Hijaab May-16

چلو پھر کوچہ جاناں

نزہت جبین ضیا

’’اف… بہت گرمی ہے باہر۔‘‘ سجاد صاحب تھکے ہارے گھر لوٹے تو پلنگ پر بیٹھتے ہوئے رومال سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولے۔
’’یہ لیں اباجی۔‘‘ نغمہ فوراً ہی لیموں کا شربت لے آئی۔
’’ارے واہ جزاک اللہ۔‘‘ سجاد صاحب نے بیٹی کو پیار سے دیکھتے ہوئے گلاس اس کے ہاتھ سے لیا۔ صحن میں ایک طرف صوبیہ اور سنجیدہ بیٹھے ہوئے تھے اور مہندی کے ڈیزائن کی کتاب سے ڈیزائن پسند کیے جارہے تھے۔ سدرہ مایوں بیٹھ چکی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی سہیلیاں نمرہ اور شہلا کمرے میں اس کے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی سے خوب صورت بیل بوٹے بنا رہی تھیں‘ ساتھ ساتھ آپس میں چھیڑ چھاڑ بھی ہورہی تھی اور سدرہ شرم سے سرجھکائے دھیرے دھیرے مسکرا رہی تھی۔ کبھی کبھی آنکھیں نکال کر مصنوعی غصہ بھی کرتی اور شہلا اور نمرہ کھلکھلا کر ہنس دیتیں۔ دو دن بعد سدرہ بابل کا آنگن چھوڑ کر پیا گھر جانے والی تھی۔ ایک جانب نئی زندگی‘ نیا سفر اور نئے ہم سفر کی سنگت کی خوشی تھی تو دوسری جانب ایک اداسی اور اپنا گھر چھوڑنے کا دکھ بھی تھا‘ کتنی عجیب رسم تھی‘ یہ کیسا دستور تھا کہ ایک گھر جہاں آنکھ کھولی‘ پہلا قدم اٹھایا‘ پہلا جملہ ادا کیا‘ پہلی نماز پڑھی‘ پہلی بار سبق پڑھا‘ بچپن کی شرارتوں بھرپور اور آزاد زندگی گزاری‘ جہاں کے کونے کونے سے قلبی لگائو‘ وابستگی ہوجاتی ہے‘ جہاں پیارے پیارے بے لوث رشتے استوار ہوتے ہیں‘ باپ کا کاندھا‘ ماں کی گود‘ لاڈ‘ نخرے‘ خواہشات اور ضدیں منوائی جاتی ہیں پھراچانک سے یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اجنبی لوگ اجنبی جگہ‘ نئے ریت وراج اور نئی زندگی‘ نئے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ماں باپ کس طرح اپنا جگر گوشہ کسی دوسرے کے حوالے کردیتے ہیں‘ ان کے دل کی حالت وہی جان سکتے ہیں‘ صرف یہی نہیں بلکہ بیٹیوں کو رخصت کرنے کے لیے ان کے جہیز اور دیگر اخراجات کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں‘ یہی حال سجاد صاحب کا بھی تھا۔ وہ کتنی محنت کررہے تھے‘ کتنے جتن کررہے تھے‘ نہ جانے نہ پیسے کی فراوانی تھی نہ ہی کوئی کام کرنے والا ساتھ دینے والا تھا‘ اوپر تلے چار بیٹیاں ہی تھیں‘ سدرہ‘ نغمہ‘ صوبیہ اور سنجیدہ‘ سجاد صاحب سرکاری دفتر میں اکائونٹنٹ تھے۔ سیدھے سادے شریف اور نیکی کی راہ پر چلنے والے جو کہ بیشتر مواقع ہونے کے باوجود بھی اوپر کی کمائی کا ایک پیسہ بھی خود پر حرام سمجھتے‘ وہ کہتے کہ رشوت کی ایک پائی بھی لینے سے بہتر ہے کہ انسان بھوکا مرجائے‘ فریدہ بیگم اور ان کی چاروں بیٹیاں بھی ہرحال میں خوش رہنے والی تھیں‘ کبھی بھی کوئی فرمائش‘ کوئی ناجائز خواہش نہ کی‘ جو ملا اللہ پاک کا شکر ادا کرتیں‘ نغمہ‘ صوبیہ اور سنجیدہ تو صاف رنگت اور اچھی شکل صورت کی مالک تھیں مگر سدرہ کا رنگ ذرا دبتا ہوا تھا گو کہ پُرکشش تھی لیکن رشتے کے لیے آنے والی خواتین کو اس کے مقابلے میں نغمہ اور صوبیہ زیادہ اچھی لگتیں کیونکہ اس کا سانولا رنگ اس کے چہرے کی کشش کو پیچھے چھوڑ دیتا۔ اس کی سانولی رنگت اس کے اندر موجود ساری خوبیوں اور صلاحیتوں کو پس پشت ڈال دیتی۔ اب فریدہ بیگم نے نغمہ اور صوبیہ کو سختی سے منع کردیا تھا کہ رشتے کے سلسلے میں آنے والی خواتین کے سامنے ہرگز نہ آئیں۔
فریدہ بیگم نے رشتے لگانے والی خاتون سے کہہ رکھا تھا‘ رشتے تو کئی آئے مگر کچھ لوگ گھر کی حالت اور کچھ سدرہ کی سانولی رنگت دیکھ کر دوبارہ نہ آئے۔ سدرہ ہر کام میں ماہر تھی‘ بی اے کے بعد اس نے سلائی‘ کڑھائی کے کورسز بھی کرلیے تھے۔ پھر رشتے والی صغریٰ خالہ معین احمد کا رشتہ لے آئیں۔ معین احمد تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ ابا انتہائی شریف اور اماں انتہائی تیز طرار اور چالاک خاتون تھیں۔ معین احمد کی والدہ اور بہنوں نے سدرہ کو پسند کرلیا تھا‘ دیگر مراحل بھی طے ہوگئے اور اب سدرہ کی شادی ہونے والی تھی۔ آہستہ آہستہ شادی کے دیگر امور نمٹائے جارہے تھے۔
’’آپ جس کام کے لیے گئے تھے وہ ہوگیا؟‘‘ سجاد احمد نے شربت کا گلاس خالی کرکے نغمہ کو واپس کیا تو فریدہ بیگم نے ان سے پوچھا۔ وہ بارات کے کھانے کا فائنل کرکے کچھ ایڈوانس دینے گئے تھے۔
’’ہاں الحمدللہ! یہ کام بھی ہوگیا۔ بیٹیاں کتنی جلدی بڑی ہوجاتی ہیں سدرہ کی ماں…! ابھی کل کی بات لگتی ہے جب ہمارے اس چھوٹے سے آنگن میں ہماری چاروں شہزادیاں تتلیوں کی طرح اڑی اڑی پھرتی تھیں اورآج… دیکھو تو… ماشاء اللہ ان کو گھر سے رخصت کرنے کا وقت آگیا۔‘‘ سجاد احمد نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔ بیٹیوں کی جدائی کے خیال سے وہ افسردہ ہوگئے تھے۔
’’ہاں سجاد احمد‘ ٹھیک کہا تم نے‘ یہ وقت بھی پر لگا کر گزر گیا ہے بس اللہ پاک ہماری بچیوں کے نصیب اچھے کرے وہ اپنے اپنے گھروں میں شاد آباد رہیں‘ آمین۔‘‘
’’آمین ثم آمین۔‘‘ سجاد احمد نے جلدی سے کہا۔ تب ہی دروازے کے باہر سے یاسر صاحب نے آواز لگائی۔
’’آجائو یاسر دروازہ کھلا ہے۔‘‘ سجاد احمد نے کہا تو یاسر صاحب پردہ ہٹا کر اندر آگئے۔
’’السلام علیکم بھائی صاحب۔‘‘ فریدہ بیگم نے جلدی سے دوپٹہ سر پر ڈالا۔
’’وعلیکم السلام بھابی۔‘‘ بچیوں نے بھی سلام کیا۔
’’جیتی رہو۔‘‘ یاسر صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’ہاں یار! تیاریاں کہاں تک پہنچیں…‘‘ یاسر صاحب سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے سجاد احمد سے مخاطب ہوئے۔
’’ہاں شکر ہے اللہ پاک کا ہورہی ہیں۔‘‘ فریدہ بیگم اٹھ کر کمرے کی طرف چلی گئیں۔
یاسر صاحب سجاد احمد کے بہت اچھے اور مخلص دوست تھے۔ دونوں ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے‘ یاسر صاحب کی پوسٹ زیادہ اچھی تھی۔ مگر ان کوسجاد احمد کی فطرت‘ اور ایمان داری نے بہت متاثر کیا تھا۔ وہ چار بیٹیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے مگر اس کے باوجود بھی ایمان داری اور سچائی سے اپنا کام کرتے‘ کوئی رشوت دینا بھی چاہتا تو منع کردیتے۔ یہی بات یاسر صاحب کو بہت اچھی لگی اور وہ سجاد صاحب کے بہترین دوست بن چکے تھے۔ فطرتاً ہمدرد اور پُرخلوص تھے اس لیے کسی نہ کسی بہانے سے ان کی مدد کردیا کرتے تھے۔ اب اس شادی کے سلسلے میں بھی‘ سجاد احمد کے ساتھ سگے بھائیوں کی طرح کام اور تعاون کررہے تھے۔ صوبیہ چائے بنا کر لے آئی تھی۔
’’ارے واہ… گڑیا جیتی رہو‘ اس وقت چائے کی سخت طلب محسوس ہورہی تھی۔‘‘ یاسر صاحب نے چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے مسکراتے ہوئے دعا دی۔
تب ہی دروازہ زور زور سے بجنے لگا۔ فریدہ بیگم نے کھولا تو ہانپتی کانپتی حواس باختہ سی صغریٰ خالہ برآمد ہوئیں۔
’’خالہ خیریت تو ہے‘ کیا ہوا آپ پریشان کیوں ہیں؟‘‘ ان کے چہرے کو دیکھ کر فریدہ بیگم نے پریشان ہوکر کئی سوال کر ڈالے۔
’’فریدہ… میں بہت بری خبر لے کر آئی ہوں۔‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولیں۔
’’ہائے خالہ اللہ رحم کرے‘ کیا ہوگیا…؟ جلدی بتائو۔ میرا تو دم نکلا جارہا ہے۔‘‘ فریدہ بیگم سراسیمہ ہورہی تھیں۔ یہی حال سجاد احمد اور یاسر صاحب کا بھی تھا۔ کسی انجانے خوف کا شکار تھے۔
’’فریدہ… مجھے معاف کردو‘ میں بہت شرمندہ ہوں۔ بہت نادم ہوں‘ میں تمہارے سامنے‘ کیسے… کیسے بتائوں…‘‘ اس بار صغریٰ خالہ رونے لگی تھیں۔
’’ہائے صغریٰ خالہ کیوں ہمارے ضبط کا امتحان لے رہی ہیں‘ جو بھی بات ہے بتادو ناں جلدی سے۔‘‘ فریدہ بیگم کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’معین کی ماں نے سدرہ سے شادی کرنے سے انکار کردیا ہے۔‘‘
’’کک… کیا… کیا…؟‘‘ فریدہ بیگم چیخ کر بولیں۔ ساتھ ہی سجاد احمد اور یاسر صاحب بھی گھبرا کرکھڑے ہوگئے۔
’’خالہ خدا کے لیے ایسی بدفال تو نہ نکالو اپنے منہ سے۔‘‘ فریدہ بیگم نے بہ مشکل کہا ان کی آواز میں لغزش نمایاں تھی۔
’’مگر کیوں… انہوں نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟‘‘ سجاد احمد اٹھ کر صغریٰ خالہ کے قریب آگئے۔
’’یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے انہوں نے؟ ہم شریف لوگ ہیں‘ اس طرح وہ کیسے کرسکتے ہیں۔ یہ کہاں کی شرافت ہے؟ کوئی کھیل ہے‘ ہماری بیٹی مایوں بیٹھ چکی ہے۔ سارے انتظامات ہوچکے ہیں۔ اب وہ ایسی گھٹیا حرکت کیسے کرسکتے ہیں۔‘‘ یاسر صاحب غصے سے بے قابو ہوکر صغریٰ خالہ پر برس پڑے۔
’’اے بھیا… کچھ پتہ نہیں اور نہ ہمیں اندازہ تھا کہ وہ لوگ اتنی گھٹیا حرکت کرسکتے ہیں۔ سجاد میاں‘ فریدہ بیگم‘ سچ میں ہمیں معلوم ہوتا کہ وہ لوگ اتنی نیچ حرکت کرسکتے ہیں تو کبھی بھی رشتہ نہ کرواتے۔ ہمیں معاف کردو…‘‘ وہ ہاتھ جوڑے بے تحاشہ روتے ہوئے معافیاں مانگ رہی تھیں۔ سجاد احمد دل پر ہاتھ رکھے اس نازک صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے۔ فریدہ بیگم دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر چارپائی پر گر سی گئیں۔
’’سجاد اٹھو… ہم ابھی اسی وقت ان کے گھر جاکر بات کرتے ہیں۔ ان سے پوچھیں تو سہی کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟ یہ ایک بچی کی زندگی کا سوال ہے۔ دو دن بعد اس کی بارات آنے والی تھی اور… یوں اچانک سے منع کردینا۔ ہمیں بے وقوف سمجھ رکھا ہے کیا؟ یہ شریف لوگوں کے اطوار تو نہیں‘ ان کے گھر میں بھی تو تین‘ تین بیٹیاں کنواری بیٹھی ہیں… کسی کی بیٹی کا یوں تماشا بنانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ کل کو ان کی بیٹیوں کے ساتھ بھی خدانخواستہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے‘ کوئی وجہ بتائے بنا وہ اتنا بڑا قدم کیسے اٹھاسکتے ہیں؟‘‘
’’ہائے اللہ میں تو مرجائوں گی۔‘‘ فریدہ بیگم روتے ہوئے بولیں۔ یاسر صاحب نے سجاد احمد کو ہمت دلائی اور ان کو لے کر معین کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
فریدہ بیگم نے مصلیٰ بچھا کر خیر کی دعائیں منگنا شروع کردیں۔ بچیاں سہم کر ایک طرف ہوگئیں۔ کچھ دیر بعد سجاد احمد اور یاسر صاحب گھر میں داخل ہوئے ایسے جیسے اپنا سب کچھ ہار کر لوٹے ہوں۔ بکھرے بال‘ چہرے پر دکھ اور کرب واضح تھا۔ یاسر صاحب نے سنبھالا دیا ہوا تھا۔ وجہ یہی بتائی گئی تھی کوئی اور مال دار لڑکی مل گئی ہے جو معین کو باہر بھی بھیجے گی اور بھاری جہیز کے ساتھ گھر بھی ملے گا۔
’’میں کیا جواب دوں گی رشتے داروں کو‘ دوست احباب کو؟ بچی مایوں بیٹھ چکی ہے اور شادی سے انکار ہوگیا… دنیا تو ہمیں جینے نہیں دے گی‘ کیسے کیسے سوالات پوچھے گی… کیا بولوں گی میں؟‘‘ فریدہ بیگم باقاعدہ بین کررہی تھیں۔ سجاد احمد نے نم آنکھوں سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا اس وقت وہ خود بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوچکے تھے۔ انہی حالات کا سامنا تو ان کو بھی کرنا پڑے گا‘ ان کے دوست احباب‘ کولیگ‘ سب کو پتہ تھا کہ دو دن بعد بیٹی کی شادی ہے‘ کارڈ تقسیم ہوچکے تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں سے قرضہ لے کر شادی کے سارے انتظامات کیے تھے‘ کس کس طرح راتوں کو جاگ جاگ کر سارا کچھ ارینج کیا تھا۔ مایوں کی رسم پر بھی اچھے خاصے اخراجات کر بیٹھے تھے۔ رشتہ دار دنیا والے تو معمولی بات کو بھی ہوا دے کر پوری فلم بنالیتے ہیں اور اتنی بڑی بات…! کس طرح برداشت کرپائیں گے؟ سجاد احمد کابی پی شوٹ کرنے لگا۔ فریدہ بیگم کی حالت ابتر تھی۔ سدرہ نے سنا تو وہ سن ہوگئی۔ یہ کیا ہوگیا تھا؟ نغمہ‘ صوبیہ اور سنجیدہ کتنے خوش تھے۔ اس کی سہیلیاں چھیڑ چھیڑ کر تنگ کرتی رہتی تھیں۔ اب یوں اتنی بڑی بدنامی‘ وہ دنیا کا سامنا کیسے کرپائے گی؟ جب لوگ پوچھیں گے کہ بارات کیوں نہیں آئی تو؟ شہلا اور نمرہ دم بخود تھیں‘ تسلی کے لیے الفاظ تک نہ رہے تھے۔ نغمہ‘ صوبیہ اور سنجیدہ کی سمجھ سے باہر تھا کہ اپنی آپا کی تقدیر پر روئیں‘ یا ماں باپ کو تسلی دیں۔
یاسر صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس موقع پر کیا کہیں…؟ کیسے اپنے دوست کو تسلی دیں۔ کس طرح سے بچیوں کے دکھ بانٹیں‘ ان سے دیکھا نہ گیا آنسو خودبخود آنکھوں سے نکل آئے اور وہ اٹھ کر تیزی سے گھر سے باہر نکل گئے۔
/…l/l…/
پرانے طرز کے بنے ہوئے بڑے سے مکان کے کچے صحن میں سائرہ بیگم نے ابھی ابھی پانی کا چھڑکائو کرکے جھاڑو لگائی تھی۔ پھر چارپائیاں بچھا کر ان پر سفید چادریں بچھادی تھیں۔ برآمدے کے ایک کونے میں بنے چبوترے پر دری اور چادر بچھی ہوئی تھی جس کے ایک کونے پر سطوت آپا مشین رکھے سلائی کررہی تھیں۔ رومانہ بیگم رات کے کھانے کے لیے سبزی بنارہی تھیں۔ اماں جان صحن میں چارپائی پر بیٹھی آٹے کی چھوٹی چھوٹی گولیاں بنا کر وہاں پھرتے چوزوں اور مرغیوں کو کھلارہی تھیں۔ جھاڑو صفائی کے بعد سائرہ بیگم نے صحن میں رکھے مٹکوں کو پانی سے بھرا اور چائے بنانے کی غرض سے صحن کے ایک جانب بنے ہوئے بڑے سے باورچی خانے میں آگئیں۔ حسنات احمد کام کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے‘ جبکہ کلیم باہر اپنے دوستوں کے ساتھ ٹائم پاس کررہے تھے‘ تب ہی یاسر صاحب گھر میں داخل ہوئے‘ وہ خاصے مضمحل اور پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ رومانہ بیگم ان کے لیے ٹھنڈا پانی لے آئیں۔
’’کیا ہوا یاسر… تم کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہو؟‘‘ اماں جان نے ان کے بجھے ہوئے چہرے کو غور سے دیکھ کر سوال کیا۔
’’جی اماں جان‘ بات ہی کچھ ایسی ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں؟‘‘ وہ ٹھنڈی سانس لے کر دکھی لہجے میں بولے۔
’’کیوں کیا ہوگیا ہے ایسا؟‘‘ اماں جان نے پوچھا۔
’’میں نے بتایا تھا نا کہ ہمارے آفس میں سجاد صاحب ہیں ان کی بیٹی کی شادی ہورہی ہے‘ جن کی چار چار بیٹیاں ہی ہیں اور پہلی بیٹی کی شادی پرسوں ہونے والی تھی؟‘‘
’’ہاں ہاں‘ تم نے بتایا تھا۔‘‘ اماں جان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ سائرہ بیگم چائے بنا کر لے آئی تھیں۔
’’اماں جان ان بے چاروں کے ساتھ بہت برا ہوا۔‘‘ یاسر صاحب کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
’’خیریت تو ہے؟‘‘ سطوت آپا بھی مشین چھوڑ کر قریب آگئیں۔
’’لڑکے والوں نے بارات لانے سے منع کردیا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولے۔
’’ہائیں…!‘‘ اماں جان کے ساتھ رومانہ بیگم‘ سطوت آپا اور سائرہ بیگم کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ ’’مگر کیوں؟‘‘
’’بس اماں جان میں اور سجاد ان لوگوں کے گھر گئے‘ بہت لالچی‘ خبیث اور گھٹیا لوگ نکلے وہ تو۔‘‘
’’اب ان لوگوں کی کس قدر بدنامی ہوگی۔‘‘ اماں جان نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا۔
’’کیا حالت ہوگی ان لوگوں کی؟‘‘ سطوت آ پا بھی تاسف سے بولیں۔
’’جی آپا! ابھی وہیں سے آرہا ہوں میں‘ مجھ سے ان لوگوں کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی‘ لگتا تھا جیسے گھر میں کسی کی موت ہوگئی ہو‘ اتنی مشکلوں سے سجاد احمد نے قرض لے کر شادی کے اخراجات کیے تھے۔‘‘ یاسر صاحب کی آواز شدت جذبات سے رندھ گئی۔
’’ایک بات کہوں اماں جان۔‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد یاسر صاحب نے اماں جان سے پوچھا۔
’’ہنہ…‘‘ اماں جان نے اثبات میں سرہلایا۔
’’اگر… اگر ہم کلیم میاں کی شادی سدرہ سے کردیں؟‘‘ رک کر اماں جان کے چہرے کو غور سے دیکھا جہاں حسب توقع اتار‘ چڑھائو اور ناگواری کے آثار نمایاں تھے۔
’’پاگل ہوگئے ہو کیا…؟ تمہیں پتا ہے کہ کلیم کی کیسی پسند ہے؟ اس نے ہمیشہ اپنے معیار کی لڑکی سے شادی کی خواہش کی ہے۔ اس کو خوب صورت لڑکی چاہیے۔‘‘ اماں جان نے سختی سے انکار کردیا۔ جب کہ سطوت آپا‘ سائرہ اور رومانہ کے چہرے سپاٹ تھے۔
’’اماں جان! یہاں ایک مجبور اور بے بس ماں باپ کی غیرت کا سوال ہے اور پھر میں نے سدرہ کو دیکھا ہے اماں جان‘ وہ اچھی بھلی شکل صورت کی ہے‘ نیک شریف‘ سگھڑ ہے ہر کام میں طاق‘ مجھ سے سجاد اور اس کی بیوی کی حالت دیکھی نہ گئی اماں جان بہت شریف ہیں وہ لوگ‘ سیدھے سادے بھی ہیں اس وقت بہت مجبور اور سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ آپ کلیم سے بات کرکے تو دیکھیں۔ آپ اگر اسے کہیں گی تو شاید وہ مان بھی جائے۔‘‘ یاسر صاحب کی بات پر اماں جان نے گہری نظروں سے انہیں دیکھا‘ ان کے چہرے پر کئی رنگ ٹھہر گئے ان کی آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں رقص کرنے لگی تھیں۔ اسی طرح کی صورت حال سے وہ بھی ماضی میں گزر چکی تھیں۔ بالکل یہی سچویشن تھی جب ان کی اور ان کی بڑی بہن نسیمہ خاتون کی شادی طے ہوچکی تھی۔ شادی کے سارے انتظامات ہوچکے تھے وہ بھی پانچ بہنیں تھیں لیکن… عین شادی کے وقت کسی معمولی سی بات اور بحث پر نسیمہ کا نکاح ہوتے ہوتے رہ گیا۔ لڑکے والوں نے بات اتنی بڑھائی کہ دہلیز سے بارات واپس لی گئی۔ ابا‘ اماں نے ہاتھ پیر جوڑے‘ رشتہ داروں نے دھائیاں دیں مگر لڑکے والوں نے ایک نہ سنی نسیمہ بھی عام سی شکل کی تھیں‘ آناً فاناً گھر میں ماتم کا سماں ہوگیا ایک بارات موجود تھی‘ ایک واپس جاچکی تھی تب احمد صاحب کے قریبی دوست کمال سے احمد کی والدہ نے کچھ بات کی اور کمال نے نسیمہ سے اسی وقت نکاح کرنے کی حامی بھرلی… اگر اس وقت کمال‘ بڑے دل اور ہمدردی سے یہ عمل نہ کرتے تو وہ بھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔ اماں جان کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ وہ جھرجھری لے کر ماضی سے حال میں واپس آئیں ان کے چہرے پر سختی کی جگہ نرمی آچکی تھی۔
’’ہم بات کرکے دیکھتے ہیں کلیم میاں سے۔‘‘ انہوں نے آہستگی سے کہا۔
سطوت آپا‘ یاسر صاحب‘ اور سائرہ کے چہروں پر اطمینان جب کہ رومانہ بیگم کے چہرے پر بے زاری کے آثار تھے۔ یاسر نے تشکر بھری نظروں سے اماں جان کو دیکھا۔
’’کاش کلیم میاں مان جائیں۔‘‘ وہ دل ہی دل میں بولے۔
’’اماں جان! کیا ہوگیا ہے آپ کو…؟ کیا میں فالتو ہوں جو جاکر ایسی صورت حال کو سنبھالوں اور ایسی لڑکی کو یوں ایمرجنسی میں شادی کرکے لے آئوں‘ میرے اپنی شادی کو لے کر بہت سے خوب ہیں اور میں یوں ان خوابوں کو توڑ نہیں سکتا۔‘‘ اماں جان نے کلیم سے سدرہ کے حوالے سے بات کی تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ یاسر بھی اماں جان کے کمرے میں آگئے تھے۔ یاسر نے باپ کے مرنے کے بعد کلیم کو باپ بن کر پالا تھا‘ ان کی ہر خواہش ہر ضرورت بنا کہئے پوری کردیتے‘ کبھی بھی ان کو یہ احساس ہونے نہیں دیا تھا کہ ان کے والد حیات نہیں ہیں‘ کلیم بھی یاسر کی بہت عزت کرتے تھے‘ بہت احترام تھا کلیم کے دل میں یاسر کے لیے۔
’’بھائی… یہ اماں جان کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ کلیم نے یاسر کو آتا دیکھ کر ان کے پاس جاکر کہا۔
’’ہاں کلیم… سجاد کی طبیعت بہت خراب ہے‘ ایک باپ کے لیے بیٹی کا اس طرح سے مایوں بیٹھ کر رخصت نہ ہونا کتنا دکھ ہے‘ کتنی اذیت ہے‘ اس بات کا احساس وہی کرسکتا ہے جس پر یہ برا وقت آئے۔ سجاد اور اس کی بیوی فریدہ بھابی بہت پریشان ہیں‘ میرے بھائی‘ تمہیں اللہ پاک اجر دے گا‘ بے شک تم نے اپنی شادی کو لے کر بہت کچھ سوچا ہوگا‘ لیکن… سدرہ بھی بدصورت یا کسی عیب کی حامل نہیں ہے وہ نیک‘ سیدھی سادی اور سگھڑ لڑکی ہے‘ وہ آکر یقینا ہم سب کا دل جیت لے گی۔ ایک نیک عمل سمجھ کر تم یہ نکاح کرسکتے ہو۔ آگے تمہاری مرضی ہے‘ میری جانب سے صرف گزارش ہے کوئی زبردستی یا حکم نہیں‘ تم جو بھی فیصلہ کرو وہ رات تک اماں جان یا سطوت آپا کو بتادینا‘ تاکہ میں مطمئن ہوجائوں‘ ہاں یا ناں دونوں صورتوں میں۔‘‘ یاسر کلیم سے ملائمت سے کہہ کر کمرے سے نکل گئے تھے۔ کلیم کسی صورت دل سے راضی نہ تھے مگر یاسر‘ اماں جان اور سطوت آپا کے سمجھانے پر حامی بھرلی۔ گوک ہ دل میں سدرہ کے لیے رتی برابر بھی محبت انسیت یا میٹھے جذبے نہ تھے۔ سادگی سے رخصت ہوکر سدرہ کلیم میاں کے ساتھ آگئیں۔ سجاد احمد اور فریدہ یاسر کے آگے بچھے جارہے تھے ان کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ یاسر صاحب ایسا کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ گھر جس میں ماتم کا سماں تھا‘ اس اچانک ملنے والی خوشی سے زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ سدرہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ قدرت کے اس مذاق پر ہنسے یا روئے۔
کلیم میاں کو کوئی خوشی نہیں تھی وہ انتہائی خوب صورت تھے۔ شروع سے ہی ان کے ذہن میں خوب صورت دلہن کا تصور تھا‘ شادی کو لے کر خوب شور شرابہ اور دھوم دھڑکا کرنے کا خیال تھا۔ یوں اچانک سے ایک دن میں شادی کرلینا اور اس کو ذہنی طور پر قبول کرنا ان کے لیے بہت دشوار کن مرحلہ تھا‘ گو کہ انہوں نے سدرہ سے شادی تو کرلی تھی۔ رومانہ بیگم اور سائرہ بیگم نے سدرہ کو کلیم کے کمرے میں پہنچا دیا۔ کلیم کا دل ہی نہیں کررہا تھا کہ وہ کمرے میں جائیں جہاں آج سے سدرہ نام کی عورت ان کے کمرے کی حصے دار بن کر رہنے والی تھی۔ جس سے ان کو لگائو تھا نہ دلچسپی‘ بلکہ ان کے ذہن پر ایک بوجھ کی صورت تھیں۔ جنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی اب ان کو برداشت کرنا تھا۔ عجیب سے ڈرامائی انداز میں ان کی زندگی میں یہ بدلائو آیا تھا۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنے کمرے کی طر ف چلے آئے۔ آہستہ سے دروازے پر دستک دی اور اندر داخل ہوگئے۔ لال کپڑوں میں ملبوس سر کے آگے تک دوپٹے کا گھونکہٹ نکالے سدرہ ابھی تک اسی طرح بیٹھی ان کی منتظر تھی۔
’’سنو! یہ گھونگٹ ہٹالو اپنا‘ مجھے وحشت ہورہی ہے تمہیں اس طرح یہاں دیکھ کر میرے لیے تمہاری کوئی اہمیت نہیں ہے‘ نہ ہی اس شادی میں میری خواہش اور مرضی کا کوئی دخل ہے‘ یہ تو بھائی اور اماں جان کی وجہ سے راضی ہوا ہوں‘ اس لیے مجھ سے یہ امید مت رکھنا کہ میں تمہارے ساتھ پیار محبت کی جذباتی باتیں کروں گا۔‘‘ یہ تھا ان کی طرف سے سدرہ سے پہلا تخاطب‘ نئی دلہن کے ساتھ ان جملوں سے انہوں نے بات کا آغاز کیا تھا۔ سدرہ نے ایک جھٹکے سے دوپٹہ پیچھے کرلیا۔ کلیم نے اچٹتی نگاہ ڈالی‘ عام سے نین نقش‘ سانولی رنگت‘ عام سی لڑکی ان کی بیوی کے روپ میں ان کے سامنے موجود تھی۔
سدرہ دکھ اور حیرت سے اپنے حسین وجمیل شوہر کو دیکھ رہی تھی۔ واقعی وہ تو کلیم کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی۔ عام سی شکل والی اوپر سے ان حالات میں ان کی زندگی میں زبردستی آگئی تھی۔ کلیم نے سدرہ کو دیکھا تو ان کے چہرے پر مزید بیزاری آگئی۔
’’یہ تو میری پسند اور معیار ہرگز نہ تھا۔‘‘ انہوں نے اسے دیکھ کر تلخ لہجے میں کہا۔
’’کلیم…! مجھے معاف کردیں‘ مجھے اندازہ ہے کہ میں آپ کے لیے ناپسندیدہ ترین ہوں‘ میں زبردستی آپ کی زندگی میں لائی گئی ہوں۔ خدا نہ کرے کہ کسی کے ساتھ بھی اتنا برا ہو جتنا کہ میرے اور میرے ماں باپ کے ساتھ ہوا ہے۔ ایسا برا وقت کبھی بھی کسی پر نہ آئے‘ اگر یاسر بھائی ہماری مدد نہ کرتے تو شاید اباجی اس غم میں مر جاتے‘ اماں اس بے عزتی پر پاگل ہوجاتیں۔ میری تین بہنوں کے رشتے کبھی نہ ہوتے شاید‘ میں… میں بھی خودکشی کرلیتی۔ آپ لوگوں کی بہت مہربانی ہے کہ آپ لوگوں نے اتنے کھلے دل اور بڑے پن کا ثبوت دیا اور ہم سب کی عزت رکھ لی۔ آپ نے مجبور ماں‘ باپ کا خیال کیا‘ ایک بے بس اور بے کس لڑکی کو نام دیا سہارا دیا‘ عزت‘ مقام دیا‘ میرے ماں باپ ساری زندگی آپ لوگوں کو دعائیں دیتے رہیں گے۔ میں ساری عمر آپ کا‘ آپ کے گھر والوں کے احسان کابدلہ نہیں اتار سکوں گی۔ میں ساری زندگی آپ کی اور آپ کی اماں جان کی خدمت کروں گی‘ بدلے میں مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے کلیم۔ پیار نہ محبت‘ نہ التفات‘ بس مجھے اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیجئے میرے لیے یہی بہت ہوگا۔‘‘ سدرہ روتے ہوئے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے التجا کررہی تھی۔ کلیم نے اس کے جڑے ہوئے ہاتھ کھولے انہیں ایک لمحے کے لیے وہ واقعی مجبور اور بے بس لگی‘ جو خود قسمت کے چکر میں گھری آج اس حالت میں اس طرح ان کے ساتھ تھی۔
’’بے شک تم میری پسند نہیں ہو‘ میری مرضی‘ منشاء کے بنا میری زندگی میں آئی ہو لیکن یاسر بھائی میرے لیے باپ کی جگہ ہیں۔ اماں جان میرے لیے قابل احترام ہیں‘ بڑی آپا‘ میری ماں جیسی ہیں اور ان سب کی وجہ سے میں تمہیں بیوی کی حیثیت دوں گا‘ لیکن وہ محبت‘ چاہت اور والہانہ پن نہ دے سکوں گا جو بیوی کا حق ہوتا ہے۔‘‘ کلیم نے سدرہ کے جڑے ہاتھ کھولتے ہوئے سچائی سے کہا۔
’’بس مجھے آپ کا نام چاہیے‘ کلیم اس کے علاوہ میں آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی کبھی نہیں۔‘‘ سدرہ کے لیے یہی کافی تھا کہ کلیم نے بیوی کی حیثیت دی تھی۔ کلیم ٹھنڈی سانس لے کر بیڈ کے کونے پر ٹک گئے۔
/…l/l…/
رومانہ بیگم کے سینے پر سانپ لوٹ رہے تھے‘ کیونکہ رومانہ کی چھوٹی بہن شبانہ کلیم میاں سے محبت کرنے لگی تھیں اور چپکے چپکے ان کی دلہن بننے کے خواب دیکھنے لگی تھیں۔ ان تمام باتوں کا علم رومانہ بیگم کو تھا اور انہوں نے بہن کو تسلی دی تھی کہ وہ کچھ نہ کچھ کرکے کلیم میاں کی شادی شبانہ سے ہی کروائیں گی۔ حالانکہ کلیم بیچارے ان سب باتوں سے بے خبر تھے۔ ان کو پتہ بھی نہ تھا کہ شبانہ بیگم ان کے ساتھ زندگی گزارنے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔
سدرہ بیگم کی زندگی کی شروعات ہوچکی تھی۔ وہ سیدھی سادی کم گو اور خاموش طبع تھیں‘ جب کہ رومانہ بیگم ایک تو بڑی بہو تھیں اور فطرتاً تیز طرار‘ چالاک اور باتونی بھی تھیں‘ سائرہ بیگم بھی سیدھی تھیں ان کے میاں حسنات نوکری کی سلسلے میں زیادہ تر شہر سے باہر رہتے‘ گھر کے سارے کرتا دھرتا یاسر ہی تھے اسی وجہ سے رومانہ بیگم مکمل طور پر گھر‘ گھریلو امور پراپنی گرفت رکھے ہوئے تھیں۔ ان کو ویسے بھی سدرہ‘ بالکل اچھی نہ لگی تھی۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ ان کو لگتا تھا کہ سدرہ نے ان کی بہن کے حق پر ڈاکا ڈالا ہے‘ وہ جو یہ خواب دیکھ رہی تھیں کہ دونوں بہنیں مل کر گھر پر راج کریں گی وہ سدرہ کے اچانک آجانے سے مٹی میں مل گیا۔ ان کی بہن کا دل الگ ٹوٹا اور ان کے خواب الگ چکنا چور ہوئے اور دوسری وجہ یاسر کا اس شادی کے لیے اتنا اصرار کرنا‘ بھائی کو سمجھانا‘ ایڑی چوٹی کا زور لگانا‘ یاسر کا اتنا انوالو ہونا ان کو قطعی پسند نہ آیا تھا۔ سدرہ ویسے بھی پزل پزل رہتی تھیں کہ وہ کس طرح اور کن حالات میں اس گھر کی بہو بن کر آئی تھیں وہ خود کونہ ہوتے ہوئے بھی مجرم اور قصور وار سمجھتی تھیں۔
دوچار دن تو یونہی گزر گئے اس روز سدرہ بیگم اماں جان کے پاس بیٹھی باتیں کررہی تھیں کہ اماں جان کے سر میں تیل لگانے کا خیال آیا یہ سوچ کر تیل کی بوتل لے آئیں اور سر میں خوب سارا تیل لگا کر اماں جان کے سر کی آہستہ آہستہ مالش کرنے لگیں۔ اماں جان کو اچھا لگ رہا تھا۔ سدرہ کی نرم ونازک انگلیوں سے ہوتا ہوا ہلکا ہلکا مساج جس سے انہیں سکون مل رہا تھا‘ اماں جان آنکھیں بند کیے پُرسکون بیٹھی تھیں۔ وہ ناشتے کی منتظر تھیں‘ اسی وقت رومانہ آگئیں‘ انہیں سدرہ کو یوں اماں جان کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر آگ لگ گئی۔
’’سدرہ اس گھر میں اماں جان کی خدمتوں کے علاوہ بھی کام ہوتے ہیں۔‘‘ ان کی تیز آواز پر اماں جان نے آنکھیں کھو لیں۔ ’’اب یہ دلہناپے کے دن ختم کرو تمہیں پتہ ہے میرے بچے مجھے تنگ کرتے ہیں۔ سائرہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘ اب تمہیں گھر داری سنبھال لینی چاہیے۔ یہ بات تمہیں خود سمجھنی چاہیے مجھے احساس دلانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اماں جان کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھ کر رومانہ بیگم نے سدرہ کی کلاس لے ڈالی۔
’’رومانہ ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں شادی کو‘ ہفتہ بھی تو نہیں ہوا۔‘‘ اماں جان نے تھوڑے تیز لہجے میں کہا۔
’’اماں جان‘ بے شک چار دن ہی ہوئے ہیں یہ جس حالات کا شکار ہو کر آئی ہے‘ آتو گئی ہے ناں؟ اب یہ گھر کا حصہ ہے اس کو چاہیے کہ گھر کے کاموں میں حصہ لے‘ یہاں کے ماحول میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرے۔ کم از کم ہمارا خیال تو کرے ناں۔‘‘ رومانہ بیگم نے طنز اسے بے بھائو کی سنا ڈالی۔ سدرہ نے شرمندگی اور بیچارگی سے جٹھانی کی طرف دیکھا‘ بات تو ان کی ٹھیک ہی تھی۔
’’اوہ ہو‘ بھابی‘ آپ رہنے دیں میں بنا دیتی ہوں ناشتہ۔‘‘ کہہ کر وہ جلدی سے پلنگ سے نیچے اتر آئیں۔
’’رہنے دو اب‘ ناشتہ بنادیا ہے میں نے‘ تم دوپہر کا کھانا پکا لینا۔‘‘ تیزی سے کہتی ہوئی رومانہ بیگم کمرے سے نکل گئیں۔ سدرہ سر ہلا کر رہ گئی۔ اماں جان کو رومانہ کا تلخ لہجہ اور طنزیہ جملے بالکل پسند نہ آئے تھے۔
سائرہ بیگم کی طبیعت آج کل کافی خراب تھی کسی وقت بھی ہاسپٹل جانے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔ پھر حسنات صاحب بھی یہاں پر نہیں تھے اس لیے سائرہ کافی پریشان تھیں‘ ناشتے سے فارغ ہوکر سدرہ باورچی خانے میں آگئیں‘ کلیم بھی کام پر جانے لگے تھے۔
’’بھابی دوپہر میں کیا پکے گا؟‘‘ سدرہ نے باورچی خانے میں موجود رومانہ بیگم سے پوچھا۔ کیونکہ گھر کے سارے معاملات وہی طے کرتی تھیں۔
’’ایسا کرو کڑھی‘ قیمہ مٹر اور چاول پکالو اور ہاں کھانا ایک بجے تک تیار ہوجانا چاہیے۔ بچے اسکول سے آتے ہی کھانا مانگتے ہیں۔ اماں جان بھی ظہر کی نماز کے فوراً بعد کھانا کھاتی ہیں۔‘‘ وہ ہدایات دے رہی تھیں۔
’’جی بھابی۔‘‘ سدرہ نے آہستگی سے کہا۔ سدرہ فوراً ہی کھانا پکانے میں لگ گئیں تاکہ وقت مقررہ پر کھانا تیار ہوجائے‘ کھانا تیار کرکے سدرہ نہانے چلی گئیں۔ اماں جان نماز سے فارغ ہونے تک یاسر اور بچے بھی آگئے۔ سدرہ نے دستر خوان لگا دیا تھا۔
’’ ارے واہ… آج تو دستر خوان خوب سجا ہوا ہے‘ ایک تو پسندیدہ کھانا اوپر سے بہترین سجاوٹ بھوک تو دو چند ہوگئی ہے۔‘‘ کلیم بھی آگئے تھے۔ رومانہ بیگم نے تیز اور چبھتی ہوئی نظروں سے میاں کو گھور کر دیکھا۔ سب لوگ دستر خوان پر آکر بیٹھ گئے۔
’’واہ بھئی بڑا مزے دار کھانا پکایا ہے۔‘‘ یاسر اور کلیم دونوں نے ہی بے ساختہ تعریف کر ڈالی اور سوالیہ نظروں سے رومانہ اور سائرہ کو دیکھا۔
’’بھئی آج کا سارا کھانا سدرہ نے پکایا ہے۔‘‘ اماں جان نے سدرہ کو تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
کلیم نے بھی ستائشی نظروں سے بیوی کی جانب دیکھا۔ رومانہ بیگم کو میاں کا اس طرح سے سدرہ کی تعریف کرنا اور سراہنا بری طرح کھل رہا تھا۔
’’بس بھی کریں‘ لگتا ہے زندگی میں پہلی بار اچھا کھانا کھانے کو مل رہا ہے۔ ہم نے پچھلے آٹھ سالوں سے بھاڑ جھونکا ہے۔‘‘ رومانہ کے تلخ اور دل جلے انداز پر یاسر صاحب کھسیا گئے۔
’’ارے نہیں بیگم… ہم نے کب کہا کہ آپ اچھا نہیں پکاتی کھانا۔‘‘ سدرہ جلدی سے اپنی پلیٹ پر جھک گئی‘ سب ہی جانتے تھے کہ رومانہ بیگم نہ صرف مزاج کی بلکہ زبان کی بھی بہت تیز ہیں جو منہ میں آئے بنا سوچے سمجھے کہہ دیتی ہیں نہ موقع محل کا خیال کرتی ہیں نہ ساس اور میاں کے رشتے کا پاس۔
یاسر صاحب‘ سدرہ کو بالکل چھوٹی بہنوں کی طرح چاہتے اور خیال کرتے تھے‘ ان کے خیال میں سدرہ ان کی وجہ سے یہاں آئی ہے تو اسے یہاں پر کوئی تکلیف نہ ہو اور دوسری بات یہ کہ سجاد احمد ان کے اچھے دوستوں میں سے تھے مگر رومانہ بیگم کو یہ سب کچھ ایک آنکھ نہ بھاتا تھا‘ وہ گاہے بگاہے یاسر کو طعنے مارتی رہتی تھیں۔ سدرہ محسوس کرکے پزل ہوجاتی۔ اسے یاسر بڑے بھائی جیسے لگتے تھے‘ ان کی ہمدردی اچھی لگتی تھی۔ لیکن رومانہ بیگم کا رویہ بہت دل شکن اور تکلیف دہ ہوجاتا تھا۔ وہ خوامخواہ شرمند ہ ہونے لگتی۔ یاسر کے دوست کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے اماں جان نے یاسر سے کہہ کر گرمیوں کے کچھ لیڈیز سوٹ منگوائے تھے اس روز رات کے کھانے کے بعد اماں جان نے سب کو اپنے کمرے میں بلوایا۔
’’یہ لو بچیوں میں نے یہ کچھ کپڑے منگوائے ہیں‘ تم لوگ اس میں سے اپنی پسند کے دو دو جوڑے نکال لو۔‘‘ انہوں نے تینوں بہوئوں کو مخاطب کرکے کہا۔ سدرہ نے کچھ لمحے سوچا پھر ایک ہلکے جامنی کلر کے سوٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’ارے ارے سدرہ! یہ سوٹ تم مت لو یہ کلر تم پر بالکل اچھا نہیں لگے گا یہ تو میں یا سائرہ بنالیں گے‘ اس کلر میں تو تم اور زیادہ سانولی لگوگی‘ بہت ہلکا کلر ہے یہ۔‘‘ رومانہ نے ہنستے ہوئے مضحکہ خیز انداز میں اس کے سانولے رنگ پر بھرپور چوٹ کی۔ سدرہ کے بڑھتے ہاتھ ایک دم رک گئے اور چہرے پر دکھ اور شرمندگی کے آثار دکھائی دینے لگے۔ وہ خجل سی ہوگئی۔
’’ارے بھابی‘ کوئی بات نہیں اگر سدرہ کو پسند ہے تو اسے لینے دیں ناں۔‘‘ سائرہ بیگم کو جٹھانی کا یوں سدرہ کو طنز کا نشانہ بنانا بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔ سدرہ بیچاری یک دم چپ ہوگئی تھی۔
’’ارے بھئی مجھے کیا…؟ میں نے تو ایک صحیح بات کی تھی اور مشورہ دیا تھا بنالے کوئی بھی مجھے کیا۔ بھئی اماں جان مجھے تو کوئی سا بھی دے دیں مجھ پر تو ہر رنگ ہی اچھا لگتا ہے۔‘‘ انہیں اپنی گوری رنگت اور خوب صورتی پر بڑا ناز تھا۔ اماں جان کا چہرہ بھی بجھ سا گیا تھا انہیں بھی رومانہ کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔ انہوں نے ہی آگے بڑھ کر سدرہ کے لیے دو سوٹ الگ کرکے اس کی طرف بڑھادیئے۔
’’جلد ہی میں شریفہ کو بلوا کر سینے کے لیے دے دوں گی۔‘‘ اماں جان نے تینوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’نہیں اماں جان! سلوانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں خود ہی سلائی کردوں گی۔‘‘ سدرہ نے اماں جان سے کہا۔
’’ارے واہ سدرہ‘ تم کو یہ فن بھی آتا ہے۔‘‘ سائرہ بیگم نے خوش دلی سے کہا۔ ’’ایسا کرو تم اپنے اور اماں جان کے کپڑے سلائی کردینا ہم اپنے کپڑے شریفہ سے سلوالیں گے تم پر بوجھ پڑے گا خوامخواہ۔‘‘
’’نہیں بھابی کیسا بوجھ؟ میں نے تو سلائی سیکھی ہوئی ہے فٹافٹ سی دوں گی۔‘‘ سدرہ نے پہلے سائرہ اور پھر رومانہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’نہ بھئی‘ ہم تو اپنے کپڑے شریفہ سے ہی سلوالیں گے ویسے ہی تمہارے آنے کے بعد تمہارے جیٹھ کو تمہاری بنائی ہوئی چیزیں بہت پسند آنے لگی ہیں اب تمہارے ہاتھ کے سلے ہوئے کپڑے ہمیں پہنے ہوئے دیکھیں گے تو پتہ نہیں کیا سننے کو ملے۔‘‘ رومانہ نے سدرہ کو گھورتے ہوئے طنز سے کہا اور اپنے کپڑے لے کر منہ بناتی ہوئی کمرے سے نکل گئیں۔ اماں جان اور سائرہ نے انہیں تاسف سے دیکھا۔
’’نہ جانے کیوں رومانہ بھابی کا رویہ میرے ساتھ اتنا ہتک آمیز ہوتا ہے ہر بات میں کوئی نہ کوئی طنز کرنا اپنا فرض کیوں سمجھتی ہیں۔‘‘ اپنے کپڑے سمیٹتی ہوئی سدرہ دل میں سوچ رہی تھی۔
سائرہ بیگم کی طبیعت خراب ہوئی تو رومانہ بیگم نے بچوں کا بہانہ بنا کر ہاسپٹل نہ جانے کا جواز ڈھونڈ لیا۔ اماں جان اکیلی کیسے جاسکتی تھیں ایسے میں سدرہ نے جھٹ اپنی خدمات پیش کردیں۔ سائرہ کے یہاں گڑیا جیسی بیٹی پیدا ہوئی‘ گول مٹول اور گوری چٹی‘ بالکل سائرہ جیسی۔ گھر میں سب لوگ ہی بہت خوش تھے حسنات بھی آئے ہوئے تھے‘ سائرہ کا میکے میں کوئی بھی نہ تھا۔ اس موقع پر سدرہ نے بالکل بہنوں کی طرح اس کا خیال رکھا۔ اسے ذرا بھی یہ محسوس نہ ہوا کہ سدرہ اس کی دیورانی ہے۔ وہ لوگ تین دن بعد ہاسپٹل سے لوٹے تو رومانہ نے اکیلے سارے کام کرنے کا احسان جتایا ساتھ ہی گھر کا حشر بھی برا کرکے رکھا ہوا تھا۔ ان کے اپنے دو بچے روحانہ اور چار سالہ عبیل تھے پھر گھر میں ننھی شازیہ کے آجانے سے بچے بھی بہت خوش تھے انہیں کھلونا مل گیا تھا۔ آہستہ آہستہ روحانہ اور عبیل بھی سدرہ سے گھل مل گئے کیونکہ سدرہ ان کا خیال رکھتی تھی ان کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی‘ کہانیاں سناتی‘ روحانہ کی گڑیا کے کپڑے سیتی‘ بچے بھی اپنا ہر کام چھوٹی چاچی سے کرواتے۔ سدرہ ذرا بھی جھنجلاہٹ یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوتی‘ وہ بڑوں سے لے کر بچوں تک کے سارے کام خوشی خوشی بنا ماتھے پر بل لائے کرتی تھی۔ اس کے ساتھ اماں جان کی دوا وقت پر دینا‘ ان کے کھانے کا خیال رکھنا ان کے کپڑے دھونا‘ استری کرنا‘ ان کے سر میں تیل لگانا‘ یہ سارے کام وہ پابندی اور تندہی سے سرانجام دیتی۔ گھر کے تمام افراد اس سے خوش تھے‘ کلیم بھی کافی حد تک اس کے حسن واخلاق اور بے لوث خدمت کے معترف ہوگئے تھے‘ اس نے کم وقت میں اپنے حسن سلوک اور مثبت رویے سے سارے گھر کا دل جیت لیا تھا سوائے رومانہ کے‘ وہ ہمیشہ ہر قدم پہ سدرہ سے شاکی رہتی تھیں۔ اس کی ہر بات میں کیڑے نکالنا‘ نقص نکالنا اور پھر کام میں عیب نکالنے کے ساتھ وقتاً فوقتاً اس کی رنگت پر اس کی شادی کے حوالے سے طنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتی تھیں۔ ایسا کرکے ان کو تسکین ملتی تھی‘ پھر سدرہ کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی‘ اللہ اللہ کرکے دن گزرنے لگے‘ ایک تو اس کی طبیعت حددرجہ خراب‘ اوپر سے بار بار رومانہ کا یہ احساس دلانا کہ اللہ پاک جو بھی ہو وہ رنگ وروپ میں دوسرے بچوں کے جیسا ہو‘ اسے بہت ٹینشن میں رکھتا پورے نو ماہ سدرہ نے اللہ پاک سے خیر کی ساتھ یہ دعا بھی مانگی کہ بیٹی ہو تو وہ کلیم کے جیسی ہو میرے جیسی بالکل نہ ہو‘ عجیب الجھن اور پریشانی کی حالت میں دن گزرے اور پھر نوال کی شکل میں حسین ترین بیٹی اس کی گود میں آگئی۔
’’ماشاء اللہ ہماری بیٹی تو بہت حسین ہے۔‘‘ کلیم نے دیکھا تو خوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’شکر ہے خدا کا کہ مجھ پر نہیں گئی۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی سدرہ کا لہجہ تلخ ہوگیا۔
’’اب ایسی بات بھی نہیں ہے تم کو کیا ہوا ہے؟ تم بھی اچھی بھلی ہو۔‘‘ سائرہ بھابی نے جھٹ سے کہا تو سدرہ کے لبوں پر پھیکی سی ہنسی پھیل گئی۔
/…l/l…/
رومانہ بیگم کے دو بچے روحانہ اور عبیل تھے‘ سائرہ بیگم کے جاسم اور شازیہ اور سدرہ بیگم کی ایک بیٹی نوال تھی وقت تھوڑا آگے سرکیا تھا۔ بچوں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات تھے سب آپس میں پیار‘ محبت اور انڈراسٹینڈنگ سے رہتے‘ کبھی بھی ان کے درمیان کوئی جھگڑا کوئی فساد نہ ہوتا‘ ہوتا بھی تو خود ہی تھوڑی دیر میں پھر سے گھل مل جاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ گھر میں اور حالات میں تبدیلی آتی گئی تھی۔ کل کے بچے آج کے جوان تھے۔ روحانہ سب سے بڑی تھی۔ اس کی شادی کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ عبیل ایم بی اے کرچکا تھا‘ اور اچھی جاب کررہا تھا۔ جاسم کی پڑھائی آخری مراحل میں تھی شازیہ اور نوال بی ایس سی کررہے تھے۔
اماں جان‘ یاسر اور حسنات صاحب کی موت کے بعد سب کچھ روحانہ بیگم کے ہاتھ میں تھا۔ کلیم کچھ بولتے ہی کم تھے‘ اور ان سب کی اموات کے بعد وہ بے حد چپ اور بیمار رہنے لگے تھے پھر ایک دن وہ بھی چند سالوں کے بعد اپنے اُن پیاروں سے جا ملے تھے۔ سائرہ اور سدرہ بھی اخراجات کے معاملے میں چپ ہی رہتیں‘ ویسے بھی بقول رومانہ کے گھر میں زیادہ حصہ اور زیادہ پیسہ تو یاسر صاحب کا ہی لگا ہے۔ حاکمانہ مزاج تو ویسے بھی پایا تھا‘ اس پر خودمختاری بھی عروج پر تھی۔ گھر اورگھر والوں پر مکمل ہولڈ تھا۔ ہر کام‘ ہر فیصلہ‘ رومانہ کی مرضی سے ہی ہوتا تھا۔ ان کے معاملات میں کوئی دخل بھی نہ دیتا تھا۔
گھر کے انتظامی امور سارے آج بھی رومانہ بیگم ہی کے پاس تھے۔ روحانہ کی شادی طے ہوچکی تھی اور اس وقت نوجوان پارٹی بڑے کمرے میں جمع ہوکر خوب ہنگامہ کررہی تھی‘ موضوع تھا کہ روحانہ آپی کی شادی پر کیسے کپڑے بنوائے جائیں…؟ تب ہی رومانہ کمرے میں داخل ہوئیں۔
’’بچو… روحانہ اور عبیل تم لوگوں کے لیے خوش خبری ہے۔‘‘ انہوں نے آتے ہی خوش گوار لہجے میں اپنے بچوں کو مخاطب کیا۔
’’جی مما…‘‘ ان دونوں کے ساتھ ساتھ سارے بچے بھی رومانہ بیگم کی طر ف متوجہ ہوگئے۔ ’’بھئی تمہاری شبانہ آنٹی اپنے بچوں کے ساتھ روحانہ کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے امریکہ سے پاکستان آرہی ہیں۔‘‘ انہوں نے بے تحاشہ پُرجوش لہجے میں ہنستے ہوئے اطلاع دی۔
دونوں کے ہی منہ بن گئے تھے۔ شبانہ کے نام پر تو نوال بھی چونکی تھی‘ ان کے حوالے سے کافی تلخ باتیں سننے کو ملی تھیں۔ روحانہ اور عبیل کو اپنی یہ اکلوتی خالہ ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں۔ جب کبھی اسکائپ پر بات ہوتی تو وہ لوگ ان کو دیکھتے رہ جاتے‘ شبانہ خالہ اور ان کے دونوں بچے رہن سہن اور باتوں کے حوالے سے انتہائی بے باک اور بے حجاب لگتے تھے۔ ان کی ایک ایک بات سے امارت اور تکبر کی بو آتی تھی۔ ان کی بیٹی جس کا نام جازیہ تھا وہ جیزی اور بیٹا جو ذکا تھا وہ صرف ’’ذک‘‘ رہ گیا تھا۔ اتنی ادا سے اور منہ بنا بنا کر بات کرتے کہ ان لوگوں کے ٹیڑھے منہ کو دیکھ کر لگتا خدانخواستہ فالج نے اٹیک کردیا ہو۔ اب شادی میں مسلسل ان لوگوں کو برداشت کرنا بہت مشکل اور صبر آزما کام تھا۔ ایک واحد رومانہ بیگم تھیں جو خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھیں۔ کئی سال بعد بہن لوٹ کر ان کے گھر آرہی تھی۔ سارے گلے شکوے ختم کرنے کا موقع تھا۔ شادی کی تیاریوں سے زیادہ ان لوگوں کی آمد کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
’’افوہ… مما لگتا ہے کہ امریکہ کے صدر آرہے ہیں‘ تائی اماں کی تیاریاں دیکھ کر تو ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘ نوال نے سدرہ بیگم کے سامنے کہا تو سدرہ نے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
نوال اور عبیل بچپن سے ہی ایک دوسرے سے اٹیچ تھے اور یہی اٹیجمنٹ آہستہ آہستہ پسند میں بدل گئی‘ جوان ہوتے یہ پسند محبت بن چکی تھی۔ عبیل کو سیدھی سادی معصوم نازک اور خوب صورت سی نوال یوں بھی پسند تھی کہ اسے آج کل کی لڑکیوں کی طرح ناز نخرے اور خود کو پوز کرنا نہیں آتا تھا۔ وہ سیدھی اور صاف ستھری بات کرتی‘ صلح پسند اور کم گو تھی‘ شازیہ تھوڑی سی شرارتی اور نٹ کھٹ تھی مگر نوال سے اس کی اچھی دوست تھی۔ نوال اکثر اپنی چیزیں بھی شازیہ کو دے دیتی تھی۔ جاسم کا چکر شازیہ کی دوست صبوحی سے تھا جب کہ نوال اور عبیل ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے یہ دونوں باتیں بڑوں کے علم میں تھیں۔
’’ارے یار! یہ شبانہ اینڈ فیملی مصیبت کی صورت کہاں سے آن ٹپکی؟ کون ان کے لیے مرا جارہا تھا یا یہ کہ روحانہ آپی ان کے بغیر اپنا نکاح منسوخ کروا دیتیں۔‘‘ اماں کے جاتے ہی عبیل نے اپنا سر پیٹ کر کھلم کھلا بے زاری اور اکتاہٹ کا ثبوت پیش کیا۔
’’ہاں سچ میں مجھے بھی شبانہ آنٹی اور ان کے بچے بالکل بھی اچھے نہیں لگتے نہ جانے اتنے سالوں بعد ان کی محبت نے کیوں جوش مارا اور آکر خوامخواہ ہماری تقریبات خراب کریں گی۔‘‘ روحانہ کے ایک ایک لفظ سے بیزاری عیاں تھی۔
’’نہیں آپی‘ ایسے مت کہیں کچھ دن کی بات ہے انہوں نے کون سا یہاں ہمیشہ کے لیے رکنا ہوگا۔ ان کا دل بھی کررہا ہوگا کہ اپنا وطن دیکھ لیں۔ تائی اماں سے مل لیں‘ کچھ عرصہ رہ کر لوٹ جائیں گی۔‘‘ نوال نے ملائمت سے کہا۔
’’ارے یار‘ قسم سے یہ کچھ دن ہی تو گزارنے مشکل ہوجائیں گے۔‘‘
’’ارے بھئی چھوڑو یہ باتیں پہلے ہم اپنے کپڑے تو ڈیسائیڈ کرلیں تم لوگ پتہ نہیں کہاں کہاں لے جاتے ہو بات کو کہ… کام کی بات رہ جاتی ہے۔‘‘ شازیہ نے جھنجلاتے ہوئے سب کی توجہ دوبارہ سے شادی کی جانب مبذول کروائی۔
/…l/l…/
گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں کہ شبانہ بیگم کے آنے کی خبر بھی آگئی اور ان کو ایئرپورٹ سے لانے کا فرض بھی عبیل کے ذمہ ٹھہرا۔
’’یار جاسم میرے ساتھ ایئرپورٹ چل مجھ اکیلے ناتواں بندے سے تین تین لوگ کہاں ہضم ہوں گے۔‘‘ عبیل کے بے ساختہ معصوم لہجے پر جاسم کا قہقہہ ابل پڑا۔ ساری فارملیٹیز پوری کرکے وہ لوگ جیسے ہی باہر نکلے تو کارٹون جیسے حلیوں والے جازیہ اور ذکاء کو دیکھ کر عبیل نے جاسم کو ٹہوکا مارا ’’جیزی‘‘ نے ٹخنوں سے اونچی پینل جینز پہن رکھی تھی جس پر شاکنگ پنک سلیولیس گہرے گلے کی ٹی شرٹ تھی۔ شولڈر کٹ بلیج زدہ بالوں کے گھونسلے کے ساتھ وہ عجیب نمونہ نظر آرہی تھی۔ ذک نے گھٹنوں تک ریڈ چیک کا انتہائی ڈھیلا برمودا جس کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی ریڈ ٹی شرٹ جس کے شولڈر کہنی کو چھو رہے تھے۔ بڑے بڑے جیل سے اکڑے ہوئے بال‘ آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ آٹھواں عجوبہ لگ رہا تھا۔
شبانہ آنٹی نے انتہائی باریک جارجٹ کی بلیک ساڑھی جس پر بلیک سلیولیس بلائوز پہن رکھا تھا۔ بھاری میک اپ کے باوجود چہرے پر ڈھلتی عمر کی واضح نشانیاں موجود تھیں۔
’’ہائے کیوٹ…‘‘ شبانہ نے فرط محبت سے آگے بڑھ کر عبیل کو گلے لگایا اور اس کے گال پر کس بھی کرلیا۔ اتنے سارے لوگوں کی موجودگی میں شبانہ کا یوں والہانہ انداز عبیل کو شرمندہ کیے جارہا تھا۔
’’سو کیوٹ…‘‘ اس بار ان کی نظر کرم جاسم پر تھی اسی والہانہ انداز سے آگے بڑھ کر جاسم کو گلے لگالیا۔ قبل اس کے کہ وہ جاسم کے گالوں پر بھی لپ اسٹک کا نشان چھوڑ جاتیں جاسم بوکھلا کر ان کے آہنی چنگل سے نکل گیا۔ اس بار عبیل اس کی حالت پر ہنسا تھا۔
’’ہائے ہینڈسم…‘‘ جازیہ کے آگے بڑھنے سے پہلے ہی عبیل نے اپنا ہاتھ آگے کرکے گویا لمٹ مقرر کردی۔
’’کیوٹ…‘‘ جازیہ نے عبیل کے گال پر چٹکی بھری۔ ذک بھی آگے بڑھ کرگلے لگ گیا۔
’’یااللہ ہمیں ان بلائوں کے شر سے بچائے رکھنا۔ ہماری عزتوں کی حفاظت کرنا اور ہمیں اپنی امان میں رکھنا‘ آمین۔‘‘ جاسم کی سرگوشی پر عبیل کو ہنسی آگئی۔ (آمین ثم آمین) وہ زیرلب بڑبڑایا۔
رومانہ بیگم کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی‘ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اپنا دل نکال کر بہن اور ان کے بچوں کے قدموں میں رکھ دیں۔ سائرہ اور سدرہ بھی بہت گرم جوشی اور خلوص کے ساتھ ان لوگوں سے ملیں۔ نوال اور شازیہ حیرت سے دونوں کارٹون ٹائپ نوجوانوں کو دیکھ رہی تھیں جو مکمل طور پر مغربی طور طریقے اپنائے ہوئے تھے۔
’’ہائے سویٹی تم کون ہو؟‘‘ نوال جو ابھی جیزی میں گم تھی ذکا کو اپنے بالکل قریب دیکھا تو چونک گئی۔ وہ ہاتھ آگے بڑھائے بڑی محویت سے اسے گھور رہا تھا۔ پنک چوڑی دار پاجامہ‘ سفید باریک پنک پھولوں والی لانگ فراک اور پنک ٹائی اینڈ ڈائی کے بڑے سے دوپٹے کو شانوں پر پھیلائے سرخ وسفید اور خوب صورت مشرقی حسن ذکا کے دل میں اتر گیا تھا۔
’’جی… جی… میں نوال ہوں۔ نوال کلیم۔‘‘ نوال نے جلدی سے اپنا تعارف کروایا۔
’’ہائو کیوٹ‘ بہت سوئیٹ ہو تم۔‘‘ وہ ابھی تک نوال کو ہی گھورے جارہا تھا۔
’’آہم آہم…‘‘ عبیل نے پاس آکر خاصی زور سے اسے مخاطب کیا۔
’’یہ میری بڑی چاچی‘ یہ چھوٹی چاچی ہیں۔‘‘ عبیل نے اس کی توجہ ہٹائی۔ اسے یوں ذکا کا نوال میں گہری دلچسپی لینا قطعی پسند نہ آیا تھا۔ نوال خود بھی پزل ہوگئی تھی کیونکہ عبیل سے زیادہ رومانہ بیگم کی تیز اور خطرناک نظروں کی زد میں تھی۔ ملنے ملانے کے مرحلے سے فارغ ہوئے تو رومانہ نے شبانہ سے کہا۔
’’تم لوگ فریش ہوجائو‘ تھکے ہوئے آئے ہو‘ تھوڑا آرام کرلو رات کے کھانے پر ملاقات ہوگی۔‘‘
اوکے کہہ کر وہ لوگ آگے بڑھ گئے۔ سدرہ کو دیکھ کر شبانہ نے برا سا منہ بنایا تھا۔ شبانہ اور جازیہ کے لیے ایک کمرہ اور ذکا کے لیے الگ کمرہ سیٹ کردیا گیا تھا۔ نوال نے ایک طویل سانس لی۔
’’یہ تم میں زیادہ انٹرسٹڈ لگ رہا ہے کارٹون‘ ذرا بچ کر رہنا اس سے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیچارے کا قتل پاکستانی ہیرو عبیل کے ہاتھوں ہوجائے۔‘‘
’’میں اتنا موقع ہی کب دوں گی۔ مجھے تو وحشت ہورہی ہے ان صاحب کو اور ان کے حلیے کو دیکھ کر۔‘‘ نوال کی بات پر شازیہ مسکرادی۔
/…l/l…/
رات کے کھانے پر رومانہ بیگم نے خاصا اہتمام کروایا تھا۔ کھانے پر رومانہ بہت آئو بھگت کررہی تھیں۔ شبانہ نے سدرہ کا عجیب وغریب نظروں سے جائزہ لیا تھا۔ ان کی نظروں میں حقارت تھی کیونکہ انہیں سدرہ ذرا بھی اچھی نہ لگی تھی اور بقول ان کے اور رومانہ بیگم کی سوچ کے مطابق سدرہ بیگم نے ڈرامائی انداز میں انٹری مار کر ان کے حق پر ڈاکا ڈالا تھا۔ شبانہ بیگم نے رو رو کر ہنگامہ کھڑا کردیا تھا‘ رومانہ بہن کے دکھ پر خود بھی نڈھال تھیں مگر کیا کرسکتی تھیں سوائے اس کے کہ ساری زندگی سدرہ سے نفرت کریں‘ قدم قدم پر انہیں تضحیک اور ہتک کا نشانہ بنائیں۔ لفظوں سے ان کو زخمی کرتی رہیں۔ ایسا کرکے ان کو تشفی ملتی۔ سدرہ کا بجھا ہوا چہرہ‘ خجالت اور شرمندگی دیکھتی تو انہیں سکون ملتا‘ جیسے وہ بدلے لے رہی ہوں‘ پھر شبانہ کا رشتہ قدرے بڑی عمر کے مگر امیر ترین شخص نواز سے ہوگیا اور وہ شادی کے بعد امریکہ شفٹ ہوگئیں لیکن سدرہ کو لے کر شبانہ اور رومانہ کے دل میں جو پھانس چبھی تھی اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس میں کمی محسوس نہیں ہوتی تھیں۔ سدرہ بے چاری ان تمام باتوں سے بے خبر تھی‘ دو دن بعد روحانہ کی شادی کے فنگشنز اسٹارٹ ہونے والے تھے۔ رومانہ‘ جازیہ اور شبانہ کو لے کر مارکیٹ گئی تھیں تاکہ وہ لوگ یہاں کے حساب سے شادی میں پہننے کے لیے کپڑے لے سکیں۔
سائرہ اور سدرہ دونوں مل کر شادی کے امور پر باتیں کررہی تھیں‘ نوال اور شازیہ لان کی طرف آگئے‘ دونوں مل کر صفائی کرنے لگیں۔ مایوں کا فنگشن یہیں پر ہونا تھا۔ ذکا کانوں میں ہینڈ فری لگائے موسیقی سے لطف اندوز ہورہا تھا‘ یونہی اٹھ کر وہ کھڑکی میں آکھڑا ہوا یہاں سے لان کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ شازیہ اور نوال کسی بات پر ہنس رہی تھیں۔ ذکا کی نظر اٹھی تو جیسے نوال پر جم کر رہ گئی گرین اور میرون کومبنیشن والے کاٹن کے عام سے سوٹ میں وہ مشرقی حسن کا مکمل شاہکار نظر آرہی تھی۔ ذکا کا دل بے ایمان ہونے لگا تھا۔ اس کو دیکھ کر دل میں عجیب سی ہلچل ہونے لگی۔ مکروہ اور فحش خیالات جنم لینے لگے تھے‘ وہ کچھ دیر دیکھتا رہا اور آخر کار کمرے سے نکل کر لان میں آگیا۔
’’ہائے کیوٹی۔‘‘ شازیہ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسی والہانہ انداز میں نوال کے قریب آکر اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ذکا بھائی میرا نام نوال ہے… نوال کلیم۔‘‘ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ہائو آر یو نوال…؟‘‘
’’الحمدللہ۔‘‘ نوال نے روکھے لہجے میں کہا۔
’’ایک کپ چائے ملے گی؟‘‘ اس بار وہ شازیہ سے مخاطب ہوا۔
’’شیور۔‘‘ شازیہ نے کہا۔ نوال سمجھ گئی کہ ذکا شازیہ کو وہاں سے بھیجنا چاہتا ہے۔ زیادہ بدتمیزی وہ کر بھی نہیں سکتی تھی‘ کیونکہ تائی اماں کی ناراضگی مول لینا آسان بات نہ تھی۔ وہ بادل ناخواستہ وہیں پودوں کے سوکھے پتے توڑنے لگی۔
’’تم پڑھتی ہو؟‘‘ سوال کیا۔
’’جی میں بی ایس سی کررہی ہوں۔‘‘ بنا دیکھے جواب دیا۔
’’وائو میں سمجھا تم 10th یا 9th میں ہوگی‘ چھوٹی سی کیوٹ سی ہو۔‘‘ اس کے انداز پر نوال کو غصہ آگیا۔ اسی وقت عبیل بھی آگیا۔ عبیل کو دیکھ کر نوال کی جان میں جان آئی۔ اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔
’’ایکسکیوز می۔ مجھے کچھ کام ہے آپ عبیل سے باتیں کریں۔‘‘ نوال جلدی سے کہہ کر اندر کی طرف چلی گئی۔ عبیل عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔ عبیل نے محسوس کیا تھا کہ ذکا کی کوشش ہوتی کہ زیادہ وقت نوال کے آس پاس رہے‘ اس کی حرکتوں سے نوال کو جھنجلاہٹ ہوتی وہ جتنا اگنور کرتی ذکا اتنا ہی قریب آجاتا۔ یہی حال جازیہ کا تھا‘ وہ عبیل پر یونہی مہربان رہتی۔
آج روحانہ کے مایوں کی رسم تھی۔ نوال اور شازیہ نے ایک جیسے ڈریس پہنے تھے۔ ملٹی کلر بنارسی چوڑی دار پاجامے یلو جارجٹ کی لمبی فراکیں جس پر ملٹی کلر نازک ستاروں کا کام تھا اس پر ملٹی کلر چنریاں تھیں پھولوں کے زیور پہنے لمبے لمبے بالوں میں ملٹی کلر پراندے ڈال کر چٹیا بنائے ہلکے میک اپ میں دونوں بہت پیاری لگ رہی تھیں۔ عبیل نے نوال کو تیار دیکھا تو ہاتھ کے اشارے سے پرفیکٹ کا نشان بنایا۔ نوال شرما گئی‘ عبیل نے اس کی بے شمار پکس اپنے موبائیل میں قید کرلیں۔ نظروں نظروں میں دونوں ایک دوسرے سے اظہار پسندیدگی کررہے تھے کہ اچانک ذکا دونوں کے درمیان آگیا۔
’’وائو آج تو بہت سوئٹ لگ رہی ہو۔‘‘ نوال کو دیکھ کر والہانہ انداز میں کہا۔
’’عبیل پلیز ایک پک تو بنادو۔‘‘ بے باکی سے کہتا ہوا نوال کے بالکل قریب ہوکر اپنا موبائل عبیل کی طرف بڑھایا۔ عبیل کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا۔ اس کو ذکا کی حرکت پر غصہ آگیا۔ نوال بھی یوں اچانک ذکا کی قربت سے گھبرا کر پیچھے ہٹی۔ عبیل کا بگڑتا موڈ دیکھا تو ایکسکیوز می ابھی آئی کہہ کر جلدی سے وہاں سے کھسک لی۔
’’اوہ یار جلدی سے واپس آئو۔‘‘ ذکا نے کہا۔ عبیل برا سا منہ بنا کر موبائل ذکا کے ہاتھ پر رکھ کر آگے کی طرف نکل گیا۔ عبیل منہ کھول کر کچھ کہہ بھی تو نہیں سکتا تھا۔ مما کی فیملی (میکے) سے پہلی دفعہ کوئی آیا تھا‘ یوں ناراض کرنا بھی اچھی بات نہ تھی۔ اس کے خیال میں نوال کو خود ہی احتیاط کرنا چاہیے تھی۔ وہ آگے بڑھا تو سامنے سے جازیہ آتی دکھائی دی۔
’’عبیل یو آر سو بیوٹی فل۔‘‘ اوپر سے نیچے تک دیکھ کر بے باکی سے کہا۔
’’یک نہ شد دو شد۔‘‘ عبیل نے سر پیٹ لیا۔ ’’تھینک یو۔‘‘ بادل ناخواستہ مسکرایا۔
’’میں کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘ گھوم کر باقاعدہ ماڈلنگ اسٹائل میں خود کو پوز کیا۔ ٹخنوں تک ٹرائوزر‘ شاٹ شرٹ اور دوپٹے سے بے نیاز‘ اونچی ہیل کی سینڈل میں کھلے ہوئے بالوں کے ساتھ وہ عجیب ہی لگ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ عبیل کوئی جواب دیتا سامنے کمرے سے شبانہ تیار ہوکر باہر آئیں۔
’’پلیز‘ پلیز ون منٹ دونوں کلوز ہوجائو‘ میں پکس لے لوں بہت کیوٹ لگ رہے ہو ساتھ ساتھ۔‘‘ انہوں نے موبائل نکال کر والہانہ انداز میں کہا۔
’’وائے ناٹ مما۔‘‘ جازیہ عبیل سے چپک کر کھڑی ہوگئی‘ عبیل گڑبڑا گیا۔ اتنی دیر میں شبانہ کے ساتھ جازیہ نے بھی دو تین سلفیاں لے لی تھیں۔
شادی کے تمام فنگشنز کے دوران ذکا مسلسل نوال کے آگے پیچھے رہا‘ نوال عجیب سی الجھن کا شکار رہی‘ شادی کا سارا مزا کرکرا ہوگیا تھا۔ کچھ بولنا بھی مشکل تھا اور نہ بولنا بھی عذاب تھا۔ اللہ اللہ کرکے شادی خیر سے ختم ہوئی‘ روحانہ شکیل کے ساتھ رخصت ہوکر چلی گئیں۔ عبیل نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ کھل کر رومانہ سے اپنے اور نوال کے رشتے کے لیے بات کرے گا۔
/…l/l…/
شادی کے دو تین دن کے بعد سب نے پکنک کا پروگرام بنایا۔ نوال کسی صورت پکنک پر جانا نہیں چاہتی تھی۔ ویسے بھی سدرہ کی طبیعت کچھ خراب رہنے لگی تھی۔ اس بہانے سے نوال نے بھی جانے سے انکار کردیا تھا۔ نوال کچن میں تھی کہ عبیل آگیا۔
’’تم پکنک پر نہیں جائوگی…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں‘ مما کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ نہیں جاپائیں گی تو مجھے گھر میں ان کے ساتھ رکنا ہوگا۔‘‘
’’ارے کیا ہوا سدرہ چچی کو بتایا بھی نہیں کسی نے؟‘‘ وہ پریشان ہوا۔
’’کچھ خاص نہیں تھوڑا سا فیور ہے میں نے دوا دے دی ہے۔ ٹھیک ہوجائیں گی۔‘‘ نوال نے کہا۔
’’اچھا… کل زمان انکل کی مسز کیوں آئی تھیں؟‘‘ کل سے عبیل کو مسز زمان اور سدرہ چچی کو باتیں کرتے دیکھ کر عجیب سا احساس ہوا تھا‘ اس کی چھٹی حس بیدار ہوچکی تھی۔
’’وہ اپنے بھانجے کا رشتہ لے کر آئی تھیں‘ میرے لیے۔‘‘ وہ بدستور سالن میں چمچ چلاتے ہوئے بولی آواز میں لغزش نمایاں تھی۔
’’یہاں اتنا سب کچھ ہورہا ہے اور… اور… مجھے بتانے کی زحمت بھی نہیں کی جارہی… واہ بہت خوب۔‘‘ وہ اس خبر سے خاصا پریشان ہوا تھا۔ یہ بات اس کے لیے باعث تشویش تھی۔
’’مجھے بھی پتہ نہیں تھا‘ مما نے مجھے ابھی بتایا ہے‘ میں انہیں شادی میں اچھی لگی اور وہ رشتہ لے آئیں۔‘‘
’’تم… تم کتنے اطمینان سے یہ سب دیکھ اور سن رہی ہو؟‘‘ اسے پکڑ کر گھمایا اور عین اس کے سامنے کھڑا ہوکر پوچھا۔ ’’سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ میں…‘‘
’’ہاں عبیل میں… نے مما سے بات کی تھی‘ تمہارے حوالے سے مگر… مما بیچاری خود جانتی ہیں کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا۔ تائی اماں یہ بات ہرگز نہیں مانیں گی۔‘‘ اس کے لہجے میں مایوسی‘ دکھ اور اذیت نمایاں تھی۔
’’ارے یار… مجھے اپنی آخری کوشش تک تو موقع دو ناں‘ میں ہرحال میں تمہیں حاصل کروں گا‘ اپنی ساری کوششیں لگادوں گا نوال تم… مجھے بہت عزیز ہو تمہیں کھونے کا تصور ہی میرے لیے جان لیوا ہوگا۔‘‘
’’عبیل… میں… میں بھی بھلا ایسا کب چاہتی ہوں۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔
’’بس تم انہیں منع کردو میں موقع دیکھ کر جلد ہی مما سے بات کروں گا۔‘‘ عبیل نے اس کی نم آنکھوں کو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے محبت آمیز لہجے میں کہا تو نوال مسکرادی۔ عبیل کو لگا کہ اب اسے اس معاملے میں سیریس ہوکر کوئی اسٹیپ لینا ہوگا۔ نوال خوب صورت ہے‘ آج نہیں تو کل پھر اس کے لیے اچھے رشتے آسکتے ہیں‘ سدرہ چچی کب تک کسی کو منع کریں گی۔
ادھر ذکا کی مہربانیاں اور کرم نوازیاں نوال پر کچھ زیادہ ہی ہونے لگی تھیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے‘ ادھر ادھر موقع دیکھ کر کوئی نہ کوئی بات کر جاتا۔ اس کے حسن پر کھل کر کوئی جملہ کہہ دیتا‘ ایک آدھ بار اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی‘ ایک بار چلتے چلتے نوال کا دوپٹہ پکڑ لیا‘ نوال کا دماغ اس کی حرکتوں پر گھوم جاتا۔ وہ بچ کر نکل جاتی۔ مبادا کوئی ایسی بات نہ ہوجائے کہ ہنگامہ کھڑا ہوجائے۔ اس نے سدرہ کو یہ بات بتائی‘ سدرہ نے یہی کہا کہ وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں یا شازیہ کے ساتھ رہے۔ نوال محتاط رہنے لگی تھی۔ کلیم بھی زندہ نہ تھے‘ وہ کس سے مدد مانگتی۔
اس روز تو حد ہی ہوگئی‘ نوال پڑھائی کررہی تھی‘ رومانہ جازیہ اور شبانہ شاپنگ کرنے گئی تھیں۔ سدرہ کو لے کر سائرہ ہاسپٹل گئی ہوئی تھیں۔ سدرہ کو ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیئے تھے وہی کروانے تھے۔ شازیہ کی دوپہر میں تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگی۔ ذکا بھی گھر پر نہیں تھا‘ نوال کے سر میں درد سا محسوس ہوا تو اس نے سوچا کہ ایک کپ چائے بنا کر پی لے وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھ کر جیسے ہی پلٹی‘ اس کا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا اس کے بالکل سامنے ذکا کھڑا تھا۔ وہی والہانہ اور چیپ انداز میں گھور رہا تھا۔
’’آپ کب آئے کچھ چاہیے آپ کو؟‘‘ گھبرا کر نوال نے کئی سوال کر ڈالے۔
’’ہاں جو چاہیے وہ تم دوگی مجھے؟‘‘ عامیانہ انداز میں آنکھ مار کر سوال کیا۔ نوال کو پسینے آگئے۔ اس وقت گھر میں کوئی تھا بھی نہیں اور… شازیہ بھی گہری نیند میں تھی۔
’’جی… جی… کیا مطلب ہے آپ کا؟‘‘ آواز میں سختی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی۔
’’نوال آئی لو یو۔‘‘ اس نے گھٹیا انداز میں کہہ کر نوال کو کاندھے سے پکڑ کر اپنے قریب کرلیا۔
’’پلیز… پلیز… تھوڑی دیر کے لیے میرے کمرے میں…؟‘‘
’’چٹاخ…‘‘ نہ جانے کہاں سے نوال کے اندر اتنی ہمت آگئی تھی۔ ’’ذکا‘ ہٹ جائیں میرے راستے سے‘ کیا سوچ کر اتنی گھٹیا بات کی آپ نے؟‘‘ اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا اور اس کو دھکا دے کر اپنے کمرے کی سمت بھاگی۔
وہ گال پر ہاتھ رکھے ہکابکا اس دو فٹ کی لڑکی کی جرأت پر حیران رہ گیا۔ دل میں پیچ وتاب کھاتا ہوا وہ غصے سے بے قابو ہورہا تھا اس کا بس چلتا تو اس لڑکی کو چڑیا کی مانند دبوچ لیتا‘ لیکن اسی وقت رومانہ وغیرہ بازار سے لوٹ آئے تھے۔
نوال دوڑ کر اپنے کمرے میں گئی دروازہ بند کیا اور بری طرح رو دی۔ باہر سے رومانہ وغیرہ کی آوازیں آرہی تھیں‘ نوال نے مجسم ارادہ کرلیا تھا کہ وہ عبیل کو ساری صورت حال سے آگاہ کردے گی۔ جب تک سدرہ وغیرہ آئیں‘ نوال نے خود کو کسی حد تک نارمل کرلیا تھا۔ یہ بات اس نے شازیہ تک کو نہیں بتائی تھی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ذکا اس حد تک گر سکتا ہے۔ چھیڑ چھاڑ کرنا‘ فقرے بازیاں‘ راستہ روکنا‘ یہ دیگر باتیں تھیں وہ سوچتی کہ جس ماحول سے آیا ہے اس لیے ایسی حرکتیں کرتا ہے مگر آج… آج… تو حد کردی تھی اس نے‘ نہ جانے کب وہ لوگ واپس لوٹیں گے اور مجھے اس عذاب سے چھٹکارا ملے گا۔ وہ سوچ رہی تھی۔
/…l/l…/
’’عبیل پاگل ہو گئے ہو کیا؟ دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا… تمہیں سارے جہاں میں کوئی اور لڑکی نظر نہ آئی۔ اس کی ماں نے پہلے کیا کم اذیت دی ہے ہمیں کہ اب بیٹی کو اپنے سینے پر بٹھالوں۔ ساری زندگی عذاب میں گزاروں میں؟‘‘ توقع کے عین مطابق جب عبیل نے نوال کے حوالے سے بات کی تو رومانہ بیگم ہتھے سے اکھڑ گئیں۔ ’’مجھے اندازہ تھا کہ ایسا کچھ ہونے والاہے مگر کان کھول کر سن لو‘ میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گی۔ اپنی معصوم اور بھولی شکل کا فائدہ اٹھا رہی ہے وہ۔‘‘
’’مما جو کچھ بھی ہوا وہ گزر گیا‘ وہی ہم سب کے نصیب میں تھا۔ جس طرح سے سدرہ چچی اس گھر میں آئیں مگر انہوں نے کبھی بھی شکایت کا موقع نہ دیا‘ ان کے ساتھ تو خود انہونی ہوئی تھی۔ وہ خود مظلوم اور بے گناہ تھیں اور کلیم چاچا نے ان سے شادی کرکے نیک کام کیا۔ اب ان سب باتوں کو یاد کرکے ایشو بنانے کا کیا مطلب ہے اور… اور… ان سب باتوں میں نوال کا کیا قصور؟‘‘ عبیل نے ٹھہرے لہجے میں ملائمت سے کہا۔
’’عبیل مجھے ان سب باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے اور تم جانتے نہیں بیٹا وہ چلترباز ہے‘ اس کی معصوم شکل پر مت جائو تم‘ وہ اندر سے بہت تیز ہے‘ وہ کسی صورت میری بہو بننے کے لائق نہیں۔‘‘
’’مگر مما…‘‘
’’اگر مگر کچھ نہیں بیٹا‘ تمہیں پتہ نہیں وہ لڑکی کس کس طرح ذکا پر بھی ڈورے ڈال رہی ہے۔ بہانے بہانے سے اس کے کمرے میں جاتی ہے۔‘‘ رومانہ بیگم نے تیر پھینکا۔
’’نہیں مما‘ یہ سراسر الزام ہے۔ زیادتی ہے‘ نوال ایسا کچھ نہیں کررہی‘ ذکا کی حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں‘ میں نے خود نوٹس کیا ہے۔‘‘ عبیل نے ماں کی بات کاٹی۔
’’تمہارا مطلب ہے کہ ذکا آوارہ ہے اور اسے ایسی حسین وجمیل لڑکی زندگی میں پہلی بار نظر آئی ہے۔‘‘ رومانہ کا لہجہ جاہلانہ تھا۔
’’نہیں مما‘ بٹ ذکا جس ماحول سے آیا ہے‘ اسی وجہ سے وہ نوال سے بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ عبیل نے آہستگی سے کہا۔
’’صرف نوال سے ہی کیوں بے تکلف ہوتا ہے وہ؟ شازیہ بھی تو ہے گھر میں‘ اس سے تو فری نہیں ہوتا ذکا‘ ایسی کیا خاص بات ہے نوال میں؟‘‘ رومانہ کے سوال پر عبیل لاجواب ہوگیا۔
’’مجھے اس کا نہیں پتہ بس میں اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میں نوال سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے اور آپ کو گزشتہ تمام تلخیوں کو‘ الجھے ہوئے تعلقات کو ختم کرکے ایک نیا اور مضبوط رشتہ بنانا ہوگا۔‘‘ عبیل حتمی انداز میں اپنا فیصلہ سنا کر کمرے سے جاچکا تھا۔
’’ایسا تو میں کسی صورت ہونے نہیں دوں گی بیٹا‘ تم کیا سمجھتے ہو تمہاری ماں اتنی آسانی سے تمہارے سامنے ہتھیار ڈال دے گی۔ اس وقت رومانہ بیگم مجبور تھیں جب سدرہ اس گھر میں آئی تھی‘ مگر اب… اب… رومانہ بیگم بھی ایسی چال چلیں گی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔‘‘ دل ہی دل میں سوچتی ہوئی رومانہ سر ہلا کر رہ گئیں۔
/…l/l…/
نوال کو رات دیر تک نیند نہ آئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ عبیل نے نہ جانے تائی اماں سے بات کی یا نہیں؟ اور یہ کہ وہ ذکا کی اوچھی حرکت کے بارے میں جلد ہی موقع دیکھ کر عبیل کو بتادے گی۔ سدرہ دوائوں کے زیر اثر گہری نیند میں تھی۔ تب ہی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور جازیہ کا مسکراتا چہرہ نمودار ہوا۔
’’نوال جاگ رہی ہو؟‘‘
’’ہاں… آجائو۔‘‘ نوال نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’مجھے بھی نیند نہیں آرہی‘ ذک بھی گھر پر نہیں ہے‘ بور ہورہی ہوں تو سوچا ذک کے کمرے میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ یوز کرلوں‘ مما بھی سوگئیں وہاں بھی نہیں کرسکتی‘ تم پلیز ایک کپ چائے بنا کر لادوگی؟‘‘ لمبی چوڑی تمہید کے بعد چائے کی فرمائش کر ڈالی۔
’’ہاں ہاں کیوں نہیں‘ لاتی ہوں ابھی۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’تھینکس ڈئیر۔‘‘ مسکرا کر کہتی ہوئی ذکا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ نوال چائے بنا کر لائی‘ ناک کرکے آواز دی‘ ایک قدم اندر رکھا ہی تھا کہ اچانک دروازے کے پیچھے سے ذکا نکل آیا۔
’’تم خود آگئیں واہ۔‘‘ اسے دیکھ کر خباثت سے ہنستا ہوا بولا۔
’’آپ… آپ کب آئے؟ مجھے تو جازیہ نے چائے کا کہا تھا۔ میں وہ لے کر آئی ہوں۔‘‘ خود پر کنٹرول کرتے ہوئے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر وہ تیزی سے پلٹی۔
’’ارے ارے… اتنی جلدی کس بات کی ہے‘ دراصل چائے میں نے ہی منگوائی تھی جازیہ کی ہیلپ لے کر۔‘‘ وہ خباثت سے قہقہہ لگا کر بولا۔ ’’ویسے تو تم ٹائم دیتی نہیں ہو مجھے یہ جھوٹ بولنا پڑا۔‘‘ وہ راستہ روکے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ جازیہ بھی نہیں تھی۔ جازیہ نے کتنی گھٹیا حرکت کی تھی۔ وہ دل ہی دل میں پیچ وتاب کھا کر رہ گئی۔
’’راستہ چھوڑیں میرا… یہ کیا بدتمیزی ہے…؟‘‘ وہ ذرا سخت لہجے میں بولی اور نکلنا چاہا۔
’’ارے واہ اتنے دنوں کی کوششوں کے بعد تو آج ہاتھ لگی ہو۔ بھلا کیسے جانے دیں تم کو۔‘‘
’’شرم کریں‘ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ؟‘‘ وہ سخت لہجے میں بولی۔
’’کس بات کا گھمنڈ ہے تم کو… خود کو آخر کیا سمجھتی ہو تم…؟‘‘ ذکا نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑ لی…
’’یہ کیا بدتمیزی ہے۔ چھوڑو میرا ہاتھ۔‘‘ تڑپ کر اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔
’’بدتمیزی… ابھی دکھاتا ہوں تم کو بدتمیزی اپنی… میں تم کو آوارہ لگتا ہوں ناں؟ ہاں میں آوارہ ہوں۔ تمہیں آوارگی دکھاتا ہوں اپنی‘ تم جیسی لڑکیاں تو میری جیب میں پڑی رہتی ہیں۔ تم خود کو بہت حسین سمجھتی ہو‘ میں تم پر مرتا نہیں ہوں‘ تمہارا گھمنڈ‘ تمہارا غرور خاک میں ملانا چاہتا ہوں‘ میں تم سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتا ہوں‘ بہت شریف بنتی ہو ناں تم‘ اپنی شرافت اور معصومیت سے لوگوں کو پاگل بناتی ہو۔ سب نکالتا ہوں تمہاری شرافت‘ پاکیزگی اور معصومیت‘ میں تمہیں بدنام کردوں گا‘ تم میری نہیں تو تمہیں کسی اور کے قابل بھی نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ کلائی کو زور سے جھٹکا دے کر وہ انتہائی مکروہ انداز میں بولا۔
’’پلیز…‘‘ نوال کے پیروں تلے زمین نکل گئی اس کی آنکھوں میں وحشت تھی‘ عجیب سا جنونی انداز تھا اس کا۔
’’میں چلائوں گی‘ مجھے چھوڑو۔‘‘ وہ باقاعدہ رونے لگی تھی۔
’’ہاں ہاں تو چلائو ناں‘ میں بھی تو یہی چاہتا ہوں۔‘‘ ذکا نے زور سے جھٹکا دے کر اسے اپنے قریب کیا‘ وہ لڑکھڑاتی ہوئی خود کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش میں ذکا کے سینے سے آلگی۔ ذکا اسی لمحے زور سے بولا۔
’’یہ… یہ کیا کررہی ہو نوال‘ خود کو قابو میں رکھو۔‘‘ عین اسی لمحے رومانہ بیگم عبیل کو لیے دروازے پر موجود تھیں۔ ان کے پیچھے جازیہ اور شبانہ بھی تھے۔
’’عبیل… عبیل… میں تو… میں تو چائے لے کر آئی تھی یہاں پر جازیہ کے لیے۔‘‘ وہ دوڑ کر عبیل کے پاس پہنچی اور اس کا ہاتھ تھام کر سسک پڑی۔ عبیل خوف ناک نظروں سے نوال کو گھور رہا تھا۔
’’دیکھا ناں آنٹی آپ نے خود ہی دیکھ لیا‘ آپ کو یقین نہیں آتا تھا ناں میری بات پر یہ بہانے سے میرے کمرے میں آتی ہے‘ جازیہ کے لیے چائے میرے کمرے میں کیوں لے کر آئی ہے یہ۔‘‘ ذکا نے مسکین شکل بنا کر رومانہ بیگم کو مخاطب کرکے بات بھی ان پر ہی رکھ دی۔
’’نہیں تائی اماں… نہیں… یہ جھوٹ بول رہا ہے‘ میں نہیں آئی…‘‘ وہ التجا کررہی تھی‘ شازیہ‘ شبانہ اور سدرہ بھی آوازوں سے جاگ گئے تھے اور وہاں پہنچ گئے تھے۔
’’بکواس بند کرو۔‘‘
’’اگر ایسا ہوتا تو یہ تمہارے کمرے میں جاتا‘ تم خود اس کے کمرے میں نہیں آتیں۔‘‘ رومانہ بیگم نے اس کی بات کاٹ کر زہرخند لہجے میں کہا۔ ’’میں ہی پاگل تھی‘ کہ ذکا کی بات کو غلط سمجھا‘ تم کو پارسا سمجھتی رہی مگر تم تو گری ہوئی نیچ لڑکی ہو۔‘‘
’’تائی اماں یہ جھوٹ ہے‘ ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘ وہ گڑگڑائی۔
’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘ رومانہ نے اس کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے چیخ کر کہا۔
’’عبیل… عبیل‘ خدا کے لیے تم اس بات کا یقین مت کرنا۔ میں‘ جازیہ کے کہنے پر چائے بنا کر لائی تھی بس۔ میں سچ کہہ رہی ہوں عبیل… جازیہ تم بتائو ناں تم خود میرے کمرے میں آئی تھیں اور اپنے لیے چائے بنانے کو کہا تھا۔‘‘ وہ جازیہ کی جانب پلٹی۔
’’یہ کیا بک رہی ہو تم…؟ جازیہ پچھلے دو گھنٹے سے میرے ساتھ سو رہی تھی۔‘‘ اس بار شبانہ بیگم نے تیز لہجے میں کہا۔
’’اف…!‘‘ نوال کی کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
’’عبیل… تم… تم کو تو میری بات کا یقین ہے ناں۔‘‘ وہ تڑپ کر عبیل کے پاس پہنچی۔ اسے یقین تھا عبیل اس کی بے گناہی کا یقین کرلے گا‘ وہ اسے بچپن سے جانتا تھا‘ اس سے پیار کرتا تھا۔
’’نوال مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔‘‘ عبیل کے ایک جملے نے گویا اس کی جان نکال دی تھی۔ جس پر اسے سب سے زیادہ یقین تھا‘ اس نے ایک جملے میں اسے بے وقعت اور ذلیل کردیا تھا۔ اس کے ایک جملے نے ساری امیدوں اور اعتماد کا خون کر ڈالا تھا۔
’’عبیل… عبیل…‘‘ وہ چیخ کر آگے بڑھی مگر… عبیل کمرے سے جاچکا تھا۔ جاتے جاتے یہ کہہ گیا تھا۔
’’تمہارا اس کے کمرے میں اس وقت آنا کیا معنی رکھتا ہے۔‘‘ نوال کی رہی سہی ہمتیں ختم ہوچکی تھیں۔ نوال کا دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔
’’مما‘ تائی امی‘ شازیہ‘ پلیز پلیز میں ایسی نہیں ہوں۔‘‘ ذکا‘ جازیہ اور شبانہ چہروں پر حقارت لیے کھڑے تھے۔ سدرہ آنکھیں پھاڑے منہ کھولے اس افتاد پر حیران‘ پریشان تھیں‘ انہیں اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ تھا‘ وہ مر تو سکتی ہے مگر کبھی بھی ایسی گری ہوئی نیچ حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ نوال کو عبیل کے برتاؤ نے ختم کر ڈالا تھا۔ اوپر سے تائی اماں کے الفاظ کسی زہر کی مانند اس کی رگ وپے میں اترتے جارہے تھے۔
’’عبیل آج خود دیکھ لیا ناں اپنی آنکھوں سے اس لڑکی کے کرتوت‘ اس کو میں اپنی بہو بنائوں‘ تیرا اصرار تھا ناں؟ آج سے بیس سال پہلے اس کی ماں نے بھی نہ جانے کیا کیا‘ کہ اس کی بارات نہ آئی اگر ہم ایک غلطی اس وقت نہ کرتے تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ ہم نے سوچا بھی نہ تھا‘ ہمارے گھر کی لڑکی‘ ہمارا خون اتنا نیچ‘ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے‘ ہمارے گھر کی لڑکی آوارہ اور بدچلن ہوسکتی ہے‘ جیسی ماں ویسی بیٹی۔‘‘ آج رومانہ اپنے اندر کا برسوں سے بھرا ہوا زہر نکال رہی تھیں۔ وہ بھی اس بہن کے سامنے جس کی وجہ سے وہ سدرہ سے جلتی تھیں۔ ان کو اپنے اندر کا برسوں پرانا غبار نکالنے کا موقع بیس سال بعد ملا تھا۔ وہ عورت جس سے ساری زندگی جلتی رہیں‘ نفرت کرتی رہیں اس عورت کی بیٹی کو اپنی اکلوتی بہو بنانے کا وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتی تھیں اور اس خوب صورتی سے آج یہ پتہ صاف ہورہا تھا۔
’’میں آوارہ… بدچلن نہیں ہوں مما… میں نے کچھ نہیں کیا تائی امی… شازیہ…‘‘ وہ ہذیانی انداز میں روتے ہوئے تیورا کر گر پڑی‘ سدرہ خود ایسے کھڑی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہ ہو۔ نوال کو گرتا دیکھ کر وہ دوڑیں۔
اس کے ساتھ سائرہ اور شازیہ بھی بھاگی‘ جاسم بھی جاب کے سلسلے میں باہر چلا گیا تھا‘ وہ ہوتا تو عبیل کو سمجھانے کی کوشش کرتا۔ سائرہ اور شازیہ کو یقین تھا کہ نوال کبھی بھی ایسا نہیں کرسکتی وہ سچی ہے اور یہ سارا کھیل ان لوگوں نے مل کر عبیل کو بدظن کرنے کے لیے کھیلا ہے۔ وہ لوگ بہ مشکل نوال کو ہوش میں لائے۔ ذکا مسکراتے ہوئے واک مین لگائے میوزک سن رہا تھا۔ آج اس کے اندر کی آگ بھی سرد پڑگئی تھی۔ دو فٹ کی لڑکی نے تھپڑ مارا تھا اس روز سے ذکا کا خون کھول رہا تھا۔
وہ رات نوال اور سدرہ پر کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ سدرہ گزشتہ بیس سالوں سے رومانہ بیگم کے طنز‘ نفرت اور قدم قدم پر طعنے برداشت کرتی آئی تھی مگر آج… آج تو انہوں نے نیچ حرکت کی تھی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کسی کی پاک دامنی پر یوں دھبہ لگانا‘ جھوٹا الزام لگا کر یوں رسوا اور بدنام کردینا کتنی غلیظ اور گھنائونی حرکت تھی۔ انہوں نے اپنی نفرت کا اتنا بڑا انتقام لے لیا تھا کہ سدرہ اور نوال کو لگ رہا تھا کہ زندگی ان پر تنگ ہوگئی ہو‘ انہیں لگ رہا تھا وہ ایک پل بھی زندہ نہ رہ سکیں گی‘ دونوں ماں بیٹی سسک رہی تھیں‘ نہ نیند تھی نہ پل بھر کا سکون۔ اس گھر میں ایک پل بھی رہنا ان کے لیے مر جانے کے مترادف تھا‘ جہاں ان کی عزت پر حرف آگیا تھا۔ وہ کسی صورت ان لوگوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھیں جن لوگوں نے ان کی رگ رگ میں زہر بھرے نشتر جیسے الفاظ بھر دیئے تھے۔ جن کی آنکھوں میں نفرت‘ حقارت اور نہ جانے کیا کیا تھا۔ اتنی تذلیل‘ اتنی تضحیک کے بعد یہاں رہنا بہت مشکل تھا۔ ایک ایک لمحہ ایک صدی بن کر گزر رہا تھا۔ صبح ہونے سے پہلے انہوں نے کچھ ضروری چیزیں سمیٹیں اور گھر چھورنے کا فیصلہ کرلیا۔
/…l/l…/
صبح روشنی ہونے سے پہلے نوال سائرہ بیگم کے کمرے میں تھی۔ وہ اور شازیہ دونوں اٹھ کر ان کے کمرے میں آئے تھے۔
’’یہ… یہ کیا کہہ رہی ہو؟ تم جوان ہو‘ خوب صورت ہو‘ تم اس طرح کہاں ماری ماری پھروگی‘ کہاں جائوگی؟ تم بیمار ماں کو لے کر کہاں ٹھوکریں کھاتی پھروگی۔‘‘
’’تائی امی اللہ بہت بڑا ہے‘ ایک دربند کرتا ہے تو ستر کھول دیتا ہے اور مجھے پتہ ہے کہ میرے پاپا نے جو کمایا تائی اماں کے ہاتھ پر دھردیا ہے نہ حساب مانگا‘ نہ اپنا حق… اور آج… میرے پاپا نہیں ہیں تو یہ لوگ دو وقت کا کھانا کھلا کر بھی احسان کرتے ہیں ہم پر…‘‘ نوال روتے ہوئے بولی اور شازیہ اور سائرہ تڑپ کر آگے بڑھے‘ وہ دونوں بھی رونے لگی تھیں۔
’’نوال یہ اتنا آسان نہیں ہے‘ جیسا تم سمجھ رہی ہو۔‘‘ شازیہ نے روتے ہوئے کہا۔
’’شازیہ میں یہاں ایک پل بھی رکی تو گھٹ گھٹ کر مر جائوں گی۔ تم… تم… تو جانتی ہو ناں میرے اور عبیل کے بارے میں ایک ایک بات تمہیں بتائی ہے میں نے‘ اب… میں کس طرح رہ پائوں گی یہاں‘ تم خود سوچو۔‘‘ نوال کی بات پر شازیہ نے سسکی لی‘ نوال ٹھیک کہہ رہی تھی‘ عبیل کے رویے نے اس کو توڑ ڈالا تھا۔
’’اچھا ایک بات سنو۔‘‘ اچانک سائرہ کو جیسے کچھ یاد آگیا۔ ’’میری دور کی ایک رشتے دار ہیں‘ ان کا ایک بیٹا ہے وہ باہر رہتا ہے ان کو کوئی اچھے اور بھروسے کی خاتون چاہیے جو ان کے ساتھ رہ سکے میں تم لوگوں کو ان کا پتہ دیتی ہوں۔ وہاں جاکر تم میرے حوالے سے بات کرلینا وہ بہت اچھی اور نیک خاتون ہیں ان کوصحیح حالات کا بتادینا وہ ضرور تمہاری مدد کریں گی۔‘‘ سائرہ نے ان کا پتہ اور فون نمبر لکھ کردے دیا۔ سائرہ اور شازیہ خود بھی بہت دکھی اور افسردہ تھیں اور مسلسل رو رہی تھیں۔
گھر سے نکلتے وقت سدرہ کی حالت بہت بری تھی۔ اس نے اس گھر میں بیس سال گزارے تھے۔ کلیم کے ساتھ‘ اماں جان کی شفقت کے سائے میں‘ رومانہ بھابی کی نفرت‘ سائرہ کی محبت اور یاسر بھائی نے ہمیشہ بہنوں کی طرح خیال رکھا تھا۔ سدرہ کے ماں باپ کا انتقال ہوچکا تھا‘ تینوں بہنیں ملک سے باہر تھیں‘ میکے کے نام پر بھی کوئی نہ تھا۔ یہاں سدرہ کو اس بڑے سے گھر کے ایک ایک کونے سے انسیت ہوگئی تھی۔ نوال نے یہاں پر بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ جاسم‘ روحانہ‘ عبیل اور شازیہ کے ساتھ مل کر بہت مزے کیے تھے۔ عبیل کی آنکھوں سے خوب صورت پیغام پڑھتی اور شاد ہوجاتی تھی گو کہ اس کو لگتا تھا کہ تائی اماں عبیل کی شادی اس سے کرنے میں بہت ہنگامہ کریں گی مگر ایک امید… ایک آس تھی کہ شاید عبیل ان کومنالے اور سب کچھ اچھا ہوجائے مگر… مگر… یہاں تو کچھ بھی اچھا نہیں ہوا تھا… سب کچھ برا ہوگیا تھا۔ تکلیف دہ اور اذیت ناک… نوال کا دل کررہا تھا کچھ کھا کر مر جائے لیکن… پھر سدرہ کی شکل دیکھ کر چپ ہوجاتی مجبور اور بے بس ماں کو کس کے سہارے چھوڑ جاتی۔ رومانہ اور شبانہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوچکی تھیں۔ رومانہ پہلے ہی سدرہ کی وجہ سے بہن کے سامنے شرمندہ تھی اب انہیں بیٹے سے بھی خطرہ لاحق تھا وہ بھلا یہ کیسے برداشت کرسکتی تھیں‘ ان کے شاطر دماغ نے خوب کام کیا پھر ساتھ شبانہ‘ ذکا اور جازیہ جیسے فتنے بھی شامل ہوگئے تو ان کا پلان فٹ ہوگیا تھا۔
عبیل بری طرح ٹوٹ گیا تھا۔ اس کا ذہن یہ ماننے سے انکار کررہا تھا کہ نوال ایسا کرسکتی ہے‘ مگر… دوسرے ہی لمحے وہ سین… کہ نوال ذکا کے سینے سے لگی ہوئی تھی اور ذکا کے الفاظ… اگر ذکا قصور وار ہوتا تو وہ نوال کے کمرے میں جاتا… نوال اس کے کمرے میں نہ ہوتی… اور… جب نوال کو یہ لگتا تھا کہ ذکا اس کے ساتھ اوچھی حرکتیں کرتا ہے تو سب کچھ جان کر سمجھ کر وہ رات کو اس کے کمرے میں کیوں گئی‘ اسے ذکا سے دن میں بھی بچ کر رہنا چاہیے تھا ناکہ وہ رات کے اس پہر اس کے روم میں جاتی… اس کا دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھوچکا تھا دونوں مٹھیاں بھینچے وہ خود پر قابو پانے کی کوشش کررہا تھا۔ نوال کو اس نے دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا نوال کی خاطر اپنی ماں سے ٹکر لینے کو بھی تیار تھا۔ وہ ہرحال میں اپنی آخری سی کوشش کرکے نوال کو اپنانا چاہتا تھا۔
’’نوال تم نے بہت غلط کیا… ایسا کرنے کا کیا مطلب تھا… تمہیں دولت سے پیار تھا یا پھر…؟‘‘ عبیل نے اپنے بال مٹھی میں جکڑ لیے… اور ڈھیر سارے آنسو آنکھوں سے بہہ نکلے۔
/…l/l…/
سدرہ آنے والے حالات کا سوچ کر بہت متفکر تھیں کہ ان لوگوں نے اتنا بڑا فیصلہ تو کرلیا تھا‘ گھر چھوڑنا کوئی آسان بات نہ تھی۔ ایک جوان بیٹی کو لے کر کسی اجنبی جگہ‘ اجنبی گھر میں جاکر رہنا کیا یہ صحیح ہوگا…؟ جب کہ نوال بھی یہ فیصلہ کرکے خاصی پریشان تھی لیکن اس قدر تذلیل کے بعد اتنا سب کچھ سننے کے بعد وہ ایک پل بھی وہاں نہیں رہنا چاہتی تھیں۔ دونوں نے خود کو اللہ کے حوالے کردیا تھا۔
’’تائی اماں آپ نے یہ سب ٹھیک نہیں کیا… ساری زندگی آپ کو مما سے بیر رہا اور اب… اب آپ نے میرے ساتھ اتنا گھنائونا کھیل کھیلا ہے۔ آپ کو یہ سب کرنا زیب نہیں دیتا۔ مجھے آپ نے میرے ناکردہ گناہ کی بہت بھیانک سزا دی ہے۔ مجھے صفائی کا موقع بھی نہ دیا… مجھے میری نظروں میں ہی ذلیل کرکے رکھ دیا آپ نے…‘‘ ٹیکسی میں بیٹھ کر بھی وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔ ان کے بتائے ہوئے پتے پہ جاکر ٹیکسی رک گئی۔ وہ دونوں مختصر سامان کے ساتھ نیچے اتریں‘ چیک کیا تو گیٹ پر یہی پتہ لکھا تھا۔ اللہ کا نام لے کر بیل بجائی‘ تو ایک ادھیڑ عمر کی بردبار خاتون نے دروازہ کھولا۔
’’میں سدرہ ہوں اور یہ میری بیٹی نوال۔‘‘
’’آئیں آئیں۔‘‘ خاتون نے بات پوری ہونے سے پہلے ہی ہٹ کر راستہ دیا اور خوش دلی سے اندر بلایا‘ ان کو سائرہ بیگم نے کال کرکے تھوڑا بہت بتادیا تھا۔ چھوٹا سا لان عبور کرکے وہ لوگ اندر کی طرف آگئے۔
’’بیٹھیں۔‘‘ لائونج میں رکھے صوفوں کی طرف اشارہ کرکے وہ خاتون بھی بیٹھ گئیں۔ سدرہ اور نوال بھی صوفے پر ٹک گئے۔ ’’اختری بوا ٹھنڈا پانی لے آئیں۔‘‘ خاتون نے آواز دے کر کہا تو ایک چالیس پینتالیس سالہ بھاری جسم کی عورت ٹھنڈے پانی کی بوتل اور دو گلاس ٹرے میں رکھ کر لے آئی۔
’’اختری بوا یہ میری دوست ہیں سدرہ اور یہ ان کی بیٹی نوال‘ یہ لوگ ہمارے ساتھ رہیں گے‘ آپ ان کے لیے کمرہ سیٹ کردیں۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ کہہ کر اختری بوا نے گلاسوں میں پانی ڈال کر ان دونوں کو تھمایا اور پھر دوسری جانب چلی گئیں۔
’’میرا نام ثروت خانم ہے۔ مجھے سائرہ نے سب کچھ بتادیا ہے‘ سائرہ میری دور کی رشتہ دار ہے‘ کسی زمانے میں ہم بہت اچھے دوست بھی تھے‘ اب زیادہ بات چیت نہیں ہوتی۔ سائرہ بہت نیک‘ مخلص اور ہمدرد ہے‘ اگر اس نے تم لوگوں کو بھیجا ہے تو یقینا تم لوگ ایسے ہوگے جن پر آنکھ بند کرکے اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ میرا ایک بیٹا ہے جو باہر رہتا ہے‘ میں اور اختری بوا ہی ہوتے ہیں بس۔ تم لوگ یہاں آرام اور اطمینان سے رہ سکتے ہو اپنا گھر سمجھ کر‘ یہاں تم لوگوں کو کوئی مشکل نہیں ہوگی ان شاء اللہ۔‘‘ ثروت خانم کی بات سے سدرہ بیگم کے ساتھ ساتھ نوال کو بھی دلی سکون ہوا۔
’’بہت شکریہ ثروت آپا‘ اگر اللہ کے بعد آپ کا سہارا نہ ہوتا تو پتہ نہیں ہم ماں بیٹی کہاں دھکے کھارہے ہوتے۔‘‘ سدرہ بیگم کی آواز شدت جذبات سے بھرا گئی تھی۔
’’نہیں نہیں سدرہ‘ ایسی بات مت کرو۔ یہ سب اللہ پاک کا کرم ہے‘ تم لوگ بے قصور ہو‘ مجبور ہو اس لیے اللہ پاک نے مجھے وسیلہ بنایا کہ میں تمہارے کام آسکوں۔ تم لوگ کچھ دیر آرام کرلو فریش ہوجائو‘ لنچ پر ملاقات ہوگی۔‘‘ ثروت خاتم نے بات مکمل کرکے اٹھتے ہوئے کہا۔ اختری بوا نے کمرہ صاف ہوجانے کا کہا تو دونوں اٹھ کر اختری بوا کے پیچھے کمرے کی جانب چل دیں۔
’’واقعی اللہ کی ذات بڑی کارساز ہے وہ کس طرح سے وسیلے بنادیتا ہے لیکن میں بہت جلد ہی کچھ نہ کچھ کام وغیرہ کرکے سیٹ ہونے کی کوشش کروں گی۔‘‘ نوال دل ہی دل میں سوچتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
/…l/l…/
گو کہ رہنے کے لیے مناسب اور محفوظ جگہ مل گئی تھی لیکن وہ لوگ اس طرح کب تک رہ سکتے تھے یوں کسی پر بوجھ بن جانا بھی تو اچھی بات نہ تھی۔ نوال نے سوچ لیا تھا کہ وہ جاب کرلے گی۔ اس نے بی ایس سی کے پیپرز دے دیئے تھے۔ رزلٹ کا انتظار تھا۔ اسے کہیں جاب مل سکتی تھی‘ کافی دوڑ دھوپ کے بعد اسے ایک فرم میں جاب مل گئی۔ نوال نے ثروت خانم سے بات کی کہ اوپر کے پورشن میں آدھا حصہ انہیں دے دیں جہاں وہ کرائے دار کی حیثیت سے رہ کر زیادہ کمفرٹیبل محسوس کریں گے۔ ثروت خانم ان کی کیفیت سمجھ سکتی تھیں ان کو اندازہ تھا کہ ماں بیٹی بہت خوددار ہیں اور مجبور بھی۔ انہوں نے اوپر کا پورشن سدرہ اور نوال کو دے دیا۔ گھر کے استعمال کا کچن کا کچھ سامان ثروت خانم نے دے دیا اور مختصر سا سامان نوال نے کمپنی سے ایڈوانس لے کر باقی کا انتظام کرلیا تھا۔ یوں دو کمرے‘ چھوٹا سا صحن‘ واش روم اور چھوٹا سا کچن ان کے زیر استعمال آگیا۔ اتنے بڑے گھر سے آئے تھے وہ‘ وہ گھر میں بھی حصے دار تھے‘ مگر یہاں کون حصے کی بات کرنے کے قابل تھا‘ اس پر تو رومانہ اپنا حق ہی جماتی تھیں۔ کچھ عرصے تو سدرہ اور نوال کو اس طرح سے رہنا کچھ عجیب سا لگا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ لوگ نارمل ہوتے گئے۔ ویسے بھی اب تو ان کو اس طرح سے ایسے ہی حالات میں گزارا کرنا تھا نہ جانے کب تک؟ آہستہ آہستہ ان کی زندگی میں ٹھہرائو آتا گیا۔ اس طرح سے زندگی کے عادی بنتے گئے۔ نوال نے اپنی روٹین بنالی تھی۔ دونوں ماں بیٹی فجر کی نماز کے وقت جاگتیں‘ نماز سے فارغ ہوکر نوال دونوں کے لیے ناشتہ بناتی‘ کبھی کبھی ثروت خانم کے لیے بھی بنادیتی۔ اختری بوا اتنی جلدی ناشتہ نہیں کرتی تھیں وہ ناشتہ لے کر نیچے جاتی تو ثروت خانم اسے بہت ساری دعائیں دیتیں۔
’’بوا آپ کے لیے چائے لادوں؟‘‘ اختری بوا سے بھی پوچھ لیتی۔
’’نہیں بچے‘ جیتی رہو۔ ہم خود بنالیں گے۔‘‘ وہ بھی دعا دے دیتیں۔
ناشتے سے فارغ ہوکر نوال آفس جانے کی تیاری کرتی اور آفس چلی جاتی۔ سدرہ کی طبیعت ٹھیک ہوتی تو وہ صفائی کرکے کھانا پالیتیں ورنہ نوال شام کو آکر کھانا پکاتی تھی‘ سدرہ کبھی نیچے چلی جاتیں تو کبھی ثروت خانم اوپر کا چکر لگا لیتیں۔ اور یوں گپ شپ بھی چلتی رہتی۔ نوال کو شدت سے عبیل کی یاد آتی‘ کبھی کبھی راتوں کو خودبخود آنکھیں بھیگ جاتیں۔ مگر دوسرے ہی لمحے نوال سر جھٹک دیتی اور سدرہ بیگم کو دیکھ کر سوچتی کہ میرا مما کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔
/…l/l…/
’’میں نے تمہاری رائے نہیں پوچھی‘ اپنا فیصلہ سنا رہی ہوں‘ سنا تم نے…؟‘‘ رومانہ بیگم نے اخبار پڑھتے ہوئے عبیل کو مخاطب کرکے تیز لہجے میں کہا۔
’’مما… مجھے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی‘ اس لیے آپ یہ ذکر نہ ہی کریں تو بہتر ہے‘ مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔‘‘ عبیل نے بدستور اخبار پر نگاہیں جمائے بیزار لہجے میں کہا۔
’’ارے واہ… ایسے کیسے ذکر نہ کروں… کیسے بات نہیں کرنی ہے تم کو اس موضوع پر؟ ساری زندگی یونہی سوگ میں گزار دوگے؟ میرے دل میں تمہیں لے کر کوئی ارمان‘ کوئی خواہش نہیں ہے‘ تمہاری بہن کے دل میں کوئی ارمان نہیں ہے؟‘‘
’’مگر مما میرے دل میں کوئی ایسی خواہش نہیں ہے‘ کوئی جذبہ‘ کوئی چاہ بھی نہیں۔‘‘ عبیل دو ٹوک لہجے میں بولا۔
’’مجھے ہرحال میں تمہاری شادی کرنی ہے تم ایک ایسی لڑکی کے لیے اپنی زندگی برباد کررہے ہو جو کسی طور تمہارے قابل نہ تھی۔ نہ جانے آج بھی کہاں ہوگی؟ وہ اس قابل تھی ہی نہیں کہ میری بہو بن سکے‘ وہ آوارہ‘ بدچلن اور…‘‘
’’پلیز مما… ہزار بار کہی ہوئی باتیں مجھے نہیں سننی‘ وہ کیا تھی‘ کیسی تھی‘ مجھے سب پتہ ہے پلیز اس کا ذکر چھوڑ دیں‘ جو دل چاہے کریں آپ۔‘‘ اخبار زمین پر پھینک کر عبیل زور سے کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ روحانہ کو بھی اس بات کا یقین تھا کہ نوال ایسا نہیں کرسکتی اسے اپنی ماں پر تو نہیں البتہ ذکا اور جازیہ پر شک تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہوگا۔
’’مگر آپی… میں نے خود اس کو ذکا کے ساتھ دیکھا ہے‘ اگر ذکا خراب لڑکا تھا تو نوال کو آدھی رات کو وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی…؟‘‘ یہی وہ سوال تھا جس کو لے کر عبیل تڑپ جاتا تھا۔ روحانہ دکھ سے سر ہلاکر رہ گئی۔
رومانہ نے برسوں پہلے ہونے والی کمی کو اس طرح پورا کرنے کا فیصلہ کیا کہ جازیہ اور عبیل کی شادی کردی جائے‘ اس طرح وہ دکھ جو بہن کو ملا تھا‘ کسی حد تک اس کا ازالہ ہوسکتا تھا‘ جازیہ بہت خوش تھی اسے تو عبیل بہت اچھا لگتا تھا۔
’’عبیل تم… تم‘ جازیہ سے شادی کرنے پر خوش ہو؟‘‘ روحانہ نے عجیب سا سوال کر ڈالا تھا۔
’’آپی میں نے ہمیشہ نوال کو ہی چاہا تھا‘ اسے ہی لائف پارٹنر کی حیثیت سے سوچا‘ آپ کو بھی تو اس بات کا علم ہے ناں؟ اب اگر وہ نہیں تو کوئی بھی ہو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ میری خواہش‘ میری آرزو تو پوری نہ ہوسکی تو کم از کم مما کی خوشی ہی پوری کردوں۔ وہ تو خوش ہوجائیں گی ناں؟ میرے اندر تو شادی کو لے کر نہ کوئی جذبہ ہے نہ خواہش اور نہ ہی ارمان۔‘‘ عبیل کے لہجے میں بے پناہ دکھ بول رہے تھے اس کے دھواں دھواں چہرے کو دیکھ کر روحانہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’نوال… تم کہاں چلی گئیں‘ اس طرح سے غائب ہوجانا تمہیں اور مشکوک بنارہا ہے‘ تم یہیں رہتیں تو بہت کچھ ہوجاتا‘ شاید کوئی حل نکل آتا۔‘‘ روحانہ آنکھیں صاف کرتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔
/…l/l…/
شبانہ‘ ذکا اور جازیہ واپس امریکہ جاچکے تھے کیونکہ اب سارا کاروبار ختم کرکے وہ پاکستان سٹیل ہونا چاہتے تھے اور پھر عبیل اور جازیہ کی شادی بھی ہوجانی تھی وہ سال بعد لوٹ آنے والے تھے۔ شازیہ کی شادی اس کے ننھیال میں ہوگئی تھی۔ وہ اپنے میاں کے ساتھ جرمنی چلی گئی تھی‘ سائرہ بیگم بھی جاسم کے پاس چلی گئی تھیں۔ اب سارے گھر پر صرف اور صرف رومانہ بیگم کا ہی راج تھا‘ راج تو شروع سے ہی تھا مگر اب وہ مکمل مالک ومختار بن بیٹھی تھیں۔
/…l/l…/
چار پانچ دن سے سدرہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ان کو ہارٹ کا مسئلہ تھا‘ ساتھ ساتھ استھما پرابلم بھی تھی۔ آج صبح سے ہی سانس بہت تیز تیز چل رہا تھا۔ نوال کو بہت گھبراہٹ ہورہی تھی۔ اس نے آج آفس سے چھٹی کرلی تھی۔ صبح سے دو بار نیبولائز بھی کرچکی تھی۔ ثروت خانم کا بیٹا بھی امریکہ سے آیا ہوا تھا۔ سدرہ بیگم کا سانس زیادہ اکھڑنے لگا تو نوال روتی ہوئی نیچے کی طرف بھاگی۔
’’آنٹی… آنٹی مما کی طبیعت بہت خراب ہے‘ کسی ایمبولینس کو بلوادیں‘ ان کو ہاسپٹل لے جانا ہوگا۔‘‘
’’تم فکر مت کرو سارب ہے ناں وہ گاڑی میں لے جائے گا۔ تم پریشان مت ہو۔‘‘ انہوں نے ناشتہ کرتے ہوئے بیٹے کی طرف اشارہ کیا جو چند دن پہلے ہی گھر لوٹا تھا۔
نوال نے پلٹ کر دیکھا گرین ٹرائوزر اور بلوٹی شرٹ میں وہ انہی کی طرف متوجہ تھا۔
’’انہیں زحمت ہوگی اور یہ ناشتہ بھی کررہے ہیں۔ مما کی حالت بہت خراب ہے۔‘‘ وہ بے صبری سے بولی۔
’’زحمت کیسی بیٹا تم اکیلی پریشان ہوگی۔ اٹھو سارب گاڑی نکالو۔‘‘ انہوں نے کہا تو سارب چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ کر اٹھ گیا۔
’’اوہ بہت شکریہ۔ میں مما کو لے کر آتی ہوں۔‘‘ واپس اوپر کی طرف بھاگی۔
’’مما‘ چلیں اٹھیں ہاسپٹل جانا ہے۔‘‘ مگر… سدرہ کی حالت کافی خراب ہورہی تھی۔
’’ن… ن… نوا… ل۔‘‘ انہوں نے بہ مشکل بے ترتیب سانسوں کو جمع کرکے نوال کو پکارا۔
’’جی… جی مما ہمت کریں پلیز۔‘‘ سدرہ کی پل پل بگڑتی حالت نوال کے لیے اذیت ناک تھی۔
’’مجھے… معاف کردینا میری… بچی…‘‘ وہ بہ مشکل کہہ پارہی تھیں۔
’’مما ایسا مت کہیں‘ مما پلیز…‘‘ وہ زار وقطار رو رہی تھی۔ سدرہ نے کانپتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا نوال کو پکڑ کر قریب کیا اس کے ماتھے پر آخری بوسہ لیا اور… آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کرلیں۔
’’مما… مما…‘‘ وہ اتنی زور سے چیخی تھی کہ ثروت خانم‘ اختری بوا اور گاڑی نکالتا ہوا سارب بھی بری طرح چونکا۔ سب لوگ بے حد تیزی سے اوپر کی جانب بھاگے۔ نوال سدرہ کے بے جان وجود کو جھنجوڑ رہی تھی۔
’’مما… مما… آنکھیں کھولیں مما… یہ کیا ہوگیا…؟ مجھے چھوڑ کر کیسے جاسکتی ہیں مما؟ میں کیسے رہ پائوں گی آپ کے بنا… میں مرجائوں گی…‘‘ ثروت خانم نے بے اختیار روتے ہوئے کرسی کا سہارا لے لیا۔ اختری بوا نے آگے بڑھ کر نوال کو سنبھالا… سارب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے‘ اسے آئے ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا‘ آج پہلی بار اس نے نوال کو دیکھا تھا‘ نوال اختری بوا کی بانہوں میں بے ہوش ہوگئی تھی۔ ثروت خانم بھی دکھ اور غم سے نڈھال تھیں ان کو یہ ماں بیٹی بہت اچھی لگی تھیں‘ ان کے حالات سن کر ان سے شدید ہمدردی بھی ہوگئی تھی۔ اور اب نوال… نوال کو اس کی واحد غم گسار‘ دوست جیسی ماں بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ نوال پرغم کا پہاڑ ٹوٹا تھا‘ ثروت خانم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس کو بلائیں کس کو اطلاع دیں؟ وہ صرف سائرہ بیگم کو جانتی تھیں اور وہ بھی پاکستان میں موجود نہ تھیں۔ نوال کی حالت دیکھ کر ثروت خانم نے ڈاکٹر کو بلوایا کچھ دیر بعد نوال کو ہوش آیا تو وہ ثروت خانم سے لپٹ کر تڑپنے لگی۔
’’آنٹی… آنٹی‘ میں کیسے جی پائوں گی؟ مما مجھے کس کے سہارے چھوڑ گئی ہیں… کون میرا خیال رکھے گا…؟‘‘ وہ تڑپ رہی تھی‘ بلک رہی تھی‘ یہی حال ثروت خانم کا بھی تھا۔
’’بیٹی ایسا نہیں کہتے‘ یہ اللہ پاک کی مصلحت ہے‘ اس کی رضا کے آگے ہم سب بے بس ہیں‘ وہ جسے چاہے بلالے‘ اس کی رضا پر راضی رہنا ہے میری بچی… اللہ پاک ہے ناں وہ مدد کرنے والا ہے‘ خود کو اکیلا کیوں سمجھتی ہو‘ میں ہوں نا… مجھے تم بیٹی کی طرح عزیز ہو… تم مجھے اپنی ماں سمجھ سکتی ہو… خود کو سنبھالو ہمت وحوصلے سے کام لو اگر کسی کو اطلاع کروانی ہے تو کردو ورنہ ہم تدفین کا بندوبست کرواتے ہیں۔‘‘
’’میرا کوئی نہیں ہے آنٹی‘ ایک ماں تھی وہ بھی چلی گئی‘ اب آپ کو اختیار ہے آپ تدفین کروادیں۔‘‘ اس نے روتے ہوئے کہا۔ سدرہ بیگم کی آخری رسومات بھی ادا ہوگئیں۔ وہ خشک خشک آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہی بس قرآن پاک پڑھتی اور ماں کے لیے دعائیں مانگا کرتی۔ ثروت خانم کو اس چھوٹی سی مظلوم لڑکی پر بہت ترس آتا تھا‘ نوال کے آفس کے کچھ لوگ بھی آئے تھے پرسہ دے کر چلے گئے تھے۔
’’بیٹی کبھی بھی خود کو اکیلا مت سمجھنا میرا گھر تمہارے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا‘ جب تک چاہو ساری زندگی بھی رہ سکتی ہو‘ میں رہوں یا نہ رہوں‘ تم کو کوئی اس گھر سے نہیں نکالے گا۔ میں تمہیں تمہاری ماں جیسا پیار تو نہیں دے سکتی مگر وعدہ کرتی ہوں کہ پوری کوشش کروں گی کہ ایک ماں کی طرح تمہیں اپنی بیٹی سمجھوں‘ ایک ماں اپنی بیٹی کے حوالے سے جو کچھ سوچ سکتی ہے میں وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کروں گی‘ میری کوشش ہوگی کہ تم کو میری ذات سے کوئی تکلیف نہ پہنچے‘ بلکہ جتنا ممکن ہو سکون اور تحفظ ملے۔‘‘ نوال کے ہاتھ تھام کر ثروت خانم نے ملائمت اور دل کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ رندھے ہوئے لہجے میں یقین دلایا تو نوال نے بھیگی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور ان کے گلے لگ کر رو پڑی۔
’’اللہ پاک آپ کو اجر دے آنٹی کہ آپ غیر ہوکر بھی میرے لیے اتنا سوچتی ہیں‘ میرے لیے بھی آپ ہمیشہ ماں کی طرح قابل احترام رہیں گی۔‘‘ نوال نے کہا تو ثروت خانم نے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ لیا۔
نوال کسی حد تک مطمئن ہوگئی تھی‘ اللہ تعالیٰ نے ثروت خانم کی صورت میں نیک اور ہمدرد خاتون سے ملوادیا تھا وگرنہ آج وہ نہ جانے کہاں اور کس حال میں ہوتی۔ چار دن بعد نوال نے آفس جانا شروع کردیا تھا۔ ثروت خانم نے اسے سختی سے منع کردیا تھا کہ وہ رات کا کھانا نہیں پکائے گی بلکہ نیچے آکر ان کے ساتھ کھایا کرے گی۔ اسے یہ کچھ عجیب لگا مگر ثروت خانم کی محبت کے آگے وہ چپ ہوگئی۔ ویسے بھی سارب اکثر ہی رات کو اس وقت گھر پر نہ ہوتا اختری بوا کھانا لگانے سے پہلے آواز دے دیتی اور وہ نیچے آجاتی‘ ثروت خانم‘ اختری بوا اور وہ تینوں مل کر کھانا کھاتے‘ ثروت خانم اس سے جاب کے حوالے سے دن بھر کی باتیں کرتیں‘ وہ کبھی ثروت خانم کے سر میں تیل لگادیتی تو کبھی پیروں کی مالش کردیتی‘ ثروت خانم ڈھیروں دعائیں دیتیں۔ زندگی ایک طریقے سے گزرنے لگی تھی۔
اس روز اتوار کا دن تھا۔ نوال کی چھٹی تھی۔ آج نوال نے گھر کی تفصیلی صفائی کی تھی۔ پھر سارے ہفتے کے کپڑے دھوئے‘ ناشتہ کافی لیٹ کیا اس لیے لنچ کا موڈ نہیں ہوا تو دوپہر میں نہا کر ڈائجسٹ لے کر لیٹ گئی۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ اختری بوا اس کو بلانے آگئیں۔
’’ثروت بی بی نے آپ کو نیچے بلوایا ہے۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ وہ اٹھ کر فوراً ہی نیچے آگئی۔ ثروت خانم اپنے کمرے میں تھیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ اختری بوا نوال کے لیے بھی چائے لے آئیں۔
’’ارے بوا میں بنادیتی چائے‘ آپ نے کیوں تکلیف کی۔‘‘ کپ ان کے ہاتھ سے لیتے ہوئے نوال نے کہا۔
’’نہیں بچے‘ ہمیں عادت ہے کام کرنے کی اگر ہم کام نہ کریں تو بیمار ہوجائیں گے۔‘‘ اختری بوا نے مسکراتے ہوئے کہا اور واپس کمرے سے باہر چلی گئیں۔
’’جی آنٹی‘ بولیں آپ نے یاد کیا تھا مجھے؟‘‘ نوال نے ثروت خانم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں بیٹی۔‘‘ انہوں نے کچھ دیر رک کر اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی آنٹی!‘‘ وہ ہمہ تن گوش تھی۔
’’نوال گو کہ مجھے تمہارے لیے کوئی فیصلہ لینے کا حق نہیں ہے مگر میں تم کو دل سے اپنی بیٹی مانتی ہوں‘ تو کیا اس حیثیت سے میں تمہیں کچھ کہہ سکتی ہوں؟‘‘ انہوں نے جملہ مکمل کرکے سوالیہ نظروں سے نوال کی جانب دیکھا۔
’’ارے آنٹی… آپ کیسی باتیں کررہی ہیں‘ آپ کو پورا پورا حق ہے آپ نے جن حالات میں پہلے میرا اور مما کا اور مما کے بعد میرا خیال رکھا… آپ مجھے حکم دے سکتی ہیں کیونکہ مجھے امید ہے کہ آپ میرے لیے کبھی غلط سوچ ہی نہیں سکتیں اور میں آپ کا ہر حکم مانوں گی۔‘‘
’’بس تو پھر تم میری سچ مچ بیٹی بن جائو۔‘‘ اس کی بات مکمل ہوتے ہی ثروت خانم نے جلدی سے کہا۔
اس نے ناسمجھتے ہوئے حیرت سے ان کی جانب دیکھا۔
’’میرے سارب کی دلہن بن جائو۔ سارب نے امریکہ میں شادی کی تھی مگر لڑکی انتہائی آزاد خیال اور خودمختار تھی اس لیے بہت کم عرصے میں سارب نے اس کو طلاق دے دی۔ میرا بیٹا کھویا کھویا رہنے لگا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ گیا ہے‘ تم چاہو تو وہ زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔ وہ شادی شدہ ہے تم کنواری ہو میں تم پر زبردستی نہیں کررہی ہوں صرف اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے میرے لیے تم بھی بہت اہمیت رکھتی ہو میں سمجھتی ہوں کہ اب تم بھی میری ذمے داری ہو‘ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں‘ میں مرنے سے پہلے اپنا یہ فرض پورا کرنا چاہتی ہوں‘ تم اچھی طرح سوچ سمجھ لو‘ مجھے تمہارا فیصلہ مقدم رہے گا اگر نہیں تو میں خود لوگوں سے کہہ کر تمہارے لیے اچھا سا لڑکا دیکھ کر تمہیں اپنے گھر سے بیٹی کی طرح باعزت طریقے سے رخصت کرنا چاہوں گی تاکہ مجھے بھی سکون اور اطمینان حاصل ہو کیونکہ اگر خدانخواستہ کل کو مجھے کچھ ہوگیا تو تمہیں اس طرح یہاں رہتا دیکھ کر دنیا ہزار باتیں بنائے گی۔ زمانہ بہت خراب ہے‘ تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں…؟ اس لیے ٹھنڈے دل سے سوچ سمجھ کر مجھے جلد ہی اپنے دل کی بات اور فیصلہ سنادو جو تم چاہوگی جیسا چاہوگی ویسا ہی ہوگا۔‘‘ نوال نے بہت غور سے ان کی باتیں سنی تھیں‘ کتنا سچ اور حقیقت سے قریب ترین بول رہی تھیں کتنے خیال سے اس کے بارے میں سوچ رہی تھیں اس کے مستقبل کو لے کر کتنی فکرمند تھیں وہ… دفعتاً اس کے ذہن میں عبیل آگیا۔ دل سے ایک آہ نکلی‘ دوسرے لمحے اس نے اپنا سر جھٹکا اور حال میں واپس آگئی ایک لمحے میں اس نے فیصلہ کرلیا تھا۔
’’آنٹی مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہے‘ مجھے کہیں نہیں جانا‘ یہیں رہنا ہے‘ آپ کے پاس‘ آپ کے ساتھ‘ آپ کی خدمت کرتے کرنی ہے۔‘‘ بات ختم کرکے اس نے ثروت خانم کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر بے تحاشا خوشی کے آثار تھے۔
’’جیتی رہو میری بچی‘ اللہ پاک تم کو خوش رکھے۔‘‘ انہوں نے نوال کو سینے سے لگالیا۔
’’اب میں سکون سے مرسکوں گی کہ میرے سارب کی زندگی میں اچھی اور باحیا لڑکی آگئی ہے‘ مجھے دونوں کی طرف سے اطمینان ہوگیا ہے۔‘‘ شدت جذبات سے ثروت خانم رو پڑیں۔
نوال یہ فیصلہ کرکے کچھ مطمئن تھی کہ اسے مستقل اور بہتر پناہ گاہ مل جائے گی‘ یہاں رہنے کا مدلل اور ٹھوس جواز بن جاتا‘ اس نے نہ تو سارب کو غور سے دیکھا تھا‘ نہ کبھی اس سے بات کی تھی‘ وہ لاابالی اپنے آپ میں مگن رہنے والا پرائوڈ سا بندہ لگتا تھا‘ عمر بھی زیادہ تھی۔
’’اگر تم چاہو تو سارب سے بات کرسکتی ہو۔‘‘ ثروت خانم نے اسے خاموش دیکھ کر کہا۔
’’نہیں آنٹی‘ اس کی ضرورت نہیں۔‘‘ اس نے آہستگی سے جواب دیا۔ اگلے دن ہی ثروت خانم اسے اپنے ساتھ بازار لے گئیں اچھا سا جوڑا خریدا ساتھ میچنگ جیولری‘ چوڑیاں اور دیگر سامان لیا اور پھر چار دن کے بعد کچھ گواہوں کی موجودگی میں نوال کا نکاح سارب سے ہوگیا۔ وہ اوپر کے پورشن سے نیچے سارب کے بیڈ روم میں شفٹ ہوگئی۔
سارب کے کمرے میں آکر اس نے ٹھنڈی سانس لے کر چاروں طرف دیکھا‘ کافی اچھا کمرہ تھا‘ بڑا سا بیڈ‘ الماری‘ ڈریسنگ ٹیبل‘ کمپیوٹر ٹرالی‘ ایزی چیئر‘ وہ بیڈ پر ٹک گئی اور گزشتہ سال اس کی نظروں میں آگئے۔ اپنے گھر سے بے عزت ہوکر نکلنا‘ ثروت خانم کے یہاں آمد‘ جاب کے لیے ماری ماری پھرنا‘ سدرہ بیگم کی بیماری‘ ان کی موت‘ موت کے بعد کے حالات اور اب… اب… وہ… شادی شدہ ہوچکی تھی۔ سب ایک ڈرامے کی صورت میں ہوا تھا۔ سارب کمرے میں آیا تو نوال نے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ اونچا لمبا سانولا سا سارب خاصا پرکشش اور اسمارٹ تھا‘ اس وقت عام سے برائون شلوار قمیص میں تھا۔
’’تم خوش تو ہو ناں؟‘‘ آتے ہی پہلا یہ سوال کیا۔
’’جی ہاں۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’میرے بارے میں تمہیں سب پتہ ہے ناں؟‘‘
’’جی…‘‘ مختصر سا جواب دیا۔
’’مجھے تمہارے بارے میں مما نے سب کچھ بتادیا ہے کہ تم اور تمہاری مما کن حالات میں اپنا گھر چھوڑ کر یہاں تک آئے تھے‘ تمہارے گھر والوں کا رویہ تم لوگوں سے اچھا نہ تھا۔ بہرحال مجھے اس سے کوئی غرض نہیں‘ تم میری مما کی پسند ہو اس لئے میرے لیے قابل عزت ہو۔ میں تمہارے بارے میں کچھ اور نہیں پوچھوں گا‘ تمہیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں کہ میں کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں تھا‘ تو بہت بگڑا ہوا تھا۔ وہاں پر میری دوستیاں ایسے پاکستانی لڑکے اور لڑکیوں سے تھی جن کے پاس روپے پیسے کی کمی نہیں تھی اور میں نے مما کو بنا بتائے ایسی ہی ایک لڑکی سے شادی بھی کرلی مگر وہ لڑکی شادی کے بعد بھی ویسی ہی رہی‘ ذرا سا بھی نہیں بدلی‘ میں نے بہت سمجھایا اسے لیکن وہ کسی صورت نہ مانی اور میں نے کچھ عرصے بعد اسے ڈیورس دے دی میں بہت بددل ہوگیا تھا۔ لڑکیوں پر سے میرا یقین اور بھروسہ اٹھ گیا تھا۔ میں نے تو سوچا تھا کہ کبھی بھی شادی نہیں کروں گا پر مما کے اصرار پر شادی کے لیے راضی ہوگیا۔ مما نے تمہاری بہت تعریف کی ہے اور تمہارے بارے میں مجھ سے بہت باتیں کرتی ہیں اس لیے میں نے سوچا کہ مما نے انتخاب کیا تو غلط نہ ہوگا اور میرے خیال میں بقول مما کے پاکستانی لڑکیوں میں جن کی تربیت اچھی مائیں کرتی ہیں ان میں شرم ‘پاکیزگی اور حیا ہوتی ہے وہ قابل بھروسہ اور قابل اعتبار ہوتی ہیں‘ امید ہے کہ تم میرے اس خیال کو سچ اور صحیح ثابت کرکے اس گھر اور میرے دل پر حکومت کروگی۔‘‘
’’ان شاء اللہ۔‘‘ سارب چپ ہوا تو نوال نے جلدی سے کہا‘ سارب کی باتوں سے وہ جہاں مطمئن ہوئی تھی وہاں تھوڑی سی پریشان بھی… شاید مما نے سارب کے سامنے سارب کی فطرت کو سمجھتے ہوئے سچی بات نہ بتائی تھی کہ وہ کیوں گھر سے نکلے تھے۔ مطلب مجھے بھی یہ بات چھپانی ہوگی۔
’’کیا سوچ رہی ہو…؟‘‘ سارب کی آواز پر وہ چونکی۔
’’کک… کچھ نہیں۔‘‘ وہ جلدی سے بولی۔
سارب نے اس کی جاب چھڑا دی اب وہ مکمل طور پر گھرداری اور ثروت خانم کی خدمت میں لگی رہتی۔ اس کی وجہ سے اختری بوا کو بھی بہت سہولت ہوگئی تھی۔ اب وہ بھی بوڑھی ہوگئی تھیں۔ زیادہ کام کرتیں تو سانس پھولنے سے تھک جاتی تھیں‘ پھر کمر اور گھٹنوں میں درد کی شکایت بھی رہتی تھی۔ نوال نے سب کچھ بڑی اچھی طرح سے سنبھال لیا تھا ثروت خانم دعائیں دے دے کر نہ تھکتی تھیں۔ گو کہ سارب اس سے والہانہ انداز میں چاہت کا اظہار نہیں کرتا‘ ناز نخرے اور لاڈ نہیں اٹھاتا تھا لیکن خیال رکھتا تھا‘ بات بھی نرمی سے کرتا‘ گھر میں ایک سسٹم بن گیا تھا اکثر چھٹی والے دن سارب اور نوال شاپنگ کرنے چلے جاتے‘ کبھی کبھی راشن اور سبزی بھی لے آتے‘ کبھی گھومنے پھرنے چلے جاتے‘ نوال کسی حد تک مطمئن اور خوش تھی۔ کچھ دنوں سے ثروت خانم کی طبیعت کچھ خراب رہنے لگی تھی ایک روز ہلکا سا چیسٹ پین بھی ہوا تھا‘ نوال اور سارب ان کو لے کر ہاسپٹل گئے تو ڈاکٹر نے دل کا مسئلہ بتایا‘ دونوں پریشان ہوگئے۔ ڈاکٹر نے دوائیں تجویز کردیں‘ نوال اب اور زیادہ خیال رکھنے لگی تھی۔
اس روز بھی حسب معمول نوال فجر کی اذان کے ساتھ ہی اٹھ گئی۔ وضو کرکے باہر آئی تو خلاف معمول ثروت خانم ابھی تک سو رہی تھیں۔
’’ارے بوا مما نہیں اٹھیں ابھی تک۔‘‘ نوال نے اختری بوا کو اپنے کمرے سے نکلتا دیکھ کر پوچھا۔
’’جی بچے دیکھتی ہوں۔‘‘ کہہ کر اختری بوا ثروت خانم کے کمرے کی طرف چلی گئیں اور اسی لمحے اختری بوا کی چیخ سنائی دی۔
’’نوال… بیٹا سارب جلدی سے آئو۔‘‘ وہ زور سے چلائی تھیں‘ آواز اتنی تیز تھی کہ سارب بھی جاگ گیا‘ نوال اور سارب بھاگتے ہوئے ثروت خانم کے کمرے میں جاپہنچے۔ ثروت خانم دنیا ومافیہا سے بے خبر بے حس وحرکت پڑی تھیں‘ آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر گہری اور آسودہ مسکراہٹ تھی‘ جانے رات کے کس پہر ان کی سانسیں تھم گئی تھیں۔
’’مما… مما…‘‘ سارب پاگلوں کی طرح ان کے بے جان وجود کو ہلا رہا تھا۔ نوال آنکھیں پھاڑے یہ دیکھ رہی تھی یہ سب کیا ہوگیا تھا؟ رات کو سونے سے پہلے ثروت خانم نے کتنی ڈھیر ساری باتیں نوال سے کی تھیں‘ اپنی زندگی کے نشیب وفراز‘ خوشیاں اور غم سب نوال کے ساتھ شیئر کیے تھے‘ کیسے ان کی شادی ابصار صاحب سے ہوئی‘ پھر سارب کے بچپن میں ہی ابصار صاحب کا انتقال ہوگیا‘ تو انہوں نے کس طرح سے سارب کو سنبھالا بھری جوانی میں بیوگی کے ساتھ معصوم بچے کو سنبھالنا کس قدر مشکل ہوتا ہے‘ کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا‘ نوال کا دل بھی ان کو چھوڑ کر جانے کا نہیں چاہ رہا تھا‘ رات کے دو بج گئے تو انہوں نے ہی زبردستی نوال کو سونے کے لیے بھیجا تھا‘ نوال کو کیا خبر تھی کہ وہ ثروت خانم سے آخری بار مل رہی ہے‘ یہی آخری خدمت ہے‘ آخری بار باتیں کررہی ہے‘ اسے کیا خبر تھی کہ صبح سب کچھ ختم ہوجائے گا؟ وہ اختری بوا کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ سارب بھی عجیب قسم کی صورت حال سے حیران وپریشان تھا۔ غم زدہ اور اماں کے یوں چلے جانے پر ششدر بھی تھا۔
ثروت خانم کی آخری رسومات بھی ادا کردی گئی تھیں۔ گھر پر عجیب قسم کی وحشت کا راج تھا۔ نوال کو بے تحاشا رونا آرہا تھا۔ ثروت خانم سے وابستہ ایک ایک بات یاد آرہی تھی‘ وہ بہت اداس ہوئی تو ثروت خانم کے کمرے میں آگئی۔ ہر چیز اسی طرح جگہ پر موجود تھی چھوٹا سا بیڈ جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی‘ چادر پر ننھے ننھے کاسنی کلر کے پھول تھے‘ ایک طرف خاصی بڑی لکڑی کی الماری رکھی تھی۔ جس میں ان کے دھلے دھلائے استری شدہ کپڑے سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ کتنی ویرانی اور وحشت برسنے لگی تھی ثروت خانم کے انتقال کے بعد‘ ہر چیز سے وحشت ٹپک رہی تھی۔ سارب بالکل چپ ہوکر رہ گیا تھا۔ اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا‘ صرف ثروت خانم کو ہی دیکھا۔ ثروت خانم نے سارب کی ہر ضد‘ ہر خواہش پوری کی حتیٰ کہ اس نے اپنے دوستوں کی باتوں میں آکر امریکہ کی رنگینیوں اور آزادی کے قصے سن کر امریکہ جاکر پڑھنے کی ضد پر اسے خود سے دور بھی کردیا‘ امریکہ جاکر سارب پڑھنا وڑھنا چھوڑ کر عیش کرنے لگا اس نے اس وقت ثروت خانم کا پیسہ اڑایا‘ بے جا اخراجات بھی کیے کافی عرصے وہ ماں سے الگ رہا‘ آج اسے یہ بھی احساس ہورہا تھا۔ وہ بہت مضمحل ہوگیا تھا۔ رہ رہ کر ثروت خانم کا پیار‘ محبت‘ خیال رکھنا سب کچھ یاد آرہا تھا۔ وہ خود بھی بہت ٹوٹ گیا تھا۔
نوال نے ایسے وقت میں بہت پیار اور حسن سلوک سے اس کا غم بٹایا۔ اس کی کوشش سے سارب بھی رفتہ رفتہ نارمل ہوگیا تھا۔ یہ تو زندگی کی اٹل حقیقت ہے‘ ہر کسی کو اپنے عزیزوں کا جان سے پیاروں کا دکھ تو سہنا ہی پڑتا ہے‘ وقتی طور پر لگتا ہے جیسے زندگی تھم سی گئی ہو‘ مرنے والے کو بھولنا بھی اپنی موت جیسا لگتا ہے‘ لیکن یہ بھی اللہ پاک کی قدرت اور کرم ہے کہ رفتہ رفتہ انسان نارمل ہونے لگتا ہے‘ زندگی کا جمود ٹوٹ جاتا ہے اور ان کے سامنے آس پاس رہنے والوں کے لیے خود کو زندہ رکھنے کا جواز پیدا ہوجاتا ہے‘ اسی طرح نوال اور سارب بھی آہستہ آہستہ نارمل ہوتے گئے۔ سارب آفس جانے لگا‘ آفس کے کاموں میں مصروف ہوگیا اور نوال نے خود کو گھر کے کاموں میں مصروف کرلیا۔
/…l/l…/
رومانہ بیگم آج بہت خوش تھیں‘ کیونکہ ان کے اکلوتے بیٹے عبیل کی شادی تھی۔ ان کی لاڈلی اور اکلوتی بہن کی بیٹی جازیہ ان کی بہو بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کے گھر آنے والی تھی اور یہ تو ان کی آرزو تھی کہ وہ امریکہ پلٹ اپنی لاڈلی بھانجی کو ہی بہو بنا کر لائیں گی۔ خوب دھوم دھام سے ساری رسومات ادا ہوئیں‘ آخرکار شادی کا دن بھی آگیا‘ شبانہ نے بھی دل کھول کر اپنے ارمان نکالے تھے۔ رخصتی کے بعد جب سب لوگ ہال سے گھر واپس آئے تو رومانہ بیگم نے بیٹے اور بہو پر سے بکروں کے صدقے اتارے اور پھر روحانہ سے کہا کہ دلہن دلہا کو اندر لے جائو۔ روحانہ آگے بڑھی تو جازیہ نے ہاتھ اٹھا کر روحانہ کو آگے بڑھنے سے روک دیا…!
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ روحانہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔
’’آپی آپ رہنے دیں‘ ہم خود چلے جائیں گے۔‘‘ جازیہ نے باقاعدہ روحانہ کو ہاتھ سے پرے کیا اور خود عبیل کا ہاتھ تھام آگے بڑھ گئی۔
’’ہائیں…‘‘ رومانہ نے حیرت سے جازیہ کو دیکھا۔ ’’بیٹی تم دلہن ہو اور ہمارے یہاں ایسا ہی ہوتا ہے… کیوں شبانہ…؟‘‘ رومانہ نے پہلے جازیہ کو کہا اور پھر شبانہ سے تصدیق چاہی۔
’’ارے آپا چھوڑیں‘ آپ بھی کن دقیانوسی اور فرسودہ رواج اور روایات کی بات کررہی ہیں‘ آج کل کا دوران سب فضولیات کا نہیں ہے۔ یہ آج کے دور کے بچے ہیں‘ ان لوگوں کو ان کی مرضی پر چھوڑ دو‘ اب یہ میاں بیوی ہیں‘ اپنی مرضی کے مالک ہیں‘ ہم کیوں کباب میں ہڈی بنیں۔‘‘ شبانہ قہقہہ لگا کر بولیں۔ رومانہ حیرت سے بہن کا منہ تکنے لگیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی مزید کچھ کہتا جازیہ عبیل کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ گئی‘ روحانہ منہ پھاڑے دیکھتی رہی۔
’’لو بھئی دلہن بیگم نے پہلے دن ہی رنگ دکھانا شروع کردیا۔‘‘ رومانہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔ شبانہ بھی آگے بڑھ گئی تھی۔ ولیمہ کی تقریب بھی ہوگئی‘ جازیہ کے تو تیور ہی بدل گئے تھے۔ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لارہی تھی۔ اس کے تو ناز اور نخرے دیکھنے والے تھے‘ وہ تو بالکل ہی بدل گئی تھی۔ عبیل تو چپ ہوکر رہ گیا تھا۔ شبانہ اور ذکا واپس امریکہ چلے گئے تھے کیونکہ بقول ذکا کے یہاں مستقل نہیں رہ سکتے‘ وہ بچپن سے امریکہ جیسے آزاد ماحول کے عادی تھے… انہیں یہاں کی زندگی پسند نہ آئی تھی اور ذکا جیسا لڑکا جس کی فطرت میں آوارگی تھی وہ بھلا کہاں عزت اور چین کی زندگی گزار سکتا تھا۔ جازیہ بھی عبیل کو پسند کرنے لگی تھی اس لیے شبانہ نے اس کی شادی کردی تھی اور ماں بیٹا واپس امریکا لوٹ گئے۔ روحانہ بھی کچھ عرصہ رہ کر اپنے سسرال واپس چلی گئی تھی۔ اب گھر میں رومانہ‘ عبیل اور جازیہ رہ گئے تھے۔
گھر کے کام کے لیے ماسیاں تھیں‘ جو سارے کام کردیا کرتی تھیں۔ اس روز بھی صبح صبح جھاڑو والی ماسی آئی وہ ابھی باہر کی صفائی کررہی تھی کہ کسی کام سے اپنے کمرے سے جازیہ نکلی‘ انتہائی باریک سلیولیس کپڑے پہنے ہوئے تھی‘ رومانہ بیگم کی نظر پڑی تو انہیں بے حد شرم آئی۔
’’جازیہ تم اپنے کمرے میں جائو۔‘‘ رومانہ بیگم نے قدرے تیز آواز میں کہا۔
’’کیوں کیا ہوگیا؟‘‘ الٹا سوال کر ڈالا۔
’’اس حلیے میں تمہارا یوں باہر آنا انتہائی غیر مناسب ہے۔‘‘ رومانہ بیگم نے بدستور تیز لہجے میں کہا۔
’’اگر آپ کو غیر مناسب لگتا ہے تو میری طرف مت دیکھیں۔‘‘ بدتمیزی سے کہتی ہوئی وہ واپس کمرے میں چلی گئی۔ اس روز رومانہ بیگم نے موقع دیکھ کر عبیل سے جازیہ کی اس حرکت کے لیے بات کی۔
’’یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے مما‘ وہ آپ کی پسند‘ آپ کی چاہت اور آپ کی خواہش پر آپ کی بہو بن کر آئی ہے‘ نہ میں نے پسند کیا تھا اور نہ ہی خواہش‘ اب آپ کو برداشت تو کرنا ہوگا وہ جیسی ہے جو بھی کرتی ہے‘ آپ کی بہو ہے۔‘‘ عبیل کے دو ٹوک اور صاف جواب پر رومانہ بیگم دم بخود رہ گئیں۔
جازیہ تو شادی کے بعد بالکل ہی بدل گئی تھی۔ گرگٹ بھی اتنی جلدی رنگ نہیں بدلتا جتنی تیزی سے جازیہ نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیئے تھے۔ شادی سے پہلے ہر وقت آنٹی‘ آنٹی کرکے رومانہ بیگم کے آگے پیچھے پھرتی تھی‘ ہر بات میں‘ ہر چیز میں‘ رومانہ بیگم سے مشورہ لیتی مگر اب تو رومانہ کو کسی گنتی میں ہی نہیں لاتی تھی۔ عبیل بھی بالکل خاموش رہتا رومانہ بیگم کو لگتا کہ وہ مکمل طور پر جازیہ کی گرفت میں آچکا ہے‘ جازیہ نے اس کو کوئی تعویذ گھول کر پلا دیا ہے۔ روزانہ شبانہ کی کال آجاتی‘ کبھی ویڈیو کال دونوں ماں بیٹی گھنٹوں اندر کمرے میں نہ جانے کیا کیا باتیں کرتی رہتیں‘ پہلے شبانہ رومانہ بیگم سے کتنی کتنی دیر بات کرتی تھی مگر اب صرف جازیہ سے باتیں کبھی کبھار رومانہ بیگم سے سلام دعا کرلیتیں اب وہ ذکا کے لیے لڑکیاں تلاش کررہی تھیں۔ اس سلسلے میں جازیہ کو لڑکیوں کی پکس دکھائی جاتیں اور کبھی کبھی لڑکیوں سے بات بھی کروائی جاتی تھی۔ جازیہ ڈیلی تیار ہوکر نکل جاتی‘ کبھی کبھار عبیل ہوتا‘ ورنہ وہ تنہا ہی شاپنگ کرنے کبھی واک کرنے نکل جاتی۔ پیچھے اتنے بڑے گھر میں رومانہ بیگم بولائی بولائی پھرتی رہتیں‘ شادی کے بعد جازیہ کا یوں بدل جانا‘ عبیل کی مسلسل چپ اور اکیلے پن کی وجہ سے رومانہ بیگم چڑچڑی ہوگئی تھیں‘ وہ کتنے پیار اور ارمان سے جازیہ کو یہ سوچ کر بیاہ کر لائی تھیں کہ بھانجی ہے‘ میرا خیال رکھے گی‘ مجھے پیار کرتی ہے‘ میرے ساتھ یقینا مل جل کر رہے گی‘ مگر… مگر… ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا تھا۔
پھر شبانہ بیگم ذکا کے ساتھ نہ جانے کیوں مستقل پاکستان آگئیں۔ پوش ایریے میں گھر لے لیا تھا۔ اب تو جازیہ کے انداز مزید بدل گئے تھے اور مصروفیت میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔ رومانہ بیگم بھی فطرتاً تیز طرار اور منہ پھٹ تھیں وہ بھلا جازیہ سے پیچھے کیوں رہتیں‘ کچھ نہ کچھ کہتی رہتیں اور جواب بھی ضرور سنتی تھیں۔ روحانہ نے کہا تھا کہ وہ چھٹی والے دن صبح سے شام تک کے لیے آئے گی اور رومانہ بیگم نے اس بات کا ذکر جازیہ کے سامنے کردیا تھا۔ عبیل صبح سے کہیں گیا ہوا تھا‘ ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوکر جازیہ بھی تیار ہوکر کمرے سے باہر نکلی تو رومانہ بیگم نے اسے غور سے دیکھا۔
’’کہاں جارہی ہو تم…؟‘‘
’’مما نے بلوایا ہے شاپنگ کرنی ہے انہیں۔‘‘ شان بے نیازی سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے جواب دیا۔
’’مگر میں نے بتایا تھا ناں کہ آج روحانہ آرہی ہے کافی دن بعد تو آنے کا کہا ہے اس نے‘ اس لیے تم شاپنگ کرنے کل چلی جانا‘ اس کے ساتھ اعتزاز بھی آرہا ہے اچھا نہیں لگے گا کہ تم گھر پر نہ ملو۔‘‘ رومانہ بیگم نے نرم لہجے میںکہا۔
’’اوہو آنٹی‘ یہ کون سی اتنی اہم بات ہے‘ روحانہ آپی امریکہ سے تو نہیں آرہی کہ دوبارہ نہیں آسکتیں‘ وہ پھر آسکتی ہیں اور میرا کوئی اتنا ضروری نہیں ہے کہ ان سے ملوں… ویسے بھی مما میرا ویٹ کررہی ہوں گی۔‘‘ وہ تیز لہجے میں کہتی ہوئی مزید کچھ سنے تیزی سے آگے کی طرف بڑھ گئی۔ رومانہ بیگم مٹھیاں بھینچے دم بخود اسے جاتا دیکھتی رہیں۔ کس قدر بدتمیز تھی وہ‘ رومانہ بیگم جو پورے خاندان میں تیز‘ ہٹ دھرم اور حاکمانہ طبیعت کی مشہور تھیں اس دو فٹ کی لڑکی کے آگے بے بس ہوگئی تھیں۔ وہ کوئی بات نہ مانتی‘ کسی بات پر عمل نہ کرتی‘ وہی کرتی جو دل کرتا‘ جو اس کی مما کی طرف سے ہدایات ہوتیں اور رومانہ بیگم چیخ چلا کر خاموش ہوجاتیں‘ کہتی بھی تو کس سے؟ شکایت کرتی بھی تو کس سے…؟ اس روز رومانہ بیگم کی طبیعت خراب تھی۔ ناشتہ کرکے دوا لینی تھی‘ آج اتفاق سے ماسی بھی نہیں آئی تھی۔ عبیل ان کے کمرے میں آیا تو انہیں بخار میں دیکھ کر پریشان ہوگیا۔
’’ارے آپ کو تو اچھا خاصا فیور ہے مما‘ آپ ناشتہ کرکے ٹیبلٹ لے لیں۔‘‘ اس نے رومانہ بیگم کا ماتھا چھوکر کہا۔
’’ہاں بیٹا… ابھی زلیخا آئے گی تو ناشتہ بنا کردے گی‘ پھر لے لوں گی ٹیبلٹ۔‘‘ رومانہ بیگم نے نحیف آواز میں کہا۔ عبیل سر ہلا کر کمرے سے نکل گیا۔ سیدھا اپنے کمرے میں آیا اور گہری نیند سوتی ہوئی جازیہ کو آواز دی۔
’’جازیہ… جازیہ…‘‘
’’ہنہ…‘‘ جازیہ نے کروٹ بدل کر بہ مشکل اپنی خمار آلود آنکھیں کھولیں۔ جن میں نیند کا خمار اور بوجھل پن موجود تھا۔
’’مما کو بہت تیز بخار ہے ان کے لیے اٹھ کر ایک کپ چائے بنادو وہ سلائس کھا کر دوا لے لیں گی۔‘‘ عبیل نے ملائمت سے تفصیلی بات کی۔
’’آئی ایم سوری عبیل‘ مجھ سے اتنی صبح نہیں اٹھا جاتا‘ تم خود بنالو۔‘‘ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے مطمئن انداز میں بولی اور دوبارہ چادر تان لی۔
’’جازیہ…!‘‘ اس بار عبیل کی آواز تھوڑی تیز تھی۔ ’’مجھے بنانا ہوتا تو تمہیں نہیں اٹھاتا‘ چائے بنا کر دوبارہ نیند پوری کرلینا اپنی۔‘‘
’’افوہ بھئی‘ کیا مصیبت ہے؟‘‘ جازیہ نے جھنجلا کر چادر پرے پھینکی… وہ بڑبڑ کرتی کچن کی طرف چلی گئی۔
’’حرام خور ہوگئے ہیں آج کل کے نوکر بھی اپنی اوقات بھول جاتے ہیں‘ آنے دو ذرا دماغ درست کرکے رکھ دوں گی ہزاروں کی رقم اس لیے تو نہیں دیتے کہ ہم خود کام کریں۔‘‘ ایک کپ چائے کا بناتے ہوئے ڈھیروں باتیں بھی سنا ڈالیں۔ پلیٹ میں دو سلائس اور چائے کا کپ رکھ کر رومانہ بیگم کے کمرے میں آئی اور میز پر پٹخنے کے انداز میں رکھ دیا۔ رومانہ کا حال تک نہ پوچھا۔
رومانہ بیگم نے غور سے اس کے اکتائے ہوئے نیند اور بیزاری میں ڈوبے چہرے کی جانب دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کتنا ہتک آمیز رویہ لگا تھا جازیہ کا‘ ذرا سا بھی خیال تھا نہ عزت تھی‘ اس کے دل میں رومانہ بیگم کے لیے‘ رومانہ بیگم ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئیں۔ کر بھی کیا سکتی تھیں؟ سارا کیا دھرا ہی ان کا اپنا تھا۔
/…l/l…/
اس روز نوال بہت اداس تھی۔ عجیب سی بے چینی اور بے کلی محسوس کررہی تھی۔ طبیعت میں نہ جانے کیوں بے تحاشہ بیزاری اتر آئی تھی۔ بے چینی جب حد سے زیادہ بڑھی تو وہ اسٹور روم میں آگئی‘ سوچا آج اسٹور روم کی صفائی کرلوں‘ وہ کافی عرصے سے بند تھا۔ موسم بھی بدل رہا تھا اور ایسے موسم میں ثروت خانم اسٹور روم سے گرم کپڑے‘ شالیں‘ سوئٹرز اور بستر نکلوا کر دھوپ لگاتی تھیں۔ اسٹور روم میں پرانے سوٹ کیس‘ الماری اور گھر کا بیکار سامان رکھا ہوا تھا۔ نوال اندر آگئی سامنے رکھی لکڑی کی بڑی سی الماری کھولی سامنے ہی ثروت خانم کے سوئیٹرز‘ شالیں اور گرم سوٹس رکھے ہوئے تھے۔ ثروت خانم کے کپڑے دیکھ کر اسے بے تحاشہ رونا آگیا۔ دوسال پہلے کی سردیاں یاد آگئیں۔ جب اس نے ثروت خانم کے ساتھ مل کر سارے کپڑے نکلوائے تھے۔ وہیں ساتھ میں سارب کے کچھ پرانے کوٹ اور جیکٹس بھی تھیں‘ وہ کپڑے سمیٹنے لگی تب ایک کوٹ اس کے ہاتھ سے سلپ ہوکر نیچے فرش پر گر گیا۔ کپڑے سائیڈ پر رکھ کر اس نے جھک کر کوٹ اٹھایا… ایک لفافہ سلپ ہوکر نیچے گرا ساتھ ہی کچھ تصاویر بھی لفافے سے نکل کر فرش پر پھیل گئیں۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر نوال نے جھک کر تصاویر اٹھالیں یہ تو شبانہ خالہ کی بیٹی کی تصاویر تھیں جازیہ… جازیہ وہ بھی سارب کے پہلو میں کھڑی اور سارب… سارب اور وہ دلہا‘ دلہن کے لباس میں تھے… نکاح کی رسم کی بھی تصویر تھی جس میں سارب دستخط کررہے تھے۔ پھر… ایک تصویر میں سارب اسے غالباً برسلیٹ پہنا رہے تھے۔ مطلب یہ کہ… سارب نے امریکہ میں جازیہ سے شادی کی تھی۔ اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔ جلدی جلدی سارے فوٹوز اسی طرح جیب میں رکھ کر کوٹ الماری میں اسی جگہ پر ہینگ کرکے وہ گرم کپڑے لیے جلدی سے باہر آگئی۔ کپڑے چھت پر پھیلا کر نیچے آئی‘ دماغ مسلسل گردش میں تھا۔ شبانہ آنٹی نے اتنی بڑی بات چھپائی تھی۔ سارب کو تو یہ بات پتہ بھی نہ تھی کہ نوال اور جازیہ کا کہیں کوئی رشتہ بھی ہے وہ اسے جانتی ہے‘ وہ تو جازیہ سے دلی نفرت کرتا تھا اس کے نام پر سارب کا غصہ عروج پر پہنچ جاتا تھا۔ نہ صرف جازیہ‘ بلکہ جازیہ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز اور ہر شخص سے نفرت تھی اسے حتیٰ کہ اب امریکہ کے نام سے بھی وہ نفرت کرتا تھا‘ کہ وہاں پر اسے جازیہ ملی تھی۔ یہ سوچ کر اور جان کر نوال کے دل میں ڈھیروں دکھ اور اداسی اتر آئی کہ سارب پہلے جازیہ کا شوہر تھا اور جازیہ نے اسے چھوڑا تھا۔ وہ تو شکر تھا کہ اس وقت سارب گھر پر نہیں تھا۔ پتہ نہیں یہ کیسا کھیل کھیل رہی تھی تقدیر اس کے ساتھ؟ وہ سوچنے لگی کہ اب پتہ نہیں جازیہ کہاں ہوگی؟ کیسی اور کس کے ساتھ ہوگی؟ نوال کے دل میں ایک پھانس سی چبھ کر رہ گئی تھی۔ عجیب سی کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔ سوچ سوچ کر شام تک اس کے سر میں شدید درد ہوگیا۔ شام کو سارب آیا تو وہ لیٹی ہوئی تھی۔
’’ارے کیا ہوگیا ہے تمہیں…؟‘‘ اس کی سرخ آنکھیں اور اترا ہوا چہرہ دیکھ کر سارب نے پریشان ہوکر پوچھا۔
’’سر میں درد ہے صبح سے۔‘‘ نوال نے کہا۔
’’اوہ…! کوئی دوا لی تم نے…؟ چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔‘‘ سارب نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
’’جی لے لی تھی… ابھی ٹھیک ہوجائے گا فکرمت کریں آپ۔‘‘ سارب نے پریشان ہوتے ہوئے اصرار کیا تو وہ اثبات میں سر ہلا کر جانے کے لیے تیار ہوگئی۔
’’تم اندر چلو میں سی این جی بھر وا کر آتا ہوں تب تک تم نمبر لے لو اندر جاکر۔‘‘ کلینک کے باہر اسے گاڑی سے اتارتے ہوئے سارب نے کہا۔
’’جی اچھا۔‘‘ کہہ کر وہ گاڑی سے اتر کر کلینک کی طرف بڑھ گئی اور سارب گاڑی لے کر سی این جی اسٹیشن کی جانب نکل گیا۔
وہ نمبر لے کر ویٹنگ روم میں بیٹھی تھی کہ ڈاکٹر کے روم سے نکلتی روحانہ پر نظر پڑی۔ روحانہ کی نظر اسی وقت نوال کی سمت اٹھی‘ وہ دوڑ کر نوال کی طرف آئی اور بے ساختہ اس سے لپٹ کر رو دی۔
’’میری بہن‘ میری جان… تم کہاں ہو؟ کہاں چلی گئی تھیں تم؟ مجھے… مجھے بنا بتائے… بنا بات کیے؟‘‘ روحانہ بولے جارہی تھی۔ نوال بھی لاکھ ضبط کے باوجود رو پڑی تھی۔
’’آپی حالات ہی ایسے ہوگئے تھے کہ میں وہاں رہتی تو… مرجاتی۔‘‘ آس پاس کے لوگ متوجہ ہوئے تو ان لوگوں کو موقع اور جگہ کی نزاکت کا احساس ہوا…
’’ایسا کرو تم میر انمبر لے لو مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔ ابھی موقع نہیں ہے‘ باہر اعتزاز کھڑے ہیں۔ میں جانتی ہوں گڑیا… مجھے شازیہ نے سب کچھ بتایا تھا۔ اور… اور… سب لوگ اپنے اپنے کیے کا بھگت رہے ہیں میری جان۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں۔ مجھے جلدی کال کرنا۔‘‘ کہہ کر روحانہ تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ نوال نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی‘ روحانہ آج بھی اسے کتنا چاہتی تھی۔ سارب سامنے سے آتا دکھائی دیا تو نوال نے جلدی سے آنکھیں صاف کر ڈالیں۔ نوال جانتی تھی کہ وہ روحانہ سے بات کبھی بھی سارب کی موجودگی میں نہیں کرسکتی۔ وہ تو جازیہ کے رشتہ داروں سے نوال کے رابطے کا سن کر ہی بے قابو ہوجائے گا۔ اتنا اندازہ تو نوال کو بھی تھا۔ کہ وہ جازیہ سے کس حد تک نفرت کرتا ہے اور اس کے بعد سے اسے عورت ذات سے بھی نفرت ہوچکی تھی۔ مگر ثروت خانم کے اعتماد‘ بھروسے اور یقین دہانی پر اس نے نوال سے شادی کی تھی۔ نوال نے سوچ لیا تھا کہ صبح جب سارب آفس چلا جائے گا تب وہ سارب کے تعلق سے ساری بات اور جازیہ کے متعلق سب کچھ تفصیل سے روحانہ کو بتادے گی۔
اس رات سارب نے اسے کوئی کام نہیں کرنے دیا تھا۔ کھانا بھی باہر سے لے آیا تھا۔ وہ کھانا کھا کر دوا لے کر لیٹی تو جلد ہی آنکھ لگ گئی۔ صبح اٹھی تو طبیعت کچھ بحال تھی۔ سارب آفس چلا گیا کام والی آئی اور اپنے کام نبٹا کر چلی گئی تو وہ سیل لے کر کمرے میں آگئی اور روحانہ کو کال ملائی۔
’’اوہ تھینکس! میں کل سے کس قدر بے چینی اور بے تابی سے تمہاری کال کا ویٹ کررہی تھی نوال۔‘‘ روحانہ نے بے تابی سے کہا۔
’’تمہیں دیکھ کر کل رات سے پرانی یادیں ایک ایک کرکے میرے ذہن میں تازہ ہوگئی ہیں تم کیسی ہو‘ کہاں رہتی ہو‘ تم خوش تو ہو ناں…؟ تمہاری شادی کب ہوئی؟ کیسا ہے تمہارا ہسبینڈ وہ تمہیں پیار تو کرتا ہے ناں؟‘‘ بے تابی سے بے شمار سوالات ایک ہی سانس میں کر ڈالے۔
’’جی آپی اللہ کاکرم ہے‘ تائی امی (سائرہ) کے توسط سے ہم لوگ ان کی کزن کے گھر رہ رہے تھے‘ ان کے بیٹے سے ہی میری شادی ہوگئی ہے۔‘‘ اس کا لہجہ افسردہ تھا۔ ’’مما کی ڈیتھ ہوچکی ہے۔‘‘ وہ رونے لگی تھی۔ ’’آپی… بس مما کی ڈیتھ کے بعد ہی ثروت آنٹی نے مجھے اپنی بہو بنایا اب ثروت آنٹی بھی اس دنیا میں نہیں مگر… سارب بہت اچھے ہیں‘ میرا خیال رکھتے ہیں۔‘‘
’’یہاں پر تمہارے جانے کے بعد جب مجھے سب کچھ پتہ چلا اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ تمہیں ڈھونڈیں مگر ہمیں سائرہ چچی نے بھی کچھ نہ بتایا۔‘‘ روحانہ کے لہجے میںشکایت تھی۔
’’آپی مما نے تائی امی کو اپنی قسم دے دی تھی کہ وہ کسی کو بھی ہمارے حوالے سے کچھ نہیں بتائیں گی کیونکہ ہم لوگ بہت دل برداشتہ ہو چکے تھے۔‘‘
’’اونہہ!‘‘ روحانہ نے کہا۔ ’’یہاں پر سائرہ چچی بھی جاسم کے پاس چلی گئیں شازیہ کی بھی شادی ہوگئی اور… اور… مما نے عبیل کی شادی بھی جازیہ سے کردی۔‘‘ روحانہ نے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ج… جا… زیہ… شبانہ آنٹی کی بیٹی؟‘‘ دوسری جانب سے نوال نے تقریباً چیخ کر سوال کیا۔
’’اوہ… آپی… جازیہ نے امریکہ میں سارب سے بھی شادی کی تھی۔‘‘ وہ بہ مشکل کہہ پائی۔
’’کک… کیا… کیا کہہ رہی ہو تم؟ یہ بات تو شبانہ آنٹی نے یا جازیہ نے کبھی نہیں بتائی۔‘‘ روحانہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔
’’جی آپی وہ سارب کی پہلی بیوی رہ چکی ہے۔ وہ بہت بے حیا اور بگڑی ہوئی لڑکی تھی اور سب سے بڑی بات یہ ہے وہ اپنی آزای میں خلل نہ پڑے اس لیے بچہ بھی نہیں چاہتی تھی۔ شادی کے بعد بھی اس کا تعلق دوسرے لڑکوں سے تھے۔ اسی وجہ سے سارب نے اسے طلاق دے دی تھی اور آپی ایک بات سن لیں کہ میں آئندہ آپ سے کبھی بات نہیں کر پائوں گی کیونکہ سارب کو اس بات کی خبر نہیں ہے کہ جازیہ ہماری رشتے دار ہے اگر انہیں اس بات کا پتہ لگ گیا تو وہ بہت ناراض ہوں گے کیونکہ وہ جازیہ کی طرح اس کے سارے خاندان کو غلط اور بگڑا ہوا سمجھتے ہیں۔ انہیں ہر اس شخص سے نفرت ہے جس کا تعلق جازیہ سے ہو… اگر ان کو اس بات کا پتہ لگا تو وہ میری زندگی عذاب کردیں گے…‘‘ جملہ مکمل کرکے نوال نے جیسے ہی سر اٹھایا۔ اس کا سانس اوپر کا اوپر رہ گیا… سارب دروازے میں کھڑا غصے بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔
’’آپ… آپ ک… کب آئے۔‘‘ ایک ایک لفظ اس کے حلق میں اٹکنے لگا تھا اور وہ… خوف زدہ ہوکر کھڑی ہوگئی تھی۔
’’تو… تو یہ سب کرتی ہے بے حیا عورت…‘‘ سارب کی آواز شاید روحانہ تک جاپہنچی تھی۔
’’ہیلو… ہیلو۔‘‘ روحانہ پکار رہی تھی۔ ’’کون آگیا…؟ نوال کیا ہوا بولو…؟‘‘ سارب نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے سیل چھینا اور اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ قیمتی سیل فون دو ٹکڑے ہوکر فرش پر بکھر گیا۔
’’میرے جانے کے بعد یہ سب کچھ ہوتا ہے یہاں؟‘ سارب کی آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں۔ کام والی کے جانے کے بعد وہ شاید دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی۔
’’سارب… آپ… آپ بات سنیں میری…!‘‘ وہ تھرتھر کانپنے لگی تھی۔ الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
’’یہ دروازہ کیوں کھلا ہوا تھا کون آکر گیا ہے ابھی اور یہ سلسلہ کب سے چل رہا ہے؟‘‘ لہجہ وہی زہر آلود تھا۔
’’کس سے بات ہورہی تھی‘ اس وقت اور روزانہ کس کس سے ہوتی ہے بات اور یہ… جازیہ کا نام کیوں آیا… کیا تعلق ہے تمہارا اس فاحشہ اور آوارہ عورت سے؟‘‘ وہ غیض وغضب کی آخری حدوں پر تھا۔
’’سارب! پلیز میری با ت سن لیں‘ میں… میں اپنی تایا زاد روحانہ آپی سے بات کررہی تھی‘ قسم لے لیں آج پہلی بار بات ہورہی ہے ان سے وہ مجھے کل ہاسپٹل میں ملی تھیں اور نمبر دیا تھا اپنا… اور… اور… جازیہ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے وہ میری تائی اماں کی بہن کی بیٹی ہے۔‘‘ وہ صفائی دینے لگی۔
’’کیسے تعلق نہیں ہے تم سے؟ رشتہ داری ہوئی ناں تم سے بھی اس کی؟‘‘ وہ چیخا۔
’’اوہو…‘‘ ایک لمحے کو رکا اور پھر سیٹی بجانے کے انداز میں ہونٹوں کو سکیڑا۔ ’’تم اس کی خالہ کی رشتہ دار ہوئیں ناں… جو ان کے ساتھ رہتی تھی… اور… اور… جس نے جازیہ کے بھائی ذکا کے ساتھ… اف… تم… تم وہی لڑکی ہو ناں۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں آگے بڑھا اور اس کو کاندھے سے پکڑ کر جھنجوڑتا ہوا چلایا۔
’’خدا کے لیے سارب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے ذکا بھی آوارہ اور بگڑا ہوا لڑکا تھا۔ اس نے مجھ سے فری ہونے کی کوشش کی تھی اور… میں نے… اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا تھا۔ یہ جھوٹا الزام ہے مجھ پر‘ ہم دونوں کے درمیان کچھ ایسی بات تھی ہی نہیں۔‘‘ اچانک ہی صورت حال بری طرح بگڑ چکی تھی۔ معاملہ تو کہاں سے کہاں پہنچ رہا تھا۔ یہ کیسی بات کررہا تھا۔ سارب کو بھی اس کے بارے میں ایسی الٹی سیدھی باتیں بتائی گئی تھیں۔
’’بس کرو اپنی پارسائی کی کہانیاں سنانا… اسی لیے مجھے عورت ذات سے نفرت ہوگئی تھی جازیہ کے بعد میں نے سوچ لیا تھا کہ عورت کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں؟ مگر… مما کے اصرار پر… ان کے بار بار یقین دلانے پر کہ ہر لڑکی جازیہ جیسی نہیں ہوتی‘ میں نے ایک بار پھر تم پر ٹرسٹ کیا۔ تم کو نیک اور شریف لڑکی سمجھ کر تمہارے ساتھ خلوص اور محبت سے پیش آیا۔ تم پر بھروسہ کیا لیکن… لیکن…‘‘ سارب غصے سے بے قابو ہورہا تھا۔ اس نے کرسی اٹھا کر دیوار پر دے ماری اور دونوں ہاتھوں میں اپنے بال جکڑ لیے… ’’تم میرے جانے کے بعد یہ سب کچھ کرتی ہو…؟‘‘
’’سارب… پلیز… خدا کے لیے خود پر قابو رکھیے… میرا یقین کریں… آج پہلی بار اتنے سالوں کے بعد میری بات ہوئی وہ بھی اپنی بہن سے… اور… اور میں غلط نہیں ہوں۔‘‘ وہ روتے ہوئے اسے یقین دلانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
’’چپ ہوجائو! آوارہ‘ بدچلن عورت۔‘‘ سارب نے نوال کو زور سے بیڈ کی سمت دھکا دے کر چیختے ہوئے کہا اور کمرے سے نکل گیا نوال بیڈ پر جاکر گری تھی۔
’’اف خدایا… یہ سب کیا ہوگیا؟ کتنی بار مجھے میرے ناکردہ گناہ کی سزا ملے گی؟‘‘ اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ سارب کو اس کے ماضی کے بارے میں اس طرح سے بتایا گیا ہوگا‘ حالانکہ ثروت خانم نے کوئی ایسی بات‘ کوئی ایسا ذکر نہ کیا تھا کہ جس سے اس کے کردار کی نفی ہوتی‘ آج اس بات کو لے کر سار ب کا یہ روپ… یہ رویہ‘ نوال کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ وہ اتنا جنونی‘ اتنا شدت پسند ہوگا یہ تو نوال نے سوچا بھی نہ تھا۔ وہ غصے اور جذبات میں بالکل پاگل ہوچکا تھا کچھ سوچنے‘ سمجھنے اور سننے تک کی صلاحیتوں سے محروم ہوکر نہ جانے اس وقت کہاں چلا گیا تھا۔ کہیں کچھ الٹا سیدھا نہ کرلے…؟ نوال گھٹنوں میں سر دیئے مسلسل روتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
’’کاش… کاش‘ مجھے روحانہ آپی نہ ملتیں… کاش میں ان سے بات نہ کرتی‘ جیسے گزر رہی تھی گزرتی رہتی۔‘‘ سارب بہت زیادہ والہانہ محبت نہیں کرتا تھا‘ مگر خیال تو رکھتا تھا‘ بھروسہ تو کرتا تھا اس پر… لیکن اب… وہ کس طرح سارب کو اپنی پارسائی کا ثبوت دیتی کہ وہ بالکل نیک‘ باحیا اور شریف لڑکی ہے‘ آج گھر سے نکلے چار سال ہوچکے تھے ان چار سالوں میں اس نے کیا کھویا کیا پایا…؟ ایک چیز آج بھی ہنوز اس کے ساتھ موجود تھی‘ وہ لفظ وہ بات جس سے پیچھا چھڑا کر وہ گھر سے نکلی تھی‘ وہی الفاظ آج بھی‘ چار سال بعد بھی اس کے ساتھ بازگشت بن کر اس کے کانوں میں گونج رہے تھے جو ابھی چند لمحے پہلے سارب کہہ کر گیا تھا۔ آوارہ‘ بدچلن… وہ بے تحاشا سسک پڑی‘ جازیہ‘ ذکا‘ میں نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا تھا‘ آج بھی تم دونوں بہن بھائی نے مل کر مجھے اسی مقام پر لاکھڑا کیا ہے جس پر میں چار سال پہلے تھی۔ تائی اماں کاش‘ کاش آپ ایسا نہ کرتیں تو میں… اس مقام پر… یوں اس حالت میں نہ ہوتی۔ عبیل… عبیل… تم تو میری نس نس سے واقف تھے‘ کم از کم تم ہی میرے حق میں دو لفظ بول دیتے۔ اسے رہ رہ کر ایک ایک بات یاد آرہی تھی‘ اسی طرح روتے روتے نہ جانے کب تھک کر اس کی آنکھ لگ گئی۔
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا جب نوال کی آنکھ کھلی‘ دیکھا تو سارب بیڈ پر موجود نہ تھا۔ الٰہی خیر! وہ گھبرا کر اٹھی باہر آئی تو دیکھا لائونج میں صوفے پر پڑا سو رہا تھا۔ اس کی جان میں جان آئی۔ ایک بار پھر سب کچھ ذہن میں آتا چلا گیا۔
’’سارب… سارب مجھے غلط نہ سمجھیں پلیز‘ میں نے کبھی بھی کچھ بھی غلط نہیں کیا۔‘‘ وہ ایک بار پھر سسک پڑی۔ صبح اٹھ کر نوال نے ناشتہ بنایا‘ سارب اٹھا خاموشی سے ناشتہ کیا اور وقت سے پہلے آفس جانے کے لیے تیار ہوگیا۔
’’آج سے میں صبح گھر سے نکلتے وقت دروازہ لاک کرکے چابی ساتھ لے جایا کروں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں نفرت تھی۔
’’مگر… کام والی آئے گی؟‘‘ اس نے کہا۔
’’کوئی کام والی نہیں آئے گی؟ باہر سے کوئی بھی اندر نہیں آئے گا‘ سمجھیں تم… تم نے میری آزادی اور بھروسے کو کھیل سمجھ کر توڑا ہے اب… اب… میں بھی تمہیں لمحہ لمحہ توڑوں گا‘ تم سے سب کچھ چھین لوں گا۔‘‘ کہہ کر وہ مین گیٹ پر تالا لگا کر چلا گیا۔
’’یااللہ! یہ کیسی سزا ہے؟‘‘ زندگی ا س نہج پر آجائے گی یہ تو سوچا بھی نہ تھا۔ وہ اس پر کس حد تک شک کررہا تھا۔ اس کے کردار کی دھجیاں اڑا رہا تھا۔ یہی اس کا معمول بن گیا تھا۔ وہ اسے قید کرکے رکھ رہا تھا جس کے پاس ضروریات زندگی کی سہولتیں نہ تھیں۔ اس کی زندگی قیدیوں سے بدتر تھی۔ سارب کوئی بات نہ کرتا‘ اگر کبھی کوئی بات کرتا تو صرف طعنے اور طنز ہوتے اس کی کردار کشی کرتا‘ اسے آوارہ اور گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کہتا‘ ہفتے میں ایک بار سودا سلف لادینا بس… نہ کوئی بات… نہ کوئی احساس تھا… وہ پاگلوں کی طرح سارا سارا دن گھر میں بولائی بولائی پھرتی اور ساری رات ماضی کویاد کرکے اور الٹے سیدھے خیالات میں گھر کر سسکتی رہتی۔ اسے گھر سے وحشت ہونے لگی تھی‘ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آنا جانا… دل کرتا کچھ کھا کر مرجائے… یہ کیسی سزا تھی… کیسی زندگی تھی خود پر رونا بھی آتا تھا۔ اکیلے میں وہ دل بھر کر رولیا کرتی اور کر بھی کیا سکتی تھی۔
/…l/l…/
روحانہ بے حد پریشان تھی‘ نوال سے بات کرتے کرتے اچانک سے کسی مرد کے غصے اور چیخنے کی آوازیں آئی تھیں اور پھر… ایسا لگا تھا جیسے موبائل کو اٹھا کر پٹخ دیا گیا ہو۔ وہ بہت ٹینشن میں تھی نوال کو لے کر‘ اسے لگا تھا کہ جیسے نوال اپنے شوہر کی ساتھ خوش اور مطمئن نہیں اور پھر… جازیہ کے متعلق اتنی بڑی بات… اتنی بڑی سچائی کا پتہ چلا تھا کہ وہ… پہلے سے شادی کرچکی تھی‘ اتنا بڑا دھوکا دیا تھا شبانہ آنٹی اور جازیہ نے مل کر… اتنی بڑی بات چھپائی تھی… نہ عبیل اپنی زندگی میں مطمئن اور آسودہ تھا نا وہ نوال… اور یہ جازیہ… کتنی چالاک اور شاطر لڑکی تھی اور عبیل اس خبر سے بے خبر تھا اور جازیہ کو ہٹ دھرمی‘ من مانیوں اور ڈھیٹ پن سمیت برداشت بھی کررہا تھا۔ یہ کیا کچھ ہورہا تھا‘ اف مما! ایک آپ کی ضد اور غلط فیصلے نے کتنی زندگیوں کو دائو پر لگا دیا۔ کتنا غلط اقدام تھا آپ کا اس وقت جس کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔ روحانہ کو رونا آرہا تھا‘ حالات نہ جانے کس دوراہے پر کھڑے تھے‘ نوال کی طرف سے وہ اتنی فکرمند تھی کہ کھانا پینا تک محال لگ رہا تھا۔ اوپر سے جازیہ کی یہ حرکت… اعتزاز بہت سوفٹ نیچر کا بہت اچھا انسان تھا‘ وہ روحانہ کی کیفیت سے اچھی طرح واقف تھا اور اسے حالات کا علم بھی تھا۔ وہ روحانہ کو تسلیاں دیتا کہ اللہ بہتر کرنے والا ہے۔
روحانہ اسی شام میکے پہنچ گئی تھی۔ حسب معمول جازیہ گھر پر نہیں تھی‘ رومانہ بیگم اپنے کمرے میں لیٹی تھیں اور عبیل اپنے کمرے میں لیٹا ٹی وی دیکھ رہاتھا۔ ایک وقت تھا اس بڑے سے گھر میں کتنی رونق ہوا کرتی تھی‘ بے شک رومانہ بیگم کا رویہ اور مزاج حاکمانہ تھا وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتی تھیں مگر بچے آپس میں کتنے کلوز تھے‘ ہنسا‘ بولنا‘ لڑائی جھگڑے اور کھیل… سائرہ چچی اور سدرہ چچی بھی ان لوگوں کے ساتھ ہمیشہ شامل ہوجاتی تھیں اور پھر جب کھیل میں شرطیں لگتیں ہار جیت کے فیصلے ہوتے تو چائے ہمیشہ سدرہ چچی بنا کر لاتیں‘ جھگڑوں کے فیصلے کروانا سائرہ چچی کی ذمہ داری تھی‘ کتنی رونق کتنی چہل تھی‘ لان کی صفائی تقریباً روز ہوتی‘ پودوں کو پانی دینے کی ذمے داری نوال کی ہوتی تھی‘ آج سارے پودے اجڑے ہوئے سوکھے پڑے تھے‘ لان میں ہر جانب سوکھے پتوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ بیلیں بڑھ کر بے ترتیب ہوگئی تھیں‘ عجیب وحشت اور ویرانی سی برسنے لگی تھی۔ اتنا بڑا گھر اور گھر میں صرف تین افراد تھے‘ جس میں سے بھی اکثر ہی جازیہ موجود نہ ہوتی۔
روحانہ کو دیکھ کر رومانہ بیگم کے چہرے پر رونق سی آگئی تھی۔ سلام دعا کے بعد روحانہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ کی بہو بیگم کہاں ہیں؟‘‘
’’ہوں گی کہاں اس نے نہ اس گھر کو کبھی اپنا سمجھا ہے نہ یہاں کے لوگوں کو… لگتا ہی نہیں کہ وہی جازیہ ہے جو شادی سے پہلے ہمارے آگے پیچھے پھرتی تھی‘ مگر اب تو اس کے لچھن ہی بدل گئے ہیں۔ نہ جانے کیا سمجھتی ہے خود کو‘ ایک بولو تو آگے سے ستر سنا دیتی ہے۔‘‘ رومانہ بیگم نے دل کے پھپھولے پھوڑے۔
’’مما… میں سوچتی ہوں کہ کہیں ہم سے کوئی غلطی کوئی کوتاہی تو نہیں ہوگئی جو گھر کا ماحول ایسا ہوگیا ہے۔ جازیہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔‘‘ روحانہ نے ماں کے چہرے کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے تیر پھینکا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا ہم نے کہاں غلطی کی ہے؟‘‘ رومانہ بیگم جو روحانہ کے سوال پر چونکی تھیں قدرے سنبھل کر کچھ تند لہجے میں الٹا اس سے سوال کر ڈالا۔
’’میرا مطلب ہے کچھ غلط نہیں‘ بس ایک بات ذہن میں آگئی تو شیئر کرلی آپ سے۔‘‘ روحانہ نے جلدی سے بات بنائی۔
’’اوہ آپی‘ آپ کب آئیں؟‘‘ عبیل جو اسی وقت کمرے میں آیا تھا روحانہ کے ننھے سے بیٹے سروش کو گود میں لیتے ہوئے روحانہ کو دیکھ کر پوچھا۔
’’ابھی آئی ہوں پانچ منٹ پہلے… کیسے ہو تم؟‘‘ روحانہ نے لہجے کوخوش گوار بناتے ہوئے پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں اور اعتزاز بھائی؟‘‘ عبیل نے پوچھا۔
’’وہ بھی ٹھیک ہیں۔‘‘ روحانہ نے غور سے عبیل کے سنجیدہ چہرے کی طرف دیکھا وہ کتنا بدل گیا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں نے عبیل کو مکمل چینج کردیا تھا۔ رہی سہی کسر شادی کے بعد پوری ہوگئی تھی‘ ہر دم ہنستا مسکراتا‘ شرارتیں کرتا‘ بات بات پر چھیڑ چھاڑ‘ شوخیاں‘ نہ جانے وہ سب کچھ کہاں گم ہوگئی تھیں۔ اب چہرے پر ہر دم سنجیدگی‘ افسردگی اور گہری چپ نظر آتی‘ آنکھوں میں شرارت کی جگہ اداسی نظر آتی تھی۔ لہجے کی شوخی اور کھنک کی جگہ ٹھہرائو آگیا تھا۔ روحانہ تاسف سے دیکھنے لگی۔
’’عبیل… جازیہ کو ذرا پابند کرو کہ وہ باہر جانے کے لیے کوئی وقت رکھے‘ یہ کیا ہر وقت شاپنگ اور اپنی مما کی یاد ستاتی رہتی ہے اسے… دیکھو آج کل مما کی طبیعت خراب رہتی ہے تم آفس جاتے ہو خداناخواستہ مما کی طبیعت زیادہ خراب ہوجائے تو کوئی تو ان کے پاس ہونا جو تم کو فوراً انفارم کرسکے۔ ملازم پر اتنا ٹرسٹ تھوڑا کیا جاسکتا ہے۔‘‘ ابھی روحانہ نے جملہ مکمل کیا ہی تھا قبل اس کے کہ عبیل کوئی جواب دیتا پیچھے سے جازیہ کمرے کے دروازے میں کھڑی نظر آئی۔
’’واہ بھئی واہ‘ ایک اماں کم تھیں کیا جو اب آپ بھی آگئیں ہیں انہیں میرے خلاف بھڑکانے کے لیے۔ اپنی مما کے گھر جاتی ہوں میں‘ آپ بھی تو آتی ہیں ناں یہاں… میں نے کبھی اعتراض کیا ہے کیا؟ پھر آپ کو کیا تکلیف ہوتی ہے اگر میں اپنی ماں سے ملنے جائوں تو…؟‘‘ جازیہ جاہلانہ انداز میں ڈائریکٹ روحانہ سے مخاطب تھی۔
’’جازیہ یہ کیسی باتیں کررہی ہو تم… یہ کون سا انداز ہے تمہارا اس طرح سے بات کرتے ہیں۔‘‘ عبیل نے جازیہ کی طرف دیکھ کر تیز لہجے میں کہا۔
’’کیوں میں نے ایسی کون سی غلط بات کہہ دی؟ تمہاری اماں بھی تو ایسی ہی الٹی سیدھی باتیں کرتی ہیں اور اب تمہاری بہن بھی…!‘‘
’’جازیہ‘ یہ عبیل کی بہن ہی نہیں تم سے بھی کوئی رشتہ ہے اس کا‘ جسے تم شادی سے پہلے آپی‘ آپی کہتے نہ تھکتی تھیں… اگر مجھے علم ہوتا کہ تم شادی کے بعد اتنی جلدی بدل جائوگی اس طرح سے ہمارے ساتھ رویہ رکھوگی کہ کوئی غیروں سے بھی نہ رکھتا ہوگا… مجھے ذرا سا بھی اندازہ ہوتا تو…‘‘
’’تو… تو… کیا؟ آپ میرے خلاف بھی کوئی ڈرامہ رچالیتیں… ہاں؟‘‘ جازیہ نے طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے رومانہ بیگم کی بات درمیان سے اچک لی۔
’’جازیہ… جازیہ… چپ ہوجائو… یہ کیا بدتمیزی ہے؟ روحانہ آپی کے ساتھ ساتھ تم مما سے بھی یہ کس قسم کی واہیات گفتگو کررہی ہو۔ اپنی زبان کو لگام دو… اور اپنی حد میں رہو۔‘‘
’’حد… کیسی حد…؟ عبیل مجھے نوال مت سمجھو‘ جو تم لوگوں کی اونچی آواز اور زیادتیاں برداشت کرلوں۔‘‘
’’ہاں تم نوال جیسی ہو بھی نہیں سکتیں۔‘‘ اس بار روحانہ بولی تھی نوال کے ذکر پر اس کے اندر ابال سا آگیا تھا۔
’’کیا مطلب ہے آپ کا ہاں… بولیں کیا کہنا چاہتی ہیں۔‘‘ روحانہ کی بات پر جازیہ کو پتنگے لگ گئے تھے۔
’’جازیہ اتنا بڑبڑ کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو‘ تم… تم… کتنی پارسا ہو… تم نے کیا کیا گل کھلائے ہیں… امریکہ میں کیا کیا حرکتیں کی ہیں؟ وہاں شادی بھی کی اور اور… اپنے ہونے والے بچے کو بھی ختم کروایا کہ تمہیں آزادی اور آوارگیاں زیادہ عزیز تھیں… وہاں سے طلاق لے کر یہاں آئیں اپنی حرکتوں اور باتوں سے میری مما کو پٹالیا‘ تم نے جھوٹ اور فریب سے یہاں شادی رچائی ہے۔ کتنا بڑا فراڈ کیا ہے میرے معصوم بھائی کے ساتھ کہ اتنا بڑا سچ چھپا کر اس سے شادی کی…‘‘
’’کیا… کیا؟‘‘ رومانہ بیگم کے ساتھ ساتھ عبیل بھی بری طرح چونکا۔
’’اتنا بڑا دھوکا…!‘‘ سچائی کو چھپا کر شبانہ بیگم نے کس طرح سے اپنی بیٹی کو بیاہ دیا تھا اور رومانہ جیسی چالاک‘ تیز طرار اور شاطر عورت کس آسانی سے ان کے جھانسے میں آگئی تھیں۔
’’شبانہ… اتنی گھٹیا حرکت کرے گی… میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کرے گی‘ اتنی بڑی سچائی کو چھپا کر۔‘‘ رومانہ بیگم اتنے بڑے انکشاف پر حواس باختہ ہوگئی تھیں‘ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ شبانہ ایسا کرسکتی ہیں۔
’’میری مما کو کچھ کہنے سے پہلے اپنی حرکتوں پر بھی ایک نظر ڈال لیں‘ اگر میں نے یا مما نے جھوٹ بولا‘ مکاری کی‘ غلط بیانی سے کام لیا تو آپ کون سی پارسا ہیں؟ آپ نے کون سی عبادتیں کیں‘ ثواب کمایا؟ دھوکا‘ فریب اور مکاری تو آپ نے بھی دکھائی ہے۔ گھٹیا حرکت تو آپ نے بھی کی ہے۔‘‘ جازیہ نے زہرخند لہجے میں ایک ایک لفظ چباتے ہوئے ادا کیا۔
’’جازیہ… بکواس بند کرو اپنی تم… سوچ سمجھ کر بولو… دماغ خراب ہوگیا ہے کیا تمہارا؟‘‘ عبیل جو پہلے ہی اس انکشاف پر دم بخود تھا‘ جازیہ کی حددرجہ زبان درازی اور غلط جملوں کی ادائیگی پر مزید سیخ پا ہوکر بولا۔
’’ہوگئی ہوں میں پاگل میرا دماغ خراب ہوگیا ہے‘ لیکن جب بات نکل گئی ہے تو تم حوصلہ پیدا کرو اور سچ کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرو‘ چلو میں بری سہی… میری تربیت غلط ماحول میں ہوئی۔ میں بگڑی ہوئی لڑکی تھی… میں نے وہاں پر شادی بھی کی‘ ڈیورس بھی لی… یہ میرے ماحول کا اثر تھا۔ میرے آس پاس رہنے والوں کی وجہ تھی… لیکن یہاں پر جو کچھ ہوا جو ڈرامہ تمہاری مما نے کھیلا‘ وہ جائز تھا؟‘‘ جازیہ نے تقریباً چیختے ہوئے عبیل کو مخاطب کیا۔
’’کیا… کیا… یہاں پر کیا ہوا؟‘‘ عبیل نے حیرت سے اس کے آخری جملے کی تصحیح چاہی۔ روحانہ بھی حیرت زدہ تھی جبکہ رومانہ بیگم کی چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی تھیں۔
’’جازیہ… جازیہ چپ ہوجائو۔‘‘ رومانہ بیگم بہ مشکل کہہ سکیں… ان کے چہرے کے بدلتے تاثرات اور پریشانی عبیل کے ساتھ ساتھ روحانہ کے لیے بھی باعث تشویش تھی۔
’’وہی… جو تمہاری مما نے نوال کے ساتھ کیا۔‘‘ جازیہ کی بات پر عبیل نے رومانہ بیگم کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوچکے تھے۔ چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا‘ جیسے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوگئی تھیں۔
’’عبیل یہ بات سچ ہے کہ ذکا نوال کو پسند کرتا تھا مگر یہ علم بھی سب کو تھا کہ نوال اور تم ایک دوسرے کو چاہتے ہو‘ ذکا نے کئی بار نوال کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ایک بار شاید کچھ زیادہ ہی کر گیا تھا تو نوال نے اسے تھپڑ مار دیا تھا ذکا خودسر‘ بدتمیز اور ضدی لڑکا ہے اسے یہ بات بہت بری لگی اور اس نے تمہاری مما کو یہ بات بتائی تھی جب کہ میں تمہیں پسند کرتی تھی۔ تمہاری مما کو بھی تمہارے ارادوں کا علم تھا اور جب تم نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ صرف نوال سے شادی کروگے تو تمہاری مما کے شاطر ذہن نے یہ منصوبہ بنایا تھا کیونکہ وہ بھی تمہارے راستے سے نوال کو ہٹانا چاہتی تھیں اور ذکا بھی نوال سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور میں تم سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اس رات جو کچھ بھی ہوا وہ سب ایک ڈرامہ تھا۔ نوال بے قصور تھی‘ اس کو میں نے ہی چائے کا کہا تھا‘ تو وہ چائے لے آئی تھی۔ اسے تمہاری نظروں سے گرانا تھا اور وہ گرچکی تھی۔‘‘
’’اف…! مم… مما… آپ… آپ اس حد تک جاسکتی ہیں؟‘‘ روحانہ کی حالت بھی عبیل سے مختلف نہ تھی اسے ماں سے یہ امید نہ تھی کہ وہ ایسا ڈرامہ کرسکتی ہیں‘ وہ تو سمجھتی تھی کہ ذکا نے ایسا کیا ہوگا۔
’’مما… آپ…؟‘‘ عبیل کی حالت پاگلوں جیسی ہورہی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چکراتا سر تھام لیا۔ ادھر رومانہ بیگم احساس شرمندگی اور ندامت سے رونے لگیں تھیں۔ ہمیشہ اپنی آواز اونچی رکھنے والی‘ امارت‘ تکبر اورغرور سے سر کو اٹھا کر چلنے والی رومانہ بیگم آج کتنی بے بس‘ کم ظرف بن گئی تھیں۔ اپنی اولاد کی نظروں میں گرچکی تھیں۔ کتنی تذلیل محسوس کررہی تھیں۔ کوئی لفظ… کوئی جملہ بھی تو ایسا نہ تھا کہ وہ ادا کرسکیں‘ دو کوڑی کی حیثیت ہوگئی تھی ان کی… سارا غرور… انا اور ضد مٹی میں مل گئی تھی۔
’’اف مما…! یہ کتنا بڑا ظلم کر ڈالا آپ نے ایک معصوم کو دربدر کر ڈالا۔‘‘ روحانہ بس اتنا کہہ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ عبیل کی حالت بھی دیکھنے کے قابل تھی اسے رومانہ بیگم پر اتنا غصہ آرہا تھا کہ ماں ہوکر انہوں نے کتنی گھٹیا حرکت کی تھی۔ ایک شریف اور باحیا لڑکی کو آوارہ‘ بدچلن‘ اور نہ جانے کیا کیا بنادیا تھا۔
’’اب تم کہتے ہو کہ میں حد میں رہ کربات کروں‘ وہ عورت جس نے ساری زندگی ایک معصوم عورت سے نوکروں کی طرح خدمت کرائی‘ اس پر حکومت کی‘ مرضی چلائی‘ اس عورت کو دربدر کرنے والی یہ عورت… کیا عزت کے قابل ہے؟‘‘ ایک تو عبیل پہلے ہی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو رہا تھا‘ اوپر سے جازیہ کے الفاظ نے جیسے اسے مزید آگ لگادی۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو آگے بڑھ کر زور دار طمانچہ جازیہ کے منہ پر جڑ دیا۔
’’تم… تم… بھی برابر کی شریک ہو ذلیل عورت…‘‘ عبیل کی برداشت ختم ہورہی تھی۔ حقیقت جان کر اس کے اندر جیسے آگ بھرگئی تھی وہ اندر جلنے والی آگ کی تمازت سے جھلسنے لگا تھا۔
’’بدتمیز‘ جاہل انسان… تم نے… تم نے مجھے تھپڑ مارا۔‘‘ جازیہ کے لیے عبیل کا یہ تھپڑ غیر متوقع اور حیران کن تھا‘ اس نے آگے بڑھ کر عبیل کا گریبان پکڑلیا۔
’’مجھے نوال مت سمجھو… میں جازیہ ہوں… جازیہ… تم میری ضد تھے تم کو حاصل کرنا تھا سو میں نے کرلیا‘ ورنہ مجھے کوئی شوق نہیں ایسے ڈرامے باز لوگوں کے گھر میں رہنے کا‘ یہ گھر نہیں‘ قبرستان ہے قبرستان… ویران اور خاموش‘ مجھے نہیں رہنا یہاں‘ مجھے ابھی اور اسی وقت طلاق چاہیے۔‘‘ جازیہ کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا تھا‘ وہ غصے سے بے قابو ہورہی تھی۔
’’جازیہ… جازیہ ہوش کرو… یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ روحانہ اس بگڑتی صورت حال سے گھبرا کر دونوں کے درمیان آگئی اور جازیہ کوبازو سے پکڑ کر سمجھانا چاہا۔
’’ہٹ جائو تم میرے سامنے سے… یہ سارا فساد تم نے پھیلایا ہے۔‘‘ جازیہ نے چلاتے ہوئے کہا اور روحانہ کو پکڑ کر زور سے دھکا دیا۔ روحانہ کا سر الماری کے کونے پر جاکر لگا تھا وہ درد کی شدت سے چیخی۔
’’جازیہ…‘‘ عبیل پلٹا اور جازیہ کے منہ پر طمانچہ دے مارا۔ ’’ذلیل عورت‘ ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکل جائو۔ میں نے تمہیں طلاق دی‘ میں نے تمہیں طلاق دی‘ میں نے تمہیں طلاق دی۔ نکل جائو ابھی اور اسی وقت۔‘‘ عبیل نے اسے دھکا دے کر کمرے سے باہر نکال دیا۔
’’میں بھی لعنت بھیجتی ہوں‘ اس گھر پر اور یہاں کے لوگوں پر۔‘‘ جازیہ نے نفرت اور حقارت سے کہا اور روتے ہوئے کمرے سے نکل کر باہر کی جانب نکلتی چلی گئی۔ رومانہ بیگم چہرہ چھپائے بے تحاشہ رو رہی تھیں۔ روحانہ روتے ہوئے سروش کو سنبھالنے لگی جو اس صورت حال سے گھبرا کر بری طرح رو رہا تھا۔ عبیل نے ایک تیز اور غصیلی نظر رومانہ بیگم پر ڈالی اور بنا کچھ کہے تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔
روحانہ عبیل کے کمرے کی طرف آئی‘ عبیل مٹھیاں بھیجنے اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ کتنی بے چینی اور اضطرابی کیفیت تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی مما کو کیا کہے؟ کتنی گری ہوئی حرکت کی تھی انہوں نے وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ روحانہ، سدرہ چچی اور نوال سے اس حد تک نفرت کرتی ہیں کہ اس حد تک جاسکتی تھیں‘ انہوں نے کتنا گھنائونا کھیل کھیلا تھا۔ ایک معصوم اور باحیا لڑکی کو کس طرح بدنام کرکے اس کی نظر میں مشکوک بنادیا تھا اور وہ معصوم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر… یااللہ! مجھ سے کتنی بڑی بھول ہوگئی تھی‘ نہ جانے وہ کہاں ہوگی…؟ کس حال میں ہوگی؟ یااللہ اس وقت میرے دل ودماغ پر غفلت کا پردہ کیوں پڑگیا تھا۔ میں جو بچپن سے اسے جانتا تھا اس کی ایک ایک بات سے واقف تھا‘ اس کی فطرت کو سمجھتا تھا‘ کیوں… کیوں؟ میں نے اس کی بات نہیں سنی؟ اس کی سچائی پر‘ اس کی پارسائی پر کیوں شک کیا میں نے؟ میں… نے اس کی بات کیوں نہیں سنی…؟ روحانہ نے قریب آکر اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’آپی…‘‘ وہ روحانہ سے لپٹ کر بری طرح رونے لگا۔ ’’آپی… یہ سب کیا ہوگیا‘ مما نے ایسا کیوں کیا؟ اگر مما اس کی شادی مجھ سے نہیں کرنا چاہتی تھی تو نہ کرتیں مگر‘ مما اس حد تک چلی گئیں‘ ایک معصوم لڑکی کو بے عزت کر ڈالا‘ اس پر آوارگی کا الزام لگا دیا یہاں تک کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی اور نہ جانے سدرہ چچی کے ساتھ کہاں کہاں بھٹک رہی ہوگی‘ آپی ہم سب نے مل کر ظلم کیا ہے۔ ہم سب نے ہی بلا سوچے سمجھے ان کی بات پر یقین کرلیا…!‘‘ وہ بے تحاشہ رو رہا تھا۔
’’ہاں میرے بھائی واقعی اس وقت بہت بڑی غلطی ہوگئی تھی لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ نوال کراچی میں ہے۔ سدرہ چچی کی ڈیتھ ہوچکی ہے اور نوال کی شادی ہوگئی ہے اور نوال کی شادی جس سے ہوئی ہے وہ جازیہ کا پہلا شوہر ہے جس نے امریکہ میں جازیہ سے شادی کی تھی۔‘‘
’’آپی نوال کی بھی شادی ہوگئی۔‘‘ وہ زیرلب بڑبڑایا۔ ’’اور… آپ کو یہ سب کیسے پتہ چلا‘ وہ کہاں ہے‘ اس کا گھر کہاں ہے اور سدرہ چچی کی ڈیتھ کب ہوئی’ اس کا فون نمبر اس سے کوئی رابطہ؟‘‘ وہ بے تابی سے سوال پر سوال کئے جارہا تھا۔ تب روحانہ نے اس کو ہاسپٹل میں ملنے سے لے کر فون پر بات ہونے تک کی ساری باتیں بتادیں اوریہ بھی کہ اس کا شوہر جازیہ سے وابستہ ہر شخص سے نفرت کرتا ہے اور اس روز شاید ہماری بات اس نے سن لی کیونکہ مجھے کسی آدمی کے چیخنے چلانے کی آواز آئی۔ اس کے بعد سے میں نے کتنی بار کوشش کی مگر… اس کا نمبر بند جارہا ہے۔‘‘ روحانہ نے روتے ہوئے تفصیل بتائی۔
’’اوہ آپی‘ یہ سب کیا ہوگیا؟ وہ ملی بھی اور بچھڑ بھی گئی۔ آپی کاش‘ کاش ایک بار وہ مجھے کہیں مل جائے تو میں اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لوں گا۔‘‘ ایک طرف جازیہ کا رویہ اس کو طلاق دینا‘ مما کے بارے میں اتنی بڑی سچائی سننا اور پھر نوال کے بارے میں یہ سن کر عبیل بے حد آزردہ اور بے قرار ہوگیا تھا۔
’’صبر کرو میرے بھائی ہم ویسے بھی شاید نوال سے کبھی نہ مل سکیں کیونکہ اس کے شوہر کو پسند نہیں ہے‘ ہم صرف اس کے لیے دعا کرسکتے ہیں کہ اللہ پاک اسے جہاں بھی رکھے سلامت اور اپنے حفظ وامان میں رکھے۔‘‘ روحانہ بھی بے حد دل برداشتہ اور مضمحل تھی۔
’’آپی میں… میں… مما کو کبھی بھی معاف نہیں کرسکتا۔‘‘ عبیل نے حتمی لہجے میں کہا۔ ’’میں ان سے بات نہیں کروں گا انہوں نے ہم سب پرظلم کیا ہے آپی… سدرہ چچی جو کہ بیمار تھیں‘ نوال جوان‘ خوب صورت لڑکی‘ وہ بیمار ماں کے ساتھ کس طرح نکلی ہوگی‘ اس وقت اس کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟ کاش… میں… اس وقت مما کو سمجھ لیتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔‘‘ وہ حددرجہ پشیمان تھا‘ رہ رہ کر اپنی کوتاہی اور سنگ دلی پرغصہ آرہا تھا۔ ساتھ ساتھ رومانہ بیگم کی طرف سے اس کا دل بہت برا ہوگیا تھا۔
روحانہ بہت مضمحل اور اداس سی اپنے گھر لوٹ گئی تھی‘ ادھر رومانہ بیگم کا بھی رو رو کر برا حال تھا۔ جازیہ نے ان سے ٹھیک بدلہ لیا تھا۔ رومانہ بیگم خود کو کتنا بے بس تصور کررہی تھیں جب کہ ان کی اولاد ہی ان سے ناراض ہوگئی تھی۔ ان کی آنکھوں سے غرور‘ تکبر‘ انا اور ضد کی پٹی اتر چکی تھی۔ وہ سخت پشیمان اور نادم تھیں۔ انہیں رہ رہ کر اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا‘ آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد جب وہ اپنی اولاد کے سامنے ہی شرمندہ ہوگئی تھیں۔ انہیں یہ خیال آرہا تھا کہ انہوں نے اس وقت بہت غلط کیا تھا۔ ایک ایک بات یاد آتی گئی اور اب وہ پچھتا رہی تھیں۔ عبیل نہ ان کے کمرے میں جاتا نہ بات کرتا‘ گھر کی نوکرانی ہی ان کا خیال رکھتی تھی۔ تین دن بعد روحانہ آئی تو رومانہ بیگم اس کو دیکھ کر بری طرح رو دیں۔ روتے روتے نہ جانے کیا ہونے لگا۔ ہاتھ پائوں اکڑ سے گئے تھے‘ زبان بھی جیسے لڑکھڑانے لگی تھی۔ روحانہ نے چیخ کر عبیل کو بلایا۔ عبیل آیا تو رومانہ بیگم اس کے ہاتھ تھام کر بری طرح سسک پڑیں۔
’’میرے بچے… میں… میں بہت گناہ گار ہوں‘ نہ جانے اس وقت میرے ذہن پر صرف شبانہ اور اس کے بچے ہی کیوں سوار رہتے تھے… میں… اچھے برے کے فرق کو بھول چکی تھی‘ میں نے بے گناہ اور معصوم بچی کے ساتھ بہت ظلم کیا‘ میرا گناہ قابل معافی نہیں‘ اب یہ پشیمانی‘ ندامت مجھے لمحہ‘ لمحہ مار رہی ہے‘ پچھتاوے کا زہر‘ قطرہ قطرہ میری رگ میں اتر رہا ہے۔ میں پل پل اذیت اور تکلیف کا شکار ہوں۔ اگر… کہیں سے نوال آجائے… سدرہ مل جائے تو میں ان کے پیروں پر سر رکھ کر معافی مانگ لوں گی۔ میں اب اس ندامت کے احساس کے ساتھ جینا نہیں چاہتی۔ مجھے معاف کردو میرے بچوں۔‘‘ وہ روتے ہوئے بے ترتیب جملے ادا کررہی تھیں۔ ان کو بولنے میں تکلیف ہورہی تھی۔ سر عجیب انداز میں ٹیڑھا ہونے لگا تھا۔ ہاتھ پیر سن ہونے لگے تھے۔
’’مما… مما…!‘‘ دونوں آخر اولاد تھے کیسی بھی تھیں ان کی ماں تھیں‘ وہ دونوں تڑپ کر چلائے۔
’’مما ہم نے معاف کیا‘ آپ آپ کو کیا ہورہا ہے؟‘‘ رومانہ بیگم کے جسم پر رعشے جیسی کیفیت طاری ہوئی اور… وہ بے ہوش ہوگئیں۔ فوراً ہی ایمولینس منگوا کر ہاسپٹل لے کر بھاگے۔ انہیں فوراً ایمرجنسی میں پہنچا دیا گیا۔ رومانہ بیگم کو فالج کا اٹیک ہوا تھا۔ وہ کچھ دنوں میں ٹھیک ہوکر واپس تو آگئی تھیں لیکن ان کا آدھا جسم مفلوج ہوچکا تھا۔ زبان میں اس قدر لکنت آگئی تھی کہ بات نہ کی جارہی تھی۔ بس زندہ لاش کی صورت کونے میں پڑی رہتی تھیں۔ ہر دم دندناتی پھرنے والی بھاری بھرکم اور تمکنت والی رومانہ بیگم بستر پر پڑی رہتیں‘ آواز کی کرختگی‘ چہرے کا جاہ وجلال‘ رعب دبدبہ‘ سب کچھ مٹی میں مل چکا تھا۔ اب بستر پر پڑی ہر دم اللہ اللہ کرتی رہتیں اور رو رو کر اللہ پاک سے معافیاں مانگتی رہتی تھیں۔ اماں کی ایسی حالت دیکھ کر روحانہ مستقل طور پر یہیں شفٹ ہوگئی تھی۔ عبیل بالکل چپ ہوکر رہ گیا تھا۔ ہر دم خاموش رہتا‘ اپنے کام سے کام رکھتا‘ آفس سے آتا تو تھوڑی دیر سروش سے کھیلتا‘ پھر اپنے کمرے میں چلا جاتا۔ ہردم ایک وحشت ایک اداسی برستی رہتی تھی۔ سائرہ‘ جاسم‘ اور شازیہ کبھی کبھار بات کرلیا کرتے تھے پھر وہی اداسی اور خاموشی کا راج تھا۔ عبیل جب حد سے زیادہ اداس ہوجاتا‘ وحشتیں عروج پر ہوتیں تو وہ گاڑی لے کر نکل جاتا‘ یونہی بے مقصد سڑکوں پر گھومتا رہتا‘ ہر شاپنگ سینٹر‘ ہاسپٹل اور پکنک پوائنٹ جاتا کہ شاید کہیں کسی شاپ پر‘ کسی ہاسپٹل کے گیٹ پر‘ کسی پکنک پوائنٹ پر اسے نوال نظر آجائے‘ ساحل سمندر پر گھنٹوں گھومتا رہتا‘ مگر ہر بار اس کی نگاہیں مایوس ہوکر لوٹ آتیں۔ کہیں پر بھی‘ کسی جگہ بھی نوال کی جھلک تک نظر نہ آتی۔ عجیب سی زندگی ہوگئی تھی بے چینی‘ بے قراری‘ بے کلی‘ ندامت اور بہت کچھ کھودینے کے احساس نے عبیل کو بالکل توڑ کر رکھ دیا تھا۔
/…l/l…/
نوال بیڈ پر لیٹی چھت کو تک رہی تھی۔ کیسی زندگی ہوگئی تھی اس کی‘ بے کیف‘ اور بے مزہ نہ جینے کی خواہش باقی رہی تھی نہ دل میں کوئی ارمان تھے‘ زندگی تو ایک مجرم‘ ایک قیدی سے بھی بدتر ہوکر رہ گئی تھی۔ صرف سانسیں اس کی اپنی تھیں وگرنہ تو وہ سارب کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی تھی۔ اس کا اور سارب کا رشتہ صرف ضرورتوں کی حد تک تھا۔ وہ سارب کے سارے کام وقت پر کردیا کرتی‘ نہ اسے کھانے کے لیے انتظار کرنا پڑتا‘ نہ کپڑے دھلنے اور استری کی فکر ہوتی‘ ہر چیز وقت پر تیار ملتی‘ وہ بات کرتا تو صرف اس کو ٹارچر کرتا‘ طعنہ زنی ہوتی‘ اس کے ماضی کو لے کر زہر آلود جملے اس کی سماعتوں میں انڈیلتا‘ اس کی کردار کشی کرتا اور ساتھ اپنے گھر میں رکھنے کا احسان بھی جتاتا رہتا۔ نوال رو رو کر اسے اپنے ماضی کی صفائیاں دیتی خود کو بے گناہ اور باحیا ہونے کی دہائیاں دیتی مگر… وہ… ہر بات کے جواب میں اسے ایک اور گندے لفظ سے نواز دیتا۔ نوال تو مکمل طور پر سارب کی نظر میں بدکردار اور بے حیا ہوچکی تھی۔ اس روز بے چینی حد سے زیادہ بڑھی… پرانے رشتے اور ماضی کی خوش گوار یادوں نے دل پر دستک دی‘ ساتھ ہی کچھ اپنے یاد آگئے تو وہ پرانی ڈائری نکال کر بیٹھ گئی۔ پرانی خوش گوار یادوں کے ساتھ‘ مما کے ساتھ گزرے ہوئے ایک ایک پل کی داستان رقم تھی۔ وہ زار وقطار رونے لگی۔ سدرہ کی یاد نے اس کی بے چینی میں مزید اضافہ کردیا۔
’’مما آپ کی بیٹی کن حالات میں جی رہی ہے…؟ اس کا کردار آج بھی مشکوک ہے… میرا شوہر مجھے تالے میں بند کرکے رکھتا ہے کہ میں کہیں بھاگ نہ جائوں… یا کوئی گھر میں نہ آجائے… کتنی تنہا ہوں میں… کتنی اکیلی…‘‘ وہ اس قدر کھو گئی کہ اسے شام ڈھل جانے کا بھی احساس نہ ہوا… کمرے میں اندھیرا پھیل گیا تھا۔ مگر اسے باہر کے اندھیروں سے اب خوف نہیں آتا تھا‘ اندر جو اتنا گہرا اندھیرا تھا۔ اس کے روم روم میں اندھیرا اور اداسی بسی ہوئی تھی۔ کوئی روزن‘ کوئی راستہ اور کوئی روشنی کی کرن نہ تھی‘ کس سے گلہ کرتی‘ بس اللہ کے آگے ہی وہ دل بھر کے رولیتی‘ اس سے ہی مدد مانگتی‘ اچانک کمرے کی لائٹ جلی تو وہ خیالات سے چونکی۔
’’اوہو… تو گزشتہ باتوں‘ واقعات اور لمحات کو یاد کرکے آنسو بہائے جارہے ہیں۔ سوگ منایا جارہا ہے اپنے یاروں سے بچھڑنے کا…؟‘‘ زہر میں بجھا ہوا تیر اس کی جانب پھینکا۔ وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’یہ… یہ کیا ہے؟‘‘ آگے بڑھ کر ڈائری اس کے سامنے سے اٹھالی۔
’’سارب یہ ڈائری مجھے واپس کردیں۔ اس میں میری مما کی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ ان سے وابستہ بہت سی یادیں ہیں‘ یہ مجھے بہت عزیز ہے۔ مجھے جان سے پیاری ہے‘ مجھے واپس دے دیں۔‘‘ وہ تیزی سے اٹھی اور ڈائری سارب کے ہاتھ سے لینی چاہی۔
’’مما… یا پھر تمہارے پرانے عاشق کی عشق بازیوں کے قصے ہیں۔ وہی تمہارا کزن‘ تمہارا پرانا عاشق‘ جس سے تمہاری عشق کی داستانیں مشہور تھیں۔‘‘ طنز سے ہنستے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے جاہلانہ لہجے میں بولا۔
’’سارب پلیز… آپ پڑھ سکتے ہیں اس میں جو کچھ لکھا ہے۔‘‘ وہ تڑپ کر بولی۔
’’ہاہاہاہا‘ میں پڑھوں… کیوں پڑھوں میں؟ میں کیا… آج کے بعد یہ ڈائری اس قابل نہیں رہے گی کہ میں تو کیا تم بھی اسے پڑھ سکو۔‘‘ وہ ڈائری کا ایک ایک پیج پھاڑنے لگا۔
’’سارب… سارب خدا کے لیے… ایسا مت کریں‘ میری مما کی یادیں ہیں… پلیز… پلیز۔‘‘ وہ پاگلوں کی طرح اس سے ڈائری لینے کی کوشش کررہی تھی ساتھ ہی آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔
’’یہ لو…‘‘ وہ ادھر سے ادھر کرتا… قہقہے لگاتا اور ساتھ ساتھ پیج بھی پھاڑ رہا تھا۔ وہ دیوانوں کی طرح اسے روکنے کی ناکام کوشش کررہی تھی لیکن وہ… پوری ڈائری کے صفحے پرزے پرزے کرکے ہوا میں اچھال چکا تھا۔ وہ چلاتی رہی‘ منتیں کرتی رہی‘ مگر سارب پر تو جیسے جنون سوار تھا وہ ڈائری کے خالی کور کو پھینک کر کمرے سے باہر چلا گیا‘ ڈائری کے چھوٹے چھوٹے بے شمار بکھرے ہوئے ٹکڑے ہوا سے ادھر ادھر اڑ رہے تھے۔ وہ بے بسی سے روتی ہوئی زمین پر بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے بکھرے ہوئے صفحات اکٹھا کرنے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔ یہ اذیت دینے کا کون سا طریقہ تھا؟ کتنی اذیت دے رہا تھا وہ… نہ جانے کتنی دیر وہ وہیں اسی حالت میں بیٹھی اپنی مما کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔
’’اٹھو بس کرو اب یہ سوگ اپنا‘ منحوس عورت مجھے کھانا دو بھوک لگی ہے۔‘‘ نہایت سفاک آواز پر وہ اٹھی اور آنسو پونچھتی ہوئی کچن کی سمت بڑھ گئی۔ کھانا کھا کر وہ ٹی وی دیکھنے بیٹھ گیا… نوال چائے بنا کر لائی تو اس نے کہا۔
’’ادھر بیٹھو یہ ڈراما دیکھو سیم تمہاری اسٹوری ہے۔ ایک لڑکی اور دو عاشق وائو۔‘‘ طنزیہ لہجے میں کہا۔ وہ بنا جواب دیئے پلٹی… سارب نے اس کی کلائی پکڑلی… درد کی شدت سے نوال کی سسکی نکل گئی۔
’’بیٹھو اور پورا ڈرامہ دیکھو۔‘‘ یہ اذیت کا کون سا انداز تھا وہ صوفے پر ٹک گئی۔
’’یااللہ یہ کیسا امتحان ہے میرے مالک اس شخص کی سوچ کتنی غلیظ ہوگئی ہے‘ خوامخواہ کیوں مجھ پر زندگی تنگ کررہا ہے…؟ اسے ٹھیک کردے یا مجھے موت دے دے۔‘‘ جب کچھ نہ سجھائی دیتا تو وہ اپنے لیے موت مانگتی کہ شاید وہاں جاکر کچھ پرسکون ہوجائے۔
سارب دن بہ دن ٹارچر کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈنے لگا تھا۔ ہر بات میں اسے آوارہ اور بدچلن ٹھہرانا اس کا اولین فرض ہوگیا تھا‘ کبھی کبھی نوال کا دل کرتا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے بھاگ جائے مگر… وہ تو تالے میں بند رہتی… اور… جاتی بھی تو کہاں جاتی…؟ کون سا ٹھکانہ تھا اس کا… روحانہ آپی سے مل کر اسے تھوڑی تسلی ہوئی تھی۔
’’میرا کون ہے… کس کے پاس جاسکتی ہوں‘ کون مجھے سہارا دے گا؟‘‘ یہ دکھ بہت اذیت ناک اور تکلیف دہ تھا۔ عورت اپنے سسرال والوں کا ظلم زیادتی بھی برداشت کرلیتی ہے‘ شوہر بھی اگر زیادتی کرے تو وہ میکے کا سہارا لے لیتی ہے۔ عورت عمر کی کسی منزل پر ہو اس کے لیے ’’میکے‘‘ کا غرور اور مان بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ سسرال میں ظلم‘ زیادتی اور جبر برداشت کرنے والی عورتیں جب کچھ دیر کے لیے میکے جاتی ہیں تو سسرال کے سارے درد‘ دکھ‘ ساس کی صلواتیں‘ نند کی طنزیہ باتیں‘ کام کا بوجھ‘ سب کچھ بھول جاتی ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ ایک قیدی کی طرح اسے عمر قید کی سزا کاٹنی تھی۔ رحم کی اپیل کرتی بھی تو کس سے کرتی؟ یہاں تو سزا دینے والا بھی سارب تھا سزا سنانے والا بھی سارب تھا۔ وہ بھلا کیسے بے گناہی کا یقین دلاتی۔ وہ تو کچھ سننے کو تیار تھا نہ کچھ ماننے کو‘ اس کا ہر فیصلہ آخری ہوتا جیسے قلم توڑ ڈالا ہو۔
آج صبح سے مشین لگا کر اس نے کپڑے دھوئے‘ پردے اور چادریں بھی دھوئیں‘ دوپہر تک فارغ ہوکر نہا کر نکلی تو ظہر کی اذان ہونے لگی۔ وہ نماز کے لیے کھڑی ہوئی‘ تب ہی سارب آگیا‘ وہ اسی طرح اچانک سے کسی بھی وقت آجاتا تھا۔ نہائی دھوئی نکھری نکھری سی وہ اچھی لگ رہی تھی۔
’’کون آیا تھا یہاں آج…؟‘‘ آتے ہی بدتمیزی سے نوال کو جائے نماز سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے کہا۔
’’سارب… سارب یہ کیا بدتمیزی ہے…‘‘ یوں اچانک نماز کے دوران گھسیٹنے پر بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔ ’’نماز پڑھ رہی تھی ناں۔‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی‘ بڑی آئی نماز پڑھنے والی… بتائو آج گھر میں کون آیا تھا؟‘‘ سارب نے چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے سوال کیا۔ ’’مجھے یہاں پر سگریٹ کی بو آرہی ہے اور تم… تم بھی بڑی کھلی کھلی لگ رہی ہو۔‘‘ اس کے لہجے میں حقارت تھی۔ ساتھ ہی اس کا بازو پکڑ کر جھٹکا دیا۔
’’سارب ہوش کریں کیا ہوگیا ہے آپ کو… آپ باہر سے گیٹ لاک کرکے جاتے ہیں اور جب آتے ہیں تب ہی تالا کھلتا ہے پھر… بھلا کیسے کوئی آسکتا ہے اور کون آئے گا یہاں پر؟‘‘ نوال نے کہا۔
’’دیوار پھلانگ کر بھی تو کوئی آسکتا ہے… سچ… سچ بتائو۔‘‘ کلائی پر گرفت سخت کرتے ہوئے سارب زہریلے لہجے میں بولا۔
’’خدا کا واسطہ ہے سارب… اتنی بدگمانی اچھی نہیں۔‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی… مجھے سگریٹ کی بو آرہی ہے مجھے یقین ہے کہ کوئی آیا تھا۔‘‘ وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا بولا۔
’’آپ چیک کرلیں گھر کا کونا کونا‘ تسلی کرلیں اپنی۔‘‘ نوال نے بے بسی سے کہا۔
’’مکار عورت ایک نہ ایک دن تجھے رنگے ہاتھوں پکڑوں گا۔‘‘ زہریلے لہجے میں کہتا ہوا نوال کو جائے نماز کی طرف دھکیل کر وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔
’’یااللہ! کیسے سمجھائوں‘ کیسے یقین دلائوں اس آدمی کو؟ کس حد تک گر چکا ہے یہ… کیسے مکروہ خیالات آجاتے ہیں اس کے ذہن میں…؟ کیسی کیسی خرافات پال رکھی ہیں اس نے اپنے اندر… کتنا زہر… کتنا لاوا چھپا ہوا ہے اس کے اندر؟ کس طرح اس کے ساتھ جی پائوں گی؟ اس کی بدگمانیاں دن بہ دن بڑھتی جارہی ہیں‘ روزانہ ایک نئی بات لے کر وہ مجھے بے عزت کیے جاتا ہے‘ مجھ پر الزام لگا کر میرے کردار پر کیچڑ اچھالتا ہے‘ میں کب تک یہ اذیت سہوں…؟‘‘ وقت کے ساتھ اس کی جرح‘ اس کی بدگمانی اور شکوک بڑھتے جارہے تھے‘ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اسے دیکھتا وہ کچن میں ہوتی تو دس چکر لگا لیتا۔ ہر بار طنزیہ جملہ اور کوئی تکلیف دہ جملہ کہتا۔
اس روز نوال چائے بنانے کچن میں آئی تو دل بے تحاشا بھر آیا۔ وہ چائے کا پانی چولہے پر رکھ کر وہیں اسٹول پر بیٹھ گئی۔
’’چائی بنا رہی ہو تو دو کپ بنالو پلیز۔‘‘ کانوں کے پاس ہی عبیل کی چہکتی آواز گونجی… ’’ارے یار! اب تو بن بھی چکی۔‘‘ اس نے ساس پین پکڑ کر کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے کہا۔
’’اوہو!‘‘ عبیل کا منہ بن گیا۔
’’روتے کیوں ہو دونوں مل کر پئیں گے ناں۔‘‘
’’وائو گڈ‘ تھینک یو سو مچ۔‘‘ عبیل یک دم سے خوش ہوکر اس کے پاس ہوکر مسکرایا تھا۔
’’اوہنہ…!‘‘ اسے دھکا دیتے ہوئے نوال نے آنکھیں نکالی اور پھر دونوں ہنس دیئے تھے۔
دفعتاً نوال کو لگا جیسے کسی نے بازو پر دہکتا ہوا کوئلہ رکھ دیا ہو سسکاری اس کے لبوں سے خارج ہوئی چونک کر بے ساختہ اپنا بازو مسلا… جلن کی شدت سے نوال کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔
سامنے سارب کھڑا تھا۔ اس نے دھندلائی آنکھوں سے اپنے بازو کی طرف دیکھا جس پر سگریٹ سے داغ لگایا گیا تھا اور بڑا سا آبلہ پڑگیا تھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ بے حال ہونے لگی تھی۔
’’تم تو نہ جانے کس عاشق کے خیالات میں گم تھیں احساس بھی نہیں ہوا کہ چائے جل رہی ہے۔‘‘ سارب نے نفرت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
چائے کا پانی خشک ہوچکا تھا وہ بدحواس ہوکر جلدی سے ساس پین اتارنے لگی تو بے خیالی اور بوکھلاہٹ میں جلتے ہوئے گرم ساس پین کو پکڑ لیا۔
’’نہ جانے کہاں اور کس کے خیالات میں کھوئی رہتی ہو بے حیا عورت تمہیں تو دہلیز بدلنے کی عادت ہے ناں۔‘‘ لہجے میں زہر بھرا ہوا تھا۔
’’سارب… سارب بس کریں… آپ… آپ زیادتی کررہے ہیں میرے ساتھ… میں برداشت نہیں کرسکتی۔‘‘ وہ بھی جواباً بولی۔
’’بند کرو بکواس۔ تم کیا برداشت کررہی ہو‘ تم تو ہوہی ایسی‘ اور جازیہ نے تمہاری ماں کے بارے میں بھی بتایا تھا کہ ان کی بارات بھی تو نہیں آئی تھی اور… ایک لڑکی کی بارات نہ آنے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ اور تم… تم بھی اسی عورت کی بیٹی ہو‘ ظاہر ہے جب ماں ایسی ہوگی تو بیٹی بھی تو اس کے…‘‘
’’سارب… اسٹاپ!‘‘ وہ پوری قوت سے چلائی۔ اس کی برداشت جواب دینے لگی تھی۔
’’میری مما کے بارے میں ایک لفظ بھی اور مت نکالنا اپنی زبان سے۔ مجھ پر آپ نے ہر قسم کا الزام لگایا‘ اذیت‘ دکھ اور تکلیف دی‘ مجھے لفظوں کے نشتر سے پل پل مارا‘ میرے کردار کو مشکوک بنایا‘ میں رو رو کر اپنی پارسائی کا اپنی پاکیزگی کا یقین دلاتی رہی‘ مگر آپ نے ہرہر مقام پر میری عزت کے پرخچے اڑائے ہیں۔ تذلیل کی‘ میں آپ کی اماں کی پسند تھی‘ انہوں نے مجھے دیکھا‘ پرکھا تو ہی آپ سے شادی کروائی مگر آپ… آپ نے ایک چھوٹی سی بات کو لے کر مجھ پر زندگی تنگ کردی بس… میرا قصور ہے تو اتنا کہ میں نے اپنی بہن سے بات کرلی۔ آپ نے تو حد کردی‘ آپ کے ڈر سے آپ کے شکوک کی وجہ سے میں کئی کئی دن کپڑے نہیں بدلتی‘ بال نہیں بناتی کہ آپ کو یہ بھی برا لگتا ہے‘ میں آپ کے لیے تیار ہوں تو آپ کو آوارہ لگتی ہوں‘ میں نے آپ کی مرضی اور آپ کی منشاء کے مطابق زندگی گزارنے کی ہرممکن کوشش کی خود پر ہر قسم کے ظلم‘ زیادتی اور الزامات برداشت کیے لیکن… لیکن… میں ہرگز… ہرگز یہ برداشت نہیں کروں گی کہ آپ میری معصوم مرحومہ ماں کے بارے میں کوئی بکواس کریں۔‘‘ وہ غصے سے جملہ مکمل کرکے سارب کو دھکا دے کر کچن سے باہر نکل آئی۔
’’ک… ک… کیا… بکواس کررہی ہو تم… میں‘ میں بکواس کررہا ہوں… یہ بولا تم نے؟‘‘ سارب تیزی سے آگے آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے غصے سے بولا۔
’’ہاں… آپ نے ذلالت کی انتہا کردی ہے‘ میری مری ہوئی ماں کو درمیان میں لاکر سارب! حد ہوتی ہے کسی بات کی اور… اور کتنا امتحان لیں گے میرے حوصلے وہمت کا‘ میری برداشت اور صبر کا… میں اپنے بارے میں برداشت کرسکتی ہوں مگر… خبردار جو میری ماں کے بارے میں آئندہ ایک لفظ بھی بولا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا‘ سمجھے آپ؟‘‘ وہ ضبط کی آخری حدیں توڑتی ہوئی چلا کر بولی۔
’’چپ کر‘ بہت بولنے لگی ہے بدتمیز عورت‘ کون ہے تیرے پیچھے؟ کس کی زبان آگئی ہے تیرے منہ میں؟‘‘ وہ ہاتھ کو جھٹکا دے کر خباثت سے بولا… ساتھ ہی ایک تھپڑ بھی نوال کے منہ پر مارا۔
’’نہیں چپ کروں گی‘ آج آج میں چیخوں گی چلائوں گی‘ بتائوں گی سب کو کہ تم کتنے گھٹیا‘ نیچ اور ظالم انسان ہو۔‘‘ وہ تکلیف سے بے حال ہوکر اس کے دوبدو چلا کر بولی۔
’’چپ ہوتی ہے یا نہیں۔‘‘ آگے بڑھ کر سارب نے نوال کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے… درد کی شدت سے نوال تڑپ گئی۔ ساتھ ہی ہاتھ‘ لاتیںاورگھونسے برسانے لگا۔
’’سارب سارب… مجھے چھوڑو… پاگل انسان… سارب خدا کے لیے… چھوڑو مجھے وہ دونوں ہاتھوں سے اس کو دھکا دیتی ہوئی خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کررہی تھی مگر… سارب… پر نہ جانے کیسا جنون سوار تھا‘ جیسے آج وہ نوال کو مار ہی ڈالے گا… ’’سارب چھوڑ دو مجھے…‘‘ وہ چلا رہی تھی۔
’’چھوڑ دوں…‘‘ ہاتھ روک کر اس کے منہ کے قریب منہ لاکر پوچھا۔ ’’جا چھوڑ دیا تجھے…‘‘ مٹھی میں جکڑے بالوں کو ہاتھ کی گرفت سے آزاد کیا… ’’تجھے چھوڑ دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جا میں نے تجھے طلاق دی‘ طلاق دی‘ میں نے تجھے طلاق دی۔‘‘
’’سارب… سارب…!‘‘ وہ آنکھیں پھاڑے اس بے رحم شخص کو دیکھتی رہی وہ اسے آزاد کرکے جاچکا تھا۔
’’جسم کے ایک ایک عضو سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں‘ پورا وجود پھوڑے کی مانند دکھ رہا تھا‘ جسم تو گھائل تھا ہی مگر اس سے زیادہ گہرا گھائو تو اس کی روح پر لگا تھا‘ آناً فاناً اس کی تقدیر کا فیصلہ سنا کر ابن آدم اپنا حق استعمال کرکے جاچکا تھا اور بنت حوا‘ مجبور‘ بے بس اپنے پور پور دکھتے وجود کو لے کر سسک رہی تھی۔
’’جیسا بھی تھا سر چھپانے کا ٹھکانہ تو تھا اب وہ کہاں جائے گی؟ یہی ایسا سوال تھا جس کو لے کر وہ سارب کی زیادتیاں‘ ظلم سہتی آئی تھی اور اب… اب…‘‘ یہی سوال منہ پھاڑے اس کے سامنے تھا کہ وہ جائے تو کہاں جائے۔
’’روحانہ آپی‘ مگر نہ جانے وہ کہاں رہتی تھیں… رات کا ٹائم تھا رات کے گیارہ بجے وہ یہاں سے نکلتی تو کہاں جاتی…؟ ذہن پر زور دیا مگر… مگر… روحانہ کا نمبر… اس وقت وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم ہوچکی تھی۔ یہاں پر رکنے کا کوئی جواز تھا نہ کوئی وجہ… اسے ہر صورت یہاں سے نکلنا تھا‘ بہ مشکل اپنا دکھتا ہوا جسم لے کر وہ اٹھی‘ آخری نظر گھر کے درودیوار پر ڈالی‘ جب وہ اور سدرہ دل میں لاکھوں خدشات اور واہمات لیے اس گیٹ پر آکھڑے ہوئے تھے… لیکن ثروت خانم کی محبت‘ خلوص اور اپنائیت نے ان دونوں میں ہمت‘ حوصلہ پیدا کیا تھا۔ ثروت خانم کی یاد آئی تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑیں‘ کتنی پیاری‘ مخلص اور نیک خاتون تھیں پھر سدرہ کی موت… مما… مما… دل سے آواز آئی‘ سارب سے شادی‘ اور پھر سارب کا بدلتا رویہ‘ آہستہ آہستہ سارب جیسے نفسیاتی مریض بنتا جارہا تھا۔ آج… آج تو ساری حدیں پار ہوچکی تھیں۔
نہ کوئی ٹھکانہ تھا نہ سہارے کا کوئی امکان‘ گھر پر آخری نظر ڈال کر اس نے اپنے وجود کو چادر میں اچھی طرح سے چھپایا اور اللہ کا نام لے کر خود کو آیۃ الکرسی کے حصار میں لے کر گھر سے نکل پڑی خود کو اللہ کے حوالے کرکے بے قراری کو کچھ قرار ملا تھا۔ اس نے اپنے ذہن پر بے تحاشہ زور ڈالا‘ ذہن کے کسی گوشے میں روحانہ کا سیل نمبر محفوظ تھا‘ نوال نے سوچا کہ وہ کسی پی سی او سے روحانہ کو کال کرے گی‘ یہی سوچتی ہوئی وہ سڑک پر چلی جارہی تھی انجانے خوف سے پسینے بھی چھوٹ رہے تھے۔ وہ جوان ہونے کے ساتھ خوب صورت بھی تھی‘ آج کل کے حالات اتنے خراب تھے ایسے وقت میں یوں جوان لڑکی کا تنہا رات کے وقت باہر نکلنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ وہ اپنی دھن میں کچھ اس طرح مگن تھی اسے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ وہ چلتے چلتے روڈ پر آگئی ہے۔
کمال شاہ اپنی فیملی کے ساتھ کسی فنگشن سے واپس آرہے تھے انہوں نے جیسے ہی گاڑی کا موڑ کاٹا وہ سامنے نظر آئی… دنیا ومافیہا سے بے خبر وہ اپنی دھن میں چلی جارہی تھی۔ کمال شاہ نے ہارن دیا مگر وہ… چلتی رہی… کمال شاہ نے کمال ہوشیاری سے بریک لگائے لیکن اتنی دیر میں گاڑی ہلکی سی نوال کو ٹچ کر گئی تھی اور وہ گر پڑی تھی۔
’’اللہ رحم کرے۔‘‘ خورشید بیگم نے بے ساختہ کہا۔ کمال شاہ کے ساتھ مونا بھی گھبرا کر نیچے اتر آئیں۔ زخم تو معمولی سے تھے سر پر اور پیر پرچوٹ لگی تھی مگر شاید خوف کی وجہ سے نوال بے ہوش ہوگئی تھی۔
’’میرا خیال ہے چھوڑیں اسے‘ ہم چلتے ہیں نہ جانے کون ہے کیسی ہے اور اس وقت یوں سڑک پر کیوں گھوم رہی تھی؟‘‘ مونا نے کمال شاہ سے کہا۔
’’نہیں مونا… کیسی باتیں کررہی ہو‘ یوں چھوڑ کر جانا کوئی اچھی بات نہیں… دیکھو تو حلیے سے تو کوئی شریف اور پریشان حال لگتی ہے ہمیں اس کی مرہم پٹی کروانی چاہیے کیونکہ یہ ہماری گاڑی سے زخمی ہوئی ہے۔‘‘ خورشید بیگم کو بہو کی بات بالکل اچھی نہیں لگی تھی اس لیے انہوں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے اماں۔ قریبی میرے دوست کا کلینک ہے اسے وہاں لے چلتے ہیں۔‘‘ کمال شاہ نے بھی اماں کی بات کی تائید کی۔ مونا کا منہ بن گیا تھا مگر وہ کچھ بولی نہیں۔ بہ مشکل نوال کو اٹھا کر گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل لے گئے۔ ڈاکٹر نے دیکھا دوا لگا کر زخم کی پٹی کی انجکشن لگایا تو تھوڑی دیر میں نوال نے آنکھیں کھول دیں۔ آنکھ کھلتے ہی ہاتھ بے اختیار سر کی پٹی کی طرف چلا گیا۔
’’اوہنہ بیٹی۔‘‘ خورشید بیگم نے ملائمت سے اس کا ہاتھ پکڑ کر منع کیا۔
’’آپ؟‘‘ اس نے چاروں طرف دیکھا اور دفعتاً سارا کچھ ذہن میں آگیا۔
’’بیٹی تم ہماری گاڑی کے آگے آگئی تھیں‘ معمولی سا زخم آیا ہے ان شاء اللہ ایک دو دن میں ٹھیک ہوجائے گا۔ تم اپنے گھر کا پتہ بتادو تو ہم تمہیں چھوڑ آئیں۔‘‘ خورشید بیگم نے اس کے پاس آکر کہا۔
’’گھر… گھر…!‘‘ اس کے ذہن میں سارا کچھ آگیا۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
’’ارے… ارے کیا ہوگیا… تم… تم صاف بات بتائو؟‘‘ خورشید بیگم نے تھوڑا تیز لہجہ اختیار کیا۔
’’ہاں بھئی! ہم شریف لوگ ہیں‘ ہمیں خوامخواہ کسی الجھن میں مت پھنسائو اگر تم ایسی ویسی لڑکی ہو تو صاف بتادو‘ ہم اپنے گھر چلے جاتے ہیں‘ یہ لو یہ کچھ پیسے اور ہماری جان چھوڑو۔‘‘ مونا نے پرس سے کچھ پیسے نکال کر نوال کی جانب بڑھائے۔
’’خدا کے لیے… مجھ پر ایسا الزام مت لگائیں اگر میں رات کے اس وقت گھر سے نکلی ہوں تو میں انتہائی مجبوری کی حالت میں نکلی ہوں‘ خدارا مجھ پر اب یہ الزام مت لگائیں۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے مونا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی۔ ’’آپ لوگ مجھے ایدھی سینٹر یا کسی بھی ایسے ادارے میں پہنچادیں جہاں بے سہارا خواتین کو پناہ مل سکے۔‘‘
’’بیٹی رات کے بارہ بج گئے ہیں ہم اتنی رات کو تمہیں کہیں نہیں چھوڑ سکتے۔ تم ہمارے ساتھ چلو‘ تم زخمی بھی ہو‘ آرام کرلو کچھ کھاپی کر ادوا لے لو۔ صبح بات کریں گے اور تمہیں چھوڑ آئیں گے۔‘‘ خورشید بیگم کو یہ معصوم‘ چھوٹی سی لڑکی شریف اور اچھی فیملی کی لگی تھی جو واقعی مجبور اور لاچار تھی‘ مونا کو ساس کی پیشکش بالکل پسند نہ آئی تھی مگر وہ چپ رہیں کیونکہ کمال شاہ بھی خاموش تھے۔ وہ لوگ گھر آئے تو گھر پر ایک تیرہ چودہ سال کی بچی تھی جو بڑی حیرت سے نوال کو دیکھ رہی تھی۔ خورشید بیگم نوال کے ساتھ لائونج میں بیٹھی تھیں۔
’’عکرمہ…‘‘ خورشید بیگم نے پوتی کو آواز دی۔
’’جی دادو۔‘‘
’’بیٹی جلدی سے ایک کپ چائے اور دو سلائس لے آئو۔‘‘
’’اوکے دادو‘ ابھی لائی۔‘‘ عکرمہ غور سے نوال کو دیکھتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔ آج پہلی بار اسے دیکھا تھا ورنہ تو مما کی ساری دوستوں کو وہ جانتی تھی۔ نوال زخمی بھی تھی‘ عکرمہ کچھ سمجھ نہ پائی تھی کہ یہ کون ہیں، کیوں آئی ہیں اور یہ زخمی کیسے ہوئیں؟ بس اسے یہ نازک سی آپی اچھی لگی تھیں۔ نوال سر جھکائے چپ چاپ بیٹھی تھی عجیب سی سوچوں کا شکار تھی وہ۔
’’ابھی تم آرام کرو ہم صبح بات کریں گے۔‘‘ چائے کے ساتھ زبردستی دو سلائس کھلا کر خورشید بیگم نوال کو آرام کرنے کا کہہ کر بولیں۔
’’جی اچھا۔‘‘ یہ بھی غنیمت تھا کہ رات کا ٹھکانہ تو مل گیا تھا۔ صبح وہ دارالامان میں چلی جائے گی یہ سوچ کر وہ کمرے میں آگئی۔ وہ چھوٹی سی بچی عکرمہ اسے بہت غور اور اشتیاق سے دیکھ رہی تھی۔ خورشید بیگم نے غور سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا‘ چہرے سے وہ معصوم اور شریف لڑکی لگ رہی تھی‘ آنکھوں میں مستقل آنسو تھے‘ انہیں اس پر ترس آگیا۔
’’چلو تم زیادہ سوچو نہیں بس آرام کرو۔‘‘ خورشید بیگم نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر آگئیں۔
صبح وہ حسب معمول فجر کے وقت اٹھ گئی۔ طبیعت قدرے بہتر تھی۔ مگر جسم درد سے چور تھا‘ ایک تو سارب نے دھنک کر رکھ دیا تھا۔ جلے ہوئے زخموں سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اٹھ کر نماز ادا کی اور دیکھا کمرے میں شیلف پر قرآن پاک رکھا تھا‘ قرآن پاک کی تلاوت اس کا روز کا معمول تھا وہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی نہ جانے کتنی دیر تک وہ قرآن پاک پڑھتی رہی‘ احساس جب ہوا جب دروازے پر دستک ہوئی‘ باہر عکرمہ کھڑی تھی۔
’’آپی دادود ناشتے پر ویٹ کررہی ہیں۔‘‘ عکرمہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’اچھا گڑیا۔‘‘ اسے بھی یہ چھوٹی سی پیاری سی بچی عکرمہ بہت پیاری لگی تھی جس نے جھٹ اسے آپی بنا لیا تھا۔ وہ ناشتے کی ٹیبل پر آئی تو خورشید بیگم‘ کمال شاہ مونا اور عکرمہ تھے۔
’’السلام علیکم!‘‘ اس نے سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔ اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ خورشید بیگم نے پوچھا۔
’’جی بہتر ہوں۔‘‘
’’یہ میرا بیٹا کمال شاہ‘ یہ بہو مونا اور یہ میری لاڈلی پوتی عکرمہ۔‘‘ خورشید بیگم نے تعارف کروایا۔
’’جی!‘‘ نوال نے سر ہلایا۔
’’ہاں اب بتائو تم کون ہو… کہاں سے آئی ہو اور کہاں جانا چاہتی ہو؟‘‘ خورشید بیگم نے سب کے جانے کے بعد اسے مخاطب کیا۔ نوال سر جھکائے بیٹھی تھی جب سر اٹھایا تو ٹپ ٹپ ٹپ ڈھیر سارے آنسو آنکھوں سے نکل کر اس کی گود میں گرنے لگے۔
’’ارے ارے بیٹی‘ تم یوں روگی تو ہم تمہاری مدد کیسے کریں گے جو بھی ہے تمہارے ساتھ جیسا مسئلہ ہے تم بالکل سچ سچ بتائو‘ ہم پر بھروسہ کرسکتی ہو میں ایک ماں ہوں اور مجھے بھی احساس ہے کہ بیٹیوں کے دکھ کیسے ہوتے ہیں۔‘‘ خورشید بیگم نے ہمدردی سے کہا۔
تب نوال نے ان کو ساری باتیں ٹھیک ٹھیک بتادیں اور ساتھ ساتھ وہ بے تحاشہ روئے جارہی تھی۔
’’اف خدایا‘ اتنا ظلم‘ اتنا تشدد‘ وہ کیسا انسان ہے… انسان ہے کہ حیوان؟‘‘ خورشید بیگم کی آنکھیں بھی اس چھوٹی سی لڑکی کے دکھ پر نم ہوگئی تھیں۔
’’آنٹی پلیز بس ایک مہربانی کیجیے مجھے اپنی کزن کا نمبر یاد ہے میں ان سے بات کرنا چاہوں گی‘ مجھے بات کروا دیں… یا پھر مجھے کسی فلاحی ادارے میں داخل کروا دیں۔‘‘ اس کا لہجہ بہت ٹوٹا ہوا تھا۔
’’دیکھو تم یہ موبائل رکھ لو‘ اس سے اپنی بہن کو کال کرلو‘ ان کے پاس جائوگی تو اچھی بات ہے اور جب تک ان سے رابطہ نہ ہو تب تک میں تمہیں کہیں جانے نہیں دوں گی بیٹی‘ یہ زمانہ بہت خراب ہے۔ تم میری بیٹی کی طرح ہو‘ یہاں آرام سے رہ سکتی ہو۔‘‘ نوال نے آنسو بھری آنکھوں سے خورشید بیگم کو دیکھا‘ وہ بھی نوال کے دکھ پر دکھی ہوگئی تھیں۔ انہیں مظلوم لڑکی پر بہت ترس آرہا تھا‘ جس نے اتنی سی عمر میں کتنی پریشانیاں کتنی کھٹنائیاں دیکھ لی تھیں۔ کیا کیا دکھ سہہ چکی تھی۔ نہ صرف جسمانی بلکہ وہ اندر سے بھی زخمی زخمی تھی۔
’’آپ کا بہت شکریہ آنٹی‘ اگر آپ نہ ملتیں تو نہ جانے کہاں جاتی میں۔‘‘
’’بس تم فکر مت کرو اور بہن سے رابطہ کرلو ان سے کہو کہ وہ آکر تمہیں لے جائیں۔‘‘ خورشید بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار بھرے لہجے میں کہا اور اٹھ گئیں۔
نوال نے کمرے میں آکر فوراً روحانہ کے نمبر پر کال ملائی‘ مگر کوئی جواب نہ ملا‘ ایک… دو… تین… چار … اس نے کتنی بار کوشش کی ہر بار No کا ریپلائی آتا… روحانہ آپی کا نمبر کیوں بند ہے اندھیروں میں روحانہ آپی نام کی ایک ہلکی سی روشنی کی کرن نظر آئی مگر… نہ جانے کیوں ان سے بھی رابطہ نہیں ہوپا رہا تھا۔ اب وہ یہاں کس صورت میں رہ سکتی تھی اسے خود بھی عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کہاں جائے؟ یوں کسی پر کیسے بوجھ بن سکتی ہے۔
’’سنو بیٹی… میری نظر میں ایک ترکیب ہے جس سے تم کو یقینا یہاں رہنے میں کوئی پرابلم یا ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔‘‘ خورشید بیگم نے اس کے چہرے کی جانب بغور دیکھتے ہوئے کہا۔
’’جی آنٹی۔‘‘ سر اٹھا کر نم آنکھوں سے خورشید بیگم کی جانب دیکھا۔
’’دیکھو تم یہاں پر رہ کر عکرمہ کو ٹیوشن دے سکتی ہو‘ اگر تم چاہو تو؟ اس کے علاوہ بھی اس کی دوستیں ہیں تم کہو تو میں بات کرتی ہوں۔ یوں تمہارے یہاں رہنے کا جواز بھی بن جائے گا اور تم کو کچھ پیسے بھی مل جائیں گے۔‘‘ خورشید بیگم کی بات پر اس نے چونک کر انہیں دیکھا واقعی یہ بات ٹھیک تھی۔
’’آنٹی…‘‘ اس نے زخمی نظروں سے خورشید بیگم کی طرف دیکھا۔ ’’ایسا کب تک ہوگا؟ میں یہاں اس طرح‘ کب تک رہوں گی۔‘‘ خورشید بیگم نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگالیا۔
’’اللہ پاک تمہیں بہت جلد تمہاری بہن سے ملوائے گا بیٹا۔‘‘
’’آمین ثم آمین۔‘‘ وہ زیرلب بولی۔ وہ لوٹ کر اپنے گھر کسی صورت جانا نہیں چاہتی تھی جہاں سے وہ بے عزت ہوکر نکلی تھی۔
پھر خورشید بیگم نے کچھ بچیوں کے ٹیوشن کا بندوبست کردیا تھا‘ گھر کے کونے والا کمرہ اسے دے دیا گیا تھا۔ وہ شام کو اپنے کمرے میں بچوں کو پڑھاتی‘ جب کمال شاہ گھر پر ہوتے تو وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتی‘ وہ نہ ہوتے تو گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں مونا کا ہاتھ بٹا دیتی‘ عکرمہ کے ساتھ مل کر اس کے اسکول کے پروجیکٹ بنواتی رہتی‘ ساتھ ساتھ اس کو کڑھائی‘ سلائی اور آرٹ اینڈ کرافٹس بھی سکھاتی رہتی‘ خورشید بیگم کے چھوٹے موٹے کام کردیتی‘ وہ دعائیں دیتیں‘ مونا جب بازار جاتی نوال کو ساتھ لے جاتی کہ شاید کہیں روحانہ نظر آجائے کیونکہ نوال صرف روحانہ سے ملنا اور اس کے ساتھ جانا چاہتی تھی۔ نوال کے آنے سے گھر میں مثبت تبدیلی آئی تھی۔ مونا بھی مطمئن تھیں حالانکہ ابتدا میں وہ نوال سے تھوڑی تھوڑی غیر مطمئن تھی کہ نہ جانے کون ہے‘ کہاں سے آئی ہے؟ لیکن رفتہ رفتہ نوال کی معصومیت‘ سچائی اور باتوں نے مونا کو بھی مطمئن کردیا تھا کہ وہ واقعی مظلوم اور شریف لڑکی ہے۔ مونا کو بھی اس کی کہانی سن کر بہت رونا آیا تھا۔ وہ بھی اب نوال کا خیال رکھنے لگی تھی۔ سب سے بڑھ کر عکرمہ خوش تھی اسے مستقل دوست مل گئی تھی۔ مونا اور کمال شاہ اکثر ادھر ادھر بزنس کے کاموں سے جاتے رہتے‘ تب عکرمہ دادو کے ساتھ ہوتی‘ دادو بیچاری بھی کبھی کبھی تھک جاتی تھیں‘ اب نوال اس کے ساتھ کھیلتی بھی تھی اور کام بھی کرواتی تو عکرمہ کا دل بہت اچھی طرح لگ گیا تھا۔ نوال مسلسل روحانہ سے رابطے کی کوشش میں بھی لگی رہتی۔
/…l/l…/
کافی عرصے بعد اس روز سائرہ بیگم کی کال آئی تھی۔ روحانہ نے اٹینڈ کی‘ سائرہ کی آواز سن کر وہ بری طرح رو دی۔ چچی آپ کہاں ہیں‘ کیسی ہیں؟ آپ تو ہمیں بالکل بھول گئیں۔ نہ فون‘ نہ کوئی رابطہ‘ میں نے کتنی بار ٹرائی کی مگر آپ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟‘‘ روحانہ نے ایک سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
’’ہاں گڑیا سب خیریت ہے۔ بس دل بہت برا ہوگیا تھا میرا اور پھر میری طبیعت بھی کافی عرصے خراب رہی‘ مجھے اپنا بھی ہوش نہ تھا۔ اب طبیعت کچھ بہتر ہے‘ جاسم اور شازیہ بھی اپنے اپنے بچوں کے ساتھ ٹھیک ہیں۔ اب سوچا ہے کہ ہم پاکستان آجائیں۔‘‘ سائرہ بیگم نے کہا۔
’’جی سائرہ چچی‘ آجائیں پلیز۔ مما کی حالت بہت خراب ہے۔ سدرہ چچی کا انتقال ہوچکا ہے۔‘‘ روحانہ رو رہی تھی۔
’’کیا… کیا… سدرہ کا انتقال ہوگیا؟ اف خدایا‘ نوال کیسی ہے اور کہاں ہے؟‘‘ دوسری جانب سائرہ کو بھی شدید جھٹکا لگا تھا۔ نوال… روحانہ کیا بتاتی کہ نوال کیسی ہے اور کہاں ہے؟
’’سائرہ چچی بس آپ جلدی سے آجائیں بس ہم مل کر بہت ساری باتیں کریں گے۔‘‘ روحانہ نے کہہ کر کال بند کردی۔ اسے بہت خوشی ملی تھی کہ سائرہ بیگم بہت جلد پاکستان آجائیں گی‘ ان کے آنے سے گھر میں کچھ رونق تو نظر آئے گی۔ یہ وحشت‘ یہ ویرانی اور خاموشی تو دور ہوگی۔ روحانہ دل ہی دل میں سوچنے لگی تھی۔
/…l/l…/
اس روز عکرمہ کو اسکول کے لیے کچھ چیزیں لینی تھیں تو وہ نوال کو لے کر مارکیٹ آگئی۔ وہ ہینڈی کرافٹ کی شاپ پر کھڑے تھے‘ عکرمہ چیزیں دیکھ رہی تھی اور نوال پاس کھڑی مشورے دے رہی تھی۔ تب ہی ایک ڈھائی تین سال کا خوب صورت گول مٹول گڈے جیسا بچہ نوال کے پاس آکر اس کے پیروں سے لپٹ گیا۔ وہ بھاگ کر آیا تھا۔
’’ارے بیٹا۔‘‘ نوال نے خود کو سنبھالا اور بچے کو دیکھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘
’’آنٹی… مما سے بچائو۔‘‘ وہ اس کے پیچھے چھپنے لگا۔
’’ارے… ارے کیا ہوا۔‘‘ نوال کو اس کی بات پر ہنسی آگئی۔
’’ادھر آئو بتاتی ہوں تمہیں۔‘‘ تب ہی پیچھے سے آواز آئی تو نوال آواز پر بری طرح چونک کر پلٹی… سامنے روحانہ کھڑی تھی۔
’’ن… نوال… ت… تم؟‘‘
’’آپی… آپ…!‘‘ دونوں ایک دوسرے کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ روحانہ آگے بڑھ کر نوال سے لپٹ گئی۔
’’تم… تم… کہاں ہو… کیا ہوا؟ تم نے اس روز بات کیوں ختم کردی تھی‘ کون آگیا تھا؟‘‘ بے تابی سے بے شمار سوالات کر ڈالے… عکرمہ حیران نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ دفعتاً روحانہ کو احساس ہو۔ ’’چلو ہم کہیں بیٹھ کربات کرتے ہیں۔‘‘ تینوں وہاں سے نکل کر قریبی آئس کریم پارلر کی طرف بڑھ گئیں۔ روحانہ نے عکرمہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’آپی یہ میری بہت پیاری سی دوست اور چھوٹی بہن ہے عکرمہ اور عکرمہ یہ میری روحانہ آپی ہیں جن کے بارے میں‘ میں تم کو بتایا کرتی تھی۔‘‘ دونوں کی نظروں کو پڑھتے ہوئے نوال نے دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کروایا۔
’’ہاں اب بتائو اس روز کیا ہوا تھا تمہارے ساتھ…؟ میں نے تمہیں کتنی بار کال ملائی لیکن کوئی جواب نہ ملا اور… اس روز وہ آواز؟‘‘ بیٹھ کر روحانہ نے بے چینی سے وہی سوال دھرایا۔
’’جی آپی… میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ سارب جازیہ اور اس کے خاندان سے نفرت کرتا ہے‘ اس روز میں آپ سے بات کررہی تھی کہ وہ نہ جانے کب آگیا اور میری ساری باتیں سن لیں۔ بس اسی روز سے اس نے مجھ پر زندگی تنگ کردی۔ میرا موبائل توڑ دیا‘ مجھے تالے میں رکھنے لگا اور اس پر بھی وہ مجھ پر طرح طرح کے گھٹیا الزامات لگاتا رہتا کیونکہ جازیہ نے اسے میرے بارے میں بتایا ہوا تھا جب بات کھلی تو وہ بھی مجھے آوارہ اور بدچلن سمجھنے لگا۔ مجھے گندی گندی گالیاں دیتا اور حتیٰ کہ مجھے مارنا اور تشدد کرنا بھی شروع کردیا۔ میں سب کچھ برداشت کرتی رہی صرف اس لیے کہ میرا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ ایک روز حد کردی اس نے‘ مما کے بارے میں اتنی گندی باتیں کیں کہ میری برداشت ختم ہوگئی‘ میں نے بھی اس کے ساتھ بدتمیزی کی اور ا س نے مجھے پاگلوں کی طرح مارا اور جب مار مار کر تھک گیا تو مجھے… طلاق دے دی۔ میں رات گیارہ بجے بے یار ومدد گار اللہ کے بھروسے پر آپ سے رابطہ کرنے کے خیال سے گھر سے نکل پڑی۔ مجھ میں چلنے کی ہمت نہ تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے‘ جسم درد سے چور تھا‘ میں اپنی سوچوں میں گم تھی کہ عکرمہ کی فیملی کی گاڑی سے ہلکا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا یہ لوگ میری پٹی کروا کر مجھے گھر لے آئے‘ ان لوگوں کو میری کہانی پر یقین آگیا اور میں نے یہاں رہ کر آپ سے مستقل رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر… آپ سے رابطہ نہ ہوسکا‘ خورشید آنٹی نے مجھے کہیں بھی بھیجنے سے منع کردیا تھا کہ نہ جانے کہاں پر کیسے لوگ ہوں… بس ہم دن رات آپ سے ملنے کی دعائیں کرتے رہتے اور شکر ہے رب کا کہ آپ مل گئیں۔‘‘ کچھ روتے‘ کچھ ہنستے نوال نے اپنی کہانی سنائی تو دیکھا روحانہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’میری وہ سم تو بند ہوگئی تھی مگر میں نے تمہارے نمبر پر برابر ٹرائی کی میری جان… مجھے اندازہ تو تھا کہ تم کسی مصیبت میں ہو مگر… اس قدر پریشانی اور مسائل کا شکار ہوئیں‘ تم نے اتنی دشواریاں‘ ظلم اور تشدد برداشت کیا اور ہم بے خبر رہے۔ ہمیں معاف کردو میری بہن۔‘‘ روحانہ روتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام کر بولی۔ ’’بس ابھی میرے ساتھ گھر چلو اب میں تمہیں ایک منٹ کے لیے بھی دور نہیں ہونے دوں گی۔‘‘
’’جی آپی‘ مگر… پہلے آپ میرے ساتھ چلیں خورشید آنٹی کا شکریہ ادا کریں اور ان کی اجازت سے مجھے لے کر جائیں ان کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر۔‘‘ نوال نے کہا اور روحانہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
/…l/l…/
خورشید بیگم‘ کمال شاہ اور مونا سب بہت خوش تھے کہ آخر کار نوال کو اپنی کھوئی ہوئی بہن مل گئی۔ ایک عکرمہ بہت اداس تھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’آپی آپ چلی جائیں گی پھر ہم کیسے ملیں گے؟‘‘
’’ارے میری گڑیا تم پریشان مت ہو جب تمہارا دل کرے تم آجانا اور جب نوال کو بلوانا ہو مجھے میسج کردینا میں خود لے کر آئوں گی تمہارے پاس۔ تمہاری آپی تمہارے گھر سے جارہی ہے مگر ہے تو تمہارے ہی شہر میں ناں‘ تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟‘‘ روحانہ نے اس کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر عکرمہ کے گال پیار سے تھپتھپاتے کہا تو عکرمہ خوش ہوگئی اور نوال اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ روحانہ کے ساتھ ٹیکسی میں آبیٹھی۔ خورشید بیگم نے گلے سے لگا کر بہت ساری دعائیں دیں۔
’’ہاں نوال‘ ہمیں بھول مت جانا۔‘‘ مونا نے بھی پیار سے اسے گلے لگا کر کہا۔کتنے اچھے اور پیارے لوگ تھے نوال کی آنکھیں ان کی محبتوں پر نم ہوگئیں۔ کتنے کم عرصے میں اس نے سب کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنالی تھی۔
’’آپ لوگ میرے اپنے ہیں‘ میں آپ لوگوں سے ساری زندگی رابطہ رکھنا چاہوں گی۔‘‘ نوال نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے جذب سے کہا۔
’’یہ… یہ ہم کہاں جارہے ہیں روحانہ آپی؟‘‘ جانے پہچانے رستے پر ٹیکسی کو مڑتا دیکھ کر نوال نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہم اپنے گھر جارہے ہیں نوال‘ تمہارے گھر۔‘‘
’’نہیں آپی… نہیں میں بالکل بھی اس گھر میں نہیں جاسکتی‘ پلیز مجھے اپنے گھر… اپنی سسرال لے چلیں اور اگر یہ ناممکن ہو… میں آپ پر یا آپ کے سسرال والوں پر بوجھ ہوں تو پلیز مجھے کسی ادارے میں چھوڑ دیں مگر… اس گھر… میں نہ جائیں۔‘‘ اس کے لہجے میں کرختگی اور قطعیت تھی۔
’’نوال یہ تم کیسی باتیں کررہی ہو۔ میں مر نہ جائوں جو تم کو اب کہیں بھی جانے دوں پلیز… میری خاطر… اس گھر میں چلو… میں خود وہیں پر رہتی ہوں۔ اعتزاز آج کل کام کے سلسلے میں فارن گئے ہوئے ہیں۔ میں تنہا سروش کے ساتھ کیسے رہتی‘ اس لیے میں یہاں پر آگئی ہوں اور میرا یہاں رہنا ضروری بھی ہوگیا ہے؟ جب تم وہاں جائوگی تب تمہیں معلوم ہوگا۔‘‘ روحانہ کا لہجہ بھیگنے لگا تھا۔ نوال نے ایک نظر اس کے دکھی چہرے پرڈالی۔ ’’پلیز میری خاطر میری گڑیا۔‘‘ روحانہ نے عاجزی سے کہا تو نوال چپ ہوگئی۔ کچھ دیر بعد گیٹ کے سامنے ٹیکسی رک گئی۔ وہ نیچے اتر آئی۔
وہ منظر نگاہوں میں آگیا جب وہ اس گھر سے نکلی تھی۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گیٹ کے اندر داخل ہوئی‘ دل کررہا تھا کہ الٹے پائوں واپس لوٹ جائے اور پھر کبھی بھی پلٹ کر نہ آئے مگر… دوسرے لمحے ہی روحانہ کا ملتجی چہرہ سامنے آگیا۔ وہ لان جہاں کبھی شازیہ کے ساتھ مل کر وہ صفائیاں کرتی اور جب بارشیں ہوتیں تو سب مل کر یہاں خوب انجوائے کرتے سائرہ اور سدرہ پکوڑے بناتیں‘ سب مل کر کھاتے‘ ہنگامہ کرتے‘ لیکن اب وہ لان بالکل اجاڑ پڑا تھا‘ عجیب سی وحشت برس رہی تھی۔ سوکھے پتوں کا ڈھیر لگا تھا‘ جیسے کئی دن سے صفائی نہ کی گئی ہو۔ اس سنگی بینچ پر دھول جمی تھی جس پر بیٹھ کر وہ اور شازیہ پڑھائی کرتے تھے۔ آج بالکل سناٹا تھا‘ وہ روحانہ کے پیچھے پیچھے اندر آئی سامنے ہی تائی اماں کا روم تھا۔ جہاں سے اندر باہر ہوتے ہوئے تائی اماں کی پاٹ دار آواز پورے گھر میں گونجا کرتی تھی۔ وہ مزید آگے نہیں بڑھی بلکہ وہیں رک گئی۔ روحانہ نے مڑ کر دیکھا اور اشارے سے بلایا… حالانکہ اس کا دل کررہا تھا کہ وہ سیدھی اپنے روم کی طرف بھاگ جائے مگر روحانہ کے بلانے پر بادل ناخواستہ آگے بڑھی۔
سامنے ہی بیڈ پر رومانہ بیگم لیٹی تھیں۔ بھاری بھرکم وجود کی جگہ منحنی سا ناتواں وجود… چہرے پر جھریوں کے ساتھ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے… ذرد ویران بے نور سا چہرہ‘ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی‘ منہ فالج کی اٹیک کی وجہ سے ہلکا سا ٹیڑھا ہونے سے چہرے کی ہیت بدل چکی تھی۔ آدھا جسم مفلوج ہوگیا تھا۔ کتنی بے بس اور لاچار پڑی تھیں۔ چہرے پر برستا جاہ وجلال‘ تمکنت اور غرور جانے کہاں چلا گیا تھا۔
’’یہ… یہ…‘‘ نوال آنکھیں پھاڑے حیرت سے رومانہ بیگم کو اس حالت میں دیکھ رہی تھی۔ یہ چھ سالوں میں انہیں کیا ہوگیا تھا۔ وہ‘ وہ تو بالکل بدل چکی تھیں۔ اف اللہ‘ نوال کو انہیں دیکھ کر جھرجھری سی آگئی۔
’’نوال دیکھو ذرا مما کی کیا حالت ہوگئی ہے۔ کتنی بے بس اور مجبور ہوگئی ہیں یہ… اللہ پاک نے مما کو کس حال میں کردیا ہے۔ کیسی سزا بھگت رہی ہیں اپنے کیے کی‘ وہ دن رات روتی رہتی ہیں‘ اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتی ہیں‘ وہ تو کچھ کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں‘ وہ جو سارے گھر پر حکومت کرتی تھیں‘ آج… وہ خود کسی کی محتاج ہوکر رہ گئی ہیں۔ تم بتائو کیا میں ان کو اس حالت میں اکیلا چھوڑ دوں؟‘‘ نوال بس آنکھیں پھاڑے دیکھے جارہی تھی۔
’’مما… مما دیکھیں تو کون آیا ہے…؟‘‘ روحانہ نے زور زور سے آواز لگائی تو انہوں نے دھیرے دھیرے آنکھیں کھولیں۔ رومانہ بیگم نے اپنی مندی مندی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش میں بار بار پلکیں جھپکیں… ’’دیکھیں نوال آئی ہے ہماری نوال۔‘‘ روحانہ نے قریب جاکر زور سے کہا۔
’’آ… آں… ہاں… ن… نو… ال…‘‘ انہوں نے حیرت اور غیر یقینی سے آنکھیں پوری طور پر کھول کر نوال کو دیکھا۔
’’نوال… نوال…‘‘ وہ زیرلب بڑبڑائیں اور اشارے سے نوال کو بلایا۔ نوال ان کو دیکھ کر ششدر تھی تھوڑا سا آگے آئی اور قریب بلایا‘ نوال قریب آئی تو اس کے ہاتھ تھام کر سینے پر رکھ لیے اور زار وقطار رونے لگیں۔ ’’میری بچی… مجھے معاف کردے… میں بہت بری ہوں‘ بہت برا کیا تیرے ساتھ… اللہ نے مجھے سزا دے دی۔ اب تو مجھے معاف کردے‘ میں سکون سے مرجائوں گی‘ میں بہت اذیت میں ہوں‘ پل پل مررہی ہوں‘ بس تجھ سے اور سدرہ سے معافی مانگ لوں تاکہ سکون سے مرسکوں… میں… معافی کے قابل نہیں مگر… مگر… تو… تو… نیک ماں کی بیٹی ہے‘ میری بچی‘ مجھی معاف کردے‘ مجھے معاف کردے۔‘‘ بے تحاشا روتے ہوئے اس کے ہاتھ سینے سے بھینچ کر وہ بے ربط اور ٹوٹے ٹوٹے الفاظ میں اپنے کیے کی معافی مانگ رہی تھیں۔ نوال سے بھی برداشت نہ ہوا وہ بھی رونے لگی۔
’’میں نے معاف کیا تائی اماں… میں نے دل سے معاف کیا۔‘‘ ان کے ہاتھ تھام کر نوال نے سچائی سے کہا۔
’’تو بہت عظیم ہے‘ اللہ پاک تجھے اجر دے گا۔‘‘ وہ نوال کی پیشانی چومتے ہوئے نہ جانے کیا کیا بولے جارہی تھیں۔ روحانہ دوڑ کر پانی لے آئی‘ دونوں کو پانی پلایا‘ نوال سے معافی مانگ کر رومانہ بیگم مطمئن سی ہوگئیں اور اب دوا کھا کر سوگئی تھیں۔
نوال وہیں بیٹھی سروش کے ساتھ کھیلتی رہی‘ روحانہ کچن میں کام نپٹا رہی تھی۔ روحانہ کو دیکھتی ہوئی وہ کچن کی طرف آگئی۔ عبیل کے بارے میں ایک لفظ نہ پوچھا۔ روحانہ نے ہی جاسم‘ شازیہ اور سائرہ چچی کے بارے میں بتایا تھا۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں کرید کرید کر پوچھتی رہی۔
’’عبیل کے بارے میں کچھ نہیں پوچھو گی۔‘‘ روحانہ نے پوچھا۔
’’نہیں آپی‘ عبیل نے میرے ساتھ بہت برا کیا تھا۔ کیا اس کو میری نیچر کا علم نہیں تھا‘ کیا وہ مجھے جانتا نہیں تھا؟ پھر اس نے میرے کردار پر شک کیا‘ میری بات نہیں سنی‘ مجھے مورد الزام ٹھہرایا۔ ایک بار بھی‘ میری بات نہیں سنی‘ میں تڑپتی رہی‘ بلکتی رہی‘ ہاتھ جوڑے‘ لیکن… لیکن اس کو میری بات پر یقین نہیں آیا۔ اب میں نہ اس کا نام سننا پسند کروں گی نہ اس سے بات کرنا چاہوں گی۔‘‘ نوال نے حتمی لہجے میں کہا۔
’’ہاں نوال‘ تمہارا شکوہ‘ شکایت‘ ناراضگی بالکل بجا ہے‘ لیکن نوال‘ نہ جانے اس وقت شاید سب کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی عبیل بھی اس وقت اتنا جذباتی ہوگیا کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھودی اور جو مما نے کہا اسے وہ صحیح لگا لیکن حقیقت میں وہ تمہیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں بھولا اور اب تم اس گھر میں آگئی ہو تو تمہیں ہر اس بات کا علم ہونا چاہیے جو تمہارے جانے کے بعد یہاں ہوئی۔ تمہارے جانے کے کچھ عرصے بعد شبانہ آنٹی لوگ واپس چلے گئے تھے اور پھر کچھ عرصے بعد لوٹ آئے کیونکہ مما کا ارادہ تھا کہ جازیہ سے عبیل کی شادی کریں گی‘ پھر مما نے عبیل کی مرضی کے خلاف اس کی شادی جازیہ سے کروادی۔ وہ جازیہ جو شادی سے پہلے بہت اچھی بنتی تھی‘ مما کا بہت خیال رکھتی تھی‘ شادی کے بعد بالکل بدل گئی۔ بدتمیزی‘ ہٹ دھرمی اور من مانی کرتی‘ مما کی ایک بات نہیں مانتی‘ شبانہ آنٹی لوگ بھی یہاں شفٹ ہوگئے تو بس روزانہ وہ میکے چلی جاتی اور پھر جب میری تم سے بات ہوئی تم نے جازیہ کے متعلق بتایا تو میں نے وہ بات مما اور عبیل کو بتائی اور جب بات کھلی تو جازیہ نے بدتمیزی کی ساری حدیں کراس کر ڈالیں‘ ڈھٹائی سے کہا کہ ہاں میں نے شادی کی تھی امریکہ میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہی نہیں اس نے خوب ہنگامہ کرکے مما کا وہ راز بھی فاش کردیا کہ ان سب نے مل کر تمہارے خلاف یہ ڈرامہ رچایا تھا اور اس روز جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ اس نے غصے میں آکر عبیل اور مما کو بھی بہت برا بھلا کہا میں درمیان میں آئی تو نہ صرف میرے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ مجھے دھکا دے دیا‘ میرا سر الماری سے لگا اور میں زخمی ہوگئی اور عبیل نے غصے میں آکر جازیہ کو طلاق دے دی۔ جاتے جاتے جازیہ نے مما کے سارے بھید کھول دیئے‘ عبیل کو جب سچائی کا علم ہوا تو وہ بہت رویا‘ بہت پچھتایا مما سے ناراض ہوکر اس نے بات کرنا چھوڑ دی‘ ہروقت گم صم رہتا‘ پاگلوں جیسی حالت بنا رکھی تھی اس نے‘ گاڑی لے کر سڑکوں پر تمہیں ڈھونڈنے نکل جاتا‘ عجیب حالت ہوگئی اس کی‘ میں اسے دیکھ دیکھ کر روتی رہتی‘ مما سارا سارا دن ساری ساری رات روتی رہتیں‘ پچھتاوے کی آگ میں جلتی رہتیں اور پھر ایک دن مما پر فالج کا جان لیوا اٹیک ہوا‘ اس ٹیک سے مما بچ تو گئیں مگر ان کی حالت تمہارے سامنے ہے انہوں نے رو رو کر عبیل سے بھی معافی مانگ لی‘ عبیل ان سے کبھی کبھی بات کرلیتا ہے مگر بہت اداس‘ بہت بے قرار رہتا ہے۔ نوال ہمارے ہنستے بستے گھر کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ یوں اداسی نے ڈیرے ڈال لئے ہیں‘ وحشتیں رقص کرنے لگی‘ نہ کوئی خوش ہے نہ کوئی ہنستا ہے‘ سب کے چہروں پر ہر دم اداسی نظر آتی ہے۔‘‘ روحانہ ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگئی۔ نوال خاموش جلتے چولہے پر نگاہ جمائے جانے کن سوچوں میں غلطاں تھی۔
/…l/l…/
مغرب کی نماز پڑھ کر جائے نماز تہ کررہی تھی کہ قدموں کی چاپ سن کر پلٹی… دروازے کے سامنے عبیل کھڑا تھا‘ پورے چھ سال بعد دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے‘ عبیل کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے پھیل گئی تھیں۔ سی گرین اور وائٹ سوٹ میں وائٹ دوپٹہ سر پر لیے‘ آج بھی وہ ویسی ہی معصوم اور دلکش دکھائی دے رہی تھی۔ نوال نے دیکھا گرے کلر کے شلوار قمیص میں ہلکی ہلکی شیو کے ساتھ‘ وہ مضمحل اور اداس لگ رہا تھا۔ نوال کو دیکھ کر وہ دو قدم آگے چلا آیا۔ نوال کا چہرہ ہر قسم کے تاثر سے عاری اور بالکل روکھا اور اجنبی تھا۔
’’نوال کیسی ہو… کب آئیں؟‘‘ بے تابی سے سوال کیا۔
’’جیسی بھی ہوں آپ کے سامنے ہوں عبیل صاحب اور بدنصیبی سے زندہ بھی ہوں‘ حالانکہ میرے زندہ رہنے کا کوئی جواز رہتا نہیں لیکن شاید میں زیادہ ہی ڈھیٹ ہوں کہ آج تک زندہ ہوں ہے ناں؟‘‘ لہجے میں طنز اور تلوار جیسی کاٹ تھی۔ عبیل کا چہرہ یک دم بجھ سا گیا۔ اتنی اجنبیت‘ بے گانگی اور سرد مہری وہ جواب دے کر جاچکی تھی اور عبیل بس ہلتے پردے کو دیکھتا رہ گیا۔
’’آپی… آپی۔‘‘ عبیل سیدھا روحانہ کے کمرے میں بھاگا چلا آیا جہاں روحانہ سروش کو کھانا کھلا رہی تھی۔
’’آپی… یہ… نوال کب‘ کیسے‘ کون لایا ہے اسے اور… اور اس کا شوہر…؟‘‘ ایک ہی سانس میں بے شمار سوالات کر ڈالے۔ روحانہ نے مختصراً نوال کے بارے میں سب کچھ بتادیا کہ اس کے ساتھ کیا کیا ہوا… اور آج وہ کس طرح سے شاپ پر ملی اور یہ بھی کہ نوال عبیل کا نام تک سننا پسند نہیں کرتی… وہ عبیل سے بہت نالاں اور ناراض ہے۔
’’ہاں آپی‘ وہ ٹھیک ہی تو کررہی ہے‘ مجھ سے خفا ہونا‘ مجھ سے نفرت کرنا اس کا حق بنتا ہے۔ میں نے… میں نے اس کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ نہ جانے کیوں میں اس وقت ذکا کے ساتھ اسے دیکھ کر اتنا بے قابو ہوگیا تھا… اتنا اندھا کہ اس کی کوئی بات سنی بھی نہیں‘ میں نے اس کی آنکھوں میں اس کی سچائی نہیں دیکھی… نہ اس کے پاکیزہ چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی جو نظر آیا اس پر آنکھ بند کرکے یقین کرلیا۔ میں کتنا کم ظرف نکلا آپی… آپی… یہ میرے پیار کی‘ انتہا تھی کہ میں نے اس کو ذکا کے ساتھ دیکھا تو آپے سے باہر ہوگیا۔ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا کہ وہ کسی اور کے قریب بھی جائے تب… تب میں نے وہ سب کچھ کیا‘ اب کیا کروں آپی؟‘‘ وہ نوال کے حالات سن کر بے حد افسردہ ہوگیا تھا ساتھ ساتھ یہ بھی دکھ تھا کہ نوال نے اتنے عرصے میں اتنی سی عمر میں کتنے دکھ‘ کتنی تکلیف اور اذیت سہی ہے‘ کیا کیا برداشت کیا اور وہ سب ہماری وجہ سے۔
روحانہ نے سائرہ چچی سے مشورہ کرکے نوال کو عدت کرنے کا مشورہ دیا اور اس نے ان کی بات سمجھتے ہوئے اپنے کمرے میں رہنا شروع کردیا اور جب ہی باہر نکلتی جب عبیل گھر نا ہوتا اس کی گھر میں موجودگی کے وقت وہ اپنے کمرے میں ہی رہتی‘ اس کی کوشش ہوتی کہ وہ عبیل کے سامنے نہ آئے۔ اس کا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گزرتا‘ زیادہ سے زیادہ عبادت کرتی‘ قرآن پاک پڑھتی‘ گھر کے کاموں میں روحانہ کا ہاتھ بٹاتی اور سروش سے کھیلتی‘ سروش کے ساتھ اس کا اچھا وقت گزر جاتا تھا۔ وہ رات کو بستر پر لیٹتی تو عجیب سوچیں آگھیرتیں‘ اتنے عرصے بعد پھر ادھر ادھر گھوم کر زمانے کے تلخ وشیریں تجربات حاصل کرکے وہ ایک بار پھر اپنے ہی گھر میں موجود تھی۔ یہ کیسے تماشے دکھا رہی تھی‘ زندگی بھی عجیب موڑ پر آگئی تھی۔ عبیل کا دل کرتا کہ وہ نوال سے بات کرے اس سے معافی مانگ لے لیکن نوال کی سرد مہری اور بے اعتنائی دیکھ کر وہ کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ وہ کبھی روحانہ کے پاس یا تائی اماں کے ساتھ ہوتی عبیل آجاتا تو وہ فوراً اٹھ کر کمرے سے نکل جاتی۔
عبیل چاہتا تھا کہ جیسے ہی موقع لگے وہ اس سے معافی مانگ لے لیکن نوال کو جب یہ لگتا کہ عبیل اس سے بات کرنا چاہتا ہے کچھ کہنا چاہتا ہے وہ کترا کر نکل جاتی اور عبیل اس کا منہ تکتا رہ جاتا‘ پھر سائرہ بیگم اور شازیہ آگئے اور اس دوران نوال کی عدت بھی ختم ہوچکی تھی۔ سائرہ بیگم کو دیکھ کر نوال ان سے لپٹ کر زار وقطار رونے لگی۔ سائرہ نے ہمیشہ سدرہ کا خیال رکھا تھا۔ بہت پیار سے پیش آتی تھیں اور اس روز اگر سائرہ بیگم ثروت خانم کا پتہ نہ دیتیں تو وہ لوگ کہاں جاتے‘ یہ سوچ کر نوال کو اور رونا آجاتا تھا۔ سائرہ بیگم بھی رومانہ بیگم کو دیکھ کر حواس باختہ ہوگئی تھیں۔ یہی حالت شازیہ کی تھی‘ وہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اتنا جاہ وجلال اور بھرم رکھنے والی رومانہ بیگم اس حالت میں لاچار اور بے بس پڑی ہوں گی۔ رومانہ بیگم نے رو رو کر سائرہ بیگم سے بھی اپنی زیادتیوں کی معافی مانگ لی تھی۔
گھر میں کچھ رونق ہوگئی تھی۔ عبیل کے چہرے کی اداسی بھی کم ہوگئی تھی۔ گھر کا ماحول کچھ بدلا‘ وحشتیں کم ہوئی تھیں۔ اب زیادہ تر سب لوگ رومانہ بیگم کے کمرے میں جمع ہوکر باتیں کرتے‘ سائرہ بیگم اور شازیہ کے آنے سے نوال میں بہت چینج آیا تھا۔ وہ بھی ہنسنے لگی تھی۔ شازیہ کے ساتھ خوب باتیں کرتی‘ نوال کبھی کبھی عبیل کی کسی بات کا بے رخی سے سہی مگر جواب دے دیتی۔ سائرہ بیگم یہ سوچ کر آئی تھیں کہ کسی طرح عبیل اور نوال کی شادی کروادیں گی‘ جو ہوگیا سو ہوگیا اب اللہ پاک نے دونوں کو ایک بار پھر ایک جگہ کردیا ہے تو بہتر یہی تھا‘ لیکن یہاں پر آکر انہیں یہ ناممکن نظر آرہا تھا کیونکہ نوال اور عبیل آپس میں بات تک نہیں کرتے تھے۔ نوال کے دل میں عبیل کے لیے رتی برابر بھی پیار نہ تھا۔ روحانہ‘ رومانہ بھی چاہتے تھے کہ عبیل کی شادی نوال سے ہوجائے۔ روحانہ نے اس سلسلے میں شازیہ سے بات کی کہ تم نوال کو سمجھائو اور شازیہ نے نوال سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
گرمیوں کی خوش گوار رات تھی وہ سب لوگ رات کا کھانا کھا کر صحن میں آکر سنگی بینچ پر بیٹھ گئے۔ رات کی رانی اور موتیا کی مہک سے وہاں بھینی بھینی خوشبو پھیل ہوئی تھی۔ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے پھر شازیہ نے اپنے سسرال کا ذکر نکالا‘ نوال بڑی محویت اور دلچسپی سے سن رہی تھی۔ کسی کسی بات پر مسکرا بھی دیتی شازیہ نے اچانک ہی نوال کو مخاطب کیا۔
’’ایک بات کہوں نوال… مانو گی…‘‘
’’ہاں بولو۔‘‘ نوال نے غور سے شازیہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم… بھی شادی کرلو۔‘‘
’’کیا… شادی…؟ نہیں… شازیہ اب لفظ شادی سے میرے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میرے لیے شادی کوئی اہمیت نہیں رکھتی‘ سوائے تلخ یادوں کے‘ غلامی اور اذیت ودکھ کے‘ میں نے بہت برا وقت گزارا ہے شادی کرکے جتنی اذیت‘ تکلیف اور دکھ میں نے اٹھائے ہیں‘ اب شادی کے نام سے خوف آنے لگا ہے مجھے۔‘‘ اس کے لہجے میں دکھ بول رہے تھے‘ چہرے پرگزرے وقت کے عذاب نمایاں تھے۔ وہ بہت ٹوٹ چکی تھی۔
’’ہاں نوال یہ تو ٹھیک ہے‘ تمہارے ساتھ جو ہوا وہ غلط بلکہ بہت غلط ہوا‘ مگر یار… یہ بھی تو سوچو کہ اس طرح کیسے رہ پائوگی… کس طرح سے تنہا زندگی گزارو گی۔‘‘ شازیہ نے کہا۔
’’شازیہ میں جیسی بھی ہوں‘ ٹھیک ہوں اور ویسے بھی میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں اور تم جانتی ہو کہ ہمارے معاشرے میں طلاق یافتہ لڑکی کی کیا حیثیت‘ کیا مقام ہے‘ اسے مشکوک بنا دیا جاتا ہے اور… اور… ایسی لڑکی سے بھلا کون شادی کرے گا؟‘ وہ تلخی سے ہنس دی۔
’’ایسی بات نہیں ہے نوال‘ طلاق بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے‘ تم کوئی انوکھی یا پہلی لڑکی نہیں ہو جس کو طلاق دی گئی ہے اور ان سب باتوں میں تمہارا قصور کہاں ہے… یہ تمہارا نصیب تھا جو تم نے بھگت لیا… اور اب بھی تم سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے اگرتم چاہو تو؟‘‘ شازیہ ایک لمحے کو رکی تو نوال نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا…؟‘‘ لہجہ خاصا ترش تھا۔
’’میرا مطلب ہے نوال کہ تم اب بھی خوب صورت ہو‘ تمہاری عمر ابھی ہے ہی کیا‘ اس عمر میں تو لڑکیوں کی شادیاں تک نہیں ہوتیں‘ وہ پڑھ رہی ہوتی ہیں‘ اگر تمہارے ساتھ اتنا سب ہوگیا تو کیا ہوا تمہارے لیے شادی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ شازیہ نے دھیمے دھیمے لہجے میں کہا۔
’’ہاں مگر مجھے شادی کی ضرورت ہے نہ خواہش۔‘‘ نوال نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
’’نوال میری جان… تم اکیلی زندگی گزار سکتی ہو‘ یہ بولنا بہت آسان مگر اس پر عمل کرنا اتنا آسان نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو‘ روحانہ آپی اپنے میاں کے پاس چلی جائیں گی‘ ہم اپنے گھر لوٹ جائیں گے‘ کل کو خدانخواستہ تائی اماں کو کچھ ہوجاتا ہے تو… تم اور عبیل…‘‘
’’بس کرو شازیہ پلیز‘ اب آگے کچھ مت بولنا۔‘‘ نوال نے عبیل کے نام پر ہاتھ اٹھا کر اسے سختی سے کچھ کہنے سے روکا‘ نوال کے چہرے کا رنگ یکلخت بدل گیا تھا۔
’’چلو چھوڑو عبیل کانام نہیں لیتی لیکن میری بات ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچو خدانا خواستہ تم کل کو بیمار ہوجاتی ہو تو… کوئی تو ہو جو تمہیں سنبھالے‘ سہارا دے‘ ہم لوگ بھلا اپنے اپنے گھروں میں مطمئن رہ سکیں گے‘ تمہیں یوں تن تنہا چھوڑ کر عبیل نہ سہی کوئی اور تو ہو جوتمہارے لیے سوچے‘ تمہارا خیال کرے‘ تمہارے ساتھ رہے۔‘‘
’’مطلب یہ کہ تم پکا ارادہ کرکے بیٹھی ہو کہ مجھے ایک بار پھر…‘‘ نوال نے نم آنکھیں شازیہ کی سمت اٹھا کر جملہ ادھورا چھوڑا۔ شازیہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگالیا۔
’’نہیں میری جان‘ میری بہن‘ ہم سب تمہارے اپنے ہیں‘ تمہاری بہتری چاہتے ہیں‘ تمہارے لیے دل سے سوچتے ہیں‘ فکر ہے ہم سب کو تمہاری۔ تم… تم… نے اتنی سی عمر میں اتنا سب کچھ دیکھ لیا‘ اتنے تلخ تجربات ہوگئے ہیں کہ اب ہم چاہتے ہیں کہ اللہ پاک تمہارے لیے صرف اچھا اچھا کرے آگے تمہارے لیے کوئی دکھ‘ کوئی پریشانی‘ کوئی دشواری نہ ہو‘ سارے دکھوں کا ساری کوتاہیوں کا ازالہ ہوجائے‘ خدا کی قسم نوال مما اور تائی اماں تمہارے لیے بہت روتی ہیں‘ بہت فکر ہے سب کو تمہاری۔‘‘ شازیہ اس کو گلے سے لگا کر روتے ہوئے مسلسل کہہ رہی تھی‘ وہ بھی رونے لگی تھی۔
’’اوکے شازیہ… میں شادی کے لیے تیار ہوں‘ اگر تم سب چاہتے ہو تو میرے لیے رشتہ دیکھو۔‘‘ نوال نے ہار مانتے ہوئے سر جھکا کر کہا۔
’’اگر تم راضی ہوہی گئی ہو تو پھر عبیل کیوں نہیں…؟‘‘ شازیہ جو دل ہی دل میں بہت خوش تھی اس نے آخری تیر پھینکا۔
’’نہیں قطعی نہیں اگر میری بھلائی چاہتے ہو تو میری شادی کہیں بھی کردو۔‘‘ حتمی فیصلہ سنا کر وہ اٹھ کر اندر کی طرف چلی گئی۔ شازیہ تاسف سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
عبیل نے سنا تو ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ وہ دل سے چاہتا تھا کہ ایک بار نوال سے بات کرکے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لے‘ اس سے شادی کرکے تمام غلطیوں کا ازالہ کردے گا۔ اسے اتنا پیار دے گا کہ وہ گزشتہ تمام تلخیوں کو بھول جائے گی‘ مگر… نوال… نوال تو بہت زیادہ ناراض تھی۔ بہت خفا تھی اس سے۔ نوال کے لئے جاننے والوں سے مناسب رشتے کے لیے کہہ دیا گیا تھا۔ نوال کو کون سی کوئی خواہش یا دلچسپی تھی بس وہ بھی سب کی خواہش پر تیار ہوئی تھی‘ مگر نہ جانے کیوں اس کے دل میں کوئی نہ کوئی تشنگی سی محسوس ہورہی تھی‘ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ کھونے جارہی ہو۔
ادھرعبیل کی حالت بھی بہت دل گرفتہ ہوگئی تھی۔ وہ بہت اداس ہوگیا تھا‘ نوال اتنے پاس ہوکر بھی کوسوں دور تھی۔ اتنے عرصے بعد اتنی کٹھنائیوں سے گزر کر وہ ملی تھی اور پھر… مل کر بھی… اتنی دور… اتنی خفا اور اتنی ناراض تھی کہ ایک بار پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور چلی جانے والی تھی۔ بہت کچھ کھونے کے احساس نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ نوال ایک بار پھر پرائی ہونے والی تھی۔ اس کے لیے ایک رشتہ آیا تھا اور لوگوں نے پسند بھی کرلیا تھا۔ عبیل نے سنا تو غم کی لہر اس کے اندر تک اتر گئی۔ وہ گاڑی لیے سڑکوں پر یونہی دوڑاتا رہا‘ دل کسی صورت قابو میں نہیں آرہا تھا۔ بہت کچھ کھو دینے کا احساس تھا۔ ادھر نوال بھی جب سے لڑکے والے پسند کرکے گئے تھے عجیب سی بے چینی کا شکار تھی۔ وہ دل جو عبیل کی طرف دیکھنے سے بھی گریزاں تھا آج نہ جانے کیوں مچل رہا تھا‘ بے قرار یاں عروج پر تھیں جیسے دل اچھل کر باہر آجائے گا۔ اس رات بے چینیاں حد سے بڑھیں‘ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی‘ ایک تڑپ اور بے کلی کے احساس نے اسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
تکیے پر کروٹیں بدلتے بدلتے وہ جب بیزار ہوگئی تو اٹھ بیٹھی۔ دل بے حد گھبرا رہا تھا‘ حلق سوکھ کر کانٹا بن گیا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکل آئی‘ کچن میں آکر فریج سے پانی کی بوتل نکالی پانی پیا اور بوتل فریج میں رکھ کر جیسے ہی پلٹی‘ کچن کے دروازے میں عبیل کھڑا تھا الجھے بال‘ ویران اور اداس چہرہ‘ ملگجے کپڑے اور بڑھی ہوئی شیو میں… کتنے دن بعد اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ دل نادان دھڑکنے لگا تھا۔ آنکھیں چھلکنے کو بے تاب ہونے لگی تھیں‘ وہ سر جھٹک کر باہر نکلنے لگی۔
’’سنو!‘‘ عبیل کی آواز پر بڑھتے قدم یوں رکے جیسے آواز کے منتظر ہوں۔
’’نوال تم مجھے معاف نہیں کرسکتیں۔‘‘ دونوں ہاتھ جوڑے وہ اس کے سامنے کھڑا تھا بکھرا‘ ٹوٹا ہوا اور ملتجی۔
’’نہیں۔‘‘ نوال نے حتمی لہجے میں کہا۔
’’نوال کیا میرا گناہ اتنا بڑا ہے کہ کسی صورت معافی نہیں مل سکتی۔ کسی بھی صورت مجھے سزا دے کر ہی سہی۔‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے پوچھ رہا تھا۔ ’’نوال پلیز… پلیز مجھ پر اتنا ظلم نہ کرو۔‘‘ وہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔
’’ظلم… ظلم تو آپ نے کیا تھا عبیل صاحب‘ اس روز اس بھیانک رات کو جب میں سسک رہی تھی۔ مگر آپ تو میری ایک بات سننے کو ماننے کو تیار نہ تھے۔ آپ کو میری بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔‘‘ وہ پھٹ پڑی تھی۔
’’ہاں… ہاں اس وقت نہ جانے کیوں میری آنکھوں پر غفلت تھی‘ میں اندھا ہوگیا تھا کہ صحیح اور غلط کو پہچان نہ سکا۔ اس سچویشن میں ان لوگوں کی بات صحیح لگی‘ میرا دماغ خراب ہوگیا تھا اور جب میں اپنے کمرے میں گیا تو مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور دوسری صبح میں تمہیں منانے‘ تم سے بات کرنے تمہارے کمرے میں بھی آیا لیکن تم اورسدرہ چچی جاچکی تھیں اور یہ بات کسی کو معلوم بھی نہیں تھی کہ تم کہاں ہو۔ خدا کی قسم نوال میں نے تمہیں بہت ڈھونڈا لیکن تم لوگوں کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔‘‘ عبیل نے اس کے سامنے سب کہہ دیا۔
’’عبیل اگر اس وقت صرف تم‘ میرا ساتھ دے دیتے‘ ایک بار میری بات پر یقین کرلیتے تو‘ میں اتنے دکھ نہ اٹھاتی‘ میں نے بہت دکھ‘ بہت اذیت سہی ہے‘ ہر روز میری روح کو زہریلے تیروں سے داغا جاتا‘ میرے جسم کو سگریٹ سے داغا جاتا‘ میری روح کو چھلنی کیا جاتا‘ میرے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کیا جاتا… اگر تم‘ اس وقت میرا ساتھ دے دیتے تو…‘‘ نوال کی آواز رندھ گئی تھی۔
’’ہاں نوال میں بہت شرمندہ ہوں‘ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح تم سے معافی مانگوں‘ کیسے تمہارے سامنے اپنی غلطیوں کی تلافی کروں؟‘‘
’’عبیل بس کرو… اب یہ ساری باتیں‘ معافی‘ تلافی‘ یہ سب میرے لیے بے معنی ہیں‘ بے کار اور غیر ضروری ان باتوں کی نہ تو میری زندگی میں ضرورت ہے نہ اہمیت‘ اس لیے بس کرو یہ فضولیات میرا راستہ چھوڑو اور مجھے جانے دو‘ جو رشتے کی بات چل رہی ہے میں اس پر خوش ہوں۔‘‘ وہ تلخی سے کہتی ہوئی باہر نکلنے لگی۔
’’پلیز نوال…‘‘ وہ ہاتھ جوڑے سراپا التجا بنا کھڑا تھا۔
’’عبیل تمہارے اس پلیز یا معافی سے کیا وہ گزرا ہوا وقت واپس آسکتا ہے؟ کیا میں خود پر کیے گئے ظلم‘ وہ تکالیف‘ وہ پریشانیاں اور مما کو لے کر جو اذیت سہی ہے ان سب کا ازالہ ہوسکتا ہے‘ وہ سب جب یاد آتا ہے ناں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے‘ مجھے نیند نہیں آتی۔ میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں‘ میں… تم سے نفرت کرتی ہوں‘ نفرت۔‘‘ نوال کے لہجے میں لرزش نمایاں تھی۔
’’نوال‘ ایک بار… صرف ایک بار مجھے دیکھ کر میرے چہرے کی طرف دیکھ کر کہہ دو کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو تو میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہاری نظروں سے دور ہوجائوں گا۔ کبھی بھی تمہیں اپنی شکل نہیں دکھائوں گا۔‘‘
’’ہاں ہاں مجھے تم سے…‘‘ اس نے نگاہ اٹھائی عین اسی وقت عبیل کی نگاہیں بھی اٹھیں نوال نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ دل جس کو بڑی مشکلوں سے سنبھالا تھا۔ سمجھا سمجھا کر فیصلہ کیا تھا مگر… اس… دل… کم بخت نے ایک لمحے میں ہی ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ وہ عبیل کی اداس آنکھوں میں ڈوبتی چلی گئی۔ دل تھا کہ ہاتھوں سے نکل کر پھسلتا چلا گیا۔
’’بولو نوال‘ ایک بار صرف ایک بار‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھو کہ یہ میرے نام پر دھڑکتا ہے یا نہیں…؟ اس میں میرے لیے کوئی گنجائش کوئی سوفٹ کارنر ہے یا نہیں؟‘‘ وہ کب تک خود پر کنٹرول رکھ پاتی‘ کتنا حوصلہ‘ کتنی برداشت لاتی… وہ لاکھ سنبھلنے کی کوشش کرتی‘ آخر کار وہ عبیل کے سامنے ہارتی چلی گئی۔
’’عبیل تم… تم بہت برے ہو… بہت ظالم…‘‘ عبیل کو جھنجوڑتی ہوئی وہ دل کی بھڑاس آنسوئوں کی شکل میں نکال رہی تھی۔ عبیل اس کے سامنے سر جھکائے چپ چاپ کھڑا تھا۔ وہ عبیل کی بانہوں میں بکھرتی چلی گئی۔
’’جان عبیل جوکچھ ہوا اسے ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھول جائو۔ اب آئندہ میں تمہاری زندگی میں کوئی غم‘ کوئی دکھ نہیں آنے دوں گا‘ اگر تم نے اذیت سہی ہے تو عبیل بھی پل پل مرا ہے‘ جاناں اب تمہیں کہیں نہ جانے دوں گا تمہیں اپنے دل میں چھپا کر رکھوں گا‘ اگر ایک پل کے لیے بھی دور ہوئیں تو اب تمہارا عبیل مرجائے گا۔‘‘ نوال نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
’’اللہ نہ کرے عبیل کہ اب ہم جدا ہوں۔‘‘ نوال نے کہا تو عبیل نے محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے آنکھیں موندلیں‘ کتنے عرصے بعد دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے۔
/…l/l…/
اس رات کی صبح بہت حسین تھی۔ عبیل نے روحانہ کو بتایا تو یہ نیوز سارے گھر میں پھیل گئی‘ گھر کے تمام لوگ بہت خوش تھے‘ گھر میں ایک عرصے بعد خوش گوار ماحول قائم ہوا تھا۔ رومانہ بیگم کا پژمردہ چہرہ بھی کھل اٹھا تھا۔ ان کے بیمار زرد چہرے پر بھی رونق آگئی تھی۔ کتنے مہینوں کے بعد آج وہ کمرے سے باہر نکلی تھیں‘ روحانہ ان کو وہیل چیئر پر بٹھا کر ناشتے کی ٹیبل تک لائی تھی۔ عبیل کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ جبکہ نوال کا شرمایا‘ شرمایا جھکا ہوا چہرہ سب کی توجہ کا مرکز تھا۔ خوش گوار ماحول میں ناشتہ کیا جارہا تھا تب ہی اخبار والا اخبار دے گیا تھا۔ عبیل نے یونہی سرسری نظر اخبار پر ڈالی تو وہاں تصویروں کے ساتھ خبر لگی تھی۔
’’پوش علاقے کے فلیٹ میں تین افراد کا قتل‘ قاتل فرار ہوتے میں پکڑا گیا اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعشیں اور قاتل کو قبضہ میں لے لیا‘ قتل کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ کیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی شبانہ‘ ذکا اور جازیہ کی نعشوں کی تصاویر اور سارب کی تصویر بطور قاتل کے لگی ہوئیں تھیں۔
’’خس کم جہاں پاک‘ جیسے کرتوت ویسا نتیجہ تو نکلنا تھا۔‘‘ عبیل نے نفرت سے جملہ ادا کرتے ہوئے اخبار سامنے ٹیبل پر پھینکا۔ سب کی توجہ اخبار کی جانب مبذول ہوگئی۔
’’برے کام کا برا انجام۔‘‘ سب نے مختلف ریماکس پاس کیے جبکہ رومانہ بیگم نے اخبار اٹھا کر لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اس اخبار کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہوا میں اچھال دیئے۔ اشارے سے عبیل اور نوال کو بلایا اور دونوں کو اپنے بازوئوں میں بھر لیا اور مسکرادیں۔ سب کے ساتھ ساتھ ان کے ہونٹوں پر بھی آسودہ مسکراہٹ پھیل گئی۔