Hijaab Jan-16

وہ ایک سجدہ

طلعت نطامی

’’مت پوچھو ہانیہ! کس مشکل سے گزارا ہوتا ہے‘ مہینہ گزرتے دیر نہیں لگتی کہ بچوں کی فیس کے مسائل‘ گھر کا کرایہ‘ بجلی گیس کے بل ناگہانی آفت کی طرح سر پر سوار ہوجاتے ہیں اوپر سے تین بچوں کی چھوٹی بڑی ضروریات ‘ کہیں سے شادی یا کسی اور تقریب کا بلاوا آگیا تو لفافہ بھرنے کا خرچہ اور دکھ، بیماری تو سانس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ جتنی آمدنی نہیں اتنی ضروریات‘ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں‘ تمہارے عقیل بھائی کی آمدنی جانتی ہی ہو کس درجے پر ہے۔ ارے شکیل جیسی تیز ذہنیت والے ہوتے تو ترقی کرتے دیکھو کیسے گھر کے مالک ہوگئے اور تو اور دو سال بعد گاڑی بھی خرید لی۔ ہم تو بس سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں بہن! ضروریات ہی پوری ہوجائیں تو بڑی بات ہے‘ کہاں کی گاڑی‘ کہاں کا گھر …‘‘ ایک ٹھنڈی آہ سمیت ان کی راگنی کو کومہ لگا‘ فل اسٹاپ تو ان کے روانہ ہونے پر ہی لگنا تھا۔
اس کی جٹھانی جن کی ساتھ ہی شادی ہوئی تھی حسب معمول اپنی کم حیثیتی کا رونا رو رہی تھیں اور وہ تاسف کے ساتھ سر ہلا رہی تھی۔ رشتہ داری نبھانے والے ایسے ہی سب باتوں سے آگہی رکھنے کے باوجود کچھ مسائل سے چشم پوشی کرجاتے ہیں ورنہ دیورانی اور جٹھانی کا رشتہ جتنا پیار بھرا ہوتا ہے اتنا ہی اس تعلق میں گھن لگ جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہانیہ انہیں کینو اور سیب چھیل کر دینے کے ساتھ ساتھ ہاں میں ہاں بھی ملارہی تھی۔
’’اب دیکھو موسم کے پھل کو بچے ترس جاتے ہیں‘ تمہارے گھر آکر زبان کا ہر مزا ہم لوگ لوٹ لیتے ہیں ورنہ تو آٹا چاول دال کو ہی خدا کی سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے نمک لگا کر کینو کی پھانک کا چٹخارہ بھرا۔
’’جی بھا بی! شکیل کھانے کے ساتھ ساتھ ہر پھل بھی بچوں کو کھلانا چاہتے ہیں اور دودھ بھی غذائی ضروریات کے لیے بہت ضروری سمجھتے ہیں‘ اللہ کا بڑا شکر ہے۔‘‘
’’اور تمہارے عقیل بھائی تو کام سے آکر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر آرام کرنے کو اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں جبکہ شکیل بے چارہ دن رات کولہو کے بیل کی طرح جتارہتا ہے‘ بال بچوں کی تن آسانی کے لیے کیا دیکھتی نہیں ہوں میں۔‘‘
’’جی بھابی! اللہ کا بہت شکر ہے‘ اللہ انہیں صحت حیات جیسی دولت دے‘ ان کا سایہ ہمارے سروں پہ تاحیات سلامت رکھے۔ یہ ہماری خواہشات پوری نہیں کریں گے توکون کرے گا۔ میں تو ہر نماز میں ان کی صحت اور سلامتی کے لیے دعا مانگتی ہوں۔‘‘
’’کاش یہ احساس تمہارے عقیل بھائی کو بھی ہوجائے تو ایسے لوگوں کے لیے کون دعائیںنہیں کرے گا۔‘‘
’’اللہ عقیل بھائی کو بھی روزی بھرپور دے بھابی! آپ بھی دعائیں کیا کریں۔‘‘ اس نے مخلصی سے کہا۔
’’اب دیکھو نا۔‘‘ وہ تھوڑا قریب ہوئیں۔ ’’حمنیٰ کی شادی قریب ہے‘ سسرالی معاملہ ہے کچھ لینا دینا نہیں ہوگا تو ناک کٹ جائے گی۔‘‘ انہوں نے نند کی بیٹی کا مسئلہ چھیڑ دیا۔
’’ہاں یہ تو ہے ورنہ آسیہ باجی کیا سوچیں گی۔ شکیل نے تو فریج دینے کا کہا ہے‘ ساتھ لڑکی‘ لڑکا کے کپڑے اور ماں باپ کو بھی جوڑا دینا ہوگا۔ حالات تو جیسے تیسے سنبھل ہی جائیں گے پر دینے دلانے کا سلسلہ ہمیشہ یاد رہ جائے گا ان کی پہلی بھانجی کی شادی ہے آخر۔‘‘
’’بتائو شکیل جیسی اچھی اور زیرک ذہنیت رکھنے والے لوگ ذرا کم ہی ملتے ہیں‘ میں نے کہا نا تم بہت خوش نصیب ہوہانیہ! ماشاء اللہ جیسا شوہر ویسا نصیب‘ اب یہی دینے دلانے کے مسئلے پر تمہارے عقیل بھائی سے بات کروں گی نا تو وہ بے پروائی سے ٹال دیں گے کہ وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔ ارے وقت آنے پر الٰہ دین کا چراغ ہم رگڑ کر جن بلالیں گے کیا کہ سارے مسائل حل کردے گا۔ میں تو پانچ ہزار روپیہ لفافے میں بھر کر دے دوں گی۔ آخر سب ہی ہمارے حالات سے واقف ہیں کہ کس مشکل سے گزارا ہورہا ہے ہمارا۔‘‘ اپنا تکیہ کلام وہ دہرانا نہ بھولیں۔
’’صحیح ہے بھابی! اپنی اوقات سے بڑھ کر تو کوئی نہیں دے سکتا نا اور پھر آسیہ باجی اس مزاج کی ہیں بھی نہیں کہ وہ اپنی بھابیوں کے مسائل نہیں سمجھیں گی۔‘‘
’’کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو لیکن حمنیٰ سسرال جاکر تو سوچے گی نا کہ بڑی مامی نے کیا دیا۔‘‘
ان کے نہ ختم ہونے والے نکات تھے اور لا محدود آہیں‘ ہمیشہ وہ عقیل اور شکیل کے مقابلے میں وقت ضائع کرتیں جب اس کے گھر آتیں ان کی آہیں بھرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ ان کی اس عادت سے خاندان والے بھی واقف تھے کہ کس طرح وہ دوسروں سے اپنا کھایا پیا چھپاتی تھیں کہ کہیں انہیں اپنی دولت دوسروں کو دینی نہ پڑجائے۔ خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش میںہر وقت ناشکری کرتی رہتیں۔ اب حمنیٰ کی شادی کا مسئلہ کھڑا ہوا تو ان کے ناک رونے کا سلسلہ بھی بڑھ گیا تھا۔ کوئی چالاک قسم کی دیورانی ہوتی تو ان کی اس عادت کا مزا چکھادیتی کہ خاندان میں درپیش آنے والے ہر مسائل سے پہلو تہی برتنے کے لیے وہ ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیتی تھیںلیکن یہ ہانیہ تھی لوگوں کی چالاکی کو نہ سمجھنے والی اور اپنے کھانے پینے پر شکرانے کے نفل ادا کرنے والی لڑکی‘ دو بچوں کی ماں ہوکر بھی ذہنیت کی سادگی میں ذرّہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔
یوں حمنیٰ کی شادی کا کارڈ بھی آگیا وہ خوشی خوشی تیاریاں کرنے لگی اپنے‘ شکیل کے اور بچوں کے جوڑے بھی بنوائے۔ جوتے چپل بھی خریدے اور سرشار ہوکر مایوں اٹینڈ کرنے چلی گئی لیکن وہاں تو جو دیکھا اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں حمنیٰ کے برابر میں بیٹھی عالیہ بھابی پیلے جوڑے میں موتیے اور گیندے کے زیورات سے آراستہ اپنی چھوٹی چھوٹی کینہ توز آنکھوں کی چمک سے سب کو خیرہ کرتیں مسکارہی تھیں۔ ماتھے پر پھولوں سے سجائیکہ بھی لگارکھا تھا اور نقلی بالوں کی چٹیا میں پھولوں کی بیل اوپر سے نیچے تک پروی ہوئی تھی۔ فیروزی جوڑے میں اسے اپنا آپ ماند لگنے لگا۔ دلہن سے زیادہ وہ آراستہ و پیراستہ تھیں سب نندیں بھی انہیں دیکھ کر نگاہوں ہی نگاہوں میں مسکرارہی تھیں‘ تینو ں بچے بھی مہنگے سوٹ پہنے گھوم رہے تھے۔
’’بھابی! آپ کی تیاری دیکھ کر تو لگ رہا ہے مایوں کی دلہن آپ ہی ہیں۔‘‘ کھانے کی ٹیبل پر چھوٹی نند سے رہا نہ گیا اس نے بھی حیران ہوکر دیکھا جواباً وہ ایک ادا سے مسکائیں بھرپور میک اپ کے بعد ان کا انداز ہی جداگانہ ہوجاتا تھا۔
’’اللہ میری چھوٹی کو اور دے‘ مجھے دلہن بنانے میں سارا ساتھ اس کا ہے۔ یہ کپڑے‘ سینڈل‘ بچوں کے کپڑے سب چھوٹی نے دیئے ہیں۔ میں نے اس کے تین سوٹ سی کر دیئے اب وہ اپنا ہار سنگھار مجھے دے کر میری لاج رکھ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اپنی چھوٹی بہن کا قصیدہ پڑھا۔ ’’اور جو نقد پیسے دیئے ان سے میں نے یہ پھولوں کے زیور خرید ڈالے‘ بھئی اتنا سجنے سنورنے کا تو حق ہے نا مجھے۔‘‘ حسب معمول انہوں نے اپنی حیثیت واضح کردی کہ اتنے لوازمات کی اوقات وہ نہیں رکھتیں سب چھوٹی کی عنایت ہے۔
اور پھر بارات اور ولیمے میں جس شان سے وہ شریک ہوئیں سب ششدر رہ گئے‘ کیا دلہنیا پا تھا ان کا جڑائو اسٹائلش سوٹ‘ جڑائو زیورات اور بیوٹی پارلر سے سج کر آنے کی دمک…
’’چھوٹی کی نند نے نیا نیا بیوٹی پارلر کھولا ہے اب وہ مہارت مجھ پر آزمارہی ہے‘ اسی بہانے میں بھی تیار ہوگئی ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنے تازہ تازہ پرم شدہ بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ ہانیہ ہولے سے مسکرائی جو گھر سے تیار ہوکر آئی تھی ۔
’’تمہارا سوٹ بہت خوب صورت ہے‘ کتنے کا لیا؟‘‘ بھری محفل میں انہوں نے چھوٹی نند کی حیثیت بڑھائی تاکہ انہیں ستائشی نظروں سے وہ کم دیکھے۔
’’ہاں بھئی اللہ کا کرم ہے بہت ‘ بارہ ہزار کا ہے اب ہم پر کسی چھوٹی کی عنایت تو ہے نہیں کہ اس کا پہنا ہوا ہم پہن لیں۔اللہ ہی کی عنایت کافی ہے۔‘‘ چھوٹی نند بہت پٹاخہ قسم کی چیز تھی اور اپنی اس بھاوج کی رگ رگ سے واقف بھی‘ اس لیے کھرا سا جواب دے کر اپنے تئیں ان کی چالاکی کو ٹھنڈا کرنا چاہا لیکن وہ بھی حرفوں کی بنی ہوئی تھیں ان کو رام کرنا کسی مضبوط دل گردے کے مالک کا کام تھا ۔
’’اللہ اور دے بھئی‘ عورت بھی مرد کے بل بوتے پر اترا سکتی ہے جس کا مرد ہی دبو ہو وہ بارہ ہزار کے سوٹ کی مالکہ تو بن نہیں سکتی اترن ہی پہن سکتی ہے۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا، میرے بھائی کماتے نہیں کیا؟ ذرا سے سادہ مزاج ہیں تو ہر میدان میں فنکاری نہیں دکھا سکتے ورنہ جو کماتے ہیں آپ کے ہاتھ پر ہی لا کر رکھتے ہیں‘ آپ تو سراسر میرے بھائی کی انسلٹ کررہی ہیں۔‘‘ آصفہ نے آنکھیں لال پیلی کرلیں۔
’’لو اس میں انسلٹ کہاں سے ہوگئی‘ اپنی اوقات میں رہنا توہین ہے کیا جو وہ نظر آتے ہیں میں اس کا اظہار کررہی ہوں۔ اب بڑھا چڑھا کربیانات دینے سے تو رہی میں۔‘‘
’’اچھی بیویاں شوہر کی بڑائی کرکے ثواب ہی کماتی ہیں‘ کوئی دفعہ نہیں لگ جاتی ان پر۔‘‘
’’چلو میں اچھی نہ سہی لیکن جھوٹ نہیں بول سکتی بھئی کاش اس کے برعکس کہتیں آپ…‘‘ ماحول اچھا خاصا گمبھیر ہوچلا تھا کہ ہانیہ اور آسیہ باجی نے بہانے سے آصفہ کو اٹھایا۔
’’جائو کھانے کے انتظامات دیکھو‘ مہمانوں کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں‘ کیا بحث لے کر بیٹھ گئیں تم لوگ۔‘‘
ادھر دوسرے روز وہ ہانیہ کے پاس آکر رو دیں۔
’’بہت منہ پھٹ ہے آصفہ! بڑی بھابی کی عزت کیا ہوتی ہے اس نے کبھی نہیں جانا۔ ارے سچ کہتے ہیں سب چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کی عزت میں بھی فرق آنے لگتا ہے۔ اب دیکھو تم سے تو کبھی وہ منہ نہیں لگی بلکہ آگے پیچھے بھابی بھابی کرتی رہتی ہے۔‘‘
اب وہ کیا بتاتی کہ اس نے کبھی بحث کا موقع ہی دوسروں کو نہیں دیا ہے تو لوگ کیا منہ لگتے لیکن وہ یہ کہہ کر ان کے بناوٹی آنسوئوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
’’چھوڑیں بھابی! رات گئی بات گئی۔ تقاریب میں اس قسم کے مذاکرات ہو ہی جاتے ہیں۔ چھوڑیں‘ آئیں میں آپ کو موبائل پر تصاویر دکھاتی ہوں جو ارمینہ نے کھینچی تھیں۔قسم سے آپ آفت لگ رہی ہیں‘ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔‘‘ اس نے پانچ انچ اسکرین کا ٹچ موبائل آگے کیا۔
’’نیا لیا ہے سیل فون‘ تمہارے پاس تو پرانے ماڈل کا تھا نا۔ اچھا کیا یہ لے لیا‘ تصاویر دیکھنے کا تو اسی اسکرین پر مزا ہے۔‘‘
’’ہاں بھابی! ارمینہ بہت دنوں سے شکیل سے ضد کررہی تھی یہ سیل لینے کو اب اس کی سالگرہ پر انہوں نے یہ لے کر دیا ہے جسے اس نے مجھے دے دیا۔ اللہ کا شکر ہے ہر چیز وہ ہمیں دے دیتا ہے۔‘‘
’’ہاں اچھا ہے بچوں کو اتنا مہنگا سیل رکھنا بھی نہیں چاہیے۔ میری مانو تو تم بھی فضول خرچی چھوڑ کر دونوں بچیوں کے لیے پیسے پچائو‘ کل کلاں کو یہ رشتہ داریاں کام نہیں آئیں گی۔ بچیاں باپ ہی کی دھن دولت پر سسرال میں مان کرتی ہیں۔‘‘
’’ارے بھابی جب کی جب دیکھی جائے گی‘ اللہ مالک ہے جس اللہ نے آج دیا ہے اتنا کچھ وہ کل کیسے مایوس کرے گا‘ یہ دیکھیں حمنیٰ کتنی پیاری لگ رہی ہے۔‘‘
’’ہاں بھئی کم سنی کی دلہن ایسے ہی معصوم ہوتی ہے‘ بس اللہ نصیب اچھے کرے۔ کسی شے کا محتاج نہ کرے‘ اب دیکھو نا ہر شے کا محتاج ہوکر منہ کی کھانی پڑتی ہے اپنوں اور پرایوں سے کوئی مجبوری تو سمجھتا نہیں بس باتوں کی چوٹ دینے پر مصر ہوجاتا ہے۔‘‘ ان کا ازلی رونا شروع ہوچکا تھا کسی بھی موضوع کو گھما پھرا کر اپنے مقصد پر لانے میں وہ ہمیشہ کامیاب ہوجاتیں۔
ان کے بچے پھل یا مٹھائی کھارہے ہو تے تو اپنے کسی بہن یا بھائی کی آمد اور ان کے ساتھ لائے ہوئے لوازمات اس کا محرک بتاتیں‘ کبھی نئی سائیکل چلارہے ہوتے تو اپنے کسی بھائی کی نوازش بتاتیں۔ کبھی شوہر کی شکر گزار نہ ہوئیں کہ ان کا بھی کوئی کارنامہ زندگی میں ہے کہ نہیں۔ عقیل بھائی بھی ایسے ہی گائودی تھے۔ ان کے خیال میں عالیہ بھابی نے تین بیٹوں کا تحفہ دے کر انہیں خرید لیا ہے‘ سادہ لوح تو تھے ہی کچھ عالیہ بھابی کی چالاکی تلے ان کی شخصیت اور دب گئی تھی۔ وہ اپنے اشاروں پر چلانے والی عورت تھیں پر ہانیہ کو ان کی چالاکی کی بہت دیر سے سمجھ آئی۔
اسے تو اس بات پر بھی غصہ نہیں آتا جب وہ اس کی خوشحالی دیکھ کر مسلسل آہیں بھررہی ہوتیں۔
’’بھابی آپ ایک چھوٹا موٹا سا گھر کیوں نہیں خرید لیتیں‘ ہر ماہ کے کرایوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ اسی کرائے کی رقم سے آپ کے حالات کچھ تو سدھر ہی جائیں گے ۔‘‘ ایک دن اس نے اپنے تئیں بہت اچھے مشورے سے نوازنا چاہا۔
’’ارے کہاں بہن! اتنے ہی اچھے حالات ہوتے تو کاہے کا رونا تھا‘ تمہارے خیال میں مجھے شوق ہے کرائے میں ہر ماہ کی بھاری رقم ادا کرنے کا‘ بس تقدیر کی ستم ظریفی ہے سب کہ شادی اکٹھی ہوئی پر نصیب الگ الگ لکھ دیئے گئے۔ تمہیں سب کچھ مل گیا اور میں ترس رہی ہوں۔‘‘ اسے اندازہ ہوا کہ وہ ان سے غلط سوال کرگئی ہر وقت ان کا نصیب کا رونا اسے اب کچھ عجیب سا لگنے لگا تھا پھر جس انداز سے وہ اپنی کم مائیگی کا اظہار کررہی ہوتیں اس سے اب چڑ ہونے لگی تھی‘ دل ہی دل میں ان کی آہوں سے ڈر بھی لگنے لگا تھا۔
اور جب کچھ دلون بعد اسے پتا چلا حمنیٰ کی شادی پر ان کی تیاریاں ان کے ذاتی پیسوں سے تھیں خوامخواہ اپنی بہن کا نام لیا تھا تو اسے زیادہ غصہ آیا۔
’’کیا ضرورت تھی سفید جھوٹ بولنے کی کوئی ان سے لے لیتا کیا‘ ہر انسان کا حق ہوتا ہے شادی بیاہ میں سجنے سنورنے کا اس میں غلط بیانی سے کام لینے کا کیا فائدہ؟ ‘‘ اس بات کا تذکرہ اس نے شکیل سے بھی کیا۔
’’انہیں عادت ہے اپنا آپ چھپانے کی‘ ان کی ہر بات میں جھوٹ کا رنگ ہوتا ہے تاکہ لوگ انہیں کم حیثیت سمجھ کر زیادہ کا مطالبہ نہ کریں‘ ان کی حتی الامکاں مدد کیا کریں۔‘‘
انسان کبھی کبھی مجبوراً یا مصلحتاً جھوٹ بولتا ہے لیکن عادتاً جھوٹ بولنا کہاںکی شرافت ہے‘ عاقبت الگ خراب ہوتی ہے۔
’’جھوٹوں پر تو خدا نے بھی لعنت بھیجی ہے۔‘‘ اس نے جھرجھری لی۔ ’’اللہ بچائے گمراہوں سے اور گمراہی سے۔‘‘
ہر وقت خدا اور شوہر کی ناشکری کا نتیجہ خدا نے بہت بھیانک دکھایا۔ عقیل بھائی کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ٹانگیں اس بری طرح زخمی ہوئیں کہ باوجود مہنگے علاج وہ معذور ہوکروہیل چیئر کے ہوگئے سب ہی ششدر رہ گئے تھے۔
جو کمائی وہ چھپائے پھرتی تھیں خدا نے اس سے بھی محروم کردیا تھا‘ ہر وقت کا جھوٹ بولنا اور خود کو کاذبوں میں شمار کرنا بہت ہی بُرا ثابت ہوا تھا۔
ہر وقت وہ نصیب کو کوستی رہتیںجس پر خدا بھی ناراض ہوگیا تھا۔ عالیہ بھابی ہانیہ سے لپٹ کر رو رہی تھیں۔
’’ کس قصور کی اتنی بڑی سزا ملی ہے مجھے ہانی!‘‘ وہ بلک رہی تھیں‘تینوں بچے بھی سہم گئے تھے۔
’’نادیدہ گناہوں پر استغفار کریں بھابی! اور عقیل بھائی کی زندگی بچ جانے پر شکرانہ ادا کریں‘ جنہیں ہم چھوٹی چھوٹی نیکیاں سمجھتے ہیں نا بھابی یہ ہمارے آگے کی زندگی کے کنکر اور پتھر صاف کرتی ہیں جس سے سفر آسان ہوجاتا ہے۔جھک جائیں بھابی خدا کے آگے‘ مشکلات آسان ہوجائیں گی۔‘‘ عالیہ بھابی کے ندامت بھرے آنسوئوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close