Hijaab May-16

امہات المومنین

ندا رضوان

حضرت زینبؓ بنت حجش ؓ
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی والدہ ماجدہ حضرت عبد المطلب جد رسول کی صاحبزادی تھیں‘ جن کا نام امیمہ تھا۔ اس لحاظ سے حضرت زینب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی پھوپی زاد تھیں۔
جب یہ اس جہان رنگ و بو میں آئیں تو اس وقت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک ۲۱ برس تھی۔ آپ کے سامنے پلیں‘ بڑھیں اور جوان ہوئیں لہٰذا جب وہ مدینہ منورہ تشریف لائیں تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی کفالت میں زندگی کے دن بسر کرنے لگیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زینبؓ بنت حجش کو سیرت و صورت دونوں لحاظ سے بے حد و حساب نوازا تھا۔نسوانی حسن و جمال اور سلیقہ شعاری میں اپنے دور کی کسی خاتون سے کسی نوع کم نہ تھیں۔ آپ ؓ کا قد مبارک نہایت مناسب تھا‘ موزوں اندام اور خوب صورت تھیں۔
حضرت زیبؓ بنت حجش بے شمار خوبیوں کی حامل تھیں۔ بڑی زاہدہ و عبادت گزار تھیں‘ شب بیداری فرماتیں اور اپنے رب کریم کی بارگاہ میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ سربسجود رہتی تھیں۔
آپؓ کو اپنے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت و عنایت پر بے پناہ بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اپنی شادی کے سلسلہ میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرح رجوع و بھروسہ کیا تھا۔ خشیت الٰہی سے لرزاں و ترساں رہتی تھیں کہ کہیں کوئی قول و فعل اللہ کی رضا کے خلاف نہ ہوجائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت کے جذبے سے بھی سرشار تھیں۔ اس بات پر کامل یقین تھا کہ رشد و ہدایت ‘ رضائے الٰہی اور آخروی انعامات کا واحد ذریعہ محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت ہے اور جس دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت و عشق نہیں وہ دل ویرانہ ہے۔ شیطان کی آماجگاہ ہے‘ اللہ تعالیٰ سے دور ہے‘ قابل نفرین ہے۔
سخاوت و فیاضی اور فی سبیل اللہ حضرت زینبؓ بنت حجش کا طرہ امتیاز تھا۔ اس لحاظ سے وہ یتیموں‘ بیوائوں‘ فقراء و مساکین کی پناہ گاہ تھیں۔
ایک مرتبہ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنہما سے ارشاد فرمایا:۔
’’تم میں سے وہ مجھے جلد ملے گی جس کا ہاتھ لمبا ہوگا۔‘‘
یہ الفاظ مبارک سنے تو سب امہات المومنین رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اپنے ہاتھ کی لمبائی دیکھا کرتی تھیں لیکن اس سے مراد سخاوت و انفاق فی سبیل اللہ تھا اور اس میں حضرت زینب ؓ بہت آگے تھیں لہٰذا ہاتھ انہیں کے دراز تھے۔ پس حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اس پیشن گوئی کا مصداق سیدہ زینبؓ ثابت ہوئیں اور سرور کونین صلی اللہ علیہ و سلم کے اپنے رب کے پاس تشریف لے جانے کے بعد حضرت زینبؓ کا سب سے پہلے انتقال ہوا لہٰذا بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ :۔
’’حضرت زینبؓ کے وصال کی خبر سن کر مدینہ منورہ کے غریبوں‘ فقیروں اور مسکینوں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور وہ گھبرا گئے تھے۔‘‘
حضرت عمر فاروقؓ نے ارشاد فرمایا:۔
’’حضر ت زینبؓسے بڑھ کر میں نے کوئی خضوع و خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔‘‘
حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا:۔
’’حضرت زینبؓ بنت حجش ایک خوب صورت خاتون تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کثرت سے آپؓ کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ صالح‘ روزہ دار اور شب بیدار تھیں۔‘‘
الغرض آپؓ انگت خوبیوں اور اوصاف کی حامل تھیں۔ صدق و صفا کے سدا بہار پھولوں سے مزین تھیں۔ راست گو‘ قابل تعریف اور بے مثال تھیں اور یہ بھی شرف حاصل تھا کہ قدیم الاسلام تھیں۔
محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا کہ نماز عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کے ہاں تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے تھے اور پھر اس زوجہ محترمہ کے پاس چلے جاتے جس کی باری ہوتی تھی۔ ایک دن حضرت زینبؓ بنت حجش کے ہاں تشریف لے گئے تو وہاں معمول سے قدرے زیادہ دیر لگ گئی۔ ان کے ہاں شہد آیا ہوا تھا‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو شیرینی پسند تھی لہذٰا وہ شہد کا شربت بناکر پیش کیا کرتی تھیں اس وجہ سے وہاں تھوڑی دیر زیادہ بیٹھنا پڑتا تھا لیکن یہ بات دوسری ازواج مطہرات رضوان اللہ تعالیٰ عنہم کو پسند خاطر نہ تھی۔ جذبہ وہی کارفرما تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا قرب زیادہ سے زیادہ نصیب ہو چنانچہ انہوں نے باہمی مشورہ کیا کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس تشریف لائیں تو ہر ایک یہی کہے۔
’’آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے۔‘‘
ایک دن جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم شہد کا شربت نوش فرماکر حضرت زینبؓ بنت حجش کے حجرے مبارک سے نکلے تو حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس تشریف لے گئے‘ انہوں نے عرض کی۔
’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ! کیا آپ نے مغافیر تناول کی ہے؟‘‘
’’نہیں‘ زینبؓ کے ہاں شہد کا شربت پیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں فرمایا۔
یہاں سے آپ حضرت حفصہؓ کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا جو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔
’’مغافیر تناول نہیں کی۔ زینبؓ کے ہاں شہد کا شربت پیا تھا۔‘‘
بعد ازاں وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت سودہؓ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگیں۔
’’میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر قربان ہوں‘ کیا آپ نے مغافیر پی ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اور پھر حضرت صفیہ ؓ کے ہاں پہنچے تو انہوں نے بھی وہی کہا جو پہلی تینوں ازواج مطہرات ؓ نے کہا تھا اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے شہد اپنے اوپر حرام کرلیا۔
مغافیر ایک پھول کا نام ہے‘ اس میں کچھ بساند ہوتی ہے اگر شہد کی مکھی اس کا رس چوسے تو اس کے اندر اس کا اثر آجاتا ہے اور یہ حقیقت سب پر عیاں تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نہایت نفاست پسند تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سے نفرت تھی کہ منہ سے بو آئے۔
جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شہد اپنے اوپر حرام کرلیا تو فوراً وحی آگئی اور سورہ تحریم کا آغاز ہی یہاں سے ہوتا ہے۔
’’اے غیب بتانے والے نبی! تم اپنے اوپر کیوں حرام کیے لیتے ہو وہ چیز جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی۔ اپنی بیبیوں کی مرضی چاہتے ہو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
چنانچہ اس آیت مبارکہ کے نزول سے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے متعلق ایک اہم اور بنیادی ضابطہ روشن ہوا کہ کون حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے؟ اور اس کا باعث بھی ام المومنین حضرت زینبؓ بنت حجش ہی بنیں۔
غزوہ خیبر سات ہجری میں وقوع پذیر ہوا تھا‘ یہ بہت بڑا شہر تھا جس میں متعدد قلعے اور بکثرت کھیتیاں تھیں۔ یہ مدینہ منورہ سے آٹھ برید کے فاصلہ پر شام کی جانب ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ماہ محرم کے آخری دنوں میں یہاں تشریف لے گئے تھے۔ دس یا بارہ روز تک اس کا محاصرہ فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فتح کرادیا‘ اس میں سے بہت مال غنیمت ملا۔ بہت سے کھیت اور باغ قبضہ میں آئے‘ اہل خیبر کو ان کی آہ و زاری پر کھیتوں اور باغوں پر پیداوار کے آدھے حصے کے عوض مقرر کردیا۔ وہ حصہ جو مسلمانوں کو ملتا تھا اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ام المومنین سیدہ زینبؓ بنت حجش کے لیے سالانہ ۸۰ وسق کھجوریں اور ۳۰ وسق گیہوں یا جو عطا فرمایا کرتے تھے۔
ام المومنین سیدہ زینبؓ بنت حجش کے تین بھائی اور تین بہنیں تھیں۔
۱۔ حضرت عبد اللہ ؓ بن حجش‘ یہ قدیم الاسلام تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے جانثاروں میں سے تھے۔ اپنی بہن حضرت زینبؓ کے ساتھ بطرف حبشہ ہجرت کی تھی حق و باطل کے پہلے معرکہ بدر میں بہادری کے خوب جوہر دکھائے ۔ غزوہ احد میں بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر دین اسلام کی سربلندی کے لیے جہاد کیا اور اسی میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے‘ ان کے ماموں حضرت حمزہؓ بھی اسی غزوہ میں شہید ہوئے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں ماموں بھانجے کو ایک ہی قبر میں سپرد خاک کیا۔
۲۔ حضرت ابو احمد عبد اللہؓ بہت بڑے شاعر تھے۔ اسلام کی خاطر ملک حبش کی طرف ہجرت کی تھی۔ ان کی زوجہ محترمہ حضرت فارعہ بنت ابو سفیان امویؓتھیں۔ آپ نابینا تھے لیکن اپنی شاعری سے اسلام کا دفاع کیا اور اس کی مدح سرائی کی۔
۳۔ عبید اللہؓ یہ اولاً مسلمان تھے جب حبشہ حجرت کرکے گئے تو وہاں مرتد ہوگئے۔ عیش و عشرت میں پڑگئے‘ عیسائی مذہب قبول کرلیا‘ ان کی بیوی حضرت ابو سفیانؓ کی لخت جگر رملہ ؓ جن کا نام حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے نکاح فرمانے کے بعد ام حبیبہ ؓ رکھ دیا۔
۴۔ حضرت ام حبیبہؓ بنت حجش کی شادی حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ سے ہوئی تھی اور وہ عشرہ مبشرہ میں سے تھے جنہیں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت دی تھی۔
۵۔ حضرت حمنہؓ ان کا پہلا نکاح حضرت مصعب بن عمیرؓسے ہوا تھا۔ وہ غزوہ احد میں کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ ان کا دوسرا نکاح حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ سے ہوا۔ ان میں سے دو فرزند محمدؓ اور عمرانؓ تولد ہوئے۔
جب وقت وصال قریب آیا تو حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المال میں سے پانچ تھان بھیجے کہ ان میں سے جو کپڑا چاہیں پسند فرمالیں چنانچہ اسی میں آپؓ کفنائی گئیں اور آپؓ کی بہن حمنہؓ نے اس کفن کو جو آپؓ نے اپنے لیے تیار کرکے رکھا تھا خیرات کردیا۔
جس دن ام المومنین حضرت زینبؓ بنت حجش کا انتقال ہوا اس دن مدینہ منورہ میں سخت گرمی تھی چنانچہ خلیفتہ المومنین حضرت عمر فاروقؓنے قبر پر شامیانہ لگوادیا تاکہ قبر کی تیاری اور سیدہ ؓ کی تدفین میں لوگوں کو تکلیف نہ ہو‘ اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا شامیانہ تھا جو کسی قبر پر نصیب کیا گیا تھا۔
آپؓ کا انتقال کا سانحہ ۲۰ ہجری میں ہوا اور اس وقت سیدہ ؓ کی عمر مبارک ۵۷ سال تھی۔
جنارہ کے ساتھ مرد اور عورتیں یکساں جایا کرتے تھے لیکن جب ام المومنین حضرت زینبؓ بنت حجش کا وصال ہوا تو حضرت عمر فاروقؓ نے اعلان کردیا۔
’’حضرت زینبؓ کے جنازے کے ساتھ ان کے گھر والوں میں سے عزیز و اقارب ہی جائیں۔‘‘
پھر حضرت بنت عمیسؓ بولیں۔
’’امیر المومنینؓ! میں آپ کو ایک چیز نہ دکھائوں جو میں نے حبشہ میں دیکھی ہے۔ حبشی! اسے اپنی عورتوں کے جنارے کے لیے تیار کرتے ہیں۔‘‘
چنانچہ حضرت بنت عمیس نے نعش بنائی اور اسے کپڑے سیے ڈھانپ دیا۔ جب حضرت عمر فاروقؓ نے یہ نعش دیکھی تو تعریف کی اور فرمایا۔
’’یہ کس قدر اچھی ہے اور کس قدر پردے والی ہے۔‘‘
یہ پہلا تابوت تھا جو کسی خاتون کے لیے تیار کیا گیا تھا‘ حضرت عمر فاروقؓ نے اعلان کرادیا۔
’’اے اہل مدینہ! اپنی ماں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے جنازے میں حاضر ہوجائو۔‘‘
چنانچہ جنازے میں شرکت کے لیے لوگوں کا ہجوم ہوگیا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے۔ وہ حضرت زینبؓ کا ذکر خیر کرنے لگیں اور ان کے لیے دعائے ترحم مانگنے لگیں۔ حضرت صدیقہؓ سے حضرت عروہؓ نے کہا۔
’’زینبؓ بنت حجش کا کوئی وصف بیان کریں۔‘‘
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرمانے لگیں۔
’’زینبؓ ایک نیک عورت تھیں۔‘‘
حضرت عروہؓ نے پھر پوچھا۔
’’خالہ جان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کون سی بیوی سے زیادہ لگائو تھا۔‘‘
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جواب دیا۔
’’میں اس کا خیال کرنے والی نہ تھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نگاہ میں زینب ؓ بنت حجش اور ام سلمہ ؓ کا ایک مقام تھا اور میرے گمان میں میرے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو یہی دونوں بہت محبوب تھیں۔‘‘

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close