Hijaab Dec-16

منڈا صدقے میرے تھے

سحرش فاطمہ

’’منڈا صدقے میرے تے۔‘‘
’’چٹا ککر بنے رے تے‘ کاسنی ڈوپٹے والیے منڈا صدقے تیرے تے…‘‘
گھر میں ٹپے چل رہے تھے اور موصوف اظہر چادر تانے ایسے گدھے گھوڑے بیج کے سو رہے تھے کہ کوئی فکر نہیں تھی۔ گو کہ ابھی شادی کی تاریخ نہیں رکھی گئی تھی چوں کہ خاندان کی بات تھی اس لیے بڑوں کے درمیان مہینہ طے ہوگیا تھا۔ گھر کی عورتوں کو جب موقع ملتا بیٹھ جاتیں اور گانے گانا شروع ہوجاتیں۔ اظہر کا موبائل بجے جارہا تھا لیکن اُسے ہوش ہی کہاں تھا۔ آفس و گھر کے کاموں سے جان بچتی تو وہ یوں بے خبر سو جاتا تھا۔
’’یہ اظہر کا بچہ بھی ناں، کبھی بھی صحیح وقت پر فون نہیں اٹھاتا۔‘‘ ثمرین جو اظہر کو کالز پہ کالز کررہی تھی اُسے کوفت ہونے لگی۔
’’کیا یار یہ ہی بندہ ملا تھا تمہیں؟ ایک ہمارے منگیتر ہیں جن کا بس چلے پھول ہی نچھاور کرتے رہیں ہماری راہوں میں اور ایک آپ کے منگیتر ہیں جو اِس وقت مزے سے خراٹے لے رہے ہوں گے۔‘‘ ثمرین کی دوست علینہ نے ساتھ بیٹھی فرح کو تالی مار کر کہا۔
’’اور نہیں تو کیا، ہم بات نہ کریں تو اُن کا تو کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا۔‘‘ فرح نے بھی ثمرین کو چھیڑا۔
’’چپ کرو تم دونوں، اگر وہ سو بھی رہا ہے تو کیا ہوا، جیسے ہی اٹھے گا اور میری اتنی ساری مسڈ کالز دیکھے گا ناں سارے کام چھوڑ چھاڑ کر یہاں آجائے گا۔‘‘ موبائل ہاتھ میں پکڑے منہ بسور کر ثمرین نے کہا۔
’’ہاں… ہاں وہ تو اُس نے آنا ہی ہے ورنہ تم نے جو اُس کا جینا حرام کردینا ہے۔‘‘ فرح ہنسی دی۔
’’اچھا… اچھا اب بس کرو تم دونوں، اور جاؤ ناں باہر جا کر بیٹھو، گھر والوں کے کام میں مدد کرو آئی سمجھ؟‘‘ ثمرین جھنجھلائی اور دونوں کو باہر بھیج دیا۔
’’اف اب میں کیا کروں؟‘‘ موبائل ہاتھ میں ہی تھا اور مستقل اظہر کو کوسے جارہی تھی اور ساتھ ہی فون کررہی تھی۔
اظہر نے کروٹ لی تو کچھ لمحے کے لیے آنکھ کھُلی تو محسوس ہوا کہ فون بج رہا ہے، جھٹکے سے اٹھا اور فون اٹھایا۔
’’اوہ… میرے خدایا… ثمرین فون کررہی تھی مارے گئے۔‘‘ اپنی چپل پہن کر اظہر اٹھا اور فریش ہونے چلا گیا۔
’’دل تو کررہا ہے تمہیں مار ڈالوں اظہر امتیاز۔‘‘ ہنکارا بھرتے ہوئے میسج ٹائپ کیا اور اظہر کو بھیج دیا۔
اظہر برش کررہا تھا کہ میسج ٹون کی آواز آئی اظہر نے فوراً کُلی کی اور موبائل اٹھایا، میسج پڑھتے ہی اظہر کا قہقہہ بلند ہوا۔
’’بندہ حاضر ہے۔ کہیں کب آئیں جو آپ ہمیں جان سے مار ڈالیں؟ بس حکم کریں جناب۔‘‘ اظہر نے گیلے ہاتھوں کو تولیہ سے پونچھ کر مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کیا اور بھیج دیا۔
’’مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں… سوئے رہو تم تو۔ سارا وقت بس یہی کام ہے تمہارا۔‘‘ ثمرین نے بھی اپنا موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھا اور لیٹ گئی۔
’’کرتے رہو میسج کالز‘ مجھے بھی اب پروا نہیں۔‘‘
’’ثمرین… کھانا لگ گیا ہے آجاؤ باہر۔‘‘ فرح اُسے بلانے آئی تھی۔
’’میرا موڈ نہیں۔‘‘
’’کیوں کیا ہوا؟ کیا بات نہیں ہوئی اظہر بھائی سے؟‘‘ فرح اُس کے پاس آکر بیٹھی۔ ثمرین نے نفی میں سر ہلایا۔
’’یار وہ مصروف ہوگا ناں… شادی ہونے والی ہے تم دونوں کی، سو کام ہوتے ہیں، ہم بھی تو یہاں آنٹی کی مدد کے لیے ہی آئے ہیں ناں۔ تھک جاتا ہوگا اُس کو بھی سمجھو ناں۔‘‘
’’وہ بات نہیں ناں بھئی، مجھے اِس بات کی ٹینشن ہے کہ میری ڈیٹ فکسنگ میں کون سی تاریخ رکھی جائے گی۔‘‘ ثمرین اٹھ بیٹھی اور اپنی بات سامنے رکھی۔
’’ہیں…! کیا… کیا مطلب؟ تم سے پوچھ کر ہی تاریخ رکھیں گے، میرا مطلب جو وہ تاریخیں سوچیں گے تمہیں بتایا جائے گا ناں۔‘‘ فرح اُس کی بات شاید سمجھی نہیں تھی۔
’’اوہو… میرا مطلب تھا کہ بس میں چاہ رہی کہ میری سال گرہ والے دن تاریخ نہ رکھی جائے۔‘‘
’’اوہ تو یہ بات ہے… لیکن کیوں؟ کیا اچھا نہیں ہے کہ سال گرہ والے دن شادی ہو؟‘‘ فرح کی بات پر ثمرین کا مزید موڈ آف ہوگیا۔
’’نہیں ناں… مجھے نہیں اچھا لگتا کہ جس دن شادی کی سال گرہ مناؤں تو اپنی سال گرہ بھی ہو۔‘‘
’’ارے کیا پتا بچے کی سال گرہ بھی ہوجائے اُس دن۔‘‘ فرح نے ذومعنی انداز میں ثمرین کو دیکھا اور کہا۔
’’نالائق کہیں کی‘ یہ شوق آپ اپنی شادی کے وقت پورا کرنا آئی سمجھ۔‘‘ ثمرین کی بات پر فرح ہنسی۔
’’یار پلیز… امی کو بھی سمجھانا‘ میں کب سے کوشش کررہی ہوئی ہوں پر اظہر سے میری بات نہیں ہورہی۔ اُسے بھی یہی سمجھانا ہے ناں میں نے۔‘‘ ہاتھ ملتے ہوئے ثمرین نے بہت فکرمندی سے کہا۔
’’تم پاگل ہو واقعی ثمرین۔‘‘ فرح نے تاسف سے سر ہلایا۔
’’اچھا ناں جاؤ مجھے کھانا نہیں کھانا‘ مجھے سوچنا ہے اکیلے میں۔‘‘ ثمرین نے فرح کو باہر جانے کا صاف اشارہ کیا۔
’’ٹھیک ہے بیٹھی رہو۔‘‘ فرح چلی گئی۔
پیر جھلاتی، نیم دراز حالت میں بیٹھی بالوں کو انگلیوں میں لپیٹتے ہوئے ثمرین کسی سوچ میں گم تھی کہ فون بجا۔ ہڑبڑا کر اُس نے فون اٹھایا غصے سے دیکھا اور واپس رکھ دیا۔
’’اوہو اب یہ فون نہیں اُٹھائے گی۔‘‘ اظہر بڑبڑایا اور میسج کیا۔
’’پلیز فون اٹھاؤ۔ کب سے میسج کررہا ہوں، کوئی جواب تو دو۔ اب مجھے پریشان کرتے ہوئے تمہیں مزہ آرہا ہے؟‘‘ کھسڑ کھسڑ کر چلتے ہوئے اظہر نے میسج ٹائپ کیا۔
’’بھائی… تجھے کہا بھی ہے کہ پیر اوپر کرکے چلا کر یہ کیا زمین کو رگڑتے ہوئے چل رہا ہے۔‘‘ اظہر کے بڑے بھائی نے چائے پیتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… کیا؟ اچھا ناں سوری۔‘‘ اظہر نے سرسری سا جواب دیا اور واپس موبائل متوجہ ہوگیا۔
’’تم دونوں کی شادی ہونے والی ہے کچھ دن تو بات چیت بند کردو۔‘‘
’’بھائی… یہ پابندی ناں آپ کے وقت پر بھی لگی تھی تب بھی چھپ چھپ کر بات تو چھوڑو ملتے بھی تھے ناں تو مجھے کیوں منع کررہے ہیں؟‘‘
’’اوئے آرام نال… کوئی سُن نہ لے۔‘‘ مظہر نے گھبراتے ہوئے کہا۔
’’اب کیا ڈر اب تو شادی کیا بچے بھی ہوگئے اب کیوں ڈر رہے ہو؟‘‘ اظہر اپنے بڑے بھائی کی حالتِ زار دیکھ کر ہنس دیا۔
’’تو ہنسے جا… ارے گھر میں کسی کو پتا چل گیا ناں تو پوری زندگی کا طعنہ بن جانا ہے میرے لیے۔‘‘
’’آپ کے لیے کیوں؟ یہ تو عورتوں پر طعنے کسے جاتے ہیں۔ ہم مرد تو بری الذمہ ہوتے ہیں۔‘‘ اظہر نے اکڑ کر جواب دیا۔
’’او نہیں… بیوی کو تو ملیں گے طعنے تو کیا میں بچ جاؤں گا؟ پھنسوں گا تو میں ہی ناں بعد میں سمجھا کر… شادی ہونے والی ہے ابھی سے سب سیکھ لے مجھ سے۔‘‘ شرارتی انداز میں مظہر نے دھیمی آواز میں سمجھایا۔
’’اب میں آپ سے سیکھوں گا یہ سب؟ بس یہی رہ گیا تھا میری قسمت میں؟‘‘ اظہر نے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
’’اوئے جھلیے… ایسا نہ کہہ، بڑا ہوں، سب سمجھا سکتا ہوں۔‘‘ آنکھ دبا کر مظہر نے کہا اور چائے کی چُسکی لی۔
’’بھائی جی… رحم کرو مجھ پہ خیر میں چلا کچھ کام ہے۔‘‘
’’ابے اِس وقت کہاں جارہا ہے؟‘‘ اظہر نے گھڑی دیکھ کر کہا۔
’’جب آپ اِس وقت یہاں براجمان چائے کی چُسکیاں بھر سکتے ہیں تو میں اِس وقت باہر کیوں نہیں جاسکتا؟‘‘
’’کیوں کہ پیارے… جہاں جاؤگے وہاں بھی پوچھا جائے گا کہ اِس وقت کیوں آئے ہو۔‘‘
’’میرا سسرال اِس معاملے میں بہت اچھا ہے، پسند کی شادی ہو تو کیا منع کرنا ملنے جلنے سے ہے کہ نہیں؟‘‘
’’ہاں بھئی مزے ہیں تمہارے، اپنی قسمت میں تو پسند کی ہوکر بھی ایسی پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ بس۔‘‘ مظہر نے ٹھنڈی آہ بھری۔
’’رہنے دو… پھر بھی کام تو چلاتے رہے آپ دونوں ہیں ناں۔‘‘
’’اچھا چل جا… بڑا آیا نکل۔‘‘ اظہر ہنسا اور فون ملاتے ہوئے باہر نکل گیا۔
’’یار ایک بار تو فون اٹھا لو پلیز۔‘‘ اظہر کا میسج پڑھتے ہی ثمرین نے کال کی۔
’’شکر ہے تم نے خود کال کرلی۔‘‘
’’کیوں تمہارے پاس کیا بیلنس ختم ہونے لگا تھا؟‘‘
’’کیا بات ہے۔ نہ سلام نہ دعا بس کاٹ کھانے لگ جاتی ہو۔‘‘
’’تم نے کون سا سلام کرلیا فون اٹھاتے ہی بات شروع کردی۔‘‘
’’اف اوہ… اچھا جی السلامُ علیکم میم صاحب، کیا حال ہیں آپ کے… سنا ہے بہت غصے میں ہیں آپ؟ کیوں کہ بندہِ ناچیز نے آپ کا فون ریسیو نہیں کیا… جس کے بدلے میں آپ نے بھی یہی کاروائی کی۔‘‘ اظہر نے ایک ہی سانس میں پورا جملہ ادا کیا۔
’’ظاہر ہے جب بھی مجھے کام ہوتا ہے تم سے ضروری بات کرنی ہوتی ہے تم سوئے ہوتے ہو، پتا نہیں کیا ملا کر کھاتے پیتے ہو کہ بس نیند ہی غالب رہتی ہے۔‘‘
’’اچھا ناں چل اب چھوڑ‘ بتا دے کیا اہم بات تھی جو اتنی کالز کیں تم نے؟‘‘
’’اچھا کتنی کالز کیں ذرا بتانا؟‘‘
’’تقریبا یہی کوئی بیسں کالز ہوں گی۔‘‘
’’جی بالکل‘ اِس سے بھی زیادہ ہوں گی تم ایسے بے ہوش ہوکر سوتے ہو کہ کال کا بھی پتا نہیں چلتا؟‘‘
’’اچھا ناں… اب بس کردو پلیز۔‘‘
’’اوکے فائن۔‘‘ دانت پیستے ہوئے ثمرین نے کہا۔
’’پھر سے غصہ… اچھا اب اصل بات بتانا پسند کروگی؟‘‘
’’میرے لیے ابھی کہ ابھی برگر لے کر آؤ…‘‘ تحکم انداز میں ثمرین نے کہا۔
’’کیا…! برگر کے لیے فون کررہی تھیں مجھے؟‘‘
’’ہاں تو تمہیں کیا لگا اور کیا بات ہوسکتی ہے۔‘‘ اظہر کو اب غصہ آنے لگا جب کہ ثمرین نے تنگ کرنے کے لیے کہا تھا۔
’’حد ہے ثمرین! میں تو… اچھا خیر‘ بس برگر چاہیے تھا تو آرڈر کرلیتیں۔‘‘ اظہر کو شدید غصہ آرہا تھا۔
’’لو میں کیوں کرتی وہاں فون مجھے تو تم سے ہی منگوانا تھا۔ اب تم جاگ گئے ہو ناں تو پلیز میرے لیے لے آؤ، دیکھو مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے ناں۔‘‘
’’اچھا… ٹھیک ہے لے آتا ہوں بس اور کچھ؟‘‘
’’ہاں اور ساتھ میں جوس بھی لے آنا۔‘‘
’’اوکے میڈم اور کچھ؟‘‘ سعادت مندانہ انداز میں اظہر نے پوچھا۔
’’نہیں اور بس تم آجاؤ بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔‘‘ اب ثمرین کی آواز میں بھی نرماہٹ آگئی تھی۔
’’بچا کے رکھو بہت ساری باتیں۔ بعد میں کام آئیں گی۔‘‘ اظہر نے شوخ ہوتے ہوئے کہا۔ ثمرین نے گہری سانس لی اور فون پہ گانے لگا لیے۔
’’سنو ہم لوگ جا رہے ہیں۔ کھانا کھا لینا یاد سے؟‘‘ فرح اور علینہ کمرے میں آکر بولیں۔
’’ہاں ٹھیک ہے۔ کچھ دیر میں اظہر آجائے گا تو اُسی کے ساتھ کھا لوں گی۔‘‘
’’اوہ تو میڈم ثمرین کی بات ہو ہی گئی اپنے ہونے والے مجازی خدا سے؟‘‘ علینہ اب ثمرین کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’ہاں اور کیا‘ بنا بات کئے کیا ہم رہ سکتے ہیں۔‘‘ اپنے دوپٹے کا پلو انگلی پر لپٹنے لگی۔
’’یہ بات تو تم رہنے ہی دو، بات کم لڑائی زیادہ ہوتی ہے تم دونوں کی۔‘‘ فرح نے وہیں کھڑے کھڑے کہا۔
’’یار تو لڑائی جب تک نہ ہو تب تک مزہ ہی نہیں آتا۔‘‘ ہنوز مسکراتے ہوئے ثمرین نے کہا۔
’’تم اور تمہاری یہی باتیں۔ پاگل ہو، یہ منگیتر لوگوں کو اتنا فری نہیں کرنا چاہئے بعد میں سر پر چڑھ جاتے ہیں۔‘‘ فرح اب آکر بیٹھ گئی۔
’’اب تم لوگوں کو دیر نہیں ہورہی؟ گھر نہیں جانا۔‘‘ ابرو اچکاتے ہوئے ثمرین نے کہا۔
’’ارے ہم تو تمہیں بتا رہے ہیں ایک تو سمجھاؤ اوپر سے محترمہ کے مزاج ہی نہیں ملتے۔‘‘ فرح تلملائی۔
’’اچھا ناں سمجھا دیا ناں‘ ٹھیک ہے میں بھی سمجھ گئی بس؟‘‘
’’اچھا بہن… جیسے آپ کی مرضی ہم تو چلے اب۔‘‘ علینہ نے ہاتھ جوڑ کر کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایک دوسرے کو الوداعی کلمات ادا کئے اور چلی گئیں۔
ثمرین نے بھی سکھ کا سانس لیا اور کھڑکی کھول کر کھڑی ہوگئی۔
پورے چاند کی رات تھی۔ جس وجہ سے چاند کی چاندنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی، وہ کھڑکی کے سامنے کھڑی اظہر کو یاد کرکے مسکرا رہی تھی۔ اُسی کی یاد میں کھوئی تھی کہ فون بجنے لگا۔
’’ہاں جی… آگئے؟‘‘
’’ہاں آتو گیا ہوں لیکن اب نیچے بیٹھا ہوا ہوں انکل کے ساتھ۔‘‘
’’اوہو سسر کے ساتھ ہو، چلو میں آتی ہوں نیچے۔‘‘
’’مرواؤ تم تو…‘‘
’’کچھ نہیں ہوتا… بس میںآرہی ہوں نیچے۔‘‘ اظہر اِس سے پہلے کچھ اور کہتا ثمرین نے فون ہی کاٹ دیا۔
’’اور سناؤ برخوردار، یہ کیا لائے ہو؟‘‘ سسر کے سامنے ٹیبل پر رکھے شاپر کو اظہر نے دیکھا اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔
’’وہ اصل میں ثمرین نے کہا تھا کہ اُسے باہر کا کچھ کھانا ہے تو…‘‘
’’اچھا… اچھا تو وہ خود منگوا لیتی، تمہیں خوامخواہ تکلیف دی۔‘‘ شبیر صاحب نے کن اکھیوں سے اظہر کو دیکھا۔
’’بالکل انکل۔ میں نے بھی یہی کہا تھا۔ یہ دیکھیں آگئی آپ کی صاحب زادی۔‘‘ اظہر نے ثمرین کو آتے دیکھا تو ایک دم چوڑا ہوکر بیٹھا۔
’’کیا ہوا ابو؟‘‘ ثمرین نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا اور اُن کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ثمرین نے ابرو اچکا کر اشارہ کرکے اظہر سے پوچھا۔
’’بھئی تم نے اظہر بچے کو کیوں اتنی تکلیف میں ڈالا کہ وہ لے آئے یہ سب؟ تم خود فون کرکے منگوالیتیں…‘‘ اظہر نے فورا مسکین سی شکل بنائی۔
’’کیا ابو… پہلے فون کرتی پھر وہ آرڈر لیتے اور گھنٹہ ویٹ کرواتے، مزہ نہیں آتا مجھے ایسے۔ اظہر کو ویسے ہی آنا تھا تو میں نے کہہ دیا کے آتے ہوئے لے آئے۔‘‘ شبیر صاحب نے اظہر کو دیکھا تو وہ سٹپٹا گیا۔
’’نہیں… نہیں انکل۔ ثمرین نے خود بلوایا ہے مجھے۔‘‘ اظہر نے ثمرین کو غصے میں گھورا۔ ثمرین نے زبان چڑائی۔
’’اچھا بھئی ہوسکتا ہے کوئی واقعی کام ہوگا تم لوگوں کو چلو میں تو چلا کمرے میں تم لوگ یہیں لاؤنج میں کھاؤ پیو اور باتیں کرو… میں ثمرین کی ماں کو بھیجتا ہوں۔‘‘
’’جی جی انکل ضرور۔‘‘
’’تمہیں انکل سے ذرا بھی ڈر نہیں لگتا؟‘‘
’’میں کیوں اپنے ابو سے ڈرنے لگی؟ اپنی حالت دیکھو ہاہاہاہا…‘‘ ثمرین کی ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی۔
’’اچھا… اچھا‘ ایک تو تمہارے چکر میں… میں نے بھی کچھ نہیں کھایا اب پیٹ میں زبردست قسم کی ریس شروع ہونے والی ہے۔ پہلے کچھ کھا لیں پھر باقی بات کرتے ہیں۔‘‘ اظہر نے شاپر کھول کر ثمرین سے کہا۔
’’کم از کم بندہ مجھے تو دیکھ کر بات کرے، اتنی ہی بھوک لگی ہوئی تھی تو کھا کر آتے ناں۔‘‘ اظہر سے شاپر لیتے ہوئے ثمرین نے کہا۔
’’تم نے بھی تو نہیں کھایا تھا ناں کچھ تو میں کیسے کھا لیتا؟‘‘
’’اوہ… بڑی فکر ہورہی تھی میری؟‘‘
’’ایک تو تم سے پیار سے بات کرنا بھی فضول ہے، یہاں تمہارے لیے کچھ بھی کرلوں ناں تمہیں تو ڈرامہ ہی لگتا۔‘‘ اظہر نے منہ بسورا۔
’’اچھا ناں… چلو اب کھا لیتے ہیں۔ مجھے بھی بہت بھوک لگ رہی۔‘‘
’’کیسے ہو اظہر؟‘‘
’’السلامُ علیکم آنٹی، میں ٹھیک آپ کیسی ہیں؟‘‘
’’میں بھی ٹھیک ہوں بیٹھے رہو، چائے وغیرہ کچھ چاہئے؟‘‘ ثمرین کی امی ناہید نے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں… نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں، میں ویسے بھی لے کر آیا ہوں باہر سے تو بس یہی کھا لوں گا۔‘‘
’’اوہ اچھا‘ ضرور یہ سب ثمرین نے منگوایا ہوگا تم سے؟‘‘ اظہر جھینپ گیا۔
’’صحیح جارہے ہو، تمہارے انکل کہتے ہیں کہ ابھی سے ہی ہماری بیٹی کا اتنا خیال رکھ رہا ہے تو شادی کے بعد بھی ہمیں کوئی فکر نہیں ہوگی۔‘‘
’’جی آنٹی بس۔‘‘
’’کوئی نہیں امی… اِسے کہاں کچھ یاد رہتا ہے، یہ تو میں ہوں جو کہتی رہتی، یاد دلاتی رہتی ہوں، ورنہ اِسے سونے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔‘‘
’’تم تو بس چپ ہی کرو، یہ نہیں کہ بچے کے لیے کچھ پکا کر بیٹھتیں اُلٹا اِسی سے منگواتی ہو۔‘‘
’’امی… کبھی اپنی بیٹی کی بھی سائیڈ لے لیا کریں آپ… اظہر ہی جیسے پیارا ہے آپ لوگوں کو۔‘‘ ثمرین کو اظہر نے منہ چڑایا۔
’’ہاں تو اتنا پیارا بچہ ہے، سب کا خیال رکھتا ہے۔ تمہیں ہی قدر نہیں۔‘‘ ثمرین بھونچکی رہ گئی۔
’’اچھا اب بس… مجھے کھانا تو کھانے دیں، لیکچر بعد میں دیجئے گا۔‘‘
’’پتا نہیں کب بڑی ہوگی تم۔ چلو تم لوگ کھاؤ، باتیں کرو۔ میں اُن کے پاس جارہی ہوں۔‘‘ ناہید اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’کن کے پاس جارہی ہیں امی؟‘‘ ثمرین نے شوخی کے انداز میں پوچھا۔
’’اُن کے پاس اور کن کے پاس؟‘‘
’’ہاں تو یہ اُن کاتو بتائیں یہ اُن کا ہے کون؟‘‘ ثمرین کے ہونٹوں پہ شریر سی مسکراہٹ تھی۔
’’پتا تو ہے تمہیں، تمہارے ابو کے پاس اور کون ہوگا۔‘‘ اظہر کی ہنسی چھوٹ گئی۔
’’تنگ کرتی ہو اپنی امی کو۔‘‘ ناہید نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
’’ارے میری پیاری سی امی… آپ کو تنگ نہیں کروں گی تو اور کس کو کروں گی؟ ساس کو تو کرنے سے رہی۔‘‘ ثمرین اٹھی اور ماں کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
’’اچھا اب بس‘ کچھ دنوں میں یہاں سے چلی جاؤ گی ویسے… بھلے ستا لو۔‘‘
’’امی… یہ بات آپ چوبیس گھنٹوں میں سے چھبیس گھنٹے کہتی رہتی ہیں۔‘‘ ثمرین نے افسردہ کھڑی ناہید سے کہا۔
’’اچھا… چلو میں چلتی ہوں اظہر کو وقت دو۔‘‘
’’اب تم کیوں اداس کھڑی ہو؟ آکر کھالو۔‘‘
’’ہمم… ہاں آتی ہوں۔‘‘ ثمرین آکر بیٹھی اور دونوں نے برگر کھانا شروع کیا۔
’’ویسے تمہیں کچھ ضروری بات بھی تو کرنی تھی ناں۔ سچ بتانا۔‘‘ اظہر نے جوس پیتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں لیکن پہلے کھا پی لو پھر آرام سے بات کرتے ہیں۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’ہاں ناں کھاتے ہوئے بدمزگی سے اچھا ہے پہلے آرام سے بندہ کھا پی لے۔‘‘ ثمرین کی بات پر اظہر ہنسا۔
’’بڑی چالاک ہو۔‘‘
’’ہاں تو تم پہ گئی ہوں اور کیا۔‘‘ دونوں نے ایک دوسرے کو شرارتی انداز میں دیکھا اور مسکرائے۔
کھانے کے بعد اظہر نے کافی کی فرمائش کردی۔
’’ابھی تو جوس پیا ہے اور اب کافی؟‘‘
’’تمہارا کام کرنے کا ابھی سے ہی ارادہ نہیں بن رہا تو شادی کے بعد کیا کروگی؟‘‘ اظہر نے ہاتھ باندھ کر کہا۔
’’شادی کے بعد تو تم سے ہی کرواؤں گی ناں یہ چھوٹے موٹے کام۔‘‘ شرارت سے مسکراتے ہوئے شاہانہ انداز میں ثمرین نے کہا تو وہ برا مان گیا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟ یعنی کام پھر بھی مجھے کرنا ہوگا؟‘‘
’’ہاں تو جب شوہر بیوی سے کام کرواسکتے ہیں تو بیوی کیوں نہیں؟‘‘ ثمرین کی بات سے اظہر لاجواب ہوگیا تھا۔
’’اچھا ناں… ابھی تو جاکر کافی تیار کرو بعد کی بعد میں دیکھیں گے۔‘‘
’’ہونہہ جاتی ہوں۔‘‘ ثمرین کچن میں گئی تو وہ بھی اُس کے پیچھے پیچھے آگیا۔
’’کیا ہے؟ باہر ہی بیٹھے رہتے ناں، اب یہاں آئے ہو اور جو امی ابو میں سے کوئی آگیا تو پھر؟‘‘
’’اچھا جی‘ گھر تک آگیا ہوں تمہارے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں وہ کوئی نہیں کچن میں آگیا تو کوئی آجائے گا؟‘‘ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ اظہر بولا۔
’’جاؤ ناں باہر‘ میں بس ابھی کافی تیار کرکے لاتی ہوں۔‘‘ ثمرین نے اُسے پیچھے دھکیلا۔
’’اچھا… اچھا جاتا ہوں، تم بھی جلدی آؤ۔‘‘ اظہر باہر جاکر بیٹھ گیا اور ثمرین کافی تیار کرنے لگی۔ کافی بنا کر ثمرین باہر آئی جہاں اظہر ٹی وی آن کیے بیٹھا تھا۔
’’لو کافی۔‘‘ کافی کا مگ ثمرین نے اظہر کو دیا۔
’’کبھی تو یہ کہہ دیا کرو لیں کافی۔‘‘ اظہر نے اُس کے ہاتھ سے مگ لیتے ہوئے کہا۔
’’شادی کے بعد اِس طرح بات کروں گی ابھی یہ سب مجھ سے نہیں ہونے والا۔‘‘ ثمرین کے مزاج سے اظہر خوب واقف تھا۔
’’ہمم صحیح‘ اب اصل بات کی طرف آئیں؟‘‘
’’ہاں بالکل۔‘‘
’’تو کیا بات ہے، مجھے بتائیں میں ہمہ تن گوش ہوں۔‘‘
’’کیا کہا؟ خرگوش ہوں؟‘‘ ثمرین نے اظہر کی بات کا مذاق اڑایا۔
’’ارے… اچھا بولو ناں جو کہنا ہے۔‘‘ اظہر اب چڑ گیا تھا۔
’’ہاں وہ مجھے یہ کہنا تھا کہ…‘‘ ثمرین بولتے بولتے رُک گئی۔ کافی مگ پہ ہاتھ پھیرے ثمرین کو اظہر نے بغور دیکھا اور پوچھا۔
’’کیا بات ہے؟ بولو بھی۔‘‘
’’تمہارے گھر والے جب آئیں گے ناں شادی کی تاریخ رکھنے…‘‘
’’ہاں تو…؟‘‘ اظہر نے کندھے اچکائے۔
’’تو انہیں کہہ دینا کہ انتیس تاریخ نہ رکھیں رخصتی کی۔‘‘ ثمرین نے بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’کیا… کیا مطلب؟‘‘
’’اُس دن تمہیں نہیں پتا کیا ہے؟‘‘ ثمرین جھنجھلائی۔
’’کیا ہے اُس دن؟ اور تاریخ تو کوئی بھی ہوسکتی ہے پھر وہ انتیس ہو یا تیس لیکن مجھے تو انتیس کو ہی کرنی ہے شادی‘ اب بولو۔‘‘ اظہر کے صاف صاف کہنے پر ثمرین نے اظہر کو گھور کر دیکھا۔
’’یہ کیا بات ہوئی؟ مجھے اُس دن رخصت نہیں ہونا بس۔‘‘
’’کیوں؟ ایسا کیا ہے؟ بلکہ مجھے تو اچھا لگے گا جب تمہاری سال گرہ…‘‘
’’پر مجھے نہیں ناں پسند…‘‘ ثمرین نے بات کاٹی۔
’’عجیب بات کررہی ہو تم… اور خاص یہ بات کہنے کے لیے مجھے بلایا تھا؟‘‘ اظہر نے مگ ٹیبل پہ رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’اٹھ کیوں گئے؟‘‘
’’تم بھی ناں حد کرتی ہو ثمرین۔‘‘ ثمرین بھی اٹھی اور مگ ٹیبل پہ رکھ دیا۔
’’میں نے ایسا کیا کردیا؟ صرف ایک بات کی ہے، مجھے نہیں اچھا لگے گا کہ سال گرہ والے دن میری شادی ہو، بھئی دونوں خاص دن ہیں اور الگ الگ منانا اچھا لگے گا ناں کہ یہ کیا شادی کے اگلے سال میں اپنی سال گرہ بھی منا رہی ہوں گی۔‘‘ ثمرین کا انداز احتجاجی تھا۔
’’پاگل مت بنو‘ مجھے تو اچھا لگے گا اُسی دن۔‘‘
’’تم میری بات کو سمجھ ہی نہیں رہے ہو۔‘‘
’’تم میری بات پوری ہونے سے پہلے کیوں کاٹ دیتی ہو؟‘‘ اظہر تھوڑا تیزی سے بولا‘ دونوں میں پھر تکرار شروع ہوگئی تھی۔
’’اظہر؟‘‘ ثمرین نے فوراً خود کو کنٹرول کیا۔
’’ہمم…‘‘
’’ہم آرام سے بھی تو بات کرسکتے ہیں شاید۔‘‘
’’یہ تم کہہ رہی ہو‘ آرام سے میری بات پوری سن نہیں رہی، بس اپنی ہی چلا رہی ہو تو آرام سے بات کیا ہوسکتی ہے یار؟‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے۔ مجھے جو بات کہنی تھی میں نے کہہ دی۔ اب تمہاری مرضی۔‘‘ ثمرین نے نروٹھے پن سے کہا۔
’’یعنی میں اب چلا جاؤں؟‘‘
’’میں نے اب ایسا بھی نہیں کہا۔‘‘ ثمرین منمنائی۔
’’تو پھر؟‘‘ وہ اُس کے پاس آیا اور دھیرے سے کہا۔
’’اظہر… میں بس…‘‘
’’ششش اب اور اِس پہ بات نہیں۔‘‘ اظہر نے اُس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر چپ کروایا اور گہری سانس لی۔
’’اب تم فضول سوچو نہیں۔ بس ریلکس رہا کرو، اِس بات کو لے کر خوامخواہ ہی لڑائی ہوجانی ہے آگے۔‘‘
’’تم اپنی چلا رہے ہو ناں؟‘‘ ثمرین نے اُس کی انگلی ہٹائی۔
’’یار میں نے گھر والوں کے آگے یہ تاریخ رکھ دی ہے وہ آکر یہاں بات کریں گے۔ تم نے بھی ہاں ہی کرنی ہے۔ بس میں نے اور کچھ نہیں سننا مزید۔‘‘
’’یہ کیا ہٹ دھرمی ہے اظہر؟‘‘ ثمرین اپنے پرانے انداز میں واپس آگئی تھی۔
’’ہاں تو کیا؟ چلے گی مرضی تو میری اور میرے گھر والوں کی ہی ناں۔‘‘ اظہر نے فرضی کالر جھاڑا۔
’’ہونہہ… جاؤ اب یہاں سے۔ اب بات نہ کرنا مجھ سے نہ ملنے آنا۔ آئی سمجھ؟‘‘ ثمرین نے ابرو اچکاتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے… اب تو شادی کے دن ہی بات ہوگی ہماری۔‘‘ اظہر نے بھی دھونس جماتے ہوئے کہا۔
’’اوکے فائن… اب تم جاسکتے ہو۔‘‘
’’واہ… کیا انداز ہے بھئی؟ اوکے جی میڈم۔ اللہ حافظ۔‘‘ اظہر وہاں سے ہٹا ٹیبل پہ رکھی چابی اٹھائی اور بنا اُسے دیکھے چلا گیا۔ ثمرین پیر پٹختی اپنے کمرے میں چلی آئی۔
گھر آکر اظہر تو دوبارہ سوگیا لیکن ثمرین، وہ بار بار موبائل دیکھتی کہ اب آئے گا میسج لیکن اظہر تو پورا اصطبل بیج کر سوگیا تھا۔ اظہر کے میسج یا کال کا انتظار کرتے کرتے خود ثمرین بھی سوگئی تھی۔
اگلے دن پتا چلا کہ دو دن بعد اظہر کے گھر والے تاریخ پکی کرنے آئیں گے۔ کارڈز کی سلیکشن کا بھی کام ہوچکا تھا اب بس تاریخ لکھوانی تھی اور پرنٹ کے لیے دینا تھا۔ دونوں طرف سے خاموشی تھی کوئی کسی کو میسج نہیں کررہا تھا۔ اظہر کے گھر والے تاریخ طے کرنے آئے تھے۔ ثمرین کا موڈ نہایت خراب تھا۔ فرح اور علینہ بھی موجود تھیں، ناہید نے بھی سمجھانا چاہا ساتھ میں علینہ اور فرح نے بھی لیکن ثمرین کی وہی ضد کہ انتیس کو شادی نہیں رکھنی۔ لیکن اظہر کے گھر والوں نے یہی تاریخ دی اور ثمرین کے والدین نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ پھر سب ایک دوسرے کو مبارک باد دینے لگے اور اظہر کی ماں عذرا ثمرین سے ملنے اُس کے کمرے میں آئیں۔
’’بہت بہت مبارک ہو میرا بچہ‘ اب تم بہت جلد میرے گھر میں بہو بن کر آنے والی ہو۔‘‘ ثمرین کو گلے لگاتے ہوئے عذرا نے مبارک باد دی پھر ماتھے پہ پیار کیا۔
’’تم خوش تو ہو ناں اِس تاریخ سے۔‘‘
’’جی‘ لیکن وہ…‘‘
’’لیکن وہ کیا۔‘‘ ابھی ثمرین کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ علینہ بول پڑی۔
’’ارے آنٹی یہ بہت خوش ہے، یہ بتائیں اظہر بھائی کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’اُسے کچھ کام تھے وہ مصروف تھا اِس لیے نہ آسکا۔‘‘
’’کام… ہونہہ پتا ہے، مجھے تنگ کررہا ہے جان بوجھ کے اِسی لیے نہیں آیا۔‘‘ ثمرین نے دل میں سوچا۔
’’اب تم کوئی کام نہیں کرنا گھر کے سمجھیں۔‘‘
’’آنٹی ویسے بھی کون سا کرلیتی ہے یہ کام۔‘‘ فرح کی بات پہ علینہ نے اُسے کہنی ماری۔
’’آہ… کیا ہے۔‘‘ فرح نے آنکھیں دکھائیں۔
’’چپ کرو۔‘‘ علینہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’چلو میں اب چلتی ہوں۔‘‘ ثمرین اٹھی اور عذرا سے گلے ملی۔
’’دیکھا… دیکھا سب بہانے ہیں اظہر کے وہ… وہ جان بوجھ کے نہیں آیا۔‘‘ ثمرین اداس چہرہ لیے بیٹھی تھی۔
’’تو یار تم ہی اُس سے بات کرلو، کیا پتا وہ تمہارے انتظار میں بیٹھا ہو۔‘‘
’’کیوں… میں کیوں کروں‘ وہ خود بھی تو رابطہ کرسکتا ہے ناں؟‘‘ فرح کی بات پہ ثمرین نے ناک بھوں چڑھا کر کہا۔
’’ایک تو تم بھی ناں‘ خود اُس کو کہا تھا تم نے کہ اب بات نہ کرنا تو اب کیوں؟‘‘ علینہ نے بھی اسے ٹوکا۔
’’تو اِس کا مطلب یہ تھوڑی نہ ہوتا ہے کہ بندہ بات ہی نہ کرے… میں نے غصے میں کہا تھا۔ اُسے تو پتا ہے ناں کہ میں ایسی ہی ہوں۔‘‘ ثمرین نے نخریلے انداز میں انگلی سے ناک سکیڑی۔
’’بچی ہی رہنا تم کبھی بڑی نہیں ہونا۔‘‘ علینہ نے ڈپٹا۔
’’کیا ہے؟ اُسے خود کو خیال ہونا چاہیے ناں۔‘‘
’’نہیں‘ بات تمہاری طرف سے خراب ہوئی تھی تم ہی شروعات کرو۔‘‘ علینہ کی بات پر فرح نے تائید کی۔
’’نہیں… وہ کرے گا بات خود ہی تو ہی کروں گی ورنہ نہیں۔‘‘ ثمرین نے بھی حتمیٰ انداز میں کہا۔
’’دفع ہو‘ جو جی میں آئے کرو، ضدی کہیں کی۔‘‘
’’یار… اب تم لوگ بھی مجھے ایسے کہو گے؟‘‘ ثمرین نے منہ بسورا۔
’’تم پاگل ہو سچی‘ فضول سی بات کے لیے۔‘‘
’’یہ فصول سی بات نہیں تھی علینہ… میں نے شادی سے تو منع نہیں کیا ناں… بس ایک تاریخ کی بات تھی اگر آگے پیچھے ہوجاتی تو کیا حرج تھا؟‘‘ ثمرین ابھی تک اپنی بات پہ بضد تھی۔
’’اف تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا لڑکی۔‘‘ علینہ نے تاسف سے سر ہلایا۔
دن گزرنے لگے۔ کارڈز چھپ کر آچکے تھے، تیاریاں زور وشور سے چل رہی تھیں۔ شادی کے دن قریب آرہے تھے۔ اظہر اور ثمرین کا ایک دوسرے سے بات تو دور ملنا بھی نہیں ہورہا تھا۔ لڑکی والوں نے سادگی سے نکاح کا سوچا تھا اِس لیے بس نکاح رکھا اور پھر رخصتی۔ نکاح دوپہر میں تھا۔ سادہ سا تیار ہوئے بیٹھی ثمرین کے پاس قاضی اور ابو آئے تو نکاح نامہ میں دستخط کردیئے۔ اُس کے بعد مبارک بادیں شروع ہوگئی تھیں جب کہ ناہید ثمرین سے گلے لگ گئیں تھیں۔
’’امی مت کریں ناں ایسا۔‘‘
’’مجھے تو یقین نہیں ہورہا میری بیٹی اتنی بڑی ہوگئی کہ اُس کا نکاح ہوگیا آج ماشاء اللہ سے اور اب رات وہ…‘‘
’’امی…‘‘ ثمرین کی بھی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’تم دونوں ماں بیٹی کے چکر میں مجھے بھی رونا آجانا ہے۔ چپ کر جاؤ ناہید۔‘‘ شبیر صاحب نے خود پہ قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں… ہاں ٹھیک ہے… اچھا ثمرین تم کچھ دیر آرام کرلو پھر تمیں پارلر بھی تو جانا ہے۔‘‘ ثمرین نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ کمرے میں گئی جیسے ہی لیٹی اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اُسے اظہر شدت سے یاد آنے لگا۔ ابھی موبائل اٹھا کر سوچ ہی رہی تھی کہ اظہر کو میسج کرے کہ میسج کی ٹون بجی۔
’’نکاح مبارک ہو مسز اظہر۔‘‘ میسج پڑھتے ہی ثمرین کو مزید رونا آگیا۔
’’بہت بُرے ہو تم۔‘‘ شکوہ بھرا میسج ٹائپ کرکے بھیجا۔
’’ہاں جانتا ہوں۔ اب کیا مجھے مبارک باد نہیں دوگی؟‘‘ سامنے سے اظہر نے بھی شکوے کے انداز میں میسج کیا۔
’’کیا میری یاد ایک بار بھی نہیں آئی؟‘‘ آنسو پونچھتی ثمرین نے میسج بھیجا۔
’’رات میں بتاؤں گا۔ اچھے سے تیار ہونا تم… بائے۔‘‘ اظہر کے میسج سے جہاں ثمرین کو خوش ہونا چاہئے تھا وہیں وہ اور رونا شروع ہوگئی۔ اُسے لگا کہ اظہر اُسے سال گرہ کی مبارک باد بھی دے گا۔ آخر اُس نے ہی یہ دن رکھا تھا شادی کے لیے۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد علینہ اور فرح آگئیں۔ اُس کا سامان اٹھایا اور پارلر لے آئیں۔ تیار ہونے کے بعد علینہ اور فرح اُس کے پاس آئیں۔
’’ماشاء اللہ ثمرین… تم کتنی پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ فرح نے دیکھتے ہی بے اختیار کہا۔
’’سچی ثمرین… ہم تو اتنا اچھا تیار بھی نہیں ہوئے۔‘‘ علینہ نے اب موبائل نکالا اور ثمرین اور فرح کے ساتھ سیلفی لی۔
’’پہلے ہم گھر جائیں گے یا ہال؟‘‘ فرح نے علینہ سے پوچھا۔
’’اِن دونوں کو ساتھ آنا ہے اسٹیج پہ تو میرے خیال سے ہم ہال ہی چلتے ہیں۔‘‘
’’پاگل ہو، ابھی سے ہال میں جاکر کیا کرے گی ثمرین؟ پہلے گھر چلتے ہیں پھر ہال۔‘‘ فرح کی بات سن کر علینہ نے قدم باہر جانے کے لیے بڑھائے‘ اس کی آنکھیں گھر والوں سے جدائی پر نم تھیں۔ گھر پہنچ کر ناہید اور شبیر سے ڈھیر ساری دعائیں لیں۔ رشتے دار بھی وہیں موجود تھے۔ کچھ دیر میں ہال کے لیے نکلنا تھا۔ اظہر نے اُس کے بعد کوئی میسج نہیں کیا تھا۔ ایک طرف قسمت پر رشک بھی تھا کہ جیسے چاہا وہ بغیر کسی رکاوٹ کے مل گیا تھا۔ ہال میں پہنچ کر ثمرین کو برائیڈل روم میں لے جایا گیا۔ جب بارات آئی تو اظہر کو بھی وہیں لے آئے۔
’’السلامُ علیکم مسز اظہر۔‘‘ جھکی نظروں سے دھیمی آواز میں ثمرین نے سلام کا جواب دیا۔ اظہر اُس کے پاس آیا اور اُس کے کان میں سرگوشی کی۔ ’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ پھر اِن دونوں کو باہر لایا گیا ایک ساتھ اسٹیج پہ جانے کے لیے۔
لائٹس آف کردی گئی تھیں۔ اسپاٹ لائٹ دونوں کے چہرے پہ آئی تو وہ میوزک کی آواز سے قدم سے قدم ملاتے اسٹیج کی جانب بڑھنے لگے بالکل کسی ماڈل کی طرح۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ دھیمے دھیمے چلتے ہوئے دونوں بہت خوب صورت لگ رہے تھے جیسے ہی وہ اسٹیج کی جانب آئی سب سے پہلے اظہر اوپر چڑھا اور پھر ہاتھ آگے کیا تاکہ ثمرین اُس کا ہاتھ تھام کر اوپر آئے۔ دونوں اسٹیج پہ آئے اور ایک دم پھولوں کی بارش ہوئی۔ وہ دونوں صوفہ پہ آکر بیٹھے۔ ہنسی خوشی سب سے ملے۔ رخصتی کا وقت آن پہنچا تھا۔ ثمرین ایک ایک کرکے علینہ، فرح، ناہید، شبیر اور دیگر لوگوں سے ملنے لگی۔ گاڑی میں بٹھا کر ثمرین کو رخصت کردیا گیا تھا۔
اپنے سسرال آکر اُس کا استقبال بہت ہی گرم جوشی سے کیا گیا۔ وہاں بھی لوگوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ جب سب چلے گئے تو ان دونوں کو بھی کمرے میں بھیج دیا۔ کمرے میں آکر اظہر نے ثمرین کو بٹھایا اور دیکھنے لگا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ ثمرین نے اظہر سے پوچھا۔
’’نہیں کچھ نہیں۔ تم جاؤ جاکر چینج کرلو، تھک گئی ہوگی۔‘‘ اظہر نے سرد لہجے میں کہا۔
’’ہمم… ہاں تھک تو گئی ہوں۔‘‘ ثمرین کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے اب۔
’’ٹھیک ہے تو جاؤ۔‘‘ اظہر نے جس طرح کہا ثمرین نے اپنے آنسو آنکھوں میں ہی روکے اور اٹھ گئی۔ جیسے ہی واش روم گئی چینج کیا اور منہ دھویا۔ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ رو دے۔ چیخے چلائے۔ اظہر سے سرد مہری کا پوچھے۔ کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی تو دیکھا اظہر کمرے میں نہیں تھا۔ دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔
وہ اظہر کو دیکھنے باہر آئی تو لاؤنج اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ یک دم ہلکی مدھم سی روشنی ہوئی اور ثمرین روشنی کے پاس آکر رک گئی کہ اچانک لائٹس آن ہوگئیں۔ سامنے اظہر کھڑا ہوا مسکرا رہا تھا۔ لاؤنج کے صوفوں پر غبارے ہی غبارے پھیلے ہوئے تھے۔
’’یہ سب…!‘‘
’’ششش…‘‘ اظہر نے ثمرین کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’ابھی بھی آدھا گھنٹہ باقی ہے۔ جنم دن بہت بہت مبارک ہو مسز اظہر۔‘‘ اظہر نے اپنا ہاتھ ہٹایا اور مسکرا کر اُسے دیکھا۔
’’سارا دن مجھے وِش نہیں کیا… اور اب یہ؟‘‘
’’تمہیں سرپرائز جو دینا چاہتا تھا۔‘‘ اظہر نے گہری سانس لی۔
’’بہت برے ہیں آپ۔‘‘ ثمرین نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
’’جیسا بھی ہوں اب آپ کا ہی ہوں مسز اظہر۔‘‘ ثمرین شرمگیں نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’اور یہ کیا… کیا کہا‘ آپ؟‘‘ یعنی تبدیلی آگئی۔ اُس کی بات پر ثمرین جھینپ گئی۔
’’اچھا چلو اب میں کیک لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہیں لاؤنج میں موجود فریج سے کیک نکالا۔ ثمرین کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اُس کے چہرے پہ خوشی جھلک رہی تھی۔
کیک پر ’ہیپی برتھ ڈے اینڈ ویڈنگ‘ لکھا دیکھ کر ثمرین کو اظہر پہ ڈھیر سارا پیار آیا۔
’’آؤ دونوں ساتھ میں کیک کاٹیں گے۔‘‘ دونوں نے کیک کاٹا ایک دوسرے کو کھلایا اور ڈھیر ساری تصاویر لیں۔ پھر دونوں کمرے میں آگئے۔
’’تو جناب کیسا لگا شادی والے دن ہی سال گرہ منانا۔‘‘ اظہر اب اُس کے پاس آکر بیٹھا۔
’’سچ کہوں‘ بہت اچھا لگا۔ میں نے یہ سب ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا۔‘‘ ثمرین بہت خوش تھی۔ اظہر نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
’’تم خوامخواہ ہی ضد کررہی تھیں۔ میں تو خوش تھا کہ تمہاری سال گرہ والے دن ہی شادی ہورہی ہے تو بہت اچھے سے مناؤں گا لیکن چلو اِسی بہانے سرپرائز ہوگیا۔‘‘ ثمرین نے اظہر کے کندھے پہ سر رکھا۔
’’ٹھینک یو سو مچ اظہر… میری زندگی کا آج یادگار ترین دن ہے۔ صرف تمہاری وجہ سے۔ مجھے اتنا پیار کرنے کے لیے‘ میرے لیے میری سال گرہ الگ سے اور خاص منانے کے لیے شکریہ۔‘‘ اس کی خوشی سے چمکتی آنکھیں اسے شاد کر گئی تھی وہ ہمیشہ ان آنکھوں میں محبت، خواہش اور اعتبار کے جگنو دیکھنا چاہتا تھا ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس نے ان کانچ سی آنکھوں پہ محبت رقم کی تھی۔
’’تمہیں دیکھ کر مجھے یہ کہنا چایئے۔‘‘ اظہر نے ثمرین کو دیکھ کر کہا۔
’’کیا؟‘‘
’’چٹا ککڑ بنے رے تے‘ منڈا صدقے تیرے تے۔‘‘ ثمرین اظہر کے شوخ انداز پہ جھینپ گئی۔
’’منڈا صدقے میرے تے۔‘‘ ثمرین نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔
اُس دن کے بعد سے ثمرین روز اللہ کا شکر ادا کرتی کہ اظہر اُس کی زندگی میں آیا اور سال گرہ جیسے خاص موقع کو مزید خاص بنا دیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close