Hijaab Dec-16

ہاں محبت ہے

نازیہ جمال

’’یار! کیا تھا جو اللہ نے تمہیں اچھی شکل صورت کے ساتھ ساتھ تھوڑی سی اداکاری کی صلاحیت بھی دے دی ہوتی۔‘‘ انزیلہ انتہائی بے بسی کے عالم میں اس کے پاس آکر بولی۔
’’میں نے تمہیں بتایا تو ہے کہ یہ ایکٹنگ ویکٹنگ میرے بس کی بات نہیں۔ میں نہیں کرسکتی‘ تم کوئی اور لڑکی سلیکٹ کرلو۔‘‘ اس نے معذرت خواہانہ نظروں سے انزیلہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
آج کل کالج میں فورتھ ائر کو فیئر ویل پارٹی دینے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ قلوپطرہ ڈرامے کے لیے کثرت رائے سے اس کا نام منتخب کیا گیا مگر باوجود غیر معمولی خوب صورتی کے وہ خاطر خواہ پرفارمنس دینے میں ناکام رہی تھی۔
’’انشال ٹھیک کہہ رہی ہے‘ کسی اور لڑکی کو ٹرائی کرنا چاہیے۔‘‘ جازبہ نے بھی اس کی بات کی تائید کی۔
’’فیئر ویل میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے اور ہماری تیاری ابھی تک کمپلیٹ نہیں۔ میڈم انصاری کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑجائے‘ انشال کو چھوڑو‘ تابین مراد کو فائنل کرتے ہیں اس کی لُکس بھی اچھی ہیں‘ کافی اسمارٹ اور اٹریکٹو لڑکی ہے۔‘‘ جازیہ کا انداز حتمی اور دو ٹوک تھا‘ وقت کا زیاں اس پہ سخت گراں گزر رہا تھا۔
’’نہیں… تابین پریٹی تو ہے مگر انشال جیسی بات نہیں اس میں۔ قلوپطرہ کے لیے مجھے انشال ہی سوٹ ایبل لگتی ہے۔‘‘ انزیلہ ہونٹ کاٹتے ہوئے نفی میں بولی۔ اس کی نظر انتخاب ابھی بھی وہی تھی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہے جازیہ… واقعی تم لوگ تابین کو سلیکٹ کرلو مجھ پر خوامخواہ ٹائم ویسٹ ہورہا ہے۔‘‘ بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے اس نے خوشی سے جازیہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنا خیال ظاہر کیا۔ اس کے سیل پر ڈرائیور چاچا کی کال آرہی تھی وہ اسے لینے آگئے تھے۔
’’جی چاچا… میں نکل رہی ہوں۔‘‘ کال ڈس کنیکٹ کرکے وہ آڈیٹوریم ہال سے نکل آئی۔
’’یہ انشال خود ہی انٹرسٹڈ نہیں ہے ورنہ کتنا اچھا گائیڈ کررہی تھی میں اس کو‘ ہمارا ڈرامہ ہٹ جانا تھا اگر یہ کوآپریٹ کردتی تو…‘‘ ہال سے نکلنے سے قبل اس نے انزیلہ کی جلی بھنی آواز سنی تھی۔ انزیلہ کو اس کی غیر دلچسپی اور لاتعلقی پر سخت غصہ آرہا تھا۔
’’ہونہہ… محترمہ کی شکل اچھی ہے‘ اس لیے نخرے ہورہے ہیں ورنہ کتنی ہی لڑکیاں اس مرکزی کردار کو کرنے کے لیے سیریس ہیں۔‘‘ تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس نے کالج کی پختہ روش پار کی اور گیٹ سے نکلتے ہی ڈرائیور کار کو اس کے قریب لے آیا۔
’’پہلی دفعہ ہی کہہ دیا تھا کہ اداکاری میرے بس کی بات نہیں‘ ایسے ایکسپریشنز دو‘ یوں لائنیں بولو۔ باڈی لینگویج پر فوکس کرو‘ جیسے میں کوئی پروفیشنل اداکارہ ہوں۔‘‘ گھر آکر وہ زور زور سے بولتے ہوئے انزیلہ پر آیا غصہ نکال رہی تھی فطری لحاظ کی بدولت اس کے منہ پر کچھ نہ کہہ پائی تھی۔ یہ سچ تھا وہ اس ڈرامے کے لیے کام کرنے میں ہی انٹرسٹڈ نہ تھی اور انزیلہ بضد کہ قلوپطرہ کے لیے وہی پرفیکٹ ہے دونوں ہی ایک دوسرے سے غیر مطمئن تھیں۔
بوا حمیدہ نے اسے کھانا لگنے کی اطلاع دی‘ وہ یونیفارم چینج کرکے ڈائننگ روم میں آگئی۔ لمبی میز جس پر انواع و اقسام کے کھانے چنے ہوئے تھے اور وہ محض چکھنے کی حد تک تھوڑے تھوڑے کھا رہی تھی کیونکہ رات کو اس کا ابو کے ساتھ ڈٹ کر ڈنر کرنے کا پروگرام تھا۔
’’بات سنیں بوا… امی کہیں گئی ہوئی ہیں؟‘‘ لائونج میں آکر ٹی وی آن کرتے ہوئے اس نے ملازمہ سے پوچھا‘ نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔
’’جی بیٹا… بڑی بیگم صاحبہ تو پارلر گئی ہیں۔‘‘ بوا حمیدہ کی بات پر اس نے فوراً ٹی وی آف کردیا۔
’’ہوں‘ امی پارلر گئی ہیں تو اس کا مطلب ہے شام سے پہلے ان کی واپسی ممکن نہیں۔‘‘ اپنے بیڈ روم کی طرف سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے خود کلامی کی۔
اپنی الماری کھول کر اس نے ایک پلاسٹک بیگ باہر نکالا‘ اس بیگ میں اسٹوری بکس‘ کینڈیلز کے پیکٹ‘ چاکلیٹ‘ ٹافیاں اور نوڈلز کے پیکٹ تھے۔ یہ ساری چیزیں کل کالج سے واپس آتے ہوئے اس نے ڈرائیور کو بازار جانے کا کہہ کر تھوڑے سے وقت میں خریدلی تھیں۔ اگلے پانچ منٹوں میں وہ ملازمین کے کوارٹرز کی طرف آگئی تھی۔
’’السلام علیکم! کیا حال ہیں؟‘‘ جالی دار دروازہ دھکیل کر وہ اندر داخل ہوئی۔ مالی عبدالرحیم داد کی بیوی سکینہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔
’’انشال بی بی آئی ہیں؟‘‘ وہ حیرت و مسرت کے ملے جلے تاثر کے ساتھ بولی۔
’’جی خالہ… میں نے سوچا ذرا یاسر کی طبیعت پوچھ لوں‘ اب کیسی طبیعت ہے یاسر کی۔‘‘ سادگی سے بولتے ہوئے وہ سائیڈ پر رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’اللہ کا شکر ہے یاسر اب پہلے سے بہتر ہے۔ یاسر… دیکھو انشال بی بی تمہیں دیکھنے آئی ہیں۔‘‘ سکینہ نے چارپائی پر لیٹے آٹھ سالہ یاسر کے چہرے سے چادر ہٹاتے ہوئے کہا۔
یاسر ان کے مالی عبدالرحیم داد کا بیٹا تھا‘ جس کا بخار بگڑ کر اب ٹائی فائیڈ میں بدل گیا تھا۔ وقار احمد یاسر کا پراپر علاج کرا رہے تھے جس کی بدولت یاسر کی طبیعت اب واقعی پہلے سے بہتر تھی۔
یاسر ذہین اور محنتی بچہ تھا‘ ہر سال کلاس میں فرسٹ پوزیشن لاتا تھا جس کی وجہ سے انشال کو یہ بچہ بے حد پسند تھا‘ سکینہ کی زبانی اس کی بیماری کی خبر ملی تو اس کا دل چاہا کہ وہ یاسر کی طبیعت خود چل کر پوچھ آئے مگر عظمیٰ بیگم کے ہوتے ہوئے اس کی یہ خواہش تقریباً ناممکن تھی۔ عظمیٰ بیگم اس کا ملازمین سے زیادہ فری ہونا‘ بات چیت کرنا پسند نہیں کرتی تھیں کجا کہ وہ کسی ملازم کے بچے کی خود چل کر عیادت کرے۔
’’ان کے کام کا پورا معاوضہ دو‘ ان کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرو مگر زیادہ منہ مت لگائو۔‘‘ وہ اکثر اس کی ملازمین سے ہنس بول کر بات کرنے کی عادت پر سرزنش کرتیں۔
’’ارے امی… میں کہاں زیادہ فری ہورہی ہوتی ہوں بس ذرا حال احوال ہی پوچھ لیتی ہوں۔‘‘ وہ ان کی سرزنش پر اتنا ہی کہہ پاتی۔
بوا حمیدہ کے بیٹے کی ٹانگ ایکسیڈنٹ میں ٹوٹ گئی تھی۔ وہ خاموش آنسو بہاتے ہوئے ڈسٹنگ کررہی تھیں۔ وہ صوفے پر نیم دراز کتاب پڑھتے ہوئے بغور انہیں دیکھ رہی تھی۔ بوا حمیدہ آنسو پونچھتے ہوئے کام میں لگی ہوئی تھیں‘ اسے ان کے بہتے آنسو بے چین کر گئے تھے‘ بے ساختہ پوچھ بیٹھی۔
’’بوا… خیر تو ہے آپ اتنا کیوں رو رہی ہیں؟‘‘ اور جواب میں بوا نے ساری درد بھری کتھا کہہ سنائی۔ جوان بیٹے کی ٹانگ ٹوٹنے سے گھر کا معاشی پہیہ سلو ہوا‘ ساتھ میں بچپن کی منگنی ٹوٹی کہ لنگڑے کو کون بیٹی دے‘ اپنوں کی بے اعتنائی‘ غربت‘ ناکافی وسائل۔ ایک مسئلے کے ساتھ ہی کئی اور مسائل بھی روتے روتے بیان کردیئے اور عظمیٰ بیگم نے انہی لمحوں میں اسے حمیدہ بوا کے آنسو پونچھتے دلاسہ دیتے اور غم خواری کرتے دیکھ لیا تھا پھر جو اس کی کلاس لی تو وہ خود کئی دنوں تک مغموم رہی تھی۔
’’انشال… میں تمہیں وارن کررہی ہوں کہ ان سرونٹس سے دور رہا کرو‘ اگر اب تم نے میری بات کو اگنور کیا تو مجھے کوئی اور طریقہ اپلائی کرنا پڑے گا۔‘‘
’’مگر امی… میں نے کیا ہی کیا ہے‘ صرف بوا حمیدہ سے ان کے رونے کی وجہ ہی تو پوچھی تھی۔ پوچھنے پر انہوں نے اپنے پرابلمز مجھ سے شیئر کرلیے‘ ڈیٹس اٹ۔‘‘ وہ ماں کا لال بھبوکا چہرہ دیکھتے ہوئے‘ ان کی غصے کی وجہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے وضاحت دیتے ہوئے بولی تھی۔
’’نان سینس‘ اب تمہیں کیسے سمجھائوں میں ان سرونٹس کے ساتھ فاصلہ رکھا کرو اگر ایسے ان کے دکھڑے سننے بیٹھ گئیں تو ان میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا؟‘‘ عظمیٰ جیسے سر پکڑ کر عاجزی سے بولی تھیں‘ انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کو سوسائٹی مینرز کیسے سکھائیں جو کبھی مالی کے بیٹے کے ساتھ لان میں بیڈ منٹن کھیل رہی ہے تو کبھی ملازمہ کی بہو کو رنگت نکھارنے کے ٹوٹکے بتارہی ہے۔
وہ خود ایک کروفر اور رعب والی خاتون تھیں جن سے سبھی ملازمین مؤدب ہوکر بات کرتے تھے۔ ایک محسوس کیے جانے والا طنطنہ اور غرور ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔
انشال صرف عظمیٰ بیگم ہی کی تو بیٹی نہ تھی بلکہ وہ وقار احمد کی بھی تو بیٹی تھی جو ہمدرد‘ نیک خو فطرت کے مالک تھے۔ منکسرالمزجی جن کے مزاج کا خاصہ تھی جو ہر امیر‘ غریب‘ بڑے چھوٹے سے جھک کر ملتے۔ اپنے ملازمین کو ان کی محنت کا معاوضہ دیتے‘ ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے‘ ان کے مسائل توجہ سے سن کر حل کرنے کی کوشش کرتے جو اپنے روز افزوں ترقی کرتے امپورٹ ایکسپورٹ کے بزنس کو سراسر ان غریبوں کی دعائوں کا اعجاز سمجھتے تھے۔ انشال نے خود میں اپنے باپ کی شخصیت کی انہی خوبیوں کو پایا تھا تو ماں کے خوب صورت نین نقش چرائے تھے۔ عظمیٰ بیگم کی ناگواری اور ناراضی کے پیش نظر وہ ان کی غیر موجودگی میں عبدالرحیم داد کے کوارٹر کی طرف چلی آئی تھی۔ وہ کافی دیر بیٹھی یاسر سے باتیں کرتی رہی تھی۔ یاسر کو اپنے تعلیمی نقصان پر بہت افسوس تھا۔
’’کوئی بات نہیں‘ آپ ذہین اور محنتی ہو‘ ان شاء اللہ جلد کورس کور کرلو گے۔‘‘ وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولی۔ یاسر اس کی لائی چیزوں کو پاکر بے حد خوش تھا اسے یہ نرم محبت کرنے والی باجی بے حد پسند تھی۔ پسند تو وہ سبھی کو تھی‘ اپنی ہم درد‘ نیک اور سادہ طبیعت کی بدولت۔ اسے اٹھتے دیکھ کر سکینہ جھولی بھر بھر کر دعائیں دینے لگی۔
’’انشال بی بی… آپ سدا خوش رہو‘ وقار صاحب کو خدا دنیا و آخرت میں سرخرو کرے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے‘ آپ کے نصیب اچھے ہوں‘ آمین۔‘‘ سکینہ کی دعا لفظ ’’نصیب‘‘ پر وہ ٹھٹک گئی تھی۔ ساتھ ہی ایک وجیہہ اور دراز سراپا اس کے خیالوں میں لہرایا تھا۔
’’سکینہ… اللہ تمہاری دعا قبول کرے۔‘‘ وہ سر جھٹک کر باہر نکل آئی تھی‘ سہ پہر پر شام کا رنگ غالب آتا جارہا تھا‘ وہ وہیں لان میں ٹہلنے لگی۔
’’پتا نہیں محبت کے مندرجات میں پہلا باب دکھ کا کیوں درج ہوتا ہے؟‘‘ وہ آزردگی میں گھری وہیں کھڑی رہی۔ ایک تنفر بھری آوازاس کے کانوں کے قریب گونجی۔
’’یہ سرمایہ دار‘ دولت کے ڈھیر پر بیٹھ کر اترانے والے لوگ‘ جب اتنی بلندی پر بیٹھیں گے تو ہم سب غریب لوگ انہیں خود سے کم تر تو دکھیں گے ناں۔ اگر ہم غربت کی چکی میں پستے لوگ ان کے آگے نہ سر جھکائیں تو یہ کس بل پر تکبر کریں؟‘‘ پھنکارتا ہوا‘ زہر آلود لہجہ۔ یہ ضدی‘ اکھڑ مزاج شخص کیا جانے کہ اس کا معصوم اور ننھا سا دل اس وقت اس کے ساتھ کا تمنائی بنا تھا جب اسے امیری‘ غریبی کا فرق تک معلوم نہ تھا۔ اپنے اور اس کے بیچ دولت کی لمبی لکیر اس کی نو عمر آنکھوں کو دکھائی نہ دی تھی جس میں اس کی ہمراہی کا پہلا خواب سجا تھا۔ یہ خواب اس نے لاشعوری طور پر خود اپنی آنکھوں کو سونپا تھا‘ محبت کا سفر اگر تنہا طے کیا جائے تو یہ سفر آبلہ پائی کا سفر بن جاتا ہے۔ وہ بھی تو ابھی تک اس خاردار رستے پر خود کو گھسیٹتی آرہی تھی۔ بنا منزل کے حصول کا یقین لیے‘ تہی دست‘ نہ وعدے کا کوئی جگنو آنچل میں… نہ یقین کی قندیل آنکھوں میں۔ پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی تو وہ چونک کر اپنے خیالوں سے نکلی۔ عظمیٰ بیگم پارلر سے واپس آگئی تھیں۔
’’تم کالج سے کب آئیں‘ کھانا کھایا تم نے؟‘‘ ان کی باتوں کا مختصر جواب دیتی‘ ان کی ہمراہی میں وہ اندر آگئی۔ بیوٹیشن کی مہارت کا ثبوت ان کے چہرے‘ بالوں‘ ہاتھوں اور پیروں پر صاف نظر آرہا تھا۔
’’اُف… اتنی ڈل اسکن ہورہی تھی کہ حد نہیں۔‘‘ بیگ صوفے پر اچھالتے ہوئے عظمیٰ خود بھی صوفے پر گر سی گئیں۔
’’عارفہ کی بیٹی کی اسی منتھ بلکہ اگلے ویک ہی شادی ہے‘ تم بھی پارلر کا چکر لگالو۔ دیکھو کتنی ڈل اسکن ہے تمہاری‘ کوئی اچھا سا بالوں کا اسٹائل بھی منتخب کرلو۔‘‘ وہ اب ناقدانہ نظروں سے اس کا جائزہ لیتے ہوئے بولیں۔
’’اوہ نو… عارفہ آنٹی کی بیٹی کی شادی… میں تو کبھی نہ جائوں۔‘‘ مارے کوفت کے وہ صرف دل میں ہی سوچ پائی تھی‘ ماں کے سامنے کہنے کی ہمت نہ تھی اس میں۔
ء…/…ء
’’السلام علیکم! کیا ہورہا ہے؟‘‘ صفیہ عینک ناک پر ٹکائے تخت پر بیٹھیں سلائی مشین پر جھکی پردوں کی سلائی کررہی تھیں۔ ایک بشاش اور تروتازہ آواز پر انہوں نے جھکا ہوا سر اٹھایا۔
’’ارے رودابہ…! آئو بیٹی۔‘‘ انہوں نے خوش دلی سے کہتے ہوئے پھیلا ہوا کپڑا سمیٹ کر گویا اسے بیٹھنے کو جگہ دی۔
رودابہ مسٹرڈ کالر والی شارٹ شرٹ اور کھلے پائنچوں والے تنگ وائٹ ٹرائوزر میں ملبوس تھی۔ چہرہ بے حد صاف اور چمک رہا تھا‘ دوپٹہ سائیڈ کندھے پر ڈالے وہ نزاکت سے تخت پر بیٹھ گئی۔ ساتھ ہی اردگرد دیکھتے ہوئے بولی۔
’’یہ رباب‘ سنبل وغیرہ کہاں ہیں؟‘‘
’’رباب کھانے کی تیاری میں لگی اور سنبل کے ذمہ میں نے اسٹور کی صفائی لگائی ہے۔‘‘ سوئی میں دھاگہ ڈالتے ہوئے انہوں نے جھکے جھکے جواب دیا۔
’’آپ کے ہاں ابھی تک کام ہورہے ہیں جب کہ ہماری امی تو کب سے فارغ ہوئی اب ٹی وی پر مارننگ شوز دیکھ رہی ہیں۔‘‘ رودابہ ذرا ہنس کر بولی۔
’’وہ اس لیے کہ تم لوگوں کے ہاں ماسی صفائی کرکے گئی ہوگی۔ اب مستقل ملازمہ دن کا کھانا پکا رہی ہوگی اور رہ گئی چاچی رضوانہ تو ناشتا تیار کرنے کے بعد ان کے پاس اب بچتا ہی ٹی وی دیکھنا ہے۔‘‘ سنبل وہیں آگئی‘ پونچھا نچوڑ کر فرش پر پھیلایا‘ بالٹی کا پانی سنک میں بہا کر ہاتھ پونچھتی ادھر آگئی۔ سنبل کی بات پر رودابہ مسکرا اٹھی گویا یہی بات وہ سنبل کے منہ سے سنا چاہتی ہو۔
’’او سنائو‘ کالج کیسا جارہا ہے؟‘‘ کہتے ہوئے ایک منتظر نظر سامنے بند دروازے پر ڈالی۔
’’ایک دم فرسٹ کلاس‘ فورتھ ائر کو الوداعی پارٹی دینے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ میری کزن انشال ڈرامے میں قلوپطرہ کا مرکزی رول پلے کررہی ہے۔‘‘ سنبل کے لہجے میں ذرا سا تفاخر جھلکا۔
’’اچھا وہ انشال جو ذرا صاف رنگ اور نرم ہاتھوں والی ہے‘ ہاں کافی اٹریکٹو ہے۔‘‘ رودابہ نے ذرا سا ناک چڑھا کر کہا۔
’’اللہ کو مانو رودابہ! میری کزن صرف صاف رنگت کی مالک نہیں بلکہ کافی زیادہ خوب صورت ہے تبھی تو انزیلہ اصرار کرکے اس سے یہ رول پلے کروا رہی ہیں ورنہ تو اس نے اپنا دامن بچانے کی بہت کوشش کی تھی۔‘‘ سنبل جیسے بے حد متاثر زدہ لہجے میں بولی۔
’’آج تو سنڈے ہے‘ داور یقینا گھر پر ہوگا۔‘‘ رودابہ دروازے کی سمت دیکھتے ہوئے بے چینی سے بولی‘ سب نظر آرہے تھے جسے دیکھنے کی خاطر وہ آئی تھی ابھی تک اس کی جھلک نہ نظر آئی تھی۔
’’ہاں بھائی اندر لیپ ٹاپ پر کام کررہے ہیں۔‘‘ سنبل نے جواب دیا ساتھ ہی اندر کچن سے تواضع کے لیے کچھ لینے چلی گئی۔
’’یہ پرائیوٹ ادارے کام اتنا لیتے ہیں مگر تنخواہ بہت کم دیتے ہیں۔ میرا بچہ دن رات محنت کرتا ہے تب کہیں جاکر گھر کے خرچے پورے ہوتے ہیں۔‘‘ صفیہ نے کپڑا جھٹک کر دھاگے صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’چاچی… آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ داور کے لیے آپ ایسی بیوی ڈھونڈیئے گا جو آکر داور کا ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹائے۔ میرا مطلب ہے کھاتے پیتے گھر کی جو صاحب جائیداد اور صاحب حیثیت ہو۔‘‘ رودابہ کی بات پر صفیہ نے چونک کر بغور اسے دیکھا پھر سر جھٹک کر بولیں۔
’’ارے بیٹا… یہ تو نصیب کے کھیل ہیں‘ آنے والی بس نیک اور شریف طبیعت کی ہو آکر گھر کا کام سنبھالے میری خدمت کرے۔‘‘
’’گھر کے کام یعنی یہ پونچھا لگائے۔‘‘ رودابہ کا جی مکدر ہوا تھا۔ صاف چمکتے سرخ اینٹوں والے فرش پر اس کی نظر پڑی جسے سنبل نے خوب رگڑ رگڑ کر چمکایا تھا۔ سنبل اس کی خاطر تواضع کے لیے مالٹے اور مونگ پھلی سے بھری پلیٹ لے آئی تھی۔
’’مالٹے میں نہیں کھاتی کیونکہ صبح ناشتے میں اورنج جوس لیا تھا میں نے۔‘‘ رودابہ خاصی نزاکت سے بولی جس پر سنبل نے اسے خاصی ناپسندیدگی سے دیکھا۔
’’امی میں ذرا باہر جارہا ہوں کچھ منگوانا ہے آپ کو۔‘‘ اسی دم داور باہر نکلا تھا‘ نہا دھوکر تازہ شیو بنائے‘ شلوار سوٹ میں وہ خاصا فریش اور نمایاں لگ رہا تھا۔
’’ہیلو داور! کیسے ہو‘ اب گھر پر کم نظر آتے ہو؟‘‘ پُراشتیاق نگاہیں اس کے دراز سراپے پر جماتے ہوئے رودابہ کافی بے تکلفی سے بولی۔
’’فائن‘ تم سنائو۔ ماسٹر کب کمپلیٹ ہورہا ہے تمہارا؟‘‘ ہموار لہجے میں بولتے ہوئے اس نے جھک کر مٹھی بھر مونگ پھلی اٹھائی۔
’’بیٹا… رباب کہہ رہی تھی کہ کچن کی کچھ چیزیں منگوانی ہیں تم اس سے پوچھ لو۔‘‘ رودابہ کے بولنے سے قبل صفیہ بول پڑی تھیں جس پر روادبہ نے ایک تپی ہوئی نگاہ ان پر ڈالی تھی۔ داور ماں کی بات پر سر ہلا کر کچن میں چلا آگیا تھا۔
’’تو یہ ملاقات بھی تشنہ ہی رہی۔‘‘ رودابہ دل ہی دل میں خوب جھنجھلائی ہوئی تھی۔ صرف داور کو دیکھنے اس سے باتیں کرنے کی خاطر صبح اٹھ کر اس نے بہترین نیا سوٹ پہنا اور ادھر آگئی تھی۔
پہلے تو داور اکثر گھر پر نظر آجاتا تھا مگر جب سے اسے کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب ملی تھی تب سے خال خال ہی اس کی جھلک نظر آتی تھی۔ ایک گہری یاس بھری سانس اس نے بھری تھی پھر کچھ سوچ کر وہ سنبل سے بولی۔
’’سنبل… ذرا اپنا سیل دکھانا‘ میں اپنا سیل گھر بھول آئی ہوں۔ داور کے باہر جانے پر مجھے یاد آیا کہ امی بھی مجھے کہہ رہی تھیں کہ میں جاسم کو کال کروں کہ وہ ان کی عینک لیتا آئے۔‘‘
’’اوکے‘ میں لاتی ہوں۔‘‘ سنبل سر ہلا کر اندر چلی گئی۔ صحن میں رباب کے لگائے گئے تڑکے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ صفیہ پردے کا کام مکمل کرنے کے بعد اٹھ گئی تھیں۔ سنبل کے ہاتھ سے موبائل لینے کے بعد رودابہ نے ان باکس کھولا‘ لاتعداد مسیجز موجود تھے‘ اس نے چن کر رومیٹنک پوئٹری والے میسجز سلیکٹ کیے اور فٹ سے جاسم کے نمبر پر بھیج دیئے۔ سینٹ آئٹم والے باکس سے جاسم کا نمبر ڈیلیٹ کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ایک پُرسوچ مسکراہٹ در آئی تھی۔
ء…/…ء
’’پلیز امی… میں نہیں جاسکتی آپ کے ساتھ‘ آپ خود اٹینڈ کرلیں ناں شادی۔‘‘ وہ نرمی سے انکار کررہی تھی۔
’’ڈفر لڑکی… تم کیوں نہیں جائو گی‘ پورا خاندان اکٹھا ہوگا ساری کزنز جمع ہوں گی تمہاری۔ ان سے ملو‘ ہنسو بولو۔‘‘ عظمیٰ کو اس کے انکار پر غصہ آگیا تھا‘ وہ جتنا اسے ایکٹو اور سوشل بنانا چاہتی تھیں وہ اتنی ہی ڈل اور ریزرو ہوتی جارہی تھی۔
’’ذرا اچھے سے تیار ہوجائو‘ اپ ڈیٹ لک ہونی چاہیے تمہاری بلکہ ٹھہرو میں خود ہی تمہارا ڈریس نکالتی ہوں۔‘‘ عظمیٰ نے خود ہی آگے بڑھ کر اس کی وارڈ روب کھولی اور ڈارک گرے شیفون کا کامدار سوٹ نکالا جس کے گلے‘ بازوئوں پر ہم رنگ نگینوں کا نفیس سا کام تھا۔ گہری سانس لیتے ہوئے اس نے سوٹ تھاما‘ البتہ میک اپ اس نے اپنی مرضی کا کیا‘ صرف کاجل سے آنکھوں کو مزید خوب صورت بنایا اور لائٹ پنک گلوس لپ اسٹک لگا کر پرفیوم اسپرے کیا۔ لمبے‘ گھنے‘ سلکی برائون بال پن لگا کر پیچھے کھلے چھوڑ دیئے تھے۔
عظمیٰ خود گرے شیفون کی ساڑھی میں ملبوس تھیں جس کا بلائوز کامدار تھا ساتھ میں زرقون کا جیولری سیٹ اور مہارت سے کیا گیا میک اپ‘ وہ کہیں سے بھی انشال کی ماں نہیں لگ رہی تھیں بلکہ بڑی بہن ہی لگ رہی تھیں۔ اپنے شان دار فگر اور بہترین پہناوے کی بدولت سب انجان لوگ انشال کو ان کی چھوٹی بہن ہی سمجھ بیٹھتے تھے۔ وہ انشال کی تیاری سے کچھ خاص مطمئن نہ ہوئی تھیں لیکن وہ اتنی پیاری اور دلکش لگ رہی تھی کہ وہ کوئی سخت جملہ نہ کہہ سکی تھیں‘ وہ ان کے ساتھ چل رہی تھی یہی کافی تھا۔
’’سنو… میری چچا زاد کزن افشین امریکہ سے آئی ہوئی ہے‘ اپنے بیٹے سارب کے لیے لڑکی تلاش کررہی ہے۔ سارب امریکہ میں نیورولوجسٹ ہے‘ تم ذرا اچھے سے افشین اور اس کے بیٹے سے ملنا۔‘‘ گھر سے نکلتے ہوئے عظمیٰ اسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھیں‘ وہ بے زار سی شکل بنائے گاڑی سے باہر بھاگتی دوڑتی روشنیوں کو دیکھتی رہی تھی۔
’’پلیز اللہ تعالیٰ! مجھ سے ناراض مت ہوں‘ میں وہ سب کچھ نہیں کرسکتی جو میری ماں مجھ سے چاہتی ہیں۔ ماں کی حکم عدولی آپ کو سخت ناپسند ہے مگر میں بھی اپنی فطرت سے مجبور ہوں۔‘‘ دل ہی دل میں عاجزی سے دعا کرتے ہوئے وہ گاڑی سے اتر آئی تھی۔
عارفہ کا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا‘ وہی مخصوص دیکھا بھالا منظر تھا جو وہ بچپن سے اپنے ننھیالی ماحول میں دیکھتی آئی تھی۔ بے حد ماڈرن اور بے باک لڑکیاں جن کے پہناوے جدید فیشن کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے۔ نفاست‘ نزاکت‘ ادا‘ قہقہے سبھی کچھ موجود تھا‘ ساری لڑکیاں بے حد خوب صورت اور جاذب نظر دکھ رہی تھیں۔ ان کی آستیوں کے بغیر ریشمی بازو روشنیوں میں دمک رہے تھے۔ آگے پیچھے گہرے گلے‘ چست پاجاموں پر سلیولیس گھیر دار فراکیں‘ صرف اس کا ڈریس ہی ان سب میں سادہ لگ رہا تھا۔ ڈی جے نے ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘ لگایا تو سبھی ڈانس کرنے لگ گئے۔
’’ارے آئو انشال… تم بھی ہمیں جوائن کرو ناں۔‘‘ اس کی ماموں زاد طناز اسے کھینچتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
’’نہیں طناز… مجھے ڈانس کرنا نہیں آتا۔‘‘ اس نے نرمی سے بازو چھڑایا اور ایک طرف جاکر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اتنے میں عظمیٰ اپنی کزن افشین کو لیے ادھر آگئیں۔
’’ارے عظمیٰ… تمہاری بیٹی تو بالکل تمہاری جوانی کی تصویر ہے…!‘‘ افشین سے پیار کرتے ہوئے توصیفی لہجے میں بولی تھی۔ عظمیٰ ذرا سا تفاخر سے مسکرائیں۔
’’ہاں لیکن عادتوں میں یہ مجھ سے بالکل الٹ ہے‘ بالکل سمپل اور ریزروڈ۔‘‘
’’ہاں یہ تو ہے‘ ساتھ میں انویسنٹ اور شائی بھی تو کہو ناں۔‘‘ افشین اسے مسلسل خاموش دیکھ کر ہنستے ہوئے بولیں۔
سارب بھی اس سے ملا تھا‘ کافی خوش شکل اور ہینڈسم نوجوان تھا جو بلیک تھری پیس سوٹ میں متانت سے باتیں کرتا ہوا اسے کافی ڈیسنٹ لگا تھا۔
’’امی… مجھے ذرا صارمہ سے بات کرنی ہے۔‘‘ وہ عظمیٰ سے کہتی افشین سے ایکسکیوز کرتی صارمہ کی طرف آگئی کیونکہ اتنا تو اخلاق اس میں تھا کہ جب آہی گئی ہے تو سب سے مل لے۔
صارمہ اور طناز بھی سارب کی پرسنالٹی کو ڈسکس کررہی تھیں سب ا س کی شخصیت‘ تعلیم اور جاب سے بے حد متاثر لگ رہی تھیں۔
’’افشین آنٹی کا کسی سمپل خالصتاً ایسٹرن لک کی لڑکی کو اپنی بہو بنانے کا ارادہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم میں سے کسی کو گرین سگنل ملنے والا ہے۔‘‘ صارمہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی‘ اس کی بات پر سب نے اسے ایک دم سے خاموش ہوکر دیکھا تھا‘ وہ بالکل کنفیوژ ہوگئی تھی۔ واپسی پر عظمیٰ کا موڈ بے حد خوش گوار تھا۔
’’تم افشین کو بہت پسند آئی ہو‘ اس نے منہ سے کچھ نہیں کہا لیکن مجھے اس کے انداز بتا رہے تھے کہ وہ سارب کے لیے تمہیں منتخب کرچکی ہے۔‘‘ عظمیٰ کی بات پر اس کا دل لمحہ بھر کو ڈوب کر ابھرا تھا۔
’’اور تم نے یہ امی امی کی کیا رٹ لگا رکھی تھی اس کے سامنے‘ ممی نہیں کہہ سکتی تھیں ان مینرڈ لڑکی۔‘‘ اب کے ایک دم غصے سے بولتے ہوئے اسے گھورا… اس کا منہ بے ساختہ کھل گیا تھا۔
’’ممی…؟‘‘
’’ذرا بھی تمہیں ہائی سوسائٹی میں موو کرنے کے آداب نہیں آتے۔ تم کوئی اپنی دادی کے خاندان میں نہیں کھڑی تھیں جہاں کسی ایٹی کیسٹس کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اماں‘ ابا بھی آرام سے چل جاتا ہے‘ افیشن تو خوش لگ رہی تھی مگر اصل بات تو سارب کی ہے۔ دیکھا تھا کتنی کانفیڈنٹ اور ماڈرن لڑکیاں تھیں ساری‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ اوکے کرسکتا ہے۔‘‘ عظمیٰ خوب لتے لے رہی تھیں اس کے اور ان کی آخری بات پر اس کے دل نے ’’آمین‘‘ کہا تھا۔
ء…/…ء
’’بھائی… اگر آپ فری ہیں تو آپ سے ذرا بات کرنی ہے؟‘‘ سنبل نے دروازے سے سر نکال کر اس سے پوچھا۔
’’ڈئیر سس… آجائو‘ میرے فری ہونے کو چھوڑو۔‘‘ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظریں جمائے وہ بولا تھا‘ انگلیاں تیزی سے کی پیڈ پر حرکت کررہی تھیں۔ اس کی بات پر سنبل مسکراتے ہوئے اندر آگئی۔
’’یہ میرا کارڈ ہے‘ اس میں میری پارٹی کی پکس ہیں‘ پلیز یہ ڈویلپ کروا دیں۔‘‘ سنبل نے کرسی گھسیٹی اور ساتھ بیٹھ گئی۔
’’تم اپنا کارڈ اپنے پاس رکھو‘ ننھا سا کارڈ مجھ سے مسنگ ہوسکتا ہے۔ میرے سیل میں وہ پکس ٹرانسفر کردو جو ڈویلپ کروانی ہیں۔‘‘ ٹیبل پر رکھا موبائل سنبل کی طرف دھکیلا۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔‘‘ چند منٹوں میں سنبل نے تصاویر بلو ٹوتھ کے ذریعے ترانسفر کردیں۔
’’یہ میری یادگار تصویریں ہیں‘ جنہیں میں فیملی البم میں لگائوں گی۔‘‘ وہ اگلے کئی گھنٹے تک بیٹھا کام کرتا رہا تھا جبھی تو کرسی کھسکا کر اٹھا تو کمر میں بے ساختہ درد کی لہر اٹھی تھی۔ اس نے دونوں بازو وا کرکے جسم کو ذرا ٹائٹ کیا اور اپنے بیڈ پر آگیا۔
گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی‘ سیل فون پر عادتاً میسجز چیک کیے کچھ ڈیلیٹ کیے اور کچھ کا رپلائی کیا‘ فولڈر میں سنبل کی ٹرانسفر کی ہوئی تصویریں موجود تھیں۔
ہر تصویر میں وہ موجود تھی‘ ہنستی‘ کھلکھلاتی ہوئی کبھی ملکہ کے روپ میں تو کبھی دوستوں کے گروپ میں کسی کے شانے پر ہاتھ دھرے۔ ہر تصویر میں اس کا روپ جدا تھا‘ بے حد دلکش اور نظر کو باندھنے والا‘ وہ بے خیالی میں کتنی ہی بار انگلیوں سے مس کرتے ہوئے ان تصویروں کو دیکھتا رہا تھا۔ شروع سے آخر تک‘ آخر سے پہلی تک‘ یونہی تصویروں کو دیکھتے دیکھتے وہ بھٹک کر یادوں کے جنگل میں جانکلا۔
کوئی دس سال پہلے کی دم توڑتی‘ تھکی ماندی سی سہہ پہر تھی جب وہ گھر آیا تھا۔ ساتھ والے ہمسایوں کی مرغی نے پورے بیس بچے کل ہی پورے نکال لیے تھے۔ فوزیہ آپا نے سنبل اور اسے ہمسایوں کی مشترکہ دیوار کے ساتھ بنے کچن کے شیڈ پر چڑھا دیا تھا۔ دونوں دیوار کی دوسری طرف جھکی ننھے منھے‘ نرم نرم چوزوں کو دیکھ کر خوش ہورہی تھیں۔ آپا کسی کام سے گھر سے باہر گئیں تو سنبل نے نیچے اترنے کا شور مچادیا۔
’’بھائی پلیز… مجھے اتاریں۔‘‘
’’نہیں میں شیڈ کے نیچے اسٹول رکھ دیتا ہوں‘ تم اس پر پیر رکھ کر اتر آنا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’نہیں اسٹول کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے‘ پلیز مجھے اتاریں۔‘‘ سنبل نے بازو اس کی طرف بڑھائے تو اس نے اپنے لمبے قد کی بدولت آرام سے اسے نیچے اتار لیا۔
’’اب انشال کو بھی اتاریں ناں۔‘‘ اسکرٹ کے اوپر کالر شرٹ پہنے وہ اسے ہی مدد طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’پلیز دارو بھائی!‘‘ اور ہاتھ بڑھا کر اسے بھی اتارنا پڑا تھا‘ بے حد سبک تھی وہ بالکل پھولوں کی ڈالی جیسی اور اب بھی دس سال بعد وہ پہلے کی طرح ہی دبلی پتلی اور نازک سراپے کی مالک تھی۔ ایک دلفریب مسکراہٹ نے لیٹے لیٹے ہی اس کے گھنی مونچھوں تلے لبوں کو چھوا تھا اور انہی یادوں کے ریلے میں بہتے بہتے ایک منظر جھماکے سے اس کے ذہن کی اسکرین پر روشن ہوا تھا پندرہ سال پہلے کا منظر۔
وقار احمد کو انجائنا کا اٹیک ہوا ہے‘ صفیہ صوفے پر بیٹھی مسلسل تسبیح پڑھتے ہوئے بھائی کی صحت اور تندرستی کی دعا کررہی ہیں۔ گھر میں سبھی رشتہ داروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی‘ سبھی وقار احمد کی عیادت کو آئے ہوئے تھے اتنے میں ملازمہ کھانا لگنے کی اطلاع دیتی ہے۔
’’آجائیں بی بی جی… اپنے سارے بچوں کو لے کر ڈائننگ ہال میں لے آئیں۔‘‘ طویل ڈائننگ ٹیبل پر بے شمار کھانے سجے ہوئے تھے‘ انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ کس ڈش سے ابتدأ کریں۔ ابھی ایک دو لقمے لیے ہی تھے کہ اچانک ایک قہر بار آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا تھا۔
’’حمیدہ… حمیدہ… ادھر آئو‘ تم سے کس نے کہا تھا کہ ان لوگوں کے لیے پہلے کھانا لگائو۔‘‘ عظمیٰ بیگم سخت تیور لیے ملازمہ سے پوچھ رہی تھیں۔
’’وہ جی… صاحب جی نے کہا تھا کہ پہلے ان کو کھلادیں۔‘‘ حمیدہ نے گھگھیا کے وضاحت دی تھی کہ عظمیٰ بیگم پھٹ پڑیں۔
’’ہاں وہ تو کہیں گے ہی‘ نان سینس… یہ جاہل‘ ال مینرڈ لوگ‘ چٹائی پر بیٹھ کر کھانے والے سارے ڈائننگ ہال کا حشر نشر کردیں گے۔ اب پتا نہیں کھانا بچتا ہے یا نہیں‘ بھائی اور بھابی کے کھانے کا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘ عظمیٰ بیگم کے الفاظ تھے یا کسی شعلے کی لپیٹ‘ سب کے چہرے ایک دم سے سفید ہوگئے تھے سبھی کی زبانیں گنگ اور ہاتھ بے حس‘ جو ہاتھ جس رکابی میں تھا وہیں کا وہیں رکا ہوا تھا۔
ایک پندرہ سالہ نوخیز نوجوان کی رگوں میں ایکا ایکی خون کی جگہ آگ دوڑنے لگی تھی‘ اس کی آنکھیں خون ٹپکانے والی ہورہی تھیں۔ تیزتیز تنفس کے ساتھ اس نے ہاتھ میں پکڑا چمچہ زور سے ٹیبل پر پٹخا تو سبھی جیسے ہوش میں آگئے تھے۔ بے حد غصے سے جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا‘ اس وقت اس کی جذباتی و جوشیلی طبیعت اکسا اکسا کے کہہ رہی تھی کہ ابھی جائو اور اس مغرور اور متکبر عورت کے منہ پر سارا کھانا دے مارو جن کو وہ ابھی ابھی ڈھکے چھپے الفاظ میں بھوکے اور ندیدے کہہ کر گئی تھی مگر ضبط کی انتہائوں کو چھوتے ہوئے وہ کرسی کو ٹھوکر مار کر باہر نکل گیا تھا اس قسم کے ساتھ کہ وہ اس گھر میں آئندہ پھر کبھی قدم نہیں رکھے گا۔
داور کے لبوں سے دل فریب مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔ آنکھیں بے حد سختی سے سامنے تصویر کو دیکھ رہی تھیں‘ اس کی پیشانی ایسے دہک اٹھی تھی جیسے پندرہ برس قبل شدت غضب سے دہک اٹھی تھی۔ اس نے کھٹ سے موبائل آف کیا اور تکیے کے نیچے سے سگریٹ کا پیکٹ اور لائٹر نکال کر سگریٹ سلگالی تھی۔
/…ء…/
’’جاسم… ذرا اپنا موبائل دکھائو گے؟‘‘ کائوچ پر نیم دراز رودابہ نے باہر جاتے جاسم کو پکارا‘ اس کی گود میں کٹی ہوئی ناشپاتیوں کی پلیٹ تھی۔
’’شیور‘ وائے ناٹ۔‘‘ جاسم نے موبائل اس کی طرف بڑھا دیا۔ رودابہ نے اسکرین پر انگلیاں پھیریں‘ اگلے ہی لمحے ان باکس سامنے کھلا تھا۔
’’واہ… سنبل کے میسجز‘ کب سے آرہے ہیں یہ رومانوی پیغامات بھیا۔‘‘ معنی خیز انداز سے بولتے ہوئے رودابہ نے جاسم کو دیکھا تھا جو اس کی بات سن کر چونک اٹھا تھا۔
’’سنبل کے میسج؟ مجھے تو علم نہیں کہ کون سا میسج اس نے بھیجا ہے اور یہ بھی کہ کیوں بھیجا ہے؟‘‘
’’میرے بھائی… جب کوئی لڑکی کسی ہینڈسم نوجوان کو پیامِ الفت بھیجنے لگے تو سمجھو اس کے دل کی زمین پر آپ کی محبت کا بیج بویا جاچکا ہے۔‘‘ رودابہ ابھی بھی تولتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
’’اچھا تو یہ بیج بویا کس نے؟‘‘ جاسم نے اب کے ذرا سا مسکرا کر پوچھا۔ نظروں میں سنبل کا سراپا لہرایا تھا‘ بوٹا سا قد‘ صاف رنگت‘ شانوں تک کٹے بال۔
’’اوہ‘ اتنی بری بھی نہیں مگر یہ تو کبھی میرے سامنے بے تکلفی سے آتی بھی نہیں ہے تو یہ میسجز؟‘‘ جاسم کی آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں اتری تھیں۔
’’کس نے بویا؟ ذرا آئینے سے پوچھو‘ یہ ٹال ہینڈسم سراپا‘ گہری آنکھیں‘ خوب صورت لہجہ‘ یہ سب کیا کم ہیں؟‘‘ رودابہ نثار ہوجانے والی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
’’چھوڑو یار… داور کو پتا چل گیا تو وہ گھونسہ مار کے میری ناک توڑ سکتا ہے۔‘‘ جاسم کو لگ رہا تھا کہ ان تلوں میں تیل اس کے کام کا نہیں۔
’’ارے اسی دارو کو قابو میں کرنے کی خاطر ہی تو سب کچھ کررہی ہوں۔‘‘ دھیمی سی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے رودابہ نے چند رومانوی میسجز سلیکٹ کیے اور سنبل کے نمبر پر بھیج دیئے۔
/…ء…/
’’اللہ نے ایک ہی بیٹی دی اور وہ بھی ڈفر اور ایک دم اسٹوپڈ۔ کیا تھا جو ایک سمجھ دار بیٹی سے نواز دیتا مجھے۔‘‘ عظمیٰ اس پر بری طرح برس رہی تھیں‘ جب سے انہیں علم ہوا کہ تھا کہ افشین نے اپنے بیٹے کے لیے نازی کی بیٹی دونیہ کو پسند کرلیا ہے تب سے انہیں ایک پل چین نہ آرہا تھا۔
’’کتنا بہترین پروپوزل تھا‘ امریکہ چلی جاتیں‘ لائف سنور جاتی تمہاری۔‘‘ عظمیٰ کا ملال کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
’’مگر امی… اس میں میرا کیا قصور؟‘‘ بے حد معصوم شکل بناکر پوچھا تھا‘ ماں کا خود پر گرجنا برسنا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’’ہاں تمہارا کوئی قصور نہیں‘ ساری غلطی تو میری ہے کہ تم جیسی بیٹی کی ماں بن بیٹھی۔ وہ دیکھو دونیہ بازی مار گئی‘ کتنی خود اعتماد اور گرومڈ لڑکی ہے۔ سارب سے دوستی کرلی ہوگی تبھی تو افشین نے یہ فیصلہ کیا ہے تم سے اتنا نہ ہوا کہ سارب سے اچھے سے بات کرلیتیں۔‘‘
’’ارے امی… یہ تو نصیب کی بات ہے‘ دونیہ کا نصیب لکھا ہوگا‘ لیں یہ پانی پئیں۔‘‘ ماں کے غصے کو انجوائے کرتے ہوئے اس نے جگ سے پانی کا گلاس بھر کر ان کی طرف بڑھایا… اسے حقیقتاً سارب کے دونیہ سے رشتہ ہونے کی خبر نے خوشی دی تھی۔ اتنی کہ وہ بھنگڑا ڈالتے ڈالتے رہ گئی تھی‘ بھلا دھڑکنوں میں کسی اور کو بسا کے وہ سارب کے ساتھ کیسے چل دیتی۔
’’بی بی جی… وہ صفیہ بی بی آئی ہوئی ہیں‘ لائونج میں بیٹھی ہیں۔‘‘ اسی پل حمیدہ نے اندر آکر اطلاع دی۔
’’کون‘ پھوپو آئی ہیں؟‘‘ وہ چونک اٹھی۔
’’لو جی‘ اب انہیں کون سی ضرورت کھینچ لائی ہے۔‘‘ پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے عظمیٰ کوفت سے بولیں۔
’’کسی بیٹی کے جہیز کے لیے کوئی چیز خریدنی ہوگی‘ اس کے لیے یقینا پیسوں کی ضرورت ہوگی یا کسی کمرے کی مرمت کروانی ہوگی۔ بیٹے کی بائیک کی قسط بھرنی ہوگی۔‘‘ عظمیٰ نے وہیں بیٹھے بیٹھے صفیہ کی آمد کی ممکنہ وجوہات دہرائیں۔
’’امی… ایسی کوئی بات نہیں‘ ان کے حالات اب اچھے ہوگئے ہیں۔ ہوسکتا ہے ابو سے ملنے آئی ہوں؟‘‘ انشال کو ماں کا انداز برا لگا تھا‘ وہ ہمیشہ ہی سے ابو کے رشتہ داروں کا تذکرہ ایسے تضحیک آمیز انداز سے کرتی تھیں۔
’’تمہیں بڑا پتا ہے کہ ان کے حالات سنور گئے ہیں۔‘‘ اسے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ہاں ناں‘ اب داور بھائی کی جاب لگ گئی ہے ناں تو کافی خوش حالی آگئی ہے۔‘‘ دھیمی سے مسکراہٹ سجائے اس نے بتایا۔
’’ہونہہ‘ ایک پرائیوٹ جاب سے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں‘ جاب نہ ہوئی منتر ہوگیا۔‘‘ عظمیٰ جلے ہوئے انداز میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ صفیہ ہمیشہ کی طرح اسے اچھی طرح لپٹا کر ملیں اس کی صبیح پیشانی چومی۔
’’وقار سے ملنے آئی تھیں‘ دن کو تو آفس میں ہوتا ہے سوچا آج اتوار ہے گھر پر ہوگا۔‘‘ صفیہ خوش اخلاقی سے بولیں۔
’’جی پھوپو… ابو آج گھر پر ہیں‘ اسٹڈی میں ہیں میں بلاتی ہوں۔‘‘ وہ ادب سے کہتی اٹھ گئی۔ وقار احمد بڑی بہن کو گھر میں دیکھ کر کھل اٹھے تھے‘ ساتھ ہی اتنے دنوں بعد شکل دکھانے کا گلہ بھی کر ڈالا۔
’’میرے بھائی… میں کسی کام سے سہی آ تو گئی ہوں مگر تم نے تو قسم کھالی ہے کہ بس عید کے عید ہی بہن کو شکل دکھانی ہے۔‘‘ صفیہ نے جوابِ شکوہ سے انہیں لاجواب کر ڈالا تھا۔
’’بس آپا… کاروبار کی ایسی مصروفیت ہے کہ گھر بھی رات گئے آتا ہوں۔ آپ بے شک عظمیٰ سے پوچھ لیں۔‘‘ وہ تصدیق طلب نظروں سے عظمیٰ کو دیکھتے ہوئے بولے‘ عظمیٰ نے جواباً زورو شور سے ان کی بات کی تصدیق کی۔
’’ہاں وقار تو کافی بزی رہتے ہیں‘ کوئی چھوٹا موٹا بزنس تو نہیں کہ جلد فری ہوجائیں۔‘‘ وہ عظمیٰ کی نظروں کی پروا نہ کرتے ہوئے بھی ٹرالی بھر لائی تھی اور ایک ایک چیز ٹیبل پر سلیقے سے سرو کی۔
’’اچھا وقار… میں رباب کے رشتے کے لیے آئی ہوں۔ ان کے ابو کے کزن رشید بھائی رباب کو اپنے بیٹے وسیم کے لیے مانگ رہے ہیں‘ وسیم ایک پیٹرول پمپ پر منیجر ہے۔ اچھا محنتی اور شریف لڑکا ہے سوچا ہاں کہنے سے پہلے تم سے مشورہ کرلوں۔‘‘ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے صفیہ نے بھائی کو دیکھا۔
’’ارے آپا… آپ کا اتنا مان دینے کا شکریہ‘ لڑکا آپ کا دیکھا بھالا ہے تو بسم اللہ کردیں۔‘‘ وقار احمد انکساری سے بولے۔
’’داور بھی اس رشتے کے لیے راضی ہے سوچا تم بھائی ہو‘ تم سے پوچھ لوں‘ باپ تو سر پر ہے نہیں۔‘‘ صفیہ کے لہجے میں اب کے آرزردگی اتر آئی تھی‘ جسے محسوس کرکے وقار احمد فوراً اٹھ کر ان کے پہلو میں آبیٹھے اور بازو ان کے گرد حمائل کرتے ہوئے بولے۔
’’بس آپا… آپ کا مشکل وقت گزر چکا ہے آپ کا بیٹا ماشاء اللہ جوان ہوچکا ہے۔ داور کافی سمجھ دار اور سلجھا ہوا ہے‘ آپ کی تو ساری محنت ٹھکانے لگی۔‘‘ عظمیٰ کافی کڑی نظروں سے شوہر کی بہن سے والہانہ محبت کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ کافی مطمئن انداز میں ایک طرف بیٹھی ان کی باہم گفتگو دلچسپی سے سن رہی تھی۔
’’اچھا آپ آئی کس کے ساتھ ہیں‘ داور کے ساتھ؟‘‘
’’ہاں اس کے ساتھ بائیک پر آئی ہوں۔ گیٹ پر چھوڑ گیا ہے۔‘‘ صفیہ نے بتایا۔
’’گیٹ پر کیوں‘ اندر کیوں نہیں آیا؟‘‘ وقار احمد نے اس کے دل کی بات کو اپنے لفظوں کی زبان دی۔
’’شاید کسی دوست کی طرف کام تھا‘ کہہ رہا تھا کہ واپسی پر لیتا جائے گا۔‘‘
’’مجھے تو نیند آرہی ہے‘ میں چلتی ہوں۔‘‘ عظمیٰ بے زاری سے کہتی اٹھ گئیں۔ بہن بھائی کا لاڈ پیار انہیں ایک آنکھ نہ بھا رہا تھا۔ وقار اور صوفیہ کی باتوں کا رخ اب بیتی یادوں کی طرف مڑچکا تھا‘ ماں باپ کی یادیں‘ اسکول‘ شادیاں‘ بچے مسائل…
’’انشال بیٹا… آپ جائو‘ جاکر سو جائو صبح کالج جانا ہے‘ تھک گئی ہوگی۔‘‘ باتوں میں مگن اچانک وقار احمد کو خاموش بیٹھی انشال کا خیال آیا تھا جو اُن کے ساتھ والے صوفے پر پالتی مارے ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے ان کے ماضی کی باتوں کو دلچسپی سے سن رہی تھی۔
’’ارے نہیں ابو… پھوپو کتنا عرصے بعد ہمارے گھر آئی ہیں‘ مجھے ان کی باتیں سننا اچھا لگ رہا ہے۔‘‘ وہ مسکرا کر نرمی سے بولی۔ درحقیقت وہ یہ سوچ کر جم کے بیٹھی تھی کہ وہ آج اس دشمنِ جاں کو دیکھ لے گی جس کی محبت سے اس کے خوابوں کا جہاں آباد تھا ورنہ تو اسے یاد نہیں کہ وہ کبھی ان کے گھر آیا ہو۔
’’اُف کتنی اچھی اور محبت کرنے والی ہیں پھوپو… مگر بیٹے میں تو اپنی کوئی بھی کوالٹی ٹرانسفر نہیں کرسکیں۔‘‘ اس نے بیٹھے بیٹھے سوچا‘ وہ تو نہیں آیا البتہ اس کی کال آگئی تھی۔
’’سوری امی… میں ذرا جلدی فری نہیں ہوسکتا‘ مجھے دیر ہوجائے گی میں راشد بھائی (فوزیہ کا شوہر) کو کال کرتا ہوں وہ آپ کو لے جائیں گے۔‘‘
’’لو اب راشد کو کال کرے گا‘ جو بے چارہ سارے دن کا تھکا ہارا اب گھر آتا ہے۔‘‘ صفیہ ہولے سے بولیں‘ وہ بیٹے کے گریز کو پاگئی تھیں۔ وہ یہاں آنا ہی نہ چاہتا تھا‘ آتے ہوئے بھی اسے گیٹ پر اتارا اور یہ جا وہ جا۔
’’تو کوئی مسئلہ نہیں‘ آپ کو ڈرائیور چھوڑ دے گا گھر۔‘‘ وقار نے ان کا مسئلہ سلجھادیا۔ اس کے اندر اداسی پھیلنے لگی تھی‘ وہ بجھے دل کے ساتھ اٹھ آئی تھی۔
/…ء…/
رباب کے ہاتھ میں سیل تھا‘ جس پر وہ کھٹا کھٹ میسجز کررہی تھی۔ سنبل ہاتھوں پر لوشن لگاتی اپنے بیڈ پر آبیٹھی اور بغور رباب کو دیکھا جس کے چہرے کی رنگت منگنی کے بعد دن بدن کھلتی جارہی تھی۔ آنکھیں روشن اور چمکیلی ہوگئی تھیں‘ اس وقت بھی رباب کے چہرے پر الوہی مسکراہٹ اور آنکھیں کسی احساس سے جگمگارہی تھیں۔
’’کس سے چیٹ کررہی ہو‘ وسیم بھائی سے؟‘‘ کافی دیر دیکھنے کے بعد سنبل نے پوچھا۔
’’ہوں‘ اسی سے کررہی ہوں۔‘‘ دھیمی سی شرمگیں مسکراہٹ سے رباب نے اثبات میں سرہلایا۔
’’کیا کہہ رہے ہیں دل کے مکین؟‘‘ کمبل کھولتے ہوئے شوخی سے پوچھا۔
’’بس‘ دل بے قرار کی کیفیات‘ عہد الفت کی پاس داری کا دعویٰ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ جواب دیتے ہوئے رباب کی نظر اسکرین سے لمحہ بھر کو نہیں ہٹی تھی جب سے منگنی ہوئی تھی رباب کا روز رات کا یہی معمول تھا یعنی وسیم کے ساتھ آنے والی زندگی کی باتیں کرنا‘ کبھی کال پر کبھی ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے۔ سنبل نے ایک ناراضی بھری نظر بہن پر ڈالی تھی جو منگنی سے قبل روز رات کو سونے سے پہلے اس سے ڈھیر ساری باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ بھی اسے کالج کے سارے دن کی روداد سناتی‘ دوستوں کے قصے‘ ٹیچرز کی باتیں جو رباب بڑی توجہ سے سنتی تھی مگر اب منگنی کے بعد اس کے معمولات یکسر بدل چکے تھے جس پر سنبل اس سے سخت شاکی تھی۔
اس وقت بھی ایک خفگی بھری نظر رباب پر ڈالتی وہ کروٹ بدل گئی تھی۔ تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل نکالا‘ اس کا ان بکس ایک بغیر نام والے نمبر کے رومانٹک میسجز سے بھرا ہوا تھا۔ یہ نمبر اس کا جانا پہچانا تھا‘ اس کے چچا زاد جاسم کا نمبر‘ جسے وہ کشمکش میں ابھی تک کسی نام سے محفوظ نہ کرپائی تھی۔
’’تمہیں میں مطلع کرتا ہوں کہ تمہاری جان لے لوں گا
اگر ان جھیل آنکھوں کو کبھی پُر نم کیا تُو نے‘‘
میسج پڑھ کر بے ساختہ اس کا دل دھڑک اٹھا تھا اس نے کچھ سوچ کر ٹائپ کردیا۔
’’جاسم بھائی… یہ رومانٹک میسجز بھیجنے کی وجہ؟‘‘
’’اگر میرے نام کے آگے سے لفظ بھائی ہٹادو گی تو ان میسجز کا مفہوم بخوبی تمہاری سمجھ میں آجائے گا۔‘‘ جواب کھٹ سے آیا تھا‘ اس کی ہتھیلیاں بھیگ گئی تھیں اس نے جواب میں کچھ ٹائپ نہ کیا۔
’’اس شہرِ محبت میں کتنے قتل رکیں گے
ہوجائیں جو پابند سلاسل تیری آنکھیں‘‘
اب کے واٹس اپ میسج موصول ہوا تھا‘ جس میں اس کی آنکھوں کی صرف تصویر تھی جو نجانے کب کھینچی گئی تھی۔ وہ چپ چاپ لیٹی کافی دیر تک اپنی دھڑکنوں کو سنتی رہی تھی‘ ذرا کروٹ بدل کر دیکھا تو رباب ابھی تک نیم دراز موبائل پر بزی تھی وہاں البتہ اس کی مسکراہٹ کا رنگ شوخ اور آنکھیں زیادہ چمکیلی لگ رہی تھیں۔
اس نے ایک گہری سانس بھری اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔ ایک مڈل کلاس سادہ اور محدود زندگی گزارنے والی لڑکی جس کی ماں معاشی مسائل میں الجھی کبھی اتنا وقت نہ نکال پاتی کہ اس سے جی بھر باتیں کرلیا کرے۔ گھر کا اکلوتا سربراہ‘ ایک دبنگ اور سنجیدہ مزاج اکلوتا بھائی جو اس گھر کی دیواروں سے غربت کی قلعی اتارنے میں دن رات لگا رہتا تھا۔ ایک ہی دوست اور ہم راز بہن جس کے شب و روز اب اپنے ہونے والے شریکِ حیات کے ساتھ آنے والی زندگی کا حسین سپنا بُننے میں گزر رہے تھے۔ ایسے میں کسی کی چاہت بھری آواز پر توجہ نہ دینا یقینا خلافِ فطرت بات تھی۔ وہ بھی اب بے تکلفی سے جاسم کے ساتھ چیٹ کررہی تھی۔
/…ء…/
’’رودابہ… بیٹا کچھ فائنل کرو‘ میں نے بھائی صاحب کو جواب دینا ہے۔‘‘ رضوانہ رودابہ کے پاس آبیٹھیں اور جواب طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’اوہ امی… میں آپ سے کہہ چکی ہوں کہ میں واصف سے شادی نہیں کرنا چاہتی کبھی کسی صورت میں نہیں۔‘‘ ناخن فائل کرتے ہوئے رودابہ قطعیت سے بولی۔
’’مگر بیٹا… کب تک ایسے چلے گا‘ ہر رشتے سے انکار اب رباب تمہاری عمر کی ہے اس کی اسی ماہ شادی فکس ہوگئی ہے۔‘‘ رضوانہ جیسے بے بس ہوکر بولیں۔
’’رباب کی شادی ہورہی ہے تو رباب کے بعد کس کا نمبر ہوا؟‘‘ بھنویں اچکاتے ہوئے اس نے معنی خیزی سے پوچھا۔ رضوانہ بیگم نے ایک لمبی سانس لی۔
’’تمہاری خام خیالی ہے کہ بھابی صفیہ داور کے لیے تمہارا رشتہ مانگیں گی۔‘‘
’’کیوں نہیں مانگیں گی‘ خود اصرار کرتے ہوئے آئیں گی۔‘‘ ماں کی بات پر وہ تیزی سے بولی۔ ’’جب ہم جاسم کے لیے سنبل کا رشتہ مانگنے جائیں گے تو اسی شرط پر کہ بدلے میں وہ دارو کا رشتہ یہاں کریں گی‘ کراس میرج‘ ڈیٹس اٹ۔‘‘ رودابہ تو بہت آگے کا سوچے ہوئے تھی۔
’’میں سنبل کو بہو بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی‘ مجھے اپنی بھتیجی سمرین اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’جی پہلے بھی آپ کی ایک بھتیجی شادی کے بعد آپ کے بیٹے کو لے کر الگ ہوچکی ہے‘ یاد ہے ناں؟‘‘ وہ خاصے طنز سے انہیں کچھ جتاتے ہوئے بولی۔ ارسم شادی کے بعد اپنی بیوی مومل کو لے کر الگ ہوگیا تھا‘ جس کا رضوانہ کو خاصا دکھ تھا۔
’’دیکھیں امی… سنبل غریب گھر کی سادہ مزاج لڑکی ہے‘ یہاں اچھا کھاپی کر خوش رہ لے گی جیسے رعب میں رکھیں گی ویسے ہی رہے گی۔ ساتھ میں میرے دل کی مراد بھی پوری ہوجائے گی‘ مجھے داور مل جائے گا۔‘‘ رودابہ کی پلاننگ اپنی طرف سے پرفیکٹ تھی۔
’’سنبل تک تو ٹھیک ہے مگر داور کے لیے بھابی تمہیں کبھی نہیں مانگیں گی‘ کبھی تذکرہ تو نہیں کیا ہاں البتہ داور خود نام لے تمہارا تو پھر بات کچھ بنتی لگتی ہے۔‘‘ رضوانہ نے حقیقت پسندی سے صورت حال کا تجزیہ کیا۔
’’یہی تو مصیبت ہے کہ یہ داور کسی طرح میرے قابو میں نہیں آرہا ورنہ مشکل کیا تھی‘ وہ تو سٹرو ایک دم خشک مزاج ہے۔‘‘ رودابہ مارے جھنجھلاہٹ کے اپنے ہاتھ پر مکا مار کر رہ گئی تھی۔
/…ء…/
صفیہ نے ڈھیر سارا میوہ ڈال کر گاجرکا حلوہ تیار کیا تھا۔
’’واہ امی… آج تو خاصی دعوت کا اہتمام کیے بیٹھی ہیں۔‘‘ طوطے کے پنجرے میں دانے ڈالتے ہوئے داور نے ہنس کر کہا۔
’’ارے بیٹا… کیسا اہتمام؟ رباب کا دل چاہ رہا تھا کہ امی حلوہ بنائیں۔ ماں ہوں جب تک زندہ ہوں چائو پورے کرتی رہوں گی۔ میرے بعد تو تمہاری دلہن اس گھر کی مالک ہوگی‘ اب وہ چاہے تمہاری بہنوں کی عزت کرے یا نہ کرے۔‘‘ پلیٹوں کو خشک کرتے ہوئے صفیہ بولیں۔
’’ارے کیوں نہیں کرے گی میری بہنوں کی عزت‘ کھینچ کے رکھوں گا محترمہ کو۔‘‘ مسکراہٹ دباتے ہوئے اس نے جواب دیا۔
’’آپ کو کھینچنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی‘ انشال ماشاء اللہ پہلے ہی سے بہت اچھی لڑکی ہے۔ لونگ اور کیئرنگ۔‘‘ واش بیسن پر اسکرب رگڑتے ہوئے رباب بھی گفتگو میں شامل ہوئی۔
’’انشال کا یہاں کیا ذکر‘ تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘ داور نے رباب کی طرف رخ کرکے خشمگیں نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’کیوں جب آپ کی دلہن کی بات ہورہی ہے تو انشال کا ذکر ایسے کون سے اچنبھے کی بات ہے۔ مجھے بھابی کے روپ میں بس وہی پسند ہے۔‘‘ تولیے سے منہ خشک کرتے ہوئے رباب چارپائی پر بیٹھ گئی اور داور کی پیشانی بہن کی بات پر سلوٹوں سے اٹ گئی تھی۔
’’نیور… اگر تمہاری یہ خواہش ہے تو اسے کسی دیوانے کا خواب ہی سمجھو کہ میں انشال سے شادی کروں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں چٹانوں کی سی سختی تھی۔
’’مگر کیوں داور… انشال میں کس چیز کی کمی ہے؟‘‘ فوزیہ ابھی اپنے چھوٹے بیٹے کو اندر سلا کر باہر آرہی تھی تو داور کی بات اس کے کانوں میں پڑی۔
’’کمی نہیں بلکہ زیادتی ہے‘ دولت کی۔‘‘ وہ زہرخند ہوکر بولا۔
’’ارے تو ہمیں ان کی دولت سے کیا سروکار‘ ہمیں تو بس انشال چاہیے۔ سیدھی سادی‘ معصوم‘ بھولی صورت کتنی عزت اور ادب سے پیش آتی ہے۔‘‘
’’جو بھی ہو‘ انشال عظمیٰ بیگم کی بیٹی ہے اور عظمیٰ بیگم سے کوئی رشتہ تو درکنار میں بات تک کرنا گوارہ نہ کروں۔‘‘ دو ٹوک انداز میں بولتے ہوئے وہ اب طوطے کے کپ میں پانی ڈال رہا تھا۔
’’میرے بھائی… انشال بہت مختلف لڑکی ہے‘ مامی عظمیٰ کی طرح غرور‘ تکبر نام کی کوئی چیز اس میں موجود نہیں۔ ہر شخص کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا کرتے۔‘‘ فوزیہ جیسے اسے قائل کرنے کا تہیہ کیے بیٹھی تھی۔
’’امی… آپ ماموں سے بات کریں‘ مامی عظمیٰ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ رباب کے بعد اب ہم داور کی شادی کرتے ہیں۔‘‘ فوزیہ ماں کی طرف رخ کرتے فیصلہ کن انداز میں بولی۔
’’بیٹا… بات تو کرلوں مگر وقار کی بیوی کے آگے نہیں چلتی۔ بھابی عظمیٰ انشال کو اپنے میکے میں دینے کا ارادہ رکھتی ہیں‘ اپنے جیسے امیر اور صاحب حیثیت لوگوں میں۔‘‘ صفیہ کا لہجہ پست تھا۔
’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ رشتے ناتے اپنے جیسوں کے ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔ کبھی عظمیٰ بیگم ہمارے گھر آئیں‘ ہمارے گھر کھانا کھایا یا آپ کو اپنے گھر میں عزت دی؟ بس جو خون کا رشتہ ہے وہی نبھائیں مزید آگے رشتے بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ داور کی بات میں سچائی تھی مگر وہ سب بھی کیا کرتیں کہ ہر بہن کی طرح انہیں بھی اپنے اکلوتے بھائی کے لیے چاند سی بھابی چاہیے تھی اور ایسی معصوم اور سادہ مزاج لڑکی جو شادی کے بعد ان کے اور بھائی کے درمیان فاصلے کی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش نہ کرے۔
’’کروڑوں میں کھیلنے والا میرا بھائی جس کی عقل کو ایک کم عمر اور خوب صورت بیوی نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے ورنہ تو دو ہی ہم بہن بھائی ہیں اگر سنجوگ جڑ جائے تو ہمیشہ کے لیے بندھ جائیں گے۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں‘ وہ میری کسی بچی کو لے نہیں سکتا مگر میں تو جھولی پھیلا سکتی ہوں ناں اس کے سامنے‘ میں ضرور جائوں گی اس کے پاس۔‘‘ صفیہ خاصے پختہ عزم سے بول رہی تھیں کہ وہ بھی تو بھتیجی کو بہو بنانے کی آرزو مند تھیں کیا تھا کہ بھابی انہیں کبھی خاطر خواہ عزت نہیں دے پاتی تھی مگر ان کی منظورِِ نظر تو انشال تھی جو اُن کے خوبرو اور سعادت مند بیٹے کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھیر سکتی تھی۔
’’ہماری اماں مرحومہ گاجر کا حلوہ اکثر پکایا کرتی تھیں کہ وقار کو بہت پسند تھا۔ ہر ہفتے وہ سردیوں میں اماں سے حلوہ پکواتا تھا۔‘‘ بیٹھے بیٹھے ہی اچانک ایک پرانی یاد صفیہ کے ذہن میں چمکی تھی۔
’’داور… بیٹا میں حلوہ نکالتی ہوں‘ تم جاکر ماموں کے ہاں دے آئو۔ میرا بھائی خوش ہوجائے گا۔‘‘
’’کیا وقار ماموں کے ہاں میں جائوں‘ نیور…‘‘ ماں کی بات سن کر اس نے سختی سے انکار کردیا۔ ’’عظمیٰ بیگم کے گھر میں جائوں یہ ناممکن ہے۔‘‘ اس کی پیشانی کسی احساس سے گرم ہوئی تھی۔
’’میرے بھائی… وہ ہمارے ماموں کا گھر ہے‘ مامی کا رویہ جو بھی ہو ہمیں اس سے غرض نہیں۔ ہمارے ماموں تو اچھے ہیں ناں‘ محبت کرنے والے‘ خیال کرنے والے نیک سبھائو۔‘‘ فوزیہ دل سے وقار احمد کی تعریف کررہی تھی کہ انہوں نے رباب کی شادی کے لیے فریج‘ ایل ای ڈی اور دوسری کتنی ہی الیکٹرونکس کی چیزیں پہلے سے بھیج دی تھیں وہ سب دل سے وقار احمد کی دریا دلی اور خدا ترسی کے معترف تھے اور ایسے فرشتہ صفت ماموں سے ہرگز قطع تعلقی نہیں کرنا چاہتے تھے چاہے ان کی بیوی کا رویہ کتنا ہی غیر مناسب کیوں نہ ہو۔
’’یہ لو بیٹا… بس کھڑے کھڑے ہی دے آئو‘ میرا بھائی خوش ہوجائے گا کہ بہن نے اسے یاد کیا ہے۔‘‘ صفیہ نے پلاسٹک کے ڈبے میں حلوہ پیک کرکے اس کی طرف بڑھایا۔
’’اُف امی… کتنا مجبور کردیتی ہیں آپ بھی‘ اگر اتنا دل چاہ رہا تھا تو کال کرکے ماموں کو بلوالیتیں یہیں آکے کھالیتے۔‘‘ وہ جھنجھلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا‘ وہ جتنا اس راستے پر جانے سے گریز کرتا تھا صفیہ اتنا ہی اسے ساتھ لے جانے پر مصر ہوتیں‘ ماں کو انکار کرنا بھی وہ خلاف ادب سمجھتا تھا سو مانے بغیر چارہ نہ تھا۔
وقار احمد کے گھر کی ساری لائٹیں روشن تھیں‘ باہر کسی ذی روح کا وجود نہ تھا۔ وہ خفیف سا احساس میں گھرا اندر لائونج میں داخل ہوا۔ اندر انشال ٹی وی پر اپنا فیورٹ ڈرامہ مگن انداز میں دیکھ رہی تھی‘ اس پر نظر پڑی تو بے ساختہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’داور بھائی… آپ پلیز آئیں ناں بیٹھیں۔‘‘ وہ بے خود سی ہوکر دو قدم آگے بڑھی‘ جسے محسوس کرتے ہوئے داور نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا‘ اس لڑکی کے چہرے پر بے یقینی کے رنگوں میں خوشی کا رنگ واضح نظر آرہا تھا۔ جیسے اسے سامنے پاکر بے حد حیران اور بے حد خوش ہو‘ ساتھ صوفے پر بیٹھی عظمیٰ بیگم کی نگاہیں ناگواری سے بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جو یک ٹک سامنے کھڑے داور کو دیکھے جارہی تھی۔
’’السلام علیکم! یہ حلوہ امی نے ماموں کے لیے بھجوایا ہے۔‘‘ بے حد سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے ڈبہ آگے بڑھایا جسے انشال نے تھام لیا۔
’’ارے بیٹا… خوامخواہ تکلف کیا‘ آپ کے ماموں میٹھا اتنا شوق سے نہیں کھاتے ویسے بھی آپا نے اپنے لیے ہی پکایا ہوگا۔ گھر کے کافی سارے افراد ہو‘ اوپر سے پیٹرول کا خرچہ کرکے اتنا دور یہ ذرا سا حلوہ دینے آئے ہو‘ خوامخواہ اتنی زحمت کی۔‘‘ عظمیٰ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا‘ سراسر تضحیک آمیز مسکراہٹ۔
مارے توہین کے اس کا رواں رواں سلگ اٹھا تھا۔ یہ متکبر و خود پسند عورت آج بھی اتنی ہی بے رحم اور سنگدل تھی‘ جتنی آج سے پندرہ سال پہلے تھی۔
’’جی بہت بہتر۔‘‘ اس نے ایک نظر انشال پر ڈالی جو چہرے پر ڈھیروں شکوے رقم کیے ڈبدبائی آنکھوں سے ماں کو دیکھ رہی تھی پھر جھٹکے سے مڑ کر لمبے ڈگ بھرتے ہوئے لائونج کا دروازہ پار کر گیا تھا۔
’’امی… آپ نے ان کی انسلٹ کیوں کی؟‘‘ وہ رندھے ہوئے لہجے میں تقریباً چیختے ہوئے عظمیٰ بیگم سے پوچھا۔
’’ارے میں نے کون سی انسلٹ کردی اس کی اور اس کو دیکھو جیسے وقار احمد نے کبھی حلوہ نہ کھایا ہو۔ اتنی دور سے تردد کیا۔‘‘ عظمیٰ خوامخواہ مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’جو بھی تھا یہ ابو اور پھوپو کا آپس کا معاملہ ہے‘ وہ ابو کے لیے حلوہ دینے آئے تھے‘ آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ان سے ایسے بی ہیو کریں۔‘‘ آنسو پیتے ہوئے وہ دل گرفتی سے بول رہی تھی اسے ماں کے رویے نے حقیقتاً بہت دکھ پہنچایا تھا۔
’’زیادہ اموشنل ہونے کی ضرورت نہیں‘ ایسے لوگوں کو اپنی حد میں رکھنا چاہیے۔ زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں‘ آج حلوہ تو کل کو بریانی لے کر آجائیں گے صاحب زادے… مجھے یہ آنا جانا پسند نہیں۔‘‘ عظمیٰ قطعیت سے کہتی اٹھ گئی تھیں۔ ان کے جانے کے بعد وہ کھل کر رو دی تھی‘ داور کی آخری قہر برساتی نظر اس کے دل میں انی کی طرح چبھ گئی تھی۔ جیسے ماں کے اس نامناسب رویے کی وہ برابر کی ذمہ دار ہو۔
کتنا خوش ہوئی تھی وہ اسے یوں اچانک اپنے سامنے پاکر‘ یقین ہی نہ آرہا تھا کہ وہ اتنے قریب نہیں کھڑا بلکہ اس کی منزل اتنے قریب کھڑی ہے مگر کیا کیا جائے عظمیٰ بیگم کی رعونت زدہ فطرت کا جس کی وجہ سے وہ اسے اب ایکا ایکی کرنوں کی مسافت پر نظر آرہا تھا۔
’’جب ابو کا بھانجا سمجھ کر امی اتنی تواضع کرتی ہیں تو بیٹی کیونکر اس کے ہاتھ میں سونپ سکتی ہیں۔ انشال ابھی بھی وقت ہے‘ اپنے قدم روک لو۔ اپنے بے رنگ ادھورے خوابوں کو ایسا ہی رہنے دو۔‘‘ ایک خیال نے بیٹھے بیٹھے اس کے دل کو مٹھی میں لے لیا تھا۔
رات کو ڈنر کرتے ہوئے وہ یہی حلوہ گرم کرکے لے آئی اور وقار احمد کے سامنے پلیٹ رکھ دی۔
’’ارے یہ حلوہ کہاں سے آیا؟‘‘
’’یہ پھوپو نے آپ کے لیے بھیجا ہے۔‘‘ بھاری آواز سے کہتی وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی‘ عظمیٰ نے ایک خاموش تپتی نگاہ اس پر ڈالی۔
’’آپا کے ہاتھ میں بالکل اماں جیسا مزہ ہے‘ ایسا لگ رہا ہے جیسے اماں نے یہ حلوہ پکایا ہو۔‘‘ کھانے کے بعد حلوہ لطف لے کر کھاتے ہوئے وقار احمد‘ ہر چمچے کے بعد اپنی مرحومہ ماں کی کوئی نہ کوئی بات بتا رہے تھے جبکہ عظمیٰ بیگم کی سوچتی اور کھوجتی ہوئی نگاہیں انشال پر جمی ہوئی تھیں جس کا رویا رویا متورم چہرہ اور سرخ آنکھیں انہیں بہت کچھ سمجھا رہی تھیں۔
/…ء…/
’’چاچی جان… داور کہاں ہے؟ مجھے ذرا اس سے کام ہے۔‘‘ رودابہ نے ان کے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ صفیہ اب عشاء کی نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھیں اس کی بات پر تسبیح روک دی۔
’’بیٹا… وہ اپنے کمرے میں ہے۔‘‘ داور اپنے کمرے میں موجود نہ تھا‘ البتہ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ کمرے کا گھوم کر جائزہ لیتے ہوئے رودابہ ایک خوش کن احساس میں گھر گئی تھی۔ اس نے اپنا سیل فون نکالا اور دیوار پر لگی داور کی ان لارج تصویر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا پھر دھم سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
داور باتھ لے کر باہر نکلا تو رودابہ کو اپنے روم میں دیکھ کر ٹھٹکا۔ اس وقت وہ ڈھیلے ڈھالے ٹرائوزر میں ملبوس تھا‘ اس کے کسرتی بدن سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے فوراً الماری کھول کر شرٹ نکالی اور پہن لی۔
’’رودابہ خیریت اس وقت یہاں؟‘‘
’’ہاں خیریت ہی ہے‘ میں ایک جاب کے لیے اپلائی کرنا چاہتی تھی پلیز تم میرے ڈاکومینٹس آن لائن بھیج دو۔‘‘ رودابہ نے کاغذوں کا پلندہ اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے تھام کر ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’اوکے‘ فری ہوکے کردیتا ہوں۔‘‘ اب آئینے میں وہ بال سنوار رہا تھا۔ رودابہ کتنی ہی دیر یونہی کھڑی اس کی چوڑی پشت کو دیکھتی رہی‘ وہ خود بھی ہاف بازو والی ٹائٹ‘ ڈیزائنر شرٹ اور پینٹس میں ملبوس تھی۔
آئینے کے سامنے اس کا عکس بھی صاف نظر آرہا تھا‘ اس کی آنکھیں بال سیٹ کرتے داور پر جمی تھیں جنہیں محسوس کرتے ہوئے وہ حیرانی سے مڑا تھا۔
’’رودابہ… کوئی اور کام تو نہیں؟‘‘
’’نہیں بس ایسے ہی تم سے گپ شپ کا موڈ ہورہا تھا چلی آئی۔‘‘ رودابہ اب قدرے سنبھل کے بولی۔
’’رودابہ… رات ہوگئی ہے‘ تم گھر جائو۔‘‘ وہ نرمی سے بولا‘ نظروں میں واضح طور پر ناصحانہ رنگ تھا۔
’’داور… میں آئی بھی اس لیے ہوں کہ رات ہوگئی ہے۔‘‘ رودابہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
’’مطلب؟‘‘ اس کی چوڑی پیشانی پر ناگوار سے سلوٹیں سمٹ آئی تھیں۔
’’مطلب کہ جاسم کے لیے امی کا ارادہ سنبل کو لینے کا ہے مگر ساتھ میں وہ تمہیں بھی داماد بنانا چاہتی ہیں۔‘‘ رودابہ نے اب کے کھل کے بات کی۔
’’مطلب سنبل کی شادی کے ساتھ ساتھ میری بھی شادی؟‘‘ اس نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’بالکل‘ ہم سب کی یہی خواہش ہے بلکہ میری تو خواہش سے بڑھ کر زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے کہ تم میرے لائف پارٹنر بنو۔‘‘ رودابہ اب کے چہکتے ہوئے خاصی بے باکی سے بولی… جس پر داور نے سخت ناپسندیدگی سے اسے گھورا۔
’’لیکن میری خواہش بالکل نہیں ہے کہ تم میری لائف پارٹنر بنو۔‘‘
’’مگر کیوں داور…؟ کیا کمی ہے مجھ میں‘ تمہاری کزن ہوں‘ ساری زندگی اکٹھے کھیلے بڑھے۔‘‘ رودابہ بے قراری سے بولی۔
’’پلیز تم انکار مت کرنا‘ یہ میری زندگی کا سوال ہے۔‘‘ اب کے وہ ملتجی ہوئی۔
’’اور میری زندگی کا ہر فیصلہ میری ماں کریں گی اور بہتر ہوگا کہ تم اب جائو یہاں سے۔‘‘ سخت لہجے میں کہتے ہوئے اس نے رودابہ کو دروازے کی سمت اشارہ کیا۔
’’اوکے ٹھیک اگر چاچی مان جائیں تو پھر تو تمہیں کوئی انکار نہ ہوگا۔‘‘ رودابہ خوشی سے سرشار کھلکھلاتے ہوئے چلی گئی۔
’’ہونہہ… رات کو میرے کمرے میں آکر مجھے پرپوز کررہی ہے اور خواہش مجھے ہم سفر بنانے کی جیسے میں تو ایسی بولڈ لڑکی سے شادی کرلوں گا۔‘‘ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس نے غصے سے خود کلامی کی۔
/…ء…/
آج رباب کی مہندی تھی‘ گھر میں گہما گہمی کا سماں تھا۔ سنبل کی خواہش تھی کہ انشال مہندی کی رات ان کے گھر قیام کرے مگر وہ عظمیٰ بیگم کے ڈر سے کچھ کہہ نہ پائی تھی۔ سنبل نے اس کی منتیں کرنے کی بجائے ڈائریکٹ وقار احمد کو کال ملالی تھی۔
’’ماموں… رباب کی شادی پر انشال ہمارے گھر رہ سکتی ہے ناں؟ اصل میں‘ میں اکیلی ہوں مجھ سے اتنے سارے کام نہیں نمٹ رہے۔ اس لیے مجھے انشال کی ہیلپ کی ضرورت ہے۔‘‘ اور وقار احمد اتنے رحم دل اور نر م مزاج کہ بھانجی ان سے کسی کام کی استدعا کرے اور وہ انکار کردیں فوراً انشال کو پھوپو کے گھر جانے کا آرڈر دے دیا۔
’’دیکھا بھائی… ہمارے ماموں جب اتنے اچھے ہیں تو پھر ہم مامی کو کسی خاطر میں کیوں لائیں۔‘‘ داور جو اس کی ساری کارروائی پر کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا‘ سنبل کو خوشی سے چہکتے ہوئے دیکھ کر جل کر بولا۔
’’ہاں تو اپنی صاحب زادی کو بھیج کر کون سا احسان کررہے ہیں اور ہیلپ کی خوب رہی وہ نازوں پلی محترمہ کیا یہاں آکر جھاڑو لگائے گی یا برتن دھوے گی؟‘‘
’’کچھ بھی نہ کرے بس ہر وقت میرے ساتھ تو رہے گی یہ بھی کافی ہے مجھے۔‘‘ سنبل بے نیازی سے جواب دیتی آگے بڑھ گئی تھی۔
سنبل نے اس کے لیے اور اپنے لیے ایک جیسا گھیردار انار کلی فراک اور پاجامہ ڈیزائن کروایا تھا صرف رنگ کا فرق تھا۔ وہ آف وائٹ گھیردار فراک میں ملبوس تھی جس کے کناروں پر مختلف بنارسی پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ زرد‘ سرخ‘ نیلی‘ پیلی‘ ساتھ پرپل رنگ کا بنی بنارسی کا تنگ چوڑی دار پاجامہ تھا۔ اسٹائلش سی چٹیا بنائے اس نے سائیڈ پر کر رکھی تھی‘ آنکھوں میں کاجل اور گلابی لپ گلوس اور بس‘ ہاں ہاتھوں میں چوڑیاں اور گجرے ضرور تھے۔
خود پر اٹھتی ہر سراہتی نظر اسے بخوبی باور کرا رہی تھی کہ وہ آج بہت خاص اور بہت منفرد لگ رہی تھی۔ صفیہ نے بھی باقاعدہ بلائیں لے کر اسے اچھے نصیب کی دعا دی تھی مگر جس کی نظروں میں وہ اپنے لیے توصیف دیکھنا چاہتی تھی وہ تو نظر ہی نہ آرہا تھا۔ اپنے لیے اس کی زبان سے کوئی تعریفی جملہ سننے کی تو وہ توقع بھی نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اپنے بارے میں وہ اس کے جذبات بخوبی جانتی تھی مگر کیا اس کے جذبوں میں اتنی بھی زور آوری نہیں کہ اس کی ایک ستائشی نظر ہی حاصل کرے۔ ایک خواہش دل میں لیے وہ برآمدے کے پلر سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی تھی۔ داور کو سنبل سے ایک شرٹ پریس کروانا تھی‘ وہ شرٹ ہاتھوں میں تھامے سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا کہ سامنے نظر پڑی تو وہ وہیں جم سا گیا۔ اتنا کامل ملکوتی حسن‘ وہ یک ٹک دیکھنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ وہ کسی مغلیہ شہزادی سے تشبیہہ دینے کے لیے ذہن پر زور دے بیٹھا لمبی گھیر دار فراک بمشکل ایک بالشت ہی زمین سے اوپر تھی۔
اگر انشال جان لیتی کہ وہ اس وقت کسی کی پُرستائش نظروں کے حصار میں ہے تو خود پر نازاں کیے بنا رہ نہ پاتی اگر اسے علم ہوتا کہ اس کے معصوم حسن نے کسی کے دل کو اپنے سراپے کے فسوں میں باندھ دیا ہے تو وہ سجدۂ شکر بجالاتی کیونکہ یہ بے خودی اور وارفتہ نگاہیں ہی تو اس کی زندگی کا حاصل ٹھہرتیں۔
’’داور… ہوٹل سے کھانا وقت پر پہنچ تو جائے گا ناں؟ دیکھو مہمان کافی تعداد میں ہیں‘ کوئی چیز کم نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ پیچھے سے سیڑھیاں اترتی ہوئی فوزیہ اس کے برابر آکر بولی تھی۔ وہ خود بھی اس وقت ٹیل فراک میں ملبوس اپنی ساری گولڈ کی جیولری پہنے ہوئے تھی۔
’’ہاں آپا… سارے انتظامات مکمل ہیں‘ آپ فکر نہ کریں۔‘‘ وہ چونک کر حواسوں میں پلٹتے ہوئے بولا۔
’’یہ سنبل کہاں رہ گئی… سنبل… یہ ذرا میری شرٹ استری کردو۔‘‘ انشال کو سراسر نظر انداز کرتے ہوئے وہ سنبل کو پکارتے ہوئے اندر چلا گیا تھا۔ انشال کے دل کو لمحہ بھر کو کچھ ہوا تھا‘ اتنی بے عزتی‘ اتنی بے اعتنائی اس کی آنکھیں گیلی ہوتی ہوتی رہ گئی تھیں۔
’’سوری بھائی… مجھے بہت کام ہیں‘ آپ کسی اور کو دے دیں بلکہ ادھر دیں۔‘‘ سنبل نے شرٹ اس کے ہاتھ سے لے لی۔
’’انشال… پلیز ذرا یہ شرٹ تو پریس کردو؟‘‘ سنبل نے اس سے ریکوئسٹ کی۔
’’انشال سے کیوں کہہ رہی ہو؟ بھلا اس نے خود کبھی کپڑے پریس کیے ہوں گے اس کے سارے کام تو میڈز کرتی ہیں۔‘‘ داور کا لہجہ اتنا استہزائیہ نہیں تھا جتنا انشال کو محسوس ہوا تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں‘ میں اپنے کپڑے خود پریس کرلیتی ہوں اتنا مشکل کام نہیں ہے کہ ذرا ذرا سے کاموں کے لیے میڈ کی محتاج رہوں۔‘‘ خفگی بھرے انداز میں بولتے ہوئے اس نے سنبل سے شرٹ لے لی۔
’’سمجھتے کیا ہیں خود کو‘ کوئی طرم خان… اس دن امی کی بات کا بدلہ لے رہے ہیں۔‘‘ شرٹ پر استری پھیرتے ہوئے وہ سلگ رہی تھی۔
’’کوئی اتنا روڈ اور بے حس ہوتا ہے جتنا یہ بندہ خود کو ظاہر کرتا ہے۔ کالج میں فرینڈز مجھے سائرہ بانو کہتی ہیں اور یہ ایک نظر ڈالنا جیسے اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے۔ ہونہہ صرف شکل ہی تو اچھی ہے۔‘‘ اس کے دل سے دھواں سا اٹھا تھا مگر نہیں یہ دھواں اس کے دل سے ہی نہیں بلکہ داور کی شرٹ سے بھی اٹھ رہا تھا۔ استری کا بٹن بالکل آخری اسٹیپ پر تھا‘ جسے وہ لو اسٹیپ پر لانا بھول گئی تھی۔
’’ہوگئی میری شرٹ استری؟‘‘ وہ اپنی شرٹ لینے آپہنچا مگر سامنے کی صورت حال دیکھ کر وہ بے ساختہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔
’’مجھے پتا نہیں چلا کہ استری بہت گرم ہوگئی تھی‘ ویری سوری۔‘‘ بے حد شرمندہ تاثرات کے ساتھ اس نے وضاحت دینے کی کوشش کی۔
’’میں نے کہا تھا ناں کہ کام وہ کرنا چاہیے جس کو کرنا آپ کی روٹین میں شامل ہو۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ سے جلی ہوئی شرٹ لیتے ہوئے متحمل انداز میں بولا۔ رباب کی سسرال والے مہندی لے کر آچکے تھے ان کے آتے ہی ان کی خاطر تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا‘ داور بھی برائون شلوار قمیص پہن کر باہر ان کے استقبال کو نکل آیا تھا۔ شلوار قمیص اور چپل میں بھی وہ بے حد شاندار اور نمایاں لگ رہا تھا۔ رودابہ بھی مہمانوں کی آمد کے وقت ہی پہنچی تھی۔ وہ کامدار لانگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی‘ بہترین میک اپ و جیولری کے ساتھ وہ کافی خوب صورت اور کانفیڈنٹ لگ رہی تھی۔
’’ہائے داور… کیسے ہو… میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ قریب آکر چہکی تھی۔ مقصد داور کی نظروں میں خود کو لانا تھا۔
’’فائن! ہاں اگر کوئی بے تکی بات نہ کرو تو کافی اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ عام سے انداز میں کہتے ہوئے وہ ایک بزرگ رشتہ دار کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’آنٹی… آپ سنائیں‘ طبیعت کیسی ہے اب؟‘‘ ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے وہ خوش مزاجی سے احوال دریافت کررہا تھا‘ رودابہ کا دل جل بھن کر رہ گیا۔
انشال نے دور سے اسے اور رودابہ کو بات کرتے دیکھ لیا تھا اور اب خاتون سے گپیں لگاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
’’یہ بندہ‘ ہر کسی سے ہنس کر بات کرسکتا ہے سوائے میرے۔‘‘ رودابہ اور انشال دونوں کے جلے ہوئے دل نے سوچا تھا۔
/…ء…/
’’کیا بات ہے وقار! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟‘‘ رات کو معمول کے مطابق چہرے پر کلینزنگ کرنے کے بعد عظمیٰ بیڈ پر آئیں تو وقار احمد کو گہری سوچ میں گم دیکھ کر پوچھ بیٹھیں۔
’’ہاں‘ نہیں… میری طبیعت کو کیا ہونا ہے۔‘‘ تھکے تھکے سے انداز میں بولتے ہوئے وقار احمد سیدھے لیٹ گئے اور نظریں چھت پر جمادی تھیں۔
’’میں دیکھ رہی ہوں آپ کافی دنوں سے پریشان لگ رہے ہیں مجھے۔ آج کھانا بھی برائے نام کھایا آپ نے۔‘‘ عظمیٰ بغور ان کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں جس پر تفکرات کا جال بچھا ہوا تھا۔
’’ایسے ہی بزنس کے کچھ مسائل ہیں‘ فیکٹری خسارے میں جارہی ہے۔ میں بینک سے لون لینے کا سوچ رہا ہوں۔‘‘
’’اوہ مائی گاڈ‘ یہ نوبت یہاں تک کیسے آپہنچی۔‘‘ عظمیٰ مارے پریشانی کے اٹھ بیٹھیں‘ خسارے کا سن کر تو ان کا دل ہی ڈوب گیا تھا۔ ’’اب کیا ہوگا‘ بزنس تو ڈائون نہیں جارہا؟‘‘
’’پریشان نہ ہو‘ ایک اچھا بزنس پارٹنر مل گیا ہے جو کیپیٹل (سرمایہ) انویسٹ کرنے پر تیار ہوگیا ہے۔‘‘ وقار نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا تو عظمیٰ کے دل کو قدرے سہارا ملا۔
’’عظمیٰ… انشال اب گریجویشن سے فارغ ہونے والی ہے‘ اس کی شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘
’’ہاں‘ اب یہ فرض تو ادا کرنا ہے‘ احمد بھائی اپنے بیٹے فائق کے لیے کہہ رہے ہیں۔ ماشاء اللہ میرا بھتیجا فائق کافی قابل اور محنتی لڑکا ہے‘ ایم بی اے کرچکا ہے۔ بینک میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا ہے۔‘‘ عظمیٰ کے لہجے میں پیار ہی پیار تھا۔
’’آپا بھی داور کے لیے کہہ رہی تھیں‘ داور ماشاء اللہ بہت شریف اور ملنسار نوجوان ہے‘ ہماری انشال کو خوش رکھے گا۔‘‘ عظمیٰ تو جیسے شوہر کی بات پر بھڑک اٹھیں۔
’’امپاسبل… میں اپنی اکلوتی بیٹی کسی صورت آپ کی بہن کے ہاں نہیں دوں گی‘ اس سات مرلے کے گھر میں ہے کیا سوائے مسائل اور غربت کے اور کیا فیوچر ہے داور کا۔ ایک معمولی سی جاب اور بس‘ اکلوتی بیٹی کو جہنم میں نہیں جھونکنا‘ آپ کی بہن نے کیسی زندگی گزار دی ہے‘ بھول گئے آپ؟‘‘
’’خیر اتنا مبالغہ بھی تم نہ کرو اب۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولے۔
’’اب آپا کے حالات کافی بدل چکے ہیں‘ بھائی صاحب کی وفات کے بعد کافی مشکل وقت دیکھا تھا‘ بچے اس وقت چھوٹے تھے مگر اب تو بیٹیوں کا فرض بھی پورا کرچکی ہیں اور داور کو گھر بار والا کرنا ہے۔ مجھے لگتا ہے انشال بھی آپا کے ہاں خوش رہے گی۔‘‘ وہ کافی پُریقین انداز میں کہہ رہے تھے۔
’’انشال کا تو نام نہ لیں‘ نادان بچی ہے اسے کیا پتا کہ بہترین معیار زندگی کیسا ہوتا ہے‘ رشتوں سے محبت معاشی تنگی کی آگ پر بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے۔ میں اپنے بھتیجے کو ہی داماد بنائوں گی‘ آپ ذہن میں بٹھالیں۔‘‘ حتمی انداز میں کہتے ہوئے عظمیٰ بیگم کروٹ بدل گئیں۔
’’ہونہہ… بھتیجی سے محبت کی اصل وجہ جیسے میں جانتی نہیں‘ سارا ہماری پراپرٹی پر قبضہ کرنے کا خواب ہے صفیہ آپا کا۔ اپنی غربت کو ٹالنے کا اچھا منصوبہ بنایا ہے دونوں ماں بیٹے نے‘ میرے جیتے جی ایسا ممکن نہیں۔‘‘ دل ہی دل میں وہ تنفر سے سوچے جارہی تھیں کہ اپنے خیالات کو لفظوں کی زبان دینے پر انہیں وقار بری طرح جھڑک بھی سکتے تھے۔
/…ء…/
’’چاچا جی… گاڑی کو ذرا مارکیٹ کی طرف موڑ دیں‘ مجھے کچھ خریدنا ہے۔‘‘ اس دن کالج سے نکلتے ہوئے اس نے بے اختیار ڈرائیور کو بازار چلنے کا کہا۔
’’جی بیٹا…‘‘ سیف اللہ نے مؤدب ہوکر کہتے ہوئے گاڑی کا رخ بازار کی طرف کردیا۔
مہنگے شاپنگ مال میں وہ سیدھا جینٹس والے حصے میں آگئی تھی۔ دو تین بہترین اور قیمتی شرٹس کے ساتھ اس نے ایک عدد مردانہ پرفیوم بھی لیا تھا۔
’’پتا نہیں وہ مجھ سے یہ چیزیں لیتا بھی ہے کہ نہیں۔ کہیں ناراض نہ ہوجائے مگر میں اسے یہ دوں گی کیسے؟‘‘ کتنے ہی دنوں تک وہ الجھن میں گھری رہی تھی پھر اتفاق سے صفیہ پھوپو کے گھر جانے کا موقع مل گیا تھا۔
صفیہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی تھی‘ ڈاکٹر نے ہائی بلڈ پریشر بتایا تھا‘ وقار احمد روز ہی بہن کی طبیعت پوچھنے کا پروگرام بناتے مگر کاروباری مسائل نمٹاتے نمٹاتے کئی دن نکل گئے تھے۔ اس دن ذرا جلد آفس سے آئے تو عظمیٰ کو آپا کے گھر چلنے کا کہا۔
’’سوری… میں نہیں جاسکتی ویسے بھی ہائی بلڈ پریشر کوئی ایسا پرابلم نہیں جس پر مزاج پرسی کی جائے‘ آج ہر بندہ اس کا شکار ہے۔‘‘ وہ نخوت سے بولیں۔ وقار احمد نے ایک گہری سانس بھرتے ہوئے انشال کو ساتھ چلنے کا کہا تو وہ بخوشی تیار ہوگئی۔ صفیہ تو انہیں اپنے گھر پاکر بے حد نہال ہوئیں۔
’’اگر میرا بھائی میری طبیعت پوچھنے میرے گھر آیا ہے تو میں ہر مہینے ایسے بیمار پڑ جائوں۔‘‘ وہ وقار احمد کے ماتھے کو محبت سے چومتے ہوئے بولیں۔
’’آپا… کیوں شرمندہ کرتی ہیں‘ میری تو دعا ہے کہ آپ کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر قائم رہے۔‘‘ وقار احمد خوشگواریت سے بولتے ہوئے ان کی قریب ہی کارپٹ پر بیٹھ گئے تھے۔ سنبل ان کے لیے چائے لانے کچن میں چلی گئی تھی۔
’’میں ذرا سنبل سے مل لوں۔‘‘ وہ وقار احمد سے کہتی باہر نکل آئی مگر کچن میں جانے کی بجائے وہ چند منٹوں میں داور کے کمرے میں موجود تھی۔
’’خیریت اس وقت؟‘‘ وہ سنجیدگی سے اس کی اپنے کمرے میں موجودگی کی وجہ دریافت کررہا تھا۔
’’جی پھوپو سے ملنے آئے تھے تو سوچا یہ گفٹ آپ کو دے دوں۔‘‘ ذرا سا مسکراتے ہوئے دوستانہ انداز میں پیک شدہ گفٹ اس کی طرف بڑھایا مگر ہاتھ بڑھا کر لینے کی بجائے اس نے چبھتے ہوئے پوچھا۔
’’کیوں… اس کی کیا ضرورت پیش آگئی؟‘‘
’’بس ایسے ہی اس دن آپ کی شرٹ مجھ سے جل گئی تھی ناں تو…‘‘
’’تو تم نے سوچا کہ اس کے بدلے کوئی شرٹ دے آئوں۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بے حد ترش انداز میں بولا۔
’’نہیں میں نے یہ تو نہیں کہا۔‘‘ وہ ششدر سی اسے دیکھنے لگی۔
’’کیوں تم نے کیسے سوچ لیا کہ میرے پاس بس وہی ایک شرٹ تھی اگر وہ جل گئی تو میرے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔ اس لیے شرٹ لے کر آگئیں؟‘‘ وہ بے حد کٹیلے انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا۔
’’میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔‘‘ وہ بھیگے ہوئے لہجے میں اتنا ہی کہہ پائی تھی۔
’’تمہارا جو بھی مطلب تھا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں‘ لے جائو اپنے گفٹ اور آئندہ ایسی کوئی زحمت نہ کرنا۔‘‘ کٹھور پن سے کہتے ہوئے وہ اپنا موبائل چارجنگ پر لگانے لگا تھا۔
’’نہیں میں اسے واپس نہیں لے جائوں گی‘ بے شک آپ اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیں۔‘‘ وہ اچانک سے ضدی انداز میں بولی‘ نجانے کہاں سے اس کے اندر یہ کہنے کا حوصلہ آگیا تھا۔
وہ اس کی بات سن کر حیرانی سے مڑا تھا‘ سامنے کھڑی لڑکی کے چہرے پر رقم ناقابل فہم تاثرات اسے ٹھٹکا گئے تھے۔
’’مجھے معلوم ہے آپ کے پاس شرٹس کی کمی نہیں‘ آپ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر کمی ہے تو صرف ایک حساس اور نرم دل کی جو کسی کی محبت‘ خلوص بھری چاہت کو سمجھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہے جسے کسی کے جذبوں کا پاس رکھنا نہیں آتا۔‘‘ آنکھوں میں آنسو بھرے وہ بے خوفی سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
’’آپ کیا سمجھتے ہیں خود کو‘ کوئی توپ چیز؟ ماں بہنوں کی طرف سے ملنے والی غیر معمولی محبت اور اہمیت نے آپ کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا دیا ہے نجانے کس گھمنڈ میں آکر آپ میرے جذبوں کی تذلیل کرجاتے ہیں۔ اپنے دل پر کدورت اور بے گانگی کی ایسی چادر رکھی ہے کہ کسی کے نرم گرم جذبوں کی حدت تک نہیں پہنچ پاتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ داور حیات! آپ میرے گفٹ تو کیا میری محبت کے بھی قابل نہیں ہیں جو میں شعور سنبھالتے ہی آپ سے نو عمری میں کر بیٹھی تھی۔‘‘ بے تحاشا بہتے آنسوئوں کو پونچھتے ہوئے وہ کھٹاک سے باہر نکل گئی تھی اور داور کتنی ہی دیر ساکت کھڑا ہلتے پردے کو دیکھتا رہ گیا تھا۔
/…ء…/
حسان زبیری پینتالیس کے پیٹے میں بے حد چاق و چوبند اور اسمارٹ سے انسان تھے جن کا لیدر کا ایکسپورٹ امپورٹ کا بزنس گلف میں اچھی طرح جما ہوا تھا ایک بے حد خوب صورت اور طرح دار بیوی کے ساتھ دو بیٹوں اور ایک بیٹی پر مشتمل اس کی فیملی مستقل طور پر ہی دبئی میں مقیم تھی۔ نئی مارکیٹس دیکھنے کی خاطر اس کا پاکستان چکر لگا جس میں اس کی ملاقات وقار احمد سے ہوئی۔ وقار احمد جو حکومتی معاشی پالیسیوں کی بدولت دن بدن اپنے بزنس کو خسارے میں جاتا دیکھ کر سر پکڑے بیٹھے تھے۔ حسان زبیری نے انہیں ففٹی پرسنٹ کی بنیاد پر پارٹنر شپ کی آفر کردی جو وقار احمد نے کافی غورو خوض کے بعد قبول کرلی کیونکہ حسان زبیری کے پاس سرمایہ تھا تو وقار احمد کے پاس اچھے ورکرز اور بہترین اسٹاف کی کمی نہ تھی۔ حسان زبیری کے سرمائے سے بیرونِ ملک نئی مشینیں برآمد کروائی گئیں۔ کاروباری حیثیت کم ہی عرصے میں بحال تو ہوگئی تھی مگر وہ کاروبار جس کے وقار احمد تن تنہا مالک تھے اب حسان زبیری بھی اس کا حصے دار بن چکا تھا۔
/…ء…/
’’احمد بھائی اور شیما بھابی کا اسی ویک منگنی کا فنکشن ارینج کرنے کا ارادہ ہے‘ تم پارلر کا چکر لگالو۔‘‘ عظمیٰ اس کے قریب بیٹھ کر نرمی سے بولیں۔
’’میں فائق سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ کشن گود میں بھینچے وہ سپاٹ انداز سے بولی۔
’’اچھا فائق سے نہیں کرنا چاہتیں تو پھر کس سے کرنا چاہتی ہو اس داور سے؟‘‘ عظمیٰ طنز سے پوچھتے ہوئے اسے دیکھنے لگیں۔ ماں کی بات پر اس کا حلق گیلا ہوا تھا۔
’’انشال… شادی تمہاری فائق سے ہی ہوگی‘ داور کا خیال تم دل سے نکال دو۔ اس لڑکے نے تمہیں اپنی باتوں میں پھانس لیا ہوگا‘ اسی ڈر سے میں تمہیں آپا کی طرف زیادہ نہیں جانے دیتی تھی۔ ان مڈل کلاس لوگوں کو آتا ہی کیا ہے سوائے چکنی چپڑی باتوں کے۔ سوچا ہوگا اکلوتی امیر ماں باپ کی بیٹی ہے جن کی ساری دولت اس کی ہے ان کے تو دن پھر جائیں گے بیٹھے بٹھائے۔‘‘
’’امی پلیز۔‘‘ وہ احتجاجی آواز میں بولی۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہی ہیں‘ پلیز کسی کو اتنا انڈر اسٹمیٹ نہیں کرتے۔ ہر کسی کو ایک ہی عینک سے نہیں دیکھا کرتے‘ جتنا کم حیثیت کا آپ انہیں سمجھ رہی ہیں‘ اتنے نہیں ہیں وہ اچھے خاصے خوش حال ہیں۔ ہاں بس ہماری طرح بڑا سا گھر اور پورچ میں تین تین گاڑیاں نہیں کھڑی ہوتیں‘ آپ نے رشتہ نہیں کرنا‘ نہ کریں مگر پلیز پھوپو کا ذکر ایسے انسلٹنگ انداز میں تو مت کریں۔‘‘ آنسو پیتے ہوئے وہ سختی سے بولی… پھر کشن پھینک کر وہاں سے چلی گئی‘ عظمیٰ تو اس کے تیور دیکھ کر دم بخود بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی تھیں۔
’’اس داور نے اس کا دماغ خراب کر رکھا ہے اس لڑکے کے تو میں ہوش اچھی طرح ٹھکانے لگائوں گی۔‘‘ دانت پیستے ہوئے وہ بولیں۔
/…ء…/
وقار احمد کو آفس میں بیٹھے بیٹھے بائیں طرف شدید درد محسوس ہوا تھا۔ وہ بے اختیار کراہ کر بائیں سائیڈ پر جھک گئے تھے۔ نثار احمد ان کا سیکرٹری جو اُن سے فائلز پر سائن کروا رہا تھا ان کے چہرے کی زرد رنگت دیکھ کر پریشان ہو اٹھا۔
’’سر! آر یو اوکے؟‘‘ ان پر جھکا ان کو سنبھالنے کی کوشش کرتا نثار بے ساختہ گھبرا اٹھا تھا‘ فوراً گاڑی منگوائی اور ہسپتال کا رخ کیا۔ وقار احمد کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔
عظمیٰ کو خبر ملی تو وہ روتی چلاتی ہسپتال پہنچ گئی تھیں‘ انشال بھی اپنی جگہ گم صم ہوگئی تھی۔
’’ڈاکٹر صاحب! ان کو ہارٹ پرابلم کب سے ہے؟‘‘ عظمیٰ بے حد پریشانی سے ڈاکٹر سے پوچھا۔
’’کچھ کہہ نہیں سکتے‘ مکمل چیک اپ کے اور پورٹس آنے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا‘ داور بھی بائیک پر صفیہ کو ہسپتال لے آیا تھا۔ وہیں اسے انشال نظر آئی تھی‘ کاریڈور میں بنچ پر تنہا بیٹھی بے حد ستے ہوئے چہرے اور الجھے بالوں کے ساتھ۔ گرم شال ایک طرف سے کندھے پر پڑی ہوئی تھی۔ شال کا زیادہ حصہ نیچے زمین پر آرہا تھا۔ صفیہ سے بے حد غیر جذباتی انداز میں ملی‘ اس کی آنکھوں میں بے حد اجنبیت اور سرد مہری تھی۔
/…ء…/
’’آج رضوانہ بھابی آئی تھیں‘ جاسم کا سنبل کے لیے رشتہ لے کر۔‘‘ صفیہ نے گرما گرم بھاپ اڑاتی چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا۔ پراٹھا وہ پہلے ہی اس کے سامنے پلیٹ میں رکھ چکی تھیں۔
’’تو پھر آپ نے کیا سوچا؟ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں‘ جاسم اپنے چچا کا بیٹا ہے دیکھا بھالا ہے ہماری سنبل خوش رہے گی اس کے ساتھ۔‘‘ کپ سے اٹھتی بھاپ کو دیکھتے ہوئے وہ دھیمی آواز میں بولا۔
’’مگر ساتھ میں وہ تمہارا اور رودابہ کا رشتہ بھی چاہتی ہیں۔‘‘
’’نہیں امی… میں رودابہ سے شادی نہیں کرسکتا۔‘‘ کپ لبوں سے لگاتے ہوئے وہ قطعیت سے بولا۔ ایک عجیب سی سختی اس کی آنکھوں میں اتری ہوئی تھی‘ بڑھی ہوئی شیو اور مضمحل انداز سے وہ بے دلی سے ناشتا کررہا تھا۔
’’بیٹا… مجھے تو دونوں طرف سے رشتہ ٹھیک لگتا ہے‘ رودابہ گھر کی بچی ہے۔ دیکھی بھالی ہے گھر میں رچ بس جائے گی‘ سنبل بھی ٹھیک رہے گی۔ میرا دل تو انشال کے لیے تھا مگر کیا کریں‘ اس کا نصیب ہی کوئی اور تھا۔‘‘ صفیہ نے ایک سانس بھری۔ اس کے تصور میں دو روتی ہوئی آنکھیں ابھر آئی تھیں۔
’’چھوڑیں اس ٹاپک کو‘ میرا شادی کا فی الحال کوئی موڈ نہیں۔ سنبل کی بات بن جائے تو ٹھیک ورنہ یہ رودابہ والا چکر رہنے ہی دیں۔‘‘ چائے کا آخری گھونٹ حلق سے اتارتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
/…ء…/
عظمیٰ بے یقین سے وقار احمد کی رپورٹس کو پڑھ رہی تھیں جن کے مطابق وقار احمد کے دل کے تین والوز بند ہوچکے تھے جس کے لیے بائی پاس کی سخت ضرورت تھی۔
’’وقار… یہ کیا ہوگیا آپ کو؟‘‘ عظمیٰ پھپک پھپک کر رو پڑی تھیں۔
’’ارے کچھ نہیں ہوا‘ ٹھیک ہوجائوں گا۔ تم پریشان نہ ہو۔‘‘ وہ پھیکے پن سے مسکراتے ہوئے انہیں دلاسہ دینے لگے۔
’’آپ کو کچھ ہوا تو میں مر جائوں گی بخدا!‘‘ وہ ابھی تک سسک رہی تھیں‘ بے شک انہوں نے ہمیشہ وقار سے اپنی منوائی تھی ان کی جیب اور دل پر پورا ان کا تصرف تھا۔ وہ وقار کی دلدار بیوی تھیں جن کی محبت کا انہوں نے محبت بھرا جواب دیا تھا۔ اب ایسے محبوب رفیق کو ایسی کمزور اور نحیف حالت میں دیکھ کر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔
’’عظمیٰ میں چاہتا ہوں انشال اپنے گھر کی ہوجائے۔‘‘ اپنا کمزور ہاتھ دھیرے سے عظمیٰ کے ہاتھ پر پھیرتے ہوئے انہوں نے خواہش ظاہر کی۔
’’جی… میں احمد بھائی سے بات کرتی ہوں۔‘‘ عظمیٰ نے آنسو پونچھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
/…ء…/
آج وہ کتنے دنوں بعد لان میں آئی تھی ورنہ تو کب سے وہ وقار احمد کے بازو سے لگ کر بیٹھی تھی۔ وقار احمد بائی پاس کرواچکے تھے اور اب ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق مکمل طور پر گھر پر ریسٹ کررہے تھے۔ انشال ان کی پٹی سے لگ کر بیٹھی ہوئی تھی‘ خود اپنے ہاتھوں سے انہیں دوا اور جوس پلاتی۔ ڈھیر ساری باتیں کرتی اور نماز میں اپنے شفیق باپ کی صحت یابی کی خشوع و خضوع سے دعائیں مانگتی۔ گھر میں روز کوئی نہ کوئی عزیز یا دوست عیادت کو آجاتا تھا جن کی خاطر تواضع وہ بہت اہتمام سے کرتی تھی۔ رباب اور فوزیہ بھی اپنے شوہروں کے ساتھ آکر ماموں کی طبیعت پوچھ گئی تھیں۔
وقار احمد میڈیسنز لے کر سو رہے تھے تو وہ باتھ لینے چلی گئی۔ کئی دنوں کے الجھے بکھرے بال سنوارے اور یونہی انہیں خشک ہونے کے لیے کھلا چھوڑ کر لان میں آگئی جہاں عبدالرحیم داد اپنے کاموں میں لگا ہوا تھا۔ وہ وہیں رکھی چیئرز میں سے ایک چیئر پر بیٹھ گئی‘ اوائل فروری کی دھوپ میں اتنی حدت نہ تھی۔ اسی پل گارڈ نے گیٹ کھول کر ایک چمکتی سیاہ کار کو اندر آنے دیا تھا جس میں سے کوٹ جھٹکتا حسان زبیری نکلا تھا۔ جس نے سیاہ گلاسز آنکھوں سے اتار کر وقار احمد کے گھر کا طائرانہ جائزہ لیا تھا۔ اسی جائزے میں اس کی نظر لان میں بیٹھی لڑکی پر پڑی جو اس کی آمد سے بے خبر دھیمے سے مسکراتے ہوئے مصروف مالی سے باتیں کررہی تھی۔
’’کون ہوسکتی ہے یہ وقار احمد کی بیٹی؟‘‘ آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتے ہوئے حسان زبیری بڑبڑایا تھا۔ اس کا دل یہیں کھڑے کھڑے ہی ڈول گیا تھا بلاشبہ یہ لڑکی بے حد خوب صورت اور دلکش تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس نے پہلی بار کوئی حسین چہرہ دیکھا تھا خود اس کی بیوی خاصی خوب صورت تھی لاتعداد لڑکیاں اس کے اردگرد موجود رہتی تھیں۔ کچھ دوستی اور کچھ دوستی سے آگے کے دائرے میں مگر اس لڑکی کی معصومیت اور کم عمری نے اس کے پیروں کو باندھ دیا تھا۔ دراز ریشمی زلفوں کی اوٹ سے نظر آتا‘ چہرہ کسی ریشمی نفیس پردے کی اوٹ سے نکلے چاند کی مانند لگ رہا تھا۔
ایک گھاگ شکاری کی طرح وہ دھیمے سے مسکرایا اور اندر چل دیا۔ وقار احمد اب جاگ چکے تھے‘ وہ حسان زبیری کو اپنے گھر میں پاکر بے حد ممنون تھے۔
’’ارے وقار صاحب… آپ کی عیادت کرنا تو میرا اخلاقی فرض ہے بلکہ مجھ پر تو واجب ہے کہ روز آکر آپ کا حال پوچھوں‘ کاروبار کی رپورٹ پیش کروں مگر کیا کروں یہ کاروبار کی مصروفیت کہیں کا نہیں رہنے دیتی۔‘‘ حسان زبیری خوش اخلاق انداز سے بول رہا۔
’’یہ تو بڑائی ہے آپ کی‘ آپ اکیلے ہی سب بار اٹھائے ہیں‘ میں کب سے بیڈ پر پڑا رہوں۔ کام‘ کاروبار کی کچھ خبر نہیں۔‘‘ وقار کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی شرمندہ ہوگیا تھا۔
’’ارے کیسی باتیں کرتے ہیں‘ آپ کی صحت سے بڑھ کر کچھ بھی اہم نہیں ہے‘ میں ہوں ناں۔ سب سنبھالے ہوئے ہوں‘ آپ فکر کیوں کرتے ہیں۔ ہاں اگر آپ کو تسلی نہیں ہوتی تو اپنے کسی بیٹے یا قریبی عزیز کو آفس بھیج دیا کریں‘ میں اسے آپ کا کام سمجھادوں گا۔‘‘ کان کی لو مسلتے ہوئے حسان انہیں بغور دیکھ رہا تھا۔
’’جی نہیں‘ میری کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے بس ایک بیٹی ہے۔‘‘
’’تو اسے آفس ورک سے انٹرسٹ ہے تو میں اسے گائیڈ کردوں گا۔ وہ آپ کی سیٹ سنبھال لے گی۔‘‘ مطلب کی بات اس نے سلیقے سے شروع کی۔
’’ارے کہاں حسان صاحب!‘‘ وقار ذرا ہنس کر بولے۔
’’میری بیٹی انیسویں سال میں ہے‘ شی از ٹوینگ اسے ان کاروباری اسرار و رموز کا کچھ علم نہیں۔ ابھی گریجویشن مکمل ہوا ہے‘ ویری انوسینٹ۔‘‘ وقار کے لہجے میں بیٹی کے لیے پیار تھا۔ حسان زبیری نے دل ہی دل میں معصومیت والی بات کی تائید کی تھی۔
’’اوکے‘ میں چلتا ہوں۔ آپ بے فکر ہوکر اپنا علاج کرائیں۔‘‘ اس کی نظر سامنے ان لارجڈ تصویر پر جمی تھی جس میں انشال انتہائی لاڈ سے وقار احمد کے پیچھے بازو حمائل کیے ان کے کندھے پر چہرہ ٹکائے مسکرا رہی تھی۔
/…ء…/
’’انشو میری جان! واثق تمہیں آئوٹنگ پر لے جانا چاہتا ہے۔ تم تیار ہوجائو‘ اس کے ساتھ جائو گھومو پھرو‘ مزے کرو۔ یہی پیریڈ انجوائے کرنے کا ہوتا ہے۔ تمہارے ابو اب ٹھیک ہورہے ہیں‘ تم ان کی فکر نہ کرو‘ بس واثق کو ٹھیک سے ٹائم دیا کرو۔ وہ اکثر شکایت کرتا ہے کہ تم اس سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کرتیں۔ اس کی کال ریسیو نہیں کرتیں‘ باہر نہیں جاتیں میری جان… ہر رشتہ توجہ اور اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے۔‘‘ عظمیٰ بڑے پیار سے اس کے بال سہلاتے ہوئے بول رہی تھیں۔
’’امی… واثق کو خود ہی میری کمپنی بور کرتی ہے‘ اسے میری خاموشی سے الجھن ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت میرا موازنہ خاندان کی دوسری لڑکیوں سے کرتا رہتا ہے تو ایسے میں اسے کیسے مطمئن کردوں؟‘‘ وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی‘ عظمیٰ جانتی تھیں کہ واثق بے حد زندہ دل‘ چلبلا اور رومانٹک مزاج ہے اور ان کی بیٹی سنجیدہ کم گو اور ریزروڈ رہتی ہے۔ ایسے میں جبکہ وقار بیمار ہوئے تھے وہ تو اور بھی گم صم ہوگئی تھی تو یقینی طور پر دونوں کو ایک دوسرے سے شکایات ہوئی تھیں۔
’’تو بیٹا… اسے شکایت کا موقع ہی نہ دو‘ اٹھو اب اچھے سے تیار ہوجائو۔ واثق بس آنے ہی والا ہوگا۔‘‘ اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کرکے عظمیٰ نے خود ہی ایک اسٹائلش سا سوٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’’چلو فٹافٹ تیار ہوجائو‘ ایک دم فریش لک ہونی چاہیے۔ تمہارے ابو تمہاری اداس صورت دیکھ کر مزید پریشان ہوجاتے ہیں ان کا خیال کیا کرو۔‘‘ عظمیٰ نے اب کے جذباتی حربہ آزمایا تھا جو کارگر رہا۔
نیلے شیفون کے ہلکے کام والے سوٹ سے اس کے دودھیا بازو جھلک رہے تھے۔ سیدھی سی چٹیا بناکر اس نے گلوس لبوں پر پھیرا تھا۔ واثق کی گاڑی کا ہارن سن کر پرس اٹھاتی باہر آگئی۔
’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ واثق نے ہمیشہ کی طرح اس کی تعریف کی تھی حالانکہ اس نے کوئی خاص تردد نہ کیا تھا۔ وہ جواب میں خاموش رہی تھی۔ گاڑی میں دھیمے سروں میں ’’بروکن اینجلز‘‘ بج رہا تھا‘ واثق خود ہی زیادہ باتیں کررہا تھا جن کے وہ کبھی جواب دیتی تو کبھی خاموش ہوجاتی۔ وہ اسے ایک ریسٹورنٹ میں لے آیا جہاں سرسبز لان میں ایک طرف ٹیبل کو اس نے منتخب کیا تھا۔
’’پتا ہے پھوپو نے ابو سے ہماری شادی کی بات کی ہے‘ پتا نہیں کب وہ وقت آئے گا جب تم دلہن بن کر میرے بیڈ روم میں…‘‘
’’آپ کے گھر کی رینوویشن ہوگی تب ناں۔‘‘ واثق کی بولڈ سی بات پر بے ساختہ اس کو ٹوک گئی تھی۔
’’یہ لڑکی بھی ناں‘ مجال ہے جو ذرا سا رومینس میں بہنے دے۔‘‘ واثق بدمزہ سا ہوکر آرڈر دینے لگا تھا‘ وہ انگلیاں چٹخاتی خوامخواہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی تھی پھر ایک دم سے نظر ایک جگہ ٹھہر گئی تھی۔ سامنے داور اپنے کسی دوست کے ساتھ کھانا کھارہا تھا‘ دوست کی بات پر ہنستے ہوئے اس نے سامنے دیکھا تو اس کی ہنسی کو بریک لگ گئے‘ وہ یک ٹکے اسے دیکھے جارہی تھی۔ اس بے درد کو دیکھتے ہی کئی درد پھر سے جاگ اٹھے تھے۔
’’شادی کے بعد ہنی مون کے لیے تم نے کون سی جگہ سلیکٹ کی ہے؟ مجھے تو ماریشس ہی بیسٹ لگتا ہے۔‘‘ واثق اس سے پوچھ رہا تھا وہ چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوئی‘ پھر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کی باتیں سن رہی تھی اور ادھر داور نے بے ساختہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
’’کیا ہوا یار… کھائو ناں‘ رک کیوں گئے؟‘‘ ضیاء حیرت سے پوچھ رہا تھا۔
’’نہیں بس‘ تم کھائو پھر چلتے ہیں۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی نظریں نیلے رنگ کے آس پاس اس منظر میں بھٹکنے لگی تھیں۔
خ…ء…خ
’’حسان صاحب… آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ وقار احمد کی آواز جیسے کسی کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔
’’جی وقار صاحب… میں آپ سے بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں‘ ہمارا بزنس مسلسل خسارے میں جارہا ہے۔ بیرون ملک تو دور کی بات‘ اپنے ہی ملک میں ہماری پروڈکٹس کی سرکولیشن رک گئی ہے۔ سرمائے اور آمدنی کو بیلنس رکھنے کی خاطر میں نے دبئی کے بینک سے لاکھوں ڈالرز کا لون لیا ہے جس کو ففٹی پرسنٹ آپ نے چکانا ہے۔‘‘ حسان زبیری بے حد سکون سے ان کے حواسوں پر بم گراتا جارہا تھا۔
’’اور وہ جو آپ مجھے ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ دیتے رہے‘ مطمئن رہیں ہمارا بزنس ٹاپ پر جارہا ہے‘ مطمئن رہیں ہماری ساکھ بہتر ہورہی ہے تو وہ سب کیا تھا۔‘‘ وقار احمد نے تلخ لہجے میں پوچھا تو حسان زبیری مسکرا اٹھا۔
’’وہ سب تو آپ کی صحت کے پیش نظر کہا تھا میں نے۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا ناں کہ کسی بھی قسم کا کوئی دھچکا‘ بُری خبر آپ کی ہارٹ بیٹ کو ڈس آڈر (بے ترتیب) کرسکتی ہے۔ ڈاکٹروں نے تو آپ کے لیے ٹی وی دیکھنا بھی مضر صحت قرار دیا تھا۔ بریکنگ نیوز کی وحشت انگیز ڈھائیں ڈھائیں بھی آپ کی ری کوری پر اثرا انداز ہوسکتی تھی۔ اب بتائیں ایسے کمزور دل والے انسان سے میں اپنے بزنس کا ڈائون فال کیسے ڈسکس کرتا؟‘‘ حسان معصومیت سے بولتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
وقار احمد پورے دو ماہ گھر پر ریسٹ کرچکے تھے‘ بہترین علاج‘ خوراک اور توجہ کی بدولت آفس آنے کے قابل ہوئے تو آتے ہی حسان زبیری نے یہ ہوش ربا خبر سنادی۔
’’آپ میرے ہارٹ اٹیک کے ڈر سے یہ خبر چھپاتے رہے تو اب کون سا یہ سن کر میں پُرسکون ہوا ہوں۔‘‘ دل گرفتی سے بولتے ہوئے وقار احمد نے راکنگ چیئر کی بیک پر سر گرالیا تھا۔
خ…ء…خ
’’وقار… یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں…؟ یہ سب کیسے ہوگیا؟‘‘ عظمیٰ کے لبوں سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکل رہے تھے۔ پوری بات سن کر تو ان کے حواس بھی لمحہ بھر کو سلب ہوچکے تھے۔
’’آپ تحقیق کروائیں‘ یہ حسان زبیری مجھے فراڈ لگتا ہے۔ ہمارا بزنس ہتھیانا چاہتا ہے۔‘‘ عظمیٰ تو ماننے سے انکاری تھیں کہ ان کا بال بال قرض میں جکڑا جاچکا ہے۔
’’عظمیٰ… قوموں اور افراد پر مشکلات آتی رہتی ہیں‘ بس اہمیت ہمت نہ ہارنے کی ہوتی ہے۔ یہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی کوئی راہ نکالے گا۔‘‘ وقار ٹھہرے ہوئے لہجے میں بول رہے تھے۔
’’میں فیکٹری پر حسان زبیری کا قبضہ کسی صورت نہیں ہونے دوں گا‘ یہ میری محنت کی کمائی ہے۔ ہاں البتہ اس شیطان کا قرض اتارنے کی پہلے کوشش کرتا ہوں‘ یہ گھر‘ بینک بیلنس‘ پلاٹس‘ بانڈز… سب کچھ دائو پر لگا کے اس قرض سے جان چھڑاتا ہوں۔‘‘ اتنا کہتے ہی وہ ہانپ گئے تھے‘ عظمیٰ پتھرائی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔
’’تم بتائو اس مصیبت کی گھڑی میں تم میرا ساتھ دو گی یا نہیں؟‘‘ وہ اتنا کہہ کر خاموش نگاہوں سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ عظمیٰ بیگم نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے ذرا سا زور دیا۔
’’کیوں نہیں وقار… میاں بیوی میں دکھ سکھ کی سانجھ ہوتی ہے‘ اگر چھائوں میں آپ کے ساتھ وقت بتایا تو دھوپ بھی آپ کے ساتھ ہی جھیلوں گی اور ہاں میری جیولری بھی آپ بھول گئے‘ وہ بھی کافی کام آسکتی ہے۔‘‘ عظمیٰ ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مـضبوط لہجے میں بول رہی تھیں۔ وقار احمد کی آنکھیں لمحہ بھر کو جھلملائی تھیں۔
خ…ء…خ
’’نہیں وقار صاحب… خدارا اتنا ظلم تو خود پر مت کیا ہوتا‘ ایک اچھا خاصا لگژری گھر چھوڑ کر فلیٹ میں شفٹ ہوگئے۔ ہمیں آزمایا تو ہوتا‘ یوں اکیلے اکیلے ہی اتنا بڑا فیصلہ کرلیا۔‘‘ حسان زبیری تاسف سے بو ل رہا تھا‘ سراسر مصنوعی تاسف۔
’’آپ یہ بتائیں کہ اس سارے مائونٹ سے قرض چکتا ہے یا نہیں؟‘‘ وقار بے حد سنجیدگی سے بولے۔
’’سارا ریکارڈ آپ کے سامنے ہے‘ خود ہی حساب لگالیں۔ پیپرز پر آپ کے سائن ہیں ویسے مجھے نہیں لگتا کہ ڈیڑھ ارب کا قرض آپ اس معمولی جائیداد سے اتار لیں گے۔‘‘ حسان زبیری خاصی مایوسی سے کہہ رہا تھا۔
’’کوئی بات نہیں‘ کوشش کرلیتے ہیں باقی اللہ مالک ہے۔‘‘ وقار فائلز کھولتے ہوئے لاتعلقی سے بولے تھے‘ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پارٹنر شپ کے بعد تو کاروبار جم گیا تھا‘ فیکٹری کا پہیہ مسلسل چالو رہا۔ مصنوعات بکتی رہیں کیونکہ آرڈر ریکارڈ یہی بتا رہا تھا۔ ملازمین کام کرکے تنخواہیں وصول کرتے رہے پھر ایسا کیا مسئلہ ہوا تھا کہ اتنا زیادہ لون لینا پڑگیا تھا۔
’’ویسے آپ نے قرض اتارنے میں کچھ جلدی نہیں کردی‘ مجھ سے مشورہ کیا ہوتا۔ کاروباری دوست ہوں‘ مشکل کی گھڑی میں کام نہ آسکوں تو فائدہ میری اتنی پراپرٹی کا۔‘‘ حسان اب قدرے جھک کر میز پر بازو رکھتے ہوئے بولا تھا۔ وقار احمد محض کچھ کہنے کی بجائے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگے تھے۔
’’آپ کی بیٹی انشال مجھے بہت اچھی لگی ہے اگر آپ اس کی شادی مجھ سے کردیں تو واللہ بخدا میں سارا قرض خود چکانے پر رضا مند ہوں‘ آپ چاہیں تو مجھ سے سائن لے لیں۔‘‘ اس نے آرام سے ایک بم وقار کی سماعتوں پر پھوڑا تھا جو منہ کھولے اسے مسکراتا دیکھ رہے تھے۔
’’شٹ اپ یو بلیک میلر…‘‘ وقار احمد حلق کے بل دھاڑے تھے۔ ’’ذرا اپنی اور میری بیٹی کی عمر دیکھو‘ شرم نہیں آتی تمہیں ایسی آفر کرتے ہوئے۔ اس صورت میں جب کہ تم خود شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ ہو۔‘‘ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے بیٹھے شخص کی زبان کھینچ لیں جس سے وہ ان کی بیٹی کا نام لے رہا تھا۔
’’تو کیا ہوا شادی شدہ ہوں تو… میں انشال کو یہاں پاکستان میں رکھوں گا‘ ایک سپر لگژری لائف دوں گا۔ میں اتنا ویل آف ہوں کہ دو فیملیز آسانی سے سپورٹ کرسکتا ہوں۔‘‘ حسان بہت بے تکلفی سے بات کررہا تھا‘ جیسے اس ٹاپک پر اس کا ہوم ورک مکمل ہو۔
’’حسان زبیری… اپنا حساب لے کر الگ ہوجائو‘ میری بچی کا نام لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ وقار کافی دیر خونخوار نظروں سے گھورنے کے بعد اسے وارن کرتے ہوئے بولے۔ حسان زبیری ان کی بات پر یوں مسکرایا تھا جیسے کوئی بچگانہ بات سن لی ہو۔
’’وقار صاحب… کیوں خود کو ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں‘ خود بھی خوار ہوں گے ساتھ میں اپنی فیملی کو بھی مشکلات میں ڈالیں گے۔ انشال میری ہے‘ چاہے آپ لاکھ انکار کردیں سر پٹخیں یا ایڑیاں رگڑیں کیونکہ ان پیپرز کی رو سے میں بلاخوف و خطر انشال سے شادی کرسکتا ہوں۔‘‘ ڈرامائی انداز سے کہتے ہوئے حسان نے چند پیپرز وقار احمد کی طرف بڑھائے۔
’’یہ سب کیا ہے؟‘‘ انہوں نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ وہ پیپرز ہیں جن کے مطابق اگر آپ اس لون کو یک مشت چکانے میں ناکام رہتے ہیں تو میں اس سارے لون کو چکا کر آپ کی بیٹی سے شادی کرسکتا ہوں‘ نیچے بقائمی ہوش و ہواس آپ کے دستخط موجود ہیں۔‘‘ وہ شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجائے ان کے جسم سے قطرہ قطرہ روح کو کھینچ رہا تھا۔
’’یہ سائن میں نے کب کیے تھے؟‘‘ وہ بے حد سفید چہرے کی ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں سے پیپرز کو دیکھ رہے تھے۔ واقعی وہاں ان کے اصلی دستخط موجود تھے‘ تاریخ ان دنوں کی تھی جب وہ بے حد بیمار گھر پر ریسٹ کررہے تھے۔ خود کروٹ لینے کے قابل بھی نہیں تھے‘ ذہن ہر وقت ادویات کے زیر اثر غنودگی کا شکار رہتا تھا۔ اسی سوئی جاگی کیفیت میں حسان زبیری نے ان سے آفس فائلز ساتھ ساتھ اس پیپرز پر بھی سائن لے لیے تھے۔
’’یو بلیڈی چیپ…! تمہیں تو میں جان سے مار ڈالوں گا۔‘‘ وہ ایک دم غصے سے کھڑے ہوکر حسان کے جبڑے پر گھونسہ مارنا چاہتے تھے مگر اٹھتے ہی ان کے بائیں جانب دل میں شدید درد اٹھا تھا‘ مارے درد کی اذیت کے وہ دہرے ہوکر دوبارہ کرسی پر گر گئے تھے۔
خ…ء…خ
’’عظمیٰ! تم احمد بھائی سے بات کرو‘ وہ ابھی اور اسی وقت آئیں اور آکر انشال کا نکاح پڑھا کر لے جائیں۔ میں اب کسی صورت مزید انتظار نہیں کرسکتا۔‘‘ بروقت طبی امداد ملنے سے ان کی طبیعت سنبھل گئی تھی اور طبیعت سنبھلنے پر انہوں نے فیصلہ کن انداز میں عظمیٰ سے بات کی تھی۔
’’میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‘ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ خود کو پریشانی سے بچائیں اور میری تو پوری زندگی ہی پریشانیوں کے گرداب میں پھنس گئی ہے۔ اب انشال اپنے گھر کی ہوجائے کم از کم یہ سکون تو مل جائے گا۔‘‘
’’وقار… یہ سب کیا ہورہا ہے؟ ہماری پُرسکون زندگی کو کس کی نظر لگ گئی‘ پہلے گھر‘ جائیداد گئے اور اب یہ حسان زبیری منحوس ہماری بچی پر نظریں گاڑ کر بیٹھ گیا ہے۔ کدھر جائیں ہم؟‘‘ عظمیٰ زور زور سے روتے ہوئے سسکنے لگیں۔
’’عظمیٰ… میں تم سے کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ وقار اب کے قدرے ناراضی سے بولے‘ عظمیٰ چپ ہوگئیں۔ ان کے فلیٹ میں منتقل ہونے کی خبر سارے خاندان کو ہی ہوگئی تھی‘ سارے ہی گھر افسوس کرنے آئے تھے۔ کچھ نے فون پر ہی حال احوال پوچھ لیا تھا مگر ان کے کسی بھائی‘ بہن نے نہ تو فون پر ان کا حال پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور نہ ہی فلیٹ میں آکر جھانکا کہ کس حال میں گزر رہی ہے۔ وہ سخت الجھن کا شکار تھیں‘ جس بھائی‘ بھابی نے انسانی ہمدردی تو درکنار اخلاقاً بھی فون کرکے ان کی کایا پلٹ کا احوال سننا گوارا نہ کیا تھا‘ ان سے کیسے وہ بیٹی کی شادی کی بات کریں۔ انشال سے انہوں نے کچھ سوچ کے بات کی۔
’’بیٹا… تمہارے پاس واثق کی کال آتی ہے؟‘‘ آس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ سوال کیا۔
’’نہیں امی… واثق نے کئی دنوں سے کوئی کال نہیں کی نہ ہی کوئی میسج بھیجا۔‘‘ انشال کا لہجہ ہموار اور پُرسکون تھا۔
’’میں خود بھابی کو کال کرکے دیکھتی ہوں۔‘‘ دھڑکتے دل کے ساتھ انہوں نے کال ملائی مگر نمبر بند جارہا تھا۔
’’کمال ہے نمبر ہی بند کردیا انہوں نے۔‘‘ وہ حیرت سے بڑبڑائیں۔ ’’خیر میں خود گھر جاکر ان سے بات کرتی ہوں اور بھائی سے شکایت تو کروں گی کہ مشکل کی گھڑی میں کم از کم بہن کے سر پر آکر ہاتھ تو رکھ دیتے۔ ان سے اچھے تو وقار رہے جو ہر خوشی‘ غمی کے لمحے میں اپنی بہن کو یاد کرنا نہ بھولتے تھے۔‘‘ آنسوئوں کا ریلہ پھر سے ان کی آنکھوں سے بہہ نکلا تھا۔
خ…ء…خ
’’میرا بھائی… بیٹھے بٹھائے کس مصیبت میں پڑگیا؟‘‘ صفیہ بھی کم پریشان نہ تھیں۔ ’’یہ منحوس حسان زبیری ہے کون جس نے میرے بھائی کو قرضے کے پہاڑ تلے دھنسا دیا ہے؟ اللہ غارت کرے اس ناس پیٹے کو۔‘‘ وہ اب باقاعدہ حسان زبیری کو کوسنے لگی تھیں۔
’’مجھے تو یہ آدمی فراڈ لگتا ہے‘ ماموں نے بہت جلد گھٹنے ٹیک دیئے۔ ذرا تحقیق کرواتے کیا واقعی اس بینک نے اتنا بڑا لون ایشو کیا تھا۔‘‘ بائیک چمکاتے ہوئے داور نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
’’مگر بھائی… یہ بھی تو دیکھیں ناں سارے پروسس کے پیپرز پر ماموں کے اپنے سائن ہیں جو بخوشی انہوں نے کیے تھے۔‘‘ سنبل بھی باہر صحن میں آبیٹھی۔
’’ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو‘ ماموں کے یہی سائن تو ان کے خلاف پروف میں جارہے ہیں۔‘‘
’’چل بیٹا… مجھے لے چل وقار کے ہاں‘ میرا بھائی مصیبت کا شکار ہے اوپر سے دل کا مریض‘ سارا ٹھاٹ گیا کم از کم اپنوں کو تو ساتھ رہنا چاہیے۔‘‘ صفیہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئیں‘ وہ تقریباً روز ہی بھائی کے گھر کا چکر لگاتی تھیں۔ داور انہیں بائیک پر دروازے پر چھوڑ کر چلا جاتا تھا۔
’’آج رات میں رکوں گی‘ کل صبح آکر لے جانا مجھے۔‘‘
’’مگر امی… سنبل اکیلی کیسے رہے گی‘ میں اکثر لیٹ ہوجاتا ہوں۔‘‘ بائیک کی رفتار کم کرتے ہوئے اس نے کہا۔
’’تو آج جلدی آجانا‘ سنبل تب تک تمہارے چچا کے گھر بیٹھی رہے گی۔ آئو تم بھی ماموں سے مل لو۔‘‘ اسے واپسی کے لیے بائیک موڑتا دیکھ کر وہ بولیں۔
’’چلتا ہوں‘ کل چکر لگالوں گا۔‘‘ اسے نجانے اندر جانے میں کون سی چیز روک رہی تھی۔ پہلے تو وہ عظمیٰ بیگم کے کروفر بھرے انداز سے خائف ہوتا تھا مگر اب تو حالات کی گردش نے انہیں یکسر بدل ڈالا تھا مگر پھر بھی وہ ’’کسی‘‘ کا سامنا کرنے سے کتراتے ہوئے بائیک بھگالے گیا۔
خ…ء…خ
’’عظمیٰ… دراصل بات یہ ہے کہ…‘‘ شیما نے ان کی پوری بات سننے کے بعد کھنکھار کر بات کا آغاز کیا۔
’’واثق اپنے بینک کے کسی کورس کے لیے یوکے جارہا ہے‘ اس کے تمام پیپرز تقریباً مکمل ہوچکے ہیں۔ اسی ہفتے کی کسی تاریخ کو اس کی فلائٹ متوقع ہے۔‘‘
’’تو بھابی! آپ صرف نکاح پڑھا کر انشال کو اپنے گھر لے آئیں‘ واثق بے شک یوکے چلا جائے۔ ہم بس اتنا چاہتے ہیں کہ انشال جلد از جلد اپنے گھر کی ہوجائے۔‘‘ وہ بے حد ملتجی لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
’’کمال کرتی ہو عظمیٰ… تمہیں بتارہی ہوںکہ ہمارا سارا جمع جتھا واثق کے کام پر لگ چکا ہے۔ انزیٰ کی شادی تیار کھڑی ہے۔ اگلے مہینے اسے اپنے گھر کا کرنا ہے‘ سو خرچے ہیں ہمارے‘ ایسے کیسے ہم ایک اور شادی ارینج کرسکتے ہیں۔‘‘ شیما نے اب کے خاصی ناگواری سے نند کو دیکھا‘ عظمیٰ نے سخت بے بس نظروں سے پہلے بھابی اور پھر بھائی کو دیکھا جو کب سے خاموش صرف ان کی باتیں سن رہے تھے۔
’’شادی ارینج نہ کریں‘ بس سادگی سے نکاح کرکے لے جائیں۔ وقار کی طبیعت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے‘ وہ چاہتے ہیں کہ انشال ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر کی ہوجائے بس۔‘‘ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح صورت حال کی سنگینی کو ان کے آگے واضح کریں کیسے اپنی مجبوری اور بے بسی ظاہر کریں۔
’’دیکھو عظمیٰ… واثق ہمارا بڑا بیٹا ہے‘ اس کا فیوچر ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اس کی شادی کے حوالے سے ہمارے سو ارمان ہیں‘ ایسے کیسے سادگی سے ہم فرض پورا کردیں اور ویسے بھی مجھے تم لوگوں کی موجودہ کنڈیشن سے نہیں لگتا کہ تم لوگ بھی بیٹی کی شادی کرنے کے قابل ہو۔‘‘ شیما اب خاصی نرمی سے بول رہی تھی۔
’’پھر شادی۔‘‘ عظمیٰ نے گہری سانس بھری۔
’’واثق جائے گا‘ کم از کم دس سال بعد واپس آئے گا پھر اس کی شادی کریں گے۔ پورے دھوم دام سے‘ پورے شہر کی کریم کو بلائیں گے۔ کافی گرینڈ فنکشنز ارینج کریں گے‘ خوب ہلہ گلہ ہوگا۔‘‘ شیما ایک خواب کی سی کیفیت میں بولتی جارہی تھیں اور احمد مسکراتے ہوئے بیوی کی بات کی تائید کیے جارہے تھے۔
’’اوکے‘ میں چلتی ہوں۔‘‘ بجھے انداز میں کہتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ زندگی… تیرے رنگ ہزار۔
اس گھر سے انہیں ہمیشہ بے حد اہمیت اور محبت ملی تھی‘ سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا۔ ان کا آنا باعث تکریم ہوتا تھا یہاں کے مکینوں کے لیے مگر آج بس چائے کے کپ پر ہی ان کو بھگتا دیا گیا۔ کتنی امیدیں لے کر آئی تھیں وہ اپنے بھائی کے پاس مگر وائے حسرت‘ واپسی پر ان کی جھولی میں نا امیدی اور یاس کے سکوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ سچ ہے سیاہ بختی میں کون کسی کا ساتھ دیتا ہے کہ سایہ بھی اندھیرے میں جدا انسان سے ہوتا ہے۔ آج سارا مال وصال رخصت ہوا تو خونی رشتے جو ان کی محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے تھے‘ اب ایک دم سے آنکھیں ماتھے پر رکھ لی تھیں کیونکہ پہلے کی عظمیٰ بیگم جن کے تن پر قیمتی لباس و زیورات سجے ہوتے تھے جو ایک انڈسٹریلسٹ کی بیوی تھیں جو کلب کی ممبر ہونے کے ساتھ اپنے سر کل کی جانی مانی خوش لباس اور خوش اندام خاتون تھیں اور آج کی عظمیٰ بیگم انتہائی پژمردہ حلیے کے ساتھ ان سے اپنی بیٹی کے مستقبل کی حفاظت کا سوال کرنے آئی تھیں تو احمد و شیما بھلا کیسے انہیں نا امید نہ لوٹاتے کیونکہ انہوں نے جس انشال کو بیٹے کے لیے مانگا تھا وہ انشال ایک صاحب حیثیت باپ کی بیٹی تھی جس کا کافی بینک بیلنس تھا۔ جن کے نام پر کئی پلاٹس رجسٹرڈ تھے جو اپنے ماں باپ کی جائیداد کی اکلوتی تن تنہا وارث تھی۔ ایسی تہی دست اور مفلس انشال کو وہ کیسے اپنے گھر بیاہ لے آتے جس کے پاس اب صرف اچھی صورت اور نیک سیرت کے سوا کچھ نہیں رہا تھا۔
وقار بیوی کے بجھے چہرے اور شرمندگی سے جھکی آنکھوں سے کافی کچھ سمجھ گئے تھے۔ وہ صاحب بصیرت انسان تھے‘ رشتوں میں اچانک در آنے والی کایا پلٹ سمجھ سکتے تھے اس لیے انہوں نے عظمیٰ سے کوئی سوال نہ کیا تھا۔
’’وقار… کیسی پریوں جیسی صورت والی بیٹی ہے ہماری‘ میرے سرکل کی کتنی خواتین نے انشال کا پروپوزل مانگا تھا‘ کتنے ہی گھرانے اس کے خواہش مند تھے اور آج وقت بدلنے پر ہمیں خود اس کی شادی کے لیے منت کرنی پڑ رہی ہے۔‘‘ عظمیٰ کو انشال کے رشتے سے زیادہ اپنے خونی رشتوں کی سرد مہری نے تکلیف پہنچائی تھی۔
خ…ء…خ
’’وقار احمد… پھر کب آئوں میں انشال کو لینے؟‘‘ موبائل سے حسان زبیری کی آواز ابھری تھی۔
’’دیکھو زبیری… میری بیٹی کا نام اپنی گندی زبان سے مت لو ورنہ میں پولیس کو انفارم کردوں گا۔‘‘ خشک ہوتے حلق کو تر کرتے ہوئے وقار احمد غصے سے بولے۔ ان کا تنفس ایک دم سے تیز ہوگیا تھا اور چہرے کی رنگت سفید۔
صفیہ جو صوفے پر تسبیح پڑھ رہی تھیں‘ بھائی کے چہرے کی متغیر ہوتی حالت پر چونکتی ہوئیں اٹھ کھڑی ہوئیں پھر ایک نظر عظمیٰ کو دیکھا جو ہونٹ کاٹتے ہوئے سخت بے بسی سے وقار کو دیکھ رہی تھیں۔
’’تم نے مجھے پائی پائی کا تو محتاج کردیا ہے مگر میری بیٹی تک دسترس حاصل کرلو گے تو یہ تمہاری بھول ہے۔ اس کے باپ میں اتنا دم خم ہے کہ وہ اپنی بچی کی حفاظت کرسکتا ہے۔‘‘ وقار کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شیطان کو شوٹ کر ڈالیں۔ دوسری طرف حسان نے ان کی بات پر قہقہہ لگایا تھا۔
’’کیوں اپنی ناتواں جان پر ظلم کررہے ہیں‘ اپنی فیملی کو فلیٹ میں تو لے آئے ہیں۔ کیا سڑک پر لانا چاہتے ہیں‘ میری مان لیں سدا سکھی رہیں گے۔‘‘ پھر ایک دم سے لہجہ بدلتے ہوئے بولا۔
’’انشال… قانوناً میری دسترس میں آچکی ہے اب وہ میری اپنی ’’چیز‘‘ ہے جسے میں جب بھی چاہوں دھڑلے سے لے جاسکتا ہوں۔ آپ کیا کوئی بھی مجھے روک نہیں سکتا اور کان کھول کر سن لیں‘ کل صبح کا سورج انشال میرے پاس آکر دیکھے گی۔‘‘ سخت لہجے میں دھمکاتے ہوئے فون بند کردیا گیا۔ وقار احمد سر پکڑے بیٹھے تھے‘ صفیہ نے ایک الجھن بھری نظر بھائی اور بھابی پر ڈالی تھی۔
’’وقار… یہ کیا ماجرا ہے؟ بچی کی حفاظت‘ اس کاروباری بکھیڑے میں انشال کا نام کیوں لیا جارہا ہے؟‘‘ الجھتی ہوئی وہ قریب آبیٹھیں۔
’’آپا… انشال کا ہی تو سارا بکھیڑا ہے‘ وہ کمینہ زبیری میری بچی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اسی صورت میں مجھے قرضے سے گلو خلاصی مل سکتی ہے۔‘‘ وقار تقریباً روتے ہوئے بولے۔
’’ہائے میرے اللہ…! یہ کیا ہوگیا؟‘‘ صفیہ تو دھک رہ گئی تھیں۔
’’تم نے منہ توڑ دینا تھا اس خبیث کا جو ایسی فضول بات منہ سے نکال رہا تھا۔‘‘ وہ کھولیں۔
’’آپا… آپ کا بھائی اب کمزور‘ بیمار اور مجبور ہوگیا ہے۔ اس میں اتنی سکت نہیں کہ وہ ایسے فریبی لوگوں کا سامنا کرسکے۔ کاش میرا کوئی بیٹا ہوتا جو آج اپنی بہن کی حفاظت کرتا؟‘‘ ایک بے حد یاسیت بھری سانس لی تھی انہوں نے۔
’’کیسی باتیں کررہے ہو؟ میرا داور تمہارا بھی بیٹا ہے۔ تم ہمیں آواز دیتے‘ اکیلے ہی پریشانیوں سے لڑتے رہے‘ ٹھیک ہے مالی مسائل میں ہم کام نہیں آسکتے مگر اس بدمعاش کو تو سیدھا کرسکتے ہیں ناں۔‘‘ صفیہ کے لہجے میں دکھ کی بجائے اب ناراضگی کا رنگ غالب آتا جارہا تھا۔
’’آپا… آپ ایک احسان کریں مجھ پر‘ میری انشال کو اپنی پناہ میں لے لیں۔ میں ساری زندگی آپ کا احسان مند رہوں گا۔‘‘ وہ بے ساختہ ان کے ہاتھ تھام کر ملتجی انداز میں بولے۔ عظمیٰ ایک طرف بیٹھیں اپنے شوہر کو روتے‘ گڑگڑاتے دیکھ رہی تھیں۔
’’وقار… تم نے پل بھر میں ہمیں غیر کردیا‘ ہمیں پرکھا تو ہوتا۔ داور کل بھی تمہارا بیٹا تھا اور ہمیشہ بیٹا رہے گا۔ میں ابھی اسے بلاتی ہوں۔‘‘ صفیہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے داور کا نمبر ملارہی تھیں۔
خ…ء…خ
دوپہر ڈھلتے ہی سائے دیواروں پر رینگتے ہوئے چڑھنے لگے تھے۔ وہ موبائل ہاتھوں میں لیے صحن میں آگیا‘ کرسی گھسیٹ کر بیٹھتے ہی پائوں سامنے والی کرسی پر رکھ دیئے۔ یونہی اکتاہٹ بھرے انداز میں میوزک فائلز کو چھوتے ہی اس نے سانگ اوکے کردیا۔
تیری آنکھوں کے دریا کا اترنا بھی ضروری تھا
محبت بھی ضروری تھی‘ بچھڑنا بھی ضروری تھا
ضروری تھا کہ ہم دونوں طوافِ آرزو کرتے
مگر پھر آرزوئوں کا بکھرنا بھی ضروری تھا
کرسی کی پشت پر سر ٹکائے وہ آنکھیں موندے گانے کے بولوں کا لفظ لفظ اپنے دل میں اترتا محسوس کررہا تھا۔ ایک روتی آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی۔
’’آپ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ آپ سے محبت کی جائے‘ صرف شرٹس ہی نہیں۔ آپ کے پاس تو بہت ساری چیزوں کی کمی ہے۔‘‘ یہ آواز‘ یہ الفاظ اسے کسی پہر چین نہ لینے دیتے تھے‘ کبھی تنگ آکر کانوں پر ہاتھ رکھتا تو ہر جگہ آنسو بہاتی دو آنکھوں کی تصویر ابھر آتی تھی۔ ہر دیوار پہ‘ ہر منظر پہ‘ لیپ ٹاپ اور موبائل کی اسکرین پر بس دو ہی آنکھیں چھائی ہوتیں۔
’’اُف…! یہ لڑکی مجھے پاگل کرکے ہی چھوڑے گی؟‘‘ وہ بے ساختہ سر کو تھام کے سوچتا تھا۔ رباب کام نمٹا کے ادھر آگئی تھی‘ ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’مجھے ماموں‘ مامی‘ انشال سب کی زندگی کا یہ چینج بہت اداس کرتا ہے۔‘‘ رباب کے لہجے میں گہری افسردگی تھی‘ اس نے والیوم کم کردیا۔
’’یہ تو زندگی کے موسم ہیں‘ کبھی دھوپ تو کبھی چھائوں‘ انسان کی آزمائش کے لیے ایسا وقت آتا ہے۔‘‘
’’ہاں یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ میں کل امی کے ساتھ گئی تو دیکھا عظمیٰ مامی آٹا گوندھ رہی ہیں اور انشال ریسیپی بک دیکھ کر رات کا کھانا پکارہی تھی بے حد کمزور اور چپ چپ رہنے لگی ہے۔ زیادہ بات نہیں کرتی‘ میرے لیے تو انشال کا یہ روپ بہت ہی ڈپریسنگ ہے۔‘‘ رباب یاسیت سے کہہ رہی تھی۔
’’وقتی پریشانی ہے اس کے لیے‘ شادی کے بعد اسے پہلے جیسا ماحول مل جائے گا‘ وہی نوکر چاکر‘ اس کا فیانسی کافی اچھی جاب کرتا ہے۔‘‘ دل سے اٹھتی اذیت کی لہر کو دباتا وہ نارمل انداز میں بولا۔
’’کہاں کا فیانسی‘ مجھے انشال نے بتایا کہ وہ بات ختم ہوگئی ہے کیونکہ اس کے ماموں کا ارادہ اپنے بیٹے کی شادی کم از کم دس سال بعد کرنے کا ہے اور ماموں فی الفور اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’کیا… کیا کہہ رہی ہو تم‘ یومین اس کی منگنی ختم ہوگئی؟‘‘ رباب کی بات پر وہ جھٹکے سے ٹانگیں کرسی سے نیچے کرتے ہوئے بولا۔
’’ہاں‘ ایسا ہی ہوا ہے وہ بتارہی تھی کہ واثق کا اب اس کی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں‘ ان کے ماموں‘ ممانی نے ایک بار بھی ان کے گھر کا چکر نہیں لگایا تو ان کے بیٹے سے شادی کیسے ممکن؟‘‘ رباب کی بات پر وہ جس پہلو سے بیٹھا تھا‘ کافی دیر تک اسی پہلو پر بیٹھا رہا‘ اسی دم کال ٹون نے اسے چونکایا‘ صفیہ کی کال تھی۔
’’جی امی… آپ کو لینے آنا ہے؟‘‘ وہ شائستگی سے پوچھ رہا تھا۔
’’داور… تم انشال سے شادی کرنا چاہتے ہو ناں؟‘‘
’’جی…؟‘‘ وہ ان کی بات پر بھونچکا رہ گیا۔
’’تو بس پھر ابھی اسی وقت اپنے ماموں کے ہاں چلے آئو۔‘‘ وہ اس کی جی کو اپنے ہی معنوں میں لیتے ہوئے تیزی سے بولیں۔
’’مگر امی…! اچانک یہ سب کیسے؟‘‘ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس وقت کیا کہے۔
’’بس بیٹا… جلدی سے آجائو‘ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ صفیہ نے کال بند کردی۔
تیرے دل کے نکالے ہم کہاں بھٹکے‘ کہاں پہنچے
مگر بھٹکنے سے یاد آیا‘ بھٹکنا بھی ضروری تھا
جب کہ رباب صفیہ کی کال کے بارے میں پوچھتی رہی تھی۔
خ…ء…خ
’’اچھا وقار… اب ہمیں اجازت دو‘ رباب گھر میں اکیلی ہوگی۔‘‘ صفیہ گلے لگ کر اسے مبارک باد دینے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئیں۔ عظمیٰ بھیگی آنکھوں کے ساتھ داور کے ماتھے کو چوم کر کھڑی ہوئیں۔ اس شریف‘ نیک طبیعت نوجوان کی ہمیشہ اپنے تکبر کے زعم میں بے عزتی کی تھی۔ اپنی اکلوتی نند کو کبھی نہ بھابی والا مان دیا نہ کبھی انہیں بڑی بہن سمجھ کر عزت دی تھی۔ کتنی کم عقل اور نادان تھیں‘ یہ سچے اور کھرے رشتے جن کے دل خلوص اور محبت کی دولت سے مالا مال تھے۔ آج انہیں خود سے کہیں برتر لگ رہے تھے جو کبھی انہیں اپنے ہم پلہ محسوس نہ ہوتے تھے۔ ان لوگوں نے وقت پر ان کی بیٹی کا ہاتھ تھام کر ہمیشہ کے لیے اپنا مقروض کرلیا تھا بینک کا قرض تو آسانی سے چکا لیتے مگر اس احسان کا قرض ساری زندگی نہ اتار پاتے۔
اتنا سعادت مند اور نیک بیٹا‘ جس نے پوری بات نہ سمجھتے ہوئے بھی اپنی ماں کی خواہش پر سر جھکاتے ہوئے انشال کو ہمیشہ کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور عظمیٰ کیا جانیں کہ اس وقت داور حیات اپنی زندگی پر رشک کررہا تھا۔ اپنی خوش نصیبی پر اسے یقین نہ آرہا تھا کہ وہ انشال جو کبھی دولت کے ڈھیر پر بیٹھی اسے ناقابل حصول اور ناقابل رسائی لگا کرتی تھی اور اب قسمت کے پھیر سے اس کے عقد میں آچکی تھی۔
’’مگر جائیں گے کیسے؟‘‘ ایک دم سے ہلکے پھلکے ہوتے وقار احمد نے پوچھا‘ ان کے شانوں کا بوجھ ایک دم سے اتر گیا تھا۔
’’بائیک پر اور کیسے‘ انشال کے پیچھے میں بیٹھ جائوں گی۔‘‘ صفیہ نے آرام سے بات نمٹادی‘ ان کے ہر انداز سے سرشاری جھلک رہی تھی وہ سادہ کپڑوں میں روتے ہوئے ماں‘ باپ سے مل رہی تھی الوداعی ملاقات۔
’’سدا خوش اور آباد رہو۔‘‘ عظمیٰ اور وقار اپنی نم آنکھیں پونچھتے ہوئے دروازے تک ’’بارات‘‘ کو رخصت کرنے آئے تھے۔
خ…ء…خ
’’کیا‘ یہ شادی ہے… ایسے ہوتی ہے شادی؟‘‘ رباب پوری بات جان کر چیخی۔
’’میری نادان بیٹی جا کوئی مٹھائی لے آ‘ کوئی پھول پرولا۔‘‘ صفیہ انشال کو محبت سے دیکھتے ہوئے بول رہی تھیں۔
’’ہاں گوبھی کا پھول پڑا ہے وہ پرو لائوں؟‘‘ رباب جل کر بولی۔
’’اکلوتے بھائی کی شادی اور بہن کو علم تک نہیں‘ نہ کوئی ڈریس بنوایا‘ نہ گانے‘ نہ ڈانس۔‘‘ کلستے ہوئے فوزیہ اور رباب کو بھی فون کھڑکا دیا تھا۔
’’ہائیں… داور بیوی والا ہوگیا اور ہم بہنیں آٹا روٹی میں مصروف ہیں۔‘‘ رباب بے یقینی سے کہتے ہوئے داور کے گلے لگ گئی تھی‘ فوزیہ کا ری ایکشن بھی کم ’’غیر فطری‘‘ نہ تھا۔
’’رباب کی بچی… یہ کوئی اپریل کا فرسٹ دن تھا جو تم نے بھائی کی شادی کی مبارک باد والا فون کر ڈالا۔‘‘ پھر انشال کو صفیہ کے کمرے میں سر جھکائے‘ نچلا لب کچلتے ہوئے دیکھ کر ٹھٹکی۔
چہرے پر چھائی شرم اور سراسیمگی اور جھکتی‘ اٹھتی پلکیں تو واضح بتارہی تھیں کہ ’’کچھ‘‘ ہوا تو ہے مگر ایسے ملگجے حلیے والی دلہن‘ الجھی‘ بکھری چٹیا مرجھاتی اسکن اور رف ہاتھ۔ پلٹ کر داور کو دیکھا تو وہاں بھی کچھ ایسا روایتی پن نظر نہ آیا۔ بلو جینز کے اوپر سلوٹ زدہ برائون شرٹ‘ پیروں میں انگوٹھے والی چپل اور بڑھی ہوئی شیو۔
’’ہائے اکلوتے بھائی کی شادی کے کیا کیا نہ ارمان تھے۔ وہ بھنگڑا‘ وہ بھاری کامدار کپڑے۔ امی آپ تو ہمارے سبھی جذبات سے واقف تھیں پھر یہ اچانک فیصلہ؟‘‘ رباب ماں کے قریب ہوکے بسوری تھی۔
’’ہاں تو کرو ناں شور شغل اپنے گھر میں‘ وہاں تمہارے ماموں کی طبیعت خراب تھی۔ شور شرابہ ان کے لیے منع ہے جو ارمان ہیں۔ یہاں کھل کر نکال لو۔‘‘ صفیہ نے اپنی لاڈلیوں کو پچکارا جن کے چہرے بری طرح لٹکے ہوئے تھے۔
’’چل داور… بیکری سے مٹھائی‘ کیک کافی مقدار میں لے آ جو مہمان آئے گا اس کا منہ تو میٹھا کروانا ہوگا ناں۔‘‘ صفیہ نے کہا تو اس نے فوراً بائیک کو کک لگا دی۔
’’ٹھہرو‘ میں بھی تمہارے ساتھ بازار چلتی ہوں۔ انشال کا برائیڈل ریڈی میڈ جوڑا لیتی آئوں گی۔‘‘ اپنا پرس سنبھالتی فوزیہ بائیک پر چڑھ بیٹھی تھی۔
’’اور پھولوں کے گجرے اور ہار بھی۔‘‘ پیچھے سے رباب نے آواز لگائی۔
خ…ء…خ
’’داور حیات… تو تم ہی میرا نصیب تھے‘ تمہاری لاکھ ناپسندیدگی اور غیر دلچسپی کے باوجود قسمت نے مجھے ہی تمہارا ہم سفر چنا ہے۔‘‘ اپنے حنائی ہاتھوں کو غور سے دیکھتے ہوئے وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔
فوزیہ اور رباب نے اسے ایک مکمل دلہن کے روپ میں سجایا‘ سنوارا تھا۔ ڈیپ ریڈ عروسی لہنگے کے اوپر گرین و ریڈ کامدار لانگ شرٹ‘ صفیہ نے بیٹے کے لیے زیور الگ کر رکھے تھی۔ وہ بھی اس وقت اس کی صراحی دار گردن‘ مرمریں ہاتھوں اور صبیح پیشانی پر سجا ہوا تھا۔ سنبل نے بھی مہندی کی خوب صورت بیل بوٹے اس کے ہاتھوں اور پیروں پر بکھیردیے تھے۔ رات کا کھانا کھلا کر وہ تینوں اسے داور کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔
’’یقینا میرے مجبور‘ کمزور اور بے بس ماں باپ پر کیے گئے اپنے اس احسان کو مجھ پر جتائو گے۔ ہمیشہ کی طرح مجھے لفظوں کی مار مارو گے لیکن اب میں اپنی محبت کو تمہارے ہاتھوں مزید ذلیل نہیں کروں گی۔ تمہارے مارے گئے سارے تیر میرے ترکش میں جمع ہیں‘ اب وہی تیر تم پر آزمائوں گی۔‘‘ تنفر سے سوچتے ہوئے وہ اب اپنی جیولری اتار رہی تھی‘ اس کے بعد لہنگا سنبھالتی ڈریسنگ روم میں چلی آئی۔ سارا میک اپ دھو دھلا کے چہرہ خشک کرتی باہر نکل آئی۔ تولیہ ایک طرف صوفے پر ڈالنے کے بعد بیڈ کے ایک طرف کروٹ لے کر لیٹ گئی۔
ادھر دارو نے بھی کئی دنوں کے ملگجے اور رف حلیے سے نجات حاصل کرلی تھی۔ خوب دل لگا کر شیو بنائی‘ نہایا دھویا اور وائٹ کاٹن کا کڑکڑاتا کُرتا شلوار زیب تن کرلیا خود کو ڈھیروں ڈھیر خوشبو سے مہکانے کے بعد تینوں بہنوں کو فراخ دلی سے نیگ دیا۔
’’جیتے رہو‘ کبھی دکھ کا سایہ تم پر نہ آئے۔‘‘ صفیہ نے گلے لگا کر منہ چومتے ہوئے دعا دی تھی۔
’’زوجہ محترمہ… میرے اسی روم میں آکر آپ نے اپنی محبت کا زور و شور سے اعتراف کیا تھا۔ آج ہماری محبت کے عملی ثبوت دیکھیں گی‘ آپ۔‘‘ خوش کن خیالوں میں گھرا وہ اپنے بیڈ روم میں آیا تھا کہ کمرے میں پھیلی زیرو پاورڈ نیلگوں روشنی اور بیڈ کے ایک کونے پر محو خواب وجود کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔
’’یہ اتنی جلدی سوگئی‘ میرا انتظار بھی نہ کیا۔‘‘ اس کے جذبوں پر اوس پڑگئی تھی۔
’’اے ہیلو انشال…!‘‘ اس نے بیڈ پر نیم دراز ہوکر ہولے سے پکارا مگر دوسری طرف سرمو جنبش نہ ہوئی تھی۔
’’اور سارا کچھ چینج بھی کرلیا‘ ایسی ہوتی ہے سہاگ رات؟‘‘ وہ دل ہی دل میں جھنجھلایا کیونکہ اسے رباب کی بات یاد آگئی تھی جو اس نے نیگ لیتے وقت کہی تھی۔
’’یہ تو نیگ ہوا اور وہ جو آپ کی دلہن کو تیار کیا ہے‘ دیکھتے ہی آپ اپنا دل تھام لیں گے۔ حواس نہ اڑ جائیں تو نام بدل دیجیے گا میرا۔‘‘ رباب دعوے سے کہہ رہی تھی۔
’’کیوں اتنی ڈرائونی لگ رہی ہے کہ میرے حواس اڑجائیں گے؟‘‘ وہ شریر ہوا تھا۔
’’جناب! بے حد حسین صورت کو دیکھ کر بھی ہوش گم ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’سچ کہتی ہیں میری بہنیں کہ جہاں سے وکھری تھی میری شادی اور سب سے بڑھ کر وکھری دلہن ملی ہے جو مزے سے سو رہی ہے‘ شوہر جائے بھاڑ میں۔‘‘ بے حد روٹھے ہوئے انداز میں اس کا سراپا دیکھا تھا۔
’’انشال! تم جاگ رہی ہو‘ اگر تمہارا موڈ بات کرنے کا نہیں تو ٹھیک ہے تم سوجائو۔‘‘ وہ اس کے پیروں کے تنے ہوئے انگوٹھوں کو دیکھتے ہوئے پُریقین لہجے میں بولا تھا کیونکہ سوتے وقت انسان کا جسم ڈھیلا ہوجاتا ہے جب کہ انشال ٹینشن والی حالت میں لیٹی ہوئی تھی۔
’’میں تھکی ہوئی ہوں۔‘‘ کافی دیر بعد اس کی اندھیرے میں آواز ابھری تھی۔
’’ابھی میں نے تم سے تھکاوٹ والے کام کب لیے ہیں جو تم تھک گئی ہو؟‘‘ وہ معنی خیزی سے بولتا ہوا لمحوں میں فاصلہ طے کرتے ہوئے اس کے قریب آگیا تھا۔ انشال کی جان تک کانپ گئی تھی۔ اس کی سانسوں کی گرمی اسے اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی۔
خ…ء…خ
’’مگر میں اپنی اچھی بھلی جاب کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔‘‘ وقار احمد کی بات سن کر وہ تذبذب میں پڑگیا۔
’’کیوں نہیں بیٹا… اب تم ہی میری سیٹ پر بیٹھو گے‘ میں اب بہت بوڑھا ہوگیا ہوں۔ مجھ سے مغز ماری کا کام نہیں ہوتا‘ بس کل سے تم آفس جائو گے۔‘‘ وقار احمد اس کے تذبذب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دھونس بھرے انداز میں کہہ رہے تھے۔
’’بیٹا… وقار ٹھیک کہہ رہا ہے‘ تمہیں اب اس کا حقیقی معنوں میں بازو بننا چاہیے۔ ہم سب کو ہی ایک دوسرے کا سہارا بننا ہوگا۔‘‘ صفیہ بھی اسے وقار کی بات ماننے کا کہہ رہی تھیں اور ہمیشہ کی طرح اس نے ماں کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنی جاب سے ریزائن کرنے کے بعد وقار احمد کا آفس سنبھال لیا۔ ایم بی اے کی ڈگری خوب وقت پر کام آرہی تھی‘ محنتی اور ذہین تو وہ تھا ہی دنوں میں سارے سیٹ اپ کو سمجھ گیا تھا۔
حسان زبیری والے معاملے کے پیچھے لگا تو کئی حیران کن انکشافات سامنے آئے تھے۔ فیکٹری کے لیے تو کبھی لون لیا ہی نہیں گیا تھا‘ اپنے فش فارمنگ والے بزنس کو سیٹ کرنے کی خاطر حسان زبیری نے لون لیا تھا جس کا وقار احمد سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس نے سادہ اور جعلی کاغذات پر ان سے دستخط لیے تھے اور وہ بیماری کی بدولت اتنے کمزور اور ذہنی طور پر سست ہوچکے تھے کہ کبھی کاغذات کے نقلی‘ اصلی ہونے کی جانچ کا تردد تک نہ کیا تھا۔
دوسرا انشال سے شادی والے مطالبے نے تو رہی سہی کسر پوری کردی تھی یوں حسان زبیری کسی حد تک اپنے مذموم مقاصد کے لیے کامیاب رہا تھا۔ داور نے اپنے قریبی دوست ڈی ایس پی شیر زمان سے مدد کی درخواست کی تھی یوں دبئی بینک کی انتظامیہ سے ملنے والے ثبوتوں کی بدولت حسان زبیری کم ہی عرصے میں ’’مک مکا‘‘ والی اسٹیج پر آگیا۔ اس نے لون کے نام پر جتنا پیسہ وقار احمد سے بٹورا تھا وہ سارا تو نہیں البتہ اس کا نصف واپس کردیا تھا۔ داور نے ان پیسوں سے پراپرٹی ڈیلر کی مدد سے ان کا گھر واپس لے لیا۔ وہ گھر جس میں عظمیٰ بیگم بڑے طمطراق سے رہا کرتی تھیں۔ پورے پانچ ماہ بعد وہ فلیٹ سے اپنے گھر میں شفٹ ہوگئے تھے اور ایسا سراسر داور کی کوششوں اور اللہ کی مہربانی سے ہوا تھا۔
خ…ء…خ
’’ایک کپ چائے مل جائے گی؟‘‘ لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
’’ہاں بیٹا… میں ابھی لاتی ہوں۔‘‘ صفیہ اٹھتے ہوئے بولیں۔
’’امی… آپ کیوں لارہی ہیں‘ بہو سے کہیں ناں وہ تیار کرے۔ لوگ بہو اس لیے لاتے ہیں کہ آرام سے بیٹھیں گے اور آپ بہو لاکر بھی خود کام کررہی ہیں۔‘‘ وہ انشال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔
’’یا بہو ہی آپ کی ایسی ہے کہ کچھ آتا نہیں؟‘‘ وہ سراسر فکر مندی سے بولا۔
’’جی نہیں‘ اپنے غلط اندازے اپنے پاس رکھیں‘ الحمدللہ کوئی ایسی پھوہڑ نہیں ہوں میں‘ گھر کے سارے کام کرلیتی ہوں۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی‘ داور کا طنز سیدھا دل پر لگا تھا۔ صفیہ ہنس کر بولیں۔
’’واقعی… میری بہو تو سیرت و صورت میں یکتا ہے۔‘‘ صفیہ نے ہمیشہ کی طرح اس کی سائیڈ لی پھر وضو کرنے واش روم میں چل دی تھیں۔
’’جی امی… آپ کی بہو کی صورت پر ہی تو ابھی تک گزارا کیے ہوئے ہیں۔ جانے سیرت کے جلوے کب دیکھنے کو ملیں گے۔‘‘ وہ معنی خیزی سے ایک دل پذیر سا اشارہ اسے کرتے ہوئے اپنے روم میں آگیا تھا۔
’’بدتمیز نہ ہو تو۔‘‘ وہ کھولتی ہوئی کچن میں آگئی تھی۔ اس کے لاکھ کترانے‘ بچپنے کے باوجود وہ زبردستی اس سے اس کا ’’پیار‘‘ وصول کرچکا تھا۔ وہ پیار جو ازل سے اس کے دل میں اس کے لیے موجود تھا جس کے لیے اسے ترسانے کی خاطر اس نے دل میں ڈھیروں پلان بنا رکھے تھے کہ خوب اسے تڑپائوں گی۔ بے اعتنائی دکھائوں گی‘ آسانی سے ہاتھ نہ آئوں گی مگر ایسا کچھ نہ ہوا تھا۔ وہ اتنا دلیر‘ ڈھیٹ اور بے دھڑک تھا کہ سب ہی کی محبتوں‘ چاہتوں اور توجہ کے خزانے کا بلا غیرے شرکت مالک بنتا جارہا تھا۔
وقار احمد تو اسے دیکھ کر پھر سے جی اٹھے تھے‘ اپنا سارا بزنس آرام سے اس کے حوالے کرکے مزے سے گھر میں نیوز دیکھنے‘ اخبار پڑھنے اور گارڈننگ کرنے میں وقت گزار رہے تھے اور عظمیٰ جن کے تیور کبھی اس پر گراں گزرتے تھے اب ڈھیروں ڈشز ریڈی کیے اس کی منتظر رہتی تھیں۔ بیٹی کا خیال ہی بعد میں آتا تھا بلکہ ہر چکر پر اسے نصیحت کرنا نہ بھولتیں۔
’’دیکھو انشال… داور کو تم سے کبھی شکایت نہیں ہونی چاہیے وہی اب ہمارا بیٹا اور داماد ہے اسی کی محنت کے سبب ہمارا یہ گھر ہمیں ملا ہے اور اسی کی محنت کا ہم کھا رہے ہیں اس کا بھرپور خیال رکھا کرو۔‘‘
’’جی امی… بچے ہی تو ہیں کہ جسے دیکھو خیال رکھو کی تاکید مجھے کررہا ہے۔‘‘ وہ دل میں جل بھن جاتی تھی۔ ’’جادوگر نہ ہو تو۔‘‘ اسے بھی تو سب کو گرویدہ کرنے کے گُر آتے تھے۔ وہ کیسے اس کی پیش قدمیوں کو روک پاتی‘ کیسے کہتی کہ اپنی چاہت کا دریا روکو ورنہ میں بہہ کر دور چلی جائوں گی۔
’’چاچی… کہاں ہیں؟‘‘ اس کی پشت پر آواز ابھری تھی‘ وہ چونک کر مڑی‘ سامنے رودابہ کھڑی تھی آنکھوں میں جارحانہ تیور لیے۔
’’اچھا تو تم داور کی بیوی ہو؟‘‘ آنکھیں سکیڑتے ہوئے اس کا سجا سنورا روپ دیکھا۔ ڈراک سی گرین کامدار شیفون کے سوٹ اور ڈارک گلابی لپ اسٹک میں وہ خاصی پیاری لگ رہی تھی۔
’’پھوپو… نماز پڑھ رہی ہیں۔‘‘ اس کی تیز و تند نظروں سے خائف ہوتے ہوئے وہ جلدی سے بولی۔ جواباً رودابہ ایک پھنکارتا سانس خارج کرتی باہر نکل گئی۔
وہ اپنے ننھیال پشاور گئی ہوئی تھی‘ اسے گھر آکر دارو کی شادی کی اطلاع ملی تو اس نے چیخ چیخ کر گھر سر پر اٹھالیا تھا۔
’’اس کی جرأت کیسے ہوئی میرے ہوتے ہوئے کسی اور کو دلہن بنانے کی۔ میں اس کا اور اس کی بیوی کا خون پی جائوں گی۔‘‘ مارے طیش کے وہ اِدھر اُدھر چکر کھاتی رہی تھی۔
’’بیٹا… تحمل سے کام لو‘ یہ سب نصیب کے کھیل ہیں۔‘‘ رضوانہ بیٹی کو ترحم بھری نظروں سے دیکھ رہی تھیں جو جذباتیت کی آخری حد پر کھڑی تھی انہیں تو اسے دیکھ دیکھ کر ہول اٹھ رہے تھے کہ نجانے یہ کیا کر گزرنے والی ہے‘ پریشان تو جاسم نے بھی کر رکھا تھا۔
’’امی… آپ جائیں چاچی کے پاس‘ سنبل کا فائنل جواب لے آئیں اور وہ بھی ہاں میں۔‘‘ جاسم بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
’’تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہے‘ داور نے تمہاری بہن کو ٹھکرا کر اپنی ماموں زاد سے شادی کرلی اور تم اس کی بہن کو یہاں لانے کی تیاری کررہے ہو۔‘‘ وہ سر اٹھا کر جاسم پر غرائی۔
’’داور اور تمہاری شادی سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ مجھے سنبل سے محبت ہے اور وہ بھی مجھے چاہتی ہے مجھے اس سے شادی کرنی ہے‘ ڈیٹس اٹ۔‘‘ رودابہ نے ہی محبت کا کھیل دونوں طرف سے شروع کیا تھا جس میں جاسم بہت دور تک نکل گیا تھا۔ اب سنبل کو حاصل کرنا ہی اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد تھا۔ سنبل اور جاسم کی شادی ہی وہ مہرہ تھا جسے استعمال کرتے ہوئے وہ داور کو حاصل کرنے کا پلان بنائے ہوئے تھی‘ بہن کی محبت سے مجبور ہوکر داور خود اسے پرپوز کرنے پر مجبور ہوجائے گا مگر قسمت نے اسے خوب پچھاڑا تھا۔ بھائی بھی اپنی محبت کے حصول کے لیے جنونی ہورہا تھا۔ رضوانہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بیٹی اور بیٹے میں سے وہ کس کی سنیں‘ اکلوتی بیٹی کا دکھ بھی دل کو لگ رہا تھا اور بیٹے کی مانے بغیر بھی کوئی چارہ نہ تھا کہ پہلے ہی ایک بیٹا الگ دنیا بسائے بیٹھا تھا وہ سخت الجھن میں گرفتار تھیں۔
خ…ء…خ
چائے کا کپ بھر کر وہ اپنے بیڈ روم میں چلی آئی تھی جہاں سے آتی رودابہ کی آواز نے اسے باہر رکنے پر مجبور کردیا تھا۔
’’داور… تم نے شادی کرلی؟‘‘ رودابہ کی آواز میں بے یقینی سی بے یقینی تھی۔
’’جوان بچہ ہوں‘ اب شادی تو کرنی تھی۔‘‘ داور مسکرا کر بولا۔
’’اور میں… میرا تمہیں خیال نہیں آیا کہ میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گی؟‘‘ رودابہ جیسے رونے کو تھی۔
’’دیکھو رودابہ… تمہاری میرے بارے میں جو فیلنگز تھیں وہ سراسر یک طرفہ تھیں۔ میں نے کبھی تمہارے کسی خاص جذبے کی حوصلہ افزائی نہیں کی… ہاں کزن سمجھ کر ہنس کر بات ضرور کرلیتا تھا جسے شاید تم نے اپنے ہی مطلب سے لے لیا تھا۔‘‘ داور ٹھہر ٹھہر کر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔
’’پلیز ایسا مت کہو۔‘‘ رودابہ سسکی۔
’’میں نے شروع ہی سے انشال سے محبت کی ہے‘ بے تحاشا اور بہت زیادہ۔ اسے پانے کی دعا تو کرتا تھا مگر کوشش نہیں کیونکہ اس کے اور میرے بیچ دولت کی ایک لمبی دیوار حائل تھی۔ اپنے جذبوں کی اسے بھی کبھی ہو انہیں لگنے دی کیونکہ میں جانتا تھا اتنے بڑے معاشرتی تضاد کی وجہ سے اس کا ملنا ایک معجزے سے کم نہیں ہوسکتا خوامخواہ میرے خالص جذبوں کی ناقدری ہوتی۔ اس لیے تم ہو‘ انشال ہو یا میری کوئی اور کزن میں نے اپنے حوالے سے کبھی کسی کو جذباتی طور پر استعمال نہیں کیا کیونکہ میری دو کنواری جوان بہنیں گھر میں موجود تھیں۔ ان کا سرپرست ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ سب زیب نہیں دیتا تھا‘ اب انشال ہی میری بیوی ہے جس کی محبت دل میں چھپائے نہ کبھی تمہاری حوصلہ افزائی کرسکا نہ ہی انشال پر دل آشکار کیا کہ وقت اور حالات اجازت نہ دیتے تھے۔ اب تم جائو‘ ہوسکے تو رافع منیر کا ہاتھ تھام لو بہت پُرخلوص شخص ہے۔‘‘ داور کی آواز میں نرمی تھی۔
’’کون رافع منیر؟‘‘ آنسو بہاتی رودابہ نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’وہی رافع منیر… آج جس کے ساتھ تم گاڑی میں آئی تھیں۔‘‘ داور کا انداز جتاتا ہوا تھا۔
’’وہ رافع تو میرا کولیگ ہے‘ مجھے گھر ڈراپ کرنے آیا تھا۔ تم سمجھ رہے ہو‘ میرا اس سے کوئی چکر ہے؟‘‘ رودابہ بری طرح بگڑی۔
’’بخدا‘ ہرگز نہیں۔ وہ میرا بھی سابقہ کولیگ رہ چکا ہے۔ مجھ پر اپنے سارے خیالات اور جذبات جو تمہارے حوالے سے اس کے دل میں ہیں کھل کر عیاں کرچکا ہے۔ اگلے ایک دو دن تک اس کی فیملی تمہارا پرپوزل لے کر آنے والی ہے‘ انہیں انکار نہیں کرنا۔‘‘ وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا اور جھک کے جوتے اتارنے لگا تھا۔ رودابہ خاموشی سے باہر نکل گئی تھی مگر دروازے سے باہر انشال کو اپنی جگہ جما پاکر ٹھٹک کر رک گئی تھی۔ رودابہ کے چہرے پر آنسوئوں کی لکیریں واضح تھیں‘ وہ پہلو سے نکلتی چلی گئی تھی۔ اس کے کمرے سے ایک رات وہ بھی ایسے ہی روتے ہوئے نکلی تھی جیسے ابھی رودابہ نکلی تھی‘ اسی کی طرح اپنی ساری محبت اندر کھڑے شخص پر ظاہر کرکے مگر اب رودابہ کے سامنے داور کے انشال سے محبت کے اعتراف نے تو اسے گویا گم صم کردیا تھا۔ یہ شخص کتنا گھُنا اور گہرا ہے‘ کبھی اپنے دل تک رسائی نہ ہونے دی۔
’’یہ مجھے چاہتا ہے اس کے دل کی دیواروں پر صرف میرا نام لکھا ہے۔ میرے نام کی ہی مالا جپتا ہے اور اس کا دل…‘‘ یہ انکشاف اسے مدہوش سا کرگیا تھا‘ بے حد خاموشی سے اندر آکر اس نے کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
’’یہ چائے ہے تو کھانا یقینا اگلے دن کی تاریخ میں ملا کرے گا۔‘‘ وہ کھڑے ہوتے ہوئے سر جھٹک کر کپڑے درست کرتے ہوئے شگفتگی سے بولا۔
’’ابھی رودابہ آئی تھی ناں۔‘‘ اس نے ہولے سے پوچھا۔
’’ہاں‘ مجھ سے شادی کی ٹریٹ مانگنے آئی تھی۔ اسے گلہ ہے کہ میں نے اسے مدعو کیے بغیر شادی کرلی۔ اسی بات پر مجھ سے لڑ کر گئی ہے۔‘‘ ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگا لیا پھر اگلے ہی لمحے برا سا منہ بناکر واپس رکھ دیا۔
’’یہ چائے ہے؟ ایسی بدمزہ اور ٹھنڈی چائے‘ اس لیے تو میں امی سے کہتا تھا کہ ایسے بڑے گھر کی بہو نہ لائیں جو ایک دم سے کوری ہو جو کپڑے جلا بیٹھے اور چائے کو ٹھنڈا کرکے پلائے مگر کیا کروں ماں بہنوں کی خواہش پر سر جھکانا پڑگیا تھا۔‘‘ وہ یقینا اسے تپانے کو کہہ رہا تھا‘ وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی۔
’’یہ شخص رشتوں کا بھرم کیسے خوب صورتی سے رکھنا جانتا ہے جیسے ابھی رودابہ کا میرے سامنے بھرم رکھ لیا۔ ایسے ہی تو امی ابو اس کی راہ نہیں تکتے۔‘‘ شرٹ کے بٹن کھولنے کے بعد اس نے کھینچ کر بیلٹ بھی اتاری تھی۔ اس کا ارادہ چینج کرنے کا تھا۔
’’اتنی بری اور بدمزہ چائے پلانے پر تمہیں کوئی سزا تو ملنی چاہیے۔‘‘ وہ اس کے کندھوں کو تھامے اب شوخی سے کہہ رہا تھا۔ جواب میں انشال نے استعجابیہ انداز میں پلکیں اوپر اٹھائی تھیں۔
’’چلو مجھ سے محبت کا اقرار کرو‘ جیسے اس دن رات کو یہاں میرے بیڈ روم میں آکر کیا تھا۔ ہاں بولو میں کسی کے قابل نہیں‘ تحفے کے محبت کے؟‘‘ وہ مزے سے اس کی ناک دباتے ہوئے اس دن کا حوالہ دے رہا تھا۔
’’ہاں‘ میں کوئی مکر تھوڑی گئی ہوں‘ مجھے آج بھی آپ سے محبت ہے جیسے کل تھی۔ آپ کی طرح تھوڑی ہوں کہ دل میں کچھ‘ لفظوں میں کچھ۔‘‘ وہ اعترافِ محبت کرتے ہوئے اسے کچھ جتاگئی تھی۔
’’جناب… ہم کچھ کام وقت پر اٹھا رکھتے ہیں ایسے ہی تو نہیں دنیا ہماری فراست اور ذہانت کو مانتی۔‘‘ کندھوں سے ہاتھ ہٹا کر وہ اب اس کی کمر کے گرد گھیرا بناگیا تھا۔
انشال کی پلکیں اس درجہ قربت پر لرزنے لگی تھیں۔ داور نے دلچسپی سے اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔
’’ہاں انشال… میں ہمیشہ سے زیادہ ایکسپریسو نہیں رہا ہوں مگر یہ سچ ہے کہ مجھے تم سے اس وقت سے محبت ہے جب مجھے محبت کے صحیح مفہوم کا ادراک نہ تھا۔ صرف اتنا چاہتا تھا کہ اس حسین خزانے کا محافظ میں ہی بنوں۔ یہی چہرہ میری ستائشی نظروں کی گرفت میں رہے۔‘‘ وہ دھیمے سے بولتے ہوئے اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔
بیڈ روم میں مہکی مہکی و دل فریب سی خوشبو در آئی تھی۔ یہ خوشبو اس محبت کی تھی جس کا اعتراف یہ دونوں کررہے تھے۔
انشال نے پُرسکون ہوکر داور کے کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی تھیں۔ وہ اب اسے اتنا عرصہ خاموش رہنے کی وجوہات بتارہا تھا‘ وجوہات وہی تھیں جو اس نے کچھ دیر پہلے رودابہ سے کہی تھیں۔ انشال کو ٹوٹ کر اپنے شوہر کی محبت پر پیار آیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close