Hijaab Nov-16

راز

رفاقت جاوید

’’ بی بی جی ہر وقت کا رونا دھونا چھوڑ کر صابر و شاکر ہوجائیں یا میرے مشورے پر کان دھر کر سوچیں۔ آپ بڑے لوگ ہیں۔ میری بات پر یقین نہیں کریں گے۔ مگر میں بھی تو آخر لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور حکیم جی کی اولاد ہوں۔ مڈل پاس ہوں۔ میں بھی ماں کی طرح ڈاکٹر ہی بننے کے خواب دیکھا کرتی تھی مگر قسمت نے یاوردی نہ کی۔‘‘ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئیں۔
’’مجھے صبر کی تلقین کرنے والی خود اتنی کم ہمت ہوسکتی ہے یقین نہیں آرہا۔‘‘ مریم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو اس نے اپنے آنسو ضبط کرلیے۔ لرزش زدہ آواز میں بولی۔
’’آپ کو روتا اور تڑپتا دیکھ کر میرا دل دہل جاتا ہے۔ اﷲ کے خزانے میں کسی چیز کی کمی نہیں ۔ بعض اوقات ایک حقیر انسان وسیلہ بن جاتا ہے اور وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔ شاید میں آپ کی پریشانی دور کرنے کا ایک معمولی سا بہانہ ہی بن جاؤں۔‘‘
’’کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘ مریم جاء نماز سے اٹھ کر بولی۔’’تمہاری زندگی گھر گھر کی ملازمت کرتے گزر رہی ہے۔ تم نے زمانے اور دنیا کو خوب پرکھا ہے مجھے جو بتانے چلی ہو۔ اس میں تمہاری سمجھ داری اور منطق ضرور ہوگی۔ بولو کیا مشورہ دینا چاہتی ہو؟‘‘ وہ نہایت ملائمت سے بولی۔
’’میری بیٹی دس سال بعد ماں کے رتبے کو حاصل کر پائی تھی۔ ہمارے شاہ صاحب کی دعا اور ان کے چلے کی بدولت اس کی گود ہری ہوئی تھی۔ آج بھی وہ اس کے گھر آتے جاتے اپنی عنایتوں اور مہربانیوں سے نواز رہے ہیں ۔ دنیا کے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس موجود ہے۔ اللہ کے خاص الخاص بندوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ خاص کر بانجھ پن کے مرض کے ایسے ماہر اور تجربہ کار واقع ہوئے ہیںکہ ان کے حجرے میں جو ان لڑکیوں کی ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے۔ عاشق رسولﷺ ایسے کہ ہر فقرے کے بعد یارسول اللہﷺ کا بلند نعرہ سب کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ان کے پر نور چہرے کی تجلی کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا۔‘‘ وہ مارے اعتقاد کے جھوم رہی تھی۔
’’سب بکواس اور شعبدہ بازی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بغیر سب ناممکن ہے۔ پاکھنڈی اور دھوکے باز ہوتے ہیں یہ لوگ۔ اپنی بیٹی کو سمجھائو ورنہ اس سے مراسم رکھنے سے کسی نئی مصیبت کا شکار ہوجائے گی۔‘‘ مریم زہر خندسے بولی۔
’’بی بی جی وہ جب سے اس کے گھر آنے لگے ہیں رزق کی بھرمار ہوگئی ہے۔ شاہ جی کے توسط سے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور رحمتوں کے دروازے اس پر کھل گئے ہیں۔ آپ وہم میں پڑ کر خود کو گناہ گارمت کریں۔ بہتر ہوتا اگر آپ ان سے ایک دفعہ مل لیتی۔ آگے آپ کی اپنی مرضی۔ دعا اور عطا آپ کو چاہئے ہوگی تو ان کو دیکھ کر ہی آپ فیصلہ کرنے کا پورا حق رکھتی ہیں۔ آپ کو ان کے حجرے میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میری بیٹی کے گھر ملاقات ہوسکتی ہے۔ آپ اپنا مدعا نہیں بھی بتائیں گی تو وہ سمجھ جائیں گے۔ بہت پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ عمر تو ان کی چالیس سال کے لگ بھگ ہوگی مگر بزرگی تو نیلی چھت والے کا کمال ہے کہ ہر انداز میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ‘‘ وہ اب بھی شاہ صاحب کی ستائش میں گم تھی۔
’’ بی بی جی مرض کو ختم کرنے کے لیے ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہوتا ہے ناں۔ آگے مریض کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ اس کی دوا پر بھروسہ کرے یا نہ کرے۔ کسی اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا اسے مکمل طور پر حق حاصل ہے۔ میری بات فقط ایک بار مان لیں۔ ہماری انعم بچی کی گود ہر سال ہری ہوگی۔ مجھے پوری امید ہے۔ وقت پر لگا کر اڑتا جارہا ہے بیٹی کی عمر بڑھتی جارہی ہے۔ سوچنے سمجھنے کا مقام ہے۔‘‘
’’میں تمہیں بہت معتبر اور دانش مند عورت سمجھتی تھی مگر تم بھی بیکار ہی نکلی۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔‘‘ وہ اسے تنبیہہ کرنے لگی مگر وہ اپنی بات پر اڑی رہی۔
’’یہ بتائو کہ اگر تمہارے شاہ جی اتنے عظیم اور پرہیز گار انسان ہیں جو کہ ہر ایک کے محسن اور غموں کے مداوا ہیں تمہاری قسمت کیوں نہ سنوار سکے۔ تمہارے چرسی شوہر کا نشہ ہی چھڑوا دیں تو مان جائوں گی۔ فوراً تمہارے ساتھ چل پڑوں گی۔ میرا تم سے وعدہ ہے۔‘‘ مریم نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’شاہ جی ایسے خبیث اور منحوس لوگوں کو منہ نہیں لگاتے۔ میری تو قسمت ہی پھوٹ گئی اس کی وجہ سے میرے تمام رشتے دار مجھ سے منہ موڑ چکے ہیں کیونکہ انہیں مجھ سے ملنے میں توہین اور ہتک کا احساس ہوتا ہے۔ ‘‘ وہ افسردگی سے بولی۔
’’ظاہر ہے تم اچھے بھلے خاندان سے ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ تمہارا خاندان نہایت توہم پرست اور شرک و کفر جیسی ناقابل معافی غلطیاں اور کوتاہیاں کرنے میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ کاہے کو تم نے اس مزاروں پر چرس اور بھنگ پینے والے سے شادی کرلی۔‘‘ مریم نے ہمدردانہ لہجے میں کہا۔
’’بابا جی کی فال اس کے نام جو نکل آئی تھی۔ میں نے محنت مزدوری کرکے بچے پالے۔ جو کمایا شوہر کی مارپیٹ اور افہیم اور چرس کی نذر ہوگیا۔ اب تو بوڑھی ہڈیاں بھی دکھنے لگی ہیں۔ مگر ابھی تک اس کی روش نہ بدلی۔‘‘
’’کس قدر ضعیف العتقاد اور احمق لوگ ہیں آپ سب۔ فال پر رشتے طے کرنا پانسے کے ذریعے نیک اور بدشگون دنوں کی پیشن گوئی پر شادی کی تاریخیں مقرر کرنا۔ کاروبار کی شروعات‘ بچے کا نام‘ پیروں سے تجویز کروانا‘ تمام کفر اور شرک ہیں۔ ماسی تم جیسے بدعتی لوگ سب جہنمی ہیں۔‘‘ مریم لمحہ بھر توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’تمہارے کہنے پر میں شاہ جی کے دیدار کا شرف حاصل کرنے ان کے حجرے میں تمہارے ساتھ ضرور جائوں گی۔ ذرا دیکھوں تو سہی خدا کے مدمقابل آنے والا دیالو کون ہے۔‘‘ اس نے سرگوشی کی۔
’’سو بسم اللہ بی بی جی۔ میں آج ہی ان سے آپ کے لیے اجازت نامہ لے لیتی ہوں۔ ان شاء اللہ کل بیٹی کو لے چلیں گے۔ آپ یاد کریں گی کہ ماسی نے کس پیر سے ملوا دیا ہے۔‘‘ وہ خوشی سے چہک اٹھی تھی۔ مریم اثبات میں سر ہلا کر گہری سوچ میں غرق ہوگئی۔
ز…ز…ز…ز
شاہ صاحب کے حجرے سے باہر برآمدہ اور چھوٹا سا صحن تھا۔ جس کے وسط میں بکائن کا درخت ہوا سے جھومتا ہوا اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔ درخت کی ٹہنیوں پر ہر رنگ کے کپڑوں کے ٹکڑے مرادیں بر آنے پر عقیدت مند باندھ کر اپنی لگن اور تشکر کا اظہار کرتے تھے۔ ناقدانہ انداز میں جائزہ لیتے ہوئے مریم کو اس ماحول میں کہیں بھی علمیت اور حقیقت نظر نہ آئی تھی۔ سب نہایت مصنوعی معلوم ہورہا تھا۔ مگر پھر بھی اس دنیا کی تہہ تک پہنچ کر سچائی سے بہرہ ور ہونا چاہتی تھی۔
برآمدے میں چٹائی پر ہر قماش کی عورت جن میں برقعہ پوش۔ حجاب پوش چادر پوش اور کٹے ہوئے بالوں میں خوش شکل اور خوش لباس خواتین جنہوں نے دوپٹے سے سر ڈھانپنے کا سب کو جھانسا دے رکھا تھا۔ مریم بھی اسی طقبے سے تعلق رکھنے والی خاتون تھی۔ تین لڑکیاں نومولود بچوں کو اٹھائے بیٹھی تھیں۔ چھ عدد بھاری پائوں سے تھیں۔ جن کا پیر کی عنایت کا دعویٰ تھا۔ دو جوان لڑکیاں کسی بھوت پریت کے آسیب کی شکار تھیں۔ چار پانچ پر جادوگری کے اثرات تھے۔ کینسر کی مریضہ بھی سر پکڑے اپنی باری کے انتظار میں تھی۔ کوئی جوڑوں کے بخار میں مبتلا تھی تو کسی ماں کو بچے کے لیے دودھ ناکافی تھا۔ کوئی شادی کی فال کی خواہش مند تو کوئی رشتے کی تلاش تو کسی کو محبوب کی واپسی کی تمنا تو کوئی ساس کے ہاتھوں تنگ اور کوئی خاوند کی بے روزگاری سے نالاں اور اولاد کی نافرمانیوں سے دل آزردہ۔ غرض یہ کہ ہر طرح کے مسائل سے فضا میں عجیب اور انوکھی بے کلی تھی۔ ہجرے کا درکھلتے ہی لوبان اور اگربتیوں کا ایک بگولا نتھنوں کو چھو کر مرشد کی موجودگی کا تاثر چھوڑ کر ہوا میں تحلیل ہوجاتا۔ ان کے کرشمات کی سرگزشت کی ایک فہرست اس کی سماعتوں میں منتقل ہوکر لمحے بھر کو اس کے ایمان کو متزلزل کرجاتی۔ مگر اگلے سمے خود کو اس سے نکالنے میں کامیاب ہوکر سر جھٹک کر سب کو نہایت حقارت آمیز نظروں سے گھورتی۔
تین ادھیڑ عمر خواتین حجرے کے دروازے کے ساتھ چپکی ہوئی چہرہ سے کبرو پندار کی کیفیت میں مبتلا سب کو بے نیازی وبے پروائی سے دیکھ کر باری سے شاہ صاحب تک لے جارہی تھیں۔ تینوں نے ہرے پیلے اور زرد رنگ کے جاپانی سلک کے جوڑے پہن رکھے تھے پہلے وہ خاتون کا مسئلہ دریافت کرنے میں فقط ایک سوال پر اکتفا کرتیں مگر دوسری جانب مسائل میں گھری ہوئی خاتون اسے لے کر اپنی روداد ان کے گوش گزار کر ایسے مطمئن ہوجاتیں جیسے ان عورتوں کی سفارش سے ہی تو ان کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔
پیرومرشد ولی اور بزرگوں کی محفلوں کا فسوں صنف نازک کے مزاج پر ایسا اثرانداز ہوتا ہے کہ جاہل نا بلد اور تعلیم یافتہ اور پختہ معزز خواتین کی سوچ میں رتی بھر فرق محسوس نہیں ہوتا۔ باتوں کے جادو اور حصار میں آجانا ان کا فطری مسئلہ ہے۔ ہمیشہ یہی کمزوریاں ان کی پشیمانی اور مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ تعلیم یافتہ خاتون بھی پرلے درجے کی جاہل اور ان پڑھ معلوم ہونے لگتی ہے۔ جیسے آج ماسی اور مالکن کے درمیان جو طویل وسیع خلیج اس کے شاداں وفرحاں حالات کی وجہ سے حائل تھی۔ آج دونوں کو ایک ہی نقطے پر منجمد کردیا تھا۔
شاہ صاحب کے پاس اسی لیے تو ہر کلاس کی عورت ایک ہی صف میں نظر آرہی تھی۔ مریم جیسی جہاندیدہ اور دانش مند سینکڑوں عورتیں باتوں کے سحر کا شکار ہوچکی تھیں۔ نجانے ان حجروں میں ایسا کون سا جادو پنہاں ہوتا ہے کہ عقل ماری جاتی ہے۔
مریم سبز رنگ میں ملبوس خاتون کے ساتھ حجرے میں داخل ہوئی تو دروازے کے سامنے دیوار کے پاس تخت پوش پر شاہ صاحب کا حلیہ اگربتی اورلوبان کے دھوئیں میں دھندلا نظر آرہا تھا۔ سر پر ہرے رنگ کی دستار اور خاکی رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس ہاتھ میں موٹے دانے دار تسبیح پکڑے یارسول اللہﷺ اللہ اکبر کے بلند نعرے سے مریم دہل گئی۔
انہوں نے سرسری نظر اس خاتون پر ڈالی جو اسے ان کے پاس لائی تھی۔ مریم کا آس پاس کا جائزہ لینے کا منصوبہ ذہن کے کسی انجان کونے میں جا چھپا۔ کمرے کی ملگجی روشنی میں ایسا فسوں تھا کہ وہ مارے احترام و عقیدت کے ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان سے نظریں ملانے کی جرات نہ کرسکی۔ دوپٹے کو کھسکا کر پیشانی تک لائی اور عقیدت مندی میں سر جھکالیا۔ حاجت خاموشی میں بھی چیخ اٹھی تھی۔
’’بڑھیا مجھ سے گڑیا لینے آئی ہو۔ رحمت اور نعمت دونوں سے تمہارا آنگن مہک اٹھے گا۔‘‘ اللہ اکبر بارعب نعرہ بلند ہوا۔ مریم حقیقت پر مبنی خواہش شاہ صاحب کی زبانی سن کر حواس باختہ ہوگئی۔ جو بات اس کے دل میں مقید تھی وہ شاہ صاحب کی زبان پر تھی۔
’’ادھر بیٹھو۔‘‘ انہوں نے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بغیر کسی جھنجھلاہٹ کے ان کے سحر میں کھو گئی تھی۔ ہری رنگ کی پگڑی درست کرکے لمبی کھچڑی نما ڈاڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے قرآنی آیات پڑھنے لگے۔ ایک طویل پھونک کے بعد سر پر دم کیا۔ عرق گلاب کا اسپرے کیا اور بولے۔
’’بڑھیا جس کے لیے اولاد چاہئے کل اسے لے آنا۔ نیلی چھت والے کی مرضی سے اس کی گود ہری ہوگی۔ اس میں میرا کمال ہرگز نہیں۔ تمہارے لیے خوش خبری ہے۔ جاؤ ابھی سے شرینی تقسیم کردو۔‘‘ مریم نے نہ آئو دیکھا نہ تائو اتنا بڑا مژدہ سن کر دل اچھلا۔ پانچ ہزار کا کڑکتا ہوا نوٹ نکال کر ان کے پائوں پر رکھ کر گڑگڑاہٹ سے بولی۔
’’یہ دیرینہ تمنا پوری کردیں شاہ صاحب۔ آپ کو منہ مانگا انعام ملے گا۔‘‘
’’ہم بے لوث خدمت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ہمیں پیسے کی طمع ہے نہ رتبے کا لالچ۔ بس درویشی ہی ہمارا انعام ہے۔ جو نیلی چھت والے نے مجھے بخشا ہے۔ ‘‘ ان کے لہجے میں مجذوبانہ پن عودکر آیا تھا۔ پھر انگشت اٹھا کر بولے۔
’’جائو بڑھیا تمہارا کام ہوگیا کل آنا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں ماسی کو دعائیں دیتی باہر نکل آئی۔ ماسی اس کی منتظر تھی۔ اس کے چہرے پر طمانیت و تسکین دیکھ کر اس کے قریب آگئی۔
’’میرے شاہ صاحب کا تجمل کیسا لگا۔‘‘ لہجے میں تجسس تھا۔
’’بہت خوب۔ انہیں پہلے سے ہی میرے مسئلے کی خبر ہوچکی تھی ماسی یہ کیسے؟ تم نے پہلے سے ذکر تو نہیں کردیا؟‘‘ وہ ابھی بھی غیر متحرک تھی۔
’’نہیں جی وہ بہت پہنچے ہوئے ولی اللہ ہیں جی۔ مستقبل میں درپیش آنے والے حالات قسمت کا حال جادو ٹونے کا توڑ۔ مقناطیسی علاج اور بھوت زدہ گھروں کو آسیب سے پاک صاف کرنا۔ جن پریت سے چھٹکارا تمام علاج ان کے غلام ہیں بی بی جی۔ ان کے اشارے پر روح کی دنیا ناچتی ہے۔‘‘ ماسی ان کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے تفاخر سے تنی ہوئی تھی۔
’’ آج سے ہم دونوں پیر سکھیاں بن گئی ہیں۔‘‘
’’زیادہ تعریفیں مت کرو۔ میری زندگی کے کچھ اٹل اصول ہیں۔ میں پہلے آزماتی ہوں پھر ٹھونک بجا کر اپنی رائے قائم کرتی ہوں۔ بے شک وہ خداتعالیٰ کی محبت میں غرق اور عاشق رسولﷺ نظر آتے ہیں۔ لیکن عالم الغیوب تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ علم بلاغت کی حدوں کو چھونا مذاق نہیں۔ میں حتیٰ الامکان سچائی کا کھوج لگا کر چھوڑوں گی۔ خدانخواستہ جذباتی پن میں پانچ ہزار ضائع کر آئی۔ اور جناب فرماتے ہیں۔ مجھے پیسے کا کوئی لالچ نہیں اگر ایسا تھا تو رقم میرے منہ پر دے مارتے… تو بات بھی بنتی۔‘‘ پچھتاوا ہر لفظ میں تھا۔ وہ ابھی تک یہ معمہ حل نہ کرسکی تھی کہ پیر صاحب کی موجودگی میں اس کی ذہنی کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق کیوں آگیا تھا۔
’’بی بی جی ذرا خبر دار رہو۔ یہ تخریب کاریا دھوکے باز نہیں ہیں۔ اللہ کے پیارے بزرگ ہیں۔ انہیں آپ کی سوچ تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ ان کی بدعا انسان کو اپاہج کردیتی ہے۔ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر کتے کی موت مر جاتا ہے گناہ گار۔‘‘ وہ کانوں کو چھوتے ہوئے بولی۔
’’میں تو مذاق کررہی تھی۔ ان سے تمہارا واسطہ کئی سالوں سے ہے تم بہتر جانتی ہو۔ اس میں شک نہیں ۔ کیا پرسنلٹی پائی ہے۔ نو افشاں مبارک چہرہ در افشاں زبان اور دبدبہ و جلال ایسا کہ اپنا مدعا بتانے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس ہونے لگے اور کم مائیگی اور کمتری کا احساس زندہ درگور کردے۔ لیکن پھر بھی سوچتی ہوں کہ باطن میں کیا پل رہا ہے۔ اس کی خبر تو تمام قوتوں کے مالک کو ہی ہوسکتی ہے۔ پیر صاحب کو کیسے معلوم ہوجاتا ہے۔ ‘‘ وہ خوف سے اضطرابی کیفیت میں بولی۔ ’’کل انعم کو لانے کا حکم صادر ہوا ہے۔ حکم کی تعمیل میں تاخیر ان کی ناراضگی اور غصے کی دعوت دینے کے برابر ہے۔‘‘ وہ نرم پڑ گئی کہ مبادا اسے بدعا نہ لگ جائے۔
’’جی بی بی جی۔ آپ نے بالکل صحیح سوچا۔‘‘ ماسی نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی۔ دونوں برآمدے سے باہر نکل کر گاڑی کی جانب سرعت سے چل دیں۔ ابھی مریم گاڑی میں بیٹھی ہی تھی کہ موبائل پر بیل بجی۔ نمبر کسی انجان کا تھا مگر آواز کچھ شناسا لگ رہی تھی۔ وہ بے تسکین اور متفکر ہوکر بے ہوش ہونے والی تھی کہ دوسری طرف سے گونج دار آواز نے کانوں کے پردے پھاڑ دیئے۔
’’اگر تمہارے یقین وایمان میں پختگی نہیں تو بڑھیا میرے پاس کیوں آئی ہو؟ کیا کسی مخبر ایجنسی سے تمہارا تعلق اور رابطہ ہے۔ بدبخت اگر تم کل بانجھ بیٹی کے لیے مجھ سے دعا کروانا چاہتی ہو تو مکمل یقین ومحکم کے ساتھ میرا سامنا کرنا۔ ورنہ تمہیں چارپائی سے لگا دوں گا۔ میں کوئی مذاق یا لطیفہ نہیں ہوں۔ تم کس قدر دوغلی اور منافق عورت ہو۔ اگر دعا لینے کی خواہش نہیں تو کم از کم مرشد کی بدعا تو نہ لو۔‘‘ اور کال کٹ گئی۔ مریم تھرتھر کانپتے ہوئے بولی۔
’’ماسی میں مان گئی۔ تمہارے شاہ صاحب کو۔‘‘ اب تو ذہن سوالات کی بھرمار میں الجھ گیا۔ ہر لمحہ خود کو تسلیاں دیتی گھر پہنچی۔ اب ضیائے شعور پر ایسا پردہ پڑا کہ سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہوکر رہ گئیں۔
انعم کے والد بیرون ملک کاروباری دورے پر گئے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے مریم آئی ہوئی تھی۔ ماں کو ناگفتہ بہ حالت میں دیکھ کر گھبرا گئی۔ چپ کا روزہ ٹوٹنے کا نام نہ لے رہا تھا کہ مبادا کہیں پھر غیر مناسب بات منہ سے نکل جائے۔ آخر بڑی مشکل سے تمام آب بیتی اس کی سماعتوں میں انڈیلنے کے باوجود تسکین اور طمانیت نام کو نہ ملا۔
’’ماما اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ شاہ صاحب کے دیدار اور جلوہ گری کا شرف میں بھی حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ ممکنات میں سے ہے کہ ایسے نیک بزرگ کی دعا سے میں ماں کے مقدس اور بالا درجے کو پالوں۔ انتظار کرکرکے اب تو میں بھی ڈیپریشن کا شکار ہوچکی ہوں۔ سسرال ہر وقت مجھ سے جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے۔ علیم الگ طعنوں تشنوں سے مجھے تنگ کرکے دن بدن مجھ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ میرے رونے اور تڑپنے کا ان پر رتی بھر اثر نہیں ہوتا۔ وہ دن دور نہیں جب وہ مجھے طلاق دے کر دوسری شادی کرلیں گے۔ ماما میں اپنی اس توہین کو برداشت نہیں کرسکوں گی۔‘‘ اس کی آنکھوں میں ساون بھادوں کی جڑی لگ گئی۔ مریم کو خوف کی شدت نے ایسا بے کل اور بے تاب کیا کہ انعم رات بھر ماں کے پاس بیٹھی تسلی و تشفی دیتی رہی اور دونوں رونما ہونے والے حیران کن حادثے کے متعلق بارہا تبادلہ خیالات کرتی رہیں۔ اور آخر امیدوبیم کی کشمکش میں سونے کی ناکام کوشش کرنے لگیں۔ مگر پہاڑ سی رات گزرنے کا نام نہ لے رہی تھی صبح دونوں تیار ہو کر ماسی کے ساتھ شاہ صاحب کو ملنے چل پڑیں۔ سبز کپڑوں والی عورت انہیں سب سے پہلے شاہ صاحب کے پاس لے گئی۔ انہوں نے نیم واہ نگاہوں سے ماں بیٹی کی اسکریننگ کی۔ حسب معمول یارسول اللہﷺ‘ اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر گویا ہوئے۔
’’اس میں کوئی نقص نہیں کس نے اس ناری کو بانجچھ پن سے موسوم کیا ہے۔‘‘ تیر بہدف ایسا تھا کہ دونوں وجدو خوشی کے عالم میں جھوم اٹھیں۔
’’شاہ صاحب بچی کو کوئی وظیفہ پڑھنے کو دیں۔ اس کے سر پر اپنا شفقت بھرا بابرکت ہاتھ رکھیں ورنہ اس کا شوہر اسے طلاق دے دے گا۔ خاوند کا بے بہا پیسہ بھی عورت کے لیے عذاب الہٰی ہے۔‘‘ وہ دکھی لہجے میں بولی۔
’’وہ اپنا ٹیسٹ کرانے سے کیوں گھبراتا ہے کیا مردانگی پر حرف آتا ہے۔ خود داری کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس لیے بلا تامل بیوی کو ہر موقع پر سولی پر لٹکائے رکھو۔ بزدل کہیں کا۔ پیسے سے عورت خرید سکتا ہے مگر ایسی باوفا اور حسین و جمیل ناری ڈھونڈے سے بھی حاصل نہ کر پائے گا۔ اگر تم اس کو میرے پاس لانے میں ایک مہینہ بھی لیٹ ہوجاتی تو پھر میرا علاج بھی ناکام ہی ثابت ہوتا۔ مبارک ہو تمہیں۔ خوش خبری ہے اس کے لیے۔ بڑھیا تم نے مجھے اپنا پیرومرشد تسلیم کیا ہے میری صواب دید پر چلو گی تو خدا کی اس محفل میں نشست و برخاست اوربرتائو کے علم کو پاکر عالم بالا کا درجہ حاصل کرلوں گی۔‘‘ وہ منجھی ہوئی آواز میں بول رہے تھے۔
’’جی۔‘‘ دونوں اس کی پیشن گوئی پر حیرت و اشتیاق میں ڈوبی قوت گویائی کھوچکی تھیں۔
’’مجھے اس ناری کے لیے چلہ کاٹنا پڑے گا۔ بہت مشکل کام ہے۔ بعض اوقات میں خود بیمار پڑجاتا ہوں چلے کے آخری دن ناری بھی میرے سنگ عبادت کرے گی۔ اگر منظور ہے تو میں آج رات سے اپنا وظیفہ شروع کئے دیتا ہوں۔‘‘ وہ اپنی باتوں کا تاثر ان کے چہرے کے ہر نقش پر ثبت ہوتے دیکھ کر بے نیازی سے بولے۔ ’’مجھے کسی سے کسی قسم کا لالچ نہیں نہ ہی میں کسی کی ایک پائی کا روادار ہوں۔ طمع میری دعا کے تمام اثرات کو زائل کرکے مجھے گناہ گار بنا دے گی۔ استغفار… سبحان اللہ۔‘‘
’’میں آپ کے ہمراہ عبادت کرنے میں فخر محسوس کروں گی شاہ صاحب۔‘‘ انعم بے تابی سے بولی۔
’’ناری دانش مند ہے۔ اس در سے بامراد ہو کر لوٹوگی۔‘‘ لہجے میں خوشی تھی۔ پھر شاہ صاحب نے ایک لمبی فہرست صدقے اور خیرات کے لیے گنوا کر بولے۔
’’بڑھیا میں شرطیہ کہتا ہوں کہ یہ کام تمہارے بس کا روگ نہیں۔ اگر تمہارا عقیدہ پختہ ہے ارادہ مستحکم ہے تو میرے مجاور اور موکل وغیرہ تمہارا یہ کام کردیں گے۔ سب سے پہلے قبرستان میں ایک بکرے کو دفن کرنا ہے۔ نمبر دو سو من کالے ماش کسی ویرانے میں چرند پرند کو کھلانے ہیں ایک سو ایک انڈوں کو مجھ سے دم کروا کر کسی چوراہے پر روزانہ سات انڈے پھوڑنے ہیں۔ ‘‘ آگے وہ کچھ اور تمہید باندھنے کو تھے کہ انعم بول اٹھی۔
’’آپ صحیح فرمارہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم سے نہ ہوگا۔ ہم آپ کو نقدی دے دیتے ہیں۔ آپ کل سے عملیات کی شروعات کریں۔ کاش آپ مجھے پہلے مل جاتے۔ ‘‘ وہ حیرت زدہ لہجے میں بولی۔
’’میں نے کہا ناں ناری سمجھ دار ہے۔ بڑھیا عمر کی وجہ سے کھسک گئی ہے۔ وہم میں پڑ جاتی ہے۔ جوڑ توڑ اور جمع تفریق اس کی فطرت کا حصہ ہے۔‘‘ وہ قدرے خوشمگین لہجے میں بولے۔
’’ہائے میں اتنی عمر رسیدہ تو نہیں ہوں جتنی شاہ صاحب نے سمجھ رکھا ہے۔ پچپن سے کون ہے جو بڑھیا کہلائے۔ کوئی اور مجھے بڑھیا کہہ کر تو دیکھے ۔ ذرے کی مانند میہن کردوں۔‘‘ وہ اندر ہی اندر پیج و تاب کھارہی تھی۔ ان کے جلال کا ایسا تاثر تھا کہ ایک لفظ ادا نہ کرسکی بلکہ مسکرانے پر ہی اکتفا کر گئی۔
’’ماما آپ کو نجانے کیوں شاہ صاحب کے کردار پر شک ہونے لگتا ہے۔ بہت اچھے ہیں وہ۔ بائی گاڈ مجھے بے حد دین دار اور متقی ہونے کے احساس نے خاصا پُرامید بنادیا ہے۔ ان کے چہرے مبارک پر کس قدر روحانیت اور جاہ و جلال کی چھاپ ہے۔ جسے آپ رعونیت کا نام دیتی ہیں۔ ان کی جلوہ گری اور نوازشات کے انتظار میں امیر گھرانوں کی ویل ایجوکیٹڈ لیڈیز بھی برآمدے کی غلیظ چٹائی پر بیٹھی ان کے دیدار و دعا کو ترس رہی ہیں۔ آخر ان میں کوئی تو بات ہے ناں۔ کیا صرف ہم ہی بہت سمجھ دار ہیں باقی یہ تمام عورتیں احمق اور ناقابل فہم ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا۔ بے شمار لڑکیوں کی گود ان کی عنائیت اور مہربانی سے ہری ہوتی ہے۔ کتنے بیماروں کو صحت نصیب ہوئی۔ کتنے ہی بے روزگاروں اور مفلسوں کا روزگار لگ گیا۔ آپ خود بھی اس بات کی چشم دید گواہ ہیں۔ ما ما پلیز شک اور وہم کو دل سے نکال دیں ورنہ میں اس کی سزا میں ماں نہیں بن سکوں گی۔‘‘ وہ ماں کے پاؤں دباتے ہوئے خوشامدی لہجے میں بولی۔
’’تم ٹھیک کہتی ہو۔ ویسے ہی کبھی کبھار ذہن میں فتور آجاتا ہے۔ ابھی تک وہاں کے ماحول میں ہم نے کوئی فریب اور دھوکے بازی نہیں دیکھی۔ تمہارے بعد اس خاتون کے لیے چلہ کاٹ رہے ہیں۔ منسٹر کی بیوی ہے۔ ظاہراً کیسی خوش اور مطمئن نظر آرہی ہے۔ پندرہ سال سے اولاد کو ترس رہی ہے بے چاری۔ اﷲ اس کی مراد پوری کرے۔‘‘ مریم نے بیٹی کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں اسے خیال آیا ۔ وہ اچھنبے سے بولی۔
’’انعم بھولے سے بھی شوہر سے اس علاج کا ذکر نہ کرنا۔ یہ مرد حضرات عموماً ایسے علما و صلحا ‘ درویش و عباد کو مصلحت کوشی اور تلون مزاجی کے نام سے نواز کر ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ دھیان رکھنا ورنہ ساری خوش آئند جدوجہد گھر بھر میں قیامت کھڑی کرسکتا ہے۔‘‘
’’مام… آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔ وہ صدقے کے اخراجات ہی سن کر ہمیں گولی سے اڑادیں گے۔ ارادہ مجبوری ہم نے بھی ان کی ہر ڈیمانڈ کو پورا کیا ہے۔‘‘ وہ نہایت طمانیت سے بولی۔
’’ماما شاہ صاحب کے کہنے کے مطابق اگلے سال انہی دنوں میں میری گود میں بچہ ہمک رہا ہوگا۔ یہ پہاڑ جیسا سال کیسے بیتے گا؟‘‘
’’بچے کی تیاریوں میں میری جان ۔‘‘ ماں کھل اٹھی۔
’’بس دل اور زبان کی پکی رہنا۔ ورنہ دونوں کو طلاق دے کر رخصت کردیا جائے گا۔‘‘ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور ہنسنے لگیں ۔ شاہ صاحب حجرے میں چلے کے لیے بیٹھ چکے تھے۔ آنے جانے والوں کی آمدورفت ختم ہوچکی تھی۔ صرف ایمرجنسی والے کیس پر نظر ثانی کی جاتی۔ عشاء کی نماز کے بعد انعم بلاناغہ پھونک مروانے اور دم کیے ہوئے عرق گلاب کا اسپرے پورے بدن پر کرانے ماں کے ساتھ آتی تھی۔
چالیسویں رات کی عبادت میں انعم کی شرکت بہت لازم تھی۔ مریم بیٹی کو حجرے میں اکیلا چھوڑنے پر تذبذب کے عالم میں گھر گئی۔ آخر اس نے شاہ صاحب کو عرضداشت لکھ کر اجازت حاصل کرلی کہ شاہ صاحب ان کے گھر میں ہی چلے کی آخری رات قیام کرلیں گے۔
مریم اور انعم نے خوشی خوشی ان کی آمد کی تیاری کی۔ بیس منٹ میں کمرے کو خوب سجایا ۔ اگردان میں اگربتیاں جلائیں۔ لوبان کی دھونی دی۔ شاہ صاحب کے بیٹھنے کے لیے لاؤنج سے مخملیں دیوان اٹھوا کر وہاں لگادیا۔ چلمچی‘ شمع دان‘ پیالے‘ گلاب پاش مرصع چینی کے تھے۔ صراحی اور خالص چاندی کا کٹورا رکھ کر دونوں نے کمرے کا جائزہ لیا۔ شاہانہ طرز سے آراستہ و پیراستہ کیا ہوا کمرہ شاہ صاحب کے شایان شان معلوم ہوا۔ دونوں مطمئن ہوکر بعد نماز عشاء انہیں لینے چلی گئیں۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی شاہ صاحب ٹھٹھک گئے۔ نگائیں نیچی کیے مخملیں دیوان پر براجمان ہو کر بولے۔
’’بڑھیا اب تم ہماری عبادت میں مخل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے جاسکتی ہو اور ادھر آنے کی گستاخی نہ کرنا۔‘‘ وہ کھسیانی سی ہنسی سے شرمندگی مٹاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
آج عبادت و ریاضت کی آخری شب تھی۔ انعم ماں بننے کی خوشی میں پھولی نہ سما رہی تھی۔ آج کی شب کے بعد وہ کسی وقت بھی حاملہ ہوسکتی تھی۔ اسی نشے میں سرشار وہ شاہ صاحب کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ دو گھنٹے تک طویل خاموشی رہی۔ شاہ صاحب پڑھ پڑھ کر اس پر پھونکیں مار رہے تھے۔ اور وہ مدہوش ہوتی جارہی تھی۔ اب عرق گلاب کے اسپرے کی باری تھی۔ پیر صاحب نے یارسول اﷲ کا نعرہ لگا کر اس کا ڈوپٹہ سر سے اتار کر بالوں میں اسپرے کرنا شروع کردیا۔ وہ سر جھکائے نہایت عقیدت سے بیٹھی رہی۔
’’ڈرو مت۔ ہم تمہیں نظر اٹھا کر دیکھنے کے روادار نہیں ہیں۔ تم مجھ پر حرام ہو ناری۔ ‘‘ وہ اتنا کہہ کر اس کے کپڑوں پر اسپرے کرتے ہوئے تیزی سے پڑھتے جارہے تھے۔ جس کی سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہ عقیدت مندانہ انداز میں بیٹھی رہی۔ اسی کیفیت و حالت میں رات گزر رہی تھی۔ اور وہ تھی کہ ہر لمحے متاثر ہورہی تھی۔
جب اسے حکم ہوا کہ ’’اب تم جاسکتی ہو۔‘‘ تو وہ خوشی سے کھلتی ہوئی اوپر آگئی ۔ ماںکو آوازیں دینے لگی۔ مگر جواب نہ ملنے پر وہ باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔ مریم رسیوں میں جکڑی ہوئی ملی۔ اس کے منہ میں اسی کا ڈوپٹہ ٹھونسا ہوا تھا۔ وہ تیزی سے اسٹور کی طرف بھاگی۔ جو لاکر لٹ جانے کی داستان پیش کررہا تھا۔ وہ چیختی ہوئی ڈر کے مارے پیر صاحب کی طرف بھاگی۔ وہ ابھی بھی اسی حالت میں تسبیح پڑھ رہے تھے۔ اس کی آواز پر چونک کر بولے۔
’’تم نے میرا چلہ توڑ کر اچھا نہیں کیا۔ تمہاری اور میری چالیس دن کی عبادت ضائع ہوگئی۔‘‘ انعم یہ سن کر چکرا گئی۔ وہ یکسر بھول گئی کہ اس کی ماں کے ساتھ کیا ہوا ہے۔
وہ غصے و خفگی سے وہاں سے اٹھے اور تیزی سے باہر نکل گئے۔ وہ خراماں خراماں سڑک پر چل رہے تھے اور خود کلامی کررہے تھے۔
’’اس گھر تک رسائی ناممکن تھی۔ اس دولت پر میرا اور مریدوں کا بھی تو حق ہے ناں۔ آخر یہ رزق اسی رب کا دیا ہے ان کا تو کہیں سے نہیں۔ اگر یہ ذات وجود میں نہ آتی تو ہمارے جیسے غریب اور مجبور لوگوں کا کاروبار کیسے چمکتا۔ اب میں ڈیفنس میں دو کنال بنگلے کا مالک ہوں اور چار عدد بیویاں میرے پاؤں دباتے نہیں تھکتیں۔ اور جو عزت‘ نام و نمود مجھے نصیب ہوا ہے۔ نوشتہ تقدیر ایسے نام جری جرنیلوں اور بادشاہوں کے مقدر کی لوح پر کندہ کرتا ہے۔ ہمیں اس ذات کو بے وقوف بنانے کا گر آنا چائیے۔ آج ایک دولت مند عورت کے مال پر اپنا حق جتانے سے میری دولت کی تجوری میں ایک اور چلے کا اضافہ ہوگیا۔ جو خوب کامیاب رہا۔‘‘ وہ فخر و مسرت سے ورد کرتا ہوا ’’رام رام اپنا پرایا مال جپنا۔‘‘ خراماں خراما ں جارہا تھا کہ پیچھے سے پولیس کی گاڑی آئی اور اسے گھیرے میں لے لیا۔
ماں بیٹی پولیس کو اطلاع دینے کے بعد سکتے میں چلی گئیں۔ کہ آناً فاناً یہ سب کیسے ہوگیا۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہنسے یا دھاڑیں مار کر روئیں۔
’’کاش یہ راز ایک راز ہی رہے ورنہ ہم اپنے شوہروں کو کیا جواب دیں گی۔‘‘
’’یہ ناممکن ہے بیٹا! ایک جھوٹ سینکڑوں غلطیوں کو جنم دیتا ہے اور ایک سچ سینکڑوں افراد کو درس سکھا دیتا ہے۔ خدا کا شکرادا کریں کہ مال گیا قسمت میں ہوا تو مل جائے گا۔ جان اور عزت ایک بار چلی جائے تو اپنی تمام دولت لٹانے کے بعد بھی واپس نہیں آتی۔ جب کہ ہم یہ دونوں نعمتیں بھی لٹانے کے بہت قریب سے بچی ہیں۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close