Hijaab Jan-16

میرے خواب زندہ ہیں(قسط نمبر3)

نادیہ فاطمہ رضوی

(گزشتہ قسط کا خلاصہ)
یہ کہانی تین دوستوں خاور، احتشام اور سمیر کے گرد گھومتی ہے۔ سمیر اور خاور متمول گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جبکہ احتشام کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے جو اپنی غربت و نا مساعد حالات سے انتہائی بے زار صرف بیرون ملک جانے کی تمنا لیے احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ اس کا رشتہ بچپن سے ہی اپنی خالہ زاد حورین سے طے ہے مگر وہ اس رشتے سے بھی ناخوش ہے حاکم دین اور ان کی شریک حیات اپنے بیٹے کے طرز عمل پر خائف رہتے ہیں لیکن وہ انہیں کسی خاطر میں نہیں لاتا۔ خاور ان تمام تعیشات کا عادی ہے جو اپر کلاس کے نوجوانوں کا خاصہ ہیں سویٹی سے اس کی دوستی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی جبکہ خاور کے والد افتخار کاروباری مفاد کی خاطر ان دونوں کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن خاور اس کے لیے رضا مند نہیں ہوتا۔ سویٹی کی جگہ وہ کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہے جبکہ فی الحال اس بات کا ذکر اپنے والد سے نہیں کرتا سمیر کا رشتہ بھی اس کی کزن ساحرہ سے طے ہے۔ حورین احتشام کے لیے خاص جذبات رکھتی ہے لیکن اس کا محتاط رویہ حورین کو تشویش میں مبتلا کردیتا ہے دوسری طرف صغریٰ بیگم کی طبیعت بھی خراب رہتی ہے۔ حورین اپنی ماں کی جانب سے از حد متفکر ہوتی ہے لیکن جلد ہی ان ماں بیٹی کا ساتھ ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتا ہے جب صغریٰ بیگم طویل بیماری کے بعد اس دنیا سے منہ موڑ لیتی ہے۔ حورین کے لیے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا دوسری طرف احتشام بھی اپنے والدین کے سامنے شادی سے انکار کردیتا ہے اور ان کے لاکھ سمجھانے پر بھی اس کے خیالات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اسی دوران حورین کے پاس انجان نمبر سے کال موصول ہوتی ہے وہ شخص حورین سے محبت کا دعویدار تھا ہے یہ سب سن کر حورین کی پریشانی بڑھ جاتی ہے۔ حورین کے والد ہاشم جلد از جلد اس کی شادی کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے ہیں جب ہی احتشام کا دوست سمیر حاکم دین کے کہنے پر انہیں احتشام کے اس رشتے سے انکار کی بابت ساری حقیقت بتاتا ہے۔ احتشام کا یہ انکار ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے جب ہی اس زخم کو چھپائے وہ بھی اس دنیا سے منہ موڑ لیتے ہیں جبکہ حورین کے لیے باپ کی جدائی ایک کٹھن امتحان ثابت ہوتی ہے۔
(اب آگے پڑھیے)
ء…/…ء
وہ حیرت و بے یقینی کے احساسات میں گھری ساکت و صامت سی کھڑی کھلی کھلی نگاہوں سے مقابل کو دیکھتی رہ گئی جو اسے دیکھ کر انتہائی دلکسی سے مسکراتے ہوئے اس کے قریب آکر گنگنایا تھا ’’جان خاور‘‘ جب کہ اسی پل اس کی ساری حسیات ایک جھٹکے سے بیدار ہوئی تھیں وہ تیزی سے پیچھے کی جانب الٹے قدموں پلٹی تھی۔
’’آ… آپ یہاں… یہ سب کیا ہے؟‘‘ حورین اپنی تمام ہمتوں کو مجتمع کرکے اپنے لہجے میں غصہ و ناگواری شامل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بمشکل فقط اتنا ہی بول سکی۔ خاور حورین کے لہجے میں حیرت بے یقینی اور خوف کے رنگوں کو بخوبی محسوس کرتے ہوئے گمبھیر آمیز آواز میں بولا۔
’’تمہیں سب پتا چل جائے گا میں تمہیں سب کچھ بتائوں گا‘ اپنے دل کی حکایت اپنی بے قراری کی داستان‘ ہجر کی کاٹ دار تڑپ اور وصل کی مدہوش و خمار سے لبریز گھڑی کی تمنا جس نے رات دن مجھے ان دیکھی آگ میں جھلسایا ہے جس نے صحرا کی جلتی تپتی ریت کی مانند ہولے ہولے سلگایا ہے۔ میں پاگل ہوگیا ہوں حورین تمہاری چاہت‘ تمہاری الفت‘ تمہاری قربت کی خواہش نے مجھے مجھ سے ہی دور کردیا ہے۔ بے گانہ اوراجنبی کردیا ہے۔‘‘ سلگتے مچلتے آگ برساتے جذبات میں گھرے لہجے میں خاور مدہوش سا نجانے کیا کچھ بولے جارہا تھا۔ حورین کا سانس جیسے اپنی روانی ہی بھول گیا تھا شاید اس پل اس کے دل کی دھڑکنیں بھی ساکت ہوگئی تھیں جسم کے انگ انگ میں کپکپی طاری ہوگئی تھی وہ اس پل پسینے میں شرابور ہوگئی تھی اور خاور وہ کاہی گرین اور میرون رنگ کے امتزاج کے سوٹ میں سادا سا چہرہ لیے حورین کو جیسے آنکھوں کے رستے دل و روح میں جذب کررہا تھا۔
حورین الٹے قدموں کمرے کے دروازے تک پہنچی پھر بجلی کی تیزی سے پلٹ کر جھپاک سے سیڑھیوں کی جانب بھاگی ایک ہی جست میں تمام سیڑھیاں پھلانگ کر اس نے کچن میں جاکر پناہ لی اس پل اس کا دماغ جیسے سائیں سائیں کررہا تھاسانسیں جیسے سینے میں اٹک اٹک کربرآمد ہورہی تھیں اور جسم میں گویا رعشہ طاری ہوگیا تھا۔
’’ارے احتشام یہ خاور بیٹا کہاں ہے؟ چلا گیا ہے کیا؟‘‘ کبریٰ بیگم کی استفہامیہ آواز فضا میں ابھر ی تھی۔ احتشام نہا کر غسل خانے سے باہر آگیا تھا۔
’’نہیں وہ میرے کمرے میں میری کوئی چیز لینے گیا ہے۔‘‘ احتشام ٹال مٹول والے لہجے میں بولا اس سے پہلے کہ کبریٰ بیگم مزید کوئی سوال کرتیں‘ پیچھے سے خاور آتے ہوئے مسکرایا۔
’’میں یہاں ہوں آنٹی! آپ سے ملے بغیر کیسے جاتا۔‘‘ وہ خوشگوار انداز میں بولا جب کہ احتشام کو آنکھوں ہی آنکھوں میں خفیف سا اشارہ کیا۔ احتشام مطمئن ہوکر تولیے سے اپنے بال سکھانے میں مصروف ہوگیا۔
’’اچھا ابھی جانا بھی مت‘ آج رات کا کھانا ہمارے ساتھ ہی کھانا بس حورین بھی آتی ہی ہوگی۔‘‘ خالہ امی کی آواز کچن میں کھڑی حورین کی ساعتوں تک پہنچی تو وہ سنک کی جانب بڑھی اور نل پوری طرح کھول کر پانی کے جھپتے تیزی سے چہرے پر مارنے لگی۔
ء…/…ء
احتشام کے چہرے پر کوفت و بے زاری صاف دیکھی جاسکتی تھی وہ ہر تھوڑی دیر بعد انتہائی ناگواری سے پہلو بدل رہا تھا۔ سمیر شاہ اسے دیکھ کر یہ بات بخوبی جان گیا تھا کہ وہ اس وقت محض بھینس کے آگے بین بجارہا ہے اس نے متاسفانہ نگاہوں سے احتشام کو دیکھا
’’تم بہت بڑی غلطی کررہے ہو احتشام!‘‘
’’خدا کے واسطے سمیر! کبھی تو تم اس بابا جی ٹائپ کے روپ سے باہر آجایا کرو‘ ہر وقت نصیحت ہر لمحہ روک ٹوک یار اتنا تو میرا باپ بھی مجھے لیکچر نہیں دیتا جتنا ہمیشہ تم جھاڑتے نظر آتے ہو۔‘‘آج کل احتشام کا موڈ ویسے ہی بے حد خراب چل رہا تھا۔ گھر میں تو جیسے ہر کسی کو کاٹ کھانے کے لیے دوڑ رہا تھا مگر سمیر شاہ کی شخصیت میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جو اس کی زبان کو روک دیتی تھی ورنہ کسی کا لحاظ کرنا اس کی سرشت میں شامل ہی نہیں تھا۔
’’میں تمہارا دوست ہوں احتشام اور تم سے مخلص بھی ہوں میں صرف دوستی کا فرض ادا کررہا ہوں‘ تمہارے اچھے برے سے آگاہ کرنا تمہیں لیکچر لگتا ہے تو یہی سہی۔‘‘ سمیر احتشام کی بات کا برا مانے بغیرشانے اچکا کر گویا ہوا تو احتشام نے اسے بے بسی سے دیکھا۔
’’یار پلیز تم میری باتوں کو مائنڈ مت کرنا‘ آج کل میں بہت پریشان ہوں۔‘‘ احتشام اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا۔
’’جب ایسے الٹے سیدھے کام کرو گے تو یونہی سر پکڑ کر بیٹھو گے۔ بھلا کیا ضرورت تھی تمہیں حورین بھابی کے مکان اور دکان کو بیچ کر روپیہ اس فراڈ کمپنی کے حوالے کرنے کی۔‘‘
’’مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ کمپنی دو نمبر ہے۔‘‘
’’اچھا کیا یہ بھی معلوم نہیں کہ بیوی کی چیزوں کو اس طرح اس سے چھین کر بیچ دینا اور روپیہ ہضم کرجانا کس قدر گھٹیا پن کی بات ہے۔‘‘
’’شوہر کو اگر پیسوں کی ضرورت ہو تو بیوی کو اس کے کام آنا چاہیے یہ اس کا فرض ہے۔‘‘ احتشام جزبز ہوکر بولا تو سمیر اسے فہمائشی نگاہوں سے گھورتے ہوئے طنزاً گویا ہوا۔
’’اچھا بیوی کے فرائض تمہیں معلوم ہیں اور شوہر کے کیا فرائض ہیں یہ جانتے ہو۔ ‘‘
’’اُف سمیر… میں نے تو تمہارے پاس آکر غلطی کردی اگر دو لفظ تسلی کے ادا نہیں کرسکتے تو کم از کم میرے زخموں پر نمک پاشی تو مت کرو۔‘‘ وہ چلبلا کر بولا۔
’’اچھا تمہارے کارنامے تمہیں سنانا نمک پاشی ہے تو ٹھیک ہے میں نمک پاشی ہی کررہا ہوں۔‘‘ سمیر بے پناہ چڑتے ہوئے گویا ہوا تو احتشام انتہائی ناگواری سے صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’تم سے اچھا تو خاور ہے جس نے نہ صرف مجھ سے ہمدردی کی بلکہ اس نے مجھ سے وعدہ بھی کیا کہ وہ ہر طور میرے بیرون ملک جانے کی تگ و دو کرے گا۔‘‘ خاور کا نام سن کر سمیر کے کان کھڑے ہوگئے وہ چونک کر احتشام کو دیکھتے ہوئے بولا۔
’’کیا کہا خاور نے تم سے؟‘‘
’’چھوڑو تم کیا کرو گے جان کر الٹا دوچار باتیں اور سنادوگے۔‘‘ احتشام منہ پھلا کر بولا تو سمیر نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کر احتشام کی کلائی تھام کر واپس اسے صوفے پر بٹھایا۔
’’مجھے کھل کر بتائو کہ خاور کیا کررہا ہے مم… میرا مطلب ہے کیا وہ تمہیں ملک سے باہر بھجوانے کی کوشش کررہا ہے؟‘‘
’’ہاں واقعی خاور جیسے دوست تو خوش نصیبوں کو ملتے ہیں اس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ مجھے باہر بھجوانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور تو اور پیسہ بھی وہ خود لگائے گا۔‘‘ احتشام جوش و مسرت کے ملے جلے جذبات میں گھر کر بولا تو سمیر نے ایک گہری سانس فضا میں آزاد کی۔ وہ احتشام کو پرسوچ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہنے لگا۔
’’وہ یہ سب کیوں کررہا ہے؟‘‘ ساری بات سمیر کو بخوبی سمجھ میں آچکی تھی اسے خاور کے ارادے بخوبی معلوم ہوچکے تھے مگر وہ یہ سب کچھ احتشام جیسے نادان اور کم فہم شخص کو نہیں بتاسکتا تھا۔
’’کیا مطلب کیوں کررہا ہے‘ وہ میرا دوست ہے مجھ سے مخلص ہے میری مدد کررہا ہے۔‘‘ احتشام کو سمیر کی بات پر اچنبھا ہوا جب ہی قدرے رکھائی سے بولا۔
’’اور حورین بھابی انہیں تم کس قصور کی سزا دے رہے ہو؟‘‘
’’میں اسی بناء پر شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا تھا بھگتیں میرے ماں باپ۔‘‘
’’پھر تم نے ہی انہیں شادی کے لیے مجبور بھی کیا تھا۔‘‘ سمیر احتشام کی ڈھٹائی اور بے شرمی پر غصے سے کھول کر رہ گیا اس پل اس کا دل چاہاکہ ایک زور دار تھپڑ احتشام کے چہرے پر رسید کردے جس نے بے غیرتی کی انتہا کردی تھی۔
’’کیوںکہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی۔‘‘ احتشام بے اختیار بول اٹھا‘ سمیر نے اسے انتہائی متاسفانہ نگاہوں سے گھورا۔
’’تمہارا بھی جواب نہیں احتشام! صرف حورین بھابی کے گھر اور دکان کی خاطر تم نے ان سے شادی کی اور کتنی بے حیائی سے وہ چیزیں بناء ان کی مرضی جانے بیچ بھی دیں‘ تم جیسے انسان کو مجھے اپنا دوست کہتے ہوئے شرم آرہی ہے احتشام!‘‘
’’میں نے تمہارے پاس آکر واقعی بہت بڑی غلطی کی۔‘‘ انتہائی تلملا کر اٹھتے ہوئے احتشام بولا اور پھر اگلے ہی پل باہر نکل گیا جبکہ سمیر وہیں بیٹھا کسی گہری سوچ میں مستغرق ہوگیا۔
ء…/…ء
وہ کیف و سرور کے ساغر میں ڈبکیاں لگاتا خمار و سرمستی کی لہروں میں خود کو ڈبوتا ایک عجیب سی کیفیت میں بیٹھا تھا۔ محبوب کی سانسوں کی پُر حدت مہک اور اس کے طلسمی وجود کا لمس اسے ایک ایسی دنیا میں دھکیل گیا تھا جہاں ایسا نشہ و سرور تھا جس کا ذائقہ آج سے پہلے اس نے بالکل نہیں چکھا تھا اس کے جسم کا روم روم اس پل نامانوس و طلسم انگیز کیفیت میں لپٹا اسے ایک نئی کیفیت سے روشناس کرارہا تھا‘ محبوب کی قربت اور نزدیکی اس قدر قیامت خیز ہوگی خاور نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا اس نے انتہائی سرمستی و سرشاری میں مبتلا ہوکر اپنی آنکھوں کو بند کیا تو چھم سے حورین کا ہوش ربا سراپا اس کی نگاہوں کی گرفت میں آگیا۔
’’اوہ میری جان حورین! آخر کب تک تم مجھے یوں تڑپاتی رہو گی‘ جلاتی رہو گی۔ پلیز میری حالت زار پر کچھ تو ترس کھائو۔‘‘ خاور انتہائی جذبات سے بوجھل لہجے میں حورین کے تصور سے مخاطب ہوکر آہستگی سے بولا تھا۔
خاور کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا تھا جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ بچپن سے جوانی تک کسی چیز کی کمی اسے نہیں ہوئی اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی حیات صاحب اس کی خواہش پوری کردیتے تھے۔ حیات صاحب کی اس اکلوتے اولاد کی شخصیت پروان چڑھی تو خود پسندی خود سری اور زعم و غرور کے تمام رنگ اس میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ سمیر شاہ اس کا کزن ہونے کے ساتھ ساتھ ہم پلہ خاندان سے تعلق رکھتا تھالہٰذا خاور کی سمیر سے اچھی دوستی ہوگئی مگر جب احتشام سے خاور کی ملاقات ہوئی تو اسے احتشام کے اندر کوئی ایسی کشش دکھائی نہیں دی جس کی بدولت وہ اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا دراصل سمیر احتشام کا دوست تھا اور سمیر کے توسط سے ہی خاور کی اور احتشام کی محض ہیلو ہائے ہوئی تھی۔ خاور کو احتشام کی ایک چیز بہت کھٹکتی تھی وہ تھی احتشام کی سحر انگیز لُک… احتشام انتہائی ہیڈسم اور مخالف صنف کے لیے ایک خاص کشش کا حامل لڑکا تھا جب لڑکیاں خاور کو نظر انداز کرکے احتشام کی جانب بڑھتیں تو خاور کے اندر جیسے الائو سا دہک اٹھتا۔ ایک بے حد مضبوط فیملی بیک گرائونڈ ہونے کے باجود خاور کی شخصیت میں کوئی خاص چارم نہیں تھا۔ اس کی رنگت قدرے سانولی تھی جبکہ قدکاٹھ کے لحاظ سے بھی وہ کافی مار کھاگیا تھا اس کا شمار چھوٹے قد کے حامل مردوں میں ہوتا تھا اگر لڑکیاں اس کے آگے پیچھے اور اردگرد پروانوں کی طرح منڈلاتی تھیں تو محض اس کی لاکھوں کی گاڑی اس کے قیمتی لباس اور بھرے ہوئے والٹ کی کشش کی وجہ سے تھا۔ اس کے اونچے اسٹیٹس نے اس کی شخصیت کو پُر اثر بنایا تھا وگرنہ ان کے بناء وہ بے حد واجبی سی شخصیت کا مالک تھاجبکہ احتشام کا تعلق لوئر مڈل گھرانے سے تھا مگر خوب صورتی و وجاہت میں بے مثال تھا جب کوئی خوب صورت لڑکی احتشام کی جانب بڑھتی تو خاور کا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ احتشام کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اسے داغ دار بنادے البتہ احتشام کو صنف نازک سے بالکل دلچسپی و رغبت نہیں تھی۔
پھر خاور نے اپنی مردانگی کی تسکین کی خاطر احتشام سے گہری دوستی گانٹھ لی جب احتشام اس کے سامنے اپنی غربت یا ضرورت کا رونا وتا تو خاور بڑے کروفر سے اس کی مدد کرتا تو اس کی انا کوایک عجیب سی تسکین ملتی محض احتشام کی ذات و شخصیت کو اپنے جوتوں کے نیچے دبائے رکھنے کے لیے وہ بظاہر بہت اچھا دوست بن کر اس کی مدد کرتا اس کے کام آتا تھا اور پھر جس دن اس نے حورین کو دیکھا تو گویا پلک جھپکنا ہی بھول گیا۔ صبح کی شبنم کے قطروں کی مانند شفاف و پاکیزہ حسن اس نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا اس کے گھٹائوں جیسے سیاہ ریشمی بال کمر کو چھوتے تھے۔
گلابی گھلی شہابی رنگت پر دو ستارے جیسی بھوری آنکھیں جس پر گھنیری سیاہ پلکیں ہمہ وقت سیاہ فگن رہتی تھیں۔ ستواں کھڑی ناک میں زرقون کی لونگ کو دیکھ کر لگتا جیسے آسمان کا ستارا وہاں آٹکا ہو دلفریب ہلکے گلابی لب اور چھوٹا دہانہ اس کی خوب صورتی و دلکش کو چار چاند لگاتے تھے اس پر مستزاد کسی شاعر کی غزل کی مانند لچکتا بل کھا تا بے حد حسین سراپا ۔
حورین اسم بامسمی‘ خاور حورین سے پہلی بار احتشام کی منگیتر کے طور پر متعارف ہوا تھا اس کے دل میں احتشام کے لیے رعونت حقارت اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ وہ احتشام کو حورین کے لیے ہر گز لائق اور قابل نہیں سمجھتا تھا حورین تو کسی ریاست کی شہزادی کی مانند تھی اسے تو کسی محل کی رانی بننا چاہیے تھا کجا کہ احتشام کے چھوٹے سے مکان کی زینت بننا پھر خاور نے اسی دن سے ٹھان لی کہ وہ حورین کو احتشام سے چھین کر رہے گا۔
’’حورین میری جان تمنا تم کہیں بھی چلی جائو مگر آنا تمہیں میرے پاس ہے‘ تمہارا گھر احتشام کا گھر نہیں بلکہ میرا دل ہے تمہیں میرے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے اور بہت جلد آنا ہے پھر میں تمہیں کہیں بھی جانے نہیں دوں گا۔‘‘ خاور خود سے بولتا چلا گیا۔
ء…/…ء
سمیر شاہ کو طوفان کے آنے کی آہٹ ابھی سے محسوس ہورہی تھی جو حورین اور احتشام کی زندگیوں میں آنے والا تھا۔ حورین احتشام اور خاور ایک تکون میں کھڑے تھے وہ احتشام کی جانب بہت یاس و امید کے عالم میں دیکھ رہی تھی۔ سوچ سوچ کر سمیر کا دماغ پچی ہوچلا تھا مگر اس طوفان کو روکنے کی کوئی تدبیر اس کے ہاتھ نہیں آرہی تھی اپنے گھر کے وسیع وعریض لان میں چک پھیریاں لگاتے لگاتے وہ تھک گیا تو گارڈن چیئر پر آکر ڈھے گیا۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کا ملازم چائے کی ٹرے لیے حاضر ہوا تو سمیر نے اسے انتہائی ممنون نگاہوں سے دیکھا۔
’’اوہ تھینک یو رشید! مجھے اس وقت چائے کی بے حد طلب ہورہی تھی۔‘‘ وہ سیدھے بیٹھتے ہوئے گویا ہوا تو رشید دانت نکوس کر بولا۔
’’مجھے پتا تھا کہ اس وقت آپ کو چائے کی ضرورت ہے لہٰذا میں فوراً چائے لے آیا۔‘‘ سمیر محض ایک ہنکارا بھر کر رہ گیا‘ ملازم کو اس بات کا احساس تھا کہ سمیر کو اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے جب کہ ساحرہ کو اس کی کوئی پروا نہیں تھی۔ سمیر محض سوچ کر رہ گیا پھر چند ثانیے بعد استفہامیہ انداز میں بولا۔
’’تمہاری بیگم صاحبہ کہاں ہیں؟‘‘
’’مجھے تو معلوم نہیں صاحب وہ تو دوپہر سے نکلی ہوئی ہیں البتہ چھوٹے بابا اپنی دادی کے کمرے میں سورہے ہیں۔‘‘ رشید نے مودبانہ انداز میں اسے معلومات فراہم کیں تو سمیر نے اسے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا وہ اس وقت مکمل تنہائی چاہتا تھا۔ اس نے اضطراری انداز میں اپنی پیشانی کو مسلا وہ دن اور لمحات اس کی نگاہوں میں ایک بار پھر گھوم گئے جب وہ خاور کے ملازم کے فون کرنے پر دوڑا دوڑا خاور کے گھر پہنچا۔
’’آخر ایسی کون سی بات ہوگئی جو تمہاری یہ حالت ہے۔‘‘ سمیر نے خاور سے پوچھا تھا چند ثانیے تو خاور سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا پھر بے اختیار اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
’’سمیر اس نے مجھ سے چھین لیا مجھ سے چھین کر لے گیا‘ وہ اسے میرے وجود سے میری زندگی کو چھین کر لے گیا وہ۔‘‘ رونے کے دوران خاور ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولتا رہا۔ سمیر ہونق بنا بس اسے سنے گیا وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔
’’کون کسے چھین کر لے گیا خاور؟ پلیز یار خود کو سنبھالو ہمت کرو شاباش۔‘‘ سمیر اس کی پشت کو تھپکتے ہوئے بولا ۔
’’میں اس کے بناء زندہ نہیں رہ سکتا سمیر… سمیر!‘‘ بولتے بولتے اچانک خاور سمیر سے الگ ہوا پھر انتہائی وحشت کے عالم میں اس کے دونوں بازوئوں کو جھنجھوڑ کر بولا۔
’’اسے مجھ سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا‘ میں سب کو ختم کردوں گا سب کچھ تہس نہس کردوں گا وہ صرف میری ہے خاور حیات کی ہے میں اسے جان سے ماردوں گا‘ میں سب برباد کردوں گا۔‘‘
’’فار گاڈ سیک‘ خاور ہوش میں آئو کس کو جان سے ماردو گے مجھے تو کچھ بتائو۔‘‘ سمیرا تقریباً اسے جھنجھوڑ کر بولا تو انتہائی طیش و اشتعال کے عالم میں خاور نے کہا۔
’’احتشام… احتشام حاکم میرا دشمن میرا رقیب۔‘‘
’’احتشام تمہارا دشمن تمہارا رقیب تم…‘‘
’’ک… کیا مطلب ہے تمہارا خاور!‘‘سمیر کے لہجے میں خوف و خدشات صاف محسوس کیے جاسکتے تھے۔
’’وہی… وہی مطلب ہے میرا جو تم نے سوچا جو تم نے سمجھا… ہاں میں حورین سے پیار کرتا ہوں‘ بے حد ‘ بے …پناہ پیار کرتا ہوں اور کوئی بھی شخص اسے مجھ سے کبھی نہیں چھین سکتا۔‘‘ وہ چلاتے ہوئے ایک دیوانگی کے عالم میں بولتا چلا گیا جب کہ سمیر ششدر سا اسے دیکھتا رہ گیا‘ اس پل اچانک سمیر کے یادداشت کے پردے پر وہ تمام مناظر فلم کی مانند چلنے لگے جس میں خاور اس لڑکی کا تذکرہ کرتا تھا اس کے لیے بے تاب و بے قرار دکھائی دیتا تھا اور وہ اور احتشام اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
’’مطلب تم… تم حورین بھابی سے…‘‘ بہت دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوا تھا۔
’’ہاں میں حورین کو اسی دن سے چاہتا ہوں جس دن پہلی بار میں اس سے ملا تھا۔ اسی دن میں نے اسے حاصل کرنے کی ٹھان لی تھی‘ احتشام اس کے ہر گز لائق نہیں ہے نہ پہلے تھا اور نہ کبھی ہوگا۔‘‘
’’تم یہ بات جانتے ہوئے بھی حورین بھابی کی جانب بڑھے کہ وہ احتشام کی فیانسی ہیں اور…‘‘
’’مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ احتشام سے منسوب ہے میں اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ احتشام کے ساتھ بندھے اس نام نہاد رشتے کو اپنے پیروں تلے روند کر اپنے دل کی رانی بنانا چاہتا تھا اور ایسا ہو بھی جاتا اگر وہ سوئٹی والا اسکینڈل کھڑا نہ ہوجاتا اور مجھے باہر نہ بھاگنا پڑتا۔‘‘وہ دانتوں کو کچکچا کر بولا پھر انتہائی مضبوط و سنگین انداز میں گویا ہوا۔
’’خیر اب بھی اتنا کچھ نہیں بگڑا‘ حورین میری تھی میری ہے اور صرف میری ہی رہے گی میں اسے جلد حاصل کرلوں گا۔‘‘ سمیر شاہ کو اس پل اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی محسوس ہوئی وہ خاور کے ارادوں کی مضبوطی اور اس کی فطرت سے بخوبی آشنا تھا وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے ہر گز نہیں تھا اپنی ضد کو پوری کرنے کے لیے وہ ہر طرح کی بازی کھیل جاتا تھا اور جیت ہمیشہ اس کا مقدر بن جاتی تھی مگر یہاں معاملہ انسانی زندگیوں کا تھا ان کے جذبات و احساسات کا تھا۔
’’خاور تم اس وقت جذباتی ہورہے ہو‘ ہم اس موضوع پر پھر کسی وقت بات کرتے ہیں۔‘‘ بہت دیر بعد سمیر فقط اتنا ہی بول سکا‘ خاور نے اس کی بات پر زہر خند انداز میں سر جھٹک کر کہا۔
’’اب کوئی بات چیت نہیں ہوگی اب کچھ کرنے کا وقت ہے اور مجھے یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھے آگے کیا کرنا ہے۔‘‘ خاور کے چہرے پر پھیلی پر اسراریت اور آنکھوں میں ناچتی سفاکی نے سمیر کے ہونٹوں کو جیسے اس پل بالکل سی دیا تھا۔ اچانک مغرب کی اذان فضا میں گونجی تو سمیر اپنے دھیان سے چونکا۔ شام کے دھندلکے گہرے پڑ کر رات کی سیاہی میں ڈھل رہے تھے چہار سو مغرب کی اذانوں کی صدائیں بلند ہونے لگی تھیں۔ ڈھیر سارا وقت اسے یہاں بیٹھے گزر گیا تھا سمیر مغرب کی نماز ادا کرنے کی غرض سے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔
ء…/…ء
انسان کتنا بڑا اداکار ہے اپنے چہرے پر سادگی و معصومیت کا ماسک چڑھا کر کتنی مہارت اور خوب صورتی سے اداکاری کرتا ہے اپنی شیطانیت و بربریت کو اداکاری کی مدد سے چھپا کر خلوص و محبت کی مورت بن جاتا ہے اور پھر اپنے مذموم مقاصد پورے کرلیتا ہے۔ حورین چھت پر پلنگ پر بیٹھی نجانے کیا کچھ سوچے جارہی تھی۔ خاور حیات نے اسے شاکڈ و بے یقینی کے کنویں میں دھکیل دیا تھا وہ ابھی تک اسی کنویں میں ڈوب ابھر رہی تھی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی ایسا نہیں تھا کہ خاور اس کے ساتھ اس طرح کی حرکت کرے گا جب بھی وہ منظر اس کے ذہن کی اسکرین میں روشن ہوتا حورین کے جسم میں سنسناہٹ سی دوڑ جاتی وہ ابھی تک متوحش سی تھی کسی سے اس بات کا تذکرہ بھی نہیں کرسکتی تھی۔ اسے خاور سے بے تحاشا خوف محسوس ہورہا تھا وہ بھانپ گئی تھی کہ خاور کے ارادے آگے بہت خطرناک ہوسکتے تھے۔
آئندہ آنے والے دنوں میں خاور اس کے اعصاب کا سخت امتحان لینے کا سبب بن سکتا تھا کیوں کہ جس شخص نے اس کے شوہر کی موجودگی میں یہ جرات کی تھی وہ مزید بھی اپنی ہمتیں دکھا سکتا تھا۔
’’تم یہاں بیٹھی ہو‘جائو جاکر میرے لیے چائے بناکر لائو۔‘‘ معاً احتشام کی آواز ابھری تو حورین بری طرح ہڑبڑا گئی۔ احتشام کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوسکی۔
’’رات کے نو بج رہے ہیں اگر آپ کہیں تو کھانا بھی لے آئوں؟‘‘ حورین پلنگ سے اٹھتے ہوئے سعادت مندی سے بولی تو احتشام اپنے مخصوص بگڑے موڈ میں بولا۔
’’جتنا کہا ہے اتنا ہی کیا کرو‘ میں نے کھانا نہیں مانگا۔‘‘ حورین احتشام کی بات پر خاموشی سے اس کے پہلو سے نکل کر سیڑھیاں اترگئی جب کہ احتشام اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا وہ فریش ہوکر بستر پر دراز ہوا تو اسی پل حورین چائے کا مگ تھامے اندر چلی آئی اور خاموشی سے سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھ کر مڑگئی۔احتشا م مگ اٹھا کر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے خاور کے متعلق سوچنے لگا جس نے اسے باہر بھجوانے کا بھرپور یقین دلایا تھا۔
اس دن وہ اس کے ڈاکومنٹس لینے گھر آیا تھا خاور کے آنے پر وہ کاغذات کا لفافہ عجلت میں ڈریسنگ ٹیبل پر ہی بھول گیا تھا بعد ازاں سے یاد آیا تو وہ لینے کے لیے اٹھا تھا۔
’’ارے احتشام تم زحمت مت کرو غالباً تم نہانے کا موڈ بنارہے تھے‘ ایسا کرو تم نہانے جائو میں کمرے سے تمہارے ڈاکومنٹس کا لفافہ اٹھا کر لے آتا ہوں۔‘‘ خاور اسے اٹھنے کا ارادہ کرتے دیکھ کر کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔
’’ہاں یار تم اوپر سے لے آئو میں بس پانچ منٹ میں نہاکر نکلتا ہوں۔‘‘ احتشام نے کہا تو خاور وہاں سے اٹھ گیا ‘ کپڑے تہہ کرتی حورین نے ایک نگاہ احتشام کے چہرے پر ڈالی تھی جو اس پل اپنے دھیان میں پوری طرح گم تھا۔
ء…/…ء
’’یہ میرا ذاتی معاملہ ہے سمیر! یہ ٹھیک ہے کہ تم میرے دوست ہو مگر میرے معاملات میں میرے ڈیڈی تک مداخلت نہیں کرتے کیوں کہ مجھے یہ سب پسند نہیں ہے۔‘‘ سمیر بڑے دنوں سے خاور سے ملنے اس سے بات کرکے اسے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا مگر خاور اسے غچہ دے کر ہر بار نکل جاتا تھا وہ بخوبی جانتا تھا کہ سمیر اسے ایسا کرنے سے باز رہنے کو کہے گا اس کو لعنت ملامت کرے گا نصیحتوں کا پٹارا کھول کر بیٹھ جائے گا مگر آج سمیر نے اسے اپنے ہتھے لے ہی لیا تھا۔ اس کے گھر سے پک کرکے وہ اسے ساحل سمندر پر لے آیا تھا تاکہ کھل کر بات ہوسکے اس وقت دونوں ساحل کے نسبتاً تنہا گوشے پر موجود تھے۔
’’تم دونوں دوست واقعی عقل و فہم سے نابلد معاملہ فہمی سے ناآشنا محض اپنا مفاد اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگنے والے سطحی اذہان کے مالک خود غرض و خود پسند ہو۔ آج مجھے تم اور احتشام کو اپنے دوست کہہ کر شرم و ندامت محسوس ہورہی ہے ایک وہ بے حس شخص ہے جسے دولت اور عیش و عشرت کے سوا کچھ بھی نہیں سوجھتا۔ اپنے ماں باپ‘ اپنی بیوی‘ اپنے رشتے کچھ نظر نہیں آتے اور ایک تم بے حمیت انسان ہو جو صرف اپنی خواہشات اور ضد کی تکمیل کی خاطر اپنے دوست کی بیوی پر بری نگاہ ڈالے بیٹھے ہو۔‘‘ سمیر تو جیسے پھٹ پڑا وہ بے ساختہ بولتا چلا گیا۔
’’اوشٹ اپ سمیر… میں بے حمیت انسان نہیں ہوں‘ حورین ہمیشہ سے میری ہی تھی اور میری ہی رہے گی۔ احتشام کو حورین کی زندگی سے جانا ہوگا۔‘‘
’’یہ کیا تم فلمی ڈائیلاگ بولتے رہتے ہو کہ حورین تمہاری تھی‘ تمہاری رہے گی وہ تمہاری کب سے کیسے ہوگئی؟ تم اس سے احتشام کی منگیتر کی حیثیت سے ملے تھے۔ تم تو ایسے ری ایکٹ کررہے ہو جیسے حورین بھابی اور تمہارے درمیان عہد و پیمان ہوئے تھے اور جیسے احتشام نے تم سے حورین بھابی کو چھین لیا ہے۔‘‘ سمیر برا سا منہ بناکر صاف گوئی سے بولا‘ سمیر کو لگی لپٹی کہنے کی عادت نہیں تھی وہ ہمیشہ دو ٹوک اور سچی بات منہ پر کہہ دیتا تھا۔ احتشام اور خاور سمیر کی اس عادت کی بناء پر اس کے سامنے جزجزہوجاتے تھے اس وقت خاور کی بھی یہی کیفیت ہوئی مگر پھر جلد ہی اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔
’’احتشام حورین کے کسی طور قابل نہیں اور ویسے بھی اسے حورین کی ذات سے قطعاً کوئی دلچسپی اور رغبت نہیں ہے شادی بھی محض حورین کی جائیداد کی خاطر کی تھی جب کہ حورین میری جان میری روح…!‘‘
’’اب کچھ بھی ہے وہ احتشام کے نکاح میں ہے اس کی منکوحہ اس کی بیوی ہے اور سب سے بڑھ کر وہ احتشام کی وفادار ہے اس سے محبت کرتی ہے۔ یہ تمام چیزیں حقائق پر مبنی ہیں اور جتنی جلدی تم اس سچائی کو قبول کرلو گے تمہارے لیے بہتر ہوگا۔‘‘ سمیر خاور کی بات درمیان میں سے قطع کرکے سنجیدگی سے بولا خاور کے منہ سے حورین کے لیے اس طرح کے القاب اسے قطعی پسند نہیں آئے تھے۔
’’اونہہ مائی فٹ وہ اس کے نکاح میں ہے جس طرح تین بول ادا کرکے یہ رشتہ قائم ہوا ہے اسی طرح تین ہی بول میں یہ رشتہ ختم ہوسکتا ہے اور رہی احتشام سے محبت کرنے کی بات تو میں حورین کے دل و دماغ سے احتشام کی شبیہہ اس کی چاہت کو کھرچ کر پھینک دوں گا اور ویسے بھی احتشام حورین کے ساتھ جو سلوک کررہا ہے اس کی بدولت حورین کی محبت تو جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ہوگی یا پھر دھوا ں بن کر فضا میں تحلیل ہوگئی ہوگی۔‘‘
خاور جیب سے سگریٹ کا ڈبہ نکال کر اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر لائٹر کی مدد سے اسے جلاتے ہوئے بولا تو سمیر نے حقیقی معنوں میں اپنا سر پیٹ لیا۔ کافی دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی طاری رہی‘ صرف لہروں کا شور گونجتا رہا‘ دونوں اپنی اپنی جگہ بیٹھے نجانے کیا کچھ سوچے جارہے تھے۔ خاور نے ایک سگریٹ ختم ہونے کے بعد جب دوسری سگریٹ سلگائی تو سمیر اسے سنجیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’خاور جس راستے کی جانب تم قدم بڑھا رہے ہو وہاں سوائے دشواریوں ‘ کھٹنائیوں اور مشکلات کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تم غلط راستے کا انتخاب کررہے ہو جس طرح یہ سگریٹ دھیرے دھیرے سلگ کر خود اپنا وجود فنا کررہی ہے کیا تم بھی یہ چاہتے ہو کہ تمہاری زندگی میں بھی یہی جلن رہے جو تمہیں پل پل سلگا کر تمہیں ختم کردے۔‘‘ سمیر کی بات پر خاور نے کسی بھی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ دلچسپی سے سمندر کی لہروں کے کھیل کو دیکھتا رہا جو ساحل پر بڑی شدو مد سے آکر ٹکراتیں اور پھر انتہائی بے اماں و کمزور سی ہوکر واپس سمندر کی جانب بڑھ جاتیں‘ سمیر تاسف سے محض خاور کو دیکھتا رہا جو اس پل سمیر کو یکسر نظر انداز کیے کھڑا تھا۔
ء…/…ء
حاکم دین عشا ء کی نماز پڑھ کر گھر آئے تو حسب معمول حورین روٹی بنانے کی غرض سے باورچی خانے میں چلی آئی اس نے سالن کو گرم کرنے کی خاطر چولہے پر چڑھایا جب کہ دوسرے چولہے پر توا رکھ کر آٹے کے پیڑھے بنانے لگی ۔ اس وقت اس کے ہاتھ روٹی بنانے میں مصروف تھے مگر ذہن احتشام کی جانب اٹکا ہوا تھا اس کے اجننی اور بیگانے انداز کی تو وہ عادی ہوچلی تھی مگر آج کل تو وہ اس سے یکسر بے زار ہوچلا تھا اس واقعہ کے بعد سے خاور تین چار بار گھر پر چکر لگا چکا تھا مگر حورین نے بھولے سے بھی اس کے سامنے آنے کی حماقت نہیں کی تھی جبکہ ایک دو بار احتشام نے اس کی آمد پر اسے آواز دے کر بلایا تھا مگر وہ ان سنی کرکے اپنے کمرے میں جاکر مقید ہوگئی تھی بعد میں احتشام نے اسے سخت سنائی تھیں مگر حورین نے اس سے جھوٹ کہہ دیا تھا کہ وہ باتھ روم میں تھی اس وقت بھی حورین بے حد پریشان تھی۔ خاور کے یہاں چکر بڑھنے سے اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کیا نہ کرے‘ کس سے کہے کیسے کہے؟ کافی دنوں سے پارس بھی اس سے ملنے گھر نہیں آئی تھی انہی سوچوں میں گم وہ روٹیاں بناتی چلی گئی ۔
رات کے کھانے سے فارغ ہوکر حاکم دین اور کبریٰ بیگم صحن میں بچھے پلنگ پر آکر بیٹھے تو حاکم دین اپنی بیوی کو دیکھتے ہوئے آہستگی سے بولے۔
’’احتشام کی ماں میں اس بچی کے سامنے خود کو بہت شرمندہ اور نادم محسوس کرتا ہوں‘ کتنے بڑے دل کی مالک ہے۔ حورین ہماری غلطیوں اور زیادتیوں کو اس نے کس طرح بھلا دیا کاش جیسی اعلیٰ فطرت اور خوب صورت دل کی مالک میری بیٹی ہے اسی طرح اس کا نصیب بھی ہوتا۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہتے ہو جی اگر حورین کی شادی احتشام ناقدرے سے نہ ہوئی ہوتی تو آج حورین اس طرح اداس شکستہ حال نہ ہوتی آپ جانتے ہیں نہ کہ میں آپ کے سامنے اکثر اوقات احتشام کی غلط حمایت کرتی تھی کیوں کہ اپنے بچے کے خلاف کوئی بات سننا نہیں چاہتی تھی حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر جب سے حورین سے اس نے زیادتیاں کرنی شروع کی ہیں مجھے احتشام پر غصہ آنے لگا ہے‘ حورین مجھے اپنی اولاد کی طرح عزیز ہے اس کی نیک فطرت اور فرمابرداری نے میرا دل جیت لیا ہے۔ ‘‘ کبریٰ بیگم بھی اپنے دل کی بات حاکم دین کی سامنے عیاں کرتی چلی گئیں تو حاکم دین محض ایک ہنکارا بھر کر رہ گئے۔ کچن میں اس پل کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھیں غالباً حورین صفائی میں مصروف تھیں۔
’’میں سوچ رہا ہوں نیک بخت کہ اگر یہ گھر ہمارا اپنا ہوتا اور دکان پگڑی کی نہ ہوتی تو میں یہ دونوں چیزیں حورین کے حوالے کردیا شاید اس طرح احتشام کی زیادتی کا کچھ ازالہ ہوجاتا۔‘‘
’’آپ نے بھی یہ خوب کہی اگر یہ دونوں چیزیں ہماری ملکیت ہوتیں تو احتشا‘ کب کا ہمارے سینے پر چڑھ کر یہ سب کچھ ہتھیالیتا ۔‘‘ کبریٰ بیگم تلخی سے ہنس کر بولیں۔
’’نجانے یہ لڑکا آج کل کن چکروں میں لگا ہوا ہے اتنی بڑی رقم ڈبو کر بھی اسے سبق نہیں ملا یقینا پھر کہیں یہ ہاتھ پیر مار رہا ہوگا۔‘‘
’’ہوں بالکل ہی دیوانہ ہوگیا ہے باہر جانے کا خبط جنون بنتا جارہا ہے مجھے تو اس کے جنون سے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ کبریٰ بیگم متفکرانہ انداز میں بولیں تو حاکم دین محض خاموش نگاہوں سے دیکھتے ہی رہ گئے یہی خوف و خدشات ان کے دل میں پروان چڑھ رہے تھے۔
ء…/…ء
حورین گیلے کپڑے بالٹی میں سے اٹھا اٹھا کر الگنی پر ڈال رہی تھی جب ہی وہاں احتشام چلا آیا‘ حورین کے ہاتھ اسے یہاں دیکھ کر رک گئے۔
’’شام کو تیار رہنا خاور ہمیں آج ڈنر پر لے جانا چاہتا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس کے جسم میں خفیف سی کپکپی دوڑی تھی وہ فوراً کپڑوں کی جانب متوجہ ہوکر آہستگی سے بولی۔
’’اس کی کیا ضرورت ہے شادی کو اتنے دن ہوگئے ہیں اور میرا بھی باہر جانے کو دل نہیں چاہ رہا ہے۔‘‘
’’میں تم سے پوچھ نہیں رہا‘ بتارہا ہوں شام سات بجے تیار رہنا سمجھ گئیں۔‘‘ وہ حکم صادر کرکے وہاں سے چلتا بنا جب کہ حورین نے انتہائی بے بسی سے ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو بالٹی میں دوبارہ پٹخ دیا وہ خاور کی نیت سے بخوبی آگاہ تھی وہ کسی بھی طور اس کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی مگر احتشام کے سامنے اس کی مرضی کہاں چلتی تھی وہ جو بھی کہتا حورین محض سر جھکا کر مان جایا کرتی تھی اب بھی ایسا ہی ہوا‘ فیروزی رنگ کے سارے سے جوڑے میں سادگی سے خود کو سنوارے وہ ٹھیک سات بجے تیار تھی۔ احتشام سات بجے کے بعد ہی گھر میں داخل ہوا تھا‘ خاور نے ان دونوں کو پک کرنے کے لیے گاڑی بمعہ ڈرائیور بھیجی تھی تقریباً آٹھ بجے وہ دونوں گھر سے نکلے تھے اور اس وقت وہ فائیو اسٹار ہوٹل کے پرسکون و رومانوی ماحول میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ خاور کچھ کچھ لمحات بعد حورین پر بھرپور نگاہ ڈال رہا تھا جب کہ حورین اندر ہی اندر خاور کی نظروں کی تپش محسوس کرکے خائف ہوئے جارہی تھی۔
’’لگتا ہے احتشام حورین بھابی کو یہ جگہ پسند نہیں آئی اتنی چپ چپ سی بیٹھی ہیں۔‘‘ خاور حورین کو گم صم بیٹھا دیکھ کر احتشام کو مخاطب کرکے مسکرا کر بولا۔
’’ارے بھئی پسند کیوں نہیں آئے گی یہ جگہ تو اس نے خوابوں میں بھی نہیں دیکھی ہوگی۔ میرے خیال میں یہاں کی خوب صورتی نے اسے مبہوت کردیا ہے۔‘‘ احتشام کی بات حورین کو انتہائی سطحی اور عامیانہ لگی اس پل وہ احساس کمتری کا مارا ایسا شخص لگا جو دوسروں کی ظاہری چمک دمک اور شان و شوکت دیکھ کر خود کو بالکل ہی ادنیٰ اور چھوٹا سمجھنے لگتے ہیں۔‘‘ حورین جواباً کچھ نہیں بولی تھی۔
’’خاور تم ذرا بیٹھو میں واش روم سے ہوکر آتا ہوں۔‘‘ احتشام اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا تو حورین نے گردن موڑ کر سہمی ہوئی ہرنی کی طرح انتہائی بے بسی سے احتشام کی جانب دیکھا جو اس کی جانب متوجہ ہوئے بناء رخ موڑ کر چلا گیا اس ماحول میں خاور کے ہمراہ تنہائی محسوس کرکے حورین کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب سی ہونے لگیں جب کہ خاور اب پوری توجہ سے صرف اسے دیکھتا چلا گیا۔
’’بہت پیاری لگ رہی ہو اس سادگی میں بھی خدا کی قسم غضب ڈھارہی ہو‘ میرا دل چاہ رہا ہے کہ تمہیں سب سے چھپالوں تم پر کسی کی بھی نظر نہ پڑنے دوں۔‘‘ خاور انتہائی گمبھیر لہجے میں بولا تو حورین کو اپنی کنپٹیوں کی نسیں کھنچتی ہوئی محسوس ہوئیں ناگواری و طیش کی لہر اس کے اندر سے ابھری۔
’’بند کریں اپنی یہ گھٹیا فضول باتیں اور آئندہ اگر مجھ سے اس طرح کی گفتگوآپ نے کی تو…‘‘ وہ بولتے بولتے قدرے رکی تھی۔
’’تو… تو کیا کرلوگی تم احتشام سے کہو گی اس سے میری شکایت کرو گی؟‘‘ یہ کہہ کر وہ خود ہی اپنی بات پر حظ اٹھانے لگا تھا حورین نے نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’آپ کو شرم آنی چاہیے میں آپ کے دوست کی بیوی ہوں۔‘‘
’’مگر اس سے پہلے تم میری چاہت میری محبت ہو‘ حورین تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا‘ کیوں کرلی تم نے احتشام سے شادی تمہیں معلوم ہے کہ میں تمہاری یاد تمہارے ہجر میں کتنا تڑپا ہوں تمہاری آواز سننے ‘ تمہیں محسوس کرنے کی خاطر تمہیں فون کرتا تمہیں…‘‘
’’کیا… تو آپ مجھے فون کرتے تھے؟‘‘ حورین کے لیے یہ انکشاف ہی تو تھا وہ انتہائی اچنبھے سے اسے دیکھتے ہوئے خاور کی بات درمیان میں کاٹ کر حیرت سے بولی۔
’’ہاں وہ میں ہی تھا میں اس دن سے تمہارے عشق میں غرق ہوں۔ جب پہلی بار میں نے تمہیں دیکھا۔‘‘ وہ ہنوز لہجے میں بولا تو حورین کی آنکھوں میں بے بسی و تکلیف کے احساس سے نمی آگئی۔
’’خدا کے واسطے خاور بھائی اس طرح کی باتیں مجھ سے مت کریں‘ مجھے گناہ گار مت کریں اپنے اللہ کے سامنے شرمسار مت کریں۔‘‘ انتہائی عاجزی سے بولتے بولتے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر رکھ لیا۔
’’حورین تم…‘‘
’’خاور یار یہاں کے واش روم تو ہمارے گھر کے ڈائننگ روم سے بھی زیادہ حسین اور خوب صورت ہیں۔‘‘ اسی پل احتشام وہاں چلا آیا تھا خاور نے فوراً اپنی زبان کو روک لیا تھا جب کہ حورین نے بڑی تیزی سے خود کو سنبھالا تھا۔
’’اچھا جب ہی تُو وہاں جاکر واپس ہی نہیں آرہا تھا۔‘‘ خاور ہنستے ہوئے بولا تو احتشام جھینپ سا گیا پھر دونوں ادھر اُدھر کی باتوں میں مگن ہوگئے اسی دوران کھانا بھی سرو کردیا گیا مگر حورین کا وجود جیسے ریزہ ریزہ ہوتا رہا۔
ء…/…ء
پھر آنے والے دنوں میں خاور نے جیسے اس کا ناطقہ بند کردیا وہ کسی آسیب کے مانند اس کے پیچھے لگ گیا تھا حورین کی مارے دہشت و خوف سے بری حالت تھی وہ سوچ رہی تھی کہ اگر احتشام کو ذرا بھی اس بات کی بھنک پڑگئی تووہ کھڑے کھڑے اس کی کردار کشی کرکے اسے گھر سے نکال باہر کرے گا۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ احتشام اس کے بجائے خاور کی بات پر بھروسہ کرے گا اسے کبھی بھی غلط اور مورد الزام نہیں ٹھہرائے گا جبکہ اگر وہ اس بات کاتذکرہ خالہ خالو سے کرتی توبھی ایک بہت بڑا تماشہ کھڑا ہونے کا احتمال تھا۔ وہ خاور اور احتشام دونوں سے انتہائی سختی سے پیش آتے لہٰذا عافیت اس نے اسی میں سمجھی کہ خاموش رہا جائے اور کسی سے بھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا جائے ویسے بھی آج کل خالہ اور خالو کی طبیعت کچھ ناساز ہی رہتی تھی۔
حورین کے پاس سوائے چپ رہ کر خاور کی بے باکیوں اور جرأتوں کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اس وقت صحن میں بیٹھی ساگ چن رہی تھی جب ہی فون کی گھنٹی بجی‘ حال ہی میں خاور کے توسط سے ان کے گھر پر فون لگا تھا۔ حورین نے دز دیدہ نگاہوں سے ایک جانب رکھے ٹیلی فون سیٹ کو دیکھا وہ بخوبی جانتی تھی کہ دوسری جانب کون ہوگا خالہ اس وقت اپنے کمرے میں آرام کررہی تھیں جبکہ خالو دکان میں تھے ناچار حورین کو اٹھ کر فون اٹینڈ کرنا پڑا ۔
’’ہیلو…‘‘ وہ پھنسی پھنسی آواز میں بولی تو دوسری جانب خاور کی گمبھیر آواز ابھری۔
’’کیا کررہی تھی جانِ خاور؟ میں تویہاں پل پل تمہاری یاد میں سلگ رہا ہوں آہیں بھررہا ہوں‘ کبھی تم بھی ہمیں یاد کرلیا کرو ڈئیر!‘‘ خاور کی بکواس سن کر حورین کے کان کی لوئیں سرخ ہوگئیں۔
’’آپ کو شرم آنی چاہیے خاور بھائی! اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ انتہائی گھٹیا گفتگو کرتے ہوئے اس طرح کی حرکتیں آپ جیسے اعلیٰ خاندان کے حامل انسان کو زیب نہیں دیتیں‘ کچھ تو لحاظ کریں اپنی ویلیوز کا۔‘‘ اسے لگا جیسے آج اس کا پیمانہ ضبط چھلک جائے گا وہ دبی دبی آواز میں انتہائی نفرت و تنفر بھرے لہجے میں بولی جب کہ خاور یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر مقابل کو چت کرنا ہو اس کو قابو کرکے اپنی دسترس میں لینا ہو تو سب سے پہلا گُر یہ ہے کہ اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے دماغ کو بھی اپنا تابع بناکر چلایا جائے اور مشتعل یا جذباتی ہونے کے بجائے بالکل ٹھنڈے ہوکر وار کیا جائے تو کامیابی یقینی طورپر قدموں کو چومے گی۔
خاور ہمیشہ ان اصولوں پر چلتا تھا اور جیت اس کا مقدر بنتی تھی ابھی بھی وہ مشتعل ہونے کے بجائے مزید دھیما اور ٹھنڈا ہوگیا تھا۔
’’شرم مجھے نہیں بلکہ احتشام کو آنی چاہیے‘ تم میری ہو حورین! میری محبت میری چاہت اور وہ غاصب تمہیں مجھ سے چھین کر تم پر قابض ہوکر بیٹھا ہے۔‘‘
’’آپ دوستی کی آڑ میں احتشام کی پیٹھ پر چھرا گھونپ رہے ہیں۔‘‘
’’اونہہ اور وہ کیا کررہا ہے؟ وہ تو تمہاری صورت تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا‘ تم سے شادی سے انکار کرچکا تھا محض تمہارے پاس موجود کاغذ کے چند ٹکڑوں کی خاطر اس نے تم کو اپنی زندگی میں شامل کیا اور دیکھنا ان ہی چند ٹکڑوں کے عوض وہ تمہیں اپنی زندگی سے نکال باہر کرے گا۔‘‘ حورین اپنی جگہ سن سی کھڑی رہ گئی خاور کے سفاکانہ مگر حقیقت پر مبنی لفظوں نے اسے اندر سے بری طرح ادھیڑ کر رکھ دیا۔
’’آہ…‘‘ تکلیف کا بے پایاں احساس اس کے روم روم سے یکدم پھوٹ پڑا‘ اس کے ہونٹوں سے ایک کراہ برآمد ہوئی دوسری جانب سے لائن کٹ چکی تھی اس نے انتہائی خاموشی سے فون کریڈل پر رکھا اور ڈگمگاتے قدموں سے تخت پر آن بیٹھی‘ آنکھوں میں یک لخت آنسوئوں کی طغیانی آپہنچی اور پھر تیزی سے گالوں پر بہنے لگی۔ اسے اس پل اپنے ماں باپ شدت سے یاد آئے‘ وہ بے آواز وہیں بیٹھی روتی چلی گئی جب حاکم دین نے اس پر یہ راز منکشف کیا تھا کہ صرف احتشام کے منع کرنے پر اس کا باپ زندگی کی بازی ہار گیا تھا تو وہ دکھ و صدمے کی اتھاہ گہرائیوں میں اترگئی تھی۔ احتشام سے اس سمے اسے نفرت محسوس ہوئی تھی مگر احتشام نے انتہائی سنگدلی اور ڈھٹائی سے حورین پر یہ جتایا تھا کہ محض چند پیسوں کی خاطر اس نے اسے اپنی سیج پر لاکر بٹھایا ہے اس پل اسے خود سے نفرت محسوس ہوئی تھی وہ یونہی بیٹھی زارو قطار روتی چلی گئی۔
ء…/…ء
احتشام کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا اس کے پیر جوش و انبساط سے زمین پر ٹک ہی نہیں رہے تھے اسے جیسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی تھی آج اس کے عرصہ دراز سے دیکھے جانے والے خوابوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ آج حقیقی معنوں میں وہ زندہ ہوا تھا اسے گویا اپنی زندگی مل گئی تھی۔ خاور نے انگلینڈ کا ویزا جب اس کے ہاتھوں میں لاکر تھمایا تومارے تشکر و خوشی کے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اس نے بے اختیار پوری طاقت سے خاور کو اپنے بازوئوں میں بھینچ لیا تھا۔
’’شکریہ میرے دوست‘ آج تم نے مجھے خرید لیا ہے یار! میری زندگی مجھے عطا کردی ہے۔‘‘ احتشام جذباتی لہجے میں سر اٹھا کر بولا تو خاور نے اس کا کندھا تھپک کر اپنے سینے سے لگالیا۔
کبریٰ بیگم حاکم دین اور حورین ساکت لبوں مگر بولتی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ احتشام کو آج سے پہلے ان تینو ں نے اتنا پُرجوش کبھی نہیں دیکھا تھا وہ گھر میںمٹھائی کا ڈبہ بھی لایا تھا اور آتے ہی کبریٰ بیگم کے گلے سے لگ گیا۔
’’ارے احتشام بچے کیا ہوا اتنا خوش کس بات پر ہورہا ہے۔‘‘ کبریٰ بیگم حیران حیران سی قدرے خوشگواری سے بولی تھیں۔
’’مجھے ویزا مل گیا ہے اماں! میں بیرون ملک جارہا ہوں‘ بہت جلد میں جارہا ہوں اماں لندن… مجھے میری زندگی مل گئی ہے۔‘‘ وہ ان کے دونوں بازوئوں پر ہاتھ رکھ کر فرط جذبات میں دباتا ہوا بولا تو کبریٰ بیگم محض ٹکر ٹکر دیکھتی رہ گئیں جب کہ کچن کے دروازے پر کھڑی حورین عجیب سی کیفیات میں گھری احتشام کی خوشی و جوش کو ملا حظہ کرتی رہی۔ حاکم دین جب دکان سے گھر آئے اور اس بابت انہیں معلوم ہوا تو گویا الفاظ ان کے پاس بھی ختم ہوگئے بس صرف احتشام تھا جو پورے گھر میں سرمستی سے اونچا اونچا بولتا رہا قہقہے لگارہا تھا۔
ء…/…ء
ڈوبتا سورج اپنے تمام رنگوں کو آسمان کی وسعتوں پر بکھیر چکا تھا۔ پرندے دن بھر کی مسافت طے کرکے اب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہورہے تھے۔ سبک و خنک ہوا خراماں خراماں محو سفر تھی۔ مخصوص جگہ پر آج تینوں دوست بہت عرصے بعد یوں اکٹھے ہوکر بیٹھے تھے۔ احتشام کی خوشی دیدنی تھی وہ کچھ ہی دنوں میں لندن جانے والا تھا جب کہ خاور اس کی خوشی میں خوش نظر آرہا تھا اور سمیر خاور کی اس خوشی کے پیچھے اس کے مقصد اور اس کی مسرت کو صاف محسوس کررہا تھا۔
’’تم دیکھنا خاور! میں ایک دفعہ یہاں سے چلا جائوں گا تو واپس مڑ کر بھی نہیں دیکھوں گا۔ مجھے بہت آگے جانا ہے اپنی زندگی کو بنانا ہے‘ ہر اس چیز کو حاصل کرنا ہے جو ہمیشہ میری دسترس سے دور رہی۔‘‘ احتشام پرعزم لہجے میں بولا تو سمیر نے اسے بغور دیکھا۔
’’احتشام اپنی زندگی کی رنگینیوں میں گم ہوکر تم اپنے ماں‘ پاپ اور شریک سفر کو مت بھول جانا‘ زندگی کی اصل دولت یہ رشتے ہیں اگر تم انہیں فراموش کردو گے تو ساری زندگی تہی دامن رہ جائو گے۔ دوست وہاں جاکر ان رشتوں سے غافل مت ہوجانا‘ ان سے رابطے میں رہنا۔ تم جو اپنائیت اور پیار انہیں یہاں رہ کر نہ دے سکے کوشش کرنا دیار غیر میں جاکر ان کو یہ احساس بخش دینا۔‘‘ سمیر کھوئے کھوئے لہجے میں بولا تو احتشام نے کافی چونک کر اسے دیکھا۔ چند ثانیے کے لیے وہ بالکل خاموش سا رہ گیا پھر کھنکتے لہجے میں خاور سے استفہامیہ انداز میں بولا۔
’’خاور میرا ٹکٹ تو جلدی آجائے گا نا اب تو مجھ سے ایک دن بھی انتظار نہیں ہورہا۔‘‘ سمیر نے دیکھا کہ احتشام نے اس کی بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑادیا ہے مگر اسے جتایا نہیں بس خاموش ہی رہا۔
’’ارے میری جان آجائے گا تُو فکر کیوں کرتا ہے ویزا آگیا ہے تو ٹکٹ ملنا کون سی مشکل بات ہے۔‘‘ خاور کندھے اچکا کر بے پروائی سے بولا تو احتشام اسے تشکر آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔
’’شکریہ دوست‘ تم نے میرا بے حد ساتھ دیا میں وہاں پہنچ کر ان شاء اللہ تمہاری رقم تمہیں واپس کردوں گا۔‘‘
’’تم ابھی رقم کی ٹینشن مت لو‘ پہلے وہاں سیٹ ہونے کی کوشش کرنا‘ اوکے۔‘‘ خاور کے انداز پر احتشام مزید اس کا ممنون ہوگیا جب کہ سمیر شاہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھے گیا اب کچھ کہنے کرنے کا شاید فائدہ نہیں رہا تھا۔
ء…/…ء
اور پھر ایک دن احتشام چلا گیا شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے ماں باپ کی یاس بھری لجاتی نگاہوں کو نظر انداز کرکے حورین کی خاموش التجائوں کو ان دیکھا کرکے کسی کے بھی جذبوں کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ شاید اس سرزمین کے ساتھ ساتھ ان تمام رشتوں کو بھی چھوڑ گیا تھا۔ جاتے سمے حورین نے انتہائی دل گرفتگی سے پوچھا تھا۔
’’آپ واپس تو لوٹ کر آئیں گے نا احتشام! ہم سب آپ کا انتظار کریں گے۔‘‘
اس سنگ دل کٹھور شخص کو اس نے اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہا تھا اس کے کورے دل میں ابھرنے والی سب سے پہلی شبیہ اسی کی تھی اس کے سنہری کنوارے خوابوں اور روپیلے ارمانوں میں شامل ہونے والا یہی پہلا شخص تھا۔ جو آج انتہائی اجنبی و بے گانہ بن کر اسے بناء کوئی آس کوئی تسلی و حوصلہ دیئے خاموشی سے جارہا تھا‘ بہت دور جارہا تھا۔
حورین کی بات پر اپنی بیکنگ میں مصروف احتشام نے ذرا کی ذرا نظریں اٹھا کر پاس کھڑی پنک کلر کے ملگجے سے شلوار سوٹ میں ملبوس بے ترتیب بالوں اور ستے چہرے سمیت حورین کو دیکھا اس پل حورین کی آنکھوں میں آس و امید کے جگنو آن واحد میں نجانے کہاں سے آکر ٹمٹمانے لگے تھے۔ احتشام محض اسے چند ثانیے دیکھ کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا جبکہ حورین کا دامن اس پل اس کے دل اور روح کی طرح بالکل خالی ہوگیا تھا۔
گھر میںجیسے سناٹے بول رہے تھے ایک شخص کے چلے جانے سے گویا ایسا معلوم ہورہا تھا کہ پورا شہر ہی خالی ہوگیا ہو ‘ اپنے اندر اور باہر کی وحشتوں سے گھبرا کر وہ صحن میں بنے چھوٹے سے باغیچے میں چلی آئی جہاں حاکم دین کو اس نے گہری سوچوں میں مستغرق پایا۔
’’کیا سوچ رہے ہیں ابا!‘‘ حورین دھیمے لہجے میں بولی تو حاکم دین نے اسے چونک کر دیکھا پھر گہری سانس فضا کے سپردکرتے ہوئے ٹھنڈے لہجے میں بولے۔
’’کچھ نہیں بیٹی اب تو کچھ سوچنا بھی چاہتا ہوں تو ذہن سوچنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا۔‘‘
’’تو مت سوچا کریں نا‘ اللہ کی ذات پر سب کچھ چھوڑدیں وہ ہی ہم سب کا مسبب الاسباب ہے اپنی بساط سے زیادہ اگرہم ہاتھ پائوں چلانے کی کوشش کرتے ہیں تو ڈوب جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘‘ حورین سنجیدگی سے بولی پھر جلدی سے موضوع بدلتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’خالہ امی! کیا کررہی ہیں ‘ میں انہیں بھی باہر بلاتی ہوں پھر چائے ایک ساتھ ہی پئیں گے۔‘‘
’’تمہاری خالہ اس وقت سورہی ہے بیٹا! کل رات ایک پل کے لیے بھی اس کی آنکھ نہیں جھپکی‘ ساری رات جاگتی رہی ہے وہ۔‘‘ حاکم دین مضمحل لہجے میں بولے۔ ’’کل شام جب احتشام کا وہاں خیریت سے پہنچ جانے کا فون آیا تھا تب سے ہی کبریٰ بیگم عجیب سی بے قراری میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ احتشام نے فقط اپنے پہنچنے کی اطلاع دی تھی اور پھر فون بند کردیا تھا۔‘‘
’’اوہ مگر اس طرح تو ان کی طبیعت خراب ہوجائے گی ابا! آپ انہیں سمجھایئے نا کہ ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’میں تو اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکا ہوں بیٹا مگر وہ ایک ماں ہے جس کا دل ہمہ وقت اپنے بچے کی طرف سے مختلف واہموں اور اندیشوں میں گھرا رہتا ہے۔ وہ مجھ پر ظاہر نہیں کرتی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ جھلی احتشام سے بے پناہ محبت کرتی ہے اس کو دیکھے بناء زندہ رہنا بہت مشکل ہے اس کے لیے۔ میں دیکھتا تھا کہ جب تک احتشام گھر میں داخل نہیں ہوجاتا وہ جاگتی رہتی تھی‘ ہاتھ اٹھا کر گاہے بگاہے دعائیں کرتی رہتی تھی اور اب جب کہ وہ سات سمندر پار اتنی دور چلا گیا ہے تو اس کی ممتا کو بھلا کیسے قرار آسکتا ہے۔‘‘ حاکم دین رنجیدگی کے عالم میں بولتے چلے گئے جب کہ آنکھوں میں آئی نمی بہت آہستگی سے انہوں نے پونچھی تھی۔ حورین بے بسی سے انہیں دیکھتی رہ گئی اگر اس کے ہاتھ میں ہوتا تو ان دونوں کو ایک پل کے لیے بھی اداس اور افسردہ نہ ہونے دیتی مگر ان کی طرح وہ بھی بہت بے بس اور مجبور تھی وہ کسی کے لیے بھی کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی۔
’’ابا! احتشام چلے گئے تو کیا ہوا‘ آپ کی یہ بیٹی تو آپ کے پاس موجود ہے نا اور یہ بیٹی آپ دونوں کو چھوڑ کر کبھی بھی کہیں نہیں جائے گی۔‘‘ حورین بمشکل خود کو سنبھال کر حاکم دین کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے محبت سے بولی تو حاکم دین نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔
’’جیتی رہو میری بیٹی! اللہ تمہیں بے حساب خوشیاں دے۔‘‘ حورین خاموشی سے ان کے دعائیہ جملے پر غور کرتی رہ گئی۔
ء…/…ء
’’خاور! اب تم اپنی زندگی کے متعلق کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے‘ تمہارے دونوں دوست سمیر اور احتشام شادی کرکے اپنی لائف میں مصروف ہوگئے ہیں آخر تم اپنے بارے میں کیا سوچ کر بیٹھے ہو۔‘‘ حیات اقبال کافی دنوں سے خاور سے اس موضوع پر بات کرنا چاہتے تھے آج انہیں وقت و موقع ملا تو انہوں نے خاور کو جالیا۔
’’ریلیکس ڈیڈ! آپ اتنا ٹینس مت ہوں‘ میں شادی سے انکار کب کررہا ہوں بس تھوڑا اور انتظار کرلیں۔‘‘ خاور چکن کا پیس کانٹے میں پھنساتے ہوئے بڑے سکون سے بولا تو حیات اقبال اپنے بیٹے کو کھوجتی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے استفہامیہ انداز میں بولے۔
’’خاور چکر کیا ہے؟ مجھے کلیئر بتائو تم کس مشن میں لگے ہوئے ہو؟‘‘ وہ خاور کے باپ تھے اپنے بیٹے کی رگ رگ سے آشنا تھے اس کے انداز و اطوار انہیں بہت پہلے کافی کچھ باور کراچکے تھے مگر قصداً خاموش تھے کیونکہ وہ خاور کی ضدی فطرت اور ہٹیلے اطوار سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔
’’اوہ ڈیڈ! آپ نے تو کسی جاسوس کی طرح مجھے کھوجنا شروع کردیا ہے آپ بالکل مطمئن رہیں خاور حیات کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا۔‘‘ وہ آج پہلے دنوں کی نسبت کافی پرسکون اور قدرے خوش دکھائی دے رہا تھا۔
’’اوکے‘ میں تم پربھروسہ کرتا ہوں میرے بیٹے! مگر جو بھی کرنا یہ دیکھ کر کرنا کہ اس سے ہماری پوزیشن پر کوئی حرف نہ آئے۔‘‘ حیات اقبال تنبیہی انداز میں بولے تو ڈنر میں مصروف خاور نے محض اثبات میں سر ہلادیا۔
ء…/…ء
سمیر شاہ ان دنوں امریکہ جانے کی تیاریوں میں مشغول تھا اس کے والد اپنی کمپنی کی ایک برانچ شکاگو میں کھولنا چاہ رہے تھے سمیر کو ہی وہاں کا چارج سنبھالنا تھا وہ ساحرہ اور اپنے بیٹے کو بھی اپنے ہمراہ لے کر جارہا تھا ملک چھوڑنے سے پہلے وہ کبریٰ بیگم حاکم دین اور حورین سے ملنے آیا تھا۔
’’انکل ایک دوست اور خیر خواہ ہونے کی حیثیت سے میں نے احتشام کو ہر ممکن حد تک سمجھانے کی کوششیں کیں مگر سب کی سب بے سود اور اکارت ثابت ہوئیں وہ اپنی ضد کا بے حد پکا نکلا۔‘‘ سمیر تاسف بھرے لہجے میں بولا تو حاکم دین ایک گہری آہ بھر کر گویا ہوئے۔
’’تم جیسا دوست احتشام کو نصیب سے ملا تھا مگر اس نے کانچ کا ٹکڑا سمجھ کر تمہاری قدر نہیں کی۔‘‘
’’احتشام کو گئے ایک ماہ ہوگیا ہے بیٹا! بس وہاں پہنچ کر ہی اس نے اطلاع دی تھی اس کے بعد اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔‘‘ کبریٰ بیگم اداسی سے بولیں تو سمیر محض خاموشی سے انہیں دیکھ کررہ گیا اسی دوران حورین چائے اور لوازمات کے ساتھ ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی تو سمیر نے مودبانہ انداز میں اسے سلام کیا۔ حورین کا پھیکا چہرہ اور بے رنگ روپ دیکھ کر اسے حقیقی معنوں میںدکھ و تکلیف ہوئی احتشام کتنے لوگوں کے دلوں کو توڑنے کا سبب بنا تھا۔
’’آپ لوگ اپنا خیال رکھیے گا ‘ احتشام چلا گیا تو کیا ہوا حورین بھابی ہیں نا۔‘‘ سمیر انہیں تسلی دینے کی غرض سے بولا تو حورین کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ در آئی پھر سمیر ان سب کو خدا حافظ کہہ کر بوجھل دل اور کثیف روح لیے وہاں سے چلا آیا۔
ء…/…ء
ہیتھرو ائیر پورٹ سے اپارٹمنٹ کا راستہ اس نے ایک خواب کی کیفیت میں طے کیا تھا‘ اسے اب تک یقین نہیں آرہا تھاکہ وہ لندن کی سرزمین میں پہنچ چکا ہے جس کی خوب صورتی و کشش اور روشنیاں اس کی آنکھوں کو چکا چوند کیے دے رہی تھیں۔ خاور کے جاننے والے نے اسے ایک انتہائی چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں پہنچادیا تھا جہاں اس کے علاوہ مزید چار پاکستانی لڑکے موجود تھے جو اسی کی طرح راتوں رات امیر بننے کی خاطر یہاں اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آئے تھے۔ احتشام نے پورا ایک ہفتہ بڑے مزے سے گزارا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ادھر جنت نگری میں آگیا تھا جھٹکا تو اسے اس وقت لگا جب اس کے ساتھ کے لڑکوں نے 20 پائونڈ مانگے۔
’’اتنے روپے مگر میرے پاس تو کچھ نہیں ہے۔‘‘ وہ قدرے پریشان ہوکر بولا تھا۔
’’تم کیا سمجھ رہے ہو‘ کیا ہم تمہیں مفت کا کھلائیں گے یہاں ہر بندہ ہفتہ وار 20 پائونڈ ادا کرتا ہے اتنی رقم دو گے تو یہاں رہ سکتے ہو ورنہ اپنا کہیں اور بندوبست کرلو۔‘‘ ریاض انتہائی غصے سے بولتا اپنا اوور کوٹ پہن کر باہر چلا گیا جب کہ احتشام خاموشی سے محض اسے جاتا دیکھتا رہا۔
ء…/…ء
دن خاموشی سے آہستہ آہستہ سرکتے جارہے تھے حاکم دین اور کبریٰ بیگم نے بہت حد تک خود کو سنبھال لیا تھا۔ حورین بھی بظاہر کاموں میں مصروف رہتی تھی کسی کے چلے جانے سے زندگی کی گاڑی کبھی نہیں رکتی۔
تُو نے دیکھا ہے
کبھی چاند پہ بہتا پانی؟
میں نے دیکھا ہے
یہ منظر اس کے رخسار پہ اکثر
آج چوہدویں کا چاند اپنے پورے جوبن کے ساتھ آسمان کی وسعتوں پر بیٹھااپنی چاندنی بکھیر رہا تھا۔ حورین چھت پر کھڑی خالی خالی نگاہوں سے چاند کو تکے جارہی تھی‘ نجانے کب اور کیسے آنکھوں کے رستے نکلی نمی نے اس کے گالوں کو بھگو ڈالا تھا۔ وہ ماحول سے اس قدر بے گانہ تھی کہ خاور کی آمد کا پتا ہی نہیں چلا جو اس کے پہلو میں کھڑا والہانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھاحورین کرنٹ کھاکر حال میں واپس آئی تھی پھر بے تحاشا ناگواری سے اسے دیکھ کر پرے کھسک کر گویا ہوئی۔
’’آپ یہاں کیوں آگئے براہ مہربانی یہاں سے چلے جائیں۔‘‘خاور حورین کے لہجے میں بے زاری و گانگی محسوس کرکے مسکرادیا اور انتہائی دلنشیں انداز میں یہ شعر پڑھا۔
سجدوں میں گزار دو ں اپنی ساری زندگی فرازؔ
اک بار وہ کہہ دے مجھے دعائوں سے مانگ لو
حورین نے بمشکل اپنے اشتعال کو روکا تھا وہ یہ بات بخوبی جان گئی تھی کہ خاور کو چاہے وہ کتنا ہی ڈانٹ پھٹکار لے وہ باز آنے والوں میں سے نہیں ہے سو بناء کچھ بولے وہ جانے کو پلٹی۔
’’احتشام کا انتظار لاحاصل ہے حورین!وہ کبھی بھی پلٹ کر تمہارے پاس نہیں آئے گا اسے نہ کل تمہاری چاہ تھی اور نہ آگے ہوگی۔ کیوں اس خودغرض ناقدرے شخص کی خاطر اپنی ذات پر روگ لگارہی ہو۔ میرے پاس آجائو حورین! میری بن جائو پھر دیکھنا میں تمہیں اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا۔‘‘ وہ حلاوت آمیز لہجے میں بولا تھا‘ حورین اس کی جانب پلٹی پھر بغور اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوئی۔
’’احتشام چاہے لوٹ کر آئے یا نہ آئے مگر میں یہیں کھڑی رہوں گی‘ اس نے راستہ بدل لیا مگر میں اسی راستے پر اس کی منتظر رہوں گی۔ پہلے میں صرف اس کی بیوی اس کی جیون ساتھی تھی مگر اب اس کی ہونے والی اولاد کی ماں بھی ہوں۔‘‘ وہ خاور حیات کو زلزلوں کی زد میں دھکیل کر تیزی سے مڑ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ خاورحیات مائوف ہوتے ذہن کے ساتھ ساکت سا کھڑا حورین کے جملوں پر غور کرتا رہ گیا۔
ء…/…ء
پارس آج بہت دنوں بعد اس سے ملنے آئی تھی اپنے ساتھ وہ اپنی شادی کا دعوت نامہ بھی لائی تھی‘ حورین اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اتنے عرصے بعد اپنی عزیز از جان سہیلی اور ہمدرد کو دیکھ کر اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہوگئیں۔
’’حورین شادی کے بعد تم نے ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا اگر میں نہیں آسکی تھی تو تم ہی آجاتیں۔‘‘ وہ اس کے گلے لگ کر محبت سے شکوہ کرتے ہوئے بولی تو حورین محض تلخی سے مسکرا کر رہ گئی‘ کتنی ویران اور پھیکی پھیکی سی لگ رہی تھی اس پل حورین پارس کو اس کی یہ حالت بے پناہ دکھ دے گئی اور پھر پارس کے انتہائی اپنائیت و محبت سے پوچھنے پر وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی۔ اپنی سہیلی کی روداد اسے صدمے و تکلیف کے سمندر میں دھکیل گئی‘ وہ حورین کو گلے لگا کر بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
’’تمہارے ساتھ اتنا کچھ ہوگیا اور مجھے پتا بھی نہیں چلا حورین! احتشام بھائی ایسے نکلیں گے یہ تو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا‘ بہت بُرا کیا انہوں نے تمہارے ساتھ۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولے گئی تو حورین بھی خود پر ضبط نہ کرسکی اپنے دل کا غبار آنسوئوں کی صورت آنکھوں کے رستے نکالے گئی۔ کافی دیر بعد دونوں بمشکل سنبھلیں تو حورین نے اسے بتایا کہ احتشام پہلے ہی شادی سے انکار کرچکا تھا مگر بعد میں محض اس کے مکان ودکان کی خاطر شادی پر آمادہ ہوا تھا جبکہ یہ بات پارس پہلے سے جانتی تھی وہ خاموشی سے حورین کو دیکھے گئی جو مزید کہہ رہی تھی۔
’’اگر مجھے یہ بات پہلے ہی معلوم ہوجاتی تو میںکبھی بھی احتشام سے شادی نہیں کرتی‘ یہ درست ہے کہ وہ میری پہلی چاہت میری اولین آرزو تھا مگر وہ میرے ابا کو اتنا بڑا صدمہ دینے کا سبب بھی بنا تھا جس کی وجہ سے وہ جانبر نہ رہ سکے تھے اور مجھے اس بے ثباتی دنیا میں تنہا و لاچار چھوڑ کر دوسرے جہان سدھار گئے تھے۔
’’احتشام اگر یونہی مجھ سے گھر دکان مانگتا تو بخدا میں فوراً یہ چیزیں اس کے حوالے کردیتی مگر ایک بار ٹھکرائے جانے کے بعد کبھی اس سے شادی نہیں کرتی۔‘‘ حورین کے منہ سے یہ سب سن کر پارس کے اندر یکدم ہلچل سی مچ گئی‘ جسم کے اندر گردش کرتا خون انتہائی تیز رفتاری سے دوڑنے لگا اس نے انتہائی متوحش ہوکر حورین کو دیکھا جو اپنے دل کی کیفیت اس کے سامنے بیان کرکے اب خاموش ہوگئی تھی۔ پارس عجیب سی کیفیت میں گھری اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوئے بولی۔
’’حورین میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ پارس کی بات پر حورین نے اسے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا اس پل پارس اسے کافی ڈسٹرب سی لگی۔
’’کیا بتانا چاہتی ہو پارس!‘‘
’’میں یہ بات جان چکی تھی کہ…‘‘ وہ قدرے رکی پھر تیزی سے بولی۔ ’’کہ احتشام بھائی تمہارے ساتھ منگنی توڑ چکے ہیں۔‘‘ حورین کو لگا جیسے اس نے سننے میں کوئی غلطی کی ہو۔
’’کیا… کیا مطلب؟ میں سمجھی نہیں پارس! تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟‘‘ وہ بے تحاشا الجھ کر گویا ہوئی۔
’’ہاں حورین! جن دنوں تم اپنے ابا کے گزر جانے کے صدمے میں نڈھال تھیں اور میں اکثر اوقات تمہارے پاس ادھر آتی تھی انہی دنوں جاتے ہوئے میں نے غیر ارادی طور پر تمہارے خالہ خالو کی باتیں سن لی تھیں اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ احتشام بھائی ہر رشتہ ختم کرچکے ہیں اور اس بات کا صدمہ تمہارے ابا کی زندگی کو…‘‘ اتنا کہہ کر پارس خود ہی خاموش ہوگئی تھی۔ حورین چند ثانیے انتہائی بے یقینی و تحیر کے عالم میں اسے دیکھے گئی پھر انتہائی دقتوں کے بعد دھیرے سے بولی۔
’’تم یہ بات پہلے ہی جان چکی تھیں کہ احتشام مجھے ٹھکرا چکا تھا میرے ساتھ ہر رشتہ ختم کرچکا تھا۔‘‘ پارس نے حورین کی بات پر مجرموں کی مانند اثبات میں سر ہلایا تو اس پل حورین کو لگا جیسے اس کی سانسوں میں کانٹے بھرگئے ہوں‘ جسم کی رگوں میں جیسے آرے سے چل گئے ہوں۔ اس کی عزیز از جان سہیلی نے اسے اتنی بڑی سچائی سے لاعلم رکھا تھا وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہ گئی۔ اگر پارس اسے حقیقت سے آگاہ کردیتی تو وہ مر کر بھی احتشام کی زندگی میں داخل نہیں ہوتی۔
’’تم نے بہت بڑا ظلم کردیا پارس! یہ تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘ کافی دیر بعد حورین بولی تو اس کے لہجے میں ٹوٹے ہوئے کانچوں جیسی چبھن تھی۔ پارس نے انتہائی تڑپ کر گردن اٹھائی۔
’’حورین مجھے لگا کہ احتشام بھائی کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے وہ پورے خلوص کے ساتھ تمہیں اپنا رہے ہیں مجھے یہ ہر گز اندازہ نہیں…‘‘
’’احتشام کے والدین سے تو میں کوئی شکوہ شکایت نہیں کرسکتی تھی کیوں کہ احتشام ان کی اولاد تھا اور پھر وہ اپنے بیٹے کے اس طرز عمل کی بابت بے حد نادم و شرمندہ تھے۔ مجھے بتانے کی ہمت نہیں کر پارہے تھے مگر تم تو میری سہیلی تھیں میری ہم راز !‘‘ حورین تلخی سے اس کی بات درمیان میں ہی قطع کرکے انتہائی دل گرفتگی سے گویا ہوئی جبکہ پارس نے نادم ہوکر ایک بار پھر سر جھکالیا وہ اس سمے شدید پچھتائوں کے زیر اثر تھی اسے اماں کی بات ہر گز نہیں ماننی چاہیے تھی۔ پارس کو رہ رہ کر خود پر بے پناہ غصہ آرہا تھا۔
’’حورین پلیز اپنی سہیلی کو معاف کر دو۔‘‘ پارس لجاجت سے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولی تو حورین خالی خالی نگاہوں سے محض اسے دیکھتی رہ گئی۔
ء…/…ء
خاور چیتے کی مانند کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر لگارہا تھا وہ تو سمجھ رہا تھا کہ اس کی منزل اس کی جیت محض چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہے مگر حورین نے جو انکشاف کیا تھا اسے سن کر خاور کو لگا جیسے وہ وہیں آن کھڑا ہوا ہے جہاں سے اس نے چلنا شروع کیاتھا۔
’’آئی ہیٹ یو احتشام… آئی ہیٹ یو آلاٹ‘ تم ہمیشہ میرے اور حورین کے درمیان آکر کھڑے ہوجاتے ہو‘ اتنی مشکلوں سے تمہیں راستے سے ہٹایا تھا اور اب بیچ میں تمہارا یہ بچہ آگیا۔ تم ہماری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔‘‘ آخر میں وہ زور سے چلا کر بولا پھر تھک کر کائوچ میں دراز ہوگیا‘ کافی دیر تک وہ گہری گہری سانسیں لیتا رہا اپنے اشتعال و جذبات کو کنٹرول کرتا رہا پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ مکمل طور پر پرسکون ہوگیا اور انتہائی ریلیکس انداز میں اس نے اپنے اعصاب کو ڈھیلا چھور دیا۔
’’کوئی بات نہیں حورین! ابھی کچھ عرصہ اور تم وہاں رہ لو پھر بہت جلد تمہیں میری بانہوںمیں آنا ہوگا۔‘‘ وہ ہلکے پھلکے انداز میں خود سے بولا۔
ء…/…ء
کبریٰ بیگم اور حاکم دین کو جب گھر میں کسی ننھے مہمان کی آمد کا معلوم ہوا تو دونوں بے تحاشا خو ش ہوئے۔ کبریٰ بیگم نے تو حورین کو جیسے ہتھیلی کا چھالا ہی بنا ڈالا تھا وہ اس کا بے پناہ خیال رکھ رہی تھیں وہ کچن میں کھانا بنانے کی غرض سے پہنچی تو کبریٰ بیگم لپک کر اس کے پیچھے اندر داخل ہوئیں۔
’’ارے حورین بیٹی! تم کیوں باورچی خانے میں آگئیں‘ جاو بچے تم تھوڑا آرام کرلو۔‘‘ کبریٰ بیگم پیاز کاٹنے کی غرض سے ہاتھ میں پکڑی چھری حورین کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بولیں تو حورین انہیں دیکھ کر مسکرادی۔ احتشام کی جدائی نے ان پر بہت اثر ڈالا تھا‘ وہ راتوں کو جاگتی رہتیں‘ کھانابھی حورین اور حاکم دین کے بضد اصرار پر محض چند لقمے کھاتیں کافی کمزور لاغر ہوگئی تھیں مگر حورین کے ماں بننے کی خبر نے جیسے انہیں دوبارہ زندہ کردیا تھا۔
’’خالہ امی میں صبح سے آرام ہی تو کررہی تھی یوں اس طرح ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھی رہی تو بہت بور ہوجائوں گی اور پھر آپ کو بھی اتنا کام نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ حورین سبزی اٹھاتے ہوئے سنک کے نل کی جانب دھونے کی غرض سے آئی تو کبریٰ بیگم اسے محبت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں۔
’’تم ٹی وی دیکھ لیا کرو‘ رسالے وغیرہ پڑھ لیا کرو ہاں البتہ میں تمہیں کڑھائی کرنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔‘‘ پھر قدرے توقف کے بعد بولیں۔ ’’یقینا احتشام بھی اس خبر سے بہت خوش ہوگا‘ تم دیکھنا حورین! اب ان شاء اللہ تمہارے دن بدل جائیں گے‘ اولاد میں بڑی کشش ہوتی ہے۔‘‘ ان کا جوش و انبساط قابل دید تھا۔ حورین نے ان کی باتوں پر کوئی جواب نہیں دیا کیوں کہ اس کے پاس جواب ہی نہیں تھا وہ خاموشی سے سبزی دھونے لگی۔
ء…/…ء
احتشام کو گئے ہوئے تین ماہ کا عرصہ ہوچکا تھا مگر اب تک اس کا کوئی فون کوئی خط نہیں آیا تھا۔ کبریٰ بیگم حاکم دین اور حورین تینوں اپنی اپنی جگہ پریشان و متفکر تھے مگر ایک دوسرے پر اپنی پریشانی ظاہر نہیں کررہے تھے۔ خاور دوبارہ گھر آیا تھا خالہ امی اس سے احتشام کی بابت پوچھتی تو وہ بھی لاعلمی کا اظہار کردیتا تھا اور ان کو تسلی وغیرہ دیتا تھا۔
’’آپ پریشان مت ہوں آنٹی! شروع شروع میں وہاں ایڈجسٹ ہونے میں کافی مشکل پیش آتی ہے‘ احتشام اسی وجہ سے مصروف ہوگا میں اپنے طور پر اس کا پتا لگوانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ خاور انہیں ڈھارس دیتے ہوئے بولا تو کبریٰ بیگم نے لجا کر اس سے کہا۔
’’ہاں بیٹا! تم کچھ پتا تو کروائو‘ احتشام کہاں ہے‘ کس حالت میں ہے یہ تمہارا ہم پر بڑا احسان ہوگا بیٹا!‘‘ کبریٰ بیگم آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے دو پٹے کے پلّو سے پونچھتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں بولیں تو خاور نے اثبات میں سر ہلایا۔
ء…/…ء
’’میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں حورین! یقین جانو لندن پہنچ کر مجھے تمہاری یاد اس قدر شدت سے آئی کہ میں بے پناہ اداس ہوگیا‘ مجھے اس وقت تمہاری قدر کا احساس ہوا تم سے بے تحاشا محبت کا ادراک ہوا۔ میں واقعی کتنی بڑی غلطی پر تھا کہ میں نے تمہاری محبت اور چاہت کی قدر نہیں کی۔‘‘ حورین ساکت و صامت سی احتشام کے منہ سے انکشاف سن رہی تھی‘ وہ آج اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کررہا تھا۔
’’بس اب میں آگیا ہوں نا اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ میری آنکھیں کھل گئی ہیں حورین! اب کوئی غم کوئی تکلیف ہماری زندگی میں نہیں ہوگی صرف خوشیاں ہی خوشیاں اور پیار ہوگا۔ ہم اپنے بچے کو ہر خوشی دیں گے اسے کسی بھی بات کی کمی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘احتشام انتہائی والہانہ انداز میں اس کے دونوں ہاتھوں کو تامتے ہوئے بولے گیا جبکہ بے پایاں خوشی و تشکر کے احساس سے حورین کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اگلے ہی پل وہ رودی تب ہی بڑی نرمی سے احتشام نے اس کی پیشانی اپنے کندھے پر ٹکادی اور اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے حلاوت سے بولا۔
’’بس حورین! آج جتنے آنسو ہیں وہ سب بہا ڈالو پھر یہ آنسو کبھی تمہاری آنکھوں میں نہیں آئیں گے۔‘‘ احتشام کے اس جملے پر حورین نے جونہی اپنا سر اٹھایا احتشام کو غائب پایا وہ بے تحاشا متوحش سی ہوکر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
’’احتشام… احتشام کہاں ہیں آپ؟‘‘ انتہائی گھبرا کر اس نے اسے آوازیں دے ڈالیں مگر چہار سو اندھیرا ہی اندھیرا اور جامد سناٹا تھا اچانک کہیں سے اذان کی آواز سنائی دی تو انتہائی ہڑبڑا کر حورین کی آنکھ کھلی اس نے بے پناہ وحشت زدہ ہوکر ادھر اُدھر دیکھا اس وقت وہ اپنے بستر پر موجود تھی پورا جسم پسینے سے شرابور تھا۔
حورین نے بے اختیار اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا تو وہ بھی پوری طرح نم ملا جبکہ فضا میں فجر کی اذانیں گونج رہی تھیں چند ثانیے تک وہ گہری گہری سانسیں لیتی خود کو کمپوز کرنے لگی پھر اسے کچھ دیر پہلے کا دیکھا خواب یاد آگیا۔ حورین مضمحل سی وہیں بیٹھی رہی اس پل احتشام اسے بے تحاشا یاد آیا تھا اس کا دل وحشتوں میں گھر سا گیا اور طبیعت میں بے قراری سی چھاگئی پر وہ اپنی کیفیت سے گھبرا کر اٹھی اور وضو کرنے کی غرض سے باتھ روم میں چلی گئی۔
ء…/…ء
حورین اس وقت گھر پر اکیلی تھی‘ کبریٰ بیگم محلے میں کسی کی رسم قل میں گئی تھیں جبکہ حاکم دین اب تک گھر نہیں لوٹے تھے وہ چھوٹے موٹے کاموں سے فارغ ہوکر محض وقت گزاری کے لیے کڑھائی کرنے بیٹھ گئی تھی جب ہی ڈور بیل بجی۔
’’ اس وقت کون آسکتا ہے؟‘‘ حورین خود سے سوال کرتی دروازے کی جانب آئی جب اس کے استفسار کرنے پر خاور نے اپنی آمد کی اطلاع دی تو ایک ناگواری کی لہر اس کے اندر سے ابھری اس نے بند دروازے کے پیچھے سے ہی جواب دیا۔
’’اس وقت گھر پرکوئی نہیں ہے آپ پھر آجایئے گا۔‘‘ وہ یہ کہہ کر پلٹی ہی تھی کہ خاور کی آواز پر ناچار رک گئی۔
’’حورین پلیز دروازہ کھولو میں احتشام کی بابت اطلاع لے کر آیا ہوں۔‘‘ حورین شش و پنج میں مبتلا ہوگئی کہ آیا وہ دروازہ کھولے یا نہ کھولے۔
’’دیکھو حورین! میں یوں دروازہ پر کھڑا کافی مشکوک لگ رہا ہوں اگر دروزہ نہیں کھولنا تو میں واپس جارہا ہوں ‘ دوبارہ پھر نہیں آئوں گا۔‘‘ خاور کے لہجے میں اس پل سختی کے ساتھ ساتھ کافی ناگواری بھی تھی حورین نے کچھ سوچ کر دروازہ پوری طرح سے کھول دیا‘ خاور نے ایک نگاہ حورین پر ڈالی جو اس وقت سپاٹ چہرہ لیے انتہائی اجنبیوں والے انداز میں اپنی جگہ پر کھڑی تھی۔ خاور اس کے قریب سے گزر کر جونہی اندر کی جانب بڑھا حورین کی سنجیدہ آواز عقب سے ابھری۔
’’آپ یہیں تخت پر بیٹھ جائیں۔‘‘ وہ خاور کے ساتھ اکیلے ڈرائنگ روم میں بیٹھنا نہیں چاہتی تھی داخلی دروازے کو بھی اس نے پوری طرح بند نہیں کیا‘ تھوڑا سا بھیڑ کر وہ قدرے دور ہوکر کرسی پر بیٹھ گئی۔ خاور اس کی بے اعتباری دیکھ کر اندر ہی اندر کھول سا گیا مگر ضبط کرگیا۔
’’جی آپ احتشام کے بارے میں کیا بتانے والے تھے۔‘‘ حورین دو ٹوک انداز میں خاور سے مخاطب ہوئی تو خاور نے ایک نگاہ اسے دیکھا پھر ہموار لہجے میں گویا ہوا۔
’’احتشام سے میری ڈائریکٹ بات تو نہیں ہوئی مگر جن لڑکوں کے ساتھ وہ اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا ان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈھائی ماہ پہلے وہاں سے جاچکا تھا۔‘‘ خاور کی بات پر حورین پریشان سی ہوگئی پھر کچھ سوچ کر استفہامیہ انداز میں بولی۔
’’وہ ڈھائی مہینے سے کہاں ہیں یہ بات نہیں معلوم ہوسکی؟‘‘
’’یہ بات تو میں معلوم نہیں کرسکا لندن بہت بڑا ہے‘ اس طرح کسی شخص کو ڈھونڈنا بہت مشکل کام ہے۔‘‘ خاور سہولت سے بولا تو حورین پریشان سی ہوکر کسی سوچ میں ڈوب گئی پھر قدرے توقف کے بعد بولی۔
’’اگر خالہ امی اور خالو کو یہ بات پتا چلے گی تو وہ اور زیادہ پریشان ہوجائیں گے۔‘‘
’’ہوں یہ بات تو ہے۔‘‘
’’آپ ان سے کہہ دیجیے گا کہ احتشام اسی اپارٹمنٹ میں ہیں مصروفیت کی بناء پر وہ ہم سے رابطہ نہیں کررہے ہیں۔‘‘ حورین انتہائی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ فی الحال خالہ امی اور ابا سے جھوٹ بول دیا جائے وہ یہ بات بوبی جانتی تھی کہ ابا بھی اندر ہی اندر احتشام کی جانب سے بے حد متفکر اور بے قرار ہیں مگر ان کے سامنے ظاہرنہیں کررہے ہیںیقینا خاورکی دی ہوئی معلومات انہیں از حد پریشان اور ہراساں کردے گی۔
’’مجھے ایک اور بات بھی کرنی تھی۔‘‘ خاور نگاہیں جھکا کر گمبھیر سنجیدگی سے بولا تو حورین نے اسے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔
’’حورین دراصل میں آپ سے اپنے سابقہ رویوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں مجھے احساس ہوگیا ہے کہ میرا عمل کسی طور پر بھی صحیح نہیں تھا‘ مجھے اپنی غلطیوں کا شدت کے ساتھ ادراک ہوگیا ہے آپ پلیز مجھے معاف کرکے مجھے ندامت و شرمندگی کے سمندر سے باہر نکال دیں۔‘‘ حورین نے خاور کی بات پر بغور اسے دیکھا۔ خاور اس کی آنکھوں میں بے اعتباری شکوک اور بے یقینی کے رنگوں کو دیکھ کر نادم سا ہوکر بولا۔
’’میں جانتا ہوں کہ آپ کو میری باتوں پر یقین نہیں آرہا مگر پلیز آپ صرف ایک بار میرا اعتبار کرلیں میں سچے دل سے آپ سے معافی مانگ رہا ہوں ‘ اپنے نفس کے بہکاوے میں آکر میں یہ سب کچھ کر بیٹھاپلیز حورین! مجھے معاف کردیں ورنہ یہ گلٹ یہ پچھتاوا مجھے جیتے جی مار ڈالے گا کہ میں نے آپ کے ساتھ ایسا عمل کیا۔‘‘ خاور کی آواز آخر میں آنسوئوں کی نمی سے رندھ سی گئی وہ خاموش ہوگیا۔ حورین چند ثانیے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتی رہی پھر سہولت سے بولی۔
’’خاور بھائی میں آپ کو معاف کرتی ہوں۔‘‘ حورین نے گویا اسے زندگی کا پروانہ تھمادیا ہو‘ وہ تیزی سے سر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے انتہائی جو ش وانبساط بھرے لہجے میں بولا۔
’’سچ آپ نے مجھے واقعی معاف کردیا‘ اوہ تھینک یو حورین! آپ واقعی بہت عظیم بہت اچھی ہیں‘ آپ نے میری اتنی بڑی خطا کو فراموش کردیا۔ تھینک یو‘ تھینک یو سو مچ۔‘‘ حورین کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ خاور کو کیا جواب دے لہٰذا خاموش ہی بیٹھی رہی کچھ ہی دیر میںکبریٰ بیگم گھر میں داخل ہوئیں تو حورین اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئی جب کہ خاور کبریٰ بیگم کی جانب متوجہ ہوگیا۔
ء…/…ء
رگوں میں خون جمادینے والی سردی میں بارش تواتر کے ساتھ برس رہی تھی اس پل تمام سڑکیں ویران و خالی تھیں بس اکا دُکا گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس دور سے چمکتیں اور پھر گاڑی زن سے پانی کی چھینٹیں اچھالتی ہوئی گزر جاتی۔ وہ ایک بند اسٹور کے شیڈ میں پناہ لیے بالکل سکڑا سمٹا اپنے واحد پھٹے ہوئے کوٹ سے اپنے جسم کو حرارت دینے کی کوشش کررہا تھا مگر یہ اوور کوٹ اسے گرمائی دینے میں ناکام ہوئے جارہا تھا اس کا پورا بدن سردی و خنکی کی شدت سے ٹھٹھرتا جارہا تھا۔ پورے جسم میں کپکپی سی طاری ہوگئی تھی رات دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی۔ احتشام انتہائی شدت سے بار بار آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا‘ اسے صبح کا انتہائی بے قراری سے انتظار تھا۔
وہ چاہتا تھا کہ جلدی سے صبح ہو اور سورج کی شعاعیں اس کو کچھ تو حرارت دینے کا سبب بنیں حالانکہ آج کل سورج بھی انتہائی نخروں سے اپنا جلوہ دکھارہا تھا۔ احتشام مزید خود میں سمٹ کر خود کو گرمی پہنچانے کی کوشش کرنے لگا پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں اور وہ اردگرد کے ماحول سے یکسر بے گانہ ہوگیا۔
ء…/…ء
وقت اپنی مخصوص رفتار میں گزرتا جارہا تھا‘ احتشام کو پاکستان سے گئے ہوئے چھ ماہ ہوچلے تھے اور اب تک اس نے کوئی بھی رابطہ نہیں کیا تھا صرف ان چھ ماہ میں حاکم دین بہت زیادہ ضعیف اور لاغر دکھائی دینے لگے تھے جب کہ کبریٰ بیگم کی بھی صحت بہت تیزی سے گر رہی تھی ان دنوں حورین کی طبیعت بھی کافی گری گری سی رہنے لگی تھی اس کی واحد سہیلی پارس بھی پیادیس سدھار گئی تھی۔ وہ ناسازی طبع کے باعث اس کی شادی میں شرکت بھی نہیں کرسکی تھی اور پھر ایک دن احتشام کا فون آہی گیا‘ دونوں ماں باپ بہت بے قراری سے اس سے بات کررہے تھے۔
’’تُو ٹھیک ہے نا میرے بچے‘ اتنا عرصہ ہمیں فون کیوں نہیں کیا‘ ہم یہاں تیرے لیے بہت پریشان ہیں پُتر۔‘‘ کبریٰ بیگم اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے بولیں انہیں لگا کہ اونچا بولنے سے احتشام تک آوازبآسانی پہنچ سکتی ہے۔
’’میں ٹھیک ہوں ماں اور حورین وغیرہ کیسے ہیں؟‘‘ وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو کبریٰ بیگم نے اسے باپ بننے کی اطلاع دی جبکہ ایک پل کے لیے وہ خاموش سا ہوا پھر حورین سے حال چال پوچھ کر فون بندن کردیا۔ احتشام کے فون آنے سے جیسے گھر بھرمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔
’’یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرا بچہ عافیت سے ہے۔‘‘
’’اب تو تم خوش ہونا نیک بخت‘ بیٹے سے بات کرلی۔‘‘ حاکم دین بھی سرشاری سے بولے حورین بھی دونوں کو دیکھ کر مسکرانے لگی‘ احتشام سے مختصراً ہی سہی مگر بات کرکے اس کا دل بھی ہلکا پھلکا ہوگیا تھا۔
ء…/…ء
اور پھربالآخر وہ گھڑی آن پہنچی جس کا اس گھر کے مکینوں کو شدت کے ساتھ انتظار تھا حورین نے گزشتہ رات کو ایک چاند سی بیٹی کو جنم دیا تھا۔ بچی ہو بہو حورین کی مانند تھی البتہ آنکھوں کی بناوٹ اور رنگ احتشام پر گیا اس ننھی شہزادی کے آنے سے گویا ان سب کی زندگیاں ہی بدل گئی تھیں۔ وہ دادی کے دل کا قرار تھی تو دادا کی آنکھ کا تارا تھی وہ دونوں تو جیسے اس کو ہی دیکھ دیکھ کر جیا کرتے تھے۔
حاکم دین نے بہت چاہت اور مان سے اس کانام لالہ رخ رکھا‘ حورین کو تو وہ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی وہ جیسے جیسے بڑی ہورہی تھی اس گھر کے در و دیوار میں رونق کا باعث بن رہی تھی
لالہ رخ اب تین ماہ کی ہوچکی تھی حورین تمام وقت اس کے کاموں میں مصروف رہتی ابھی بھی وہ اس کے کپڑے دھونے میں مصروف تھی جب ہی دروازہ پر بجتی گھنٹی نے اسے چونکا دیا‘ دن کے دو بج رہے تھے کبریٰ بیگم لالہ رخ کے ساتھ کمرے میں محو آرام تھیں۔ حورین بالٹی میں کپڑوں کو دھوکر دوپٹہ سلیقے سے اوڑھے ہوئے دروازے کی جانب آئی باہر پوسٹ مین آیا تھا۔
’’حورین احتشام کے نام کی رجسٹری آئی ہے۔‘‘
’’میرے نام… میرے نام رجسٹری کون بھیج سکتا ہے۔‘‘ وہ قدرے حیران سی ہوکر خود سے الجھ کر بولی پھر کاغذ پر دستخط کرکے لفافہ اس کے ہاتھ سے تھام کر دروازہ بند کرکے الجھی ہوئی کیفیت میں لفافے کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے صحن میںآئی اور پھر تیزی سے لفافہ چاک کر ڈالا اس کی نگاہ پہلے جس لفظ پر گئی اسے لگا شاید یہ اس کی نظر کا دھوکا ہے پھر اس نے انتہائی وحشت زدہ ہوکر پیپرز کو پوری آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی وہ بے اختیار زمین پر گھٹنوں کے بل گرگئی۔
’’نہیں… ایسا نہیں ہوسکتا… ایسا کیسے ہوسکتا ہے … نہیں احتشام تم میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتے‘ اتنا بڑا قہر نہیں ڈھا سکتے۔‘‘ کاغذ پر جلی حروف سے لکھا ’’طلاق نامہ‘‘ دیکھ کر اس کے اوسان پوری طرح خطا ہوگئے پھر اس نے انتہائی دہشت زدہ ہوکر پورا کاغذ پڑھ ڈالا۔ احتشام نے اسے طلاق بھجوادی تھی۔
’’تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے‘ تم مجھ سے یہ واحد چھت نہیں چھین سکتے‘ مجھے یوں بے امان بے مول نہیں کرسکتے… نہیں کرسکتے…‘‘وہ خود فراموشی کے عالم میں کبھی ہنستے ہوئے کبھی روتے ہوئے خود سے بولے جارہی تھی۔ جب ہی حاکم دین گھر میں داخل ہوئے تھے حورین کو یوں لٹا پٹا صحن کے بیچوں بیچ بیٹھے دیکھ کر وہ بے پناہ گھبرا کر اس کے پاس آئے اور دو زانو بیٹھ کر بولے۔
’’کیا ہوا حورین بیٹی! سب خیریت تو ہے نا۔‘‘
’’تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے‘ احتشام ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘ وہ ہذیانی ہوکر چلا پڑی اس وقت وہ اپنے آپے میں نہیں تھی
’’کیا کیا احتشام نے‘ حورین مجھے بتائو۔‘‘ حاکم دین اس کا بازو جھنجھوڑ کر بولے مگر وہ اسی جملے کی گردان کیے جارہی تھی۔
’’تم ایسا نہیں کرسکتے… نہیں کرسکتے۔‘‘ معاً حاکم دین کی نگاہ زمین پر پڑے کاغذ پر پڑی انہوں نے اسے لپک کر اٹھایا تھا پھر جو دیکھا اور پڑھا وہ ان کے سر پر آسمان گراگیا۔
’’احتشام بدبخت… یہ تُو نے کیا کردیا۔‘‘ وہ بے پناہ صدمے کی کیفیت میں گھر کر اپنا سر بے اختیار پیٹتے ہوئے بولے پھر بے حد پریشانی سے حورین کو دیکھا۔
’’حورین میری بچی ہوش میں آئو۔‘‘ کبریٰ بیگم جو لالہ رخ کو سلانے کے بعد خود بھی غنودگی میں چلی گئی تھیں شور کی آواز پر بے تحاشا گھبراکر ننگے پائوں باہر آئیں۔
’’ایسا نہیں کرسکتے… ایسا نہیں کرسکتے تم…‘‘ وہ اب باقاعدہ چلارہی تھی کبریٰ بیگم کو لگا جیسے بہت بڑی قیامت ان کے در پر آکھڑی ہے۔
’’ہوش میں آئو بیٹا!‘‘ حاکم دین روتے ہوئے کہہ جارہے تھے اور پھر یونہی چیختے چیختے حورین ہوش و خرد سے بیگانہ ہوکر حاکم دین کے بازوئوں میں جھول گئی۔
ء…/…ء
اب نیند سے کہو ہم سے صلح کرلے فراز
وہ دور چلا گیا ہے جس کے لیے جاگا کرتے تھے رات بھر
وہ بے خواب و بے نور آنکھوں سے بس چھت کو گھورے جارہی تھی اس پل حورین صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ‘ پچکے ہوئے گال اور لاغر جسم لیے یہ وہ حورین تو نہیں تھی جو تتلیوں سے محبت کرتی تھی۔ زندگی سے پیار کرتی تھی حاکم دین اور کبریٰ بیگم دونوں اپنا غم بھلائے حورین کی دلجوئی میں مصروف تھے۔ خاور بھی اکثر اوقات چکر لگاتاتھا اور اسے زندگی کی جانب واپس آنے کی نصیحت کرتا تھا وہ ایک مخلص انسان کی طرح اس کڑے اور کٹھن وقت میں پوری طرح ان لوگوں کا ساتھ دے رہاتھا اور پھر آہستہ آہستہ زخموں پر کھرنڈ جمنا شروع ہوگئی۔
صحیح کہا کسی نے کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے‘ گزرتے وقت نے حورین کے زخموں کو کافی حد تک مندمل کردیا تھا وہ اپنی بیٹی کی خاطر دوبارہ زندگی کی جانب لوٹ آئی تھی اور پہلے سے زیادہ مضبوط اور خود اعتماد ہوگئی تھی۔
لالہ رخ سو ا سال کی پیاری سی بچی تھی جو سارا دن اسے گھن چکر بنائے رکھتی تھی‘ حاکم دین اور کبریٰ بیگم اب خاصے بوڑھے ہوگئے تھے۔ خاور بھی گاہے بگاہے چکر لگالیتا تھا‘ ایک دن کبریٰ بیگم اس کی شادی کا تذکرہ لے بیٹھیں۔
’’بیٹا اب تم بھی شادی کرلو نا‘ تمہارے باپ کو تمہاری شادی کا کتنا ارمان تھا مگر تم نے تو جیسے شادی نہ کرنے کی قسم کھالی ہے۔‘‘ خاور کے والد حیات اقبال پچھلے سال اچانک دل کا دورہ پڑجانے سے انتقال کرچکے تھے اب خاور ہی تمام تر سیاہ سفید کا مالک تھا اپنے باپ کا بزنس وہ ان سے زیادہ خوبی کے ساتھ چلا رہا تھا۔
’’آنٹی شادی تو میں کرلوں مگر مجھے میری پسند کی لڑکی تو مل جائے۔‘‘ وہ لالہ رخ کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہنس کر بولا ۔ لالہ رخ اس کے ساتھ بہت مانوس ہوگئی تھی وہ جب بھی آتا لالہ رخ کے لیے کبھی چاکلیٹس تو کبھی کوئی کھلونا وغیرہ لے کر آتا تھا۔ حورین اور کبریٰ بیگم اسے منع بھی کرتے مگر وہ باز کہاں آتا تھا۔ احتشام کو یہاں سے گئے تقریباً تین سال ہوچکے تھے اور ان تین سالوں میں صرف تین بار اس کافون آیا تھا۔ حورین کو طلاق بھیجنے کے تقریباً سات ماہ بعد اس کا آخری فون آیا تھا جو ماں باپ کے سرزنش کرنے پر اس نے انتہائی تلملا کر کاٹ دیا تھا وہ اپنے کسی بھی عمل پر نادم نہیں تھا حاکم دین اور کبریٰ بیگم نے بھی جیسے اسے بھلا دیا تھا۔
ء…/…ء
وقت کچھ اور سرکا تو حاکم دین کو ان سب سے جدا کرگیا ایک ماہ کی مختصر علالت کے بعد وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ کبریٰ بیگم اور حورین بالکل تنہا رہ گئے البتہ خاور نے ان لوگوں کا بھرپور ساتھ دیا پھر ایک دن کبریٰ بیگم کے دل میں نجانے کیا آسمائی انہوں نے خود ہی حورین اور خاور کے رشتے کی بات خاور سے کرڈالی انہیں بھی اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا اگر کسی بھی لمحے قضاء الٰہی آجاتی تو جوان جہان حورین اور تین سالہ لالہ رخ کا کیا بنتا خاور ان کا مدعا جان کر لحظہ بھر کو خاموش ہوگیا پھر چند لمحے بعد اس نے سعادت مندی سے سر جھکادیا کبریٰ بیگم کو تو ہفت اقلیم مل گئے۔
’’جیتے رہو خاور بیٹا! تم نے میرا بہت بڑا بوجھ اتنی آسانی سے ہلکا کردیا‘ اللہ تمہیں خوش رکھے۔‘‘ جب انہوں نے اس بابت حورین سے بات کی تو پہلی بار اس نے ان کی بات پر صاف انکار کردیا۔ کبریٰ بیگم کا دل اس کے جواب پر بجھ گیا مگر پھر انہوں نے کوئی زور زبردستی نہیں کی جبکہ حورین کو کبریٰ بیگم کی التجائوں بھری نگاہیں ہمہ وقت اپنے وجود میں محسوس ہوتی تھیں بالآخر حالات کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس نے خاور کے حق میں فیصلہ دے دیا اور پھر وہ جو پہلے حورین ہاشم تھی پھر حورین احتشام بنی اب وہ حورین خاور بنادی گئی وہ رخصت ہوکر لالہ رخ کے سنگ خاور کی پُرشکوہ کوٹھی میں آگئی۔
حورین کو حاصل کرکے خاور کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ آج اس نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو حاصل کرلیا تھا وہ اپنی جیت پر نازاں حورین کے ملکوتی حسن کو خراج پیش کررہا تھا جب کہ حورین سوچ رہی تھی کہ زندگی اس سے مزید اور کتنے امتحان لے گی۔
خاور کے شادی سے پہلے کے دعوے کہ وہ لالہ رخ کو حقیقی باپ جیسا پیار دے گا وہ دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اس نے انتہائی رعونت سے لالہ رخ کے وجود کو ماننے سے انکار کردیا‘ حورین ہک دک سی خاور کو دیکھے گئی اس نے خاور کی بہت منت سماجت کی کہ وہ لالہ رخ کا معصوم وجود قبول کرلے اور نہیں تو کم از کم اتنی بڑی کوٹھی کا ایک کونا ہی اسے رہنے کے لیے دے دے مگر خاور پر حورین کی التجائوں اور سسکیوں کا کوئی اثر نہیں ہوا اس نے انتہائی نفرت سے کہا تھا کہ میں احتشام کی اولاد کو اپنی آنکھوں کے سامنے نہیں دیکھ سکتا۔وہی خاور جو شادی سے پہلے لالہ رخ پر جان چھڑکتا تھا آج وہی لالہ رخ کے وجود سے اس قدر بے زاری و کدورت کا اظہار کررہا تھا حورین خاور کے اس دوغلے روپ کو بس دیکھتی رہ گئی وہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوئے جارہی تھی کہ لالہ رخ کے معصوم وجود کو وہ کس کے حوالے کرے جبکہ کبریٰ بیگم بھی حورین کی طرف سے مطمئن ہوکر دوسرے جہان سدھار گئی تھیں۔
ان دنوں وہ تخلیق کے مراحل سے بھی گزر رہی تھی خاور کا رویہ لالہ رخ کے ساتھ انتہائی رعونت آمیز اور دل شکن ہوگیا تھااس کی ذرا سی غلطی پر زور دار تھپڑ رسید کردیتا تھا۔ حورین کے لیے یہ سب دیکھنا برداشت سے باہر ہوئے جارہا تھا۔ فیروزہ بی بی جو اس گھر کی پرانی ملازمہ تھیں وہ حورین کی دلجوئی کرتیں ایک دن انہوں نے حورین کی پریشانی دیکھ کر کہا کہ اگر لالہ رخ کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے تو وہ اسے اس کی بیٹی کو سونپ دیں جو بے چاری بے اولاد ہے جسے بچے کی بہت شدت سے آرزو ہے حورین کو تو جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل گیا… کیونکہ خاور لالہ رخ کو یتیم خانے بھجوانے کا ارادہ کیے بیٹھا تھا وہ فوراً لالہ رخ کو فیروزہ بی بی کی بیٹی کے حوالے کردیتی ہے جو اسے خوشی خوشی اپنے ہمراہ مری لے جاتی ہے اور یوں ایک دور کا اختتام ہوگیا۔
ء…/…ء
جب روح کسی بوجھ سے تھک جاتی ہے
احساس کی لو اور بھڑک جاتی ہے
میں بڑھتا ہوں زندگی کی جانب لیکن
زنجیر سی پائوں میں چھنک جاتی ہے
وہ بیش قیمت قد آور آئینہ کے سامنے اپنے بال بنارہی تھی آئینہ میں ابھرتا عکس اس کے سحر انگیز حسن اور رعنائی و دلکشی لیے اس کے متناسب پُر کشش سراپے کی گواہی دے رہا تھا۔ اپنے بالوں کو نزاکت سے سمیٹ کر اس نے جوڑے کی شکل دی تو چمکدار بے داغ گوری صراحی دار گردن اور بھی زیادہ نمایاں ہوگئی وہ اب مکمل طور پر تیار تھی اس نے اپنی تیاری پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی پھر سب چیزوں سے مطمئن ہوکر ڈریسنگ ٹیبل پر دھری ڈھیروں امپوٹڈ اور قیمتی پرفیومز میں سے ایک بوتل اٹھا کر سہولت سے خود پر چھڑکائو کیا۔اگلے ہی پل اس کا وجود گلاب کے پھول کی مانند مہکنے لگا آف وائٹ قیمتی ساڑھی جس پر ڈارک پر پل کلر کے بارڈر پر انتہائی نازک و نفیس کام کیا گیا تھا اس کے حسن کو چار چاند لگارہی تھی۔
بائیس سال کا طویل عرصہ گویا جیسے بناء اسے چھوئے گزر گیا تھا اس کی دلکشی و رعنائی بائیس سال پہلے جیسی تھی اور کیوں نہ ہوتی خاور نے اس کی خوب صورتی کا خیال خود اس سے بھی زیادہ رکھا تھا۔ وہ ڈریسنگ چیئر سے اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہی تھی جب ہی خاور نے عقب سے آکر انتہائی دیدہ زیب اور نگاہوں کو خیرہ کرتا نیکلس حورین کے گلے کی زینت بنادیا‘ اس نے مسکراتی نگاہوں سے مڑ کر دیکھا تھا۔
(ان شاء اللہ باقی آئندہ ماہ)

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close