Hijaab Dec 15

آغوش مادر

نزہت جبین ضیا

ماں کے بارے میں کیا لکھوں‘ ہے یہ کہاں اوقات میری
بڑی مشکل سے قلم آج اٹھایا میں نے
ہم کو تحفہ زمین پر ملا ’’ماں‘‘ کی صورت
تحفہ انمول میرے ربّ سے یہ پایا میں نے
اس کے آگے جو کبھی سر کو جھکایا میں نے
اس کے قدموں ہی میں جنت کو پایا میں نے
گردش ایام سے گھبرا کے کبھی جو بیٹھی
اس کے لفظوں سے نیا حوصلہ پایا میں نے
جب کبھی حوصلہ ٹوٹا‘ میں پریشان ہوئی
سکون اس کی ہی آغوش میں پایا میں نے
اس کا احسان ہے‘ ہاتھ جو تھاما میرا
تھام کر ہاتھ وہی‘ قدم پہلا اٹھایا میں نے
جب کبھی خواب میں گھبرائی‘ سہم کر جاگی
اس کی بانہوں میں پھر خود کو چھپایا میں نے
شکر ہے رب مجھ کو جو ملی ہے عزت
اس کی دعائوں کا ثمر آج یہ پایا میں نے
میں ہوں جب تک میرے رب میری ماں کو سلامت رکھنا
مزا جینے کا اس کے ساتھ تو پایا میں نے
السلام علیکم!
’’آغوش مادر‘‘ کے سلسلے میںشرکت میں بہت دیر تلک کاغذ اور قلم لیے یہی سوچتی رہی کہ کہاں سے شروع کروں؟ کیا لفظ ’’ماں‘‘ پر لکھ کر کچھ صفحات کالے کرکے ہم ماں کی اہمیت‘ حیثیت‘ محبت‘ حقوق‘ ممتا کا صحیح معنوں میں ذکر کرپائیں گے؟ کیا میرے قلم سے نکلے چند الفاظ میرے ذہن میں اتنی وسعت ہے کہ میں اپنے ٹوٹے پھوٹے‘ بے ربط اور ناکافی جملوں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر کر اپنا حق ادا کرسکتی ہوں؟ میں مطمئن ہوں کہ میں نے ماں کی شخصیت کا احاطہ کرلیا ہے؟ نہیں… اور آپ بہنیں بھی میری اس بات سے مکمل اتفاق کریں گی۔ ماں کے موضوع پر ‘ ماں کی شخصیت پر‘ ماں کے حوالے سے میں جتنا بھی لکھ لوں میرے قلب و نظر میں تشنگی اور میرے قلم کی پیاس برقرار رہے گی۔
بہرحال چھوٹا منہ اور بڑی بات کے مصداق سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش تو کرسکتی ہوں۔ ماں کی محبت تو سمندر سے زیادہ گہری‘ پہاڑوں سے زیادہ بلند ہے۔ میٹھا‘ کومل اور شہد میں گندھا ہوا یہ لفظ وہ لفظ ہے جو بچہ جب بولنے لگتا ہے تو اللہ کے بعد جو نام لیتا ہے وہ ماں ہے۔ بچے کے لیے پہلی درس گاہ‘ پہلا مکتب اور پہلا استاد ماں ہے۔ اس وقت جب ننھی جان کی صورت میں اولاد ہر قسم کی صلاحیت سے بے بہرہ ہوتی ہے اس وقت ماں کو بنا کہے بھوک‘ پیاس اور ضرورتوں کا خیال ہوتا ہے۔ آغو ش مادر میں ہی زندگی کی ابتدائی سانسوں کے ساتھ ساتھ زندگی کے نشیب فراز ‘ تلخیوں‘ اچھائی‘ برائی‘ دشواریوں کو محسوس کرنے اور ان سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت ملتی ہے۔ مائیں تو ساری ایک جیسی ہوتی ہیں‘ محبت میں گندھی ہو ئی صبر اور ایثار کا پیکر۔
میں نے جب ہوش سنبھالا گھر میں بابا‘ امی‘ چار بہنوں اور ایک بھائی کو آس پاس دیکھا میرے بابا سرکاری آفس میں اکائونٹس کے شعبے سے وابستہ تھے اور جس عہدے پر تھے وہاں تنخواہ سے زیادہ اوپر کی آمدنی کی چانسز تھے لیکن بابا نے کبھی ایک پائی بھی نہ لی وہ ہمیشہ کہتے تھے۔ حلال کے ایک پیسے میں اتنی برکت ہے کہ حرام کے ہزاروں میں بھی نہیں اور اسی اصول کو لے کر انہوں نے ساری زندگی انتہائی ایمانداری اور اصول سے گزارتے ہوئے ریٹائرمنٹ لی تھی اسی لیے اس دور میں ہمارا گھر گویا سفید پوش گھرانا تھا۔
بچوں کی پڑھائی‘ گھر کے اخراجات اور بیٹیوں کی موجودگی نے بھی بابا کے قدم کبھی متزلزل نہیں کیے (اللہ پاک میرے بابا کے درجات بلند کرکے ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے‘ آمین )دوسری وجہ یہ تھی کہ امی نہایت قناعت پسند‘ سلیقہ شعار اور حد درجہ محنتی خواتین تھیں عموماً خاتون ہی شوہروں کو زیادہ کمائی کے لیے اکساتی ہیں مگر امی نے کبھی بھی کسی حال میں بھی ایسی بات نہ کی جو ملتا صبر و شکر کے ساتھ گزارا کرتیں اور ہمیں بھی صبر‘ شکر اور الحمد للہ کی عادت ڈال دی تھی۔
میری امی کا میکہ بہت مذہبی اور دین دار تھا‘ میرے نانا جان سورۃ المزمل کے عامل تھے ‘ انتہائی عبادت گزار اور پرہیز گار تھے۔امی چھوٹی سی تھیں جب نانا جان کا انتقال ہوگیا یوں بچپن میں بھی امی نے نامساعد حالات دیکھے پھر نانی نے جو کہ سیدھی اور شریف النفس خاتون تھیں‘ بہت کم عمری میں امی اور دوسری بیٹیوں کی شادیاں کردیں۔ اماں جان (دادی) کے گھر کاماحول کافی سخت تھا اور اماں جان فطرتاً سخت مزاج تھیں‘ ان کی طرف سے ہونے والی زیادتیوں کو امی نے چپ چاپ برداشت کیا سسرال اچھا تھا خصوصاً تائی امی (میری ساس) اور تایا بابا (میرے سسر) نے امی کا بہت خیال رکھا‘ تائی امی نے دم آخر تک امی کا خیال رکھا اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے‘ آمین۔
میں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے گھر کا ماحول مثالی دیکھا‘ میرے بابا ہمارے لیے مشعل راہ تھے۔ خوب صورت دل و دماغ کے مالک‘ اچھی سوچ رکھنے والے بابا جان ہمارے لیے قابل احترام ہونے کے ساتھ ساتھ دوست جیسے تھے۔ بابا کے مقابلے میں امی سے ہم کوئی فرمائش کرتے ہچکچاتے تھے۔ گھر کے ماحول کی بہتری اور اولاد کی صحیح تربیت کے لیے ماں اور باپ دونوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ آپس کے اچھے تعلقات اور انڈرسٹینڈنگ گھر کے ماحول میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس معاملے میں ہم خوش نصیب تھے کہ ہمیں امی اور بابا کی شفقت ‘ محبت اور تربیت ملی۔ بابا نے ہم لوگوں کو نرسری‘ پریب‘ وغیرہ نہیں پڑھایا بلکہ ڈھائی سال کی عمر ہوتے ہی خود گھر میں پڑھاتے اور بسم اللہ ہوتے ہی ڈائریکٹ کلاس II میں ایڈمیشن کرواتے۔ جب میں امی کے ساتھ ایڈمیشن کی غرض سے اسکول گئی تو وہاں کی پرنسپل نے امی سے کہا۔ ’’میں بچی کا ایڈمیشن کیا لوں‘ آپ کے بچے تو پہلا قاعدہ حفظ کرکے پیدا ہوتے ہیں ۔
الحمدللہ یہ ہمارے لیے بہت اعزاز کی بات تھی جب میری سب سے بڑی بہن نگہت غفار کی شادی ہوئی تو اس وقت میں کلاس II میں تھی میں نگہت باجی سے بہت اٹیچ تھی۔ اس لیے ان کی شادی کے بعد میں کافی اپ سیٹ ہوگئی‘ اسکول میں بھی امی کا بھی ڈر تھا اس لیے امی سے جھوٹ کہہ دیا کہ ٹیچر کی طبیعت خراب ہوگئی ہے‘ وہ ہسپتال گئیں تو ہماری چھٹی کردی۔ امی نے منہ سے کچھ نہ کہا بس برتن دھوتے ہوئے اٹھیں‘ ہاتھ دھوئے اور برقع پہن کر میرا ہاتھ پکڑ کر اسکول کی طرف چل دیں۔ اس روز مجھے بے حد شرمندگی ہوئی کیوں کہ میرا جھوٹ ثابت ہوچکا تھا مگر شاید وہ میرا پہلا اور آخری ایساجھوٹ تھا جس پر مجھے امی کی خاموشی سے سبق مل گیا گوکہ امی ہمیں پڑھاتی نہیں تھیں لیکن بابا جو کام دیتے وہ‘ اسکول کا ورک اپنے ساتھ سامنے بٹھا کر کرواتیں۔ بابا نے ہمیں ابتدا سے ہی ہینڈ رائٹنگ پر خاص توجہ دلائی‘ وہ کہتے روانہ ایک صفحہ‘ انگلش اور ایک صفحہ اردو لکھا کرو اور اسی وجہ سے الحمدللہ میری اردو کی رائٹنگ اچھی ہے۔
اگر ہم بہنوں اور بھائی میں کوئی بیمار ہوجاتا تو امی ساری رات بیٹھ کر گزار دیتی تھیں۔ایک پل کے لیے بھی لیٹتی نہیں تھیں‘ مجھے یاد ہے میں چھوٹی سی تھی ایک بار شدید بیمار ہوئی اتنی زیادہ کہ مجھے دن میں دو دو بار ہسپتال لے کر جانا پڑا تھا‘ میں دوا لے کر نیم غنودگی کی حالت میں تھی کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے آس پاس چار لوگ ہیں وہ مرد ہیں یا عورت یہ سمجھ میں نہیں آیا‘ چاروں نے سفید لباس پہن رکھا تھا اور چہرے واضح نہیں تھے ان لوگوں نے آکر میرا ہاتھ پکڑا اور بڑی نرمی سے پوچھا تمہاری طبیعت کافی خراب ہے ناں؟ تمہیں تکلیف ہورہی ہے ناں؟ میں نے کہا ’’ہاں‘‘ تب انہوں نے کہا ہاں ہم اسی لیے تو آئے ہیں چلو ہم تمہیں لے جانے آئے ہیں وہاں تمہارا بہتر علاج ہوگا اور تم بالکل ٹھیک ہوجائو گی۔ میں نے کہا ’’اچھا‘‘ اور ان لوگوں کی مدد سے اٹھنے لگی کہ اچانک امی نے آکر مجھے آوا ز دی ’’جبین بیٹا! دوا لے لو ٹائم ہوگیا ہے۔‘‘ امی کی آواز کے ساتھ ہی وہ چاروں مجھے چھوڑ کر تیزی سے باہر کی طرف چلے گئے‘ میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں سامنے امی کھڑی تھیں۔ ’’امی وہ لوگ مجھے لے جانے آئے تھے‘‘ میں نے گھبرا کر ادھر اُدھر دیکھا۔ امی شاید سمجھ گئیں میرا سر اپنی گود میں رکھ کر مجھ پر کچھ دم کرنے لگیں‘ بظاہر معمولی سی بات تھی‘ شاید میرا وہم مگر اس وقت امی نہ آتیں تو…؟ اتنے سال گزر جانے کے بعد آج بھی یہ واقعہ یاد کرکے میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
میری امی سادگی کا پیکر اور حد درجہ قناعت پسند تھیں‘ آج تک بابا سے کوئی فرمائش نہ کی ‘ گھر کے سارے کام کرتیں‘ ہر وقت مصروف رہتیں۔ ہمارے گھر کے برتن ایسے چمکتے جیسے نئے ہوں‘ کہتے ہیں بیٹی ماں کا پر تو ہوتی ہے یہ بات مجھے سو فیصد لگتی ہے کیونکہ میں نے سلائی‘ کھانا بنانا‘ کپڑے دھونا‘ صفائی ہر چیز امی سے ہی سیکھی ہے اکثر خواتین امی سے کہتیں کہ آپ نے اپنی بیٹیوں کی تربیت بہت اچھی کی ہے۔ امی کہتیں یہ سب اللہ کا کرم ہے‘ اولاد کی تربیت میں ماں اور باپ دونوں ہی اہم ثابت ہوتے ہیں۔ ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے باپ کی شفقت ‘ پیار محبت کے ساتھ ساتھ ایک احترام اور ایک خوف ہوتا ہے اور یہی احترام اور خوف اچھی تربیت کے لیے کارگر ثابت ہوتا ہے جب میں نے شعور کی منزل پر قدم رکھا اور کالج میں جانے کا وقت آیا تب امی نے ایک مخصوص جملہ کہا کہ ’’بیٹی اپنی حفاظت خود کرنا ہے اور تمہارے بابا کو تم سے کبھی کوئی شکایت نہ ہو‘ ہماری تربیت پر کوئی انگلی نہ اٹھے اس بات کا خیال رکھنا‘‘ اس ایک چھوٹے سے جملے میں نصیحت کے ساتھ ساتھ تنبیہ بھی واضح تھی بہت گہرے بظاہر چھوٹے سے جملے کے حصار میں میں نے اپنی زندگی گزاری ہے۔
جب میں نے میٹرک کے بعد پہلا افسانہ اپنی باجی عفت چوہدری کے کہنے پر ڈائجسٹ میں بھیجا اور وہ شائع بھی ہوگیا تو میں سمجھی شاید بابا اور امی سے ڈانٹ پڑے کہ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ مگر نہ صرف امی بابا نے سراہا ‘ خوش ہوئے بلکہ پڑھا بھی اور امی برابر میرے افسانے پڑھتی تھیں۔
میری امی اتنی سیدھی اور معصوم ہیں کہ ان کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ کب اور کہاں‘ کیا بولنا چاہیے۔ ساری زندگی یونہی گزار دی‘ بابا بہت سمجھ دار تھے۔ بابا کی زندگی تک گھر کے اخراجات وغیرہ کی ذمہ داری امی پر نہ تھی‘ اسی طرح ہم بیٹیوں کی شادیاں بھی ہوگئیں۔ ایک بھائی کی شادی ہوگئی لیکن جب بابا کی اچانک بیماری اور پھر اسی میں انتقال ہوگیا تب وہ وقت امی کے لیے خاصا کٹھن تھا‘ مجھ سے چھوٹی دو بہنیں جو کہ پڑھ رہی تھیں اور پھر ان دونوں کی شادی جیسے بڑے بڑے مسائل منہ کھولے کھڑے تھے۔ بابا کی خواہش تھی کہ ایک بیٹی ڈاکٹر (ڈی ایچ ایم ایس) اور دوسری بیٹی (چھوٹی والی) وہ خاتون پاکستان سے گریجویشن کرے۔ اللہ کا کرم شامل حال تھا پھر امی کی ہمت اور ارادہ بھی یوں نہ صرف دونوں بیٹیاں پڑھیں بلکہ ان دونوں کی شادیاں بھی الحمدللہ احسن طریقے سے انجام پائیں۔
ساری زندگی‘ محنت اور صبر اور ایثار میں گزار کر آج میری امی عمر کے اس مقام پر ہیں جہاں ہمیں ان کو سنبھالنے کی ضرورت ہے ایک اکیلی ہوکر سات‘ سات بچوں کو پالا‘ ایک نظر سے دیکھا‘ ایک رویہ رکھا‘ ایک سی محبت اور شفقت برتی‘ ہم سب مل کر تھوڑا تھوڑا سا کریں گوکہ ان کے حقوق ادا نہ کرپائیں گے۔
بہنو! میری آپ تمام سے التجا ہے کہ اپنی دعائوں میں میری امی کو ضرور یاد رکھیے گا کہ اللہ پاک ان کو صحت کے ساتھ ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے‘ ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے لیے‘ اپنی بھلائی اور اپنے سکون قلب کے لیے‘ اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے ان کی بھرپور خدمت کرسکیں۔ ان کے لیے وہ کرسکیں جس کا ہم پر حق ہے۔ میری امی کے ساتھ آپ تمام بہنوں کی مائوں کے لیے دلی دعا ہے کہ اللہ پاک جن جن کی مائیں حیات نہیں ہیں ان کو صبر عطا فرمائے اور ان کی مائوں کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے‘ آمین اور جن جن بہنوں کی مائیں حیات ہیں اللہ پاک ان کو صحت‘ تندرستی اور لمبی زندگی عطا فرمائے ان کا سایہ سلامت رکھے اور ان کی اولادوں کو مائوں کی خدمت کا شرف عطا ہو‘ آمین ثم آمین‘ اجازت…!
میٹھا میٹھا کومل جذبہ‘ نازک سے احساس کے ساتھ
’’ماؤں‘‘ کی صورت میں ’’محبت‘‘ ملتی ہے گھرانوں میں

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close