Hijaab Jan-16

علم میں انتخاب

نزہت جبین ضیا

غزل
دل ویراں ہے، تیری یاد ہے، تنہائی ہے
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے
مرے محبوب زمانے میں کوئی تجھ سا کہاں
تیرے جانے سے میری جان پے بن آئی ہے
ایسا اجڑ اہے امیدوں کا چمن تیرے بعد
پھول مرجھائے،بہاروں پہ خزاں چھائی ہے
چھا گئے چاروں طرف اندھیرے سائے
میری تقدیر میرے حال پہ شرمائی ہے
دل ویراں ہے، تیری یاد ہے، تنہائی ہے

شاعر: خواجہ پرویز
انتخاب: ثمرین فرقان… چیچہ وطنی

نظم
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ
چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے
سہیلیوں کو لیے اترتی
تو ایسے لگتا کہ جیسے دل میں اتر رہی ہو
کچھ اس تیقن سے بات کرتی
کہ جیسے دنیا اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہے
وہ اپنے رستے پر دل بچھاتی ہوئی
نگاہوں سے ہنس کے کہتی
تمہارے جیسے بہت سے لڑکوں سے میں یہ باتیں
بہت سے برسوں سے سن رہی ہوں
میں ساحلوں کی ہوا ہوں‘ نیلے سمندروں کے لیے بنی ہوں
وہ ساحلوں کی ہوا سی لڑکی
جو راہ چلتی تو ایسا لگتا کہ جیسے دل میں اتر رہی ہو
وہ کل ملی تو اسی طرح تھی
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ‘ چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے
کہ جیسے چاندی پگھل رہی ہو
مگر جو بولی تو اس کے لہجے میں وہ تھکن تھی
کہ جیسے صدیوں سے دشت ظلمت میں چل رہی ہو

شاعر: امجد اسلام امجد
انتخاب: پروین افضل شاہین… بہاولنگر

غزل
جانے کیا بات ہوئی ہے جو خفا بیٹھا ہے
مجھ میں اک شخص بغاوت پر تُلا بیٹھا ہے
وہ پرندہ جسے پرواز سے فرصت ہی نہ تھی
آج تنہا ہے تو دیوار پر آبیٹھا ہے
بولتا ہے تو مجھے اذن خموشی دے کر
کون ہے جو پس اظہار چھپا بیٹھا ہے
تم بھی منجلہ ارباب جفا نکلے ہو
تم تو کہتے تھے ہر دل میں خدا بیٹھا ہے
تھک گیا دشت طلب میں تو سوالی بن کر
میرا سایہ میری دہلیز پر آبیٹھا ہے
تُو کتابوں میں کسے ڈھونڈتا رہا سلیمؔ
یہ تُو کیا روگ میرے یار لگا بیٹھا ہے

شاعر: سلیم کوثر
انتخاب: مدیحہ نورین مہک… برنالی

غزل
پھر وہ کیمپس کی فضا ہو‘ شام ہو
ہاتھ ہاتھوں میں ترا ہو‘ شام ہو
خوف آتا ہے مجھے اس وقت سے
راستہ نہ مل رہا ہو‘ شام ہو
کس قدر بے کیف گزرے گی وہ شام
تو مجھے بھولا ہوا ہو‘ شام ہو
کیوں نہ مجھے شدت سے یاد آئے گائوں
شہرکا بنجر پناہ ہو‘ شام ہو
ہورہی ہو تیری تصویروں سے بات
تیرا خط کھولا ہوا ہو‘ شام ہو
سردیاں‘ بارش‘ ہوا‘ چائے کاکپ
وہ مجھے یاد آرہا ہو‘ شام ہو
درد و غم کی دھند میں لپٹا ہوا
قافلہ ساحل پڑا ہو‘ شام ہو
یا الٰہی ایسے لمحے سے بچا
وہ کبھی مجھ سے خفا ہو‘ شام ہو
اک یہی خواہش نہ پوری ہوسکی
تو کلیجے سے لگا ہو‘ شام ہو

شاعر: وصی شاہ
انتخاب: حرا رمضان… اختر آباد

غزل
ہجر میں خون رلاتے ہو‘ کہاں ہوتے ہو؟
لوٹ کر کیوں نہیں آتے ہو‘ کہاں ہوتے ہو؟
جب بھی ملتا ہے کوئی شخص بہاروں جیسا
مجھ کو تم کیسے بھلاتے ہو؟ کہاں ہوتے ہو؟
مجھ سے بچھڑے ہو تو محبوب نظر ہو کس کے؟
آج کل کس کو مناتے ہو‘ کہاں ہوتے ہو؟
شب کی تنہائی میں اکثر یہ خیال آتا ہے
اپنے دکھ کس کو سناتے ہو‘ کہاں ہوتے ہو؟
تم تو خوشیوں کی رفاقت کے لیے بچھڑے تھے
اب اگر اشک بہاتے ہو تو کہاں ہوتے ہو؟

شاعر: سعید واثق
انتخاب: شگفتہ خان… بھلوال

غزل
پھر کوئی نیا زخم، نیا درد عطا ہو
اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو
اب دل میں سرِ شام چراغاں نہیں ہوتا
شعلہ تیرے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو
کب عشق کیا، کس سے کیا، جھوٹ ہے یارو
بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو
اب میری غزل کا بھی تقاضہ ہے یہ تجھ سے
انداز و ادا کا کوئی اسلوب نیا ہو

اطہر نفیس
جویریہ ضیاء…کراچی

ؔنظم
دلِ من مسافرِ من
مرے دل، مرے مسافر
ہوا پھر سے حکم صادر
کہ وطن بدر ہوں ہم تم
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رُخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یارِ نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سرِ کو ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا
تمھیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ غم بری بلا ہے
ہمیں یہ بھی تھا غنیمت
جو کوئی شمار ہوتا
ہمیں کیا برا تھا مرنا
اگر ایک بار ہوتا
فیض احمد فیض
طلعت نظامی…کراچی
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجئے میرا
یاد کا سارا سروسامان جلاتے جائیں
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیں

جون ایلیا
رخسانہ اقبال…خوشاب

غزل
درد اتنا دل نہیں سہہ پائے گا
آنکھ کے رستے سے باہر آئے گا
آپ اپنا سب پہ کر دے گا عیاں
ایک قطرہ گال پر بہہ جائے گا
درد اگ آئے گا دل میں کو بکو
یوں تیرا رخ موڑنا ترسائے گا
لاج رکھ لے گا میرے دکھ درد کی
ایک آنسو ترجماں بن جائے گا
روک نہ مجھ کو بہانے دے مجھے
بہہ نہ زخم پھر ہو جائے گا
روز کا عرشی یہ مرنا اور پھر
مسکرانا زندگی کہلائے گا

عرشی ہاشمی… آزاد کشمیر
سدرہ شاہین… پیرووال

ہمیں محسوس ہوتا ہے
زمانے کی طرح تم بھی
محبت کے حسین خاموش جذبوں کو
لفظوں کو زباں دے کر
بہت کچھ سننا چاہتے ہو
مگر اپنی طبیعت کہ
ہمیں اظہار جذبوں کا
کبھی اچھا نہیں لگتا
سنا ہے پیار کا دن ہے
تو ہم اپنی طبیعت کا
پسند وناپسند اب کے
بالائے طاق رکھتے ہیں
تمہیں ہم پیار کرتے ہیں
تمہاری ہے خوشی اس میں
تو کہنے میں حیا کیسی
چلو ہم کہہ ہی دیتے ہیں
ہمیں تم سے محبت ہے

شاعرہ…نگینہ شاہ
حنا احمد…کراچی

برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا
ابرو کھینچی کھینچی سی‘ آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی‘ لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا
خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رات جاگا سا
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اورں سے تھا جدا سا
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ زہر میں بجھا تھا احباب کا دلاسہ
پھر یوں ہوا کہ ساون آنکھوں میں آبسے تھے
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا
اب سچ کہیں تو یاروہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا
تیور تھے بے رخی کے‘ انداز دوستی کا
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا
ہم دشت تھے کہ دریا‘ ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا ذونم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا
ہم نے بھی اس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو ’’فراز‘‘ کا سا

احمد فراز
عائشہ سلیم…کراچی

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close