Naeyufaq Mar-16

عاقبت اندیش

ریاض بٹ

تھانہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر قسم کے انسان آتے ہیں یا لائے جاتے ہیں مجرم بھی لائے جاتے ہیں اور فریادی بھی آتے ہیں، وہ بھی ایک فریادی ہی بن کر آئی تھی۔
بڑی خوب صورت عورت تھی تیکھے تیکھے نقوش والی رنگ نہ زیادہ سانولا تھا اور نہ زیادہ گورا اگر میں شاعر ہوتا تو اس کے حسن پر غزل لکھ دیتا اور غزل میں یہ ثابت کردیتا کہ حسن صرف گورے رنگ میں ہی نہیں ہوتا۔
لیکن میں ایک تھانیدار تھا۔ میں نے اس کو تھانیدارانہ نظروں سے دیکھنا تھا وہ میں نے دیکھا اور بغور اس کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
’’وہ کس مقصد سے آئی ہے۔‘‘ ایک بات کی میں وضاحت کردوں کہ خاتون فینسی برقع میں آئی تھی اور اس کے برقع پہننے کا انداز چیخ چیخ کر یہ اعلان کر رہا تھا۔
وہ اس کی عادی نہیں ہے صرف اپنے آپ کو چھپانے کے لیے اس کا سہارا لیاہے۔ خاتون نے میرے سوال کے جواب میں بتایا کہ اسے جان کا خطرہ ہے۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور بولا۔
’’تمہیں کس سے جان کا خطرہ ہے۔‘‘
’’اپنے خاوند سے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے حیران نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’جی ہاں، تھانیدار صاحب میں یہی بات بتانے آپ کے پاس آئی ہوں کہ اگر میری موت غیر طبعی طریقے سے ہوتی ہے تو آپ میرے خاوند ذوالفقار کو گرفتار کرلیں۔ ‘‘
میری حیرانگی بڑھتی جا رہی تھی خاتون ایسی باتیں کر رہی تھی جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا۔ بغیر کسی وجہ یا ثبوت کے میں اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے اس کو لاکھ کریدا۔ لیکن وہ کوئی وجہ یا ثبوت نہ دے سکی۔ بس یہی کہتی رہی کہ اس کی چھٹی حس اسے یہاں تک لے آئی ہے۔
میں نے اسے جھوٹی تسلی دی کہ اس کے ساتھ اگر ایسا ویسا کچھ ہوا تو میں سب سے پہلے اس کے خاوند کی خبر لوں گا۔ وہ مطمئن ہو کر گئی یا نہیں مجھے اس بات پر سر کھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔
میں نے جب اے ایس آئی شاہد سے ان باتوں کا تذکرہ کیا تو وہ ہنس کر بولا۔
’’سر ہوسکتا ہے، خاتون کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہو یا پھر اس کے دماغ کا کوئی اسکرو ڈھیلا ہو۔‘‘
’’بھئی تم اس وقت موجود نہیں تھے اس لیے ایسے خیالات کا اظہار کر رہے ہو مجھے تو وہ ٹھیک ٹھاک لگتی ہے۔‘‘
پھر ہمارے درمیان اس کے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور چند دن بعد میں اسے اور اس کے واہمے کو بھول گیا۔ لیکن ہونی ہو کر رہتی ہیے۔
خاتون کے تھانے سے جانے کے پانچویں دن ہمیں اطلاع ملی کہ ذوالفقار کا قتل ہوگیا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے چند باتوں کا ذکر کردوں یہ باتیں یا معلومات خاتون سے سوال و جواب کے بعد مجھ تک پہنچی تھیں پہلے میری نظروں سے اس کی کوئی وقعت نہیں تھی اس لیے ذکر نہیں کیا تھا۔
خاتون نے بتایا تھا کہ اس کا خاوند ایک ہوٹل میں منیجر ہے اس نے ہوٹل کا نام بھی بتایا تھا غالباً تاج محل نام تھا بہرحال نام کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی یہ بات بتانے کی ہے کہ یہ ہوٹل ہمارے تھانے کی حدود میں تھا اور اس میں کمرے بھی تھے ریلوے اسٹیشن قریب تھا اس لیے اکثر مسافر اس میں آکر رہتے تھے ذوالفقار کو میں پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ بھی ایک لاش کی صورت میں وہ زندگی میں ایک خوب صورت جوان ہوگا نین نقش اس کے بھی جاذب نظر ہوں گے لیکن اب تو اس کا چہرہ کورے لٹھے کی طرح سفید تھا جیسے اس کی رگ رگ سے سارا خون بہہ گیا ہو اس کے سینے میں عین دل کے مقام پر ایک خنجر پیوست تھا جس کا صرف دستہ نظر آرہا تھا۔
لاش ایک کمرے میں پڑی تھی۔ ضروری کاغذی کارروائی کے بعد میںنے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردی اس وقت میرے ساتھ کانسٹیبل وقار اور سپاہی نواز تھے۔
کانسٹیبل کو میں نے لاش کے ساتھ بھیج دیا اور کمرے کا باریک بینی سے معائنہ کرنے لگا۔
کمرے میں ایک ڈبل بیڈ تھا ایک میز تھی۔ سپاہی نواز میری مدد کر رہا تھا ڈبل بیڈ کی چادر خون سے تر تھی دو تکیے ساتھ ساتھ رکھے تھے میں نے ایک تکیہ اٹھایا، تو اس کے نیچے سے مجھے ایک ایسا ثبوت مل گیا۔ جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اس بیڈ پر کوئی عورت بھی موجود تھی۔ یہ ہرے رنگ کی چوڑیوں کے ٹکڑے تھے میںنے سپاہی نواز کو یہ ٹکڑے دیے اور اسے کہا کہ انہیں محفوظ کرلے میز پر شراب کی بوتل اور دو گلاس بھی تھے بوتل بالکل خالی تھی ایک گلاس اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس میں شراب ڈالی گئی تھی جبکہ دوسرا گلاس خالی اور بالکل صاف تھا۔
سپاہی نواز نے میرے حکم پر کئی چیزوں کے فوٹو بنا لیے تھے میںنے کمرہ سر بمہر کروا دیا۔
اس دوران ہیڈ ویٹر اور کائونٹر کلرک ہمارے ساتھ ساتھ رہے تھے۔ اس ہوٹل کے مالک کا نام ملک شہزاد معلوم ہوا، وہ آج کل کسی عرب ملک میں گیا ہوا تھا، ہوٹل کے علاوہ اس کا ایکسپورٹ امپورٹ کا کاروبار بھی تھا۔
ہوٹل اس نے ذوالفقار (مقتول) کے حوالے کیا ہوا تھا اس ہوٹل کی حد تک وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ وہ سیاہ کر رہا تھا یا سفید فی الحال ہمیں اس سے غرض نہیں تھی وہ قتل ہوچکا تھا اور ہمیں اس کے قاتل کی تلاش تھی دوران تفتیش سب کچھ سامنے آجانا تھا۔
میں نے کائونٹر پر جا کر رہائشی کمروں کا رجسٹر چیک کیا۔ رات کو تقریباً دس کمرے لگے ہوئے تھے جن میں نو خالی ہوچکے تھے جبکہ ایک کمرے میں ابھی تک محمد نذر نامی بندہ مقیم تھا، جانے والے مسافروں کے میں نے نام اور پتے نوٹ کرلیے۔ ہیڈ ویٹر نے کائونٹر کے پیچھے ہی ہمارے لیے کرسیاں رکھوا دی تھیں۔
میں نے سب سے پہلے محمد نذر نامی بندے کو بلا لیا۔ وہ بھرے بھرے چہرے والا ایک چالیس سالہ بندہ تھا۔ رنگ ذرا سانولا تھا آنکھیں سکیڑ کر باتیں کرتا تھا شاید نظر کمزور تھی یا یہ اس کی عادت تھی۔
’’نذر صاحب آپ کہاں سے آئے ہیں اور اب کہاں جانے کا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب میں گجرات سے آیا ہوا ہوں اور اب شام کی گاڑی سے واپس گجرات جا رہا ہوں۔‘‘ اس نے سادہ سے لہجے میں جواب دیا۔
’’ہوں۔‘‘ میں نے ہنکارا بھرا چند لمحے اس کے چہرے کی طرف بغور دیکھتا رہا پھر اس سے سوال کیا۔
’’یہاں کس مقصد کے تحت آئے ہیں۔‘‘
’’تھانیدار صاحب میں کوئی چور ڈاکو یا قاتل نہیں ہوں آپ یہ سب سوال کس لیے کر رہے ہیں۔‘‘ اس نے خشک لہجے میں استفسار کیا۔
اس وقت تک اسے قتل کے متعلق معلوم نہیں ہوا تھا (اگر اس کا اس قتل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا)
مجھے یہی بتایا گیا تھا کہ اسے سوتے سے جگایا گیا ہے۔ میں نے مناسب الفاظ میں اسے حالات سے آگاہ کردیا۔ اس نے پہلے تو اپنی آنکھوں کو پھیلا لیا پھر انہیں سکیڑتے ہوئے گویا ہوا۔
’’تھانیدار صاحب دراصل میں گجرات میں پنکھے بنانے والی ایک فیکٹری کا سیل منیجر ہوں میں یہاں ایک ہول سیل ڈیلر سے آرڈر اور پیسے لینے آیا ہوں رات ذرا دیر سے آیا تھا اس لیے ابھی تک پڑا سو رہا تھا یہ ہے ساری بات۔‘‘
قارئین میں یہاں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کہانی ان دنوں کی ہے جب ابھی موبائل کا وجود نہیں تھا ٹیلیفون تھے۔ میں نے اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے چالیس سالانہ نذر سے سوال کیا۔
’’نذر صاحب آپ کی باتیں میری سمجھ میں آگئی ہیں لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔‘‘
’’وہ کون سی بات، تھانیدار صاحب۔‘‘
’’آرڈر کے متعلق تو ٹیلیفون پر بات چیت ہوجاتی ہے اور پیسے بھی ڈاکخانہ یا بینک کے تھرو بھیجے جا سکتے ہیں پھر آپ کو کیوں بھیجا گیا؟‘‘
میں بال کی کھال اس لیے اتار رہا تھا کہ ہوسکتا تھا کوئی اشارہ مل جاتا۔ وہ مسکرایا پھر گویا ہوا۔
’’بات دراصل یہ ہے کہ اس ڈیلر کے پاس تقریباً پچاس ہزار روپے پھنسا ہوا ہے۔
پھر میرے پوچھنے پر اس نے ڈیلر کا نام بتایا جس کا ذکر مناسب نہیں لیکن میں نے پتا نوٹ کرلیا۔
دو تین اور سوال کر کے میں نے اسے رخصت کردیا اور اسے تاکید کردی کہ جب تک میں نہ کہوں وہ اس ہوٹل س کہیں نہ جائے پھر میں نے اپنا روئے سخن ہیڈ ویٹر اور کائونٹر کلرک کی طرف موڑا اور کائونٹر کلرک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کا نام آصف تھا۔
’’ہاں تو آصف صاحب اب ذرا آپ میرے چند سوالوں کے جواب دیں۔
’’جی تھانیدار صاحب۔‘‘ وہ پوری طرح میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا۔
’’کیا آپ نے ذوالفقار (مقتول) کے گھر والوں کو اطلاع دے دی ہے۔‘‘
’’جناب سلیم اطلاع دینے گیا تھا لیکن ان کی کوٹھی پر تو تالا لگا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں اچھل پڑا۔
’’جناب بالکل یہی بات ہے جب سلیم (ویٹر) ان کی کوٹھی پر گیا تو کوٹھی کو مقفل پایا پڑوسیوں سے یہ بات پتا چلی کہ رات کو کوٹھی میں بتیاں چل رہی تھیں۔‘‘
یہاں یہ بات بھی بتا دوں کہ لاش بھی سلیم ویٹر نے دریافت کی تھی۔
رات کو ذوالفقار (مقتول) نے ویٹر سلیم کو کہا تھا کہ صبح سات بجے کے قریب دو بندوں کا ناشتہ لے کر آجانا۔ جب سلیم نے کمرے کے دروازے پر دستک دی تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا اس نے دوبارہ یہی عمل دہرایا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پاٹ نکلا۔
اس نے ویسے ہی دروازہ پر دبائو ڈالا تو یہ محسوس کر کے حیران رہ گیا کہ وہ اندر سے نہیں ہے۔ اس طرح سلیم کی ملاقات لاش کے ساتھ ہوگئی۔ میں یہ بات سن کر چونک پڑا اور آدھے سر سے گنجے کائونٹر کلرک کی طرف بغور دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’کیا آپ کو علم ہے کہ رات مقتول کا مہمان کون تھا؟‘‘
’’بالکل نہیں جناب اس کے متعلق منیجر صاحب نے ہمیں کچھ نہیں بتایا تھا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے اسے گھورا۔ ’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’جناب حقیقت یہی ہے جو میں نے بتائی ہے۔‘‘
میں نے ہیڈ ویٹر کو کہا کہ سلیم کو بلا لائے اور دوبارہ آصف سے سوال کیا۔
’’کیا اکثر منیجر (ذوالفقار) اس طرح اس کمرے میں رات گزارتا رہتا تھا۔‘‘
’’جی ہاں جناب ہفتے میں جمعرات اور ہفتے کی رات اس کمرے میں گزارتے تھے اور یہ تقریباً دو ماہ سے تھا آج اتوار تھا۔‘‘
’’اس کی کوئی خاص وجہ؟‘‘
’’جناب وہ ایک طرح سے اس ہوٹل کے مالک تھے ان سے وجہ پوچھنے کی جرات ہم میں نہیں تھی۔‘‘
وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اس کی زبانی یہ بھی پتا چلا کہ اس ہوٹل کا مالک ملک شہزاد مہینے میں ایک دوبار ہی ہوٹل میں آتا تھا۔
کچھ دیر کے بعد ہیڈ ویٹر نے آکر بتایا کہ سلیم کہیں نہیں مل رہا میں نے کائونٹر کلرک اور ہیڈ ویٹر کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’یہ کیا بات ہوئی وہ کچھ بتائے بغیر کہا چلا گیا؟‘‘
’’جناب ہم خود حیران ہیں اس سے پہلے تو سلیم نے کبھی یہ حرکت نہیں کی تھی دونوں نے میرے تیور دیکھ کر کانپتے ہوئے کہا۔
مجھے غصہ آگیا تھا مقتول کی بیوی بھی غائب تھی اور اب یہ سلیم جو مقتول کا خاص ویٹر تھا وہ بھی منظر سے غائب تھا۔
میں نے دونوں کے چہروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ سچ کہہ رہا ہے اور یہ واقعی لا علم ہیں میں نے جلد ہی اپنے غصے پر قابو پا لیا۔
اور ان سے مقتول کی کوٹھی کا پتا اور حد درجہ معلوم کر کے نوٹ کرلیا۔
اس کے بعد میں نے باری باری ہوٹل کے باقی عملے سے سوال و جواب کیے لیکن کام کی کوئی بات معلوم نہ ہوسکی سوائے ایک بات کے کہ جمعرات اور ہفتے کی شب جس کمرے میں مقتول رات گزارتا تھا اس تک سیڑھیوں کے ذریعے ایک راستہ عقبی گلی کی طرف سے بھی آتا تھا جو ریلوے لائن کے ساتھ تھی۔
اور وہ رات کے وقت تقریباً ویران ہی رہتی تھی۔
کہانی یہ بنی رہی تھی کہ مقتول شاید عیاشی کے لیے ہفتے اور جمعرات کی رات اس کمرے میں گزارتا تھا۔
سرہانے کے نیچے سے برآمد ہونے والی چوڑیاں یہی کہانی سنا رہی تھیں بات کچھ اور بھی ہوسکتی تھی اس اسٹیج پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی تھی۔
جب ہم ہوٹل سے باہر آئے تو لوگ اِدھر اُدھر ٹولیوں کی شکل میں بات چیت کرتے نظر آئے۔
ہوٹل ویران ہوچکا تھا بہرحال اس طرح کے کاموں میں ایسا تو ہوتا ہے۔
نذر کو ہم نے پابند کردیا تھا اس کے علاوہ میں سختی سے عملے کو تاکید کرآیا تھا کہ جونہی سلیم آئے اسے تھانے بھیج دیا جائے۔
یہ بات بھی ممکن تھی کہ سلیم نے ہی خنجر ذوالفقار کے سینے میں اتارا ہوا وہ شاید اس کا راز دار تھا اور راز داری بہت کچھ کرا سکتی ہے۔
اِدھر تھانے میں اے ایس آئی شاہد تھانے کا انتظام و انصرام سنبھالے ہوئے تھا۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر میں نے اسے بلا لیا اور ساری صورت حال اس کے گوش گزار کردی ہمیں کافی دیر ہوٹل میں لگ گئی تھی میرا سر تفتیش کے سلسلے میں درد کرنے لگا تھا میں نے آفس بوائے کو بلا کر چائے لانے کا کہا۔
’’سر آپ کے دریا کے پاس سے پیاسے واپس آگئے ہیں۔‘‘ اے ایس آئی نے شاید سر درد کی طرف سے میرا دھیان بٹانے کے لیے خوشگوار لہجے میں کہا۔
میں اس کا اشارہ سمجھ گیا ظاہر ہے ہم ہوٹل سے واپس آئے تھے اور وہ ہوٹل کو دریا کہہ رہا تھا۔
’’بھئی وہاں حالات ایسے تھے کہ ہم وہاں چائے نہیں پی سکتے تھے میں نے بھی لہجے کو خوشگوار بناتے ہوئے کہا۔
’’سر، میں نے تو ویسے بات کہہ دی تھی تاکہ پھر…!‘‘ چائے آنے تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
چائے پی کر میرا جسم اور دردِ سر کچھ نارمل ہوا۔
’’سر، اب کیا کرنا ہے۔ اے ایس آئی نے جیب سے رومال نکال کر منہ اور ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا کیونکہ چائے کے ساتھ بیکری بھی تھی۔
’’تم اس طرح کرو۔‘‘ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ذرا توقف کیا پھر بولا۔
’’سب سے پہلے اس بات کا کھوج لگائو کہ مقتول کی بیوی شمائلہ (موجودہ بیوی) کہاں چلی گئی؟‘‘
’’سر یہ تو میں کروں گا ہی لیکن وہ تو ایک دن تھانے میں یہ کہنے آئی تھی کہ اسے اپنے شوہر سے خطرہ ہے۔ اب اس کا شوہر قتل ہوچکا ہے اور وہ خود اچانک غائب ہوگئی ہے یہ کیا ماجرہ ہے۔‘‘
’’بھئی میں تو خود حیران ہوں کہ یہ سب کیا ہے؟‘‘
بہرحال اے ایس آئی کے جانے کے بعد میں میز پر پڑے اس کام سے فارغ ہونے کے بعد میں نے سپاہی نواز کو بلا لیا۔
پہلے ایک بات کا ذکر کرنا میں بھول گیا تھا وہ بات اب بتا دیتا ہوں شراب کی بوتل اور دونوں گلاس پیک کرا کر لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیے تھے حالانکہ شراب کی بوتل بالکل خالی تھی۔ لیکن ہوسکتا تھا کوئی سراغ مل جاتا تفتیش میں ایک تنکا بھی بعض اوقات کار آمد ثابت ہوجاتا تھا۔
’’نواز۔‘‘ میں نے سپاہی نواز کو مخاطب کیا۔
’’جی سر۔‘‘ وہ اٹین شن ہوگیا۔
’’تم سفید کپڑوں میں ہوٹل تاج محل جائو اور اِدھر اُدھر سے پوچھ گچھ کرو، شاید کوئی ایسا شخص مل جائے جو کوئی ایسی بات بتا دے جو ہمارے لیے قاتل کو تلاش کرنے میں مدد گار ثابت ہو۔ ‘‘
اس دن اے ایس آئی نے مجھے جو رپورٹ دی، وہ اس طرح تھی اس میں چند باتیں مجھے ہوٹل میں معلوم ہوگئی تھیں۔
مقتول کی بیوی شمائلہ کی شادی چار سال پہلے مقتول کے نکاح میں آئی تھی ان کی ابھی تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ کوٹھی میں یہ جوڑا چار نوکروں کے ساتھ رہتا تھا ایک نوکرانی اور نوکر ساتھ ہی رہتے تھے باقی دو شام ے پہلے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔ نوکر اور نوکرانی کی رہائشگاہ بھی معلوم ہوگئی تھی دونوں بہن بھائی تھے اور ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔
شام کو میں سادہ کپڑوں میں سپاہی نواز کو ساتھ لے کر ان کے گھر پہنچ گیا۔ یہ دو کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گھر تھا جو مکینوں کی غربت کی کہانی سنا رہا تھا ہم نے اپنا تعارف کرایا۔
نوکر کا نام رفیق اور اس کی بہن کا نام عارفہ معلوم ہوا۔ انہوں نے ہمیں ایک کمرے میں بٹھایا۔
رفیق کی عمر بیس بائیس سال ہوگی جبکہ عارفہ اس سے دو سال چھوٹی ہوگی، بہرحال ہم ان کی عمریں معلوم کرنے تو آئے نہیں تھے۔ جس کام کے لیے آئے تھے وہ میں نے شروع کردیا۔
’’رفیق تمہیں اپنے مالک کے قتل کے متعلق تو معلوم ہو ہی چکا ہوگا۔‘‘
’’جی ہاں تھانے دار صاحب آج جب ہم کوٹھی پر گئے تو یہ اندوہناک خبر ہماری منتظر تھی۔‘‘
’’وہ پڑھا لکھا لگتا تھا۔‘‘
’’تم کتنی جماعتیں پڑھے ہوئے ہو۔‘‘ میں نے اس کو اپنے ساتھ بے تکلف کرنے کے لیے پوچھ لیا۔
’’تھانیدار صاحب وہ ایک سرد آہ بھر کے بولا میں نے ابھی میٹرک کا امتحان دینا تھا کہ سب کچھ، سب خواہشیں ادھوری رہ گئیں، میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں دل کا دکھ پانی بن کر آگیا ہے لیکن اس نے کمال ضبط سے اپنے جذبات پر قابو پایا اور بات کو آگے بڑھاؒے ہوئے بولا۔
اچانک والد صاحب پر فالج کا حملہ ہوا، وہ چارپائی کے ہو کر رہ گئے والدہ اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں والد صاحب ذوالفقار صاحب کے گھر باورچی کا کام کرتے تھے فالج کے حملے کے چند دن بعد والد صاحب بھی چل بسے۔
’’ذوالفقار صاحب نے ہم دونوں کو نوکر رکھ لیا۔ انہیں باورچی اور ایک نوکر کی ضرورت تھی۔
باورچی خانے کا کام عارفہ کرتی ہے اور میں باہر کے کام کرتا ہوں یعنی سودا سلف لے آتا تھا۔
’’عارفہ تمہاری مالکہ کیسی تھی؟‘‘ میں نے اچانک عارفہ سے پوچھ لیا۔
وہ شاید خیالات میں کھڑی ہوئی تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ ان کا موڈ خراب ہی رہتا تھا میں نے ان کو بہت کم خوشگوار موڈ میں دیکھا تھا۔‘‘
’’میاں بیوی کے تعلقات کیسے تھے؟‘‘
ہم شام سے پہلے گھر آجاتے تھے صاحب بہت کم گھر میں ہوتے تھے لیکن جب بھی ہوتے تھے میں نے ان کے درمیان سرد مہری ہی دیکھی تھی۔
’’ہوں۔‘‘ میں نے ہنکارہ بھرا اور رفیق سے پوچھا۔
’’باقی دو نوکروں کے متعلق کچھ بتائو۔
’’تھانیدار صاحب ان میں ایک چوکیدار تھا جو کوٹھی کے گیٹ پر بیٹھا رہتا تھا جبکہ دوسرا ڈرائیور تھا۔
’’میں نے سنا ہے وہ بھی وہیں رہتے تھے۔‘‘
’’آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔‘‘ رفیق اور عارفہ نے یک زبان ہو کر کہا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا پھر رفیق کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔’’اگر کوئی اور بات ذہن میں آجائے تو تھانے میں آکر بتا دینا۔
جب ہم تھانے میں واپس آئے تو عشا کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ میں نے اپنی میز پر پوسٹ مارٹم کی رپورٹ اور لیبارٹری رپورٹ دیکھی تو اسے پڑھنے لگا۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق مقتول کی موت رات دو بجے اور تین بجے کے درمیان ہوئی تھی موت کے وقت اس کے معدے میں بے ہوشی کی دوا ملی شراب تھی، جس گلاس میں شراب ڈالی گئی تھی۔ اس کے متعلق رپورٹ سے بھی یہی بات ظاہر ہوئی تھی۔
رپورٹوں کو میں نے اپنی میز کی دراز میں رکھا اور آرام کرنے کوارٹر میں چلا گیا، لاش ابھی سرد خانے میں تھی اسپتال کی وجہ کا ذکر آگے آئے گا۔ دوسری صبح دھند نے ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوا تھا۔
یہ جنوری کے وسطی دن تھے سردی عروج پر تھی۔
ابھی مجھے بیٹھے ہوئے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ مجھے اطلاع دی گئی کہ ایک بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے میں نے اسے بلایا۔
جب وہ میرے سامنے آیا تو میں نے بغور اس کا جائزہ لیا۔ وہ پچاسی کے پیٹے میں ہوگا نکلتا ہوا قد، گورا رنگ اور کلین شیو تھا۔ اس نے مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
’’تھانیدار صاحب میرا نام شہزاد ہے اور میں ہوٹل تاج محل کا مالک ہوں۔‘‘
’’اوہ، تشریف رکھیے جناب آپ کا غائبانہ تعارف تو ہوچکا تھا۔ میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ بیٹھ گیا اور پریشان لہجے میں بولا یہ کیا ہوگیا تھانیدار صاحب ذوالفقار کو کس نے قتل کردیا۔‘‘
’’شہزاد صاحب میں بھی یہی کھوج لگانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ذوالفقار کا قاتل کون ہے لیکن ذوالفقار کے متعلق کچھ پتا نہیں چل رہا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے اس کے رشتے داروں کے متعلق میں اندھیرے میں ہوں بیوی (بیوہ) بھی غائب ہے اس کے آگے پیچھے کا بھی کچھ پتا نہیں چل رہا۔‘‘
میں نے اب تک کے حالات اور معلومات اس کے سامنے رکھ دیں وہ دکھی لگتا تھا جیسے اس کا کوئی قریبی رشتے دار قتل ہو گیا ہو۔
اس نے چند لمحے میری باتوں پر غور کیا پھر سنجیدہ لہجے میں بولا۔
’’میں آپ کو ساری باتیں بتاتا ہوں پہلے آپ بتائیں کہ لاش کہاں ہے یعنی اس کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے یا نہیں۔
’’لاش اسپتال کے سرد خانے میں ہے اور اس کی وجہ آپ پر آشکار ہوچکی ہوگی۔
’’بالکل تھانیدار صاحب آپ کو مقتول کے کسی قریبی رشتے دار کی تلاش ہے، میں ہی اس کا سب کچھ ہوں میرے خیال میں جب تک میں پوری کہانی نہیں سنائوں گا بات آپ کے پلے نہیں پڑے گی پھر اس نے اپنی دانست میں ایک عجیب و غریب کہانی سنا دی۔
میں اور ذوالفقار عجیب و غریب حالات میں ملے تھے۔ دراصل ایک رات میں کہیں سے آرہا تھا میری جیب میں کافی بڑی رقم تھی شاید دو رہزن میری تاک میں تھے مجھے کافی دیر ہوچکی تھی کچھ دنوں سے میری گاڑی خراب تھی میں پیدل ہی آرہا تھا کہ ایک قدرے ویران جگہ پر مجھے دور رہزنوں نے گھیر لیا اور ایک نے خنجر جبکہ دوسرے نے ریوالور نکال لیا۔ ریوالور والے نے جو ایک بڑی مونچھوں والا سیاہ رنگ کا بندہ تھا بولا۔
’’جو کچھ جیب میں ہے نکال دو، ورنہ۔‘‘ اس نے ریوالور والے ہاتھ کو خطرناک انداز میں جنبش دیتے ہوئے فقرہ ادھوراچھوڑ دیا۔
میں اس اچانک افتاد سے گھیرا گیا اور سوچا انہیں مال دے دینا چاہیے ورنہ جان بھی جائے گی اور… خیر ابھی میں جیب میں ہاتھ ڈالنے ہی لگا تھا کہ ایک بندہ برق رفتاری سے کسی طرف سے آیا اور اس نے ریوالور والے کی کمر پر ایک زور دار لات رسید کردی وہ منہ کے بل گر پڑا اجنبی نے چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر ریوالور اٹھا لیا جب تک خنجر بردار کے پلے کچھ پڑتا اجنبی ریوالور تانے اس کے سامنے کھڑا تھا اور خونخوار لہجے میں کہہ رہا تھا۔
خنجر پھینک دو، ورنہ میں کھوپڑی میں سوراخ کرنے کے لیے گنتی بھی نہیں گنوں گا۔
اس نے خنجر پھینک دیا میں نے آگے بڑھ کر خنجر اٹھا لیا مجھ میں حوصلہ آگیا تھا۔
اب جب ہم نے گرے ہوئے آدمی کو دیکھا تو اس کا چہرہ خون سے تر تھا اس کا ماتھا پھٹ گیا تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم نے دونوں کو پولیس کے حوالے کردیا اب وہ کوئی غلط حرکت یا مزاحمت کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
کیونکہ بازی پلٹ چکی تھی اور ہتھیار اب ہمارے پاس تھے۔
اس قصبے سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اپنے محسن کا نام پوچھا تھانیدار صاحب وہ یہی ذوالفقار تھا اس نے بتایا کہ وہ گھر سے بھاگا ہوا ہے۔ دراصل دولت اور جائیداد انسان کی دشمن ہے۔ یہ خون کو سفید کردیتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں وہ اکیلا ہی دنیا میں آیا تھا چچا اور چچی نے اسے پالا پوسا تھا اور اس پر ظلم کرتے تھے اس نے کسی نہ کسی طرح میٹرک کرلیا وہ آگے بھی پڑھنا چاہتا تھا لیکن چچا اور چچی کی نظریں جائیداد پر تھیں یہ ایک گائوں تھا اور یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی بات تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ ذوالفقار آگے پڑھے اور ہمارے لیے مصیبت بن جائے وہ اسے کھیتی باڑی میں اتنا الجھا دینا چاہتے تھے کہ اسے کچھ اور سوچنے کی مہلت ہی نہ ملے۔ ذوالفقار کے ساتھ ایک مسئلہ اور بھی تھا وہ چچا کی لڑکی شمائلہ سے محبت کرتا تھا اس نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ چچی کبھی بھی شمائلہ کی شادی اس کے ساتھ نہیں کریں گی۔ دراصل وہ لالچی تھیں انہیں پتا تھا کہ ذوالفقار کی جائیداد تو ویسے ہی ان کے پاس ہے، وہ شمائلہ کی شادی اپنے بھائی کے بیٹے فرقان سے کرنا چاہتی تھیں جو ایک مل مالک تھا۔ فرقان باہر سے تعلیم حاصل کر کے آیا تھا اور ذوالفقار نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ بہرحال ذوالفقار نے جائیداد پر لعنت بھیج کر وہاں سے بھاگ آنے کا ارادہ کرلیا۔
وہ کچی عمر تھی اس عمر میں ویسے بھی انسان دماغ سے نہیں دل سے سوچتا ہے۔ ذوالفقار کو جائیداد سے زیادہ شمائلہ عزیز تھی کہتے ہیں محبت کی خاطر تخت و تاج ٹھکرائے گئے تھے جنگ و جدل ہوئی تھی خون بہا تھا بہرحال شمائلہ کی عمر بھی نادانی کی عمر تھی جب ذوالفقار نے اسے کہا کہ وہ یہاں سے جانا چاہتا ہے اور اسے بھی اس کا ساتھ دینا ہوگا تو چڑھتی جوانی نے اسے عشق کے سمندر میں بے خطر کود پڑنے کا مشورہ دے دیا ماں باپ کی عزت کو اس نے طاق پر رکھ دیا۔
بہرحال ذوالفقار اسے بھگا کر یہاں لے آیا۔ وہ یعنی شمائلہ گھر سے کچھ زیور اور پیسے بھی لے آئی تھی جس دن مذکورہ بالا حالات میں میری ملاقات ذوالفقار سے ہوئی تھی اس نے بتایا کہ انہیں اس شہر میں آئے ہوئے ابھی تین دن ہی ہوئے تھے وہ روزگار کی تلاش میں نکلا تھا یہاں پہنچ کر ملک شہزاد رکا۔ میز پر پڑے ہوئے جگ میں سے گلاس میںپانی ڈالا اور اسے پینے کے بعد سلسلہ کلام کو جوڑتے ہوئے بولا۔ میں نے ذوالفقار سے استفسار کیا۔
’’کہ وہ شمائلہ کو کہاں چھوڑ آیا ہے۔‘‘
اس نے بتایا کہ اس نے ایک مکان کرائے پر لیا ہے مالک مکان جو ایک بیوہ ہے وہ دوسرے حصے میں رہتی ہے۔‘‘
’’دیکھو، ذوالفقار تم ابھی چھوٹے ہو، تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے تم اکیلے ہوتے تو کوئی بات نہیں تھی لیکن اب جوان جہان لڑکی بھی تمہارے ساتھ ہے یہ بات زیادہ دیر تک چھپی نہیں رہ سکتی۔ تم جلدی شمائلہ سے نکاح کرلو، ورنہ بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائو گے، ٹھیک ہے جناب میں مالک مکان (بیوہ) کو اعتماد میں لیتا ہوں۔
’’یہ تم ایک اور بے وقوفی کرو گے۔‘‘ میں نے اسے زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کرنا بہتر سمجھا۔
تھانے دار صاحب ایک تو وہ میرا محسن تھا دوسرے مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ طارق بن زیاد کی طرح کشتیاں جلا کر آئے تھے وہ واپس بھی نہیں جا سکتے تھے اور بغیر نکاح کے زیادہ عرصے رہ بھی نہیں سکتے تھے تھانیدار صاحب آپ شاید اسے اچھا نہ سمجھیں لیکن میرے دل میں کوئی لالچ نہیں تھا میں نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نہ صرف ان کا نکاح پڑھا دیا بلکہ اسے اپنی ایک کوٹھی بھی رہنے کے لیے دے دی۔ ان دنوں مجھے کسی ایماندار مخلص اور محنتی کائونٹر کلرک کی ضرورت تھی میں نے اسے ہوٹل میں رکھ لیا، وہ چند لمحے رکا پھر بولا۔
’’تھانیدار صاحب وہ واقعی محنتی اور ایماندار ثابت ہوا، میں حیران ہوں اسے کون اور کیوں قتل کر گیا۔‘‘
’’یہ تو خیر ایک نہ ایک دن پتا چل جائے گا، آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کب اسے منیجر بلکہ سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا تھا۔
’’اوہ، میں ذوالفقار کی کہانی سنانے میں کھو کر یہ بتانا تو بھول ہی گیا تھا کہ ایک سال پہلے میں نے اسے یہ ذمہ داری دے دی تھی۔ دراصل جیسا کہ آپ کے علم میں آ ہی چکا ہوگا کہ میرا ایکسپورٹ امپورٹ کا کاروبار بھی ہے۔‘‘
’’میں آپ کی ساری بات سمجھ گیا ہوں لیکن چند باتیں شاید آپ کے علم میں نہ ہوں، وہ میں بتا دیتا ہوں۔‘‘
پھر میں نے اسے ذوالفقار کے متعلق یہ بتایا تھا کہ وہ جمعرات اور ہفتے کی رات ہوٹل کے کمرے میں گزارتا تھا اور آخری شب یعنی جس شب اس کا قتل ہوا تھا کمرے کی حالت کے متعلق بھی بتا دیا ساتھ اس بات کا ذکر بھی کردیا کہ کوٹھی پر تالا پڑا ہوا تھا۔ شمائلہ، چوکیدار، ڈرائیور اور ویٹر سلیم بھی غائب ہے۔
یہ سب بتا کر میں اندازہ لگانا چاہتا تھا کہ باہر سے واپس آکر اسے کن باتوں کا پتا چلا ہے۔
اس نے بتایا کہ اسے سب پتا چل گیا ہے ویسے پہلے اسے ذوالفقار کی روٹین کا بالکل علم نہیں تھا۔ میں نے کچھ باتیں اس سے پوشیدہ رکھ لی تھیں۔ ویسے قارئین وہ باتیں آپ کے ذہن میں تو ہوں گی ہی…
اس کے بعد میں نے اسپتال کے سرد خانہ سے لاش منگوا کر اس کے حوالے کردی تھی اس دوران اس نے ہوٹل سے مدد منگوالی تھی۔
اب میرے ذہن میں کچھ کھچڑی سی پکنی شروع ہوگئی تھی لیکن اس کھچڑی کو ابھی کافی مراحل سے گزرنا تھا۔
دو دن بعد میں اور کانسٹیبل وزیر ہوٹل پہنچ گئے۔ اس دوران میں نے محمد نذر کو اس کا ایڈریس نوٹ کرنے کے بعد جانے کی اجازت دے دی تھی ڈیلر نے اس کے بیان کی تصدیق کردی تھی۔ ملک شہزاد ہوٹل میں موجود تھا وہ ہمیں ایک کمرے میں لے گیا اور ہماری خاطر تواضع کے متعلق ہدایات دینے لگا۔
لیکن میں نے سختی سے منع کردیا اور بولا ملک صاحب یہ ان تکلفات کا وقت نہیں ہے آپ پہلے ذرا رجسٹر منگوا دیں۔
چند لمحوں کے بعد رجسٹر میرے سامنے تھا میں نے قتل والی رات کا ریکارڈ دوبارہ چیک کیا لیکن جو کچھ میں دیکھنا چاہتا تھا وہ مجھے نہیں ملا۔
میں نے رجسٹر واپس کرتے ہوئے ملک شہزاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’شہزاد صاحب کیا یہ ممکن ہے کہ ہوٹل میں ٹھہرنے والے اپنا اتا پتا غلط لکھوائیں۔‘‘
’’جناب یہ ممکن تو ہے کیونکہ ہم زیادہ تحقیقات نہیں کرتے‘‘
یہاں قارئین میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ وہ پر سکون دور تھا بم دھماکے، خود کش حملے اور دہشت گردی نہیں ہوتی تھی اس لیے ہوٹلوں میں کمرہ دیتے وقت زیادہ چھان بین نہیں کی جاتی تھی اب تو یہ عالم ہے کہ بغیر شناختی کارڈ کے کمرہ کرائے پر نہیں دیا جاتا اور چھان بین الگ کی جاتی ہے۔
’’تھانیدار صاحب کیا آپ کو کوئی سراغ یا کلیو مل گیا ہے۔‘‘ اچانک شہزاد کی آواز سے میں خیالات کی دنیا سے باہر آگیا میرا ذہن بہت دور تک سوچ رہا تھا۔
’’شہزاد صاحب ابھی میں خود واضح راستے کی طرف گامزن نہیں ہوسکا۔‘‘
’’اچھا باتوں میں یہ تو یاد ہی نہیں رہا کہ میں آپ کو بتاتا کہ سلیم واپس آگیا ہے۔‘‘
’’سلیم واپس آگیا ہے کیا مطلب۔‘‘ میں نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
دراصل وہ ڈر کی وجہ سے چھپ گیا تھا جونہی اسے یہ پتا چلا کہ میں آگیا ہوں میرے پاس آگیا اور ساری صورتحال سے مجھے آگاہ کردیا تھانیدار صاحب وہ بے گناہ ہے اور بہت سہما اور خوف زدہ ہے۔
’’آپ فوراً اسے بلائیں۔‘‘ میں نے شہزاد کو آگے نہیں بولنے دیا۔
چند لمحوں کے بعد جو بندہ میرے سامنے لایا گیا اس کا رنگ گندمی، درمیانی مونچھیں اور گال پچکے ہوئے تھے۔ وہ باقاعدہ کانپ رہا تھا۔
میں نے اس کی حالت کے پیش نظر ذرا نرم لہجے میں اسے مخاطب کیا۔
’’تم بھاگ کیوں گئے تھے؟‘‘
’’جناب میں ذرا چھپ گیا تھا مجھے پولیس سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’پولیس سے تو وہ ڈرتے ہیں جنہوں نے کوئی جرم کیا ہوتا ہے۔‘‘
’’میں جناب ذوالفقار صاحب کو مرے ہوئے دیکھ کر میں سوچنے لگا کہ پویس مجھے ضرور پریشان کرے گی میں دراصل ملک صاحب کے انتظار میں تھا اگر آج آپ نہ آئے تو ملک صاحب مجھے آپ کے پاس تھانے میں لے جاتے میرے نرم رویے سے اب وہ کافی حد تک سنبھل گیا تھا۔ قارئین بات ذرا لمبی ہوجائے گی اس نے جو کچھ بتایا وہ میں اپنی زبان میں مختصراً عرض کردیتا ہوں۔
سلیم، جیسا کہ ذکر آچکا ہے ہوٹل میں ویٹر تھا وہ کوٹھی میں جاتا رہتا تھا ایک دن شمائلہ اس کے سامنے دل کے پھپھولے پھوڑنے بیٹھ گئی، اس نے کہا کہ تمہارا صاحب مجھ پر شک کرتا ہے حالانکہ میں نے اس کی خاطر ماں باپ کی عزت کو پیروں تلے روند دیا تھا وہ مجھے دھمکیاں دیتا ہے میں کسی دن جس طرف سنگ سمائے نکل جائوں گی وہ شاید یہ چاہتا ہے کہ مجھے ڈرا دھمکا کر طلاق لینے پر مجبور کردے اور اسے ایک حصہ بھی نہ دینا پڑے بات کچھ ایسی ہی تھی اسے جھگیوں والی ایک لڑکی پسند آگئی تھی وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا ہر جمعرات اور ہفتے کی رات وہ اس کے پاس آئی تھی یہ چکر پچھلے دو ماہ سے چل رہا تھا ذوالفقار کے پاس شاید زیادہ پیسہ آگیا تھا اور اسے اپنی بیوی بری لگنے لگ گئی تھی عشق کا بھوت اتر چکا تھا۔ میں نے سلیم سے پوچھا۔
’’تم نے بیگم صاحبہ (شمائلہ) کو منیجر صاحب کے کرتوتوں سے آگاہ کردیا تھا۔
تھانے دار صاحب جب وہ روتی تھیں تو مجھے ان پر بہت ترس آتا تھا وہ مجبور ہوگئی تھیں نہ پیچھے واپس جا سکتی تھیں اور نہ انہیں ذوالفقار صاحب کا پیار دوبارہ مل سکتا تھا۔ میں نے ایک دن انہیں سب کچھ بتا دیا تھا۔ ویسے تھانیدار صاحب آپ مجھ سے لاکھ درجے سیانے ہیں میں تو آپ کے سامنے طفل مکتب بھی نہیں ہوں، کیا میں نے بیگم صاحبہ کو سب کچھ بتا کر برا کیا تھا، میں نے اس سوال پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا اور اس سے اس جھگیوں والی کے متعلق پوچھا کہ اس کا نام کیا تھا اور وہ کہاں سے آئی تھی؟
’’جناب نام تو اس کا افشاں تھا شہر سے باہر جو جھگیاں ہیں میں اس کو وہاں سے لے کر آتا تھا تھانیدار صاحب مجھے معاف کردیں میں مجبور تھا اس نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیے۔ وہ واقعی مجبور تھا دو کشتیوں کا سوار بنا گیا تھا اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ افشاں کو پچھلی طرف سے لے کر آتا تھا اور صبح وہ ذوالفقار صاحب کے ساتھ ناشتہ کرتی تھی پھر وہ اسے سب کی نظروں سے بچا کر واپس چھوڑ آتا تھا۔
میں نے اسے فارغ کردیا اور ہم تھانے میں واپس آگئے عجیب صورت حال تھی سب ڈوریاں الجھ چکی تھیں۔
اپنے کمرے میں بیٹھ کر میں نے پہلے میز پر بکھرے ہوئے کاغذ سمیٹے ان کو پیپر ویٹ کے نیچے رکھ کر میں فارغ ہی ہوا تھا کہ اے ایس آئی شاہد اندر داخل ہوا چند لمحوں بعد وہ کہہ رہا تھا۔
’’سر… قاتل کا کچھ پتا چلا۔‘‘ میں نے تازہ صورت حال اس کے سامنے رکھ دی۔
چند لمحوں کے لیے وہ کسی گہری سوچ میں کھو گیا پھر بولا۔
’’میرا خیال ہے سر میں اس گائوں (جہاں سے ذوالفقار مقتول) اور شمائلہ کا تعلق ہے جائوں اور وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آئوں تمہارے ذہن میں کیا ہے شاہد‘‘ میں نے اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر، کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ مقتول کے چچا اور چچی نے گمشدگی کی رپورٹ درج ہی نہ کروائی ہو اور یہ عہد کرلیا ہو کہ انہیں ڈھونڈ کر ختم کردیں گے کچھ لوگ ایسے ہی ذہن کے مالک ہوتے ہیں اپنی بے عزتی کا بدلہ خون بہا کر ہی لیتے ہیں۔‘‘
’’بہت خوب تمہاری بات دل کو لگتی ہے تمہارے خیال میں دونوں کو قتل کردیا گیا ہے لیکن شمائلہ کی لاش کہاں ہے؟‘‘
’’کوٹھی میں ہوسکتی ہے؟‘‘
میں اچھل پڑا حالات اس کیس میں اتنی تیزی سے بدلے تھے کہ اس طرف میرا دھیان ہی نہیں گیا تھا میں نے کوٹھی کی تلاش نہیں کی تھی۔
’’بھئی تم نے میرا دماغ روشن کردیا ہے خیر ہر کام قانون کے تقاضوں کے مطابق ہوگا صبح ہم عدالت سے خانہ تلاشی کا وارنٹ لے کر کارروائی کریں گے اب تو عدالتیں بند ہوچکی ہوں گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے سر۔ میں چلتا ہوں صبح عدالت کی طرف سے ہو کر ہی آئوں گا۔‘‘
’’نہیں پہلے تھانے آنا صبح جو حالات ہوں گے ان کے مطابق کارروائی کریں گے، ابھی تم کسی سپاہی کو سات لے کر جھگیوں کی طرف ایک چکر لگا آئو۔ ہوٹل سے سلیم (ویٹر) کو ساتھ لے جانا اور افشاں کو ساتھ لے کر ابھی آجائو۔
’’ٹھیک ہے، سر۔‘‘ کہہ کر وہ چلا گیا۔
تقریباً دو گھنٹے بعد آکر اس نے بتایا کہ جھگیوں والے وہاں سے ڈیرہ اکھاڑ کر جا چکے ہیں یہ ایک نئی درد سری تھی۔
اس وقت شام ہونے والی تھی دن بھر کی مغز کھپائی نے میرے ذہن کی چولیں ہلا دی تھیں۔
میں آرام کرنے اپنے کوارٹر میں چلا گیا میں یہ سوچ کر گیا تھا کہ صبح ایک پولیس پارٹی جھگیوں والوں کی تلاش میں روانہ کروں گا۔
سلیم (ویٹر) نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب صبح وہ کمرے میں گیا تھا تو افشاں غائب تھی علاوہ ازیں اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس نے شراب کی بوتل اور گلاس پہلی بار کمرے میں دیکھے تھے۔
لیکن…
قارئین اگلی صبح ہمارے سب کے سب منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ابھی مجھے تھانے میں آئے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ سپاہی انور اندر داخل ہوا اور سیلوٹ کر کے بولا۔
’’سر ایک خاتون آپ سے ملنا چاہتی ہے ہمیں کچھ نہیں بتا رہی کہتی ہے تھانیدار صاحب سے کام ہے ذرا نجی قسم کا ویسے ایک بات ہے سر اسے کوئی ضروری کام ہی ہوگا ورنہ اتنی ٹھنڈی صبح تھانے میں کون آتا ہے۔
’’ٹھیک ہے بھئی بھیج دو۔‘‘ میں نے اس کی لمبی چوڑی تمہید سے اکتا کر کہا۔ پھر جب خاتون میرے سامنے آئی تو دنگ رہ گیا وہ شمائلہ تھی۔ جی ہاں وہی شمائلہ جس کی آمد سے یہ کہانی شروع ہوئی تھی وہ آج بھی فیشن برقعے میں تھی اور اس نے کمرے مں آکر نقاب الٹا دیا تھا۔
’’تھانیدار صاحب آج آپ مجھے یہاں دیکھ کر حیران تو ہوئے ہوں گے جب میں پہلی بار آپ کے پاس آئی تھی تو آپ نے مجھے شاید کوئی نفسیاتی مریضہ سمجھا تھا اور میری باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی لیکن آج میں جو کہانی سنانے آئی ہوں اسے آپ میرا بیان سمجھ لیں اور اس بیان پر آپ کا قانون بھی حرکت میں آئے گا، خیر مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔‘‘ میں نے کافی عرصہ پہلے کشتیاں جلا دی تھیں۔
قارئین میں اس کا بیان ان باتوں کو حذف کر کے سنا دیتا ہوں جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
افشاں کے متعلق سب کچھ جان کر اس نے انتقام لینے کا ایک بھیانک منصوبہ بنایا سلیم کو اس سے ہمدردی ہوگئی تھی وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح دوبارہ ذوالفقار صاحب دل سے اپنی بیگم کا ہوجائے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ بیگم صاحبہ کے دل میں کیا ہے بہرحال شمائلہ نے سلیم سے یہ کہہ کر افشاں کے ڈیرے کا پتا پوچھ لیا کہ وہ افشاں کو سمجھائے گی میرا گھر نہ اجاڑ لے۔ لیکن جمعتہ المبارک کے دن صبح ہی صبح اس نے فیشن برقعہ پہنا (ویسے وہ چادر استعمال کرتی تھی)
اپنے آدھے زیور ایک پوٹلی میں باندھے اور ڈیرے پر پہنچ گئی، ڈیرے والے حیران رہ گئے کہ یہ کون ہے اور ہم غریبوں کے ڈیرے پر کیوں آئی ہے اس نے افشاں کے متعلق پوچھا۔ اسے افشاں سے ملا دیا گیا ڈیرے پر کھسر پھسر شروع ہوگئی تھی لیکن شمائلہ اس کی پروا کیے بغیر افشاں کو ایک طرف لے گئی اور بولی تم سنا ہے تاج محل ہوٹل کے منیجر ذوالفقار کے پیچھے دیوانی ہوئی ہو، کان کھول کر سن لو وہ بھنورا ہے وہ پہلے میری زندگی تباہ کر چکا ہے (اس نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ ذوالفقار کی بیوی ہے) بہرحال افشاں کا جواب خلاف توقع تھا وہ دلیری سے بولی بی بی جی کون کمبخت محبت کرتا ہے میں تو مردوں سے انتقام لے رہی ہوں اس جیسا ایک بابو میری زندگی تباہ کرکے کہیں بھاگ گیا ہے اس نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا لیکن میری عزت سے کھیل کر بھاگ گیا۔‘‘
’’اوہ بہت افسوس ہوا یہ کہہ کر شمائلہ نے زیور کی پوٹلی اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ زیور تمہارا ہوسکتا ہے اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو۔‘‘
’’قتل تو نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ وہ للچائی ہوئی نظروں سے زیور کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’بالکل نہیں پگلی، بس اسے صرف ایک سبق دینا ہے ویسے تم لوگ یہاں کب تک ہو؟ شمائلہ نے اچانک کچھ سوچ کر پوچھ لیا اتوار کو ہم جا رہے ہیں۔‘‘ افشاں نے بتایا۔
’’ٹھیک ہے تم نے صرف اتنا کرنا ہے کہ ایک شراب کی بوتل خریدنی ہے گلاس تو کمرے میں ہوتے ہوں گے۔‘‘ افشاں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس ہفتے کو تم جائو، تو اسے جی بھر کے شراب پلانا لیکن خبردار خود چسکی بھی نہ لینا پھر میں پہنچ جائوں گی۔ اس کی جیب میںجتنے پیسے ہوں گے وہ تمہارے ہوں گے پھر شمائلہ نے سو سو کے تین نوٹ نکال کر اس کے حوالے کیے اور یہ کہتے ہوئے واپس آگئی دیکھو یہاں ان باتوں کی کسی کو بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے زیور بھی اسے دے آئی تھی۔ اس کے بعد شمائلہ نے بتایا کہ وہ رات دو بجے کے قریب پچھلی طرف سے کمرے میں پہنچ گئی یہ سب اس نے کمال مہارت سے سلیم سے پوچھ لیا تھا اس نے دیکھا کہ ذوالفقار بے سدھ پڑا ہے اس نے سرگوشی میں افشاں سے پوچھا کیا تم نے بے ہوشی کی دوا شراب میں ملا دی تھی افشاں نے سر ہلا کر ہاں کردی۔ شمائلہ نے اس کی جیب سے سارے پیسے نکال کر افشاں کے حوالے کردیے اور اسے کہا تم اپنے کپڑے صحیح کرکے نیچے انتظار کرو میں تھوڑی دیر میں آرہی ہوں شمائلہ نے مجھے سنایا کہ اس لمحے اسے ذوالفقار سے شدید نفرت محسوس ہوئی اس نے میرے دل کا خون کیا تھا میں نے اس کا خون کردیا حساب برابر ہوگیا۔
’’بی بی میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا حساب برابر نہیں ہوا تمہیں قانون کو حساب دینا ہوگا۔
قارئین آپ کے ذہن میں کچھ سوال آرہے ہوں گے لیجیے ان کے جواب بھی آپ کی خدمت میں پیش کردیتا ہوں۔ میں نے شمائلہ سے پوچھا تھا کہ وہ اتنے دنوں بعد تھانے میں کیوں آئی کوٹھی میں موجود نوکر کہاں گئے؟ اور افشاں اس کو نیچے کھڑی ہوئی ملی تھی یا نہیں؟‘‘
اس نے بتایا کہ افشاں اس کو مل گئی تھی وہ اس کے ساتھ ان کے ڈیرے پر چلی گئی تھی اس کا ڈیل ڈول اس کے ساتھ ملتا جلتا تھا افشاں کو اس نے بتایا کہ اس نے کیا کردیا ہے افشاں پہلے تو گھبرائی پھر اسے کہا تم اپنے کپڑے اتار دو میں انہیں جلا دیتی ہوں تم میرے کپڑے پہن لو۔ جب یہ سب کچھ ہوگیا تو اس نے کہا۔ میں اب واپس نہیں جائوں گی تم مجھے ساتھ ہی لے چلو، مختصراً وہ ڈیرے والوں کے ساتھ چلی گئی۔ وہ وقتی غصے اور جذباتی لمحوں کے حصار میں گرفتار ہو کر یہ سب کچھ کر چکی تھی اب اس کا ذہن مائوف ہوگیا تھا لیکن چند دن بعد جب ہیجانی کیفیت سے وہ باہر آئی تو وہ مضطرب اور بے چین ہوگئی کہتے ہیں انسانی خون بڑے بڑے مجرموں کو ہضم نہیں ہوتا وہ تو وقتی اشتعال کے تحت یہ سب کچھ کر گزری تھی اسے یہی حل نظر آیا کہ وہ تھانے میں جا کر سب کچھ بتا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلے چوکیدار اور ڈرائیور (کوٹھی کے نوکروں) کو اس نے پکی چھٹی دے دی تھی اگلے دن افشاں کو بھی ہم پکڑ کر لے آئے تھے۔ میرے خیال میں ذوالفقار اور شمائلہ دونوں عاقبت نا اندیش تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ گنوا دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close