Naeyufaq Apr-16

دستک

مشتاق احمد قریشی

بھارت کے جھنڈے کے تین رنگ ہیں اس کے قومی نشان تری مورتی کے تین رخ ہیں۔ ایسے ہی اس کی سیاست، اخلاقیات، مذہب اور تجارت کے بھی کئی رخ ہیں اگر یوں کہا جائے کہ ہولی کے رنگوں کی طرح بہت سے رنگ ہیں جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں ایسے ہی ان کی سیاست، تجارت، اخلاقیات اور مذہب کے بھی الگ الگ رنگ ہیں سیاست دان تو سیاست دان ان کے تاجر بھی رنگ بدلنے کے بڑے ماہر ہیں۔بھارت میں جہاں گائے کا گوشت ہندو دھرم کے لیے حرام اور پیشاب حلال ہے آخر ایسا کیوں ہے ہندو گائے کو ماتا یعنی ماں مانتے ہیں وہ ایک مقدس ترین ہستی کے طور پرمانی جاتی ہے لیکن گائے کے گوشت کو دنیا بھر میں فروخت کرنے میں بھارت سب سے آگے ہے۔سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آخر بھارت جہاں گائے کو ماتا کہہ کر ماں کے درجے پر فائز کردیا گیا ہے اور تو اور ہندو مذہب یا دھرم میں اس کو اس قدر مقدس اور محترم تصور کیا جاتا ہے کہ عام ہندو کو بڑی سوچی سمجھی سازش کے تحت گائے کے احترام اور اس کی پوجا پاٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اورمسلمانوں کو گائے سے دور رکھنے کے لیے انتہا پسند ہندوئوں کا انتہائی رویہ ہے کہ ان کو اس کام پر ہندو مذہبی رہنمائوں کے ذریعے گائے کا ذبیحہ روکنے کا انتظام کیا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان گائے کاٹ لے یا اس کا گوشت ہی استعمال کرنے کے لیے خریدے تو وہ موت کا حقدار ٹھہرتا ہے آخر ایسا کیوں ہے۔ ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جواب ہمارے سامنے ہیں لیکن زبان کھولتے ہوئے لکھنے والوں اور بولنے والوںکو ڈر لگتا ہے دراصل ہندوئوں میں گائے کا تقدس و احترام کو جس قدر ہوا دی گئی اس کا ان کی ویدوں یعنی مذہبی کتب میں بھی اس قدر ذکر نہیں ہے جس قدر گائے کا احترام اور عزت کی جاتی ہے ایسا صرف اور صرف اس لیے ہے کہ ہندو گائے کی پرورش کریں اس کے گوشت کے قریب بھی نہ جائیں۔ دوسری طرف مسلمانوں کا معاملہ ہے ان کے مذہب میں گائے نا صرف حلال جانور ہے بلکہ اس کی قربانی بھی جائز اور حلال ہے اگر ہندو مسلمانوں کو گائے کے ذبیحہ کی اجازت دے دیں تو ہر سال لاکھوں گائے ذبح کردی جائیں۔ گائے کے گوشت کے ہندو تاجروں کو گائے کی افزائش کے لیے اہتمام و انتظام کرنا پڑے گا اب تو بغیر کسی خاص انتظام کے لاکھوں گائے انہیں کوڑیوں کے مول مل جاتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ہاں انہیں ہندو مذہبی پجاریوں اور رہنمائوں کو زبان بند رکھنے کے لیے معقول ماہانہ رقوم ادا کرنا پڑتی ہیں جسے ہم اپنی ملکی زبان میں بھتہ کہتے ہیں۔دنیا بھر میں گائے کا گوشت بھارت ایکسپورٹ کرتا ہے دنیا میں گائے کا گوشت ایکسپورٹ کرنے والی بڑی کمپنیوں کے مالک ہندو ہیں ان کی جدید ترین فیکٹریوں میں کام کرنے والے تمام کارکن ہندو ہیں ہندوستان کی سب سے بڑی کمپنی النور ایکسپورٹ کے مالک ہندو ہیں جو گائے کا گوشت تیار کر کے نا صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان جیسے مسلم ممالک میں بیچتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ الکبیر ایکسپورٹر کے مالک سدھیش اگروال اتل اگروال ہندو ہیں انہوں نے اپنی کمپنیوں کے مسلم نام صرف اور صرف مسلمان ممالک کے درآمد کنندگان کو دھوکہ دینے کے لیے رکھے ہوئے ہیں تاکہ نا صرف در آمد کنندگان بلکہ ان کے گاہک بھی یہی سمجھیں کہ انڈیا سے مسلمان کمپنیوں نے ہی بھیجا ہے تو یقیناً یہ حلال ہی ہوگا اس کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں کہ وہ تمام برآمد کردہ گائے کا گوشت واقعی حلال بھی ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ ان تمام ہی کمپنیوں میں تمام کام ہندو کارکن مشینوں کے ذریعہ انجام دیتے ہیں دھوکے باز لوگ متحدہ عرب امارت میں طیبتہ ال امارات اور تبرک کے نام سے گوشت فروخت کر رہے ہیں مسلمانوں کو یہ تاثر دینے یا دھوکہ دینے کی مذموم کوشش ہے مسلم نام کے پس پردہ در حقیقت ہندو بنیے کارفرما ہیں جو دونوں ہاتھوں سے مسلمانوں کی دولت اور ایمان دونوں ہی سمیٹ رہے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بھارت کی تمام انتہا پسند یا اعتدال پسند ہندو جماعتوں کو سب پتا ہے کہ بھارت گائے کے گوشت کا دنیا بھر میں سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے وہاں کوئی ہندو نہ انتہا پسند اعتدال پسند گرم سانس تک نہیں لیتا اور اگر کوئی مسلمان گائے کا گوشت کہیں سے حاصل کرلے تو اس کی بلی چڑھا دی جاتی ہے تاکہ مسلمان خوفزدہ ہو کر گائے کے قریب بھی نہ جائیں اور ہر سال اپنی عید الضحیٰ کے موقع پر گائے کی قربانی کا سوچیں بھی نہیں کیونکہ اگر مسلمان ہر سال گائے کی قربانی کرنے لگیں تو پھر عام دنوں میں بھی ہر سال لاکھوں گائے مسلمانوں کا لقمہ بن جایا کریں گی اور ہندو تاجر جو گائے کے گوشت کی تجارت کر رہا ہے اس کے منافع میں کٹوتی لگ جائے گی حالانکہ وہ بے وقوف ہر سال کروڑوں روپے ہندو پنڈتوں اور ہندو مذہبی اور سیاسی تنظیموں کو بطور بھتہ ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ رقم ان کے اپنے مذہب کے لوگوں کو جاتی ہے ان کی پیٹ پوجا کا سامان ہوتا ہے اس لیے وہ ان کے خیال میں کہیں بہتر ہے کہ ان کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچے۔ان کی تاجرانہ ذہنیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جب یہ کمپنی جاپان کو گائے کا گوشت بھیجتی ہے تو اس کا نام سمورائی ہوجاتا ہے اور برطانیہ کو گائے کا گوشت بھیجتی ہے تو اسی کمپنی کا نام فالکن فوڈ ہوجاتا ہے۔ آسٹریلیا کے محکمہ زراعت نے جو اعداد و شمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق گزشتہ برس بھارت نے چوبیس لاکھ ٹن گائے کا گوشت مختلف ممالک کو بھیجا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اگر ہندو ہر روز لاکھوں گائے ذبح کرکے ہرسال چار ارب تیس کروڑ ڈالر کماتے ہیں ایسے منافع بخش کاروبارسے بھارت کثیر زرمبادلہ کماتا ہے بھارتی تاجر وں کیساتھ گائے کے مقدس خون کی بہتی ندی میں سب ہی ہاتھ دھو لیتے ہیں اس لیے سب کی زبان پر تالے پڑ جاتے ہیں اور اگر مسلمان صرف گائے کے گوشت کوچھولے تو مجرم ٹھہرتا ہے بھارت کی یہ دوغلی پالیسی صرف تجارت یا گائے کے گوشت کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ ہر معاملے میں ہے چاہے وہ سیاسی ہو تجارتی ہو اخلاقی ہو یا مذہبی وہ ہر رنگ میں اپنی ہولی کے رنگوں میں رنگے نظر آتے ہیں دنیا حیران ہے کہ بھارت کی اکثریتی آبادی یعنی ہندو جو گائے کو اس قدر متبرک و مقدس مانتے ہیں کہ ان کا پیشاب اور گوبر تک متبرک تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے پینا بھی مذہبی رسوم کا حصہ مانتے ہیں وہ اپنی اتنی متبرک اور مقدس مذہبی ہستی کو بے دریغ اپنی تجارت کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں کیونکہ بھارت دنیا میں گائے کے گوشت ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں نمبر ایک پر ہے جبکہ برازیل دوسرے اور آسٹریلیا تیسرے نمبر پر آتے ہیں دنیا حیران ہے کہ بھارتی تاجر اپنی ماں جیسی مقدس گائے کو بھی نہیں بخشتے تو ان سے کیسی خیر کی توقع کی جاسکتی ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close