Hijaab Dec 15

عورت کی ذمہ داری

مفتی تقی عثمانی

عورت کی ذمہ داری
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ عورت کے ذمے دنیا کے کسی فرد کی خدمت واجب نہیں نہ اس کے ذمے کوئی ذمہ داری ہے اور نہ اس کے کاندھوں پر کسی کی ذمہ داری کا بوجھ ہے۔تم ہر بوجھ اور ہر ذمہ داری سے آزاد ہو لیکن صرف ایک بات ہے کہ تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور اپنے شوہر کی اطلاعت کرو اور اپنے بچوں کی تربیت کرو۔ یہ تمہارا فریضہ ہے اور اس کے ذریعہ قوم کی تعمیر کررہی ہو اور اس کی معمار بن رہی ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں عزت کا یہ مقام دیا تھا اب تم میں سے جو چاہے‘ اس عزت کے مقام کو اختیار کرے اور جو چاہے ذلت کے مقام کو اختیار کرے جو آنکھوں سے نظر آرہا ہے۔
وہ عورت سیدھی جنت میں جائے گی:۔
حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جس عورت کا انتقال اس حالت میں ہوا کہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو تو وہ سیدھی جنت میں جائے گی۔‘‘
وہ تمہارے پاس چند دن کا مہمان ہے:۔
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب کبھی کوئی بیوی اپنے شوہر کو کوئی تکلیف پہنچاتی ہے (اس لیے کہ بسا اوقات عورت کی طبیعت سلامتی کی حامل نہیں ہوتی اور اس کی طبیعت میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اس فساد اور بگاڑ کے نتیجے میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچارہی ہو ) تو اس کے شوہر کی جو بیویاں اللہ تبارک تعالیٰ نے جنت میں حوروں کی شکل میں اس کے لیے مقدر فرمائی ہیں وہ حوریں جنت سے اس دنیاوی بیوی سے خطاب کرکے کہتی ہیں کہ:۔
’’تو اس کو تکلیف مت پہنچا اس لیے کہ یہ تمہارے پاس چند دن کا مہمان ہے اور قریب ہے کہ وہ تم سے جدا ہوکر ہمارے پاس آجائے۔‘‘
یہ بات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فساد طبیعت رکھنے والی بیوی کو متوجہ کرکے فرمارہے ہیں کہ تم اپنے شوہر کو جو تکلیف پہنچارہی ہو اس سے اس کا کچھ نہیں بگڑتا اس لیے کہ دنیا میں تو اس کو جو چاہو گی‘ تکلیف پہنچادو گی لیکن آخرت میں اللہ تبارک و تعالیٰ اس کا رشتہ ایسی ’’حورعین‘‘ کے ساتھ قائم فرمادیں گے جو اُن شوہروں سے اتنی محبت کرتی ہیں کہ ان کے دل کو ابھی سے اس بات کی تکلیف ہورہی ہے کہ دنیا میں ہمارے شوہر کے ساتھ کیسا تکلیف پہنچانے والا معاملہ کیا جارہا ہے؟
مردوں کے لیے شدید ترین آزمائش:۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میں نے اپنے بعد کوئی فتنہ ایسا نہیں چھوڑا‘ جو مردوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو‘ بنسبت عورتوں کے فتنے کے‘ عورتوں کا فتنہ اس دنیا میں مردوں کے لیے شدید ترین فتنہ ہے۔ اس حدیث کی اگر تشریح لکھی جائے تو ایک ضخیم کتاب (بہت بڑی کتاب) لکھی جاسکتی ہے کہ یہ عورتیں مردوں کے لیے کس کس طریقے سے فتنہ ہیں۔
عورت کس طرح آزمائش ہے؟
فتنہ کے معنی ہیں ’’آزمائش‘‘ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اس دنیا میں مردوں کی آزمائش کے لیے مقرر فرمایا ہے اور یہ عورت کس کس طریقے سے آزمائش ہے؟ ایک مختصر مجلس میں اس کا احاطہ ممکن نہیں۔
پہلی آزمائش:۔
یہ عورت اس طریقے سے بھی آزمائش ہے جس طریقے سے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ پیش آئی یعنی مرد کی طبیعت میں عورت کی طرف کشش کا ایک میلان رکھا گیا ہے۔ اب اس کے حلال راستے بھی بیان کردیئے اور حرام راستے بھی بیان کردیئے۔ اب آزمائش اس طرح ہے کہ یہ مرد حلال کا راستہ اختیار کرتا ہے یا حرام کا راستہ اختیار کرتا ہے؟ یہ مرد کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے۔
دوسری آزمائش
اس کے ذریعے دوسری آزمائش اس طرح ہے کہ یہ بیوی جو اس کے لیے حلال ہے اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتا ہے؟ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ویسا سلوک کرتا ہے یا اس کی حق تلفی کرتا ہے۔
تیسری آزمائش
یہ ہے کہ یہ شخص بیوی کی محبت اور اس کے حقوق کی ادائیگی میں ایسا غلو اور انہماک تو نہیں کرتا کہ اس کے مقابلے میں دین کے احکام کو پس پشت ڈال دے یہ تو اس نے سن لیا کہ بیوی کو خوش کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے لیکن اب حرام اور ناجائز کاموں میں بھی اس کی دلجوئی کررہا ہے اور اس کی صحیح دینی تربیت نہیں کررہا ہے۔ اس طرح بھی یہ آزمائش ہے اس لیے کہ مرد کو دونوں طرف خیال رکھنا ہے‘ ایک طرف محبت کا تقاضا یہ ہے کہ بیوی پر روک ٹوک نہ کرے اور دوسری طرف دین کا تقاضا یہ ہے کہ خلاف شرع کاموں پر روک ٹوک کرے۔
خلاصہ کلام
غرض آزمائشوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے انسان ان تمام آزمائشوں سے سرخروئی کے ساتھ اس طرح نکل سکتا ہے کہ اس کے حقوق بھی ادا کرے‘ اس کی تعلیم و تربیت کا بھی خیال رکھے۔ اس کے نفع و نقصان کا بھی خیال رکھے اور حرام کی طرف بھی متوجہ نہ ہو‘ ان تمام باتوں کا خیال رکھنا صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص توفیق ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے۔
عورتوں کی آزمائش سے بچنے کی دعا
اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا تلقین فرمائی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماثور دعائوں میں سے ہے کہ
اللھمہ انی اعوذبک من فتنہ النساء (التیسیر بشرح الجامع الصغیر للمناوی : /۴۴۹۱) فیض القدیر : ۱۸۸/۲)
’’اے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں‘ عورتوں کی فتنے سے‘اشارہ اس بات کی طرف کردیا کہ اس آزمائش میں کھرا اترنا اور سرخرو ہونا اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا انسان کو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرتے رہنا چاہیے کہ اے اللہ! مجھے اس آزمائش میں پورا اتار دیجئے اور بہکنے پھسلنے اور غلطی کا مرتکب ہونے سے بچالیجئے اس لیے اس ماثور دعا کو اپنی دعائوں میں شامل کرلینا چاہیے۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close