Hijaab Oct-16

رخ سخن

سباس گل

آج ہم جن نامور شخصیت کو حجاب فیملی سے ملوانے جارہیں ہیں
وہ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور شوبز میں ان کا ایک نام اور مقام ہے آج کل ان کا لکھا ایک فیمس سوپ سیریل بہو بیگم اے آر وائے چینل پر بہت پسند کیا جارہا ہے
جی تو ہمارے بہت سے قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ ہم کن کا ذکر کر رہے ہیں ۔ شاعر، ناول نگار، سکرپٹ رائٹر،ڈائریکٹر، پرڈیوسر اور وائس اوور آرٹسٹ’’سر امجد بخاری‘‘کا۔
سر امجد بخاری جب بات چیت کرتے ہیں تو ان کا شفیق اور نرم لہجہ ان سے ملنے والے ہر شخص کے دل میں ان کے احترام کو مزید بڑھا دیتا ہے
’’امجد بخاری سادہ طبیعت، سادہ لباس اور پروقار گفتگو کرنے کے ماہر ہیں انھوں نے اعلی پائے کی غزلیں اور ناول لکھے
ان کی شہرت کی سب سے پہلے کڑی ان کی شاعری کتاب آیت ہجر بنی ان کی شاعری میں ایک خاص طرح کی وسعت اور دانش ورانہ گہرائی پائی جاتی ہے۔
پھر ڈرامے ان کی وجہ شناخت بنے
انھوں نے بہت سی نامور شخصیتوں کے ساتھ کام کیا ان کی دیگر تصانیف میں ناول پاداش اور تیحر و اسرار کی دھند میں لپٹی ایک لرزہ خیز داستان گورکھ دھندہ شامل ہیں
ان کی ۱۰۰ کے قریب کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں
تو آئیے سر امجد بخاری سے ان کی شوبز کی مصروفیت اور تصانیف کے متعلق مزید بات چیت کرتے ہیں
حجاب: سر کیسے ہیں آپ؟
آج کل آپ کی کیا مصروفیت ہے؟
جواب: الحمداللہ
آج کل ایک ڈرامہ سیریل سودائی کا شوٹ پلان کررہا ہوں
حجاب: آپ کی وجہ شہرت شاعری بنی پھر ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے؟
جواب: شاعری تسکین دل کے لیے اور ڈرامہ روزی روٹی کے لیے۔
حجاب: آپ شاعر بھی ہیں، اسکرپٹ رائٹر، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر بھی ہیں تو کیسے مینج کرتے ہیں سب کام؟
جواب: سباس گل پہلے میں دوسرے پروڈکشن ہاؤسز کے لیے کام کرتا تھا اب پروڈکشن بھی اپنی کرتا ہوں سو ہوجاتا ہے
حجاب: آج کل آپ کون سے ڈرامے پر کام کر رہے ہیں؟
جواب: آج کل ۱۰۰ اقساط پر مبنی ایک سوپ سیریل تم سے بچھڑ کر کی ریکارڈنگ چل رہی ہے جس میں اسی ڈرامے میں کام کرنے والی زینب احمد اور بابر خان مرکزی کردار ادا کررہے ہیں ایک ڈرامہ سیریل سودائی کا شوٹ پلان کررہا ہوں جو ۲۳ اقساط پر مبنی ہوگا
حجاب: پاکستانی اور بھارتی ڈراموں کے کنسیپٹ اور تکنیک میں کیا بنیادی فرق ہے؟
پاکستانی ڈرامے کی انفرادیت کا۔
جواب: ہمارا ڈرامہ انڈین ڈرامے سے بہت اچھا اور معیاری ہوتا ہے اس بات کو بھارت والے خود بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن اب ناعاقبت اندیش قسم کے لوگ انڈین ڈرامہ کو کاپی کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی ہمارے ڈرامے میں ایک مضبوط کہانی ہوتی ہے لیکن ان کے ہاں گلیمر زیادہ ہوتا ہے چھوٹی سی بات کو اتنا طول دیتے ہیں کہ بعض اوقات متلی ہونے لگتی ہے۔
حجاب: موضوعاتی اعتبار سے انتہائی بے باک اور گلیمر سے بھرپور ترکش ڈرامے کی پاکستان آمد کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟
جواب: دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے اس لیے ایسا ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے لیکن میں ذاتی طور پے اس چیز کو پسند نہیں کرتا کئی لوگ بھی نہیں کرتے ہوں گے کیونکہ یہ ہمارے ٹیلنٹ کی توہین ہے ۔
حجاب: کبھی دل میں ایکٹنگ کا شوق چرایا؟
جواب: شوق تو کبھی نہیں چرایا لیکن ایکٹنگ کرچکا ہوں اور کبھی بھی کرسکتا ہوں۔
حجاب: سوپ سیریل بہو بیگم کا کنسیپٹ کیسے آیا دماغ میں؟
جواب: بہو بیگم کا مرکزی خیال ایک حقیقت پر مبنی تھا اور یہ پاکستان کی بہت بڑی کمپنی کے مالکان کی سچی داستان تھی۔
حجاب: اگر آپ شاعر اور رائٹر نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟
جواب: مجھے پورا یقین ہے میں پھر انسان ہوتا۔
حجاب: جب آپ نے قلم اٹھایا تو کیا خیالات تھے؟ کیا لکھنا کیسے لکھنا ہے؟
جواب: میں جب بھی قلم اٹھاتا ہوں اسے آزاد چھوڑ دیتا ہوں اتفاق کی بات کچھ نہ کچھ اچھا ہو ہی جاتا ہے۔
حجاب: کچھ لکھنے کے بعد کسی کردار میں کمی کا احساس ہوا؟
جواب: بہت بار کیونکہ مکمل ذات تو صرف اللہ کریم کی ہے انسان کے کام میں کمی، کوتاہی ہمیشہ ہوتی ہے۔
سوال: سر آپ کے کتنے مجموعہ ہائے کلام چھپ چکے ہیں؟
جواب: دس
حجاب: کس موضوع پر طبع آزمائی کا مستقبل میں ارادہ ہے؟
جواب: میرا خیال ہے میں ہر موضوع پر لکھ سکتا ہوں کیونکہ آج تک میں نے جس کام کو بھی پہلی مرتبہ کیا مجھے نہیں لگا کہ میں یہ نہیں کرسکوں گا
حجاب: خود کو کس کا ہم عصر پاتے ہیں؟
جواب: مجھے کسی کا ہم عصر کہلانے کی کبھی خواہش پیدا نہیں ہوئی میں امجد بخاری ہی رہنا چاہتا ہوں۔
حجاب: کوئی ایسی کتاب جو باربار پڑھی مگر پھر بھی دل کرتا ہو کہ باربار پڑھوں؟
جواب: شمیم نوید کا ناول تھا ہم زاد۔
حجاب: سر کچھ اپنے بچپن کے بارے میں بھی بتائیے کیسا گزرا؟ شرارتی تھے یا سنجیدہ؟
جواب: شرارتی تو تھا لیکن کھیل کود کا شوقین نہیں تھا پانچ سال کی عمر میں صقلیہ کا مجاہد، نیشا پور کا شاہین اور یوسف بن تشفین پڑھ چکا تھا یعنی مطالعہ کا بہت شوقین تھا۔
حجاب: زبردست سر، فیملی میں کوئی ادب سے دلچسپی رکھتا ہے؟
جواب: میرے بابا مضطر بخاری جنوب پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں رہتے تھے اور استاد الشعراء کہلاتے تھے شاعری پر ان کی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔
حجاب: آپ کو فیملی اور دوستوں میں کون سپورٹ کرتا ہے؟
بابا حیات تھے تو وہی میرا حوصلہ تھے ان کے بعد جو بھی کیا اپنی مدد آپ کے تحت کیا ۔
حجاب:آپ کی زندگی کا سنہری دور؟
جواب: بچپن
حجاب: اپ نے زندگی سے کیا سیکھا؟ کیسا پایا اسے؟
جواب: سانسوں کا بوجھ ڈھونے کو جینا کہو اگر
زندہ ہے زندگی کی جفاؤں کے روپ میں
امجد غم حیات سے شکوہ کریں تو کیا؟
تقدیر ڈھل گئی ہے سزاؤں کے روپ میں
حجاب: وااہ خوب سر!
زندگی کی سب سے بڑی خواہش؟
جواب: ہزاروں خواہشیں ایسی
کہ ہر خواہش پے دم نکلے
حجاب: خوشی کا اظہار کیسے کرتے ہیں؟
جواب: مسکرا کر، ہنس کر، جھوم کر اور بعض اوقات ناچ کر
حجاب: آپ کو شاعری کرنا زیادہ پسند ہے یا تحریر لکھنا؟
جواب: دونوں
حجاب: کیا چاندنی راتیں اور برساتیں شاعر کے مزاج پر اثر انداز ہوتی ہے؟
جواب: میرا ماننا ہے کہ کسی بھی موسم کا اچھا یا برا لگنا آپ کی اندرونی کیفیات پر منحصر ہے آپ کے جذبات و احساسات ہی آپ کے اردگرد کے ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
حجاب: محبت کے بارے میں آپ کا خیال؟
جواب: محبت کے بارے میں لوگ ازل سے لکھ رہے ہیں اور ابد تک لکھتے رہیں گے پھر بھی اسے احاطہ تحریر میں لانا ناممکن سا لگتا ہے۔
حجاب: تقدیر پر یقین رکھتے ہیں یا تدبیر پر؟
جواب: تدبیر پر۔
یہ سوچا تھا برستی آنکھ اس کو روک لے شاید
مگر اشکوں کی کڑیوں سے کہاں زنجیر بنتی ہے
ہزاروں بار کوشش کی مگر ممکن نہیں تھا امجد
بھلا خود ہی بنانے سے کہاں تقدیر بنتی ہے
حجاب: زبردست سر!
سیاحت کا شوق ہے آپ کو؟
جواب: کولمبس کی طرح امریکہ تو دریافت نہیں کرسکا لیکن کچھ نئے کی تلاش سیاحت پر اکساتی رہتی ہے۔
حجاب: آپ کو سیاست سے دل چسپی ہے؟
جواب: نفرت کی حد تک۔
حجاب: ملکی حالات کے ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں؟ اگر ہم عوام بھی ان حالات کا ذمہ دار ہیں تو کس حد تک؟
جواب: دیکھیے سباس ملکی حالات کو سنوارنا اور سنبھالنا حکمرانوں کا کام ہے اور ان کا انتخاب ہم کرتے ہیں کبھی برادری بیس پر کبھی لالچ میں، کبھی کسی خوف کی وجہ سے تو کبھی شخصیت پرستی کی زد میں آکر ہم اپنے ملک کو داؤ پر لگادیتے ہیں ہمیں ضرورت ہے اپنی اپنی آنکھوں پر لگی عینک اتار کر یہ دیکھنے کی کہ ہمارے لیے اور اس ملک کے لیے کون لوگ سودمند ثابت ہوں گے۔
حجاب: اگر آپ کو ملک کی ایک ہفتے کی حکومت مل جائے تو آپ کا پہلا کام کیا ہوگا؟
جواب: پاکستان میں موجود ہر قلم کار کا ماہوار اعزازیہ مقرر کروں گا اور جس لکھاری کے پاس رہنے کو گھر نہیں اسے گھر مہیا کروں گا۔
حجاب: سر امجد بخاری! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے چند لمحات ہمیں دیے۔

Show More
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close