Hijaab Aug-16

ملاقات

ثمن عروج

انٹرویو :بشریٰ اعجاز
٭میڈم آپ کابہت شکریہ ،کہ آپ نے نے حجاب ڈائجسٹ کے انٹرویو کے لیے ہمیں وقت دیا۔سب سے پہلے ہم یہ جاننا چاہیں گے کہ آپ اس دنیا میں کب تشریف لائیں اور اپنے اردگرد کا ماحول کیسا پایا؟
٭٭میں 1959میںپیدا ہوئی ۔میرا بیک گرائونڈ زمیندار گھرانے سے وابستہ ہے ۔جب ہماری زمینوں سے نہریں نہیں نکلی تھیںتو وہاں جنگل تھے،وہاں کی زبان کو بھی جانگلی کہاجاتا ہے ۔ گوندل بار،ساندل بار کے جانگلی علاقہ کی میری پیدائش ہے۔ڈسٹرکٹ سرگودھا سے میرا تعلق ہے۔ہم چھ بہن بھائی ہیں چار بہنیں اور دو بھائی،میں تیسرے نمبر پر ہوں میرے والد زمیندار تھے اور بہت بڑے شکاری بھی‘ یہ جو تلور کا شکار ہے صحرا میں جا کر میرے ابا جی کیاکرتے تھے۔میرے والد کا نام نوازش علی رانجھا ہے میری فیملی رانجھا ہے۔میرے والد کا وہ گھر بہت بڑا حویلی نما تھا ۔اس گھر میں ہی میرا بچپن گزرا ہے۔ایک گائوں کوٹ فضل احمد ہے جو کہ میرے دادا کے نام پر ہے۔وہاں میرے کام کے حوالے سے دو اہم کام ،پی ایچ ڈی بھی ہوئی ہے۔ایک پٹیالہ یونیورسٹی ،پنجاب یونیورسٹی سے اور ایک کوروکیشیتر سے یہ ذکر میں اس لیے کررہی ہوں کیونکہ پی ایچ ڈی کا مقالہ جب لکھا جاتا ہے تو اس پربہت ریسرچ ہوتی ہے۔انہوں نے میرا گائوں،میرے داداکا گائوں وہ کیا کرتے تھے،یہ سب سوال انہوں نے مجھے لکھ کربھیجوا دئیے۔ وہاں سے میرے کام پر دو تین کتابیں بھی آئیں ہیں۔کورومکھی میں تو بڑا کام ہوا ہے۔وہاں بارہ میری کتابیں مقامی زبانوں میں تراجم کی گئی ہیں۔پنجابی اور اردو سے گورومکھی میں اور دو کتابیں نہرو یونیورسٹی سے ہوئی ہیں۔جس میں میری شارٹ اسٹوریز کی کتاب،ایک شاعری کی ،ایک وہاں کے گجرات کے کوئی پروفیسر ہیں انہوں نے میری اردو شاعری کو لے کر اسے انگلش میں ترجمہ کیا ہے۔ اور وہ بہت زبردست کتاب ہے جس کا نام ’’ڈریم بی فور‘‘ صاحب نے بھجوائی ہے۔ اس کے علاوہ میری بیس نظمیں سندھ یونیورسٹی نے اپنے نصاب میں شامل کی ہیں۔دراصل انڈیا میں لوگ کام کے بھوکے ہیں وہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا شخص مل جائے کہ جس پر وہ ورک کرسکیں۔انہوں نے میرے افسانوں اور شاعری کے حوالے سے بہت کام کیا ہے۔اور میرا یہ حال ہے کہ مجھے معلوم ہی نہیں کہ وہ خود ہی میری کہانیوں کو لے کر اسٹیج ڈرامے بنارہے ہوتے۔وہاں میری شاعری کو بھی بہت گایا گیا ہے۔پھر مجھے پٹیالہ سے 2008میں ایوارڈ بھی ملا تھا۔وہ ہر سال پنجاب کو دو ایوارڈ دیتے ہیں ۔جس میں ایک تو پوری دنیا سے نان انڈین رائٹر لیتے ہیں اور ایک ہندوستان سے رائٹر لیتے ہیں۔انہوں نے نان انڈین میں پوری دنیا میںسے میرا انتخاب کیا تھا اور مجھے ایوارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل بھی دیا۔لیکن مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اب تک جو میں نے کیا ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے۔میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ میرا کام صرف مجھے تسکین دیتا ہے۔اور مجھے کام صرف اپنی تسکین اور خوشی ہی کے لیے کرنا ہے۔اگر وہ چیز کسی دوسرے کو اچھی لگ جائے اورمیری پہچان بن جائے۔تو یہ اللہ کا کرم ہے۔میرے خیال سے فطری اور حقیقی رائٹر کا یہ مسئلہ ہوتا ہی نہیں ہے لیکن اسے کوئی ستائش ملے کوئی بڑا صلہ ملے۔میراننھیال تخت ہزارہ سے ہے۔ ہمارے بزرگ میاں رانجھا ہی تھے۔چھٹیوں میں ہم ننھیال جایا کرتے تھے۔ چناب کے کنارے پر ایک گائوں ہے تخت ہزارہ ۔میری ایک نظم بھی ہے ۔’’ نانی کا گائوں‘‘ ایک اردو میں ہے اورایک پنجابی میں اس کا نام ہے ’’ نانی دا ویڑہ ‘‘اس زمانے میں وہاں سرکس لگتا تھا اور میلے ٹھیلے لگتے تھے۔ ہم سب بہن بھائی وہاں جاتے تھے اور بہت انجوائے کرتے تھے۔ہم کیسے دریا چناب پر جاکر خوش ہوتے تھے میری تحریروں میں اس کا بہت عکس موجود ہے۔میں اپنی نانی سے بہت متاثر تھی ،میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی مکمل عورت نہیں دیکھی ہے۔وہ بہت بہادر ،مکمل ،دلیر اور نہایت خوبصورت ،اونچی لمبی ،دبنگ خاتون تھیں۔میں جب ہیر کو پڑھتی ہوں ،جس طرح کا ہیر کا کردار ہے۔ہیر بہت مضبوط اور جٹی عورت تھی۔میں جب بھی اپنی نانی کو دیکھتی تو مجھے ہیر یاد آتی تھی۔ہیر یقینا میری نانی جیسی ہوگی۔میں نے رشتوں ،محبتوں کے حوالے سے ایک بہت ہی جاندار بچپن گزارا ہے۔جو ہماری دیسی ثقافتیں ہیں۔میری نانی سیف الموک ،شاہ نامہ کربلا ،قصہ یوسف ،زلیخا جو کہ پنجابی میں ہوتا تھا وہ پڑتھی تھیں۔میاں محمد بخشؒ اور پیر وارث شاہ کو پڑھتی تھیں۔مجھے یہ ساری چیزیں بچپن میں بہت اچھی لگتی تھیں او رمیں یہ سب بہت غور سے دیکھتی او رسنتی تھی۔وہاں سے مجھے تھوڑا سا شاعری کا شعور ملا ۔ویسے دور دور تک میرے خاندان میں کوئی ادیب نہیں گزرا۔البتہ صوفی و بزرگ ضرور گزرے ہیں۔وہ پورا ایک پیر خانہ ہے۔جہاں بزرگوں کا قبرستان ہے اس کو دربارشریف کہا جاتاہے۔وہ صرف میر ی ہی فیملی کا قبرستان ہے۔میاں محمد صاحب تھے ان کی درگاہ ہے ان کے بہت مرید ہیں۔ایک زمانے میں ان کے چالیس لاکھ مرید تھے۔وہ گدی نشینی ہمارے خاندان میں ہے۔خاندان کے دو حصے ہیں۔ایک حصے میں وہ گدی نشینی چلتی ہے۔ میں پیدا تو گائوں ہی میں ہوئی۔جب میں چھوٹی تھی تو میرے والد سرگودھا میں آگئے وہاں ان کا بہت بڑا گھر تھا۔میری ابتدائی تعلیم سرگودھا کانونٹ میں ہوئی ہے ۔ وہ اس زمانے میں مشنری اسکول تھا ،ہماری ٹیچرز جرمن ہوا کرتی تھیں۔مدرز اور سسٹرز بھی ہوتی تھیں۔اس اسکول کی عمار ت تو ابھی بھی وہاں موجود ہے مگر وہ چیزیں ختم ہو گئی ہیں وہ سسٹم نہیں رہا ہے۔
میں نے اپنے خاندان میں بہت بزرگ دیکھے ہیں اور گدی نشین بھی دیکھے ہیںجو کہ بہت دین دار اور دنیا دار بھی تھے۔ مگر کوئی ادیب و شاعر نہیں دیکھے ہیں۔میری والدہ کی فارمل ایجوکیشن تو نہیں تھی ۔مگر وہ فارسی بھی پڑھتی تھی ،اردو بھی اورپنجابی پڑھنا بھی جانتی تھیں۔اس زمانے میں انہوں نے بہت تراجم پڑھے ہوئے تھے۔میرے والد اور والدہ دونوں نے بہت لٹریچرریشین کا بھی پڑھا ہوا تھا۔ مولانا عبدالحلیم شرر کی جوئیہ ِ حق ہمارے گھر میں تھی،شکیسپئرکے تراجم،ہیملٹ ،چنگیز خان یہ سب ہمارے گھر میں تھے۔اور سلطان ٹیپو کو میری امی ہیرو کے طورپر لیتی تھیں۔گو کہ! میری والدہ کے پاس فارمل ایجوکیشن نہیں تھی لیکن انہوں نے ہمیں اس بات سے آگاہ کیا کہ روپے کا سونے کے ذخیرے سے کیا تعلق ہوتا ہے۔اور افراط ِ زرکسے کہتے ہیں۔قصہ مختصر میں نے رشتوں اور محبتوں کے حوالہ سے بہت شاندار بچپن گزارا ہے میں ابھی ساتویں جماعت ہی میں کنوینٹ اسکول میں پڑھتی تھی کہ میری شادی ہوگئی۔ تب میری عمر صرف بارہ سال تھی۔
٭اتنی کم عمری میں شادی کے پیچھے کیا وجوہات تھیں؟
٭٭اس کی وجہ تو کوئی بھی نہیں تھی ۔بس اتفاق تھا کہ میری بڑی بہن کی شادی بھی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی۔میری شادی 1972میں ہوئی۔میرے تایا کی دو بڑی بیٹیوں کی بھی اسی طرح شادیاں ہوئیں کسی کی پانچویں جماعت میںپڑھتے ہوئے تو کسی کی ساتویں جماعت میں ، چھوٹی عمر میں شادی میرا کوئی فیملی کلچر نہیں تھا ۔میری بڑی بہن کی نو سال کی عمر میں شادی پھوپی کے بیٹے سے ہوئی ۔میری پھوپو کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کے بچے بہت چھوٹے تھے۔میری دادی جی کو اچانک کینسر ہوگیا تو میری دادی نے اپنی سب سے بڑی پوتی یعنی میری بڑی بہن کا رشتہ اپنے سب سے چھوٹے نواسے سے کیا ہوا تھا۔جب انہیں اچانک سے کینسر ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں یہ شادی دیکھے بغیر اس دنیا سے نہیں جانا چاہتی ہوں۔اور میری بڑی بہن اپنی گڑیاں ،پٹولے اور اپنے کھلونے اپنے ساتھ لے کر ڈولی میں بیٹھ کر رخصت ہوئی ۔اور میری شادی بھی اسی روایتی انداز سے چھوٹی عمر میں ہوگئی تھی ۔میں نے شادی کے بعد اپنے والدین سے پوچھا تو امی نے کہا کہ اس کی کوئی باقاعدہ وجہ تو نہیں تھی لیکن جب تمہارے بہت سارے رشتے آنے لگے تو مجھے یہ لگا کہ ا گر میں نے سب رشتوں کو مسترد کردیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری شادی ہی نہ ہوپائے۔ اس لیے میں نے تمہاری شادی کردی۔
شادی کے بعد ابھی میری ٹین ایج ہی تھی کہ میرے تینوں بچے پیدا ہوگئے پھر جب میرے بچے تھوڑے سے بڑے ہوئے تو میں لاہور میں شفٹ ہوئی۔بچوں کی پیدائش اور ان کے بڑے ہوجانے کے بعد میری ایجوکیشن دوبارہ سے شروع ہوئی۔میں نے اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ ہی میٹرک کیا اور پھر جب میرا بیٹاایف ۔اے کررہا تھا تو میں نے بھی ایف اے کر لیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب میں نے ایف اے کیا تب تک میں نے دو تین کتابیں لکھلی ہوئی تھیں۔جب میں نے ایف اے کیا تب میں خبریں میں باقاعدہ کالم لکھ رہی تھی۔اس کے بعد جنگ میں کالم لکھنا شروع کیا تھا۔اس وقت میرے لیے مسئلہ یہ ہوگیا تھا کہ بی اے کرنے کے لیے یو نیورسٹی میں امتحان دینے کے لیے جانا ہوتا ہے ۔اس وقت مجھے سب پہچانتے تھے،میں نے بی اے کا امتحان دینے میں دو سے تین سال کی تاخیر کردی ۔اور جب میں پیپر دینے کے لیے جاتی تھی تو وہاں بڑا مسئلہ بن جاتا تھا کیونکہ میں نے اپنا تما م چہرہ کور کیا ہوتا تھا۔وہاں کا اسٹاف کہتا تھا کہ بی بی اپنا چہرہ اوپن کروتاکہ شناخت ہوسکے۔میں نہیں چاہتی تھی کہ وہاں میری شناخت ہو کیونکہ اس وقت میں باقاعدہ کالم لکھ رہی تھی۔اور میری دو سے تین کتابیں بھی مارکیٹ میںشائع ہوچکی تھیں۔اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا میرے بچے پڑھتے رہے اور میری تعلیم کے ساتھ میرے کام کا سلسلہ بھی چلتا رہا ۔ میری پہلی کتاب کا نام ’’ عرض ِ حال ‘‘ تھا۔جو کہ حج کا سفر نامہ تھا۔اور میری یہ کتاب میٹرک کے بعد آئی تھی۔
٭آپ کی فیملی میں کوئی ادیب وشاعر نہیں گزرا بچپن میں آپ کو والدین کی طرف سے بہت سا کلچروادب سننے کو ملاتو کیا آپ سمجھتی ہیں کہ وہ آپ کا ہوم ورک تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس طرف لانا تھا؟
٭٭میں شادی کے وقت کتاب سے توآشنا تھی۔ لیکن شادی کے فورا بعد کتاب سے کچھ دوری ہوگئی اور سبب اس کا یہ تھا کہ ایک بارہ سال کی بچی کی دور دراز گائوں میں شادی ہوجانا۔اورپھر وہ بالکل انجان اور ہم سے بہت مختلف لوگ تھے۔ وہ جگہ بھی ایسی تھی کہ وہاں بجلی بھی نہیں تھی۔پھر دس سال جوائنٹ فیملی میں رہنا۔ اس دوران میں میرا لکھنے کا کام نہیں ہوسکا البتہ میں ڈائری ضرور لکھتی تھی۔ڈائر ی کا مجھے بچپن سے بہت شوق تھا میں نے گائوں میں رہتے ہوئے بہت ڈائریاں لکھیں۔شادی کے بعد میں نے بیشتر ڈائریاں لکھیں۔شادی کے بعد میں اپنی والدہ کو بہت یاد کرتی تھی۔حالانکہ آنے جانے کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور میں کافی عرصہ اپنی والدہ کے پاس رہی بھی ہوں۔مگر ایک اداسی تھی جو کہ میرے اندر ماں کے لیے مستقل بیٹھ گئی تھی۔
٭آپ کی اس عمر میں شادی ہوگئی تھی۔جس عمر میںلڑکی لڑکیاں گڑیوں سے کھیلتی ہیں۔کچھ اس حوالے سے بتائیں؟
٭٭میں نے ایک نظم بھی اس حوالے سے لکھی ہوئی ہے جو کہ پنجابی میں ہے۔
’’میریاں گڈیاں پٹولے رہ مائیں
مینوں اصل حقیقت دس مائیں
مینوںخوابا اندروں کڈ مائیں‘‘ یہ ایک لمبی سی نظم ہے ۔
٭بارہ سال جو والدین کے گھر گزارے ،جب آپ ایک بچی تھیں تو کیسا بچپن تھا آپ کا ؟
٭٭میں بہت شرارتی بچی تھی۔آپ سوچ نہیں سکتے کہ میں نے کتنی بڑی بڑی ظالم قسم کی شرارتیں کی ہیں۔درختوں پر چڑھنا ،ہم بالکل بندر کی طرح درختوں پر چڑھتے تھے۔میرے ابا جی کا گھر بہت بڑاتھا۔اور اس میں بڑے بڑے اور پرانے سکھ چین کے درخت تھے۔اور جامن کے درخت ،اس میں بیریاں بھی تھیں اور شہتوت کے درخت ،شیشم کے درخت،نیم کے درخت تھے۔وہ بہت بڑی حویلی تھی۔اس حویلی میں ایک بہت بڑی بارہ دری بھی تھی۔اس گھر میں اونچے چوبارے بھی تھے۔میری عادت یہ تھی کہ میںدرختوں سے ہوتی ہوئی شاخوں پر چڑھ کر چھت پر جایا کرتی تھی۔گائوں کے تیس چالیس بچے بھی ہمارے ساتھ ہوا کرتے تھے،دیواروں کو پھلانگتے ہوئے کئی چوٹیں بھی لگی ،پائوں میں موچیں بھی آئیں ۔
٭کبھی والدین سے ڈانٹ پڑی؟
٭٭ڈانٹ کبھی نہیں پڑتی تھی۔ہمارا بچپن ہی کچھ ایسا تھا کہ والدین نے ہمیں پوری آزادی دی ہوئی تھی ہر طرح کی سرگرمیاں کرنااور ہماری حفاظت بھی ہر طرح سے تھی۔انہوں نے ہمیں بہت اعتماد دیا ہوا تھا۔بھائیوں کے ساتھ پتنگیں اُڑانا ،ا ن کے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا۔میری اپنے بڑے بھائی کے ساتھ بڑی دوستی تھی۔میں نے ایک نہایت بھرپور بچپن گزارا ہے۔آج کے بچوں پر تو مجھے بہت ترس آتا ہے۔سچی بات ہے کہ مجھے توپرندے بھی وہ اچھے لگتے ہیں جو آسانی سے نہ پکڑے جا سکیں۔میرے ابا جی پرندے پکڑتے تھے اور ادھر رحیم یار خان میںکیمپنگ ہوتی تھی تو وہاں ابوظہبی کے شیخ زیداور ان کے وزیر آتے تھے۔ ابوظہبی والوں کے ساتھ میرے ابا جی کی بڑی دوستی تھی۔شیخ زید ابا جی کو اپنے پیلس میں بلایا کرتے تھے۔ایک دفعہ میرے ابا جی نے سفید رنگ کا فالکن پکڑا ۔اس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ پرندہ ڈیڑھ سو سال سے نایاب تھا۔جب شیخوں کو معلو م ہوا کہ میرے ابا جی نے نایاب فالکن پکڑا ہے تو کبھی کسی اسٹیٹ کا وزیر ہمارے گھر آرہا تھا تو کبھی کسی اسٹیٹ کاوزیر آنا شروع ہوگئے وہ کہتے تھے کہ یہ فالکن ہمیں فروخت کردیں۔میرے والد صاحب پرندوں کے شوقین تھے بیوپاری نہیں تھے انہوں نے کہا ہم لوگ زمیندار ہیں یہ بیچنا اور سوداگری ہمیں آتی ہی نہیں تھی۔اباجی نے ان کو کہا کہ یہ میرے شوق کی چیز ہے میں اسے فروخت نہیں کرسکتا ہوں۔پھر ابوظہبی والوں نے کہا کہ ہمیں یہ نایا ب فالکن دکھا تو دیں۔شیخ زید نے میرے ابا جی کو اسٹیٹ گیسٹ کے طورپر بلایا اور ان کی بڑی آئو بھگت کی۔اباجی نے بتایا کہ سونے کے پیالے میں فالکن کو پانی پلایا ۔شیخ کی آنکھیں فالکن کو دیکھ کر چمک اُٹھی،اس نے ابا جی سے کہا کہ برادر یہ مجھے دے دو۔اس کے بدلے میں مجھ سے کچھ بھی لے لو۔اس نے بڑا اصرار کیا کہ آپ کچھ بھی مجھ سے مانگ لیں۔آخر ابا جی نے وہ فالکن پرندہ اس کو تحفہ دے دیا۔پھر اس شیخ نے کہا کہ میں نے بھی اپنے دوست کو تحفے میں کچھ دینا ہے۔اس نے میرے ابا جی کو بڑی جیپ گفٹ کی شکار کھیلنے کے لیے اور ایک سونے کا خنجر دیا اور ساتھ اس نے اپنی مہر دی اور اس کے ساتھ ایک لیٹر دیا جس پر تحریر تھا کہ آپ اور آپ کی فیملی کا کوئی بھی بندہ ،جب چاہے بحیثیت اسٹیٹ گیسٹ ہماری اسٹیٹ میں آسکتا ہے ۔جب بھی کوئی سروس ہم سے چاہے تو ہم حاضر ہیں۔میرے ابا جی اس طرح سے تھے۔میں نے اپنے اباجی پر کہانی بھی لکھی ہے۔وہ جو آپ کا سوال تھا کہ کتاب سے آشنائی تو میری اپنے والدین کی وجہ سے ہوئی۔اور شادی کے بعد دس سال کا وقت میرے لیے بہت مشکل تھا۔وہاں میں پھر سے کتابو ں سے جڑ گئی مگرمجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ میں کبھی لکھوں گی۔میں کتاب پڑھتی تھی ٹائم پاس کرنے اور خود کو گروم کرنے کے لیے ،جاننے کے لیے۔ مجھے کتاب پڑھنا بہت اچھا لگتا تھا ۔میں نے شاعری بھی بہت پڑھی او رہسٹری کا بھی بہت مطالعہ کیا ہے۔اس زمانے میں مذہب نہیں پڑھا ،البتہ فکشن بہت پڑھا ہے۔جب میں لاہور شفٹ ہوئی تو میرے ذہن میں بس ایک یہی سوچ تھی کہ بس میں نے پڑھنا ہے۔لکھنے کا تو میرے ذہن میں کہیں دور دور تک کوئی خیال بھی موجود نہیں تھا۔
٭شادی کے بعد شوہر کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کیسے ہوئی؟
٭٭جب میری شادی ہوئی تو میں بچی تھی ۔اس عمر میں شادی کی سمجھ بوجھ بھی نہیں ہوتی پھر آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ انسان کا شعورسکھاتا ہے۔یہ اللہ کی شان ہے کہ وہ بندے کو اس کے مطابق ہمت دے دیتا ہے۔اور ان چیزوں سے گزرنے کی طاقت وشعور بھی عطا کردیتا ہے۔میرے شوہر شادی کے وقت مجھ سے بارہ سال بڑے تھے۔ ان کی عمر اس وقت چوبیس سال تھی۔میں شادی کے بعد جس گھر میں بیاہ کر گئی وہاں جوائنٹ فیملی سسٹم تھا ۔میرے شوہر کی بہت ساری بہنیں تھیں۔وہ انڈراسٹینڈنگ جسے ہم ذہنوں کا ملنا ، سوچ کی ہم آہنگی اور نظریے کا ملاپ کہتے ہیں وہ تو میرے خیال سے بہت مشکل ہوتا ہے۔دنیا میں بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں کہ جس کے ساتھ آپ کی مینٹل ایکویشن ہوتی ہے۔اس کے علاوہ دنیا داری کی انڈراسٹینڈنگ تو فورا ہوگئی تھی۔مجھے اللہ نے بڑا مثبت بنایا ہے۔میں ہر چیز کو بہت مثبت انداز میں لیتی ہوں۔
٭ایک چیز ہوتی ہے انڈراسٹینڈنگ اور ایک چیز ہوتی ہے قبول کرنے کی صلاحیت کیا آپ نے اس صورت حال کو اپنا لیا ؟
٭٭کسی بھی صورت حال کو اپنانے کی صلاحیت ، اللہ نے میرے اندر ایسی ڈالی ہے کہ اس وقت بھی اگر مجھے یہاں سے اٹھا کر کسی جنگل میں بٹھادیا جائے تو میں وہاں بھی بڑے مزے سے رہ لوں گی۔میں نے کبھی کسی چیز کو خود پر طاری نہیں کیا ۔میں یہ سوچتی ہوں کہ خدا نے اگر مجھے کسی سچویشن میں ڈالا ہے تو کسی وجہ سے‘ میرے سسرال والوں کا ماحول کچھ اس قسم کا تھا کہ وہ ہم سے تقریبا پچاس سال پیچھے کے لو گ تھے۔میرے سسرال کا گائوں جغرافیائی طورپر اندر سے تو قریب ہی تھا مگر وہ انتظٓامی حدود کے حوالہ سے ضلع گجرات میں شامل تھا۔اور میرے ابا جی کا گائوں ڈسٹرکٹ سرگودھا کہلاتا تھا۔میرے ابا کے گھر کے ماحول اور میرے شوہر کے گھر کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق تھا۔تقریبا پچیس سال کے بعد میں نے از سرنو خود ماحول کو اپنے مطابق ٹھیک کیا۔
٭ہر لحاظ سے اتنے نمایاں فرق کے ساتھ سال پچیس سال کیسے گزرے؟
٭٭وہ پچیس سال بڑے مزے سے گزرے۔مجھے آج تک اپنی زندگی کا کوئی ایسا لمحہ یاد نہیں کہ جب میں نے خود پر ترس کھایا ہو،الحمد للہ میں نے بڑی ہنس کھیل کر زندگی گزاری ہے۔
٭آج کے عہد کا ایک بنیادی سوال کہ جب رہن سہن میں،عمروں میں،ماحول میں ،تہذیبوں میں اس قدر فرق ہوتو پھر اس صورت حال میں خود کو سمجھانا اور تمام معاملات میں آپ نے خود کو کیسے ڈیل کیا؟
٭٭کچھ معاملات ایسے تھے جن کے بارے میں ایک چھوٹی سی بچی کے شعور نے بتا دیا تھا کہ یہ بہت ہی مشکل ٹاسک مل گیا ہے۔میری تربیت شروع ہی سے ایڈجسٹ کرنے والی تھی۔ میری والدہ بھی ایسی ہی تھیں۔ اور میرے نانا درویش تھے۔وہ بزرگ پیر کانواں والی سرکار کے مرید تھے۔وہ براہ راست مرید تھے اور انہیں روحانی فیض تھا۔میرے نانا جی بہت بڑے زمیندار تھے،چناب کے علاقے میں کئی دیہاتوں کے مالک بھی تھے اور میری والدہ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں۔مگر میرے نانا جی کی درویشی ایسی تھی کہ ساری زندگی وہ بانٹتے رہے۔لیکن خود پر خرچ کرنا اور دکھاوے ،نمودنمائش اچھا پہنا وہ پسند نہیں کرتے تھے اور بڑے عجز میں،بڑے انکسار میں رہنے والے انسان تھے۔اور وہ خدا کے عشق میں ڈوبے ہوئے تھے اور میری والدہ بھی ایسی ہی تھیں۔میرے خاندان کی باقی خواتین اونچی جگہ پر بیٹھتی تھیں مگر میری والدہ ایک عوامی شخصیت تھیں۔ غریب عورتوں کے میری والدہ دکھ سکھ سنتی تھیں۔شاید میں نے ورثے میں یہ چیز ان سے لی ہے۔صبر ،شکر اور عوامی سطح پرزندہ رہنا میری فطرت میں شامل ہے۔وہ جو میرے سسرال کا گھر تھا وہاں بجلی بھی نہیں تھی۔وہاں کا ماحول بالکل مختلف تھا۔میری نندیں عمر میں مجھ سے بہت بڑی تھیں مگر وہ غیر شادی شدہ تھیں۔میں اپنے سسرال میں سب سے چھوٹی تھی۔میں نے ان سے دوستی کرلی۔آج اگر میں اس زمانے کا موازنہ کرتی ہوں تو مجھے خود یقین نہیں آتا ہے کہ میں نے یہ چیزیں کہاں سے سیکھی۔یہ مجھے کیسے پتا چلا کہ جھگڑا نہیںکرنا ۔اور مل جل کررہنا ہے ۔ہنس کھیل کر زندگی گزارنی ہے۔اور پتا نہیں کہ مجھے کیسے یہ معلوم تھا کہ خود پر ترس نہیں کھانا ہے۔اور کسی کو الزام نہیں دینا میں کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائی کہ میرے والدین نے یہ میرے ساتھ کیا کیا۔لیکن آج کل بچوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ہر کمزور ی،ہر ناکامی کا ذمہ دار اپنے والدین کو ٹھہراتے ہیں۔میری فطرت شاید کچھ ایسی ہی تھی۔اورمیرا مزاج ان صوفیا کی مانند تھا جو شکوہ شکایت نہیں کرتے ۔مجھے زندگی میں جو بھی آج حاصل ہوا ہے اور میں نے جو بھی آج تک سیکھا ہے وہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے۔میں یہ سمجھتی ہوں کہ خدا کی توفیق کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔میں نے اپنی صوفیانہ سوچ اور گلہ شکوہ نہ کرنے کی عادت کی وجہ سے اپنی نندوں سے دوستی کرلی۔میرے شوہر کی سوتیلی ماں بھی وہاں ہی موجود تھی،ان کے بھی بچے تھے۔میرے سسرال میں ایک کھچڑی پکاہو اماحول تھا۔وہاں ہر وقت جھگڑے اور سیاست ہوتی تھی۔میں دیکھتی رہتی تھی کہ دو گروپ آپس میں لڑ رہے ہیں تو میں چھپ کر کمرے میں جا کر بیٹھ جاتی تھی۔جب ان کی صلح صفائی ہوجاتی تو ان کے درمیان آکر بیٹھ جاتی تھی۔میں اپنی تعریف نہیں کررہی ہوں بلکہ میں یہ اللہ کا کرم بتا رہی ہوں کہ پتا نہیں یہ سب کیسے ہوامگر کمال کی بات یہ ہے کہ وہ سارے جھگڑے کرنے والے لوگ،جن کے درمیان میں دس سال رہی۔آج تک میرا ان میں سے کسی کے ساتھ بھی جھگڑا نہیں ہوا۔وہ سب آج یہ کہتے ہیںکہ ہم نے اس کو ماں کی جگہ پر دیکھا ہے۔میری نندیں یہ کہتیں ہیںکہ اگر یہ نہ ہوتیں تو ہمار اباپ او ر ہمارے بھائی تو شاید ہمیں پہچانتے بھی نہیں۔میں عمر میں تو ان سے چھوٹی تھی مگر میرا کردار بڑا تھا۔پھر جب دس بارہ سال کے بعد ان کی شادیاں ہوگئیں ۔میں بھی خود مختار ہوگئی۔مگر خودمختار ہوجانے کے باوجود بھی میں نے ہمیشہ اپنی نندوں کو فیملی سمجھا کیونکہ میرے بچوں کے تو یہی رشتے ہیں اگر میرے بچوں کے لیے خالہ اور ماموں ضروری ہیں تو پھر پھوپھیاں اور دادا بھی ضروری ہیں۔میری یہ سوچ تھی کہ میں نے اپنے بچوں کو رشتوں سے بالکل محروم نہیں ہونے دینا ہے۔حالانکہ وہ سب اور طرح کے لوگ تھے مگر میری شادی کو 44 سال ہوگئے ہیں ۔آج تک ایک لفظ بھی ہمارے درمیان ایسا نہیں آیا جو کہ تکرارو تلخی کا ہو۔
٭آپ نے پہلی بار قلم کب اٹھایا؟
٭٭ قلم کے ساتھ وابستگی کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ یہ 1985ء کی بات ہے میں حج کرنے گئی۔حج پر جانے سے پہلے کے تین چار سال بہت مشکل تھے۔میں حج پر جانے کے لیے تڑپ رہی تھی مگر حج کو میں روایتی حج کی طرح لے نہیں رہی تھی۔میں تو یہی سمجھتی تھی کہ حج تو بس یہی ہے کہ بیت اللہ شریف اللہ کا گھر ہے اور وہاں اللہ سے ملاقات ہے۔اور میں نے اس سے ملنا ہے۔میں نے لبیک پڑھی ہوئی تھی۔اور کچھ اللہ سے محبت والی چیزیں پڑھی ہوئی تھیں۔میں صوفیاء کو پڑھ رہی تھی۔ یہ سب چیزیں پڑھ کر مجھے یہ لگ رہا تھا کہ اگر میں بیت اللہ شریف نہیں جائوں گی تو مجھے چین نہیں ملے گا۔میں حج کے لیے نہیں جارہی تھی میں اپنی بے چینی کو دور کرنے کے لیے حج کرنے جارہی تھی۔مجھے بس یہ معلوم تھا کہ بس مجھے وہاں جانا ہے، روح کے چین اور دل کے سکون کے لیے جانا ہے، میں نے تین سال کوشش کی۔ دو سال تک میری درخواست مسترد ہوتی رہی۔تیسرے سال منظوری ہوگئی ۔میرے ساتھ میری والدہ تھیں ،میری بڑی بہن ،میری خالہ ہم سب کا ایک گروپ بن گیا۔ اور اس گروپ میں سب سے چھوٹی میں تھی۔میں نے 1985میں 26سال کی عمر میں حج کیا۔مکہ مکرمہ میںمحلہ الجیاد میںایک پرانا مکان تھا۔جو کہ مٹی، گارھے اور لکڑی کا بنا ہوا تھا۔اس کے اوپر کے دو حصے گر چکے تھے۔ درمیان کی منزل میں ایک بڑا سا کمرہ تھا۔ ایک چھوٹی سی لابی کے ساتھ ایک چھوٹا سا کچن تھا۔اور ایک واش روم بنا ہوا تھا۔ ہم نے اس کمرے میں زمین پر گدے بچھا رکھے تھے۔حج کی فلائیٹ سے پہلی رات کو میں نے لبیک پھر سے پڑھی۔اس لبیک نے تو مجھے پتا نہیں کیا کردیا۔جب میں بیت اللہ شریف پہنچی تو مجھے نہیں معلوم کہ میری کیا حالت تھی۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ایک عجیب ہی میری حالت تھی۔وہ حج ایک عجیب سی قلبی کیفیت تھی۔ میرے اندر ایک خلش،تڑپب اور قراری تھی وہ سب وہاں جاکر مزید بڑھ گیا۔میں ننگے پائوں دھوپ میں طواف کیا کرتی تھی۔اور ہر روز میں گیارہ گیارہ طواف کیا کرتی تھی۔ہر طوائف میں سات سات بوسے لیتی تھی ۔وہ پنتالیس دن کا حج تھا اور گرمیوں کا حج ،جولائی کے دنوں کا تھا۔تب بیت اللہ شریف موجودہ حالت جیسا بھی نہیں تھا۔آج والی بہترین سہولیات بھی تب وہاں موجود نہیں تھیں۔ بیت اللہ شریف میں گیارہ بجے سے قبل ظہر کی نماز کے درمیانی وقت میں طواف کے لیے بہت کم لوگ ہوتے تھے۔کیونکہ اس وقت گرمی شدید ہوتی تھی لوگ گر جاتے تھے،مرجاتے تھے۔میرے گھر والے کہتے تھے کہ تم مرجائوگی ،کڑی دوپہر میں ،سخت دھوپ میں طواف کے لیے کیوں جاتی ہو۔میرے پائوں سوجھ گئے ،چھالے پڑ گئے۔پائوں پر پٹیاں باندھ کر چل رہی ہوتی تھی۔کیونکہ مجھے طواف کئے بغیر چین ہی نہیں آتا تھا۔میں حجر اسود کے ساتھ لپٹی رہتی تھی۔اور مجھے اپنی کیفیت کی سمجھ ہی نہیں آئی پھر اسی کیفیت میں مدینے پاک چلی گئی۔اس زمانے میں مدینہ ایسا تھا کہ مدینے کی گلیاں کچی تھیں اور ان گلیوں میں چھوٹی چھو ٹی لال مٹی اور چھوٹے چھوٹے لال پتھر تھے ۔اب تو رسول ﷺ کے عہد کا پورا مدینہ شہر مسجدنبوی میںآگیا ہے۔ میں مدینے میں پہنچی تو مجھے فلو کے ساتھ ایک سو تین بخار ہوگیا تھا۔ جب باب جبرائیل کے سامنے پہنچے تو تب رات کے تین بج رہے تھے۔تب دروازہ رات کو بند ہوجاتاتھا۔وہاں گتے کے ڈبے پڑے ہوئے تھے مجھے اتنا تیز بخار تھا میں ان گتوں پر لیٹ گئی۔وہاں میری خالہ نے مجھے بتایا کہ تم تو یہاں پڑی ہوئی اور ہم نبی پاکﷺ کے روضہ پاک کی زیارت بھی کرکے آگئے اورمسجد نبوی میں نماز فجر بھی پڑھ لی ہے۔یہ سن کر مجھے بہت تڑپ لگی۔میں ایک سوتین بخار میں اٹھ گئی اور کہا کہ میں بھی جائوں گی۔جب میں بابِ جبرائیل میں کھڑی ہوگئی تو بہت ہی زیادہ رَش تھا۔ایک سو تین بخار میں انسان کی کیا کیفیت ہوسکتی ہے۔مجھے فلو اور چیسٹ انفیکشن بھی تھا۔میں یہ سوچ رہی تھی کہ یااللہ میں کیسے اندر جائوں گئی ؟اسی اثناء میں سیاہ جبہ اور عمامہ میں ملبوس ایک بندے نے اتنے شدید رش میں،آکر مجھ سے پوچھا ’’حاجی زیارت…؟ ‘‘میں نے کہا …ہاں‘‘اس آدمی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے کھینچتا ہوا اندر لے گیا میں نے اس کی شکل ہی نہیں دیکھی۔وہ راستے میں مجھے بتارہا ہے کہ صفا کا چبوترہ ہے،یہ ریاض الجنۃ ہے۔یہ منبر ِرسول ﷺ ہے۔میں اسے کہتی ہوں کہ مجھے روضہ رسول پاک ﷺ کی جالیوں پر جانا ہے۔مجھے راستے میں کہیں نہیں رکنا ہے۔مجھے وہاں پہنچائو۔ روضہ پاک ﷺ کی جالی سے چمٹ گئی سیکورٹی والوں نے مجھے کھینچا ۔مجھے نہیں پتا کہ میں جالی کے ساتھ کتنی دیر لگی رہی ہوں۔جب میں وہاں سے ہٹی تو میں زار وقطار رو رہی تھی ۔میں یہ سوچ رہی تھی کہ اس بندے نے آج اتنا بڑا میرا کام کردیا ہے۔پتا نہیں یہ کون ہے۔کیا یہ اللہ کا فرشتہ ہے۔جب میں نے اس بندے کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو وہ بندہ مجھے نظر ہی نہیں آیا۔ہم لوگ دس دن مدینہ پاک میں رہے ۔تین دن کے بعد میرا بخار بھی ٹھیک ہوگیا۔میں وہاں کی مٹی اکٹھی کرتی رہی۔جو کہ اب میرے پاس ہے میں نے اپنے بچوں کو کہا ہوا ہے کہ یہ میری قبر میں رکھنی ہے۔اب تو وہاں کی وہ مٹی بھی نایا ب ہے۔وہاں وہ مٹی رہی ہی نہیں ہے۔آپ نے پوچھا تھا کہ میں لکھنے کی طرف کیسے آئی،تو اپنے پہلے 45روزہ سفرِ حج کے بعد جب میں واپس آئی ، لوگ پوچھتے تھے کہ کیا لائے،وہاں کیا دیکھا؟کیا کھایا ،کیسے رہے ؟یہ کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ تم نے محسوس کیا کیا؟تم پر وہاں کیا گزری؟ جس کام کے لیے تم گئی تھی وہ تم سے کیسا ہوا؟کیا محسوس کرکے اور کیا کچھ حاصل کرکے آئی ہو؟میں واپس آکر بیس دن تک تو گم تھی ۔میں ہر وقت روتی رہتی تھی۔ہر وقت کانوں میں مدینے پاک اور بیت اللہ شریف کی اذانیں سنائی دیتی تھیں۔ہر وقت صلوٰۃ کی آوازیں آتی تھی۔ہر وقت بیت اللہ شریف اور روضہ پاک ﷺ میری آنکھوں میں رہتا تھا۔وہ سب میرے آنکھوںسے ہٹتا ہی نہیں تھا۔ تو پھر میں نے ڈائری میں لکھنا شروع کیا،ڈائری میں32باب میں نے لکھے۔میں لکھتی تھی اور روتی تھی۔میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ میں لکھتی ہوں اور روتی ہوں۔مجھے اپنی کیفیت کی سمجھ نہیں آرہی تھی میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ یہ میں کیا لکھ رہی ہوں۔میرے بھائی احمد شیر رانجھا بہت پڑھے لکھے ہیں۔اور انہوں نے بہت ساری کہانیاں بھی لکھی ہیں۔اور ان کی تحریر کما ل کی ہے۔جب میں نے اپنی وہ ڈائری بھائی کو دکھائی تو انہوں نے مجھے کہا کہ یہ تو سفرنامہ ہے اسے چھپوادو۔ میرا وہ سفرنامہ سنگ ِ میل سے چھاپاتھا۔اس سفر نامے کا نام تھا’’عرض حال‘‘ جو کہ میری پہلی تحریر تھی۔وہ تحریرہی میرا تعارف بن گئی۔اس زمانے میں سجاد حسین قریشی صاحب گورنر ہوتے تھے۔جب حاجیوں کی فلائیٹ جانا شروع ہوتی تھیں تو وہ انہیں رخصت کیا کرتے تھے۔میری وہ کتاب سجاد قریشی صاحب حاجیوں کو کئی سال گفٹ دیتے رہے۔اس کے بعد میں بھی بہت ایڈیشن آئے ہیں۔میری اس کتاب کوملیر کوٹلہ ،انڈیا کے ایک مسلمان پروفیسر انور چراغ صاحب نے گورو مکھی میں ترجمہ کیا ہے۔کیونکہ وہ لوگ اردو اسکرپٹ سے ناواقف ہیں ۔وہاں مسلمانوں کے لیے جوکہ اردو نہیں پڑھ سکتے ہیں۔اب وہاں بھی پچھلے تین چار سالوں سے لوگ اس کتاب کو پڑھ رہے ہیں۔یہ سفر نامہ نثر میں میرا پہلا تعارف بنا مگر میری ذاتی پسند شاعری تھی۔نثر میں نہیں لکھنا چاہتی تھی۔جب میں نے اردو شاعری کی تو مجھے کسی نے کہا کہ آپ تو پنجابی شاعری بھی لکھ سکتی ہیں۔میں نے کہا کہ میں تو ٹھیک سے پنجابی پڑھ بھی نہیں سکتی ہوں کیونکہ پنجابی اسکرپٹ پڑھنے کی عادت ہی نہیں ہے۔مجھے قائل اور مائل کیا گیا کہ آپ پنجابی شاعری بھی کریں
٭اآپ نے اردو شاعری کی ابتداء کب کی؟
٭٭اردو شاعری کی ابتدا میری 1988میں ہی ہوگئی تھی۔ اپنی اردو شاعری کی ابتدا کے اگلے ہی سال میں نے1989میں پہلا عالمی مشاعرہ پڑھا تھا۔جو کہ دہلی میں منقعد ہوا تھا۔میں نے پہلی بار غزل لکھی تھی۔اور پہلی بار میں نے اپنی پہلی شاعری شبنم شکیل کے گھر میں پڑھی تھی۔انہوں نے اپنے گھر میں وہ نشست میرے اعزاز میں ہی رکھی تھی۔اس کے بعد میری شاعری چھپنا شروع ہوگئی۔اس زمانے میں خالد عبدالعزیز صاحب تھے شبنم شکیل نے مجھے کہا کہ میں بھی شاعری کی اصلاح ان سے لیتی ہوں تم بھی ان سے اصلاح لے لیا کرو۔میں نے شروع میں چند غزلیں خالد صاحب کو دکھائی تھیں۔اس کے بعد میں نے کبھی کسی کو کچھ نہیں دکھایا۔ان دنوں پروین شاکر بھی منظر عام پر آچکی تھیں اور میں نے دہلی کا پہلا مشاعرہ پروین شاکر کے ساتھ ہی پڑھا تھا۔وہ مشاعرہ کیا بہت بڑی کانفرنس تھی۔اس میں پاکستان سے اڑھائی سو لوگ گئے تھے۔جن میں ممتاز مفتی،اشفاق صاحب،قاسمی صاحب ،قتیل شفائی صاحب اور اردو ادب کے بے شمار بڑے نام شامل تھے ۔ میَں نے شاعری میں کسی سے اصلاح نہیں لی۔میں یہ بھی نہیں کہتی ہوں کہ میں نے مو زوں طبیعت پائی۔میں نے خود ہی لکھ لکھ کر سیکھا ہے۔مجھے بہت دیر بعد ایک بارکیفی اعظمی صاحب ملے تھے ان کے ساتھ بھی میں نے مشاعرے پڑھے تھے۔دہلی کے مشاعرے کے بعد شملہ اورپٹنا میں بھی مشاعرے پڑھنے کا موقعہ ملا۔میں نے کیفی صاحب سے درخواست کی تھی کہ میں نے شہروں کی کوسٹر میں نہیں بیٹھنا ہے۔اس میں بہت رش ہوتا ہے۔اگر آپ نے مجھے لے کر جانا ہے تو آپ کو میری اس چیز کا خیال رکھنا ہوگا۔انہوں نے پھر میرے لیے وہاں الگ کار کا بندوبست کروایا تھا۔جس کار میں ،میں ہوتی تھی اس میں میری ایک ہندو دوست سحر گیتا ٹھاکر،اور فرنٹ سیٹ پر کیفی اعظمی صاحب ہوتے تھے۔دوران سفر میںکیفی صاحب سے بہت باتیں پوچھتی رہیں۔کیفی صاحب نے بتایا کہ میرے استاد آرزو لکھنوی صاحب تھے۔جب میں نے پہلی غزل کہی تو میں نے کیفی صاحب سے پوچھا کہ یہ کیسی ہے اور مجھے شاعر بننے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔انہوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ لکھتے رہو لکھتے رہو اور اس مشق سے جو ناپختہ چیزیں ہوں گی وہ خودبخود ایسے جھڑ جائیں گی جیسے درختوں سے خشک پتے اور پختگی ایسے ہی ہے جیسے ٹہنیاں اور شاخیں رہ جاتی ہیں۔پختگی بھی ایسے ہی باقی رہے گی۔
٭کہانیاں اور افسانے لکھنے کی طرف کب آنا ہوا؟
٭٭میں نے 1991ء میں اپنی پہلی کہانی لکھی اور اپنی مرضی سے لکھ دی لیکن اس وقت کے رواج کے مطابق چیزیں چل رہی تھیںان کو ملحو ظ خاطر ہی نہ رکھا اس کہانی کا نام تھا۔’’ عمر میری تھی مگر‘‘ اوروہ ایک بے ساختہ سی کہانی تھی۔ اس کہانی کا تھیم یہ تھا کہ اس میں ایک ایسی عورت ہے جو کہ مرد سے اظہار محبت کرتی ہے۔چونکہ ہیر نے رانجھے سے خود اظہار محبت کیا تھا رانجھے نے نہیں کیا تھا۔میرے ذہن میں ہیر کا کردار ہمیشہ سے ہی بہت مضبوط رہا ہے۔موجودہ صدی میں بھی میں نے ہیر جیسی کوئی عورت نہیں دیکھی ہے۔جب میں نے وہ کہانی لکھی تو میں نے وزیرآغا صاحب کو اوراق میں بھیجی ۔اس وقت کے اوراق اور فنون دو بڑے پرچے تھے۔مجھے اخبار کی دنیا سے منسلک کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ بھی سرگودھا سے ہیں اور آغا صاحب بھی سرگودھا سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔آپ انہیں خط لکھ دیں۔اور انہیں اپنا سرگودھا کا حوالہ بتائیں وہ سرگودھا کے لوگوں سے زیادہ شفقت فرماتے ہیں۔میں نے ا ن سے کہانہیں میں نے کام میرٹ پر کرنا ہے۔ میں بالکل نہیں بتائوں گی کہ میں کہاں سے ہوں۔بہرحال میں نے آغا صاحب کو کہانی بھیج دی اور اس کے ساتھ میں نے خود سے یہ عہد کیا کہ اگر یہ کہانی چھپ گئی تو میں نثر لکھوں گی ورنہ میں نثر نہیں لکھوں گی۔وہ اس وقت کے بڑے لوگ تھے ان کے کیا طریقے تھے اپنے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے،مجھے آغا صاحب کا ایک طویل خط آیا جس میں تحریر تھا کہ تم جو بھی ہو ،میں تمہیں نہیں جانتا ہوں۔ لیکن تمہاری کہانی بہت اچھی ہے۔بلکہ کہانی کی خوبی یہ ہے کہ اس میں عورت کا جو کردار تم نے دکھایا ہے۔وہ اس قدر مضبوط ہے کہ میں نے اردو ادب میں کبھی یہ نہیں دیکھا کہ عورت خود مرد کے ساتھ اظہار محبت کرتی ہے اور کس انداز سے کررہی ہے وہ انداز کتنا اچھا ہے۔تمہاری کہانی مجھے بے حد پسند آئی ہے۔
یہاں ایک ’’تنظیم بزم ہم نفسا ں‘‘ہوتی تھی اور وہ سائرہ ہاشمی چلاتی تھیں۔اس بزم میں بانو آپا،مفتی صاحب، اشفاق صاحب،منیر نیازی،قاسمی صاحب یہ سب بڑے بڑے لوگ آتے تھے۔وہ ماہانہ اجلاس ہوتا تھا۔جب میری وہ کہانی چھپی تو مجھے کیا معلوم تھا میں ان سب لوگوں کو جانتی ہی نہیں تھی۔مجھے سائرہ ہاشمی کا فون آگیا کہ تم بشریٰ بات کررہی ہو تمہارا نمبر میں نے اوراق سے لیا ہے۔انہوں نے مجھے کہا کہ تمہاری یہ کہانی مجھے اتنی اچھی لگی ہے کہ میں نے اس کا ذکر بہت سارے لوگوں سے کیا ہے۔ہم دس دن کے بعد ایک اجلاس کررہے ہیں اور تم نے اس میں ایک نئی کہانی پڑھنی ہے۔اور میرے پاس کوئی نئی کہانی تھی ہی نہیں،چونکہ میں نے عہد کیا ہوا تھا کہ اگر چھپے گی تو نثر لکھو ں گی ورنہ نہیں،اتفاق سے وہ چھپ گئی اور تعریف بھی ہوگئی تو پھر میرے دل میں ایک شوق پیدا ہوا ۔کہ اب مجھے کہانی لکھنی ہے پھر میں نے ایک کہانی لکھی ’’فیری ٹیل‘‘اور وہ ایک ایسی کہانی تھی جو کہ مادی ترقی سے،تعلیم سے محبت کی ناکامی سے شروع ہوکر خدا کی محبت کی طرف جاتی ہے۔اس کا کینوس وسیع تھا۔مجھے تو کہانی لکھنی ہی نہیںآتی تھی وہ پہلا موقعہ تھا کہ جب میں ان سب بڑے لوگوں سے ملی اور اتنے بڑے بڑے لوگوں کے سامنے کہانی پڑھی۔ اتفاق سے اشفاق صاحب میرے بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔جب میں نے گھبراکر دیکھا کہ سب خاموش بیٹھے ہیں تو مجھے یہ خیال آیا کہ یقینا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔تو میں نے کہا کہ میں بند کردوں پڑھنا؟اشفاق صاحب بولے ،بچہ پڑھتی جائو ،تم نے تو ہمیں کہانی میں گم کردیا ہے۔ہم تو تمہاری کہانی کے جادو میں گم ہوگئے ہیں۔پھر میں پڑھتی گئی،اور جب پڑھ کر کہانی ختم کی،تو آپ یقین کریںکہ بانو آپا نے اُٹھ کر مجھے اپنے گلے لگا لیا۔انہوں نے مجھے سر پر پیار دیا اور کہا کہ بیٹا جس نتیجے پر ہم ساری زندگی کے بعد پہنچے تھے تم اس نتیجے پر اتنی جلدی کیسے پہنچ گئی ہو؟اس کہانی میں یہ تھا کہ زندگی ایک دائرے کا سفر ہے جہا ں سے سفر شروع کرو گے جب واپس آئو گے تو وہی پر ہوگے جہاں سے زندگی کا سفر شروع کیا تھا۔الف اللہ سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے۔اللہ کی محبت میں کیسے اور کب وہ کردار ڈوبتا ہے اور پھر وہ کہاں چلا جاتا ہے۔سب نے بڑی تعریف کی اور بہت محبت دی سچی بات ہے میں توبہت شرمندہ ہوگئی۔اس کے بعد اشفاق صاحب نے ایک بڑا سا تاثراتی نوٹ لکھ کر مجھے بھیج دیا۔احمد ندیم قاسمی صاحب نے بھی اسی کہانی پر بہت بڑا ایک تاثراتی نوٹ بھیج دیا۔میں نے وہ سب سنبھال کر رکھ لیے ۔اس کے بعد میری کہانیوں کی کتاب چھپی تو میں نے ان کی وہ سب تعریفیں جو کہ صرف ایک کہانی کے بارے میں تھیں میں نے وہ اس میں شامل نہیں کیں۔پھر میری دوسر ی کہانیوں کی کتاب ’’آج کی شہرزاد‘‘ آئی تو میں نے وہ تاثراتی نوٹ اس میں بھی شامل نہیں کئے ،اور پہلی کتاب ’’ دوآنے کی عورت‘‘ تھی۔پھر اس کے بعد پنجابی شاعری لکھنے لگی۔پہلی پنجابی شاعری کی کتاب ’’ پباں پھار‘‘اور دوسری پنجابی کی کتاب ’’ بھلیکھا‘‘پھر اس کے بعدمیں نے انڈیا کے کچھ سفر کئے تو ایک سفر نامہ لکھا جس کا نام تھا ’’ آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں‘‘ جو کہ میں یہ کہتی ہوں کہ مجھ سے اظہر جاوید صاحب نے ہی زبردستی لکھوایا ہے۔کیونکہ وہ قسط وار سلسلہ تخلیق میں آتا تھا ۔پھر میری کہانیوں کی تیسری کتاب ’’ میں عشق کی بیمار ہوں‘‘ آئی اور تب میں نے اشفاق صاحب کی اور قاسمی صاحب کی وہ آراء اس تیسری کتا ب میں شامل کردیں۔میری زندگی کی پہلی کتاب تھی جس میں‘ میں نے کسی کی رائے کو شامل کیا تھا ۔اس سے قبل میری کسی کتاب میں کسی بڑے آدمی کی رائے نہیں تھی اور نہ آئندہ ہوگی۔میری اردو شاعری کی کتاب ابھی چھپ رہی ہے۔میں نے اردو شاعری بہت کی ہے جو کہ ساتھ ساتھ چھپتی رہی ہے۔لیکن جبکہ اب میری اردو شاعری کی کتاب چھپنے کے مراحل سے گزر رہی ہے تو میں نے اپنی آدھی سے زیادہ شاعری خود ہی مسترد کردی ہے۔یہ شاید اس لیے میں نے کیا کہ جب انسان growکرتا ہے اس کا شعور اور ویژن بڑھتا ہے تو پھر کیا فائدہ ایسی شاعری دینے کا جو کہ آپ کو خود محسوس ہو کہ اس میں پختگی نہیں ہے۔
٭عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ تخلیق کار کے لیے اس کی ہر تخلیق ہی اس کو اپنی اولاد کی مانند عزیز ہوتی ہے تو پھر یہ کاٹ چھانٹ کیوں؟
٭٭یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ جب وہ تخلیق کی گئی تو اس وقت فورا ہی چھپ جاتی تو ٹھیک تھا جیسا کہ میری ’’ عرض حال ‘‘ ہے ۔وہ اس وقت چھپ گئی اور اگر وہ آج مجھے چھپوانی ہوتی تو میں اس کو نہ چھپواتی۔شاعری کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے آج سے پندرہ سال پہلے کی ہوئی شاعری،ویسے تو میری ہر چیز ہی شائع ہوچکی ہے ۔اور اچھے پرچوں میں ہی شائع ہوئی ہیں مگر میں یہ سب کچھ ہی مجموعہ میں شائع نہیں کروا نا چاہتی ۔اور اس کے علاوہ میرے شائع شدہ کالموں کی کتاب ’’ تیسرا کنارہ ‘‘ کے نام سے آرہی ہے۔
٭آپ نے کالم لکھنا کب شروع کیا ؟
٭٭کالم میں نے 2001میں لکھنا شروع کیا اور سب سے پہلے خبریں میں کالم لکھا۔میں انڈیا گئی اور وہاں سے آکر سارک کانفرنس کا حال لکھا اور چھپنے کے لیے دے دیا۔حالانکہ شروع میں کالم لکھنے میں مجھے ہچکچاہٹ محسوس ہورہی تھی مگر جب لکھنا شروع کیا تو پھر یہ سلسلہ چل پڑا۔اور کالموں پر بہت حیران کن طورپر مجھے سراہا بھی گیا۔کالم کے ذریعے آپ کی تحریر اور سوچ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔مجھے کالموں پر بھی الحمدللہ ء بہت پذیرائی ملی۔کالم لکھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کالم لکھنے کے بعد آپ کے دل پر کوئی بوجھ نہیں رہتا ہے۔اس سوسائٹی میں رہتے ہوئے بے پناہ ہر طرح کے دبائو ہم پر آتے ہیں اور بے پناہ دکھوں کو ہم فیس کرتے ہیں۔انسان تڑپتا رہ جاتا ہے کہ کیا کرے،لیکن کالم لکھنے کے ذریعے سے آپ سوسائٹی میں اپنا حصہ ڈال دیتے ہو۔
٭کیا کسی ایک پوائنٹ پر توجہ مرکوزکرنے میں مشکل ہوتی ہے؟
٭٭اس کی سب سے زیادہ ضرورت فکشن میں ہوتی ہے۔ناول اور کہانی دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے۔کیونکہ اس میں کردار کو لے کر چلنا ہوتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ ڈرامہ لکھنا زیادہ مشکل ہے جبکہ میں یہ کہتی ہوں کہ کہانی آپ کی جان نکال دیتی ہے۔مجھے ڈرامہ لکھنا بالکل مشکل نہیںلگتا۔حالانکہ آج کے دور کا ڈرامہ تکنیکی لحاظ سے بہت مشکل ہے۔اس میں ریٹنگ بھی دیکھنی ہے،جملے بھی سادے رکھنے ہیں،سین کا دورانیہ بھی لمبا نہیں رکھنا ہے،آج کے ڈرامہ کے ہزار مسائل ہیں۔لیکن مجھے وہ فکشن کے مقابلے میں آسان لگتا ہے ۔اگر آپ مجھے دن میں ڈرامہ لکھنے کے لیے بیٹھائے،میں تیس صفحات آپ کو چلتے پھرتے لکھ کر دے دوں گی۔
٭ڈرامہ لکھنے کا شوق کیسے ہوا؟
٭٭میری ایک بہت پیاری دوست ہیں جن کا تعلق سند ھ سے ہے ،نور الہدیٰ شاہ ۔انہوں نے ہی مجھے کہا کہ تم ڈرامہ لکھو، ’’ہم ‘‘ٹی وی کے لیے ، وہ ’’ ہم ٹی وی ‘‘سے وابستہ ہیں۔پھر میں نے نور الہدیٰ شاہ کے کہنے پر ہی ڈرامہ لکھنا شروع کیا۔اس وقت میرا بہت بڑا پروجیکٹ ’’ آج ‘‘ ٹی وی پر چل رہا ہے۔وہ ’’میں کملی ‘‘ کے نام سے چل رہا ہے۔جو کہ فیوڈل بیک گرائونڈ پر مبنی ہے۔اور ’’ ہم ‘‘ ٹی وی کے لیے ابھی ایک ڈرامہ لکھ رہی ہوں جو کہ مومنہ درید کا پروجیکٹ ہے۔جو کہ انڈو پاک کے بیک گرائونڈ ہسٹری میں لکھی گئی ایک کہانی ہے جو کہ میری اپنی ہی کہانی ہے۔اس میں تاریخ کا جبر بھی ہے،دہشت گردی بھی ہے۔اس کہانی کی بہت تعریف بھی ہوئی ہے اور یہ اسلام آباد کے ایک پرچہ میں شائع بھی ہوچکی ہے۔ ایک اور ڈرامہ ’’اے پلس ‘‘ کے لیے ’’پری خان‘‘ کے نام سے کررہی ہوں۔
٭آپ کب تصوف کی طرف مائل ہوئیں؟
٭٭میرے اندر تو یہ شروع سے ہی تھا۔میں نے جو وہ پہلا حج کیا تھااس حج سے پہلے اور جو حج کے دوران میری تڑپ تھی تب مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ تصوف ہے کہ پتا نہیں یہ کیا ہے۔ الحمدللہ میں شروع سے ہی نمازی ہوں۔بارہ ،چودہ سال کی عمر میں جب اللہ نے نماز شروع کروائی ہے تو آج تک میں نے کبھی نہیں چھوڑی،البتہ قضا ضرور ہوجاتی ہے لیکن نماز چھوڑ دینے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ایک اور چیز جو کہ مجھے بہت بعد میں سمجھ آئی وہ ہماری نبی پاکﷺ سے نسبت ہے۔جب تک نبی پاکﷺ سے حقیقی نسبت نہیں ہے۔ہر چیز بے معانی ہے۔آپﷺ کا اچھا اُمتی بننے کی خواہش ،کیونکہ اُمتی کی کوئی بہت بڑی تعریف ،پہچان نہیں ہے۔اُمتی وہ ہے آپؐ دیکھیںتو ہمیں ان کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ہم اپنے حقوق وفرائض اپنی بساط کے مطابق ضرور ادا کرنے کی کوشش کریں۔ باقی ہم خطا کے پتلے ہیںاور گناہ گار ہیں۔جب تک اللہ کی توفیق اور کرم نہ ہو تو لوگ گمراہی میں ہی مرجاتے ہیں۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے شعور دیا ۔میں نے اپنے نبی پاک ﷺ کی سیرت پڑھی۔اسلام ہمیں اپنے ماں باپ سے ملا ہے۔جیسا سلوک ہم موروثی چیزوں کے ساتھ کرتے ہیں ایسا ہی سلوک ہم نے اپنے مذہب کے ساتھ بھی کیا ہے۔اور سیرت وحدیث ﷺ کو بھی ہم ایسے ہی لیتے ہیں۔ٹھیک ہیں چلیں ثواب کے لیے پڑھ لیتے ہیں۔محبت اور جذبہ ایمانی سے آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو جاننا ہی آپ ﷺ سے نسبت ہے کہ میرے بنی پاک ﷺ کون تھے،انہوں نے کیا کیا،اورکیوں کیا،ان کا حال کیسا تھا۔ان کا بچپن کیسا تھا۔انہوںنے زندگی میں کیسے کیسے مصائب دیکھے۔انہوںنے اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے اپنے علاقے،گھرچھوڑے۔پتھر کھائے تو کیوں کھائے،گالیاں کھائیں تو کیوں،جب آپ اس طرح سے دیکھتے ہیں اپنے پیارے نبی ﷺ کو جاننے کے لیے کہ زندگی کے جو پہلو مجھے معلوم نہیں ہیں وہ دیکھوں کیسے ہیں۔جب سیرت پاک ﷺ آپ پر کھلتی ہیں۔پھر آپ پر نبی ﷺ کی ذات مبارک کھلتی ہے۔پھر اگر آپ کی نسبت مضبوط ہوجائے اس کے بعد بہت چیزیں واضح ہوجاتی ہیں۔یہ سب میرے ساتھ بھی ہوا اور اللہ کی توفیق سے ہوا اور دھیرے دھیرے سے ہوا۔میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ایک عمل ہے اور کچھ لوگوں کو اللہ کی ذات اس عمل سے گذارتی ہے۔جیسے مٹی کو پہلے زمین سے نکالا جاتا ہے پھر اسے پانی میں ڈال کر نرم کیا جاتا ہے کتنے دن تک وہ نرم ہوتی رہتی ہے۔ میں چونکہ دیہات کی رہنے والی ہوں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس مٹی کو تیار کرنے کے لیے لوگ اس میں پائوں سمیت گھستے ہیں۔ اور کتنے دن تک وہ اس مٹی کو پائوں سے مسلتے ہیں یعنی وہ مٹی تیاری کے عمل میںروندی جاتی ہے۔روندنے کے بعد پھر اس مٹی کو ایک شکل دینے والا آتا ہے۔ایک شکل کے لیے اسے ایک چاک پر چڑھایا ،گھمایا جاتا ہے،پھرآخری مرحلہ اس مٹی کو پکانے کا ہے۔کتنے مرحلوں سے نکل کر وہ مٹی آگے جاتی ہے۔اسی طرح سے انسان کو بھی بنایا جاتا ہے۔اس کی مٹی لی جاتی ہے،اس کواچھا سا روندا جاتا ہے کہ اس کی میَں مرے۔کیونکہ نفس بہت ظالم ہے،بہت زور آور ہے ۔پیغمبروں نے بھی اور اللہ کے بزرگوں نے بھی اس میَں سے پناہ مانگی ہے۔اور ہم عام لوگوں نے پالا ہی نفس کو ہوتا ہے۔ہم نفس کی نافرمانی ،اور نفس کا دکھ اٹھا ہی نہیں سکتے ہیں۔ہمیں اپنا نفس بہت عزیز ہوتا ہے۔اس کو مارنا آسان کام نہیں ہے۔انسا ن کا ذہنی ارتقاء اور حقیقت کوجاننا بھی ایسا ہی ایک سفر ہے۔اسی سفر سے گزر کر انسان کہیں نہ کہیں جاتا ہے اور ایک شکل پکڑتا ہے۔میرے ساتھ جوذاتی وارداتیں ہوئیں تو میں یہ کہوں گی کہ میں نے زندگی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔میں کسی ایک خیال کی پابند نہیںہوں۔ میں جانتی ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتی ،مجھے اگر حقیقت کو جاننا ہے تو مجھے ایک مسافر جیسی زندگی گزارنی ہے میں مسلسل سفر کروں گی تو ہی حقیقت تک پہنچوں گی۔راستے کے مقامات پر ٹھہر جانے سے،رک جانے سے تو منزل نہیں ملتی۔دوران سفر وقتی پڑائو کے لیے جو مقام آتے ہیں وہ سوئے منزل جانے کے لیے چھوڑنے ہی پڑتے ہیںاور تصوف کا سفر تو مسلسل ارتقاء کا سفر ہے۔
٭اس ارتقاء کے سفر میں آپ کو کبھی کوئی مایوسی ہوئی؟
٭٭بے شمار دفعہ مایوسی ہوئی،اور خصوصا تصوف کے سفر میں،کیونکہ یہاں جھوٹے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔میں بہت دفعہ بہت hurtہوئی۔
٭آپ نے پھر خود کو کیسے سمیٹا؟
٭٭خدا نے مجھے سمیٹا۔انسان پر ذات کے بڑے بحران آتے ہیں۔اپنے آپ کو جاننا سب سے مشکل ہے۔جب آپ اپنے اندر کا سفر شروع کرتے ہو ۔یہ سفر ہی سب سے دشوار ہوتا ہے۔اور آپ کو کچھ سمجھ بھی نہیں آتی ہے کیونکہ آپ کو اپنی ذات سے بڑا پیار ہوتا ہے۔اپنے آپ کو مسترد کرنا ،اپنی پیاری چیزوں کو جنہیں عرصہ دراز سے آپ نے سنبھالا ہوتا ہے،جنہیں پالا ہوا ہوتا ہے،ان کو چھوڑنا،اور ایسے چھوڑنا ،کسی سیکنڈر پرسن کی حیثیت سے خود کو دیکھنا۔ خود کو میَں سے ہٹ کر تُو کی طرح سے دیکھنا۔اپنی خامیوں کو دیکھنااور پھر ان پرشرمندہ ہونا۔اپنی غلطیوں کا اللہ کے سامنے اعتراف کرنا اور پھر خود کو تبدیل کرنے کی اللہ سے توفیق مانگنا۔اور بدلنے کی کوشش کرنا۔اپنا احتساب کرنا۔جب تک ہم ڈنڈا پکڑ کر اپنا احتساب خود نہیں کرتے تب تک ہمیں کسی کو کچھ بھی کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔پہلے خود کو ٹھیک کرنا چاہئے پھر دوسروں کو کچھ کہنا کا موقع آتا ہے،جب سے مجھے اس بات کی سمجھ آئی ،میں تو اپنے بچوں کو کچھ بھی کہنے سے ڈرتی ہوں۔میں اگر خود ٹھیک نہیں ہوں تو میں پھر اپنے بچے کو کیا کہوں گی۔
٭آپ کی شاعری میں عارفانہ خیالات ہیں،آپ میں داخلیت کا رحجان کب سے ہے؟
٭٭عجیب بات ہے کہ شاعری میری ہی ہے ۔مگر میری پنجابی شاعری اور اردو شاعری کے مضامین میں فرق ہے ۔میری پنجابی شاعری کی پہلی دو کتابیں خالصتاً خدا کی محبت کی شاعری ہے۔اردومیں بہت ساری نظمیں ایسی ہیں جو کہ اللہ کی محبت کی طرف نکل جاتی ہیں۔مگر تمام شاعر ی ایسی نہیں،چونکہ شاعری کا ایک فیز ہوتا ہے آتا ہے نکل جاتا ہے۔کبھی ایسا لگتا ہے کہ شاعری ختم ہوگئی مگر پھر وہ اندر سے نکل آتی ہے۔تین سال پہلے مجھ پر پنجابی شاعری کیفیت آئی۔اور وہ سات دن تک برقرار رہی۔ان سات دنوں میں ،میرا یہ حال تھا کہ اگر میں بیڈ پر لیٹی ہوئی بھی ہوں تو میرے پاس ڈائری ہوتی تھی میں اندھیرے میں بھی لکھ رہی ہوتی تھی۔ان سات دنوں میں نے چالیس پنجابی نظمیں لکھیں اور ان میں پہلی بار مضامین مختلف تھے۔میںکوئی چیز بھی زبردستی نہیں کرتی ہوں۔اس میں بہت ساری چیزیں صوفیانہ رنگ کی تھیں۔مگر وہ نظموں کی شکل میں ہیں کافیاں نہیں ہیں۔باقی انسانوں کے ساتھ ہونے والے حادثات، معاشرتی حالات کی عکاسی ہے پنجابی شاعری میں میرا سٹائل کلاسک شاعری والا ہے۔میری پنجابی شاعری میں پرانی زبان ہے جوکہ ہماری اپنی جانگلی زبان ہے۔کیونکہ میں سوچتی بھی اس زبان میں ہوں اوروہ مجھ پر وارد بھی اسی زبان میں ہوتی ہے۔پھر میری کوشش ہوتی ہے۔اردو کی کہانی میں میری ہر کہانی خدا کی محبت تک جاتی تھی لیکن میں نے پھر خود کو اس پہلو سے روکا۔میں نے یہ سوچا کہ یہ تو مجھ پر چھاپ لگ جائے گی۔ کہانیوں میں بہت سارے رنگ ہوتے ہیںانسان کی زندگی کے مختلف پہلوانسانوں کے دکھ سکھ اور عورت کے حالات ومعاملات پھر ان کی کیفیات۔
٭پنجابی صوفی شاعروں میں سے کس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟
٭٭میری یہ مجال نہیں کہ میں کسی کے بارے میں یہ کہوں کہ میں فلاں سے متاثر ہوں۔میں نے کسی سے کیا متاثر ہونا ہے۔ان بڑے ناموں کی برکت و فیض سے ہی میں تھوڑا بہت کچھ کہہ لیتی ہوں ۔مگر میرے دل کے زیادہ قریب بابا بلھے شاہ ہیں۔بنیادی طورپر بابا بلھے شاہ کے ہاں وارفتگی اور بے ساختگی بہت ہے۔ان کی شاعری میں ردھم اورفلو بہت ہے ۔اور وہ تھوڑی آسان زبان میں بات کرتے ہیں۔جو ان کا انداز اور مزاج نظر آتا ہے کہ ’’ چھیتی دوہڑیں وے طبیبا نئیں تاں میں مر گئی آں ‘‘وہ وہاں سے گھنگرو پہن کر چلے ہیں اور لاہور شاہ عنایت حسین کو منانے آگئے ہیں۔ایک تو ان کی زبا ن آسان ہے اور ان کے بڑے بڑے مضامین ہیں۔شاعری کا ایک تاثر ہوتا ہے۔اور جو کیفیت ہوتی ہے وہ سیدھی آپ کے دل میں اتر جاتی ہے۔
٭اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی تخلیق انسا ن جسے اللہ نے اپنا نائب کہا ہے۔اور عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی خوب صورت ترین تخلیق ہے۔آپ کی نظر میں عورت کیا ہے؟
٭٭بلاشبہ عورت خدا کی خوب صورت تخلیق ہے او راللہ نے خود اسے پسند بھی بہت پسند فرمایا ہے۔مختلف معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا آرہا ہے،اگر یورپ کی عورت کو دیکھیں تو چرچ نے عورت پر بہت ظلم کیا ہے۔اور اگر برصغیر کی عورت کو دیکھیں توہزاروں سال پہلے یہاں عورت بہت مضبوط تھی۔یہا ں عورت دیوی تھی،اس کی پوجا ہوتی تھی کیونکہ خاندان وہ چلاتی تھی۔پھر معاشرے نے عورت کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی جو تکالیف ہیں۔ میں موجودہ معاشرے کی بات کررہی ہوں۔صدیوں کے تسلسل میں عورت کے کردار کو دیکھے کہ چرچ عورت کو زندہ جلا رہا تھا۔عرب بیٹیوں کو زندہ دفنا رہے تھے۔پھر جاہلیت کا دور گزر گیا۔یورپ کا بھی بلیک دور گزر گیا ۔ہم مہذب ہوگئے۔یورپ بہت آگے چلا گیا ۔مگر آج بھی ویسٹ میں عورت پر تشدد ہورہا ہے۔اور ہمارے ہاں بھی ویسا ہی ہورہا ہے۔جب سے عورت کو بل بورڈز پر چڑھایا گیا ہے اور اس کو اشتہارات میں لایا گیا ہے۔اس کے بعد سے وہ مجھے انسان سے زیادہ ایک جنس لگنا شروع ہوگئی ہے۔یہ بہت ایک دکھ کی بات ہے۔اور اس کو بیان کرتے ہوئے بھی مجھے تکلیف ہورہی ہے۔عورت کے وجود کو ایک اشتہار،ایک پروڈکٹ بنادیاگیا ہے اور اسی طرح اس کو سیل بھی کیا جارہا ہے۔اس وقت پاکستانی ڈرامے میں عورت پر تشدد سب سے زیادہ فروخت ہورہا ہے۔جتنا زیادہ عورت کو مارا پیٹا جائے گا ،گھر سے نکال دیا جائے گا تو آپ کے چینل ،ڈرامے کی اتنی ہی زیادہ ریٹنگ آئے گی۔عورت ایک منڈی کا مال بنادی گئی ہے۔
٭کیاعورت خود محبوبہ نہیں بنتی ہے؟
٭٭عورت بہت تھوڑی دیر کے لیے محبوبہ بنتی ہے۔اور وہ بھی صرف ٹریپ ہونے کے لیے بنتی ہے۔چاہے جانے کا جذبہ عورت کے اندر سب سے زیادہ شدید ہے۔مگر اس کی تسکین نہیں ہوتی۔جب وہ اس تسکین کے راستے پر نکلتی ہے تو وہ ذلت اٹھاتی ہے۔وہی محبوب اس کے گلے میں اس کی محبت کا طوق ڈال دیتا ہے۔اور اس کو اپنے پیچھے لگا لیتا ہے اور پھر وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہتی ہے۔عورت کا المیہ ہی یہی ہے اس لیے تو اس کے ہاں ہجر ،جدائی کا دکھ اس قدر شدید ہے اسی لیے وہ رشتوں میں محبوب ڈھونڈتی رہتی ہے۔
٭عورت محبوب بناتی ہے۔مرد محبو ب بناتا ہے یا محبوب رکھتا ہے؟
٭٭مر دخود محبوب ہے۔وہ تو کہتا ہے کہ مجھے چاہو۔میرا بیٹا کہتا ہے کہ مجھے چاہو۔میرا بھائی کہتا ہے کہ تم میری بہن ہو میرے لیے قربانی دو ۔مجھے چاہو۔میرا باپ کہتا ہے کہ تم میری تابعدار،فرمابردار بیٹی ہو ،میرے فیصلے پر عمل کرو ۔میں تمہار اباپ ہوں۔میری محبت میں سب کچھ کرگزرو۔پھر جو دوسرا مرد عورت کی زندگی میں آتا ہے جو کہ محبوب کے روپ میں آتا ہے۔اس کے لیے پھر عورت خود کو اس کے پائوں میں بچھا دیتی ہے۔کیونکہ کیفیات صرف دو ہی ہیں ۔چاہو یا چاہے جائو۔مرد ہمیشہ اونچی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے۔تھوڑی دیر کے لیے نیچے اترتا ہے جب وہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے۔نہیں تم میری محبوب ہو،تھوڑی دیر کے لیے روڈ بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ صرف تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے۔جب وہ اسے شکار کرلیتا ہے تو پھر جا کر اونچی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔میرا اپنا بیٹا جو کہ بڑا سکالر ذہن کا ہے اور بڑا پڑھا لکھا ہے۔میرے بیٹے کا نام عبدالرحمنٰ ہے۔وہ سول سرونٹ ہے۔اب ماشاء اللہ 19گریڈ میں چلا گیا ہے۔ایڈیشن سیکرٹری ہوگیا ہے۔ہم دونوں ماں بیٹے کی بڑی دوستی ہے۔ہم آپس میں مذہب ڈسکس کرتے ہیں۔مذہب ،اسلامک ہسٹری ،فلسفہ، اس کے پسندیدہ موضوع ہیں۔میں نے ایک بار اپنے بیٹے سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جس سے ہم محبت کرتے ہیںوہ اتنا سنگ دل کیوں ہوتا ہے۔ہمیں لفٹ کیوں نہیں کرواتا ہے۔اس نے مجھے یہ جواب دیا کہ اماں مجھے آپ یہ بتائیں کہ جس شخص سے آپ پہلے ہی محبت کررہے ہیں اس کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ بھی آپ کو محبت کرے۔جب اس کو معلوم ہوگیا ہے کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں تو وہ کیوں مڑ کر دیکھے گا۔آپ اس کے پیچھے بھاگو ،وہ آپ کو بھگائے رکھے گا۔
٭آپ نے کہا کہ عورت کو جنس بنادیا گیا ہے تو اس میں عورت کی اپنی کتنی منشا شامل ہے؟
٭٭میں بہت زیادہ شو بزنس میں آتی جاتی رہی ہوں پچھلے کچھ سالوں میں،میَں نے ٹی وی کے بہت سارے پروگرامز کئے ہیں ۔جن میں مذہبی پروگرامزاور ٹاک شوز بھی شامل ہیں۔اب میں نے پچھلے دو سالوں سے میڈیا کو جان بوجھ کر چھوڑ دیا ہے کیونکہ اب مجھے میڈیا سے ڈر لگنے لگا ہے ۔مجھے یہی نظر آیا ہے کہ یہاں باعزت لوگوں کی کوئی جگہ نہیں اور مجھ جیسے لوگ بالکل یہ سب افورڈ نہیں کرسکتے ہیں۔اور آج کے میڈیا سے کچھ حاصل وصول نہیں ہے،میرا مشاہدہ یہ رہا ہے کہ میں نے میڈیا کے اندر جو خواتین مختلف شعبوں میں،ایکٹنگ میں ،اشتہارات میں،اور ماڈلز دیکھی ہیں۔میں اب کیا آپ کو بتائوں کہ وہاں کیسی کیسی مجبور لڑکیاں موجود ہیں۔اور وہاں کس کس طرح سے ذلیل ہورہی ہیں ۔پہلے میںبھی عام لوگوں کی طرح سے یہی سمجھتی تھی کہ یہ سب شوق سے آتی ہیں۔اس فیلڈ میں بہت چھوٹی سی تعدادایسی ہے جوکہ شوق سے آتی ہے۔بیشتر مجبور عورتیں ہوتی ہیں ۔ان کی ایک غلطی ضرور ہے۔وہ یہ ہے کہ تھوڑا کھا لو کوئی باعزت کام کرلو۔اس کام کی لائف ہی کوئی نہیں ہے۔ایک ماڈل کے کام کی زندگی کتنے سال ہے۔ایکٹنگ کے کام کی کتنی زندگی ہے ۔محض چار پانچ سال تک،میں ہمیشہ ایسی لڑکیوں کو یہی کہتی ہوں کہ چھوڑ دو اس گندی دنیا کو ،اس میں نہ تو کوئی روزگار مقرر ہے۔یہ تو ہوائی روزی ہے۔مل گئی تو مل گئی ورنہ صرف رسوائی،جو ایک لڑکی ڈرامے میں کام کرتی ہے ۔اس کے پیچھے ڈائیریکٹر،پرڈویوسر،لائٹ مین،جو اس کے آگے اسٹاف ہوتا ہے چائے بنانے والا کس کس کی نظریں اور جملے نہیں سہنے پڑتے ہیں انہیں۔ان عورتوں کو دیکھ کرمجھے چار دیواری کی قدر آئی ہے۔اس مشاہدے سے پہلے مجھے چار دیواری کی کوئی قدر نہیں تھی میں یہ سمجھتی تھی کہ ساری عورتیں میرے جتنی ہی محفوظ ہیں۔میں یہ سمجھتی تھی کہ جس طرح الحمد للہء میری سب عزت کرتے ہیں سب ہی عورتوں کی ایسے ہی عزت کی جاتی ہے۔پھر اس کے بعد میں نے فٹ پاتھ پر کھڑی عورتوں کو پبلک ٹرانسپورٹ(سواری) کے انتظار میں خوار ہوتے دیکھا ہے اور ان پر پڑتی ہوئی ظالم نظریں دیکھی ہیں۔میرے ساتھ ایک بارایسا اتفاق ہو اکہ میں کہیں گئی تو میں نے اپنے ڈرائیو کو جو ٹائم دیا تھا وہ اس وقت سے پانچ منٹ تاخیر سے پہنچا ۔کسی ہوٹل کی لابی میں کھڑے ہو کر جو میں نے پانچ منٹ انتظار کیا ۔ اس دن مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ یہ چوکوں پر ،بس اسٹاپوں پر،سڑکوں پر کھڑی عورتیں جو بس کا انتظار کرتی ہیں تو اس سواری کے معانی کیا ہیں۔ان پر کتنی بری گزرتی ہے۔یہ مرد کا معاشرہ ہے۔مرد معاف نہیں کرتا ہے۔باہر نکلی ہوئی عورت کو تو یہاں تبرک اور مفت کا مال سمجھا جاتا ہے۔اس عورت کو اتنا زیادہ ذلیل سمجھا جاتا ہے کہ ایک سطح پر آکر وہ خود کو واقع ہی ذلیل سمجھنا شروع ہوجاتی ہے۔
٭چادر اور چار دیواری کے کلچر اور اس کے وقار کو ہم کیسے بحال کرسکتے ہیں؟
٭٭دیکھئے یہ جو دوپٹہ میں پچھلے بیس سالوں سے اپنے سر پر اوڑ ھ رہی ہوں یہ مجھے لینے کے لیے کسی نے فورس نہیں کیا ہے۔کیونکہ میں وہ انسان ہوں کہ اگر مجھے فورس کیا جائے تو میں وہ کام کرہی نہیں سکتی ہوں میں ضد میں آجاتی ہوں۔یہ چیزیں اگر کروتو دل سے کرو ورنہ دکھاوئے کے لیے نہ کرو۔میں نے کبھی کوئی چیز دکھاوے کے لیے نہیں کی۔چادر اور چار دیواری کی حقیقت مجھ پر آہستہ آہستہ کھلی ہے۔اور یہ حقیقت کھولنے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو یہ دوسری سائیڈ دکھانی ہوگی۔ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ یہ ٹی وی اسکرین پر چمکتی دمکتی عورت جو نظر آرہی ہے وہ ناجانے پیچھے سے کتنی مار کھا کر یہاں تک پہنچی ہیں۔اور جو وہ کیمرے کے سامنے ایک ٹیک دیتی ہے اس کے لیے اسے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔کئی بار کوئی سین ایسا پھنس جاتاہے کہ وہ دس ٹیک سے بھی نہیںہوپاتا ہے۔ہمیں دوسرا رخ دکھانا ہوگا ۔یہ جو ہم شرمندہ شرمندہ سے ہیں اپنی زبان سے،اپنی اسلامی روایات سے،اپنے کلچر سے،ہم اپنے بزرگوں سے شرمندہ ہیں ،اپنی معاشرت سے شرمندہ،اپنے لباس سے شرمندہ ،ہم ایک شرمندہ قوم ہیں۔جوائنٹ فیملی سسٹم نے ہمیں بہت تحفظ دے رکھا تھا۔مگر ہم اس کے بھی خلاف ہیں اس لیے ہم نے اس کو بھی توڑدیا ہے۔ان چیزوں سے شرمندگی دور کرکے اپنی زبان پر فخر،اپنی روایات پر فخر ،اپنی معاشرت پر فخر اپنے لباس پر فخر کرنا ہوگا۔ ہمارا لباس جس نے عورت کو ڈھک کررکھا تھا،اپنی زینت کو چھپائو یہ کیوں کہا گیا ہے؟پرانے زمانوں میں جب کبھی کوئی بچہ بیمار ہوتا تھا تو ایک جڑی بوٹی ہے ہرمل اس کا دھواں دیا جاتا تھا۔اور یہ کہاجاتا تھا کہ اس سے بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے۔اب ریسرچ نے بتایا ہے کہ یہ اینٹی سیٹک چیزہے۔جو کہ جراثیم مار دیتی ہے۔میں اپنے بچوں کو یہ بتاتی ہوں کہ یہ صدیوں کے نتیجے ہیں جو آج ہم میں موجود ہیںیہ سب پرانے لوگوں نے اپنے تن پر جھیلی ہیں تو پھر یہ روایات ہم تک پہنچ پائی ہیں۔یہ سب نسلوں نے آزمایا ہے ۔یہ ہمارے بزرگوں کی مہربانی کی وجہ سے ہم تک پہنچ پائی ہیں ہم کیسے انہیںمسترد کرسکتے ہیں۔ہمارے بچے اس زمین کے بچے ہیں اگر اس زمین سے کٹے گے تو کدھر جائیں گے۔اپنی زبان سے کٹ کر کہاں جائیں گے۔یہ ایک بہت لمبی بحث ہے۔
٭ ایک دیہاتی عورت جس کے دن کا آغاز فجر سے پہلے ہوتا ہے،جو اپنے شوہر سے پٹتی ہے اور ہر سال بچہ بھی پیدا کرتی ہے۔اس عورت کو آپ کہاں کھڑا دیکھتی ہیں ؟ کیا آج ہمارے دیہات کی عورت بھی مجبور ہے؟
٭٭ہمارے دیہات کی عورت اس قدر مجبور ہے کہ وہ فیملی پلاننگ اپنی مرضی سے نہیں کرسکتی ہے۔دیہاتی عورت صرف خاوند ہی کی مار نہیں کھاتی بلکہ وہ سسر کی مار بھی کھاتی ہے۔وہ دیور ،جیٹھ کی مار بھی کھاتی ہے اور جب اس کا بیٹا بڑا ہوجاتا ہے تو وہ بھی اپنی ماں کے سر پر جوتے مارتا ہے۔اس عورت کا کیا المیہ ہے یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔میں تو ان دیہاتی عورتوں کے درمیان میں رہی ہوں ۔
٭ہم اس کو کیسے تبدیل کرسکتے ہیں؟
٭٭جب تک جہالت دور نہیں ہوگی،غربت دور نہیں ہوگی،ایجوکیشن نہیں ملے گی،خالی آگاہی سے کوئی بدلائو نہیں آتا ہے۔میں آگاہ ہوں مگر میں ان دیہاتی عورتوں کے لیے کیا کرسکی ہوں؟کوئی اور بھی کیا کرسکے گا۔وہ صرف جلتا کڑھتا رہے گا۔میرے پاس تو ایک قلم کا ہتھیار ہے۔میں تو اپنے قلم کے ہتھیار کو چلا لیتی ہوں۔یہ ہر کسی کے پاس تو موجود نہیں ہے۔وہاں نہ کوئی ہیلتھ سنٹر ہے،نہ گائنی سنٹر،ہرروز عورتیں دائیوں کے ہاتھوں مررہی ہیں۔ہر سال اس عورت کے گود میں ایک بچہ آرہا ہے جبکہ کھانے کو نوالہ میسر نہیں ہے۔اس ملک میں افزائش اس قدرزیادہ ہورہی ہے۔ہمارے وسائل کی بربادی کے پیچھے ،یہ ہماری زائد آبادی بڑی وجہ ہے۔
میں یہ سوچتی ہوں کہ دیہات کی بڑی عمر کی عورتوں کو پڑھایا جائے ،تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔میں اپنے گائوں ایک بار گئی ،ہم اپنے فارم ہائوس میں ٹھہرے ہوئے تھے۔مجھے یہ خبر ملی جو لوگ ہمارے گھروں میں کام کرتے ہیں ان میں سے کسی کی ماں اچانک فوت ہوگئی ہے۔میں اس عورت کی ہمیشہ دلجوئی کرتی تھی میں نے اس کا ماہانہ بھی لگایا ہواتھا۔مجھے اس عورت پر بڑا ترس آیا کرتا تھا۔ویسے ہم لوگ ان کے گھروں میں زیادہ تر نہیں جاتے مگر میں اس دن اس عورت کے گھر گئی۔وہ منظر میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ وہاں دو عدد لالٹین جل رہی تھیں۔ویسے ہم نے انہیں لائٹ کا کنکشن دیا ہوا تھا لیکن بجلی گئی ہوئی تھی۔گرمیوں کے دن تھے میت چار پائی پر رکھی تھی۔اردگرد عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں کوئی بچہ رو رہا ہے۔کوئی کچھ کھارہا ہے،کوئی گپیں لگا رہا ہے۔میں نے ان سے کہا کہ ابھی کچھ دیر میں اس کا جنازہ پڑھا جائے گا۔تم سب کچھ ا س مرنے والی کے لیے کچھ پڑھ لو،باتیں نہ کرو،سورۃ فاتحہ پڑھو،کلمہ پڑھو،قل شریف پڑھو،تو انہوں نے کہا کہ ہمیں سورۃ فاتحہ بھی نہیں آتی اور نہ ہی کلمہ آتا ہے۔وہ کیا ہوتا ہے،یہ ان کا جواب تھا۔میںگائوں کی پیداوار ہوں میں حیران پریشان ہوگئی ،وہ لوگ ایسے ہیں کہ دو سال اگر میرے پاس کام کیا تودوسال کسی اور کے پاس کام کیا۔وہ ایک جگہ ٹک کرکام کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔اس لیے نہ تو وہ کسی مسجد،مدرسے سے جڑ پاتے ہیں۔اور نہ ہی کسی فیملی سے ٹھیک طرح سے جڑ پاتے ہیں اس لیے وہ اکثرجاہل ہی رہ جاتے ہیں۔مجھے بڑا دکھ ہوا میں نے سوچا کہ ان کے لیے اسکول بنایا جائے ،میں نے یہ سوچا کہ یہ تو مجھ سے پوچھا جائے گا آخرت میں‘ تمہارے آس پاس لوگ تھے تم نے ان کو کلمہ پڑھنا بھی نہیں سکھایا ۔میں نے گائوں میں اپنی چھوٹی سی جگہ پر ان لوگوں کے لیے اسکول بنایا ۔ماسٹر رکھا اور ایسا آدمی رکھا جو کہ انہیں قرآن بھی پڑھاتا ،نماز بھی ،میں نے ان عورتوں سے کہا کہ دن میں ظہر تک تمہارے بچے ان سے پڑھیں گے اور ظہر کے بعد تم لوگ ان سے آکر پڑھو۔میں نے انہیں یہ سمجھایا کہ تم لو گ صرف اپنا کلمہ ٹھیک کرلو،اور نماز سیکھ لو۔تین چار دن وہ عورتیں گئیں بس اور پھر یہ کہہ دیا کہ ہم نہیں جاتے ۔اب وہ لوگ جنہیں کلمہ نہیں آتا ہے وہ تو جانو ر کی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں انہیں تو کچھ بھی نہیں آتا ہے۔یہاں ایک وومین ڈے آٹھ مارچ کو منا لیں وہ ایک مغرب کا ہی دیا ہوا دن ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں دنو ں کا رواج پڑگیا ہے،مائوں کا دن،باپوں کا دن اور پھولوں کا دن،ویلن ٹائن ڈے،زبانوں کا دن اور عورتوں کا دن،یہ جو دن باہر سے ہم نے لے لیے ہیں یہ دن ہماری عورتوں کا کیا حال سنواریں گے ؟ان بے چاریوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ آج ہمارا دن ہے۔وہ تو ویسے ہی پس رہی ہیں ۔ہزاروںبار ہم بھی لکھ بیٹھے ہیں۔مگر لکھنے سے بھی کیا ہوتا ہے؟جب تک ان کو ایجوکیٹ نہیں کیا جائے گا۔
٭عورت سب سے پہلے ماں ہے اور شخصیت کی بنیاد وہی رکھتی ہے۔اور بیٹے کی خواہش مند زیادہ ہوتی ہے۔آج یہ مردوں کی سوسائٹی ہے۔آج کا بچہ کل کا مرد ہے۔اور مرد ظالم ہے مگر اس کا مائنڈ سیٹ بنانے والی ،اس کی شخصیت وکردار کو بنانے والی بھی تو عورت ہی ہے۔
٭٭ویری گڈ! بہت اچھا سوال ہے۔اس کا جواب ابھی میں نے اپنے چند دن پہلے کے کالم میں دیا تھا۔یہ جو تحفظ حقوق نسواں کا بل آیا ہے او رجو لوگ اس کے خلاف محاز آرائیاں کررہے ہیں۔میں نے بھی اس پر اپنے طریقے سے لکھا ہے اور ایک بات کہی ہے کہ تین چیزیں جس کے بغیر عورت کی تقدیر نہیں بدلی جاسکتی ہے۔سب سے پہلے مائند سیٹ تبدیل کیا جائے۔جب تک ہم مائیں ظالم بیٹے اور مظلوم بیٹیاں پیدا کرتی رہیں گی۔تب تک یہاں کے مرد کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوگا۔بیٹوں کو ہم مائیں خود ظالم بناتی ہیں۔اور بیٹیوں کو بھی مظلوم ہم خود بناتے ہیں۔مظلوم بیٹیاں اور ظالم بیٹے مائوں کی گودوں سے نکلتے ہیں۔جب تک میرے ملک کی ماں نہیں بدلے گی ،بیٹی کو انسان نہیں سمجھے گی۔بھائی کا بہن کے اوپر رعب،حق اور تشدد،جب تک یہ کلچر ،یہ سوچ ختم نہیںہوگی،بڑے گھروں میں یہ اب کافی حد تک کم ہوا بھی ہے۔مگر دیہاتوں میں یہ اول روز کی طرح ویسے ہی رواں دواں ہے۔ پہلے مائنڈ سیٹ بدلا جائے اور پھر ان بچوں کی کردار سازی کی جائے۔اس کو یہ بتایا جائے کہ بیٹا تم انسان ہو ،تمہاری بہن بھی انسان ہے اور باہر سے آنے والی عورت بھی تمہارے جیسی انسان ہے اور جو تمہارے ساتھ دفتر میں کام کرنے والی عورت ہے اس کی بھی عزت کرو وہ بھی انسان ہے۔پھر اس پر عمل درآمد ہو۔
٭اسلام نے مرد کو چار شادیوں کی ایک رعایت دی ہے۔اس میں عورت کا تحفظ بھی پنہاں ہے۔کہیں قرآن میں یہ نہیںکہا گیا ہے کہ وہ پہلی بیوی کی حق تلفی اور اس پر ظلم ہے۔دوسری بیوی کو بھی تحفظ ملتا ہے۔اور درجہ بھی یکساں ہے اور قرآنی آیت میں ساتھ ہی عدل کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔بحیثیت مسلما ن آج ہم دوسری شادی کو اتنا برا کیوں سمجھتے ہیں۔اور دوسری شادی کو ہم نے کیوں ایک خوفناک چیز بنا رکھا ہے؟
٭٭سارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو سمجھ کر آج تک پڑھا ہی نہیں ہے۔قرآن کو ہم نے مقدس مذہبی کتاب سمجھا ہوا ہے۔جس سے مُردے کو ہم ثواب پہنچا دیتے ہیں اور وظیفے پڑھ لیتے ہیں،فالیں ہم نکال لیتے ہیں۔قرآن کو سب سے اونچی جگہ پر رکھا ہوا ہے مگر زندگی میں شامل نہیں کیا ہوا ہے۔جب تک وہ ہماری زندگیوں میں،ہمارے عمل میں شامل نہیںہوگا تب تک زندگی پرسکون نہیںہوپائے گی۔جب پہلی بار میں نے قرآن کی تفسیر پڑھی،ایک زمانے میں ،میَں اعتکاف کیا کرتی تھی۔وہ میرا ایک تبدیلی کا وقت تھا۔شاید خدا سے تعلق جڑنے کا وہ وقت تھا۔اس زمانے میں، میَں نے قرآن کی تفسیر پڑھی۔ تو مجھے ایسا لگا کہ میرے ہر سوال کا جواب، میرے ہر مسئلے کا حل اس میں موجود ہے۔مجھے تفسیر پڑھ کر بہت رونا آیا کہ ہم تو اس مسئلے کے حل کے لیے لوگوں کے پاس جاتے ہیں۔یہ اتنا بڑا کلام جو کہ خدا نے خود براہ راست اپنے بندے کی فلاح کے لیے بھیجا ہے۔ہم نے اس سے کام کیا لیا ہے۔عربی میں طوطے کی طرح رٹا ہے بلکہ عربی میں ہی حفظ کرکے سینے میں اتار لیا ہے مگر سمجھا نہیں ہے۔ہم طوطے کی طرح قرآن کو رٹتے ہیں اپنی زبان میں سمجھتے نہیں ہیں۔قرآن کو عربی میں ضرور پڑھیں مگر عربی کا ایک مطلب بھی تو ہے عربی ہماری زبان تو نہیں ہے۔میری ایک چھوٹی سی نظم ہے جو میں نے کسی زمانے میں لکھی تھی۔ایک ہمارے بہت اچھے اسکالر ہیں اور تنقید نگار ہیں انہوں نے اس نظم کا تجزیہ لکھاجو کہ اوراق میں چھپا ،جب میں نے وہ پڑھا تو میں حیران ہوگئی کہ اس کے اتنے معانی تھے۔تب میں نے یہ سوچا کہ ایک عام آدمی کی لکھی ہوئی ایک عام سی چیز کے اتنے معانی ہوسکتے ہیںتو اللہ کے کلام کے معانی کتنے وسیع ہوں گے۔قرآن تو ایک ذیشان کتاب ہے اور ہم نے اس کو کتنا روایتی سا لیا ہوا ہے۔
٭ایک بڑا مشہور مقولہ ہے کہ وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کرلیا۔آپ کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی لگتی ہے آپ نے ایک شاندار بچپن گزارا،جوانی میں بھی جوچاہا وہ پا لیا۔زندگی میں اتنی کامیابیاں آپ نے حاصل کرلیں،کیا کبھی زندگی میں کسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ؟
٭٭میری ساری زندگی ایک نارسائی ہے۔میری نارسائی یہ ہے کہ میں اپنے گائوں کی جاہل عورتوں کو کتاب نہیں پڑھا سکی۔میری نارسائی کی کہانی جہاں سے شروع ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ میں کسی کالج ،یونیورسٹی میں پڑھ نہیں سکی۔مجھے اگر میرا بچپن واپس مل سکے تو میں پھر سے مشن اسکول جانا چاہوں گی وہ مزہ میں نے کسی اور اسکول سسٹم میں دیکھا ہی نہیں ہے۔میں آج بھی اپنے بچوں کو یہ کہتی ہوں کہ اگر میرا تھوڑا بہت نام نہ بنا ہوتاتو میں بی اے کسی ریگولر اسٹوڈینٹ کے طورپر کسی کالج یا یونیورسٹی سے ہی کرتی۔یہ میرا ایک خواب تھا۔اس کے بعد میری ساری زندگی جو گزری ، میری زندگی کاجو دکھ ہے وہ میری ماں ہے ،جن سے میں بچپن میں بچھڑی،مجھے اپنی ماں سے بہت محبت تھی اور اس محبت کو میں نے محسوس بھی تب ہی کیا جب میں ان سے بچھڑ گئی۔انسان کی حیثیت ہی اصل میں اتنی ہی ہے۔اگر وہ غور کرے تو اسے قدم قدم پر پتا چلتا ہے کہ اس کی حقیقت اس کی اوقات کیا ہے۔اور میری ذات کے حوالے سے اگر میںآپ کو سادہ لفظوں میں بتائوں تو اس کاجواب یہ ہے،جنہیں آپ شاندار بچپن کہہ رہی ہیں اور کامیابیاں کہہ رہی ہیں اس کے پیچھے میری جدوجہد اور جستجو کی اتنی لمبی کہانی ہے کہ دوسال پہلے تک میرے گھراور میرے خاندان میں یہ تھا کہ یہ کیوں لکھتی ہے۔میری بہت لمبی جدوجہد ہے۔اصل میںمسئلہ یہ تھا کہ میں بہت فرمابرداری کرنے والی،بہت بھرپور تعاون کرنے والی ہوں ۔مگر یہ ایشو ایسا تھا کہ اگر میںلکھنا چھوڑ دیتی تو شاید میں ذہنی طورپر بہت بیمار ہوجاتی،میں ڈپریشن میں چلی جاتی،میں ایک مایوس انسان بن جاتی اور میں اس مایوسی میں کچھ بھی کرسکتی تھی۔میں لکھنے کو چھوڑ دینا افورڈ ہی نہیں کرسکتی تھی ،وہ بھی صرف اپنے لیے ،اس کے بغیر مجھے یہ لگتا تھا کہ میں گھٹ کر مر جائوں گی ،لکھنا میرے لیے آکسیجن تھی۔میں اپنی تسکین کے لیے لکھتی تھی۔مگر میرا پورا خاندان اور وہ لوگ بھی جو مجھے نہیں جانتے تھے اور جن کا میری زندگی سے کوئی دور سے بھی تعلق نہ تھا۔ جو کہ دورپار کے ملنے والے تھے میں نے ان کے ہاتھوں میںبھی اپنے لیے پتھر دیکھے ہیں۔اور میرے شوہر نے منع تو نہیں کیا مگر انہوں نے زیادہ پسند بھی نہیں کیا اور جب میرے شوہر پر ان کے اپنے خاندان کی طرف سے زیادہ دبائو پڑتا تھا۔ابھی پچھلے چند سالوں میں یہ ہواہے کہ وہ گائوں کے لوگ جو میرے میاں سے یہ کہا کرتے تھے کہ تمہاری بیوی کی تصاویر اخبارات میں آتی ہیں اور کبھی یہ ٹی وی پر بیٹھی ہوتی ہیں۔اب میں خود حیران ہوتی ہوں کہ جب میں اس گائوں میں کسی خوشی ،غمی کے موقعہ پر جاتی ہوں تو وہاں کے مرد وعورتیں میرے پاس آتے ہیں اور خوش ہو کر کہتے ہیں کہ جی ہم بھی لوگوں سے یہ کہتے کہ آپ ہمارے علاقے سے ہیں۔آپ ہماری بچیاں کو کچھ بتائیں۔بچیاں آتی ہیں اور یہ کہتیں ہیں کہ آپ تو ہماری رول ماڈل ہیں ،ان کی مائیں آکر میرے پاس بیٹھ جاتی ہیں ۔اب وہ لوگ مجھے اتنی عزت دیتے ہیں،جن کے ہاتھو ں میں کچھ سالوں پہلے تک میرے لیے پتھر تھے۔اب شاید ہوا بدلی ہے تو میرے گھر والے بھی مطمئن ہوگئے ہیں۔
٭آپ کو کچھ طمانیت ملی کہ جو سفرآپ نے اکیلے شروع کیا تھا۔آج اس سفر میں سراہنے والے موجود ہیں؟
٭٭جی ملی تو مگر طمانیت تو انسان کو جب ہم روز رات کو سوتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ نے ہمیں کس کام کے لیے بھیجا تھا اور ہم پتا نہیں کس کام میں پڑ گئے ہیں۔اچانک مرگئے تو کیا لے کر جائیں گے۔یوں تو طمانیت والی کوئی بات نہیں،مگر اس لحاظ سے شکر گزار ہوں کہ اللہ نے تھوڑا سا نام د ے دیا۔ میرے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ یہ کسی سے لکھواتی ہے۔ساری زندگی مجھے یہی سننے کو ملا کہ یہ کسی سے لکھواتی ہے ،یہ تو ساتویں جماعت میں اسکول چھوڑ کر چلی گئی تھی۔یہ کہاں سے لکھے گی۔حالانکہ میں مزاجاً اور کچھ میرا فیملی بیک گرائونڈ بھی ایسا ہی ہے کہ میں کسی کے بھی کبھی قریب ہوئی ہی نہیں ہوں۔میرے جو جاننے والے ہیں وہ فیملی کی طرف سے جاننے والے ہیں اور جو میرے ملنے والے ہیں ان کی فیملی میری فیملی سے ملتی ہے۔میرا پرسنل جاننے والا کوئی نہ میرے گھرآتا ہے اور نہ میں کسی کے گھر جاتی ہوں۔میں صرف کام کے لیے ہی ملتی ہوں کام کے علاوہ کسی سے نہیں ملتی ۔
٭آپ نے ایک کتاب لکھی تھی رہ نوردِ شوق،جو کہ ایک بالکل منفر دآپ کا کام ہے آپ نے ایک شخصیت کو سامنے رکھ کر لکھا۔ آپ کیسے متاثر ہوئیں؟
٭٭اس ایک کتاب کے اندر پوری لائبریری لگتی ہے۔حضرت اکرم اعوان صاحب کے پاس جو بھی لوگ آتے ہیں جوان کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو حضرت جی آنے والوں کو وہ کتاب دے دیتے ہیں۔یہ کتاب یوں لکھی یہ وہ زمانہ تھانوے کی دہائی کا آخر تھا۔پہلے میںذہنی طورپر ڈسٹرب تھی میں کسی روحانی منزل کی تلاش میں تھی ۔وہ میرا روحانی بے چینی کا زمانہ تھا۔میری کہیں حضرت جی سے ملاقات ہوئی تو میں نے کتاب کا کام شروع کردیا ۔پھر جب کتاب لکھ لی تو میری حضرت جی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔میں نے وہاں سے ذکر بھی سیکھا اور وہ کرتی بھی رہی۔پھر جب آپ کسی راستے پر چلنا شروع کرتے ہیں اور خدا نے جب کسی ارتقاکے راستے پر آپ کو ڈالنا ہو اور کوئی حقیقت بتانی ہو،مجھے آگے چل کر یہ محسوس ہو اکہ نہیں ،مجھے اس شکل میں تلاش نہیں ہے۔اس کتاب کو لکھنے کی حد تک میں فل ان کی شخصیت کے حصار میںتھی۔پھر یہ ہوا کہ میں نے کسی شخصیت میں خدا کو ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کی۔مجھے خدا نے یہ شعود دے دیا کہ مجھ سے براہ راست ملوں،میں تمہیں براہ راست ملوں گا۔اور اگر کسی کو تم سے ملوانا ہواتو میں اس کو تمہارے گھر تک لے آئوں گا۔تم نے اب کہیں نہیں جانا ہے۔اس ذکر کا سلسلہ بڑے سال تک جاری رہا۔ لیکن اب وہ تسلسل نہیں رہا ہے۔
٭میڈم یوتھ کوکیا پیٖغام دیں گی؟
٭٭نوجوانوں کومیرا یہ پیغام ہے کہ شرمندہ ہونا چھوڑدیں۔اپنے والدین پر،اپنی زبان پر،اپنے کردار پر،اپنے ماضی پر،اپنی مٹی سے شرمندہ ہونا چھوڑ دیں۔اس کو اون کریں او رسر اونچا کرکے جئیں۔ہمارے بزرگ بہت بڑے لوگ تھے۔ہماری جس نبی ﷺ سے نسبت ہے وہ ایک عالیشان ہستی ہیں۔ہمیں جو پڑھایا اور سیکھایا گیا ہے اس کے پیچھے بے شما ر لوگوںکی محنت ہے۔خود کو مسترد کرکے ،خود پر شرمندہ ہوکر ترقی نہیں ہوتی ہے۔پھر دوسری زبانیں،دوسرے کلچر اس کی جگہ آجاتے ہیں ۔ویسٹ ہمارے ذہنوں کے اندر آکر بیٹھ گیا ہے۔جہاں بھی خالی جگہ ہوتی ہے وہاں ایسی بلائیں آتی ہیں۔ان بلائوں سے بچو۔اپنے اندر جھانکنا،اپنا احتساب کرنا بہت ضروری ہے۔اپنے اندر کا سفر کرنا بھی زندگی میں نہایت ضروری ہے ۔جب تک اپنا احتساب نہ کیا جائے تب تک ہم کسی دوسرے پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں رکھتے ۔آپ کے ساتھ نہایت اچھی گفتگو رہی میَں نے یہ تمام باتیں ایک طویل عرصے کے بعد کی ہیں۔میں تو اپنے آپ میں تھی ہی نہیں،باتوں باتوں میں جو کیفیت بندھی میَں کہیں اور نکل گئی۔اللہ آپ کو سلامت رکھے اور خوش رکھے۔دعائوں میں یاد رکھیے گا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close