسر نکال دی کہانی پڑھتے پڑھتے آنکھوں میں اشک رواں ہوچکے تھے اور اینڈ پر تو ہچکیوں کی نوبت آ پہنچی بے چاری بانو کو خوشیاں بھی ملیں مگر ادھوری اتنے خوب صورت الفاظ نجانے ملک ناصر صاحب کہاں سے چنتے ہیں اگر اس اسٹوری کو آگے چلایا جاتا تو کیا بات تھی بہرکیف ناصر ملک کو بہت بہت مبارکاں، آئندہ بھی خطوط میں مجید احمد جائی کو شامل کیا گیا جو کہ بڑی خوش آئند بات ہے ویل کم جائی صاحب آپ کا خط بھی زبردست تھا ریاض بٹ اپنی خوب صورت کہانی اور خط کے ساتھ حاضر پائے گئے تبصرہ اور کہانی دونوں پسند آئے عامر زمان عامر اور پرویز دولو اپنے خوب صورت خطوط اور کہانیوں کے ساتھ شمارے کی دلکشی میں اضافہ کرتے نظر آئے عبدالغفار عابد، ممتاز احمد، انجم فاروق ساحلی، احسان سحر اور رانا حبیب الرحمان کے تبصرے بھی شاندار تھے عبدالجبار رومی کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے میرا تبصرہ پسند کیا آپ کا تبصرہ بھی کسی سے کم نہیں جناب۔ اقرا طاہر قریشی صاحب کو داد تحسین دیتا ہوں جو مختصر الفاظ میں اللہ پاک کی اتنی تعریف کر جاتے ہیں کمال کا فن ہے طاہر صاحب کے پاس بے شک سب نظام وہی با برکت اور عظیم ذات چلا رہی ہے جو اکیلا ہے اور سب پر حاوی ہے۔ عبدالحمید نے تجزیہ بڑی سوچ اور سمجھداری سے کیا ہے جس سے ان کی نئے افق سے محبت چھلکتی نظر آئی۔ زریں قمر نے سلگتے چنار لکھ کر کیا خوب صورت سبق دیا کہ گردن در باطل پہ جھکائی نہیں جاتی کے مصداق آزادی وطن یا آزادی کشمیر کے لیے بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ سلگتے چنار نے خون کے آنسو رلایا ان کا کلام بھی ایک پیغام تھا جو بڑی خوب صورتی سے دیا گیا خاص کر ہندوئوں اور گوروں کو آزاد نظم نعتیہ کلام اور یو این او پر لکھی گئی نظمیں بہت دلچسپ تھیں عاقبت اندیش، ریاض بٹ کی زبردست کاوش شمائلہ نے منصوبہ تو اچھا بنایا تھا مگر قانون تو قانون ہے مجرم کو پاتال سے بھی کھینچ لاتا ہے۔ ضرورت سبق آموز داستان لالچ بری بلا ہے پر یہ کہانی فٹ آتی ہے‘ راہ پرخار محمد یاسین صدیقی کی دسمبر میں لکھی گئی ناتمام عشق کے مقابلے میں کچھ ماٹھی رہی، مگر پلاٹ اچھا تھا۔ لب بام مختصر مگر سسپنس بھری کتھا چوری کی واردات تھی پھپی کے غباروں نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا دلچسپ رہی۔ پاداش عامر زمان عامر جب بھی لکھتے ہیں خوب لکھتے ہیں کاغذی رشتے بھی انہوں نے ایک دلفریب انداز میں لکھی تھی اور پاداش ہمارے معاشرے میں پھیلتی برائیوں کی آگ پر بڑی پیاری تحریر تھی۔ شیطان دلچسپ تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ با عصمت محمد پرویز دولو بھی خوب لکھتے ہیں مگر کم کم اسیر غم کے بعد با عصمت لائے ہیں۔ یہ چھوٹی سی تحریر ہمیشہ یاد رہے گا۔ اوجھل حسن عادل کی یہ کہانی ضرورت جیسی تھی۔ گلریز بھی لالچ میں آکر ڈاکٹر ناصر جیسے دوست کو مار بیٹھا اور خود بھی زندگی سے گیا فن پاروں میں پانچوں تحریریں شاندار تھیں لیکن طاہرہ جبیں تارا کی رگ جاناں نمبر ون رہی الفاظ کا چنائو خوب صورتی سے کیا گیا تھا۔ مکالمہ بندی، منظر نگاری، پلاٹ سب کچھ زبردست تھا خوشی کو خوشی اس وقت ملی جب وہ عمر کے اس حصے میں تھی جہاں پہنچ کر انسان کے جذبات و احساسات کچھ مدھم پڑ جاتے ہیں اتنی اچھی تحریر میں نے پہلے کبھی نہیں پڑھی فن پاروں کی بجائے اس کہانی کو رسالے کے درمیان جگہ ملتی تو… اپنوں کے ستائے ہوئے لوگ بڑے مظلوم ہوتے ہیں طاہرہ جبیں تارا صاحبہ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں دوسرے نمبر پر بے چین شہر کی پر سکون لڑکی تھی صدر امین الدین بھایانی نے بھی خوب لکھا ہلکی پھلکی مختصر تحریر دل کو بھاگئی پس آئینہ دوستی کا گلا گھوٹنے والوں کے لیے دلچسپ اور مختصر سی تحریر اچھی لگی۔ قربانی ایک تجسس اور سسپنس والی داستان بھی اچھے انداز میں لکھی گئی گورکھ دھندا واقعی گورکھ دھندا تھی ایلینا کا کردار اچھا رہا۔ اس دفعہ ذوق آگہی میں جو کچھ لکھا گیا قابل تعریف ہے پہلے چاروں اقتباسات نے دل موہ لیا بلکہ باقی مواد بھی قابل درد تھا شمائلہ رفیق صاحبہ کو مبارک ہو خوش بوئے سخن میں احمد فراز کے کلام نے نمبر ون لیا۔ زبردست تجدید وفا حمیرہ فضا، عروج فاطمہ سیدہ اور سید کامی شاہ کراچی کا انتخاب بھی خوب تھا۔ سچ پوچھیں تو یہ شمارہ بہترین ادب پر مشتمل تھا اہل ادارہ کو ڈھیر ساری مبارکباد۔
احسان سحر… میانوالی۔ السلام علیکم اے اللہ پاک جو اس جہاں فانی سے چلے گئے ہیں ان کی بخشش فرما اور جو زندہ میں ان پر اپنی رحمت کا نزول عطا فرما آمین، ہر ایک کو اپنی پناہ میں رکھ میرے اللہ۔ نئے افق کے اسٹاف ممبرز پڑھنے اور لکھنے والوں کو دل کی گہرائیوں سے محبت بھرا سلام۔ اللہ پاک آپ سب کو خوش رکھے۔ ہر ایک کے اپنے دکھ ہوتے ہیں چاہے جاندار ہوں یا بے جان فرق صرف محسوس کرنے کا ہے ان کے بھی اپنے دکھ سکھ ہوتے ہیں سکھ میں ہوائیں چلتی ہیں اور درختوں کو جھوم جھوم کر نچاتی ہیں اور ان کی خوشی میں اس کا ساتھ دیتے ہیں اور دکھ میں اپنے آنسو (بارش) زمین پر گرا دیتے ہیں وہ بھی ایسی ہی گیلی گیلی صبح تھی آسمان پر بادلوں کا رقص تھا رقص کسے اچھا نہیں لگتا ہمیں بھی لگا محو حیرت ہو کر بادلوں کو دیکھنے میں اس قدر کھو گئے کہ ہوش اس وقت آیا جب ٹھنڈی بوندوں نے گالوں کو چوما تیز تیز قدم بڑھائے اچانک نیازی نیوز ایجنسی پر نئے افق کا گلدستہ نظر آیا اسے بانہوں میں بھر کر کالج پہنچ گئے خالی پیریڈ میں باہر رقص کرتی مسکراتی ٹھنڈی ہوا میں بیٹھ کر ٹائٹل کا نظارہ کیا نصف شب کے چاند کی سنہری کرنیں ندی کے پانی کو بوسہ دے رہی تھیں اور پانی اس کرنوں کے پیار پر مسکرا رہا تھا صنف نازک خوب صورت رات کے خوب صورت چاند کی مانند محسوس ہوئی۔ خوب صورتی دل کو کھینچتی ہے دل بے قابو ہوتا رہا دل پر جوانی کا زور ہو تو یہ منہ زور ہوجاتا ہے ان خوب صورت جھیل جیسی آنکھوں میں چاند کا عکس صاف نظر آیا۔
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور
یہ تیرے پھول سے چہرے پر چاندنی کی پھوار
ستاروں کی محفل میں دل کو شاد کرے نیچے لیکن دستک پر پہلے کچھ عرض کردوں عزیر بلوچ کا موضوع گرم رہا ویسے یہاں ہر چھوٹے سے چھوٹا موضوع بھی بہت دنوں تک گرم ہی رہتا ہے جب تک خود ہمیں ہوش نہیں آتا ان لوگوں نے تو عیاشی کرنی ہے آگے جانے کی جلدی ہو تو پیچھے مڑ کر دیکھا نہیں کرتے۔ خوشی ہوتی مجید احمد صاحب نے وضاحت اور معافی مانگ لی بہت ہی اچھا لگا۔ محی الدین نواب، فاطمہ ثریا بجیا اور محمد اعظم ایسے ہیرے ہیں جن کی چمک کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ نواب صاحب کو کافی پڑھا ہے معاشرے میں ان کے قلم میں جو کاٹ تھی وہ بہت کم رائٹروں میں پائی جاتی ہے صحیح معنوں میں وہ معاشرے کے جراح تھے اللہ پاک تینوں مرحومین کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرماتے۔ نہایت ہی محترم جناب امجد جاوید کا محبت نامہ پڑھا جہاں کی خوش بو وجود کا حصہ بن گئی، بہت شکریہ جناب آپ نے اپنے قیمتی الفاظ سے مجھے نوازا جو بھی غذا کھائی جائے لطف تب آتا ہے جب اس کا ذائقہ محسوس کیا جائے اب بھی اسی طرح ہے جب تک پڑھتے ہوئے اس کو محسوس نہ کیا جائے سمجھا نہ جائے کہ لکھنے والا یہ سمجھانا اور سبق دینا چاہ رہا ہے کیا پیغام دے رہا ہے یہ پڑھنا پھر کس کام کا مجید احمد جائی خوشی ہوئی کہ آپ نے معذرت کرلی اچھے لوگوں کو یہی بات اچھی لگتی ہے مخالفوں کی پروا مت کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ خوب صورت جذبات جب دل میں سما جائیں تو وہ آنکھوں سے عیاں ہوتے ہیں اس ماہ بھی ہر خط میں مسکراتے لفظوں کی بھرمار اپنے وجود کے گرد منڈلاتی رہی ریاض بٹ محبت کا شکریہ صائمہ نور صاحبہ نوازش بہت شکریہ۔ رانا حبیب الرحمان اتنے عرصے بعد آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی کالم آپ پڑھتے رہیں گے وقفے وقفے سے اللہ پاک آپ کو رہائی عطا فرمائے، آمین۔ یاسین نونار آپ جیسے مخلص دوستوں کے سہارے ہی تو زندگی خوشگوار گزر رہی ہے ورنہ ماضی کی گزری تلخ یادیں اور کسی ہرجائی کا ہرجائی پن… فلک شیر ملک نے بھی اچھا لکھا احسن ابرار رضوی نے بھی اچھا لکھا۔ ناز سلوش ذشے کو انعامی خط کی دلی مبارکباد محمد فاروق نے بھی اچھا لکھا رمشا ملک، عبدالغفار، عامر زمان، ممتاز احمد کے مختصر نامے اچھے لگے۔ انجم فاروق ساحلی، مہر پرویز نے اچھا لکھا عبدالجبار رومی خوش آمدید خوشی ہوئی آپ کو یہاں دیکھ کر۔ اقرا، خوب صورت سلسلہ قلب و جگر کو منور کرتا رہا بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔ عبدالمجید کی محبت نئے افق پر بکھری ملی محبت ہی تھی جو ماضی کی یادوں میں گھماتی رہی واقعی گزرے لمحے کسی خزانے سے کم نہیں ہوتے بالترتیب سے پیش کی گئی کہانیوں کا ٹائم ٹیبل ہو یا نواز برادرز کے کرتوت ہر چیز نگینے کی مانند فٹ رہی اللہ پاک آپ کو تندرست و توانا رکھے۔ سلگتے چنار اور حساس موضوع پر پھیلی کہانی کشمیر اور کشمیریوں پر ہوتا ظلم کیسے بھلایا جاسکتا ہے دل خون کے آنسو رو رہا ہے جہاں ہزاروں نوجوان شہید کیے جا رہے ہیں۔ عاقبت نا اندیش، عورت اور مرد کی بے حسی کی داستان محبت کی جگہ میں ضرورت دل میں جگہ پالے تو دیر نہیں لگتی رنگ بدلنے کی اور جب انسان رنگ بدلتا ہے تو ایسے سانحات ہی رونما ہوتے ہیں ضرورت، دولت کی ضرورت کسے نہیں ہوتی لیکن جب یہی لالچ کے روپ میں ڈھل جاتی ہے تو طارق جیسے ہزاروں نوجوان گمراہ ہو کر حقیقی رشتوں جیسے خوب صورت بندھن کو بھلا دیتے ہیں بے شک جو سکون حقیقی سکون قلبی رشتوں میں ہے وہ دنیا کی کسی بھی چیز میں نہیں۔ عشق کسی کی ذات نہیں کا آخری حصہ پڑھا بہت سا پیغام دے گیا بہت کچھ ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کر گیا ہم کیا ہیں اور کیا بنے ہوئے ہیں ہماری نسبت کن سے ہے جن سے ہماری نسبت ہے۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم کرے لب بام ہوس دولت اور سب کچھ پانے کے چکر میں مارا گیا کچھ بھی ہاتھ نہ آیا جو پاس تھا اس سے بھی گئے پاداش، یہ کہانی دو ماہ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں صرف کرداروں کے نام تبدیل تھے۔ با عصمت چوٹ لگانے والے کو جب چوٹ لگتی ہے تو درد کی صورت میں چوٹ کا احساس ہوتا ہے میاں فخر کو بھی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا ایسے لوگوں کو ایسی چوٹ لگتی ہے ظلم کر کے بھیانک انجام سے بچا کوئی بھی نہیں ہے۔ ہر بڑے کام کا مکافات عمل ضرور ہوتا ہے اوجھل یہاں بھی دولت کی ہوس ذہن پر چھائی رہی۔ لالچ جب دل میں پیدا ہوتا ہے تو اچھائی برائی اور رشتے میں تمیز کھو بیٹھتا ہے راہ پرخارجہاں محبت دل میں پلتی نظر آئی وہاں حرام اور سچائی کا عکس بھی نظر آیا اس ملک کے لوگوں نے اپنے اوپر جو بے حسی طاری کر رکھی ہے وہی بھگت بھی رہے ہیں اور بھگتے رہیں گے فن پاروں میں سب بہترین اور خوب صورت انتخاب رہا سوائے قربانی کے جو قطعی پسند نہیں آئی۔ گورکھ دھندہ بور اور فضول کہانی رہی۔ انعام یافتہ اقتباس اچھا رہا باقی مضمون بھی شاندار تھے۔ انعام یافتہ غزل احمد فراز کی ہو اور انعام یافتہ نہ ہو کیسے ممکن تھا شمائلہ رفیق (اقتباس) اور صداقت حسین (غزل) کو انعام کی دلی مبارکباد۔ باقی میاں بیوی اور احساس بھی اچھی رہی۔ زریں قمر کی شاعری عمدہ رہی کہیں وطن سے محبت تو کہیں ہجر وصال کی جھلک تو کہیں حکومت پر طنز بہت پسند آئی شاعری کا ہر رنگ لا جواب رہا۔ زاد سفر بھی اختتام کو پہنچا زندگی دیتی بھی ہے اور لیتی بھی ہے دکھ بھی آتے ہیں اور سکھ بھی برداشت کرنے بھی پڑتے ہیں بانو اور بالی کا سفر دکھ سکھ کی چھائوں میں گزرتا ہوا بہن بھائی کی دھوپ چھائوں سے ہوتا ہے میاں بیوی کے سفر پر اختتام پذیر ہوا لوگ آتے بھی اور جاتے بھی ہیں بانو چلی گئی خوشبو آکر جب چلی جاتی ہے تو اپنی مہک کا احساس ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتی ہے بانو بھی اپنی مہک چھوڑ گئی واقعی زندگی تلخ بھی ہے تو شیریں بھی یادگار ناول ختم ہوا۔ اجازت دیجیے زندگی رہی تو اگلے ماہ حاضر ہوں گے، اللہ حافظ۔
ممتاز احمد… سرگودھا۔ واجب الاحترام جناب مشتاق احمد قریشی صاحب عمران احمد، طاہر قریشی صاحب سدا سلامت اور خوش رہیں، آمین۔ اپنے خط کی ابتدا اس دعا کے ساتھ کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے پیارے حبیب نبی مکرم رحمت دو عالم حضور نبی کریم ﷺ کے صدقے ہر انسان کو دشمنوں کی دشمنی، جھوٹوں کے جھوٹ، منافقوں کی منافقت حاسدوں کے حسد اور تہمت لگانے والوں بہتان باندھنے والوں کے شر اور خباثت سے ہمیشہ محفوط رکھے، آمین۔ سب سے پہلے محترم طاہر قریشی صاحب کو عمرہ کی ادائیگی کا مقدس فریضہ ادا کرنے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں ماہ مارچ کا شمارہ 19 فروری کو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موصول ہوگیا ڈوبتے سورج کے منظر اور پرندے کے گھونسلے میں واپسی کا خوب صورت ٹائٹل دل کو بہت بھایا دستک میں پاکستانی سیاست کے افق پر رونما ہونے والے واقعہ کی روشنی میں دیکھنا ہے کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا کے عنوان سے مستقبل کے آنے والے حالات پر ایک زبردست تجزیہ تھا گفتگو میں پہنچا تو یہ جان کر از حد خوشی ہوئی اور فیصلہ انتہائی قابل تحسین ہے کہ تنقید کا دائرہ صرف تحریر کے گرد ہی گھومے گا اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے کچھ لوگوں کا مشن اور شیوہ ہی یہی ہے کہ دوسروں کی ذات پر کیچڑ اچھالنا، کردار کشی کرنا بہتان بازی کرنا تہمت لگانا تو اس فیصلے سے ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی، امجد جاوید صاحب کا خط مفصل تھا اور میں ان کی بات کی بھرپور تائید کرتا ہوںکہ تحریروں پر مثبت تنقید اور بھرپور تبصرہ ہونا چاہیے تاکہ لکھاری اس تبصرے اور تنقید کی روشنی میں مزید بہتر لکھ سکیں۔ مجید احمد جائی صاحب آپ نے اچھا کیا فیصلہ قدرت خداوندی پر چھوڑ دیا اللہ بہتر حساب لینے والا ہے آپ کی تجویز بہت اچھی ہے کہ اگر کسی مصنف کی کہانی پر تحریر ناقابل اشاعت ہو تو بتا دیا جائے۔ احسن ابرار رضوی کا تبصرہ بہت زبردست اور عمدہ تھا پہلے خط میں شاندار اور بھرپور تبصرے کے ساتھ موجود تھا۔ ناز سلوش ذشے کو انعام یافتہ خط پر ڈھیروں مبارکباد آپ کا خط شاندار تھا۔ عمر فاروق ارشد صاحب نے بہت اچھا تبصرہ لکھا۔ رمشا ملک ویلڈن آپ نے جو لکھا حقائق پر مبنی لکھا۔ کچھ لوگوں کو چوہدری بننے کا شوق ہوتا ہے مگر ان کو یہ نہیں پتا کہ ادب کی دنیا میں کسی کی چوہدراہٹ نہیں چلتی مجھے یہ جان کر از حد خوشی ہوئی کہ میری درخواست پر آپ نے محترم پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال صاحب کا انٹرویو شائع کرنے کی نوید سنائی ہے تو پیشگی آپ کا بے حد ممنون و مشکور ہوں ان شاء اللہ چند دنوں تک ان کا انٹرویو اور افسانہ آپ کی خدمت میں بھیج دوں گا محترم رانا حبیب الرحمان صاحب نے بہت اچھی تجاویز پیش کیں جو کہ قابل ستائش ہیں علی حسنین تابش اور احسان سحر اپنے خوب صورت خیالات اور باتوں کی خوشبو سے گفتگو کی محفل کو مہکا رہے تھے عبدالجبار رومی انصاری نے اچھا تبصرہ لکھا۔ محترم طاہر قریشی صاحب نے اقرا میں قلم کے موضوع کو اپنا سخن بنایا ما شاء اللہ سب سے پہلی وحی جو ہمارے آقا کریم رحمت دو عالم ﷺ پر نازل ہوئی اس میں قلم کا ذکر ہے جس سے قلم اور علم کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ عبدالحمید صاحب نے سال 2015ء کے حوالے سے اور دیگر تحاریر کے بارے میں بہت شاندار تجزیہ کیا بہت پسند آیا ویری گڈ۔ ’’سلگتے چنار‘‘ بہت زبردست اور لاجواب کہانی تھی۔ زریں قمر صاحبہ کی شاعری بھی بہت پسند آئی انہوں نے لکھنے کا حق ادا کردیا بہت خوب عاقبت اندیش تھوڑی ہلکی کہانی تھی اتنی جاندار کہانی نہیں تھی نوشاد عادل کی ضرورت کا انجام چونکا دینے والا تھا۔ راہ پرخار ایک سبق آموز کہانی تھی اچھا درس دیا کبھی کسی کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ شیطان اچھی تحریر تھی فن پارے پانچ کہانیوں کا خوب صورت گلدستہ تھا گورکھ دھندا ایک پر اثر اور ایک پیغام لیے ہوئے تھی یہ حقیقت ہے وقت بدلتا رہتا ہے ذوق آگہی میں شمائلہ رفیق کا انتخاب انعام یافتہ ٹھہرا مبارک ہو، خوش بوئے سخن میں صداقت حسین ساجد کو انعام ملا بہت مبارکباد۔ ناصر ملک صاحب کے زاد سفر کا اختتام اچھا رہا۔ اب اجازت چاہوں گا ان شاء اللہ اگلے ماہ حاضری ہوگی اگر زندگی نے وفا کی تو۔
مہر پرویز دولو… میاں چنوں۔ محترم ایڈیٹر صاحب سلام مسنون۔ تبصرہ حاضر خدمت ہے اصلاح کر کے قابل اشاعت بنا دیں بہت مہربانی ہوگی۔ پھولوں کے کاروبار میں آدمی ہمیشہ خوشبوئوں میں گھرا رہتا ہے جس طرح پھول کھل کر ماحول کو مہکائے رکھتے ہیں پھولوں جیسی صفات کے مالک حضرات کو بھی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی چال، ڈھال، گفتار، افعال سے ماحول معطر رہے اپنے پرائے کی تفریق کیے بنا ہر من کے مہمان بن جاتے ہیں۔ آج کل کے آپا دھاپی کے دور میں انسانی رشتے حرص و ہوس کی ندی کے پار غرض کے جنگل میں روپوش ہوگئے ہیں۔ مایوسی کے اس دور میں ہر شخص محبت کے دو بول سننے کے لیے غرض کا کاسہ اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ہم جوں جوں ترقی کرتے جا رہے ہیں اپنے خونی رشتوں اور انسانیت کے تقاضوں سے کوسوں میل دور روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ اسپیڈ کے ساتھ دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسی بے حسی کے دور میں اگر کوئی محبت کے گلدان میں خلوص کے پھول سجا کر ڈرائنگ روم میں مہمانوں کا منتظر ہوتا ہے تو ایسے عظیم انسان کی جتنی عزت و تکریم اور حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے۔ ایسے عظیم لوگوں کا اگر کال نہیں پڑ گیا تو اس بات میں رائی برابر شک نہیں کہ ایسے لوگوں کو تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اگر خلوص کے منبع یہ لوگ مل جائیں تو پھر ان کے فیض سے جھولیاں ضرور بھرنی چاہیے۔ نئے افق کے سالاروں کا شمار بھی کچھ ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو خود تو کڑی دھوپ میں چلتے رہتے ہیں لیکن پناہ گزینوں کو سائے کی نعمت سے محروم نہیں کرتے۔ ان مفکرین نے نئے افق کے روپ میں محبتوں کا اک جہاں آباد کر رکھا ہے رشتوں کی کبھی نہ ٹوٹنے والی زنجیر میں نتھی کتنے ہی لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہیں۔ ہر ماہ منتظر آنکھوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے۔ اس کی دید سے فیضیاب ہوتے ہی دلوں کے مضطرب تالاب میں سکون آجاتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں محبتوں کے سفیروں کا جمگھٹا اس کے خوب صورت صفحات پر براجمان ہوتا ہے۔ جن سے ملاقات ہوتے ہی مہینے کی مونجھ لمحوں میں ختم ہوجاتی ہے۔ سرورق کی حسینہ کی تصویر ندی کنارے ڈوبتے منظر کے اوپر لگائی اگر اس کو حقیقت میں ندی کنارے کھڑا کردیتے توبہت مسئلہ پیدا ہوجاتا۔ دستک میں تلخ حقیقت پڑھی کاش دیگر جماعتوں کے عزیر بلوچ بھی پکڑے جائیں۔ ادارے سے ایک گزارش ہے اس دفعہ کتابت کی بہت غلطیاں نظر آئیں مہربانی کر کے اس طرح توجہ دیں۔ گفتگو میں استاد محترم جناب امجد جاوید صاحب کا خط پڑھ کر جی خوش ہوگیا تمام الفاظ سنبھال کر رکھنے کے قابل ہیں۔ اقوال زریں سے کم نہیں۔ ان کا یہ مشورہ بہت پسند آیا کہ قارئین تحریر پر تبصرہ کیا کریں لیکن ایک خدشہ ضرور رہتا ہے بعض اوقات مجھ سے لوگ برامان جاتے ہیں اگر تنقید کی جائے ابرار رضوی کی بات دل کو لگی امید ہے آپ تمام ثبوت بھیج کر ادیب کو حقیقت کا آئینہ دکھائیں گے ریاض حسین قمر عظیم لوگ اپنی تحریروں سے پہچانے جاتے ہیں فلک شیر ملک، ایم حسن نظامی، احسان سحر آپ کی محبتوں کا مقروض ہوں۔تجزیہ میں عبدالحمید کی نئے افق سے محبت کا کیا کہنا اب تو یہ جذبہ ہم لوگ بھی اپنے آپ میں پیدا کریں گے زریں قمر صاحبہ کے سلگتے چنار نے رونے پر مجبور کردیا۔ نوشاد عادل کی ضرورت نے ہلا کر رکھ دیا کسی دور میں کلاس ہشتم کی اردو کی کتاب میں انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا سبق ہوتا تھا یہ تحریر بالکل اس کی عکاس تھی غرض کے سودے میں دونوں کروڑ پتی بن گئے مگر کوئی پھر بھی تہی دامن رہا جناب امجد جاوید کی عشق کسی کی ذات نہیں بہت چبھتے حقائق پر مبنی تحریر تھی۔ شاہدہ صدیقی کی لب بام نے نصیحت کی ہے کہ غباروں پر کبھی اعتبار نہ کرو، عتیق حسن بیگ کا شیطان سکھ تھا یہ بھارتی ہمیں ہر طرح سے تنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ انگار وادی پی ٹی وی پر ڈرامہ چلتا تھا سلیم خواجہ ہندو آرمی کا آفیسر بنتا تھا جو کشمیری مسلمانوں پر ظلم کرتا تھا ایک دفعہ مارکیٹ میں ایک بوڑھی اماں نے پکڑ کر مار مار کر براحال کردیا کہ کشمیری مسلمانوں پر ظلم کرتے ہو۔ با عصمت تحریر ساتھی ہیڈ ٹیچر صاحبہ کو دی تو پڑھنے کے بعد انتہائی غصے اور خوشی سے لبریز لہجے میں بولی۔ بھائی پرویز انہاں وڈیریاں نال انج ای ہونی چاہی دا اے ان وڈیروں سے ایسے ہی ہونی چاہیے۔ یہ سنتے ہی مجھے اپنی تحریر کا معاوضہ مل گیا۔ حسن عادل کی اوجھل یوں لگتا تھا جیسے کسی انگریزی کہانی کا ترجمہ ہو بہت خوب تحریر تھی۔ آغاز الدین کے گورکھ دھندے میں شہزادہ، شہزادی مل گئے اور کسی کو جیل مل گئی ذوق آگہی میں معلومات کا خزانہ تھا۔ میرے ایک مہربان حضرت علامہ مولانا شمس الزماں صدیقی صاحب کا فرمان ہے ایک بزرگ مانگنے والا اپنے بچوں کو نصیحت کر رہا تھا بیٹا ہر جگہ مانگو ہر کسی سے مانگو ہر وقت مانگو اور ہر چیز مانگو۔ میں جب سے خط لکھ رہا ہوں ایک ہی درخواست کر رہا ہوں کم از کم دو صفحات اشعار کے لیے ضرور مختص کریں اور اب نیا مطالبہ یہ ہے کہ گفتگو میں صرف تحریروں پر بات ہو، ایک دوسرے کو احوال سنانے کے لیے الگ کالم پیغام یا احوال کوئی بھی نام ہو اور اس کے ساتھ اپنی سوچ کو الفاظ کا روپ دینے کے لیے بھی کالم ہو، جہاں ذاتی سوچ شائع ہو۔ نام کوئی بھی رکھ لو اگر ان میں سے کچھ بھی منظور فرمالیں تو شکریہ اور اگر توجہ نہیں فرمائیں گے تو میرے مطالبات کی فہرست لمبی ہوتی جائے گی۔ آپ کی محبتوں کا منتظر۔
عبدالغفار عابد… چیچہ وطنی۔ قابل قدر جناب مشتاق احمد قریشی صاحب ایڈیٹر اور اس محفل سے وابستہ سبھی لوگوں کی خدمت میں سلام محبت عزیز ساتھیو پچھلے دنوں کراچی جانا ہوا میرے شہر چیچہ وطنی کی گولڈن پرل بیوٹی کریم کی 7,6 فروری کو حسن اسکوائر ایکسپو سینٹر کراچی میں نمائش تھی گولڈن پرل پروڈکشن کی پبلی سٹی مہم سائرہ علی اینڈ کمپنی کے سپرد ہے اس کمپنی کے اہم رکن محمد ارشد انصاری میرے دوست ہیں اپنے دوست کے پر زور اصرار پر مجھے بھی کراچی جانا پڑا۔ یہاں گولڈن پرل بیوٹی کریم نے کراچی کی خواتین کا رنگ گورا کیا وہیں کراچی کے دوستوں کی محبتوں نے مجھے حسین فل سیکورٹی بمع پروٹوکول انسانیت نما مہمانان نوازی نے وی آئی پی بنا دیا آفس میں طاہر بھائی سے ہونی والی ملاقات ادارے کی طرف سے محترم اقبال بھٹی کی دعوت مدتوں یاد رہے گی۔ اب ایک نظر مارچ کے پرچے پر پہلے ذکر اداریے کا مشتاق بھیا یہی تو بد قسمتی ہے اس ملک کی کہ یہاں ہر پارٹی میں عزیر بلوچ جیسے کردار نمایاں ہیں لاکھوں مائوں کے خون کی آبیاری سے معرض موجود میں آنے والا گلستان اجڑ رہا ہے مگر نام نہاد باغبانوں کو اس کی کوئی فکر ہے اور نہ کوئی پروا، اداریے کے بعد رخ محفل گفتگو کی طرف کیا تو یہاں کی رونق دیکھ کر جی خوش ہوگیا رب العزت سدا اس آشیانے کی خوشیاں سلامت رکھے آمین، سسٹر ناز سلوش یہ ہمارے نصیب کہ آپ جیسی بہن ملی ہمیں آپ کا انعام ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ مگر ہمارے دل عزیز قلم کار محترم امجد جاوید اپنی آنے والی تحریر ’’عورت زاد‘‘ میں آپ جیسی خواتین کی تعریف اپنے مخصوص انداز میں ضرور فرمائیں گے۔ عبدالجبار رومی آپ کا تبصرہ قابل تعریف غریب آدمی کی جس چائے کی پیالی سے صبح ہوتی ہے اس پر بھی وہ سیلز ٹیکس ادا کرتا ہے اس کے باوجود اس کو دو وقت کی روٹی تو کیا سردرد کی گولی نصیب نہیں اچھے عمر فاروق ارشد میں اس بحث کو پہلے ہی سمیٹ چکا ہوں اور ادارے کی پالیسی کو مد نظر رکھنا میرا فرض ہے احسان سحر یونانی مفکر جالینوس نے ایک احمق کو دیکھا کہ وہ ایک دانش مند آدمی کے گریبان میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھا اور اس کی بے عزتی کر رہا تھا یہ ناخوشگوار منظر دیکھ کر جالینوس نے کہا اگر یہ شخص فی الحقیقت دانا ہوتا تو یہاں تک نوبت نہ پہنچنے دیتا کہ ایک احمق اس کو پیٹنے لگے عامر جی جس طرح اس ملک میں بھیک مانگنے پر کوئی پابندی نہیں بالکل اسی طرح ہر کوئی جھوٹ بولنے میں بھی آزاد ہے احسن ابرار رضوی ہم دوسروں پر تنقید اس وقت شروع کرتے ہیں جب خود کو بھول جاتے ہیں تنقید ایسا ہتھیار ہے جو ہم دوسروں کے کاندھے پر رکھ کر دراصل خود پر چلاتے ہیں ویسے عبدالحمید کی تجزیہ رپورٹ میں آپ کا کہیں ذکر نہیں۔ رانا حبیب الرحمان میں آپ کی بات نہیں سمجھ پایا۔ محترم ممتاز احمد خدارا ہمیں گناہگار نہ کریں آپ تو بڑے ہیں ہمارے لیے قابل احترام خلوص اور اچھائی اپنے الفاظ میں نہیں اپنی نیت اور فطرت میں بھی پیدا کرنی چاہیے بے شک یہ عمل ہماری بخشش کا وسیلہ ہے بہت سی دعائیں آپ کے نام برادرز ریاض بٹ، فلک شیر ملک اور محترم ایم حسن نظامی آپ کی حوصلہ افزائی مہمیز کا درجہ رکھتی ہے طاہر بھائی کی اقرا حکمرانوں سمیت ہم سب کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لا رہی ہے بات ہے عمل کی۔ عبدالحمید کے تجزیے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کشمیریوں کو صرف دعا کی ہی نہیں بلکہ دعا کے ساتھ ساتھ دوا کی بھی ضرورت ہے آزادی کے لیے چھوٹی چھوٹی قربانیوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے زریں قمر نے سلگتے چنار لکھ کر اپنا حق ادا کردیا یہی کردار کشمیریوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوں گے جب انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو پھر اس کی اولین ضرورت دولت ہوتی ہے نوشاد عادل نے اپنی ضرورت اور شاہدہ صدیقی نے لب بام میں اس کی وضاحت بہت خوب صورت انداز میں محترم امجد جاوید کی تحریر ’’عشق کسی کی ذات نہیں‘‘ کا آخری حصہ پڑھا اس پر صرف اتنا ہی لکھوں گا کہ محبت اور اختیار ایک ہی راستے کے سنگ میل ہیں جہاں اختیار کی حد ختم ہوجائے وہاں سے محبت کی سر زمین کا آغاز ہوتا ہے اور عشق اس راستے کا آخری موڑ ہے محمد یاسین صدیق کی راہ پرخار کا مرکزی خیال یک طرفہ محبت کی ناکامی تھا میری رائے میں تو یہ پرکھ محبت کا معیار نہیں منزلیں محبت کا درجہ نہیں محبت اپنے سفر کا وہ پہلا نشان ہے جو آخری بھی ہے عامر زمان عامر کی پاداش عورتوں کے لیے سبق آموز تحریر تھی۔ عتیق حسن بیگ کی تحریر شیطان میں ان شیطان نما مردوں کا ذکر ہوا ہے جو عورتوں کے تن کے پجاری ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ لکھنا بہت مشکل کام ہے۔ میری رائے میں پڑھنا اپنی جگہ مشکل مرحلہ ہے لکھنے والے کے لیے شاید لکھنے کے بعد کا ہر مرحلہ آسان ہے لیکن پڑھنے والے کی ٹینشن پڑھنے کے بعد شروع ہوتی ہے مہر پرویز احمد دولو کی با عصمت پڑھ کر آپ بھی میری رائے سے اتفاق کریں گے خاص کر خواتین۔ حسن عادل کی اوجھل بھی لازوال تحریر تھی فن پاروں میں طاہرہ جبیں تارا کے افسانے رگ جاناں میں آج کے نفسانفسی کے دور کی نشاندہی کی ہم لفظوں کی جنگ تو جیت لیتے ہیں مگر عملی جنگ ہار جاتے ہیں۔ محبت پر ہزاروں لفظ لکھنے سے بہتر ہے انسان ایک لفظ محبت پر عمل کرے کچا گھڑا تو غنیمت ہے محبت کا دریا تو پیار کرنے والے محض جذبوں سے عبور کرلیتے ہیں آج کی پالیسی ساز محبت محبت نہیں بلکہ کاروبار ہے جس میں نفع، نقصان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ریاض بٹ نے عاقبت اندیش میں اس محبت کا ذکر کیا جس سے کائنات کی حروفیت شروع ہوتی ہے۔ آخر میں اس پیغام کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں کہ آئیں سب مل کر اخوت، رواداری پیدا کریں۔
جاوید احمد صدیقی… راولپنڈی۔ محترم مدیران و اقبال بھٹی صاحب السلام علیکم خوب صورت ٹائٹل اور رنگوں کے امتزاج سے نئی بہار دکھاتا ہوا میگزین ملا جیسے انٹرنیشنل ڈائجسٹ ہے حسینہ بھی صبح صبح نئی تبدیل شدہ اور جوش و خروش لیے ہوئے آفتاب کی روشنی جیسے کہ میگزین کی شہرت چاروں جانب پھیلے جا رہی ہے اور فرسودہ ایک ہی لائن پر چلنے والا یہ پرندہ آزاد ہو کر فضا کی تازہ اور زمین و آسمان کی تمام رعنائیوں میں گہرا سانس لے کر آزادی کا سانس لے رہا ہے۔ پرچے کا جنرل مواد بھی بہترین ہے اور پورے رسالے کا لے آئوٹ زبردست ہوچکا ہے۔ کہانیوں کا انتخاب انتہائی معیاری ہے۔ لکھائی کے باعث مواد بھی بڑھ گیا ہے پاکستان سے باہر کے لکھاریوں کو شامل کر کے آپ نے ترقی اور بڑھائی کا ایک زینہ بھی طے کرلیا ہے۔ بہرحال آج کی سیاست میں ہر بڑا آدمی داڑھی میں تنکا کی تصویر بنا ہوا ہے اور عزیر بلوچ کے انکشافات سے بہت سے حرام سے کمائے ہوئے شان و شوکت دکھانے والے لرزہ براندام ہیں اور واقعی اب دیکھیے کہ آگے آگے ہوتا ہے کیا۔ گفتگو میں عمران صاحب کی بیان کردہ حدیث مبارک بہت سوں کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی جزاک اللہ۔ امید ہے کہ کاشف زبیر بخیریت تمام گھر شفٹ ہوچکے ہوں گے۔ تبصرہ میں امجد جاوید بڑی سنجیدہ اور گہرائی لیے باتیں لے کر آئے میرا تذکرہ کیا شکریہ عورت زاد شروع ہو تو تبصرہ ضرور کریں گے مجید احمد جائی کا کیس خوب نپٹایا ہے اور صحیح فیصلہ ہے احسن ابرار رضوی بھی خوب تبصرہ لائے میرا تبصرہ پسند کرنے کا شکریہ انعامی خط زبردست تھا قلمی نام کی وضاحت بھی خوب رہی بہرحال حاضری دی خوب بھئی، ریاض بٹ اس دفعہ پھر بہت سے لکھنے والوں کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں مبارک یکم اپریل والی کہانی کو پسند کرنے کا بے حد شکریہ عمر فاروق کا تبصرہ حسب معمول گہرا اور سنجیدہ تھا، شکر ہے ریاض حسین قمر بھی تشریف لائے بڑا اچھا اور بھرپور تبصرہ تھا باقی تبصرے بھی معیاری اور کہانیوں کا تجزیہ گہرائی اور سنجیدگی سے کیا ہے۔ اس دفعہ محترمہ زریں صاحبہ کی شاعری کو پزیرائی ملی تعارف بھی تھا اور تمام غزلیں اور نظمیں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔ اس دفعہ ڈاکٹر ایم اے قریشی اور حسام بٹ کیوں غیر حاضر تھے۔ گفتگو کے بیس کے قریب خطوط تھے اور یقین کریں انتہائی مزہ آیا اور بڑی ہی دلچسپی سے پڑھتے ہیں یہ آپ لوگوں کا بہتری کی طرف ایک اور قدم ہے اور جو ساتھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے ان کے لیے دعا مغفرت۔ نواب صاحب کا سانحہ تو عظیم کمی ہے۔ اس دفعہ پچھلے سال کی تمام تر معلومات اور مختلف نمبرز بے حد زبردست تھے۔ آپ کی وضاحت بے حد صحیح رہی۔ بڑی عرق ریزی اور جانفشانی سے تمام کیا گیاعبدالمجید صاحب کو بے حد مبارک ہو، دو تین جگہ اپنا نام دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ انوکھی چیز آخر میں عمران سیریز کے شائع کردہ ناولوں کی فہرست یہ ظالم نے کیا یاد کرا دیا زاد سفر کا اختتام ہوا کامیاب رہی آگے کب ناصر ملک آئیں گے۔کہانیوں میں تو ایک سے ایک بڑھ کر ایک ہے میرے خیال میں کوئی بھی جھول معلوم نہ ہوسکا۔ سوائے ایک کہانی کے کہ اسی موضوع اور طرز پر پہلے بھی ذرا مختلف انداز میں کہانیاں پرکھ چکا ہوں پھر بھی ہر کہانی اپنی جگہ ایک نگینہ ہے اور چند ایک کہانیاں تو بالکل ہی الگ طرز اور موضوع کی ہیں معاشرے ہی کے اندر سے یہ کہانیاں یہ خیالات یہ واقعات لے کر انہیں تحریر کردہ ادیب ذرا گہرے سنجیدہ اور سبق آموز طرز پر صفحہ قرطاس پر بکھیر کر قارئین سے داد بھی حاصل کرتا ہے۔ آپ لوگوں کی محنت اور لگن ساتھ ہی بہتر ہے بہتر مواد حاصل کرنا ہی ان لکھاریوں کو اتنی اچھی مختلف اور سبق آموز کہانیاں لکھنے پر مجبور کرتا چلا جاتا ہے اب دیکھیں بھارت سے اور انگلش کی کہانیاں بھی موصول ہو رہی ہیں اور یہ سب سے انوکھا طرز تحریروں اور ان کو فن پارے کر کے شامل کرنا بھی زبردست کامیابی ہے۔ فن پارے تمام ایک سے ایک بڑھ کر تھے کیا بات ہے اور پھر نئے افق کی قیمت اور صفحے اس کے لیے جناب عمران صاحب اور محترم طاہر قریشی صاحب بے حد تعریف کے قابل ہیں کہ اتنے زیادہ صفحات میں کسی بھی ڈائجسٹ کی قیمت 80 روپے سے کم نہیں بلکہ صفحات تو انتہائی کم رکھے جاتے ہیں اور مواد انتہائی کم چند ڈائجسٹ جو دماغ کی آخری سیڑھی پر سمجھا جاتا تھا اور اب انتہائی کم مواد صفحات اور قیمت آسمان تک جبکہ یہ لوگ لاکھوں پتی کروڑ پتی بن چکے ہیں خیر ہمیں اپنے کام سے مطلب ہاں ٹائٹل پر نئے افق کے نیچے ماہ کا نام ضرور لکھا کریں پلیز خوش بو سخن میں انعامی شعر بہت اچھا ہے اور اس کے علاوہ ضیا نور، عروج فاطمہ، عمر فاروق، کامی شاہ، محمد اسلم بہترین رہے۔ حقیقت پوچھیں تو ایک بھی کوشش کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یہ نوشین صاحبہ کی عرق ریزی ہے۔ ذوق آگہی میں سباس گل بھی زبردست سلیکشن سے آتی ہیں انعامی انتخاب لاجواب تھا۔ باقی ریاض بٹ کا انتخاب تو کوئی سال پیچھے لے گئی اور کئی واقعات کے در کھل گئے مبارک باد فرداً فرداًسب کو سلام دعائیں۔
عبدالمالک کیف… صادق آباد۔ شمارہ مارچ 2016ء کا نئے افق 22 فروری کو ملا منفرد ٹائٹل رنگوں سے سجا ہاتھوں میںآیا تو طمانیت کا احساس ہوا جس طرح کھوئی ہوئی چیز دوبارہ مل جائے حالانکہ رابطہ ضرور ٹوٹا تھا (تبصرے نہیں لکھ رہا تھا) لیکن بھرپور توجہ سے مطالعہ ہو رہا تھا ہوا یوں کہ اس دفعہ جب تبصرے وغیرہ پڑھے تو سوچا بہت ہوگئیں چھٹیاں اب پھر سے میدان میں اترنا پڑے گا ٹوٹ پھوٹا کچھ نہ کچھ تخلیق تو ہو معیاری تحریریں تو خود جگہ بناتی ہیں۔ باقی اللہ پاک ہر کسی کا نگہبان اور پالنے والا ہے۔ او سوری میں بھی نہ بہت سارے نوے نکور (میرے لیے) چہروں کو دیکھ کر بوکھلا گیا ہوں آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسا بد تمیز ہے نہ سلام نہ دعا ایویں فری ہونے کی اپنی سی کوشش کر رہا ہے تو جناب ایسی بات نہیں ادب سے جھک کر بہت پیار سے پہلے تو محترم عمران احمد قریشی، محترم مشتاق احمد قریشی صاحب اور نئے افق پبلیکیشن کے پلیٹ فارم کی ساری ٹیم کو السلام علیکم… اب آئوں گا گفتگو کی طرف کاشف زبیر کی علالت کا سن کے اور ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی ہمارے ملک کے بہترین رائٹر اور ہمارا اثاثہ ہیں اللہ پاک ان کو ہمیشہ صحتیاب رکھے، آمین۔ اس کے بعد عمران احمد کی درخواست تھی مجید احمد جائی کے بارے میں سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلے ماہ ہی سے تبصرہ کے لیے تیار تھا مگر ٹائم نہ ملا مجید احمد جائی بلا شبہ ایک اچھے رائٹر ہیں غلطی ان سے ہوئی مگر یہ اچھی بات نہیں کہ ہر کوئی اس کے پیچھے ہی پڑ جائے مثبت رویے سے بھی تو کسی کو سمجھایا جاسکتا ہے تنبیہہ بھی کی جاسکتی ہے پھر بھی وہ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہے تو بائیکاٹ کا سوچا جاسکتا ہے ہم لکھنے والوں کی بھی کچھ مجبوریاں کچھ جذبات ہوتے ہیں۔ جائی بھائی نے بھی اپنی غلطی تسلیم کر کے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے بس اب بات کو ختم کیا جائے نئے افق ہم سب کا ایک گھر ہے گھر میں اگر ماحول کشیدہ ہوگا تو سکون ندارد، اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کوئی لکھاری کسی ایک ڈائجسٹ میں جب مواد بھیجتا ہے کئی ماہ کی انتظار کی سولی پہ لٹکا رہتا ہے یا تو اسے بتایا جائے کہ بھئی آپ کی تحریر ناقابل اشاعت ہے تو وہ پھر کسی اور ڈائجسٹ میں بھیج سکے تھوڑی اور محنت کر کے میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی پر زور مطالبہ کرتا ہوں کہ ناقابل اشاعت تحریروں کا بتایا جائے بڑی مہربانی ہوگی گفتگو میں پہلا تبصرہ محترم امجد جاوید حاصل پور کا تھا تبصرہ دل کو بھا گیا جناب کی قیمتی باتیں دل میں رکھ لی ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے جیسے نو آموز لکھاریوں کے لیے مشعل راہ ہوں گی، امجد جاوید صاحب اگلے مہینے کے نئے افق کا انتظار مشکل ہوگا کیونکہ آپ کی اسٹوری عورت ذات کا سن کر اشتیاق بڑھ رہا ہے آپ کی اسٹوری اینڈ تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتی ہے دوسرا محبت نامہ مجید احمد جائی ملتان کا تھا جس نے معذرت بھی کی اور اپنی غلطی کا اعتراف بھی ویلکم مجید احمد جائی امید ہے پہلے کی طرح اپنے محبت نامے بھیجتے رہیں گے اور پھر صائمہ نور بہاولپور سے اپنے خوب صورت تبصرے کے ساتھ حاضر تھیں تبصرہ خوب رہا ہے اپنی کہانی بھیج دیں دیکھی جائے گی۔ احسن ابرار رضوی صاحب کا سلام عقیدت دل سے قبول کیا اور تبصرہ پڑھ کر انعامی خط کی طرف چھلانگ لگائی جو پیاری بہن ناز سلوش ذشے نے خوب محنت سے لکھا اور تفصیل سے بہت سی باتیں گوش گزار دیں زشے بہن خدا آپ کو خوش رکھے دکھ سکھ انسان کا ساتھی ہے آپ کے خطوں سے وہ کھلنڈرا پن غائب ہے جو شروع شروع میں تھا آپ کی کوئی نئی کہانی پڑھنے کو نہیں ملی کیا وجہ ہے؟ ریاض بٹ صاحب کیسے مزاج ہیں امید ہے خیریت سے ہوں گے بھلا ہی دیا بھائی آپ کی کہانیاں نظر سے گزرتی رہتی ہیں ویل لکھتے ہیں قربانی بھی پڑھی تھی۔ بیٹیوں پر لکھا گیا شعر دل میں پیوست ہوگیا اور آئیے ملتے ہیں محترم جناب عمر فاروق ارشد صاحب سے جنہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں نئے افق میں گھس کر قبضہ جما رکھا ہے جی ہاں محترم عمر فاروق ویل ڈن جناب اور خطوط میں پہلے نمبر پر آنے پر بہت بہت مبارکباد قبول کریں۔ مجید احمد جائی کے بارے میں آپ کے تاثرات اور جذبات کی قدر کرتے ہیں لکھاریوں کو محتاط رہ کر تنقید کرنے کی ضرورت ہے لکھے ہوئے الفاظ واپس نہیں آتے تبصرہ شاندار رہا چلو یہ بھی مبارک باد قبول فرمالو رمشا ملک آزاد کشمیر کے جذبات اچھے لگے بے جا تنقید سے پرہیز کیا جائے انتشار پھیلانے کا سبب بن جاتی ہے۔ عبدالغفار عابد بھائی کا تبصرہ بھی اچھا رہا عامر زمان عامر بورے والا میرا سلام قبول کریں اور خوش رہیں۔ ممتاز احمد سیٹلائٹ ٹائون جناب کا تبصرہ تفصیل کے ساتھ انجم فاروق ساحلی جناب کی آدھا بٹن بہترین کہانیوں میں سے ایک تھی اور مہر پرویز دولو میاں چنوں سے تشریف لائے واقعی جناب نئے افق نہ ہوتا تو ہم جیسے کم علم جنہیں ادب کی الف سے شناسائی نہ تھی کون پوچھتا، فلک شیر ملک رحیم یار خان جناب السلام علیکم کیسے ہیں آپ نے کہانیوں پر کھلے دل سے تبصرہ کیا رانا حبیب الرحمان سینٹرل جیل لاہور آپ کو سلام کہ جیل جیسی سخت جگہ بیٹھ کے بھی پڑھنے لکھنے سے منہ نہیں موڑا۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ نئے رائٹرز کا دل نہ توڑا جائے ان کا مواد اصلاح کے بعد شائع کردیا جائے ہر کوئی پیدا ہوتے ہی شاعر نہیں ہوتا مطالعہ اور شوق یہ لگن پیدا کرتی ہے۔ پیارے ریاض حسین قمر جو نئے افق کا مستقل قاری اور رائٹر ہے کا بھرپور تبصرہ بھی نگاہوں کا مرکز رہا۔ ویل ڈن ایم حسن نظامی قبولہ شریف موسٹ ویلکم بھائی نئے افق آپ ہی کا رسالہ ہے علی حسنین تابش احسان سحر میانوالی، آپ کا شعر سر کے اوپر سے گزر گیا آپ نے حسام بٹ کی بات کی واقعی ہر ماہ ان کی کمی محسوس ہوتی ہے باقی تبصرہ شاندار رہا مبارکباد۔ عبدالجبار رومی انصاری شاداب کالونی لاہور، بہت پیارا تبصرہ لکھا۔ آخری محبت نامہ غلام یاسین نوناری صاحب چوک سرور شہید نے ارسال فرمایا سب اپنی اپنی جگہ فٹ تھے تبصرے پڑھتے ہی نیچے لکھی سانحہ ارتحال کی خبر نے بہت ہی اداس کر ڈالا محترم اعظم خان، محترم محی الدین نواب، ڈرامہ نگار محترمہ فاطمہ ثریا بجیا ہمارا قیمتی اثاثہ تھے ادبی دنیا کا یہ خلا ممکن ہی نہیں کہ بھرا جاسکے ہم ان کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں۔ محترم عبدالحمید کے تجزیہ کو نمایاں جگہ دے کر آپ نے ثابت کردیا کہ نئے افق اپنے چاہنے والوں سے کس قدر اپنائیت و محبت رکھتا ہے نئے افق میں خطوط کی تفصیل کی عنایت بھی کی گئی جو اچھی لگی ذیل میں ایک خط میں خود کو دیکھ کر افسوس ہوا اور اپنی سستی کاہلی کا ادراک ہوا۔ آگے کے صفحات پر کہانیوں کی تفصیل جامع اور مفصل انداز میں ہمارے علم میں لائی گئی ویلڈن نئے افق، کہانیوں کی طرف آئے تو سب سے پہلے محترم ناصر ملک کی ’’زاد سفر‘‘ کی آخری قسط کو انجوائے کیا بانو کی موت نے بہت افسردہ کردیا اتنا اچھا ناول لکھا کہ دل پہ نقش ہوگیا دوسری کہانی امجد جاوید صاحب کی عشق کسی کی ذات نہیں جس میں شبانہ کی سحر انگیز شخصیت نے سعدیہ تو سعدیہ زرق شاہ ماڈرن بندے کو بدل ڈالا اللہ جسے توفیق دے اور عقل سے پردے ہٹ جائیں تو کسی کی نسبت ہی سہی اللہ پاک ہدایت نصیب فرما دیتا ہے زریں قمر کی ’’سلگتے چنار‘‘ کا غور سے مطالعہ کیا بہت اچھے انداز میں رائٹر نے کہانی پہ اپنی گرفت رکھی۔ راہ پرخار محمد یاسین صدیق کہانی زبردست رہی۔ فن پارے کی مختصر کہانیاں بھی عروج پر تھیں ساری سلیکشن بہترین تھی جن میں امین صدر الدین بھایانی، طاہرہ جبیں تارا، زینب اصغر، عمران احمد راجپوت، محمد خالد جاوید ٹاپ پر رہے۔ نوشاد عادل کی ضرورت لاجواب رہی۔ ذوق آگہی میں شمائلہ رفیق، فلک شیر ملک، عائشہ اعوان، مہر پرویز دولو، احسان سحر، ریاض بٹ، جاوید احمد صدیقی، نادیہ حسین، آسیہ اشرف، سائرہ بتول کی تحریریں اچھی لگیں اور آخر میں اپنے من پسند ٹاپک خوش بوئے سخن کو ٹائم دیا۔ ما شاء اللہ نوشین اقبال بہت محنت کر رہی ہیں عمدہ سلیکشن رہی صداقت حسین ساجد، حنا نور، حمیرا فضا، سیدہ عروج فاطمہ، سیدہ مدینہ صادقہ فاطمہ، ظہور دین، محمد فاروق ارشد، بہنیں تو جگر کا ٹکڑا ہوتی ہیں بہت ہی معصوم اور نازک سی سید رضوان حیدر گردیزی، سید کامی شاہ فلک شیر ملک، عاطف محمود، عدیل مرتضیٰ، سیف السلام، ڈاکٹر علی حسنین تابش، محمد اسلم جاوید اور مس عرشیہ ہاشمی کل 17 نظمیں غزلیں تھیں۔ باقی سب رائٹرز کو سلام نئے افق کی تبدیلی نے چار چاند لگا دیے ڈائجسٹ کو نئے افق کی ساری ٹیم کو مبارکباد۔
عبدالحمید… ہری پور۔ محترم و قابل احترام جناب مشتاق احمد قریشی صاحب، السلام علیکم۔ سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے میرا خط (تجزیہ) مارچ 2016ء کے پرچے میں لگایا میں کسی لالچ یا انعام کے لیے نہیں لکھتا یہ میرا آپ سے محبت کا اظہار ہے ایک ناول کے پیشرس میں ابن صفی نے آپ کو ایک مخلص دوست کہا ہے آپ ابن صفی کے جانشیں ہیں آج اگر ابن صفی موجود نہیں ہیں لیکن وہ ہمارے لیے آج بھی زندہ ہیں آپ کے روپ میں نظر آتے ہیں آپ نے ان کے مشن کو جاری رکھا ہوا ہے اور لگن اور محنت سے کام کر رہے ہیں ان کے پودے کو آپ نے ایک تناور درخت بنا دیا ہے وقت کے تھپڑے ان سے ٹکرا تو سکتے ہیں مگر اس کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتے وہ چٹان کی طرح اپنی جگہ قائم ہے جو اس سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا لیکن نئے افق سے جب آپ نے عارضی طور پر کنارہ کشی کی اس وقت نئے افق کو دھچکا لگا پرچہ کچھ عجیب سا لگا۔ ٹائٹل بد زیب ہوگیا تھا اور کہانیوں کے معیار میں بھی فرق محسوس ہونے لگا تھا پرچہ اپنی ڈگر سے ہٹ رہا تھا عجیب قسم کے ٹائٹل لگنے شروع ہوئے جو سمجھ میں نہیں آتے تھے ٹنڈ منڈ درخت، سبزہ عجیب قسم کے مکان، پگڈنڈیاں، ندی نالے اور نہ سمجھ آنے والی چیزوں نے ٹائٹل کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا تھا ایسے مناظر دیکھ کر میرا دل دکھی ہوتا تھا کہ اتنا خوب صورت اور معیاری پرچہ تنزلی کی طرف کیوں جا رہا ہے معلوم ہوا کہ آپ نے اس پر سے ہاتھ اٹھالیا ہے ٹائٹل پرچے کی جان ہوتا ہے اچھا ٹائٹل ہوگا تو پڑھنے والا اس کی طرف کھنچا چلا جائے گا۔ ٹائٹل خوب صورت ہوگا تو اس کے اندر کا مواد بھی معیاری سمجھا جائے گا۔ میں نے اس سے منہ نہیں موڑا باقاعدگی سے پڑھتا رہا مجھے امید تھی کہ ان شاء اللہ جلد ہی سنبھل جائے گا اور اپنی راہ پر دوبارہ گامزن ہوگا میں اس کی بہتری کے لیے دعا یا اللہ اس کو دوبارہ اپنے مقام پر آنے کی توفیق دے اور پہلے سے بہتر کر اور اس کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دے اللہ نے میری سن لی آپ نے توانا کندھوں سے اس کو سہارا دیا اور اس کو صحیح مقام پر لانا شروع کیا اب آپ نے پرچے کو ایک مقام پر پہنچا دیا ہے اب دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی طرف گامزن ہے۔ سب معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں پرچہ اب پہلے سے بہتر ہوگیا ہے ٹائٹل میں نکھار آگیا ہے کہانیوں کا معیار بھی بلند ہو گیا ہے لکھاریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس میں بڑے پائے کے لکھاری لکھ رہے ہیں اور بہت اچھا لکھ رہے ہیں خطوط کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے ذیل میں ان لکھاریوں کے نام جو مسلسل طور پر لکھ رہے ہیں۔ زریں قمر، خلیل جبار، مشتاق احمد قریشی، ریاض بٹ، محمد سلیم اختر، حسام بٹ، راحیلہ ناز، حسیب جواد علی، انجم فاروق ساحلی، آلشبہ مخدوم، جاوید احمد صدیقی، ابن حق، ناصر ملک، اقبال بھٹی، علی اختر، دستگیر شہزاد، سید احتشام، طاہرہ جبیں تارا، اسعد علی، ریحانہ سعیدہ، خورشید پیرزادہ، احمد صغیر صدیقی، مجید احمد جائی، نوشاد عادل، محمد یاسین صدیقی، امجد جاوید، عامر زمان عامر، شاہدہ صدیقی، پرویز احمد دولو، عمران احمد، ذوالفقار احمد، نسیم سکینہ صدف، نازش سلوش ذشے، وقار الرحمان راجپوت اقبال احمد، آغاز الدین، احسن طارق چوہدری، فوزیہ کنول، محترمہ زریں قمر صاحبہ نے مارچ 2015ء کے پرچے ایک کہانی ’’لارنس آف پاکستان‘‘ لکھی تھی۔ عمر فاروق ارشد نے ان کے متعلق بہت سخت ریمارکس دیے اور ہتک آمیز رویہ اختیار کیا بہت افسوس ہوا ایک منجھی ہوئی رائٹر اور محترم ہستی کے خلاف جملے کسے ہیں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ مشتاق احمد قریشی صاحب نے اپریل 2015ء میں شمارے میں اس کی وضاحت کردی تھی محترمہ زریں قمر صاحبہ ایک منجھی ہوئی مصنفہ اعلیٰ شخصیت اور محترم ہستی ہیں میں اس کی تحریریں بہت شوق سے پڑھتا ہوں، پرچے میں سب سے پہلے ان کی کہانی پڑھتا ہوں ما شاء اللہ اب تو وہ بہت اچھی شاعرہ بھی ہیں قریشی صاحب خط کے ابتدائی صفحہ پر میں نے پرچے کے متعلق کچھ سخت جملے تحریر کیے ہیں ان کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں، اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا اللہ آپ کو اور دیگر اسٹاف کو اپنی امان میں رکھے کامیابیاں نصیب ہوں ہر منزل آسان ہو ترقی اور خوشحالی ہو تمام بلائوں سے محفوظ رکھے آپ کے کاروبار میں ترقی ہو اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو صحت اور تندرستی عطا فرمائے، آمین۔
ایم ریاض الحق رضوی… میاں چنوں۔ السلام علیکم! ماہ مارچ کا شمارہ ملتے ہی دل باغ باغ ہوگیا۔ سرورق کی باجی کے لمبے بال حیران چہرہ منتظر آنکھیں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ گفتگو میں میٹھے، کڑوے، کھٹے اور پھیکے خطوط کا میلہ لگا ہوا تھا۔ غلطی مان لینا عظمت کی بات ہے، معافی دے دینا اس سے بھی بڑی عظمت ہے۔ ویسے بھی مسلمان ہونے کے ناتے معاف کردینا بڑائی ہے۔ انہوں نے واسطہ ہی اس ذات کا دیا ہے جن کے صدقے ہم اشرف المخلوقات ہیں صائمہ نور کا خط الیکشن کی تلخ یادیں دلا رہا تھا۔ احسن رضوی کا خط عجیب الجھن میں ڈال گیا۔ بھائی عبدالحمید کا تجزیہ لاجواب تھا سلگتے چنار، آزادی کی تحریک پر لاجواب تحریر تھی۔ عاقبت اندیش میں عورت کا ازلی حسد ایک زندگی چاٹ گیا۔ پاداش میں سنی کی ماں کو سنی کے دوست سے عشق لڑاتے ہوئے شرم نہیں آئی، مہر صاحب کی تحریر با عصمت میں نادیہ نے جان دے کر با عصمت ہونے کا حق ادا کردیا۔
محمد سانول… کسوال۔ السلام علیکم! میں نئے افق کا خاموش قاری ہوں ہر ماہ اس سے مل کر خوب حال دل سناتا ہوں۔ اس ماہ کا سرورق کمال تھا شکر ہے باز حسینہ سے دور اڑ رہا تھا۔ وگرنہ ضرور کوئی حرکت کرتا۔ اقرا قلم کی اہمیت پر بہترین مضمون تھا۔ عبدالحمید کی کاوش تجزیہ اچھی لگی۔ خطوط میں دوستوں کے درمیان غلط فہمیوں کا ازالہ بہت خوب محبت کا پیغام تھا۔سلگتے چنار مجاہدین کشمیر کی ہمتوں کی داستان تھی۔ ضرورت پوری ہونے کی خوب سزا ملی راہ پرخار میں اختتام سے آگاہی کے لیے مدتوں سفر کرنا پڑا ذوق آگہی میں دینی معمولات پڑھ کر ایمان تازہ ہوا۔
انجم فاروق ساحلی… لاہور۔ آداب امید ہے آپ ادارہ کے دیگر احباب بخیر و عافیت ہوں گے اس بار نئے افق کا ٹائٹل خوب صورت اور جاذب نظر ہے خطوط کی محفل جامع اور بھرپور ہے بھائی امجد جاوید نے صحیح لکھا ہے خط میں کہانی پر تبصرہ زیادہ ہونا چاہیے باقی حال احوال یا ملکی حالات کا تذکرہ مختصراً قلمبند کیا جائے جن قارئین نے میرا تذکرہ قلمبند کیا میں ان کا مشکور ہوں۔ اعزازی پرچہ موصول ہونے پر عمران صاحب اور بھٹی صاحب کا بھی شکریہ اس بار کاغذ اور پرنٹنگ کا معیار بھی خوب ہے۔ اس مرتبہ کہانیوں میں سلگتے چنار، عاقبت اندیش، ضرورت، راہ پرخار، لب بام، شیطان سبھی کہانیاں خوب تھیں۔ مختصر تحریروں میں رگ جاناں اور قربانی بھی اچھی تھیں۔ انعام یافتہ اقتباس اہل تصوف کی کرامت ایمان افروز تھا۔ عبدالحمید صاحب کا تجزیہ اور ریکارڈ محنت اور لگن سے بھرپور ہے۔ انہیں واقعی ابن صفی مرحوم اور نئے افق سے والہانہ عقیدت ہے زریں قمر صاحبہ کی تعارفی گفتگو بھی اچھی رہی۔ آدھا بٹن کہانی کے سلسلے میں خواتین قارئین کو کچھ الجھن پیش آئی چنانچہ اس کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں آدھا بٹن ایک رشتے کی کہانی تھی نیا تجربہ تھا ایک شادی شدہ خاتون اپنے خوب صورت با اخلاق اور مختلف با کردار ملازم کو مستقل ملازم رکھنا چاہتی ہے۔ رشتہ ماں بیٹے کا تھا جسے غلط سمجھا گیا یہ جاسوسی کہانی تھی لیکن ایسی نہیں کہ قاتل کو بالکل ہی مخفی اور دھند میں چھپا کر رکھا جاتا جذباتی مثلث کچھ ایسی تھی کہ کرداروں نے کھل کر شک و شبہ کا اظہار کیا۔ ڈائری کے الفاظ کے علاوہ صفحہ اول پر کرن نے خود خاوند کے متعلق کہا کہ اس کے دل میں شک کا کانٹا چبھتا رہتا ہے اگر خاوند کی نفرت اجاگر نہ کی جاتی اس پر شک و شبہ نہ دکھایا جاتا تو کہانی کا مرکزی ٹکرائو سامنے نہیں آسکتا تھا۔ مسز چنگیزی کو مشابہت کی بنا پر چاند اپنا بھائی معلوم ہوتا وہ ان کے دل میں بھائی کی طرح اترا تھا ہوس پرست کی طرح نہیں، چنگیزی بلا وجہ ہی بیوی پر شبہ کرتا تھا مسز چنگیزی نے جھوٹی قسم کسی جگہ بھی نہیں کھائی ہر جگہ چاند سے ملنے کا اقرار کیا۔ آدھا بٹن کو بالکل منطقی انداز میں موڑا گیا یہ کہانی میں بھی منطقی ربط کو کہیں بے ربط نہیں کیا گیا اگر انداز بیان میں کمزوریاں تمہیں تو گزشتہ ماہ کسی پیرا گراف کا حوالہ دیا جاتا۔ مجھے صرف تعریف مرغوب نہیں لیکن تنقید کو دلیل سے واضح کیا جائے تو بہتر ہے تاکہ غلطی کا نوٹس لیا جاسکے امید ہے عمران صاحب اور بھٹی صاحب نا چیز کی وضاحت قارئین تک پہنچا دیں گے۔
ناقابل اشاعت کہانیاں:۔
کاغذ کی کشتی (عامر زمان عامر)، جادو گر اور کتا (نازک شاہین)، فریب (کشاف اقبال)، قدرت کا فیصلہ (صفدر شاہین)، سبز باغ (قیصر عباس)، دیوانہ پن (روحان اعوان)، ناساز بن گئی محبت، شیشے کی محبت (نبیلہ نازش رائو)، اناڑی، محافظ (نسیم سکینہ صدف)، زخم وفا (ندیم عباس)، ٹک ٹک، اور میں رجسٹر ہوگیا (مجید احمد جائی)، محبت کی میراث، ماہر فنکار، معجزہ (منشی محمد عزیز)، کھیل نہیں (نمرہ محمد)، آزاد غلام (محمد شعیب)، محبت ہے زندگی (سید سالار احمد)، ساحل تشنہ (گل مہر)، میری ڈائریاں (محسن علی شامی)، تو کلی مسست اور سمو (ساحل ابڑو)، ہم صورت گر خواب کے (محسن علی)، مکافات عمل (ممتاز احمد)، مکافات عمل (شمسہ فیصل)، گل ہوئے چراغ کیسے (سجاد بشیر)، مرغ بسمل (رشک حبیبہ)، تہی دست (اقصیٰ پیا)، جگو (مہر پرویز)، پوشیدہ قاتل (مونا صفدر)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close