Hijaab Dec 15

رخ سخن

سباس گل

السلام علیکم، قارئین آج ہم جس شخصیت سے آپ کو ملوا رہے ہیں وہ ہیں ہماری گریس فل، خندہ جبیں، دل نشیں، ناولسٹ، افسانہ نگار اور شاعرہ ’’نزہت جبین ضیاء جن سے ہماری محبت بھی ہے اور دوستی بھی تو آئیے نزہت سے بات کرتے ہیں۔
حجاب: السلام علیکم۔
/وعلیکم السلام اور قارئین کی خدمت میں میرا محبت بھرا سلام۔
حجاب: آپ کا پورا نام اور اگر کوئی تخلص ہے تو وہ کیا ہے؟
/ نزہت جبین ضیا اور اگر کبھی تخلص استعمال کیا تو یقیناً جبین ہوگا۔
حجاب: آپ کی تاریخ پیدائش اور آپ کا اسٹار، جائے پیدائش؟
/میں کراچی میں یکم اکتوبر کو پیدا ہوئی اس طرح میرا اسٹار لبرا ہے۔
حجاب: آپ کا بچپن کیسے گزرا؟
/ بہت اچھا اور مزے دار گزرا، میں بچپن سے ہی بہت شریر اور ذہین ہوں (آہم) بہت شرارتیں کرتی تھی، اپنے ٹیچرز کی بھی فیورٹ اسٹوڈنٹ تھی ہم بہن بھائی کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ ہم پہلا قاعدہ پڑھ کر پیدا ہوئے ہیں۔ میں بارہ سال کی تھی جب میرے ایک ٹیچر سر علی اقبال رضوی نے کہا تھا کہ مجھے پورا پورا یقین ہے کہ یہ چھوٹی سی لڑکی ایک دن ضرور کچھ کر دکھائے گی میں اس وقت کلاس نائنتھ میں تھی میری حاضر جوابی پورے خاندان میں مشہور تھی۔
حجاب: کیا آپ کے گھر میں ادبی ماحول تھا؟
/ شعر کا تو نہیں، البتہ ادبی ماحول تھا، امی اور بابا تاریخی ناول پڑھا کرتے اور میری سب سے بڑی بہن نگہت غفار اور ان سے چھوٹی عفت چوہدری (مرحومہ) افسانے لکھا کرتی تھیں میں نے ایسے ہی ماحول میں آنکھ کھولی۔
حجاب: ذاتی طور پر آپ کو شاعری کی کون سی صنف پسند ہے، نظم، غزل، ہائیکو؟
/ مجھے شاعری کی ہر صنف پسند ہے خواہ غزل ہو، لمبی چوڑی نظم ہو یا ہائیکو اسی لیے میں نے سب پر طبع آزمائی بھی کی ہے۔
حجاب: پہلی غزل، نظم یا شعر کب کہا اور کس رسالے میگزین یا اخبار میں شائع ہوا؟
/ سب سے پہلے ایک شعر فی البدیع کہا تھا جب میں بارہ سال کی تھی پھر اسی شعر کو لے کر بعد میں پوری غزل لکھی، یاد نہیں کہ یہ غزل کس رسالے میں شائع ہوئی تھی غالباً ’’ریشم‘‘ ڈائجسٹ میں لگی تھی۔ شعر تھا۔
اسے قریب سے دیکھا تو یہ ہوا محسوس
یہ شخص دوسرں سے اچھا دکھائی دیتا ہے
اور مکمل غزل
وہ شخص مجھ کو عجب سا دکھائی دیتا ہے
خود اپنے آپ میں الجھا دکھائی دیتا ہے
وہ اپنی ذات کے گنبد میں قید رہتا ہے
ہجوم میں بھی وہ تنہا دکھائی دیتا ہے
کبھی وہ ترک تعلق کی بات کرتا نہیں
مگر وہ مجھ سے گریزاں دکھائی دیتا ہے
اسے قریب سے دیکھا تو یہ ہوا محسوس
یہ شخص دور سے اچھا دکھائی دیتا ہے
حجاب: ایک رائٹر نثر کے ذریعے اپنی دلی کیفیات کو بیان کرسکتا ہے پھر آپ کو شاعری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
/بے شک، مگر نثر کے ذریعے کہانیوں کے ذریعے سے میں اپنے ارد گرد کے چھوٹے بڑے مسائل کو قلمبند کرنے کی کوشش کرتی ہوں اور شاعری کے ذریعے زیادہ تر بیشتر شعرا اپنے اندر کی کیفیات کو بیان کرتے ہیں اور میری نظر میں شاعری اور نثر نگاری دونوں صنف ہی ایسی ہیں کہ جن میں ہم معاشرتی مسائل کے ساتھ ساتھ خود کو بھی انوالو کرلیتے ہیں۔ میری تحریروں میں جہاں آپ کو کوئی نہ کوئی سبق ملے گا وہاں بالکل عام اور آسان اردو میں ایسی کہانیاں نظر آئیں گی کہ جو ایک عام سی معمولی عورت بھی پڑھ اور سمجھ سکتی ہے شاعری میں جہاں وصل، ہجر، جدائی، غم عشق ملے گا آپ کو سیاچن کے شہیدوں پر، بلدیہ ٹائون پر، پشاور کے معصوم شہدا پر مائوں کا عالمی دن ہو یا یوم آزادی، نیا سال ہو یا عید بقرعید، الحمداللہ ہر موضوع پر میری نظمیں ملیں گی۔
حجاب:شاعری خداداد صلاحیت ہے یا شوق؟
/سو فیصد خدا داد صلاحیت ہے یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ عنایت ہے شاعری پڑھنے کا شوق تو ہوسکتا ہے مگر شاعری کرنا مشکل کام ہے۔
حجاب: کیا شاعری سچ بولتی ہے؟
/ جی بالکل بعض اوقات وہ باتیں یا ٹینشن جو ہم کسی سے شیئر نہیں کرسکتے وہ سچائی ہم با آسانی الفاظ کے ذریعے شاعری میں سمو کر صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں، اپنے اندر کے مدو جزر اور کیفیات کو بیان کرنے کا بہترین ذریعہ شاعری ہے ویسے میں خود کو کوئی مستند یا بڑی شاعرہ بالکل نہیں مانتی میں تو ابھی طفل مکتب ہی ہوں۔
لوگ کہتے ہیں میں نے شاعری کی ہے
بھلا میں کہاں اور شاعری کی حس کہاں مجھ میں
شاعری تو میٹھا اور کومل سا جذبہ ہے
محبت کا خوب صورت لفظوں کی چاشنی کا
کہاں میں اور کہاں شاعری کا عکس پیچیدہ
میں نے جو کچھ بھی لکھا بس وہ لکھا جو میں نے پرکھا ہے
وہ چھوٹے چھوٹے زخم جو مجھے اپنوں سے ملے ہیں
وہ دکھ جو دوستوں نے دوستی کے تحفے میں بخشے ہیں
میں نے ٹوٹے جذبوں کی کرچیوں کو جوڑ کر رکھا
جو بکھرے خواب ان کی تصویریں بنا ڈالیں
بہت ناکامیاں اور ہزاروں ان کہے سے دکھ
ادھورے سپنے ٹوٹے خواب اور معصوم خواہشیں
کچھ بچھڑے دوست اور کچھ ناکام حسرتیں
وہ بچپن کے ٹوٹے کھلونے اور وہ آنسو
وہ رشتے اور اپنے جو ہم سے وقت نے چھینے
محبتیں بانٹ کر جو پائیں وہ نفرتیں بھی ہیں
اپنی چھوٹی چھوٹی ناکام حسرتوں کو نوک قلم سے
ورق پر جب بکھیرا تو
وہ ساری حسرتیں، شدتیں اور وہ ناکام خواہشیں
نہ جانے کب کیسے ان کو اشعار میں ڈھالا ہے
ان سارے دکھوں کو میں نے جب دل سے نکالا ہے
وہ سارے جذبے جب کاغذ پر سجائے ہیں
وہ جذبے اور وہ حسرتوں کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں
کہ
میں نے شاعری کی ہے
حجاب: خواتین کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین اچھی شاعرہ نہیں ہوتیں بلکہ مرد زیادہ اچھی شاعری کرتے ہیں آپ اس بات سے کس حد تک متفق ہیں؟
/ نہیں میرے خیال میں یہ بات درست نہیں ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک دور تھا جب مرد شاعر زیادہ ہوا کرتے تھے اور خواتین شاعرات کا نام اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے اور اگر یہ بات سچ ہوتی تو ہمارے درمیان ادا جعفری، پروین شاکر جیسی مایہ ناز شاعرات نہ ہوتیں اور موجودہ دور میں تو بے شمار خواتین شاعرات ہیں جو بہت خوب صورت شاعری کر رہی ہیں۔
حجاب: مرد اور خواتین کی شاعری میں کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟
/ میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ کوئی خاص فرق نہیں ہوتا، دونوں کے زیادہ تر موضوعات غم جاناں، غم عشق، چاندنی راتیں، جدائی اورتنہائی سے متعلق ہی ہوتے ہیں۔
حجاب: ایک شاعر کے لیے داد تحسین اور تعریف کتنی ضروری ہے؟
/ بہت ضروری اگر کوئی بندہ دن رات جان لگا کر سوچ سوچ کر اور نہ جانے کتنے امتحانات سے گزر کر اپنے اندر پیدا ہونے والے طلاطم سے نبرد آزما ہو کر اپنی تخلیق آپ کے سامنے پیش کرتا ہے تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ دادو تحسین کا مستحق بھی ہے اور یہ داد اور تعریف اس کے لیے آگے بڑھنے اور مزید کامیابیوں کی ضمانت بھی بن سکتی ہے اور ہم تو عام اور ناچیز سے بندے ہیں، اللہ پاک بھی اپنی تعریف مانگتا ہے۔
حجاب: زندگی کو ایک جملے میں بیان کیجیے؟
/بہت مشکل اور کٹھن سفر ہے اور اس پر سو فیصد کوئی بھی نہیں اتر سکتا، زندگی امتحان لیتی ہے۔
حجاب: آپ اپنی شاعری میں صرف غم جاناں پر طبع آزمائی کرتی ہیں یا ملکی حالات کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بناتی ہیں؟
/میں اپنی شاعری میں ملکی حالات سے لے کر تہواروں اور خاص دنوں کو بھی زیر قلم لاتی ہوں غم جاناں اپنی جگہ، مگر سیاچن کے شہدا، پشاور کے معصوم شہدا، بلدیہ ٹائون کا سانحہ، کراچی کے گزشتہ حالات مزدوروں کا عالمی دن سیلاب کی تباہ کاریاں غرض یہ کہ ہر موضوع پر لکھنے کی ناکام سی کوشش کی ہے۔
حجاب: کیا شاعری معاشرے میں اصلاح پیدا کرسکتی ہے؟
/جی بالکل اچھی معیاری اور سبق آموز شاعری معاشرے کو سنوارنے اور اصلاح پیدا کرنے میں ضرور معاون و مددگار ہوسکتی ہے اور میںنے کوشش بھی کی ہے۔
نیا ہے سال، نیا ہے سورج
نئی امنگیں روا رکھنا
سنو یہ جو سال آیا
اسے چاہتوں کا گواہ رکھنا
گزر گئے جو تلخ لمحے ان لمحوں کو بھول جانا
ایک دوسرے کے واسطے محبتیں بے پناہ رکھنا
محبتوں کے دیے جلا کر ہر ایک آنگن کو کرنا روشن
بانٹنا ہے سبھی کو خوشیاں سب ہی کے چہرے سجا کے رکھنا
وطن کی مٹی ہے ماں تمہاری
ماں کے دامن میں نہ خار بھرنا
چاہتوں کے گلاب چہروں سے ہر ایک کوچہ گلی سجانا
محبتوں کے بیج بونا، چاہتوں کی فصل ملے گی
ہر ایک دامن خوشی سے بھرنا خوشیوں کی چاہ کرنا
یہ وطن ہے تمہارا تمہارے ہاتھوں میں لاج اس کی
وطن بھی ناز کرے گا تم پر تم خود کو ایسا سپاہ کرنا
نئے سال کی آمد پر میں نے یہ نظم کہی تھی اور اس میں ایک اصلاح اور امید کا پہلو ہے اور میں اپنے ملک کے نوجوانوں سے مخاطب ہوں۔
حجاب: کیا یہ سچ ہے کہ جب تک کوئی صاحب کتاب نہ ہو اسے شاعر نہیں مانا جاتا؟
/نہیں میرے خیال میں اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو آج آپ یوں میرا انٹرویو نہیں لے رہی ہوتیں
حجاب: کیا موسم کسی بھی شاعر کے انداز پر اثر انداز ہوتا ہے؟
/جی بالکل موسم اور ماحول بھی شاعر کے مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے کہ بارشوں کے موسم میں بے اختیار بارش کے حوالے سے ذہن میں اشعار خود بخود آنے لگتے ہیں سخت سردی اور گرمی بھی اثر انداز ہوتی ہے خصوصاًبارش کا موسم ۔
کل
پچھلے برس بھی برسا ساون
سارا عالم جل تھل تھا
من میں میری میٹھی ہلچل
گاتی ہوا اور جھومتا ہر پل
ہاتھ تمہارا میرا آنچل
آنکھیں میری ہنستا کاجل
چھن چھن بجتی میری پائل
بادل برسے ساتھ میں
تم ہم
آج
اب کے برس بھی برسا ساون
من ہے میرا جل تھل جل تھل
تیز ہوا اور سوگ میں ہر پل
آنکھیں میری ہنستا کاجل
پائوں میں میری چپ ہے پائل
روتے بادل
اور میں
گم صم
حجاب: کیا چاندنی رات آپ کے مزاج پر اثر انداز ہوتی ہے اس پر کچھ لکھا؟
جی بہت زیادہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے پورا چاند بستر پر لیٹے لیٹے دیکھتی ہوں۔
چاندنی رات سے کہا میں نے مجھے اتنا بتا
چاند تیرا اس کے آنگن میں تو جاتا ہوگا
چاندنی رات میں کیوں مجھ کو گماں ہوتا ہے
اس کی کھڑکی پہ بھی یہ چاند تو اترا ہوگا
اس کی آنکھوں میں میری یاد کے جگنو ہوں گے
اس کی سوچوں میں میرا عکس تو آتا ہوگا
میری یادوں نے اسے بے چین تو کیا ہوگا
اس کے دل میں کوئی درد تو جاگا ہوگا
چاندنی رات کی ٹھنڈک تو جلاتی ہوگی
چاند سینے میں اس کے آگ لگاتا ہوگا
چاند مجھ کو بتا وہ مجھے یاد تو کرتا ہے ناں؟
بیتا وقت میری طرح اس کو جگاتا ہوگا
چاند ہنستا رہا دیر تلک پھر یہ کہا
بھول ہے تیری کہ تو اسے یاد آتا ہوگا
وہ تجھے بھول چکا ہے نہ جانے کب کا
اب کہیں اور وہ اپنے خواب سجاتا ہوگا
حجاب: ایک اپنا شعر جو آپ کو پسند ہے اور ایک کسی دوسرے شاعر کا شعر
/احمد فراز
کل دھوپ کے میلے سے خریدے تھے کھلونے
جو موم کا پتلا تھا وہ گھر تک نہیں پہنچا
میرا
میرے انداز سے، لہجے سے متخاطب سے سب ہی نالاں ہیں
میں کیا کروں… مجھے سچ بولنے کی عادت ہے
حجاب: آپ کے مشاغل کیا ہیں اور کوکنگ بھی آپ خودکرتی ہیں؟
/لکھنا، لکھنا اور لکھنا اس کے علاوہ الحمدللہ کپڑوں کی سلائی، کپڑوں کو ڈائی کرنا، پینٹنگ کرنا، آرٹ اینڈ کرافٹس کے بے شمار کام جس میں ڈوھ ورک، ڈوھ جیولری، جوٹ کرافٹس، پینٹنگ فولک ورک، ڈرائی اریجمنٹ، ربن ورک، ویکس ورک، پوٹ پینٹنگ، شیشے کا کام کرلیتی ہوں اس کے علاوہ اسکیچنگ کا بھی شوق ہے کوکنگ الحمدللہ بہت اچھی کرتی ہوں حلوہ پوری سے لے کر کیک تک گھر میں بناتی ہوں۔
حجاب: نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی رہنمائی؟
/اپنی سوچ مثبت رکھیں اور ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ ہم جو کچھ بھی لکھیں وہ معاشرے کی بھلائی اور سدھارنے کے لیے ہو، اپنی تحریروں کو تعمیری رنگ دینے کی کوشش کریں، اپنی تحریروں میں اپنی شاعری میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ضرور شامل کریں جس کی معاشرے کو ضرورت ہے۔
حجاب: شہرت کیسی لگتی ہے؟
/سچی بات یہ ہے کہ میں خود کو بلند اور اعلیٰ پائے کی شاعرہ مانتی ہوں اور نہ ہی مصنفہ، لیکن ظاہری بات ہے اگر کوئی نام سن کر والہانہ انداز میں گلے لگ کر تعریفی کلمات کہتا ہے تو اچھا لگتا ہے تب محسوس ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے کسی قابل نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کچھ دے دیا ہے بے اختیار اللہ پاک کا شکر ادا کرتی ہوں۔
حجاب: پسندیدہ رنگ، مشروب، کھانا، خوشبو، لباس، موسم، پھول، رائٹر، شاعر؟
/ پسندیدہ رنگ نیلا، کالا، دھانی موو، کھانا کڑہی چاول۔ مشروب میں پانی، آئسکریم سوڈا۔ خوشبو میں پرومیسی اور جنت الفردوس، لباس میں ساڑھی۔ موسم میں بارش، پھول موتیے کا۔ رائٹر ہمارا اثاثہ ابن انشا، فاطمہ ثریا بجیا موجودہ دور میں انجم انصار۔ شاعروں میں احمد فراز، قتیل شفائی، ناصر کاظمی وغیرہ۔
حجاب: قارئین حجاب کے لیے کوئی پیغام؟
/اچھا سوچیں، منافقت سے دور رہیں سچ بولیں اللہ پر کامل بھروسہ رکھیں اور اپنے کام کے ساتھ مکمل دیانت داری برتیں اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close