Hijaab Oct-16

آزمائش

رفاقت جاوید

’’تم کیا کرلو گے بیٹا‘ ایک بار جو چیز ہاتھ سے نکل جائے‘ وہ لاکھ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ آج تین دن ہوگئے‘ کوئی ٹیکسی اور ڈرائیور نہیں چھوڑا‘ جس سے پوچھا نہ ہو۔ کوئی پاگل ہی ہوگا جو واپسی کا فیصلہ کرے۔ ہمارے تو مقدر ہی کھوٹے نکلے۔ بس اب تو دل وسوسوں اور اندیشوں سے اس قدر پریشان رہنے لگا ہے کہ بیان کرنا مشکل ہے کہ بیٹی کی شادی کی شروعات ہی بدشگونی سے ہوگئی۔ یقین جانو بیٹا‘ اس مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں‘ ساڑھے دس لاکھ کا نقصان سہنا اتنا مشکل نہیں‘ جتنا خوف ناقابل برداشت ہوگیا ہے کہ بیٹی کا سسرال اس حادثے کو کیسے لیتا ہے۔ اف یہ سوچ کر‘ کیا مجال کہ تین راتیں جو معمولی سی جھپکی بھی لی ہو۔‘‘ حلیمہ نے بھرائی آواز میں کہا۔
’’اماں‘ ہر ایک کے سامنے رونا رونے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘ بیٹی نے آہستگی سے سرگوشی کی۔
’’آنٹی مجھے نشانی تو بتائیے۔ ہوسکتا ہے‘ میں آپ کی مدد کرسکوں۔‘‘ ٹیکسی ڈرائیور فیضان نے دھیمے لہجے میں آنکھیں جھکا کر کہا۔
’’اگر ضد کرتے ہو تو سنو۔ لال رنگ کی ویلوٹ کی تھیلی تھی‘ اس میں دو بلوں والے کڑے تھے جو مجھے منہ دکھائی میں ملے تھے۔ سستا زمانہ تھا‘ چھ عدد چوڑیاں نئی بنوائی تھیں۔ انہوں نے ہمارا خون نچوڑ لیا تھا۔ اس کے پہلے دن کا نورتن ہار جو میری دادی سے چلا آرہا تھا‘ میری اماں کی چار عدد اصلی اسٹون کی دس دس گرام کی انگوٹھیاں اور اس کے ابا کی منگنی کی ایک تولے کی انگوٹھی جو میرے مرحوم بھائی کی نشانی تھی۔ اللہ اسے جنت نصیب کرے‘ بڑے چائو سے اس کے ابا کی انگلی میں پہنائی تھی۔ ہم داماد کو شادی والے دن پہنانا چاہتے تھے۔ اب تو زمانہ ہی بدل گیا‘ رواج میں بھی فرق ہے۔ لڑکے کو منگنی کے فنکشن میں ڈائمنڈ کی انگوٹھی اور شادی میں ڈیزائنر گھڑی اور سونے کی بھاری انگوٹھی نہ پہنائو تو سسرال کا منہ ہی سیدھا نہیں ہوتا۔‘‘ حلیمہ کہتے ہوئے تقریباً رونے والی ہوگئی تھیں۔
’’آنٹی آپ پریشان مت ہوں‘ آپ نے جو بتایا ہے‘ میں نے خوب غور سے سنا ہے‘ مجھے اپنا سیل نمبر دے دیجیے‘ ہوسکتا ہے میں آپ کی مدد کرسکوں۔‘‘ فیضان سوچتے ہوئے تسلی دینے کے انداز میں بولا۔
’’ہائے میرے بیٹے‘ اگر ہمارا سونا مل جائے تو وعدہ کرتی ہوں تمہارا منہ میٹھا کرائوں گی اور اس کے ابا سے انعام بھی دلوائوں گی‘ وہ دل کے مریض ہیں‘ ابھی تک تو درد ان سے چھپائے اکیلی ہی سہہ رہی ہوں۔‘‘ وہ امید وبیم لہجے میں بولیں اور ٹیکسی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ ضحی بھی اپنا پرس بغل میں دبا کر ٹیکسی ڈرائیور کی طرف دیکھ کر بولی۔
’’بھائی آپ نے امید دلادی‘ آپ کے منہ میں گھی شکر‘ اللہ نے چاہا تو آپ اس ٹیکسی کو ڈھونڈ لیں گے جس کی سیٹ کے نیچے اماں نے زیور حفاظت سے رکھا تھا۔ پرس چھیننے کے ڈر سے اپنے ہاتھوں سے ہی نقصان کا جان لیوا دکھ برداشت کرنا پڑا۔ اگر سونا نہ ملا تو میری اماں زندہ نہیں بچے گی اور ابا کا نجانے کیا حال ہو؟ مجھے اپنی تو قطعاً فکر نہیں۔‘‘
’’بیٹا تو سچ کہہ رہی ہے‘ تیرا سسرال لالچی نہ ہوتا تو یہ گھاٹا‘ نقصان ہنس کر برداشت کرلیتی۔‘‘ ماں نے اندر جھانک کر کہا۔
’’آنٹی‘ آپ حوصلہ کریں اور دعا کریں میں دو گھنٹے تک آپ کو فون کروں گا‘ اگر آپ کی نشانی کے مطابق زیور میں نے حاصل کرلیا اگر فون نہ کرسکا تو سمجھ جائیے گا کہ میں زیور ڈھونڈنے میں ناکام رہا ہوں۔‘‘ فیضان نے ٹیکسی اسٹارٹ کی تو ضحی بھی ٹیکسی سے باہر نکل آئی اور دل ہی دل میں دعا مانگنے لگی۔
/…/…/
’’یہ بونگا سا لڑکا ہمیں زیور ڈھونڈ کر دے گا۔ ناممکن ہے۔‘‘ حلیمہ نے سڑک پر چلتے ہوئے بیٹی سے کہا۔
’’آپ ہی اس کے سامنے دل تو کیا تھیلی کھول کر بیٹھ گئیں۔ اماں میں خود بہت حیران ہورہی تھی کہ ایک ڈرائیور سے اتنی بڑی امید رکھنا بہت ہی نادانی اور بیوقوفی ہے۔ ویسے اماں آپس کی بات ہے‘ اس کے ہمدردانہ لہجے میں جادو تھا۔ جو میں بھی دکھڑا رونے لگی تھی۔‘‘ ضحی نے کچھ نادم سا ہوکر کہا۔
’’تم ٹھیک کہتی ہو بیٹا‘ ہر روز بھانت بھانت کے لوگوں سے ان کا واسطہ پڑتا ہے‘ وہ سواری کی حیثیت کو اپنے فن‘ عقل وسمجھ کی گہری نظر سے پہچان جاتے ہیں۔ انہیں اپنی سواریوں کا چہرہ مہرہ دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کس قماش کے لوگ ہیں‘ کہاں سے کس مقصد کے لیے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ ان کی نظریں سڑک پر جمی ہوتی ہیں‘ لیکن وہ پیچھے دیکھنے والے آئینے میں اپنی سواریوں کو خوب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے کان بھی بہت تیز ہوتے ہیں۔ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی سواریوں کی ہر بات سننے میں خوب ماہر ہوتے ہیں۔ ذرا تم اندازہ لگائو کہ ہم اپنا مسئلہ بے حد دھیمی آواز میں ایک دوسرے سے بیان کررہی تھیں۔ اس نے ہر لفظ سن لیا اور پھر ہماری گفتگو کا حصہ بننے میں دیر نہ کی۔‘‘ ماں نے ’’فشن کا گھر‘‘ کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
’’اماں اب تو دل چاہتا ہے کہ اپنا برائیڈل ڈریس جب ٹرائی کروں تو اسی حالت میں ٹیکسی میں جابیٹھوں‘ ورنہ وہ بھی زیادہ سنبھالنے کے چکر میں گم ہوسکتا ہے۔‘‘ ضحی نے تیوری چڑھا کر کہا۔
’’ہاں بیٹا… دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اتنے بھاری نقصان کے بعد ہم زندگی بھر ایسا ہی کرتی رہیں گی۔‘‘ ماں آہ بھر کر بولی۔
ماں بیٹی شاپ کے اندر داخل ہوگئیں۔ چار موسموں کے علاوہ پانچواں موسم شادیوں کا ہوتا ہے اس موسم کی ایک شام مہندی‘ برات اور ولیمے کی رسموں سے خالی نہیں ہوتی۔ دکان میں خاصی بھیڑ تھی۔ ماں بیٹی بھی ایک کونے میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرنے لگیں۔ اسی اثنا میں ضحی کے منگیتر قاسم کا فون آیا۔ ضحی نے اپنے پرس کے تینوں حصوں میں تیزی سے ہاتھ مار کر موبائل باہر نکالا۔
’’تمہارے ابا کا فون ہوگا‘ جونہی گھر سے باہر قدم نکالو‘ ان کی مخبری شروع ہوجاتی ہے‘ کہاں پر ہو‘ کیا کررہی ہو‘ واپسی کب تک ہے؟ مجھے بھوک لگی ہے۔ جلدی آنے کی کوشش کرو‘ وغیرہ وغیرہ۔ خدا کی قسم دودھ پیتا بچہ بن جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ میں بازار میں عیاشی کررہی ہوں۔‘‘ وہ خود کلامی کرتی رہیں جبکہ ضحی دکان سے باہر نکل کر قاسم کا فون سننے لگی۔ کچھ ناگواری سے بولی۔
’’ہم ابھی ڈریس تک پہنچ نہیں پائیں۔ بہت رش ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے محرم چالیس دن تک نہیں سال بھر قائم رہے گا۔ جو شادیوں کا بازار گرم ہوچکا ہے‘ رمضان شریف سے پہلے اور محرم سے پہلے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طریقے سے بیٹی اور بیٹے کی شادی ہوجائے۔ دکان دار بھی عورتوں کو خوب بیوقوف بناتے ہیں۔ آرڈر اور پسند کے برعکس جو بھی بن جاتا ہے اسے مجبوراً گاہک کو قبول کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’ضحی رانی اس حسین دلنشین وقت کو خوب انجوائے کرو‘ ایسا وقت بار بار نہیں آتا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ پچھلے تین چار دنوں سے تم کچھ پریشان اور فکرمند لگتی ہو‘ مسئلہ کیا ہے؟‘‘ وہ حیران کن لہجے میں بولا۔
’’مسئلہ‘ مسئلہ کیا بتائوں قاسم؟ خاصا گھمبیر ہے۔ اماں نے ابھی تک ڈر کے مارے ابا تک کو نہیں بتایا۔ میں آپ کو بتانے جارہی ہوں۔ ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر سنیے اور اپنے تک ہی رکھیے گا‘ آنٹی کے کان میں بھنک بھی پڑگئی ناں تو پھر یہ شادی نہیں ہوگئی۔‘‘ وہ رازدارانہ انداز میں بولی۔
’’خدا خیر کرے‘ ایسا کیا مسئلہ درپیش ہے۔ مجھے فوراً بتائو۔‘‘ وہ بے چینی وفکرمندی میں بولا۔
’’خیر ہی تو نہیں قاسم‘ شادی کا تمام زیور ایک ٹیکسی میں چھوڑ کر ہم ماں بیٹی چل دیں۔ ہم دونوں نے فیض آباد کی کوئی ٹیکسی نہیں چھوڑی‘ لیکن وہ ٹیکسی نظر آئی نہ ہی ڈرائیور…‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’تمام ٹیکسیاں ایک ہی جیسی سال خوردہ اور بوسیدہ ہوتی ہیں۔ اس لیے پہچان تو مشکل ہے۔ بہرکیف یہ بہت سیڈ نیوز ہے۔ اب کیا ہوگا؟‘‘ وہ اضطراری کیفیت میں بولا۔
’’یہی سوچا ہے اماں نے کہ خالہ کی خواہش ہم فوری طور پر تو پوری نہیں کرسکیں گے۔ گاڑی کے بجائے اس وقت اور بہت سی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے۔ گاڑی تو بعد میں بھی آپ کو دی جاسکتی ہے۔‘‘ وہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔ ’’یہ راز خود تک ہی رکھیے‘ آپ میرے ہمسفر بننے جارہے ہیں سوچا کہ آپ سے پردہ داری کیسی اور کیونکر ہو۔‘‘ ضحی کا یہ انکشاف اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح جالگا اور اس کا سر گھوم گیا۔ خود پر قابو پانے میں اسے چند سیکنڈ لگے۔
’’قاسم آپ بھی شاکڈ ہوگئے ہیں ناں‘ یہ خبر ہی ایسی ہے۔ آپ میرے اور اماں کے رنج والم اور بے بسی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘‘ وہ بھی جذبات پر قابو پاتے ہوئے احتیاط سے بولی۔
’’یہ تو بہت برا ہوا‘ گاڑی میں تم نے دلہن بن کر ہمارے گھر آنا تھا۔ برادری کے سامنے تو امی کی ناک کٹ جائے گی۔ میں نے انہیں پہلے ہی بہت مشکل سے تمہارے لیے آمادہ کیا تھا۔‘‘ وہ انتہائی سرد مہری سے بولا۔
’’یہ آپ کی چوائس تھی‘ ابھی بھی سوچ لیجیے۔‘‘ وہ ایک دم سنبھل کر بولی۔ ’’ایسی باتیں چھوڑیے قاسم‘ بات تو یہاں پر ہی ختم ہوتی ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ آپ ہی اس مسئلے کا حل ہیں‘ اس لیے آپ کے ہی گوش گزار رہی ہوں‘ تاکہ آپ آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کرسکیں۔‘‘
’’تم میری پسند ہو ضحی‘ اس میں شک نہیں کہ میں تمہارے ذہن وقلب میں کہیں بھی موجود نہ تھا‘ امی کو تم ان کے سپنوں سے برعکس لگی تو انہوں نے میرا منہ بند کرنے کے لیے شرائط رکھ دیں۔ تم سچ کہتی ہو‘ کہ وہ شادی نہیں ہونے دیں گی‘ یہ قانون دنیا ہے کہ پیار کرنے والے کو جدائی کے مواقع ہر قدم پر اس سے نظریں چار کرکے اس وقت تک مضطرب رکھتے ہیں جب تک وہ اسے حاصل نہیں کرلیتا۔ امی خاصی ضدی واقع ہوئی ہیں گھر میں ہمیشہ سے ان کی ہی چلتی ہے۔ ان حالات میں ہماری شادی ایک معجزہ ہی ہوگی‘ جس کی مجھے قطعاً امید نہیں رہی۔‘‘ وہ نہایت سنجیدگی سے بولا۔
’’آپ ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں قاسم‘ وقت گزرنے کے ساتھ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ اس وقت ہماری خوشیاں اور مسکراہٹیں بہت اہم ہیں۔ ان مادی چیزوں کا کیا غم لگانا‘ آج ہیں تو کل نہیں۔ میں تو اماں کو مشورہ دے رہی تھی کہ مجھے آرٹیفشل زیور پہنا کر رخصت کردیجیے‘ مگر وہ بولیں کہ تمہاری ساس کو تو آرٹیفشل کڑے نہیں پہنا سکتی‘ تیرے دلہا کو انگوٹھی اور چین پیتل کی پہنانے سے بہتر ہے کہ مرجائوں‘ مجھ سے تیرے سسرال کے طعنے تشنے نہیں سنے جائیں گے۔ قاسم آپ ہی کچھ کریں کہ دونوں گھرانوں کی عزت رہ جائے۔‘‘ وہ تڑپ کر بولے جارہی تھی۔ جب قاسم کی طرف سے جواب نہ ملا تو ضحی نے خود کو سمجھا بجھا کر اپنی قوت برداشت کا پیمانہ لبریز کرنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی قاسم بولا۔
’’آئی ایم سوری ضحی‘ اس معاملے میں‘ میں کچھ نہیں کرسکوں گا۔ پہلے ہی ماما آپ کے خاندان کے ہر فرد کی عادات پر تنقید کرتی رہتی ہیں۔ جب یہ خبر سنیں گی تو اس پر قطعاً یقین نہیں کریں گی‘ میں کتنی صفائی پیش کرسکتا ہوں۔‘‘ وہ متذبذب لہجے میں بولا۔ ’’میں ماں کے سامنے بہت مجبور ہوں‘ ضحی مجھے معاف کردینا۔‘‘
’’آپ نے درست فرمایا ہے‘ قاسم اللہ تعالیٰ نے اس نقصان کے عوض مجھے بہت اعلیٰ دولت سے نواز دیا‘ تھینک یو ویری مچ قاسم‘ آپ کی ماں کے انکار سے پہلے میں اس شادی سے انکار کرتی ہوں۔‘‘ وہ برجستہ بولی اور موبائل آف کردیا۔
قاسم وہیں دم بخود ہوکر اپنے موبائل کو گھورنے لگا۔ جس نے اس کے منہ پر ایسا طمانچہ مارا تھا کہ وہ اس کی اذیت وکرب میں تاحیات مبتلا رہے گا اپنا درد اور ندامت مٹانے کے لیے۔ اس نے اسی لمحے ضحی کو فون کیا‘ ایک بار‘ دو بار‘ حتیٰ کہ بیسیوں بار لیکن اس کا فون ہر بار نو رپلائے ملا۔ ایک تو اس غریب اور مفلس طبقے کی ایگو بہت بڑی ہوتی ہے۔ میں بھی ایسا چالاک کوا نکلا جو شٹ پر ہی جاگرا۔ وہ خود کو کوسنے لگا اور ایک نامعلوم اور پراسرار قوت نے اس کی تمام حسیات پر غلبہ پالیا اور وہ جو محبت کے گن گاتے نہ تھکتا تھا‘ وہ یک دم ضحی سے ایسے دور ہوا جیسے بجلی کے ننگے تار کو غلطی سے چھولینے کے بعد کی کیفیت ہوتی ہے۔
’’ضحی تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ چند دن بعد تمہاری شادی ہے‘ اور تم کہہ رہی ہو کہ میں شادی نہیں کروں گی۔‘‘ حلیمہ نے غصے میں چیختے ہوئے کہا۔ ’’میں یہی تو کہتی تھی کہ سونا گم ہونا بھی بھاری اور کہیں سے دوسرے کا ملنا بھی عذاب۔ بدشگونی کا نتیجہ تو سامنے آگیا ناں۔‘‘
’’اماں میں نے مستحکم فیصلہ کرلیا ہے میں اس کی محبت کو سمجھ گئی ہوں۔ ان لالچی اور خود غرض لوگوں کے قابل آپ کی بیٹی نہیں ہے دن رات آپ سجدہ ریز ہوکر شکر ادا کریں کہ ہم ایک بہت بھاری آزمائش سے بچ گئے۔ سونا گم ہونا ہمارے لیے بہترین شگون ثابت ہوا ہے۔ آپ اس خوشی میں محلے بھر میں شرینی تقسیم کریں نہ کہ سوگ منانے میں اپنا وقت ضائع کریں۔ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔‘‘ ضحی نے ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’تو بالکل بائولی ہوگئی ہے‘ بیٹا اب یہ اتنا آسان کام نہیں رہا۔ بڑی ہی بدنامی ہوگی۔ ان کا تو کچھ نہیں بگڑے گا۔ کل ہی اس کی ماں پھر سے بیٹے کی قیمت لگانے چل پڑے گی‘ تم عمر بھر کنواری رہ جائوگی۔ میں تمہارے ابا کو بتائے دیتی ہوں‘ جوتے کھالوں گی‘ گالیاں سہہ لوں گی‘ آخر کار وہ اس مسئلے کا حل نکال لیں گے۔ ان کی کھٹارا گاڑی بھی تو ڈیڑھ دو لاکھ سے زیادہ مالیت کی نہیں‘ میرے پاس تو رتی سونا نہیں رہا۔ پھوٹی کوڑی نہیں۔‘‘ حلیمہ کے چہرے پر الجھن بھرا تاثر پھیل گیا اور بدنامی کے خوف سے وہ ہونٹ چبانے لگی۔ یہ اُن کی بہت پرانی عادت تھی کہ جب بھی کسی مسئلے کا حل نہ نکال پاتی تو اس کے ہونٹ کی شامت آجایا کرتی تھی۔ چند دنوں میں ہی ماں کی آنکھوں کے گرد سرمئی حلقے نمودار ہوگئے تھے۔
’’اف ہم تو کھیل جیت کر ہار گئے۔‘‘ حلیمہ بار بار یہ جملہ دہرا رہی تھی‘ جو ضحی کو بہت ناگوار گزرتا تھا۔
’’ضحی‘ میں نے ان بنگلوں کے اندر رہنے والے مکینوں کو کبھی اتنے قریب سے نہیں دیکھا نہ ہی انہیں پرکھنے کا موقع ملا۔ یہ تو بہت مہین مٹی کے زرے سے بھی کمتر لوگ ہیں جو ان بنگلوں میں ہی گم ہوجاتے ہیں۔ زرق برق لباس‘ مہنگے اور مرغن کھانے کے باوجود ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ان کا ظاہرانہ پن چاہے کتنا ہی اعلیٰ ارفع نظر آتا ہو‘ لیکن ان کا باطن کھوکھلا ہوتا ہے‘ ایک ڈھول کی طرح جو بجتا تو خوب ہے‘ جب اسے پھٹنے کے بعد دیکھا جائے تو وہ اندر سے بالکل ہی خالی ہوتا ہے‘ نہ اس کا کوئی کردار ہوتا ہے‘ نہ اخلاص‘ نہ پائیداری اور ہمیشگی ہوتی ہے اس کے بڑے پن میں۔‘‘
’’مجھے تو تمہارا سسرال ایسا ہی لگا ہے۔ ذرے سے کمتر اور ڈھول کی مانند کھوکھلا‘ بے وقعت اور ناکارہ۔‘‘ حلیمہ نے بے حد دکھ بھرے لہجے میں کہا لیکن بیٹا ہم لڑکی والے ہیں ناں‘ مجبور اور بے بس‘ جس لڑکی کا رشتہ شادی سے چند دن پہلے ٹوٹ جائے تو پھر اس کی ڈولی والدین کی دہلیز سے نہیں اٹھتی۔ ہاں جنازہ ضرور اٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
’’اس لیے میری جان اب شادی کے انکار کا ایک لفظ بھی تمہاری زبان سے نہ سنوں‘ میر ادل ڈوبنے لگتا ہے‘ تمہارے ابا پہلے ہی کاروبار میں گھاٹے کی وجہ سے دل کے مریض بن گئے ہیں۔ انہیں کیسے بتائوں کہ مجھ سے کتنی بڑی غلطی سرزد ہوگئی‘ وہ پہلے ہی مجھے بہت بے وقوف سمجھتے ہیں۔ یہ تم بھی جانتی ہو کہ انہوں نے گھر کا خرچ اپنے ہی ہاتھ میں نہ رکھا ہوتا تو آج اتنی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ عورت ہمیشہ کچھ نہ کچھ کانٹ چھانٹ کرکے بچا ہی لیتی ہے اور وہی بچت مشکل وقت میں کام آتی ہے۔ بیٹا میری ایک نصیحت اپنے پلے باندھ لو‘ شوہر سے گھر کا خرچہ مہینے کی پہلی تاریخ پر ہی نکلوالینا۔ اگر تم نے وہاں جاتے ہی ایسا نہ کیا تو تمام عمر بھکاری بن کر زندگی کزاروگی‘ اس معاملے میں لحاظ داری سے کام مت لینا۔‘‘ ہر ماں کی طرح وہ اپنا تجربہ اس کے گوش گزارنے لگی‘ تو ذرا سا طنزیہ مسکرائی۔
’’اماں وہاں جائوں گی تو جمع تفریق کرنے کے بارے میں سوچوں گی ناں۔ ان بڑے لوگوں کے دل تو ابا کی سوچ کی طرح بہت چھوٹے ہیں۔ ابا مجبوری کے تحت خرچ اپنے ہاتھ میں رکھتے تھے‘ ان کا مقصد آپ کو اپنا محتاج بنانا ہرگز نہ تھا۔ محلوں میں رہنے والے لوگ اگر یہ نیچ حرکت کرتے ہیں‘ یہ ان کے اندر بسی ان سیکیورٹی ہوتی ہے جو انہیں مجبور کردیتی ہے کہ عورت کو خود مختار اور آزاد مت کرو‘ کہ وہ آپ کو سوالات سے بے حال کردے۔ آپ ابا سے شکایت کرنے کے بجائے ان کی عظمت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کسی بھی برے وقت میں انہوں نے آپ کے زیور پر نظر نہیں رکھی۔ آپ کا گھر بیچنے کا کبھی تصور نہ کیا۔ مجھے یونیورسٹی کی تعلیم دلانے سے انکار نہ کیا‘ تین بیٹوں کو ان حالات میں بیکن ہائوس کی تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنا ان کے پیار وتوجہ کی طرف اشارہ ہے۔ میں اب برسر روزگار ہوں‘ اپنے ابا کا بازو بننا چاہتی ہوں۔ آپ نے شادی کے بھیانک کھیل کی شروعات کردی‘ اس کھیل میں ہماری ہار ہوگئی اماں‘ مجھے کوئی شوق نہیں ہے بڑے گھر کی بہو بننے کا جس کی اصل حقیقت میں جانتی ہوں۔ ایک بن مول لونڈی اور خزاں رسیدہ درخت کا وہ پتہ جو کبھی یہاں تو کبھی وہاں…‘‘ وہ ماں سے نظریں ملا کر خود اعتمادی سے بولی۔
’’تم تو اپنی دادی سے بھی زیادہ دور اندیش فلسفی اور منطقی نکلی۔ ایسی باتیں تم نے ان سے ہی سیکھی ہیں لیکن پھر بھی شادی کا فیصلہ بدل نہیں سکوگی کیونکہ ایسا رشتہ میں خوابوں میں تو دیکھ سکتی ہوں‘ تصوراتی دنیا میں اس کا کوئی دخل نہ تھا۔‘‘ وہ مستحکم لہجے میں بولی۔
’’ذرا موبائل پر وقت تو دیکھو۔ اس نے دو گھنٹے کا وقت دیا تھا‘ ہائے بیٹا ہم ہی اس کا نمبر لے لیتے۔ میں تو بھلکڑ ہوگئی ہوں‘ تم بھی یاد نہیں رکھتی۔‘‘
’’اماں چھ گھنٹے ہوگئے ہیں اس بات کو۔‘‘ ضحی منہ بناکر بولی۔ ’’آپ کی یادداشت کو کیا ہوگیا ہے؟ حوصلہ کریں اماں‘ ابھی سے یہ حال ہے تو جب آپ کے جگر کا ٹکڑا ان کے گھر رخصت ہوجائے گا تو لگتا ہے آپ کا حافظہ بھی میرے ساتھ ہی رخصت ہوجائے گا۔‘‘ اسی اثناء میں ماں کے موبائل پر رنگ نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔
’’اللہ کرے ڈرائیور کی طرف سے خوش خبری ہو۔‘‘ حلیمہ نے خود کلامی کی اور فوراً فون اٹھا کر خوشی اور غمی کے ملے جلے جذبات میں نمبر اور نام دیکھ کر بولی۔
’’تمہاری ساس کا فون ہے۔ اللہ خیر ہی کرے۔ بھئی ساس کا مزاج درست رہنا بہت ضروری ہے۔‘‘
’’اماں میری بات غور سے سنیں۔ اس سے پہلے کہ وہ شادی کرنے سے انکار کریں‘ آپ فوراً اپنی مجبوری بتائیں اور انکار کر دیں‘ آپ کی عزت بھی رہ جائے گی‘ اور ابا کی لعن طعن سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔‘‘ ضحی نے اپنے دل کے درد کو دباتے ہوئے ہمت وجرأت سے کہا۔ ’’ابا ٹھیک ہی فرماتے تھے کہ آسمان کی بلندیوں سے نیچے اترآ‘ میری بیٹی کو گھر کی مالکن بنانے کے بجائے لونڈی کیوں بنانے لگی ہو۔‘‘
’’چپ رہ۔‘‘ ماں نے آنکھیں نکال کر کہا اور بات کرنے لگی۔
’’جی آپ نے صحیح سنا ہے‘ امید پر دنیا قائم ہے‘ کچھ نہ کچھ آج نہیں تو کل ہوجائے گا۔ آزمائشیں بھی تو ہمارے جیسے انسانوں پر آتی ہیں‘ کبھی ہم پر بھلے دن تھے‘ نجانے میرے پالنہار کو ہماری کون سی بات بری لگ گئی کہ دولت ہاتھ سے ایسے نکل گئی جیسے مٹھی سے ریت۔ آخری پونجی بھی گئی۔‘‘ وہ رو دی تھیں۔
’’تو پھر ایسا کرتے ہیں حلیمہ‘ آزمائش ٹلنے کا انتظار کرلیتے ہیں۔ اس پر تو ہمارا اختیار ہے ناں۔ اس وقت ہمیں عقل سے کام لینا چاہیے۔ تم تو جانتی ہو کہ میں نے جگ ہنسائی سے جان چھڑانے کی غرض سے تم سے گاڑی کی ڈیمانڈ کی تھی اور سونا بھی اتنا ہی کہا‘ جتنا دوسری بہوئوں نے ہمیں دیا تھا۔ تاکہ ضحی کو اپنے سسرال میں سبکی نہ ہو اور وہ ان سب میں ایسے گھل مل جائے جیسے شکر اور کھیر‘ اسٹیٹس میں پلڑے متوازن نہ ہوں تو سگے بہن بھائیوں میں دوری اور متنازعی فاصلے آجاتے ہیں۔ قاسم میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے‘ سب کی آنکھ کا تارا‘ میں اسے اپنے خاندان سے الگ تھلگ کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ اس کی خوشی کی خاطر میں نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ آپ بھی تو میری مجبوری سمجھیں۔ آج تک بھائی صاحب کے کاروبار کو صیغہ راز میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ وہ سختی اور سرد مہری سے بولیں۔
’’بہن آج کل بچے شادی اپنی پسند کی ہی کرنا چاہتے ہیں اور والدین بھی ان کی پسند کو مدنظر رکھ کر رشتوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔ آپ تو جانتی ہیں کہ ضحی کا اس میں کوئی رول نہیں‘ ہمارے گھروں میں یہ انوکھا یا عجیب حادثہ نہیں ہوا۔ بچے ایک ساتھ پڑھیں گے تو بعض اوقات ایک طرف سے بھی پسندیدگی ہوسکتی ہے‘ دونوں طرف سے بھی ممکن ہے۔‘‘ حلیمہ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’میرا بیٹا ہی نادان نکلا‘ بے حد معصوم اور بھولا‘ میں نہیں جانتی آخر قاسم کے دل میں اترنے کی معمولی ہی سہی کچھ تو کوشش ضحی کی طرف سے ہوئی ہوگی۔ قاسم تو ایسا بچہ ہے کہ اسے جیتنے کے لیے خنجر کی نہیں روئی کا گالا ہی کام کر جاتا ہے۔‘‘ وہ نفرت آمیز لہجے میں بولیں۔
’’تو بہن ایسے کرتے ہیں جیسا آپ نے فرمایا ہے کہ آزمائش کے ٹلنے کا انتظار کرتے ہیں۔‘‘ حلیمہ نے آہ کو دباتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا۔ ’’یہ تو بہت ہی اچھا ہوگیا کہ آپ کو اپنے بیٹے کو سمجھانے کا مزید وقت مل گیا۔ آج آپ کی اس گفتگو سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہمیشہ بیوی کو شوہر کی ججمنت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے دنیا کے ہر طرح کے رنگوں میں سے اپنے تجربات ومشاہدات کے رنگ چرائے ہوتے ہیں۔ آپ نے آج وہی باتیں کی ہیں جو اس کے ابا آج بھی دہراتے ہیں۔‘‘ اس کے لیے ایک متوسط طبقے کی عورت کی یہ گفتگو خاصی تعجب خیز تھی۔ جو حالات کے شکنجے میں مقید ایک جوان لڑکی کی ماں بھی تھی۔
آخر بیٹے کو دس الٹی سیدھی باتوں کے اضافے سے بدظن کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے یہ طریقہ کار کافی حد تک کامیاب ہوتا نظر آیا‘ تو ماں کے خوابوں میں نئی لڑکی اپنی تمام تر رعنائیوں اور طرازیوں سے جلوہ گر ہوکر اسے شاداں وفرحاں کرنے لگی اور بیٹے کے لاکھ سمجھانے کے باوجود اس نے قاسم کے سسرال سے رابطہ منقطع کردیا اور نہ مکمل طور پر انکار اور نہ ہی اقرار جیسے کرب میں مبتلا کردیا۔ جیسے قیدی کی کبھی رہائی اور کبھی پھانسی کی کیفیت میں ہر وقت دھڑکے میں رکھنے کی اذیت ہو۔
/…/…/
’’آنٹی آپ فیض آباد پہنچیں‘ میں آپ کو وہاں ملوں گا۔‘‘ فیضان نے خوش گوار لہجے میں کہا۔
’’کوئی خوش خبری سنانے والے ہوناں۔‘‘ حلیمہ تجسس بھرے لہجے میں بولی۔ ’’کیوں بیٹا ایسا ہی ہے ناں؟‘‘
’’میں ملاقات پر آپ کو حقیقت بتانا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ تسلی بخش لہجے میں بولا اور خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔ حلیمہ بھاگنے کے انداز میں ضحی کے کمرے کی طرف چل دیں۔
’’ضحی اللہ تعالیٰ نے ہماری فریادیں سن لیں۔ ہائے دیکھو جس دن سے تمہارے ابا نے سنا ہے‘ باہر نکلنا چھوڑ دیا‘ ہم تو ایک وقت میں دو آزمائشوں میں گھر گئے ہیں۔‘‘
’’اماں ڈرائیور نے کیا کہا؟ کیا زیور مل گیا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا یہ ناممکن ہے اماں‘ اس نے دو گھنٹوں بعد فون کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ آج بیسویں دن کیسے یاد آگیا۔ وہ بھی مجھے چکر باز ہی دکھتا ہے۔ قاسم ایک کھاتے پیتے گھر کا پڑھا لکھا لڑکا ہونے کے باوجود ان کی شرائط نہ پوری ہونے پر ہم سے روٹھ گیا‘ وہ تو ڈرائیور ہے جو دن بھر اور آدھی رات تک ٹیکسی چلا کر دال روٹی کا بندوبست کرتا ہے اور اسے سونا مل بھی گیا تو ہمیں واپس کیونکر کرے گا۔ آپ خوش فہمیوں سے نکل آئیں اماں‘ ورنہ بہت دھچکہ لگے گا۔‘‘ ضحی نے ماں کو پیار سے سمجھایا۔
’’ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔ اس نے سونا دینے کی بات نہیں کی‘ مجھے فیض آباد پہنچنے کا کہا ہے۔ اٹھو بیٹا‘ دونوں چلتی ہیں‘ اپنے ابا کو بتانے کی ضرورت نہیں‘ ورنہ وہ جانے سے روک دیں گے۔ ہمیں ایک بار جانا تو چاہیے ناں۔‘‘ وہ پُرامید لہجے میں بولی تو ضحی ماں کے ساتھ چل پڑی۔
/…/…/
فیض آباد پہنچ کر انہیں فیضان کو ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی‘ کیونکہ وہ سامنے ہی اپنی ٹیکسی سے ٹیک لگائے کھڑا محو انتظار تھا۔ ماں بیٹی نے ٹیکسی اس کے قریب رکوا کر میٹر دیکھا اور ڈرائیور کو بل ادا کرنے کے بعد دونوں فیضان کی طرف بڑھ گئیں۔ فیضان نے احتراماً انہیں سلام کیا اور اگلے ہی لمحے اپنی ٹیکسی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
ماں بیٹی نے ایک دوسرے کی طرف سراسیمگی سے دیکھا اور ٹیکسی میں بیٹھ گئیں۔ فیضان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ان کی طرف ویلوٹ کی سرخ تھیلی بڑھا کر بولا۔
’’آنٹی جی… اسے ہاتھ لگانے کی معافی چاہتا ہوں۔ دراصل آپ اسی ٹیکسی میں سوار ہوئی تھیں اور اپنا زیور سیٹ کے نیچے بھول کر اتر گئیں‘ آپ کے جانے کے بعد میں گاڑی کو صاف کرکے اگلی سواری کے لیے تیار کرنے لگا تو مجھے یہ تھیلی مل گئی‘ میں فوراً سنار کی طرف چل دیا۔ میں کنفرم کرنا چاہتا تھا کہ سونا اصلی ہے یا نقلی۔ جب مجھے علم ہوا کہ سونا تو اصلی بھی ہے اور دس گیارہ لاکھ کی مالیت کا ہے تو میں سیدھا گھر گیا اور دادی اور امی کو بتانے کے بجائے زیور اپنی الماری میں جوتوں میں چھپا دیا اور الماری کو لاک لگادیا۔ فیض آباد کے اسی اڈے پر میں نے اپنی سواریوں کو ڈھونڈنا شروع کیا‘ لیکن میں پہچان نہ سکا۔ میں نے ہمت نہ ہاری اور ہر سواری کی گفت وشنید سننے لگا کہ میں جن کی امانت کا ذمہ دار بنا بیٹھا ہوں انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہوسکوں۔‘‘ یک دم وہ کچھ نادم ہوتے ہوئے بولا۔ ’’آنٹی میں معذرت چاہتا ہوں‘ وقت کی پابندی نہ کرسکا‘ پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوگیا تھا۔‘‘ اس غیر متوقع خبر کے سنتے ہی ماں بیٹی یک دم زمین بوس ہونے اور آکاش کی بلندیوں کی جانب پرواز کرنے کے سنسنی احساس سے چیخ اٹھیں جیسے زلزلے کے جھٹکے چونکا دیتے ہیں اور پھر سب بے اختیاری میں بھاگ اٹھیں۔ اور پھر دھیرے سے کچھ بے بسی اور تنائو کم ہوتے ہوتے ہوش وحواس میں آنے لگیں‘ ان کا حال کچھ ایسا ہی تھا۔
’’بیٹا تم انسان نہیں فرشتہ ہو۔ میں تمہاری اس خوش بخت ماں سے ملنا چاہتی ہوں جس کو اس قدر دیانت دار‘ ایمان کا پکا اور سچا وکھرا بیٹا جنم دینے کا شرف حاصل ہے۔ بیٹا سچ کہوں کہ یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے لیکن ہمارے لیے بہت اعلیٰ درس ہے۔ زیور کیا گیا ہم پر تو قیامت ہی برپا ہوگئی۔ اب تو میں کھل کر اس کے سسرال کو انکار کرسکتی ہوں اور اس کے بعد اپنی تعلیم یافتہ برسرروزگار بیٹی کا سودا کسی شرط پر نہ کروں گی۔‘‘ وہ بے اختیاری میں بولتی چلی گئیں۔ جیسے پہاڑ کے نیچے سے کھولتا ہوا لاوا ابل پڑے اور بے قابو ہوکر گردوپیش کے علاقوں میں پھیلنے لگے۔
’’یہ زیور بیٹی کی شادی کے لیے میں نے تیار کروایا تھا‘ چھہ چوڑیوں کے علاوہ دو دو چوڑیاں جٹھانیوں کے لیے ان کے کہنے کے مطابق بنوائی تھیں‘ بقیہ تمام زیور میری شادی کا تھا جو میں پالش کروانے اور گرے ہوئے نگ نگینے ڈلوانے کے لیے اپنے جیولر کو دے کر آئی تھی۔ اس دن چوڑیوں کی پے منٹ کرتے ہوئے میں رودی تھی۔ اب تو سونے کو دیکھنا بھی مہنگا پڑتا ہے‘ بس یوں سمجھو کہ جیب خالی ہوگئی۔ اسی سوچ بچار میں تھی کہ شادی کے باقی اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘ بس دماغ چل گیا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ میں جب بھی کسی پریشانی وفکرمندی میں گھر جاتی ہوں‘ حافظے پر کالے بادل چھا جاتے ہیں۔ اس دن ایسا ہی تو ہوا تھا‘ پھر ہم پر دوسری آزمائش مسلط کردی گئی‘ شادی کو وقتی طور پر لڑکے والوں نے روک دیا۔ انہیں ہماری بیٹی سے غرض نہیں تھی‘ انہیں برادری کے طعنوں تشنوں کی فکر تھی۔ کیونکہ ان حالات کے پیش نظر ہم ان کی شرائط مثلاً مہران گاڑی‘ کیونکہ پہلی تین بہوئیں بھی گاڑیوں سمیت آئی تھیں۔ دوسری شرط ساس کو دس تولے کے کڑے‘ نندوں کو دو دو تولے کے جھمکے اور جیٹھانیوں کو تین تین تولے کی چوڑیاں‘ ہماری کمر تو اس دھات ہی نے توڑ دی۔ میں نے انہیں اپنی مجبوری لڑکے کے ذریعے بتائی تو ماں نے بے حد سنگ دلی اور بے دردی کا مظاہرہ کیا‘ وہ تو فوراً رشتہ توڑنے کی جرأت کر دکھاتی اپنے بیٹے کی وجہ سے مجبور ہوگئی اور شادی کو وقتی طور پر روک دیا گیا۔ بیٹا بات یہ ہے کہ رشتہ ہی بے جوڑ تھا۔ ایک وقت تھا جب ہم بھی دولت میں کھیلتے تھے‘ کاروبار میں ایسا گھاٹا ہوا کہ نوبت ایک کپڑے کی دکان تک آپہنچی۔ میرے تینوں بیٹے ابھی پڑھ رہے ہیں۔ ضحی کو یونیورسٹی کی تعلیم دلائی۔ وہاں قاسم اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگیا اور نجانے اس نے اپنی ماں کو شادی کے لیے کیسے رضامند کرلیا؟ کہ اس نے ہماری حیثیت سے بڑھ کر شرائط عائد کردیں۔ ہم نے اپنی بیٹی کی بہتری کے لیے ان کی ہر شرط مان لی‘ کیونکہ یہ رشتہ ہماری حالیہ حیثیت سے ہزار درجے اونچا اور بہترین تھا۔ بس بیٹا لالچ نے ہمیں ذلیل ورسوا کردیا۔ یہ سسرال حیرت انگیز حد تک صاف گو‘ بے لحاظ اور منہ پھٹ کیوں ہوتا ہے‘ میں نے اپنی زندگی میں ایسا ہی دیکھا ہے۔‘‘ وہ بے اختیارانہ بول رہی تھیں اور ضحی پہلی بار ڈرائیور کا جائزہ لے رہی تھی جو کسی طرح سے ڈرائیور نہیں لگتا تھا۔ نہ ظاہراً نہ ہی باطن ڈرائیور جیسا تھا۔ بے حد سلجھا ہوا‘ جینز اور شرٹ میں مبلوس کسی اچھے گھرانے کا معلوم ہوتا تھا۔ بازو میں اومیگا گھڑی بھی اس کی گواہی دے رہی تھی۔ اس کے سامنے شیشے پر ایک پوسٹر چسپاں تھا جس پر لکھا ہوا تھا نشہ آور دوائیوں اور چرس‘ افہیم‘ کوکین سے نجات حاصل کرنے کا فری ادارہ۔ رابطہ کیجیے‘ نیچے موبائل نمبر لکھا ہوا تھا۔ ضحی کو شک ہوا جیسے یہ نمبر تو جانا پہچانا ہے۔ اس نے فوراً ماں کے موبائل پر ان نون نمبر کو ٹاپ پر دیکھا۔ یقینا یہ نمبر تو اسی ڈرائیور فیضان کا تھا۔ وہ یہ معما حل نہ کرسکی۔ حلیمہ ابھی تک اس سے اپنا تلخ تجربہ وضاحت سے بیان کرنے میں محو تھی اور فیضان سر جھکائے انہماک سے اس کی روداد سن رہا تھا۔
’’آنٹی جی قصور ہمارے معاشرے کا ہے۔ ہمارا اور آپ کا ہرگز نہیں۔ زمانہ جہالیت میں دنیا بھر میں معاشرہ مرد کو یعنی باپ‘ بھائی‘ شوہر اور بیٹے کو فوقیت دینے کی فرسودہ روایات پر قائم کیا گیا تھا۔ قرآن کریم نے عورت کے حقوق پر بے حد زور دیا ہے۔ اس کے باوجود آج بھی اسلامی معاشرہ اسے حقوق دینے میں کافی حد تک ناکام رہا ہے جب بھی اسلام پھیلا اور تبلیغ کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے ہر گناہ کی جڑ عورت کو ٹھہرایا جاتا ہے اور اسے صرف گھر کی چار دیواری میں قید کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ بہت بھیانک نکلا کہ عورت قید تنہائی کے خلاف سڑکوں پر بینر اٹھائے تو نہ نکلی لیکن تعلیم کے میدان میں مردوں سے آگے بڑھ گئی لیکن ہمارے معاشرے یعنی مرد کی سوچ میں فرق آنے کے بجائے غصہ واضطراب بڑھا اور عورت کو مزید دبانے کی ناکام کوشش ہونے لگی۔ جس کی بھونڈی صورت ایک ماں میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ظلم ہوا ہے۔ اگر لڑکا فطرتاً درست ہوتا تو وہ ماں کو راہ راست پر لاسکتا تھا۔ اس دنیا میں تمام وہ خامیاں‘ برائیاں اور علتیں شامل ہیں جن کی بے شمار صورتیں ہیں‘ ایک صورت آپ بھی دیکھ رہی ہیں۔‘‘ وہ نہایت خود اعتمادی سے بول رہا تھا اور ماں بیٹی سکتے کے عالم میں ہک دک اسے دیکھ رہی تھیں کہ یہ لڑکا کون ہے‘ کہاں سے آیا ہے اور ٹیکسی ڈرائیور کیوں ہے؟ کئی سوالات ان کے ذہن میں گڈمڈ ہونے لگے تھے۔ قدرے توقف کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔
’’آنٹی آپ اپنا زیور چیک کرلیجیے اور مجھے وصول کرنے کی رسید دے دیجیے۔ اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ایک یہ بھی حکم الٰہی ہے کہ جب لین دین کرنے لگو تو لکھ لو‘ کسی گواہ کی موجودگی میں۔ آپ میری امی سے ملنا چاہتی ہیں‘ میں آپ کو اپنے گھر لے چلتا ہوں۔ ان سے ملاقات بھی ہوجائے گی اور ان کی گواہی میں لکھت پڑھت بھی ہوجائے گی۔‘‘ حلیمہ نے سر کو جھٹکا دے کر اپنے شعور کو بیدار کیا اور اثبات میں سر ہلادیا۔ ضحی ابھی تک اسے سمجھ نہ سکی تھی۔ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔ اسے یہ تو یقین ہوگیا تھا کہ فیضان ایک غیر معمولی شخصیت کا حامل ہونے کے ساتھ شریعت کی پاسبانی کرنے والا نیک انسان ہے جس کی مثال انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تھی۔
ٹیکسی ایک پوش سیکٹر میں داخل ہوئی تو ضحی دل کی گہرائیوں تک خوف وڈر‘ اندیشے اور وسوسے کو محسوس کرنے لگی تھی۔ ماں نے بھی اضطراری سرگوشی کی‘ ہم کسی دھوکے کا شکار بننے تو نہیں جارہیں۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھیں کہ ٹیکسی ایک وسیع وعریض بنگلے کے گیٹ کے سامنے رکی اور فوراً ایک باوردی گارڈ نے پھرتی سے گیٹ کھولا۔ پورچ میں لینڈ کروزر اور مرسیڈیز کے پہلو میں اس نے ٹیکسی کو پارک کیا اور نیچے اتر کر حلیمہ کی سائیڈ کا دروازہ کھولا تو حلیمہ نے ضحی کی طرف کچھ نروس ہوتے ہوئے دیکھا۔
’’اماں میں یہاں ہی آپ کا انتظار کرتی ہوں۔‘‘ ضحی منمنائی‘ گھبراہٹ اور پشیمانی کے حملے سے حلیمہ کے آدھے سر میں شدید درد کی لہریں اٹھنے لگیں اور زبان میں لکنت کی وجہ سے وہ بولنے سے قاصر رہی۔
’’آنٹی یہ میرا گھر ہے۔ یہاں آپ اور یہ سونا بالکل محفوظ ہے۔‘‘ وہ ان کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے بولا۔ مگر ماں بیٹی حیرت وخوف سے ٹس سے مس نہ ہوسکیں۔ فیضان مین ڈور سے گھر کے اندر داخل ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ اپنی عمر رسیدہ ماں کے ساتھ باہر نکلا۔ ماں کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور چہرہ نور کی ضوفشانی میں بے حد حسین لگ رہا تھا۔ وہ ان کے قریب آکر ہاتھ بڑھا کر بولی۔
’’السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ‘ اندر تشریف لائیے‘ میں فیضان کی ماں ہوں۔‘‘ اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی۔ ماں بیٹی ہمت بحال کرتے ہوئے باہر نکلیں اور اس کی راہنمائی میں پیچھے چل دیں۔ بنگلے کی ڈیکوریشن نواب کے پیلس کی نشاندہی کررہی تھی۔
’’تو پھر فیضان ٹیکسی ڈرائیور کیوں؟‘‘ یہ سوال ایسا گھمبیر تھا کہ انہیں جواب نہیں مل رہا تھا۔
سب سے پہلا کام جس کے لیے دونوں اس کے گھر آئی تھیں‘ وہ پایہ تکمیل تک پہنچا۔ ایک گواہ فیضان کی طرف سے ماں تھی‘ دوسرا گواہ ضحی کی طرف سے فیضان کی دادی تھی۔ انہوں نے کاغذ کو رول کرکے ویلوٹ کی تھیلی کے اندر رکھ دیا۔ ماں اور بیٹا ڈرائنگ روم سے تھوڑی دیر کے لیے غائب ہوگئے۔ دادی فخر ومسرت کے ملے جلے امتزاج میں بول رہی تھیں۔
’’اللہ تعالیٰ نے پوتا شادی کے بیس سال بعد ہمیں انعام کی صورت میں بخشا تو میری بہو نے اسے واپس اللہ کے حوالے کردیا۔ اس نے دنیاوی تعلیم کی ہر ڈگری حاصل کی لیکن جو ڈگری اسے اللہ تعالیٰ نے انعام کی صورت میں بخشی‘ وہ بہت اعلیٰ اور قابل ستائش نکلی۔ وہ تھی خدمت خلق کی ڈگری۔ اس کے بعد اس گھر پر اس کی ایسی عنایتیں ونوازشیں ہوئیں کہ I/10 سے ہم F/7 میں معجزاتی طور پر پھینک دیئے گئے اور پھر پوتے نے ٹیکسی چلانا شروع کردی۔ کیونکہ اس کی مرسیڈیز تک کسی حاجت مند کی رسائی نہ ہوپاتی تھی۔ اب اس کی ٹیکسی میں اس رب کی وہ مخلوق سفر کرتی ہے جو ہمدردی ومحبت کے سچے حق دار ہیں اور میرا پوتا بسوں‘ ویگنوں اور ٹیکسی کے اڈوں سے مجبور اور ذہنی طور پر کمزور ومایوس واداس نوجوانوں کو اٹھاتا ہے اور اپنے ادارے میں انہیں ٹھہرا کر علاج کرواتا ہے اور انہیں ایک نئی زندگی میں واپس لاکر چیرٹی کے اداروں میں نوکری دلوادیتا ہے یہ صلہ ہمیں کیوں ملا؟ سوچنے کا مقام ہے ناں۔‘‘ وہ ذرا سا مسکرا کر عینک سے جھانکتے ہوئی بولیں۔ ’’جب اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کو اسی کو واپس سونپ دیا جائے تو پھر وہ اسے قرض سمجھ کر قبول کرتا ہے اور ہمیں تاحیات اس قرض کی واپسی بھاری منافع کے ساتھ کرنے لگتا ہے۔ سبحان اللہ۔ یہ اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے… کیونکہ اس نے ہر انسان کو یکتا پیدا کیا ہے‘ ہر انسان کی شکل وصورت جسم وسوچ ایک دوسرے سے مختلف بنائے ہیں۔ کچھ بے حد ظالم حریص اور قصہ وپندار میں مقید کچھ انا‘ خود داری‘ غیرت اور خود پسندی کے احساسات میں جکڑے ہوئے‘ کچھ مرنجاں مرنج راضی برضا اور صابر وشاکر‘ بیٹا یہ نامراد دولت‘ راحت اور مسرت ایسی نعمتیں ہیں جو سراسر امتحان ہیں‘ جو اس امتحان میں کامیاب ہوگیا وہ بن گیا فیضان اور جو ناکام ہوگیا وہ شیطان کے روپ میں شیطانیت جبلت رکھنے والوں پر ہی مسلط کردیا گیا‘ جو اپنی جیبوں کو آباد کرنے کے لیے حق داروں کا بھی استحصال کرتے ہیں جسے وہ اپنی عقل مندی‘ دور اندیشی گردانتے ہیں‘ جبکہ یہی لوگ خسارے میں ہیں۔‘‘
’’سبحان اللہ ہمیں ان وسیع وعریض بنگلوں کے اندر رہنے والوں سے ملنے اور ان کے کردار کو جانچنے کا کبھی موقع نہیں ملا۔ کیونکہ اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ اب لوئر مڈل کلاس کی مہر ہماری پیشانی پر ثبت ہے ہم سمجھتے رہے کہ ان بنگلوں‘ محلوں اور کوٹھیوں کے تمام رہائشی زانی‘ رشوت خور اور دھوکے باز ہیں۔ جو ہم جیسے نچلے یا درمیانے طبقے کے لوگوں کو اپنی بلیوں اور کتوں سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔ جنہیں جینے کا حق نہیں‘ ذلالت و توہین ان کا مقدر ہے۔ وہ روتے ہوئے پیدا ہوتے ہیں‘ تڑپتے بلکتے ہوئے زندگی کے دن پورے کرتے ہیں اور پشیمانی‘ پچھتائوے اور خلش کی حالت میں اس دنیا سے سدھار جاتے ہیں کہ ہمیں پیدا ہی کیونکر کیا گیا۔ ماں جی آج یہ شکوہ ختم ہوگیا‘ بعض اوقات انسان کے اعمال‘ نیک نیتی اور راست بازی اسے دنیاوی دولت سے آراستہ نہیں کرسکتی لیکن وہ سکون آرام وخوشی جوجنت کی خاصیت ہے‘ اس دنیا میں ہی حاصل ہوسکتی ہے اگر وہ ہر حال میں صابر وشاکر رہے‘ اس سے بڑھ کر اور کوئی دولت نہیں‘ آج میرے گھر کا ہر فرد بے سکون کیوں ہے؟ کیونکہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کرنے کے بجائے انسانوں پر اعتماد ویقین کیا اور ایسے منہ کی کھائی کہ چاروں طبق روشن ہوگئے۔ ہوش میں آنے کا تمام کریڈٹ فیضان کو جاتا ہے۔‘‘ حلیمہ نہایت عاجزی وانکساری سے بولی یہ اس کے دل کی آواز تھی۔ اور ذہن کی مثبت پیداوار تھی۔ اسی اثنا میں فیضان اپنی امی کے ہمراہ اندر داخل ہوا اور ضحی کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر اس کا سرسری طور پر جائزہ لیا۔ اس کے حسین چہرے پر خلیق تاثر پھیلا ہوا تھا۔ اس کی ذہین آنکھوں میں خود اعتمادی کی جھلک نمایاں تھی اور لبوں پر پُرسکون مسکان ہویدا تھی۔ اس وقت کی ضحی اور کچھ دیر پہلے والی ضحی میں اس قدر فرق تھا کہ وہ حیران ہوکر سوچنے لگا۔ اندرونی طمانیت وتسکین انسان کے خدوخال کو سنوار دیتی ہے اور ایک عام سا چہرہ کس قدر حسین ودلنشین ہوجاتا ہے کہ اس سے نظر ہٹانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی امی نے حلیمہ کا ہاتھ نہایت اپنائیت ولگاوٹ سے پکڑ کر مسرت آگین لہجے میں کہا۔
’’خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میرا فیضان اپنی زندگی بھر کا ساتھی ڈھونڈنے میں آج کامیاب ہوگیا‘ ماں جی آپ کو مبارک ہو۔ آپ کو آج کے دن کا انتظار بہت شدت سے تھا۔‘‘ وہ ساس کی طرف دیکھ کر بولی‘ تو ماں بیٹی نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
’’بچوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ہے‘ کیونکہ ہمارے مذہب نے عورت کو بھی پسندیدگی کامکمل طور پر حق سونپا ہے۔ یہ ماڈرن زمانے کی باتیں نہیں‘ بہت دیرینہ اور پرانے احکامات ہیں۔ جب اسلام نے عورت کے حقوق اس کو سونپ کر دین کی عظمت وبڑائی کا ثبوت دیا تھا۔‘‘ فیضان کی امی نے مسکراتے ہوئے کہا تو ضحی نے حیرت ومسرت کے امتزاج میں فیضان کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر مکمل طور پر سچائی اور پذیرائی کی مہر ثبت تھی۔
اس نے دلنشین اور دلفریب ہلکی سی مسکان کے ساتھ شرم وحیا سے بوجھل پلکیں جھکالیں اور دل نے گواہی دی کہ یہ سراب نہیں‘ ایک حقیقت ہے‘ اسی روئے زمین پر انسانوں کی ہمراہی میں فرشتے بھی بستے ہیں۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close