Hijaab Nov-16

آغوش مادر

قرۃ العین سکندر/عنزہ یونس

قرۃ العین سکندر
عقیدت کے چند پھول میری ماں کے نام نچھاور
ماں مامتا کی خوشبوئوں میں لپٹا ہوا ایک پیارا سا وجود‘ آبشار جیسی ٹھنڈک لیے تپتے جلتے رہگزار صحرائوں میں خنکی لیے اور کبھی نرم سی دھوپ کا خوشنما سا احساس یخ بستہ ٹھٹھرتے موسم میں گرماہٹ دیتی۔ میری ماں اگرچہ بہت اعلیٰ و ارفع اسناد کا انبار لیے ہوئے نہیں ہیں مگر امی وہ واحد ہستی ہیں جنہوں نے مجھے نکھار اور میرے وسعت قلم میں ایک بھرپور اور نمایاں کردار ادا کیا۔
مجھے بخوبی یاد ہے کہ میں میٹرک میں تھی جب قلم سے ناطہ جڑا تھا جب بھی کوئی تحریر رقم کرتی تو امی جان کو سامنے بٹھا کر سنایا کرتی تھی۔ وہ اس قدر دلجمعی سے سنتی تھیں اور ساتھ ہی بہت حوصلہ افزائی بھی کرتیں‘ اسی طرح ایک مرتبہ ہم کسی شادی میں شرکت کے لیے مدعو تھے وہاں اچانک کسی غزل کی آمد مجھے ہوئی‘ امی جان چہرہ شناس تھیں میں نے بتایا تو ازحد پریشان ہوئیں کہ وہاں سر محفل قلم اور صفحہ کہاں سے دستیاب ہوگا۔ کہیں غزل میری بیٹی کے ذہن سے محو نہ ہوجائے۔
اندازہ کیجیے کیا میں کوئی بہت اعلیٰ قسم کی شاعرہ تھی‘ ہر گز نہیں مگر میں اپنی والدہ کے لیے انمول تھی۔ میرے احساسات جذبات ان کے لیے گراں قدر تھے۔
میری امی بہت ملنسار مہمان نواز بھی ہیں جب بھی ہمارے گھر کوئی مہمان یا ملاقاتی آتا‘ امی کبھی اسے بھوکا پیاسا گھر سے رخصت نہ ہونے دیتی تھیں۔ وہ ایک بہترین منظم بھی تھیں‘ چھ بچوں کی تربیت نہایت عمدگی سے کی چونکہ میرے والد صاحب ذریعہ معاش کی فکر میں سرگرداں رہا کرتے تھے۔ انہیں کچھ معلوم نہ ہوتا تھا کہ فلاں تقریب کے لیے ہم سب بچوں کے لباس کیسے بنے یا کسی تقریب میں دینا دلانا‘ سب میری امی عمدگی سے دیکھا کرتی تھیں۔ خاندان بھر میں میری امی کی سلیقہ مندی کے چرچے رہے۔ میری والدہ نے بچوں میں کبھی بھید بھائو نہیں رکھا‘ نامعلو م ماں کو کیسے معلوم ہوجایا کرتا تھا کہ فلاں چیز فلاں بچہ زیادہ رغبت و شوق سے تناول کرتا ہے۔
والدہ صاحبہ اس کے لیے وہی پکایا کرتی تھیں۔ بچپن میں جب اسکول جاتے تو سب دوست کہتی تھیں قرۃ العین کے گھر کا کھانا سب سے عمدہ اور لذیز ہوا کرتا ہے۔ میری والدہ کے ہاتھ میں ایسی لذت تھی کھانے والا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا۔ میری والدہ ماشاء اللہ حیات ہیں‘ اللہ پاک ان کا سایہ مجھ پر سلامت رکھے۔ میں سوچتی نہیں کہ میری امی اس شہر اس ملک سے دور سات سمندر پار چلی گئی ہیں‘ آج بھی جب فون آتا ہے تو میں ان کے لیے وہی بچی بن جاتی ہوں جبکہ آج میں خود مامتا کے جذبے سے سرشار ہوں۔ ماں جیسا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا اللہ رب العزت سب کی مائوں کو سلامت رکھے‘ آمین۔
عنزہ یونس انا
السلام علیکم! آج آغوش مادر میں ہمت کرکے بالآخر میں آہی گئی‘ ورنہ میں بھلا کہاں اس قابل کے ماں جیسی انمول ہستی کے متعلق کچھ کہوں یا لکھوں۔اس لیے اگر کوئی لفظ ماں کی عظمت کے شایانِ شان نہ لگے تو کم فہم کو معاف کیجیے گا۔
لفظ ’’ماں‘‘ مجھے نہیں لگتا اس سے بڑھ کر کسی اور لفظ میں اتنی چاشنی و محبت ہوگی جو مٹھاس اور تاثیر اس لفظ عظیم میں ہے وہ نہ تو کسی مشروب میں ہے اور نہ ہی کسی بہتی آبشار میں۔
اس لفظ کو ادا کرتے ہوئے میرے دل میں محبت و عقیدت کا سمندر ٹھاٹھیںمارتا ہے اس کی پیمائش نا ممکن ہے اس لفظ سے میری انسیت و محبت اس قدر زیادہ ہے کہ اکثر ادا کرتے وقت شدت جذبات سے لب محض تھرتھرا کر رہ جاتے ہیں۔
پھر ماں کی عظمت کے باقی مدارج پر بات کرنا تو بہت دور ہے بحیثیت مسلمان میں لفظ ماں کو عبادت اور اس کی تعظیم کو خدا کی رضا سمجھتی ہوں اور میں جب جب لفظ ماں پر غور کرتی ہوں دل سے ایک ایسا نور نکلتا ہے جو میری بصارت کو روشن اور روح کو سیراب کردیتا ہے بھلا مجھ جیسی کم فہم نادان ماں پر کیا لکھے گی؟ اور اگر لکھے گی تو بہت کم محدود اور کمزور…
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ماں کی عظمت کا ایک واقعہ سناتی ہوںایک دفعہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ‘ صحابہ کرامؓ کے درمیان براجمان تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اگر میری ماں حیات ہوتیں اور وہ مجھے اپنے حجرے سے آواز دیتیں (محمد…) اور میں نماز ادا کررہا ہوتا یہاں تک کہ میں الحمدللہ شریف بھی پڑھ چکا ہوتا تو میں اپنی نماز توڑ دیتا اور دوڑتے ہوئے جاتا اور کہتا ’’جی اماںحضور… جی اماں حضور…‘‘ سبحان اللہ‘ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کی عظمت کو اس طرح سے بیان کیا ہے کہ مزید کچھ کہنا عجیب لگے گا۔ ایسے میں حقیقت تو یہ ہے کہ میں خود کو اس قابل نہیں پاتی ہوں کہ میں خاکسار اپنی ماں اپنی عظیم ماں کے بارے میں کچھ کہوں… کجا کہ ایک لفظ۔
اگر دنیا کے تمام فلاسفر میری ماں کی عظمت پر لکھیں توبھی بہت کم ہوگا۔ میری ماں ایسی خاتون ہیں جن کے سینے پر کوئی حکومتی میڈل نہیں چسپاں ‘ نہ ہی ان کے ہاتھ میں کسی مہنگی یونیورسٹی کی ڈگریاں ہیں۔ وہ نہایت ہی سادہ پُرخلوص اور معصوم ہیں اگر پھر بھی تعلیم کا سوال اٹھے تو میری ماں ان پڑھ ہیں ‘ انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ وہ دنیا کی نظر میں اَن پڑھ خاتون ہیں مگر میں جانتی ہوں ان کا علم ان کا ہنر کیونکہ میں آج جس مقام پر ہوں اپنی ماں کی وجہ سے ہوں۔ اپنی ماں کی اس بہترین تربیت کی وجہ سے جو کسی ڈگری کی محتاج نہیں‘ اگر علم محض کتابوںاور ڈگریوں کے حصول سے ملتا تو آج میری ماں علم کی روشنی سے محروم نہ ہوتیں اور میں نگاہ رکھتے ہوئے بھی بصارت نہ رکھتی۔ آج میرے ہاتھ اس کی عظمت و سرفرازی نہ لکھ رہے ہوتے‘ آج میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اپاہج و محتاج ہوتی مگر الحمدللہ میری ماں علم و شعور رکھتی ہے۔ مجھے فخر ہے اپنی ماں پر جس نے مجھے جنم دیا جس نے میری اتنی اچھی پرورش کی کہ میں آج قلم تھامے آپ کے جریدے میں لکھ رہی ہوں جو دنیا میں ادب کے حوالے سے ایک پہچان رکھتا ہے۔
ایک ذاتی شعر آپ کی نظر‘ گراں گزرے تو معذرت
دل کا حال تو پڑھ لیتی ہے ماں
لوگ کہتے ہیں وہ ان پڑھ ہے
میں الحمدللہ تھرڈ ائر کی اسٹوڈنٹ ہوں مگر جب چھوٹے ہوتے تھے‘ مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں نے غصے میں آکر اپنا قلم توڑ دیا میری ماں جو کہ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں فوراً اٹھ کر آئیں اور زمین سے قلم اٹھا لیا اور کہنے لگیں ’’جو قلم کی طاقت کو نہیں پہچانتا وہ بہت بڑا بے وقوف ہے۔‘‘ میں نہ سمجھی سے انہیں دیکھنے لگی۔ا مو جان نے مسکرا کر کر قلم میرے ہاتھ میں دے دیا اور بولیں ’’قلم اسی کو دیا جاتا ہے جو اس کی طاقت کو پہچانتا ہے ‘‘(سب پنجابی زبان میں کہا) یہ بات میرے ذہن میں ایسی بیٹھی کہ آج تک میرا قلم سے رشتہ نہیں ٹوٹا اور وجہ ہے میری ماں۔
زندگی میں ایسے بہت سے مقام آئے کہ لگا Nothitng is More مگر میں نے قلم سے رشتہ نہیں توڑا۔ زندگی اب بھی نشیب و فراز کا شکار ہے لیکن قلم حسب روایت میرے ہاتھ میں ہے کبھی نہ گرنے کے لیے (ان شاء اللہ) کہ یہ نعمت میری ماں کی ہے اور ماں کا کہا میرے لیے حکم ہے اور حکم سے انحراف ممکن نہیں وہ بھی اس صورت میں جب آپ کو بدلے میں ثواب مل رہا ہو۔
میری زندگی میں کتابیں میرے والدین لے کر آئے مگر انہیں ہاتھوں میں پکڑ کر علم کی ڈگر پر چلتے رہنے کا سبق میری ماں نے دیا۔
میں پانچویں کلاس میں تھی جب میری ایک کتاب چولہے میں گرنے کی وجہ سے تھوڑی سی جل گئی میں نے اسے پھینک دیا کہ نئی لے لوں گی مگر میری ماں نے سنبھال کر اسے الماری میں رکھ دیا جب میں نے کہا ’’مور جان! یہ میرے کسی کام کی نہیں رہی‘ ردّی میں ڈال دو‘‘ تو انہوں نے مجھے کہا ’’نہیں بچے! کتابیں ردّی میں نہیں ڈالتے گناہ ہوتا ہے‘ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام اور اچھی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ ‘‘ میں ان کے بیان پر ہنس دی کیونکہ وہ میتھس کی کتاب تھی جس میں ایسا کوئی ورڈ نہیں لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے مگرمیری ماں نے میری بات کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ’’کتاب کتاب ہوتی ہے چاہے اردو کی ہو یا میتھس کی‘ علم کا سمندر تو بہرحال ہوتی ہے ناں بچے!‘‘ ان کی اس بات نے مجھ پر گھڑوں پانی ڈال دیا اور میں نے یہ بات بھی اپنی گرہ سے باندھ لی اور آج میری چھوٹی سی لائبریری میں دنیا و جہاں کا ادب رکھا ہوا ہے جس میں ناولز ‘ سفر نامہ‘ شاعری کی کتابیں‘ تقریری کتابیں‘ اسلامی کتب‘ اخبارات و کالم نگاروں کے کالم‘ ہر اچھا صاف ستھرا ڈائجسٹ موجود ہے جو تعلیمی سطح پر بھی مددگار ثابت ہوتا ہے اور سوسائٹی میں موو کرنے کے اصول بھی سکھاتا ہے اور یہ سب میری ماں کی مرہون منت ہے جس نے قلم کی تاثیر محسوس نہیں کی مگر ہم چاروں بہن بھائیوں کو محسوس کرنے کا موقع دیا۔ ماں کے بارے میں اور کیا لکھوں یقین مانیں الفاظ ہی نہیں مل رہے اور اگر ایک آدھ ملتا بھی ہے تو قلم رکنے لگتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا قلم بھی لفظ ماں پر لکھتے وقت ہچکچارہا ہے کہ میں خاکسار کیا لکھوں؟
ماں کے لیے یہی کہوں گی
تمہاری نرم بانہوں کا لمس
تمہاری محبت پاش نگاہوں کا سحر
تمہاری مہکتی سانسوں کی گرمی
ہمیشہ یاد آتی ہے مجھے
وہ تمہارا میری ذرا سی
تکلیف پر تڑپ اٹھنا
دعائوں کے پنچھی آزاد کرنا
وہ اندھیری سرد راتوں میں
مجھے سینے میں بھینچ لینا
میرے سکھ پر ہنسنا
میرے دکھ پر رو دینا
میری بھلائی و بقاء کے لیے
آنچل پھیلا کے رب سے دعا مانگنا
ہمیشہ یاد آتی ہے مجھے
پلکوں پر سجا کے یادوں کے جگنو
تصور میں اپنے خوابوںکی تعبیر دیکھنا
میری ماں خدا تجھے تاقیامت رکھے سلامت
ہے میری یہ دعا دنیا کی ساری مائیں
لمبی عمر پائیں ‘ آمین
یہ نظم مسز نگہت غفار کی تخلیق کردہ ہے اور بلاشبہ ماں کی محبتوں سے مزید ایک دل پذیر احساس کی آخری سرحد پر بیٹھی اچھوتی نظم ہے۔
ماں محبت کا سمندر ہے جس میں اولاد کی نادانیاں گستاخیاں اور خامیاں ڈوب کر ختم ہوجاتی ہیں‘ ماں محبت کا استعارہ ہے۔ ماں شب ظلمت میں جلتا چراغ‘ ماں کٹھنائیوں میں سایہ عافیت‘ ماں تنہائیوں میں بہترین رفیق‘ ماں زندگی کی خوب صورتیوں میں موجود سب سے بڑی خوب صورتی ہے۔ ماں گوشۂ رحمت‘ گوشۂ عافیت ہے‘ ماں… ماں اندھیروں میں ماہتاب کی مانند ہے جو سفر حیات تاریک نہیں ہونے دیتی۔ ماں کے بارے میں کیا کہوں کہ جو کچھ میرے اندر ہے میری ماں کی ودیعت ہے اور جو کچھ میرے باہر ہے میری ماں کی محبتوں محنتوں کا اعجاز ہے۔ بذات خود عنزہ یونس کچھ بھی نہیں یہ سب ذات کریم کا صدقہ اور ماں کی دعائوں کا اثر ہے ورنہ میں ایک بزدل‘ نادان لڑکی ہوں جس کو زمانے کا چلن سکھایا ماں نے۔ وہ علم کا چراغ جو میری ماں نے تھمایا ہے میرے ہاتھوں میں اور وہ جو ہنر دعائوں کے زیر اثر میری ماں نے میرے ناتواں کندھوں پر ڈالا ہے وہ گام محو سفر ہے تو میری مور جان کے صدقے۔ میری مور جان کی بے پایاں قربانیوں کے صدقے آج مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ…
عنزہ یونس کی پہچان اس کی ماں اور اس کی ماں کی بہترین پرورش ہے جس کی بنا پر وہ قلم تھامے کہہ رہی ہے کہ ماں کی عظمت کے آگے ساری کائنات ہیچ ہے۔
اگر اس کائنات سے وجود ماں نکال دیا جائے تو باقی کھنڈرات رہ جائیں گے اور بالآخر وہ بھی تنہائیوں خاموشیوں سے گھبرا کر ایک دن فنا ہوجائیں گے۔ اس دنیا کی رعنائیوں مسرتیں اور خوشیاں ماں کی وجہ سے ہیں۔ اللہ پاک میری ماں کو ہمیشہ سلامت رکھے‘ انہیں کبھی معمولی سی چوٹ بھی نہ آئے کہ ان کے وجود سے میری ذات وابستہ ہے ان کے خمیر میں میرے جذبات پوشیدہ ہیں۔ ان کے نرم ہونٹوں پر میری مسکراہٹ ضوفشاں ہے‘ ان کی دراز پلکوں پر میری نیند ڈیرے ڈالے بیٹھی ہے۔ ان کے کانوں میں پنہاں میرے قہقہے ہیں میری خوشیوں کی ضامن میری ماں کی ذات ہے کیونکہ میں ہو بہو اپنی ماں جیسی ہوں میں اور میری ماں یک جاں ہیں۔
خدا کریم ایسے ہی رہیں کبھی خزاں کا دور ہمارے سروں سے نہ گزرے اور کبھی محسن چمن میں پھولوں (ماں کی محبت کی) کمی نہ آئے اور ہمیشہ میری ماں کا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہے‘ آمین۔ آخر میں جن لوگوں کی مائیں نہیں ہیں ان کے لیے خصوصی دعا اور وہ ایک بات کو یاد رکھیں جن کے سر پر ماں کا آنچل نہیں ان کے سروں پر اللہ کا دست رحمت ہوتا ہے جس کی ماں نہیں اس کا خدا ہوتا ہے‘ اللہ تمام مائوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے‘ والسلام۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close