Hijaab Dec 15

آگئے چاہتوں کے موسم

شازیہ مصطفٰی

کہتے ہیں محبت تو احساس ہے ان کہی باتوں‘ جذبوں‘ سوچوں اور خیالوں کا محبت کبھی اپنا آپ کہہ کر نہیں منواتی۔ محبت کے مفہوم سے تو لوگ شاید واقف ہی نہ ہوں یا وہ جسے محبت سے دل میں رکھا گیا ہو۔ محبت کیونکہ نہ لفظوں کی محتاج رہی اور نہ ہی اسے کسی سے اپنا آپ وصولنے کی محتاج رہی‘ محبت تو ان کہی رہتی ہے آنکھوں کے رستے بھی تو بولتی ہے پھر ضروری تو نہیں اس جذبے کو اظہار کرکے منوائے کچھ جذبے ان کہے بھی ہوتے ہیں۔ ان کہی باتوں کی بھی اپنی خوب صورتی ہوتی ہے کیونکہ کچھ باتیں کہنے سے ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی یا پھر وہ باتیں ہم سمجھتے ہیں کہ ان کہی رہ جائیں تو اچھا ہے۔ ان کہی چاہت بھی تو ہوتی ہے چاہت نام ہے کسی کے دل میں زندہ رہنے کا۔ ان جذبوں کا جن کو ہم سنبھال کے رکھتے ہیں اس کی خاطر جن سے ہم یہ منسوب رکھنا چاہتے ہیں۔
’’ہائو…‘‘ ریان کی زور دار آواز پر وہ ہڑبڑا گئی‘ ہاتھ سے پین چھوٹا اور خاصے جارحانہ انداز میں ڈائری کو بند کیا جبکہ وہ اطمینان سے رائٹنگ ٹیبل پر چڑھ کے بیٹھ گیا۔
’’کبھی مت سدھرنا تم۔‘‘ علیزہ نے فوراً ڈائری اٹھائی اور سائیڈ کی دراز میں رکھ دی جبکہ وہ ہمیشہ کی طرح ہنستا مسکراتا اس کا غصہ سے تمتماتا ہوا چہرہ دیکھتا رہا۔
’’آپ ادھر آجائیں باری باری ہم سب سدھر جائیں گے۔‘‘ شوخی سے فقرہ اچھالا علیزہ اپنی ریوالونگ چیئر سے اٹھی اور اسے بھی ٹیبل سے اترنے کا اشارہ کیا اس نے بھی فوراً حکم کی تعمیل کی۔
’’زیادہ بکواس نہیں۔‘‘
’’یار فرینڈ! آپ تو فوراً خفا ہوجاتی ہیں۔‘‘ بلیک پینٹ پر لیمن کلر کی ٹی شرٹ میں وہ خاصا ڈیشنگ لگ رہا تھا‘ بالکل کاربن کاپی تھا وہ ابتسام کی‘ علیزہ نے نگاہ چرائی۔
’’یہ بتائو یونیورسٹی سے سیدھے ادھر ہی آرہے ہو۔‘‘ وہ اپنے کمرے سے نکلی ریان نے بھی تقلید کی‘ کچن میں ہی چلی آئی تاکہ اسے کچھ کھانے کو دے دے‘ ریان کچن میں رکھی چیئر پر بیٹھ گیا۔
’’پیپر تھا جلدی نکل آیا‘ سوچا کہ آپ سب کی خیریت پوچھ لوں۔‘‘ اطراف میں نگاہ دوڑائی کوئی نظر بھی نہیں آرہا تھا‘ علیزہ اس کے لیے کھانا گرم کرنے لگی۔
’’پھوپو کہاں ہیں؟‘‘
’’بھابی کمرے میں ہیں‘ تم کھانا کھائو میں بلاتی ہوں۔‘‘ اس نے پلیٹ میں پالک گوشت نکال کے اس کے آگے رکھا‘ ریان نے خاصی ناگوری سے دیکھا۔
’’کیا ہے مجھے یہ گوشت وغیرہ مت کھلایا کریں۔‘‘ وہ چڑ کے کھڑا ہوگیا۔ علیزہ نے بھی زیادہ تردد نہ کیا۔
’’کیا ہے آپ نے اٹھا لیا۔‘‘ وہ کھسیا‘ بھوک بھی شدید تھی۔
’’تم سب کے سب بگڑے ہوئے ہو سب سے پہلے تمہارے چاچو ان کے مزاج نہیں ملتے دوسرے تم۔‘‘ وہ ابتسام کی سخت طبیعت سے خود نالاں تھی‘ مگر چپکے چپکے وہ اسے اپنے دل میں بسائے ہوئے تھی۔
’’چاچو کو تو ہم آپ کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
’’زیادہ بک بک نہیں۔‘‘ وہ جھینپی کیونکہ اکثر وہ اسے ابتسام کے نام سے چھیڑتا رہتا تھا مگر وہ کبھی اس کی بات کو اہمیت ہی نہ دیتی تھی کیونکہ ابتسام کو تو شادی کے نام سے چڑ تھی‘ کتنی ہی بار بھابی اس کے پیچھے پڑچکی تھیں مگر وہ سن ہی کب رہا تھا۔
/…ء…/
’’کل صبح سب ساڑھے سات بجے تیار رہیں۔‘‘ اس نے لائونج میں آکے ان دونوں کو وارن کیا جو ٹی وی دیکھے رہے تھے۔ ریان نے ہنوز ٹی وی اسکرین پر نگاہ جمائی رہیں جبکہ اس سے دو سال چھوٹا عدنان اپنے چاچو کے غصے سے کافی ڈرتا تھا وہ فوراً ہی مؤدب بن کے بولا۔
’’ریان میں نے تمہیں بھی کہا ہے۔‘‘ اس نے ریان کو گھورا جو صوفے پر دراز تھا‘ کشنز کو ادھر ادھر بکھرا کے دونوں وہیں بیٹھے تھے جبکہ ایشا منہ بسورتی ہوئی چلی آئی۔
’’چاچو آج بھی مجھے اسمبلی میں سزا ملی تھی وہ بھی عدنان بھائی کی وجہ سے…‘‘
’’او جھوٹی! گھنٹوں آئینے کے سامنے کھڑی بال خود بناتی رہتی ہو۔‘‘ عدنان کے تو پتنگے لگ گئے‘ دونوں میں اکثر اسکول جاتے وقت لڑائی ہوتی تھی۔
’’عدنان تم بھی تو اتنی دیر ٹائی کی ناٹ لگانے میں لگاتے ہو۔‘‘
’’چاچو آپ ہر بات میں اس کی سائیڈ لیتے ہیں‘ نکمّی یہ ہے نہ بال خود بناتی ہے اور نہ ہی اپنا بیگ رات کو ٹھیک کرتی ہے۔‘‘ اس نے منہ بسور کے کہا‘ ایشا تو باقاعدہ منہ پھلا کے سنگل صوفے پر بیٹھ گئی۔
’’مجھ سے نہیں بنتے ہیں اپنے بال۔‘‘
’’دادی جان! باندھتی تو ہیں پھر تم کھول کیوں دیتی ہو۔‘‘ عدنان کو اس کی مین میخوں سے بڑی چڑ تھی جہاں وہ بال بندھوا کے آئی‘ آئینے میں دونوں پونیوں کی پیمائش کرنے کھڑی ہوجاتی تھی۔
’’دادی جان سے اونچی نیچی بندھتی ہیں میری پونیاں چاچو!‘‘ اس نے ابتسام کو معومیت سے بتایا۔ ریان نے ٹی وی آف کیا اور خاصی بے زاری سے اپنے سے چھوٹی بہن بھائی کی تکرار و بحث کو دیکھا۔
’’ایشا بیٹا! میں آپ کو آج شام کو آپی کے گھر چھوڑ دوں گا‘ تم وہاں سے پارلر جاکے اپنے بالوں کی کٹنگ کروا لینا۔‘‘ ابتسام نے اس کے بکھرے سلکی بالوں کو خود ہی لپیٹ کے ہئیر بینڈ میں جکڑا۔
’’کیا ہے چاچو! میں بڑی ہوگئی ہوں‘ سکس کلاس کی اسٹوڈنٹ ہوں۔‘‘ اس نے ایسے تفخر سے بتایا جیسے بہت بڑی کلاس میں ہو‘ ابتسام کو ہنسی آگئی‘ ایشا نے گھورا۔
’’بیٹا لیکن یہ بھی تو دیکھو آپ سے بال بندھتے نہیں ہیں دادی جان آپ کی بیمار رہتی ہیں کچھ تو حل نکالنا ہے نا۔‘‘ جب سے اس کے بھائی اور بھابی ایکسیڈنٹ میں فوت ہوئے تھے‘ ابتسام نے ہی تین سال کی ایشا کو سنبھالا تھا۔ ریان تو اس وقت سکس میں تھا اور عدنان ٹو میں‘ تینوں بچوں کی ذمہ داری وہ اٹھائے ہوئے تھا۔ امی اپنے بڑے بیٹے اور بہو کی وفات کے بعد سے بیمار رہنے لگی تھیں۔
’’چاچو اس کا سمپل حل ہے آپ کی شادی۔‘‘ ریان چہک کے بولا۔ ابتسام نے ایک کڑی نگاہ اس پر ڈالی جو اطمینان سے صوفے پر ہنوز دراز تھا۔
’’پلیز چاچو آپ شادی کرلیں تاکہ اس ایشا کا مسئلہ بھی حل ہو۔‘‘ عدنان بھی بہت اکتایا ہوا تھا‘ تینوں بھتیجے بھتیجی اس کے پیچھے لگے رہتے تھے مگر وہ شادی کے نام سے بدکتا تھا۔
’’تم لوگ اتنے بڑے ہوگئے ہو کہ مجھے مشورہ دو۔‘‘ ابتسام نے تیز لہجے میں کہا ایشا تو اور بدمزا ہوگئی‘ عدنان پہلے ہی ڈرتا تھا۔
’’چاچو پلیز دادی جان کا خیال کرلیں۔‘‘ ریان نے دہائی دی۔
’’صبح سب ریڈی رہیں۔‘‘ وہ جاتے جاتے حکم دینے لگا ان کی باتوں کو کبھی سیریس ہی نہ لیتا تھا۔ اب وہ ان بچوں کو اپنی سوچیں تو نہیں بتاسکتا تھا۔
’’کل میں یونیورسٹی نہیں جائوں گا‘ پرسوں پیپر ہے لاسٹ اس کے بعد میرا ایف ایم پر شو ہے۔‘‘
’’ اس بار اگر تمہارے مارکس کم آئے نا تمہارا ایف ایم چھڑوا دوں گا۔‘‘ ابتسام نے ساتھ ہی وارننگ دی یہ شوق بھی اس نے ریان کا پورا کیا تھا مگر اس وعدے کے ساتھ کے پڑھائی سے غفلت نہیں ہوگی۔
’’یار چاچو! ہفتہ میں میرے صرف دو شو ہوتے ہیں۔‘‘ وہ تو چڑ گیا کیونکہ ابتسام آخری دھمکی یہی دیتا تھا۔
’’زیادہ بحث نہیں۔‘‘ شہادت کی انگلی اٹھا کے وارننگ دی۔
’’ایک وہاں وہ ہٹلر بنی رہتی ہیں یہاں آپ‘ یار چاچو آپ دونوں شادی کیوں نہیں کرلیتے کم از کم ہم سب سدھر تو سکتے ہیں۔‘‘
’’ریان کیا بک رہے ہو؟‘‘ ابتسام تو حیرانگی سے اس کی بات سن کے ہی رہ گیا مگر پھر لہجہ کو سخت بنا کے سرزنش کی۔
’’میں آپ سے بالکل نہیں ڈرنے والا ہوں آپ کو شادی کرنی ہے یا نہیں؟‘‘
’’تم پاگل تو نہیں ہوگئے۔‘‘ وہ تو ریان کے اس نڈر اور پُراعتماد انداز پر تحیر میں مبتلا ہوگیا جو ایک حد میں رہ کے ہی مذاق بھی کرتا تھا۔
’’بالکل نہیں‘ سونے جارہا ہوں۔‘‘ تیزی سے وہ نکل گیا۔ عدنان اور ایشا بھی اپنے کمروں میں چلے گئے جبکہ وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
/…ء…/
’’پھوپو چاچو کو بہت غصہ آنے لگا ہے۔‘‘ ریان دوسرے دن پھر شام کو عدنان اور ایشا کو لے کے آگیا کیونکہ ابتسام کی شکایتیں انہی سے کرتے تھے‘ علیزہ لب بھینچے ہوئے اسے ہی بغور دیکھ رہی تھی۔
’’پھوپو میرے بال کٹوانے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ایک تو شادی بھی نہیں کرتے‘ دادی جان سے جوڑوں کے درد اور بلڈ پریشر کی وجہ سے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے۔ ماسی اتنا گندہ کام کرتی ہے‘ میرا یونیفارم تک نہیں دھوتی ہر بار چاچو کو دھونا پڑتا ہے۔‘‘ ایشا معصومیت سے بیٹھی ہوئی ان سے اپنے دکھڑے رو رہی تھی۔
’’ذرا مجھے فرصت ملے تو ریحان اور مناہل کے فرسٹ ٹرم سے آئوں گی اور ابتسام کو تو میں اب قابو کرلوں گی۔‘‘ سدرہ دل میں مصمم ارادہ باندھ چکی تھیں کہ اس بار زبردستی کرکے اس کی شادی ہی کروائیں گی اسی لمحے علیزہ پہلو بدل کے کھڑی ہوئی اور ہال سے نکل گئی کیونکہ ابتسام کا سرد مہر رویہ تو خود اس کے دل میں ترازو ہوتا تھا‘ کب سے وہ اس سنگ دل اور بے پروا انسان کو چپکے چپکے چاہ رہی تھی لیکن اس انسان کو تو جیسے اپنے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا تھا لائونج میں آکے بیٹھ گئی۔
’’کیا سوچا جارہا ہے۔‘‘ ریان بوتل کے جن کی طرح وہاں موجود ہوا۔
’’میں اگر کچھ سوچوں بھی تو تمہیں اس سے کیا۔‘‘ علیزہ نے اپنا پنک کاٹن کا پرنٹڈ آنچل سلیقے سے شانوں پر ڈالا۔ دراز بالوں کو لپیٹ کے کیچر میں جکڑا‘ ریان اس کے بالکل سامنے ہی کائوچ پر براجمان ہوگیا۔
’’مجھے بتاکے سوچا کریں اگر اپنے سرتاج کے بارے میں سوچ رہی ہیں تو یہ فکر چھوڑ دیں‘ مجھے کل ہی ماسی بسم اللہ ملی تھیں میں نے بتادیا ہے کہ ایک پُرخلوص سا گنجا سرتاج ملے تو اچھا ہے۔‘‘
’’ریان سدھر جائو۔‘‘ ایک کشن اٹھاکے اس پر اچھالا جو کمال خوب صورتی سے وہ کیچ کر گیا۔
’’ارے ایک تو میں آپ کی فکر کررہا ہوں۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’تمہیں ضرورت نہیں ہے فکر کی۔‘‘
’’آپ کا ہمارے چاچو کے بارے میں کیا خیال ہے‘ ڈیشنگ ہیں لمبے چوڑے سے آپ کے ساتھ سوٹ بھی بہت کریں گے۔‘‘
’’پھر فضول بکواس۔‘‘ وہ جھینپی۔
’’کیا کروں خاموش نہیں رہ سکتا۔‘‘ اس نے سر کھجایا۔
’’میں یہ سوچتی ہوں کہ تم دو گھنٹے ریڈیو پر پروگرام کیسے کرلیتے ہو سیریس انداز میں۔‘‘ علیزہ کو تو یہ بھی حیرانگی ہوتی تھی۔
’’آپ کو نہیں پتا وہاں بھی میں چپ نہیں رہتا۔‘‘ وہ کشن سر کے نیچے رکھ کے دراز ہوگیا ویسے بھی اسے علیزہ کو تنگ کیے بغیر مزا ہی نہیں آتا تھا۔
’’سنئے فرینڈ! مجھے کل کے لیے ایک ٹوپک تیار کرکے دیں یا پھر میں دوسروں سے بات کروں۔‘‘ وہ ٹوپک بھی اسی سے ہی ڈسکس کرتا تھا مگر ہر بار احسان کرکے ہی مانگتا۔
’’زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’کیا کروں اتنا فیمس ڈی جے ہوں لوگوں نے صرف آواز سنی ہے جب اتنا دیوانے ہیں۔‘‘ اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرنے شروع کردیئے۔
’’اوہو فیمس ڈی جے! ٹوپک میرے اور کریڈٹ خود لیتے ہو۔‘‘ علیزہ بھی باقاعدہ لڑنے ہی لگی جبکہ وہ ہنسنے لگا۔
’’ارے آپ سے لینا مجبوری ہے۔‘‘
’’سنو‘ اوقات میں رہو۔‘‘ اس نے شہادت کی انگلی اٹھائی۔
’’میرے اوقات ہیں پیر سے بدھ… پانچ سے سات۔‘‘ بات کو کہاں سے کہاں اڑاتا تھا علیزہ سر ہاتھوں میں تھام کے رہ گئی۔
’’میں سوچتی ہوں کہ کمپیوٹر دنیا میں کیوں آگیا‘ تم ایک چلتے پھرتے کمپیوٹر موجود ہو۔‘‘ وہ ریان کی برجستگی اور بے ساختگی پر انگشت بدندان رہ جاتی تھی جس کے پاس ہر بات کا جواب ہوتا۔
’’جل گئے نا جاپان والے فوراً کمپیوٹر کو میری ٹکر پر لے آئے۔‘‘
’’اچھا زیادہ شوخ ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘ پیپرز کی تیاری بھی ہورہی ہے جو تم اس وقت یہاں آگئے ہو۔‘‘
’’خوش ہوجائیں کچھ دیر بعد چاچو بھی آئیں گے‘ ذرا ٹھیک طرح سے تیار تو ہوجائیں۔‘‘
’’تم مجھے یہ بتادو کہ تم میرے لیے اتنے فکر مند کیوں رہتے ہو؟‘‘ ابتسام کا سوچ کے تو دل میں دھڑکنوں کا شور اٹھنا شروع ہوجاتا تھا۔
’’مجھے آپ دونوں کی ہی فکر ہے ویسے ماسی بسم اللہ سے میں نے کہا ہے کہ منڈا کوئی چاند سا دکھانا تاکہ ہماری فرینڈ کو خرچا نہ کرنا پڑے‘ بال کٹوانے پر چلئے یہ خرچا تو بچے گا۔‘‘
’’ریان…‘‘ وہ اس پر دوسرا کشن اچھالنے آگے بڑھی تو رک گئی کیونکہ بھائی جان آگئے تھے اس لیے ریان کی بچت ہوگئی۔ رات اس نے کھانے پر اہتمام کیا‘ امی نے خاص طور پر اس سے کہہ کر پکوایا تھا رات کو ہی ابتسام ان تینوں کو لینے آگیا تو ابو اور بھائی جان نے زبردستی کھانے پر روک لیا تھا۔
/…ء…/
ابتسام سے سدرہ کی ابھی تک بات نہیں ہوئی تھی روز وہ فون کرتی تھیں۔ اس دن تو وہ دونوں بچوں کے ساتھ صبح سے آگئیں پھر سنڈے تھا ایسے میں ابتسام کو گھیرنا بھی آسان تھا۔
’’امی یہ کچن کا حشر تو بہت خراب کیا ہوا ہے۔‘‘ وہ آتے کچن کی صفائی میں لگ گئی تھیں‘ دوپہر کا کھانا تک پکایا سارے بچے لائونج میں ہی بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے البتہ ریان ابھی تک سو رہا تھا ابتسام سے کوئی ملنے آیا تھا وہ ڈرائنگ روم میں تھا۔
’’ارے مجھ سے تو کچھ کیا نہیں جاتا۔‘‘ وہ خود کافی بیمار تھیں سدرہ ان کا کمرہ بھی سمیٹنے لگی تھیں پورے گھر کا ہی حشر نشر ہورہا تھا۔
’’سدرہ اس لڑکے کو قابو کرو اور اس کی شادی کروائو مجھ سے اب ان بچوں کی ذمہ داری نہیں اٹھائی جاتی۔‘‘ وہ مضمحل سے لہجے میں بولیں سدرہ تفکر زدہ سی ان کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھی تھیں کیونکہ گھر سے تو بہت کچھ سوچ کے آئی تھیں۔
’’ہاں اس بار ابتسام کی بالکل نہیں چلے گی آخر شادی تو کرنی ہی ہے پھر امی گھر کو ایک ذمہ دار لڑکی کی ضرورت ہے۔‘‘
’’ہاں یہی تو میں سوچتی ہوں خود بھی جھنجھلایا ہوا رہتا ہے۔‘‘
’’کرتی ہوں بات۔‘‘ وہ اٹھیں مگر پھر کمرے میں ابتسام کو آتے دیکھا تو بیٹھ گئیں۔
’’آپ آج اتنی صبح کیسے آگئیں؟‘‘ وہ امی کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھا ہاتھ میں اخبار بھی تھا جو سدرہ نے جھپٹ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
’’میں نے سوچا لیا ہے اسی مہینے میں تمہاری شادی کروائوں گی۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ ابتسام تو اچھل ہی پڑا۔
’’ہاں کیونکہ بچے الگ پریشان ہیں‘ امی الگ فکر مند ہیں تم اپنی فضول سی ضد لیے بیٹھے ہو۔‘‘ انہوں نے درشت لہجے میں کہا۔
’’بجو ضروری ہے کہ شادی ہی حل ہو۔‘‘
’’سنو ابتسام! ہر مرد و عورت کو ایک دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘ وہ سمجھانے لگیں وہ اٹھنے لگا لیکن سدرہ نے ہاتھ پکڑ کے واپس بٹھالیا۔
’’تمہاری کوئی نا نہیں چلے گی۔‘‘ انہوں نے حکم صادر کیا۔
’’سدرہ مجھے ویسے بھی شروع سے علیزہ پسند رہی ہے اس سے کہو وہ لڑکی ہیرا ہے۔‘‘ امی نے بھی ساتھ ہی اپنے رائے دی۔
’’بجو میں بغیر شادی کے بھی ان بچوں کو ٹھیک طرح پال ہی رہا ہوں اور پال لوں گا۔‘‘ وہ دس سال کے عرصے میں خاصا سنجیدہ اور ذمہ دار ہوگیا تھا‘ سدرہ تاسف بھری نگاہ ڈال کر رہ گئیں۔
’’ابتسام تمہیں صرف دو دن سوچنے کا دے رہی ہوں‘ علیزہ اچھی لڑکی ہے سب سے زیادہ وہ بچوں سے بھی اٹیچڈ ہے تمہارے مزاج سے بھی واقف ہے سب کچھ سنبھال لے گی۔‘‘ اب وہ بڑے نرم لہجے میں اس کو سمجھانے لگیں جو سر جھکائے گہری سوچ میں گم تھا۔
’’سدرہ اسے بس اپنا خیال ہے ارے کم از کم اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کی خاطر ہی کرلے‘ ایشا تو بچی ہے میری زندگی کا بھی کوئی بھروسہ نہیں ہے کم از کم مجھے یہ فکر تو نہ رہے گی کہ ماں سر پر نہیں۔‘‘
’’امی پلیز…‘‘ وہ روہانسہ ہوتے ان کے سرد ہاتھوں کو تھام کے رہ گیا۔
’’میرے بچے مان جا دیکھ تو اپنی حالت صبح کا نکلا تُو رات کو گھستا ہے مجھ بیمار سے نہیں ہو پاتا ان بچوں کا کام سوچ تو ان کے متعلق۔‘‘ وہ نرم لہجے میں بولتی اسے قائل کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ابتسام کو اس لمحے امی کی باتوں نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا وہ نیم رضا مندی کی حالت میں کمرے سے نکلا سدرہ کچھ مطمئن سی ہوگئی تھیں۔
/…ء…/
ادھر سدرہ نے بھی ابھی گھر میں امی ابو اور شعیب سے علیزہ کے لیے بات نہ کی تھی کیونکہ ابتسام کی طرف سے وہ مطمئن ہونا چاہتی تھیں۔ علیزہ انہیں کافی دنوں سے نوٹ کررہی تھی کہ بھابی جیسے اس سے کچھ کہنا چاہتی ہیں لیکن اس نے بھی مخاطب کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔
’’پھوپو ماموں جان آئے ہیں‘ دادی جان کہہ رہی ہیں کہ چائے بنادیں۔‘‘ سات سالہ ریحان نے اطلاع دی وہ بیڈ پر لیٹے کسی کتاب کے مطالعے میں منہمک تھی۔ ابتسام کا سوچ کے ہی دل دھڑک اٹھا جھٹ اٹھی دھانی کلر کے پرنٹڈ کپڑوں کا آنچل سلیقہ سے شانوں پر پھیلایا بالوں کو درست کیا اور باہر آگئی سامنے ہی ہال کمرے میں وہ اپنی تمام تر معزوریت اور لاتعلقی سمیت بلیک پینٹ پر آف وائٹ شرٹ میں ملبوس سنگل صوفے پر بیٹھا تھا۔ نگاہوں کے تصادم پر وہ جھینپ گئی کانوں کی لوئوں تک وہ گرم ہوگئی تھی۔
’’آخر یہ اتنے لاتعلق کیوں رہتے ہیں ذرا بھی تو نہیں دیکھتے۔‘‘ سوچتے ہوئے چائے بنارہی تھی۔ جدید اسٹائلش سے کچن میں وہ کھڑی لوازمات سے پر ٹرے ترتیب دے چکی تھی۔
’’گڈ… چائے کے ساتھ تم نے یہ بھی نکال لیا۔‘‘ بھابی اچانک ہی اندر آئی تھیں وہ ہڑبڑاہی‘ کیتلی میں چائے چھان کے نکال رہی تھی۔
’’وہ بھابی بسکٹ نہیں تھے یہ نمکو اور سینڈوچ ہی تھے۔‘‘ اس بتایا۔
’’ٹھیک ہے تم لے کے آجائو۔‘‘ اس کے بازو پر پیار بھری تھپکی دے کے چلی گئیں۔ چائے وغیرہ لے جانے کے خیال سے ہی اس کے تو پسینے چھوٹ گئے وہ جھجکتی ہوئی ٹرے اٹھائے کچن سے نکل کے کوریڈور میں آگئی‘ سامنے ہی ہال کمرہ تھا وہ چلی آئی وہاں امی ابو بھائی جان بھی موجود تھے۔ ابتسام سر جھکائے بیٹھا تھا علیزہ نے ٹرے سینٹرل ٹیبل پر رکھی اور تیزی سے چلی گئی۔ کمرے میں آکے دل کی دھڑکنوں کو قابو کیا مگر دل میں بے چینی سی سوار ہوگئی کب ابتسام گیا اسے کچھ خبر نہ تھی رات کو پھر اسے روٹیاں پکانے کچن کا رخ کرنا پڑا تھا۔
’’شکر ہے ابتسام نے ہامی تو بھری شادی کی۔‘‘ علیزہ کی سماعتوں نے بھابی کا یہ جملہ سنا وہ روٹیاں پکانے میں مشغول رہی مگر وہ مسلسل بولے جارہی تھیں۔
’’چلئے مبارک ہو۔‘‘ اس کے دل میں ایسا لگا چھنا کے سے کچھ ٹوٹا ہو سدرہ نے بس ایک نظر مسکراتی نگاہ اپنی اس پیاری سی نند پر ڈالی جو انہیں ہمیشہ اپنے بھائی کے حوالے سے اچھی لگی تھی مگر ابتسام کی فضول سی ضد کی وجہ سے اپنی یہ خواہش دبا کے اب تک بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’تمہیں بھی مبارک ہو۔‘‘ معنی خیزی سے وہ ہنسیں۔
علیزہ نے جلدی جلدی روٹیاں پکائیں اور نکل گئی مناہل کو پھر ہوم ورک کروانے لگی تھی۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنی مخصوص جگہ لائبریری میں آکے بیٹھ گئی ایک چھوٹے سے کمرے کو اس نے ایک بڑی سی بُک شیلف لگوا کے لائبریری بنالی تھی ایک رائٹنگ ٹیبل اس پر رکھا کمپیوٹر وہ اکثر وہیں بیٹھ کے وقت گزارتی تھی مگر آج تو دل میں درد بڑھ گیا جو نہ پہلے اس کا تھا وہ اب تو بالکل ہی اس کا نہ تھا اس کی زندگی میں کوئی اور آنے والی تھی اور یہ سب کتنا جان گسل لگ رہا تھا جس سے اس نے صرف دل کا رشتہ وہ بھی یک طرفہ جوڑا تھا وہ بھی ٹوٹ رہا تھا آنسو آنکھوں میں کانچ کی طرح چبھنے لگے‘ کتنا اذیت ناک لمحہ ہے کہ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اب تو بالکل اس کا نہیں رہا۔ رائٹنگ ٹیبل پر سر رکھے وہ چپکے چپکے آنسو بہانے لگی کس سے اپنے دل کا درد شیئر کرے کوئی عزیز جان ہستی سہیلی بھی تو نہ تھی آنرز کرنے کے بعد تعلیم کو اس نے خیر باد کہہ دیا تھا پھر کسی نے زور بھی نہ دیا تھا اس نے ایک سہیلی بھی نہ بنائی تھی کیونکہ وہ شروع سے کچھ کم گو واقع ہوئی تھی پھر صرف دو ہی تو وہ بہن بھائی تھے آٹھ سال پہلے ہی تو بھائی کی شادی ہوئی تھی۔ سدرہ بھابی سے اس کی اچھی ہی بنی رہی تھی ان سے وہ ہر بات کر بھی لیتی تھی مگر یہ بات جو کہ ان کے بھائی سے تعلق رکھتی ہے کیسے کہے کہ وہ ان کے معزور اور بددماغ بھائی کو چاہ رہی ہے۔ آنسو اس نے اپنے آنچل سے صاف کیے اور سر اٹھالیا وہ اپنے چہرے سے کسی پر بھی کوئی تاثر نہیں دینا چاہتی تھی سیدھی پھر اپنے کمرے میں آگئی اور رائٹنگ ٹیبل کی دراز سے ڈائری نکالی اور پین کو اس نے اپنی مخروطی انگلیوں میں تھام لیا۔
’’وقت کو جب مڑ کے دیکھو تو پتا چلتا ہے کہ کیا کچھ گزر چکا ہے اور کیا ہوچکا ہے بس اگر تبدیلی آئی تو یہ کہ وقت نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے خدوخال میں تبدیلی کی لیکن سوچویں کل بھی وہی تھیں اور آج بھی وہی ہیں کل بھی اس دل میں وہ تھا اور آج وہ بھی موجود ہے لیکن اگر ملن نہ ہوا تو شاید کچھ رکاوٹیں راہ میں حائل تھیں اور میں پھر آج اکیلی رہ گئی۔‘‘ پین بند کرتے اس نے سائیڈ پر رکھا اور ایک سرد سی آہ بھری۔
’’ابتسام احمد میں آج بھی تمہیں چاہتی ہوں اور کل بھی چاہتی رہوں گی‘ کیا ہوا جو تم اور میں مل نہ سکے۔‘‘ لب بھینچ کے اندر کے درد کو اس نے دبانے کی کوشش کی وہ اتنی بزدل نہ تھی کہ وہ اس حقیقت کا سامنا نہ کرسکے وہ تو شروع سے ہی اپنے دل کے راز چھپاتی آئی ہے اب بھی چھپائے گی۔
/…ء…/
ابتسام نے رضامندی کیا دی کہ گھر میں خوشیاں آگئیں۔ ریان نے تو باقاعدہ نعرہ لگایا عدنان اور ایشا اس کے گلے میں جھول گئے سوبر سا ابتسام جھینپ کر ہی رہ گیا۔
’’چاچو پہلی بار آپ نے کوئی صحیح فیصلہ کیا ہے۔‘‘ وہ سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ امی بے چاری ان کے لیے کچن میں ہی موجود تھیں‘ بڑی مشکل سے ان سے سالن پکا تھا بلڈ پریشر ہائی ہورہا تھا۔ ابتسام نے امی پر ایک فکر مند سی نگاہ ڈالی جو سر پکڑے بیٹھی تھیں۔
’’شکر ہے عقل تو آئی اسے۔‘‘ امی نے بھی ساتھ ہی تائید کی۔
’’دادی جان جلدی ہی شادی کی تاریخ رکھیے کیونکہ اب تو بالکل ہم سے صبر نہیں ہوتا۔‘‘ ریان نے کھانے سے فارغ ہوکے کہا۔
’’ابھی علیزہ سے بھی تو پوچھا جائے گا۔‘‘ وہ گویا ہوئیں۔ ابتسام کی تو پوری کوشش تھی کہ علیزہ ہی انکار کردے تاکہ اس کی بچت ہوجائے۔
’’ارے ان سے پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔‘‘ وہ پھر چمک کے بولا۔
’’غالباً تم ایف ایم جارہے تھے تمہارا شو تھا۔‘‘ ابتسام نے یاد دلایا جب سے پیپرز ختم ہوئے تھے وہ رات کے شوز بھی کرنے لگا تھا مگر ابتسام کو یہ بھی پسند نہ تھا وہ اس کے شوق کے آگے خاموش ہوگیا تھا۔
’’اوہ دیر ہورہی ہے۔‘‘ اپنی ریسٹ واچ پر نگاہ ڈالی۔
’’اور ہاں سنو صرف اس مہینے کی رات کے شوز کی اجازت ہے۔‘‘ ابتسام نے تنبیہ بھرے انداز میں اسے وارن کیا۔
’’کیوں آپ شروع کرنے والے ہیں رات میں شوز۔‘‘ وہ ذومعنی لہجے میں بولا۔ عدنان کی ہنسی نکلنے والی تھی مگر ابتسام کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کے وہ دبک گیا۔
’’فضول مت ہانکا کرو۔‘‘
’’اتفاق سے وہ علیزہ چاچی بھی یہی کہتی ہیں۔‘‘ اس نے جھٹ علیزہ کو چاچی بھی کہنا شروع کردیا ورنہ ہمیشہ فرینڈ ہی کہتا تھا وہ تھی بھی اس سے پانچ سال بڑی اور ابتسام سے وہ دس سال چھوٹا تھا۔ چچا بھتیجے تو وہ کبھی لگے ہی نہ تھے بلکہ اسے ریان کے سارے دوست ہی بڑا بھائی سمجھتے۔
ریان رات کو ایک بجے تک آتا تھا جب تک وہ انتظار کرتا تھا آنکھوں پر گلاسز لگائے کسی فائل کی ورق گردانی کررہا تھا کہ فون کی بیل ہونے لگی۔
’’یس…‘‘ نگاہ بیڈ پر رکھی فائل پر تھی اور ریسور کان سے لگا لیا تھا۔
’’السلام علیکم!‘‘ دوسری جانب علیزہ تھی۔
’’وعلیکم السلام!‘‘ وہ حیران بھی ہوا کہ اس نے فون کیوں کیا‘ کہیں انکار کے لیے تو نہیں وہ سنبھلا۔
’’جی… وہ… میں علیزہ ہوں‘ ریان سے بات ہوسکتی ہے۔‘‘ رک رک کے اس کی کھنکھناتی ہوئی آواز ابتسام کے کانوں سے ٹکرائی وہ ایک لمحہ کو چونکا۔
’’ریان ایف ایم گیا ہے اس کا شو ہے رات کو ایک بجے آئے گا۔‘‘ انتہائی خشک لہجے میں جواب دیا۔
’’جی اچھا میں صبح کرلوں گی۔‘‘ وہ فوراً بولی۔
’’ریان سے کہیے گا کہ وہ کئی دنوں سے آیا کیوں نہیں؟‘‘
’’محترمہ یہ سب آپ صبح فون کرکے پوچھئے گا۔‘‘ ابتسام نے بدمزا ہوکے کھٹ سے ریسیور کریڈل پر پٹخ دیا کیونکہ وہ تو ایسی کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔
/…ء…/
’’سنئے ایک بُری خبر ہے‘ ماسی بسم اللہ رضائے الٰہی سے انتقال کرگئی ہیں۔‘‘ ریان معصوم سی صورت بناکے اس کے سامنے آبیٹھا علیزہ نے چونک کے دیکھا۔
’’یہ تمہاری ماسی بسم اللہ رہتی کہاں ہیں؟‘‘ علیزہ نے دانت پیسے وہ دوسرے دن ہی شام میں چلا آیا تھا اور اسے تنگ بھی کیے جارہا تھا۔
’’اب کیا فائدہ جب وہ رضائی اوڑھ کے انتقال کر گئیں۔‘‘ اس نے آہ بھری اور اپنی شکل اور سوگوار بنالی۔
’’ریان کیا واہی تباہی بکتے رہتے ہو۔‘‘
’’یار میں آپ کو بتارہا ہوں وہ جو ماسی بسم اللہ نے رضائی خریدی تھی رات کو وہ وہی اوڑھ کر سوئیں اور دم گھٹنے سے مرگئیں۔‘‘ وہ اور روتی صورت بناکے بولا۔
’’تم… تم…‘‘ علیزہ نے حسب معمول کشن اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔ ’’پتا نہیں تم کیا کیا بکتے رہتے ہو۔‘‘ وہ ماسی بسم اللہ کے روز روز کے ذکر سے تنگ آگئی تھی۔
’’ایک تو وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں جاتے جاتے آپ کا کیس اپنی سوتن کو دے گئی تھیں۔‘‘ وہ اب بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہا تھا۔
’’ان کی سوتن کو کوئی اور لڑکا دیکھا دو۔‘‘
’’ارے ایسے کیسے دکھادوں رشتہ تک پکا کردیا ہے بس چند ماہ کی مہمان ہیں آپ اس گھر میں۔‘‘
’’ریان کیوں تنگ کرتا ہے میری پیاری نند کو۔‘‘ سدرہ بھابی بھی کب سے اس کی گفتگو کچن سے سن رہی تھیں۔
’’پھوپو آپ کی یہ پیاری نند کسی اور کو پیاری ہورہی ہیں‘ آپ نے انہیں بتایا۔‘‘ وہ علیزہ کی بے زار صورت کو دیکھتے ہوئے شوخی سے گویا ہوا۔ جبکہ وہ لب بھینچ کے اندر کے سارے رازوں کو چھپانا چاہ رہی تھی۔
’’بھابی آپ کے بھتیجے کو بہت بک بک آتی ہے۔‘‘
’’ارے ایک تو میں آپ کو کچھ بتانے والا ہوں آپ کا ہی بھلا ہوگا۔‘‘ لہجہ خاصا راز دار اور معنی خیز بنایا‘ علیزہ نے تیکھے چتون اٹھائے اب تک وہ اس کا مذاق ہی سمجھ رہی تھی مگر وہ چونکی کیونکہ بھابی بھی مسکرا رہی تھیں۔ امی اور ابو کو ایک ہفتے سے گول مول باتیں کرتے ہوئے بھی سن رہی تھی مگر اس کے تو دل کی دنیا لٹی تھی وہ کیا توجہ دیتی مگر ریان کی شرارتی سی آنکھیں اس پر ٹکی تھیں وہ چونکے بنا نہ رہ سکی۔
’’پھوپو آپ کیوں ان کے دل کی ہارٹ بیٹ کم کروائیں گی بتا تو دیتیں کہ خیر سے پیا دیس سدھارنے والی ہیں۔‘‘ اس نے آنکھوں کو اشارے سے گول گول گھماتے علیزہ کی جانب دیکھا۔
’’بھئی ہماری علیزہ شروع سے سلجھی سمجھی ہے اس کی ہارٹ بیٹ نارمل ہی رہے گی کیوں علیزہ! تمہیں ابتسام کی ہمراہی میں ساری عمر دیا جارہا ہے کہو میرے بھائی کے ساتھ رہو گی نا؟‘‘ کوئی بم تھا یا طوفان جو ابھی ابھی علیزہ کے دل و دماغ کو ہلاگئے تھے اور ہونقوں کی طرح ان کو دیکھے گئی۔
’’علیزہ میں تم سے خود پوچھتی اس ریان نے پہلے ہی بول دیا۔‘‘ وہ کچھ گھبرا سی گئیں کیونکہ علیزہ نے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا وہ اٹھ کے اندر چلی گئی ریان اور بھابی فکر مند ہوگئے کہیں اسے اعتراض تو نہیں۔
/…ء…/
اسے کیا خبر تھی کہ دل میں اٹھتی ہوئی خواہشوں کو یوں اچانک ہی پورا ہونا تھا وہ تو کل سے سکتے میں تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ خوش ہو یا غصہ کرے لیکن وہ اتنی بھی ناشکری نہ تھی مگر یہ سوچ سوچ کے حیران تھی کہ اسے خبر کیوں نہ ہوئی ابتسام کے بارے میں سوچ کے تو دل اور ہی دھڑ دھڑ کرنے لگا۔ وہ بیڈ سے اٹھی اسی وقت بھابی اندر آئیں۔ گرین کاٹن کے پرنٹڈ کپڑوں میں اس کا ملیح سراپا شرم و گھبراہٹ سے سرخ ہورہا تھا۔
’’علیزہ کیا تمہیں کل کی بات پر غصہ ہے جو ریان نے اچانک ہی کہہ دی حالانکہ میں تمہیں بتانے والی تھی۔‘‘ بھابی کا چہرہ افسردہ سا لگا علیزہ کو اپنی محبت سے گندھی بھابی کی اداسی اچھی نہ لگی جھٹ ان کے ہاتھوں کو تھاما۔
’’بھابی آپ اتنی افسردہ اور پریشان کیوں ہورہی ہیں۔‘‘ اس نے مسکراہٹ سے ان کی یہ اداسی دور کرنا چاہی بھابی نے تحیر میں مبتلا ہوکہ پیاری سی اپنی نند کو بے اختیار گلے سے لگالیا۔
’’علیزہ گڑیا! تم مجھے ہمیشہ سے پیاری رہی ہو اگر میں نے تمہیں ابتسام کے لیے منتخب کیا ہے تو کچھ سوچ کے ہی کیا ہے کیونکہ تم اس کے مزاج سے واقف ہو اور پھر ریان عدنان اور ایشا تم سے کافی اٹیچڈ بھی ہیں۔‘‘ وہ قدرے توقف کے بعد اس سے تفصیل سے مخاطب ہوئیں۔
’’ابتسام کو تم جانتی ہی ہو وہ بھتیجے بھتیجی کی وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا جبکہ بچوں کو ضرورت کسی ذمہ داری لڑکی کی ہے پھر امی بھی کتنی بیمار رہتی ہیں ان سے کچھ نہیں ہوتا۔ اب تم چاہے مجھے خود غرض کہہ لو کہ میں نے اپنی غرض کے لیے تمہارا انتخاب کیا۔‘‘
’’بھابی آپ ایسی بات کیوں کرتی ہیں آپ نے کچھ سمجھ کر ہی میرا انتخاب کیا ہے آپ بس میرے لیے دعا کیجیئے گا کہ میں آپ کے بھائی کو سمجھ سکوں اور اس گھر کی ساری ذمہ داری اٹھا سکوں۔‘‘ اس نے بھابی کے سرد ہاتھوں کو تھام کے انہیں مطمئن کیا وہ تو فرط مسرت سے اس کا ماتھا چوم کے رہ گئیں آج اس نے ان کا مان رکھ لیا تھا پھر وہ خود صلح جو قسم کی تھی۔
’’سنو ابتسام کے غصے سے تم بالکل مت ڈرنا کیونکہ وہ پہلے ہی شادی کے لیے تیار نہیں تھا۔ مجھے پتا ہے وہ تم پر ہر بات پر غصہ نکالے گا۔‘‘
’’بھابی آپ تو مجھے ڈرا رہی ہیں۔‘‘ علیزہ نے جھینپی جھینپی نگاہوں سے شرمگیں لہجے میں کہا۔
’’میں تمہیں ڈرا نہیں رہی ہوں بلکہ اپنے سر پھرے بھائی کے بارے میں کچھ آگاہی دے رہی ہوں کیونکہ تم اچانک نئے ماحول میں جائو گی پھر نئے ساتھی کا ساتھ ہوگا۔ ظاہر ہے تم کچھ گھبرائو گی بھی تو اس لیے تمہیں پہلے سے ریلیکس کررہی ہوں۔‘‘ انہوں نے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے کامنی سے علیزہ کے ہاتھوں کو دبایا۔
کافی دیر تک ہی بھابی اسے ابتسام کے بارے میں سمجھاتی رہیں اور وہ سر جھکائے سنتی رہی شروع سے ہی وہ صلح جو تھی نہ کسی سے بحث کرتی اور نہ ہی کسی کو ناراض کرتی تھی ہر ایک کو اپنی ذات سے فائدہ ہی پہنچانے کی کوشش کرتی کیونکہ اس کا یہ کہنا تھاکہ دنیا میں اگر انسان کو بھیجا گیا ہے تو کسی نہ کسی مقصد کے تحت اس لیے وہ ہر ممکن ہر اچھا کام کرنا چاہتی تھی۔
/…ء…/
’’مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے صرف ان بچوں کی خاطر میں شادی کے لیے راضی ہوا ہوں کیونکہ امی پہلے ہی کافی بیمار ہوگئی ہیں بس محض یہی سوچ کر چپ ہوگیا۔‘‘ وہ ایسے بول رہا تھا جیسے سات پشتوں پر احسان کررہا ہو۔ سدرہ نے ایک تاسف بھری آہ بھری کیونکہ ابتسام کو قابو کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
’’شکر ہے پھوپو کم از کم ہمیں اب ہر چیز وقت پر تو ملے گی۔‘‘ ریان نے تو پہلے ہی شکر کا سانس لیا ورنہ اسے تو صبح ہمیشہ یونیورسٹی جانے میں دیر ہوتی تھی کیونکہ ابتسام کی اکثر آنکھ ہی صبح دیر سے کھلتی تھی۔ ابتسام نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا جو کائوچ پر دراز تھا‘ نائٹ ڈریس میں شوخ سا ریان ایک دم ہی مؤدب بن گیا۔
’’میں کیا تم لوگوں کا خیال نہیں رکھتا ہوں جو تم یہ بول رہے ہو۔‘‘
’’ابتسام وہ بچہ ہے اگر کہہ دیا تو اس نے غلط تو نہیں کہا۔‘‘ سدرہ نے اسے ٹھنڈا کرنا چاہا جو بس گرم گھونٹ اندر اتار کے رہ گیا۔
’’سمجھا کے بھیجئے گا اپنی نند کو میرے کاموں میں مداخلت نہ کرے‘ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ انتہا سے زیادہ روکھا اور اکھڑ ہوگیا تھا۔ امی کو تو اس کے گرم مزاج سے کوفت ہوتی تھی۔
’’ابتسام اس کی تم سے شادی ہوگی وہ صرف تمہاری وجہ سے اس گھر میں آئے گی۔‘‘ سدرہ کو اس کی یہ بات خاصی ناگوار گزری۔
’’چاچو کو اس سے کیا۔‘‘ ریان نے پھر لقمہ دیا۔
’’ریان اٹھو یہاں سے صبح تمہیں یونیورسٹی جانا ہے یا نہیں۔‘‘ ریان منہ بناتا ہوا کمرے میں چلا گیا۔ پورے لائونج کا حلیہ خراب تھا‘ کشنز سارے کارپٹ پر تھے کیونکہ کچھ دنگل ریحان مناہل اور ایشا نے بھی کیا تھا سدرہ ایک دن رکنے کے لیے آئی تھی۔
’’بچوں سے ذرا نرم لہجے میں بات کیا کرو۔‘‘
’’یہی بات میں اس سے کہتی ہوں ہر وقت کی ڈانٹ ڈپٹ ٹھیک نہیں رہتی۔‘‘ امی عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے کمرے سے نکل کر لائونج میں ہی آگئی تھیں جبکہ ابتسام لب بھینچ کے رہ گیا۔
’’میں اگر ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہوں تو بُرے انداز سے نہیں آپ کو نہیں پتا آپی! میں نے ان بچوں کو کیسے سنبھالا ہے۔‘‘ وہ سوچ کے ہی رہ گیا کیونکہ ننھی ایشا کو تو اس نے راتوں کو جاگ کے سنبھالا تھا سدرہ کی شادی تو بڑے بھائی بھابی کے اس دنیا سے جانے کے ایک سال بعد ہی کردی تھی ابتسام نے کیونکہ شعیب بھائی ابو کے دوست کے بیٹے تھے اس لیے ابتسام نے بڑے بھائی کی طرح اپنی یہ ذمہ داری بھی ادا کردی تھی پھر ابتسام نے اور امی نے ہی مل کر بچوں کو سنبھالا تھا۔
’’مجھے خبر ہے بھائی لیکن تم یہ بھی تو سوچو کہ یہ بچے اب بڑے ہورہے ہیں‘ ریان کو دیکھو تم سے دس سال چھوٹا ہے بھائی ہی لگتا ہے۔ تم اتنے بڑے لڑکے کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے رکھو گے تو وہ تمہاری طرف سے بدظن ہوگا۔‘‘ سدرہ اسے بڑے نرم لہجے میں سمجھا رہی تھیں۔
’’اوکے لیکن پلیز اپنی نند کو ذرا میرے مزاج سے ضرور آگاہ کردیجیئے گا۔‘‘ وہ بولتے بولتے کچھ جھجکا مگر وہ یہ یاددہانی ضرور کرانا چاہ رہا تھا پھر علیزہ سے اس کی کبھی بات چیت بھی نہ رہی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے واقف ہوں۔
ء…/…ء
سدرہ بھابی نے ایسی جلدی مچائی کہ انہوں نے دو ماہ کے اندر اندر شادی کرنے کا کہہ دیا دونوں گھرانوں میں تیاریاں عروج پر ہی تھیں۔ ریان تو اکثر یہیں پایا جاتا تھا کیونکہ یونیورسٹی سے آنے کے بعد اسے ایف ایم بھی جانا ہوتا تھا ٹوپک ڈسکس وہ علیزہ سے ضرور کرتا تھا۔
اس دن وہ عصر کی نماز پڑھ کر لائونج میں ہی ٹی وی آن کرکے بیٹھ گئی‘ گرین کاٹن کے پلین سوٹ پر پرنٹڈ بلیو دوپٹے میں اپنے سادے سے سراپے کے ساتھ بیٹھی تھی کہ ابتسام کی آمد پر وہ تو گڑبڑاہی گئی‘ دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا ساتھ اس کے ایشا بھی تھی علیزہ کھڑی ہوئی دل دھڑ دھڑ کرنے لگا‘ بوکھلاہٹ میں سلام تک بھول گئی۔
’’آپی ہیں۔‘‘ اس نے جان بوجھ کے علیزہ پر نگاہ تک نہ ڈالی جبکہ وہ تو ساکت ہی ہوگئی تھی۔
’’اوہو ماموں جان!‘‘ ریحان نے اوپر سے دیکھا‘ ابتسام نے ایشا کو صوفے پر لیٹا دیا۔
’’بیٹا مما کو بلائو۔‘‘ اس نے ریحان سے کہا جبکہ علیزہ تو وہاں سے بھاگ لی۔
’’دیکھی آپ نے اپنی نند کی حرکت مجھے دیکھ کر نہ سلام کیا بلکہ یہاں سے ایسے بھاگی ہے جیسے میں کوئی موذی چیز ہوں۔‘‘ ابتسام کو نہ جانے کیوں اسے اپنی تضحیک لگی۔
’’ارے بے وقوف شرم کی وجہ سے گئی ہے۔‘‘ انہوں نے بات بنائی۔
’’بس آپی رہنے دیں میں سب جانتا ہوں آج کی کل ان لڑکیوں کو بے باک اتنی ہوگئی ہیں۔ سب ڈھونک لگتا ہے شرمانا‘ گھبرانا۔‘‘ علیزہ چائے بنانے کے لیے کچن میں ہی جارہی تھی کہ لائوج سے ابتسام کے کرخت اور درشت لہجہ پر چونکی اس نے بخوبی جان لیا تھا۔
’’اونہہ… ابتسام حیدر آپ میرے بارے میں ایسے نہیں کہہ سکتے میں ان لڑکیوں سے بہت مختلف ہوں۔‘‘ دل میں ایسا لگا تھا چھناکے سے کچھ ٹوٹا ہو‘ آنکھوں میں نمی در آئی مگر پھر ان تلخ سوچوں سے گریز کیا اور ابتسام کے لیے چائے بنانے لگی پھر خود ہی بھابی کے ہاتھ بھیجی بھی۔ ابتسام کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ ایشا کو بہت تیز بخار تھا امی کو الگ بلڈ پریشر ہورہا تھا پھر اسے دو دن کے لیے افس کی وجہ سے وزٹ پر جانا پڑ رہا تھا اس لیے اس کی دیکھ بھال کی وجہ سے چھوڑنے آیا تھا۔ علیزہ نے جھٹ ایشا کو اپنے کمرے میں منتقل کرلیا تھا جب اس نے ذمہ داری اٹھانے کا سوچ لیا تھا تو ابتدا آج سے کیوں نہیں۔
’’ابتسام حیدر میں آپ کی سوچوں کو غلط ثابت کرکے رہوں گی اور آپ کو اپنے سچے جذبوں سے ہی جیت کے رہوں گی۔ مجھے قوی امید ہے کہ ایک دن آپ بھی مجھے مان جائیں گے۔‘‘ وہ آہستگی سے سوئی ہوئی ایشا کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی کیونکہ شام سے اب تک وہ بہت کچھ سوچ چکی تھی شادی کے دن بھی قریب آرہے تھے اور اسے اپنے پیاروں کو ایک دن ہمیشہ کے لیے چھوڑ جانا تھا کئی بار وہ چپکے چپکے رو بھی چکی تھی۔
ء…/…ء
یہ دو ماہ کا عرصہ ایسے تمام ہوا کہ اسے کچھ خبر ہی نہ ہوئی مایوں مہندی سارے فنکشن بڑے دھوم دھڑکے سے ہوئے کیونکہ ریان عدنان اور ایشا کو اپنے چہیتے چاچو کی شادی کا بڑا ارمان تھا۔ وہ ساری رسومات سے فارغ ہوکے ابتسام کے خوب صورت سے ڈیکوریڈ بیڈ روم میں پہنچادی گئی‘ سدرہ تو ساتھ ہی آگئی تھیں کیونکہ ادھر بھی ان کی ضرورت تھی رشتے دار بھی ایسے خاص نہ تھے کہ وہ زیادہ عرصے تک قیام کرتے۔
’’ریان جلدی نکلو کمرہ خالی کرو۔‘‘ سدرہ نے اسے بازو سے پکڑ کے اٹھایا جو جہازی سائز بیڈ پر بڑے اطمینان سے لیٹا تھا۔
’’پھوپو میں یہاں سے اٹھنے والا نہیں۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ اٹھاکے اپنا ارادہ ظاہر کیا علیزہ ریڈ لہنگے میں دلہن کے روپ میں شرمائی گھبرائی بیٹھی تھی اگر کوئی اور موقع ہوتا تو وہ ریان کو کان سے پکڑ کے اٹھا سکتی تھی۔
’’ارے لڑکے تیرا دماغ تو خراب نہیں۔‘‘ وہ تو حیرانگی سے اس کی دیدہ دلیری پر اسے دیکھتی رہ گئیں۔
’’مما ماموں جان آپ کو بلارہے ہیں۔‘‘ ریحان نے آکر ابتسام کا پیغام پہنچایا‘ سدرہ ایک دم گھبرائی کیونکہ کچھ دیر پہلے بھی وہ خاصا جھنجلایا ہوا تھا۔
’’ریان بیٹا! اٹھو شاباش ابتسام کو اندر آنا ہے۔‘‘
’’پھوپو چاچو نے یہ شادی ہمارے لیے کی ہے ان سے کہیے نکاح کے بعد ان کا رول ختم۔‘‘ وہ بڑے اطمینان سے تالی مار کے بولا۔
’’ابھی چاچو آکے نا آپ کا رول بناتے ہیں اندر آرہے ہیں۔‘‘ عدنان فوراً اسے الرٹ کرنے آگیا مگر اسی وقت وہ شیروانی میں بے زار سا چلا آیا کب سے اسے اس لباس سے الجھن ہورہی تھی۔
’’ریان اٹھو یہاں سے اگر ایک لفظ بھی بولے تو اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
’’دیکھیں پھوپو چاچی کے آتے ہی آنکھیں پھیرلیں۔‘‘ وہ معصوم سی صورت بناتا بیڈ سے اترا سدرہ نے سر پیٹ لیا جبکہ علیزہ کے ہونٹوں پر مبہم سی ہنسی آئی مگر جھٹ روک لی۔ ابتسام نے اسے اس وقت گھورا جب تک وہ کمرے سے نہیں نکل گیا۔ سدرہ بھابی علیزہ کے کان میں کچھ کہہ کر تیزی سے کمرے سے نکل گئیں۔ اس نے تو خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ اور ابتسام کبھی ایک ساتھ ہوں گے۔
ابتسام نے پہلے واش روم میں جاکے کپڑے چینج کیے علیزہ پر ایک نگاہ غلط تک نہ ڈالی وہ اپنے سارے کام نمٹاتا رہا اور وہ بُت بنی بیٹھی رہی۔
’’میرے کاموں میں آپ دخل اندازی بالکل نہیں کریں گی‘ مجھے بیوی کی نہ پہلے ضرورت تھی اور نہ اب ہے اور نہ ہوگی۔ یہ شادی میں نے صرف مجبوری میں کی ہے بچوں کی خاطر۔‘‘ وہ بیڈ پر اب تک اس کے قریب بیٹھا تک نہیں تھا مسلسل ادھر سے اُدھر چکر لگا رہا تھا اور وہ سُن کے گنگ ہی رہ گئی مگر اسے توقع تو تھی ابتسام کے اس ردعمل کی لیکن ایک آس تھی کہ شاید وہ اس اولین رات کے تقاضوں کو جانتا ہو اس لیے آج کے دن وہ سب بھول جائے مگر یہ اس کی خام خیالی ہی تھی سرخ لپ اسٹک سے مزین نازک احمریں ہونٹوں کو وہ بھینچ کے رہ گئی۔
’’آپی کا خیال ہے بلکہ میری امی کا بھی خیال ہے کہ میں بچوں کی دیکھ بھال بہتر طور پر نہیں کررہا اس لیے شادی ضروری ہے‘ بس اسی وجہ سے میں راضی ہوا پھر بچے آپ سے پہلے ہی کافی مانوس ہیں۔ اس لیے یہ سوچ کر ہی آپ کا انتخاب کیا گیا ہے۔‘‘ اس نے بس ایک اچٹتی نگاہ اس پری بیکر پر ڈالی پھر سر کو جھٹکا وہ کسی بھی کمزور لمحے کی زد میں نہیں آنا چاہتا اور نہ اب کھائے گا اسے خود پر غرور تھا وہ اس صنف کو ہمیشہ بُرا ہی سمجھتا تھا۔ وہ عورت کو کبھی بھی اپنی ضرورت کا نام نہیں دینا چاہتا جبکہ اسے ضرورت ہے اس گھر کے لیے بچوں کے لیے۔
’’یہ بھی مجھے بتادیں کہ آج کی رات میں ادھر ہی سوئوں یا آئندہ مجھے کہیں اور سونا ہوگا۔‘‘ اسے اس لمحے اپنی توہین لگی مگر خود کو وہ سنبھال چکی تھی اور دل میں عزم کرکے آئی تھی کہ اکھڑ سے ابتسام حیدر کو ایک دن جیتنا ہے خود کو منوانا ہے لیکن اس کے لیے خود کو اس کے سانچے میں ڈھال کے اس کی سوچوں کی نفی کرے گی۔
’’یہ آپ مجھ پر طنز کررہی ہیں۔‘‘ سیج کی لڑیوں کو توڑ کے کارپٹ پر اچھالا اور اس کے اتنے قریب آیا کہ وہ کانپ گئی۔
’’جی نہیں… وہ تو میں پوچھ رہی تھی۔‘‘ وہ ڈر بھی گئی کچھ خجل بھی ہوئی اپنی رسیلی آنکھوں سے اس پتھر کے مجسمے کو دیکھا۔
ء…/…ء
شادی ولیمہ اور دعوتیں ایسے گزریں کہ پورا مہینہ ہی تمام ہوگیا علیزہ نے اب گھر کو مکمل طور پر سیٹ کرنے کا تہیہ کرلیا مگر اس کے لیے اسے مدد درکار تھی ابتسام کی مگر وہ تو شادی کرکے بھول ہی گیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے ڈرائنگ روم کی صفائی کی سارا کچھ سیٹ بھی تنہا ہی کیا پورا دن لگ گیا تھا۔
’’ارے علیزہ بیٹا! صبح سے تم لگی ہو کچھ دیر آرام بھی کرلو۔‘‘ امی نے اس کی سلیقہ مندی کو ستائشی انداز میں دیکھا پورا ڈرائنگ روم چمچما رہا تھا اس نے کشن تک بدل دیئے تھے‘ پردے دھوکے دوسرے لٹکائے تھے۔
’’امی اب بتایئے لگ رہا ہے نا ڈرائنگ روم۔‘‘ وہ پرپل کاٹن کے پلین سوٹ میں دھول مٹی میں اٹی کھڑی تھی‘ انداز میں ایک تفخر بھی تھا۔
’’ہاں ماشاء اللہ۔‘‘ وہ خوش ہوگئیں۔
’’تم نہا دھولو‘ ریان آتے ہی کھانے کا شور مچائے گا‘ عدنان اور ایشا کو میں نے کھانا کھلادیا ہے‘ دونوں پڑھ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا علیزہ ریان کے یونیورسٹی سے آنے سے پہلے ہی نہا کر اپنا حلیہ درست کرلیا تھا وہ تین بجے تک آتا تھا جبکہ ابتسام آفس سے آٹھ بجے آتا تھا اس لیے علیزہ کو دونوں کی ہی فکر رہتی تھی۔
’’جلدی سے چاچی کھانا لگادیں‘ بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ بلیک پینٹ پر سی گرین ٹی شرٹ میں ملبوس تھا تھکا وہ کچن میں ہی آگیا جہاں وہ پہلے ہی سے کھانا گرم کرنے میں لگی ہوئی تھی اس نے خود بھی نہیں کھایا تھا۔ علیزہ نے تیزی سے کھانا ٹیبل پر لگایا اور خود بھی بیٹھ گئی کاسنی جارجٹ کے پرنٹڈڈ کپڑوں میں اپنے دراز سلکی بالوں کو کیچر میں مقید کرکے کھلا چھوڑا ہوا تھا‘ گلابی گلابی سراپا غسل کے بعد اور نکھر گیا تھا‘ ریان نے چند منٹوں میں ہی کھانا کھالیا۔
’’یہ پورچ میں آپ نے کیا کباڑ ڈالا ہے‘ یہ سارا کباڑ تم نے جاکے باہر پھینک کے آنا ہے۔‘‘ وہ بھی آخری لقمہ لے کے اٹھی اور برتن اٹھانے لگی‘ ریان نے ٹی وی آن کرلیا تھا۔
’’ریان فوراً جوتے اپنے روم میں ریک پر رکھو اور ہاں کپڑے چینج کرکے آئو۔‘‘ وہ فوراً ہی اس پر روک ٹوک کرنے لگی۔
’’میں نے جوتے یہاں رکھ دیئے تو کیا ہوا آپ کے میاں چھ فٹے وہ تو کچھ بھی جگہ پر نہیں رکھتے۔ مجھ سے یا عدنان سے کام کرواتے رہتے ہیں۔‘‘ ایک دم ہی تنکا‘ ٹی وی کو ہنوز اونچی آواز میں رکھا۔
’’پہلے تمہیں سدھار لوں پھر تمہارے چاچو کی بھی خبر لوں گی۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’پہلے انہیں سدھاریے اور ہاں کل میرا ایف ایم پر مارننگ شو ہے پلیز ٹوپک تیار کردیئے گا۔‘‘ ساتھ ہی پھر ہدایت نامہ جاری کردیا‘ علیزہ نے اسے گھورا جو صوفے پر دراز ٹی وی کے چینل بدل رہا تھا۔
’’کل سنڈے ہے اٹھ جائو گے جلدی۔‘‘
’’کوشش کروں گا ایک ڈی جے نے کل چھٹی کی ہے مجھے اس کی جگہ شو کرنا ہے‘ میں نے منع بھی کیا مگر زبردستی سائن کروالیا۔‘‘ وہ تھکا تھکا سا گویا ہوا۔
ء…/…ء
صبح وہ چھ بجے کا الارم لگا کے سوئی تھی کیونکہ ریان کا شو تھا نو بجے کچھ اسے اسٹڈی بھی کرنی تھی ٹوپک کی۔ وہ کچن وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے روم میں آئی تو دیکھا ابتسام اپنے میلے کپڑوں کا ڈھیر اٹھاکے کمرے سے جانے لگا۔
’’کپڑے میں بھی دھوسکتی ہوں۔‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے چلی آئی‘ مگر جواب ندارد۔
’’پلیز آپ میری بات سنئے تو…‘‘ علیزہ کو اس اکھڑ آدمی کی ابھی تک سمجھ نہیں آئی تھی ایک تو ابھی تک ناشتا بھی نہیں کیا تھا اور اوپر سے گیارہ بجے وہ کپڑے دھونے نکل گیا۔
’’میں نے پہلے بھی کہا تھا اپنے کام میں خود کرتا ہوں۔‘‘ اس نے کاسنی جارجٹ کے کپڑوں میں اس کی معصوم سی صورت کو دیکھا جو ہر بار اسے اپنی جانب ہی متوجہ کرتی لگتی تھی وہ پلک لگا رہا تھا اور وہ دیکھ رہی تھی اس کی حرکات وسکنات جو کتنا بے نیاز تھا۔
’’آپ چاہے مجھ سے کوئی تعلق نہ رکھیں لیکن یہ کام تو میرے کرنے کے ہیں۔‘‘ وہ روہانسی ہوئی۔
’’تم سے پہلے بھی میں خود ہی دھوتا تھا۔‘‘ اسی وقت زوردار آواز ایشا کی سنائی دی‘ دونوں ہی حواس باختہ سے ہوکر‘ تیزی سے اندر آئے۔ ایشا لائونج میں اپنا ہاتھ پکڑے رو رہی تھی سیدھے ہاتھ کی انگلی سے خون نکل رہا تھا‘ امی خود گھبرائی ہوئی بیٹھی تھیں۔
’’کیسے ہوا بیٹا یہ…‘‘ ابتسام کی تو وہ جان تھی جھٹ اس کی انگلی پر علیزہ کا آنچل لپیٹ دیا وہ خود ابتسام کی خود ساختہ حرکت پر چونکی جس نے کتنے استحقاق سے یہ سب کیا تھا۔
’’کیسے لگی یہ؟‘‘ علیزہ نے پوچھا۔
’’چاچی! کمپیوٹر کی دراز کھینچ رہی تھی بس انگلی دب گئی اس کی۔‘‘ عدنان بھی خاصا گھبرایا ہوا تھا۔ علیزہ جھٹ ڈیٹول لے آئی پھر اس کی بڑی مہارت سے بینڈیج کی۔
’’خبردار جو اب تم میری اجازت کے بغیر کسی بھی چیز کو چھوا تو۔‘‘ علیزہ نے پیار بھری ڈانٹ پلائی‘ ابتسام اسے حیرانگی سے کئی لمحے دیکھتا رہا۔
ایشا کو اس نے صوفے سے ہلنے نہیں دیا تھا جبکہ ابتسام بھی اپنے کپڑے وغیرہ سب بھول گیا اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب علیزہ نے اس کے کپڑے دھو دیئے وہ تو اسے یاد آیا تو دیکھنے نکلا۔
’’آئندہ یہ زحمت کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ کچن میں چلا آیا‘ جہاں وہ دوپہر کے کھانے کے لیے ریان اور عدنان کی فرمائش پر بہت کچھ تیار کررہی تھی۔
’’میں آئندہ بھی زحمت کرتی رہوں گی۔‘‘ پُر اعتماد اور ترنگ بھرے لہجے میں کہتے ہوئے ابتسام کو دیکھا جو ابھی تک ملگجے سے اسکائی بلیو قمیص شلوار میں ملبوس تھا۔
’’آپ کے کپڑے میں نے واش روم میں رکھ دیئے ہیں‘ غسل کرلیں پھر ریان کے آتے ہی کھانا لگادوں گی۔‘‘ علیزہ نے آج سے سوچ لیا تھا کہ ابتسام کا ہر کام وہ ڈنکے کی چوٹ پر کرے گی اور وہ اب بالکل اس سے نہیں ڈرے گی۔
’’تم… تم…‘‘
’’اتنا غصہ مت کیا کریں آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘‘ وہ اس کے موڈ کی پروا ہی نہیں کررہی تھی۔
’’تم اپنی حد کراس کررہی ہو۔‘‘ اسے علیزہ کا ایسا انداز تو آگ ہی لگا گیا‘ دو قدم وہ آگے آیا علیزہ تو کانپ ہی گئی وہ اتنا قریب تھا کہ وہ چھوکے محسوس کرسکتی تھی۔
’’چاچو درد ہورہا ہے۔‘‘ لائونج کے سامنے ہی کچن تھا ایشا کی روتی بسورتی آواز پر وہ بدک کے پیچھے ہوا وہ تو اسے بھول ہی گیا تھا۔
’’تم ذرا اندر آئو تمہاری خبر تو میں لیتا ہوں۔‘‘ وہ دھمکی دے کے کچن سے نکلا جبکہ علیزہ کا تو سانس ہی رک گیا کس سے اس نے ٹکر لے لی جو اسے کچھ سمجھ ہی نہیں رہا کیسے وہ اسے رام کرے‘ لب کاٹتی ہوئی کام میں مصروف رہی۔ ریان دو بجے تک آیا تو اس نے کھانا لگایا پھر خود کچن سمیٹنے میں لگ گئی۔ پورا دن ابتسام گھر میں ہی رہا تھا علیزہ ڈرکے مارے کمرے میں ہی نہ گئی حتیٰ کہ رات ہوگئی وہ ڈرائنگ روم میں چپکے سے جاکے سوگئی۔
ء…/…ء
’’چاچو صبح چاچی ڈرائنگ روم سے دستیاب ہوئی تھیں۔‘‘ دوسرے دن جب ابتسام آفس سے آیا تو ریان نے کہا وہ جواب میں سلگتی ہوئی قہر برساتی نگاہ علیزہ پر ڈال کے رہ گیا جو اس کے لیے چائے لے کے آئی تھی اسے اپنی توہین ہی لگی تھی کہ علیزہ کی نظر میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہے جب ہی رات ڈرائنگ روم میں گزاری۔
’’تم زیادہ فضول بک بک مت کیا کرو۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی علیزہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیا اور سنگل صوفے کے درمیان میں کرسٹل ٹیبل تھی اس پر رکھ دیا۔
’’چاچو کل کوچنگ کی فیس جانی ہے۔‘‘ عدنان اس کے بغل میں گھس کے بیٹھا اکثر جب بھی اپنی کوئی بھی بات کہنی ہوتی تھی وہ یہی کرتا تھا۔
’’کوچنگ کی فیس میں نے ریان کے ہاتھ بھجوادی تھی۔‘‘ علیزہ نے سنا تو وہ جھٹ بولی ابتسام کو حیرانگی ہوئی کہ اس بار وہ بھول کیسے گیا۔
’’ہاں چاچی نے مجھے دی تھی۔‘‘ ریان نے بھی تائید کی۔
’’تم نے مجھ سے کل ہی کیوں نہیں کہا۔‘‘ وہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں آگیا جو وارڈ روب سے جانے کیا تلاش کررہی تھی۔
’’آپ سے تو اس وقت کہتی نا جب آپ مجھے موقع دیں۔‘‘ ایک طنز بھری نگاہ ڈالی اور وارڈ روب کا لاک لگایا وہ اس کے کپڑے صبح آفس کے لیے پہلے ہی نکال کے ترتیب دے لیتی تھی۔
’’کتنی بار کہا ہے میرے کاموں کو ہاتھ مت لگایا کرو۔‘‘
’’آپ کے کاموں کو ہی تو ہاتھ لگایا ہے‘ آپ کو تو نہیں۔‘‘ علیزہ کے منہ سے روانی میں نکلا مگر زبان دانتوں تلے داب لی‘ جھینپ الگ گئی۔ ابتسام کا چہرہ تو قہر برساتا لگا۔
’’شٹ اپ آئندہ ایسی کوئی خواہش زبان پر لائی نا اچھا نہیں ہوگا۔‘‘ وہ شہادت کی انگلی اٹھاکے وارن کرنے لگا مگر علیزہ نے خود کو یک دم ہی نارمل ظاہر کیا کیونکہ بھابی کا کہا ہوا جملہ سماعتوں سے ٹکرایا۔
’’تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے یہ خواہش شروع سے ہے۔ آپ بھی میری بات سن لیں‘ مرد اور عورت کبھی مخالف سمتوں میں سفر نہیں کرسکتے جبکہ وہ دونوں میاں بیوی کے مضبوط بندھن میں بندھ چکے ہوں‘ مرد کو بیوی کی اور بیوی کو شوہر کی ضرورت رہتی ہے۔ آپ لاکھ اپنے کام خود کریں لیکن ایک بیوی کی جو ذمہ داری اور جو میرے حقوق ہیں وہ بھی پورے کروں گی ہر حال میں۔‘‘ وہ ایک ہی سانس میں کہہ کر اپنی اور اس کی اہمیت واضح کرگئی۔ ابتسام تحیر میں مبتلا ایسی کھری باتیں سن کے گنگ رہ گیا وہ تو اسے دبو اور کم گو سی سمجھتا آیا تھا مگر وہ تو ایک منٹ میں اسے تارے دیکھا گئی۔
’’میں اپنی جانب سے آپ کے حقوق میں کوتاہی نہیں برتوں گی میں آپ کے لیے ہمیشہ حاضر رہوں گی۔ چاہے آپ میرے حقوق ادا نہ کریں۔‘‘ وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی اس کے برابر سے نکل گئی۔ ابتسام کو بولنے تک کا موقع نہ دیا۔ ابتسام کی تو ایسی حالت ہوگئی تھی کہ کوئی ردعمل ہی نہ سوجھ سکا وہ علیزہ کی دیدہ دلیری اور اتنی واضح باتوں پر اکتا سا گیا یہ سب تو اس نے سوچا تک نہ تھا اور وہ اس کے اور اپنے رشتے کے تقاضوں کو واضح کرگئی تھی وہ سکتے کی کیفیت میں بیٹھا گیا۔
ء…/…ء
دونوں میں ایک ہفتہ ہوگیا تھا کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی‘ علیزہ نے اب تہیہ کرلیا تھا کہ ابتسام سے وہ خود کبھی بات نہیں کرے گی۔ اتنے دن اسے دکھ ہی دیئے گھر وہ چار دن سے رہنے گئی ہوئی تھی اور یہاں کی حالت ایک دن میں ابتر ہوگئی تھی۔ ابتسام کو موسم بدلنے کی وجہ سے کچھ زکام اور بخار ہوگیا تھا وہ آفس تک نہ جاسکا تھا اس لمحے علیزہ کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔
’’ارے میں ریان سے کہہ دیتی ہوں وہ علیزہ کو لے آئے گا۔‘‘ امی کو اس کی اجاڑ اتری صورت دیکھ کر فکر ہی کھائے جارہی تھی۔
’’امی رہنے دیں اتنے عرصے بعد وہ رہنے گئی ہے خوامخواہ پریشان ہوگی۔‘‘ وہ کمبل میں لیٹا مسلسل سوں سوں کررہا تھا‘ امی کو ہی اس کی تیمارداری بھی کرنی پڑ رہی تھی۔
’’تم نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا ہے کم از کم وہ آکے خیال تو کرے گی۔‘‘
’’امی میں پہلی بار تو بیمار نہیں ہوا اس سے پہلے بھی آپ اور میں خود کرتے تھے۔‘‘ وہ چڑا۔
’’بیوی کی بات اور ہوتی ہے پہلے صبر تھا تمہاری شادی نہیں ہوئی ہے لیکن اب جبکہ بیوی موجود ہے تو اس میں اسے بلانے میں کیا ہرج ہے۔‘‘ وہ بھی اسے اچھی خاصی سرزنش کرنے لگیں وہ جزبز سا ہوگیا۔
’’شکر کرو بیوی اچھی مل گئی ورنہ میں نے تو ایسی لڑکی نہیں دیکھی جو سسرال کو اپنا گھر سمجھے۔‘‘ ابتسام خفیف سا ہوکے رہ گیا یہ بات تو امی بھی ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں۔ آتے ہی اس نے گھر اور بچوں کو سنبھال لیا تھا اگر ہوتی کوئی اور لڑکی تو اس سے ایک منٹ نہ بنتی اور اپنے میکے روانہ ہوجاتی جبکہ اس نے تو اس نے اس کو اس کے حق سے بھی محروم رکھا ہوا تھا۔
’’ہر وقت کا غصہ اچھا نہیں ہوتا ہے علیزہ بہت صابر وشکار بچی ہے۔ مت لے اس کے صبر کا امتحان کہیں ایسا نہ ہو کہ پچھتاتا رہے کیونکہ اچھی بیوی بھی اللہ کا بہت بڑا انعام ہوتی ہے‘ کیا پتا تیری کوئی بات اوپر والے کو پسند آگئی ہو جو علیزہ کی صورت ایسی اچھی بیوی دی۔‘‘ وہ اسے اچھی طرح ڈنٹ ڈپٹ کرکے چائے بنانے اٹھ گئی تھیں۔ ریان یونیورسٹی سے ابھی تک نہیں آیا تھا‘ عدنان اور ایشا اپنا ہوم ورک کررہے تھے۔
کتنا سچ کہا ہے امی نے کہ علیزہ ایک انعام کی صورت میں ملی ہے پھر وہ اپنی انا کے آگے اس کی اہمیت کو کیوں نہیں مان رہا۔ اس نے ہمیشہ صنف نازک کو دھوکے دیتے ہی دیکھا تھا اپنے حسن اور ادائوں سے مردوں کو پھانسنا پھر ان کو برباد کرنا گزشتہ سال ہی تو اس کا ایک عزیز دوست ظفر کسی لڑکی کے چکر میں ایسا پڑا کہ اپنی جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ اس دن سے اس نے سوچا لیا تھا کہ اس صنف پر کبھی اعتبار نہیں کرے گا‘ اس نے تھک کے آنکھوں کو بند کرلیا۔ علیزہ اس کی آنکھوں میں سمائی ہوئی تھی جس دن سے وہ گئی تھی اطراف میں خالی پن سا محسوس ہورہا تھا کمرے سے ویرانگی ٹپک رہی تھی۔
’’عجیب لڑکی ہے گھر کی رونق بھی اپنے ساتھ لے گئی۔‘‘ وہ خود سے ہم کلام ہوا پھر اس نے سائیڈ پر رکھی اپنی اور اس کی تصویر پر نگاہ مرکوز کردی‘ شرم و حیا کا پیکر تھی کبھی بھی اس نے آنکھ ملا کے بات نہ کی تھی مگر اس نے کیسے اپنی اہمیت اس کے سامنے واضح کرکے ہونٹوں پر چپ کی مہر ثبت کرلی تھی اور اس نے مخاطب کرنے کی ہمت نہ کی تھی۔
ء…/…ء
’’چاچی چلئے گھر چاچو کی طبیعت بہت خراب ہے۔‘‘ ریان جیسے ہی ایف ایم سے اپنا شو ختم کرکے آیا تو سیدھا علیزہ کے پاس چلا آیا۔
’’بدتمیز مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ اس نے ایک دھموکا جڑنے کے ساتھ ہی خفگی سے کہا جو فوراً سنتے ہی تیاری کررہی تھی۔
’’بیٹا تم فون ہی کردیتے۔‘‘ امی نے بھی شکوہ کیا۔
’’آنٹی! چاچو کا حکم تھا کہ چاچی کو نہ بتایا جائے۔‘‘
’’تم بہت اپنے چاچو کے کہنے پر چلتے ہو نا جو یہ بات مان لی۔‘‘ وہ بالوں کو لپیٹتی ہوئی لائونج میں آگئی جہاں وہ کائوچ پر بیٹھا لوازمات سے انصاف کررہا تھا۔
’’پھوپو کیا ہے اتنے دنوں بعد تو آئی ہیں اور آپ جارہی ہیں۔‘‘ منال نے روتی صورت بنائی علیزہ نے جھٹ اسے اپنی گود میں بٹھالیا جو اس کے جانے کے بعد کتنا مس کرنے لگی تھی۔
’’ارے تو کیا ہے پھر آجائے گی۔‘‘ بھابی نیفوراً اسے ٹوکا۔
’’ماموں جان سے کہیں ہماری پھوپو واپس کریں۔‘‘ وہ معصومیت سے کہتی ہوئی علیزہ کو مضبوطی سے پکڑ کے بیٹھ گئی جبکہ علیزہ کی ہنسی نکل گئی۔
’’سنو منال! تمہاری پھوپو کو ہمیشہ کے لیے تمہارے ماموں جان کو دے دیا ہے کبھی بھی وہ واپس نہیں کریں گے۔‘‘ اس نے شوخی سے کہا۔ اتنے میں علیزہ نے سب ہی سے جانے کی اجازت لی شعیب بھائی اور سدرہ بھابی اسے چھوڑنے آئے تاکہ ابتسام کی خیر خیریت بھی معلوم کرلیں۔
’’ارے ہمیں خبر ہوتی کہ بیوی کے لیے بیمار پڑے ہو تو ہم پہلے ہی علیزہ کو بھیج دیتے۔‘‘ وہ سب ابتسام کے پاس ہی کمرے میں بیٹھے تھے جبکہ علیزہ نے آتے ہی کچن کا حلیہ درست کیا‘ فرش پر انڈے ٹوٹے ہوئے تھے‘ سنک میں برتنوں کا ڈھیر ڈائننگ ٹیبل پر ڈھیروں کپ دھرے تھے۔ امی کو بھی بخار ہوگیا تھا وہ بھی بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔
وہ پھر بھی ان سب کے لیے چائے بنا کے لے آئی تھی۔ ریان‘ ابتسام کے شانوں کو دبا رہا تھا۔ زکام اور بخار کی وجہ سے اس کا چہرہ تک اتر گیا تھا‘ شیو بھی ہلکی بڑھ گئی تھی‘ آفس تک تو جا نہیں رہا تھا۔ اب وہ کمرے سے چیزیں سمیٹنے لگی‘ ابتسام اس پھرتیلی علیزہ کو ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ ہر چیز اپنی جگہ پر آگئی ہو۔
’’ریان کتنی بُری بات ہے تم لوگ اب تو سدھر جائو۔‘‘ سدرہ بھابی نے بھی ٹوکا۔
’’ہم سدھرے ہوئے ہیں آپ کی نند کے میاں ہی بگڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اسی وقت عقب سے ابتسام کا ہاتھ اٹھا جو اس کی پشت پر پڑا تھا وہ بلبلا گیا۔
’’اُف چاچو اتنی زور سے۔‘‘ وہ کراہ ہی گیا۔
’’یہ اپنی نان اسٹاپ زبان دو گھنٹے ریڈیو پر چلایا کرو یہاں نہیں۔‘‘ ساتھ ہی تنبیہ بھی کیا۔
’’یار ابتسام تم بے چارے کو اتنا مت ڈانٹا کرو۔‘‘
’’شعیب انکل دیکھئے گا میں بھی سارے بدلے نکال لوں گا‘ ہوں گے نا ان کے بچے لائن میں کھڑا کرکے ساروں کی خبر لوں گا۔‘‘ ابتسام تو جھینپ گیا جبکہ علیزہ خفیف سی ہوتے اسے گھورنے لگی۔ اسی وقت کمرے سے نکل گئی ریان کی ایسی بے باک بات پر وہ تو پسینوں میں نہا گئی۔ اتنے میں سدرہ بھابی اور شعیب بھائی نے جانے کی جلدی کی اس نے رات کے کھانے پر بہت روکا لیکن وہ نہ رکے‘ اس نے ان کے جانے کے بعد ابتسام اور امی کے لیے چکن سوپ تیار کیا اور رات کے کھانے کے لیے چاول اور اس کے ساتھ آلو گوشت پکایا کیونکہ اس وقت سمجھ بھی نہیں آرہا تھا۔ ابتسام کو سوپ کمرے میں دینے آئی تو وہ آنکھیں موندے لیٹا تھا۔
’’اگر موڈ ہو تو پلیز مجبوری میں پی لیں۔‘‘ انتہائی سرد سے لہجے میں کہا بلکہ ظاہر کیا کہ وہ صرف اپنا فرض نبھا رہی ہے ابتسام نے بس ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی جو یلو کاٹن کے سوٹ میں کافی دلکش لگ رہی تھی۔
ء…/…ء
دوسرے دن رات کو اسے نیند نہ آئی تو وہ ابتسام پر نگاہ ڈالتی بیڈ سے اٹھ گئی‘ ابتسام بے خبر سورہا تھا وہ وارڈ روب کی جانب آئی جو بیڈ کی لیفٹ سائیڈ پر تھی لاکر سے ڈائری نکالی اور پین بیڈ کی سائیڈ دراز سے نکال کے وہ کمرے سے آہستگی سے نکل کے لائونج میں آکے بڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔ آج اس کا موڈ ڈائری لکھنے کا ہورہا تھا‘ جانے کب تک وہ لکھتی رہی تھی کہ اس کی وہیں آنکھ لگ گئی۔ ابتسام کو جیسے ہی اس کی غیر موجودگی کا احساس ہوا وہ باہر آگیا‘ دیکھا تو وہ صوفے کی بیک سے ٹیک لگائے سو رہی تھی اور پاس ہی ڈائری رکھی تھی۔ علیزہ کو دیکھا سوتی ہوئی کتنی معصوم لگ رہی تھی وہ کچھ شانت سا ہوگیا کہ اگر وہ اس کی زندگی میں آئی ہے تو زبردستی نہیں۔
صبح وہ نارمل ہی اٹھی تھی کمرے میں آئی تو دیکھا ابتسام نکھرا نکھرا فان کلر کے کرتے شلوار میں ملبوس ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا بالوں میں برش چلا رہا تھا۔ ابتسام نے بڑی گہری نگاہ ڈالی وہ پزل سی ہوگئی۔
’’آپ کہیں جارہے ہیں آپ کی طبیعت…؟‘‘ وہ بولتے بولتے رکی۔
’’تم سے میں نے پہلے بھی کہا ہے نا میرے کاموں میں دخل مت دیا کرو۔‘‘ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے اپنا والٹ اور موبائل اٹھانے مڑا۔
’’بیوی ہوں آپ کی میں تو کروں گی۔‘‘ علیزہ کے پتنگے لگ گئے جبکہ ابتسام پشت پھیرے اس کے دھونس بھرے انداز پر مسکرانے لگا مگر جھٹ اپنی مسکراہٹ اس سے مخفی بھی رکھی۔
’’اچھا بیوی ہو تو پھر رات میں کہاں تھیں جب مجھے ضرورت تھی۔‘‘ طنز کرنے لگا۔
’’وہ… میں… میں…‘‘ ایک دم گڑبڑائی شریر لٹیں نازک سراپے پر دائیں بائیں جھول کر رخسار کو چوم رہی تھیں۔
’’محترمہ مجھے ایسی بیوی کی ضرورت نہیں جو صرف اپنا فرض نبھاتی ہو سوائے تمہاری مجبوری کے تم یہی کروگی نا۔‘‘ وہ اب اسے جان بوجھ کے طیش دلاکے اس کے منہ سے اقرار سننا چاہتا تھا کہ وہ اس سے شروع سے محبت کرتی ہے اگر اتنی ہمت ہے تو یہ بھی کہے۔
’’جی نہیں میں مجبوری میں نہیں کررہی۔‘‘ وہ تو تنک گئی۔ آج ابتسام کو اسے تنگ کرکے مزا آرہا تھا کیونکہ رات سے خوش تھا کہ اگر اس نے علیزہ کے لیے کچھ سوچنا شروع کیا تو وہ پہلے ہی سے اسے چاہتی ہے۔ کتنا خوش کن احساس ہوتا ہے کہ کوئی آپ کو بھی چاہتا ہے آپ بھی کسی کے لیے کوئی خاص اہمیت رکھتے ہیں کل رات سے وہ سرشار تھا۔
’’یہی تمہاری مجبوری ہے کہ تم صرف بچوں کی ذمہ داری پوری کرنے آئی ہو کیونکہ تمہیں ان سے ہی تو محبت ہے۔‘‘ وہ بس ایک ترچھی نگاہ علیزہ کے فق چہرے پر ڈال کے رہ گیا جو ہونقوں کی طرح اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
’’جی نہیں یہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔‘‘
’’یہی سچ ہے کیونکہ تمہیں تو بس وہی نظر آتے ہیں اپنا کام کرو۔‘‘ وہ اس پر مسلسل طنز کرکے پوری طرح سلگا رہا تھا۔
’’آپ کا مطلب ہے کہ میں نے بچوں کی وجہ سے آپ سے شادی کی۔‘‘ اسے رونا ہی آنے لگا ابتسام کے ایسے طنزیہ جملوں سے جو دل میں ترازو ہوگئے۔
’’ظاہر ہے میرے اپنے ذاتی بچوں کی وجہ سے تو نہ کرتی نا۔‘‘ اس نے ہونٹوں کا کونا دانتوں میں دباکے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھایا اور خود پر اسپرے کرنے لگا۔ علیزہ آنکھوں میں نمی لیے مزید کچھ کہے بغیر کمرے سے چلی گئی وہ مسکرانے لگا۔
ء…/…ء
ابتسام کو یہ غلط فہمی ہوگئی تھی کہ علیزہ نے صرف مجبوری میں اس سے شادی کی ہے اب وہ اسے کیسے کہے کہ اس کے دل میں تو محبت کب سے پروان چڑھ رہی تھی اور یہ الگ بات تھی کہ اس نے کبھی بھی اپنے کسی بھی عمل سے یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ اسے شدتوں سے چاہتی ہے۔ وہ کب سے کروٹیں بدل رہی تھی ابھی تک کمرے میں بھی نہیں گئی تھی آکے ڈرائنگ روم میں صوفے پر لیٹ گئی تھی ایشا تو امی کے پاس سوتی تھی‘ ریان اور عدنان ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔
’’محترمہ! کیا بات ہے جو آپ نے اپنا قیام ادھر کرلیا ہے۔‘‘ ابتسام شاید اسے ڈھونڈتا ہوا آیا تھا تو وہ سٹپٹائی کر جھٹ اٹھ بیٹھی۔ وہ گہری نگاہوں سے اس کا جائزہ لینے لگا‘ گلابی جارجٹ کے پرنٹڈ کپڑوں میں عجیب اجاڑ حلیے میں لگ رہی تھی‘ وہ اس کی جانب دیکھے بغیر کھڑی ہوگئی۔
’’تمہارے اس احتجاج کی وجہ صبح کی باتوں کو سمجھوں یا کچھ اور…‘‘ ابتسام نے چند قدموں سے فاصلہ تمام کیا اور اس کے مقابل آگیا تو وہ گڑبڑائی۔
’’جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ وہ بدک کے پیچھے ہوئی دونوں میں اجنبیت کی فضا ابھی تک قائم تھی۔ ابتسام کو اس ناراض ناراض سی کامنی سی لڑکی پر ڈھیروں پیار آرہا تھا مگر وہ ایسی کوئی بھی حرکت کرکے اپنی سوبر شخصیت کو خراب نہیں کرنا چاہ رہا تھا مگر اندر کے جذبات کہہ رہے تھے اس سچی اور پیاری سی لڑکی کے جذبات کی قدر کرو جو وہ اسے انعام کی صورت ملی ہے ان چار چھ ماہ میں ابھی تک کوئی شکوہ تک نہ کیا اور وہ اس کی سادہ مزاجی اور صلح جو طبیعت پر حیران تھا کہ ہر لمحہ اسے ہرٹ ہی کیا ہے مگر وہ خاموشی سے سنتی رہی تھی۔
’’پھر کیسی بات ہے وہ بھی بتادو۔‘‘ دل نے کہا کہ علیزہ کے رخسار پر جھولتی لٹوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے بڑی اپنائیت سے کانوں کے پیچھے کرے مگر حسرت بھری نگاہ ڈال کے رہ گیا۔
’’اگر بتادی تو آپ کیا کریں گے؟‘‘ غصہ میں روانی سے نکلا ابتسام کو ہنسی آگئی‘ کئی دنوں سے مسکرانے بھی لگا تھا۔ اپنے دائرے سے وہ باہر آنے لگا تھا اس لڑکی کی وجہ سے جو اس کے لیے بہت کچھ ہوگئی تھی۔
’’ہوسکتا ہے کچھ کر بھی لوں۔‘‘ لہجہ معنی خیز اور شوخ بنایا اسی وقت علیزہ نے چونک کے اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں اسے کچھ اور ہی نظر آیا وہ جھینپ گئی۔
’’بہت رات ہوگئی ہے آپ سو جایئے صبح آفس بھی جانا ہوگا۔‘‘ اس نے ایسے کہا جیسے وہ اس کی بات کا مفہوم نہ سمجھی ہو ابتسام نے اسی لمحہ اس کا بایاں بازو اپنے مضبوط دائیں ہاتھ سے پکڑا علیزہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی‘ آج پہلی بار ابتسام نے اسے چھوا تھا۔
’’میری بات کا جواب دو جو میں پوچھ رہا ہوں کیوں مجھ سے بے زار ہو۔‘‘ لہجہ اور چہرہ تک یک دم سپاٹ بنالیا وہ بے چاری پہلے ہی ڈری سہمی رہتی تھی اور ہی لرز گئی کیونکہ یک دم ہی لہجہ کی شوخی غائب ہوگئی تھی۔
’’واقعی کوئی ایسی بات نہیں ہے آپ خوامخواہ غلط سمجھ رہے ہیں۔‘‘ وہ روہانسے لہجے میں گویا ہوئی آنکھوں کی نمی ابتسام سے مخفی نہ رہ سکی۔
’’دیکھو علیزہ میں تم پر کوئی زبردستی نہیں کرنا چاہتا ہوں اگر تم یہ سب کچھ چھوڑ کے بھی چلی جاؤ گی میں الزام تمہیں بالکل نہیں دوں گا۔‘‘ علیزہ تو سناٹوں میں آگئی یہ وہ کیا کہہ رہا تھا ذرا اس کے جذبات اور احساسات کی پروا نہیں کتنی آسانی سے اس کے دل کا خون کیا تھا‘ لب بھینچ کے اندر کے درد کو روکا۔
’’آپ ہر بات مجھ پر ہی کیوں ڈالتے ہیں کسی نے آپ کے لیے اپنی ہستی تک مٹادی اور بات کرتے ہیں۔‘‘ روتی ہوئی وہ چلی گئی ابتسام کو ایک دم افسوس اور بے کلی ہوئی کہ وہ تو محض تنگ کررہا تھا۔
ء…/…ء
دوسرے دن وہ ریان کے ساتھ ہی میکے چلی گئی امی سے بھی جانے کیا کہا‘ ابتسام کے تو سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی غصہ میں آجائے گی۔
’’بھابی میں بالکل نہیں جائوں گی‘ جانے کیا مجھے کہتے رہتے ہیں۔‘‘ آتے ہی سدرہ بھابی سے ابتسام کی شکایتیں کی وہ بھی متفکر سی ہوگئیں۔
’’ابتسام کی خبر میں لوں گی۔‘‘
’’پلیز بھابی آپ ان سے کچھ نہیں کہیں گی۔‘‘ وہ ملتجی لہجے میں بولتی ہوئی ان کے ہاتھ تھام کے وعدہ لینے لگی جبکہ وہ تذبذب کا شکار ہوگئیں کیونکہ وہ تو ان دونوں کو خوش دیکھنا چاہتی تھیں۔
’’لیکن علیزہ! اس طرح تو تم اور اس سے دور ہوجائو گی۔‘‘
’’بھابی اول تو ایسا ہوگا نہیں مجھے پتا ہے وہ اس طرح کرتے مجھ پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ میں نے صرف ان پر ترس کھا کے شادی کی ہے جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ کل سے اسے ابتسام کی سنگ دلی پر کئی بار رونا آچکا تھا وہ سب بھابی سے چھپا نہ رہ سکا تو قسم دے کے سب اگلوالیا۔
’’وہ شروع سے کچھ روکھی طبیعت کا ہے۔‘‘
’’لیکن بھابی! اب میں ان کی ہر بات اور سوچ کو غلط کروں گی۔‘‘ اس نے عزم اور اٹل ارادے کے ساتھ کہا۔
’’گڈ میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ اسے سیدھا تم ہی کرو ہر ایک کو غلط طریقے سے دیکھتا ہے۔‘‘ انہیں تو خود ابتسام پر غصہ آرہا تھا کافی رات تک دونوں باتیں کرتی رہی تھیں۔ وہ تو منال بلانے آئی تو بھابی چلی گئیں۔
دو دن تو اس کے سکون سے گزرے مگر ایشا بمعہ اپنے بیگ اور سامان کے وہاں آگئی‘ عدنان سے بھی نہ رہا گیا تو وہ بھی ضد کرکے ریان کے ساتھ آگیا۔
’’ارے تم لوگوں نے امی کو بھی اکیلا کردیا۔‘‘ وہ ایشا کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی جو دو دن سے اپنے سارے کام کررہی تھی جو اس سے ہوتے بھی نہ تھے۔
’’اگر اتنا ہی خیال ہے تو گھر چلیں نا۔‘‘ ریان بھی خاصا چڑا ہوا تھا۔
’’چاچی! دادی جان کو دو دن سے بخار بھی ہے۔‘‘
’’کل چاچو نے اتنی بدمزا چائے بنائی تھی کہ مجھ سے تو ناشتا ہی نہ ہوا۔‘‘ عدنان نے بھی دہائی دی۔
’’کتنی بُری بات ہے ایک تو وہ آپ سب کا خیال کررہے ہیں اور آپ ان کی برائی کررہے ہیں۔‘‘ وہ ان تینوں کے ساتھ لائونج میں بیٹھی تھی۔
’’یار چاچی! کل صبح میرا ایف ایم پر شو تھا‘ صرف چاچو کی وجہ سے مس ہوگیا۔ آج مجھے ڈیوٹی آفیسر سے اتنی ڈانٹ پڑی کہ کیا بتائوں۔‘‘ علیزہ نے باری باری تینوں کے مسئلے بھی سنے لیکن ابتسام کے بارے میں پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ اس نے اس کی غیر موجودگی کو کتنا فیل کیا۔
’’علیزہ بیٹا! آپ کی ساس کی طبیعت خراب ہے فوراً گھر جائو۔‘‘ ابو نے سنا تو وہ جھٹ گویا ہوئے پھر امی نے تو صبح ہی کہہ دیا تھا کہ گھر چلی جائو کیونکہ ابتسام کو بھی مشکل ہورہی ہوگی۔
’’جی ابو! رات کو چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے سر جھکا کے کہا۔
وہ تینوں ریحان اور منال کے ساتھ لان میں نکل گئے تھے‘ علیزہ پھر سنبھل کے بیٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ کیا کرے ابو اسے دیکھنے لگے۔
’’بیٹا! تم یہ مت سمجھنا کہ تمہارا یہاں رہنا ہمیں ناگوار گزر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مدبرانہ لہجے میں سمجھاتے ہوئے علیزہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔
’’نہیں ابو! میں ایسا بالکل نہیں سمجھوں گی۔‘‘ اس نے ان کے ہاتھ تھام لیے۔
’’دیکھو اس گھر کو تمہاری ضرورت ہے اور پھر آپ کسی کے لیے کیا اہمیت رکھتے ہیں‘ آپ خود سوچیں۔‘‘ وہ اسے سوچوں کا سرا تھما گئے تھے۔
ء…/…ء
وہ گھر میں کیا آئی کہ ابتسام کو دلی سکون ہوا اور پھر وہ اس کے دل میں اپنی اہمیت منواچکی تھی پہلے جو ہر وقت سپاٹ چہرہ رہتا تھا اب ہمہ وقت مبہم سی مسکراہٹ بھی رہتی۔ وہ سارے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد ریان کے لیے کل کے شو کا ٹاپک تیار کرنے کاغذ اور قلم لے کے صوفے پر بیٹھی تھی جبکہ ابتسام بیڈ پر دراز کن انکھیوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا جس نے بلیو کاٹن کی پرنٹڈ کپڑوں میں دراز بالوں کو سمیٹ کے کیچر میں مقید کیا ہوا تھا چھوٹی چھوٹی لٹیں بکھری ہوئیں تھیں وہ کب سے اس کا منتظر تھا لیکن وہ تو بے گانہ بیٹھی تھی۔
’’کب تک فارغ ہوگی۔‘‘ تیز لہجہ علیزہ کی سماعتوں سے ٹکرایا اس نے چونک کے سر اٹھایا۔
’’جی…‘‘
’’پوچھ رہا ہوں کہ کب تک فارغ ہوگی مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔‘‘ ایک دم ہی غصہ آیا انداز ترش سا ہوگیا۔
’’ابھی مجھے ریان کا پورا ٹاپک ریڈی کرنا ہے آپ کی بات نہیں سن سکتی۔‘‘ اس نے بھی ابتسام کو سرد مہری دکھائی وہ حیرانگی سے دیکھنے لگا جو کل تک اس سے ڈر ڈر کے بولتی تھی ایک دم اتنی پُر اعتماد کیسے بن گئی۔
’’یعنی تمہاری نظر میں اس وقت میری بات نہیں بلکہ یہ کام اہم ہے۔‘‘ وہ یک دم سے کھڑا ہوا اور اس کے قریب آگیا۔ علیزہ کا دل دھک دھک کرنے لگا لیکن اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ ابتسام کو احساس دلاکے رہے گی کہ وہ مجبوری میں یہاں نہیں آئی۔
’’یہ تو میں نے نہیں کہا۔‘‘ پیپرز کو لپیٹ کے سنگل صوفے پر رکھا اور اس پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی جو فان کلر کے کُرتے شلوار میں مضبوط اور توانا لگ رہا تھا۔
’’پھر یہ سب کیا ہے کل سے تم آئی ہو مجھے اگنور کررہی ہو۔‘‘
’’اچھا میں اگنور کررہی ہوں حیرت ہے بھول گئی بقول آپ کے میں تو صرف بچوں کی وجہ سے یہاں آئی ہوں اور آپ سے شادی بھی اسی وجہ سے کی ہے۔‘‘ وہ طنز کے ساتھ تمسخر ہی اڑانے لگی‘ ابتسام لب بھینچ کے رہ گیا کیسے اس نے تیر پھینکا تھا۔
’’شٹ اپ۔‘‘ وہ دہاڑا۔ علیزہ کو افسوس بھی ہوا پھر وہ خود کب ایسی تلخ کلامی کسی سے کرتی تھی مگر کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے۔
’’آئندہ تم نے یہ بکواس کی تو بہت بُرا ہوگا۔‘‘ اپنی بڑی بڑی سحر انگیز آنکھوں کو اس کی آنکھوں میں ڈالا علیزہ کانپ ہی گئی۔ ایک لڑکی اسے مات دے رہی ہے کبھی اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ یہ وقت بھی آئے گا دھڑ سے بیڈ پر لیٹا۔ علیزہ اس کے چہرے کے تنائو کو دیکھ کر اور ڈر رہی تھی بیڈ سے تکیہ اٹھانے جھکی اسی وقت ابتسام نے اس کی کلائی پکڑ کے گھسیٹا وہ تو حواس باختہ سے ہوگئی اس غیر متوقع حرکت پر دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ محسوس کرسکتے تھے۔
’’تم مجھ پر کیا ظاہر کرنا چاہتی ہو؟‘‘ اس کی کان میں سرگوشی کی۔
’’نہیں ابتسام حیدر! ایسے تو میں آپ کو نہیں بخشوں گی میرے جذبات اور خلوص کو آپ نے غلط رنگ دیا ہے آپ نے میرے ساتھ بہت بُرا کیا ہے میں بھی تو حق رکھتی ہوں آپ سے ناراض ہونے کا۔‘‘ وہ بس سوچ کے رہ گئی۔ ابتسام کی وارفتگی پر وہ آنکھیں بند کرگئی تھی وہ ان لطیف جذبوں سے مغلوب نہیں ہونا چاہتی وہ ابھی اپنا آپ ہارنا نہیں چاہتی تھی۔
’’پلیز مجھے ابھی بہت کام ہے۔‘‘ کسمسا کے اپنا نازک وجود ابتسام کے آہنی شکنجوں سے چھڑایا اور پھر وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
ابتسام کو یہ اپنی توہین ہی لگی جسے وہ اپنا نام دے کر لایا ہے وہ اسے یوں اگنور کرے اس کے جذبات کو رد کرکے وہ دور ہٹی تھی۔
’’ٹھیک ہی کہتے تھے میرے دوست شادی سوائے درد سری کے کچھ نہیں‘ فضول کے نخرے بیوی کے برداشت کرو… اونہہ!‘‘ وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا‘ علیزہ کو خود ایسا کرکے کون سا اچھا لگا تھا۔ وہ خود بھی جذبات و احساس رکھتی تھی‘ ایک مدت سے اسے وہ چاہتی آرہی ہے اور پھر ایسے اس نے جھڑکا تھا وہ تو ابتسام کی انام پر کاری ضرب ہی لگا۔
’’میں نے ابھی نخرے دکھائے ہی کب ہیں۔‘‘ وہ قدرے توقف کے بعد گویا ہوئی۔
’’شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ… آج کے بعد مجھ سے تم توقع بھی مت رکھنا۔‘‘ الٹا وہ اس پر غصہ نکال رہا تھا۔ علیزہ لب کچلتی تیر کی طرح کمرے سے نکلی گئی‘ ابتسام نے بس ایک حسرت بھری نگاہ ڈالی اور لب بھینچ کے لیٹ گیا۔
’’جب مجھ سے محبت کرتی ہے تو پھر یہ رویہ کیوں اپنا رہی ہے‘ کیوں وہ اس طرح کررہی ہے۔‘‘ مسلسل سوچوں میں ڈوبا رہا اسے نہ خبر ہوئی کہ کب تک جاگتا رہا اور کب وہ کمرے میں آئی اور صوفے پر لیٹ گئی‘ مسلسل ضمیر اسے ملامت ہی کرتا رہا کہ کیوں اس نے ابتسام سے رکھائی برتی۔
ء…/…ء
اب تو ابتسام نے اسے مخاطب ہی کرنا چھوڑ دیا جبکہ اس دن کے بعد سے علیزہ نے خود کو لعنت ملامت کرنے کے بعد اپنا سارا غصہ اور بدلا لیا جانا ایک طرف اٹھاکے رکھا بلکہ ابتسام کو منانے کے ہر جتن کرنے لگی۔
’’چاچی! آج سنڈے ہے اور آپ کوئی نئی ڈش بنایئے۔‘‘ عدنان کچھ زیادہ ہی کھانے پینے کا شوقین تھا وہ سب کو ناشتا دے رہی تھی جبکہ ابتسام اخبار کے مطالعہ میں منہمک تھا۔
’’کوئی نئی ڈش۔‘‘ علیزہ نے ایک نگاہ ابتسام پر بھی ڈالی جو سلائس اٹھانے آگے بڑھا ہی تھا کہ جھٹ آگے کردیا۔
’’بھئی کیا بات ہے چاچو کا بڑا خیال کررہی ہیں۔‘‘ ریان کی بے تکی راگنی شروع ہوئی اسی وقت ابتسام کی غصیلی اور گھورتی نگاہ کا بھی لگتا تھا اثر نہ ہوا۔
’’مجھے پتا ہے آپ دونوں میں کچھ ناراضگی ہے۔‘‘
’’ریان بکواس نہیں۔‘‘ ابتسام نے سرزنش کی۔
’’ارے واہ آج کا ٹاپک ایف ایم پر رکھوں گا ’’روٹھو کو کس طرح منایا جائے‘‘ میں لائیو کالز پر لسنرز سے پوچھوں گا پھر چاچی! آپ سنئے گا آج کا شو زبردست اور دھماکے دار ہوگا۔‘‘ انداز ایسا پرجوش تھا کہ علیزہ کی ہنسی نکل گئی۔
’’بھائی آپ کو کیسے پتا چاچو چاچی سے ناراض ہیں؟‘‘ ایشا نے معصومیت سے استفسار کیا اسی وقت ابتسام کی سائیڈ پر بیٹھے ریان کی گدی پر دھپ پڑی وہ تو ہل ہی گیا۔
’’کیا کرتے ہیں وہ ناشتا کررہا ہے۔‘‘ علیزہ کو ناگوار گزرا کیونکہ ریان خود سانس روک کے رہ گیا تھا۔
’’یہ سب بکواس تمہاری وجہ سے کرنے لگا ہے بہت ٹاپک تیار کرکے اسے دیتی ہو نا کیونکہ تم یہاں آئی اسی لیے ہو۔‘‘ وہ غصہ کرتا ڈائننگ ٹیبل کی چیئرز سے کھڑا ہوا‘ تینوں ہی سہم گئے امی البتہ اپنے کمرے میں تھیں ورنہ وہ ضرور ابتسام کو سرزنش کرتیں۔
’’وہ کوئی بچہ نہیں ہے بڑا ہے۔‘‘ وہ بھی دوبدو ہوگئی۔
’’تم بھی کوئی چھوٹی نہیں بڑی ہو شادی شدہ ہو۔‘‘ لہجہ ذومعنی اور طنزیہ تھا‘ وہ جھینپی ریان پہلے اٹھا پھر ایشا اور عدنان بھی اٹھ کے اندر چلے گئے۔
’’دیکھیں ناراضگی آپ کی مجھ سے ہے بچوں پر تو ظاہر نہ کریں۔‘‘ وہ بھی چیئر گھسیٹ کے کھڑی ہوئی‘ کاسنی کاٹن کے ایمبرائیڈی والے کپڑوں میں اس کا سراپا سادگی میں بھی دلکش ہی لگتا تھا‘ ابتسام کی لمحہ بھر کو نگاہ بھٹکی تھی۔
’’اچھا تم یہ بھی جانتی ہو کہ میں ناراض ہوں۔‘‘ اکٹھا شرمندہ کرنا چاہا۔ علیزہ کے چہرے کا رنگ یک دم پھیکا پڑا کیونکہ اس کا غصہ اتر ہی نہیں رہا تھا اور وہ منامنا کے تھک گئی تھی۔
’’پلیز ایم سوری!‘‘ وہ گلوگیر لہجہ میں گویا ہوئی۔
’’اونہہ سوری… کسی کی انا کی دھجیاں بکھر دیں اور سوری!‘‘ وہ تیز تیز قدموں سے اندر کمرے میں چلا گیا۔ علیزہ کا خاک کام میں دل لگتا بے دلی سے اس نے دوپہر کا کھانا پکایا جو کہ پلائو اور نرگسی کوفتے تھے وہ بھی ابتسام نے نہ کھایا‘ وہ کڑھتی رہی لیکن اسے امی سے کہنا مناسب نہ لگا بلکہ بھابی سے مشورہ کرنا مناسب لگا۔ شام میں ابتسام کہیں دوستوں میں نکل گیا جبکہ ریان کا تو ایف ایم پر شو تھا وہ بھی چلا گیا۔ عدنان اور ایشا کمپیوٹر پر گیم کھیل رہے تھے امی کو وہ شام کی چائے ان کے کمرے میں دے آئی تھی اس لیے اسے فراغت ہوئی تو وہ فون لے کے بیٹھ گئی۔
’’السلام علیکم!‘‘ دوسری طرف شعیب بھائی تھے۔
’’وعلیکم السلام کیسی ہو گڑیا؟‘‘ پیار بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’ٹھیک ہوں‘ آپ کیسے ہیں؟‘‘
’’سوچ رہے تھے ہم کہ تمہاری طرف چکر لگائیں گے سدرہ اور بچے امی کے ساتھ ماموں کی طرف نکل گئے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے تفصیل بھی بتائی۔ علیزہ کا جو مقصد تھا بھابی سے بات کرنے کا وہ بھی رہ گیا‘ شعیب بھائی سے ادھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد اس نے ریسیور رکھ دیا۔ اب تو اسے ہی کوئی حل تلاش کرنا تھا کہ یہ اجنبیت کی دیوار تو گرانی ہی ہے آخر کب تک دونوں ایک دوسرے سے بچتے رہیں گے۔
ء…/…ء
روز کا اس کا وہی معمول تھا کہ وہ سب کو ریڈی کرکے یونیورسٹی اور اسکول بھیج دیتی تھی‘ ابتسام کے کام کرتی تو وہ سوائے گھورنے کے کچھ نہ کرتا تھا۔
’’سوری… آئی ایم سوری…‘‘ وہ ملتجی لہجے میں شرمندہ سی گویا ہوئی۔ ابتسام نے اس پر ایک بار بھی نگاہ نہیں ڈالی وہ ہنوز ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے کھڑا ٹائی کی ناٹ باندھ رہا تھا مسٹرڈ پینٹ پر آف وائٹ شرٹ میں وہ ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔
’’کس لیے؟‘‘ وہ ناٹ باندھنے کے بعد پرفیوم کا اسپرے کرنے لگا۔
’’وہ میں اس دن آپ سے…‘‘ بولتے بولتے جھجک کے رکی۔ ابتسام کا بھی ازلی غصہ عود کر آگیا تھا اس لیے وہ بھی اکڑ دکھاتا اپنا حق سمجھ رہا تھا۔ والٹ اور موبائل لینے بیڈ کی سائیڈ پر آیا جو علیزہ نے جھٹ اٹھا کے دے دیا‘ جھپٹنے کے انداز میں ابتسام نے لیا۔
’’مجھے تمہاری اب جی حضوری کی ضرورت نہیں۔‘‘ انتہائی سنگ دلی سے مخاطب ہوا تو وہ جزبز سی ہوئی اور آنکھوں میں نمی در آئی۔
’’آپ میری بھی تو سنئے۔‘‘ لہجہ روہانسا ہوگیا۔
’’سننے سنانے کے دن اب گئے تم یہاں سے جانے کی تیاری کرو‘ مجھے تمہاری ضرورت نہیں۔‘‘ وہ ذرا بھی اس کے دل کی پروا نہیں کررہا تھا۔
’’مجھے تو آپی نے یہ بتایا تھا کہ تم بہت نرم اور صلح جو ہو میری مرضی پر چلو گی۔ اونہہ… لیکن تم ایک فیصد بھی اس کے مطابق نہیں ہو۔‘‘ وہ اس پر اچھی طرح واضح کردینا چاہتا تھا۔
’’آپ مجھے بولنے کا موقع تو دیں۔‘‘ وہ اس کی راہ میں حائل ہوئی جسے ابتسام نے بازو سے پکڑ کے سائیڈ پر کیا بلیو جارجٹ کے کپڑوں کا آنچل پھسل کے ابتسام کے قدموں پر گرگیا‘ ایک فہمائشی نگاہ آنچل پر ڈالی اور گہری نگاہ اس کے وجود پر ڈالی جو سُتے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے مقابل تھی۔ دل نے کہا کہ اس کا نازک مکھڑا اپنے ہاتھوں میں لے کے اس پر پیار بھری مہر ثبت کردے مگر پھر ایسی کوئی بھی خود ساختہ حرکت سے باز رکھا۔
’’سوری کرنے کے بھی کچھ انداز ہوتے ہیں شاید تم ان سے واقف نہیں ہو اب تک۔‘‘ آنچل اس پر اچھال کے معنی خیز لہجے میں کہتا نکل گیا۔ وہ ابتسام کے لہجے اور بات پر غور کرتی رہ گئی کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔ وہ لبوں کو کاٹتی کمرے کو سمیٹنے لگی پھر دوپہر کے لیے بھی کھانا پکایا۔ پورا دن مصروفیت کی نذر ہوگیا تھا ریان بھی دوپہر کو لیٹ آیا تھا اس لیے خاموشی تھی۔ عدنان اور ایشا اسکول سے آنے کے بعد کھانے سے فارغ ہوکے ہوم ورک کررہے تھے۔ عدنان کے میٹرک کے ایگزام ہونے والے تھے علیزہ کچھ دیر اسے بھی پڑھاتی تھی۔
’’علیزہ تم اپنا حلیہ تو دیکھو بیٹا! کتنا خراب ہورہا ہے‘ جائو کپڑے بدلو۔‘‘ وہ شام کو امی کے پاس ان کے کمرے میں بیٹھی تھی ان سے رہا نہ گیا تو ٹوک دیا۔
’’وہ جی… بس نہانے جاہی رہی تھی۔‘‘ وہ شرمندہ سی ہوئی۔
’’چاچی! آج ہم سب ڈنر باہر کریں گے بہت دن ہوگئے ہیں چاچو باہر لے کے نہیں گئے۔‘‘ عدنان بھی وہیں چلا آیا۔
’’ٹھیک ہے پھر چلیں گے‘ آپ کے چاچو کا موڈ دیکھنا پڑے گا۔‘‘ علیزہ نے اسے دیکھا جو امی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تھا۔ اس نے جلدی جلدی نہا کر تیاری کی اور ابتسام کا انتظار کرنے لگی وہ تینوں تو پہلے ہی تیار ہوچکے تھے کیونکہ اتنے دنوں بعد سب ساتھ جائیں گے۔
ء…/…ء
وہ بوجھل سے ذہن کے ساتھ گھر آیا تھا آتے ہی ڈھیلے انداز میں لائونج میں سنگل صوفے پر آنکھیں بند کرکے بیٹھ گیا۔ چوڑیوں کی مخصوص کھنک سماعتوں سے ٹکرائی تو اپنے رائٹ سائیڈ پر دیکھا وہ پیرٹ گرین جارجٹ کے ہلکی سی ایمبرائیڈری والے سوٹ میں سجی سنوری اسے حیران کرگئی‘ کتنے عرصے بعد وہ اسے اس طرح دیکھ رہا تھا۔
’’آخا… چاچو آگئے۔ چاچو! ہم ڈنر باہر کریں گے۔‘‘ ایشا نے آتے ہی اس کے گلے میں بازو حمائل کیے علیزہ ایک دم ہی سنبھل کے کھڑی ہوگئی۔
’’سوری بیٹا! آج چاچو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘‘ وہ ایشا کے ہاتھوں کو اپنے گلے سے نکال کے کھڑا ہوا‘ ایشا ناراض سی دور ہوگئی علیزہ کو اس وقت ابتسام کی کیفیت کا اندازہ تھا۔
’’بیٹا! آپ فکر نہ کرو ہم آج ہی چلیں گے۔‘‘ اس نے ایشا کو اطمینان دلایا اور کمرے میں چلی آئی وہ جوتوں سمیت نیم دراز تھا۔ علیزہ جھجک کے بیڈ کی پائنتی پر رک گئی‘ ابتسام نے پھر ایک استحقانہ نگاہ ڈالی وہ پزل ہوگئی۔
’’دیکھیں آپ کو مجھ پر جتنا غصہ ہے کرلیں لیکن پلیز بچوں سے تو نارمل بی ہیو کریں۔‘‘ وہ ساری ہمتیں مجتمع کرکے اس کے پہلو میں ہی آکے بیٹھ گئی۔ ابتسام تو متحیر رہ گیا وہ خود یوں پہلی بار قریب آئی تھی۔
’’میرا بچوں کے ساتھ رویہ ایسے ہی ہوتا ہے۔‘‘ وہ اٹھنے لگے مگر علیزہ نے اس کے سینے پر بے اختیار ہی سر رکھ دیا اور اتنا روئی کہ وہ تو ہراساں ہوگیا پھر وہ تو آج اسے حیرانگیوں کے جھٹکے دیئے جارہی تھی‘ علیزہ کے آنسو اس کے کشادہ سینے میں جذب ہورہے تھے۔
’’کیا بچوں جیسی حرکت ہے کیوں رو رہی ہو؟‘‘ اس نے ڈپٹ کے پوچھا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما رونے سے اس کا میک اپ تک دھل گیا۔
’’آپ مجھے تو کوئی موقع ہی نہیں دے رہے ہیں‘ غصہ کرے جارہے ہیں۔‘‘
’’سوچو اس دن تم نے کیا کیا تھا‘ بتائوں کتنا غصہ آرہا ہے مجھے اس دن سے۔‘‘ دانت پیسے علیزہ نے ہاتھ جوڑ دیئے جو اس نے تھام لیے۔
’’آپ بار بار یہ کیوں کہے جارہے تھے کہ میں نے بچوں کی وجہ سے مجبوری میں شادی کی ہے آپ سے۔‘‘ وہ شکوہ کرنے لگی۔
’’ظاہر ہے تم مجھ پر توجہ نہیں دو گی تو یہی کہوں گا نا۔‘‘ اس نے علیزہ کے سرد ہاتھوں کو ابھی تک تھاما ہوا تھا۔
’’آپ نے اولین شب یاد ہے کیا کہا تھا مجھے نہ بیوی کی اب ضرورت ہے اور نہ بعد میں ہوگی اس وقت مجھے بھی غصہ آیا تھا۔‘‘
’’وہ تو میں نے پتا نہیں اس وقت کیوں کہہ دیا تھا ایسا۔‘‘ وہ خود ہی کہے پر شرمندہ ہوا یہ تو سب کچھ ہی غلط ثابت ہوا علیزہ نا محسوس طریقے سے اس کے دل میں جگہ بناتی چلی گئی تھی وہ خود حیران تھا۔
’’پھر یہ اچانک تبدیلی۔‘‘ وہ حیران ہوئی۔
’’آہستہ آہستہ تم میری سوچوں کو غلط ثابت کرتی گئیں‘ تم نے آتے ہی بچوں کو بالکل ماں بن کے ہی سنبھالا پھر میری ماں کا تم اتنا خیال رکھتی ہو۔ سوچتا ہوں اگر تم نہ ہوتیں تو کیا ہوتا۔‘‘ ابتسام کو اعتراف کرنے میں آج ذرا جھجک اور عار محسوس نہ ہوئی اور اس پر تو شادیٔ مرگ طاری ہوگیا وہ ابتسام کو سچے جذبوں سے جیت گئی تھی۔
’’پھر ایک رات تمہیں ڈائری لکھتے دیکھا پھر اسے پڑھ بھی لیا۔‘‘
’’کیا آپ نے میری ڈائری پڑھی۔‘‘ وہ تو بدک کے پیچھے ہوئی کتنی حیا سی آئی اس میں تو سارا کچھ ابتسام کے بارے میں تھا۔
’’جب مجھ سے محبت تھی تو یہ دوری کیوں قائم رکھی؟‘‘ اس نے علیزہ کو قریب کرکے فاصلہ ختم کیا اور وہ شرم سے نگاہ بھی نہیں اٹھا پارہی تھی۔ اسے کیا پتا تھا ابتسام اس کے دل کی ساری باتوں کو اس طرح جان لے گا۔
’’میں نے عزم کیا تھا کہ اپنی محبت اور سچے جذبوں سے آپ کا دل جیتوں گی۔‘‘ اس نے دل سے اقرار کیا۔
’’دیکھو جیت لیا ہے‘ اب مجھے کوئی فکر نہیں ہے کہ میرے بچے بھی آجائیں گے تو تم میرے بھائی کے بچوں سے محبت کم نہیں کرو گی۔‘‘ ابتسام کی ایسی بے باک بات پر وہ کانوں کی لوئوں تک سرخ پڑگئی۔
’’سنو ہمارے بچے نا صرف…‘‘ اس سے آگے علیزہ نے اس کے ہونٹوں پر اپنا بایاں نازک ہاتھ رکھ کر بولنے سے باز رکھا‘ ابتسام نے اسے بھی چوم لیا۔
’’اٹھیے… ضرورت سے زیادہ آپ تو بے باک ہیں۔‘‘ وہ جھینپی۔
’’ابھی بے باکی دیکھی کب ہے۔‘‘ وہ پھر جھکا دھکا دے کے وہ اٹھ گئی‘ ابتسام نے قہقہہ لگایا۔
’’بچے ڈنر پر جانے کو کہہ رہے ہیں آپ کے کپڑے ریڈی ہیں‘ پندرہ منٹ میں آجائیں باہر۔‘‘ اس نے بڑی محبت سے حکم دیا وہ بھی اٹھ گیا۔
’’واپسی پر آپی کے گھر چلیں گے اور ان کا شکر یہ ادا کرنے کہ انہوں نے اپنی صابر و شاکر نند میرے حوالے کی ہے ورنہ تو میں لڑکیوں کو نخروں کا منبع کہتا تھا۔‘‘
’’نخروںکا منبع تو آپ ہیں۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’چاچو چاچی جلدی چلیں نا۔‘‘ ریان کی آواز پر دونوں چونکے‘ علیزہ ابتسام کو واش روم میں دھکا دیتی باہر آگئی۔ زندگی کتنی اچھی لگنے لگی تھی دو دلوں کی دھند چھٹ چکی تھی۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close