Hijaab Mar-16

امہات المومنین

ندا رضوان

حضرت سودہ بنت زمعہؓ
آپ کا نام سودہؓ تھا‘ والد کا نام زمعہ بن قیس تھا جو قبیلہ عامر بن لوی سے تھے۔ ماں کا نام سموس بنت قیس تھا جو انصار کے خاندان بنو نجار سے تھیں۔
آپؓ کا پہلا نکاح اپنے چچا زاد بھائی حضرت سکرانؓ بن عمرو سے ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سودہؓ کو نہایت صالح طبیعت عطا کی تھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت حق کا آغاز کیا تو آپ نے فوراً اسے قبول کرلیا اور اس طرح سابقون اولون میں شمار ہوئیں۔ ان کے شوہر نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کرلیا۔ حبشہ کی دوسری ہجرت میں حضرت سودہؓ اور حضرت سکرانؓ بھی دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ حبش کی طرف ہجرت کرگئے کئی برس وہاں رہ کر مکہ واپس لوٹے‘ کچھ دنوں بعد حضرت سکرانؓ نے وفات پائی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت خدیجہ الکبریٰ نے وفات پائی تھی بن ماں باپ کے بچوں کو دیکھ دیکھ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارکہ افسردہ رہتی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جان نثار صحابیہ حضرت خولہؓ بنت حکیم نے ایک دن بارگاہ نبویﷺ میں عرض کیا۔
’’یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! خدیجہؓ کی وفات کے بعد میں ہمیشہ آپ کو ملول دیکھتی ہوں۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں گھر کا نظام اور بچوں کی تربیت خدیجہؓ ہی کے سپرد تھی۔‘‘
خولہؓ نے عرض کی ’’تو پھر آپﷺ کو ایک رفیق و غم گسار کی ضرورت ہے اگر اجازت ہو تو آپ کے نکاح ثانی کے لیے سلسلہ جنبانی کروں۔‘‘
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا حضرت خولہؓ اب حضرت سودہؓ کے پاس تشریف لے گئیں اور ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش بیان کی۔ حضرت سودہؓ نے بخوشی حرم نبوی بننے پر اظہار رضا مندی دی ان کے والد زمعہؓ نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام قبول کرلیا اور 10 نبوی میں انہوں نے اپنی لخت جگر کا نکاح سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے چار سو درہم پر خود پڑھادیا۔ نکاح کے بعد ان کے صاحبزادے عبد اللہ گھر تشریف لائے وہ ابھی تک مشرف با اسلام نہیں ہوئے تھے اس نکاح کا حال سن کر سخت رنجیدہ ہوئے اور سر پر خاک ڈالی‘ اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں ساری عمر اپنی اس نادانی کا بہت قلق رہا۔
اپنے پہلے شوہر سکرانؓ کی زندگی میں حضرت سودہؓ نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ تکیہ کے سہارے لیٹی ہیں کہ آسمان پھٹا اور چاند ان پر گر پڑا۔ انہوں نے یہ خواب حضرت سکرانؓ سے بیان کیا‘ آپؓ نے کہا اس کی تعبیر یہ معلوم ہوتی ہے کہ میں عنقریب فوت ہوجائوں گا اور تم عرب کے چاند محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئو گی۔
واقعی اس خواب کی تعبیر چند دن بعد پوری ہوگئی‘ بعض روایتوں کے مطابق حضرت خدیجہ الکبریٰؓ کی وفات کے بعد حضرت سودہؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں اور بعض کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہؓ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ثانی ہوا۔
13 نبوی میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو حضرت ابو رافعؓ اور زید بن حارثؓ کو مکہ بھیجا کہ حضرت فاطمتہ الزہراؓ، ام کلثومؓ اور سودہؓ بنت زمعہ ؓ کو ساتھ لے کر آئیں چنانچہ وہ سب حضرت زیدؓ بن حارثؓ اور ابو رافعؓ کے ہمراہ تشریف لے آئیں۔
ام المومنین سیدہ خدیجہ بنت خویلدؓ کے وصال کے بعد ام المومنین حضرت سودہؓ وہ واحد زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے اپنی محبت و وفا اور خدمت گزاری و غم گساری کی شمع روشن رکھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہیں اس دوران اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کی وجہ سے ان کے اندر ایسا نکھار اور حسن پیدا ہوا جس کی بدولت 2 ہجری کے بعد حرم نبوی میں داخل ہونے والی خواتین کے لیے اپنی محبت اور بہترین سلوک کی بانہیں وا کردیں اور کسی نوع کی قربانی و ایثار سے دریغ نہ کیا۔
آیات حجاب کے نزول سے قبل ازواج مطہرات قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتی تھیں حضرت عمر فاروقؓ کا خیال تھا کہ ازواج مطہراتؓ کو باہر نہ نکلنا چاہیے اس کے لیے وہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی عرض کرچکے تھے لیکن حضور خاموش رہے تھے۔ ایک دن حضرت سودہؓ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف جارہی تھیں کہ راستے میں حضرت عمر مل گئے‘ حضرت سودہؓ کا قد بلند و بالا تھا‘ حضرت عمرؓ نے انہیں پہچان لیا اور کہا ’’سودہؓ تم کو ہم نے پہچان لیا‘‘ حضرت سودہؓ کو حضرت عمرؓ کا یہ جملہ سخت ناگوار گزرا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمرؓ کی شکایت کی‘ اس واقعہ کے بعد آیت حجاب نازل ہوئی اور تمام خواتین پردہ کی پابند ہوگئیں۔
حضرت سودہؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں 22 ہجری میں وفات پائی۔
حضرت سکرانؓ کے صلب سے ایک فرزند پیدا ہوئے جن کا نام عبد الرحمنؓ تھا‘ انہوں نے خلافت فاروق میں جنگ جلولاء میں شرکت کی اور نہایت بہادری سے لڑ کر رتبہ شہادت پر فائز ہوئے۔
حضور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
آپؓ کا وصال 14 ہجری میں ہوا‘ اس وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔ وصال سے قبل انہوں نے اپنے گھر کے متعلق وصیت فرمائی تھی۔
’’میرے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد میرا گھر حضرت عائشہ صدیقہؓ کو دے دیا جائے۔‘‘
جب ام المومنین حضرت سودہؓ کا وصال ہوگیا اور وہ اپنے محبوب آقا و شوہر رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوسرے جہان میں تشریف لے گئیں تو حضرت عمر فاروق خلیفہ المسلمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
’’مومنوں کی اس مقدس ماں کا جنازہ رات کو اٹھائو۔‘‘
حضرت اسماء بنت عمیسؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حبشہ میں عورتوں کی میت کے لیے پردہ دار مسہری بناتے دیکھا تھا لہٰذا انہوں نے حضرت سودہؓ کے لیے ویسی ہی مسہری تیار کی‘ جب اسے حضرت عمرفاروقؓ نے ملاحظہ فرمایا تو حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو دعا دی اور فرمایا۔
’’ستر تہاسترک اللہ‘ تم نے ان کو پردے میں ڈھانپا اللہ تعالیٰ تمہاری پردہ پوشی فرمائے۔‘‘
جب جنازہ تیار ہوگیا تو اسے آخری منزل کی طرف لے چلے اور جنت البقیع میں لے جاکر قبر میں اتار دیا جو آخرت کی پہلی منزل ہے۔ حرم نبویﷺ کا ایک اور چراغ بجھ گیا تھا لیکن حقیقتاً اس کی روشنی آج بھی برقرار ہے اور قیامت تک رہے گی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close