Hijaab Dec 15

ملاقات

نادیہ احمد/ندا/سحرش

صائمہ اکرم چوہدری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ نا صرف ملک کی جانی مانی مصنفہ ہیں بلکہ ایک معروف ڈرامہ نگار بھی ہیں۔
اس کے علاوہ یہ درس و تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ ان کی کہانیاں ‘ افسانے ملک کے معروف رسائل میں شائع ہوتے ہیں۔ ان کے لفظوں کی تاثیر دل کو چھو جاتی ہے۔ نہایت خوب صورتی سے وہ اپنے قلم کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔ صائمہ اکرم کے ستر کے قریب افسانے، ناولٹ اور مکمل ناول، خواتین، شعاع، کرن، پاکیزہ اور ریشم ڈائجسٹ میں شائع ہو چکے ہیں۔ صائمہ پانچ کتابوں کی مصنفہ ہیں۔
اک رسم محبت ہے
بند مٹھی میں سلگتی ریت
ابن آدم
گمشدہ جنت
اور دیمک زہ محبت
محبت اب نہیں ہوگی، عنایہ تمہاری ہوئی، میرے اجنبی اور میرا درد نہ جانے کوئی سے‘ انہوں نے الیکٹرانک میڈیا میں بھی اپنا مقام بہ خوبی بنایا اور ان کے کام کو سراہا گیا۔
السلام علیکم صائمہ اکرم چوہدری سب سے پہلے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
کچھ اپنے متعلق بتائیں‘ اپنی تعلیم کے متعلق۔ آپ ماشاء اللہ آج کل خاصی مصروف ہیں اور لکھنے کے علاوہ لیکچرار بھی ہیں ٹائم کیسے مینیج کرتی ہیں۔ کیا مصروفیت کا اثر آپ کے لکھنے پہ پڑتا ہے۔
صائمہ اکرم چوہدری: میں نے ڈبل ایم اے کیا ہے۔ زکریا یونیورسٹی ملتان سے ماس کمیونکیشن میں اور اسلامیہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو۔نادیہ مصروفیت کا عالم تو مت پوچھیے۔ کالج ،جاب اور لکھنے میں اپنے لیے تو بالکل ٹائم نہیں ملتا۔
نادیہ احمد: صائمہ یہ بتائیں کبھی ایسا ہوا کوئی تحریر لکھنے بیٹھیں اور کسی ایک مقام پر جا کر کہانی رک گئی آپ کے ذہن میں اس کا پورا خاکہ ہوتے ہوئے بھی آپ اسے کاغذ پہ اتار نہیں پارہیں ایسے میں کیا کرتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: ایسے میں،میں اس چیز کو وقتی طور پر چھوڑ دیتی ہوں اور کسی دن اچانک وہ کہانی میری انگلی پکڑ کر خود بخود لکھوانے لگتی ہے۔
نادیہ احمد:دیمک زدہ محبت …سکینہ اللہ دتہ … ایک کبڑی لاعلاج لڑکی کی کہانی آپ کے لفظوں نے اس کہانی کو امر کردیا لیکن کیا آپ کو لگتا ہے آپ نے عائشہ کے ساتھ اچھا کیا؟
سکینہ اللہ دتہ کے کردار کے ساتھ انصاف کرتے کرتے اس کے دامن میں محبت کی خوشیاں ڈالتے ہوئے آپ نے ایک وفا شعار بیوی کے ساتھ نا انصافی کر دی؟کیا خلوص اور وفا کا انجام یہ ہوتا ہے کہ مرد اس پر کسی سائے کو فوقیت دے ؟
صائمہ اکرم چوہدری: عائشہ کے ساتھ بالکل بھی زیادتی نہیں ہوئی ہم سب انسان ہیں اور ہمارے دلوں میں کوئی نہ کوئی ایسا گوشہ ضرور ہوتا ہے جو ہم کسی کے ساتھ شئیر نہیں کرتے۔ سکینہ سے خاموش محبت کرتے ہوئے ڈاکٹر خاور نے کہیں بھی عائشہ کے ساتھ زیادتی نہیں کی اور عائشہ جس مزاج کی لڑکی تھی اگر خاور اس سے شئیر کر بھی لیتے تو اس کا دل بہت بڑا تھا اور ظرف بھی۔
نادیہ احمد :ہر انسان زندگی کو اپنے مطابق اپنی شرائط پہ گزارنا چاہتا ہے، ہر لمحے کو اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا ہم تقدیر کے سامنے بے بس ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک وقتی ڈیپریشن اور فرسٹریشن آپ پر حاوی ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ کیا محسوس کرتی ہیں اور خود کو اس کیفیت سے کیسے نکالتی ہیں؟ نیز اس کیفیت کا آپ کے اردگرد موجود افراد پہ کیا اثر ہوتا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: یہ ایک بری کیفیت ہوتی ہے جب انسان اپنی خواہش کے مطابق زندگی گذار نہیں پاتا تو مایوسی اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتا ہے اور خود کو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اذیت دینے لگتا ہے لیکن الحمداللہ میرے اوپر جب بھی ایسا لمحہ آیا۔میں نے خود کو اللہ کے اور قریب پایا۔ رونے دھونے کے بعد ایک وہ ہی ہستی ہے جو آپ کو اس سچوئشن سے نکال سکتی ہے۔ایسے تمام حالات میں میرا اللہ پر یقین پختہ ہوا۔ الحمد اللہ میرے ارد گرد سب پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ ہیں جو چیزوں کو انڈر اسٹینڈ کرتے ہیں۔بس اللہ کی مدد اور اپنے پیاروں کی محبت مجھے ایسی سچوئشنز سے خیر و عافیت سے نکال کر لے آتی ہے۔
نظام الدین نظامی: کچھ عرصہ آپ ایکسپریس نیوز میں بھی رہیں۔ ایکسپریس نیوز چھوڑنے کی وجہ؟
صائمہ اکرم چوہدری:وہاں کی ٹائمنگ بہت اووڈ تھیں۔
مجاہد ناز: آپ نے زندگی سے کیا سبق سیکھا؟
صائمہ اکرم چوہدری: جیو اور جینے دو
وجیہہ الطاف چوہدری: اسلامْ علیکم۔آپ کے ڈراموں کے والد اتنے سخت مزاج کیوں ہوتے ہیں میم۔ آپ کو ایسی تحاریر لکھنے کی تھریک کہاں سے ملی۔
صائمہ اکرم چوہدری: ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا،ایک افسانہ اور اب ایک ڈرامہ ضرور اس موضوع پر لکھا اور اس میں بھی فادر کے سخت مزاج ہونے کے پیچھے ایک پوری کہانی تھی اور کچھ میں نے اپنے پڑوس میں ایک انکل کو دیکھ رکھا تھا بچپن میں اور ان کی سختی کو دیکھ کر اکثر سوچتی تھی کہ مجھے ان پر کچھ لکھنا چاہیے۔
حنین ملک: صائمہ آپی جیسے آپ کے سٹیٹس ہوتے کیا اپ بھی ایسی ہی ہیں ؟
صائمہ اکرم چوہدری: حنین، میری شخصیت میں بہت ورائٹی ہے،میں اپنے کچھ خاص لوگوں کے لیے بہت زندہ دل، شرارتی اور شوخ مزاج ہوں،لیکن اب شخصیت میں سنجیدگی کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔ اسپیشلی اپنی اسٹوڈنٹس کے لیے۔
حنین ملک: مجھے لگتا ہے آپ بہت سنجیدہ مزاج ہیں کیا یہ سچ ہے؟ آپ کو لکھنے کا شوق کیونکر ہوا، آپ کو کس نے لکھنے کی طرف راغب کیا کیا آپ کا شوق ہے؟ نئے لکھاریوں کے لیے کوئی مشورہ؟
صائمہ اکرم چوہدری: ایسا بالکل نہیں ہے۔
میرے فادر کو مطالعے کا بہت شوق تھا اور ان سے یہ شوق میرے اندر منتقل ہوا۔ بچپن میں ،میں اپنی بڑی بہن کو خود سے کہانیاں بنا بنا کر سناتی تھی اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کا نام اخبار میں دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا اور میں نے بہت چھوٹی عمر میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔
وہ بہت زیادہ پڑھیں۔
حنین ملک :جب آپ بہت اداس ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: اداسی کے عالم میں یا تو کسی اچھی سی دوست کو فون کر لیتی ہوں یا پھر میاں کے ساتھ لونگ ڈرائیو پر۔ ویسے بزی شیڈول میں اداس ہونے کے لیے بھی ٹائم کم کم ہی ملتا ہے۔
حنین ملک:آپ بچپن میں شرارتی تھیں یا سنجیدہ؟ اپنی کوئی ایسی شرارت بتائیں جو آپ آج بھی یاد کرتی ہیں تو مسکراہٹ لبوں پر آجاتی ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: بچپن میں کیا،ابھی تک شرارتی ہوں اور بے شمار ایسے واقعات ہیں اور کافی لمبے لمبے ہیں اس لیے یہاں نہیں لکھ سکتی۔
حنین ملک:اگر آپ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا جائے تو سب سے پہلا کام کیا کریں گیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: ملک میں روڈز اور اسکولوں کی حالت درست کروں گی۔
حنین ملک:اپنے ناولوں میں سے آپ کا سب سے پسندیدہ ناول کون سا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: ابن آدم، دیمک زدہ محبت اور خالی ہاتھ۔
حنین ملک:سیاہ حاشیہ لکھنے میں آپ کی مدد کس نے کی میرا مطلب یہ خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا کہ ایسا ناول لکھا جائے کیا کسی دوست کا مشورہ تھا یا اپنا خیال؟
صائمہ اکرم چوہدری: سیاہ حاشیہ لکھنے کا خیال ایک دن غلام عباس کا افسانہ کتبہ پڑھاتے ہوئے آیا۔بس پھر میں نے کہانی کا تانا بانا بننا شروع کیا اور پھر لکھتی گئی۔ میں اصل میں لکھنے سے پہلے تحریر کا نام سوچتی ہوں اور اس کے بعد کہانی کی بنت اسٹارٹ کرتی ہوں۔
حنین ملک :آپ سینئرز میں کس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: میں سنئیرز میں ہی سے نہیں،بلکہ جو نئِرز میں سے بھی کافی لوگوں سے متاثر ہوں۔اچھا جملہ جو بھی لکھے ،میں اس کی فین ہوں۔
حنین ملک :اپنے میاں کو کس روپ میں اچھی لگتی ہیں، سادگی میں یا پھر میک اپ میں؟
صائمہ اکرم چوہدری: میرا خیال ہے ان کو میں بنی سنوری ہی اچھی لگتی ہوں۔
حنین ملک :فارغ اوقات کے مشاغل کیا ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: فراغت ہی تو نہیں ہے مائی ڈئیر لائف میں۔ ترس گئی ہوں اس چیز کے لیے۔
ندا حسنین: آپ کو اپنے اب تک کے لکھے ہوئے کس کردار نے رلایا ہنسایا؟ وہ ایسا کون سا کردار ہے جس سے آپ بی حد انسیت محسوس کرتی ہیں اور کیوں؟
صائمہ اکرم چوہدری: سکیہنہ اللہ دتا نے بہت رلایا اور ابھی تک رلا رہی ہے۔کاش میں اس کے لاعلاج مرض کے لیے کچھ کر سکتی۔ ارفع عزیز کا دکھ آج بھی مجھے محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہنسانے والے کردار ذرا کم ہیں۔
شبینہ گل: اپنے تحریری سفر کی روداد ہم سے شئیر کریں پلیز۔ شروعات سے اب تک۔ یعنی کہانیاں بھیجنا سلیکٹ یا ریجیکٹ ہونا، اپ کا رد عمل، آپ کے حوصلہ افزائی کے محرکات‘ سب کچھ۔
صائمہ اکرم چوہدری: تحریری سفر کی داستان تو بہت لمبی ہے لیکن میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے ہر موقعے پر کوئی نہ کوئی ایسا ہاتھ ملتا گیا،جسے پکڑ کر میں آگے سے آگے چلتی رہی۔ میں نے لکھنے کا آغاز بچوں کی کہانیاں لکھنے سے کیا اورافسانہ نگاری گریجویشن کے بعد کی،بہت سی کہانیاں ریجیکٹ ہوئیں اور اچھا ہوا کہ ہو گئیں کیونکہ وہ اسی قابل تھیں۔
سحرش فاطمہ: اب تک کے سوالات میں سے کون سا سوال اچھا لگا؟ اور کوئی ایسا سوال جو آپ کسی ریڈر سے کرنا چاہیں؟
رائٹر بن جانے کے بعد اب آپ ریڈر کے طور پر اپنا نقطہِ نظر نہیں دے سکتیں کسی اور رائٹر کی تحریر پر تو جب بے انتہا دل کرے تو کیا کرتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: بہت شکریہ سحرش! ابھی ایسا کوئی سوال نہیں ہوا جو کہ تھوڑا مختلف ہو۔ یہ سب وہ سوالات ہیں جن کے جوابات میں بہت عرصے سے دے رہی ہوں۔ کسی رائٹر کی تحریر اچھی لگے تو اسے ضرور بتاتی ہوں،اچھی نہ لگے تو خاموش ہو جاتی ہوں۔
حنین ملک :آج کی صائمہ اکرم اور دس سال پہلے کی صائمہ اکرم میں کتنا فرق ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پہلے تو بہت بولڈ، آئوٹ اسپوکن ، شرارتی اور اوور کونفیڈنٹ تھی۔ اب وقت کے ساتھ میچورٹی، سنجیدگی اور تھوڑا کم گو ہو گئی ہوں، پہلے تو کسی کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیتی تھی۔
حنین ملک :آپ اپنے گروپ کے ایڈمن پینل میں کس سے سب سے زیادہ خوش ہیں، سب سے زیادہ پسندیدہ ایڈمن کون ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: سب ہی ماشاء اللہ بہت اچھی ہیں اوریدا ، فریحہ ، سدرہ صدیقی اور سدرہ آفاق جہاں ہوں،میں بہت مطمئن رہتی ہوں۔ ستارہ، ندا بھی اچھی ہیں۔ کسی زمانے میں صابر خان بہت اچھے ایڈمن تھے پھر بیوی کو پیارے ہو گئے۔آج کل صبا ایشل گروپ کو خاصا ایکٹو رکھتی ہیں۔
حنین ملک :آپ کو جوائنٹ فیملی سسٹم پسند ہے یا اکیلے رہنا؟
صائمہ اکرم چوہدری: میرے میاں جوائنٹ فیملی سسٹم کے سخت خلاف ہیں۔ اس لیے شادی کے بعد سے اکیلی ہی ہوں۔ہاں عید پر سب اکھٹے ہوتے ہیں تو مزا آتا ہے۔
حنین ملک :آپ کو تنقید اور تعریف دونوں ملتی ہیں ، تنقید پہ کیا ردعمل ہوتا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: تنقید برائے اصلاح اور تنقید برائے تنقید دونوں میں فرق صاف سمجھ آجاتا ہے۔ اصلاحی نتقید سے خود کو بہتر کرنے کی کوشش کرتی ہوں اور تنقید برائے تنقید کو نظر انداز کر دیتی ہوں۔
حنین ملک :میں نے آپ کی شادی کی تصاویر جب ڈائجسٹ میں دیکھی تھیں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ سے بات ہوپائے گی، آج ٹیکنالوجی کا اتنا فائدہ ہوا کہ آپ سے بات کرنا ممکن ہے۔ آپ کے خیال میں کونسی ٹیکنالوجی فائدہ میں ہے اور کون سی نقصان میں؟
صائمہ اکرم چوہدری: ٹیکنالوجی کوئی بھی اچھی یا بْری نہیں ہوتی، اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے۔
حنین ملک :آپکی آج تک کی کوئی ایسی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو؟
صائمہ اکرم چوہدری: الحمد اللہ آج تک جو سوچا،اللہ نے سب دیا۔ اللہ کا بہت بہت کرم ہے مجھ پر۔
کنول خان :1 ہر مصنف یا شاعر جب بھی کچھ لکھتا ہے تو اپنے لکھے ہوئے کی تعریف سننا پسند کرتا ہے کیا آپ کو بھی تعریف کا انتظار رہتا ہے یا پھر تنقید برائے اصلاح کا؟2 کبھی کسی کہانی سے ایسا لگا یہ تو اور بہتر ہونی چاہئیے تھی اور وہ کون سی کہانی تھی؟
صائمہ اکرم چوہدری:تعریف تو ویسے ہی انسان کا دل بڑھا دیتی ہے لیکن مجھے اپنی تحریروں پر کمنٹس کا انتظار ضرور رہتا ہے۔
آج سے پندرہ سال پہلے لکھی ہوئی کہانیاں دوبارا لکھنے کو دل کرتا ہے۔
صدف آصف :آپ نے پہلی تحریر لکھتے ہوئے کتنی بار سوچا؟
صائمہ اکرم چوہدری: بالکل بھی نہیں سوچا تھا جو ذہن میں آیا لکھ ڈالا
ثانیہ عباسی: دیمک زدہ محبت کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے یا یہ آپ کی اپنی تخلیق ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: اس کے اکثر کردار حقیقی ہیں اور میرے اردگرد بستے ہیں۔
حنین ملک:آپ نے جب لکھنا شروع کیا تو کتنی بار ریجیکشن کا سامنا کرنا پڑا یا پھر پہلی بار میں ہی کہانی سیلیکٹ ہوگئی؟
صائمہ اکرم چوہدری: کافی دفعہ ریجیکٹ ہوئیں۔ یہ عشق نہیں ہے آساں۔
عرشیہ ہاشمی: کہانی لکھتے ہوئے کبھی کوئی کردار آپ کی زندگی پر حاوی ہوا؟ کسی کردار کے درد کو محسوس کرکے آپ اپ سیٹ ہوئیں؟
صائمہ اکرم چوہدری: ہر کہانی میں کوئی نہ کوئی کردار ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی تکلیف مجھے اپنے دل پر محسوس ہوتی ہے،جس کی خوشیاں مجھے بھی اچھی لگتی ہیں۔
نینا شہزادی:اتنی ساری کہانیاں کیسے سوچتی ہیں مجھ نہیں آتی کیا کروں؟
صائمہ اکرم چوہدری: نینا ،اچھی اسٹوری آپ کا ہاتھ پکڑ کر خود آپ سے لکھواتی ہے۔آپ بھی اس وقت کا انتظار کریں اور خوب پڑھیں۔
ظفر علی : اگر ہم آپ سے کہیں کہ آپ اپنے ناولوں میں سے کوئی ایک ناول ہمارے لیے سلیکٹ کریں اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوے کہ ہم عمیرہ احمد کی تحریروں کے دیوانے ہیںتو کون سا ناول ہو گا۔
صائمہ اکرم چوہدری : ظفر علی آپ عمیرہ جی کی تحریریں ضرور پڑھیں۔ میں خود ان کی بڑی فین ہوں۔
عمران رضا بٹ: آپ کی وہ کون سی سٹوری ہے جو آپ کی فیورٹ ہے جسے لکھنے میں آپ نے کافی انجوائے کیا ۔
صائمہ اکرم چوہدری: عمران رضا بٹ بہت سی کہانیاں ہیں جنہیں لکھتے ہوئے میں نے کافی انجوائے کیا،خاص طور پر اپنی مزاحیہ اور شرارتی ناولٹس جن میں، میں ہوں ناں، جنجوعہ ہاؤس، ست رنگی چنری وغیرہ وغیرہ۔
عابدہ احمد: آپ کی لکھی گئی سب سے پہلی کہانی کون سی قبولیت کی سند حاصل کرنے میں کامیاب ٹھہری تھی (ڈائجسٹ کے لیے)
صائمہ اکرم چوہدری: سب سے پہلی کہانی تتلی راستہ بھول گئی اور محبت مر بھی سکتی ہے۔آج بھی لوگ مجھے اس کا حوالہ دیتے ہیں۔
ندا حسنین :ایک رائیٹر کے ذہن میں بہت سی کہانیاں پلتی رہتی ہیں بہت سے کردار ذہن میں تخلیق ہوتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں ایسی کوئی کہانی یا کردار تخلیق ہوا جو قلم تک ابھی نہیں پہنچا مگر دل میں شدت سے خواہش ہو کہ یہ کہانی لکھ دوں؟
صائمہ اکرم چوہدری:جی بہت سے کردار اور کہانیاں ایسی ہیں اور پھر ایسا کرتی ہوں ان کہانیوں کے پوائنٹس کہیں پر لکھ کر رکھ لیتی ہوں جب بھی ٹائم ملے گا ان پر ضرور لکھوں گی۔
منعم اصغر: آپ میری پسندیدہ مصنفہ ہیں آپ نے پہلی تحریر کون سی لکھی کس ڈائجسٹ میں آئی اور اس کا کیسا ریسپونس ملا۔
آپ نے لکھنا کب شروع کیا؟ کسی رائیٹر سے متاثر ہوکر یا خود یہ شوق پیدا ہوا؟
کسی ایسے رائیٹر کا نام جس کو آپ آج بھی دلچسپی سے پڑھتی ہوں؟
آپ کے پسندیدہ ناول جو آپ نے خود لکھا ہو؟
کیا سکینہ کا کردار حقیقی ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:پہلی کہانی بچوں کی اسکول کے دور میں لکھی تھی اور بڑوں کے لیے گریجویشن کے بعد۔ پہلی کہانی تتلی رسالہ بھول گئی ہوں۔
بہت سی رائیٹرز پسند ہیں جن میں عمیرہ احمد، عنیزہ سید، آمنہ ریاض، آمنہ مفتی، تنزیلہ ریاض، سمیرا حمید، سائرہ رضا، فائزہ افتخار، عالیہ بخاری اور نئے لکھنے والوں میں سحرش فاطمہ، ندا حسنین اور فرحین اظفر پسند ہیں۔ مصباح نوشین کا سٹائل بھی بہت اچھا ہے۔
سکینہ کا کردار حقیقی ہے۔ وہ آج بھی ہر روز مجھے گڈ مارننگ کا میسیج بھیجتی ہے۔
میں ڈبل ایم کیا ہوا ہے اگلے سال ایم فل میں داخلہ لینے کا ارادہ ہے۔
ندا حسنین :اپنے آنے والے پراجیکٹس کے بارے میں بتائیں مجھے۔ اپنے ناول اور دوسرے جو پراجیکٹس ہیں ان کے حوالے سے۔
صائمہ اکرم چوہدری :آج کل دو ڈرامہ سیریل لکھ رہی ہوں۔ ساہ حاشیہ کے بعد ایک ناول کی سمری تیار ہوگئی ہے اگر اللہ نے زندگی اور وقت دیا تو ضرور لکھوں گی۔
عمران رضا بٹ: آپ کی لکھنے کے علاوہ کیا مصرفیات ہیں اور آپ کو سیاست میں دلچسبی ہے صائمہ اکرم چوہدری
صائمہ اکرم چوہدری:سیاست سے بہت زیادہ دلچسپی ہے شاید اس لیے کہ میں خود ماس میڈیا کی اسٹوڈنٹ رہی ہوں،ہمارا ڈیپارٹمنٹ بہت ایکٹو تھا یونیورسٹی میں۔
ندا حسنین :وہ منزل کون سی جس کو پانے کے لیے آپ کا قلم بیتاب ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: ابھی وہ منزل بہت دور ہے، وہ تمام کہانیاں جو میرے ذہن میں ہیں وہ لکھ لوں پھر چھوڑ دوں گی
منعم اصغر: کیا سکینہ زندہ ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:جی الحمداللہ۔ ڈھرکی سندھ کے ایک گاوں میں۔
عابدہ احمد: سکینہ کا کردار آپ کوکیسے ملا؟ اور اس کہانی میں کتنے فیصد واقعات حقیقی تھے؟
صائمہ اکرم چوہدری:سکینہ مجھے پمپز ہسپتال کے ری ہیلٹیشن سینٹر میں ملی تھی جہاں میں اپنے میاں کی کزن کی تیمارداری کے لیے گئی تھی اور کہانی میں بہت سے واقعات حقیقی ہیں۔ جو مختلف لوگوں سے مجھ تک پہنچے،لیکن ساری کہانی سچی نہیں ہے۔صرف کچھ مین واقعات سچائی پر مبنی ہیں۔
فائزہ امن خان: آپ کو اپنے کس ناول کے ہیرو میں اپنے شوہر کی جھلک نظر آتی ہے اور کس ہیروئن میں اپنی؟
صائمہ اکرم چوہدری:دیمک زدہ محبت کے ڈاکٹر خاور کا اپنے پروفیشن سے عشق مجھے اپنے میاں میں نظر آتا ہے اور وہ کردار بھی انہی کو سامنے رکھ کر لکھا تھا اور اپنی جھلک مجھے کسی کردار میں نظر نہیں آتی۔
عمران رضا بٹ: اب کی جو سیاسی پارٹی ہیں ان میں سے آپ کس کو بہتر سمجھتی ہیں ؟
صائمہ اکرم چوہدری:آج کل تو سارے ہی ایک جیسے لگتے ہیں۔عمران خان سے امیدیں تھیں لیکن وہ بھی بعض دفعہ بہت ان میچور حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔
منعم اصغر: آپ نے آج تک جو بھی لکھا اس پر مطمعن ہیں؟ کیا آپ کی تحاریر آپ کے اپنے پڑھتے ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:منعم، ابھی تک کسی تحریر سے مطمئن نہیں ہوں،میرے بہن بھائی تو مجھے بالکل نہیں پڑھتے،ہاں کچھ فرینڈز پڑھ لیتی ہیں وہ بھی بار بار کہنے پر۔
المیرا افنان حیدر: 2 آپ پاک آرمی پہ ناول کب لکھیں گی؟ ارصم اور اوریدہ کی لڑائی کیوں کرا دی وہ بھی اتنی زیادہ کیا اور یدہ کو بدلنے کا اور کوئی اچھا طریقہ نہیں ہوسکتا تھا؟
صائمہ اکرم چوہدری:پاک آرمی کے سیٹ اپ میں ہوں۔انشاء اللہ بہت جلد۔
عیشا سعید: فرصت میں آپ کے مشاغل۔ ناول لکھنے کا خیال کیسے آیا؟ اپنے ناول پڑھ کر کیا محسوس کرتی ہیں اور کتنی بار پڑھتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:فرصت میں کہیں گھومنے پھرنے نکل جاتے ہیں اور اپنا ناول ایک دفعہ پبلش ہونے کے بعد ضرور پڑھتی ہوں
عمران رضا بٹ: آپ جب غصہ میں ہو تو آپ کے میاں کا کیا ری ایکشن ہوتا ہے مطلب وہ چْپ کر کے سائیڈ پہ بیٹھ جاتے ہیں یا آپ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
صائمہ اکرم چوہدری:اگر تو ان کا اپنا کوئی قصور ہو تو چپ کر جاتے ہیں لیکن جیسے ہی میں چپ کر جاؤں تو پھر وہ سوری کر لیتے ہیں۔
فائزہ امان خان: کوئی ایسی رائیٹر جس سے آپ ملنا چاہتی ہوں؟
صائمہ اکرم چوہدری:عالیہ بخاری ، عمیرہ احمد ، آمنہ مفتی۔
بنت حوا: سیاست میں کب آرہی ہیں؟ آپ اتنی ساری کہانیاں کیسے لکھ لیتی ہیں اور ٹیچنگ کرنا آسان ہے یا لکھنا؟
صائمہ اکرم چوہدری:میں سیاست میں کبھی نہیں آؤں گی۔ کہانیاں بس اللہ کی رحمت سے خود بخود لکھی جاتی ہیں اور پڑھانا زیادہ آسان ہے۔
حنا مہر: السلام علیکم آپی ڈئیر امید ہے آپ بالکل خیریت سے ہونگی… آپ کا ناول ’’سیاہ حاشیہ‘‘ بہت خوب صورت تحریر ہے دیمک ذدہ محبت کے بعد آپ کی اس تحریر نے اپنے سحر میں گرفتار کرلیا ہے خوش رہیں۔
سوال: جب آپ بہت زیادہ اداس ہوں تو کیا کرتی ہیں؟ آپ کی کوئی ایسی تحریر جو لکھتے ہو روئی ہوں۔ میں نئی لکھنے والی ہوں کوئی اچھی سی ٹپ بتائیں جس پہ عمل کرکے لکھنے میں نکھار آسکے۔
صائمہ اکرم چوہدری:حنامہر، اداس ہوں تو اپنی کسی فرینڈ کو فون کر لیتی ہوں یا میاں جی کہیں گھمانے پھرانے لے جاتے ہیں۔ دیمک زدہ اور ابن آدم کے چند جملے لکھتے ہوئے میں بہت جذباتی ہو گئی تھی۔ باقی لکھنے والوں کو صرف یہ ٹپ دوں گی کہ بہت زیادہ پڑھیں۔اس سے آپ کے پاس لفظوں اور خیالات کا ذخیرہ آتا ہے۔
مران رضا بٹ: گھر میں حکم آپ کا چلتا یا جمہوریت کی فضاء ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:گھر میں ماشاء اللہ جمہوریت کی فضا ہے۔ ہم میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے پر مسلط ہونے کا شوق نہیں۔ دونوں میاں بیوی میں انڈر اسٹیڈنگ ہے اور آپ کو یہ سن کر شاید بہت حیرت ہو گی کہ سات سالوں میں مجھے اپنے میاں کا کوئی ایسا جملہ یاد نہیں،جسے سن کر یا یاد کر کے میری دل آزاری ہوتی ہو۔
ام ظیفور: آپ نے ابتدا پاکیزہ سے کی تھی سب سے زیادہ لطف کس ادارے کے لیے لکھنے میں آتا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:پاکیزہ اور شعاع میں۔
ستارہ آمین کومل: آپ نے بہت کچھ لکھا بچوں کا ادب ناول افسانے ڈرامے تو ان میں سے کیا لکھنا آسان لگتا ہے بچوں کے لیے یا بڑوں کے لیے یا پھر ڈرامہ؟
صائمہ اکرم چوہدری:آج کل ڈرامہ لکھنا آسان لگتا ہے مجھے۔
نبیلہ ابر راجہ: صائمہ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتی ہو اور جلدی بھی اللہ بری نظر سے بچائے تم اسکرپٹ ، ناول، افسانے اور ساتھ جاب سب چیزوں کو کس طرح لے کر چلتی ہو؟
صائمہ اکرم چوہدری:نبیلہ تم خود ہی تو کہتی ہو کہ مجھ پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔ بس اللہ ہمت دے دیتا ہے اور سب کچھ مینج ہو جاتا ہے۔
صدف آصف:آپ کے خیال میں ماضی کے لکھنے والوں کے مقابلے میں،آج کل کے لکھاریوں کو زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:آج کل لکھنے والوں کو آسانی ہے، ڈائجسٹ زیادہ آ گئے ہیں اور الیکٹرانک میڈیا تک سب کی رسائی ہے،پہلے تو ایک افسانہ لکھ کر چھے ماہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔اب ایسا نہیں ہے۔
نحل سعدی آرائین:ثنائلہ زبیر کا کردار کہاں سے ڈھونڈا تھا اور آپ کا سب سے پسندیدہ ناول کون سا ہے اپنے ناولوں میں؟ کوئی ایسا پکا فین جو آپ سے بہت مخلص ہو اور آپ بھی اس کے خلوص سے محبت کرتی ہوں؟
صائمہ اکرم چوہدری:بہت سارے فین اب میرے بہت اچھے اور پیارے دوست بن گئے ہیں۔ستارہ، سدرہ صدیقی، سدرہ آفاق، اوریدا، فیم انجم، لیلی، لبنی خالد، اور بے شمار پیارے دوست۔
نحل سعدی آرائین :جو نئے رائیٹر سینئر کو عزت نہیں دیتے ہیں اور جو سینئر رائیٹر چھوٹے رائیٹر کی تذلیل کرتے ان کے بارے میں کیا کہیں گی آپ؟
صائمہ اکرم چوہدری:دیکھیں عزت کرنا اور کروانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر آپ کسی سے بدتمیزی سے بات کریں گے اور آگے سے یہ تو قع رکھیں گے کہ آپ کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ باقی سنئیرز رائٹرز کے اپنے مسئلے مسائل ہیں اور آج کل کے بزی دور میں کسی کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آ کر کسی کی انسلٹ کرئے۔ اس لیے اگر کوئی رائٹر آپ کی کسی بات کا جواب نہیں دے پا رہا تو آپ لوگوں کو بھی تحمل سے کام لینا چاہیے، میں نے اکثر دیکھا ہے کہ رائٹرز سے زیادہ ریڈرز بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔
اریشہ فاروق :اگر دیمک زدہ محبت کی ڈرامائی تشکیل ہو کاسٹ میں کسے لیں گی؟
صائمہ اکرم چوہدری:اْس پر ڈرامہ نہیں بن سکتا مائی ڈئیر، کچھ ٹاپک کے ایشو ز ہیں۔
اریشہ فاروق :فرحانہ ناز ملک کی کوئی ایسی بات جو آج تک نہیں بھولیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:اْس کی تو ساری باتیں دل پر نقش ہیں۔ جب موڈ میں ہوتی تھی تو ڈارلنگ یا جان من کہتی تھی وہ بہت یاد آتے ہیں۔
چوہدری ارسلان: آپ کے کسی ناول کی ہیروئن کے کردار میں آپ کی شخصیت کی جھلک ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:کسی میں بھی نہیں۔
اریشہ فاروق :آپ کی سیاست سے دلچسپی ہے اور میں 2013 سے آپ کے مزاحیہ تبصرے پڑھ رہی ہوں تو ایسا کوئی ناول لکھا آپ نے سیاست اور مزاح پہ مبنی؟
صائمہ اکرم چوہدری:نہیں ،ابھی تک یہ ہمت نہیں کی۔
اریشہ فاروق :کون سا ایسا ٹاپک جس پر لکھتے ہوئے آپ کو بہت سوچنا پڑتا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:مذہب پر۔
اریشہ فاروق:پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے یہ ہمارا عروج ہے یا زوال؟
صائمہ اکرم چوہدری:اریشہ فاروق۔ ڈرامہ بہت تیزی سے اپنے زوال کی طرف جا رہا ہے۔ہر طرف بھیڑ چال ہے۔ کسی ایک چینل کا ایک ٹاپک ہٹ ہو جاتا ہے تو ساری دنیا اس کے پیچھے پڑ جاتی ہے۔ اس سے ملتے جلتے ڈرامے بننے لگتے ہیں۔ میرے خیال میں کچھ سنجیدہ موضوعات پر لکھنا چاہیے اور اس میں اخلاقیات اور اپنی مذہبی روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔
منعم اصغر: جب پہلی بار تحریر شائع ہوئی تو کیا احساسات تھے تب اندازہ تھا کہ ماشاء اللہ اتنی کامیاب ہوں گی؟ آپ کا کوئی خواب جو آج تک نہیں پورا ہوا؟
صائمہ اکرم چوہدری:منعم اصغر پہلی تحریر اتنی چھوٹی ایج میں شائع ہو ئی تھی کہ کوئی بھی یقین نہیں کر رہا تھا لیکن میں بار بار اخبار میں اپنا نام دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ میں نے زندگی میں بہت سے کام بہت چھوٹی عمر میں کر لیے۔ تین دفعہ مجھے گورنر پنجاب سے ایوارڈ ملا، کمپرئینگ، ایکٹینگ، رائٹنگ، سب چیزیں کیں اور اپنی زندگی کو بہت بھرپور انداز میں برتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے اپنی تیز رفتاری پر خوف آنے لگتا ہے۔اگر سارے کام ابھی کر لیے تو بعد میں کیا کروں گی۔
شفقت محمود آپ کا ڈرامہ عنایا تمھاری ہوئی جیو اورمیرے اجنبی اب اے آر وائے پر چل رہا ہے یہ آپ کی کامیابی ہے مزید کیا دیکھنا چاہتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:شفقت محمود ،عنایہ تمہاری ہوئی جب بن رہا تھا اور آن ائیر آنے سے پہلے میرے پروڈکشن ہاوس سے بہت سے اختلافات ہو چکے تھے اور مجھے لگتا تھا میرا یہ ڈرامہ فلاپ ہو گیا تو مجھے بہت شرمندگی ہوگی اور تب میں نے اللہ سے بہت دعا کی تھی۔الحمدللہ عنایہ تمہاری ہوئی ،جیو کا بیسٹ سیریل رہا۔
امامہ مغل: کوئی ایسی کہانی جس کا پارٹ ٹو لکھنا چاہتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:امامہ مغل ایسی کوئی کہانی نہیں،جس کا پارٹ ٹو میں لکھنا چاہوں۔
اریشہ فاروق :کوئی خواہش؟
صائمہ اکرم چوہدری:اریشہ فاروق ،زندگی کی ایک خواہش ہے ،جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی،شاید اس کا ابھی وقت نہیں آیا۔
چوہدری ارسلان: کہانی لکھتے وقت کیا پہلے سے جو ذہن میں ہو اسے ویسا ہی رکھتی ہیں یا بدلتی رہتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:بس کہانی کا مین تھیم میرے ذہن میں ہوتا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں،بس اسٹارٹ کر دیتی ہوں اور کہانی کا اینڈ تو بعض دفعہ مجھے خود معلوم نہیں ہوتا،میں ہمیشہ فطری اینڈ کرتی ہوں اور کہانی کو اپنی مرضی سے چلانے کی کو شش نہیں کرتی۔
شفقت محمود: آپ کا اپنا ایسا ناول، ڈرامہ یا اسٹوری جو آپ کو بہت پسند ہو؟
صائمہ اکرم چوہدری:ناول، اب ابن آدم اور ڈرامہ عنایہ تمہاری ہوئی۔
اریشہ فاروق : آٹو گراف میں آپ زیادہ تر کیا لکھتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:اریشہ فاروق ، آٹو گراف میں ایک ہی جملہ لکھتی ہوں۔
امامہ مغل: کیا لکھنے کے لیے سیکھنے کی ضرورت ہے یا یہ خداداد صلاحیت ہوتی ہے؟ آپ کی زندگی کا کوئی دلچسپ واقعہ کچھ ایسا جسے یاد کرکے ہنسی آتی ہے۔ آپ کا پسندیدہ شعر؟
صائمہ اکرم چوہدری: لکھنا ایک خداد صلاحیت ہے اور اس میں نکھار مطالعے سے آتا ہے۔مطالعے سے انسان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔
عائشہ ہوسٹل کے اکثر واقعات میں اپنے ناولٹس ’’ست رنگی چنری‘‘ اور وے سونے دیاں کنگنا میں لکھ چکی ہوں۔باقی پسندیدہ اشعار بے شمار ہیں۔
شہباز اکبر الفت: صائمہ آپی، آپ نے بچوں کے لیے لکھنا کیوں چھوڑ دیا؟ کیا آپ بہت بڑی رائٹر بن چکی ہیں اس لیے یا اب بچوں کے لئے لکھنا تھوڑا مشکل لگنے لگا ہے؟ )بچوں کے لیے آپ کی کوئی نئی کہانی ہم کب تک پڑھ سکیں گے؟
صائمہ اکرم چوہدری:اکبر بچوں کے لیے لکھنا آسان کام نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اب میں ان کے لیے نہیں لکھ سکتی۔ شاید میں نے بہت جلد بڑوں کے لیے لکھنا شروع کر دیا تھا۔اب سوچوں بھی تو شاید بچوں کے لیے نہ لکھ پائوں
چوہدری ارسلان: کسی دوسرے رائیٹر کا ایسا ناول جسے پڑھ کر آپ کو لگا ہو کہ یہ میں لکھتی تو وہ کون سا ہوتا؟
صائمہ اکرم چوہدری:ایسی کوئی تحریر نہیں،ہاں مستنصر حسین تارڈ کے سفرنامے پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ کاش میں بھی ایسے ہی سیر و سیاحت کر سکتی۔
اریشہ فاروق :میری زندگی کی بہت سی خواہشات میں سے ایک خواہش آپ کا آٹوگراف۔
صائمہ اکرم چوہدری:آپ کو آٹو گراف مل جائے گا۔
چوہدری ارسلان: اگر آپ سے کبھی آپ کا ناول مانگو تو کون سا گفٹ کریں گیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:اپنا وہ ناول، جو میں نے نیکسٹ ائیر ابھی لکھنا ہے۔ ’’کن فیکون‘‘
اریشہ فاروق:ٹیچنگ اور رائٹنگ میں سے کیا پسند ہے؟ جب ٹینس ہوتی ہیں تو کیا کرتی ہیں؟ کوئی ایسی ہستی جس سے ملنے کا بہت شوق ہق؟
صائمہ اکرم چوہدری:رائٹنگ اور لیکچر ر شپ دونوں ہی مجھے پسند ہیں۔ جب ٹینشن ہوتی ہے تو کبھی اللہ سے تو کبھی فرینڈز سے رجوع کرتی ہوں، مجھے لیڈی ڈیانا سے ملنے کا شوق تھا مگر افسوس نہیں مل سکی۔
منعم اصغر: آپ کے ناول اے عشق ہمیں برباد نہ کر نے قارئین کو بہت اداس کر دیا، کیا آپ اسے لکھتے ہوئے اداس تھیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:جی بہت زیادہ۔
شفقت محمود: تاریخ پہ اگر کچھ لکھنا چاہیں تو کس شخصیت پہ لکھیں گیں؟
صائمہ اکرم چوہدری :اسلامی تایخ مجھے بہت اٹریکٹ کرتی ہے خاص طور پہ حضرت عمر فاروق کی شخصیت۔
شہباز اکبر الفت: صائمہ آپی اگر کوئی پروڈکشن ہاؤس آپ سے بچوں کے لیے ڈرامہ سیریز یا سیریل لکھوانے پر اصرار کرے تو آپ کا حتمی جواب کیا ہوگا؟ نیز بہت چھوٹی عمر میں بچوں کے بہترین رائٹر کے طور پر اپنی پہچان کے دوریاد کرکے کیا محسوسات ہوتے ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری :بچوں کے لیے تو بہت مشکل ہوجائے گی ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی۔ باقی اس دور میں اپنی پہچان بہت اچھی لگتی تھی۔
چوہدری ارسلان: کیا اپنے ناول پھر بعد میں بھی پڑھتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری :بار بار پڑھنے کا موقع تو نہیں ملا ہاں ایک آدھ بار سب ہی پڑھیں ہیں۔
شفقت محمود: موجودہ دور کی کوئی ایسی ہستی جس سے آپ بہت متاثر ہوں۔
صائمہ اکرم چوہدری: عبدالستار ایدھی
رمیشہ چوہان: سیاہ حاشیہ پڑھنے کے بعد آپ سے محبت ہوگئی ہے صائمہ آپی۔ آپ اتنا اعلی لکھتی ہیں میں رسالہ ہی آپ کی تحریر پڑھنے کے لیے لیتی ہوں۔
صائمہ اکرم چوہدری:بہت شکریہ رمیشہ۔
ڈاکٹر لبنیٰ زبیر: لکھنے کا شوق کب سے ہے اور کس بات نے لکھنے پر مجبور کیا؟
صائمہ اکرم چوہدری: لکھنے کا شوق بچپن سے ہے کسی خاص بات نے لکھنے پر مجبور نہیں کیا۔ اپنا آپ منوانے کی دھن میں قلم اٹھایا اور تب سے لکھ رہی ہوں ۔
درخشاں سعید: : پیاری صائمہ آپ کا ارصم اور اوریدا کو الگ کرنے کا تو کوئی پروگرام نہیں ہے ناں؟
آپ کا مکمل مزاحیہ ناول کب تک آ رہا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری: ارصم اور اوریدا کی قسمت میں کیا لکھا ہے یہ میں نہیں جانتی۔ کہانی کیا رخ لیتی ہے اس کے مطابق ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔مزاحیہ ناول کا جس دن موڈ بنا اس دن لکھ ماروں گی۔
سدرہ گل : سکینہ کا لازوال کردار لکھتے آپ کے محسوسات کیا تھے؟
قلم کار طبقہ ایک یونٹ کیوں نہیں بنتا؟
کوئی ایسی تحریر جو اب تک نہ لکھی جاسکی ہو ؟
فینز کا آپ کے ساتھ کیسا سلوک ہے سوشل میڈیا پر اور جب عام طور پر ملتے ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:آپ نے پوچھا ہے کہ قلم کار طبقہ ایک یونٹ کیوں نہیں بنتا تو ہماری سوسائٹی میں مجھے تو کوئی بھی طبقہ ایسا نظر نہیں آتا جن میں یونیٹی ہو۔ ہر کوئی اپنی غرض اور مفادات کا قیدی ہے۔ بہت سی ایسی تحریریں ہیں جو ابھی تک نہیں لکھی جا سکیں۔ ان شاء اللہ ان کو مکمل کروں گی۔فینز تو ہمیشہ محبت سے ملتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں تو پتا نہیں چلتا۔ ہاں حقیقی زندگی میں بہت پیار سے ملتے ہیں۔
ستارہ آمین کومل:اب مجھے بتائیں بہن اپنی اتنی بہت زیادہ مصروفیات میں سے میرے بھائی صاحب کے لیے بھی کوئی وقت نکلتا ہے؟
ایک پڑھی لکھی عورت کو جاب ضرور کرنا چاہیے یا؟
اللہ جی سے کتنا تعلق ہے اور کیسا ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:سب مصروفیات میں ، میاں جی کے لیے ٹائم نکل آتاہے ، کبھی دو چار سین لکھ کر چائے بنا دی اور کبھی ایک دو پیج لکھ کر کوئی گپ شپ کر لی۔ پڑھی لکھی عورت کو جاب ضرور کرنی چاہئے اگر اس سے اس کا گھر ڈسٹرب نہ ہو رہا ہو۔ اللہ جی سے تعلق بہت ذاتی ہے اس کی تشہیر مجھے پسند نہیں
محمد انس حنیف: کیا آپ نے کبھی بڑی اسکرین کے لیے لکھنے کا سوچا ہے؟ اپنے ناولوں کے سوا آپ کا کوئی بہت پسندیدہ ناول؟
آپ کی کوئی ایسی تحریر جسے لکھنے کے بعد آپ نے سوچا اس تحریر کو اس سے بہتر نہیں لکھا جاسکتا تھا۔
صائمہ اکرم چوہدری:بڑی اسکرین کے لیے ان شاء اللہ لکھوں گی۔ اپنے ناول کے علاوہ بہت سے ناول ہیں جو پسند ہیں خاص طور پہ عالیہ بخاری کے۔
ابھی تک میں نے بیسٹ چیز کوئی نہیں لکھی۔
عمران قریشی: صائمہ جی آپ نے کبھی آنچل کے لیے لکھنے کا سوچا؟
صائمہ اکرم چوہدری: اکثر سوچا لیکن ہمیشہ وقت کی کمی ہی آڑے آگئی۔
عمران قریشی: صائمہ آپ کو اب وقت نکالنا ہی ہوگا
صائمہ اکرم چوہدری: جی ضرور۔انشاء اللہ
ندا حسنین: آنچل میگزین کے قاری آپ کو آنچل میں پڑھنا چاہتے ہیں کیا ان کی محبت کے پیش نظر آپ آنچل میں لکھنا چاہیں گی؟
صائمہ اکرم چوہدری: جی لکھوں گی ضرور لیکن ابھی فورا نہیں۔
صبا عیشال: ایک سوال جو اکثر ذہن میں آیا لیکن آج تک پوچھ نا پائی۔ وہ یہ کہ صائمہ اتنے فینز ہیں آپ کے۔ ظاہر ہے انباکس بھی بھرا رہتا ہوگا۔ کیسے مینیج کرتی ہیں؟ اور کچھ وہ لوگ(مجھ جیسے ) جن کو برداشت کرنا پڑتا ہے ان کا کیا کرتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری : آپ کو شائد یقین نہیں آئے گا میں آج کل ڈائجسٹ اور ٹی وی دونوں پر نظر آرہی ہوں اس لیے ان باکس اکثر بھرا رہتا ہے ان چیزوں سے متعلق سوالات سے۔ جو سوالات بہت ضروری ہوں ان کا جواب دیتی ہوں ذاتی سوالات اگنور کر دیتی ہوں۔
ثمین عزیز: ایک مصنف کے لیے اپنے کردار بہت اہم ہوتے ہیں کوئی ایسا کردار جو آپ نے خود نہیں لکھا بلکہ اس کردار نے آپ سے اپنا آپ لکھوایا؟
صائمہ اکرم چوہدری: بہت سے ایسے کردار ہیں جو خود آپ سے لکھواتے ہیں جیسے دیمک زدہ محبت کی جمیلہ ماں اور اللہ دتا کمہار۔ جیسے سیاہ حاشیہ کا ہاشم اور منتہا ناول کی ہیروئن منتہا
فیم انجم: صائمہ اکرم میری موسٹ فیورٹ رائٹرز میں سے ایک مجھے ناولز کے نام کم کم یاد رہتے ہیں لیکن دیمک زدہ محبت وہ ناول ہے جس کا نام ہی نہیں اس کے کریکٹرز کے نام بھی یاد ہیں اور ان کے سینز بھی ماشاء اللہ بہت اچھی رائٹر بہت اچھی انسان خوش رہین اللہ پاک بہت سی کامیابیان دے آمین
صائمہ اکرم چوہدری :شکریہ پیاری فیم۔
یاسین صدیق:کیا یہ اپ کا اصلی نام ہے؟بچپن میں کس نام سے پکارا جاتا تھا۔
صائمہ اکرم چوہدری:جی یہ میرا آصلی نام ہے۔بچپن میں سب صائمہ ہی کہتے تھے لیکن کچھ بے تکلف فرینڈز صائم یا صائمی کہتی ہیں۔
یاسین صدیق: موجودہ ادب جو لکھا جارہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں۔
آپ کے خیال میں آج کا قار ی کیا پڑھنا چاہتا ہے۔
صائمہ اکرم چوہدری:ہر قاری کی اپنی پسند اور ناپسند ہوتی ہے اور وہ اپنے مزاج اور سوچ کے مطابق ہی اْس ادب کا انتخاب کرتا ہے،جسے وہ پڑھنا چاہتا ہے۔
یاسین صدیق:آنچل یا حجاب ڈائجسٹ میں کوئی سلسلہ وار ناول کب لکھ رہی ہیں۔
صائمہ اکرم چوہدری:جب وقت ملا تو ضرور لکھوں گی۔
یاسین صدیق:آپ پر بھی تنقید ہوئی ہو گی ،اگر کوئی آپ کی کہانی ،افسانہ یا ناول پر تنقید کرے تو کیسا لگتا ہے۔
صائمہ اکرم چوہدری:اگر تو تنقید برائے اصلاح ہو تو میں اپنی اس خامی کو دْور کرنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن اگر کوئی بے تکی تنقید کرئے تو اسے نظر انداز کر دیتی ہوں۔
یاسین صدیق:آپ کا نام کس نے رکھا تھااور صائمہ ہی کیوں رکھااگر آج آپ اپنا نام اپنی پسند سے رکھنا چاہیں تو کیا رکھیں گی۔
صائمہ اکرم چوہدری:میرا نام میری والدہ کی بہترین دوست نے رکھا تھا اور مجھے اپنا نام بہت پسند ہے اگر خود سے رکھنا ہوتا تو شاید ابیہا فاطمہ رکھتی۔
یاسین صدیق:سیاست سے دلچسپی ہے زرداری‘ نواز اورعمران میں سے کس کو پسند کرتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:ماس میڈیا کی اسٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے سیاست سے کسی زمانے میں کافی لگاو رہا لیکن میں سیاست میں شخصیت پرستی کی قائل نہیں۔ جس پارٹی کی پالیسز عوام کے مفاد میں ہوں گی،وہی میری پسندیدہ پارٹی ہوگی۔
یاسین صدیق:نئے لکھنے والوں کے لیے مشورہ۔
صائمہ اکرم چوہدری:ایک تحریر لکھنے سے پہلے کسی اور کی چار تحریریں پڑھیں اور کہانی لکھتے وقت کوئی نہ کوئی اصلاحی مقصد ضرور سامنے رکھیں۔
یاسین صدیق:فارغ اوقات کیسے گزارتی ہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:کتابیں پڑھ کر اور گھوم پھر کر۔
یاسین صدیق:آپ کی اچھی عادت‘ آپ کی بری عادات؟
صائمہ اکرم چوہدری:اچھی عادت یہ ہے کہ کافی فرینڈلی ہوں اور بْری عادت یہ ہے کہ کافی زیادہ موڈی ہوں۔
محمد عامر سلیم: خواتین کی اکثریت رومانوی کہانیاں ہی کیوں پڑھنا لکھنا پسند کرتی ہے ؟
صائمہ اکرم چوہدری: یہ اپنے ذوق کی بات ہے۔جس طرح مردوں کی اکثریت جاسوسی اور ایڈونچر ناول پڑھنا پسند کرتی ہے ۔
یاسین صدیق:آپ کو سب سے کم معاوضہ کس کہانی پر ملا اور کب اسی طرح سب سے زیادہ کس کہانی پر کہانی کا نام کیا تھا۔
صائمہ اکرم چوہدری:پاکستان میں کہانیوں پر معاوضہ کبھی بھی اتنا اچھا نہیں ملتا کہ انسان اسے فخریہ طور پر بتاسکیں۔بد قسمتی سے ادیب کا ہر دور میں استحصال ہوتا رہا ہے۔ہاں البتہ الیکٹرانک میڈیا میں اچھا معاوضہ مل جاتا ہے۔
ستارہ آمین کومل : ایک قلم کار بہت محنت سے اپنا چین نیند سکون آرام برباد کرکے جب ناول یا ڈرامہ لکھتا ہے تو وہ جس معاوضے کا حق دار ہوتا ہے اسے کیوں نہیں دیتے ادارے؟ ڈرامہ لکھا تو رائٹر نے ہوتا ہے لیکن کچھ ادارے اسکرین پر لکھاری کا نام شو نہیں کرتے ایسا حال پیج پر بھی ان کو مسلہ کیا ہے؟ آپ نہیں سمجھتیں کہ یہ ایک لکھاری کے ساتھ زیادتی ہے؟
صائمہ اکرم چوہدری:اس سوال کا جواب تو پروڈکشن ہاؤس کے مالکان اور پبلشرز حضرات ہی دے سکتے ہیں۔
ستارہ آمین کومل:یہ جو آج کل خود ساختہ نقاد پیدا ہو گے ہیں جن کو کہانی لکھنے کا اصل مقصد سمجھ آتا نہیں اور فضول پوائنٹ اٹھا کر لکھاری کی مٹی پلید کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں ان خود ساختہ نقادوں کے بارے میں کیا فرماتی ہیں آپ؟
صائمہ اکرم چوہدری:ان کے بارے میں اقبال بہت خوب کہہ گئے ہیں۔ ’’تو نہ مٹ جائے گا،ایراں کے مٹ جانے سے۔‘‘
سحرش فاطمہ :آپ نے ریشم میں بھی لکھا ہے؟ کبھی تذکرہ نہیں ہوا اس کے بابت؟ کونسی تحریر وہاں لگی؟
صائمہ اکرم چوہدری:ریشم کے آغاز میں دو تین ناولٹ لکھے تھے بشریِ مسرور کی فرمائش پر۔
نحل سعدی آرائین :آپ نے کبھی ثنائلہ زبیر جیسے کردار دیکھے ہیں حقیقت میں؟ آپ کا اپنے ناولوں میں سب سے پسندیدہ کردار کون سا ہے۔ جو سینئر رائیٹر نئے لکھنے والوں کو ہرٹ کرتے ہیں ان کے متعلق کیا کہیں گی۔
صائمہ اکرم چوہدری:ثنائیلہ زبیر کا کردار مجھے میری ایک سائیکلوجسٹ فرینڈ نے میرے ساتھ شئیر کیا تھا اور اس قسم کا ایک کردار اْس کے پاس آیا تھا۔ باقی جہاں تک جونئیرز کی سنئیرز کی عزت کا نہ کرنے کا معاملہ ہے تو یہ مسائل تو ہر دور میں چلتے ہی رہتے ہیں۔میں تو صرف ایک بات پر یقین رکھتی ہوں کہ عزت لینے کے لیے عزت دینا پڑتی ہے۔
ستارہ آمین کومل:قاری اور لکھاری کا بہت گہرا رشتہ ہوتا قاری اپنے ذہن میں ایک خاکہ بنا لیتا ہے اس کی تحریروں کے تناظر میں لیکن کچھ لکھاری ایسے بھی ہوتے جن کے قول فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے اپنی تحریروں کے برعکس الٹ ایسا کیونکر؟
صائمہ اکرم چوہدری:ستارہ اصل میں یہاں قصور ہمارے قارئین کا ہے ، وہ کسی بھی رائٹر کی تحریریں پڑھ کر اس کے بارے میں ایک اپنا خاکہ بنا لیتا ہے۔رائٹرز بھی عام انسان ہوتے ہیں ان میں خوبیاں بھی ہو تی ہیں اور خامیاں بھی اور ضروری نہیں ہوتا کہ جو چیزیں وہ لکھ رہا ہو،اس کی اپنی شخصیت بھی انہی خصوصیات کا مرقع ہو۔
ستارہ آمین کومل:بھائی صاحب آپ کی تحریر پڑھتے؟ ڈرامہ دیکھتے ؟ حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا
صائمہ اکرم چوہدری:تحریریں تو وہ نہیں پڑھتے ،ہاں ڈرامہ کبھی کبھار دیکھ لیتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے ہی میں دھڑا دھڑ لکھ رہی ہوں۔ورنہ شادی شدہ زندگی میں اگر شریک حیات کا تعاون آپ کے ساتھ نہ ہو تو آپ ایسی سرگرمیوں کو جاری نہیں رکھ سکتے۔
ستارہ آمین کومل:موجودہ ادب اور خواتین کے ادب سے آپ کس حد تک مطمن ہیں ؟
کیا آپ سمجھتی ہیں فی زمانہ عورت آزادی کی آڑ میں اپنا گھر بچے شوہر اگنور کر رہی ہے ایسا کیوں اسے احساس کیوں نہیں؟
صائمہ اکرم چوہدری:ادب میں بہتری کی گنجائش تو ہر دور میں رہتی ہے اور موجودہ دور کا ادب آنے والے سالوں میں پرکھا جائے گا۔جہاں تک عورت کی آزادی کا تعلق ہے تو جو عورت معاشی دوڑ میں اپنے شوہر کے ساتھ ہاتھ بٹا رہی ہے وہ کبھی بھی آزادنہیں ہوتی بلکہ وہ نظر نہ آنے والی ان زنجیروں میں قید ہوتی ہے جس کی وجہ سے اْسے اپنی ذات کی قربانی دے کر بہت سے لوگوں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔عورت نے گھر سے نکل کر خود کو اور زیادہ قید کر لیا ہے۔
عمارہ امداد :آپ کی کہانیوں کی روانی اور تسلسل بہت زبردست ہوتا ہے۔ میں نے آپ کے ایک انٹرویو میں پڑھا تھا کہ آپ کا مطالعہ بہت زیادہ ہے اور آپ اور آپ جیسی جتنی بھی منجھی ہوئی رائیٹر ہیں ان کے بارے میں یہی پڑھا ہے لکھنے کے لیے مطالعہ وسیع کرنا پڑتا ہے۔ میں اب تک 14 افسانے لکھ چکی ہوں لیکن میرا مطالعہ محدود ہے۔ گو اب تک کوئی کہانی قاری کی طرف سے ریجیکٹ نہیں ہوئی لیکن میں طویل تحریر لکھتے ہوئے گھبراتی ہوں جب بھی لکھنے بیٹھو چھوڑ دیتی ہوں کہ مجھ سے اچھا نہیں لکھا جائے گا۔ کوئی مشورہ دیں۔
صائمہ اکرم چوہدری: میرے خیال میں طویل ناول لکھنے سے زیادہ مشکل کام مختصر افسانہ لکھنا ہے۔ آپ کوئی طویل چیز شروع کر دیں اور جب وقت ملے اسے آہستہ آہستہ لکھتی جائیں۔ میں بار بار مطالعہ کرنے کا اس لیے کہتی ہوں کیونکہ اس سے ایک تو آپ کا ذخیرہ الفاظ بڑھتا ہے اور دوسرے خیالات میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔
عصر خان:نئے لکھنے والے شروعات کس طرح کے موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے کریں اور ذہن میں کن دو تین پوائنٹس کو رکھیں کہ ایک اچھی کہانی بن پائے؟
صائمہ اکرم چوہدری:نئے لکھنے والے سب سے پہلے اپنے اردگرد کے مسائل پر قلم اٹھائیں۔ وہ مسئلے جو زیادہ تر آبادی کو درپیش ہیں۔ الفاظ کا چناو عمدہ کریں اور کہانی کا پلاٹ مضبوط اور مکالمے جاندار ہونے چاہیے۔
عامر نظیر بلوچ:السلام علیکم صائمہ آپی پہلا سوال ،آپ سے پہلا تعارف دیمک ذدہ محبت بنی۔ بہت خوب صورت، مگر کیا سکینہ کے کردار کو زندہ نہیں رہنا چاہیے تھا ؟ایک امید کے استعارے کے طور پر اس کی زندگی اس جیسی دوسری لڑکیوں کے لیے مشعل راہ نہ ھوتی۔ دوسرا سوال، ڈرامہ لکھنا پسند ہے یا ناول اللہ کرے زور قلم اور ذیادہ۔آمین شاد و آباد رہیں۔آمین
صائمہ اکرم چوہدری:سکینہ اگر زندہ رہتی تو شاید اس کا دکھ اور تکلیف آپ لوگوں کو زیادہ محسوس ہوتی۔ ہم لوگ بدقسمتی سے اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ہم سکینہ جیسے لوگوں سے ہمدردی تو کرسکتے ہیں لیکن ان کے ساتھ محبت کرنے اور اس کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ میرے ناول کی ہیروئن سکینہ، زندہ ہے اور ڈھرکی کے کسی گاوں میں زندگی گزار رہی ہے۔ڈاکٹرز نے اس کے مرض کو لاعلاج قرار دے کر اسے گھر بجھوا دیا ہے۔ اس کی باتیں اور جملے میرا اکثر دل دکھاتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کے لیے وہ بوجھ بن چکی ہے لیکن مجھے معلوم ہے اصل زندگی میں کوئی ڈاکٹر خاور کتنا ہی اپنے پروفیشن سے مخلص ہو اور اس کی زندگی میں اگر کوئی سکینہ جیسا کردار ہو،تب بھی وہ اسے اپنانے کی ہمت اور حوصلہ نہیں کر سکتا۔
عامر نظیر بلوچ:آپ نے بالکل ٹھیک کہا، چاہے ہم لاکھ کوشش کر لیں ، سکینہ جیسی لڑکیاں ہمارے معاشرے کے لیے بوجھ ہی تصور کی جاتی رہیں گی یہ ایک تلخ حقیقت ہے مگر ڈھرکی کی سکینہ کے لیے میرے ہاتھ ہمیشہ دعا کے لیے اٹھے رہیں گے میرے رب کے لیے کچھ بھی لا علاج اور نا ممکن نہیں ہے۔ شکریہ صائمہ آپی)
واقعی ڈھرکی کی سکینہ کا غم کہانی پڑھ کر دل کے کسی کونے میں بس گیا تھا اور آج ایک بار پھر وہ غم تازہ ہو گیا ہے۔انشاء اللہ سکینہ اب دعاؤں میں شامل رہے گی کیونکہ میرے رحیم و کریم رب کے آگے کچھ بھی ناممکن و لا علاج نہیں ہے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close