Hijaab Dec 15

امہات المومنین

ندا رضوان

حضرت عائشہ صدیقہؓ
حضرت عائشہ صدیق ؓ اکبر حضرت ابو بکرؓ (بن ابی قحافہ بن عمر بن عامر بن کعب بن یتم) کی دختر نیک اختر تھیں‘ والدہ کا نام ام رومانؓ بنت عامر تھا۔
آپ بعثت نبویؐ کے چار سال بعد ماہ شوال میں پیدا ہوئیں۔
عائشہؓ صدیقہ کا زمانہ طفولیت صدیق اکبرؓ جیسے جلیل القدر باپ کے زیر سایہ بسر ہوا۔ وہ بچپن ہی سے بے حد ذہین اور ہوش مند تھیں۔ اپنے بچپن کی تمام باتیں انہیں یاد تھیں‘ کسی دوسرے صحابی یا صحابیہ کی یادداشت اتنی اچھی نہ تھی۔
چھ سال کی عمر میں حضرت عائشہ ہجرت سے تین سال قبل ماہ شوال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آگئیں۔
حضرت عائشہ کا نکاح انتہائی سادگی سے ہوا‘ وہ فرماتی تھیں۔
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح فرمایا تو میں اپنی ہم جولیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی‘ مجھے اس نکاح کا حال تک معلوم نہ ہوا تھا کہ میری والدہ نے مجھے گھر سے باہر نکلنے سے منع کردیا۔‘‘
عائشہ صدیقہؓ پیدائشی مسلمان تھیں ان سے روایت ہے کہ ’’جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا انہیں مسلمان پایا۔‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ پر روز ازل سے کفر و شرک کا سایہ تک نہ پڑا۔
حضرت عائشہ سے نکاح کے تین سال بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف حضرت ابو بکرؓ کی معیت میں ہجرت فرمائی۔مدینہ پہنچ کر سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیقؓ نے زید بن حارثہ‘ ابو رافع اور عبد اللہ بن اریقط کو اپنے اہل و عیال لانے کے لیے مکہ بھیجا۔ واپسی پر حضرت زیدؓ بن حارثہ کے ساتھ حضرت فاطمہ الزہراؓ حضرت ام کلثومؓ ‘ حضرت سودہؓ بنت زمعہ‘ ام ایمنؓ اور اسامہؓ بن زید تھے۔ عبد اللہ بن اریقط کے ہمراہ عبد اللہ بن ابو بکر‘ ام رومان (والدہ عائشہ صدیقہؓ) عائشہؓ صدیقہؓ اور اسما بنت ابی بکرؓ تھیں۔
مدینہ پہنچ کر حضرت عائشہؓ خطہ بنو حارث میں اپنے والد محترم کے گھر اتریں۔ مدینہ کی آب و ہوا شروع شروع میں مہاجرین کو موافق نہ آئی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ سخت بیمار ہوگئے‘ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے نہایت تند ہی سے ان کی تیمارداری کی جب وہ صحت یاب ہوئے تو خود بیمار ہوگئیں۔ مرض کا حملہ اتنا شدید تھا کہ سر کے بال گرگئے تاہم جان بچ گئی۔ جب صحت بحال ہوئی تو صدیق اکبرؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔
’’یارسول اللہ! عائشہؓ کو آپ رخصت کیوں نہیں کرالیتے۔‘‘
فرمایا۔ ’’فی الحال میرے پاس مہر نہیں ہے۔‘‘ جناب صدیق اکبرؓ نے اپنے پاس سے پانچ سو درہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور قرض حسنہ پیش کیے جو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیے اور وہی حضرت عائشہ کے پاس بھیج کر انہیں شوال سنہ 1ھ میں رخصت کرالیا اس وقت عائشہ صدیقہؓ کی عمر نو سال اور بعض روایتوں کے مطابق بارہ برس تھی۔
رخصتی کے بعد سب سے اہم واقعہ جو حضرت عائشہؓ کو پیش آیا وہ جنگ احد میں ان کی شرکت تھی۔ میدان جنگ میں وہ ام سلیمؓ کے ہمراہ دوڑ دوڑ کر زخمیوں کو پانی پلارہی تھیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر اڑی تو مدینہ سے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، حضرت صفیہؓ، سیدہ النساء فاطمتہ الزہرہؓ اور دوسری خواتین اسلام دیوانہ وار میدان جنگ کی طرف لپکیں‘ وہاں پہنچ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامت دیکھ کر سجدہ شکر بجالائیں۔ ان سب نے مل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو دھویا اور پھر مشکیزے سنبھال کر زخمیوں کو پانی پلانا شروع کیا جب دوسرے صحابہ کرامؓ جو ادھر اُدھر منتشر تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہونے شروع ہوئے تو مدینہ واپس تشریف لائیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کی حیات مبارکہ کے چار واقعات بے حد اہم ہیں‘ افک‘ ابلا‘ تجریم اور تخیر۔
(1) افک کا واقعہ یوں پیش آیا کہ غزوہ مصطلق کے سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں۔ راستے میں ایک جگہ رات کو قافلے نے قیام کیا حضرت عائشہؓ رفع حاجت کے لیے پڑائو سے دور نکل گئیں وہاں ان کے گلے کا ہار جواپنی بہن اسما ؓ سے مانگ کر لائی تھیں بے خبری کے عالم میں گرگیا۔ واپسی پر پتا چلا تو بہت مضطرب ہوئیں پھر اسی سمت واپس لوٹیں خیال کیا کہ قافلے کے چلنے سے پہلے ہار ڈھونڈ کر واپس پہنچ جائیں گی۔ جب ہار ڈھونڈ کر واپس پہنچیں تو قافلہ روانہ ہوچکا تھا۔ بہت گھبرائیں نا تجربہ کاری کی عمر تھی‘ چادر اوڑھ کروہیں لیٹ گئیں۔
حضرت صفوان بن معطلؓ ایک صحابی کسی انتظامی ضرورت کے سلسلہ میں قافلے سے پیچھے رہ گئے تھے‘ انہوں نے عائشہ صدیقہؓ کو پہچان لیا کیونکہ بچپن میں انہیں دیکھا ہوا تھا ان سے پیچھے رہ جانے کا سبب پوچھا جب واقعہ معلوم ہوا تو بہت ہمدردی کی اور ام المومنینؓ کو اونٹ پر بٹھا کر عجلت سے قافلے کی طرف روانہ ہوئے اور دوپہر کے وقت قافلہ میں جاملے۔ مشہور منافق عبد اللہ بن ابی کو جب اس واقعہ کا پتا چلا تو اس نے جنابہ صدیقہؓ کے متعلق مشہور کردیا کہ وہ باعصمت نہیں رہیں۔ چند سادہ لوح مسلمان بھی غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے۔ جناب رسالت مآب کو بھی قدرتاً تشویش پیدا ہوئی‘ حضرت عائشہ صدیقہؓ ناحق بدنامی کے صدمہ سے بیمار ہوگئیں اس وقت غیرت الٰہی جوش میں آئی اور یتہ برات نازل ہوئی۔
یعنی جب تم نے یہ سنا تو مومن مردوں اور عورتوں کی نسبت نیک گمان کیوں نہیں کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح تہمت ہے۔
یتہ برات کے نزول سے دشمنوں کے منہ سیاہ ہوگئے۔ سادہ لوح مسلمان جو غلط فہمی کا شکار تھے خود شرمندہ ہوئے اور نہایت عاجزی سے اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے معافی مانگی۔ حضرت عائشہؓ اور ان کے والدین کو بے حد مسرت ہوئی‘ عائشہ صدیقہؓ کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔ انہوں نے فرمایا میں صرف اپنے اللہ کی شکر گزار ہوں اور کسی کی ممنون نہیں۔
حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں بہت اہتمام فرماتے اور اپنی مسواک بار بار دھلوایا کرتے۔ خدمت کی انجام دہی حضرت عائشہ ہی کے سپرد تھی۔
حضرت عائشہؓ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم پر جا ن چھڑکتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول کریمﷺ رات کے وقت اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے۔ جب حضرت عائشہؓ کی آنکھ کھلی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو موجود نہ پایا تو سخت پریشان ہوئیں‘ دیوانہ وار اٹھیں اور ادھر اُدھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں سرگرداں ہوگئیں۔آخر انہوں نے دیکھاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک گوشہ میں خاموشی سے یاد الٰہی میں مصروف ہیں تب کہیں جاکر انہیں اطمینان ہوا۔
آپؓدن رات کا زیادہ حصہ عبادت میں یا لوگوں کو مسائل بتانے میں صرف کرتی تھیں۔ ان کا دل مہرو محبت اور عفو و شفقت کا خزینہ تھا‘ دشمنوں اور مخالفوں کو معاف کردیتیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ نے 17 رمضان 58 ہجری میں تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ لوگوں نے نہایت کثرت سے اس رات مشعلیں روشن کرلی تھیں‘ ان کے انتقال سے تمام عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی۔ وصیت کے مطابق رات کو بعد نمازو تر کے جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی‘ لوگوں کا اتنا ہجوم تھا کہ ایسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا۔

Show More

Check Also

Close
Back to top button
error: Content is protected !!
×
Close