Hijaab Mar-16

پڑا آدمی

سباس گل

گھنٹی کی آواز سن کر ابراہیم نے گہری نیند سے آنکھیں کھولیں تھیں۔ شنکرلال کارنس پہ رکھی بھگوان کی مورتی کے سامنے کھڑا گھنٹی بجارہاتھا۔
’’یہ لو… بھگوان کو گھنٹی بجابجا کر جگارہا ہے۔‘‘
ابراہیم بڑبڑایا اور مندی مندی آنکھوں سے شنکرلال کو تکنے لگا۔ جو گھنٹی کارنس پہ رکھ کر اب اپنے دونوں ہاتھ جوڑے اور آنکھیں موندے نجانے بھگوان سے من ہی من میں کیارازونیاز کررہاتھا؟
’’ارے بھئی شنکرلال‘ اتنی رات کوبھگوان کوکیوں تنگ کررہے ہو؟ انہیں بھی آرام کرنے دو‘ اور ہمیں بھی۔‘‘ ابراہیم نے نیند میں ڈوبی آواز میں کہا تو شنکر لال کاارتکاز ٹوٹ گیاوہ بے چینی کے عالم میں ابراہیم کے پلنگ کے قریب رکھی کرسی پربیٹھتے ہوئے بہت پریشان لہجے میں بولا۔
’’وہ کیا ہے کہ ابراہیم بابو! ہم نے بہت ڈرائونا بہت عجیب سپنا دیکھا ہے ابھی۔‘‘
’’تو بھگوان سے کیا تم سپنے کی تعبیر پوچھ رہے تھے؟‘‘ ابراہیم نے مسکرا کر پوچھا تو وہ ایک دم سے اٹھ کر ہاتھ جوڑے پھر سے بھگوان کی مورتی کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کے بدن سے پسینہ پھوٹ رہا اور آواز کانپ رہی تھی۔
’’نہیں ابراہیم بابو! میں تو بھگوان سے پراتھنا (دعا) کررہا ہوں کہ میرا سپنا سچا نہ ہو۔‘‘
’’ایسا کیا دیکھ لیا شنکر لال؟‘‘
’’ابراہیم بابو! میںنے دیکھا کہ… میں…‘‘
’’رک کیوں گئے؟ شنکرلال بتائونا ایسا کیا دیکھ لیا تم نے؟ کہ تمہاری نیند اڑ گئی۔ پسینے چھوٹ گئے۔ رنگ فق ہوگیا؟‘‘ ابراہیم کو بھی تجسس کے مارے اٹھ کر بیٹھنا پڑا۔
’’وہ میں نے دیکھا کہ… زبان ساتھ نہیں دے رہی ابراہیم بابو‘ آنکھوں نے جو دیکھا ہے… وہ زبان تک آنے کا حوصلہ نہیں پارہا۔‘‘ شنکرلال نے حواس باختہ سے انداز میں کہا۔
’’لگتا ہے کچھ انہونی ہوگئی تمہارے ساتھ سپنے میں؟‘‘
’’ایسی ویسی انہونی؟‘‘ شنکرلال نے ابراہیم کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا۔
’’ہمارا تو دھرم‘ بھرم‘ جسم سب پاپ میں پڑگیا۔ سنسار بدل گیا‘ دنیا ہی اور تھی وہ اور ہم تھے۔‘‘
’’ابے یار شنکرلال سوجا بھائی تو بھی سوجا اور مجھے بھی سونے دے اور اپنے بھگوان جی کو بھی سونے دے آرام سے۔ صبح اٹھ کر ان سے خواب کی تعبیر پوچھ لینا۔‘‘ ابراہیم نے الجھن زدہ لہجے میں کہا اور جمائی لیتے ہوئے پھر سے لیٹ گیا۔
’’نہ ابراہیم بابو! اب مجھے نیند نہیں آنے کی۔‘‘
’’اچھا بھائی‘ تو باہر جاکے چوکیداری کرلے۔ وہ برابر والے مرزا صاحب‘ کہے رہے تھے کہ ان کے کھیت سے روز رات کو کوئی مولیاں‘ شلجم‘ گاجر توڑ کے لے جاتا ہے‘ جائو جاکے ان کے سبزی چور کا پتا لگائو۔ اگر تم نے اس سبزی چور کو پکڑ لیا نا تو سمجھو روزانہ مفت سبزی ملا کرے گی تمہیں۔ اتنی مہنگائی میں جب کہ سبزی سونے‘ چاندی کے بھائو بک رہی ہے تمہارا یہ خرچہ تو بچ جائے گا۔‘‘ ابراہیم نے سنجیدہ مگر پر مزاح انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ شنکرلال کسی اور ہی خیال میں گم تھا۔ کھوئے‘ کھوئے لہجے میں گویا ہوا۔
’’چور… سبزی چور… ابراہیم بابو ایک بات بتائو؟‘‘
’’ہوں‘ پوچھو۔‘‘
’’چوری کیا صرف چیزوں کی ہوتی ہے؟ مطلب‘ سبزی ترکاری‘ سونے چاندی‘ کپڑے گہنے‘ روپے پیسے‘ کی چوری ہوتی ہے اور بس؟‘‘ شنکرلال نے ابراہیم کی طرف دیکھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’تم کیا کہنا چاہ رہے ہو شنکرلال؟‘‘
’’کیا مذہب کی دھرم کی چوری نہیں ہوتی؟ ایک دھرم پہ رہتے ہوئے‘ کسی دوسرے دھرم کے آگے ماتھا ٹیکنا‘ ہاتھ جوڑے بھگوان کی مورتی کے آگے اور ماتھا مسجد کے مصلے پر ٹیکے۔ جاگے تو جے ماتا دی اور سوئے تو…‘‘
’’سوئے تو… بول ناشنکرلال؟‘‘
’’زبان ساتھ نہیں دیتی ابراہیم بابو۔‘‘ شنکر لال بے بسی سے بولا۔
’’دل ساتھ دے رہا ہے؟‘‘ ابراہیم نے سوال کیا۔
’’دل تو چور بنا بیٹھا ہے۔‘‘
’’کیوں کیا چوری کرلی؟‘‘ ابراہیم نے اس کے چہرے پر پھیلی بے چینی اور الجھن کو دیکھتے ہوئے شوخ لہجے میں کہا۔
’’کسی لڑکی وڑکی کا چکر تو نہیں ہے شنکرلال؟‘‘
’’ابراہیم بابو! لڑکی کا چکر ہوتا تو اتنی چنتا (فکر) نہ ہوتی۔‘‘ وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
’’ہائیں! یعنی لڑکی چکر سے زیادہ بڑا بھی کوئی چکر ہے جو پریشان کرسکتا ہے تم جیسے جوان کو؟‘‘
’’دھرم سے بڑا کوئی چکر ہوگا کیا؟‘‘ شنکرلال نے سنجیدگی سے پوچھا تو ابراہیم جھنجلا سا گیا اور تھک کر بولا۔
’’ابے یار رات کے اس پہر تو کون سا فلسفہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے؟ سو جا یار۔‘‘
’’کیسے سوئوں ابراہیم بابو؟‘‘ وہ تھکے تھکے انداز میں اپنی چارپائی پر ڈھے سا گیا۔
’’میری نیند تو میرے سپنے نے اڑادی ہے ڈرتا ہوں کہ کہیں پھر سے سو گیا تو وہی سپنا نہ دکھائی دے جائے۔‘‘
’’شنکرلال! اب تم مجھے اپنا سپنا سنا رہے ہو یا میں سو جائوں؟‘‘ ابراہیم نے سنجیدگی سے اسے دھمکایا۔
’’وہ ابراہیم بابو!‘‘ شنکرلال اپنی انگلیاں آپس میں پیوست کرتے ہوئے چور لہجے میں بولا۔ ’’میں نے دیکھا کہ میں… میں شنکرلال‘ ہندو مذہب کا پیروکار مسجد میں جھاڑو پھیر رہا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ ابراہیم حیرت سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔
’’کیا کہا تم نے؟‘‘
’’آپ کو بھی سن کے جھٹکا لگانا۔ تو میری کیفیت کا اندازہ آپ خود لگالیں کہ میں نے یہ سپنا دیکھا ہے تو میرا کیا حال ہوا ہوگا؟‘‘ شنکرلال نے بے بسی سے کہا۔
’’ہوں… ٹھیک کہتے ہو شنکرلال‘ اچھا تو تم نے واقعی خواب میں دیکھا کہ تم مسجد میں جھاڑو لگارہے ہو۔‘‘
’’جی ابراہیم بابو! وہ جہاں آپ نماز پڑھنے جاتے ہو۔ اسے مسجد کہتے ہونا؟ وہی تھی‘ سبز گنبد‘ سفید مینار والی مسجد‘ جھاڑو دیتا شنکرلال‘ مصلے بچھاتا کٹر ہندو… یہ کیسے ممکن ہے ابراہیم بابو۔‘‘
’’اس (اللہ) کے لیے سب ممکن ہے۔‘‘ ابراہیم نے دیوار پر لگی خانہ کعبہ کی بڑی سی تصویر کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’پر میں تو یہاں نوکری کرنے آیا تھا‘ مسلمان ہونے نہیں۔ کام ڈھونڈنے آیا تھا‘ بڑا آدمی بننے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔‘‘ شنکرلال اٹھ کر بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ شنکرلال چھبیس برس کا واجبی شکل وصورت کا دبلاپتلا جوان تھا۔ پکا سانولا رنگ‘ بڑی بڑی آنکھیں‘ گھنگریالے کالے بال‘ ساڑھے پانچ فٹ قد‘ تعلیم بی اے تھی مگر عقل کی اے بی سی سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا یہ اس کے گھر والوں کا خیال تھا‘ اس کے بارے میں۔
’’شنکرلال! آدمی اگر من سے مسلمان ہوجائے تو سب کام سنور جاتے ہیں‘ بگڑی بن جاتی ہے‘ کھوئے مل جاتے ہیں‘ گناہ دھل جاتے ہیں‘ پھر ہر کسی کی نوکری نہیں کرنی پڑتی‘ بس ایک کی نوکری کرنی ہوتی ہے۔‘‘ ابراہیم نے اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کون سی نوکری ابراہیم بابو؟‘‘ شنکرلال نے سوال کیا۔ ’’بندے کی یا بھگوان کی؟‘‘
’’اس کی نوکری جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے وہ واحدہ لاشریک ہے۔‘‘ ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا۔
’’نوکری‘ چاکری‘ غلافی‘ جماوری‘ یہ سب تو خانقاہوں‘ مزاروں مسجد درگاہوں پہ ملتی اور ہوتی ہے نا؟‘‘ شنکرلال بولا۔
’’تو سمجھ لے شنکرلال‘ کہ تجھے مسجد کی نوکری مل گئی‘ کسی اللہ والے کے مزار پہ مجاور بنے گا یا مسلمان ہوکے…‘‘
’’نہ جی نہ‘ مجھے کچھ نئیں بننا۔ نہ مسلمان ہونا ہے۔ رام رام بھگوان شما کردیں بھگوان۔‘‘ شنکرلال نے تیزی سے بے کلی سے ابراہیم کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتا‘ بھگوان کی مورتی کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہوگیا اور معافی طلب کرنے لگا اور ابراہیم اس کی طرف دیکھتے ہوئے زیر لب بڑبڑارہا تھا۔
’’اتنی تیزی سے نیند سے جاگ کے بھگوان کو یقین‘ تسلی دلارہا تھا کہ فکر نہ کرو بھگوان جی میں آپ ہی کا پجاری ہوں‘ یہ ایک سپنا مجھے کہیں نہیں لے جانے کا‘ مجھے آپ کے چرنوں سے دور نہیں کرنے کا‘ آپ یقین رکھنا۔ پتا نہیں وہ بھگوان کو یقین دلارہا تھا یا خود اپنے آپ کو؟‘‘ بہرحال جو تھا شنکرلال کا حال اس وقت خاصا بے حال تھا۔
’’میرے خواب کا انجام کیا ہوگا؟ ابراہیم بابو؟‘‘ شنکرلال نے بے کلی سے ابراہیم کی طرف رخ موڑتے ہوئے پوچھا تو اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’بتایا تو ہے۔‘‘
’’من نہیں مانتا۔‘‘
’’اچھا تو من کو کھلا اور آزاد چھوڑ دو اور دیکھو اللہ اسے کس رستے پہ لے جاتا ہے؟‘‘
’’میں نے کس رستے پہ جانا ہے جی؟ بھگوان کو مانتا پوجتا ہوں ہندو ہوں‘ جدی پشتی ہندو ہوں‘ تلک لگاتا ہوں‘ آرتی کرتا ہوں‘ مندر جاتا ہوں‘ پرساد بانٹتا اور لیتا ہوں‘ مندر کی گھنٹی اور بھجن‘ آنکھ کھلتے ہی سننے کو ملے تھے‘ اب گیتا بھی پڑھتا ہوں۔ آج تک وہی بھجن گارہا ہوں۔ اس کے آگے ماتھا ٹیکتا ہوں‘ ہاتھ جوڑ کے مانگتا ہوں۔ پھر بھلا مسلمان کیسے ہوسکتا ہوں؟‘‘ شنکرلال نے سنجیدگی سے کہا۔
’’وہ جو تیرے سپنے میں آسکتا ہے نا‘ وہ کچھ بھی کراسکتا ہے۔ اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں اس کے تو ایک ’’کن‘‘ کہنے پر کل کائنات کا نظام بن وبگڑ جائے‘ مردے میں جان پڑ جائے‘ اور جان دار کی جان نکل جائے۔ بے دین‘ دیندار ہوجائے‘ کافر مسلمان‘ ہوجائے… وہ جو چاہے سو کرے۔ اگر وہ تمہیں مسجد میں دیکھنا چاہتا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘ ابراہیم مسکراتے ہوئے نرمی سے بولا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہونے کا جی‘ سپنے کون سا سچے ہوتے ہیں۔ اور وہ تو میں آپ کے ساتھ رہتا ہوں ناں‘ آپ کو نماز‘ قرآن پڑھتے دیکھتا ہوں‘ اذان سنتا ہوں‘ مسجد کے پاس سے ہر روز گزرتا ہوں‘ نمازیوں کو دیکھتا ہوں تو… اسی لیے تو یہ سب میرے دماغ میں محفوظ ہوگیا اور مجھے سپنے میں نظر آگیا۔‘‘ شنکرلال نے ابراہیم سے زیادہ خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
’’دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے۔‘‘ ابراہیم ہنس پڑا۔
’’ہاں تو اور کیا شنکر لال؟ اب اگر تم مجھے نماز پڑھتے‘ مسجد جاتے دیکھتے ہو تو میں تمہارے سپنے میں کیوں نہیں نظر آیا؟ نظر تو صرف وہ (اللہ کا گھر) آیا ہے اور دوسرا وہ (یعنی شنکرلال) جسے مالک اپنے گھر کا رستہ دکھانا چاہتا ہے۔‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ مزید بے کل ہوگیا۔
’’وہ کیا بتانا چاہتا ہے مجھے؟‘‘
’’وہ کون؟‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔
’’وہ… جسے آپ ’’اللہ‘‘ کہہ کے پکارتے ہو؟‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔
’’وہ یہی چاہتا ہے کہ تم ’’اللہ‘‘ کو پکارو۔‘‘ اسی لمحے دور کی کسی مسجد سے موذن کی آواز آئی۔
’’اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘‘
’’سنا تم نے شنکرلال وہ پکار رہا ہے‘ بلا رہا ہے اپنی جانب‘ اپنے رستے پہ‘ صراط مستقیم پر چلنے کے لیے پکار رہا ہے۔‘‘ ابراہیم نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر نرمی سے کہا۔
’’وہ آپ کو پکار رہا ہے ابراہیم بابو! وہ انہیں پکار رہا ہے جو اس کے ماننے والے ہیں۔‘‘ شنکرلال نے جواب دیا مگر دل کے اندر عجیب سی بے کلی اور ہلچل مچ گئی تھی اذان کی آواز سن کر۔
’’نہیں شنکر لال‘ وہ ہم سب کو پکار رہا ہے۔ دن میں پانچ بار پکارتا ہے۔ کسی دن چلو نا ہمارے اللہ جی کے گھر۔ مجھے یقین ہے تم ان سے مل کر خوش ہوگے۔ میرا ’’اللہ‘‘ تمہیں پسند آئے گا۔‘‘
’’اور کیا میں ’’اللہ‘‘ کو پسند آجائوں گا؟‘‘ شنکرلال کا سوال ابراہیم کے ہونٹوں پہ تبسم بکھیر گیا۔ وہ بہت پیارے لہجے میں کہنے لگا۔
’’جسے وہ پسند نہ کرے‘ اس کے خوابوں میں آکے تو نہیں ملتا نہ اس سے… اس کے سپنوں میں آکے دعوت تھوڑی دیتا ہے… بس جو اسے پسند آجائے اس کے پاس تو وہ خود ہی دوڑا چلا آتا ہے… اسے تو وہ خود ہی اپنے پاس بلالیتا ہے۔‘‘
’’مم… میں یہاں سے چلا جائوں گا۔‘‘
’’کہاں جائے گا شنکرلال؟ اس سے چھپ کر‘ اس سے بچ کر‘ کہاں چھپے گا؟ کہاں بھاگے گا اس کی نظروں سے اوجھل ہوکر؟ وہ تو خود تیرے پاس‘ آن پہنچے گا جیسے تیرے سپنے میں آگیا تجھے جگانے… تو شنکرلال‘ مجھے لگتا ہے وہ تجھے جگائے بغیر اب مانے گا نہیں۔ میری مان! اس (اللہ) کی مان لے۔ ایمان سے کم پہ نہیں ٹلنے کا۔ کلمے سے کم پہ راضی نہیں ہوگا وہ… تو چاہے کہیں بھی چلا جا کہیں بھی جاکے چھپ جا… اس سے نہیں چھپ سکتا‘ ارے وہ تو تیرے اندر گھسا بیٹھا ہے… اب آہستہ آہستہ پردہ سرک رہا ہے۔ وہ تو تیرے نینوں میں سپنوں میں آبیٹھا ہے‘ اس سے چھپ کر تو کیسے کہیں جائے گا شنکر لال؟‘‘
’’حی علی الفلاح‘ حی علی الفلاح۔‘‘ کی آواز سماعتوں میں پڑی تو ابراہیم پھر سے بولنے لگا۔
’’سنا تو نے‘ وہ بلا رہا ہے‘ آئو بھلائی کی طرف‘ آئو خیر کی طرف۔‘‘
’’اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘ اللہ سب سے بڑا ہے‘ جبھی تو ایک ہندو کے سپنے میں بھی آجاتا ہے‘ اسے جگانے کے لیے…کنفیوز کردیا نا اس نے تجھے۔ تیری یہ کشمکش ختم کرکے ہی رہے گا۔ تو یہاں سے تو بھاگ سکتا ہے پر اس سے نہیں بھاگ سکتا۔‘‘
’’آپ مجھے ڈرا رہے ہیں؟‘‘ شنکرلال نے استفسار کیا‘ اس کی آنکھوں میں وحشت سی بھری تھی۔
’’نہیں سمجھا رہا ہوں کہ اگر اس نے ٹھان لی ہے تو پھر مزاحمت‘ انکار‘ تکرار‘ سب بیکار ہے چلتا ہوں۔ نماز نہ نکل جائے میری… بھگوان جی آڑے نہ آئیں تو میرے پیچھے پیچھے آجانا… نیت تم کرو‘ وضو ہم کرادیں گے… مسلمان وہ (اللہ) کرادے گا۔ مسلمان ہوگئے تو سجدہ کرنے کو دل اپنے آپ چاہے گا۔ اس کے سامنے زمین پر ماتھا ٹیکنے اور جھکنے سے انسان کتنا اوپر اٹھ جاتا ہے اگر وہ جان لے تو اس کی دنیا وآخرت دونوں سنور جائیں… اللہ اکبر۔‘‘ ابراہیم اپنی بات مکمل کرکے سر پر ٹوپی پہنتے ہوئے مسجد کی طرف نکل گیا اور شنکر لال کا بے کل دل مزید بے کل ہوکر اس کے پیچھے ہی نکل گیا تھا۔ آنکھیں بھگوان کی مورتی پہ ٹکی تھیں‘ کان ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا پر چوکنے تھے‘ دماغ میں سپنا گھوم رہا تھا‘ اس کا سر گھوم رہا تھا‘ اس کے اردگرد سب کچھ گھوم رہا تھا۔
٭…٭٭…٭
شنکرلال کا تعلق ایک کٹر ہندو گھرانے سے تھا۔ بھرے پورے گھر کا جی تھا وہ۔ ماں باپو کے علاوہ چار بھائی اور تین بہنیں بھی تھیں اور وہ ان سب میں آخری نمبر پر تھا۔ سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے ماں باپ کا لاڈلا تو تھا مگر بھائیوں‘ بہنوں کا چہیتا‘ بس تب تک ہی رہا جب تک وہ سب ایک ایک کرکے بیاہے نہ گئے۔ گھر میں بھابیاں آگئیں تو چھوٹے شنکرلال اور بھی چھوٹے ہوگئے‘ ہوٹلوں‘ ورکشاپ‘ چائے خانوں اور مل کارخانوں میں کام کرنے والے چھوٹے جیسی حیثیت ہوگئی تھی‘ شنکرلال کی۔ ایک بات جو اسے اپنے دوسرے بھائی بہنوں سے ممتاز کرتی تھی وہ اس کی تعلیم تھی۔ اس نے اسکول کے بعد کالج جاکے بی اے کیا تھا۔ وہ پڑھائی میں تو بہت لائق تھا مگر اپنے بھائی بہنوں اور دوسرے لوگوں کی طرح تیز طرار اور چالاک نہیں تھا۔ بھائی آٹھویں‘ میٹرک سے بھاگ گئے تھے اور بہنوں نے آٹھویں‘ دسویں کرکے بیاہ رچا لیا تھا۔ شنکرلال کے باپو مدن لال اور ماں سیتالال اسے آگے پڑھنے کا سبق پڑھایا کرتے‘ شنکرلال کے اندر ایک سیوک چھپا تھا‘ وہ ہر کسی کی خدمت کرنے اور ہر کسی کے کام آنے میں بہت تیز تھا۔ گھر والوں کے کام تو وہ یوں بھاگ بھاگ کر کرتا جیسے وہ اسے بہت عزت ومحبت سے رکھتے ہوں‘ اس کا جی بھر کے خیال رکھتے ہوں‘ اس پہ جان نچھاور کرتے ہوں… پر ایسا کچھ نہیں تھا وہ اپنی خوشی سے سب کے کام کرتا تھا۔ اور جواب میں کوئی اسے شکریہ کا ایک لفظ بھی نہ بولتا‘ الٹا اسے طعنے سننے کو ملتے کے… کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا…‘‘
’’ہڈ حرام ہے مفت کی روٹیاں توڑتا ہے اگر ہمارے چھوٹے موٹے کام کردیتا ہے تو کوئی احسان نہیں کرتا ہم پر۔‘‘ یہ اس کی بھابیوں کے خیالات تھے شنکر لال کے بارے میں۔
’’بی اے کرکے کون سا تیر مارلیا اس نے عقل کی اے بی سی تو آوے نہ اسے… بات توجب ہے کہ یہ کوئی تگڑی پگار (تنخواہ) والی نوکری ڈھونڈ کے دکھاوے۔‘‘ بڑا بھائی کہتا تو منجھلا بھی پیچھے نہ رہتا۔
’’ہاں تو اور کیا اماں اپنا کنبہ ہے ہم کیا اب اسے بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پالیں گے؟‘‘
’’کتنی دفعہ بولا اس سے کہ مزدوری کرلے‘ کوئی ٹھیلا لگالے پر نہ جی اس کی تو تعلیم کی بے اجتی (بے عزتی) ہوجاوے گی کے لاٹ صاحب نے چودہ جماتاں پاس کری ہیں تو بہت بڑی افسری کی نوکری ہی ان کے بھیجے میں سماوے گی۔‘‘ منجھلے سے چھوٹا بولتا۔
’’کھانا پینا‘ پہننا اوڑھنا سب کچھ تو پورا ہورا ہے۔ پھر یہ کیوں کرنے لگا نوکری‘ مزدوری… ماں باپو کا لاڈلا ہے نا… ساری زندگی اسے اپنی گود میں بٹھا کے کھلاویں گے۔ کما کے لاوے گا تب اسے پتا چلے گا کہ پیسے کیسے کمائے جاویں؟‘‘
چوتھے نمبر والا بھی شنکرلال کو جلی کٹی سنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے کہتا۔ شنکرلال اپنے سگے بھائیوں کی باتیں سن کر شرم سے زمین میں گڑ جاتا۔ کسی کو احساس تک نہ ہوتا کہ ان کی یہ باتیں اس کے دل میں کتنے چھید کرتی ہیں۔
’’دیکھ شنکرلال‘ جب تک تو کمانے جوگا نہ ہوگا تجھے طعنے سننے کو ملتے رہویں گے‘ کوئی کام دھندا ڈھونڈ اپنی روٹی‘ کپڑے جوگا تو ہوجا۔‘‘ دوسری بہن کہتی۔
’’دیکھو میرے بھائی! میں تو صاف صاف کہوں گی چاہے تجھے برا لگے کہ بھلا میری یہ بات اپنے پلو سے باندھ لے تو‘ ماں باپ کو بھی کمائو پوت ہی اچھے لگیں‘ ابھی تک تو باپو کی کمائی پہ کھا‘ پہن رہا ہے اور بھائیوں نے طعنے دے دے کے تیرے ناک میں دم کر رکھا ہے ذرا سوچ اگر ماں باپو کو کچھ ہوگیا تو کون تیرا خرچہ اٹھائے گا؟ اور ماں باپو کب تک تیرے پہ پیار اور مامتا لٹاویں گے۔ ان کے ہوتے وے نوکری اور چھوکری کرلے ان کی آنکھ بند ہوتے تیرے بھائی تجھے آنکھا دکھانے لگیں گے۔‘‘ تیسری بہن جو اس سے ڈیڑھ برس بڑی تھی وہ کہتی۔
’’شنکر! تو محنت مزدوری کرلے اور اپنی الگ سے کھٹیا جھونپڑی ڈال لے۔ بیاہ کے بعد اس گھر میں نہ رہیو… ورنہ بھابیاں تیرے کو تو نوکر بناہی چکے ہیں تیری گھر والی کو بھی ناکوں چنے چباوا دیں گی‘ اسے اپنی نوکرانی بنا کے رکھیں گی… عزت سے جینا ہے تو عزت سے کمانا شروع کردے… دنیا تو دنیا… سگے بہن بھائی بھی رشتے کو نہیں ملتے… پیسے کو ملیں‘ پیسے کو… باپ بڑا نہ بھیا‘ سب سے بڑا روپیہ… سمجھ لے ابھی بھی وقت ہے ورنہ یونہی بھائی بھابیوں کے بچے پالنے‘ سوئی دھاگے‘ سبزی ترکاری لانے میں تیری عمر برباد ہوجاوے گی‘ ابھی تک تو ماں باپو کی آنکھوں کا تارا ہے‘ اگر یونہی رہا نہ تو ان کی آنکھوں میں بھی کھٹکنے لگے گا‘ بھائیوں‘ بھابیوں کو تو تو ویسے بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔‘‘
’’پر میں تو ان سب کے کام آتا ہوں۔‘‘ شنکرلال معصومیت سے کہتا۔
’’ہاں اور ان ہی سب کی نظر میں تو کسی کام کا نئیں ہے۔‘‘ بہن اسے تلخ حقیقت سے آشنا کراتے ہوئے کہتی۔
’’میں کیا کروں ایسا کہ وہ سب مجھ سے خوش ہوجائیں؟‘‘ وہ مشورہ مانگنے لگتا تو بہن کہتی۔
’’تو کچھ بھی کرلے وہ تیرے سے خوش ہونے والے نہیں۔ تو نے جو کچھ کرنا ہے اپنے واسطے کرنا ہے‘ جب تو کما کے گھر لانے لگے گا نا تو ان کے منہ آپ ہی بند ہوجاویں گے۔ تو ان پہ ان کے بال بچوں پہ خرچ کرے گا تو وہ اپنی زبان قابو میں رکھیں گے نئیں تو جو سلوک وہ آج تیرے ساتھ کرتے ہیں وہ تو ہمیشہ کے لیے چلے گا اور بڑھے گا بھی… پیسہ مِیت ہے میرے بھائی‘ پیسہ کما پیسہ‘ یہ سب آپ ہی تیرے ہاتھ بکنے کو دوڑے چلے آویں گے۔‘‘
’’پر دیدی‘ بی اے پاس کو ایسی نوکری کہاں ملے گی کہ وہ ہزاروں کمائے؟‘‘ شنکرلال کا منہ اتر جاتا۔
’’او بدھو‘ تجھے جو بھی نوکری ملے کرلے‘ نوکری تو نوکری ہے چھوٹی کیا اور بڑی کیا؟ تو اپنے پیروں پر کھڑا ہوجا اپنا خرچہ اٹھانے کے قابل ہوجا… بیاہ کرکے بیوی بچوں کی ذمہ داری اٹھانے جوگا ہوجا بس… پھر کسی کا منہ نئیں رہنے کا تجھے باتاں سنانے کا۔‘‘
’’اری او کاہے تو اپنی کھوپڑی خالی کرے ہے اس کے بھیجے میں بات نئیں آنی… ماں باپو ہیں ناں اس کو پالنے پوسنے کو… یہ کیوں محنت مزدوری کرنے لگا؟‘‘ باپو مدن لال کے کان میں بات پڑی تو ایک دن وہ بھی پھٹ پڑا اور جیسے شنکرلال پہ حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ تب اسے سمجھ آیا کہ دیدی ٹھیک ہی سمجھا رہی تھی۔
’’ساری ضرورتاں (ضرورتیں) تو اس کی پوری ہوجاویں ہیں پھر اس نے کیا ضرورت ہے اپنا خون پسینہ بہانے کی۔ باپ اس بڑھاپے میں دکان چلاوے ہے‘ اس نے خیال نہ آوے کے دکان سنبھال لیوے اور باپ کو آرام پہنچاوے… سارے بیٹے‘ بیٹیاں کام پہ لگ گئے‘ بیاہ شادی کرکے بیوی بچوں والے ہوگئے… پر توں ابھی تک چھڑا چھانٹ پھرے ہے۔ بات سن لے میری شنکرلال‘ جس دن میں اور تیری ماں گزر گئے نا… اس دن یہ تیرے سگے ماں جائے بھی حد سے گزر جاویں گے۔ کرلے موج مستی جتی کرنی ہے یہ سب مزے مارے جیتے جی ہیں‘ بس ادھر ہماری آنکھ بند… ادھر تیرے مزے بند‘ سمجھا۔‘‘ مدن لال کی کرخت اور غصیلی آواز دوٹوک لہجہ اور اجنبی انداز شنکر لال کو صدمے سے دوچار کرگیا۔
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے تھے اور صرف اس کے پیسہ نہ کمانے کی وجہ سے۔ وہ اپنی ہی نظروں میں گر گیا تھا۔ شرم سے آب آب ہوگیا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ لاکھ خدمتیں کرلے‘ ہزار کام کردے بھائیوں‘ بہنوں اور بھابیوں کے پروہ رہے گا ان سب کی نظروں میں وہی ہڈ حرام نکھٹو‘ بیکار‘ اناج کا دشمن اور مفت خورہ۔ اس کے دل ودماغ میں عزت نفس کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔
’’سر پہ ماں باپو کا آشیرواد (دعا) ہے‘ گھر کی چھت ہے‘ تو اسے کیوں چنتا (فکر) ہونے لگی کمانے کی‘ گھر بنانے کی‘ ماں نوالے بنا بنا کے کھلاتی رہے گی تو یہ بھلا کیوں بڑا ہونے لگا؟ اسے کیوں باہر نکل کے کمانے کی چنتا ہونے لگی؟‘‘ ماں سیتالال نے بھی آج اپنی مامتا بالائے طاق رکھ دی تھی اور سب کے سامنے اپنے سب سے چھوٹے‘ لاڈلے اور معصوم بیٹے کو سنادی تھی‘ کھری کھری اور وہ کھڑے کھڑے گھر چھوڑ کر جانے کو تیار ہوگیا۔
’’ہاں‘ کہاں؟‘‘ اسے کھڑا دیکھ کر بڑا بھائی بولا۔
’’کدھر بڑی سرکار؟‘‘ منجھلے بھائی نے بھی طنزاً پوچھا۔
’’بڑی سرکار کی کھوج (تلاش) میں نکل رہا ہے اب وہی اسے نوکری دلواوے گی۔‘‘ چوتھے نمبر والا بھائی تمسخرانہ انداز میں ہنستے ہوئے بولا۔
’’کیوں بٹوا (بیٹا) ہم نے تنے (تجھے) چار باتاں سنادیں تو تیرے سے برداشت نئیں ہوئیں اور اٹھ کے کھڑا ہوگیا‘ ہیں ہم جو پچیس سالا سے تیرا خرچہ برداشت کررہے ہیں اس کا کیا؟‘‘ مدن لال نے غصیلے لہجے میں کہا تھا۔ شنکرلال کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا کہ یہ اس کا باپ کہہ رہا ہے‘ حیرت دکھ اور صدمے سے وہ ایک ٹک انہیں تکے جارہا تھا۔
’’اب بول نہ بولتا کا ہے نئیں؟‘‘ بڑا بھائی اکسا رہا تھا۔
’’اس کی تو بولتی بند کرادی تھی سب نے۔‘‘ بہن نے ترس کھاتی نظروں سے شنکرلال کو دیکھا تھا۔
’’ہاں تو ہم کون سا گلت کہہ رہے ہیں۔ اس کا منہ ہے ای نئیں بولن جوگا۔‘‘ بڑا بھائی پھر سے بولا تھا‘ ماں نے تیزی سے اسے ڈپٹ کر کہا۔
’’اچھا بس‘ بوت بڑبڑ کرلی سب نے‘ تھارا بولنا ناہی بنے‘ ہم اس نے ماں‘ باپو یہ ہمارے بل پہ پل رہا ہے ایب (اب) تک تھارا کسی کاتے آنہ‘ ٹکا‘ بی خرچ نئیں ہوا اس پہ۔‘‘
’’ماں! تجھے اور باپو کو حساب چاہیے ناں جو پیسہ تم دونوں نے میرے پہ خرچ کیا تھا اس پیسے کی واپسی چاہو نہ تم دونوں؟‘‘ بہت دیر بعد شنکرلال کی زبان پر پڑا قفل کھلا تھا۔ اور اس کے سوال نے زیادہ نہیں مگر تھوڑا سا شرمندہ ضرور کردیا تھا سیتالال اور مدن لال کو وہ خجل سے نظریں چراگئے تھے۔
’’اس کی عمر میں تو ہمارا بیاہ بھی ہوگیا تھا یہ سسرا ابھی چھرا پھر رہا ہے نہ کمانے کی فکر چنتا نہ گھر بسانے کی جلدی۔‘‘ بڑا بھائی پھر سے بولا تھا۔
’’آپ لوگ چنتا (فکر) نہ کریں اب میں آپ سب پہ بوجھ نئیں بنوں گا اور ماں باپو آپ بے فکر ہوجائو اب آپ نے میرے پہ کچھ بھی خرچ کیا ہے نا… وہ پیسے میں تھارے کو واپس کردوں گا۔ میں جارہا ہوں نوکری ڈھونڈنے۔‘‘ شنکرلال نے بڑے دکھ بھرے اور سنجیدہ لہجے میںکہا تھا۔
’’نوکری گم ہوگئی تھی کیا جو ڈھونڈنے جاراہے تو۔‘‘ سب نے منجھلے بھائی کی اس بات پر تمسخرانہ قہقہہ لگایا اور شنکرلال شرمندگی چھپاتا ہوا اپنا ضروری سامان سمیٹنے لگا۔
’’لو بھئی‘ جارہا ہے ہمارا شہزادہ ایب (اب) تو کچھ بن کے ہی گھر لوٹے گا۔‘‘ چوتھے نمبر والا بھائی اسے اپنے کپڑے صندوق میں رکھتے دیکھ کر بولا‘ لہجہ طنز وتمسخر سے پر تھا اور شنکرلال کا دل دکھ سے بھر گیا۔
’’ہاں آں… میرا یہ سپوت بہت بڑا آدمی بن کے آوے گا‘ کیوں بٹوا (بیٹا) آئے گا نا بڑا آدمی بن کے۔‘‘ مدن لال نے شنکر لال کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی باپو! بس آپ کا آشیرواد چاہیے۔‘‘
’’ہاہا‘ بڑا آدمی… تو آدمی بن جا کمائو آدمی وہی بڑا کارنامہ اور بڑا کام ہوگا تیرے واسطے۔‘‘ بڑا بھائی پھر سے طنز بھرے لہجے میں بولا تھا۔
’’کچھ بھی کرکے ماں باپو کا پیسے چکا دیجیو۔‘‘ دوسرے نمبر والا بھائی بولا تھا اس کا یہ جملہ تیر کی طرح شنکرلال کے سینے میں پیوست ہوگیا تھا‘ زبان تڑپ کر پھسلی تھی۔
’’کیوں بھایا! تو نے بلکہ تم سب نے چکادیا کیا ماں باپو کا پیسہ؟‘‘
’’ماں باپو نے اپنا فرض ادا کیا ہے اولاد کے واسطے تو سب ماں باپ کریں ہیں ہم پہ کیسا قرض؟‘‘ بڑی بہن بولی تھی۔ تو شنکرلال زخمی سی مسکراہٹ لبو ں پہ سجا کے بولا۔
’’تو دیدی‘ مجھ پہ کیسا قرض؟ میں بھی تو ماں باپو کی سگی اولاد ہوں‘ حساب صرف مجھ سے ہی کیوں مانگا جارہا ہے؟ تم سب نے کون سا قرض ادا کردیا جو مجھ پہ برسنے لگے۔ خیر جارہا ہوں اب کے لوٹوں گا تو ماں باپو کے پیسے جمع کرکے ہی لوٹوں گا۔ اس گھر نے بہت آسرا دیا مجھے‘ اتنے برس مجھے گرمی‘ سردی سے بچاکے رکھا ہے‘ ماں باپو نے پریم کیا مجھ سے میں ان سب کا قرض تو کبھی نہ چکا پائوں گا‘ ہاں پیسہ لوٹا نے کی اپنی پوری کوشش کروں گا میں۔ میرا کہا سنا معاف کردینا آپ سب… اچھا اماں! چلتا ہوں منے (مجھے) یقین ہے کہ آپ سب کا آشیرواد میرے ساتھ رہے گا۔‘‘ شنکر لال نے نہایت سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اپنے ماں‘ باپو کے پائوں چھوئے‘ ہاتھ جوڑ کے نمستے کہا اور الوداعی نظر ان سب پر ڈالتا ہوا اپنا صندوق اور بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔
٭…٭٭…٭
وہ دن تھا اور آج کا دن تھا‘ شنکرلال نے مڑ کر گھر کی شکل تک نہ دیکھی تھی۔ بڑا آدمی وہ اب تک بن نہیں سکا تھا‘ اور محنت‘ مزدوری کرکے جو کماتا وہ گھر اپنے باپو کو بھیج دیتا کہ باپو کا قرض جو اتارنا تھا۔ بس ماں باپو نے اپنے پالنے پوسنے کا حساب مانگ کر شنکرلال کو گہرے دکھ سے دوچار کردیا تھا‘ اور یہی صدمہ اسے ان کا پیسہ چکانے کے واسطے ہمہ وقت متحرک رکھتا تھا۔ شنکرلال کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کہاں جائے گا اور کس کے پاس نوکری کرے گا؟ نوکری ملے گی بھی کہ نہیں؟ بس جو پہلی ٹرین ملی اس میں سوار ہوگیا اور ٹرین نے اسے ملتان ریلوے اسٹیشن پر پہنچادیا۔ مسافر اترنے لگے تو وہ بھی ٹرین سے نیچے اتر گیا۔ انجان شہر‘ انجان لوگوں وہ خود کو بہت اجنبی اور عجیب سا محسوس کررہا تھا۔ اپنا سامان اٹھائے‘ حواس باختہ سا ادھر ادھر لوگوں کے ہجوم کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ ابراہیم کی نظر میں آگیا۔ سفید پاجامے پر خاکی رنگ کا کرتا پہنے‘ ایک ہاتھ میں کالا بیگ اور دوسرے ہاتھ میں صندوق اٹھائے‘ سانولی رنگت‘ کالے سیاہ گھنگھریالے بال‘ بڑی بڑی متحیر آنکھیں‘ ماتھے پر تلک کا نشان لگائے وہ اپنے ہندو ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔ ابراہیم کو وہ اس بچے کی طرح دکھائی دیا جو ہجوم میں اپنے گھر والوں سے بچھڑ گیا ہو۔ خوف زدہ‘ گھبرایا ہوا‘ معصوم اور بے ضرر سا‘ ابراہیم اس کے قریب چلا آیا اور کہنے لگا۔
’’لگتا ہے پہلی بار گھر سے نکلے ہو اور وہ بھی اکیلے اجنبی شہر میں‘ کیوں ٹھیک کہانا؟‘‘
’’جج…جی…‘‘ شنکرلال نے گھبرائے ہوئے انداز میں ابراہیم کو دیکھا اور بمشکل حلق سے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا۔
’’یہاں کس کے پاس آئے ہو؟ میرا مطلب ہے کوئی عزیز رشتے دار ہے کیا؟ کوئی تمہیں لینے آئے گا؟‘‘
’’میں یہاں کسی کو نئیں جانتا جی‘ مجھے کون لینے آئے گا؟‘‘ شنکرلال نے اسی گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا تو ابراہیم مسکراتے ہوئے بولا۔
’’میں آیا ہوں ناں تمہیں لینے‘ چلو آئو میرے ساتھ چلو۔‘‘
’’پر میں تو آپ کو جانتا ہی نئیں ہوں۔‘‘
’’لیکن میں تو تمہیں جانتا ہوں۔‘‘ ابراہیم اس کی معصومیت اور گھبراہٹ پر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’وہ کیسے جی؟‘‘ شنکر لال کی آنکھیں حیرت سے مزید پھیل گئیں۔ ’’آپ کو کیا پتا میں کون ہوں؟‘‘ وہ گھبرایا ہوا تھا۔
’’مجھے پتا ہے کہ تم کون ہو؟ تم اللہ کے بندے ہو اور اللہ کے بندے کی مدد کرنا تو ایک انسان کا‘ مسلمان کا فرض ہے۔‘‘
’’آ… آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے جی۔‘‘
’’کیوں کیا تم انسان نہیں ہو؟‘‘
’’میں مسلمان نہیں ہوں۔‘‘ شنکرلال نے بتایا۔
’’جانتا ہوں‘ تم ہندو ہو۔‘‘
’’پھر بھی آپ میری مدد کروگے؟‘‘
’’ہاں آج میں تمہاری مدد کروں گا‘ کل اللہ میری مدد فرمائے گا۔ میں سنیئر پوسٹ ماسٹر ہوں یہاں قریبی پوسٹ آفس میں‘ رہنے کو سرکار نے ایک کواٹر دے رکھا ہے‘ میں اکیلا رہتا ہوں۔ جب تک تمہیں کھانا‘ آب ودانہ‘ ٹھکانہ نہیں مل جاتا تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو۔ سونے کو بستر اور کھانے کو دو وقت کی روٹی تمہیں مہیا کردی جائے گی۔‘‘ ابراہیم نے اس کے ساتھ ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’بدلے میں مجھے کیا کرنا ہوگا جی؟‘‘
’’بدلے میں مطلب؟‘‘ ابراہیم نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’مطلب یہ جی کہ آپ مجھے مفت میں تو یہ سب مہیا نہیں کریں گے ناں اس سب کے بدلے میں مجھے بھی تو آپ کے لیے کچھ کرنا ہوگا جی۔‘‘ شنکرلال نے جواب دیا تو ابراہیم دھیرے سے ہنس پڑا۔
’’نام کیا ہے تمہارا؟‘‘
’’شنکرلال۔‘‘ وہ بولا۔
’’تو میاں شنکرلال‘ میں اللہ کے بندوں کی مدد اللہ کی خوشی اور رضا کے لیے کرتا ہوں۔ میرا اللہ کہتا ہے کہ بدلہ اور صلے کی تمنا صرف مجھ سے رکھو‘ میرے بندوں سے نہیں مجھے اس نیک عمل کا صلہ‘ ثواب یا اجر میرا اللہ دے گا۔‘‘
’’اور اگر نہ دیا تو۔‘‘ شنکرلال نے چبھتا ہوا سوال کیا۔
’’مجھے اپنے اللہ کی دین پہ پورا بھروسہ ہے‘ اس کی عطا پہ مکمل یقین ہے۔ وہ ’’اللہ‘‘ ہے انسان تھوڑی ہے جو اپنے وعدے سے مکر جائے‘ اپنی بات سے پھر جائے۔‘‘ ابراہیم نے پریقین لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا تو شنکرلال کھسیانا سا ہوگیا۔
’’میرا نام ابراہیم ہے۔‘‘ اپنا تعارف کراتے ہوئے ابراہیم نے اپنا ہاتھ اس کی جانب مصافحے کے لیے بڑھایا تو وہ بوکھلا گیا‘ دونوں ہاتھوں میں سامان تھا‘ اس نے جلدی سے بیگ اپنے کندھے پر ڈالا اور ابراہیم کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا۔ ابراہیم کے مصافحہ کرنے کے انداز میں جتنی گرم جوشی تھی‘ اتناہی شنکرلال کا انداز سرد تھا۔ ابراہیم نے اس کے اس بے مہر اور سرد انداز کو محسوس کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بے یقینی میں گھرے ہو‘ بے یقینی انسان کو اتنا ہی بے مہر‘ سرد‘ سپاٹ اور بے اعتبار بنادیتی ہے جتنے کہ تم اس وقت میرے ساتھ ملنے اور چلنے میں ہو۔ خیر کوئی بات نہیں دھیرے دھیرے اعتبار بھی آجائے گا اور یقین بھی۔ اعتبار‘ ایمان تھوڑی ہے جو ایک دم سے لے آئو گے۔‘‘
’’پر ابراہیم بابو! ایمان بھی تو اعتبار کرنے پہ لایا جاتا ہے ناں جس پہ آپ کو اعتبار ہی نہ ہوآپ اس پہ ایمان کیسے لاسکتے ہیں؟‘‘ شنکرلال نے مدلل انداز میں کہا وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ریلوے اسٹیشن سے کافی دور نکل آئے تھے۔
’’تمہاری بات میں دم ہے میاں! ذہین ہو‘ پڑھے لکھے بھی یقینا ہوگے‘ کتنا پڑھا ہے؟‘‘ ابراہیم نے اس کے جواب سے خوش ہوکر سوال کیا۔
’’بی اے کیا ہے جی‘ یہاں نوکری کی تلاش میں آیا ہوں۔‘‘
’’ارے میاں‘ بی اے کرکے پردیس میں نوکری کی تلاش میں کیوں چلے آئے؟ نوکری تو تمہیں اپنے شہر میں بھی مل جاتی۔‘‘
’’ہاں جی‘ لیکن جب اپنوں کے حساب چکتا کرنے ہوں تو اپنوں سے‘ اپنے شہر سے‘ دور جانا ہی پڑتا ہے۔‘‘
’’ہوں‘ دل پہ چوٹ کھا کے آئے ہو۔ خیر دل مضبوط رکھو‘ اولیاء کی سر زمین پہ آئے ہو تو وہ تمہیں اس چوٹ کے درد سے نجات بھی دلائیں گے اور تمہارے من میں سکھ چین کے پھول بھی کھلائیں گے ان شاء اللہ۔‘‘ ابراہیم نے اسے تسلی دی۔
’’آپ ریلوے اسٹیشن پہ کسی کو چھوڑنے آئے تھے؟‘‘
’’ہاں میاں! اپنے گھر والوں کو چھوڑنے گیا تھا اسٹیشن‘ وہ چند روز کے لیے مجھ سے ملنے آئے تھے۔ اصل میں وہ یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں واقعی پردیس میں نوکری کررہا ہوں یا کسی چھوکری (لڑکی) کے ساتھ گلچھڑے اڑا رہا ہوں… ہاہاہا۔‘‘ ابراہیم اپنی بات مکمل کرکے خود ہی ہنسنے لگا۔ شنکرلال بھی مسکرادیا۔ اس کا خوف اور اجنبیت کا احساس اب کافی حد تک کم ہوگیا تھا۔
’’آپ کے گھر والوں کو آپ پر اعتبار نہیں ہے کیا؟‘‘
’’اللہ‘‘ کے سوا ہر رشتہ آپ پرشک کرسکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی قریبی رشتہ ہو‘ کتنی ہی محبت بھرا رشتہ ہو‘ کبھی نہ کبھی آپ پر شک ضرور کرتا ہے۔ پھر ہم انسان اپنے ان رشتوں اور رشتے داروں کو یقین دلانے کے لیے طرح طرح کے حیلے‘ بہانے کرتے ہیں‘ وضاحتیں کرتے ہیں‘ صفائیاں پیش کرتے ہیں اپنی ذات کا اعتبار بحال کرنے کے لیے… اور جب ان کو یقین آجاتا ہے تب تک ہمارے دل میں ایک پھانس سی رہ جاتی ہے… جو موقع بے موقع چبھتی رہتی ہے۔ ہمیں ہمارے بے اعتبار ہونے کا احساس دلاتی رہتی ہے مگر…‘‘ ابراہیم بولتے بولتے تھک گیا‘ سانس لینے کو رکا اور اپنے کواٹر کے قریب پہنچتے ہی دروازے کا تالا کھولنے لگا۔
’’مگر کیا ابراہیم بابو؟‘‘ شنکرلال کے اندازمیں بے کلی تھی اس ’’مگر‘‘ کے بیچ کی سچائی جاننے کی بے تابی تھی۔
’’مگر وہ جو میرا ’’اللہ‘‘ ہے نا… وہ مجھ پر پورا یقین رکھتا ہے‘ میرے جھوٹ‘ سچ کو جانتا ہے۔ میری نیت کے کھوٹے اور کھرے پن دونوں کو جانتا ہے۔ اس سے میرا قول وفعل اصل‘ نقل کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس لیے مجھے اس ’’اللہ‘‘ کے سامنے کوئی صفائی پیش نہیں کرنی پڑتی۔ کیونکہ وہ تو سب جانتا ہے‘ ذہن دل میں گزرنے والے خیال تک کو جانتا ہے۔ اس لیے میں اللہ کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا۔
ابراہیم نے اپنی بات بہت سنجیدہ اور رسان سے پر لہجے میں مکمل کی اور شنکرلال کو گھر میں داخل ہونے کے لیے راستہ دیا۔ شنکرلال اندر داخل ہوگیا۔ دل میں عجیب سا احساس لیے۔
’’وہ صحن میں غسل خانہ ہے نہا دھو کے تازہ دم ہوجائو‘ ہم تمہارے کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں۔‘‘
ابراہیم شنکرلال کو غسل خانے کا راستہ بتاتے ہوئے برآمدے سے متصل باورچی خانے میں چلا گیا۔ دو کمروں ایک غسل خانے‘ چھوٹے سے باورچی خانے برآمد ے اور چھوٹے سے صحن پر مشتمل تھا یہ کوارٹر۔ ابراہیم تین ماہ سے یہاں مقیم تھا۔ بیوی بچے لاہور میں مقیم تھے۔ بچوں کا اسکول وہیں تھا لہٰذا انہیں اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ لیے پھرنا پسند نہیں تھا ان کے خیال میں اس طرح بچوں کی پڑھائی متاثر ہوگی ہر جگہ نئے اسکول‘ نئے اساتذہ‘ نئے ہم جماعت بچوں کو ایڈجسٹ ہونے میں مشکل بھی ہوگی اور وقت بھی کافی لگ جائے گا۔ اور ان کا یہ خیال درست بھی تھا جو ابراہیم کی بیوی اور ماں باپ کو بھی درست معلوم ہوا تھا۔ ابراہیم انتالیس برس کے تھے۔ لمبے چوڑے قد کے مالک‘ گورا چٹا رنگ تھا چہرے پر ہلکی سی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ مزاج دھیما اور مذہبی تھا۔ پانچ وقت کے نمازی تھے۔ ملنسار‘ اور انسان دوست تھے اسی لیے محکمے والے اور اسٹاف کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔
’’لو میاں شنکرلال کھانا تیار ہے تم پیٹ پوجا کرو‘ ہم اپنے اللہ کی پوجا کو چلے۔ ظہر کا وقت ہوگیا ہے۔‘‘ ابراہیم نے کمرے میں رکھے میز پر کھانے کی ٹرے رکھتے ہوئے کہا۔ شنکرلال نہا کر تیار ہوگیا تھا۔ جھجکتا ہوا کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے میں دو پلنگ بچھے تھے جن پر دری اور چادر بچھائی گئی تھی‘ تکیے‘ سرہانے رکھے ہوئے تھے اور پائنتی پر کھیس تہہ کیا ہوا رکھا تھا‘ شیشم کی لکڑی سے بنی دو کرسیاں ایک اسٹول اور ایک درمیانی میز تھی۔ جس پر کھانا رکھا تھا۔ روشنی کے لیے ایک سفید بلب جسے آج کل انرجی سیور کہا جاتا ہے وہ لگا تھا۔ پنکھا چھت پر لٹکے لٹکے عمر کی جانے کتنی بہاریں دیکھ چکا تھا۔ ایک کارنس تھی جس پر پرانے اخبار بچھا کر اس پر کچھ کتابیں‘ ایک لیمپ‘ ایک گل دان اور ایک الارم کلاک سجائی گئی تھی۔ کمرے کی دیواروں پر جابجا سیلن تھی۔ سفیدی تازہ کرائی گئی تھی مگر سیلن (سیم) نے سفیدی کا ناس مار دیا تھا کمرے کا فرش اینٹوں سے بنا تھا۔ اس پر کوئی ریت سیمنٹ کا پلستر نہیں کرایا گیا تھا۔ ایک روشندان تھا جو کمرے میں عین مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کے منہ پر کھلتا تھا جس سے اچھی خاصی روشنی کمرے میں آرہی تھی۔ لکڑی کا دروازہ تھا جس پر ہرے رنگ کا دو نمبر پینٹ کروا کے دروازے کی عمر رسیدگی اور خستگی چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔ دروازہ پر کریم کلر کا چھوٹے چھوٹے سیاہ پھولوں والا پردہ لٹک رہا تھا۔ پردے کی آن بان بتا رہی تھی کہ وہ دو چار دن پہلے ہی اس دروازے کی زینت بنا ہے۔ نیا پردہ ابراہیم کی بیوی جو ملنے آئی تھی وہی سی کر ٹانگ گئی تھی۔ شنکر لال کمرے کا جائزہ لینے میں محو تھا۔ ابراہیم وضو کرکے آگیا۔
’’شنکر لال‘ کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے میاں۔ کھالو اور پھر آرام کرلو کچھ دیر۔‘‘ ابراہیم نے شنکرلال کو کمرے کے اسباب پر غور کرتے دیکھا تو کہا وہ چونک کر اس کی جانب متوجہ ہوا۔
’’جی شکریہ‘ ابراہیم بابو! آپ بھی میرے ساتھ بھوجن کریں ناں۔‘‘
’’نہیں میاں‘ بھوجن (کھانا) تو تم کو اکیلے ہی کرنا ہوگا‘ ہاں قدرت نے چاہا تو ہم کھانا اکٹھے ضرور کھائیں گے۔‘‘ ابراہیم کی معنی خیز بات شنکرلال کو کچھ دیر سے ہی سہی پر سمجھ آگئی تھی۔
’’اللہ اکبر‘ اللہ اکبر۔‘‘ اذان کی آواز پر ابراہیم نے اپنی ٹوپی کارنس پر سے اٹھائی‘ سر پہ جمائی اور شنکر لال کی طرف مسکرا کر دیکھا۔
’’اللہ کی پکار ہے‘ وہ بلا رہا ہے‘ مسجد جارہا ہوں اس سے باتیں کرنے‘ اپنے دل کی کہنے‘ اپنے دکھ سکھ اس سے کہنے اور اس کا شکر بجا لانے کے لیے‘ وہ میری زندگی میں ہے مجھے سنبھالے رکھنے کے لئے۔‘‘ ابراہیم نے نہایت سنجیدہ‘ معنی خیز مگر نرم لہجے میں کہا اور دروازے سے باہر نکل گیا۔
شنکرلال کچھ دیر حیرت زدہ سا ابراہیم کی باتوں پر غور کرتا رہا پھر کھانے کی خوشبو نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ ٹرے میں روٹیاں تھیں دستر خوان میں لپٹی ہوئی‘ ایک پلیٹ میں ماش کی بھنی دال اور ایک پلیٹ میں مرغی کا سالن تھا اور کٹوری میں دہی بھی تھا۔ میز پر پانی کا جگ اور گلاس بھی موجود تھا۔ شنکرلال کو بہت زوروں کی بھوک لگی تھی۔ وہ کھانا شروع ہوا تو سب صفایا کردیا اور برتن میز پر چھوڑ کر باہر صحن میں لگے واش بیسن میں ہاتھ دھوئے‘ کلی کی اور کمرے میں آکر پلنگ پر لیٹ گیا۔ سفر کی تھکن تھی‘ سوچوں کا غبار تھا جو دماغ کو تھکا چکا تھا اور خالی پیٹ اب بھر چکا تھا‘ نیند کو فوراً اسے قابو کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ چند منٹ کے بعد گہری نیند میں چلاگیا۔ اور آنکھ کھلی تب‘ جب قریبی مسجد میں موذن عصر کی نماز کے لیے اذان دے رہا تھا۔
’’اللہ اکبر‘ اللہ اکبر۔‘‘ کی آواز نے اسے پوری طرح بیدار کردیا تھا۔ وہ خاموشی سے لیٹا رہا اور گم صم سا اذان سنتا رہا۔ ابراہیم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بلب جلایا تھا‘ تو اسے دیکھ کر شنکر لال ایک دم سے خجل سا ہوکر اٹھ بیٹھا۔
’’اٹھ گئے شنکر لال۔‘‘ ابراہیم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
’’جی۔‘‘ شنکر لال نے خجالت سے نظریں جھکا کر کہا وہ کافی دیر سویا تھا اور اب خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔
’’ایک بات پوچھوں ابراہیم بابو؟‘‘ شنکر لال چائے کا کپ ابراہیم کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولا۔
’’پوچھو‘ شنکرلال۔‘‘
’’آپ مجھ انجان‘ اجنبی اور غیر مذہب کے آدمی کو اپنے گھر میں اکیلا چھوڑ کر کیوں چلے گئے‘ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ میں آپ کے گھر میں چوری کرکے بھاگ سکتا ہوں؟‘‘ شنکرلال کے سوال پر ابراہیم دھیرے سے ہنسا اس کی طرف دیکھا‘ چائے کا گھونٹ بھرا اور کہنے لگا۔
’’جو شخص خود اپنے گھر سے حالات سے بھاگ کر آیا ہو وہ بھلا میرے گھرمیں چوری کرکے کیوں بھاگے گا؟ اور رہی بات یہ کہ میں تمہیں اپنے گھر میں اکیلا کیوں چھوڑ کر چلا گیا تو ایسا نہیں تھا‘ میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ گیا تھا‘ اپنے ’اللہ‘ کے بھروسے پہ چھوڑ گیا تھا۔ وہ تھا نا یہاں میرے گھر کی رکھوالی کے لیے اور ویسے بھی میں فقیر آدمی ہوں میرے گھر سے کسی کو کیا ملے گا۔ سوائے نصیحت اور دعا کے۔‘‘
’’آپ بہت بھلے آدمی ہیں‘ ورنہ آج کل کے دور میں کون کسی اجنبی کو اپنے گھر مہمان بناتا ہے اور اس کی سیوا کرتا ہے۔‘‘ شنکرلال نے چائے کا لطف لیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرانے لگا۔
’’اچھا یہ بتائو کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ میرا مطلب ہے کوئی کام وام جانتے ہو کیا؟‘‘
’’کام تو کوئی نہیں کیا جی۔‘‘
’’جبھی راندہ درگاہ ہوگئے۔‘‘ ابراہیم بولا ہونٹوں پہ تبسم تھا۔
’’مطلب‘‘ شنکر لال نے ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھا۔
’’مطلب چھوڑو‘ یہ بتائو کیسا کام چاہتے ہو؟‘‘
’’ایسا کام جو مجھے راتوں رات امیر بنادے‘ مجھے ڈھیر سارا پیسہ دلادے۔‘‘ شنکر لال نے عزم سے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
’’گویا ہتھیلی پرسرسوں جمانا چاہتے ہو۔ تم نے وہ محاورہ تو پڑھا ہوگا کہ A room is not bult in a day‘‘
’’جی‘‘ شنکرلال خجل سا ہوگیا۔
’’تو میاں راتوں رات تو صرف خواب دیکھے جاسکتے ہیں‘ پیسہ کمانے کے لیے پسینہ بہانا پڑتا ہے۔ امیر ہونے سے پہلے فقیر بننا پڑتا ہے۔ راتوں رات قسمت بدلنے کے لیے… راتوں کو اٹھنا پڑتا ہے‘ سجدے میں جھکنا پڑتا ہے‘ گڑگڑانا پڑتا ہے‘ اشک بہانا پڑتا ہے۔‘‘ ابراہیم نے ناصحانہ انداز میں کہا تو وہ چڑ کر بولا۔
’’آپ تو نصیحت اور تبلیغ کرنے لگے ابراہیم بابو! میں ایک ہندو ہوں بھگوان کو پوجتا ہوں۔‘‘
’’تو کیا ہندو کو نصیحت اور تبلیغ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیا تمہارے ماں باپ نے بڑے بھائی بہن نے تمہیں کبھی نصیحت نہیں کی‘ سمجھایا نہیں کچھ؟‘‘ ابراہیم نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔‘‘ ابراہیم چائے کے خالی کپ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ شنکرلال کو اپنی بات پر افسوس ہونے لگا کہ اپنے محسن کی نصیحت کو صبر سے نہیں سنا الٹا اسے سنادیا تھا۔ اور پھر ابراہیم کی مدد سے شنکرلال کو صبح وشام اخبار گھروں میں دینے یعنی پہنچانے کی ہاکر کی نوکری مل گئی اور ان کے ڈاک گھر کے ساتھی عارف کے بیٹے کو شام میں ٹیوشن پڑھانے کی نوکری بھی مل گئی ماہانہ دوہزار روپے پہ اسے عارف صاحب کے بیٹے کو ریاضی اور انگلش کے مضامین زمانہ طالب علمی میں یہی دو مضمون اس کی ناپسندیدگی میں اول درجے پر تھے۔ مجبوری میں وہ ان مضامین پر محنت کیا کرتا تھا اور اب بھی مفلسی میں پڑھانے کی مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔ وہ جس چیز سے بھاگتا تھا‘ وہ چیز ہمیشہ ہمیشہ اس کا پیچھا کرتی ہوئی اس تک پہنچ جاتی تھی۔ جو کام وہ نہیں کرنا چاہتا تھا حالات اس کو وہی کام کرنے پر مجبور کردیتے تھے۔ جس چیز کو وہ بہت ایزی لیتا تھا‘ وہ ہمیشہ اسے مشکل میں ڈال دیتی تھی اور جس بھی صورت حال کو واقعے کو وہ نظرانداز کرنا چاہتا تھا‘ وہی اس کی راہ میں آڑے آتا تھا۔ شنکرلال جب بھی اپنے روزوشب کا اپنے حالات وخیالات کا جائزہ لینے بیٹھتا یہی بات سامنے آتی کہ وہ اپنی چاہ کے مطابق‘ اپنی مرضی اور اپنی منشاء سے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ ہوتا وہی ہے جو تقدیر چاہتی ہے‘ کبھی کبھی تو اسے ہر سوچ‘ ہر کام اور ہر خیال بیکار لگنے لگتا کہ جب اس کی من مرضی سے کچھ ہونا ہی نہیں ہے تو وہ اتنی تگ ودو‘ اتنی محنت ومشقت آخر کیوں کرے؟
پھر کہیں پڑھے ہوئے کتابی جملے یاد آنے لگتے کہ حرکت میں ہی برکت ہے۔ زندگی تغیر کا نام ہے‘ زندگی متحرک رہنے کا نام ہے‘ چلتی کا نام گاڑی ہے‘ تو چلتے رہنے کا نام ہی زندگی بھی ہے۔ سو وہ پھر سے کمر کس لیتا‘ اور اپنے کام پہ لگ جاتا۔ ابراہیم کی کوشش اور سفارش سے اسے ڈاک گھر میں کلرک کی نوکری بھی مل گئی تھی۔ وہ بہت خوش تھا کہ اب دن رات‘ صبح شام‘ محنت مزدوری کرکے ڈھیر سارا پیسہ کمائے گا اور ماں باپو کا قرض چکائے گا۔ وہ ٹیوشن کے دوہزار روپے اپنے مہینے بھر کے اخراجات کے لیے رکھ لیتا اور ہاکر وڈاک گھر کی نوکری سے جو آمدن ہوتی وہ باپو کو منی آرڈر کراکے بھیج دیتا۔ ہر ماہ ایک معقول رقم اس کے باپو مدن لال کو مل رہی تھی‘ وہ بہت خوش تھا‘ باقی سب حیران تھے کہ شنکرلال کو اتنی جلدی اتنی اچھی نوکری کیسے مل گئی کہ وہ ہر مہینے بارہ ہزار کا منی آرڈر باپو کو بھیج رہا ہے‘ خیر اب ان کی زبانیں بند ہوگئی تھیں۔ شنکرلال کبھی کبھار فون کرکے ماں سے بات کرلیتا تھا‘ اس کے علاوہ کسی سے بھی اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا نہ ہی گھر کے کسی فرد نے اس سے بات کرنے یا رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس بات سے شنکرلال کو بہت دکھ ہوتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں ابراہیم کا بہت احسان مند تھا مگر وہ بے کل‘ بے چین بھی رہتا تھا کیونکہ وہ تو گھر سے بڑا آدمی بننے کے لیے نکلا تھا‘ لیکن ابھی تک چھوٹی چھوٹی نوکریاں کررہا تھا۔ وہ یک مشت باپو کا قرض اتاردینا چاہتا تھا اور اس کے بعد اپنے گھر کا بندوبست کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ بھی گھر بسا کے ایک کامیاب اور خوشیوں بھری زندگی گزارسکے اور اپنے بھائیوں‘ بہنوں اور ماں باپ کو دکھاسکے کہ وہ نکھٹو‘ بیکار اور ہڈحرام نہیں ہے وہ بہت محنتی اور کارآمد انسان ہے۔ ایسا تبھی ممکن تھا جب وہ کوئی بڑا کام کرتا‘ وہ دوسرے شہر کچھ بننے کے لیے نکلا تھا‘ نوکری تو مل گئی مگر عہدہ بڑا نہ ملا۔ وہ بڑا آدمی بن کے کچھ بن کے دکھانے کے لیے آیا تھا۔ اور قدرت شاید اسے مسلمان بنانے کے در پے تھی اور یہی بات یہی خیال شنکرلال کی نیندیں اڑا گیا تھا۔ اسے سرتاپا پسینے میں نہلا گیا تھا۔ اس کے عقیدے اور دھرم کی بنیادیں ہلا گیا تھا۔ وہ ایک کٹر ہندو خاندان کا فرد تھا‘ رنگ‘ رنگ کے بتوں کو پوجتا تھا‘ اور اب سپنے میں مسجد دیکھتا۔ اذان سنتا اور مسجد میں نمازیوں کے لیے مصلے بچھاتا دیکھتا تو سوچتا کہ اگر اس کے گھر والوں کو اس کی ذرا سی بھی بھنک پڑگئی تو وہ اسے دھنک کے رکھ دیں گے۔ یہی نہیں وہ اسے اپنے حق سے‘ خاندان سے بے دخل اور عاق کردیں گے۔ وہ سپنے میں مسلمان کی مسجد میں جھاڑو لگا رہا تھا اس نے اتنی جرأت کی بھی تو کیسے؟
ابراہیم کے منتقلی (ٹرانسفر) کے آرڈر آگئے تھے‘ تقریباً ڈیڑھ سال اس شہر میں اپنی ڈیوٹی ادا کرتے وہ یہاں کے لوگوں سے‘ آب وہوا سے مانوس ہوگیا تھا۔ اب بلاوے کی چھٹی آئی تھی تو وہ سب یار دوستوں سے الوداعی ملاقات کررہا تھا۔ ملتان شہر اولیاء کی سر زمین پہ عقیدت گزاروں کے ٹھکانے اولیاء اللہ کے مزارات تھے۔ ابراہیم بھی مزارات پہ حاضری دینے کا سوچ رہا تھا‘ جب آیا تھا تو ایک بار حاضری دی تھی اور اب واپسی لکھی گئی تھی تو جاتے جاتے اولیاء کو سلام کرنے کے لیے جانا چاہتا تھا۔ نہا کر سفید شلوار قمیص‘ سیاہ واسکٹ زیب تن کی‘ پشاوری چپل پہنے‘ اپنی جالی دار سفید ٹوپی سر پہ جماتے ہوئے عطر لگا کر اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیا تھا۔
اچانک نگاہ شنکرلال پر پڑی جو اپنے بھگوان کی مورتی کو گم صم بیٹھا تکے جارہا تھا۔ آج پھر اس نے وہی خواب دیکھا تھا کہ وہ ایک مسجد میں جھاڑو پھیر رہا ہے‘ مصلے بچھا رہا ہے اور تو اور اذان بھی دے رہا ہے۔ بس تب جو شنکرلال کی نیند اڑی تھی تو واپسی کا راستہ بھول گئی تھی۔ وہ ایک ٹک بھگوان کو تکے جارہا تھا۔ ابراہیم کو اس کی حالت پر ترس آنے لگا۔ وہ اس کے قریب چلا آیا اور اس کے شانے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا وہ بری طرح چونکا۔ سر اٹھا کے دیکھا ابراہیم مسکرارہا تھا۔
’’آئو شنکرلال‘ ہمارے ساتھ چلو۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’ایک ایسی جگہ جہاں جاکے تم سکون محسوس کروگے‘ تمہارے من کو شانتی ملے گی۔‘‘ ابراہیم نے جواب دیا۔
’’کیا سچ میں؟‘‘ شنکر لال خوش ہوکر بولا۔
’’ہاں اٹھو جلدی سے تیار ہوجائو۔‘‘
’’جی ابھی آیا۔‘‘ شنکرلال تیزی سے اٹھتے ہوئے بولا۔ وہ شاید اپنے اس سپنے (خواب) کے خیال سے نجات پانا چاہتا تھا‘ دھیان بٹانا چاہتا تھا جبھی فوراً ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہوگیا تھا۔ وہ دونوں شاہ رکن ودین عالم کے مزار پر پہنچے تو شنکرلال کے قدم مزار میں داخل ہونے سے انکاری ہوگئے۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ابراہیم نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔
’’تم رک کیوں گئے شنکرلال؟‘‘
’’کیونکہ‘ ہم شنکرلال ہیں۔‘‘ شنکر لال نے معنی خیز لہجے اور جملے میں ابراہیم کو بہت کچھ سمجھا دیا تھا۔
’’ہاں مگر اللہ کے ولی تو اللہ کی ساری مخلوق کے لیے یکساں فیض کا ذریعہ ہیں۔‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے کہا اسی وقت زائرین کا دھکا لگنے پر شنکرلال مزار کے احاطے میں داخل ہوگیا۔ ہجوم اتنا تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی شنکرلال خود کو بچانے کے لئے ادھر ادھر بدحواسی سے دیکھ رہا تھا وہاں سے فرار کا راستہ تلاش کررہا تھا۔
’’دیکھا شنکر میاں! کیسے دھکے سے اندر بلالیا انہوں نے تمہیں۔ یہاں سب کو آزادی ہے آنے کی بس انسان کا دھرم لے کر آئو‘ اور من چاہی مراد پاجائو۔‘‘ ابراہیم نے زائرین کے ہجوم میں اس کے قریب ہوکر کہا لیکن یہاں کے مناظر دیکھ کر تو وہ خوشی سے آنکھیں پھیلا کر بولا۔
’’ہیں ابراہیم بابو۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ ابراہیم مسکرادیا اور آگے بڑھ کر ساتھ لائی ہوئی گلاب کے پھولوں کی پتیاں مزار میں موجود قبر مبارک پر پھیلانے لگا۔ مزار کے اردگرد اور مزار کے اندر ایک عجیب ہی سماں تھا۔ خلقت امنڈی ہوئی تھی۔ بوڑھے‘ بچے مرد وزن سبھی وہاں اپنی پریشانیوں کی پوٹلیاں اٹھائے موجود تھے۔ اس کے من میں بس ایک ہی سوال سر اٹھا رہا تھا اور وہ یہ کہ!
’’یہاں تو سب کے سب اپنی ہی کسی غرض‘ ضرورت کام اور مطلب سے حاضری دینے آئے ہیں۔ اپنے رب کے لئے بھگوان کے واسطے کون آیا ہے؟‘‘ شنکرلال کا سوال اور دل کا حال عجیب تھا وہ بس ہاتھ جوڑے کھڑا تھا‘ آنکھیں بند کرتا تو من کہتا اللہ اکبر‘ آنکھیں کھولتا تو خود کو اس ماحول میں اجنبی محسوس کرنے لگتا۔ مزار کے احاطے میں قوالی ہورہی تھی۔ وہ انہیں دیکھتا باہر آگیا۔ ابراہیم ابھی اندر ہی تھا۔ شنکرلال مزار کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اپنی کالی چادر میں خود کو لپیٹ کے گھٹنوں پہ بازو اور بازوئوں پہ تھوڑی ٹکا کے اردگرد سے بے نیاز خالی الذہن بیٹھا ایک دائرے میں گھور رہا تھا۔ جب ایک پختہ اور تیز آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ تیس‘ بتیس سال کا آدمی تھا وہ جو وارث شاہ کا کلام سنا رہا تھا۔ شنکرلال نے اپنی سماعتوں کو اس کے دہن سے‘ اس کی زبان سے نکلنے والے لفظوں کی طرف لگالیا۔
’’لکھاں وچ وچھوڑے رہ گئے
اتھرو رو رو تھوڑے رہ گئے
اک نہ منی اونے میری
ہتھ وی میرے جوڑے رہ گئے
جاندی واری چھڈ گیا مینوں
پجے وال نچوڑے رہ گئے
عید دی فجرے مڑنئیںآیا
موتیاں دے پھل توڑے رہ گئے
ہن تے آکے مل جاسجنا!
زندگی دے دن تھوڑے رہ گئے!!
شنکرلال پر اس کلام نے بہت عجیب تاثر چھوڑا تھا۔ وہ بری طرح کانپنے لگا۔ اور ایک دم سے کھڑا ہوا اندھا دھند بھاگتا چلا گیا۔ ہجوم کو چیرتا ہوا۔ ابراہیم کی آواز کو ان سنا کرتا ہوا۔ گرتا پڑتا‘ بدحواسی کے عالم میں سب کچھ پیچھے چھوڑتا وہ ایسا بھاگا کے گھر پہنچ کر ہی دم لیا۔ اس نے کمرے میں آتے ہی کمرے کا دروازہ بھی بند کرلیا‘ جیسے کوئی اس کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں آہی جائے گا۔ وہ پھولی ہوئی سانسوں اور بے تحاشا دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتا پلنگ پر چادر میں دبک کے بیٹھ گیا جون کی گرمی میں بھی اس کا بدن اوائل جنوری کی شدید سردی کی طرح کانپ رہا تھا۔ اور چہرہ پسینے سے شرابور تھا۔ آنکھیں انجانے خوف سے پھیلی ہوئی تھیں۔ اور بند دروازے پر جمی ہوئی تھیں‘ جیسے دروازے کے پیچھے کوئی بہت طاقتور چیز ہے کوئی ایسی قوت جو اسے اپنے قبضے میں کرلے گی اور وہ اس ان دیکھی قوت سے بچنے کے لیے یوں چھپا بیٹھا تھا جس سے بچ کر وہ مزار سے بھاگ کر آیا تھا۔
ابراہیم اسے یوں بدحواسی کے عالم میں مزار شریف سے بھاگتا دیکھ کر بہت متفکر ہوا اور رکشہ میں بیٹھ کر فوراً گھر پہنچا تھا اور آگے سے یہ نئی افتاد کہ شنکرلال نے دروازہ اندر سے بند کر رکھا تھا۔ شنکر لال خوف اور بدحواسی میں بیرونی دروازے کی کنڈی لگانا بھول گیا تھا۔ ابراہیم نے گھر میں داخل ہوکر دروازے کی کنڈی لگائی اور اپنے اور شنکر لال کے مشترکہ کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ شنکر لال کو کمرے میں اکیلے رہنے سے ڈر لگتا تھا اس لیے وہ ابراہیم کے کمرے میں ہی سوتا تھا۔
دو مختلف انسان‘ دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دو انسان‘ ایک ہی کمرے میں ایک ہی چھت تلے‘ رہ رہے تھے‘ سوا سال سے‘ کھانا الگ الگ برتنوں میں کھاتے تھے‘ پوجا پاٹ اور عبادت کے ڈھنگ الگ تھے۔ خون‘ خاندان‘ جدا تھے۔ کوئی بھی قدر مشترک نہ تھی ان دونوں میں سوائے اس کے کہ وہ دونوں انسان تھے۔ ایک ہی رب کے پیدا کردہ انسان۔
’’ابراہیم احمد‘ انسان دوستی نبھاتے نبھاتی‘ اسلام سے بے وفائی نہ کرجانا… ایسا کیا تو بخشش نہیں ہوگی تمہاری۔‘‘ ایک دن مسجد کے مولوی صاحب نے بھی ابراہیم کو نماز کے بعد روک کر کہا تھا اور ابراہیم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا۔
’’مولوی صاحب ایک سچا مسلمان کبھی بے ایمان نہیں ہوسکتا۔ جس اللہ نے مجھے انسانیت کا سبق سکھایا ہے‘ وہ مجھے اسلام کا سبق اور اسلام کی تعلیمات کبھی بھولنے نہیں دے گا ان شاء اللہ۔‘‘ اور مولوی صاحب اس کے اس جواب سے لاجواب ہوکر رہ گئے تھے۔
ابراہیم احمد‘ مسلسل دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا مگر شنکرلال خوف اور پسینے سے نہا رہا تھا۔ ڈر سے تھرتھرکانپ رہا تھا۔
’’شنکرلال! دروازہ کھولو میاں! ہم ہیں ابراہیم احمد۔‘‘ ابراہیم نے دوسری بار اپنی بات دہرائی تو شنکرلال نے اٹھ کر ڈرتے ڈرتے دروازے کی کنڈی کھول دی۔ دروازہ کھلتے ہی ابراہیم اس کی حالت دیکھ کر اپنی حیرت کو سنبھالتے ہوئے نارمل لہجے میں بولا۔
’’کمال کے آدمی ہو تم شنکرلال! مزار سے ایسے نکل کر بھاگے جیسے گولی پستول سے نکلتی ہے۔ ہم آوازیں دیتے رہ گئے مگر تم تو زن کرکے نکل آئے اور یہاں گھر پہ آکے چھپ کے بیٹھ گئے۔ اور تو اور ہم پہ ہمارے ہی گھر کا دروازہ بند کردیا۔ کمال کرتے ہو یار۔‘‘
’’وہ… وہ… شما (معاف) کردیں جی‘ وہ…‘‘ شنکرلال شرمندگی اور خوف سے اٹک اٹک کر بولا۔
’’کیا وہ… وہ؟‘‘ ابراہیم نے اسے میز پر رکھے واٹر کولر میں سے گلاس میں پانی بھر کردیا۔ جو اس نے ایک ہی سانس میں پی لیا۔
’’تم تو ایسے بھاگے جیسے چور بھاگتا ہے اور پولیس اس کے پیچھے لگی ہوتی ہے۔‘‘ ابراہیم نے تولیے سے اس کا چہرہ صاف کرتے ہوئے کہا اسے پلنگ پہ بٹھادیا۔ پنکھا چلایا اور اس کے سامنے کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔
’’ہم نے کوئی چوری نہیں کی ابراہیم بابو! لیکن پولیس… پھر بھی ہمرے (ہمارے) پیچھے لگی ہے۔ وہاں مزار پہ ہم کو لگا کہ… ہر چیز ہمارے پیچھے لگی ہے… ہمیں اپنی اور کھینچتی ہے۔ اور کمال کے تو آپ ہیں ابراہیم بابو۔ ہم تو پہلے ہی سپنے کی وجہ سے پریشان ہیں اور آپ ہمیں شانتی‘ کا لالچ دے کر وہاں لے گئے‘ جہاں سے ہم اس حال میں لوٹے ہیں۔ وہ آپ کے جانے کی جگہ ہے‘ ہمارے جانے کی جگہ وہ نہیں ہے… ہمارے واسطے مندر کافی ہے۔‘‘
’’اور ہمارے واسطے ہمارا اللہ کافی ہے۔‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے نرم لہجے میں کہا۔
’’حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔‘‘
’’میرے لیے میرا اللہ کافی ہے اور وہ بہترین وکیل ہے۔‘‘ شنکرلال کچھ نہیں بولا بس بھگوان کی مورتی کو تکنے لگا۔
’’تم آرام سے بیٹھو‘ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے‘ میں تمہارے لیے چائے بنا کر لاتاہوں۔ تمہیں تو سردی لگ رہی ہے کچھ دیر کو پنکھا بھی بند کردیتا ہوں۔‘‘ ابراہیم نے اٹھ کر پنکھا بند کردیا اور ایک نظر اس کے کانپتے‘ ڈرے اور سہمے وجود پر ڈال کر چائے بنانے چلا گیا۔ شنکر لال کے کانوں میں ابھی تک وارث شاہ کے کلام کے بول گونج رہے تھے۔
’’شنکرلال! اب تمہیں اکیلے یہاں رہنا پڑے گا‘ اس لیے اپنے اندر کے ڈر‘ خوف کو اب چھٹی دے دو۔‘‘ ابراہیم نے اپنے کپڑے سوٹ کیس میں ترتیب سے رکھتے ہوئے اسے مخاطب کرکے کہا وہ جو اپنی ہی کسی سوچ میں گم تھا۔ اس کی بات سن کر چونک گیا۔
’’مطلب؟‘‘
’’ہمارا ٹرانسفر ہوگیا ہے۔‘‘ ابراہیم نے بتایا۔
’’تو ابراہیم بابو! آپ جارہے ہیں؟‘‘
’’ہاں شنکرلال‘ اب یہاں سے کوچ کا وقت آگیا ہے۔ اس شہر میں ہمارا دانہ پانی بس اتنا ہی لکھا تھا۔‘‘ ابراہیم نے اپنی ضروری چیزیں سمیٹتے ہوئے کہا۔
’’مگر میں آپ کے بنا اس شہر میں کیسے رہوں گا؟‘‘ شنکرلال کی پریشانی اس کے چہرے سے ہویدا تھی۔
’’ویسے ہی جیسے تم اپنے گھر والوں کے بنا ایک سال اور تین مہینے سے رہ رہے ہو۔ اور جب تم ان کے بنا رہ سکتے ہو تو میرے بنا بھی رہ سکتے ہو۔‘‘
’’آپ طنز کررہے ہیں؟‘‘ شنکرلال نے منہ بسورا۔
’’نہیں میرے بھائی میں طنز نہیں کررہا۔ میں تو تمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں کہ انسان کو دنیا میں جو رشتے سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں وہ ہیں اس کے ماں باپ‘ بہن بھائی‘ بیوی بچے‘ تو اگر ہم ان رشتوں سے دور رہ کر اپنی زندگی کو کسی راستے پر لے کر چل پڑتے ہیں ان کے بغیر اپنے امور زندگی انجام دے سکتے ہیں تو ان کے بغیر رہ بھی سکتے ہیں۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ جو اپنے ہوتے ہیں‘ جو پیارے ہوتے ہیں ان کی کمی محسوس ہوتی ہے‘ ان کی یاد بھی آتی ہے اور کبھی کبھی تو ان کی یاد ستاتی بھی ہے۔ اور ان کی ضرورت بھی محسوس کرتا ہے انسان… مگر اس سب کے باوجود انسان اپنوں سے دور اکیلا رہ لیتا ہے‘ پردیس کے دکھ کو بھی جھیل لیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ پردیسی بھی اپنوں کے لیے ہی ہوا ہے۔ اپنوں کے سکھ اور آرام کی خاطر کام کرکے کمانے کی خاطر دور ہوا ہے۔ کام وروزگار کی مجبوری‘ پیسہ کمانے کی مجبوری جو ہے… رشتوں کے ساتھ اور اپنوں کی قربت کے لمحات پر غالب آچکی ہے۔ آج کل اپنے بھی تب ہی آپ کو اپنا مانتے ہیں جب آپ ان کے لیے کچھ کرتے ہیں۔ رشتے بھی جبھی مضبوط ہوتے ہیں جب آپ معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔ یہ آج کی دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے شنکرلال۔‘‘ ابراہیم نے نہایت رسانیت اور سنجیدگی سے اسے سمجھایا‘ تو وہ مسکرا کر بولا۔
’’ٹھیک کہتے ہیں آپ ابراہیم بابو! اکیلے آدمی کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔ رشتے پیسے سے بنتے ہیں‘ سچ کہوں ابراہیم بابو آپ نے مجھے بہت پریم سے‘ پیار سے رکھا ہے اپنے ساتھ‘ اپنے پاس اس لیے مجھے آپ بہت یاد آئوگے جی… میں… تو پگلا جائوں گا جی آپ کے بنا۔‘‘
’’ارے جیتے رہو شنکرلال! خوش رہو‘ لو یہ رکھ لو اپنے لیے کچھ خرید لینا۔‘‘ ابراہیم نے اپنی واسکٹ کی جیب میں سے اپنا بٹوہ نکال کر اس میں سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکالے اور شنکرلال کی طرف بڑھادیئے۔
’’نہیں ابراہیم بابو! یہ میں نئیں لے سکتا۔‘‘ وہ ہچکچایا۔
’’کیوں میاں‘ کیوں نہیں لے سکتے۔ بھینٹ (تحفہ) سمجھ کے رکھ لو۔ سوچا تھا تمہیں کوئی اچھا سا تحفہ خرید کے دیں گے مگر اتنا ٹائم نہیں ہے کہ بازار کا چکر لگائیں۔ اس لیے یہ پیسے دے رہے ہیں تمہیں‘ اپنے لئے کچھ خرید لینا اور سمجھ لینا کہ ہم نے تمہیں تحفہ دیا ہے۔‘‘ ابراہیم نے وہ نوٹ اس کے ہاتھ میں رکھ کر مٹھی بند کردی۔
اور ہاں یہ ہمارا ایڈریس ہے اس چٹ کو بھی سنبھال کر رکھ لو۔‘‘ ابراہیم نے اپنے بٹوے میں سے ایک چٹ نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔
’’قسمت میں ہوا تو پھر ملیں گے۔ اپنا خیال رکھنا اور ہاں جب ’’بڑے آدمی‘‘ بن جائو تو ہمیں مت بھول جانا۔‘‘
’’آپ کو میں کیسے بھول سکتا ہوں ابراہیم بابو! آپ نے لوگوں کی مخالفت کے باوجود غیرمذہب کے آدمی کو اپنی چھت تلے بے فکری کی نیند سونے کو جگہ دی‘ میری بھوک‘ پیاس مٹائی‘ میری مشکل کا حل نکالا‘ آپ تو میرے بھگوان ہو جی‘ اور کوئی اپنے بھگوان کو بھی بھولتا ہے کبھی۔‘‘ شنکرلال نے خلوص دل سے ممنونیت کے احساس سے پر لہجے میں نرمی سے کہا تو ابراہیم دھیرے سے ہنستے ہوئے گویا ہوئے۔
’’ارے میاں! ہم بھگوان نہیں ہیں‘ ہمیں تم انسان ہی رہنے دو۔ انسان ہونے کا حق ہی ادا ہوجائے ہم سے تو غنیمت ہے‘ میں نے تو صرف انسانیت کا دھرم نبھایا ہے۔ اس لیے کہ میرا مذہب مجھے یہی سکھاتا ہے کہ ضرورت مندوں کی مدد کرو‘ بھوکے کو کھانا کھلائو کسی کو حقیر نہ سمجھو۔‘‘ شنکرلال نے تشکر اور عقیدت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اور میرا ماننا یہ ہے کہ اللہ صرف ایک ہے‘ اللہ کو مانو اور اللہ کی مانو۔ بس یہی ایک سچے مسلمان کا ایمان اور عقیدہ ہے۔ میری مانو تو تم بھی اس کی (اللہ) بات ضرور سننا۔ وہ (اللہ) دن میں کئی بار بلاتا ہے‘ مگر تم اس کی سنتے نہیں ہو‘ جبھی تو وہ تمہارے سپنے میں چلا آیا تمہیں دعوت دینے۔‘‘ ابراہیم اپنا سامان پیک کرلینے کے بعد گہرا سانس لے کر پلنگ پر بیٹھ گیا اور اسے دیکھتے ہوئے بولا‘ لبوں پر تبسم معنی خیز تھا۔ شنکرلال پھر سے سٹپٹا گیا اور کانپتی آواز میں بولا۔
’’مگر ابراہیم بابو! وہ تو سب مسلمانوں کو بلاتا ہے اور مسلمان بھی تو سب کے سب نئیں جاتے نا اس کے بلانے پہ۔‘‘
’’ہاں ٹھیک کہتے ہو تم شنکرلال‘ بات تمہاری بھی درست ہے‘ مگر… اچھا چلو تمہیں ایک مثال سے سمجھاتے ہیں۔ ہمارے‘ تمہارے گھر کی تقریب میں کتنے سارے مہمان بلائے جاتے ہیں‘ لیکن آتے وہی ہیں جن کا ہم سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ اذان بھی دعوت عام ہے‘ اللہ کے گھر کی طرف سے بلائے سب جاتے ہیں… آتا وہی ہے جو خاص ہوتا ہے۔ سوچو شنکرلال تم خاص ہو یا عام؟‘‘
’’مم… میں… میں ایک ہندو ابراہیم بابو! آپ تو اپنے مذہب کی تبلیغ کررہے ہیں میرے سامنے‘ میں اپنے دھرم کو نئیں چھوڑنے والا… آپ مانے جائو اللہ کی… میں نے کبھی روکا ہے آپ کو… میرا بھگوان ہے نا‘ مجھے کیا ضرورت ہے ادھر ادھر دیکھنے کی؟‘‘ شنکرلال نے قدرے ناراض اور تیز لہجے میں کانپتی آواز میں کہا۔
’’معاف کرنا شنکرلال! میں اپنی رو میں بہتا چلا گیا۔ بس تم پہ اس کی نظر کرم ہوتی دیکھ کر آپ ہی آپ اس کی باتیں کرنے کو دل چاہنے لگا۔‘‘ ابراہیم نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا تو شنکرلال نے کوئی جواب نہیں دیا اور ایک دم سے اٹھ کر اپنا سامان سمیٹنے لگا۔ ابراہیم نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ارے شنکرلال! تم کیوں اپنا سامان سمیٹنے لگے؟ ہمارا تو بلاوا آیا ہے دوسرے شہر میں حاضری دینی ہے سنیئر پوسٹ ماسٹر صاحب نے نئے آفس میں رپورٹ کرنی ہے۔ ہمیں تو سرکاری چٹھی کے ذریعے بلاوا بھیجا گیا ہے۔ مگر تم کیوں جارہے ہو؟‘‘
’’میرا بھی بلاوا آیا ہے مجھے بھی رپورٹ کرنی ہے دوسرے شہر۔‘‘ شنکرلال نے اپنے کپڑوں کی تہہ لگاتے ہوئے خفا خفا لہجے میں جواب دیا تو ابراہیم ہنسنے لگا۔
’’تم جس سے بھاگ کے جارہے ہو نا وہ تمہیں اندھیرے غارسے بھی ڈھونڈ نکالے گا۔ وہ تو ہر پل‘ ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے‘ تم پہ نظر رکھے ہوئے ہے‘ وہ تو تم کو سب سے زیادہ جانتا ہے‘ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس سے فرار ممکن ہی نہیں۔‘‘
’’میں نئیں مانتا۔‘‘ شنکرلال تھکے تھکے انداز میں اپنا کام چھوڑ کر پریشان صورت بنا کے بیٹھ گیا۔ ابراہیم نے دھیرے سے ہنس کر کہا۔
’’مان جائوگے یہی تو خوبی ہے اس کی کہ وہ بڑے ہی پیار سے‘ محبت سے اپنا آپ منوالیتا ہے۔‘‘
’’یہ تو ہر بھگوان کی خوبی ہوتی ہے۔‘‘ شنکرلال بولا۔
’’کتنے بھگوان ہیں تیرے شنکرلال‘ گنتی یاد ہے کچھ؟‘‘
’’مجھے نہیں پتا‘ آپ تو مجھے ایسے سمجھا رہے ہیں جیسے خود دین‘ دھرم میں عالم فاضل ہوں۔‘‘ شنکرلال کی بات سن کر ابراہیم مسکرانے لگا۔ پھر گویا ہوا۔
’’میں نہیں جانتا‘ میں تو کچھ بھی نہیں جانتا۔ اور شنکرلال! تو بھی تو ’’ہم‘‘ اور ’’میں‘‘ میں ہی الجھا ہوا ہے اب تک‘ یہ ’’میں‘‘ جو ہے نا‘ انسان کو کبھی اچھا اور اعلیٰ کردار کا مالک نہیں بننے دیتی۔ انسان ہر معاملے میں اپنی ’’میں‘‘ کو ترجیح دیتا ہے‘ میں کو مار کے ہی انسان‘ انسان کے کام آتا ہے‘ ایک انسان دوسرے انسان کی بہتری اور فلاح کے لیے سوچتا ہے۔ میں ہوں‘ بس جو ہوں کی سوچ کبھی درد دل کا مداوا نہیں کرسکتی۔ بابا بلھے شاہ! کیا خوب فرماتے ہیں‘ کیا عمدہ مشورہ دیتے ہیں انسان کو کہ!
پھلاں دا تو عطر بنا
عطراں دا فیرکڈ دریا
دریا وچ
فیر رج کے نہا
مچھلیاں وانگوں تاریاں لا
فیروی تیری بو نئیں مکنی
پہلے اپنی
’’میں‘‘ مکا
یعنی تو پھولوں کے عطر بنا کے اس عطر کا دریا نکال کر اس میں مچھلیوں کی طرح ڈبکیاں لگا لگا کے نہا بھی لے نا تب بھی تیری بو ختم نہیں ہوگی۔ پہلے اپنی ’’میں‘‘ کو ختم کر…‘‘
’’انسان اتنا مہان‘ اعلیٰ ظرف‘ کیسے ہوسکتا ہے ابراہیم بابو! یہ سب تو بھگوان کے ظرف ہیں۔ اعلیٰ رتبے تو بھگوان کو اس اوپر والے کو شوبھا ہیں‘ اسی کو زیب دیتے ہیں۔‘‘ شنکرلال نے سنجیدگی سے کہا تو ابراہیم نے استفسار کیا۔
’’اور یہ اوپر والا کون ہے شنکرلال؟ تو تو بھگوان کو مانتا‘ پوجتا ہے نا… تو اوپر والے کا ذکر کیوں کررہا ہے؟ تیرا بھگوان تو تیرے پاس ہے‘ تیرے سامنے یہ رکھا ہے کارنس پر‘ تیرا بھگوان تو زمین پہ ہے تیرے پاس۔ تو تو بھگوان کو اس مورتی کو اپنے سامان میں بھی لئے پھرتا ہے‘ اپنے ساتھ ساتھ پھر یہ اوپر والا کون ہے؟‘‘
’’ہم نہیں جانتے‘ آپ تو زبان پکڑلیتے ہیں۔‘‘ شنکرلال جھنجلا کر بولا تو وہ ہنسنے لگا اور جب ہنسی رکی تو ابراہیم آنکھیں موند کر کھوئے کھوئے لہجے میں بلھے شاہ کا کلام پڑھنے لگا۔
رب رب کردے بڈھے ہوگئے
ملا‘ پنڈت سارے…
رب دا کھوج کھرانہ لبا
سجدے کرکر ہارے
رب تے تیرے اندر وسدا
بلھے شاہ! رب اونوں ملدا
جیڑا اپنے نفس نوں مارے!!‘‘
ابراہیم خاموش ہوگیا تھا مگر شنکرلال کے اندر ایک شور بپا ہوگیا تھا۔ مزار‘ فقیر‘ اذان کی آواز‘ بلھے شاہ کا کلا‘م ابراہیم کا مشفقانہ انداز اور برتائو یہ سب اسے بری طرح جھنجوڑ رہے تھے اس کے اندر ایک جنگ چھڑی تھی۔ اللہ یا بھگوان کا ہوجانے کی جنگ۔
کبھی وہ بھگوان کی مورتی کو بے بسی سے تکنے لگتا اور کبھی جائے نماز اور مسجد کے گنبد پر نگاہ جمائے مجسم سوال بن جاتا۔ اذان کی پکار اس کے دل کی دھڑکنیں تیز کررہی تھی اس کے بدن میں کپکپاہٹ پیدا کررہی تھی‘ ابراہیم اپنا سامان باندھ چکا تھا۔ ظہر کی نماز کے لیے مسجد گیا تو پیچھے سے شنکرلال اپنا بوریا بستر سمیٹ کر یہ جا وہ جا۔
ابراہیم گھر آیا تو شنکرلال کو موجود نہ پاکر حیران رہ گیا۔ اسے اس کے یوں بنا ملے چلے جانے کی توقع نہ تھی۔ ابراہیم کی نظر اپنے سوٹ کیس پر رکھے کاغذ کے ایک پرزے پر پڑی تو اس نے بھنویں سکیڑ کر دیکھا پرزہ اٹھا کر پڑھا اس پر دو سطریں لکھی تھیں نہایت خوشنما خوشخط لکھائی تھی شنکرلال کی اس نے لکھا تھا۔
’’ابراہیم بابو!
آپ کا شکریہ ادا کرنے کا منہ نہیں ہے اور الوداع کہہ کے جانے کا یارا نہیں‘ کہا سنا معاف کردیجیے گا‘ جارہا ہوں۔
منزل سے ناآشنا
شنکرلال!‘‘
’’فی امان اللہ شنکرلال! میری دعا ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری منزل پہ پہنچائے۔‘‘ ابراہیم نے شنکرلال کا پرچی نما رقعہ پڑھ کر اس کے لیے مسکراتے ہونٹوں اور نم آنکھوں کے ساتھ دعا کی۔ چٹ کو اپنی قمیص کی جیب میں رکھا اپنا سامان اٹھا کر گھر کو الوداعی نظروں سے دیکھتے پرنم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے گھر کی دہلیز عبور کرگیا اسے بھی تو نئے آفس میں رپورٹ کرنی تھی۔
یہ رب کی منشا‘ یہ رب کی مرضی
یہ بھید بھی تو اسی کے ہیں سب
وہ جس پہ چاہے یہ بھید کھولے
وہ جس کوچاہے نہال کردے
دکھاکے اپنے کرم کاجلوہ
وہ عاصیوں کومالا مال کردے
وہ مہربان ہوجائے جس پر
اسے عکس اذان بلالؓ کردے ‘‘
وقت کا پنچھی اپنے پروں میں بارہ مہینے کا سال اڑا کر لے گیا تھا۔ شب وروز کی چکی میں پستے روٹی کمانے کی غرض سے شہر‘ شہروں سفر کرتے مسافر نہیں جانتے کہ دوران سفر وہ کیا کھوئیں گے‘ کیا پائیں گے‘ کس سے ملیں گے؟ اور کس سے بچھڑیں گے؟ کیا سیکھیں گے اور کیا سکھائیں گے؟ کیا وہ واقعی اس سفر کو بامقصد بنا پائیں گے یا ان کا سفر رائیگاں ٹھہرے گا؟ ان ہی سوچوں‘ سوالوں میں گھرا ابراہیم اس نئے شہر میں آیا تھا مگر اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے گزرے برس کا ایک بچھڑا آشنا اس کے سامنے آجائے گا۔
گزشتہ برس کی کتاب کا ایک باب کھل کر اس کی آنکھوں کے سامنے سوالیہ نشان بنا کھڑا ہوگا۔ ابراہیم نئے شہر میں‘ نئے لوگوں سے آشنائی کے لیے مسجد میں نماز فجر کی ادائیگی کے لیے آیا تھا۔ وضو کرتے ہوئے اچانک اس کی نظر دائیں جانب بنے حوض کی طرف اٹھی تو وہ شنکرلال کو دیکھ کر ٹھٹکا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے وہ حقیقت کہ خواب ہے‘ وہ پلکیں جھپک کر غور سے دیکھ رہا تھا وہ یقینا شنکرلال ہی تھا جو سفید شلوار قمیص میں ملبوس سر پہ سفید ٹوپی پہنے ننگے پائوں کھڑا ایک ضعیف آدمی کو وضو کروا رہا تھا۔ یکایک ابراہیم کو شنکرلال کا وہ خواب یاد آنے لگا جس میں اس نے دیکھا تھا کہ وہ مسجد میں جھاڑو پھیر رہا ہے‘ مصلے بچھا رہا ہے۔
’’تو کیا شنکرلال کا وہ خواب‘ سچا ہوگیا؟‘‘ ابراہیم نے خود کلامی کی‘ اس کی آنکھوں کے مسلسل ارتکاز اور تپش کو محسوس کرتے ہوئے اس نے ابراہیم کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں شناسائی کی لہر جاگی‘ ہونٹوں پہ دوستانہ تبسم ابھرا اور وہ پانی کی بالٹی اور مگ زمین پر رکھ کر تیزی سے ابراہیم کی سمت لپکا۔
’’ابراہیم بابو! آپ…‘‘ وہ شنکرلال ہی تھا۔ جبھی آکر اس سے بغل گیر ہوگیا تھا۔
’’کیسے ہیں آپ؟‘‘
’’میں تو بھلا چنگا ہوں‘ خیر سے ہوں‘ تم اپنی سنائو یہاں کیسے؟ تم اور مسجد میں؟‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور ساتھ ہی اپنی حیرانگی کا سوال کی صورت اظہار بھی کردیا۔
’’ابراہیم بابو! آپ نماز ادا کرلیں‘ میری کہانی ذرا لمبی ہے‘ نماز کے بعد اطمینان سے سنئے گا۔‘‘ شنکرلال نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر بولا۔
’’ہاں یہ ٹھیک ہے نماز کے بعد ملتے ہیں۔‘‘ اور پھر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد ابراہیم نے شنکرلال کو صفیں تہہ لگا کر رکھتے ہوئے دیکھا۔ ایک عجیب سا نور تھا جو اس کو شنکرلال کے چہرے پہ دکھائی دے رہا تھا۔ ایک تبسم تھا جو اس کے لبوں پر مستقل سجا ہوا تھا اور ابراہیم نے محسوس کیا کہ شنکرلال کا لہجہ بھی بہت دھیما اور ملائم ہوگیا تھا۔
’’آئیں ابراہیم بابو! ادھر قریب ہی میرا غریب خانہ ہے‘ وہاں بیٹھ کر تفصیل سے باتیں بھی کریں گے اور ناشتہ بھی۔‘‘ ابراہیم اپنی سوچوں میںگم تھا جب شنکرلال نے اس کے قریب آکر کہا تو وہ چونک کر اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔
’’چلو میاں ویسے بھی آج چھٹی کا دن ہے یہ چھٹی تمہارے ساتھ گزارتے ہیں بہت سی باتیں ہیں کرنے کے لیے وقت اچھا کٹ جائے گا ہمارا۔‘‘
’’جی‘‘ شنکر لال مسکرادیا اور ابراہیم کو مسجد کے قریب بنے چھوٹے سے گھر میں لے آیا۔ جہاں صرف ایک کمرہ تھا۔ غسل خانہ تھا‘ برآمدہ بھی کمرے سے آدھا تھا جہاں چولہا رکھا تھا ایک کونے میں کارنس باورچی خانے کے استعمال کی چند چیزیں اور چند برتن دیوار گیر الماری میں رکھے تھے۔ ابراہیم ناقدانہ نظروں سے کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ کمرے میں باہر کی طرف ایک کھڑکی کھلتی تھی جس میں لوہے کے سریے اور جالی لگی تھی تازہ ہوا اور روشنی کے لیے وہ کھڑکی بہت مناسب تھی۔ دو پلنگ بچھے تھے۔ جن کی پائنتی پر دری تہہ لگا کر رکھی گئی تھی اور تکیے سرہانے دھرے تھے۔ ایک کونے میں کھجور کی بنی جائے نماز رکھی تھی۔ سائیڈ پر ایک چھوٹا سا کارنس تھا جس پر بھگوان کی مورتی کی بجائے رحل رکھی تھی‘ اور اس پر قرآن پاک جیسی مقدس کتاب سجی تھی۔ دیوار پر سامنے خانہ کعبہ کی خوب صورت تصویر آویزاں تھی۔ ابراہیم کی حیرت بڑھتی چلی جارہی تھی۔ شنکرلال جو اسے کمرے میں چھوڑ کر ناشتہ بنانے چلا گیا تھا‘ کچھ دیر بعد ٹرے میں دو کپ چائے‘ بسکٹ اور پاپے پلیٹوں میں سجا کر لے آیا۔ ٹرے پلنگ پر رکھتے ہوئے بولا۔
’’لیں ابراہیم بابو! ناشتہ کرلیں۔‘‘
’’شکریہ‘ ناشتہ تو ہم کریں گے ہی مگر یہ بتائو کہ یہ ماجرہ کیا ہے؟ یہ کمرہ یہ آستانہ تمہارا ہی ہے یا تم کسی کے ساتھ مقیم ہو یہاں؟‘‘ ابراہیم نے پلنگ پہ بیٹھتے ہوئے استفسار کیا۔
’’ہم کسی کے ساتھ مقیم ہیں یہاں۔‘‘ شنکرلال نے جواب دیا۔
’’اچھا! کہاں ہیں وہ جن کے ساتھ مقیم ہو؟‘‘
’’ادھر ہی آپ پہلے ناشتہ تو کرلیں‘ سب بتاتا ہوں اور ہاں مجھ غریب کے پاس یہی سوغات ہے آپ کی خاطر داری کے لیے… امید ہے آپ کو اچھا لگے گا۔‘‘ شنکرلال نے ناشتے کی ٹرے کو دیکھ کر کہا۔
’’اچھا کیسے نہیں لگے گا بہت اچھا لگے گا۔ کیونکہ اس میں تمہارا پیار شامل ہے شنکرلال۔‘‘
’’شنکرلال نہیں ابراہیم بابو! محمد بلال… میں اب محمد بلال ہوں۔‘‘ شنکرلال نے جیسے ابراہیم کے سر پر ایٹم بم پھوڑا تھا۔
’’کک… کیا؟‘‘ ابراہیم حیرت‘ مسرت اور فرط جذبات سے بول ہی نہ پایا۔
’’جی۔‘‘
’’تو یہ سب تمہاری مسلمانی کا نتیجہ ہے۔‘‘
ابراہیم نے پلنگ سے اٹھ کر کمرے میں موجود قرآن پاک‘ جائے نماز‘ خانہ کعبہ کی تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔
’’جی‘‘ محمد بلال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
’’مگر یہ سب کیسے ہوگیا؟‘‘
’’میرا وہ سپنا سچا ہوگیا۔‘‘ محمدبلال نے چائے کا کپ ابراہیم کی طرف بڑھاتے ہوئے اسے ناشتے کی جانب متوجہ کیا وہ چائے کا کپ لے کر پلنگ پر بیٹھ گیا اور پھر ایک دم سے اٹھ کر اسے گلے سے لگالیا۔
’’بہت بہت مبارک ہو تمہیں محمد بلال! تم نے تو بہت بڑی خوش خبری سنائی ہے۔ سبحان اللہ‘ اس نے تمہیں اپنے گھر بلاہی لیا نا آخر‘ اور تمہارے گھر والوں نے کچھ نہیں کہا تمہیں؟‘‘
’’انہوں نے کیا کچھ نہیں کہا مجھے؟ وہ سب کہا جو انسان اپنے دشمن سے کہتا ہے۔ اپنے گھر سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا۔ اپنے نام سے‘ حق سے عاق کردیا۔ ان کا بھائی‘ بیٹا تو شنکرلال تھا نا… اور شنکرلال‘ محمد بلال بن گیا تو انہوں نے اس سے ہر رشتہ‘ ناطہ توڑ لیا‘ محمد بلال کے لیے ان کے دل اور گھر میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ بس پھر میں اللہ کے گھر چلا آیا‘ جس کا مہمان بنا تھا اسی کے ذمے سب چھوڑ دیا۔ اسی کے بھروسے پہ اس کا ہوگیا۔ اس نے احساس دلادیا کہ جسے اپنے نہ اپنائیں اسے اللہ اپنا لیتا ہے‘ اپنا بنا لیتا ہے‘ جو اس کا ہوجائے اسے پھر کسی اور کی حاجت نہیں رہتی۔ جب دل کو یہ یقین ہوجائے کہ اللہ ہر پل ہر گھڑی ہمارے ساتھ ہے تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کون ہمارے خلاف ہے؟ جس کاکوئی نہیں ہوتا اس کااللہ ہوتا ہے‘ اس نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے نا۔ توجب اسے سب کچھ مان لیا‘ اس پہ یقین ہوگیا تو اس کے وعدے پہ بھی اندھا یقین ہوجاتا ہے۔ جس کے بھاگے (نصیب) میں جتنا رزق لکھا ہے وہ اسے ملنا ہی ملناہے اور جو نہیں لکھا وہ لاکھ حیلے کرلو‘ ہاتھ پیر مار لو نہیں ملنا‘ جسے کوئی بھی پناہ نہ دے اسے اللہ پناہ دیتاہے‘ ہر برائی سے برے آدمی کے شر سے پناہ دیتا ہے۔‘‘ محمد بلال دھیرے دھیرے بولتا ابراہیم کو حیرت کے سمندر میں دھکیل رہا تھا جو ناشتہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی گفتگو سن رہا تھا اور دل ہی دل میں اللہ اکبر‘ سبحان اللہ کا ورد کررہا تھا۔
’’مسجد میں کیا کرتے ہو محمد بلال؟‘‘ ابراہیم نے پوچھا۔
’’مسجد میں ضعیف اور بیمار نمازیوں کو وضو کراتا ہوں۔ مسجد کی صفائی ستھرائی‘ دھلائی کرتا ہوں‘ جھاڑو لگاتا ہوں۔ اذان دیتا ہوں۔‘‘
’’اذان؟‘‘ ابراہیم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’جی اذان‘ جو کبھی مجھے اندر سے ہلادیا کرتی تھی‘ اندر سے جھنجوڑا کرتی تھی‘ آج میں خود وہ اذان دیتا ہوں‘ اس سے بڑھیا (بہترین) اور بڑی نوکری بھلا کوئی ہوگی؟ میں اس کا غلام ہوں اب جس کے سب غلام ہیں۔ آپ سب تو پیدائشی مسلمان ہیں ناں کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے تو مسلمان ہی کہلائے۔ پر مجھے اس (اللہ) نے خود چنا ہے اپنی مرضی سے اپنے گھر کی چاکری کے لیے چنا ہے۔ اپنے بندوں کی سیوا کے لیے یہ ملازمت اس نے مجھے دی ہے۔ اس نیک کام کے لیے اس نے مجھے خود منتخب کیا ہے۔ اب تو اس کے انتخاب اور امیدوں پر کھرا اترنے کی کوشش میں ہوں۔‘‘ محمد بلال نے نرم اور سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’گھر والے یاد آتے ہیں؟‘‘ ابراہیم نے پوچھا۔
’’گھر والے بھلائے تھوڑی جاتے ہیں ہاں مگر یاد کرنے کی فرصت بھی تو ہونی چاہیے نا۔‘‘ محمد بلال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور اپنی چائے ختم کرکے کپ ٹرے میں رکھ دیا۔
’’پیدا کرنے والی ماں تو یاد آتی ہوگی محمد بلال کو؟‘‘
’’اب تو صرف پید اکرنے والا رب یاد رہتا ہے۔ زندگی نے یہ سمجھادیا ہے کہ انسان اس دنیا میں اکیلا آیا تھا اور اسے واپس بھی اکیلا ہی جانا ہے۔ پھر غم کس بات کا؟ ماں‘ باپ‘ بھائی‘ بہنیں‘ دوست‘ رشتے دار‘ نہ تو ان میں سے کوئی ہمارے ساتھ جائے گا اور نہ ہماری سفارش کرے گا۔ ہمارے کہے اور کیے کی چارج شیٹ ہمارے سامنے روز محشر رکھ دی جائے گی اور فیصلہ سنادیا جائے گا۔ ہمارے اعمال کے پرچے کا رزلٹ سنادیا جائے گا۔ پاس یا فیل۔ سزا یاجزا‘ ہمیں اکیلے ہی بھگتنا اور سننا ہوگا وہ رزلٹ‘‘ محمد بلال نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ٹھیک کہا تم نے بالکل درست کہا‘ تم تو ذاکر‘ واعظ مولوی ہوگئے‘ محمد بلال۔‘‘ ابراہیم نے اس کی گفتگو سے متاثر ہوکر کہا۔
’’ارے کہاں ابراہیم بابو! ابھی تو میں اچھے سے مسلمان بھی نہیں ہوا‘ صرف کلمے کا مسلمان ہوں‘ مسجد میں اذان دینے تک کی رسائی اس سوہنے رب کی مہربانی اور نظر کرم ہے بس۔‘‘ محمد بلال نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ابراہیم نے بہت رشک بھری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا جس ماتھے پہ کبھی تلک لگی ہوتی تھی آج اسی ماتھے پہ محراب ابھر رہی تھی‘ اس کے سجدوں کی گواہی بن کر۔
’’مگر یہ سب ہوا کیسے شنکرلال‘ اوہ معاف کرنا محمد بلال… شنکرلال سے محمد بلال تک کا سفر کیسے طے ہوا؟ وہ سپنا‘ کیسے سچ ہوا‘ بتائو نا میاں؟‘‘ ابراہیم کے لہجے میں بے تابی اور تجسس تھا۔ محمد بلال نے گہرا طویل سانس لبوں سے خارج کیا اور نرم دھیمے لہجے میں گویا ہوا۔
’’ابراہیم بابو آپ مسجد نماز کی ادائیگی کے لیے چلے گئے تھے تو میں بھی آپ کے جانے کے بعد وہاں سے نکل گیا۔ گھر جا نہیں سکتا تھا کہ بڑا آدمی بن کر جانے کا عہد اور دعویٰ کرکے گھر سے نکلا تھا۔ اب یونہی کیسے واپس چلا جاتا؟ سب یہی کہتے نا کہ لوٹ کے بدھو گھر کو آیا۔ بس یہی سوچ کے میں ایک بس میں سوار ہوگیا۔ بس نے مجھے لاہور کے بس اڈے پہ اتار دیا۔ میرے آس پاس لوگوں کا ہجوم تھا۔ چاروں اور خلقت ہی خلقت تھی۔ نیا شہر‘ نئی جگہ‘ نئے لوگ‘ نئے راستے اور میں خالی الذہن‘ انجان‘ اجنبی‘ کم فہم‘ کم علم آدمی… مجھے تو کچھ بھی نہیں پتا تھا کہ کہاں جاناہے‘ کیا کرنا ہے؟ بھوک بھی بہت لگی تھی اور پتا نہیں تھا کہ کھانا کہاں ملے گا؟ جب چلتے چلتے تھک گیا اور بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے تو میں نے ایک آدمی سے پوچھا۔ ’’بھائی! بھوک لگی ہے کھانا کہاں سے ملے گا؟ تو وہ بولا۔ ’’داتاؒدربار چلے جائو یا بی بی پاک دامن کے مزار پہ جائو۔ وہاں دن رات لنگر چلتا ہے جائو اپنی بھوک مٹائو… پر…!‘‘
’’پر کیا؟‘‘ ابراہیم جو بہت دلچسپی سے اس کی داستان حقیقت سن رہا تھا اس کے لمحے بھر کے توقف پر بے تاب ہوکر بولا۔
’’پر میرا من نہیں مانا ابراہیم بابو؟‘‘
’’کیوں تمہیں تو بہت بھوک لگی تھی نا؟‘‘
’’ہاں پر بھوک مٹانے کی خاطر میں کسی داتاؒ جی کے دربار اور پاک بی بی کے مزار پہ جا نہیں پایا۔ عقیدت میں جاتا تو الگ بات تھی لیکن صرف اپنی بھوک مٹانے کو نیک‘ پاک‘ بزرگ ہستیوں کے مزار پہ جانے کو من نہیں مانا میرا۔‘‘ محمد بلال نے سنجیدگی سے کہا تو ابراہیم مسکراتے ہوئے بولا۔
’’ارے پگلے! یہ بزرگ‘ ولی‘ اللہ کے نیک بندے تو اللہ نے بھیجے ہی اس لیے ہیں کہ اللہ کی مخلوق کی مدد کریں۔‘‘
’’بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر پتا نہیں کیوں قدم وہاں جاکے رک سے گئے اور میں اندر جانے کی جرأت نہ کرسکا اور تھک کر مزار کے باہر پیڑ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ابھی مجھے وہاں بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک بوڑھا آدمی میرے پاس آیا‘ اس آدمی نے ہرے رنگ کا چوغہ پہن رکھا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں پلائو بھی ایک پلیٹ تھی جو اس نے مسکراتے ہوئے میری جانب بڑھادی اور بولا۔
’’یہ تمہارا حصہ ہے لو شاباش بسم اللہ کرو۔‘‘ میں نے حیرانگی سے پوچھا۔
’’آپ کو کیسے پتا جی کہ میں بھوکا ہوں؟‘‘ وہ بوڑھا مسکراتے ہوئے بولا۔
’’جس نے یہ لنگر چلا رکھا ہے اسے تو پتا ہے نا۔ وہ جو سب میں اس کے حصے کا رزق تقسیم کرتا ہے وہ تو جانتا ہے ناکہ کون بھوکا ہے‘ کسے کب‘ کہاں رزق پہنچانا ہے؟ وہ سب کودیتا ہے انہیں بھی جو اس کو مانتے ہیں اور انہیں بھی جو غیر اللہ کو مانتے ہیں۔ پوجتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر تو میرا جسم کانپنے لگا۔ وہ بوڑھا آدمی مجھے پانی بھی دے گیا۔ مجھے بھوک بہت زوروں کی لگی تھی اور پلائو کی خوشبو میری بھوک چمکا رہی تھی۔ میں نے فوراً اپنے ہاتھ دھوئے اور مرغ پلائو کھانے لگا۔ وہ پلائو اتنا لذیذ تھا کہ اس کا ایک ایک دانہ مجھے مزا دے رہا تھا۔ میرا پیٹ بھرگیا تھا۔ کھا پی کر میں خود کو بہت بہتر محسوس کررہا تھا۔ بھرے پیٹ کے ساتھ آنکھوں میں نیند بھی بھرنے لگی۔ سفر کی تھکن کی وجہ سے اور کافی دیر پیدل چلنے کی وجہ سے مزید چلنے کی ہمت نہیں تھی سو میں وہیں پیڑ کے نیچے چادر بچھا کے لیٹ گیا اور نیند کی وادی میں پہنچ گیا۔ اور…!!‘‘ محمد بلال بولتے بولتے رکا اور کھوئے کھوئے انداز میں گہرا سانس لیتے ہوئے کمرے کی چھت کو تکنے لگا۔ ادھر ابراہیم کا تجسس بڑھتا جارہا تھا۔ اس کے خاموش ہونے پر بے تابی سے پوچھا۔
’’اور کیا بتائو نا؟‘‘
’’اور نیند میں‘ میں نے پھر وہی سپنا دیکھا کہ میں مسجد کے صحن میں جھاڑو پھیر رہاہوں‘ مصلے بچھا رہا ہوں‘ پر اب کی دفعہ میں سپنے میں اذان بھی دے رہا تھا۔‘‘
’’اذان۔‘‘ ابراہیم حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا۔
’’ہاں ابراہیم بابو! اللہ اکبر‘ اللہ اکبر‘‘ میری زبان سے ادا ہو رہا تھا۔ میں ہڑبڑا کر نیند سے جاگا تھا۔ میرا بدن پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔ جسم بری طرح کانپ رہا تھا۔ میں اسی حالت میں بیٹھا تھا کہ بوڑھا آدمی میرے پاس آیا اور بولا۔
’’جب انسان اجتماعی پکار پہ کان نہ دھرے‘ نہ جاگے‘ تو اوپر والا اسے انفرادی طور پر سپنے میں آ‘ آ کے جھنجوڑتا ہے‘ جگاتا ہے‘ اسے بتاتا ہے کہ مالک ومختار‘ عزیز اور پروردگار‘ خالق کائنات صرف اللہ ہے۔ سب سے بڑا اللہ ہے۔ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر… بس ابراہیم بابو! پھر میں وہاں سے سر پہ پیر رکھ کے بھاگ لیا مگر…‘‘
’’مگر کیا؟‘‘ ابراہیم کی نظریں اس کے چہرے پرجمی تھیں۔
’’آپ نے ٹھیک کہا تھا ابراہیم بابو! میں جتنا مرضی بھاگ لوں اس (اللہ) سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا‘ اس کی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اس کی پہنچ سے دور نہیں جاسکتا۔ اس سے بچ کر کہیں نہیں چھپ سکتا۔ وہ تو اندھیری غار میں سے بھی آدمی کو ڈھونڈ نکالتا ہے… وہ اللہ بھی مجھے گھسیٹتا ہوا اپنے در پر لے آیا۔ میں بہت بھاگا مگر اس نے میرے قدموں کا رخ اپنے گھر کی طرف موڑلیا۔ من بڑا گڑگڑایا۔ مزاحمت کی تو من کو بھی تھپکی دے کر سمجھالیا۔ بھگوان جی سے بنتی کی پر بھگوان جی بھی مٹی کی مورت بنے رہے۔ میری کوئی مدد کی نہ مجھے اپنی اور کھینچا… کچھ تو تھا جو مجھے کھینچ کر‘ گھسیٹ کر اس (اللہ) کے گھر لے گیا میں اندھا دھند بھاگتا رہا‘ بھاگتا رہا‘ اور آخر تھک کے ڈھیر ہوگیا۔ سانسیں پھول گئیں‘ زبان تالو سے جالگی‘ حلق خشک ہوگیا تھا۔ ٹانگیں جیسے بے جان ہوگئیں تھیں۔ اپنا ہی بوجھ اٹھانا دشوار ہوگیا تھا۔ میں ایک جگہ ڈھے گیا۔ آنکھیں آپ ہی آپ بند ہونے لگیں۔ میں بہت بری طرح ہانپ رہا تھا۔ میں تھک چکا تھا۔ حرکت کرنے کی بھی سکت نہ تھی مجھ میں‘ یہاں تک کہ سانس لینا بھی محال تھا اور ایسے میں‘ مندی مندی آنکھوں کے سامنے وہی سبز گنبد جھلملانے لگا جو میں نے سپنے میں دیکھا تھا۔ جو مسجد میں نے سپنے میں‘ خواب میں دیکھی تھی میں اسی مسجد کے دروازے پہ گھٹنے ٹیک کے بیٹھا تھا۔ مسجد کے اندر سے آنے والی آواز جیسے مجھے ہوش میں لے آئی تھی۔
’’اللہ ہو‘ اللہ ہو‘‘ کی آواز اور ’’لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ‘‘ کی تکرار اور تسبیح اور اقرار‘ ایک جادو تھا جیسے اس ورد میں جسے سن کر میرے اندر دھیرے دھیرے طاقت سی آنے لگی۔ میرے حواس بحال ہونے لگے۔ اعصاب کا تنائو ختم ہوگیا میں ایک دم سے ہلکا ہوگیا سوکھے پتے کی طرح ایک دم ہلکا جسے ہوا اپنے دوش پہ جہاں چاہے اڑا کے لے جائے‘ کلمہ توحید بھی میرے لیے ہوا سا تھا‘ باد صبا کا نرم جھونکا تھا جو مجھے اپنی سمت اپنے ساتھ اڑا کے لے جارہا تھا۔ مجھے پتا بھی نہیں چلا کہ میں کب؟ کیسے کھڑا ہوا اور میرے قدم مسجد کے اندر کی جانب بڑھنے لگے اور آن کی آن میں‘ شنکر لال‘ مسجد میں داخل ہوگیا اور زبان بھی وہی کلمہ پڑھنے لگی جو مسجد میں موجود نمازی پڑھ رہے تھے۔ وہی ورد‘ ورد زبان ہوگیا جو وہاں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کی زبان پر جاری تھا۔
’’اللہ ھو‘ اللہ ھو‘ اللہ اکبر‘ اللہ اکبر… لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ‘‘ میں بھی وہ پڑھ رہا تھا جو وہ سب نمازی پڑھ رہے تھے اور ایسا اپنے آپ ہورہا تھا۔ میں وہاں ایسے کھنچا چلا گیا تھا جیسے مقناطیس‘ لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ توحید‘ ایمان اور اللہ کی وحدانیت وہ مقناطیس ہے جس نے مجھ بے ایمان‘ غیر اللہ کو پوجنے والے زنگ آلود لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیا اور لوہے کو کندن بنا دیا۔ اپنی طرف کھینچ کر سب سے کھینچ لیا۔ مجھے اپنا بنالیا اور مجھے اپنوں سے چھڑالیا۔‘‘
’’تم مسجد میں داخل ہوئے تو کسی نے کچھ کہا نہیں تمہیں؟‘‘ ابراہیم نے بے تابی سے پوچھا۔ محمد بلال کھوئے ہوئے انداز میں بولا۔
’’کہا تھا! کسی نمازی نے کہا تھا‘ ارے یہ تو ہندو ہے‘ یہ مسجد میں کیسے آگیا؟‘‘ کوئی بولا۔
’’اسے مسجد سے باہر نکالو اس نے مسجد کو ناپاک کردیا ہے یہ تو خود بھی ناپاک ہے۔‘‘ تب مسجد کے مولوی صاحب کہنے لگے۔
’’یہ ناپاک کیسے ہوگیا میرے بھائی‘ سن نہیں رہے آپ یہ تو اپنے پاک ہوجانے کی گواہی دے رہا ہے۔ اللہ ھو کا ورد کررہاہے۔ جب اللہ کو ایک مان لیا‘ وحدہ لاشریک مان لیا۔ زبان سے ’’لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ‘‘ ادا ہوگیا تو تن من تو خودبخود پاک صاف اور پاکیزہ ہوگیا۔ اور پھر مولوی صاحب منبر سے اتر کر میری جانب آتے ہوئے مسکراتے نرم لہجے میں بولے۔ آئوبھائی آئو‘ خوش آمدید‘ اللہ کے گھر میں‘ اللہ کے دین میں آمد مبارک ہو‘ ہم تمہارا ہی انتظار کررہے تھے۔ آئو میں تمہیں وضو کراتا ہوں‘ پھر کلمہ اور سجدہ تو تم سیکھ ہی لوگے۔‘‘
’’اللہ اکبر۔‘‘ ابراہیم فرط مسرت سے جھوم اٹھا۔
’’بس پھر وضو بھی ہوگیا ‘کلمہ بھی پڑھ لیا اور نماز بھی۔ پہلے مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھتا تھا یہ نیا نیا مسلمان جو محمد بلال بن گیا تھا‘ اب یہ رتبہ اور شان ہے اس کی کہ اذان بھی دیتا ہے اور کبھی کبھی امامت بھی کراتا ہے‘ مولوی کریم اللہ نے شنکرلال کا نام محمد بلال رکھ دیا‘ شنکرلال اتنا بڑا آدمی بن گیا کہ اذان دینے لگا۔ وہ شنکرلال جو کبھی ’’اللہ اکبر‘‘ کی آواز اور پکار سن کر بھاگتا تھا‘ جو اذان سن کر ڈرنے اور کانپنے لگتا تھا‘ وہ آج محمد بلال بنا لوگو کو پکارتا ہے‘ بلاتا ہے‘ اللہ کے گھر کی طرف اذان دیتا ہے‘ پانچ وقت اور لوگ اس مسجد میں بھاگے چلے آتے ہیں نماز کے لئے… میں یہاں بہت مزے میں ہوں‘ سکون ہی سکون ہے‘ شانتی ہی شانتی ہے ایک کلمے نے ایک ایمان نے‘ ایک عقیدے نے مجھے مسلمان بنادیا۔ ایک اللہ نے مجھے اپنے رستے کا مسافر بنا کر سر سے پیر تک بدل کے رکھ دیا۔ میرا ظاہر باطن بدل دیا‘ زبان‘ بیان‘ لہجہ‘ رویہ‘ صورت‘ سیرت‘ رنگ ڈھنگ‘ حتیٰ کہ میرا پہناوا تک بدل دیا۔ اب میں ماتھے پہ تلک نہیں لگاتا بلکہ اب یہ ماتھا زمین پہ سجدے کے لیے ٹکاتا ہوں۔ سچ کہتا ہوں ابراہیم بابو! کل تک میں رنگ رنگ کے بتوں کو پوجتا تھا مگر پھر بھی زندگی بے رنگ تھی۔ اور آج اس سوہنے رب کے رنگ میں رنگا گیا ہوں تو لگتا ہے جیسے قوس وقزح کے سارے رنگ مجھ ہی سے پھوٹتے ہیں‘ دنیا کے ہررنگ‘ ڈھنگ‘ سنگ کا مالک صرف اللہ ہے… صرف اللہ تعالیٰ ہے۔‘‘
’’واہ رے مالک! تیرے رنگ۔ سبحان اللہ‘ کیا شان ہے میرے اللہ کی۔ کتنا ایمان افروز قصہ ہے تمہاری زندگی کا محمد بلال‘ جیو خوش رہو۔‘‘ ابراہیم خوشی سے مسکراتے ہوئے بولا۔
’’شکریہ!‘‘ محمد بلال مسکرایا۔
’’اچھا یہ بتائو محمد بلال قرآن پاک پڑھنا سیکھ لیا؟‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے سوال کیا۔
’’ابھی تو صرف اللہ اکبر سیکھا ہے۔ ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ بولنا سیکھا ہے‘ نماز یاد کی ابھی تو… اور صرف پڑھنا تو فرض نہیں ہے ابراہیم بابو‘ اصل بات تو عمل کرنا ہے‘ سبق تو سب پڑھاتے ہیں‘ عمل کی ہدایت اور تاکید کوئی نہیں کرتا… اور اسلام تو ہے ہی دین عمل‘ قرآن پاک ایک تھیوری ہے جس پر ہمیں پریکٹیکل کرنے کی ضرورت ہے۔ عمل درست نہیں ہوگا تو ہم فیل ہوجائیں گے۔ اللہ نے اس دنیا کو امتحان گاہ کہا ہے نا اور قرآن پاک کتاب ہے‘ جسے ہمیں اپنے عمل میں لانا ہے اب جیسا عمل ہوگا ویسا رزلٹ سامنے آئے گا۔ جیسے اسکول‘ کالج‘ مدرسے میں طالب علم کورس کی کتابیں پڑھتے ہیں‘ کچھ ذہین طالب علم سمجھ کر پڑھتے ہیں اور عمل کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کچھ طالب علم صرف رٹا لگاتے ہیں امتحان میں پاس ہونے کے لیے یا مستقبل میں اچھی نوکری حاصل کرنے کے لیے… نتیجہ آنے پر دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجاتا ہے سب کو پتا چل جاتا ہے کہ کس نے کتنا پڑھا‘ کتنا یاد رکھا‘ کتنا سمجھا اور کتنا عمل کیا… اچھا‘ برا‘ غلط درست سب پتا چل جاتا ہے‘ خالی رٹا لگا لینے سے سبق تو یاد رہ جاتا ہے کچھ عرصے کو لیکن یاد نہیں رہتا اور ایک دن رٹارٹایا سبق بھی بھول جاتا ہے اور طالب علم اسکول حیات میں زندگی کے کالج میں پیش آنے والے امتحانات میں فیل ہوجاتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک کہتے ہو میاں! عمل سے زندگی بنتی ہے‘ جنت بھی جہنم بھی‘ آلکس کے مارے‘ نیستی مارے سستی کے دوست ہیں ہم… عمل سے جان جاتی ہے ہماری‘ بس پکی پکائی کھانے کی خواہش اور منشا ہے۔ کام کرنے کے لیے ہاتھ پیر ہلانے پڑتے ہیں‘ ہم تو روز مرہ کے امور زندگی میں عمل سے بھاگتے ہیں تو قرآن پاک پر کیا عمل کریں گے حالانکہ ہماری زندگی کا‘ ہماری طرز حیات کا ہر اصول‘ ہر مسئلے کا‘ پریشانی کا حل ہر سوال کا جواب قرآن پاک میں موجود ہے لیکن ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ ہمارے پاس اس بابرکت کتاب کو پڑھنے کی بھی فرصت نہیں ہے‘ عمل تو بہت دور کی بات ہے۔‘‘ ابراہیم نے سنجیدہ اور تاسف زدہ لہجے میں کہا۔
’’جی ابراہیم بابو! قرآن پاک تو عمل کی کتاب ہے لوگوں نے اسے پڑھنے کی کتاب بنا دیا ہے۔ زندوں کا منشور ہے‘ مردوں کا دستور بنا کے رکھ دیا لوگوں نے سینوں میں‘ دل ودماغ میں محفوظ کرنے کی بجائے خوب صورت ریشمی‘ مخملی جزدان میں لپیٹ کر الماریوں میں سجا کے رکھ دیا ہے۔ یوں کہیے کہ طاق نسیاں پہ اٹھا رکھا ہے۔‘‘
’’واہ سبحان اللہ! تو تو سچ مچ بڑا آدمی بن گیا محمد بلال‘ اتنی فصاحت‘ اتنی شیرینی‘ اتنا فہم وادراک‘ تجھے چند دن کے قبول اسلام نے بخش دیا ہے‘ آگے آگے دیکھیے محمد بلال کی دین اسلام سے محبت کیا رنگ لاتی ہے؟‘‘ ابراہیم نے خوش ہوکر مسکراتے ہوئے ستائش سے پر لہجے میں کہا۔ محمد بلال مسکراتے ہوئے بولا۔
’’دعا کریں ابراہیم بابو! کہ میں سچ مچ بڑا آدمی بن جائوں‘ میں تو اپنے گھر سے ماں باپو کی ادھاری چکانے نکلا تھا۔ ان کا میرے اوپر خرچ کیا گیا پیسہ لوٹانے کے لئے مزدوری نوکری کرنے کو چلا تھا‘ پیسہ تو کچھ لوٹا دیا ماں باپو کو پر میں سوچتا ہوں کہ کیا ماں باپ کے پیار‘ ممتا اور دلار کا بھی کوئی حساب چکتا کرسکتا ہے؟ کیا ماں کی ممتا سکوں کی کھنک سے خریدی جاسکتی ہے؟ کیا خون کے رشتے پیسے کے لیے دولت کے لیے پرائے ہوسکتے ہیں؟ کیا اپنوں کے لیے کیاگیا کام‘ فرض پیار‘ اعتبار‘ کھانا پینا‘ آرام‘ آسائش مہیا کرنا‘ کیا یہ سب حساب کی کاپی میں لکھنے لائق ہوتا ہے؟ کیا دولت‘ روپیہ پیسہ‘ کام‘ دام‘ بھی ایک ہی ماں باپ کی اولاد کو چھوٹا بڑا‘ امیر فقیر‘ حقیر اور دل پذیر بناسکتا ہے؟ کیا ماں باپ کو زیادہ کمانے والا بیٹا زیادہ پیارا ہوجاتا ہے؟ اور کم کمانے والا کم پیارا؟ اور جو نکما‘ ناکارہ اور کمانے والا نہ ہو وہ آوارہ ہوجاتا ہے ان کی نظر میں؟ کیا دولت اور باورچی خانے کا راشن جمع کرنے والا کمائو پوت ہوتا ہے؟ پیسہ ہر رشتے ناطے کے ماپنے کا معیار اور پیمانہ کیوں بن گیا ہے ابراہیم بابو؟ پیسے کے بنا پیاری کیوں نہیں کر پاتے ہم ایک دوجے سے؟ اس روپے پیسے کے مٹی‘ گارے نے تو رشتوں کی بنیادیں ہی نہیں عمارتیں بھی کھوکھلی اور بوسیدہ کردی ہیں۔ مسکراہٹ کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ قرار دیا ہے‘ تحفہ قرار دیا ہے‘ مگر آج کل اگر کوئی مسکرا کے ملے تو ذہن میں پہلا خیال ہی یہ آتا ہے کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے ضرور کوئی مطلب چھپا ہوگا۔ ہر رشتہ مطلبی‘ ہر تعلق خود غرضی میں لپٹا ہے۔‘‘
’’ہر رشتہ… کیا ماں کا رشتہ بھی؟‘‘ ابراہیم بغور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’جی ابراہیم بابو! جننے والی ماں بھی حساب مانگتی ہے‘ آج کے دور کی تو ماں بھی اولاد سے حساب مانگتی ہے اپنی قربانیاں جتاتی ہے‘ راتوں کا جاگنا‘ گیلے بستر کو سوکھے بستر میں بدلنے کے لیے اٹھنا‘ دودھ پلانا‘ نوالے بنا بنا کے کھلانا‘ نہلانا دھلانا‘ سبھی یاد کراتی ہے‘ دودھ نہ بخشنے کی تڑی (دھمکی) بھی لگاتی ہے‘ آج کی ماں۔ اب تو انگلی پکڑ کر چلنا سیکھانے والا باپ بھی اپنے کام کے دام مانگتا ہے‘ ادلے کا بدلہ ہے یہ تو ابراہیم بابو! بچپن میں میرے باپ نے مجھے انگلی پکڑ کے چلنا سکھایا اس لیے کہ میں اس کے بڑھاپے میں اس کی بیساکھی بنوں‘ اسے سہارا دوں‘ اسے پالوں‘ کھلائوں‘ پلائوں‘ اچھا پہناوا پہنائوں‘ کل اس نے جو مجھ پہ لگایا تھا۔ ماں باپ اولاد پر انویسٹ کرتے ہیں۔ تاکہ ان کے بڑھاپے میں وہ انہیں منافع دے سکیں سود سمیت۔‘‘
’’لگتا ہے بڑی گہری چوٹ کھائی ہے تم نے اپنوں کے رویے اور دنیا کے برتائو سے۔‘‘ ابراہیم نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ابراہیم بابو! سب کچھ بس فرق صرف اتناہے کہ کوئی جلدی سیکھ لیتا ہے اور کوئی دیر سے سیکھتا ہے‘ کوئی سمجھ جاتا ہے اور کوئی نہیں سمجھتا۔‘‘ محمد بلال نے سنجیدگی سے کہا۔
’’تو تم نے کیا سیکھا‘ کیا سمجھا محمدبلال؟‘‘
’’وہی جو آپ کو ابھی بتایا ہے۔‘‘
’’یعنی…‘‘ ابراہیم نے بغور اس کے چہرے کو دیکھا۔
’’یعنی یہ دنیا مطلبی ہے بڑی ہی مطلبی‘ ابراہیم بابو یہاں ہر آدمی دوسرے آدمی سے اپنے فائدے کے لیے ملتا ہے‘ اپنا الو درست کرنے کے لیے دوسروں سے ناجائز تعلقات بناتا ہے‘ مراعات حاصل کرنے کے لئے تعلقات بڑھاتا ہے۔ ہر رشتہ ہر ناطہ‘ ہر تعلق کسی نہ کسی مفاد کی پیداوار ہے‘ ہر جذبے کے پیچھے کوئی نہ کوئی غرض‘ لالچ‘ مفاد پوشیدہ ہے۔ منافع کی توقع کے بنا کوئی باپ بیٹے پہ پیسہ انویسٹ نہیں کرتا‘ ماں باپ کہتے ہیں کہ میں نے تمہیں پال پوس کے بڑا کیا‘ پڑھایا‘ لکھایا تمہیں اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کے لائق بنایا‘ تمہاری ہر ضرورت پوری کی‘ ہر فرمائش پوری کی تو… اب تم بھی ہماری ہر ضرورت اور فرمائش پوری کرو… یعنی جو ہم نے تمہیں کل دیا تھا وہ تم آج ہمیں واپس لوٹادو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کروگے تو تم نافرمان‘ نالائق اور ناہنجار کہلائوگے‘ میری بہن ٹھیک ہی کہتی تھی کہ ’’ماں باپ کو بھی کمائو پوت پسند ہوتے ہیں‘‘ محمد بلال جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا۔ ابراہیم اس کے تجزیے اور تجربے کے بیان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔
’’خیر اب اتنے بھی برے حالات وخیالات نہیں ہیں بلال میاں! دنیا میں ماں باپ کے سوا کوئی رشتہ بے لوث‘ بے ریا اور بے غرض نہیں ہے‘ ماں باپ تو اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں۔ اپنی اولاد کی بہتری‘ بھلائی‘ اور کامیابی چاہتے ہیں۔ اسے اونچے‘ بلند اور اعلیٰ مقام پر دیکھنے کی تمنا اور دعا کرتے ہیں۔ اپنی اولاد کو بلند کردار اور اعلیٰ منصب ومقام کا مالک دیکھنا چاہتے ہیں۔ والدین کی ڈانٹ پھٹکار اس لیے ہوتی ہے کہ وہ تمہیں دنیا کی ڈانٹ پھٹکار اور دھتکار سے بچالے۔ تم اتنے مضبوط اور تناور درخت بن جائو کہ لوگ تمہارے سائے میں آکے بیٹھیں۔ تمہاری دھوپ‘ چھائوں لوگوں کو سکون اور آرام بخشے‘ نہ کہ تم دوسروں کے سائے میں پناہ ڈھونڈتے پھرو۔‘‘
’’آپ کی بات بھی ٹھیک ہے پھر بھی دنیاوی رشتے غرض کے رشتے ہیں ابراہیم بابو! ضرورتیں نہ ہوں تو شاید لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا بھی چھوڑ دیں۔‘‘ محمد بلال نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ہاں تمہاری بات میں دم ہے محمد بلال‘ دراصل کوئی ایک انسان معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتا۔ معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ انسانوں کے ساتھ مل کر زندگی بتا نے سے ہی بنتا ہے۔ یہ تو قدرت کا قانون ہے کہ ہم انسان ایک دوسرے سے اپنی ضرورتوں کی وجہ سے جڑے رہتے ہیں۔ کوئی اکیلا انسان دنیا میں نہیں رہ سکتا‘ ہر انسان کو اپنی کسی نہ کسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے انسان سے ملنا پڑتا ہے۔ تعلق بنانا‘ رشتہ جوڑنا پڑتا ہے اسی طرح یہ معاشرہ بنتا‘ پھلتا‘ پھولتا اور پنپتا ہے۔ یہ ضرورتوں کا سلسلہ تو اللہ نے انسان کو انسان سے جوڑے رکھنے کے لیے رکھا ہے۔ میل ملاپ ضروری ہے تاکہ معاشرہ قائم ہوسکے۔ خاندان بن سکیں‘ منفی صورت حال اور منفی رویوں کوسمجھداری کے ساتھ ہینڈل کرنا‘ اپنے پرکی جانے والی تنقید وتضحیک کو نظر انداز کرنا دوسرے کا غصہ برداشت کرنا‘ صبروتحمل کا مظاہرہ کرنا ہی اس امتحان کو کامیابی کے راستے دکھاتا ہے۔ ابراہیم نے اسے سنجیدگی سے رسانیت سے سمجھانے والے انداز میں کہا تو وہ مسکرا دیا اور کہنے لگا۔
’’سچ کہا آپ نے‘ اور سچ تو یہ بھی ہے کہ بے مطلب کا‘ بے غرضی کا رشتہ صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ کا رشتہ‘ بے غرض‘ بے لوث‘ وہ اللہ جو اپنے بندے کو بن مانگے دیتا ہے اور حساب بھی نہیں مانگتا۔ وہ انسانوں کی طرح شرطیں نہیں لگاتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ میری عبادت کروگے تو میں تمہیں کھانے پینے کو رزق دوں گا‘ سر ڈھانپنے کو چھت دوں گا‘ وہ تو صرف ہمارے گناہوں کا‘ برے کاموں کا‘ ہماری غلطیوں کا حساب مانگتا ہے‘ وہ تو یہ سوال کرتا ہے کہ اے میرے بندے! تو نے اپنے جیسے کسی انسان کا دل کیوں دکھایا؟ وہ تو اپنی مخلوق پہ ظلم وناانصافی کرنے کا حساب مانگتا ہے۔ خلق خدا کو پریشان کرنے پہ سوال اٹھاتا ہے۔ وہ تو بڑا سیدھا سادہ اصول سامنے رکھتا ہے اور کہتا ہے ’’سیدھے راستے پہ چلو ورنہ برے عذاب کے لیے تیار رہو۔‘‘ اور یہی نہیں روز حساب سے پہلے توبہ اور معافی کی مہلت بھی دیتا ہے۔ وہ سب سے سچا اور اچھا رشتہ ہے انسان کا اس (اللہ) کو دل سے مان لو‘ اس کی بات مان لو‘ اور جواب میں اس سے اپنی بات منوالو‘ اسے منانا بہت آسان ہے ابراہیم بابو۔ پر اس کے بندوں کو منانا بڑا ہی مشکل ہے۔ رب راضی تو سب راضی۔‘‘
’’یہی تو مسئلہ ہے محمد بلال کہ رب راضی ہوجاتا ہے پر اس کی مخلوق راضی نہیں ہوتی۔ ہم اللہ کی باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر اللہ کی باتوں پہ عمل بہت کم کرتے ہیں۔ اس کی باتیں سنتے ہیں مگر مانتے نہیں ہیں۔ حالانکہ راضی بہ رضا رہنا ہی جنت کی نوید سناسکتا ہے۔ ہم نہ اس کی سنتے ہیں‘ نہ اس کی مانتے ہیں‘ نہ اس کے کہے پہ عمل کرتے ہیں‘ اور پھر بھی اسی سے شکوے گلے کرتے ہیں وہ جو دیتا ہے اس کا شکر ادا نہیں کرتے‘ اور جو نہیں دیتا اس کا گلہ فوراً کرنے لگتے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے ایسا کیا کیا ہے جو وہ ہمیں دیئے چلے جارہا ہے۔ نوازے جارہا ہے۔‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے انسانی فطرت وعادت کا ذکر کیا تو محمد بلال بھی اس کے لیے چائے بنا کر لاتے ہوئے کہنے لگا۔
’’ہاں ابراہیم بابو! وہ سارے عالم کا پالن ہار ہے‘ وہ تو مسلمان اور غیر مسلم سب کو دیتا ہے‘ رزق بھی‘ چھت بھی‘ دولت بھی‘ وہ تو ہرذی روح کو رزق دیتا ہے۔ یہ نہیں کہ اگر تم اسے مانوگے تو وہ تمہیں مانے گا اور نوازے گا… وہ تو کتاب (قرآن پاک) بھیج کر راستہ دکھا کے‘ صحیح‘ غلط سمجھا کے کہتا ہے کہ لو اب تمہارا عمل ہے‘ تمہاری مرضی ہے‘ جس راہ پہ چاہو چلو‘ ہاں اگر حق سچ کی دین کی‘ اللہ کی راہ پہ چلوگے تو فلاح پائوگے۔ اور اگر سیدھے رستے سے بھٹک گئے‘ غلط راستے پہ چل پڑے تو فنا ہوجائوگے‘ پھر تباہی تمہارا مقدر ہے‘ آخرت میں بھی پھر تمہیں سکون اور چین نہیں ملنے والا۔
جیسا راستہ ویسی منزل !
جیسی نیت ویسی عبادت !
جیساعمل ویسا پھل !‘‘
’’یہ تو اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے ابراہیم بابو! اللہ کا رشتہ سب سے سچا اور کھرا رشتہ ہے جب سب چھوڑ جاتے ہیں تب وہ ہمیں اپنا لیتا ہے‘ کھلے دل‘ اور کھلی بانہوں کے ساتھ‘ اگر اس نے تمہیں اپنی پناہ میں لے لیا تو سمجھو کہ تم نے کچھ نہیں کھویا کیونکہ جس نے اللہ کو پالیا اس نے کھویا کچھ نہیں اور جس نے اللہ کو گنوادیا اس نے پایا کچھ نہیں۔ مانو تو… اس نے سب کچھ گنوادیا۔ اور سچ کہوں؟ ابراہیم بابو! جب انسان کو محبتوں کا سمندر مل جائے نا‘ اس کے سامنے محبت کے کوزے کی اہمیت اور قیمت آپ ہی آپ کم ہوجاتی ہے اس (اللہ) کی محبت سمندر ہے اور انسان کی انسان سے محبت کوزہ ہے۔ بہت کم ہے اور ایک دن ختم بھی ہوجاتی ہے یہ محبت… پھر رگ رگ کو نس نس کو سمجھ آجاتی ہے کہ جو بھی ہے بس ’’اللہ‘‘ ہے… بقا… فنا سب اس کے ہاتھ میں ہے۔ انسان تو صرف مٹی کا مادھو ہے‘ پتلا ہے مٹی کا‘ جسے وہ اپنے اشاروں پہ چلاتا ہے‘ نچاتا ہے‘ جیسے چاہتا ہے اس کی ڈور ہلاتا ہے اور جب چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے اس پتلے کی ڈور کاٹ دیتا ہے۔ ایسے میں بھلا کون اسے روک سکتا ہے؟ ماں باپ‘ بھائی بہن‘ یار دوست‘ رشتے دار کوئی بھی نہیں… کٹی ہوئی ڈور کو پھر سے پہلے سی نہیں جوڑ سکتے وہ لوگ… مردے کو زندہ نہیں کرسکتے‘ بے جان میں جان نہیں ڈال سکتے‘ بے ہدایت انسان میں ہدایت کی روح نہیں پھونک سکتے‘ روح تو وہی پھونکتا ہے‘ جو جسم پیدا کرتا ہے اس میں زندگی ڈالتا ہے‘ روح پھونکتا ہے۔ روح قبض کرنے کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ ہم انسان تو سب بے بس ہیں‘ بے اختیار ہیں اس کے سامنے اس کے کسی فیصلے سے روگردانی کریں ہماری کیا مجال؟ میری مثال آپ کے سامنے ہے۔‘‘
’’واہ‘ واہ محمد بلال‘ سبحان اللہ‘ سبحان اللہ! تم تو دل وروح سے اللہ کو ماننے والے ہوگئے‘ ایمان اور زبان دونوں بدل گئے‘ گیان اور دھیان بھی کمال کا ہوگیا تمہارا… سچ میں اللہ کے بندے بن گئے تم۔ اتنا علم‘ اتنی فہم وادراک یہ سب تو اللہ کے کرم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے‘ ریاضت مجاہدے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس نے تمہیں ’’اپنا‘‘ ماننے والا بنا ہی لیا آخر… اللہ اکبر۔ یاد ہے میں نے تجھے کہا تھا ناکہ …! ’’شنکرلال! اگر اس (اللہ) نے تجھے اپنے گھر بلانے کی ٹھان لی ہے تو وہ اب ٹلنے کا نہیں‘ ایمان پر ہی راضی ہوگا اور دیکھو کیسا راضی کیا اس نے تمہیں۔‘‘ ابراہیم نے مسکراتے ہوئے اسے یاد دلایا۔
’’ٹھیک کہتے ہیں آپ ابراہیم بابو! اسے (اللہ) راضی کرنا ہی انسان کا دین دھرم ہے۔ اسے راضی کرلو‘ دنیا اپنے آپ راضی ہوجائے گی‘ اس کے کام میں لگ جائو تو وہ ہمارے کام میں لگ جاتا ہے‘ وہ کبھی کسی کا ادھار نہیں رکھتا۔ قرض سود سمیت لوٹاتا ہے‘ ایک نیکی پہ دس نیکیوں کا ثواب دیتا ہے‘ اس سے تجارت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا۔ نفع ہی نفع ہے اس کے ساتھ تجارت کرنے میں۔ جتنا انویسٹ کروگے اس سے دگنا بلکہ دس گنا پائوگے۔ اچھا انوسیٹ کرو اچھا نفع پائو‘ نیکیاں جمع کرائو‘ اور اجر‘ ثواب‘ رحمت‘ جنت‘ منافع پالو۔ بڑا سیدھا سا فارمولا ہے آخرت میں اپنا ٹھکانہ جنت کرنے کا۔ دوزخ یا بہشت یہ انسان کے کرم کا پھل ہے۔ جس نے اپنی آخرت آرام دہ بنانی ہوگی وہ اس کے رستے پہ چلے گا نیکی کرے گا اور جسے شیطان کا چیلا بننا ہے وہ بدی کرے گا‘ اسے دوزخ کی آگ‘ اپنے آپ ہی اپنی اور کھینچ لے گی۔ چھوٹ کسی کو نہیں ملتی‘ پکڑ تو دونوں صورتوں میں ہوگی‘ نیکی کرکے بھی اور بدی کرکے بھی… اچھی پکڑ نیکیوں کی بری پکڑ بدوں کی۔‘‘
’’سبحان اللہ… سبحان اللہ‘ تو تو مولوی‘ واعظ‘ مفتی ہوگیا محمد بلال! پکا مسلمان اور سچا ایمان والا بھی‘ واہ مولا! تیری شان!
تو رحیم‘ تو رحمان !
میںتجھ پہ قربان !!
محمد بلال! تم نے تو روح تک کو نہال کردیا ہے۔ سبحا ن اللہ‘ سبحان اللہ!!‘‘ ابراہیم فرط مسرت وعقیدت سے اللہ کے اس فیصلے پر خوش ہوتے ہوئے دل سے بولا۔ محمد بلال چائے کے برتن سمیٹ کر باورچی خانے کی طرف جاتے ہوئے بولا۔
’’آپ نے تو میری رام کہانی سننے میں ہی سارا سمعے (وقت) بتادیا ابراہیم بابو! کچھ اپنی بھی تو کہیں۔‘‘
’’اپنی کیا کہیں محمد بلال‘ ہماری تو وہی روٹین ہے‘ سرکار کی نوکری ہے‘ بیوی‘ بچوں کی ذمے داری پوری کرنے کے چکر میں سب بھلائے بیٹھے ہیں۔ بس پانچ وقت اللہ کے دربار میں حاضری دے دیتے ہیں۔ اب وہی جانے کہ یہ حاضری قبول بھی ہوتی ہے یا نہیں۔‘‘ ابراہیم نے ذرا سا مسکرا کے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ محمد بلال برتن رکھ کر واپس ابراہیم کے پاس آبیٹھا۔
’’کیوں ابراہیم بابو! اللہ پہ یقین نہیں ہے یا اپنی عبادت وحاضری پہ؟‘‘ محمد بلال نے حیرت سے اسے دیکھا اور سوال کیا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’اللہ پہ تو یقین ہے اس یقین کے ساتھ ہی ہم اس کے در اور گھر پہ حاضری دیتے ہیں۔ بس اپنے اعمال پہ یقین نہیں ہے۔‘‘
’’ابراہیم بابو! آپ تو بہت بھلے آدمی ہیں‘ نیک صفت ہیں‘ مجھے اذان نے اور آپ کے احسن اعمال نے ہی تو اس رستے پہ ڈالا ہے۔ ایک مسلمان کا حسن عمل ہی تو دوسروں کو متاثر کرتا ہے اور دوسروں سے اسے ممتاز بناتا ہے۔ آپ ایک نیک اور باعمل مسلمان ہیں‘ اچھے اور احساس کرنے والے‘ درد دل رکھنے والے انسان۔ یہ آپ کی عاجزی وانکساری ہے کہ آپ خود کو گناہ گار سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ اللہ تو غفور الرحیم ہے‘ رحمن ہے‘ کریم ہے‘ وہ معاف کرنے والا ہے‘ معافی کو پسند فرماتا ہے‘ اس لیے اس سے معافی مانگتے رہنا چاہیے۔ مسلسل تکرار اور اصرار پر وہ متوجہ ہوتا ہے اور معاف بھی کردیتا ہے۔ اور اس نے تو معاف کرہی دینا ہوتا ہے کوئی سچے دل سے معافی مانگ کے تو دیکھے۔‘‘
’’ہاں میاں! محمد بلال آپ کا فرمانا بجا ہے۔ ہم تو آپ کے سامنے بہت حقیر‘ فقیر محسوس کررہے ہیں خود کو‘ آپ گھر سے بڑا آدمی بننے کے لیے نکلے تھے اس (اللہ) نے آپ کو ’’بہت ہی بڑا آدمی‘‘ بنادیا‘ بہت مبارک ہو آپ کو۔‘‘ ابراہیم نے اس کے ہاتھ تھام کر دل سے کہا۔
’’ابراہیم بابو! آپ تو مجھے شرمندہ کررہے ہیں۔ آپ مجھ سے عمر میں بڑے ہیں‘ آپ تو مجھے ’’آپ‘‘ کہہ کر مخاطب نہ کریں۔ آپ کی محبت اور عبادت ہم سے چھپی تو نہیں تھی۔ اگر آپ اس روز ریلوے اسٹیشن پر مجھے نہ ملتے تو شاید میں بھی آج اس مقام پر نہ ہوتا۔ آپ سے ملنے سے پہلے مجھے تو یہی لگتا تھا کہ بھگوان وہی ہوتا ہے‘ جسے ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہیں‘ بناتے‘ سنوارتے ہیں‘ جیسی مرضی شکل میں جس کا دل چاہا من مرضی کی مورت بنالی اور اسے بھگوان سمجھ کر لگے پوجنے… یہ تو مجھے آپ سے مل کر اذان کا مفہوم سمجھ کر‘ مسجد میں داخل ہوکر پتا چلا کہ خدا وہ نہیں ہے جسے ہم بناتے ہیں بلکہ خدا تو وہ ہے جس نے ہمیں بنایا ہے۔ جس نے اس کل کائنات کو بنایا ہے‘ جو اس پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہے وہ ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’اللہ تعالیٰ‘‘ وہ ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے۔ زندگی اور موت دینے والا بھی وہی ہے اور پتھر میں کیڑے کو رزق پہنچانے والا بھی اللہ ہی ہے۔‘‘
قل ھواللہ احد‘ اللہ الصمد‘ لم یلد‘ ولم یولد‘ ولم یکن لہ کفوا احدo
ترجمہ!
’’آپ فرمادیجیے وہ اللہ ایک ہے‘ اللہ بے نیاز ہے‘ نہ اس نے کسی کو جنا ہے‘ اور نہ وہ کسی سے جنا گیا ہے‘ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے۔‘‘
’’بے شک‘ بے شک اللہ ایک ہے اور یہ احساس جتنی شدت سے آپ کو ہوا ہے بلال میاں! شاید یہ احساس اور یقین تو ہمیں بھی اتنی جلدی نہیں ہوا تھا‘ جبھی تو ہم پیچھے رہ گئے۔‘‘ ابراہیم نے محمد بلال کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے قدرے رنجیدگی سے کہا۔
’’ابراہیم بابو! آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں؟‘‘ محمد بلال نے الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بے چین ہوکر پوچھا تو وہ دھیرے سے ہنسا اور پھر اس کے چہرے کو رشک سے دیکھتے ہوئے محرومی اور کم مائیگی کے احساس سے پر لہجے میں ہونٹوں پر مجروح سی مسکان سجا کر گویا ہوا۔
’’ہم برسوں سے نمازیں پڑھتے‘ سجدے کرتے آرہے ہیں بلال میاں‘ مگر دیکھو‘ اس کے گھر کی مجاوری اور دیکھ بھال وصفائی ستھرائی کا شرف بتوں کو‘ پتھر کی مورتیوں کو پوجنے والے کو مل جاتا ہے‘ تو آپ ہی بتائیے مقبول عبادت کس کی ہوئی؟ محبوب کون ہوا اس اونچی شان والے کی نظروں میں؟ ہم سجدے کرتے رہے‘ تسبیح پھیرتے رہے اور رتبے سوا ہوئے ان کے‘ جو دل سے اس کی ایک پکار پہ اس کے دروازے پہ آن کھڑے ہوئے‘ اپنا دھرم‘ اپنا خون‘ خاندان‘ اپنی پہچان‘ اپنی زبان سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اس کے دربار میں حاضر ہوگئے‘ بڑے تو ہوگئے نا آپ بلال میاں‘ ہم تو اپنی ہی نظروں میں چھوٹے ہوگئے‘ شرمندگی کا احساس دل میں سرایت کرگیا ہے کہ ہم تو جہاں روز اول تھے وہیں آج بھی ہیں۔ ’’بڑا آدمی‘‘ تو بلال ’’محمد بلال‘‘ بن گیا۔ ہم تو بہت چھوٹے ہوگئے‘ اپنے سامنے ہی کہ سجدے بھی اپنے مطلب کو کرتے ہیں۔ ہمیں حسد ورشک کے بیچ جلنے کو چھوڑ دیا… واہ رے مالک! تیرے بھید۔ شنکرلال ’’بڑا آدمی‘‘ بن گیا اور ابراہیم اس کے پائوں کی دھول ہوگیا۔ واہ میرے مالک تیرے رنگ! سچ کہیں گے میاں محمد بلال! ہمیں آپ سے جلن سی محسوس ہورہی ہے‘ دل بہت خوش ہے آپ مسلمان ہوگئے ایمان والے ہوگئے مگر لگتا ہے دل اس بات سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہے کہ آپ ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔‘‘
’’میں تو پاپی ہوں‘ گناہ گار آدمی ہوں‘ ابراہیم بابو! آپ ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ کررہے ہیں۔‘‘ محمد بلال نے بے کلی سے جھینپ کر کہا۔
’’شرمندہ تو ہم ہیں اپنے اعمال پر کہ ہم مسجد میں ایک اینٹ تک لگانے کی جرات نہ کرسکے‘ بنے پھرتے ہیں مسلمان اور ہمیں کبھی توفیق نہ ہوئی کہ مسجد کے گنبد پر اپنے عقیدے اور ایمان کا رنگ ہی کردیں اور شنکرلال نے ایک کٹر‘ جدی پشتی ہندو نے محمد بلال بن کر پوری مسجد کو اپنا گھر بنالیا‘ پوری مسجد کو اپنے ایمان اور جذبے کی روشنی اور سچائی سے منور کردیا۔ اللہ کے گھر کا مجاور بن گیا۔ شنکرلال‘ محمدبلال بن کر۔ پوری مسجد میں جھاڑو پھیرنے‘ صفائی ستھرائی کرنے‘ پانی بھرنے‘ وضو کرانے‘ نماز کے لیے صفیں بچھانے کی ڈیوٹی سنبھال لی۔ وہ اذان‘ جسے سن کر شنکرلال بھاگا کرتا تھا‘ اب وہی ’’اذان‘‘ اس کے دہن سے خوشنما لہن میں گونج کر مسلمانوں کو‘ اہل ایمان کو مسجد کی طرف کھینچ کر لاتی ہے۔ ایسا سوز وگداز اور محبت کی دلکشی ہے محمد بلال کی آواز میں کہ جو ’’اذان بلالی‘‘ کی یاد تازہ کردیتا ہے اور جو آواز مجھ جیسے گناہ گاروں کو بھی زمین پہ ماتھا ٹیکنے پر مجبور کردیتی ہے۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ۔‘‘
’’ابراہیم بابو! آپ تو خود نماز پنجگانہ ادا کرتے ہیں۔ تہجد بھی پڑھتے ہیں اور آپ مجھے ’’بڑا آدمی‘‘ اور اللہ کا ’’محبوب‘‘ بندہ کہہ رہے ہیں۔‘‘ محمد بلال ان کو شرمندہ سا دیکھ کر خود بھی شرمندہ ہورہا تھا۔ آہستگی سے انہیں باور کرایا۔
’’وہ اس لیے محمد بلال! کہ آپ کے چار سجدے‘ آپ کی چار نمازیں ہمارے چالیس برس کی نمازوں سے زیادہ افضل اور مقبول ہوگئیں ارے ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں‘ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اس لیے مسلمان کہلائے اور پیدا ہوتے ہی ہمارے کان میں اذان بھی دے دی گئی۔ گویا ہم تو ’’اللہ اکبر‘‘ کی گواہی سے پیدا ہوتے ہی متعارف کروادیئے گئے تھے۔ ہاں یہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں نماز اور قرآن پاک پڑھنے کی توفیق بھی عطا ہوئی جو کہ ہمارے ماں باپ کی بدولت ممکن ہوئی کہ وہ دونوں بھی نمازی‘ پرہیزگار تھے۔ شروع سے ہی ورنہ کچھ تو بس نام کے ہی مسلمان بھی ہیں جو پیدا ہوتے ہی اذان تو سن لیتے ہیں‘ مگر بدقسمتی سے جوان ہوکر کبھی اذان کی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی انہیں… اور نماز صرف ایک بار ہی پڑھائی جاتی ہے ان کی ’’نماز جنازہ‘‘ یعنی اذان اور نماز جنازہ کے درمیان کے وقفے میں انہیں نماز کی توفیق نہیں ہوتی ان کے حصے میں صرف نماز جنازہ ہی آتی ہے‘ ہم تو پھر بھی اللہ کے کرم سے نماز پڑھ لیتے ہیں اور من ہی من میں خود کو بہت متقی پرہیز گار بھی سمجھتے ہیں‘ ہاہاہا۔‘‘ ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا اور پھر خود ہی اپنی آخری بات پر ہنسنے لگے۔ محمد بلال بھی مسکرانے لگا۔
’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا بلال میاں! کہ ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں‘ اصل ایمان تو آپ لے کر آئے ہیں‘ اصل امتحان تو آپ کا تھا کہ آپ نے اپنا مذہب‘ مذہب ہی کیا اپنا خاندان‘ اپنی زبان‘ اپنی ہندی بولی تک چھوڑ دی‘ مسلمان ہونے کے لیے تو آپ کے تو ہر ہر عمل پر آپ کو اجر ملے گانا… زیادہ ثواب کے حق دار تو میاں آپ ہی ٹھہریں گے۔ کیونکہ آپ نے اپنی مرضی ودل سے سوچ سمجھ کر اپنے مذہب اور ماں باپ سے رشتے داروں سے منہ موڑا… بے شک اس میں اللہ کی مرضی شامل تھی کہ آپ کو وہ اپنے رستے پر لے آیا‘ لیکن اگر آپ کا دل نہیں مانتا تو آپ کیسے چھوڑ سکتے تھے سب کچھ؟ آپ نے خود کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھال لیا‘ اپنا مذہب چھوڑا اور اللہ کا دین اپنالیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بہت پسند فرماتے ہیں جو اس کے لیے اپنا سب کچھ تج کر آتے ہیں۔ وہ انہیں ہاتھوں ہاتھ لیتا ہے اور بہت اعلیٰ مقام وعہدے پر فائز کرتا ہے۔‘‘
’’کیا واقعی ابراہیم بابو؟‘‘
’’ہاں بلال میاں! آپ نے تو اعلیٰ مقام پا بھی لیا‘ اس سوہنے رب سے ہماری بھی سفارش کردیجیے گا اس گناہ گار‘ خطاکار ابراہیم کو معافی دے دیں۔‘‘ ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا تو وہ بولا۔
’’ابراہیم بابو! آپ فکر نہ کریں وہ تو غفورورحیم ہے۔ غفار ہے‘ معاف کرنا اس کی صفت ہے‘ شان ہے‘ وہ ہم سب کو معاف کردے گا‘ بس دل سے معافی اور روح سے توبہ کرنا شرط ہے۔‘‘
’’ہاں میاں! ٹھیک کہتے ہیں آپ‘ جیتے رہئے اللہ آپ کے رتبے مزید بلند کرے‘ اپنی دعائوں میں مجھ گنہگار کو ضرور شامل رکھیے گا بلال میاں۔‘‘ ابراہیم نے نرم لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ابراہیم بابو! بھلا یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے‘ آپ تو میرے محسن ہیں‘ میں آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں‘ مجھ بے گھر‘ بے یارومددگار کو آپ نے سائبان دیا‘ پیٹ بھر کے کھانا کھلایا‘ میری وجہ سے آپ نے لوگوں کے طعنے بھی سنے‘ مجھے نوکری دلوائی‘ آپ نے مجھے اس وقت سہارا دیا جب میں اپنوں کے سہارے سے محروم ہوگیا تھا‘ اس پر یہ کہ میں آپ کے مذہب کا بھی نہیں تھا‘ کٹر ہندو تھا اور آپ نے مجھ غیر مذہب کو اپنے گھر کی چھت مہیا کی‘ لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر مجھے گھر سے نہیں نکالا‘ میں تو بہت احسان مند ہوں آپ کا‘ میری ہر دعا میں آپ کا نام شامل ہے اور مرتے دم تک شامل رہے گا۔‘‘
’’جزاک اللہ‘ جزاک اللہ بلال میاں! خوش رہیے۔‘‘ ابراہیم نے مسرور ہوکر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میں نے جو کیا وہ انسانیت کے ناطے کیا تھا اور وہ ’’اللہ‘‘ ہے نا… وہ کراتا ہے یہ سب وہ انسان کے دل میں نیکی ڈالتا ہے‘ احسان تو اللہ کی ذات بابرکات کا ہے ہم پر جو ہمیں نیکی کا‘ سچائی کا راستہ دکھاتا ہے جو ہمیں دین حق کی سمجھ عطا کرتا ہے‘ جو ہمارے نیک اعمال کو ہمارے تقویٰ کو ہمارے چہروں سے‘ رتبوں سے ظاہر کرتا ہے‘ لیکن ہمارے گناہوں کو ہماری خطائوں کو دنیا سے پوشیدہ رکھتا ہے۔‘‘
’’بے شک‘ بالکل درست فرمایا آپ نے وہ تو بہت آسانیاں دیتا ہے انسان کو‘ وہ بڑی بڑی شرطیں نہیں لگاتا بلکہ صاف صاف محبت سے کہتا ہے کہ اے بندے تو میرے تھوڑے دیئے پہ راضی ہوجا قیامت کے دن میں تیرے تھوڑے کیے پہ راضی ہوجائوںگا۔ وہ تو بخشنے کے‘ اور گناہ سے‘ برائی سے بچنے کے بہانے مہیا کرتا ہے‘ انسان کو اور وہ کہتا ہے ناکہ غصہ حرام ہے جب تجھے غصہ آئے تو مجھے یاد کیا کر‘ میں اپنے غضب کے وقت تجھے یاد رکھوں گا۔‘‘ محمد بلال نے نہایت نرم اور سنجیدہ لہجے میں کہا۔
’’سبحان اللہ‘ بے شک۔‘‘ ابراہیم ایمان افروز لہجے میں بولا۔ محمدبلال پھر سے گویا ہوا۔
’’ابراہیم بابو! اللہ تو انسان کو اپنے سے محبت کرنے پہ بھی اجر دیتا ہے وہ ادھار نہیں رکھتا کسی کا‘ اللہ کہتا ہے کہ میرے بندے اگر میں تجھے پسند ہوں تو یہ تیرا حق ہے کہ تو بھی مجھے پسند ہو۔‘‘
’’واہ واہ‘ سبحان اللہ‘ اللہ اکبر۔‘‘ ابراہیم نے فرط عقیدت سے جھومتے ہوئے کہا۔
’’اس (اللہ) کی بات شروع ہو تو ختم تو ہوہی نہیں سکتی ابراہیم بابو‘ لیں فجر سے ظہر ہونے کو ہے اب مجھے اجازت دیجیے‘ اذان ظہر کا وقت ہورہا ہے۔ مسجد میں جاکر پہلے صفیں بچھادوں پھر وضو‘ اذان اور نماز ہوگی۔ محمد بلال نے اٹھتے ہوئے گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔
’’خوش رہیے بلال میاں! جیتے رہیے جزاک اللہ! دلی مسرت ہوئی آج آپ کو اس مقام پر‘ اس نئے روپ میں بلکہ اصلی اور سچے روپ میں دیکھ کر نیا نیا مسلمان بالکل نومولود بچے کی طرح ہوتا ہے خوبصورت‘ سادہ‘ کورا اور معصوم… آپ بھی بہت معصوم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ اسی طرح اپنی معصومیت ومحبت میں ایمان کے بلند ترین درجے پر فائز ہوں گے ایک دن۔‘‘ ابراہیم نے اسے گلے لگا کر نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔
’’ان شاء اللہ! آپ کی دعائیں چاہئیں ابراہیم بابو!‘‘ محمد بلال نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ان شاء اللہ! ضرور کیوں نہیں؟ اور اب تو آپ سے ملاقات رہے گی۔ اس بار اس شہر کا سفر پائوں میں لکھ دیا گیا ہے‘ چند روز یا ماہ وسال جتنے دن کا قیام لکھا ہے یہاں دانہ پانی چگنے‘ چکھنے کے بعد پھر کہیں اور چل پڑیں گے۔ جدھر کا بلاوا ہوگا ادھر کا سفر ہوگا۔‘‘
’’اللہ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے۔‘‘ محمد بلال نے دل سے دعا دی تو وہ خوش ہوکر بولے۔
’’آپ کو بھی۔‘‘ ابراہیم مسکرایا۔
’’شکریہ ابراہیم بابو! آپ مسجد جائیں میں آپ کو وضو کرادوں گا۔‘‘ محمد بلال نے اپنی جالی والی ٹوپی سر پہ جماتے ہوئے کہا تو وہ ہنس کر بولا۔
’’ارے نہیں میاں! آپ کیوں ہمیں گناہ گار کرتے ہیں۔ وضو ہم خود کرلیں گے آپ زحمت نہ کیجیے۔ آپ اذان دیجئے ہم وضو کرکے آتے ہیں۔‘‘
’’جی بہتر۔‘‘ محمد بلال خادم کی طرح آداب بجا لاتے ہوئے مسجد کی طرف چل دیا۔
اور کچھ دیر میں محمد بلال کی ایمان افروز‘ روح پرور اور دلکش آواز میں اذان چار سو گونجنے لگی اور آس پاس کی فضا میں ایک پرکیف اور سرور انگیز احساس بکھیرنے لگی۔ شنکر لال‘ محمدبلال بن کر مسجد میں نمازیوں کو گرمانے‘ پگھلانے اور مسجد تک کھینچ کر لانے کی کشش رکھتا تھا۔ ایسی کشش جو غیر مسلمان کو بھی اسلام قبول کرنے‘ مسلمان ہونے پر مائل کردے۔ اور مسلمان کا دل اپنے آپ ہی نماز پڑھنے کو چاہنے لگے۔ سچ کہتے ہیں اذان دینے کا ہنر بھی کسی کسی میں ہوتا ہے ایسا ہنر جو لوگوں کو مسجد کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ نماز کی طرف لاتا ہے‘ انسان کو اس کے پروردگار سے‘ اس کے رب سے‘ اللہ سے ملاتا ہے‘ اذان دینے والے کے لہجے اور آواز میں اگر نرمی‘ محبت‘ ملائمت‘ عقیدت اور ایمان کی روشنی نہ ہو تو ایمان والے بھی بے ایمان ہوجاتے ہیں۔ دین سے پھر جاتے ہیں۔ اسلام سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے‘ مگر سبحان اللہ محمد بلال کی آواز تھی کہ دل کا ساز کوئی جس نے اذان کی روح کو زندہ کردیا تھا۔ اذان بلالی کا سا سرور وکیف‘ دلکشی اور گداز جو سننے والے ہر سامع کے دل وروح پر‘ حواس پر طاری کردیا تھا۔ ابراہیم احمد‘ محمد بلال کی اذان سنتے ہوئے فرط عقیدت ومحبت سے بھیگتی آنکھیں لیے سوچ رہا تھا اور وضو کررہا تھا۔
’’کون کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص جو مسجد میں اذان دے رہا ہے یہ ایک کٹر ہندو تھا‘ ہندو شنکرلال… جو اب اللہ رب العزت کے فضل وکرم سے مسلمان ہوگیا تھا۔ مسلمان بھی ایسا کہ جس پر مجھ جیسے مسلمان کو رشک آرہا تھا۔ یہ تو اللہ کا فیصلہ تھا‘ یہ مقام‘ یہ رتبہ تو شنکرلال کے نصیب میں لکھا جاچکا تھا تو رب کا لکھا تو پورا ہونا ہی تھا۔ شنکرلال بالآخر بڑا آدمی بن گیا تھا۔ بڑا آدمی محمد بلال… یہی اللہ کی چاہ اور اللہ کا فیصلہ تھا۔
’’جسے چاہا در پہ بلالیا!!
جسے چاہا اپنا بنالیا!!
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے !!
یہ بڑے نصیب کی بات ہے !!‘‘
ابراہیم نے نما ز کی نیت باندھی اور اللہ کے حضور حاضری دینے لگا۔ یہ احساس اسے اس لمحے مغرور سا بنانے لگا کہ نماز کی امامت ایک بڑا آدمی کرارہا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close